Ayahs 12:39–42ربط آیات
گزشتہ درس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ دو دوسرے قیدی بھی تھے جن میں سے ایک نانبائیوں کا انچارج اور دوسرا شراب پلانے والا تھا۔ یہ قیدی یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ آپ کے حسن سلوک ، زہد اور تقویٰ کی بنا پر مانوس ہوگئے اور پھر انہوں نے آپ سے اپنے اپنے خواب کی تعبیر بھی پوچھی۔ بعض فرماتے ہیں کہ مذکورہ قیدیوں کو خواب نہیں آیا تھا بلکہ وہ خواب کی تعبیر کی آڑ میں یوسف (علیہ السلام) کا امتحان لینا چاہتے تھے ، تاہم راحج بات یہی ہے کہ انہوں نے خواب دیکھا تھا۔ البتہ بائیبل کی روایت ہے کہ قید خانے کا افسر بھی یوسف (علیہ السلام) سے مانوس ہوگیا تھا ، وہ آپ پر اعتماد کرتا تھا اور اس نے جیل کا سارا نظام یوسف (علیہ السلام) کے سپرد کر رکھا تھا۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جب ان دو قیدیوں نے یوسف (علیہ السلام) سے اظہار محبت کیا تو آپ نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو کیونکہ جب بھی مجھ سے محبت کی گئی ، مجھ پر ابتلا ہی آئی۔ فرمایا بچپن میں میری پھوپھی نے مجھ سے محبت کی تو اس وقت بھی میں آزمائش میں پڑگیا تھا۔ پھر میرے والد نے مجھ سے محبت کی تو کنوئیں میں گرایا گیا۔ اس کے بعد عزیز مصر نے محبت کا اظہار کیا تو اس کے نتیجے میں آج جیل میں پڑا ہوں ، لہٰذا تم مجھ سے محبت کا اظہار نہ کرو ہبادا میں کسی دوسری آزمائش میں مبتلا ہو جائوں۔ بشار ابن برو نے کہا ہے۔
ھل تعلمین ورآء سالحب منزلۃ
تدنی الیک فان الحب اقصانی
محبت کے علاوہ کوئی اور بات بتائو جو تمہارے قریب کر دے کیونکہ محبت نے تو مجھے پہلے ہی دور پھینک دیا ہے۔
بہرحال یوسف (علیہ السلام) نے موقع کو غنیمت جانا اور خواب کی تعبیر بیان کرنے سے پہلے قیدیوں سے اپنا تعارف کرایا ، خاندانی تکریم کا ذکر کیا ، اپنے عقیدے اور دین کا اظہار فرمایا اور ساتھی یہ تسلی بھی دی کہ کھانا آنے سے پہلے پہلے تمہارے خوابوں کی تعبیر بھی بتا دوں گا ، تاہم اس سے پہلے مجھ سے بڑی اہم بات بھی سن لو جس کا تعلق عقیدہ توحید کے ساتھ ہے چناچہ آج کے درس میں یوسف (علیہ السلام) کی طرسے عقیدہ توحید کی وضاحت کی گی ہے۔ اور اس کے بعد دونوں قیدیوں کو ان کے خوابوں کی تعبیر بھی بیان کردی گئی ہے۔
واحد معبود
یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ساتھی قیدیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔ یصاحبی السجن اے میرے قید خانہ کے دو ساتھیو ! بھلا یہ تو بتلائوء ارباب متفرقون خیر کیا جدا جدا معبود بہتر ہیں ام اللہ الواحد القھار یا اللہ بہتر ہے جو اکیلا ہے اور قہار ہے ، گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ مصر کے لوگ ایک تو اللہ کی وحدانیت کو تسلیم نہیں کرتے تھے اور دوسرے معاد کا انکار کرتے تھے ، انہوں نے مختلف کاموں کے لئے مختلف معبود بنا رکھے تھے کیونکہ مشرک کا دل کسی ایک جگہ پر نہیں ٹکتا ، وہ کبھی کسی کے پاس جاتا ہے اور کبھی کسی کی طرف دیکھتا ہے۔ مشرک لوگ بہت سے حاجت روا اور مشکل کشا بنا لیتے ہیں اور پھر خود ہی تصور کرلیتے ہیں کہ بیماری سے شفایابی کے لئے فلاں قبر پر جانا چاہئے اور مقدمہ سے بری کرانے کے لئے فلاں آستانہ مجرب ہے اولاد حاصلک رنا ہو تو فلاں کی نیاز دینا ہوگی اور کاروبار میں ترقی کے لئے اس قبر کا طواف ضروری ہے۔ غرضیکہ جتنے کام اور جتنی ضروریات ہیں سب کے لئے الگ الگ حاجت روا اور مشکل کشا مقرر کرلیتے ہیں حضرت شعیب اور ہود (علیہما السلام) کی قوموں میں بھی یہی بیماری تھی انہوں نے بھی ہر ہر کام کے لئے جدا جدا معبود بنا رکھے تھے۔ اللہ کے سارے نبیوں نے لوگوں کو اللہ کی وحدانیت کی دعوت دی۔ اسی طرح یوسف (علیہ السلام) بھی قیدیوں کو بتانا چاہتے تھے کہ تم نے جو الگ الگ معبود بنا رکھے ہیں ان میں سے کسی کو بھی کوئی اختیار حاصل نہیں نہ تو وہ کسی کے حالات کو جانتے ہیں اور نہ انہیں قدرت حاصل ہے کہ تمہارے کام بنا سکیں۔ ذرا عقل سے کام لے کر بتائو کہ یہ الگ الگ معبود بہتر ہیں یا وہ اکیلا ہی بہتر ہے جو ہر چیز پر غالب ہے۔ قہار کا معنی غالب یعنی جس کا کنٹرول ہر چیز پر ہے۔ “ ھو القاھر فوق عبادہ (الانعام) وہ اپنے ہندوئوں پر غالب ہے۔ وہ خلاق اور مالک ہے ، وہ زبردست ہے۔ اس کے فیصلے کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ وہ سب پر غالب ہے …… اور اس پر کوئی غالب نہیں ” للہ الامر جمیعاً معاملات سارے کے سارے اس کے حکم کے تابع ہیں۔ ” للہ القوہ جمیعاً ساری طاقت اور اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے اسی لئے یوسف (علیہ السلام) نے کہا کہ یہ چھوٹے چھوٹے متفرق معبود اچھے ہیں یا اللہ واحد جو سب پر غالب ہے۔
خود ساختہ نام
