Ayahs 12:15–20ربط آیات
گزشتہ درس میں برادران یوسف کے منصوبے کا ذکر ہوا کہ وہ یوسف (علیہ السلام) کو اپنے راستے سے ہٹانا چاہتے تھے تاکہ باپ کی ساری توجہ ان کی طرف ہوجائے چناچہ انہوں نے باپ کو ہر طرح سے یقین دلانے کی کوشش کی کہ ہم یوسف (علیہ السلام) کے خیر خواہ ہیں ، آپ اسے ہمارے ساتھ جنگل میں جانے کی جا ازت دے دیں ، یہ وہاں پر کھاپی لے گا اور کھیل کود میں بھی حصہ لے لے گا۔ یعقوب (علیہ السلام) نے تشویش کا اظہار کیا کہ کہ کہیں ایسا نہ کہ تمہاری غفلت کی وجہ سے یوسف (علیہ السلام) کسی حادثے کا شکار ہوجائے ، مگر بھائیوں نے پھر یقین دلایا کہ ہم جیسے مضبوط اور طاقتور بھائیوں کی موجودگی میں ہمارے اس چھوٹے بھائی کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ خدانخواستہ اگر ایسا ہوگیا تو ہم تو پھر بالکل نکمے ثابت ہوئے ایسا نہیں ہو سکتا۔ بہرحال یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کو بھائیوں کے ساتھ جانے کی اجازت دیدی۔
سپرد چاہ
فلما زھبوا بہ پھر جب بھائی یوسف (علیہ السلام) کو اپنے ہمراہ لے گئے۔ راستے میں بھی انہوں نے اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا اور تذلیل و تحقیر کی اور پھر منزل مقصود پر پہنچ کر واجمعوا انہوں نے اس بات پر اتفاق کیا ان یجعلوہ فی غیبت الجب کہ یوسف (علیہ السلام) کو کسی گہرے کنوئیں میں پھینک دیں۔ ان کی دوسری تجویز یہ تھی کہ آپ کو قتل ہی کردیا جائے مگر یہودا کے مشورہ پر کنھوئیں میں ڈال دینے کی تجویز پر اتفاق ہوگیا۔ چناچہ بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کو ایک ہی رسی سے باندھ کر کنوئیں میں لٹکا دیا۔ جب کہ آپ نے کنوئیں کا نصف فاصلہ نیچے کی طرف طے کرلیا تو رسی چھوڑ کر آپ کو یکدم کنوئیں میں گرا دیا گیا۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اس کنوئیں میں پانی خشک ہوچکا تھا۔ لہٰذا نیچے پہنچ کر یوسف (علیہ السلام) ایک پتھر پر بیٹھ گئے۔ آپ کا کرتہ بھی بھائیوں نے گرانے سے پہلے ہی اتار لیا تھا۔ بائیبل کی روایت کے مطابق یہ کرتہ بوقلمون کا تھا۔ جو باپ نے اپنے بیٹے کو بڑی شوق سے پہنایا تھا۔ بعض فرماتے ہیں کہ بھائیوں نے یہ بھی قصد کیا کہ اوپر سے پتھر مار مار کر یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں کے اندر ہی ختم کردیا جائے مگر بعض بھائیوں کی مخالفت کی وجہ سے وہ ایسا نہ کرسکے۔ چناچہ اس خیال سے کہ کوئی قافلہ ادھر سے گزرے گا تو اس کو نکال کر اپنے ساتھ لے جائے گا اور اس طرح باپ کا یہ محبوب بیٹا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اس کی نظروں سے اوجھل ہوجائے گا۔
وحی الٰہی کا نزول
جب یوسف (علیہ السلام) کنوئیں کے اندر پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں واوحینا الیہ ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی اور تسلی دی کہ اے یوسف (علیہ السلام) گھبرائیں نہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کا حامی و ناصر ہے اور ایک وقت آنے والا ہے لتنبئتھم بامرھم ھذا کہ آپ ان کو اس بات کے متعلق بتائیں گے۔ یہ لوگ جو ناشائستہ حرکات کر رہے ہیں ، آپ سب کچھ ان کو جتلا دیں گے اور پھر ان کو شرمسار ہوناپڑے گا۔
بچپن میں نزول وحی کے متعلق مفسرین نے مختلف باتیں کی ہیں بعض فرماتے ہیں کہ یہ وحی نبوت کی وحی تھی۔ امام حسن بصری کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کنوئیں کے اندر ہی وحی نازل فرما کر یوسف (علیہ السلام) کو نبوت کے عہدے پر سرفراز فرمایا تھا۔ وہ قادر مطلق ہے ، بچپن میں بھی نبوت عطا کرسکتا ہے حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) کو بچپن بلکہ پیدائش کے وقت ہی نبوت مل گئیتھی۔ اسی طرح یوسف (علیہ السلام) کو بھی بچپن میں نبوت مل جانا کچھ بعید نہیں تاہم اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ وحی نبوت کی وحی نہیں تھی بلکہ وہ بعد میں نازل ہوئی کیونکہ عام طور پر نبوت و رسالت چالیس سال کی عمر میں جا کر ملتی ہے اور کنوئیں کے اندر جس وحی کا ذکر کیا گیا ہے ، یہ الہام کی وحی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتے کو بھیج کر یوسف (علیہ السلام) کو تسلی دی کہ آپ ان مشکل حالات سے گھبرائیں نہیں بلکہ ثابت قدمی سے ان مصائب کو برداشت کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ کا مستقبل روشن کریگا۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ ایسا ہی الہام تھا جیسا کہ اللہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کی طرف کیا ہے۔ اسی قسم کے الہام کا ذکر سورة نحل میں شہد کی مکھیوں کی طرف بھی ملتا ہے ” واوحی ربک الی النحل تیرے پروردگار نے شہد کی مکھیوں کی طرف وحی کی کہ وہ پہاڑوں اور درختوں میں اپنا گھر بنائیں۔ پھر تمام پھلوں کا رس چوسیں تو اللہ تعالیٰ ان کے پیٹوں میں شہد جیسی مفید چیز پیدا کریگا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے یوسف جیسی مفید چیز پیدا کریگا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے یوسف (علیہ السلام) کو تسلی دی۔
یوسف (علیہ السلام) کی دعا
