Ayahs 12:54–57ربط آیات
یوسف (علیہ السلام) کے مطالبے پر بادشاہ وقت نے ان تمام عورتوں کو جمع کیا جو زلیخا کی دعوت میں شریک تھیں اور جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ بادشاہ نے ان سے یوسف (علیہ السلام) کے کردار کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے بالاتفاق آپ کی طہارت اور پاکیزگی کا اقرار کیا۔ عزیز مصر کی بیوی یوسف (علیہ السلام) کو پھسلانے کی اصل ذمہ دار تھی۔ اس نے بھی صریح الفاظ میں آپ کو راستباز اور نیک انسان تسلیم کیا اور خود اپنی غلطی کا اعتراف کیا۔ یوسف (علیہ السلام) کے علم و فضل ‘ تقوی اور پرہیز گار ی سے تو بادشاہ تعبیر خواب کی وجہ سے ہی گرویدہ ہوچکا تھا ‘ اب جب کہ ان عورتوں نے بھی آپ کی تعریف کی تو بادشاہ پر یوسف (علیہ السلام) کا اعتقاد مزید پختہ ہوگیا اور اس نے اپنے دل میں فیصلہ کرلیا کہ اس قدر قابل آدمی سے ضرور کوئی بہتر خدمت لینی چاہیے۔
یوسف (علیہ السلام) شاہی دربار میں
اس مقصد کے لیے وقال الملک ائتونی بہ بادشاہ نے کہا کہ اس شخص کو میرے پاس لائو ‘ ایسے آدمی کو جیل میں بند رکھنا انصاف کے خلاف ہے۔ چناچہ آپ کو لانے کے لیے بادشاہ نے آدمی بھیجے پھر جب یوسف (علیہ السلام) کو یقین ہوگیا کہ ان کے خلاف لگایا گیا الزام دھل چکا ہے اور تمام عورتوں نے آپ کی بےگناہی کی شہادت دی ہے اور اب ان کی تبلیغ کے راستے میں کوئی رکاوٹ باقی نہیں رہی تو آپ جیل سے باہر آگئے۔ تفسیری روایات میں آتا ہے کہ رہائی کے بعد انہوں نے غسل کیا ‘ مہیا کردہ لباس پہنا اور شاہی دربار میں پہنچ گئے آپ نے اپنے طریقہ پر ” السلام علیکم “ کہہ کر باد شاہ کو سلام کیا ‘ تو بادشاہ نے اس طریقہ کی تفصیلات معلوم کرنا چاہی آپ نے فرمایا ‘ ہمارے آبائو اجداد ابراہیم ‘ اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کا یہی طریقہ ہے جو کہ سارے اللہ کے برگزیدہ بندے تھے۔ مفسرین یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ جب دوسرے قیدیوں کو یوسف (علیہ السلام) کی رہائی کا علم ہوا تو وہ سخت مغموم ہوئے کیونکہ داروغہ جیل نے آپ کو قیدیوں کا حاکم بنا رکھا تھا اور آپ ان کے ساتھ نہایت رحمی و شفیق تھے ‘ تمام قیدی آپ کے حسن اخلاق کے مداح تھے لہذا آپ کی جدائی سے ان پر گریہ طاری ہوجانا فطری امر تھا۔ تاہم یوسف (علیہ السلام) نے ان کو تسلی دی کہ وہ شاہی دربار میں پہنچ کر ان کی خیرخواہی کا حق ادا کرتے رہیں گے اور ان کے لیے ہر ممکن سہولت کا بندو بست بھی کریں گے۔
بہر حال بادشاہ نے حکم دیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو ان کے دربار میں لایا جائے استخلصہ لنفسی میں انہیں اپنی ذات کے لیے خاص کرلوں گا۔ یعنی آپ جیسے صاحب علم ‘ صاحب خلق ‘ ہمدرد اور پاکباز انسان کو اپنا مصاحب ‘ مشیر یا وزیر بنا لوں گا۔ یہ بات تو اس وقت تک تھی۔ جب تک بادشاہ کی یوسف (علیہ السلام) سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ پھر جب آپ دربار میں آگئے فلما کلمہ اور بادشاہ نے آپ سے گفتگو کی ‘ تو وہ آپ کی شخصیت سے مزید متاثر ہوگیا اور اس نے اسی وقت اعلان کردیا قال انک الیوم لدینا مکین امین کہ آج سے تم ہمارے پاس صاحب مرتبت اور صاحب قدر و منزلت ہو اور امانت دار بھی ہو۔ ہم تمہیں ملک و قوم کا خیر خواہ اور امین سمجھتے ہیں۔ لہذا ہم تمہارے ہر مشورے پر صاد کریں گے۔ اب تم غلام نہیں ہو بلکہ بادشاہ کے مصاحبین میں شامل ہو۔ غرضیکہ بادشاہ نے عزیز مصر کے تمام اختیارات یوسف (علیہ السلام) کو سونپ دیے ۔
وزارت خزانہ کا مطالبہ
یوسف (علیہ السلام) نے بادشاہ سے کہ کہ مجھے ملک مصر کے خزانوں پر مقرر کردو۔ یہاں پر ارض سے مراد مصر ہے۔ انی حفیظ علیم میں ان کی حفاظت کرنے والا اور جاننے والا ہوں ۔ مطلب یہ کہ آپ نے یقین دلایا کہ میں شاہی خزانے کی پوری پوری حفاظت کروں گا ‘ اور اسے برمحل خرچ کروں گا ‘ جس سے مخلوق کو فائدہ پہنچے۔
یہاں پر مفسرین ایک اشکال پیش کرتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) تو اللہ کے نبی اور کمال درجے کے زاہد تھے اور ایسے بندوں کو آخرت کی طرف زیادہ رغبت ہوتی ہے مگر یوسف (علیہ السلام) نے دنیا کا ایک عہدہ خود طلب کیا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کی ایک یہ صفت بھی بیان کی ہے ” انآ اخلصنھم بخالصۃ ذکری الدار “ ہم نے ان کو آخرت کے گھر کے ساتھ خالص کرلیا ہے۔ وہ دنیا کی طلب نہیں رکھتے۔
حضرت عبدالرحمن ابن سمرہ ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کی خدمت میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ حاضر ہوئے ‘ آپ کے ساتھ آپ کے قبیلے کے دو دوسرے آدمی بھی تھے۔ جب وہ آپ کی خدمت میں پہنچے تو ا ن دو آدمیوں نے حضور ﷺ سے کوئی عہد “ طلب کیا چونکہ ابو موسیٰ اشعری ؓ کو ان کی نیت کا علم نہیں تھا ‘ اس لیے وہ اپنے ساتھیوں کا سوال سن کر پریشان ہوگئے۔ آپ نے حضور ﷺ کی خدمت میں معذرت کی کہ ان کے ساتھیوں نے ایسا مطالبہ کیا اس پر حضور ﷺ نے فرمایا انا لا نولی علی ھذا من اراد اوطلبہ یعنی جو شخص خود طالب ہوتا ہے ہم اسے مطلوبہ کام پر مقرر نہیں کرتے ‘ چناچہ آپ (علیہ السلام) نے وہ عہدہ ان دو آدمیوں کی بجائے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کردے دیا جنہوں نے اس کا مطالبہ بھی نہیں کیا تھا۔ یہ حدیث عہدہ قضا اور دیگر عہدوں سے متعلق بھی ہے کہ جو شخص خود کسی عہدہ کا طالب ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی تائید سے محروم ہوجاتا ہے اور جس کو خود کوئی عہدہ پیش کیا جائے اس کو اللہ تعالیٰ کی تائید حاصل ہوتی ہے۔
ان تمام حقائق کے باوجود حضرت یوسف (علیہ السلام) نے وزارت خزانہ کی ذمہ داری کے لیے خود اپنے آپ کو پیش کیا ‘ تو مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حقیقت یہی ہے کہ جو شخص کسی دنیاوی مفاد کے لیے کوئی عہدہ طلب کرتا ہے ‘ وہ تائید الٰہی سے محروم ہوجاتا ہے ‘ مگر طالب کے پیش نظر اگر دین کا مفاد اور مخلوق خدا کی بہتری ہو تو پھر اقتدار کا سوال کرنا جائز ہے۔ اگر کوئی شخص سمجھتا ہے کہ اگر یہ عہدہ میں نے طلب نہ کیا تو اس پر کوئی غیر مستحق آدمی متمکن ہوجائے گا جس کی وجہ لوگ ظلم کا شکار ہوں گے تو پھر ایسا عہدہ خود طلب کرنا روا ہے اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ غرور وتکبر ناپسندیدہ فعل ہے مگر بعض مواقع پر یہی تکبر اللہ کے نزدیک محمود ہوجاتا ہے ۔ جب دشمن کے ساتھ مقابلہ ہو تو وہاں اکڑ اور تکبر کا اظہار دشمن کی بددلی کا سبب بن سکتا ہے جنگ خیبر کے موقع پر حضرت علی ؓ نے بعض فخریہ اشعار کہے تھے جو کہ موقع کی مناسبت سے تھے اور بالکل جائز تھے۔
؎ انا الذی سمتنی امی حیدرا
کلیث غابا کریھۃ المنظرا