یوسف (علیہ السلام) نے شرک کے متعلق فرمایا ماتعبدون من دونہ الا اسمآء سمتموھا تم نہیں عبادت کرتے اس کے سوا مگر چند نام ہیں جو تم نے رکھ لئے ہیں۔ مطلب یہ کہ اللہ کے سوا تم نے مختلف ناموں پر معبود بنا رکھے ہیں جن کی تم عبادت کرتے ہو تم نے بتوں ، استھانوں اور قبروں کو خود ہی بعض نام دے کر ان کے ذمے کام لگا رکھے ہیں کہ یہ فلاں ڈ کام کرتا ہے اور وہ فلاں حاجت براری کرتا ہے ، حالانکہ حقیقت کچھ بھی نہیں ، بس نام ہی نام ہیں جو تم نے خود ہی ان معبودوں کو دے رکھے ہیں۔ انتم وابآء کم اور بعض کو تمہارے آبائو اجداد نے بعض ناموں سے موسوم کر رکھا ہے۔ حقیقت یہ ہے ما انزل اللہ بھا سلطن اللہ تعالیٰ نے تو ان باطل معبود ان کے حق میں کوئی سند یا دلیل نہیں اتاری۔ اللہ تعالیٰ نے تو نہیں کہا کہ فلاں کی عبادت کرو یا فلاں سے حاجتیں طلب کرو بلکہ یہ تو تمہارے خود ساختہ نام ہیں جو تم نے ان معبودوں کو دے رکھے ہیں ان الحکم الا للہ حکم اور اختیار تو سارا اللہ ہی کا ہے ، اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت کرنا عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہے۔ تمام صاحب عقل و دانش اور حکمائے ربانی کی تعلیم کے بھی خلاف ہے۔ اللہ نے تو ان کے حق میں کوئی دلیل نہیں اتاری بلکہ امر الا تعبدوآ الا ایاہ بلکہ اس کا فرمان تو یہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرو کیونکہ اس کے سوا عبادت کے کوئی لائق نہیں اللہ کے سوا کوئی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں ، کسی کے بارے میں یہ عقیدہ مت رکھو کہ وہ مافوق الاسباب مشکل کشائی کرسکتا ہے۔ ہر قسم کی تعظیم رکوع ، سجود اور دست بستہ قیام صرف اللہ ہی کے لئے روا ہے فرمایا ذلک الدین القیم یہی مضبوط دین ہے جس کے اصول و ضوابط پکے ، نیز عقل اور فطرت کے مطابق ہیں یہی صراط مستقیم ہے۔ ولکن اکثر الناس لایعلمون مگر اکثر لوگ بےعلم ہیں۔ وہ سمجھ بوجھ سے کام نہیں لیتے اور پھر تعصب کا شکار ہو کر راہ راست سے ٹھیک جاتے ہیں یا جہالت کا شکار ہو کر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں بہرحال یوسف (علیہ السلام) نے نہایت اختصار کے ساتھ عقیدئہ توحید کی وضاحت کی اور شرک کی مذمت بیان فرمائی۔
تبلیغ کی ضرورت
کفر و شرک کی بیماری قدیم زمانے سے لے کر آج تک دنیا میں موجود ہے انسانی آبادی کا بیشتر حصہ اتنی بیماری میں آج بھی ملوث ہے گزشتہ سورة کا خاص موضوع بھی یہی تھا الا تعبدوآ الا اللہ یعنی اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، حضرت نوح ، ہود ، صالح ، ابراہیم اور لوط (علیہم السلام) سب نے اپنی اپنی اقوام کو توحید کی دعوت دی اور شرک سے منع کیا۔ خود حضور علیہ الصلوۃ و السلا نے بھی اپنی توجہ اسی نقطہ پر مرکوز رکھی کہ لوگو ! شرک سے بچ جائو ، یہ قبیح بیماری ہے۔
جیسا کہ میں نے گزشتہ درس میں بھی عرض کیا تھا کہ یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے قید خانے میں تبلیغ ہمارے لئے بھی بطور نمونہ ہے۔ ہر صاحب فہم مسلمان کا فرض ہے کہ وہ جہاں بھی موقع پائے نہایت حکیمانہ طریقے سے توحید کی دعوت دے۔ یہ دین کی بنیاد ہے اور اس سے غافل نہیں رہنا چاہئے ، اس برصغیر میں اسلام کی شمع اسی تبلیغ کے نتیجے میں روشن ہوئی۔ پہلے زمانے کے بزرگ تجارت کے جزائر شرق الہند پہنچے اور جاوا سماٹرا وغیرہ میں حق تبلیغ ادا کیا ، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس علاقے میں مسلمان کروڑوں کی تعداد میں ہیں۔ بمبئی اور مدراس وغیرہ میں عرب تاجر اپنے ساتھ اسلام کی روشنی لائے۔ انہوں نے تجارت کے ساتھ ساتھ حق تبلیغ بھی ادا کیا۔ پہلی صدی کے مسلمان دنیا کے جس خطے میں بھی گئے انہوں نے تبلیغ دین کو اولیت دی۔ یہ انہی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ دنیا کے کونے کونے میں اسلام کی روشنی نظر آ رہی ہے۔
آج کی دنیا میں مسلمانوں کی باون ریاستیں موجود ہیں مگر تبلیغ دین کا کام صفر کے برابر ہے۔ ہر ملک میں کھیل تماشے کی وزارتیں موجود ہیں مگر تبلیغ دین کی طرف کسی کی توجہ ہی نہیں۔ ان کے پاس وسائل موجود ہیں مگر استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ دراصل مسلمان بڑی طاقتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں ، خود عقل کو بروئے کار لانے کی بجائے اپنی ہر ضرورت کے لئے اغیار کی طرف دیکھنے کے عادی بن چکے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے فرائض سے غافل ہوچکے ہیں۔ دنیا پرستی میں پڑ کر آخرت کو بھول چکے ہیں اور ذلیل و خوار ہو رہے ہیں۔
خواب کی تعبیر
الغرض ! یوسف (علیہ السلام) نے حق تبلیغ ادا کرنے کے بعد اپنے قیدی ساتھیوں کو حسب وعدہ خواب کی تعبیر بھی بتائی فرمایا یصاحبی السجن اے میرے قیدی ساتھیو ! آپ نے خطاب کرتے وقت کسی کا نام نہیں لیا بلکہ طرز کلام ایسا اختیار کیا کہ جس سے کسی کے ذہن میں تکدر بھی پیدا نہ ہو اور حقیقت کا اظہار بھی ہوجائے۔ فرمایا اما احد کما فیسقی ربہ خمراً خواب کی تعبیر یہ ہے کہ تم دونوں میں سے ایک آدمی اپنے مالک کو شراب پلائے گا۔ یعنی وہ بری ہو کر اپنی ڈیوٹی پر بحال ہوجائے گا۔ واما الاخر فیصلب فتاکل الطیر من راسہ اور دوسرے شخص کو جرم ثابت ہونے پر سولی پر لٹکا دیا جائے گا اور پرندے اس کے سر سے نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ چناچہ اس تعبیر کے بیان کرنے کے تین دن بعد ایسا ہی ہوا ساقی بحال ہوگیا اور نانبائیوں کے انچارج کو سولی پر لٹکانے کا حکم ہوا۔ اس زمانے میں رواج تھا کہ سولی پر لٹکا کر لاش کو چند دن کے لے لٹکتا چھوڑ دیتے تھے تاکہ دیکھنے والوں کو عبرت حاصل ہو۔ اس دوران جانور وغیرہ لاش کو نوچنا شروع کردیتے تھے۔ چناچہ خواب کی تعبیر باکل وہی نکلی جو یوسف (علیہ السلام) نے بتائی تھی ، پرندوں نے اس شخص کے سر کو نوچ نوچ کھایا اور دوسرا شخص بادشاہ کو شراب پلانے پر دوبارہ مامور ہوگیا۔ فرمایا فقضی الامر الذی فیہ تستفتین اس بات کا فیصلہ کردیا گیا جس کے متعلق وہ دونوں قیدی استفسار کر رہے تھے اللہ تعالیٰ کی مشیت میں ایسا ہی ہونا تھا۔
یوسف (علیہ السلام) کی لغزش