اس موقع پر یوسف (علیہ السلام) نے اللہ کی بارگاہ میں دعا کی تھی مفسرین نے اس کا ذکر بھی کیا ہے۔ آپ نے عرض کیا یا شاھداً غیر غائب یا قریباً غیر بعید یا غالباً غیر مغلوب اجعل لی من امری ھذا خرجاً و مخرجاً یعنی اے وہ ذاتجو حاضر ہی اور غائب نہیں ، جو قریب ہے اور دور نہیں ، جو غالب ہے اور مغلوب نہیں میرے لئے اس معاملے میں کشادگی پیدا کر دے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی اسی قسم کی دعا کی تھی حسبی اللہ لا الہ الا ھو تو اللہ نے فرشتے کو بھیج کر آپ کو تسلی دی تھی۔ یہاں پر بھی اللہ نے فرشتے کو بھیج کر یوسف (علیہ السلام) کو تسلی دی کہ تم فکر نہ کرو۔ عنقریب تم انہیں ان کے اس غلط کام پر مطلع کرو گے وھم لایشعرون اور اس وقت ان کو پتہ بھی نہیں ہوگا ، یعنی ان کو بالکل علم نہیں ہوگا کہ ان کا پول ظاہر ہونے والا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کو اس وقت پتہ نہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کا مستقبل کتنا شاندار ہے وہ تو آپ کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تاکہ باپ کی توجہ ان کی طرف ہوجائے مگر اللہ تعالیٰ اسی ذریعے سے یوسف (علیہ السلام) کو بام عروج تک پہنچانا چاہتا ہے۔
بھائیوں کی حیلہ سازی
بہرحال بھائی یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں پھینک کر واپس آئے وجآء واباھم عیشآء یبکون اور اپنے باپ کے پاس عشاء کے وقت روتے ہوئے آئے ، وہ جھوٹا رونا روتے آئے تاکہ ان کا قصور نہ ظاہر ہوجائے۔ رونا کئی قسم کا ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خشیت سے رونا آتا ہے ، اللہ کے عذاب کو یاد کر کے بھی انسان رو پڑتا ہے۔ بعض دفعہ راحت کا رونا آتا ہے اور کوئی مکاری کا رونا بھی ہو سکتا ہے برادران یوسف کا رونا مکاری کا رونا تھا تاکہ باپ کے سامنے اپنی بیگناہی ثابت کرسکیں۔ امام اعمس فرماتے ہیں کہ کسی شخص کی ایسی کہانی اور ایسے رونے کا اعتبار نہیں کیا جاسکتا جیسا کہ برادران یوسف نے روکر دکھایا تھا۔ غرضیکہ وہ روتے ہوئے آئے قالوا ایابانآ انا ذھبنا نستبق کہنے لگے۔ اے ہمارے باپ ! بیشک ہم گٹے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں دوڑتے تھے ونزلنا یوسف عنہ متاعنا ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو اپنے سامان کے پاس چھوڑا تھا فاکلہ الذب پس اس کو بھیڑیے نے کھالیا کہنے لگے ہمارے ساتھ یہ حادثہ پیش آ گیا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو ایک بھیڑیا کھا گیا ہے اور پھر یقین دہانی کے لئے یہ بھی کہا وما انت بمئومن لنا ولو کنا صدقین اور اے باپ ! آپ ہماری بات کی تصدیق نہیں کریں گے اگرچہ ہم سچے ہی کیوں نہ ہوں۔ ایمان کا لغوی معنی تصدیق کرنا ہوتا ہے اور اس مقام پر یہی معنی مراد ہے۔ بہرحال برادران یوسف نے اپنے جرم پر پردہ ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کی۔
خون آلود قمیص
وجآء و علی قمیصہ بدم کذب اور لائے وہ یوسف (علیہ السلام) کی قمیص پر جھوٹا خون ، کوئی بکری یا ہرنی ذبح کی اور یوسف کی قمیص اس کے خون سے آلودہ کرلی۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ یوسف (علیہ السلام) کو تو بھیڑیا کھا گیا ہے مگر ان کی خون آلود قمیص بچ گئی ہے۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے قمیص کو دیکھا تو وہ بالکل صحیح سلامت تھی کہیں سے کٹی پھٹی بھی نہیں تھی ، کہنے لگے یہ کہانی درست نہیں ہے ، کیونکہ اگر بھیڑیا یوسف (علیہ السلام) کو کھاجاتا تو آپ کی قمیص کیسے صحیح سلامت بچ جاتی ، قال کہنے لگے بال سولت لکم انفسکم امراً یہ تو تمہارے نفسوں نے کوئی معاملہ بنایا ہے۔ یعنی یہ کوئی من گھڑت کہانی معلوم ہوتی ہے۔ مگر اب میں کیا کرسکتا ہوں فصبر جمیل اب تو صبر جمیل کے بغیر کوئی چارہ نہیں صبر جمیل اس صبر کو کہا جاتا ہے۔ جس میں مخلوق کے سامنے کسی قسم کا گلہ شکوہ نہ کیا جائے بلکہ انسان اللہ کی رضا پر راضی ہوجائے۔ اس موقع پر یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا واللہ المستعان علی ماتصفون اب تو تمہاری کارگزاری پر اللہ تعالیٰ سے ہی مدد طلب کی جاسکتی ہے۔ تم جو کچھ کر رہے ہو میں اس پر اللہ ہی سے مدد مانگتا ہوں آپ نے کوئی حیل و حجت یا جزع فزع نہیں کی بلکہ اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش سمجھتے ہوئے قبول کیا اور صبر جمیل کا نمونہ بن کر خاموش ہوگئے۔
یوسف (علیہ السلام) کی برآمدگی
یہاں پر بائیبل کا بیان مختلف ہے۔ بائیبل کے مطابق یعقوب (علیہ السلام) نے ٹاٹ پہنا ، اپنے پٹکے کو اپنی کمر سے باندھا اور پھر واویلا بھی کیا ، یعنی بیٹے ک غم میں بےصبری کا اظہار کیا۔ یہ بیان درست نہیں ہے بلکہ جیسا کہ قرآن نے بیان کیا ہے ، یعقوب (علیہ السلام) نے نہایت صبر کا مظاہرہ کیا اور اسے اللہ کی طرف سے ابتلاء سمجھتے ہوئے برداشت کیا۔
یوسف (علیہ السلام) کی برآمدگی