میں وہ ہوں کہ جس کا نام ماں نے حیدر رکھا ہے جنگل کے شیر کی مانند ہوں جو دیکھنے والے کو دہشت زدہ کردے مطلب یہ کہ بعض اوقات تکبر کرنا اور خود عہدہ طلب کرنا بھی جائز ہوتا ہے۔ اور اگر محض دنیا کے مفاد کے لیے یا لوگوں پر ظلم و زیادتی کے لیے عہدہ طلب کیا جائے تو یہ ناجائز ہوگا اور ایسا کرنے والا تائید ایزوی سے محروم ہوگا۔
اسی اصول کے پیش نظر بعض اوقات قاضی یا جج بننا ضروری ہوجاتا ہے اگر کوئی شخص مناسب علم اور صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی عدم موجودگی میں کسی فاسق ‘ فاجر اور ظالم آدمی کے قاضی بننے کے مواقع موجود ہوں تو باصلاحیت آدمی کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ خود اپنی خدمات پیش کردے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جنگ موتہ کے موقع پر حضور ﷺ نے مجاہدین کی قیادت کے لیے تین آدمی مقرر فرمائے تھے۔ یعنی زید بن حارثہ ؓ ‘ جعفر طیار ؓ ‘ اور عبد اللہ بن رواحہ ؓ آپ نے فرمایا تھا کہ حوادث کی صورت میں یہ تین سپہ سالار یکے بعد دیگرے فوج کی کمان سمبھالیں گے۔ میدان جنگ میں پہنچ کر واضح ہوا کہ دشمن کی تعداد ایک لاکھ یا پونے دو لاکھ ہے۔ جب کہ ان کے مقابلے میں مجاہدین صرف تین ہزار کی تعداد میں تھے۔ جنگ شروع ہوئی تو مذکورہ تینوں جر نیل یکے بعد دیگرے شہید ہوگئے۔ اس موقع پر حضرت خالد بن ولید ؓ نے خود آگے بڑھ ک فوج کی قیادت سنبھال لی آپ نے اپنی خداداد صلاحیت کی بناء پر نہ صرف دشمن کو مرعوب کیا بلکہ اسلامی لشکر کو بحفاظت نکال لائے۔ مطلب یہ ہے کہ جب خلاء پیدا ہوجائے تو بعض حالات میں حصول اقتدار لازم ہوجاتا ہے مگر ہمارے ہاں مسئلہ بالکل الٹ ہے۔ دین اسلام اور مخلوق خدا کی خدمت کے جذبے سے اگر کوئی مولوی الیکشن میں کھڑا ہوجائے تو آوازیں کسنے لگتے ہیں۔ یہ تو روٹیاں مانگ کر کھانے والے ہیں۔ انہیں سیاست میں آنے کی کیا ضرورت ہے ‘ یہ اپنی نمازوں سے غرض رکھیں اور ملکی نظام دوسروں کے سپرد کردیں۔ بہر حال یوسف (علیہ السلام) کے پیش نظر دین اور مخلوق کی خدمت تھی ‘ آگے ملک قحط کا شکار ہونے والا تھا ‘ اس لیے ملکی معیشت کا باصلاحیت اور دیانتدار ہاتھوں میں آنا ضروری تھا ‘ اس لیے یوسف (علیہ السلام) نے خزانے کی ذمہ داری خود اٹھانے کی پیش کش کردی اور آپ کا یہ اقدام بالکل درست تھا۔
غیر مسلم کی ملازمت
یہاں پر کئی دوسرے مسائل بھی جنم لیتے ہیں ‘ منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ کیا کافر حکومت کا عہدہ قبول کرنا درست ہے ۔ اس واقعہ کے تناظر میں بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ بادشاہ وقت ریان ابن ولید مسلمان ہوچکا تھا لہذا اس کی ملازمت درست اقدام تھا مگر محدثین کے نزدیک اس ضمن میں کوئی۔ صحیح روایت نہیں ملتی۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ایمان لے آیا ہو۔ اگر ایمان نہ بھی لایا ہو تو بھی یوسف (علیہ السلام) کے حق میں وہ بہر حال اچھا تھا اور اس نے آپ کو جس عہدے پر فائز کیا اس کے مکمل اختیارات بھی آپ کو سونپ دیے تھے۔ بائیبل کی روایت میں آتا ہے کہ بادشاہ نے خود اپنے تمام اختیارات بھی یوسف (علیہ السلام) کے حوالے کردیے تھے ‘ آپ کو تخت پر بیٹھا کر آپ کے سر پر تاج بھی رکھا اور بادشاہ نے اپنی انگوٹھی اتار کر دے دی۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ تاج پہنانا تو ہمارے لیے غیر متعلقہ بات ہے البتہ نظام حکومت کو چلانے کے لیے انگوٹھی بطور مہر ضرور استعمال ہوتی رہی ہے۔ غرضیکہ بادشاہ نے یوسف (علیہ السلام) کو کلی اختیارات دے دیے اور خود برائے نام بادشاہ رہ گیا۔ یہودیوں کی کتابوں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کی خود مختاری بادشاہ کی کونسل کے مشورے سے عمل میں آئی تھی اور سب نے بالا تفاق اس امر کی منظوری دی تھی۔ بہر حال محدثین اور مفسرین فرماتے ہیں کہ اگر کسی عہدے دار کو خلاف شرع کسی کام پر مجبور کیا جائے تو ایسا عہدہ قبول نہیں کرنا چاہیے اور اگر ایسی کوئی مجبوری نہ ہو تو کافر حکومت میں بھی عہدہ قبول کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
انگریزی دور میں مسلمانوں کو بڑی بڑی جا گیریں اور عہدے دے کر ان سے غلط کام کرائے گئے۔ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان سے قتل کرایا گیا مسلمان ملک پر حملہ کے لیے مسلمانوں کو بھیجا گیا اور شریعت کی خلاف ورزی کے دوسرے کام کرائے گئے ‘ جو قطعاً روانہ تھے اسی لیے شاہ عبد العزیز محدث دہلوی (رح) اور دوسرے بزرگان فرماتے ہیں کہ ایسی صورت میں غیر مسلم حکومت میں عہدہ قبول کرنا جائز نہیں علمائے کرام نے انگریزی فوج میں بھرتی کے خلاف فتوی دیا کیونکہ انگریز مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف لڑانا چاہتا تھا۔ انہوں نے مسلمانوں کے ذریعے عراق پر حملہ کرا کے وہاں کے مسلمانوں کی خوب پٹائی کرائی ‘ عربوں اور ترکوں کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا ‘ چناچہ فوجی بھرتی کے خلاف فتویٰ کی پاداش میں علماء کو قید و بند کی صعوبتیں برداشت گرنا پڑیں۔ مولانا سید حسین احمد مدنی (رح) ‘ مولانا محمد علی (رح) ‘ مولانا شوکت علی (رح) ‘ ڈاکٹر سیف الدین کچلو (رح) ’ پیر غلام محمد سندھی (رح) ‘ جیسے اکابرین ملت نے بڑے مصائب اٹھائے حتیٰ کہ مولانا مدنی (رح) ‘ کو دو سال تک کھڑی بیڑیوں کی سزا بھگتنا پڑی۔ تاہم اگر غلط کام نہ لیاجائے تو پھر غیر مسلم حکومت میں بھی عدہ قبول کرنا روا ہے ‘ یوسف (علیہ السلام) کے عمل میں باقی لوگوں کے لیے اسوہ موجود ہے۔
یوسف (علیہ السلام) کا حصول اقتدار
الغرض ! یوسف (علیہ السلام) کی خواہش پر بادشاہ وقت نے آپ کو خزانوں کا نگران مقرر کردیا جسے اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا ہے وکذلک مکنا لیوسف فی الارض اور اس طرح ہم نے زمین میں یوسف (علیہ السلام) کو اقتدار دیا۔
اللہ نے آپ کو ایسا موقع فراہم کیا کہ یتبو ا منھا حیث یشآء آپ جہاں بھی چاہتے جگہ پکڑتے ‘ انہیں کسی جگہ آنے جانے میں کوئی رکاوٹ نہ تھی ‘ ملک میں بادشاہ کا سا اعزاز حاصل تھا۔ اللہ نے فرمایا نصیب برحمتنا من نشآء ہم اپنی مہربانی جسے چاہتے ہیں ‘ پہنچاتے ہیں۔ ولا نضیع اجرالمحسنین اور نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔ یوسف (علیہ السلام) محسنین میں سے تھے۔ انہوں نے بڑی بڑی جسمانی اور ذہنی تکالیف برداشت کیں تو اللہ نے انہیں دنیا میں بھی جاہ و اقتدار عطا کیا مگر آخرت کا اجر تو بہت زیادہ ہے۔
؎ یہ دنیا و عقبیٰ کسے قدر یافت
کہ اوجانب صبرو تقویٰ شتافت
دنیا اور عقبیٰ دونوں مقامات پر مرتبہ وہی پاتا ہے جو صبر اور تقویٰ کی طرف دوڑ کرجاتا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) میں یہ دونوں چیزیں بدرجہ اتم موجود تھیں لہذا اللہ تعالیٰ نے انہیں دنیا میں بھی اعلیٰ منصب عطا فرمایا اور آخرت کا درجہ تو بہرحال اللہ کے ہاں موجود ہے۔