آگے اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کی ایک لغزش کا ذکر کیا ہے جو اس موقع پر ان سے سر زد ہوئی۔ ارشاد ہوتا ہے وقال للذی ظن انہ ناج منھما جس شخص کے متعلق یوسف (علیہ السلام) نے یقین کیا تھا کہ وہ بچ جائے گا ، اس سے یہ بات کی۔ لفظ ظن ذومعنی ہے۔ اس میں گمان اور یقین دونوں معنی پائے جاتے ہیں۔ اس مقام پر یقین والا معنی زیادہ موزوں ہے ، یعنی جس شخص کے متعلق آپ کو یقین تھا کہ یہ بری ہوجائے گا ، اس سے کہا اذ کرنی عند ربک واپس جا کر اپنے مالک یعنی شاہ مصر کے سامنے میرا ذکر کرنا ، یعنی اس کو سفارش کے طور پر کہنا کہ تم نے ایک بےگناہ شخص کو قید میں ڈال رکھا ہے ، اس کی طرف توجہ کرنی چاہئے ، مگر ہوا یہ کہ جب ان دو قیدیوں میں سے ایک یعنی ساقی بری ہو کر دربار شاہی میں واپس پہنچتا فانسہ الشیطن ذکرربہ تو شیطان نے اسے اپنے مالک کے پاس یوسف (علیہ السلام) کا ذکر کرنا فراموش کرا دیا۔ ، یوسف (علیہ السلام) ذکر کیا اور نہ یوسف (علیہ السلام) کا معاملہ زیر غور آیا لہٰذا فلبث فی السجن بضع سنین آپ سالہا سال تک جیل میں پڑے رہے اس کی تفسیر میں مفسرین نے بہت سی باتیں کی ہیں۔ مثلاً بعض فرماتے ہیں کہ اس حصہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ شیطان نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنے پروردگار کی طرف دھیان کرنے سے بھلا دیا۔ انہیں قید سے رہائی کے لئے رب العزت کی طرف نگاہ کرنی چاہئے تھی مگر آپ نے ایک ساتھی قیدی کی سفارش کا سہارا تلاش کیا۔ یہی لغزش تھی۔ خدا تعالیٰ ہی ہے جس نے یوسف (علیہ السلام) کی محبت آپ کے باپ کے دل میں ڈالی۔ پھر اسی خداوند کریم نے آپ کو کنوئیں سے نجات دی۔ پھر عزیز مصر کے دل میں آپ کی محبت پیدا کی اور آپ کو برائی کے ارتکاب سے بچایا۔ شیطان نے اس پروردگار کی طرف سے یوسف (علیہ السلام) کو غفلت میں ڈال دیا ، اور اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا معاملہ پیش کرنے کی بجائے اس قیدی پر انحصار کیا۔
شیطان کی طرف سے فراموش کرا دینے کا تذکرہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی آتا ہے۔ جب آپ اپنے خادم کے ہمراہ جا رہے تھے اور آپ نے اس سے کھانا طلب کیا تو وہ کہنے لگا کہ جب ہم نے پتھر کے قریب آرام کیا تھا تو میں مچھلی وہیں بھول گیا ومآ انسنیہ الا الشیطن ان اذکرہ “ (الکہف) اور مجھے اس کا آپ سے ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا شیطان ایسی باتوں پر خوش ہوتا ہے اور وسوسہ اندازی بھی کرتا ہے ، اسی لئے اس قسم کے واقعات شیطان ک طرف منسوب کردیئے جاتے ہیں۔ حضور ﷺ کو اس اس لغزش پر تنبیہ ہوئی تو آپ رونے لگے مگر اس لغزش کے نتیجے میں آپ کی ابتلا کا عرصہ بڑھ گیا اور آپ کو سالہا سال جیل میں بند رہنا پڑا۔
دائرہ اسباب میں اعانت
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ بوقت ضرورت عالم اسباب میں دوسروں سے مدد لینا بالکل جائز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ” وتعاونوا علی البروالتقوی (المائدۃ) یعنی نیکی اور تقویٰ کی بات میں اعانت کیا کرو۔ کوئی مظلوم پھنسا ہوا ہے اور کسی کی سفارش طلب کرتا ہے تو ایسا کرنا درست ہے مگر انبیاء (علیہم السلام) کا مقام بہت بلند ہوتا ہے۔ اس لئے اتنی معمولی لغزش بھی یوسف (علیہ السلام) کے شایان شان نہ تھی۔ اور اس کے نتیجے میں آپ کئی برس تک جیل میں رہے۔ ورنہ ہو سکتا ہے کہ اس سے پہلے ہی آپ کی خلاصی ہوجاتی۔ بہرحال آپ نے اس لغزش کا احساس ہونے پر اپنے پروردگار کے سامنے عرض کیا کہ مصائب کے آنے کی وجہ سے میرا ذہن فوری طور پر ادھر متوجہ نہ ہوسکا۔ غرضیکہ مفسرین نے یہاں پر دونوں معنی بیان کئے ہیں کہ شیطان نے اس قیدی کو فراموش کرا دیا کہ وہ یوسف (علیہ السلام) کا ذکر بادشاہ کے پاس کرتا یا یوسف (علیہ السلام) کو بھلا دیا کہ وہ اپنے پروردگار کی طرف رجوع کرتے۔
بعض مفسرین یہ بھی فرماتے ہیں کہ یہ ابتلاء تو یوسف (علیہ السلام) کی اپنی دعا کے نتیجے میں اللہ کی طرف سے آتی تھی۔ پیچھے گزر چکا ہے آپ نے کہا تھا رب السجن احب الی مما یدعونتی الیہ “ پروردگار ! یہ عورتیں جس مقصد کی طرف مجھے بلاتی ہیں اس سے تو یہ قید وبند بہتر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی یہ دعا قبول فرمائی ، آپ کو برائی سے بچا لیا اور جیل میں ڈلوا دیا۔ یوسف (علیہ السلام) بڑے صابر و شاکر تھے۔ حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) نے آپ کی بڑی تعریف فرمائی ہے۔ تو یہ مفسرین فرماتے ہیں کہ قید کی طوالت کسی لغزش کے نتیجہ میں نہیں ہوئی تھی ، بلکہ یہ خود آپ کا انتخاب تھا۔
شاہی دربار میں تبلیغ
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں پر اذکرنی عند ربک سے مراد ذکر یا سفارش نہیں بلکہ اس سے تبلیغ دین مراد ہے اور یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ساتھی قیدی سے یہ کہا تھا کہ بادشاہ کے پاس پہنچ کر اسے اسی بات کی تبلیغ کرنا جو میں نے تمہیں سمجھائی ہے ۔ ” ان الحکم الا للہ ط امر الا تعبدوہ الا ایاہ “ اس کی بات دربار شاہی میں کرنا کہ ایک قیدی اسی طرح کہتا ہے کہ حکومت صرف اللہ کی ہے اور اس نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ مطلب یہ کہ یوسف (علیہ السلام) کو اس قیدی کو تبلیغ دین کا ذریعہ بنانا چاہا تھا مگر وہاں پہنچ کر یہ بات اس کے ذہن سے ایسی نکلی کہ اس نے یوسف (علیہ السلام) کا ذکر تک نہ کیا۔
باقی رہی یہ بات کہ یوسف (علیہ السلام) کتنا عرصہقید میں رہے۔ حضرت ضحاک فرماتے ہیں کہ آپ نے چودہ سال کا عرصہ جیل میں گزارا۔ حضرت عبداللہ ابن عباس سے بارہ سال کی روایت منقول ہے۔ شاہ عبدالقادر محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ اس ضمن میں پانچ ، سات ، نو اور بارہ سال کی روایات بھی ملتی ہیں۔ عام طور پر مفسرین نو یا بارہ سال کا ذکر کرتے ہیں مگر شاہ صاحب کے نزدیک راحج بات سات سال کی ہے۔ ویسے عربی زبان میں بضع کا لفظ تین سے نو تک کے عدد پر ہوتا ہے ، تو اس لحاظ سے بھی سات سال کا عرصہ قرین قیاس ہے ، واللہ اعلم۔
