12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 12:30–31

وَ قَالَ نِسْوَةٌ فِی الْمَدِیْنَةِ امْرَاَتُ الْعَزِیْزِ تُرَاوِدُ فَتٰىهَا عَنْ نَّفْسِهٖ١ۚ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا١ؕ اِنَّا لَنَرٰىهَا فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 12:30 in the Quran reader

اور کہا کچھ عورتوں نے شہر میں کہ عزیز کی بیوی پھسلاتی ہے اپنے غلام کو اس کے جی سے ، بیشک وہ اس کی محبت میں فریضتہ ہوگئی ہے ہم دیکھتی ہیں اس کو صریح غلطی میں

فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَكْرِهِنَّ اَرْسَلَتْ اِلَیْهِنَّ وَ اَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّكَاً وَّ اٰتَتْ كُلَّ وَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ سِكِّیْنًا وَّ قَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ١ۚ فَلَمَّا رَاَیْنَهٗۤ اَكْبَرْنَهٗ وَ قَطَّعْنَ اَیْدِیَهُنَّ وَ قُلْنَ حَاشَ لِلّٰهِ مَا هٰذَا بَشَرًا١ؕ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا مَلَكٌ كَرِیْمٌ Open ayah 12:31 in the Quran reader

جب اس (عزیز کی بیوی) نے ان (عورتوں) کی فریب کاری کی باتیں سنیں تو ان کی طرف پیغام بھیجا اور تیار کی ان کے لئے مجلس طعام اور دی اس نے ہر ایک کو ان میں سے ایک چھری اور اس نے کہا یوسف سے کہ نکل آئو ان کے سامنے جب ان عورتوں نے اس کو دیکھا تو اس کو بڑا خیال کیا اور کاٹ ڈالے انہوں نے اپنے ہاتھ اور کہنے لگیں وہ پاک ہے اللہ تعالیٰ نہیں ہے یہ بشر مگر بزرگ فرشتہ