زلیخا سے نکاح
کسی صحیح روایت میں تو اس بات کا ذکر نہیں ہے مگر تفسیری روایات میں آتا ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) منصب شاہی پر فائز ہوگئے تو انہی دنوں میں فوطیفا عزیز مصرفوت ہوگیا اور بادشاہ نے زلیخا کا نکاح یوسف (علیہ السلام) سے کردیا۔ امام ابن کثیر (رح) اور بعض دوسرے مفسرین نے بھی اس نکاح کا ذکر کیا ہے اور یہ بھی کہ زلیخا سے یوسف (علیہ السلام) کے دو بیٹے افراہیم اور منشاء بھی پیدا ہوئے۔ پھر افرا ہیم سے نون پیدا ہوئے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جانشین حضرت یوشع کے والد ہیں۔ افراہیم کے ہاں ایک بیٹی بھی پیدا ہوئی جس کا نام رحمت تھا اور جو ایوب (علیہ السلام) کی زوجہ تھیں۔ کہتے ہیں کہ نکاح کے بعد حضرت یوسف (علیہ السلام) نے زلیخا سے کہا ‘ کیا یہ بات اس سے بہتر نہیں ہے جس کی طرف تو مجھے دعوت دیتی تھی۔ اس پر زلیخا نے معذرت کی اور کہا ‘ اے اللہ کے نبی ! میرا خاوند کمزور اور بےرغبت تھا۔ جب کہ میں جو ان تھی اور تمہارے حسن و جمال کو دیکھ کر بےقابو ہوگئی۔ تفسیری روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ بادشاہ سے اعزاز پانے کے بعد جب یوسف (علیہ السلام) راستے سے گزر رہے تھے تو زلیخا آپ کی شان و شوکت کو دیکھ رہی تھی۔ فضیل بن عیاض ؓ کا مقولہ ہے کہ اس وقت زلیخا نے کہا الحمد للہ الذی جعل عبیداملوکا بطاعتہ سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے غلاموں کو اپنی اطاعت کی وجہ سے بادشاہ بنادیا والملوک عبیدا بمعصیتہ اور بادشاہوں کو ان کی معصیت کی وجہ سے غلاموں سے بھی بدتر بنادیا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ولا جرالاخرۃ خیر للذین امنوا وکانوا یتقون البتہ آخرت کا اجر بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کیا۔ آخرت کے مراتب اور درجات تو کہیں بڑھ کر ہیں اس سے جو کچھ انہیں اس دنیا میں نصیب ہوا۔
Ayahs 12:58–62ربط آیات
گذشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب شاہ مصر کو اس کے خواب کی تعبیر مل گئی تو اس نے یوسف (علیہ السلام) کو بلا بھیجا مگر آپ نے اپنے خلاف لگائے گئے الزام کی صفائی تک جیل سے باہر آنے سے انکار کردیا۔ پھر بادشاہ نے مصر کی معزز خواتین کو طلب کرکے یوسف (علیہ السلام) کی بےگناہی کے متعلق تسلی کرلی تو آپ جیل سے نکل کر شاہی دربار میں پہنچے۔ بادشاہ آپ کے علم و فہم اور عقل و دانش کا تو پہلے ہی معترف ہوچکا تھا ‘ جب اس نے آپ سے گفتگو کی تو مزید گرویدہ ہوگیا ‘ اور آپ کو اپنے مصاحبین میں شامل کرلیا۔ یوسف (علیہ السلام) نے خود امور خزانہ کی ذمہ داری اٹھانے کی پیش کش کی جسے بادشاہ نے منظور کرلیا اور آپ کو وزیر خزانہ کا منصب سونپ دیا۔
یوسف کی حسن تدبیر
اسی اثنا میں بادشاہ کے خواب کے مطابق ملک میں خوشحالی کے سات سالوں کا آغاز ہوگیا۔ یوسف (علیہ السلام) نے اپنی حسن تدبیر کے ساتھ وافر غلے کو محفوظ کرنا شروع کردیا۔ چناچہ ہر سال جتنا اناج ضرورت سے زیادہ ہوتا آپ اس کے خوشے ہی سٹور کرتے رہے تاکہ یہ محفوظ شدہ غلہ قحط کے اگلے سات سالوں میں کام آسکے۔
جب فراوانی کے سات سال ختم ہوگئے تو یوسف (علیہ السلام) کے پاس کثیر مقدار میں غلہ جمع ہوچکا تھا۔ اس کے بعد قحط کا زمانہ شروع ہوگیا ‘ بارش بند ہوگئی ‘ زمین کا پانی بھی خشک ہوگیا۔ جب پانی ہی نہ رہا تو غلہ کیسے پیدا ہوتا۔ نہ صرف ملک مصر بلکہ ارد گرد کا پورا خطہ بھی زبردست قحط کا شکار ہوگیا۔ کنعان ‘ فلسطین اور یورشلم کے علاقے بھی قحط کی زد میں آگئے اور لوگ بھوکوں مرنے لگے۔ اس دوران میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ شاہ مصر کے پاس وافر غلہ موجود ہے ‘ بادشاہ نہایت رحمدل اور انصاف پسند ہے جو بھی اس کے پاس چلاجائے وہ اسے اناج دیکر لوٹاتا ہے ‘ چناچہ غلہ حاصل کرنے کے لیے مدین ‘ شام ‘ فلسطین اور کنعان وغیرہ سے لوگ مصر کی طرف جانے لگے۔
عالمی قحط
تاریخ عالم کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں بڑے بڑے خوفناک قحط پڑے حتی کہ یورپ بھی اس سے محفوظ نہ رہ سکا۔ بر صغیر پاک و ہند کی تاریخ میں تو بہت سے قحطوں کا پتہ چلتا ہے۔ انگریزی دور کے آخری زمانے یعنی 46۔ 1945 ء میں بنگال میں زبردست قحط رونما ہوا۔ جس سے نوے ہزار افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اس وقت پنجاب اور سرحد وغیرہ کے لوگوں نے بنگالیوں کی حسب توفیق مدد کی۔ تاہم وہاں پر اشیائے ضرورت کی اس قدر قلت پیدا ہوگئی تھی کہ ایک من چاول یا ایک ساڑھی پانچ سوروپے میں بھی دستیاب نہ تھی۔ اس صدی کی ابتداء میں بھی برصغیر میں بڑے بڑے قحط پڑے شمالی علاقہ جات کوہستان ‘ الائی ‘ نندھاڑ وغیرہ جو اس وقت آزاد علاقے تھے ‘ خوفناک قحط کا شکار ہوگئے بہت سے لوگ ان علاقوں سے نقل مکانی کرتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گئے ہماری اپنی بستی کے قریب سے عام شاہراہ گزرتی تھی۔ والدہ مرحومہ نے ہمیں بتایا کہ قحط کے زمانے میں لوگ اس راستے سے گزرتے رہے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی دوران کوئی چھ سات فٹ قد کی لمبی تڑنگی عورت راستہ چلتے ہمارے گھر آگئی۔ بیچاری بھوک اور بیماری سے نڈھال ہو رہی تھی حتیٰ کہ وہ کچھ بولنے سے بھی عاجز آچکی تھی۔ والدہ نے اسے چاولوں کی ایک پلیٹ پیش کی۔ اس نے ایک لقمہ اٹھا کر منہ میں ڈالا تو بیہوش ہو کر گر پڑی اور اس کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ ہماری بستی کے قریب ہی ایک ٹیلے پر بہت سی قبریں تھیں ‘ ہمیں بتایا گیا کہ یہ قحط کے دوران سفر کرنے والوں کی قبریں ہیں۔
ابن بطوطہ آٹھویں صدی کا عظیم سیاح گزرا ہے۔ یہ دنیا بھر میں واحد سیاح ہے جس نے ستائیس برس تک سیاحت کی اور دنیا کے گوشے گوشے میں پھرا۔ یہاں برصغیر میں بارہ برس تک پھر تارہا ‘ اس کے علاوہ وہ جزائر شرق الہند ‘ چین ‘ سیام اور تھا ئی لینڈ وغیرہ گیا۔ اب تو تیز رفتار سواریاں میسر ہیں جن کی وجہ سے دنیا بھر کی سیاحت نہایت آسان ہوگئی ہے مگر ابن بطوطہ کے زمانے میں سفر بڑے جان جو کھوں کا کام تھا۔ اس شخص نے اپنے سفر نامے میں کئی قحطوں کا ذکر کیا ہے کہتا ہے کہ بعض مقامات پر ایک دینار میں ایک روٹی یا پانی کا ایک گلاس بھی بمشکل میسر آتا ہے۔ گائے کی ایک سری ایک سو دینار میں نہیں ملتی تھی۔ یہ شخص مراکش کا رہنے والا تھا اور اپنی عمر کے آخری حصے میں وہیں پہنچ کر فوت ہوا۔
قیمت پر کنٹرول