Ayahs 12:43–49بادشاہ کا خواب
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ساتھی قیدیوں کو ان کے خوابوں کی بالکل سچی تعبیر بتائی۔ پھر جو شخص بری ہو کر اپنی ڈیوٹی پر واپس جانے والا تھا اس کو بادشاہ سے سفارش کے لئے بھی کہا مگر وہ شاہی دربار میں پہنچ کر یوسف (علیہ السلام) کی بات کو فراموش کر بیٹھا۔ پھر سات ، نو یا بارہ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بادشاہ مصر کو ایک خواب آیا جس سے وہ پریشان ہوگیا اور اس نے اپنے درباریوں سے اس خواب کی تعبیر دریافت کی درباریاس کی تعبیر سے عاجز آگئے اور کہنے لگے کہ یہ بےمعنی خواب ہے اس قسم کے پریشان خواب اکثر آیا کرتے ہیں مگر بادشاہ کی تسلی نہ ہوئی۔ اس دوران میں قید سے رہائی پانے والے شخص کو یوسف (علیہ السلام) کی بات یاد آگئی ، اس کا خیال فوراً یوسف (علیہ السلام) کی طرف گیا کہ وہ شخص تعبیر خواب کا ماہر ہے اور اس طرح بادشاہ کا یہ عیجب و غریب خواب یوسف (علیہ السلام) کی رہائی کا سبب بن گیا۔
سات گائیں
آج کی آیات میں بادشاہ مصر کی خواب کا حال اس طرح بیان کیا گیا ہے وقال الملک انی اری سبع بقرت سمان اور بادشاہ نے کہا بیشک میں خواب میں دیکھتا ہوں سات گائیں موٹی تازی یا کلھن سبع عجاف کھاتی ہیں ان کو سات دبلی پتلی گائیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ بادشاہ نے سمندر سے موٹی تازی گائیں نکلتی ہوئی دیکھی تھیں جنہیں لاغر گائیں کھا رہی تھیں مگر ان کی صحت پر اس کا کچھ اثر نہیں ہو رہا تھا ، وہ ایسی کی ایسی مریل ہی تھیں۔
یہ ایک حیرت انگیز خواب تھا اور دیکھنے والا شاہ مصر اس وقت مومن بھی نہیں تھا۔ بعد میں یہ خواب سو فیصدی سچا ثابت ہوا جس کا مطلب یہ ہے کہ سچا خواب دیکھنے کے لئے مومن ہونا شرط نہیں نیز یہ کہ خواب ایک حقیقت ہے اور یہ سچا بھی ہو سکتا ہے اور جھوٹا بھی ، خواب مبنی برحقیقت بھی ہو سکات ہے اور شیطانی خیالات اور غذا کا اثر بھی۔ خواب مومن کو بھی آتا ہے اور کافر کو بھی اور کسی کا خواب سچا بھی ہو سکتا ہے اور جھوٹا بھی۔ بعض اوقات کوئی خواب کسی کافر کے ایمان لانے کا سبب بھی بن سکتا ہے جیسا کہ شاہ مصر اور بعض دوسرے لوگوں کا ذکر ملتا ہے۔
خوشے سات
بہرحال بادشاہ کے خواب کا پہلا حصہ یہ تھا کہ سات فربہ گائیں ہیں جنہیں سات لاغر گائیں نگل رہی ہیں اور دوسرا حصہ یہ کہ وسبع سنبلت خضر سات سرسبز خوشے یا بالیاں ہیں واخر یبست اور دوسرے سات خشک ہیں جو سرسبز خوشیوں کے ساتھ لپٹ رہے ہیں اور ایسا کرنے سے سرسبز خوشوں کی رونق ختم ہو رہی ہے مطلب یہ کہ جس طرح دبلی گائیں موٹی گایوں کو نگل رہی تھیں اسی طرح خشک خوشے سرسبز خوشیوں کو کھا رہے تھے۔
سنبلہ خوشے یا بالی کو کہتے ہیں جس کے اندر گندم ، جو یا دھان وغیرہ کے دانے ملفوف ہوتے ہیں ۔ خوشیوں کا ذکر سورة بقرہ میں بھی آیا ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والوں کی مثال ” کمثل حبۃ انبتت سبع سنابل فی کل سنبلۃ مائۃ حبۃ اس دانے کی سی ہے جس سے سات خوشے اگیں اور ہر خوشے میں سو سو دانے ہوں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ اس کی راہ میں خرچ کرنے والے کے اجر وثواب کو بھی کئی گناہ زیادہ کرتا ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے انسانی خوراک کے لئے مختلف اجناس کو پیدا فرمایا ہے اور ان کے دانوں کی نہایت حکیمانہ طریقے سے حفاظت فرمائی ہے ، ہر دانے کو چھلکے میں بند کر کے محفوظ کردیا ہے تاکہ انسان اسے ضرورت کے وقت اپنی خوراک بنا سکیں۔ ہر خوشے میں سودانے کی تعاد اللہ نے مثال کے طور پر بیان فرمائی ہے تاہم یہ تعداد مختلف اجناس میں کم و بیش بھی ہو سکتی ہے ، خاص طور پر دھان کے دانوں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔
تعبیر کی تلاش
یہ خواب دیکھ کر شاہ مصر پریشان ہوگیا ، اس نے فوراً اپنے تمام مصاحبوں کو طلب کیا جن میں وزیر ، امیر ، کرسی نشین اور بڑے بڑے عہدیدار شامل تھے مفسرین فرماتے ہیں کہ بادشاہ نے اپنے درباریوں کے علاوہ بڑے بڑے نجومیوں اور کاہنوں کو بھی طلب کرلیا۔ پھر جب سب جمع ہوگئے تو بادشاہ نیح انہیں خطاب کیا یایھا الملاً افتونی فی رء یای اے درباریو ! مجھے میرے خواب کی تعبیر بتلائو ان کنتم للریا تعبرون اگر تم خوابوں کی تعبیر جاننے والے ہو۔ خواب کی تفصیل سن کر قالوآ اضغاث احلام وہ سب لوگ کہنے لگے کہ یہ تو پریشان خواب ہیں۔ ایسے خوابوں کی کوئی حقیقت نہیں ہوتی وما نحن بتاویل الاحلام بعلمین اور ہم تو ایسے پریشان خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے۔ یہ تو محض وہم اور خیالات ہیں جو اکثر انسانوں کو سوتے میں آتے رہتے ہیں ۔ غرضیکہ وہ لوگ خواب کی تعبیر بتانے سے عاجز آگئے اور انہوں نے جھوٹی تسلی سے بادشاہ کو ٹالنے کی کوشش کی۔
اضغاث ، ضغث کی جمع ہے اور ضغث اس مٹھے کو کہا جاتا ہے جو گھاس پھونس اور لکڑیاں وغیرہ جمع کر کے بنایا گیا ہو ، چونکہ اس گھٹے میں مختلف قسم کی چیزیں ہوتی ہیں اس لئے ضغث کہلاتا ہے۔
درباریوں نے بادشاہ کے خواب کو بھی اسی قسم کے گٹھے سے تشبیہ دی کہ یہ مختلف قسم کے پریشان کن خیالات کا مجموعہ ہے ، اس کی کوئی اصلیت نہیں اور بادشاہ کو وہم میں نہیں پڑنا چاہئے۔