ربط آیات گزشتہ درس میں یوسف (علیہ السلام) کی ابتلاء کا ذکر ہوا۔ عزیز مصر کی بیوی نے آپ پر فریضتہ ہو کر آپ پر ڈورے ڈالنے شروع کئے اور برائی کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی ، مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو برائی سے محفوظ رکھا کیونکہ آپ خدا تعالیٰ کے برگزیدہ بندہ تھے ، اس عورت نے آپ کو کمرے میں داخل کر کے اپنا ارادہ ظاہر کیا تو یوسف (علیہ السلام) باہر کی طرف بھاگے ، اس عورت نے پیچھے سے آپ کو قمیص پکڑ کر آپ کو روکنا چاہا جس سے قمیص پھٹ گئی ، جب وہ دونوں ابہر دروازے پر پہنچے تو وہاں عزیز مصر کو موجود پایا۔ عورت نے فوراً پینترا بدلا اور یوسف (علیہ السلام) پر برائی کا الزام لگا دیا ، یوسف (علیہ السلام) نے جواباً اپنی صفائی پیش کی۔ اس موقع پر عورت کے گھر والوں میں سے ایک شیر خوار بچے نے نہایت حکیمانہ گواہی دی کہ اگر یوسف (علیہ السلام) کی قمیص آگے سے پھٹی ہے تو عورت کا بیان سچا ہے اور اگر پیچھے سے پھٹی ہے تو عورت جھوٹی اور یوسف (علیہ السلام) بےگناہ ہیں۔ چناچہ جب قمیص کا جائزہ لیا یا تو یوسف (علیہ السلام) سچے ثابت ہوئے ۔ عزیز ، مصر نے بدنامی کے ڈر سے یوسف (علیہ السلام) سے ملتجیانہ طور پر کہا کہ جو کچھ ہوچکا اس سے درگزر کریں اور بیوی سے کہا کہ وہ اللہ تعالیٰ اور یوسف (علیہ السلام) سے معافی مانگے۔ محبت کے چرچے عزیز مصر ن ہر چند اس واقعہ کو مخفی رکھنے کی کوشش کی مگر پھر بھی یہ بات کسی نہ کسی طرح ظاہر ہوگئی اور شہر میں اس واقعہ کے تذکرے ہونے لگے۔ عزیز مصر کی بیوی کی ہم مرتبت عورتوں میں یہ واقعہ خاص طور پر موضوع سخن بن گیا اور انہوں نے اس پر خوب لے دے کی۔ آج کے درس میں اس واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ وقال نسوۃ فی المدینۃ امرات العزیز شہر کی کچھ عورتیں کہنے لگیں یعنی اس عورت کی سوسائٹی کی عورتوں میں چرچا ہونے لگا۔ ظاہر ہے کہ عزیز مصر کی بیوی کا تعلق شہر کی اونچی سوسائٹی سے ھتا جس میں بڑے بڑے امراء اور وزراء کی بیویاں یا بیٹیاں شامل تھیں۔ انہوں نے آپس میں چہ میگوئیاں شروع کردیں تراود قھا عن نفسہ کہ زلیخا اپنے غلام کو اس کے نفس سے پھسلاتی ہے اسے کیا ہوگیا ہے قد شغہا حباً بیشک یہ عورت اس کی محبت میں فریضتہ ہوگی ہے۔ شغاف دراصل قلب کے اوپر والے خلاف کو کہتے ہیں۔ جب کسی کے دل میں محبت ، جاگزیں ہوجائے تو کہتے ہیں کہ محبت دل کے شفاف میں پڑگئی۔ تو شہر کی عورتوں نے بھی یہی کہا کہ زلیخا کنعانی غلام کو دل دے بیٹھی ہے۔ غلامی کا مرتبہ ویسے بھی بہت کم سمجھا جاتا تھا لہٰذا ایک اعلیٰ سوسائٹی کی عورت کا غلام پر فریضتہ ہونا زیادہ قابل علامت تھا ، تو اس کی ہمجولیوں نے کہا انا لترانھا فی ضلل مبین ہم تو زلیخا کو صریحاً غلطی میں دیکھتی ہیں۔ مجلس طعام کا انعقاد جب شہر میں زلیخا کے خلاف اس قسم کا پراپیگنڈا شروع ہوگیا تو اس کو بھی کسی طرح سے خبر ہوگئی او اس نے بھی اپنے دفاع میں تدبیر سوچی۔ ارشاد ہوتا ہے فلما سمعت بمکرمن جب عزیز مصر کی بیوی نے شہر کی عورتوں کی طرف سے طعن سنا ارسلت الیھن تو ان کی طرف پیغام بھیجا اعتدت لھن متکاً اور ان کے لئے مجلس طعام کا اہتمام کیا۔ مکاً کا لغوی معنی ” تکیہ گاہ “ ہے یعنی ایسی نشنیں جن پر ٹیکنے لگے ہوئے ہوں۔ عرب رواج کے مطابق معزز مہمانوں کو بٹھانے کا طریقہ یہ تھا کہ فرش پر قالین بچھا کر مہر مہمان کے لئے ایک ایک تکیہ رکھ دیا تھا جس سے ٹیک لگا کر مہمان بیٹھتے تھے پھر ان کے سامنے چھوٹے میز رکھے جاتے جن کو ” خوان “ کہتے تھے ان میزوں پر کھانا رکھا جاتا جو مہمان نیچے جھکے بغیر آسانی سے تناول کرتے مطلب یہ کہ اس قسم کا انتظام اونچی سوسائٹی میں کیا جاتا تھا چونکہ زلیخا بھی اعلیٰ سوسائٹی کی فرد تھی ، لہٰذا اس نے بھی مہمان عورتوں کی خاطر مدارت کے لئے نہایت اعلیٰ قسم کا اہتمام کیا۔ ” خوان “ کا ذکر حضور ﷺ کی حدیث میں بھی ملتا ہے۔ آپ (علیہ السلام) کے متعلق آتا ہے یا کل علی الارض کہ آپ کھانا زمین پر بیٹھ کر تناول فرماتے اور یہ بھی کہ ما اکل علی خوان یعنی آپ میز پر کھانا رکھ کر نہیں کھاتے تھے بلکہ کھانا کسی پلیٹ یا رومال وغیرہ میں رکھ کر اپنے سامنے زمین پر ہی رکھ لیتے اور تناول فرماتے۔ مطلب یہ کہ آپ سادگی پسند تھے اور میز پر رکھ کر کھانے کا تکلف نہیں فرماتے تھے۔ میز پر کھانے لگا کوئی حرام تو نہیں ہے۔ البتہ اس کو فیشن کے طور پر لازمی سمجھ لینا مکروہ ہے۔ اگر نیچے بیٹھ کر کھانے کا انتظام ہو سکتا ہے تو اس کے باوجود تکلیف کرنا مکروہ ہوگا۔ بہرحال زلیخا نے اپنی ہم مجلس اور ہم طبقہ عورتوں کے لئے دعوت طعام کا اہتمام کیا ، ان کے لئے اچھی نشستوں کا اہتمام کیا اور نہایت باعزت طریقے سے اپنے گھر بلایا دراصل اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ ان معترض عورتوں پر واضح کرسکے کہ جس پر دیسی پر وہ دل نثار کرچکے ہے ، وہ کوئی معمولی شخصیت نہیں بلکہ اس کی جگہ وہ بھی ہوتیں تو ایسا ہی کرتیں ، پھر جب تمام مہمان عورتیں اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھ گئیں تو ان کے آگے کھانا چنا گیا وانت کل واحدۃ منھن سکیناً تو میزبان نے ہر عورت کو ایک ایک چھری بھی دی۔ چھری کانٹے کا استعمال اس زمانے میں بھی مصری تہذیب میں پایا جاتا تھا اور آج بھی انگریزی تہذیب کا ایک حصہ ہے۔ اس کے علاوہ یونانی اور رومی تہذیب میں بھی چھری کانٹے کا استعمال رائج تھا۔ تاہم اللہ کے سارے نبیوں نے ایسی تہذیب کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔ حضور ﷺ نے دائیں ہاتھ سے کھانے کا حکم دیا ہے مگر موجودہ انگریزی تہذیب میں تو کھانے کے لئے بیٹھنے کی گنجائش بھی ختم ہوگئی ہے۔ اب تو مشرقی اور مغربی سب لوگ کھڑے ہو کر اور چل پھر کر کھانے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ یہ تو بالکل ڈھورڈنگروں کا طریقہ ہے۔ اس معاملے میں مسلمان بھی دوسری اقوام کے قدم کے ساتھ قدم ملا کر چل رہے ہیں۔ انہوں نے غیر اقوام کی سائنس اور ٹیکنالوجی میں تو تقلید نہیں کی ، البتہ غلط طور طریقوں اور غیر دینی تہذیب و تمدن ، کھیل تماشے ، عریانی اور فحاشی کو ضرور اپنایا ہے۔ یوسف (علیہ السلام) کا سامنے آنا بہرحال جب کھانا لگ گیا اور تمام مہمانوں کو چھریاں بھی مل گئیں تو زلیخا نے اپنے منصوبے کی تکمیل کے لئے یہ تدبیر اختیار کی وقالت اخرج علیھن اور یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ ان عورتوں کے سامنے آ جائو۔ دعوت کا وسیع انتظام تھا ، کسی کام کے ابنے یوسف (علیہ السلام) سے کہہ دیا کہ ادھر آئو۔ مالکہ کے حکم کی تعمیل میں یوسف (علیہ السلام) نہایت اطمینان کے ساتھ مہمان عورتوں کے سامنے گزر گئے اور کسی ک طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ فلما راینہ اکبرنہ جب ان مہمان عورتوں ک ینگاہ یوسف (علیہ السلام) پر پڑی تو وہ ششدرہ رہ گئیں۔ یوسف (علیہ السلام) کو بہت بڑی ہستی خیال کیا۔ تو راث میں ہے کہ یوسف (علیہ السلام) شرم حیا اور عصمت کی صفات کے ساتھ موصوف تھے اور آپ نور پیکر تھے۔ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ معراج کی شب جب حضور ﷺ تیسرے آسان پر پہنچے تو یوسف (علیہ السلام) سے ملاقات ہوئی۔ صحیحین کی روایت میں یہ الفاظ ہیں اذا ھواوتی شطر الحسن یعنی یوسف (علیہ السلام) کو دنیا کے کل حسن و جمال کا نصف حصہ دیا گیا اور باقی نصف باقی ساری مخلوق کو تقسیم کیا گیا ہے۔ بہرحال حسن و جمال ، وجاہت ، عظمت اور شرافت کے پیکر کی حیثیت سے عورتوں کے سامنے سے گزرے۔ عورتیں ان کی عظمت کی قائل ہوگئیں اور انہوں نے یوسف (علیہ السلام) میں شوخ بن کی کوئی علامت نہ پائی لہٰذا آپ کو صورت اور سیرت ہر محاظ سے عظیم خیال کیا۔ ہاتھ کاٹ ڈالے ان عورتوں پر یوسف (علیہ السلام) کے حسن و جمال کا اس قدر رعب طاری ہوا کہ وہ ہوش و حواس کھو بیٹھیں اور چھری کے ساتھ پھل کاٹنے کی بجائے وقطمن ایدیھن انہوں نے اپنے ہاتھ ہی کاٹ ڈالے ایسی مدہوش ہوئیں کہ ان کی چھریاں خود انہی کے ہاتھوں پر چل گئیں۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ مہمان عورتوں نے اپنے ہاتھ مدہوشی میں نہیں کاٹے تھے بلکہ انہوں نے دانستہ طور پر ایسا کیا تھا۔ ان میں سے ہر ایک یوسف (علیہ السلام) پر فریضتہ ہوچکی تھی اور چاہتی تھی کہ کسی طرح آپ اس کی طرف متوجہ ہوں جب آپ نے بےاعتنائی کا اظہار کیا تو انہوں نے ہاتھ کاٹ لئے کہ شاد ان کو زخمی دیکھ کر ہی یوسف (علیہ السلام) ان کی مدد کے لئے آگے بڑھیں گے۔ کیونکہ وہ غلام ہیں اور خدمت پر مامور ہیں اور اسی طریقے سے انہیں آپ کا قرب حاصل ہوجائے گا ، مگر یوسف (علیہ السلام) تو بغیر نظر اٹھائے آگے نکل چکے تھے۔ فرشتہ صورت انسان بہرحال مہمان عورتیں یوسف (علیہ السلام) کو دیکھ کر کہنے لگیں۔ وھدن خاش للہ پاکی ہے اللہ تعالیٰ کے لئے وہ ذات پکا ہے جس نے اتنا خوبصورت اور خوب سیرت انسان بنایا ما ھذا بشی یہ تو انسان معلوم نہیں ہوتا ہے۔ یہاں پر اشکال پیدا ہوتا ہے کہ ان عورتوں نے تو فرشتوں کو دیکھا نہیں تھا ، پھر انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو فرشتے کے ساتھ کیسے تشبیہ دے دی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے انبیاء بھی جبرائیل (علیہ السلام) کو انسانی شکل میں ہی دیکھتے رہے ہیں۔ یہ صرف 1 ؎ حضور ﷺ کو شرف حاصل ہے کہ آپ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دو دفعہ اصلی صورت میں دیکھا۔ اس اشکال کا جواب مفسرین کرام اس طرح دیتے ہیں کہ انسانوں کے ذہن میں فرشتوں کی خوبصورتی اور شیطان کی بدشکلی راسخ ہوچکی ہے ، بالکل اسی طرح جس طرح کسی خوبصورت انسان کو چاند کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے۔ شیاطین کی بدشکلی کا ذکر قرآن پاک میں بھی موجود ہے سورة صفت میں فرمایا کہ جہنمیوں کی خوراک تھوہر کے پودے ہوں گے ” طلمھا کا نہ رءوس الشیطین “ جن کے سرے شیطانوں کے سروں کی طرح ہوں گے گویا شیطان کی نسبت بدصورتی کی طرف …… کی گئی ، شیاطین سے بعض لوگ سانپ بھی مراد لیتے ہیں کیونکہ شیاطنی کا اطلاق سانپ پر بھی ہوتا ہے جس طرح جن خوف اور ہیبت کی علامت سمجھا جاتا ہے اسی طرح شیطان بدصورتی اور فرشتہ خوبصورتی کی علامت ہے۔ اس لئے ان عورتوں نے یوسف (علیہ السلام) کو ان کے حسن و جمال کی نسبت سے فرشتے کا خطاب دیا۔ ” فرشتہ “ عربی ادب میں عربی ادب میں بھی فرشتے کو حسن و جمال کا پیکر سمجھا گیا ہے۔ چناچہ عرب شاعر جب اپنی ممدوح قوم کی تعریف کرتا ہے تو کہتا ہے۔ قوما اذا قوبلوا کانوا ملئکۃ حسناً وان قوتلوا کانوا عفاریتاً وہ ایسی قوم ہیں کہ اگر حسن و جمال کے لحاظ سے ان کا مقابلہ کیا جائے تو وہ فرشتے ہیں اور جب وہ میدان جنگ میں مقابلہ کرتے ہیں تو خوفناک جن ہوتے ہیں۔ عفریب کا معنی خوفناک یا خطرناک جن ہوتا ہے 1 ؎ بخاری ص 3/ج 1 و مسلم ص 90/ج 1 مصر کا شوق اقبال کی طرح قومی شاعر ہوا ہے ، وہ کہتا ہے۔ صونی جمالک عنا اننا بشر من التراب وھذا الحسن روحانی ہم سے اپنے جمال کو بچائو کہ ہم تو محض انسان ہیں اور یہ حسن و جمال روحانی چیز ہے۔ ہم اس کے کہاں قابل ہیں۔ اس شعر کو اتنا اعلیٰ سمجھا گیا ہے کہ مصر کے ایک دوسرے بڑے شاعر حافظ ابراہیم اس ایک شعر کے بدلے اپنا پورا دیوان دینے پر آمادہ ہوگئے تھے۔ ایک اور شعر ہے۔ ارفاتبغی ملکانا وینہ فلکا لم یخذشرکاً فی العالم الفانی اگر حسن کا مظاہرہ کرنا ہے تو آسمان میں جگہ بنائو۔ کسی ایسے فرشتے کو مدمقابل بنائو جس نے اس مادی جہان میں کوئی شراکت پیدا نہ کی ہو کیونکہ مادی انسانوں میں یہ باتیں جہان میں کوئی شراکت پیدا نہ کی ہو کیونکہ مادی انسانوں میں یہ باتیں کہاں پائی جاتی ہیں۔ الغرض ! کہنے کا مطلب یہ ہے کہ حسن و جمال کی نسبت ملائکہ کی طرف کی جاتی ہے اور اسی بناء پر مصری عورتوں نے یوسف (علیہ السلام) کو ایک نظر دیکھ کر کہا کہ یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ معلوم ہوتا ہے چناچہ وہ آپ کی عظمت اور بڑائی کی قائل ہوگئیں۔
Ayahs 12:32–35