بہر حال جب مصر میں قحط پڑگیا اور بیرونی ممالک کے لوگ بھی غلہ لینے کے لیے مصر کی طرف آنے لگے تو ملک میں غیر معمولی حالات پیدا ہوگئے ایک طرف اندرون ملک اناج کی مسلسل فراہمی کا مسئلہ در پیش تھا اور دوسری طرف دوسرے ممالک کو بھی مناسب مقدار میں غلہ کی فراہمی مطلوب تھی۔ یوسف (علیہ السلام) نے ان حالات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے دو نہایت اہم فیصلے کیے۔ آپ نے اندرون ملک غلے کی قیمتیں مقرر کردیں تاکہ کوئی شخص مہنگے داموں غلہ فروخت نہ کرسکے اور ملکی ضروریات بلاروک ٹوک پوری ہوتی رہیں۔ آپ نے دوسرا فیصلہ یہ کیا کہ غیر ممالک سے آنے والوں کے لیے ایک مقدار مقرر کردی کہ اس سے زیادہ کوئی شخص اناج حاصل نہیں کرسکے گا چناچہ باہر سے آنیوالے ہر شخص کو آپ نے ایک سواری اونٹ خچر وغیرہ کے بوجھ کے برابر غلہ دینے کا حکم دیا اور اس طرح کوئی شخص ایک بوجھ سے زیادہ اناج حاصل یہاں کرسکتا تھا۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ اندرون ملک بھی غلے کی قیمتیں معقول سطح پر رہیں اور بیرون ملک بھی اناج زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچتا رہا جس سے ملک کا خزانہ بھی بھر گیا۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کا اصل مقصد تو عقیدہ توحید ‘ ایمان ‘ نیکی اور اخلاق کی تعلیم ہے ‘ مگر ان کی مبعثت کا ایک اہم مقصد لوگوں سے ظلم کو دور کرنا بھی ہے۔ اسی لیے جب کسی علاقے میں غیر معمولی حالات پیدا وہ جائیں اور یہ خطرہ لاحق ہو کہ لوگوں سے من مانی قیمت و صول کر کے ان پر ظلم کیا جائے گا ‘ تو ایسی صورت میں حکومت کے لیے اشیائے صرف کی قیمتوں پر کنٹرول کرنا ضروری ہوجاتا ہے عام حالات میں جب کہ اشیائے صرف کی فراوانی ہو ‘ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ تجارت کو کھلا چھوڑ دیا جائے اور کسی چیز کی قیمت پر کنٹرول نہ کیا جائے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب حضور ﷺ سے بھائو مقرر کر نیکی درخواست کی گئی تو آپ نے انکار کردیا ‘ اور فرمایا تجارت کو آزاد چھوڑ دو تاکہ کسی پر زیادتی نہ ہو۔ فرمایا اگر میں قیمت مقرر کردوں اور اس سے کسی پر زیادتی ہو ‘ تو یہ درست نہیں۔
امام محمد (رح) کے مطابق اسی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ جب لوگوں پر ظلم ہو رہا ہو تو اس ظلم کو دور کرنے کے لیے قیمتوں پر کنٹرول کرنا جائز ہوجاتا ہے۔
گواہی کا صلہ
بہر حال یوسف (علیہ السلام) نے قحط کے دوران اناج کی بہم رسائی کا بہترین انتظام کیا جس کی بدولت مخلوق خدا سے ایک بہت بڑا خطرہ گیا۔ نویں صدی کے بزرگ امام محمد ابن محمد یوسف المتوفی 833 ھ نے وعظ و نصیحت کے موضوع پر ” الزہرالفائخ “ (مہکنے والی خوشبو) نامی کتاب لکھی ہے۔
1 ؎ حجۃ اللہ البالغہ ص 337
جس میں لکھتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کے پاس ایک محتاج آدمی غلہ لینے کے لیے آیا۔ آپ نے اس کو ایک عام صاع (تقریباً چار سیر) غلہ عطا فرمایا۔ اس نے عرض کیا ‘ حضرت ! اس سے تو میری ضرورت پوری نہیں ہوگی ‘ اس لیے کچھ مزید دیجئے۔ اسی پر آپ نے اسے ایک صاع مزید دے دیا ۔ پھر وہ شخص کہنے لگا کہ اگر آپ مجھے جانتے ہوتے تو یقیناً ۔۔۔۔۔ آپ مجھے راضی کرتے یوسف (علیہ السلام) کے دریافت کرنے پر اس شخص نے بتایا کہ وہ وہی شخص ہے جس نے صرف چار ماہ کی عمر میں آپ کی پاکدامنی کی گواہی دی تھی۔ جب زلیخا نے آپ کی قمیص پھاڑ دی تھی تو میں نے ہی بول کر کہا تھا کہ اگر قمیص پیچھے سے پھٹی ہے تو زلیخا قصور وار اور یوسف بےگناہ ہے۔ چناچہ اس بات سے یوسف (علیہ السلام) بہت خوش ہوئے اور آپ نے اس شخص کو ایک سوار اناج اور ایک سو دینار بھی دینے کا حکم دیا۔ ایک ارب بیس صاع کے برابر ہوتا ہے اور اس طرح آپ نے اس شخص کو دو سو من غلہ عطا کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) پر وحی نازل فرمائی کہ اے یوسف ! جس شخص نے آپ کے حق میں ایک گواہی دی آپ اس پر اتنا خوش ہوئے کہ اسے ایک سوار اناج دیدیا اور جو شخص صبح شام میری توحید کی گواہی دیتا ہے اور میرے نبی کی نبوت کی شہادت دیتا ہے میں اس پر کتنا خوش ہوتا ہوں۔
برادران یوسف کی مصر آمد
اللہ تعالیٰ نے یہاں پر اسی واقعہ کو بیان فرمایا ہے کہ قحط کے زمانے میں جب لوگ دور دور سے غلہ لینے کے لیے مصر آنے لگے تو یہ خبر کنعان بھی پہنچی اور پھر شاہ مصر کی فیاضی کا چر چا سن کر برادران یوسف بھی مصر آئے۔ ارشاد ہوتا ہے وجآء اخوۃ یوسف اور یوسف (علیہ السلام) کے بھائی بھی سینکڑوں میل کا سفر کر کے آپ کے پاس غلہ لینے کے لیے حاضر ہوئے۔ فدخلوا علیہ وہ یوسف (علیہ السلام) کے پاس داخل ہوئے۔ فعرفھر تو آپ نے بھائیوں کو پہچان لیا۔ وھم لہ منکرون اور بھائی آپ کو نہ پہچان سکے۔ ان کے وہم و گمان میں بھی ہی بات نہ آسکتی تھی کہ جس بھائی کو انہوں نے پہلے کنوئیں میں گرایا ‘ پھر قافلے والوں کے ہاتھوں سستے داموں فروخت کردیا ‘ وہ ملک مصر کا خود مختار حاکم بھی ہو سکتا ہے اور وہ اسی کے سامنے غلے کے لیے ہاتھ پھیلا رہے ہیں۔ حکومتی آداب کا تقاضا تھا کہ یوسف (علیہ السلام) کے بھائی آپ کے زیادہ قریب بھی نہ جاسکتے تھے۔ بر خلاف اس کے یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کو ایک نظر میں ہی پہچان لیا مگر اپنا تعارف نہیں کرایا۔ ظاہر ہے کہ تب سے 38 تا 40 سال پہلے یوسف (علیہ السلام) بھائیوں سے جدا ہوئے تھے تو بھائی اس وقت بھی جوان تھے اور اتنے عرصہ کے بعد بھی ان کی شکل و صورت میں کوئی خاص تغیر واقع نہیں ہوا تھا ‘ لہذا آپ نے ان کو آسانی سے پہچان لیا۔ آپ نے بھائیوں سے ان کے اور ان کے ملکی حالات دریافت کیے مگر زیادہ تفصیل کے ساتھ بات نہ کی۔
جیسا کہ اگلی آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) بیرون ملک سے آنے والے تمام لوگوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے تھے اور ان کو اعزاز کے ساتھ ٹھہراتے تھے۔ چناچہ آپ نے اپنے بھائیوں کو بھی پورا پورا اعزاز دیا اور ان کی مہمان نوازی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اہل شہر کا فرض ہے کہ وہ باہر سے آنے والے تاجروں سے بھی حسن سلوک سے پیش آئیں۔ اگر ایسا کریں گے تو باہر سے زیادہ تاجر آئیں گے۔ جس سے ملک کی خوشحالی میں اضافہ ہوگا۔ اشیاء صرف کی فراوانی ہوگی۔ اور ملک ترقی کے راستے پر گامزن ہوگا۔ برخلاف اس کے اگر تاجروں کیسا تھ بد سلوکی کی جائے گی ‘ ان کے ساتھ دھوکہ اور فریب کیا جائے گا۔ ان کا مال چھین لیا جائگا تو وہ دوبارہ اس طرف آنے کی غلطی نہیں کریں گے نتیجہ یہ ہوگا کہ غیر ملکی تجارت کمزور پڑجائے گی۔ اشیائے صرف کی قلت پیدا ہوگی اور اس طرح ملک تنزل کی طرف جائے گا۔ شاہ صاحب نے دوسری بات یہ فرمائی ہے کہ معاشرے کے غریبوں ‘ محتاجوں ‘ اور یتیموں سے اچھا سلوک کرو۔ تاکہ تمہارا معاشرہ ترقی کرے۔ اس طرح معاشرتی مسائل کم ہوں گے اور ملک آسودگی کی طرف پیشقدمی کریگا۔
بن یامین کو لانے کی فرمائش
