12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 12:99–100

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

پھر جب وہ داخل ہوئے یوسف (علیہ السلام) کے پاس تو انہوں نے جگہ دی اپنے پاس اپنے والدین کو اور کہا داخل ہو جائو مصر میں اگر اللہ نے چاہا تو امن میں رہو گے

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور اونچ ا کیا انہوں نے اپنے ماں باپ کو تخت پر اور گر پڑے وہ سب اس کے سامنے سجدے میں اور کہا اس نے اے میرے باپ ! یہ ہے تعبیر میرے خواب کی جو اس سے پہلے دیکھا تھا۔ بیشک بتایا ہے اس کو میرے پروردگار نے سچا اور بیشک اس نے احسان کیا ہے مرے ساتھ جبکہ اس نے نکالا مجھے قید خانے سے ار جب کہ لایا وہ تمہیں دیہات سے بعد اس کے کہ جھگڑا ڈال دیا شیطان نے میرے درمیان اور میرے بھائیوں کے درمیان۔ بیشک میرا پروردگار بہت باریک تدبیر کرنے والا ہے جو چاہے بیشک وہ علم والا اور حکمت والا ہے

ربط آیات گزشتہ درس میں یہ بیان تھا کہ یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں پر اپنے آپ کو ظاہر کردیا اور پھر اپنی قمیص دے کر ان کو واپس کنعان بھیجا کہ باپ کے چہرے پر ڈال دیتا وہ بینا ہو کر میرے پاس آئے گا اور تم باقی خاندان کے افراد کو بھی یہاں لے آئو حسب الحکم بھائیوں نے ایسا ہی کیا باپ کو یوسف (علیہ السلام) کے مل جانے کی خوشخبری سنائی اور ساتھ اپنی سابقہ کوتاہیوں کی معافی بھی مانگی اور اللہ تعالیٰ سے معافی کے لئے باپ سے دعا کی درخواست کی جسے آپ نے کچھ وقت کے لئے موخر کردیا ، گویا بیٹوں سے مشروط وعدہ کا کہ وہ ان کے لئے عنقریب بخشش کی دعا کریں گے۔ جیسا کہ گزشتہ درس میں عرض کیا تھا یوسف (علیہ السلام) نے اہل خانہ کو لانے کے دو سو سواریاں بھیجی تھیں تاکہ خادنان کے افراد اور ساز و سامان لانے میں وقت پیش نہ آئے حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور آپ کے خاندان پر مشتمل یہ قافلہ مصر کی طرف چل پڑا۔ البتہ افراد خانہ کی تعداد کے متعلق مفسرین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ مختلف روایات میں نوے تراسی اور بہتر کا ذکر ملتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کی رایت کے مطابق یہ قافلہ تریسٹھ افراد پر مشتمل تھا پھر سینکڑوں سال بعد جب موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں بنی اسرائیل مصر سے نکلے تھے تو ان کی تعداد چھ لاکھ ستر ہزار تک پہنچ چکی تھی۔ حالانکہ فرعون اور اس کی قوم نے بنی اسرائیل پر بڑے مظالم ڈھائے تھے۔ تفسیر رایات کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کو روکنے کے لئے اس زمانے کے فرعون نے نوے ہزار نومولود بچوں کو قتل کرا دیا تھا۔ یعقوب (علیہ السلام) استقبال اس زمانے میں مر کا آئینی بادشاہ ولید ابن ریان تھا جس نے یوسف (علیہ السلام) کو عزیز کے عہدے پر فائز کر کے آپ کو پورے اختیارات سونپ رکھے تھے۔ یوسف (علیہ السلام) کی حسن انتظامی رعایا کے ساتھ شقت و محبت اور ملک کو قحط کے اثرات سے محفوظ رکھنے کی وجہ سے تمام اہل مصر آپ سے دلی محبت رکھتے تھے جب کہ بادشاہ نے تو آپ کو پہلے ہی معتمد بنا رکھا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ بادشاہ یوسف (علیہ السلام) پر ایمان لا چکا تھا ، تاہم اگر وہ نہ بھی ایمان لایا ہو تو آپ کی دیانتداری ، رایا پروری اور حسن تدبیر سے بہت خوش تھا یہی وجہ ہے کہ جب خاندان یوسف کی کنعان سے رواگنی کی خبر ملی تو سارا مصر آپ کے استقبال کے لئے امڈ پڑا خود باشداہ کے متعلق تو اختلاف ہے کہ آیا وہ بذات خود استقبال کے لئے شہر سے باہر آیا تھا یا نہیں مگر روایات میں چار ہزار سے تین لاکھ افراد کا ذکر ملتا ہے جو خاندان یوسف کے استقبال کے لئے شہر سے باہر نکل آئے تھے ، ان میں بڑے بڑے عمائدین ، فوجی اور سول افسر اور عوام الناس شامل تھے۔ شہر سے باہر ایک کھلا میدان تھا جہاں مصری لوگ قومی دن یا جشن منانے کے لئے جمع ہوتے تھے۔ یعقوب (علیہ السلام) کے استقبال کے لئے بھی اسی جگہ کو منتخب کیا گیا شاہی انتظام کے تحت وہاں خیمے لگائے گئے اور مہمانوں کے استقبال کے لئے بہت بڑا سٹیج تیار کیا گیا ۔ بائیبل کا بیان ہے …… کہ بادشاہ نے بھی یعقوب (علیہ السلام) کے مصر آنے پر خوشی کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ انہیں میرے پاس لایا جائے ان کا یہاں عزت و احترام کیا جائیگا اور ضرورت کی ہر چیز مہیا کی جائیگی ۔ الغرض ! اہل مصر کی کثیر تعداد یعقوب (علیہ السلام) کے استقبال کے لئے مخصوص میدان میں جمع ہوگئی ، وہاں خوب چہل پہل اور رونق تھی ، جشن کا سماں تھا ، تو جب یعقوب (علیہ السلام) کا قافلہ قریب پہنچا تو انہوں نے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں اور کیوں جمع ہوئے ہیں ؟ کیا یہ فرعون ار اس کا لائو لشکر ہے ؟ تو آپ کو بتایا گیا کہ یہ آپ کا بیٹا یوسف (علیہ السلام) ہے جو اہل مصر کے ہمراہ آپ کے استقبال کے لئے آیا ہے۔ استقبالیہ میدان میں پہنچ کر یعقوب (علیہ السلام) سواری سے نیچے اترے ، بیٹے نے آگے بڑھ کر استقبال کیا ، پھر دونوں نے معانقہ کیا اور اس موقع پر یعقوب (علیہ السلام) خوب روئے۔ مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ جب باپ اور بیٹا خوشی کے آنسو رو رہے تھے تو اس وقت فرشتے بھی رو رہے تھے۔ بڑا جذباتی منظر تھا۔ ار ادھر اس بات کی خوشی بھی تھی کہ ایک عظیم باپ اپنے عظیم بیٹے سے چالیس سال کے بعد ملاقات کر رہا ہے چالیس سالہ دور کی تمام تکالیف اور پریشانیاں ایک ایک کر کے یاد آ رہی تھیں۔ مگر اب اس ملاقات کی خوشیاں ان تمام آلام پر غالب آ رہی تھیں اور اس طرح باپ اور بیٹے کے امڈے ہوئے آنسو خوشی کے آنسو بن چکے تھے پھر جبرائیل (علیہ السلام) نے یعقوب (علیہ السلام) کو بتایا کہ آپ کی ملاقات کی خوشی میں فرشتے بھی شامل ہو رہے ہیں۔ ابتدائی ملاقات کے بعد یوسف (علیہ السلام) نے باپ سے دریافت کیا ، ابا جی ! آپ چالیس سال تک روتے رہے حتیٰ کہ آنکھوں کی بینئای بھی جاتی رہی ، اس کی کیا وجہ تھی ؟ کیا آپ کو یقین نہیں تھا کہ اگر ہماری ملاقات اس دنیا میں نہ بھی ہوسکی تو آخرت کو تو ضرور ہوجائے گی ، تو پھر اس قدر گریہ کی کیا ضرورت تھی ؟ یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا ، میرے لئے تشویش کی بات یہ تھی کہ کم عمری میں بچھڑ گئے تھے اور پتہ نہیں آپ کا دین بھی سالمت رہا ہوگا یا نہیں۔ اگر خدانخواستہ ایمان سلب ہوجاتا تو پھر قیامت کی ملاقات بھی ممکن نہ رہتی کیونکہ وہاں پر مومن اور کافر الگ الگ ہوں گے۔ اتنا عرصہ اللہ نے بذریعہ وحی بھی نہیں بتایا تھا کہ آپس کس حال میں ہیں ار کس دین پر ہیں۔ یہ سب باتیں پردہ غیب میں تھیں ، لہٰذا میری تشویش فطری امر تھا۔ والدین کی عزت افزائی اللہ تعالیٰ نے اس سارے واقعہ کو اس طرح بیان فرمایا ہے فلما دخلوا علی یوسف جب یعقوب (علیہ السلام) کے اہل خانہ یوسف (علیہ السلام) کے پاس داخل ہوئے یعنی شہر سے باہر استقبالیہ کیمپ میں پہنچے اوی الیہ ابویہ تو آپ نے اپنے والدین کو اپنے پاس جگہ دی ظاہر ہے کہ استقبالیہ کیمپ میں یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹھنے کے لئے کوئی خاص قسم کی سٹیج وغیرہ بنائی گئی ہوگی یا تمام قسم کے خیمے ہوں گے جن کو اچھے طریقے سے سجایا گیا ہوگا اور جس میں آرام و آسائش کی تمام سہولتیں فراہم کی گئی ہوں گی۔ ” اپنے پاس جگہ “ سے ایسی ہی جگہ مراد ہے جہاں یوسف (علیہ السلام) نے باپ کو ٹھہرایا۔ استقبالیہ تقریب کے بعد یوسف (علیہ السلام) نے اپنے اہل خاندان سے کہا وقال ادخلوا مصر اب مصر میں داخل ہو جائو ، یعنی استقبالیہ کیمپ سے چل کر شہر میں داخل ہو جائو۔ ان شآء اللہ امنین اللہ نے چاہا تو آپ اب امن وامان میں رہیں گے۔ اب یہاں کوئی تکلیف نہیں ہوگی اور ہر طرح کی آسائش حاصل ہوگی۔ جدائی کی گھڑیاں بیت چکی ہیں قحط کو برپا ہوئے دو سال کا عرصہ گزر چکا تھا اور ابھی مزید پانچ سال قحط کے سال تھے مگر یوسف (علیہ السلام) کے حسن انتظام کی بدولت اور اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے کسی مزید پریشانی کا خطرہ نہیں تھا۔ اسی لئے فرمایا کہ امن کے ساتھ مصر میں داخل ہو جائو۔ یہاں پر ابویہ کا لفظ آیا ہے جس کا اطلاق یوسف (علیہ السلام) کے باپ اور ماں دونوں پر ہوتا ہے ۔ حالانکہ پہلے بیان ہوچکا ہے ۔ کہ آپ کی والدہ بن یامین کی پیدائش کے وقت فوت ہوگئی تھیں۔ اس ضمن میں مفسرین کی آراء مختلف ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کے ظاہری الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یعقوب (علیہ السلام) کے ہمراہ آنے والی آپ کی والدہ ہی تھیں اور اس وقت زندہ تھیں۔ البتہ مشہور روایت یہ ہے کہ وہ آپ کی والدہ نہیں بلکہ خالہ تھیں ، جو یعقوب کے نکاح میں تھیں اور خالہ بھی بمنزلہ والدہ کے ہوتی ہے اس لئے یہاں پر ابویہ کا لفظ آیا ہے۔ سب سجدہ ریز ہو گئے شہر میں داخل ہو کر مہمانوں کا قافلہ یوسف (علیہ السلام) کے اصل مقام پر پہنچا جہاں آپ کی رہائش تھی اور آپ امور سلطنت انجام دیتے تھے ورفع ابویہ علی العرش یہاں پہنچ کر یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا۔ ظاہر ہے کہ جس پہ پر بیٹھ کر یوسف (علیہ السلام) اپنے فرائض منصبی ادا کرتے تھے ، وہ خاص جگہ ہوگی ، جہاں عام آدمی کی رسائی نہیں ہوتی ، تو آپ نے اپنے ماں باپ کو اس خاص جگہ پر بٹھایا۔ وخروا لہ سجداً اور وہ سب آپ کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے ، جن میں آپ کے والدین ، بھائی اور دیگر اہل خاندان تھے اور طرح یوسف (علیہ السلام) کا بچپن کا وہ خواب پورا ہوگیا جس میں آپ نے دیکھا تھا کہ گیارہ ستارے سورج اور چاند آپ کو سجدہ کر رہے ہیں۔ چالیس سال کے بعد اللہ تعالیٰنے اس خواب کی تعبیر اس طرح ظاہر کی کہ آپ کے گیارہ بھائی اور باپ اور ماں آپ کے سامنے سجدہ ریز تھے۔ یہاں پر لہ کی ضمیر یوسف (علیہ السلام) کی طرف لوٹتی ہے جس کا مطلب ہے کہ تمام اہل خاندان مع والدین نے یوسف (علیہ السلام) کو سجدہ کیا ، حالانکہ بیٹے کا مرتبہ باپ سے کم ہوتا ہے۔ بھائیوں کی طرف سے تو سجدہ کرنے کا جواز نکل سکتا ہے کہ انہوں نے آپ کو ڑی تاکلیف پہنچائی تھیں اور وہ معافی کے خواستگار تھے مگر باپ کا سجدہ کرنا قرین قیاس معلوم نہیں ہوتا۔ اسی طرح والدہ یا خالہ کا سجدہ کرنا بھی مناسب معلوم نہیں ہوتا کیونکہ بیٹے سے ان کا مرتبہ بھی بڑا وہتا ہے۔ اس ضمن میں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ سجدہ دو قسم کا ہوتا ہے ایک سجدہ عبادت اور دوسرا سجدہ تعظیم جہاں تک سجدہ عبادت کا تعلق ہے ، یہ تو اللہ کے سوا کسی وقت اور کسی امت میں روا نہیں رہا ، البتہ قرآن پاک میں دو واقعات کا ذکر ملتا جہاں سجدہ تعظیم بجا لایا گیا پہلے موقع پر فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کیا تھا اور اب دوسرا موقع پر فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کیا تھا اور اب دوسرا موقع ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) اور آپ کے اہل خانہ نے یوسف (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کیا۔ گویا پہلی شرائع میں سجدہ تعظیمی ناجائز نہیں تھا ، اسے آداب بجا لانے پر محمول کیا جاتا تھا مگر اس آخری امت میں کسی قسم کا سجدہ بھی روا نہیں ہے تو یعقوب (علیہ السلام) کا سجدہ بھی تعظیمی تھا اور محض اللہ کے حکم سے تھا۔ اسی طرح آدم (علیہ السلام) کے سامنے فرشتوں کا سجدہ بھی بامرالٰہی تھا ورنہ غیر اللہ کے لئے سجدہ روا نہیں ہے۔ سجدہ کی شرعی حیثیت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ سجدہ کی حلت و حرمت کا حکم آدمی کی نیت کی بناء پر لگایا جاتا ہے کیونکہ بظاہر تو سجدہ کی ہئیت میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص غیر اللہ کو سجدہ کرتے وقت اس سے وہی تعظیم مراد لیتا ہے جو ایک بندہ اپنے پروردگار کے سامنے کرتا ہے تو پھر سجدہ تعظیم کرنے والا واضح طور پر کافر اور مشرک ہوگا اور گار اس سجدہ سے اس کی مراد ایسی تعظیم ہے جیسی شاگرد استاد کی ، بیٹا باپ کی یارعیت بادشاہ کی کرتی ہے تو یہ شرک نہیں ہوگا۔ اسی لئے شاہ صاحب نے اپنی کتاب حجتہ اللہ البالغہ میں توحید اور شرک پر بحث کرتے ہوئے یہ بات سمجھائی ہے کہ بعض چیزیں مطنات شرک ہیں یعنی شرک کے محل ہیں اور وہاں پر شرک کا ارتکاب کرنے والا قطعی کافر اور مشرک ہوگا۔ مثلاً کوئی شخص بت کے سامنے سجدہ کرتا ہے اور ساتھ کتہا ہے کہ میری مراد محض تعظیم ہے تو اس کی بات کا اعتبار نہیں کیا جائیگا اور اس پر کفر و شرک کا قطعی حکم لگ جائے گا کیونکہ اس نے مظنہ شرک کا ارتکاب کیا ہے اسی طرح اگر کوئی شخص اپنے قصد اور ارادے سے اللہ کے کلام کو گندگی میں پھینک یدتا ہے تو ایسا شخص کتاب اللہ کی توہین کے جرم میں کافر ٹھہرے گا اور اس کی کوئی تاویل اسے اس جرم سے بری قرار نہیں دے سکے گی۔ ہاں ! اگر کوئی شخص کسی دوسرے انسان کے سامنے یا قبر کے سامنے سجدہ کرتا ہے ، تو اس پر فوراً حکم نہیں لگے گا بلکہ اس سے پوچھا جائے گا کہ تو نے یہ سجدہ کس نیت اور ارادے سے کیا ہے اگر وہ کہے کہ میں نے سجدہ عبادت کیا ہے یعنی مسجود کی ایسی تعظیم کی ہے جیسی اللہ کی ہونی چاہئے تو وہ شخص صریح کافر اور مشرک ہوگا۔ اور اگر وہ اسے سجدہ تعظیمی بتاتا ہے تو کہیں گے کہ تو ایک حرام فعل کا مرتکب ہوا ہ کیونکہ اس آخری امت میں غیر اللہ کے سامنے ہر قسم کا سجدہ حرام ہے بہرحال ایسے شخص پر کفر کا فتویٰ نہیں لگے گا بلکہ وہ فعل حرام کا مرتکب سمجھا جائے گا۔ انتہائی تعظیم کی شکل رکوع یا جھکنا بھی ہے۔ تورات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ تو بالکل ہی سجدہ ریز ہوجاتے تھے مگر بعض جھک کر بھی تعظیم بجا لاتے تھے۔ تو اس آخری امت میں تعظیم کے لئے جھکنا بھی مکروہ تحریمی میں آتا ہے لہٰذا اسلام کرنا ہو یا مصافحہ کرنا مطلوب ہو تو سیدھے کھڑے ہو کر کرنا چاہئے۔ بہرحال پہلی صورت میں سجدہ بالکل کفر اور شرک ہے اور دوسری صورت میں حرام ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اس مقام پر لہ کی ضمیر یوسف علیہ اسللام کی طرف نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف لوٹتی ہے اور یوسف (علیہ السلام) منزلہ قبلہ کے تھے۔ اس کی مثال بیت اللہ شریف کی ہے جسے قبلہ ٹھہرا کر ہم خدا تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں نہ کہ بیت اللہ کے سامنے جس طرح بیت اللہ شریف سجدہ کے لئے ایک سمت اور جہت ہے اسی طرح خاندان یعقوب نے یوسف (علیہ السلام) کو قبلہ ٹھہرا کر سجدہ اللہ تعالیٰ ہی کو کیا تھا اور ان کی مشکلات دور ہونے پر یہ سجدہ شکر تھا۔ ظاہر ہے کہ سجدہ شکر بھی صرف اللہ تعالیٰکے سامنے ہی ہو سکتا ہے ، لہٰذا انہوں نے ایسا کیا۔ بہرحال یوسف (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ کرنے کی یہ دو توجیہات مفسرین بیان کرتے ہیں ، ان میں سے پہلی توجیہہ عام ہے اور اس کی وجہ بھی میں نے عرض کردی ہے۔ خواب کی سچی تعبیر غرضیکہ جب سب کے رب یوسف (علیہ السلام) کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے تو آپ نے کہا وقال یابت ھذا تاویل رء یای من قبل اے میرے باپ ! یہ اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے دیکھی تھی۔ یعنی میرے خواب کی تعبیر چالیس سال کے بعد ظاہر ہوئی ہے قدجعلھا ربی حقا میرے پروردگار نے اس کو سچا بنا دیا ہے گویا اس میں میرا کوئی کمال نہیں بلکہ یہ خواب میرے رب نے پورا کیا ہے۔ پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور اس کے احسانات کا ذکر بھی کیا وقد احسن بی اور میرے پروردگار نے مجھ پر احسان کیا اذا اخرجنی من السجن جب کہ مجھے قید سے رہائی دلائی قید کا تو ایک دن بھی بڑا دشوار ہوتا ہے مگر یوسف (علیہ السلام) سات سال تک جیل میں رہے۔ بعض روایات میں نو ، بارہ اور چودہ سال کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اللہ نے بڑا احسان فرمایا کہ نہ صرف جیل سے رہائی دلائی بلکہ عزت و اکرام بھی دلایا۔ اور اس مالک الملک کا یہ بھی احسان ہے وجآء بکم من البدو کہ آپ کو یعنی یعقوب (علیہ السلام) اور خاندان صحرا اور دیہات سے نکال لے آیا ، کنعان کا شر خود تو دیہات میں نہیں آتا کیونکہ یہ شہری آبادی تھی اس لئے مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں پر دیہات سے مراد کنعان کی قریبی صحرانی آبادیاں ہیں جہاں یعقوب (علیہ السلام) اکثر جایا کترے تھے اور وہاں لوگوں کے ساتھ آپ کی مجلس بھی ہوتی تھی۔ البتہ دوسری بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مصر کے مقابلے میں کنعان کی تمدنی حیثیت کم تر تھی اس لئے اگر کنعان کو بھی بادیہ کہہ دیا گیا ہو تو کوئی مضائقہ نہیں اور یہ اللہ تعالیٰکی مہربانی تھی کہ خانان یعقوب کو کنعان سے مصر پہنچا دیا۔ شیطان کی مداخلت فرمایا اللہ نے مجھ پر یہ احسانات فرمائے من بعد ان نزغ الشیطن بنی وبین اخوتی بعد اس کے شیطان نے میرے اور میرے بھائی کے درمیان جھگڑا کھڑا کردیا۔ یوسف (علیہ السلام) نے یہاں پر بھی بھائیوں کو براہ راست الزام نہیں دی۔ حالانکہ بھائی آپ …… کو سخت ترین تکلیفیں دینے میں پوری طرح ملوث تھے۔ مگر پھر بھی آپ کو ان کی دل آزاری مطلوب نہ تھی کیونکہ وہ اقرار کرچکے تھے انا کنا خطین یعنی خطار کار وہی ہیں ۔ لہٰذا ان کو ملامت کرنے کی بجائے آپ نے شیطان کو ملعون کیا کہ اسی نے میرے بھائیوں کے اذہان کو خراب کر کے انہیں غلط کارروائی پر آمادہ کیا تھا۔ فرمایا ان ربی لطیف لما یشآء بیشک میرا پروردگار لطافت والا ہے جو چاہے۔ لطافت کے دو معنے آتے ہیں۔ ایک باریک بین جیسے وھو اللطیف الخبیر یعنی وہ بہت ہی مخفی طریقے سے تدبیر کو چلانے والا ہے اور لطیف کا دوسرا معنی مہربان ہوتا ہے۔ تاہم اس مقام پر باریک تدبیر کرنے والا مراد ہے۔ وہ ایسے مخفی طریقے سے کوئی تدبیر کرتا ہے کہ کسی کو علم نہیں ہو پاتا۔ یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ میں کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ آپ کے ساتھ اس قسم کے حالات پیش آئیں گے ۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی صفت لطفی کا کام کر رہی تھی جو اس قسم کے حیران کن واقعات پیش آئے۔ فرمایا انہ ھو العلیم الحکیم وہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے۔ وہ ہر ایک کی نیت ، ارادے اور عزم سے واقف ہے اور وہ حکیم بھی ہے کہ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں مگر اس کی حکمت کو مخلوق نہیں جان سکتی۔ یہ اس کی حکمت کام کر رہی تھی کہ یوسف (علیہ السلام) کو اتنے عروج پر پہنچا دیا وگرنہ حاسدوں اور بدخواہوں نے کچھ اور ہی سوچا تھا۔
Ayahs 12:101–104

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

(یوسف نے کہا) اے میرے پروردگار ! بیشک تو نے عطا کی ہے مجھے حکومت ، اور سکھلایا ہے تو نے مجھے باتوں کو ٹھکانے لگانا۔ اے پیدا کنے والے آسمانوں اور زمین کے ! تو ہی میرا کار ساز ہے دنیا اور آخرت میں مجھے وفات دینا اسلام پر اور مجھے ملا دینا نیک لوگوں کے ساتھ

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

یہ ہیں غیب کی خبریں ، ہم وحی کرتے ہیں اس کو آپ کی طرف اور نہیں تھے آپ ان کے پاس جب انہوں نے ٹھہرایا اپنے معاملے کو اور وہ تدبیر کر رہے تھے

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اور نہیں ہیں اکثر لوگ چاہے آپ حریص ہوں ، ایمان لانے والے

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

اور آپ نہیں مانگتے ان سے اس پر کوئی بدلہ نہیں ہے یہ مگر نصیحت سب جہان والوں کے لئے

ربط آیات حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ اختتام پذیر ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ نے یعقوب (علیہ السلام) اور آپ کے بیٹوں کا تصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ برادران یوسف نے آپ کو نہایت ظالمانہ طریقے سے وطن سے نکالا۔ وہ آپ کو باپ کی نظروں سے اوجھل کر کے حسد کی آگ کو بجھانا چاہتے تھے ، مگر خدا تعالیٰ کی تدبیر اپنا کام کر رہی تھی۔ بھائیوں کا یہ حسد اور بغض ہی یوسف (علیہ السلام) کے بام عروج تک پہنچنے کا سبب بن گیا۔ آپ نے مصر میں نظام حکومت سنبھالا ، قحط سالی میں حسن تدبیر سے نہ صرف مصر کو اس کے اثرات سے بچا لیا بلکہ دوسرے ملکوں کو بھی غلہ فراہم کیا۔ پھر آپ نے آخر میں اپنے والد گرامی اور پورے خاندان کو مصر میں بلا لیا اور ان کو نہایت ہی عزت و احترام کے ساتھ رکھا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کے اخلاق کریمانہ کا ذکر بھی کیا کہ انہوں نے نہ صرف بھائیوں کو معاف کردیا بلکہ ان کے درمیان نزاع کو شیطانی فعل قرار دیکر انہیں الزام سے بری قرار دیدیا۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد کیا کہ اس نے آپ کو جیل سے رہائی دلائی اور پھر پورے مصر کا کار مختار بنا دیا۔ یعقوب (علیہ السلام) کی وفات حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے کنعان سے آنے کے بعد زندگی کے بیس سال نہایت اچھے طرقے سے مصر میں گزارے۔ یوسف (علیہ السلام) نے آپ کی خوب خدمت کی۔ پھر جب چوبیس سال کا عرصہ گزرا تو یعقوب (علیہ السلام) کا آخری وقت آپہنچا وہی وقت جو ہر انسان پر آتا ہے اور جس کے متعلق اللہ تعالیٰکا فرمان ہے ” کل نفیس ذائقۃ الموت (ال عمران) کہ ہر جان کو موت کا مزہ چکھنا ہے۔ انسان نیک ہو یا بد ، نبی ہو یا ولی ، موت کا پیالہ پینا ہی پڑے گا۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ جب یعقوب (علیہ السلام) کی موت کا وقت قریب آیا تو آپ نے یوسف (علیہ السلام) اور دیگر اہل خانہ کو وصیت کی کہ انہیں ان کے والد حضرت اسحاق علیہ اسللام کے قریب ہی دفن کیا جائے۔ آپ نے بیٹوں کو دین اسلام پر ثابت قدم اور کفر و شرک سے بیزار رہنے کی وصیت بھی کی جس کا ذکر سورة بقرہ میں موجود ہے۔ بہرحال جب آپ کی وفات ہوگئی تو وصیت کے مطابق آپ کا جسم مبارک ایک تابوت میں رکھ کر مصر سے فلسطین اور بیت المقدس لے جایا گیا جہاں حضرت اسحاق اور ابراہیم (علیہ السلام) کی قبور ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) خود میت کے ساتھ گئے اور اس کو دفن کرنے کے بعد مصر واپس آگئے۔ حضرت سعید بن جبیر کی تاریخی روایت کے مطابق جس دن یعقوب (علیہ السلام) کی میت کنعان پہنچی تو اسی دن آپ کے بڑے بھائی عیص ابن اسحاق کا بھی انتقال ہوگیا چناچہ دونوں بھائیوں کو باپ کی قبر کے قریب ہی دفن کردیا گیا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور عیص جڑواں بھائی تھے۔ البتہ عیص کی ولادت پہلے ہوئی اور یعقوب (علیہ السلام) کی بعد میں اور اسی بناء پر آپ کا نام یعقوب یعنی پیچھے آن والا مشوہر ہوگیا۔ دونوں بھائیوں نے ایک سو سینتالیس سال کی عمر پائی۔ یوسف (علیہ السلام) کا آخری زمانہ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ باپ کی وفات کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) تینتیس برس مزید مصر کے سیاہ وسفید کے مالک رہے اس دوران آپ نے عدل و انصاف کے ساتھ حکومت کی ، مخلوق خدا کی خدمت کرتے رہے اور ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا فریضہ بھی انجام دیتے رہے۔ آہستہ آہستہ آپ کا دل مادی زندگی سے اچاٹ ہونے لگا اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا شوق بڑھ گیا ، چناچہ زندگی کے آخری حصے میں آپ اللہ تعالیٰکے حضور اس طرح دست بدعا ہوئے رب قد اتینی من الملک اے پروردگار ! بیشو تو نے مجھے ملک مصر پر حکومت عطا فرمائی۔ یہاں پر لفظ ” من “ بیانیہ بھی ہو سکتا ہے اور بعیضیہ بھی۔ اگر اس کو بیانہ تسلیم کیا جائے تو مطلب ہوگا تو نے مجھے مصر کی بادشاہی میں سے حصہ عطا کیا۔ مصر کا اصل حکمران تو فرعون تھا اور اس نے آپ کو عزیز کے عہدے پر فائز کر رکھا تھا ، تاہم آپ کو بہت حد تک مکمل اختایرات دے رکھے تھے اور اس طرح عملی طور پر یوسف (علیہ السلام) ہی مصر کے کرتا دھرتا تھے۔ اس کی تصدیق بائیبل کی روایت سے بھی ہوتی ہے کہ فرعون نے کہا تھا کہ اے یوسف ! اس ملک میں کوئی آدمی تمہارے حکم کے بغیر قدم نہیں اٹھا سکے گا۔ بادشاہ نے آپ کو ” جہاں پناہ “ کا خطاب بھی دیا تھا اور فرعون محض برائے نام ہی بادشاہ تھا۔ اور اگر اس کو من تبعیضیہ تصور کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اے پروردگار چ تو نے مجھے حکومتوں میں سے حکومت کا ایک حصہ عطا کیا۔ ظاہر ہے کہ ساری دنیا کی حکومت تو آپ کے پاس نہ تھی بلکہ صرف مصر پر آپ کو اقتدار حاصل تھا ساری دنیا کا اقتدار چار آدمیوں کو ملا ہے جن میں سے دو مومن اور دو کافر ہیں۔ مئومنین میں سے ذوالقرنین اور سلیمان (علیہ السلام) ہیں۔ جب کہ تفسیری روایات کے مطابق کفار میں سے شداد اور بخت نصر ہیں۔ تاویل حدیث کا علم یوسف (علیہ السلام) نے ایک تو اس احسان کا ذکر اپنے رب کے سامنے کیا جس کے ذریعے آپ کو عنان حکومت دی گئی اور دوسرا احسان یہ ذکر کیا وعلمتنی من تاویل الاحادیث مولاکریم ! تو نے مجھے باتوں کو ٹھکانے لگانے کا علم بھی عطا فرمایا۔ اس سورة کے پہلے رکوع میں یعقوب (علیہ السلام) نے خواب کے ضمن میں فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰآپ کو برگزیدہ بنائے گا۔ ” ویعلملک من تاویل الاحادیث “ اور باتوں کو ٹھکانے لگانے کا علم سکھائیگا۔ تو یہاں پر یوسف (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حضور اسی احسان کا ذکر کیا ہے تاویل کا لغوی معنی کسی چیز کو لوٹا کر اس کی اصل حقیقت تک پہنچانا یا ٹھکانے لگانا ہوتا ہے اور اس میں خواب کی تعبیر بھی شامل ہے جو ایک مشکل کام ہے مگر اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو اس میں کمال عطا فرمایا تھا۔ الجھی ہوئی بات کو سلجھانا کسی مشکل کا حل پیش کرنا یا کسی معاملے میں صحیح نتیجے پر پہنچنا عام آدمی کا کام نہیں ، اس کے لئے خاص صلاحیت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ صلاحیت اللہ تعالیٰ نے حضرت علی کو بھی عطا فرمائی تھی۔ اس ضمن میں حضرت عمر فاروق کا قول ہے رب قضیۃ ولا اباحسن لھا یعنی کتنے ہی فیصلہ طلب امور ہیں مگر افسوس کہ ابوالحسن یعنی حضرت علی اس وقت موجود نہیں۔ بہرحال یوسف (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے اس احسان کا بھی ذکر کیا کہ اس نے انہیں تعبیر خواب کا علم عطا فرمایا یا معاملات کو سلجھانے کی صلاحیت عطا فرمائی۔ اللہ کے سامنے انکساری اس کے بعد آپ نے اللہ تعالیٰ کی تعریف ان الفاظ میں بیان کی فاطر السموت والارض اے آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے فاطر اور بدیع خدا تعالیٰ کی صفت ہے اور دونوں کا معنی یکساں ہے ۔ فطور ایسی ایجاد کو کہتے ہیں جو بغیر کسی مادے ، اے اور نمونے کے کرلی جائے۔ اللہ تعالیٰنے کائنات کو محض اپنی صفت اور تجلی سے ایجاد فرمایا جس کی کیفیت کوئی نہیں جانتا البتہ اس پر ایمان رکھنا ضروری ہے تو آپ نے فرمایا اے آسمان اور زمین کے ایجاد کرنے والے انت ولی فی الدنیا والاخرۃ دنیا اور آخرت میں تو ہی میرا دلی ہے۔ ولی کا معنی سرپرست ، رفیق دوست اور کار ساز ہوتا ہے تو فرمایا تو ہی میرا کار ساز ہے ، میرے کام کو بنانا تیرے ہی اختیار میں ہے اس طرح گویا یوسف (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حضور عجز و انسکاری کا اظہار فرمایا ، اس کی صفت فاطر کا ذکر کیا اور سا بات کا اقرار کیا کہ دنیا و آخرت میں اس کا وہی کار ساز ہے۔ موت علی السلام کی دعا اس کے بعد یوسف برسر مطلب آئے تو اللہ تعالیٰ کے حضور یہ درخواست پیش کی تو فنی مسلما والحقی بالصلحین اے اللہ ! مجھے اسلام پر وفات دینا اور مجھے نیک لوگوں کے ساتھ ملا دینا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ خود موت کی تمنا کرنا تو روا نہیں کیونکہ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے ، خواہ اسے تکلیف ہی کیوں نہ ہو۔ اگر دعا کرنا ہی ہو تو یوں کہے اللھم احینی ما کانت الحیوۃ خیراً تی خدا وند کریم ! مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے حق میں بہتر ہے وتوقنی اذا کانت الوفات خیراتی اور مجھے موت دے جب موت میرے حق میں بہتر ہو۔ جب کسی کو تکلیف یا پریشانی ہو تو اس قسم کی دعا کرنی چاہئے اور براہ راست ہلاکت کی دعا نہیں کرنی چاہئے۔ البتہ مفسرین فرماتے ہیں کہ دو مواقع ایسے ہیں جب موت کی تمنا کرنا درست ہے۔ ایک موقع وہ ہے جب انسان کو دینی طور پر فتنے میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ ہے۔ زندگی میں ایمان ضائع ہو انے سے بہتر ہے کہ انسان کو ایمان کی حالت میں موت آجائے۔ حضرت محمود ابن لبید کی روایت میں آتا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ انسان دو چیزوں کو ناپسند کرتا ہے حالانکہ وہ اس کے لئے بہتر ہیں۔ پہلی چیز یہ ہے کہ یکرہ الموت وہ موت کو ناپسند کرتا ہے حالانکہ وہ اس کے لئے فتنے سے بہتر ہے دوسری چیز فرمایا یکرہ قلۃ المال وقلۃ المال اقل للحساب انسان مال کی کمی کو ناپسند کرتا ہے حالانکہ قلت مال اس کے لئے قلت حساب کا باعث ہوگا۔ جتنا مال کم ہوگا ، قیامت کو حساب بھی کم دینا پڑے گا اور جس کے پاس زیادہ ہوگا اسے حساب بھی زیادہ دینا پڑے گا اور پھر پریشانی میں مبتلا ہوگا۔ بہرحال انسان کے لئے ایک تو فتنے کے خوف سے موت کی تمنا کرنا جائز ہے اور دوسرے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے شوق میں موت کی تمنا ہو تو یہ بھی درست ہے تو یوسف (علیہ السلام) اشتیاق الٰہی میں کہہ رہے تھے کہ مولا کریم ! مجھے اسلام پر وفات دینا اس دنیا میں رہ کر بڑے بڑے مصائب و آلام دیکھے ، تکالیف پائیں اور پھر اللہ تعالیٰ نے حکومت اور ہر طرح کی آسائش بھی مہیا فرمائی اب اس فانی دنیا سے دل اچاٹ ہوچکا ہے ، لہٰذا اب اپنے پاس بلائے خود حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) نے بھی مرض الموت …… میں فرمایا تا اللھم الرفیق الاعلی اے اللہ ! اب رفیق اعلیٰ میں بلا لے۔ یہ اللہ کی بارگاہ میں حاضری اور اس سے ملاقات کا اشتیاق تھا۔ تو یوسف (علیہ السلام) نے بھی اشتیاق الٰہی میں اسلام پر موت کی تمنا کی تھی۔ تمام انبیاء کی دعا اسلام پر موت کی تمنا سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آخرت کا خوف انبیاء پر بھی طاری ہوتا ہے۔ اللہ کا نبی تو یقینا ایمان پر وہتا ہے اور اس کی نجات بھی یقینی ہوتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال کے سامنے وہ بھی عجز و انکساری کا اظہار کرتے ہیں کہ پروردگار ! ایمان کی حالت میں وفات دینا۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بھی بارگاہ رب العزت میں یہی دعا کی تھی وادخلنی برحمتک فی عبادک الصلحین اے پروردگار ! مجھے اپنی رحمت سے اپنے نیک بندوں میں شامل فرما لے۔ آپ اللہ کے عظیم الشان رسول ہیں جنہیں ساری دنیا پر اقتدار حاصل ہوا۔ مگر اللہ کی بارگاہ میں عجز و انکساری کا اظہار کر رہے ہیں اور اس سے ڈر رہے ہیں ، یہی ان کا کمال ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی انبیاء (علیہم السلام) کی یہ تعریف بیان کی ہے یدعوننا رغباً ورھباً (الانبیاء 9) وہ ہمیں پکارتے ہیں ہماری نعمتوں کی طرف رغبت رکھتے ہوئے اور ہماری کبریائی اور جلال سے ڈرتے ہوئے۔ یہی تعلیم تمام اہل ایمان کو بھی دی گئی ہے کہ انہیں بھی خدا تعالیٰ کی نعمتوں کی طرف رغبت اور اس کی گرفت کا خوف ہونا چاہئے۔ اسی لئے امام ابوحنیفہ نے اپنی عقیدے کی کتاب میں لکھا ہے الایمان بین الخوف والرجی یعنی انسان کا ایمان خوف اور امید کے درمیان ہے نہ تو وہ کافروں کی طرح بےخوف ہوجائے اور نہ امید کا دامن چھوڑ دے کہ یہ بھی کفر کے مترادف ہے۔ نیک لوگوں کی معیت یوسف (علیہ السلام) نے نیک لوگوں میں شامل وہنے کی دعا کی۔ نیک لوگوں کی جماعت کا ذکر خود اللہ تعالیٰ نے بھی کیا ہے۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو مخاطب کر کے فرمائیگا فادخلی فی عبدی وادخلی جنتی پہلے میرے نیک بندوں میں شامل ہو جائو ، پھر جنت میں داخل ہو ۔ گویا نیک لوگوں کی معیت مقدم ہے معلوم ہوا کہ خود انبیاء (علیہم السلام) بھی نیک سوسائٹی مکہ طلبگار ہوتے ہیں۔ ابھی میں نے عرض کیا کہ حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے بھی نیک لوگوں میں شامل ہونے کی دعا کی ، اسی طرح بعض دوسرے انبیاء کا ذکر بھی ملتا ہے نیک لوگوں کی رفاقت سے ہی انسان کو کمال حاصل ہوتا ہے۔ الگ تھلگ رہنے سے ہو سکتا ہے کہ انسان برئای سے بچ جائے مگر کمال حاصل نہیں کرسکتا۔ حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کا فرمان ہے المومن الذی یخالط الناس ویسیر علی اذھوا (الحدیث) جو مومن آدمی لوگوں سے مل جل کر رہتا ہے اور ان کی ایذا رسانی پر صبر کرتا ہے وہ اس مومن سے بہتر ہے جو نہ کسی سے ملتا ہے نہ اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور نہ وہ صبر کرتا ہے۔ بہرحال ” صالحین “ کا لفظ اچھی سوسائٹی کی طرف اشارہ کرتا ہے جو کہ ایک مطلوب چیز ہے۔ جب تک اچھی سوسائٹی میسر نہ ہو ، اخلاق اچھا نہیں ہو سکتا۔ امام شاہ ولی اللہ محمد ث دہلوی فرماتے ہیں انما الاخلاق بالاحوال ولا بالتعلم یعنی اخلاق تعلیم سے نہیں حاصل ہوتا ، بلکہ ماحول سے ملتا ہے ، اس لئے اہل ایمان کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کا ماحول ٹھیک ہو۔ اگر ماحول درست نہیں ہوگا تو اخلاق بھی درست نہیں ہوگا۔ برے ماحول میں بچے خاص طو ر پر بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ مگر آج دنیا میں اچھا ماحول ہی نایاب ہوگیا ہے۔ اس چیز کو رومی صاحب نے اپنی مثنوی میں سوز و گداز کے ساتھ بیان کیا ہے اور ڈاکٹر اقبال نے بھی اسی بات کا رونا رویا ہے کہ اچھی سوساسئٹی میسر نہیں۔ یہ ایسی چیز ہے کہ جس کی انبیاء بھی دعا کرتے رہے کہ اللہ ! ہمیں اچھی سوسائٹی کا ممبر بنا دے۔ صالح مرد وہ ہے جو اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہے اور مخلوق کا بھی۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق امام ابوحنیفہ کا قول ہے احب الصلحین ولست منھم میں نیک لوگوں سے محبت کرتا ہوں ، اگرچہ ان میں سے نہیں ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ایسی صلاحیت عطا فرما دے۔ آ ج کی دنیا میں اچھی سوسائٹی کا فقدان ہے۔ اس کی بجائے ہر طرف فحاشی ، عیاشی ، شرک ، کفر ، بدعت ، معاصی ، خیانت اور دھوکہ کا دور دورہ ہے تاہم ہر سچے مومن کی خواہش یہ ہے کہ اسے آخرت میں اچھی سوسائٹی نصیب ہوجائے۔ اختتام واقعہ یوسف (علیہ السلام) اس دعا کے ساتھ ہی حضرت یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ اختتام پذیر پہنچتا ہے۔ یہ پورا قصہ سورة ہذا کے گیارہ کو عات پر محیط ہے قرآن کریم میں دو انبیاء یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعات دو مکمل سورتوں میں بیان ہوئے اور ان میں کسی دوسرے نبی کا ذکر نہیں۔ سورة نوح میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا مکمل ذکر ہے اور سورة یوسف میں یوسف (علیہ السلام) کا۔ اگرچہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعات کے مختلف اجزاء دوسری صورتوں میں بھی بیان ہوئے تاہم یہ سورة صرف آپ ہی کے واقعات پر مشتمل ہے اللہ تعالیٰ نے یہ واقعات اس لئے بیان کئے ہیں تاکہ لوگ ان سے عبرت اور نصیحت حاصل کریں۔ قرآن پاک نے ان واقعات کے صرف وہی حصے بیان کئے ہیں جن سے لوگ فائدہ اٹھا سکیں۔ قرآن پاک کوئی تاریخ کی کتاب نہیں کہ جس میں واقعہ کی تمام جزئیات بیان ہوں تاہم بعض تاریخی باتیں بھی اس میں آجاتی ہیں۔ بہرحال اس آیت پر یوسف (علیہ السلام) کا واقعہ ختم ہوتا ہے۔ رسالت کی صداقت اب اگل یآیات میں حضور نبی کریم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی نبوت و رسالت کی صداقت کو بیان کیا گیا ہے اور اسے ایک دلیل کے ذریعے سمجھایا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ جو واقعات ہم نے بیان کئے ہیں۔ ذلک من انبآء الغیب نوحیہ الیک یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم بذریعہ وحی آپ پر نازل کرتے ہیں وگرنہ آپ نے کسی سکول یا کالج میں تو تعلیم حاصل نہیں کی اور نہ ہی کوئی تاریخ کی کتاب پڑھی ہے آپ کے ماحول میں تو ننانویں فیصدی سے بھی زیادہ لوگ امی یعنی ان پڑھ تھے ، لہٰذا ان واقعات کو صحیح صحیح بیان کرنا بجز وحی الٰہی کے ممکن نہیں اور یہی چیز آپ کے نبی برحق ہونے کی دلیل ہے۔ تاریخ میں تو سچ اور جھوٹ خلط ملط ہوجاتا ہے۔ اس میں سنی نسائی اور غیر مصدقہ باتیں بھی آجاتی ہیں ، اس لئے عربی کا مقولہ ہے اکذب الناس الاخباریین تاریخ میں بہت زیادہ جھوٹ کی ملاوٹ ہوتی ہے۔ مگر جو بات حضور ﷺ وحی کی وساطت سے بیان کر رہے ہیں۔ وہ سو فیصدی حق ہے۔ اللہ نے انہیں غیب کی خبروں سے تعبیر کیا ہے اور حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کی رسالت کی حقانیت پر دلیل بنایا ہے۔ مسئلہ حاضر و ناظر فرمایا یہ غیب کی خبریں ہم آپ کی طرف وحی کرتا ہیں۔ وما کنت لدیھم اور آپ ان کے پاس تو نہیں تھے۔ اذجمعوا امرھم جب انہوں نے اپنے معاملے پر اتفاق کیا وھم یمکرون اور جس وقت وہ تدبیر کر رہے تھے مطلب یہ ہے کہ جب برادران یوسف آپ کے خلاف منصوبہ بندی کر رہے تھے اور جب انہوں نے آپ کو کنوئیں میں پھینک دیا تو آپ وہاں موجود تو نہیں تھے جو ان واقعات کے چشم دید گواہ ہوں۔ گویا آپ حاضر و ناظر نہیں تھے اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ کو بالکل واضح کردیا ہے کہ نبی نہ تو غیب دان ہوتا ہے اور نہ وہ ہر جگہ موجود ہتا ہے ، مگر آج اسی مسئلہ کو لوگوں نے متنازعہ بنا دیا ہے۔ حاضر و ناظر تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ” واللہ علی کل شی شھید ہر جگہ موجود ہونا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے ، مخلوق میں سے کوئی بھی اس صفت سے متصف نہیں ہے لوگوں نے حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کو حاضر و ناظر بنانے کی کوشش کی ہے یہ تو ایمان کو ضائع کرنے والی بات ہے۔ شیطان نے محبت اور عشق کے نام پر ایسے سبق پڑھائے ہیں اور گمراہی کے ایسے جال پھیلائے ہیں کہ جن میں پھنس کر لوگ عقیدہ توحید سے محروم ہوجائیں اور پھر جہنم کا ایندھن بن جائیں۔ شیطان نے ایسی ایسی رسومات بھی ایجاد کی ہیں۔ جنہیں دین کے نام پر انجام دیا جاتا ہے اور کمزور ایمان والا آدمی ان کے سامنے ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ قرآن پاک میں دوسرے انبیاء کے واقعات میں بھی صاف موجود ہے کہ آپ ہر جگہ موجود نہیں تھے۔ مثلاً سورة القصص میں ہے ” وما کنت بجانب الطور اذنادینا “ جب موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی نازل ہو رہی تھی تو اس وقت آپ طور کے کنارے پر تو نہیں کھڑے تھے اور پھر مریم (علیہا السلام) کے واقعہ میں فرمایا ” وما کنت لدیھم اذیلقون اقلامھم (آل عمران) جب مریم (علیہا السلام) کی کفالت کے لئے قرعہ اندازی ہو رہی تھی تو بھی آپ وہاں موجود نہیں تھے کہ آپ نے زکریا (علیہ السلام) کے نام قرعہ نکلتے ہوئے بچشم خود دیکھا ہو۔ یہ سب باتیں آپ کو وحی کے ذریعے بتلائی جاتی ہیں اور یہی چیز آپ کی صداقت کی دلیل ہے۔ اکثریت گمراہ ہے فرمایا حقیقت یہی ہے جو بیان کردی گئی ہے وما اکثر الناس ولو حرصت بمئومنین مگر آپ کتنی بھی حرص اور خواہش کریں ، اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے بلکہ گمراہ ہی رہے ہیں گے۔ لوگوں کی اکثریت ضد ، عناد ، ہٹ دھرمی اور باطل رسومات کو نہیں چھوڑے گی۔ البتہ کچھ ایسے لوگ بھی ضرور ہوں گے جو حق کے طالب اور منصف مزاج ہوں گے۔ ہر دو ر میں ایسا ہی رہا ہے کہ دنیا کی غالب آبادی گمراہی میں مبتلا رہی ہے اور ایمان والے ہمیشہ اقلیت میں رہے ہیں۔ آج بھی دنیا کی پانچ ارب کی آبادی میں سے چار ارب افراد ایمان کی دولت سے محروم ہیں اور کفر و شرک میں مبتلا ہیں۔ یہود و نصاریٰ چودہ صدیاں گزرنے کے بعد بھی اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں اور اسلام کو مٹانے کے لئے دن رات کوشاں ہیں۔ ہر وقت سازشیں کرتے رہتے ہیں تاکہ اللہ کا دین غالب نہ آسکے۔ سکول اور ہسپتال کھول کر اور پھر مالی امداد دے کر لوگوں کو دین حق سے بدظن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، اسی لئے فرمایا کہ آپ کی شدید خواہش کے باوجود اکثر لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ بے لوث خدمت اللہ نے فرمایا کہ آپ جوش تبلیغ ادا کر رہے ہیں ، اس کے لئے وما تسئلھم علیہ من اجر آپ ان سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتے۔ آپ تو ان کی خیر خواہی کے لئے لوگوں کو بےلوث تبلیغ کرتے ہیں۔ ہر نبی نے اپنی اپنی امت کو یہی کہا یقوم لا اسئلکم علیہ اجراً (ھود) میں تم سے کوئی بدلہ تو طلب نہیں کرتا ، میری بات تو سن لو۔ ” انصح لکم (ھود) میں تو تمہیں نصیحت کرتا ہوں ” وانا لکم ناصح امین “ (الاعراف) میں تمہارا خیر خواہ ہوں اور تمہیں دعوت دیتا ہوں کہ ایمان قبول کرلو ، تو کامیاب ہو جائو گے۔ اس میں میرا کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں بلکہ اس میں خود تمہاری ہی فائدہ ہے کہ میری اس بےلوث خدمت سے فائدہ اٹھا لو۔ فرمایا ان ھو الا ذکر للعلمین یہ تو تمام جہان والوں کے لئے نصیحت کی بات ہے۔ قرآن پاک تمام الہ جہان کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے۔ اگر کوئی شخص اس نصیحت کو قبول نہیں کرتا اور اس ہدایت سے فیض یاب نہیں ہونا چاہتا تو یہ اس کی اپنی بدبختی ہے ، اس سے قرآن کی حقانیت پر تو کوئی اثر نہیں پڑے گا اور اللہ کے نبی کا کوئی نقصان نہیں ہوگا بلکہ اس نصیحت سے مستفید نہ ہونے والا ہی خسارے میں رہے گا۔