قَالَتْ فَذٰلِكُنَّ الَّذِیْ لُمْتُنَّنِیْ فِیْهِ١ؕ وَ لَقَدْ رَاوَدْتُّهٗ عَنْ نَّفْسِهٖ فَاسْتَعْصَمَ١ؕ وَ لَئِنْ لَّمْ یَفْعَلْ مَاۤ اٰمُرُهٗ لَیُسْجَنَنَّ وَ لَیَكُوْنًا مِّنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 12:32 in the Quran reader

بولی وہ عورت (جس کے گھر میں یوسف (علیہ السلام) تھے) یہ وہی ہے کہ تم مجھے ملامت کرتی تھیں اس کے بارے میں اور البتہ تحقیق میں نے اس کو بےقابو کرنا چاہتا تھا اس کے جی سے ، پس وہ بچ گیا اور اگر نہیں کرے گا وہ جو میں اس کو کہتی ہوں تو ضرور وہ قید میں ڈالا جائے گا اور ہوجائے گا وہ بےعزت

قَالَ رَبِّ السِّجْنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدْعُوْنَنِیْۤ اِلَیْهِ١ۚ وَ اِلَّا تَصْرِفْ عَنِّیْ كَیْدَهُنَّ اَصْبُ اِلَیْهِنَّ وَ اَكُنْ مِّنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 12:33 in the Quran reader

کہا (یوسف (علیہ السلام) نے) اے پروردگار ! قید خانہ زیادہ اچھا ہے میرے نزدیک اس بات سے جن کی طرف یہ عورتیں مجھے بلاتی ہیں ، اور اگر تو نہیں پھیرے گا ان کی فریب کاری کو مجھ سے تو میں مائل ہو جائوں گا ان کی طرف ، اور ہو جائوں گا میں نادانوں میں سے

فَاسْتَجَابَ لَهٗ رَبُّهٗ فَصَرَفَ عَنْهُ كَیْدَهُنَّ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 12:34 in the Quran reader

پس قبول کی اس کے پروردگار نے اس کی دعا ، پس پھیر دیا اس سے ان کی فریب کاری کو ، یشک وہ سننے والا اور جاننے والا ہے

ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰیٰتِ لَیَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰى حِیْنٍ۠ Open ayah 12:35 in the Quran reader

پھر ظاہر ہوا ان کے لئے بعد اس کے کہ انہوں نے دیکھ لی نشانیاں یہ کہ اس کر ضرور قید میں رکھیں ایک وقت تک