بہرحال یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں کی خوب خاطر مدارت کی اور پھر انہیں دستور کے مطابق غلہ بھی دیا۔ ارشاد ہوتا ہے ولما جھزھم بجھا زھم جب ان کا سامان تیار ہوگیا ‘ اور اپنے وطن واپس جانے لگے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان سے الوادعی ملاقات میں فرمایا قال ائتونی باخ لکم من ابیکم میرے پاس لے آنا اپنے بھائی کو جو تمہارے باپ میں شریک ہے۔ یوسف (علیہ السلام) کی مراد اپنے سگے بھائی بن یامین سے تھی جس کا ذکر خود آپ کے بھائی کرچکے تھے کہ وہ باپ کی خدمت کے لیے کنعان میں ہے اور ہمارے ساتھ نہیں آسکا۔ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ برادران یوسف نے اپنے اپنے حصے کا غلہ لینے کے بعد یوسف (علیہ السلام) سے گذارش کی تھی کہ ان کے نابینا باپ اور چھوٹے بھائی کا حصہ بھی انہیں دیا جائے وہ بوجوہ ہمارے ساتھ نہیں آسکے۔ چناچہ یوسف (علیہ السلام) نے ان دونوں کا حصہ بھی بھائیوں کو دے دیا تھا ‘ تاہم آئندہ کے لیے یہ شرط عائد کی تھی کہ جب دوبارہ آئو تو اپنے گیارہویں بھائی کو بھی ساتھ لانا اور نہ سمجھا جائے گا کہ تم نے دروغ سے کام لے کر اس کا حصہ ناجائز طور پر وصو کرلیا ہے فرمایا الا ترون انی اوفی الکیل یہ تو تم نے دیکھ ہی لیا ہے کہ میں پورا پورا دیتا ہوں یعنی کسی کو مایوس نہیں لوٹا تا وانا خیر المنذلین اور میں بہتر مہمانداری کرنے والا ہوں۔ میں نے تمہیں عزت کے ساتھ رکھا ہے ‘ تمام ضروریات پوری کی ہیں۔ لہذا اگلی دفعہ تم اپنے بھائی کو ضرور ہمراہ لانا۔ فان لم تاتونی بہ اور اگر تم اسے ساتھ نہیں لائو گے فلا کیل لکم عندی تو تمہارے لیے میرے پاس کوئی اناج نہیں ہوگا ‘ یعنی تمہیں بھی کچھ نہیں دوں گا ‘ لہذا ولا تقربون پھر میرے قریب بھی نہ آنا ‘ ورنہ تمہیں مایوس لوٹنا پڑے گا۔ یوسف (علیہ السلام) نے یہ سخت شرط عائد کردی۔
یہاں پر جھزھم بجھا زھم کے الفاظ قابل توجہ ہیں۔ جہاز سامان کو کہتے ہیں اور جہیز بھی اسے مادے سے نکلا ہے۔ شادی کے موقع پر بچی کو جہیز دینا نہ تو فرض ہے۔ نہ واجب اور نہ سنت مئوکدہ ‘ بلکہ حسب استطاعت مستحب ہے مگر ہمارے ہاں اس چیز نے لعنت کی صورت اختیار کرلی ہے جس کی وجہ سے اکثر شادیاں بلوغت کی عمر کو پہنچنے کے بعد بھی التواء میں پڑی رہتی ہیں اور جس کی وجہ سے معاشرے میں طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہورہی ہیں۔ اگر کوئی صاحب استطاعت ہے تو بیٹی کو جہیز دے ‘ اس میں کوئی حرج نہیں ‘ لیکن اس کے برعکس اگر ہر غریب آدمی بھی بھاری بھر کم فرنیچر ‘ فریج اور ٹیلیویژن جیسی لغویات دینے کی کوشش کرے گا ‘ تو معاشرتی خرابیوں کا باعث ہوگا اور یہی جہیز ایک لعنت بن کر رہ جائیگا ایسا کرنا محض رواج اور نبیوں کی تعلیم کے خلاف ہے۔
پونجی کی واپسی
بہر حال ایک طرف تو یوسف (علیہ السلام) نے بھائیوں سے کہا کہ وہ آئندہ بن یامین کو ساتھ لائیں اور دوسری طرف جب ان کا غلہ بھرا جارہا تھا تو آپ نے وقال لفتینہ اجعلوا بضاعتھم فی رحالیھم اپنے خدام سے کہہ دیا کہ ان کی پونجی بھی ان کے کجاوں یعنی ان کے سامان میں ہی رکھ دو ۔ وہ جو بھی درہم یا دینار لائے تھے ‘ فرمایا اس احتیاط سے ان کے سامان میں رکھ دو کہ انہیں علم نہ ہو سکے۔
لعلھم یعرفونھا اذا انقلبو آ الی اھلھم شاید کہ یہ اسے پہچان لیں جب کہ اپنے گھروں کو واپس لوٹیں۔ اور لعلھم یرجعون اور شائد اسی وجہ سے یہ لوگ دوبارہ مصر آئیں۔ اسی پونجی کی بنا پر واپس آنے کی ایک وجہ تو یہ ہو سکتی ہے کہ جب یہ لوگ واپس جا کر اپنی رقم واپس پائیں گے تو سمجھیں گے کہ غلطی سے آگئی ہے لہذا دیا نتداری کا تقاضا یہ ہے کہ اسے اپنی ایمانداری کا امتحان بھی سمجھ سکتے ہیں اور رقم واپس لوٹا کر اس امتحان میں پورا اتر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دوبارہ آنے کے لیے ان کے پاس کوئی پیسہ نہ ہو اور اپنی رقم دوبارہ اپنے پاس پاکر ان کی حوصلہ افزائی ہوگی اور وہی رقم لے کر دوبارہ آجائیں گے برادران یوسف کے دل میں یہ خیال بھی آسکتا ہے کہ اس شخص نے ہمارے ساتھ بڑی فیاضی کا ثبوت دیا ہے لہذا دوبارہ جا کر اس سے مزید فائدہ اٹھانا چاہیے لعلھم یرجعون میں ان ساری باتوں کی طرف اشارہ ہے بہر حال خدام نے برادران یوسف کی رقم بھی ان کے سامان میں واپس رکھ دی اور وہ لوگ اپنے وطن کو روانہ ہوگئے۔
Ayahs 12:63–66ربط آیات
قحط کے زمانے میں جب برادران یوسف غلہ لینے کے لیے مصر پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کو پہچان لیا اور نہایت عزت و احترام کے ساتھ ان کی مہمان نوازی کی ۔ پھر جب وہ واپس جانے لگے تو ان کی لائی ہوئی پونجی بھی ان کے سامان میں رکھ دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کہ یہی پونجی ان کے دوبارہ مصر آنے میں مدد گار ثابت ہو۔ یوسف (علیہ السلام) نے ان کو تاکید کی کہ جب دوسری دفعہ مصر آئیں تو اپنے چھوٹے بھائی کو بھی ہمراہ لائیں ورنہ وہ مصر آنے کی کوشش نہ کریں ‘ انہیں اناج نہیں دیا جائے گا ‘ تورات کے حوالے سے مفسرین کرام یہ بھی لکھتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں میں سے شمعون کو روک لیا تھا جو کہ ان کے بارے میں سب سے بہتر رائے رکھتا تھا ‘ اور یہ بھی کہ آپ نے بن یامین کے حصے کا غلہ باقی بھائیوں کو نہیں دیا تھا بلکہ یہ کہا تھا کہ جب اس کو لائو گے تو اس کا غلہ ملے گا۔ بہر حال یوسف (علیہ السلام) کے بھائی مصر سے غلہ لے کر اپنے وطن واپس آگئے۔
بن یامین کے لیے فہمائش
اب بات آگے چلتی ہے فلما رجعوا الی ابیھم پھر جب وہ لوٹے اپے باپ کی طرف تو اس سے سارا ماجرا اس طرح ذکر کیا قالوا یابانا منع منا الکیل کہنے لگے اے ہمارے باپ ہم سے اناج روک دیا گیا ہے فارسل معنآ اخانا لہذا ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیں نکتل تاکہ ہم ماپ کر اناج لائیں وانا لہ لحفظون اور ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں کہنے لگے کہ مصر کے بادشاہ نے ہمیں واضح طور پر کہہ دیا کہ اگر اپنے بھائی کو ساتھ نہیں لائو گے تو تمہیں بھی اناج نہیں ملے گا۔ اناج اور پانی انسان بلکہ ہر جاندار کی بنیادی ضروریات میں سے ہے اور اس کے لیے ہر انسان جدوجہد کرتا ہے کیونکہ بقائے حیات کے لیے جدوجہد ( STRUGGLE سسٹرگل) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضروری ہے ۔ جو شخص ضروریات زندگی کی بہم رسانی کے لیے کوشش نہیں کرتا وہ خود کشی کا مرتکب ہوتا ہے جو کہ قطعی حرام ہے۔ کہنے لگے بقائے حیات کے لیے اناج کی ضرورت ہے۔ اور وہ بن یامین کو ساتھ لے جائے بغیر حاصل نہیں ہوگا ‘ لہذا آپ ضرور اسے ہمارے ساتھ بھیج دیں ‘ ہم اس کی اچھی طرح نگہداشت کریں گے۔
باپ کا جواب