اب بھائی تو یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈال کر چلے گئے اور ادھر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ کرشمہ ظاہر ہوا وجآئت سیارۃ وہاں پر ایک قافلہ آ گیا ۔ یہ تجارتی قافلہ تھا جس کے ساتھ بہت سامان تجارت بھی تھا۔ امام بغوی اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ قافلہ یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں ڈالنے کے تین دن بعد اس مقام پر پہنچا ، یہ تین یوم یوسف (علیہ السلام) نے کس طرح کنوئیں میں گزارے ، اس کے متعلق کوئی صحیح روایت نہیں ہے ، البتہ بعض تفسیری روایات کے مطابق آپ کا ہمدرد بھائی یہودا آپ کو کسی نہ کسی طرح کنوئیں میں کھانا پہنچاتا رہا۔ روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ برادران یوسف کنوئیں کی مسلسل نگرانی کرتے رہے اور دیکھتے رہے کہ آگے کیا معاملہ پیش آتا ہے بہرحال صحیح علم تو اللہ کے پاس ہے تین دن کے بعد جب تارتی قافلہ اس علاقے میں اترا فارسلوا واردھم تو انہوں نے پانی لانے والے کو بھیجا ۔ یعنی قافلے والوں کا ایک آدمی پانی کی تلاش میں پھرتا پھراتا اسی کنوئیں پر پہنچ گیا جس میں یوسف (علیہ السلام) موجود تھے۔ اس نے سمجھا کہ کنوئیں میں پانی ہوگا۔ فاولی ولوہ چناچہ اس نے اپنا ڈول کنوئیں میں ڈال دیا۔ جب ڈول کو کنوئیں سے باہر کھینچا تو اس میں پانی کی بجائے بچے کو دیکھ کر حیران رہ گیا قال یبشری ھذا غلم کہنے لگا ! اے خوش خبری ! یہ تو لڑکا ہے۔ اس وقت غلامی کا رواج پوری دنیا میں رائج تھا۔ اور لونڈی غلام ایک قیمتی اثاثہ سمجھے جاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو مفت میں غلام مل گیا ، اس کو فروخت کر کے پیسے کمائیں گے واسروہ بضاعۃ چناچہ بچے کو برآمد کرنے والوں نے اسے پونجی کے طور پر چھپا لیا کہ باقی قافلے والوں کو بتائے بغیر ہم خود ہی اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ ادھر اللہ تعالیٰ کا اشراد ہے واللہ علیم بما یعملون اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔ مقصد یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کی تمام کارروائیوں سے واقف بلکہ ہر نفس کے دلی ارادے کو بھی جانتا ہے کہ کوئی کس نیت اور ارادے سے کوئی کام انجام دے رہا ہے۔
یوسف (علیہ السلام) کی فروختگی
جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے برادران یوسف بھی کنوئیں کی نگرانی کر رہے تھے۔ اس واقعہ کے بعد جب کنوئیں پر آئے تو وہاں اپنے بھائی کو نہ پایا۔ سمجھ گئے کہ قافلے والے نکال کرلے گئے ہیں۔ ان کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ یہ ہمارا غلام ہے جو بھاگ کر آ گیا ہے ، اسے واپس کرو۔ یا اگر تم چاہو تو اسے خرید بھی سکتے ہو۔ خوبصورت بچہ تھا ، قافلے والے خریدنے پر بھی رضا مند ہوگئے چناچہ وشروہ بثمن تجس بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کو تھوڑی قیمت پر قافلے والوں کے ہاتھ بیچ دیا اور وہ قیمت کیا تھیا دراھم معدودہ چند گنے ہوئے درہم ، یعنی بہت ہی معمولی قیمت کے بدلے یوسف (علیہ السلام) کو فروخت کردیا۔ بائیبل کی روایت میں آتا ہے کہ کل بیس درہم حاصل کئے جو دس بھائیوں نیح دو دو درہم کے حساب سے آپس میں تقسیم کر لئے۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ خریدو فروخت کی اس کارروائی کے دوران یوسف (علیہ السلام) نے کوئی کلام نہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی نہ کہا کہ میں غلام نہیں ہوں بلکہ میں ان کا بھائی …… ہوں اس کی وجہ مفسرین یہ بتلاتے ہیں تاکہ ان کے خاندان پر کوئی حرف نہ آئے۔ اسی مصلحت کے تحت یوسف (علیہ السلام) نے بھی خاموشی اختیار کی۔ دوسری طرف اس بات کا بھی امکان تھا کہ اگر بھائیوں کو جھٹلانے کی کوشش کی تو وہ نقصان پہنچا سکتے ہیں اور ہو سکتا ہے کہ جان سے ہی مار دیں ، بہرحال بھائیوں نے یوسف (علیہ السلام) کو نہایت ہی ادنیٰ قیمت پر فروخت کردیا وکانوا فیہ من الزھدین اور اس میں بہت بےرغبتی کرنے والے تھے۔ یعنی انہوں نے بھائی کو لاپرواہی سے معمولی داموں فروخت کردیا۔ ان کا مقصد محض یہ تھا کہ یوسف (علیہ السلام) کسی طریقے سے اپنے باپ کی نظروں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے عذاب ہوجائیں۔ اس طرح انہیں کچھ پیسے بھی مل گئے اور ان کا مقصد بھی پورا ہوگیا۔
دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی حکمت بھی اپنا کام کر رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ اسی ذریعے سے یوسف (علیہ السلام) کو بام عروج تک پہنچانا چاہتا تھا۔ یہ قافلہ مصر جا رہا تھا۔ وہاں پہنچ کر جو حالات پیش آئے ان کا ذکر اگلی آیتوں میں آ رہا ہے۔
Ayahs 12:21–22ربط آیات
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو کنوئیں میں گرے ہوئے جب تین دن گزر گئے تو وہاں سے قافلے والوں نے آپ کو نکال لیا۔ یہ قافلہ مدین سے مصر جا رہا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ لوگ مدین کے باشندے تھے جبکہ بعض دوسرے اصحاب کہتے ہیں کہ یہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے خاندان کے لوگ تھے۔ بہرحال دوران سفر قافلے والوں کو کنعان سے یہ بچہ مل گیا۔ ادھر بھائی بھی نگرانی کر رہے تھے۔ جب یوسف (علیہ السلام) قافلے میں پہنچ گئے تو بھائی بھی وہاں پہنچے اور کہا کہ یہ ہمارا بھاگا ہوا غلام ہے ۔ اسے واپس کردیا اگر تم اسے خریدنا چاہو تو ایسا کرسکتے ہو۔ چناچہ برادران یوسف نے بیس درہم کی حقیر رقم کے عوض یوسف (علیہ السلام) کو قافلے والوں کے ہاتھ فروخت کردیا۔