ربط آیات جب مصر میں یہ مشہور ہوگیا کہ عزیز مصر کی بیوی نے اپنے غلام کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی ہے تو اونچے طبقے کی عورتوں نے زلیخا کو بدنام کرنا شروع کردیا۔ اس کے جواب میں زلخیا نے ایک مجلس طعام کا اہتمام کیا جسمیں تمام معزز خواتین بیگمات اور امیر زادیوں کو مدعو کیا۔ اس معاشرے کے رواج کے مطابق بڑی پرتکلف دعوت کی گئی جس میں چھری کانٹا بھی استعمال کے لئے رکھا گیا۔ زلیخا کا مقصد یہ ھتا کہ جس غلام کے نام پر یہ عورتیں اسے بدنام کر رہی ہیں اسے خود بھی ایک نظر دیکھ لیں او اس کے بعد فیصلہ کریں کہ میری مجبوری کیا ہے جب وہ سب عورتیں کھانے کے لئے بیٹھ گئیں تو زلیخا نے کسی بہانے سے یوسف (علیہ السلام) کو ان کے سامنے سے گزار دیا جسے دیکھ کر تمام عورتیں ششدرہ رہ گئیں یوسف (علیہ السلام) اس شان اور باوقار طریقے سے گزرے کہ کسی عورت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا ان کی پاکبازی کے متعقل عورتوں کو تو کوئی شبہ نہ ہوا البتہ وہ انہوں نے چھریوں سے پھل کاٹنے کی بجائے اپنے ہاتھ کاٹ لئے اور س اتھ یہ بھی کہا کہ یہ کوئی انسان نہیں بلکہ بزرگ فرشتہ معلوم ہوتا ہے۔ چھری کانٹے کا استعمال اس واقعہ میں اللہ تعالیٰ نے چھری کا ذکر بطور خاص کیا ہے کہ اس زمانے میں بھی چھری کانٹے کے استعمال کا رواج تھا اور لوگ پھلوں کے علاوہ بھونا ہوا گوشت بھی چھری سے کاٹ کاٹ کر کھاتے تھے ۔ جب اسلام کا دور آیا تو حضور ﷺ نے اس مقصد کے لئے چھری کو معمول کے طور پر استعمال کرنے سے منع فرما دیا۔ ابو دائود شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا لاتقطموا اللھم بالسکین فانہ من صنیع الاعا جیم یعنی پکائے ہوئے گوشت کو چھری سے کاٹ کر نہ کھائو کیونکہ یہ عجمیوں کا طریقہ ہے آپ نے ہاتھ استعمال کرنے کی ترغیب دی۔ چناچہ خود حضور ﷺ نے بکری کی بونگ کو ہاتھ سے پکڑ کر اور دانتوں سے نوچ کر تناول فرمایا۔ البتہ آپ نے ضرورت کے وقت چھری کے استعمال کی بھی اجازت دی ہے۔ ترمذی شریف کی حدیث میں حضرت مغیرہ بن شعبہ کی روایت ہے کہ میں حضور ﷺ کا مہمان ہوا آپ نے مجھے کھانا کھلایا اور آپ کان یحض چھری سے کاٹ کاٹ کر کھانے کی ترغیب دے رہے تھے۔ اتنے میں حضرت بلال آئے اور انہوں نے عرض کیا کہ حضور ! نماز کا وقت ہوگیا ہے اس پر آپ ناراض ہوگئے اور القی الشفرۃ اور چھری ہاتھ سے پھینک دی۔ آپ نے بلال سے فرمایا مالہ تربت یدہ کیا ہوگیا ہے۔ بلال اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں جو ہمیں آ کر نماز کی اطلاع دیتا ہے ، کیا ہمیں نہیں پتہ کہ نماز ادا کرن ی ہے۔ میں مہمان کی خاطر مدارت کر رہا تھا اور اس نے دخل در معقولات کا ارتکاب کیا۔ گویا اس حدیث میں چھری استعمال کرنے کا ذکر ہے اگر پکے ہوئے گوشت کے ٹکڑے بڑے ہوں اور ہاتھ سے نہ کاٹے جاسکیں تو چھری سے کاٹنا بھی درست ہے یہ چیز اب بھی عربوں میں رائج ہے۔ سعودی مملکت کے بانی شاہ ابن سعود نے ایک امریکی کمپنی کے دس ہزار کے لگ بھگ سارے سٹاف کی دعوت کی۔ اس دعوت میں شاہ نے اونٹ سے لکر انڈے تک کی تمام چیزیں مسلم روسٹ کر کے پیش کیں۔ کہتے ہیں کہ سالم روسٹ کئے ہوئے اونٹوں کی تعداد چھیالیس تھی اور گائے ، بیل ، بھیڑ ، بکری ، ہرن مرغ ، بٹیر وغیرہ لاتعداد تھے ظاہر ہے کہ بڑے بڑے جانوروں کا گوشت استعمال کرنے کے لئے چھری کی ضرورت ہوگی اور ایسے حالات میں اس کا استعمال جائز ہے۔ عربوں کے علاوہ افغانستان میں بھی بڑے جانور روسٹ کرنے کا رواج موجود ہے۔ تاہم چھری کانٹے کا استعمال بلا ضرورت تکلفاً درست نہیں۔ زلیخا کا اعتراف حقیقت بہرحال دعوت طعام کے موقع پر جب مہمان خواتین نے یوسف (علیہ السلام) کو دیکھ کر خود اپنے ہاتھ کاٹ لیے تو زلیخا کو حقیقت حال بیان کرنے کا موقع میسر آ گیا ۔ قالت فذلکن الذی لمتذی فیہ کہنے لگی یہی ہے وہ غلام جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں۔ اب بتلائو کہ میرا جذباتی ہوجانا کس حد تک درست تھا۔ فارسی والے بھی اس حالت کے متعلق کہا کرتے ہیں۔ ایں است کہ خود خوردہ قبول بروہ بسے را بسم اللہ اگر تاب نظر ہت کے را یہی ہے وہ کہ جس نے خون کھایا ہے اور دل لیا ہے۔ اگر کسی کو دیکھنے کی طاقت ہے تو آ کر اسے دیکھ لے مقصد یہ کہ زلیخا نے کہا کہ میں اس غلام کو دل دینے پر مجبور ہوچکی تھی مگر تم نے اسے اور میری مجبوری کو دیکھے بغیر بدنام کرنا شروع کردیا ۔ پھر جب زلخیا نے بھانپ لیا کہ معزز خواتین اس کی بات سے متاثر ہو رہ یہیں تو اس نے مزید کھل کر بات کی ، کہنے لگی ولقد راہ دثہ عن نفسہ میں نے خود اس کو اس کے نفس سے پھسلانا چاہا تھا۔ یعنی یوسف نے تو کبھی کسی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا ، بلکہ میں نے ہی اسے پھانسنے کی کوشش کی مگر فاستعصم وہ بچ گیا۔ اس نے دعوت ملنے کے باوجود برائی کی طرف رغبت نہیں کی ۔ یہ متام حالات و واقعات جاننے کے بعد مہمان خواتین نے زلیخا کو مجبور سمجھتے ہوئے اس کے خلاف پراپیگنڈا نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ دراصل ان کی اپنی حالت اس شعر کے مصداق ہوچکی تھی۔ لا تخف ما صنعت بک الاشواق وشق ھوائک فکلنا عشاق اشواق نے جو کار گزاری تمہارے ساتھ کی ہے ، اس سے مت خوف کھائو اور اپنے دل کی بات کو ظاہر کر دو کیونکہ ہم سب کی حالت میں بھی تم جیسی ہوچکی ہے ، اب ہم تمہیں ہرگز ملامت نہیں کریں گی بلکہ تمہیں مجبور سمجھیں گی۔ لا اکذب الباری بنا اللہ ھیکلی صنیعۃ احسان ورق حسانی اللہ نے مجھے بنا کر احسان فرمایا ، مجھے شکل و صورت عطا کی ، میں اسی احسان کا پروردہ ہوں ، مگر اللہ نے اس کے ساتھ ساتھ مجھے حسینوں کا غلام بھی بنا دیا ہے حسن والوں کو دیکھ کر بےقابو ہوجاتا ہوں۔ بہرحال زلیخا نے اپنی مجبوری اور یوسف (علیہ السلام) کی عصمت کا برملا اظہار کیا۔ آپ تو اللہ تعالیٰ کے مقدس بندے تھے۔ اگرچہ اس وقت آپ کو نبوت عطا نہیں ہوئی تھی مگر اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کی ابتدا ہی سے اس طرح تربیت کرتا ہے کہ ان سے معصیت کا ارتکاب ممکن نہیں ہوتا۔ انبیاء سے اگر کوئی معمولی سی لغزش سر زد ہوجائے تو وہ ذلت کہلاتی ہے اور وہ عام لوگوں کی نسبت سے گناہ ہی نہیں ہوتا۔ بلکہ خلاف اولیٰ بات ہوتی ہے تاہم انبیاء کو اس معمولی لغزش پر بھی تنبیہ ہوجاتی ہے۔ بہر حال زلیخا اپنے اعتراف جرم اور یوسف (علیہ السلام) کی پاکیزگی کے باوجود اپنے ارادے سے پیچھے ہٹنے والی نہ تھی کہنے لگی ولئن لم یفعل ما امرہ اگر اب بھی یوسف (علیہ السلام) نے میری بات نہ مانی لیسجنن تو اسے ضرور قید میں ڈالا جائے گا ولیکونا من الصغرین اور وہ ضرور بےعزت ہوجائے گا۔ زلیخا نے یہ دھمکی بھی دے دی۔ یوسف (علیہ السلام) کی دعا زلیخا کی یہ دھمکی یوسف (علیہ السلام) نے بھی سن لی اور ادھر آپ نے یہ بھی دیکھ لیا کہ زلیخا معزز خواتین کی ہمدردیاں بھی حاصل کرچکی ہے۔ اس صورتحال میں آپ نے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا کی قال رب السجن احب الی مما یدعواننی الیہ اے پروردگار چ مجھے قید میں جانا زیادہ پسندیدہ ہے اس بات کی نسبت جس کی طرف یہ عورتیں مجھے بلا رہی ہیں اور ساتھ یہ بھی عرض کیا کہ اے مولا کریم ! والا تصرف عنی عیدھن اگر تو ان کی فریب کاری کو مجھ سے نہیں ہٹائے گا اصب الھین تو میں ان کی طرف مائل ہو جائوں گا واکن من الجھلین اور نادانوں میں سے ہو جائوں گا معصیت کا مرتکب اپنی نادانی ہ ی کی وجہ سے گناہ کا ارتکاب کرتا ہے اگر اس کا فہم اور عقل صحیح ہو تو ایسی بات نہ کرے۔ بہرحال یوسف (علیہ السلام) نے قید میں ڈالے جانے کو معصیت پر ترجیح دی کیونکہ قید خانہ کی تکلیف تو عارضی ہے ، ختم ہوجائے گی مگر معصیت کے نتیجہ میں ہونے والا عذاب دائمی ہوگا جو بلاشبہ ناقابل برداشت ہے۔ سعدی اصحب نے ایک بزرگ کا ذکر کیا ہے کہ کسی چیتے نے انہیں زخمی کردیا تھا اور وہ زخمی حالت میں دریا کے کنارے پڑے تھے زخم گہرا تھا اور اچھا نہیں ہو رہا تھا۔ مگر وہ اللہ کا بندہ ہر وقت خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا تھا۔ لوگوں نے پوچھا کہ اتنی تکلیف کے باوجود اللہ تعالیٰ کا شکر کس طرح کرتے ہو ، تو کہنے لگے کہ شکر اس بات کا ہے کہ میں جسمانی تکلیف میں مبتلا ہوں ، کسی گناہ کی مصیبت میں گرفتار نہیں ہوں ، اسی اصول کے پیش نظر یوسبف (علیہ السلام) نے بھی دعا کی کہ اے اللہ ! معصیت کی دائمی تکلیف سے قید کی عارضی تکلیف مجھے منظور ہے ، لہٰذا مجھے گناہ سے محفوظ رکھنا۔ عرش کا سایہ یوسف (علیہ السلام) نے جسپ رہیز گاری اور بلند کرداری کا مظاہرہ کیا اس کے جار وثواب کا ذکر حضور ﷺ کی حدیث میں بھی ملتا ہے صحیحین کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے اللہ کامل و ایمان بندوں کا ذکر اس طرح کیا ہے سبعۃ یظلھم اللہ فی ظلہ یوما لا ظل الا ظلہ یعنی سات قسم کے آدمی ایسے ہیں جنہیں قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے عرش کا سایہ نصیب ہوگا کہ اس دن اس سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔ فرمایا پہلا آدمی امام عادل ہے عدل و انصاف کو قائم کرنے والا حاکم قیامت والے دن اللہ کے عرش کے سائے میں جگہ پائے گا۔ دوسرا شخص شاب نشاء فی عبادۃ اللہ ایسا نوجوان ہے جس نے عبادت کے ماحول میں نشو و نما پائی یعنی جس نے اپنی جوانی کا زمانہ عبادت میں گزارا تیسرا شخص رجل قلبہ معلق بالمسجد وہ ہے کہ جس کا دل مسجد میں لٹکا رہتا ہے حتی یعود فیہ یہاں تک پھر مسجد میں واپس جاتا ہے۔ مسجد کے ساتھ اس قدر محبت ہے کہ ایک نماز کے بعد جب واپس جاتا ہے تو دوسری نماز کے لئے مسجد میں جانے کا خیال جاگزیں رہتا ہے۔ فرمایا چوتھی قسم کے وہ دو آدمی ہیں رجلان تحابا فی اللہ جو آپس میں محض اللہ کے لئے محبت کرتے ہیں ان کے پیش نظر دنیا کا کوئی مقصد نہیں ہوتا اجتمعا علیہ وتفرقا علیک وہ اسی محبت کے لئے کاٹھے ہوتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں۔ فرمایا سایہ خداوندی کا پانچواں حقدار رجل تصان بصدقۃ فاخفاھا حتی لاتعکم شمالہ ماصنعت یمینہ و ہ آدمی ہے جو صدقہ کرتا ہے او اس کو اس قدر مخفی رکھتا ہے کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی پتہ نہیں ہوتا کہ اس کے دائیں ہاتھ نے کی خرچ کیا ہے چھٹے آدمی کے متعلق فرمایا دعتہ ذومنصب و جمال کہ اسے کوئی صاحب منصب اور حسن و جمال والی عورت معصیت کی طرف دعوت دے فقال انی اخاف اللہ مگر وہ کہے کہ مجھے تو اللہ کا ڈر ہے ، میں اس گناہ میں ملوث نہیں ہو سکتا۔ فرمایا ساتواں خوش نصیب رجل ذکر اللہ خالیا ففاضت عیناہ وہ شخص ہے جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے تو اس کی آنکھوں سے آنسو نکلیں۔ برائی کے وقت خوفزدہ برائی کے ارتکاب کا موقع ملنے پر اللہ تعالیٰ کا خوف آجانا بہت بڑی بات ہے جس کی وجہ سے انسان گناہ سے بچ جاتا ہے صحیحین کی حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے تین آدمیوں کا ذکر کیا ، جو ایک غار میں پھنس گئے تھے اور باہر نکلنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تھی آخر انہوں نے فیصلہ کیا کہ ان میں سے ہر ایک اپنے کسی نیک کام کے واسطہ سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے کہ انہیں اس مصیبت سے رہائی مل جائے ۔ چناچہ ان میں سے ایک شخص نے اپنا واقعہ اس طرح بیان کیا کہ میں اپنے چچا کی بیٹی سے محبت کرتا تھا مگر وہ مجھ سے تعلق قائم کرنے پر رضامند نہ تھی۔ پھر ایسا ہوا کہ شدید قحط پڑگیا اور وہ عورت محتاج ہوگئی۔ اسے بیس دنیار کی ضرورت تھی اور میں اس کی مجبوری سے اپنی دیرینہ خواہش پوری کرنی چاہتا تھا۔ اس رقم کے عوض وہ راضی ہوگئی اور میں نے وہ ادا کردی۔ پھر جب میں برائی کے خیال سے اس کے سامنے بیٹھ گیا تو وہ عورت بولی ، اے اللہ کے بندے لاتفض الخاتم الا بحقہ اس مہر کو حق کے بغیر نہ توڑو ، وہ شخص کہتا ہے کہ اس موقع پر مجھ میں واقعی خوف خدا پیدا ہوگیا ، میں اٹھ کھڑا ہوا ، برائی کا ارادہ کردیا اور ادا شدہ رقم بھی واپس نہ لی۔ دعا کی قبولیت بہرحال اس موقع پر یوسف (علیہ السلام) نے جسمانی تکلیف کے بارے معصیت کو دور کرنے ک یدعا کی فاستجاب لہ ربہ پس اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول فرما لی فصرف عنہ کیدھن اور ان عورتوں کی فریب کاری کو یوسف (علیہ السلام) سے پھیر دیا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس موقع پر یوسف (علیہ السلام) نے دعا میں دو باتیں کی تھیں یعنی قید و بند کو ترجیح اور فریب کاری سے بچائو اس سلسلہ میں شاہ عبدالقادر محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی ایک دعا قبول فرمائی اور آپ کو عورتوں کی فریب کاری سے محفوظر کھا ، باقی رہی قید و بندگی صعوبتیں برداشت کرنا ، تو وہ ان کی قسمت میں تا۔ اسی لئے فرماتے ہیں کہ آدمی کو تکلیف سے گھبرا کر اپنے حق میں برائی نہیں مانگنی چاہیئ ، بلکہ ہمیشہ بھلائی طلب کرنی چاہئے اگرچہ ہوگا وہی جو قسمت میں لکھا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ گھبرا کر اپنے لئے موت بھی مت طلب کرو اور کسی موقع پر اپنے بال بچوں کے لئے بد دعا بھی نہ کرو بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کا قید کو پسند کرنا مقصود بالذات نہیں تھا بلکہ معصیت کی برائی مقصود تھی کہ گناہ میں ملوث ہونے سے قید میں پڑنا آسان ہے بہرحال اللہ نے آپ کی دعا کو قبول فرمایا اور آپ سے عورتوں کے مکر و فریب کو دور کردیا انہ ھو السمیع العلیم بیشک اللہ تعالیٰ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ قید بطور مصلحت یہ واقعات پیش آنے کے بعد عزیز مصر کے خاندان کے لوگوں نے اس سارے معاملے کا تجزیہ کیا جسے اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا ہے۔ ثم یدالھم من بعدما راوالایت تمام نشانیاں دیکھنے کے بعد ان پر ظاہر ہوگیا۔ یہاں پر جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے کہ اس میں عزیز مصر اور زلیخا کے خاندان والے سبھی لوگ شامل ہیں انہوں نے بہت سی نشانیاں بھی دیکھ لی تھیں ، قمیص کے پیچھے سے پھٹنے اور شیر خوار بچے کی شادت سے ان پر یوسف (علیہ السلام) کی عصمت واضح ہوچکی تھی ، یوسف (علیہ السلام) کا پورا کردار ان کے سامنے تھا اور انہیں آپ کی پاک دامنی کا یقین ہوچکا تھا۔ اس کے باوجود دونوں خاندانوں نے یہ مشترکہ فیصلہ کیا لیسجننہ حتی حین کہ یوسف (علیہ السلام) کو ایک خاص مدت تک جیل میں ڈال دیا جائے۔ وہ لوگ جان چکے تھے کہ زلیخا کی محبت کے چرچے پہلے ہی ہو رہے تھے ، اب دعوت والی بات نکلے گی تو مزید مشہوری ہوگی لہٰذا مصلحت اسی میں ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو کچھ وقت کے لئے قید میں ڈال دیا جائے اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جب آپ نظروں سے اوجھل ہوجائیں گے تو عورت کا فتنہ بھی کم ہوجائے گا اور ادھر عوام الناس میں جو باتیں ہو رہی ہیں ، وہ بھی دب جائیں گی ترمذی شریف کی حدیث میں آتا ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی جانور کیساتھ ملوث ہوجائے تو اس مجرم کے ساتھ اس جانور کو بھی مار ڈالنا چاہئے اگرچہ جانور بےقصور ہے مگر اس کا نظروں سے دور ہوجانا اس لئے ضروری ہے کہ اسے دیکھ کر وہ قبیح حرکت یاد نہ آئے اسی اصول کے پیش نظر ان لوگوں نے یہی مناسب سمجھا کر یوسف (علیہ السلام) کو نظروں سے ہٹانے کے لئے کچھ عرصہ کے لئے قید میں رکھا جائے۔
Ayahs 12:36–38