اس فرمائش کے جواب میں قال یعقوب (علیہ السلام) نے کہا ھل امنکم علیہ الا کمآ امنتکم علی اخیہ من قبل میں نہیں امین سمجھتا تم کو یا نہیں اعتبار کرتا تم پر اس بچے کے متعلق مگر اسی طرح کہ جس طرح میں نے اس سے پہلے اس کے بھائی (یوسف) کے متعلق کیا تھا ۔ مطلب یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے معاملہ میں تم نے میرے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ‘ تم نے اس کی بھی حفاظت کا ذمہ اٹھایا تھا مگر اس کو نبھانہ سکے اور یوسف (علیہ السلام) کو ضائع کردیا ‘ اب اسی قسم کا اعتماد میں بن یامین کے بارے میں بھی کرتا ہوں ‘ یعنی دوسرے لفظوں میں میں تم پر اعتماد نہیں کرتا کیونکہ تم پہلے ایک دفعہ ناکام ہوچکے ہو ۔ اس سے یہ مسئلہ بھی نکلتا ہے کہ جس شخص نے کوئی غلطی کی ہو اسے اس غلطی سے آگاہ کردینا چاہیے تو یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کی سابقہ غلطی ان کو یاد دلادی اور بتا دیا کہ تم پہلے ہی قصور وار ٹھہرائے جا چکے ہو ‘ لہذا اب میں تم پر کیسے اعتماد کرسکتا ہوں۔ تاہم خاندان کی ضروریات کے لیے چونکہ زیادہ غلے کی ضرورت ہے اس لیے میں بن یامین کو تمہارے ساتھ بھیجنے پر مجبور ہوں وگرنہ میں تم پر اعتماد کھو چکا ہوں۔ اس کے باوجود میں اسے سپرد خدا کرتا ہوں فا للہ خیر حفظاً اللہ ہی بہتر حفاظت کرنے والا ہے ‘ میں اسی کی سپرد داری میں بچے کو دیتا ہوں وھو ارحم الرحمین اور وہ سب سے بڑھ کر مہربانی کرنے والا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے۔
المئومن لا یلدغ من حجر مرتین یعنی مومن ایک سوراخ سے دو دفعہ نہیں ڈسا جاتا۔ چونکہ یعقوب (علیہ السلام) کو بیٹوں کی طرف سے بداعتمادی پیدا ہوچکی تھی ‘ اس لیے وہ بن یامین کو خوشی خاطر سے بھیجنے پر آمادہ نہ تھے۔
بیٹوں کی طرف سے اصرار
یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے بیٹوں کے درمیان یہ مکالمہ ان کے واپس پہنچتے ہی شروع ہوگیا۔ جب کہ انہوں نے ابھی تک مصر سے لایا جانے والا سامان کھولا بھی نہیں تھا ولما فتحوا متا عھم اور جب انہوں نے اپنا سامان کھولا وجدوا بضاعتھم ردت الیھم تو پائی انہوں نے اپنی پونچی واپس لوٹائی ہوئی۔ انہوں نے دیکھا کہ غلے کی قیمت کے طور پر جو رقم وغیرہ انہوں نے مصر کے خزانے میں جمع کرائی تھی ‘ وہ ان کے سامان میں موجود ہے۔ اس پر انہیں باپ کو قائل کرنے کے لیے ایک اور دلیل میسر آگئی۔ قالوا یا بانا کہنے لگے ‘ اے ہمارے باپ ! مانبغی ہم اور کیا چاہتے ہیں۔ دیکھو ! ھذہ بضاعتنا ردت الینا یہ رہی ہماری پونجی جو ہمیں واپس لوٹا دی گئی ہے۔ شاہ مصر نے ہمیں غلہ بھی دے دیا ہے اور قیمت بھی وصول نہیں کی ۔ وہ سمجھتے تھے کہ شاہ نے دانستہ طور پر ان کی رقم واپس کی ہے عزت و احترام سے ٹھہرایا ہے۔ مہمان نوازی کی ہے اور غلہ بھی دیا مگر قیمت بھی نہیں لی۔ چونکہ بادشاہ ہم پر اتنا مہربان ہے آپ ضرور ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دیں تاکہ ہم دوبارہ اناج لاسکیں ۔ اور دوسری بات یہ ہے ونمیر اھلنا اور ہمیں اپنے خاندان کے لیے اناج کی ضرورت بھی ہے لہذا ہم دوبارہ اناج لائیں گے ونحفظ اخانا اور اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے ونزداد کیل بعیر اور ایک اونٹ کا بوجھ غلہ ہم زیادہ بھی لائیں گے۔ جب ہمارا چھوٹا بھائی بھی ہمارے ساتھ ہوگا تو اس کے حصے کا غلہ بھی ملے گا۔ ذلک کیل یسر یہ اناج جواب ہم لائے ہیں۔ یہ ہماری ضروریات سے کم ہے۔ اب ہم دوبارہ اسی صورت میں مصر جاسکتے ہیں کہ چھوٹے بھائی کو بھی ہمراہ لے جائیں اور اپنے علاوہ اس کا اونٹ بھر غلہ بھی لے کر آئیں۔
اس واقعہ سے یہ قرینہ ملتا ہے کہ اگر کسی شخص کے سامان سے کوئی ایسی چیز مل جائے جس میں کسی غیر کا حق متعلق نہیں ہے تو پھر ایسی چیز میں تصرف کرنا روا ہوگا۔ بادشاہ حسن سلوک ‘ مہمان نوازی اور مہربانی اس بات کا قرینہ تھیں کہ بادشاہ نے یہ پونجی ازخود واپس کی ہے ‘ لہذا اس کا دوبارہ استعمال جائز تھا۔ البتہ اگر کسی چیز کے متعلق شبہ ہو کہ یہ سہواً آگئی ہے تو اس کی تحقیق ضروری ہوگی۔ ایسی چیز کا استعمال بغیر حقیقت معلوم کئے روا نہیں ہوگا۔
ضمانت کا مطالبہ
بیٹوں کی یہ باتیں سن کر یعقوب (علیہ السلام) بن یامین کو بھائیوں کے ساتھ بھیجنے پر آمادہ تو ہوگئے مگر انہوں نے بیٹوں سے پختہ عہد اور ضمانت کا مطالبہ کیا۔ قال لن ارسلہ معکم میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا حتی تئو تون موثقا من اللہ یہاں تک تم مجھے اللہ کی طرف سے پختہ عہد و پیمان دے دو ‘ یعنی خدا کی قسم اٹھائو لتا تننی بہ کہ تم اسے ضرور میرے پاس واپس لائو گے الا ان یحاط بکم سوائے اس کے کہ تم گھیر لیے جائو یعنی راستے میں کوئی ایسا حادثہ پیش آجائے کہ تمہیں رکنا پڑجائے ‘ مغلوب ہو جائو یا سارے کے سارے ہلاک ہی ہو جائو۔ ایسی صورت میں تو کچھ نہیں ہو سکے گا ‘ البتہ عام حالات میں تم اپنے بھائی کو واپس لانے کے پابند ہوگے۔ بائیبل کی روایت میں ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) نے بڑے افسوس کا اظہار کیا کہ پہلے یوسف۔ بچھڑا پھر شمعون مصر میں رک گیا ‘ اب اگر باقی بیٹوں کو کچھ ہوگیا تو پھر میں تو بےاولادوں جیسا ہوگیا۔ بہر حال یہودا نے پوری ضمانت دی کہ وہ بنیامین کو ضرور واپس لائے گا ‘ اور اگر نہ لاسکا تو بیشک میرے دونوں بیٹوں کو قتل کردیا جائے ۔ اس نے اتنی بڑی ضمانت کی پیش کش کردی۔
اسی سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ کسی معاملہ میں ضمانت یعنی جائز ہے ۔ ضمانت دو قسم کی ہوتی ہے ایک مال کی اور دوسری جان کی۔ مالی ضمانت کے متعلق تمام فقہائے کرام کا اتفاق ہے کہ یہ جائز ہے۔ کوئی شخص عہد کرتا ہے کہ اگر مقررہ تاریخ تک فلاں شخص فلاں چیز واپس نہیں کریگا تو میں ادا کروں گا۔ البتہ شخصی ضمانت کے متعلق امام مالک (رح) قائل نہیں۔ باقی تمام آئمہ کرام فرماتے ہیں کہ کسی کی شخصی ضمانت بھی دی جاسکتی ہے یعنی اگر فلاں شخص تاریخ اور فلاں مقام پر حاضر نہ ہوا تو اس کے بدلے میں ضامن ماخوذ ہوگا۔
اسباب اور توکل
فرمایا فلمآ اتوہ موثقھم جب بیٹوں نے باپ کو پختہ عہد دے دیا اور بن یامین کی واپسی کے ضامن بن گئے قال اللہ علی ما نقول وکیل تو یعقوب (علیہ السلام) نے کہا کہ ہماری اس بات چیت پر اللہ ہی نگہبان ہے۔ ہم تو تمام احتیاطی تدابیر اختیار کر رہے ہیں مگر اختیار سارا اسی کا ہے ‘ ہوگا وہی جو وہ چاہے گا۔ اس سے ثابت ہوا کہ عہد و پیمان اور ضمانت تو لی جاسکتی ہے مگر اعتماد صرف خدا کی ذات پر ہی ہوسکتا ہے ‘ پیغمبر انہ توکل اور ایمان کا یہی تقاضا ہے کہ اسباب مباح ہیں ‘ انہیں اختیار کرنا چاہیے۔ مگر بھروسہ صرف خدا کی ذات پر ہی ہونا چاہیے۔ قرآن پاک میں توکل علی اللہ کی بڑی تاکید آئی ہے۔ جیسے اگلی آیت میں ہی آرہا ہے ” وعلیہ فلیتوکل المتوکلون “ تو کل کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں ” وما لنا الا نتوکل علی اللہ “ (ابراھیم) اور کیا ہے ہمیں کہ ہم اللہ کی ذات پر بھروسہ نہ کریں۔ ” وعلی اللہ فلیتوکل المئومنون “ (آل عمران) مومن صرف اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ بہرحال تمام انبیاء کا مشن اور طریقہ یہی ہے کہ ہر کام میں ضروری اسباب اختیار کرو مگر ان پر بھروسہ نہ کرو کیونکہ کامیابی کا دار و مدار اسباب پر نہیں بلکہ مشیت ایزدی پر ہے لہذا بھروسے کے لائق وہی ہے یہی بات یعقوب (علیہ السلام) نے بھی اس موقع پر فرمائی۔