ان درباریوں میں یوسف (علیہ السلام) کا ساتھی قیدی بھی تھا جسے یوسف (علیہ السلام) نے خواب کی ٹھیک ٹھیک تعبیر بتلائی تھی اور پھر وہ قید سے رہا ہو کر بادشاہ کو شراب پلانے پر مامور ہوگیا تھا۔ اب اس شخص کا ذکر آتا ہے وقال الذی نجامنھما اور کہا ان دو میں سے ایک شخص نے جو بچ گیا تھا واذکر بعد امۃ اور اس نے ایک مدت کے بعد یوسف (علیہ السلام) کو یاد کیا۔ اتنا عرصہ تو وہ یوسف (علیہ السلام) کو فراموش کئے رہا اور شیطان نے اس کو بھلا دیا ، یہ بات اس کے ذہن ہی سے نکل گی کہ یوسف (علیہ السلام) نے اسے شاہی دربار میں آپ کا ذکر کرنے کے لئے کہا تھا۔ اب جب کہ بادشاہ کو عجیب و غریب خواب آیا تو اس کا دھیان فوراً یوسف (علیہ السلام) نے اسے شاہی دربار میں آپ کا ذکر کرنے کے لئے کہا تھا۔ اب جب کہ بادشاہ کو عجیب و غریب خواب آیا تو اس کا دھیان فوراً یوسف (علیہ السلام) کی طرف گیا۔ جنہوں نے اسے خواب کی تعبیر بتائی تھی اور وہ بادشاہ کاروباری بن گیا تھا۔ بہرحال جب اس کو یوسف (علیہ السلام) کا خیال آیا تو کہنے لگا انا انبکم بتاو یلہ میں تمہیں اس خواب کی تعبیر بتلائوں گا فارسلون تم مجھے بھیجو یعنی اجازت دو تاکہ میں فلاں شخص سے خواب کی تعبیر پوچھ کر آئوں۔
امۃ کثیر المعانی لفظ ہے اور قرآن پاک میں اس کے چار مختلف معانی آئے ہیں۔ مثلاً ان مذہ امتکم امۃ واحدۃ “ (المومنون) میں امت کا معنی دین اور مذہب ہے “ ان ابراہیم کان امۃ فانتاً للہ حنیفاً (النحل) میں امت کا معنی امام ہے۔ ” کنتم خیر امۃ (آل عمران) میں امت کا معنے امام ہے۔ ” کنتم خیر امۃ (آل عمران) میں امت کا معنی جماعت ہے اور یہاں پر بعد امۃ میں امت کا معنی مدت آیا ہے۔
یوسف (علیہ السلام) کی خدمت میں
الغرض ! بادشاہ سے اجازت ملنے پر وہ شخص حبل میں یوسف (علیہ السلام) کے پاس پہنچا اور اس طرح گویا یوسف ایھا الصدیق اسے راست باز یوسف ! صدیق انتہائیے درجے کے سچے انسان کو کہا جاتا ہے اور فضیلت کے لحاظ سے انبیاء کے بعد دوسرا درجہ صدیقوں کا ہے قرآن پاک میں حضرت مریم کو صدیقہ کہا گیا ہے۔ ” وامہ صدیقہ (المائدہ) اسی طرح حضرت ابوبکر کا لقب صدیق ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ایک انسان برابر سچ بولتا رہتا ہے اور سچ کی تلاش میں رہتا ہے حتی یکتب عند اللہ یدیقاً یہاں تک کہ اللہ کے نزدیک اسے صدیق یعنی راست باز لکھ لیا جاتا ہے۔
بہرحال اس شخص نے کہا ، اے سچے یوسف ! افتنا فی سبع بقرات سمان آپ ہمیں اس خواب کی تعبیر بتائیں کہ سات مٹوی تازی فربہ گائیں ہیں یا کلھن سبع عجاف جنہیں سات دبلی پتلی گائیں کھا رہی ہیں ۔ وسبع سنبت خضر واخریسبت اور سات سرسبز خوشے ہیں اور دوسرے خشک ہیں اور خشک خوشے سرسبز گوشوں کے ساتھ گویا لپٹ کر ان پر غالب آ رہے ہیں۔ آپ بتائیں لعلی ارجع الی الناس تاکہ میں لوگوں کی طرف واپس جائوں لعلھم یعلمون شاید کہ وہ جان لیں یعنی ان کو بھی اس خواب کی تعبیر معلوم ہوجائے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس خواب کی تعبیر بتانے سے شاید کہ لوگوں کو آپ کے مرتبیک ا بھی علم ہوجائے لوگوں کو پتہ چل جائے کہ کتنی شان والا ایک بیگناہ آدمی جیل میں پڑا ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسا علم عطا کیا ہے جس کے ذریعے آپ اس قدر پوشیدہ چیزوں کو بھی پہچان لیتے ہیں۔
اس مقام پر مفسرین بحث کرتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کا اخلاق بلند تھا کہ آپ نے تعبیر دریافت کرنے والے سے کوئی گلہ شکوہ نہیں کیا ، حالانکہ اس سے پہلے آپ اسے ٹھیک ٹھیک بات چکے تھے اور بادشاہ کے ہاں اپنا ذکر کرنے کے لئے بھی کہا ، مگر وہ شخص بھول گیا اور اس نے بادشاہ کے پاس آپ کی کوئی بات نہ کی۔ بہرحال اس شخص کے سوال کے جواب میں نہ صرف اس کو خواب کی تعبیر بتلائی بلکہ وہ باتیں بھی بتائیں جو پورے ملک کی معیشت کے لئے نہایت کارآمد تھیں۔ گویا آپ نے ہمدردی اور خیر خواہی کا پورا پورا حق ادا کیا۔
یوسف (علیہ السلام) کا جواب
یوسف (علیہ السلام) نے خواب کا بیان سنا اور اس کی تعبیر اس طرح بیان کی قال تزرعون سبع سنین راباً فرمایا تم کھیتی باڑی کرو گے سات سال تک عادت کے مطابق جم کر ، جس کے نتیجے میں پیداوار خوب ہوگی اور تمہیں وافر اناج حاصل ہوگا۔ اس عرصہ میں فما حصد تم قذروہ فی سنبلہ جو بھی تم فصل کاٹو گے اسے اس کے خوشوں میں ہی بند رہنے دینا ، ان سے اناج باہر نہ نکالنا کیونکہ جب اناج خوشوں سے باہر آجائے تو پھر وہ زیادہ عرصہ تک محفوظ نہیں رہتا بلکہ اس میں کیڑا وغیرہ لگ جاتا ہے ، اور اناج ضائع ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اسے طویل عرصہ تک قابل استعمال رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ اسے خوشوں سے نہ نکالنا بلکہ خوشوں ہی میں محفوظ کرلینا الا قلیلاً مما تاکلون سوائے تھوڑے حصے کے جو تم نے استعمال کرنا ہے۔ باقی سارا محفوظ کرلینا۔
فرمایا ثم یاتی من بعد ذلک سبع شداد پھر اس کے بعد سات سال بڑے سخت آئیں گے یعنی ملک میں قحط پڑجائے گا ، باشر نہیں ہوگی ، اناج پیدا نہیں ہوگا ، تو پہلے سات سالوں میں تمہارا بچایا ہوا غلہ ان سات سالوں میں تمہارے کام آئے گا۔ اس قحط سالی میں یاکلن ما قدمتم لھن قحط زدہ سال تمہارے بچائے ہوئے غلے کو ھا جائیں گے۔ الا قلیلاً مما تخصنون سوائے اس تھوڑے سے حصے کے جسے تم محفوظ کرلو گے ، محسن دراصل پاک دامن کو کہتے ہیں جو اپنے شہوانی جذبات پر کنٹرول کر کے انہیں محفوظ رکھتا ہے۔ تو یہاں بھی مراد یہی ہے ۔ کہ قحط سالی میں سارا اناج ختم ہوجائے گا سوائے تمہارے محفوظ شدہ تھوڑے حصے کے۔