وَ دَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیٰنِ١ؕ قَالَ اَحَدُهُمَاۤ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَعْصِرُ خَمْرًا١ۚ وَ قَالَ الْاٰخَرُ اِنِّیْۤ اَرٰىنِیْۤ اَحْمِلُ فَوْقَ رَاْسِیْ خُبْزًا تَاْكُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ١ؕ نَبِّئْنَا بِتَاْوِیْلِهٖ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:36 in the Quran reader

اور داخل ہونے آپ (یوسف علیہ السلام) کے ساتھ قید خانے میں دو نوجوان تو ان میں سے ایک نے کہا کہ میں دیکھتا ہوں خواب میں کہ میں انگور کا شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا کہ میں دیکھتا ہوں کہ میں اٹھا رہا ہوں اپنے سر پر روٹیاں اور پرندے اس سے کھا رہے ہیں بتلائو ہمیں ان کی تعبیر بیشک ہم دیکھتے ہیں آپ کو نیکی کرنے والوں میں سے

قَالَ لَا یَاْتِیْكُمَا طَعَامٌ تُرْزَقٰنِهٖۤ اِلَّا نَبَّاْتُكُمَا بِتَاْوِیْلِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّاْتِیَكُمَا١ؕ ذٰلِكُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیْ رَبِّیْ١ؕ اِنِّیْ تَرَكْتُ مِلَّةَ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 12:37 in the Quran reader