لنعان سے مصر تک
جس شخص نے بھائیوں سے یوسف (علیہ السلام) کو خریدا تھا مفسرین کرام اس کا نام مالک ابن زعر بتاتے ہیں اور پھر اس نے آگے مصر میں جا کر آپ کو فروخت کردیا۔ تاریخی روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ کنعان سے مصر تک کے سفر کے دوران بعض اوقات آپ کو لیجانے والوں کے دل میں رقب پیدا ہوتی تھی مگر وہ آپ کو غلام سمجھ کر آپ سے مالی مفاد حاصل کرنے کی فکر میں رہے۔ راستے میں اس شخص نے یوسف (علیہ السلام) سے آپ کے وطن اور خاندان کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے بتایا کہ فلاں عظیم خادنان کا فرد ہوں تو اس شخص نے افسوس کا اظہار بھی کیا۔ صاحب روح المعانی اور دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ اس قسم کے واقعات قصے کہانی کی کتابوں میں ملتے ہیں لہٰذا ان کے متعلق پورے وثوق کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ بہرحال مصر پہنچ کر وہ لوگ آپ کو غلاموں کی منڈی میں لے گے ، ان کو نحاس بازار کہتے تھے جہاں غلام اور لونڈی فروخت ہوتے تھے۔
اس زمانے میں لونڈی غلام کی خریدو فروخت عام تھی ۔ یہ توقریباً ایک صدی ہوئی ہے کہ غلام کا رواج ختم ہوا ہے ورنہ یہ قدیم زمانے سے پوری دنیا میں رائج تھا۔ جب اسلام کا دور آیا تو حضور ﷺ اور قرآن پاک نے غلاموں کے متعلق بہت سی اصلاحات کیں ! اسلام نے غلامی کو غیر فطری فعل قرار دیا کہ انسان فطرۃ آزاد پیدا ہوتا ہے لہٰذا اسے غلامی کی زنجیروں میں جکڑنا خلاف فطرت ہے۔
مصر میں قیدر و قیمت
جب یوسف (علیہ السلام) مصر کے بازار میں پہنچے تو گاہکوں نے آپ کی مختلف قیمتیں لگائیں۔ اگرچہ اس معاملہ میں کوئی یقینی بات نہیں کی جاسکتی ، تاہم بعض کہتے ہیں کہ آپ کی قیمت ہم وزن سونا لگائی گئی اور بعض کہتے ہیں کہ ہم وزن چاندی کی پیشکش ہوئی۔ اس کے علاوہ ہم وزن کستوری اور ہم وزن ریشم بیھ لوگوں نے پیش کی۔ یہ بھی بڑی قیمتی چیزیں تھیں۔ بہرحال عام غلاموں کی نسبت یوسف (علیہ السلام) کی قیمت بہت لگائی گئی۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ قافلے والے جس شخص نے آپ کو خریدا تھا اس نے بھی آپ کو سستے داموں ہی فروخت کردیا۔ اس نے آپ کے عوض بیس دینار ، ایک جوڑا جوتے ار دو سفید کپڑے وصول کئے۔ یہ سب تاریخی روایات ہیں اور کوئی یقینی بات نہیں کیونکہ قرآن پاک ان جزئیات کے متعلق خاموش ہے۔
جس شخص نے مصر میں آپ کو خریدا اس سورة مبارکہ میں اس کا نام تو ظاہر نہیں کیا گیا ، البتہ اس کا لقب عزیز آتا ہے۔ بائیبل کی روایت کے مطابق اس شخص کا نام فوطیغار تھا۔ بعض روایات میں فوطی مار بھی آتا ہے۔ یہ شخص حکومت کے بڑے عہدیداروں میں سے تھا وہ وزیر اعظم تو نہیں تھا ، البتہ فنانس منسٹر (وزیر مالیات) یا خزانے کا انچارج تھا۔ یہودیوں کی کتابوں میں یہ بھی آتا ہے کہ یہ شخص مصر کے بادشاہ فرعون کے باڈی گارڈوں کا انچارج تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ ملک کی فوج بھی اسی کے تصرف میں تھی اور اس لحاظ سے یہ وزیر دافع تھا۔ بہرحال اس شخص نے زیادہ سے زیادہ قیمت ادا کر کے یوسف (علیہ السلام) کو خرید لیا۔
یوسف (علیہ السلام) کی عزت افزائی
ارشاد ہوتا ہے وقال الذی اشترائہ من مصر لا مراتہ جس شخص نے یوسف (علیہ السلام) کو مصر میں خریدا تھا اس نے اپنی بیوی سے کہا اکرمی مثوئہ اس کو عزت و آبرو کے ساتھ رکھنا۔ اس کے ساتھ غلاموں کا سا سلوک روانہ رکھنا عسی ان ینفعنا شاید کہ یہ ہمیں فائدہ پہنچایء او نتخذہ ولدایا ہم اسے منہ بولا بیٹا ہی بنا لیں۔ کہتے ہیں کہ یہ شخص بےاولاد تھا اور اس کی فراست بڑی صادقہ تھی۔ وہ یوسف (علیہ السلام) کی شکل و صورت ، چال ڈھال ، بول چال اور حرکات و سکنات سے بھانپ گیا تھا کہ یہ کوئی غیر معمولی آدمی ہے ، اسی لئے اس نے محسوس کیا کہ یہ ہمیں مفید ثابت ہو سکتا ہے حتیٰ کہ ہم اسے متنبیٰ بھی بنا سکتے ہیں۔ مثوی دراصل ٹھکانے کو کہتے ہیں اور صاحب خانہ کے لئے ابو مثنوی کا لفظ آتا ہے۔ مطلب یہی تھا کہ اس غلام کو اپنے گھر میں نہایت عزت و احترام کے ساتھ رکھو۔ کیونکہ ہم اس سے نفع حاصل کرسکتے ہیں۔ چناچہ قلیل عرصہ میں یوسف (علیہ السلام) کے جوہر کھل کر سامنے آگئے وزارت کے علاوہ فوطیفار کا وسیع کاروبار بھی تھا۔ وہ جو کام بھی یوسف (علیہ السلام) کے سپرد کرتا ، آپ اسے کمال دانائی اور محنت سے انجام دیتے ، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چند ہی دن میں اس شخص کی کاروباری آمدنی دگنی تگنی ہوگئی۔ وہ یوسف (علیہ السلام) کی امانت اور دیانت کا بھی قائل ہوچکا تھا ، غرضیکہ آپ کے متعلق اس شخص کا اندازہ بالکل صحیح ثابت ہوا۔ اللہ نے فرمایا وکذلک مکنا لیوسف فی الارض اور اس طریقے سے ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے قدم زمین میں جما دیئے یعنی انہیں باعزت ٹھکانا میسر آ گیا اور اس طرح خاندان اسرائیل کے درود مصر کے لئے راہ ہموار ہوئی۔ آپ کے بھائی تو آپ کو ذلیل و خوار کرنا چاہتے تھے مگر اللہ تعالیٰ آپ کو بام عروج تک پہنچانا چاہتا تھا۔ لہٰذا یہ تمام مصائب و تکالیف منزل مقصود تک پہنچنے کے لئے زینے بنتے چلے گئے۔
حاملین فراست صادقہ
حضرت عبداللہ بن مسعود سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں تین شخصوں کو فراست صادقہ عطا کی ہے۔ ایک شخص تو یہی فوطیفار ہے جس نے یوسف (علیہ السلام) کو خریدا تھا۔ دوسری صاحب فراست شخصیت حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بیٹی تھی جس نے باپ سے سفارش کی تھی کہ ” یابت استاجرہ ان خیر من استاجرت القوی الامین “ اے باپ ! موسیٰ (علیہ السلام) کو ملازم رکھ لیں یہ مضبوط بھی ہے اور امین بھی بیٹی نے بتایا کہ اس شخص نے پانی کا وہ ڈول اکیلے نکال لیا جو کئی آدمی مل کر نکالتے ہیں ، لہٰذا یہ بڑا طاقتور ہے اور امین اس لحاظ سے ہے کہ جب میں اس کو بلانے کے لئے گئی تو میں آگے آگے تھی اور یہ پیچھے پیچھے آ رہا تھا ہوا چل رہی تھی جس کی وجہ سے کپڑا اٹھ کر بےپردگی کا خطرہ تھا۔ لہٰذا اس شخص نے مجھے کہا کہ تم پیچھے ہو جاء اور میں آگے آگے چلتا ہوں تاکہ تم پر میری نظر نہ پڑے۔ غرضیکہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بٹی نے بڑی فراست کی بات کی فرماتے ہیں کہ تیسری صاحب فراست صادقہ شخصیت حضرت ابوبکر صدیق تھے جنہوں نے اپنی فراست سے یہ بات پا لی تھی کہ امت میں ان کے بعد نظام خلافت چلانے والا حضرت عمر سے بہتر کوئی آدمی نہیں ، لہٰذا آپ نے اپنی وفات سے قبل خلافت کے لئے حضرت عمر فاروق کی نامزدگی کردی تھی۔
تاویل الاحادیث کا علم
فرمایا ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو زمین میں ٹھکانا دیا۔ ولنعلمہ من تاویل الاحدیث اور تاکہ ہم آپ کی باتوں کو ٹھکانے لگائنے کا طریقہ سکھا دیں۔ اس سے مراد خواب کی تعبیر بھی ہے اور عام معاملات کو ٹھیک طریقے سے نمٹانے کی صلاحیت بھی مراد ہے۔ کسی معاملہ کی تہہ تک پہنچ کر اس کا ٹھیک ٹھیک فصلہ کرنا ہر آدمی کا کام نہیں بلکہ ایسا وہی شخص کر سکات ہے ۔ جسے اللہ نے خاص صلاحیت بخشی ہو۔ فرمایا واللہ غالب علی امرہ اللہ تعالیٰ اپنے معاملات میں غالب ہے وہ جو چاہے کر ڈالے یا کسی کام کے ہوجانے کے لئے راستہ ہموار کر دے اللہ تعالیٰ کی مشیت ار ارادے میں کوئی شخص دخل نہیں دے سکتا۔ اس کی تدبیر تمام تدابیر پر حاوی ہے۔ واللہ خیر المکرین اللہ تعالیٰ سب سے بہتر تدبیر کنندہ ہے ولکن اکثر الناس لایعلمون مگر اکثر لوگ نہیں جانتے کیونکہ ان کو علم ہو تو پھر ایسی ویسی باتیں نہ کریں۔ مشرکین مکہ نے بھی حضور ﷺ کو ختم کرنے کی بڑی بڑی تدبیریں کیں مگر انہیں ہر بار ناکامی ہوئی کیونک وہ نہیں جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز پر غالب ہے اور اس کی تدبیر کے سامنے کسی دوسری ہستی کی تدبیر کارگر نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ ہی خالق ، مدبر اور متصرف ہے ار وہی ہر کام میں غالب ہے۔
کمال حکمت و علم
ارشاد ہتا ہے ولما بلغ اشدہ اور جب پہنچے یوسف (علیہ السلام) اپنی قوت کے زمانے میں شعنی شباب کو مطلب یہ ہے کہ جب آپ کی عمر تیس یا تینتیس سال ہوگئی تینہ حکماً وعلماً تو ہم نے آپ کو حکمت اور علم عطا کیا۔ اس سے نبوت بھی مراد لی جاسکتی ہے بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یحییٰ (علیہ السلام) کی طرح یوسف (علیہ السلام) کو بھی بچپن میں ہی نبوت عطا ہوگئی تھی مگر بعض کہتے ہیں کہ آپ کو نبوت چالیس سال کے بعد ملی ، البتہ اللہ نے آپ کو دانئای ، حکمت اور صحیح فہم پہلے ہی عطا کردیا تھا۔ امام ابن درید فرماتے ہیں کل کلمۃ واعظتک او زجرتک او دعتک الی مکرمۃ اونھتک عن قبیح فھی حکم و حکمۃ یعنی ہر ایسی بات جو تمہارے لئے نصیحت کا باعث ہو یا تمہیں تنبیہ کرنے والی ہو یا تمہیں بزرگی کی طرف بلائے یا قبیح چیز سے منع کرے وہ حکم اور حکمت کہلاتی ہے۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتی حکمت کی تعریف اس طرح کرتے ہیں الحکمۃ معرفۃ افضل الاشیآء بافضل العلوم یعنی سب سے افضل چیز کو افضل علم کے ساتھ جاننا حکمت کہلاتا ہے۔ سب سے افضل چیز خدا تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات ہیں اور س سے افضل علم علم حضوری یعنی مشاہدے کا علم ہے اور یہ ایسا بلند درجے کا علم ہے کہ جس کے ذریعے خدا تعالیٰ کیتجلیات منکشف ہوتی ہیں۔ یہ علم انبیائے کرام اور بلند ترین حکمائے ربانی کو حاصل ہوتا ہے۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو حکم اور علم عطا فرمایا۔
ایک غلط فہمی
بعض مفسرین جن میں مولانا مودودی بھی شامل ہیں کہتے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) کا خاندان دیہات میں رہتا تھا۔ بدویانہ زندگی میں گلہ بانی کرتا تھا اس لئے متمدن دنیا کے حالات سے بیخبر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کو مصر جیسی متمدن سلطنت میں پہنچایا تاکہ آپ متمدن دنیا کے حالات سے تربیت حاصل کرسکیں۔ اس بات کو کسی خاص حد تک تو تسلیم کیا جاسکتا ہے مگر مکمل طور پر نہیں کیونکہ اللہ کے نبیوں کو تربیت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ شاہ ولی اللہ محمد ث دہلوی فرماتے ہیں کہ اخلاقی لحاظ سے عوام الناس کو چار گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے بعض لوگ اخلاق سے بالکل خلای ہوتے ہیں۔ …د بعض میں اخلاق کا معمولی حصہ ہوتا ہے ، بعض میں اخلاق کا وافر حصہ وجود ہوتا ہے اور بعض انسان اخلاق کے امام ہوتے ہیں اور وہ کسی دوسرے شخص سے اخلاق نہیں سیکھا کرتے بلکہ باقی لوگ ان سے اخلاق کی تربیت حاصل کرتے ہیں۔ اس سے یہ نظریہ باطل ہوجاتا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کو مصر میں تربیت کے لئے بھیجا گیا تھا ۔ جسے خود اللہ تعالیٰ حکمت اور علم عطا فرما دے اس کے لئے نظام حکومت چلانا مشکل نہیں رہتا۔ عام انسانوں کے لئے تو تربیت کا قانون درست ہے مگر اللہ کے انبیاء پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔
یہیں سے ڈارون کی تھیوری بھی غلط ثابت ہوتی ہے جس نے یہ بات ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگایا کہ انسان پہلے بندر تھے پھر ترقی کرتے کرتے انسانیت کے درجے پر پہنچ گئے۔ اس تھیوری کی تردید خود یورپ کے بیس سے زیادہ بڑے بڑے سائنسدانوں اور دانشوروں نے بھی کی ہے۔ قرآن پاک ایسی تھیوری کی مکمل نفی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلا کو اپنا بنی بنایا اور نبی کے متعلق یہ قطعی بات ہے کہ وہ عقل الناس یعنی تمام لوگوں سے زیادہ عقلمند ہوتا ہے۔ اس لئے اسے دوسرے لوگوں سے سیکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ لوگ نبی سے سیکھتے اور تربیت حاصل کرتے ہیں۔
نیکی کا بدلہ
فرمایا وکذلک نجزی المحسنین اور ہم اس طرح بدلہ دیا کرتے ہیں نیکی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ کا کامل درجے کا اطاعت گزار جو کبھی صبر کا دامن نہیں چھوڑتا محسن کہلاتا ہے اور اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ محسن کے بدلے کو ضائع نہیں کرتے بلکہ ایسے لوگوں کو بام عروج تک پہنچاتے ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کمال اطاعت اور صبر کا اظہار کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکمت اور علم عطا فرما کر اپنے کمال عنایات سے نوازا اور بام عروج تک پہنچایا۔
Ayahs 12:23–24تشریح آیات
ھیت یا ھیت اصل میں سریانی ، حورانی یا قبطی زبان کا لفظ ہے اور عربی میں اس کا معنی ھلم لک یا تعال بنتا ہے جو اسم فعل کے معنی میں آتا ہے۔ آئو قریب ہو جائو کا مفہوم دیتا ہے برہان کا معنی سند اور دلیل ہوتا ہے جس سے شک و شبہ یا ابہام وغیرہ ختم ہوجاتا ہے۔ سکون و یقین حاصل ہوتا ہے۔ لیکن اس مقام میں برہان کا معنے اور مفہوم متعین کرنے میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال پائے جاتے ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ، حسن بصری ، سعید بن جبیر ، وغیرہ ہم کے نزدیک برہان یہ تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے والد گرامی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی صورت کو دیکھا تھا۔ دانتوں میں انگلی دبائے ہوئے۔ امام ولی اللہ بھی یہی کہتے ہیں۔ یعنی صورت یعقوب حاضر شدا انگشت بدنداں گرفتہ (حاشیہ فتح الرحمٰن)
ار بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کے سینہ پر ایک دھپارسید کیا۔ جس سے ان کے تمام شہوانی خیالات گم ہوگئے۔ بعض نے کہا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کا آقا عزیز مصر جس کا نام فوطی فاریا قطفیسر تھا۔ اس کی خیالی صورت سامنے آئی تھی اور بعض سلف سے یہ بھی منقول ہے کہ جب یوسف (علیہ السلام) نے سر اوپر اٹھایا تو چھت کی دیوار پر یہ لکھا ہوا دیکھا۔ ” لاتقربوا الزنی انہ کان فاحشۃ ومقتاً وسآء سبیلاً (ابن کثیر)
قال جعفر بن محمد الصادق النبوۃ التی اودع اللہ فی صدرہ حالت بینہ (مظہری ص 154/ج 5)
حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا ہے کہ برہان سے مراد نبوت ہے جو اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کے سینہ میں ودیعت رکھی ہوئی تھی وہی اس برائی کے درے حائل ہوئی ۔
بعض مفسرین کرام نے ھم بھا کے جملہ کو لولا ان رابرھان ربہ کی شرط کی جزا یا جواب میں داخل کیا ہے۔ لکین نحوی حضرات نے اس پر اشکال کیا ہے کہ لولا حروف شرط کے حکم میں ہوتا ہے اور اس کا جواب اس سے متقدم نہیں آسکتا۔
لان لولا فی حکم ادوات الشرط فلایتقدمھا جو ابھا وجازان یکبون ھم بھا المذکور قبلھا دلیلاً علی جو ابھا یعنی لھم بھا ، ومعنی الھم المذکور علی ھذا شارق الھم فھو کقولہ قتلتہ لولم اخف اللہ تقدیرہ شارفت علی قتلہ ، لو لم اخف اللہ قتلتہ (امظہری ص 154/ج 5)
اس لئے کہ لولا آلات شرط کے حکم میں ہے اس کا جواب اس سے متقدم نہیں آسکتا اور جائز ہے کہ ہم بہا جو کہ پہلے مذکور ہے اس شرط سے ، وہ دلیل اور قرینہ ہو اس کے جواب پر عنی لھم بھا اور اس طریق پر لھم مذکور کا معنی قریب ہونے کا ہوگا جس طرح اس محاورہ میں ہے کہ میں اس کو قتل کردیتا اگر اللہ کا خوف نہ کھاتا یعنی قریب تھا کہ میں اس کو قتل کردیتا اگر اللہ تعالیٰ کا خوف مجھ میں نہ ہوتا۔
بعض نے اس طرح معنی بیان کیا ہے کہ اس عورت نے یوسف (علیہ السلام) کا قصہ کیا برئای کے ساتھ اور یوسف (علیہ السلام) نے قصہ کیا اس سے بھاگنے کا۔
امام بیضاوی نے یوسف (علیہ السلام) کے ھم کو طبعی میلان اور خواہش کے ساتھ کشمکش کرنے سے تعبیر کیا ہے۔ اختیاری قصد نہیں مراد جس پر مواخذہ ہوتا ہے۔