تاریخ عالم میں قحط سالی کا ذکر تفصیل سے ملتا ہے ‘ دنیا کے مختلف خطوں میں بڑے بڑے قحط پڑے۔ اس برصغیر میں انگریزوں کے زمانے سے پہلے اور پھر ان کے ابتدائی دور میں زبر دست قحت پڑا۔ مورخین لکھتے ہیں کہ ایسا وقت بھی آیا جب لوگوں نے اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کو ذبح کر کے خود کھالیا۔ اس صدی کے آغاز میں بھی پہاڑی علاقوں میں سخت قحط نمودار ہوا تھا ‘ پانی اور اناج ختم ہوگیا۔ لوگ دوسرے مقامات کی طرف ہجرت کرنے لگے اور بیشمار لوگ اثنائے سفر میں ہی لقمہ اجل بن گئے ۔ مکہ والوں پر بھی بڑا سخت قحط نازل ہوا تھا اور لوگ سوکھا چمڑا اور مردار کھانے پر مجبور ہوگئے تھے۔
پندرواں سال
خواب کی تعبیر بتاتے ہوئے یوسف (علیہ السلام) نے پہلے سات خوشحالی کے سالوں کا ذکر کیا اور پھر سات قحط زدہ سالوں کی بات کی ۔ یہ چودہ سال ہوگئے۔ پھر آپ نے پندر ہویں سال کی بات کی ثم یاتی من بعد ذلک عامر پھر اس کے بعد ایک اور سال آئے گا فیہ یغاث الناس جس میں لوگوں پر خوب بارش برسیگی۔ سبزی ‘ پھل اور اناج کی فراوانی ہوجائے گی اور قحط سالی کا عرصہ ختم ہوجائے گا۔ یغاث ‘ غیاث سے ہے جس کا معنی بارش ہوتا ہے اس کا مادہ غوث بھی ہے جس کا معنی فریاد رس ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ اس خوشحالی کے سال میں لوگوں کی تکالیف کو دور کردیا جائے گا۔ گویا ان کی فریاد رسی کی جائے گی۔ درحقیقت غوث یا فریاد رس تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے مگر افسوس ہے کہ لوگ مخلوق کو بھی غوث کا لقب دے دیتے ہیں۔
بہر حال فرمایا کہ اس سال خوب بارش ہوگی وفیہ یعصرون اور لوگ پھلوں سے رس نچوڑیں گے ۔ مطلب یہ ہے کہ پھل بکثرت پیدا ہوں گے اور پھر انگور یا کھجوروں رس نچوڑ کر شراب یا شیرہ تیار کریں گے جو دیر تک کام آتا رہے گا۔ تو یوسف (علیہ السلام) نے خواب کی تعبیر کے ساتھ ساتھ وہ تدابیر بھی تجویز کردیں جن پر عملدرآمد سے عوام الناس کی پریشانایں کم ہوں گی اور لوگ اس سے خوب فائدہ اٹھائیں گے۔ چناچہ مصریوں نے ان نصائح پر من و عن عمل کیا جس کی وجہ سے نہ صرف وہ خود خوشحال رہے بلکہ قحط کے زمانے میں مصر کے اطراف کے لوگوں کی بھی خو ب مدد کی۔ اس کا ذکر آگے تفصیل کے ساتھ آرہا ہے۔
Ayahs 12:50–53ربط آیات
یوسف (علیہ السلام) سالہا سال تک قید میں پڑے رہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے بادشاہ کے خواب کو ان کی رہائی کا سبب بنا دیا ‘ بادشاہ کو خواب آیا ‘ اس نے درباریوں سے تعبیر پوچھی مگر وہ سب عاجز آگئے۔ پھر جیل سے رہا ہونے والے ساقی نے پیشکش کی کہ وہ ایک قیدی سے خواب دریافت کرسکتا ہے۔ بادشاہ کی اجازت سے یوسف (علیہ السلام) سے خواب کی تعبیر پوچھی گئی تو انہوں نے نہ صرف تعبیر بتادی بلکہ آنے والے حالات سے متعلق نہایت مفید مشورے بھی دیے۔ یہ تعبیر پاکر بادشاہ کی تسلی ہوگئی کیونکہ یہ خواب منجانب اللہ تھا اور یوسف (علیہ السلام) نے اللہ کے عطا کردہ علم کے ذریعے اس کی تعبیر بنائی تھی۔ بہرحال بادشاہ یوسف (علیہ السلام) کے علم و فضل ‘ زہد وتقویٰ ‘ فہم و دانش اور اخلاق حسنہ کا سن کر دل ہی دل میں آپ کا معتقد ہوگیا اور اس نے حکم دیا کہ ایسے قابل آدمی کو دربار میں حاضر کیا جائے۔ آج کے درس کی ابتداء اسی بات سے ہو رہی ہے۔
شاہی دربار سے پیغام
وقال الملک ائتونی بہ بادشاہ نے کہا کہ یوسف (علیہ السلام) کو میرے پاس لائو۔ فلما جآء الرسول پھر جب پہنچا آپ کے پاس بادشاہ کا فرستادہ یعنی قاصد اور اس نے کہا کہ بادشاہ آپ کو بلا رہا ہے تو یوسف (علیہ السلام) نے فرمایا قال ارجع الی ربک اپنے مالک یعنی بادشاہ کے پاس واپس لوٹ جائو اور فاسئلہ اس سے پوچھو مابال النسوۃ التی قطعن ایدیھن کہ ان عورتوں کا کیا حال ہے۔ جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ ان ربی بیکدھن علیم بیشک میرا پروردگار ان کی فریب کاری کو خوب جانتا ہے یوسف (علیہ السلام) کا مطلب یہ تھا کہ مجھ پر جو الزام لگایا تھا ‘ پہلے اس کی تحقیق کرلی جائے اور میرے متعلق ان عورتوں کی شہادت لے لی جائے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے ‘ اس کے بعد میں جیل سے باہر آئوں گا۔ آپ یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ مذکورہ معاملہ میں قصور سارا ان عورتوں کا تھا اور میں بالکل بےگناہ تھا۔ آپ آپی بیگناہی کو ثابت کیے بغیر مصر کے معاشرے میں واپس نہیں آنا چاہتے تھے ‘ کیونکہ ایسا کرنے سے لوگوں کے دلوں میں آپ کے متعلق شکوک و شبہات باقی رہ سکتے تھے۔ چناچہ قاصد نے واپس آکر بادشاہ سے یہی بات کی تو بادشاہ کو بھی یہ بات پسند آئی اور وہ یوسف (علیہ السلام) کے اخلاق حمیدہ سے مزید متاثر ہوگیا۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اگر یوسف (علیہ السلام) بادشاہ کے پیغام آنے پر جیل سے باہر آجاتے تو یہ کوئی بری بات نہ تھی ‘ بلکہ ایسا کرنا بالکل جائز تھا ‘ مگر یوسف (علیہ السلام) چونکہ لوگوں کے مقتداء تھے۔ اس لیے انہوں نے باہر آنے سے پہلے اپنی پوزیشن کی وضاحت کو ضروری خیال کیا۔ آگے چل کر آپ بحیثیت نبی اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچانے والے تھے اور لوگوں کی اصلاح کا مشن شروع کرنے والے تھے اس لیے آپ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی شخص آپ کے کردار پر انگلی اٹھا سکے اور اس طرح آپ کے مشن میں رکاوٹ پیدا ہو۔
یوسف (علیہ السلام) کا صبر