کہا یوسف (علیہ السلام) نے نہیں آئے گا تمہارے پاس کھانا جو تمہیں دیا جاتا ہے مگر میں تمہیں بتلا دوں گا ان کی تعبیر اس کے آنے سے پہلے یہ علم وہ ہے جو مجھے سکھایا ہے میرے پروردگار نے بیشک میں نے چھوڑ دیا ہے اس قوم کی ملت کو جو ایمان نہیں رکھتے اللہ پر اور آخرت کے ساتھ وہ انکار کرنے والے ہیں

وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 12:38 in the Quran reader

اور میں نے پیروی کی ہے اپنے باپ دادا ک یملت کی جو ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) تھے ، نہیں لائق ہمارے لئے یہ بات کہ ہم شریک ٹھہرائیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہے اور لوگوں پر بھی ، لیکن اکثر لوگ شکر نہیں ادا کرتے

تبدیلی رائے گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ عزیز مصر اور اس کی بیوی کے خاندان پر یوسف (علیہ السلام) کی عصمت اور بنلد کردار ی کی بہت سی نشانیاں ظاہر ہوائیں جس کی بناء پر انہیں یقین ہوگیا کہ قمیص پھٹنے کے واقعہ میں قصور زلیخا کا ہے ، اور یوسف (علیہ السلام) بالکل بےگناہ ہیں اس کے باوجود انہوں نے فیصلہ کیا کہ یوسف (علیہ السلام) کو کچھ عرصہ کے لئے قد کردیا جائے۔ اس مقام پر ثم بدالھم کے ال فاظ آئے ہیں۔ بدا کے دو معنی آتے ہیں یعنی ظاہر کرنا اور رائے کا بدلنا یہاں پر دونوں معنی مراد لئے جاسکتے ہیں۔ ان پر حقیقت حال بھی پوری طرح ظاہر وہ گئی کہ یوسف (علیہ السلام) بےگناہ ہیں مگر اس کے باوجود ان کی رائے بدل گئی اور انہوں نے آپ کو جیل میں ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ شیعہ مسلک میں بدا ایک اہم مسئلہ ہے۔ ان کے ہاں اللہ تعالیٰ پر بدا کا عقیدہ رکھنا جائز ہے جس کا مطل بیہ ہے کہ کسی چیز کا فیصلہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی رائے بدل لیتا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ لاعلمی میں کوئی فیصلہ کر بیٹھا ہے پھر جب اس پر حقیقت واضح ہوجاتی ہے تو وہ اپنی رائے بدل لیتا ہے (العیاذ باللہ) اللہ تعالیٰ ہر چیز کو ازل سے جانتا ہے اور اسی بناء پر اس نے ہر بات کا فیصلہ کر رکھا ہے۔ ہاں اگر بندوں کی مصلحت اور اپنی حکمت کی بناء پر وہ کسی فیصلے کو تبدیل کرنا چاہے تو وہ قادر مطلق ہے۔ اس کے حکم میں کوئی چیز مزاحمت نہیں کرسکتی۔ قید و بند کی تاریخ بلا وجہ قید و بند کے واقعات سے تاریخ عالم بھری پڑی ہے۔ یہ نہ صرف یوسف (علیہ السلام) کی سنت ہے بلکہ سنت انبیاء ہے اکثر انبیاء کو بھی قید و بند کی صعوتیں برداشت کرنا پڑیں۔ خود حضور خاتم النبین ﷺ شعب ابی طالب میں تین سال تک نظر بند رہے ۔ مشرکین نے راشن اور پانی تک کی فراہمی بند کردی اور آپ کے گھر والوں کو سخت تکالیف برداشت کرنا پڑیں۔ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں جابر حکمرانوں خاص طور پر انگریزوں کے مظالم ہمیشہ تازہر ہیں گے اپنی عمل داری کے دوران جس کسی نے بھی ان کے خلاف آواز اٹھائی اسے یا تو جیل بھیج دیا یا ملک بدر کردیا شیخ الہند حضرت مولانا محمود الحسن کو الٹا کے دور دراز جزیزے میں قید رکھا گیا۔ آپ کے کئی شاگرد ہیں اللہ کو پیارے ہوگئے۔ حضرت شیخ الہند کے خادم حکیم سید نصرت حسین جب مالٹا جیل میں فوت ہوئے تو انگریزوں نے انہیں غسل دینے کی بھی اجازت نہ دی ، چناچہ حضرت مولانا نے آپ کا تمیم کرا کے آپ کی نماز جنازہ پڑھی مولانا فضل حق خیر آبادی بھی مالٹا میں فوت ہوئے کا کو ری کے ایک آدمی نے چوبیس سال کی طویل قید کاٹی۔ یوپی کے سید ظہیر حسین بیالیس سال تک جیل میں رہنے کے بعد جب رہا ہوئے تو بالکل ضعیف ہوچکے تھے ہمارے قریبی زمانہ میں سید عطاء اللہ شاہ بخاری دس سال تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے رہے ۔ مولانا ظفر علی خاں بارہ سال تک جیل میں رہے ۔ پنجاب اور یوپی کا کوئی جیل ایسا نہیں جاں چوہدر ی افضل حق نے قید نہ کاٹی ہو مولانا احمد سعید صاحب پندرہ سال کا عرصہ جیل میں رہے۔ مولانا ابو الکلام اور مولانا سید حسین احمد مدنی بھی گیارہ گیارہ سال تک قید رہے مولانا مدنی کو دو ماہ تک کھڑی بیڑیوں الی سزا دی گئی اور اس طرح آپ کو مسلسل دو ماہ تک کھڑا رکھا گیا مولانا عبید اللہ سندھی کو جیل میں اس قدر جسمانی تکالیف دی گئیں کہ اپ ک جسم کو جگہ جگہ سے داغ دیا گیا او اس کے نشانات آپ کو غسل دیتے وقت ملے عبدالغفار خان نے انگریز کے زمانے میں اٹھارہ سال تک قید کی تکالیف برداشت کیں ، جانباز شاعر نے بارہ سال کا عرصہ جیل میں گزارا اور تیس کوڑے بھی کھائے یہ اب تک زندہ ہے اور مجلس احرار کی تاریخ مرتب کر رہا ہے شورش کاش میری نے دس سال قید کاٹی احسن عثمانی فاضل دیوبند چار سال تک جیل میں رہے پھر تنگ آ کر بھوک ہڑتال کردی۔ آپ کو اس قدر اذیت دی گئی کہ مقصد میں نالی ٹھونک کر زخمی کردیا گیا اور آپ اسی زخم کے دوران فوت ہوئے۔ دوشاہی ملزمان الغرض ! یوسف (علیہ السلام) کو بلاوجہ قید میں ڈال دیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ اس طرح شہر میں ہونے والا پراپیگنڈہ آہستہ آہستہ ختم ہوجائے گا ، پھر اتفاق ایسا ہوا ودخل معہ السجن قتین یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ دو دوسرے نوجوان بھی جیل خانے میں داخل ہوئے ، یہ دونوں بھی بادشاہ کے ملزم تھے ، ان میں ایک بادشاہ وقت ریان بن ولید کا ساقی تھا ، یہ بادشاہ پرانی عرب اقوام عاد اور ثمود کے قبطی خاندان سے تھا ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ شخص یوسف (علیہ السلام) پر ایمان لے آیا تھا اور اسی کے زمانے میں یوسف (علیہ السلام) کو مصر میں مکمل اقتدار حاصل ہوا۔ جب یوسف (علیہ السلام) کی وفات ہوئی تو اس وقت دوسرا بادشاہ تھا اور وہ مومن نہیں تھا۔ بہرحال ان ملزمان میں سے ایک بادشاہ کو شراب پلانے پر مامور تھا جب کہ دوسرا شخص روٹی پکانے والوں کا انچارج تھا۔ ان پر یہ الزام تھا کہ انہوں نے بادشاہ کے کھانے میں زہر ملانے کی سازش کی تھی۔ یہ سازش کسی طرح بےنقاب ہوگئی تو بادشاہ نے مکمل تحقیق ہونے تک انہیں جیل میں بند کردیا۔ تاہم تالمور کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ زہر ملانے والا بڑا الزام نہیں تھا بلکہ ان کی کوئی معمولی سی لغزش تھی جس کی بناء پر اس جابر بادشاہ نے انہیں قید کردیا۔ یہودی روایت کے مطابق ساقی کا جرم یہ تھا کہ اس کی پیش کردہ شراب سے مکھی برآمد ہوئی تھی اور روٹیاں پکانے والے انچارج کا قصور یہ تھا کہ اس کی نگرانی میں پکائی گئی روٹی میں کر کراہٹ محسوس کی گئی تھی۔ قیدیوں کے خواب ان دو قیدیوں نے جیل میں قیام کے دوران علیحدہ علیحدہ خواب دیکھے ، جن کا ذکر اس آیت کریمہ میں کیا گیا ہے۔ یہ چاہتے تھے کہ کسی صاحب علم شخص سے ان خوابوں کی تعبیر معلوم کریں۔ یہ چاہتے تھے کہ کسی صاحب علم شخص سے ان خوابوں کی تعبیر معلوم کریں۔ سارے قیدی آپس میں ملتے جلتے تھے ۔ کم از کم دن کے وقت تو سب ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہوں گے خواہ رات کو کوٹھڑیوں میں بند کردیئے جاتے ہوں۔ عام دستور یہی ہے کہ ایک ایک کمرے میں کئی کئی قیدی رکھے جاتے ہیں اور سوائے سخت خطرناک قیدیوں کے جنہیں قید تنہائی میں رکھا جاتا ہے۔ باقی سب آپس میں بات چیت بھی کرسکتے ہیں۔ یہ دو قیدی کسی نیک اور صالح آدمی کی تلاش میں تھے جو انہیں خواب کی تعبیر بتا سکے۔ چناچہ تمام قیدیوں میں سے ان کی نظر انتخاب یوسف (علیہ السلام) پر پڑی کیونکہ سب قیدی آپ کی عبادت گزاری ، تقویٰ راست گوئی ، اعلیٰ اخلاق اور جذبہ خدمت سے متاثر ہوچکے تھے چناچہ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کے سامنے اپنے خواب اس طرح بیان کئے ۔ قال احدھمآ انی ارنی اعصر خمراً ان دو میں سے ایک نے کہا میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب نچوڑ رہا ہوں …… ، شراب نچوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ پکے ہوئے انگوروں سے شیرہ نکال رہا تھا۔ جس سے پھر شراب بنائی جاتی ہے اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ شراب نچوڑنے کا مطلب انگور نچوڑنا ہے۔ بعض یہ بھی فرماتے ہیں کہ عربی محاورہ میں خمر کا لفظ انگور پر بھی بولا جاتا ہے کیونکہ کشید کرنے کے لئے انگور کو خام مال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ انگور کو کرم مت کہو کیونکہ کرم تو مومن کا دل ہے جس میں نور ایمان توحید اور فیاضی ہوتی ہے۔ عرب لوگ انگور کو اس لئے کرم کہتے تھے کہ ان کے نزدیک شراب پینے والا سخی ہوتا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا یہ غلط تصور ہے لہٰذا انگور کو عنب کا نام دیا کرو ، کرم مت کہو۔ بہرحال خمر کا معنی یہ ہے۔ ماخمو العقل جو انسان کی عقل میں خلط ملط پیدا کر دے۔ شراب ہمارے دین میں قطعی حرام ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے والخمر جماع الاثم شراب گناہوں کی جامع ہے جب انسان شراب کے نشے میں ہوتا ہے تو پھر بد زبانی بھی کرتا ہے۔ لڑائی اور دنگا فسد کا مرتکب ہوتا ہے اور بدکاری جیسے قبیح فعل میں بھی ملوث ہوجاتا ہے۔ شراب کا دوسرا نقصان یہ ہے کہ اسے حاصل کرنے کے لئے آدمی چوری کرے گا۔ ملاوٹ کا مرتکب ہوگا۔ رشوت لے گا اور دیگر حرام ذرائع سے روپیہ کمانے کی کوشش کرے گا۔ پھر ان چیزوں کی وجہ سے عبادت سے بھی غافل ہوجائے گا ، اسی لئے شراب کو ام الخبائث یعنی تمام برائیوں کی جڑ کہا گیا ہے۔ شراب نوشی واجب التعزیر ہے اس کا بنانا اور بیچنا بھی ممنوع ہے۔ حضور ﷺ نے فتح مکہ والے سال عام اعلان کروا دیا تھا۔ ان الذی حرم شربھا حرم بیعھا جس خدا تعالیٰ نے شراب پینے کو حرار قرار دیا ہے اس نے اس کی تجارت بھی حرام کردی ہے۔ بہرحال ایک قیدی نے کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ میں انگور سے شراب نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے اپنا خواب اس طرح بیان کیا وقال الاخر انی ارنی احمل فوق راسی خبراً کہ میں اتنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہئے ہوں تاکل الطیر منہ اور اس میں پرندے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) سے کہنے لگے نبئنا بتاویلہ آپ ہمیں ان خوابوں کی تعبیر بتائیں انا نرئک من المحسنین بیشک ہم آپ کو نیکو کاروں میں سے بتاتے ہیں ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپ پاکیزہ اطوار ، نیک چلن ، خوش اخلاق اور عبادت گزار آدمی ہیں ، لہٰذا آپ ہمیں خوابوں کی تعبیر بتائیں۔ تعبیر خواب انہوں نے تعبیر خواب کے لئے صحیح آدمی کا انتخاب کیا تھا۔ اس سورة کے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان گزر چکا ہے ” ویعلمک من تاویل الاحادیث “ اور تیرا پروردگار۔ تجھے باتوں کو ٹھکانے لگانے کا طریقہ سکھلائے گا۔ اس میں خواب کی تعبیر بھی شامل ہے اور اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو یہ علم بطور خاص عطا فرمایا تھا۔ ظاہر ہے کہ ہر آدمی تو خواب کی تعبیر نہیں بتا سکتا۔ یہ تو وہی بتا سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے اس معاملہ میں ملکہ حاصل ہو اور یہ چیز یوسف (علیہ السلام) کو حاصل تھی ویسے بھی ہر آدمی کے سامنے خواب بیان کرنے کا حکم نہیں ہے لا تحدث الاحبیباً اولبیبا یعنی خواب کسی محب یا دانا آدمی کے سوا کسی اور سے ذکر نہ کرو ، ورنہ غلط تعبیر کی وجہ سے تمہاری پریشانی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ جب ان قیدیوں نے یوسف (علیہ السلام) کے سامنے اپنے اپنے خواب بیان کئے تو آپ نے ان کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا قال لایاتیکما طعام ترزقنہ جو کھانا تمہیں دیا جاتا ہے ، وہ تمہارے پاس ابھی نہیں پہنچے گا الا نبا تکما بتاویلہ قبل ان یاتیکما کہ اس سے پہلے میں تم دونوں کو تمہارے خوابوں کی تعبیر بتا دوں گا ، مطلب یہ ہے کہ قیدیوں کے پوچھنے پر یوسف (علیہ السلام) نے فوراً تعبیر نہیں بتلا دی بلکہ اس کے لئے کچھ وقفہ چاہا یہاں پر اس بات کی تو وضاحت نہیں ہے کہ قیدیوں کے خواب بیان کرنے اور ان کے پاس کھانا آنے میں کتنا وقت تھا۔ ایک گھنٹہ ، دو گھنٹے یا تین گھنٹے جتنا بھی وقت تھا ، یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ کھانا آنے سے پہلے پہلے میں تعبیر بتا دوں گا۔ کیونکہ ذلکما مما علمنی ربی تعبیر خواب وہ علم ہے۔ جو اللہ نے مجھے خصوصی طور پر سکھایا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) نے یہ وقفہ اس لئے حاصل کیا تھا تاکہ اس دوران میں وہ اپنی حیثیت ان لوگوں پر واضح کرسکیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں کال علم سے نوازا ہے ار وہ فلاں معزعز خاندان سے تعلق رکھتے ہیں تاکہ وہ لوگ آپ کی بات کو اچھے طریقے سے قبول کرسکیں پھر آپ اپنے پاکیزہ عقیدے کا اظہار کر کے فریضہ تبلیغ بھی ادا کرنا چاہتے تھے۔ اس قسم کا تعارف ہر نبی نے کرایا انی رسول من رب العلمین ، لوگو ! میں تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے رسول بن کر آیا ہوں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد سے فرمایا تھا۔ یابت انی قد جآء نی من العلم مالم یا تک فاتبعنی اھدک صراطاً سوایاً “ (مریم) اے میرے ابا ! میرے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا علم آ چکا ہے جو تیرے پاس نہیں آیا۔ لہٰذا میرا اتباع کرو ، میں تمہیں صحیح راستہ بناتا ہوں۔ بہرحال یوسف (علیہ السلام) کو تبلیغ دین کا ایک موقع میسر آ چکا جسے وہ نہایت حکیمانہ طور پر مئوثر طریقے سے استعمال کرنا چاہتے تھے۔ فریضہ تبلیغ اس وقت دنیا بھر کے مسلمان فریضہ تبلیغ کو فراموش کرچکے ہیں جس طرح یوسف (علیہ السلام) نے موقع ملتے ہی تبلیغ دین کے کام کو اولیت دی ، اس طرح ہر مسلمان پر فرض عائد ہوتا ہے کہ اسے جب بھی چانس ملے فریضہ تبلیغ کو بطریق احسن انجام دے۔ ہمارے وزراء اور امراء بیرونی ممالک کے دوروں پر جاتے ہیں۔ تاجر حضرات اپنے کاروبار کے سلسلے میں دیار غیر کے چکر لگاتے ہیں مگر تبلیغ کے فریضہ کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تبلیغی جماعت والے اندرون ملک اور بیرون ملک تبلیغ کا جو کام کر رہے ہیں ، وہ کافی ہے حالانکہ وہ تو اصل ضرورت کا ایک فیصدی بھی نہیں اور پھر ان میں اہل علم لوگ بہت کم ہوتے ہیں جو بیرون ملک غیر مسلموں کو اسلام کی برکات سے متعارف کرا سکیں۔ اس لئے ہر صاحب علم و ثروت کے لئے ضروری ہے کہ وہ غیر مسلم اقوام کے سامنے دین اسلام کا نقطہ نظر پیش کرے اور انہیں اسلام کی دعوت دے ، مگر اس کے لئے پہلے خود نمونہ بھی بننا ہوگا۔ جو شخص خود ہوٹل یا کلب میں بیٹھ کر شراب نوشی کرتا ہے ، وہ دوسروں کو اسلام کی کیا تبلیغ کرے گا۔ جو خود عریانی اور فحاشی کا دلدادہ ہوگا وہ دوسروں کو اسلامی نظام معاشرت کا کیا درس دیگا۔ اتباع ملت ابراہیمی بہرحال یوسف (علیہ السلام) نے یہ موقع غنیمت جانا۔ پہلے ان قیدیوں سے علم کی بات کی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تعبیر خواب کا علم فرمایا ہے۔ اس کے بعد آپ نے اپنے عقیدے کا اظہار اس طرح کیا۔ انی ترکت ملۃ قوم لایومنون باللہ میں نے اس قوم کی ملت کو چھوڑ دیا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتے وھم بالاخرۃ ھم کفرون اور وہ قیامت کا انکار کرنے والے ہیں فرمایا میں نے ایسے لوگوں کے دین کو ترک کردیا ہے۔ اس زمانے میں مصر میں یہ دونوں بیماریاں پائی جاتی تھیں۔ وہ لوگ نہ تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان رکھتے تھے اور نہ ہی قیامت کے محاسبہ اعمال پر ان کو یقین تھا۔ اس لئے یوسف (علیہ السلام) نے سب سے پہلے اصلاح عقیدہ کی طرف توجہ دی اور ان کے غلط عقائد کی نشاندہی کرتے ہوئے ان سے اظہار بیزاری کردیا۔ بعض لوگوں نے اس آیت میں آمدہ لفظ ترکت پر اعتراض کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ترکت کا مطلب تو یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) پہلے غلط عقائد میں ملوث تھے اور پھر انہوں نے چھوڑ دیا۔ یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ پہلے کوئی شخص شراب پیتا تھا ، پھر اس نے شراب پینا ترک کردیا۔ یا کوئی رشوت لیتا تھا ، سود کھاتا تھا یا کسی اور برائی میں ملوث تھا اور پھر اسے چھوڑ دیا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کبھی بھی انکار توحید یا انکار معاد میں مبتلا نہیں ہوئے۔ آپ اللہ کے لیل القدر بنی اور اس کی حفاظت میں تھے۔ لہٰذا آپ کا کسی بھی وقت غلط اعتقاد میں ملوث ہونا بعید از قیاس ہے۔ تو اس سلسلے میں بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں پر ” ترک “ کا معنی یہ ہے کہ میں ان باطل عقائد سے ہمیشہ کنارہ کش رہا ہوں اور میں نے ان سے اجتناب کیا ہے۔ امام محمد ابن ابوبکر عبدالقادر رازی فرماتے ہیں کہ ” ترک “ دو قسم کا ہوتا ہے ایک ترک یہ ہے کہ کوئی شخص پہلے چیز میں ملوث ہو اور پھر اسے ترک کر دے اور دوسرا ترک ترک اعراض کہلاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص ہمیشہ سے کسی کام سے معرض رہا ہے اور کبھی بھی اس میں داخل نہیں ہوا۔ اس قسم کے ترک کی مثالیں قرآن پاک میں دوسرے مقامات پر موجود ہیں۔ سورة اعراف میں آتا ہے کہ فرعون کے حواریوں نے اس سے کہا کہ تم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کھلی چھٹی دیدی ہے کہ وہ زمین میں فساد کا بازار گرم کریں ” ویذرک والھتک “ اور تھے اور تیرے معبودوں کو چھوڑ دیں۔ یہاں پر بھی ترک بمعنی اعراض ہے کیونکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے تو کبھی بھی فرعن یا اس کے معبودوں کے لئے نرم گوشہ اختیار نہیں کیا۔ اسی طرح شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے متکبرین نے آپ سے کہا تھا کہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ ” ائو لتعودن فی ملتنا ، اور اگر یہاں رہنا چاہتے ہو تو ہمارے دین میں واپس آ جائو۔ یہاں بھی واپس آنے سے یہ مراد نہیں کہ شعیب (علیہ السلام) پہلے انہی کے دین پر تھے پھر انہوں نے دین حق قبول کرلیا اور ان کی قوم انہیں پہلے دین پر واپس لانا چاہتی تھی۔ یہاں پر غور کا معنی اعراض ہی ہے یعنی آپ کبھی بھی باطل عقائد میں ملوث نہیں رہے۔ اس کے بعد یوسف (علیہ السلام) نے اپنا عقیدہ قیدیوں کے سامنے اس طرح بیان کیا واتبعت ملۃ ابآء ی ابراہیم و اسحاق و یعقوب میں نے تو اپنے آبائو اجداد ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کی ملت کا اتباع کیا ہے جو کہ دین حق پر تھے ، یہاں پر بھی یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے مختلف مقامات پر آبائو اجداد کی تقلید سے منع فرمایا ہے جب کہ یہاں پر یوسف (علیہ السلام) اپنے آبائو اجداد کی تقلید کو ہی راہ حق سے تعبیر کر رہے ہیں تو مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جس اتباع سے قرآن نے منع کیا ہے ، وہ دوسری نوعیت کا ہے جیسے سورة بقرہ میں ہے ” واذا قیل لھم اتبعوا مآ انزل اللہ قالوا بل نتبع ما انفینا علیہ ابآء ناط “ او لو کان ابآئوھم لایعقلون شیئاً ولا یھتدون جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قرآن کی اتباع کرو تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اس چیز کا اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے آبائو و اجداد کو پایا ، اگرچہ ان کے آبائو اجداد نہ تو عقل رکھتے ہوں اور نہ ہی راہ ہدایت پر ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بےعقل ، بےعلم اور غیر ہدایت یافتہ آبائو اجداد کی اتباع سے منع فرمایا ہے ، جبکہ اہل علم اور راست باز آبائو اجداد کی اتباع تو قابل فخر بات ہے اور یہی چیز یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ساتھی قیدیوں کے سامنے بیان کی۔ عقیدہ پر استقامت یوسف (علیہ السلام) نے اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا ما کان لنا ان نشرک باللہ من شیء ہمارے لئے یہ بات ہرگز لائق نہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک بنائیں۔ اللہ کے علاوہ کسی فرشتہ ، جن یا انسان یا پتھر اور حجر کو خدا کا شریک بنانا نہایت قبیح بات ہے۔ اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرنے میں کمال ہے۔ ذلک من فضل اللہ علینا وعلی الناس یہ پاک عقیدہ ہم پر اور دوسرے ایمانداروں پر اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی ہے۔ ولکن اکثر الناس لایشکرون مگر افسوس کی بات ہے کہ اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کی اس بےپایاں نعمت کا شکر ادا نہیں کرتے جب کسی مصیبت میں پھنس جاتے ہیں تو ایمان اور توحید کا اقرار کرتے ہیں اور جونہی آسائش حاصل ہوتی ہے تو پھر شرک اور بدعت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ پھر رسومات باطلہ کا شکار ہو کر اللہ کی توحید کو فراموش کردیتے ہیں ایسے لوگ اللہ کے ناشکر گزار ہیں۔ یہاں تک یوسف (علیہ السلام) نے تمہید کے طور پر اپنی حیثیت اور اپنے عقیدے کا ذکر کیا ہے ۔ اب اگلی آیات میں آپ نے قیدیوں کو باقاعدہ دعوت توحید دی ہے اور اس کو مدلل طریقے سے ان کے سامنے پیش کیا ہے۔