قال الشیخ ابو منصور الماتریدی ھم یوسف بھا ھم خطیرۃ ولا صنع للعبد فیما یحظربالقلب ولا مئواخذہ علیہ (تفسیر مظہری ص 153/ج 5)
اور حضرت امام شیخ ابو منصور ماتریدی نے کہا جب کہ یوسف (علیہ السلام) کا قصد اس عورت کے ساتھ دل میں کھٹکے کا قصد تھا اور اس میں بندہ کا کوئی اختیار نہیں ہوتا جو کھٹکا اس کے دل میں پیدا ہوتا ہے اور اس پر اس بندہ سے کوئی مواخذہ بھی نہیں ہوتا ، یہ غیر اختیاری ہوتا ہے۔
بعض مفسرین نے اس بات کو ترجیح دی ہے کہ برھان ربہ سے مراد حرمت زنا کا معاملہ جو یوسف (علیہ السلام) کے دل و دماغ میں اللہ تعالیٰ نے مرتکز کردیا تھا کہ یہ ایک فعل شنیع اور حرکت قبیح ہے جس کا ارتکاب کرنے والا ظالم اور بدکردار انسان ہی ہو سکتا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) جو نور کا پیکر اور خوبصورت ترین شخصیت کے مالک تھے۔ پاکیزہ ترین سیرت اور نزاہت اور طہارت کے ساتھ متصف تھے۔
اور ان کی اعلیٰ سیرت کا یہ مقام و مرتبہ بہت بلند تھا اللہ تعالیٰ نے انہیں عصمت و حفاظت کے اس بلند ترین مقام پر فائز فرمایا تھا جو تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو حاصل ہوتا ہے۔ چناچہ ترغیبات و تحریصات اور تخویفات و تلبیات کا کوئی شدید طوفان بھی اس ناقابل تسخیر چٹان کو اپنے مقام سے ہلا نہ سکا۔ انسانی سیرت و کردار کا جو اعلیٰ وارفع مقام حضرت یوسف (علیہ السلام) نے پیش کیا ، اور اس راستہ کی تمام مشکلات و مصائب کو جس صبر و استقامت سے برداشت کیا وہ ہر انسان کے بس کا روگ نہیں۔
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں کہ بیشک اسی عورت نے یوسف (علیہ السلام) کی ساتھ ارادہ کیا۔ یہ ارادہ برے خیال کا تھا لیکن یوسف (علیہ السلام) نے بھی ارادہ کیا اس عورت کے ساتھ اگر نہ دیکھا ہوتا اس نے برہان اپنے رب کا (تو ممکن ہے کہ اس کے دل میں بھی اس کی طرف میلان ہوتا ، لیکن برہان رب کا دیکھا یوسف (علیہ السلام) کے لئے اس میلان سے مانع ہوا اس ھم میں عورت کا قصد و ارادہ تو یقینا اپنی خواہشات کو پورا کرنے کا تھا۔ لیکن یوسف (علیہ السلام) کے ہم اور قصد کی نوعیت کیا تھی۔ اس بارہ میں مفسرین کرام نے مختلف قسم کی توجیہات بیان کی ہیں۔ بعض مفسرین نے ھم بھا سے مراد عزم یا قصد علی الفعل نہیں لیا۔ بلکہ عز م سے کمتر درجہ کے کھٹکے خواطر یا حدیث النفسی کے درجے کے خیالات ہوتے ہیں وہ مراد ہیں جو قابل مئواخذہ نہیں ہوتے۔ قابل مئواخذہ صرف عزم ہوتا ہے۔ یعنی یوسف (علیہ السلام) کے قلب میں کچھ رغبت و میلان بےاختیار پیدا ہوا جس طرح روزہ دار انسان کو گرمی میں ٹھنڈے پانی کی طرف طبعاً رغبت پیدا ہوتی ہے۔ لیکن نہ تو وہ پینے کا ارادہ کرتا ہے اور نہ یہ بےاختیار رغبت کچھ مضر ہے۔ لیکن باوجود طبعی رغبت کے اس قطعاً محترز رہنا مزید اجر وثواب کا موجب ہے اسی طرح سجھ لو کہ ایسے اسباب و دواعی قویہ کی موجودگی سے طبع بشری کے موافق بلا اختیار و ارادہ یوسف (علیہ السلام) کے دل میں کسی قسم کی رغبت و میلان کا پایا جانا نہ عصمت کے منافی ہے نہ ان کے مرتبہ کو گھٹاتا ہے بلکہ صحیح مسلم میں ابوہریرہ کی حدیث میں ہے کہ اگر بندہ کا میلان کسی برائی کی طرف ہوا ، لیکن اس پر عمل نہ کیا تو اس کے فروحسنات میں ایک نیکی لکھی جاتی ہے ، خدا تعالیٰ فرماتا ہے اس نے باوجود رغبت و میلان کے میرے خوف سے اس برائی کو ہاتھ نہ لگایا بہرحال باوجود اشتراک لفظی کے زلیخا کے ہم اور یوسف (علیہ السلام) کے ہم میں زمین آسمان کا تعفاوت ہے۔ اسی لئے قرآن کریم نے دونوں کے ہم کو ایک ہی لفظ میں جمع نہیں کیا اور نہ زلیخا کے ہم کی طرف یوسف (علیہ السلام) کے ہم پر لام اور قد داخل کیا گیا۔ بلکہ سیاق و لحاق میں بہت سے دلائل یوسف (علیہ السلام) کی طہارت و نزاہت پر قائم فرما دیئے۔ جو غور کرنیوالوں پر پوشیدہ نہیں (حضرت شیخ عثمانی برحاشیہ قرآن) اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کی تربیت عجیب طریقے پر فرمائی تھی ایک طرف اگر عزیز کی بیوی زلیخا نے ان کے سام نے نہایت خطرناک مزلۃ الاقدام ، پھسنلے کا موقع اور شدید قسم کا امتحان کھڑا کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے جس کو تمام کائنات میں نصف حسن سے آراستہ و پیراستہ کیا تھا (اعطی شطرالحسن) مسلم یعنی آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ شب معراج تیسرے آسمان پر میری ملاقات حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ ہوئی تو میں نے دیکھا کہ ان کو نصف حسن عطا کیا گیا ہے ) اور ادھر زلیخا ان کے اس حسن و جمال پر مفتون تھی ، اس اس نے دلکشی اور ہوشربائی کے سارے سامان جمع کردیئے اور چاہا کہ یوسف (علیہ السلام) کے دل کو ان کے قابو سے باہر کر دے۔ نفسانی جذبات کو پورا کرنے کے لئے ہر قسم کے عیش و نشاط کے سامان موجود تھے۔ یوسف (علیہ السلام) کا ہر وقت اس کے گھر میں موجود رہنا اور اس کا نہایت محبت و پیار سے رکھنا۔ پھر علیحدگی اور تنہائی کے وقت عورت کی طرف سے خواہش کا باتابانہ اظہار اور کسی غیر کے آنے جانے کے تمام راستے مسدود اور تمام دروازے بند اور ادھر جوانی کی عمر ، قوت کا زمانہ ، مزاج میں اعتدال ، تجرد کی زندگی ایسے تمام اسباب ودواعی تھے کہ عام حالات میں بڑے سے بڑے زاہد و متقی کا تقویٰ بھی ان سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجاتا ، لیکن اللہ تعالیٰ نے جس ہستی کو محسن قرار دیکر علم و حکمت کے رنگ میں رنگین کیا اور پیغمبرانہ عصمت کے بلند مقام پر پہنچایا ممکن نہیں تھا کہ شیطان کا دائو اس پر چلتا یا کسی طرح وہ اس پر قابو پا لیتا اس نے ایک جملہ معاذ اللہ کہہ کر شیطان کے جال کے تمام حلقے توڑ ڈالے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی پناہ میں رکھا اس پر شیطان کا وار کس طرح چل سکتا تھا ؟