صحیحین کی روایت میں حضور ﷺ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کے صبر کے تعریف فرمائی ہے آپ کا ارشاد مبارک ہے۔ لو لبثت فی السجن طول لبث یوسف لا جبت الداعی یعنی اگر یوسف (علیہ السلام) کی طرح میں لمبا عرصہ قید میں رہتا تو بلانے والے کی بات کو فوراً قبول کرلیتا۔ مگر یوسف (علیہ السلام) نے بڑا ہی صبر کیا جنہوں نے رہائی پانے کے باوجود جیل سے باہر آنے میں جلد ی نہ کی بلکہ نہایت ہی صبر و استقامت کا ثبوت دیا اور اپنی رہائی کو اپنی بریت کے ساتھ مشروط کرلیا۔ محدثین کرام یہ بھی فرماتے ہیں کہ مذکورہ حدیث میں حضور نبی کریم (علیہ السلام) نے جہاں یوسف (علیہ السلام) کے صبر کی تعریف فرمائی ہے۔ وہاں نہایت لطیف پیرائے میں اپنی عبدیت کا اظہار بھی فرمایا ہے۔ اس جملے سے آپ کا مطلب یہ تھا کہ میں تو مقام عبدیت میں ہوں اور اس مقام کا تقاضا یہ ہے کہ بادشاہ کی پیش کش کی قبولیت میں تاخیر نہ کی جاتی۔ حقیقت یہ ہے کہ عبدیت کا آنا بھی اپنے اختیار میں نہیں اور جانا بھی اختیار میں نہیں۔ اس دنیا میں آئے بھی اسی کے منشاء کے مطابق تھے اور جانا بھی اسی کی رضا سے ہے ‘ جیسا کہ کسی نے کہا ہے ؎
لائی حیات آئے ‘ قضالے چلی چلے
نہ اپنی خوشی سے آئے نہ اپنی خوشی چلے
بہر حال یہ لطیف پیرائے میں عبدیت کا اظہار بھی ہے۔
بلند درجات کا ذریعہ
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کی پوزیشن کے متعلق ابہام کی صورت میں اگر چہ چہ میگوئیاں بھی ہوتیں تو اس سے آپ کی حیثیت میں کوئی فرق نہیں پڑسکتا تھا کیونکہ اگر کوئی بےگناہ آدمی کے خلاف الزام تراشی کرتا ہے تو وہ گنہگار ہوگا اور معصوم کے درجات بلند ہوتے رہیں گے۔ اسی لیے جو لوگ شاہ اسماعیل شہید (رح) اور علمائے دیوبند پر اتہام لگاتے ہیں ‘ اسی لیے جو لوگ شاہ اسماعیل شہید (رح) اور علمائے دیوبند پر اتہام لگاتے ہیں ‘ ان کی برائی بیان کرتے ہیں۔ وہ خود مجرم ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ا ن بزرگوں کی بلندی درجات کے لیے یہ سلسلہ قائم کردیا ہے ۔۔ ان کے درجات کے لیے یہ سلسلہ قائم کردیا ہے کہ ان اس کے درجات مرنے کے بعد بھی مسلسل بلند ہو رہے ہیں۔ لوگ ان بزرگوں پر لفر اور توہین رسالت کا الزام لگاتے ہیں جو کہ قطعاً غلط اور بےبنیاد ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ان کے درجات بلند ہو رہے ہیں۔
بادشاہ کی طرف سے تحقیق
بہر حال حضرت یوسف (علیہ السلام) کی خواہش کے مطابق بادشاہ نے آپ کے خلاف لگائے گئے الزام کے متعلق تحقیق کرنے کا فیصلہ کیا ‘ اس نے ان تمام بیگمات کو بمع عزیز کی بیوی کے طلب کیا۔
جب وہ سب اکٹھی ہوگئیں تو بادشاہ نے پوچھا قال ما خطبکن اذ راودتن یوسف عن نفسہ تمہا را کیا حال ہے جب کہ تم نے پھسلا یا یوسف (علیہ السلام) کو ان ان کے جی سے۔ یوسف (علیہ السلام) نے تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کسی ایک عورت کا نام نہیں لیا تھا کہ فلاں عورت کے بارے میں تفتیش کی جائے جس نے میری قمیض پھاڑ دی تھی بلکہ کسی کو ذاتی نشانہ بنانے کی بجائے آپ نے سب عورتوں کا ذکر نہایت لطیف پیرائے میں کیا کہ ان سب کے متعلق تحقیق کی جائے قطعن ایدیھن جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ اسی طرح بادشاہ نے بھی ان خواتین کے حفظ مراتب کے پیش نظر سب کو اکٹھا خطاب کیا ماخطبکن کہ تمہارا کیا حال ہے۔
بعض مفسرین اس بات پر بڑا اصرار کرتے ہیں کہ ان عورتوں کے ہاتھ سہواً نہیں کٹے تھے ‘ بلکہ انہوں نے خود دانستہ اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے۔ اس کی دلیل وہ قطعن کے لفظ کو بناتے ہیں جو باب تفعیل کا مادہ ہے اور قصد کا معنی دیتا ہے۔ وہ تمام عورتیں یوسف (علیہ السلام) کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانا چاہتی تھیں اور اس مقصد کے لیے انہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تاکہ یوسف (علیہ السلام) امداد کے بہانے سے ان کے قریب آسکیں یا کم ازکم اتنا تو پتہ چل جائے کہ یہ عورتیں اس کی گرویدہ ہیں۔ تاہم یہ بات زیادہ مشہور ہے کہ مکر کرنے والی واحد عورت عزیز کی بیوی تھی اور باقی عورتیں اس کی معاون تھیں ‘ چناچہ دعوت کے بعد انہوں نے یوسف سے کہا کہ اپنی مالکن کی بات کو مانو اور اسے پریشان نہ کرو۔ اس موقع پر بھی یوسف (علیہ السلام) نے واحد کی بجائے جمع کا صیغہ ہی استعمال کیا تھا ” والا تصرف عنی کیدھن اصب الیھن واکن من الجھلین “ پروردگار ! اگر تو مجھ سے ان کے فریب کو دور نہیں کرے گا تو ممکن ہے میں ان کی طرف مائل ہو کر نادانوں میں سے بن جائوں۔
بعض فرماتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) نے عزیز مصر کی بیوی کا نام صراحتاً اس لیے نہیں لیا کہ آپ نے اس کے گھر میں پرورش پائی تھی اور آپ کو اس کا احترام ملحوظ خاطر تھا۔ اسی طرح بادشاہ نے بھی کسی ایک ایک عورت سے خطاب نہیں کیا بلکہ جمع کا صیغہ استعمال کیا تاکہ وہ انکار نہ کرسکیں تو جب بادشاہ نے ان عورتوں سے یوسف (علیہ السلام) کے متعلق دریافت کیا قلن حاش للہ ماعلمنا علیہ من سوء تو وہ کہنے لگیں پاکی اور تنز یہہ ہے اللہ کے لیے۔ ہم نے تو یوسف (علیہ السلام) میں کسی قسم کی برائی نہیں دیکھی۔ تمام عورتیں جو اس معاملہ میں ملوث تھیں ‘ سب نے اقرار کیا کہ یوسف (علیہ السلام) بالکل پاک صاف ہیں اور اس طرح یوسف (علیہ السلام) کا دامن بالکل صاف ہوگیا۔
زلیخا کا اقرار حق
یہ بات تو تمام مدعو عورتوں نے بالا تفاق کی مگر اس سارے معاملہ کی اصل ذمہ دار زلیخا تھی جس نے ابتداء میں یوسف (علیہ السلام) پر الزام لگایا تھا مگر اَب اس کا ذہن پختہ ہوچکا تھا اور وہ یوسف (علیہ السلام) کی پاکدامنی کا بر ملا اعلان کرنا چاہتی تھی۔ قالت امرات العزیز عزیز کی بیوی نے کہا الئن حصحص الحق اب حق ظاہر ہوگیا ہے انا راودتہ عن نفسہ میں نے ہی اسے اس کے جی سے پھسلانا چاہا تھا وانہ لمن الصدقین اور یوسف (علیہ السلام) تو بالکل سچے ہیں۔ اب زلیخا نے اپنی محبت کا برملا اظہار کردیا کہ کیونکہ جب وہ محبت میں پختہ ہوگئی تو اسے بدنامی کا ڈر بھی نہ رہا اور اس نے اپنے قصور اور یوسف (علیہ السلام) کی پاکدامنی کا واضح طور پر اعلان کردیا۔