Ayahs 12:67–68ربط آیات
حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹوں کا حال بیان ہورہا ہے وہ مصر سے اناج لے کر اپنے باپ کے پاس واپس کنعان آئے تو سفر کی ساری داستان سنائی اور یہ بھی بتایا کہ جب تک آپ ہمارے چھوٹے بھائی کو ہمراہ نہیں بھیجیں گے۔ آئندہ اناج نہیں ملے گا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے پریشانی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ پہلے بھی تھ میرے ایک بیٹے کو ساتھ لے جا کر ضائع کرچکے ہو اور اب دوسرے کو بھی لے جانا چاہتے ہو۔ تاہم چونکہ مجبوری ہے ‘ اناج بھی لانا ہے۔ اس لیے میں اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہوئے چھوٹے بیٹے کو بھیجنے پر آمادہ ہوتا ہوں ‘ وہی اس کی حفاظت کرے گا اور وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
روانہ کرنے سے پہلے یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں سے عہد و پیمان لیا اور اسے ضرور واپس لانے کی ضمانت بھی لی۔ تفسیری روایات میں آتا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) کا ایک بیٹا شمعون تو پہلے ہی مصر میں ٹھہر گیا تھا۔ باقی نو بھائی سب سے چھوٹے بھائی بن یامین کو لے کر دو بارہ مصر کی طرف روانہ ہوئے اور باپ کی نصائح پر عمل کرنے کا عہد بھی کیا۔
متفرق دروازوں سے داخلہ
منجملہ دیگر نصائح کے یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو ایک یہ نصیحت بھی کی وقال یبنی لا تدخلوا من باب واحد فرمایا اے میرے بیٹو ! شہر مصر میں کسی ایک ہی دروازے سے مت داخل ہونا وادخلوا من ابواب متفرقۃ بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا۔ قدیم زمانے میں شہروں کے گرد فصیل بنانے کا رواج ہوتا تھا اور شہر میں داخلے کے لیے اس کی مختلف سمتوں میں بڑے بڑے گیٹ بنائے جاتے تھے۔ یہ گوجرانوالہ چھوٹا ساشہر ہے جس کی زیادہ تر آبادی رنجیت سنگھ کے زمانہ میں شروع ہوئی۔ تاہم اس شہر کے چاروں طرف بھی فصیل تھی جس میں لاہوری دروازہ ‘ سیالکوٹی دروازہ ‘ گرجا کھی دروازہ ‘ کھیالی دروازہ وغیرہ کے نام سے مختلف گیٹ تھے اور شہر میں داخلہ انہی دروازوں سے ہوتا تھا۔ اس قسم کے انتظامات کا یہ فائدہ ہوتا تھا کہ کوئی بیرونی حملہ آور یا چو ڈاکو شہر میں آسانی سے داخل نہیں ہو سکتے تھے ‘ رات کو دروازے بند کردیے جاتے تھے اور چاروں طرف فصیل کے اوپر چوکیدارہ نظام ہوتا تھا اب شہری آبادی کا نظام یکسر تبدیل ہوچکا ہے ‘ تنگ مکانوں ‘ تنگ بازاروں اور تنگ گلیوں کی بجائے اب کھلی آبادی کو پسند کیا جاتا ہے ‘ نیا شہر آباد کرتے وقت سینکڑوں سال پیشگی منصوبہ بندی کرکے کھلی سڑکیں اور کھلے پلاٹ رکھے جاتے ہیں۔ اب شہروں کی حفاظت کا انتظام بھی یکسر تبدیل ہوچکا ہے اور تمام کام سائنسی بنیادوں پر کیے جاتے ہیں۔
بغداد بھی اپنے دور میں بہت بڑی آبادی کا شہر تھا۔ منصور عباسی کے زمانے میں جب اس کی تعمیر ہوئی تو اس کے اردگرد دو بڑی بڑی فصیلیں بنائی گئیں اور داخلے کے لیے مختلف اطراف میں گیٹ بنائے گئے۔ آج تو دنیا بھر میں شہروں کی آبادی کروڑوں تک پہنچ چکی ہے ‘ جاپان کا ٹوکیو ‘ چین کا پیکنگ اور شنگھائی اور انگلینڈ کے لند ن کی آبادی ایک کروڑ سے تجاوز کرچکی ہے۔ بر صغیر میں کلکتہ اور بمبئی بڑے شہر ہیں ۔ ہمارے ہاں کراچی کی آبادی سب سے زیادہ ہے۔ لاہور تو بہت پرانا شہر ہے۔
بدھ کا دور آج سے تین ہزار سال پہلے کا دور ہے اور لاہور کے نشانات اس سے بھی ڈیڑھ ہزار سال پہلے کے ملتے ہیں۔ یہ تمام شہر بہت دور دور تک پھیل چکے ہیں اور ان کے پھیلائو میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ لہذا اب فصیل کا نظام قابل عمل نہیں رہا ‘ البتہ پرانے وقتوں میں فصیل اور گیٹ کا نظام تھا۔ مصر بھی اس زمانے میں ایسا ہی شہر تھا۔ اس لیے یعقوب (علیہ السلام) نے بیٹوں کو نصیحت کی کہ سارے ایک ہی دروازے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے شہر میں داخل ہونا۔
توکل بر خدا
فرمایا یہ نصیحت میں تمہیں ظاہری اسباب کو اختیار کرنے کے لیے کررہا ہوں اور نہ حقیقت یہ ہے ومآ اغنی عنکم من اللہ من شیٔ میں نہیں بچا سکتا تمہیں اللہ کے سامنے کسی چیز سے یعنی اگر مشیت الٰہی میں تمہیں کوئی حادثہ پیش آنا ہے تو اس کو میں نہیں ٹال سکتا ‘ کیونکہ ان الحکم الا للہ حکم تو سارے کا سارا اللہ ہی کا ہے ‘ وہ جیسے چاہے کرے ‘ اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ علیہ توکلت میں بھی اسی پر بھروسہ کرتا ہوں وعلیہ فلیتوکل المتوکلون اور تمام بھروسہ کرنے والے بھی اسی ذات پر بھروسہ کرتے ہیں۔ میں تو محض حفاظتی تدابیر بتارہا ہوں ‘ ان کو اختیار کرنا مگر بھروسہ اللہ تعالیٰ پر ہی کرنا کیونکہ ہر چیز اسی کے اختیار میں ہے اور اس کی تقدیر کو کوئی روک نہیں سکتا۔ ام المئومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا لا یغنی حذر عن قدر یعنی کوئی تدبیر تقدیر کو روک نہیں سکتی۔ چناچہ آگے آرہا ہے کہ جس چھوٹے بیٹے کے لیے باپ نے اس کے بھائیوں سے عہد و پیمان اور ضمانت لی۔ اسی کو مصر میں روک لیا گیا۔ اسی لیے یعقوب (علیہ السلام) نے پہلے ہی کہہ دیا کہ میں تمہیں اللہ کے سامنے کسی چیز سے بچا نہیں سکتا۔
اس نصیحت کی وجوہات
مفسرین نے مختلف دراوازوں سے داخل ہونے کی کئی وجوہات بیان کی ہیں۔ مثلاً یہ کہ سارے بھائی جو ان ‘ وجیہہ ‘ خوبصورت اور طاقتور تھے اور ان سب کو ایک جتھے کی صورت میں دیکھ کر مقامی لوگ پریشانی میں مبتلا ہو سکتے کہ کہیں یہ اہل شہر کو کوئی نقصان نہ پہنچائیں دوسری بات یہ ہے کہ جب یہ بھائی پہلی دفعہ آئے تھے تو شاہ مصر نے ان کی بڑی آئو بھگت کی تھی اور اب ان کی پھر خاطر مدارت ہوگی۔ اس خیال سے لوگوں کے دلوں میں ان کے خلاف حسد بھی پیدا ہو سکتا تھا۔ اور یعقوب (علیہ السلام) نہیں چاہتے تھے کہ ایسی صورت حال پیدا ہو خود باد شاہ وقت کو بھی خطرہ پیدا ہوسکتا تھا کہ یہ لوگ اس کے خلاف کوئی سازش یا جاسوسی نہ کریں۔ چناچہ پہلی دفعہ جب آپ کے بھائی مصر میں آئے تھے تو یوسف (علیہ السلام) نے ان کے ساتھ دانستہ بےرخی سے بات کی تھی اور آپ کی زبان سے یہ بھی نکلا تھا کہ تم کیسے یہاں آئے ہو ‘ کہیں جاسوس تو نہیں۔ اس پر بھائیوں نے جواب دیا تھا کہ ہم تو ایک معزز خاندان کے افراد اور نبی کے بیٹے ہیں اور ہمارا باپ نا بینا ہوچکا ہے۔ بہر حال اس قسم کے خدشات کے پیش نظر یعقوب (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو نصیحت کی تھی کہ ایک دروازے سے شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے جانا۔ اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ اتنے خوش شکل ‘ نوجوان ‘ اور وجیہہ بھائیوں کو دیکھ کر اہل شہر میں سے کسی کی نظر بد نہ لگ جائے ‘ لہذا اکھٹے نہ داخل ہونا۔
مسئلہ نظر
بعض گمراہ یا اپنی ناقص عقل پر انحصار کرنے والے لوگ نظر کا انکار کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ برحق ہے اور اس کو شریعت تسلیم کرتی ہے اور یہ بھی کہ نظر لگ جانے سے نقصان بھی ہوجاتا ہے۔ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ نظر لگنا یعنی زخم چشم برحق ہے اور یہ قدرت کی باتوں میں سے ایک بات ہے۔ بعض آدمیوں کی نظر لگ جانے سے اس کے اثرات فوراً ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ درجہ اول کی صحیح حدیث میں ہے العین حق نظر حق ہے اور تقدیر سے سبقت کرنے والی کوئی چیز ہے تو وہ نظر ہے۔ اور پھر حضور ﷺ سے اس کا علاج بھی بتایا فرمایا اذا استغسلتم فاغسلوا جب تم سے عنالہ طلب کیا جائے تو فوراً دے دو ۔ اس سے اللہ تعالیٰ شفا دیتا ہے مئوطا امام مالک میں یہی روایت موجود ہے کہ صحابی رسول حضرت سہیل ابن حنیف ؓ کرتہ اتار کر اور تہہ بند باندھ کر غسل کر رہے تھے تو ایک دوسرے صحابی عامر ابن ربیعہ ؓ دیکھ کر کہنے لگے ‘ کتنا خوبصورت جسم ہے ‘ میں نے تو اتنا خوبصورت بدن کسی عورت کا بھی نہیں دیکھا۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ حضرت سہیل ؓ کو بخار ہوگیا اور وہ تڑپنے لگے۔ کسی نے آکر حضور ﷺ کو یہ خبر دی تو آپ نے حضرت عامر کو ڈانٹا اور فرمایا الا ما یقتل احد کم اخاہ تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو سا طرح ہلاک نہ کرے۔ تم نے اس کے لیے برکت کی دعا کیوں نہیں کی معلوم ہوا کہ جس شخص کی نظر لگ جاتی ہو تو اسے یوں کہنا چاہیے بارک اللہ یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے۔ اگر ایسا کہے گا تو نظر کے برے اثرات ظاہر نہیں ہوں گے۔ نیز آپ نے یہ بھی فرمایا کہ جس شخص کی نظر لگ گئی ہو وہ مریض کو اپنا غسالہ دے تاکہ اسے شفا حاصل ہو۔
عربوں میں غسا لے کا طریقہ قبل از اسلام بھی رائج تھا۔ اور وہ یہ ہے کہ جس شخص کی نظر لگ جائے اس کو پانی کا ایک پیالہ دیا جاتا ہے کہ اس پیالے میں اپنا ہاتھ دھوئے ‘ پھر وہی پانی منہ میں ڈال کر اسی پیالے میں کلی کرے۔ پھر دایاں ہاتھ دھوئے ۔ بھر بایاں ۔ پھر دایاں گھٹنا دھوئے اور پھر بایاں۔ پھر سرین دھوئے اور اتنا عرصہ پیالہ ہاتھ میں پکڑے رکھے۔ نیچے زمین پر نہ رکھے۔ اس کے بعد اس پیالے کا سارا پانی اس شخص پر ڈال دیا جائے جس کو نظر لگ چکی ہے اس طرح اللہ کے حکم سے شفا ہوجاتی ہے حضور نے اس طریقہ کی تائید فرمائی ہے۔
نظر لگ جانا متعلقہ شخص کے جسمانی اثرات کی بنا پر ہوتا ہے اس کی مثال حضور ﷺ کے اس فرمان میں ملتی ہے کہ مکھی کے دوپروں میں سے ایک میں بیماری اور دوسرے میں شفا ہوتی ہے۔ اگر مکھی کسی مشروب می گر پڑے تو وہ اپنا بیماری والا پر اس میں ڈبوتی ہے جس کی وجہ سے ایسے مشروب کو استعمال کرنے سے بیماری لاحق ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ حضور ﷺ نے اس کا علاج یہ بتایا کہ جب مکھی گر پڑے تو اس کے دوسرے پر کو بھی مشروب میں ڈبور مکھی کو باہر پھینک دو اور مشروب کو استعمال کرلو۔ اس طرح بیماری کے پر کا اثر زائل ہوجائیگا۔
بشناک جسے کالی مہری بھی کہتے ہیں ‘ ایک جنگلی جڑ سی بوٹی ہے۔ جس کے کھانے سے انسان اور جانور ہلاک ہوجاتے ہیں۔ جہاں یہ بوٹی پائی جائے اس کے قریب ہی اسی شکل و صورت کی دوسری جڑی بوٹی ہوتی ہے جو بشناک کا تریاق ہوتی ہے۔ تجربہ کار حضرات بتلاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو اتنی سمجھ دے رکھی ہے کہ اگر وہ زہریلی بوٹی کھا لیں تو فوراً دوسری شفا یاب بوٹی بھی کھاتے ہیں تاکہ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچ سکے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بعض انسانوں کے جسم میں ایسی تاثیر رکھی ہے کہ ان کی نظر لگ جاتی ہے اور پھر اگر اس شخص کا غسالہ مریض کو دیا جائے تو اللہ تعالیٰ شفا بھی دے دیتا ہے۔ حضور ﷺ نے نظ کی یہ دعا بھی سکھلائی ہے اعیذک بکلمت اللہ التامۃ من شر کل شیطن وھامۃ ومن کل عین لامۃ میں اللہ تعالیٰ کے کلمات تامہ کے ساتھ شیطان کے شر سے ‘ موذی جانور کیڑے مکوڑے کے شر سے اور نظر بد کے شر سے پناہ پکڑتا ہوں۔
علم اور عمل
بہر حال برادران یوسف باپ سے عہد و پیمان کرکے اور اس کی نصیحت لے کر مصر پہنچ گئے۔ ولما دخلوا من حیث امرھم ابوھم پھر جب وہ داخل ہوئے جہاں سے ان کے باپ نے انہیں حکم دیا تھا۔ یعنی وہ ایک دروازے سے داخل ہونے کی بجائے مختلف دروازوں سے شہر میں داخل ہوئے ‘ اور حقیقت یہ تھی ماکان یغنی عنھم من اللہ من شیٔ تو یعقوب (علیہ السلام) ان کو اللہ کے سامنے کسی چیز سے بچا تو نہیں سکتے تھے الا حاجۃ فی نفس یعقوب مگر حضرت یعقوب کے جی میں ایک بات تھی قضھا جس کو انہوں نے پورا کیا۔ اور وہ یہی حفاظتی تدبیر تھی جس کی تشریح عرض کردی گئی ہے کہ بیٹوں کو کہیں نظر نہ لگ جائے یا وہ کسی حادثہ کا شکار نہ ہوجائیں۔ اور یعقوب (علیہ السلام) نے یہ بات اس لیے کی وانہ لذو علم لما علمنہ کہ وہ صاحب علم تھے اس وجہ سے کہ ہم نے انہیں علم سکھایا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم کی دولت عطا فرمائی تھی۔ آپ اللہ کے نبی اور صاحب وحی تھے اور اس علم کی بنا پر انہوں نے نظر بد سے بچائو کی تدبیر کی تھی۔ مگر اس کے باوجود بن یامین کو مصر میں روک لیا گیا جس کی وجہ سے یعقوب (علیہ السلام) کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا کیونکہ ابھی ابتلا کا دور باقی تھا اور آپ کو اس سے گزرنا تھا۔
امام سفیان ثوری (رح) کا قول ہے من لا یعمل بما یعلم لا یکون عالما یعنی جو شخص علم رکھنے کے باوجود اس کے مطابق عمل نہیں کرتا ‘ وہ حقیقت میں عالم کہلانے کا حقدار نہیں۔ حضور ﷺ نے دعا میں بھی سکھا یا ہے اللھم انی اعوذ بک من علم لا ینفعنا اے اللہ ! میں ایسے علم سے پناہ چاہتا ہوں جو مفید نہ ہو۔ غیر مفید علم کی مثال کمثل کنز لا ینفع ایسے خزانے کی ہے جسے خرچ ہی نہ کیا جائے۔ یہ تو بخل ہے جو بدترین بیماری ہے۔ بہر حال یعقوب (علیہ السلام) اپنے جی کی بات کو پورا کرنا چاہتے تھے ولکن اکثر الناس لا یعلمون مگر اکثر لوگ نہیں جانتے۔ آپ کی تدبیر ظاہری اسباب کے لحاظ سے جائز تھی مگر حقیقت میں کسی شر سے بچانا اللہ کے اختیار میں ہے ‘ اس کے حکم کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا۔