حصص کا معنی واضح ہونا یا ظا ہو ہونا آتا ہے۔ بال مونڈنے کو حصحص الشعر کہتے ہیں کہ یعنی بال اس طریقے سے مونڈے گئے کہ نیچے سے کھال ظاہر ہوگئی ہے ۔ عرب لوگ کہتے ہیں حصحص الخوذۃ یعنی خود (HELMET ہلمٹ) نے بال اڑادیے ‘ گنجاپن ظاہر ہوگیا حضرت عمر ؓ اور حضرت علی ؓ کے سر کے بال جنگوں میں مسلسل خود پہننے کی وجہ سے اڑ چکے تھے۔ بہر حال حصحص کا معنی واضح ہوجانا۔ کھل جانا یا ظاہو ہوجانا ہے اور جب تمام عورتوں نے یوسف (علیہ السلام) کی پاکدامنی کی گواہی دے دی تو زلیخا کہنے لگی کہ اب معاملہ واضح ہوگیا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) سچے ہیں اور گنہگار میں ہی تھی۔
یوسف (علیہ السلام) کی پاکدامنی
آگے ارشاد ہوتا ہے ذلک لیعلم انی لم اخنہ بالغیب یہ بات اس لیے ہے تاکہ وہ جان لے کہ میں نے اس کی پس پشت خیانت نہیں کی ہے ۔ مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ یہ مقولہ یوسف (علیہ السلام) کا ہے یا زلیخا کا۔ اگر اسے زلیخا کے ساتھ منسوب کیا جائے تو معنی یہ ہوگا کہ زلیخا نے کہا کہ میں نے یہ اقرار حق اس لیے کیا ہے تاکہ میرے خاوند کو معلوم ہوجائے کہ میں نے پس پشت اس کی خیانت نہیں کی ہے میں نے برائی کا ارادہ ضرور کیا اور اس کے لیے تگ ودو بھی کی ‘ مگر یوسف (علیہ السلام) اپنی پاکدامنی کی وجہ سے بچ گئے۔ تاہم اکثر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ مقولہ یوسف (علیہ السلام) کا ہے اور ان کا مطلب یہ تھا کہ عزیز مصر جس کا میں پرور دہ تھا اور غلام تھا ‘ وہ جان لے کہ میں نے پس پشت اس کی خیانت نہیں کی ہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ ان اللہ لا یھدی کید الخآ ئنین اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کی مکاری کو کامیاب نہیں ہونے دیتا۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے المکر والخدیعۃ والخیانۃ فی النار یعنی مکاری ‘ دھوکہ اور خیانت جہنم میں لے جانے کا باعث ہے خاص طور پر اپنے مالک کی ناموس میں خیانت کرنا تو بہت بڑا جرم ہے ‘ تو ۔۔ یا کہ خائنوں کی تدبیر کبھی کامیاب نہیں ہوتی ‘ بلکہ وہ ہمیشہ رسوا ہوتے ہیں۔
یوسف (علیہ السلام) کی انکساری
اب اگلی آیت کریمہ میں یوسف (علیہ السلام) کی عجزو انکساری کا ذکر ہے اور یہ چیز کاملین بار گاہ ایزوی میں بدرجہ اتم موجود ہوتی ہے ارشاد ہوتا ہے ومآ ابریٔ نفسی اس معاملہ میں میں اپنے نفس کو بری قرار نہیں دیتا یعنی میں نہیں سمجھتا کہ برائی سے بچ جانا میرا ذاتی کمال ہے بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ خاص مہربانی ہے کہ اس نے مجھے برائی سے بچا لیا۔ کیونکہ ان النفس لامارۃ بالسوٓ ء بیشک نفس برائی کا بہت زیادہ حکم دیتا ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ انسان کا نفس اسے برائی کی طرف مائل کرے مگر اس سے بچائو صرف اللہ تعالیٰ کے فضل سے ممکن ہے پیچھے اسی سورة میں گزر چکا ہے کہ اس عورت نے یوسف (علیہ السلام) کی طرف ارادہ کیا اور یوسف (علیہ السلام) بھی اس کی طرف ارادہ کرتے اگر وہ اپنے پروردگار کی دلیل نہ دیکھ لیتے ” کذلک لنصرف عنہ السوٓ ء والفحشآء انہ من عبادنا المخلصین “ اس طرح تاکہ ہم دور کردیں اس سے برائی اور بےحیالی کو کیونکہ یوسف (علیہ السلام) ہمارے مخلص بندوں میں سے ہیں۔ ادھر اللہ کا فرمان بھی ہے ولا تزکوا انفسکم اپنی پاکیزگی خود مت بیان کرو ‘ بلکہ اگر برائی سے بچ جائو تو اللہ کا شکر اداکرو۔ یہ تمہارا کمال نہیں بلکہ اللہ کی مہربانی ہے اگر وہ اعانت نہ کرتا تو معصیت میں مبتلا ہوجاتے۔ غرضیکہ یوسف (علیہ السلام) نے برائی سے بچ جانے پر عاجزی کا اظہار کیا کیونکہ آپ اللہ کے مخلص بندے تھے ۔
فرمایا میں اپنے نفس کو پاک قرار نہیں دیتا کیونکہ نفس تو برائی کی طرف مائل کرتا ہے الا مارحم ربی ہاں ‘ اگر میرا پروردگار رحم فرمادے تو برائی سے بچ سکتا ہے۔ محدثین کرام نفس کی تین حالتیں بیان کرتے ہیں۔ عام طور پر انسان کا نفس نفس امارہ ہوتا ہے جو اسے برائی کی طرف مائل کرتا ہے۔ اگر انسان اللہ سے توفیق کا طالب ہو اور برائی سے بچ جائے تو اس کا نس نفس لوامہ ہوتا ہے جو اسے برائی پر ملامت کرتارہتا ہے۔ اور جب کوئی نفس لوامہ ہوتا ہے جو اسے برائی پر ملامت کرتا رہتا ہے۔ اور جب کوئی نفس اطاعت خداوندی بجا لا کر ترقی کرجاتا ہے اور معاد میں پیش آنے والے حالات میں اطمینان حاصل کرلیتا ہے تو وہ نفس مطمئنہ بن جاتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ کسی پر مہربانی فرماتا ہے اور اپنے خاص بندوں پر خاص توجہ فرماتا ہے تو اس کا اعلان ہے “ ان عبادی لیس لک علیھم سلطن “ (بنی اسرائیل) وہ شیطان کو اپنے بندوں پر دخیل نہیں ہونے دیتا ‘ وہ ان کی حفاظت کرتا ہے اور وہ نفس مطمئنہ کے حاملین بن جاتے ہیں۔
یوسف (علیہ السلام) نے عجز و انکساری کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔ میں اپنے نفس کو پاک نہیں کہتا ‘ بیشک نفس برائی کا حکم دیتا ہے مگر وہ جس پر میرے پروردگار نے رحم فرمایا ان ربی غفورر حیم بیشک میرا پروردگار بہت بخشش کرنے والا اور ازحد مہربان ہے یہ دونوں مبالغے کے صیغے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ مہربان ہے برائی سے بچا لینا اسی کا کمال ہے ‘ اس میں میرا ذاتی کوئی کمال نہیں ہے۔