اس نے کہا پناہ بخدا میں ایسی قبیح در ذیل حرکت کا ارتکاب کس طرح کرسکتا ہوں۔ (اس خیانت کا ارتکاب مجھ سے ممکن نہیں) عزیز تو میرامربی ہے جس نے مجھے عزت و راحت سے رکھا ہے کیا میں اپنے محسن کے ناموس پر حملہ کروں ؟ ایسی محسن کشی اور بےانصافی کرنے والے کبھی بھلائی اور کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتے (شیخ عثمانی) اس سے ظاہر ہے کہ انہ ربی کی ضمیر مجازی مربی کی طرف راجع ہے ار اس میں کوئی خرابی نہیں۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ نبی کس طرح کسی انسان کو اپنا رب کہہ سکتا ہے۔ لیکن یہ کہنا درست نہیں ۔ کیونکہ ربی جس طرح حقیقی مالک پر اطلاق کیا جاتا ہے۔ اسی طرح مجازی پر بھی اس کا اطلاق ہو سکتا ہے اور رب کا معنی مالک۔ آقا اور سرید ہوتا ہے۔ اسی سورت میں آیت نمبر 44 میں ” اذکر نی عند ربک فانساہ الشیطن ذکر ربہ فلبث فی السجن بضع سنین “ میں بھی رب سے مراد مالک سید آقا اور بادشاہ ہے پھر اس مقام میں مجازی مالک کے مراد ہونے پر قرینہ بھی موجود ہے انہ احسن مثوی جس نے میرا ٹھکانہ اچھا بنایا ہے۔ وہ یقینا عزیز مصر تھا۔ اس نے یوسف (علیہ السلام) کو خریدنے کے بعد ہی اپنی بیوی سے کہہ دیا تھا اکرمی مثواہ عسلی ان ینفعنا او نتخذہ لہذا ان ربی میں مالک مجازی مراد ہے انہ ربی اگر حقیقی مالک (اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس) مراد لی جائے تو بھی درست ہے۔ کیونکہ یہ تمام اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور اس کے فضل و احسان کے نتیجہ میں واقع ہوا ہے لیکن پہلی تفسیر کی تغلیط درست نہیں کیونکہ ضمیر شان کے ساتھ لاحق کر کے رب کا اطلاق کیا گیا ہے تو اس سے عزیز کا مراد لینا درست ہے اور اس لئے بھی کہ رب ان صفات مختصہ میں سے نہیں جن کا اطلاق ہر حال میں غیر اللہ پر ناجائز ہو۔ واللہ علم بالصواب
Ayahs 12:25–29قمیض کا پھٹ جانا
گزشتہ درس میں یوسف (علیہ السلام) کی ابتداء کا ذکر ہوچکا ہے کہ عزیز مصر کی بیوی نے آپ پر فریضتہ ہو کر ڈرے ڈالنے شروع کئے اور برائی پر آمادہ کرنا چاہا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی حفاظت فرمائی۔ جب اس عورت نے دروازے بند کر لئے تو یوسف (علیہ السلام) نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی اور عورت بھی آپ کے پیچھے بھاگی۔ اس واقعہ کو قرآن پاک نے اس طرح بیان کیا ہے۔ واستبقا الباب اور وہ دونوں (یوسف اور زلیخا ) دروازے کی طرف دوڑے ۔ آگے آگے یوسف (علیہ السلام) تھے اور پیچھے پیچھے عزیز مصر کی بیوی تھی۔ یوسف (علیہ السلام) تو برائی سے بچنے کے لئے بھاگے جب عورت انہیں برائی پر آمادہ کرنے کے لئے پکڑنا چاہتی تھی۔ ظاہر ہے کہ عورت نے بھاگ کر پیچھے سے یوسف (علیہ السلام) کی قمیض پکڑ لی ہوگی اور یوسف (علیہ السلام) اسے چھڑانا چاہتے ہوں گے۔ اس کھینچا تانی میں وقدت قمیصہ من دبراس عورت نے یوسف (علیہ السلام) کی قمیض پیچھے سے پھاڑ دی۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ زلیخا نے دروازے کو تالا لگا دیا تھا جو کہ درست نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس نے کنڈا لگا دیا ہو جسے کھول کر یوسف (علیہ السلام) باہر نکلنا چاہتے تھے۔
یوسف (علیہ السلام) کی قمیص کا ذکر پہلے بھی ہوچکا ہے جب کہ بھائیوں نے آپ کی خون آلود قمیص اس دعوے کے ساتھ باپ کے سامنے پیش کی تھی کہ آپ کو بھیڑیا کھا گیا ہے۔ یہاں پر آپ کی قمیص پھٹ جانے کا ذکر ہے اور آگے پھر آپ کی قمیص کا ذکر آئے گا جو آپ نے قاصد کے ہاتھ کنعان بھیجی تھی اور جب وہ قمیص حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے چہرے پر ڈالی گئی تو آپ کی بینائی لوٹ آئی تھی۔
بائیبل اور قرآن میں تضاد
واقعہ یوسف (علیہ السلام) کے اس حصہ میں بائیبل اور قرآن کے بیانات متضاد ہیں۔ بائیبل کا بیان یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کی پوری قمیص زلیخا کے ہاتھ میں رہ گئی یہ بیان بالکل جھوٹ پر مبنی ہے اور یہودیوں کی تحریف کا نتیجہ ہے۔ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ زلیخا کے کھینچنے سے یوسف (علیہ السلام) کی پوری کی پوری قمیص اتر کر اس کے ہاتھ میں آگئی ہو ار آپ برہنگی کی حالت میں باہر کی طرف بھاگے ہوں۔ البتہ قرآن کا بیان مبنی برصداقت ہے کہ آپ کی قمیص کھینچا تانی میں پھٹ گئی۔ دوسرا تضاد یہ ہے کہ بائیبل کے بیان کے مطابق زلیخا نے قمیص دکھا کر عزیز مصر کو شکایت کی کہ تمہارا عبرانی غلام اس کردار کا مالک ہے جس نے میرے ساتھ برائی کا ارادہ کیا اور پھر قمیص چھوڑ کر بھاگ گیا اس پر وہ غصہ سے بھر گیا اور اس نے یوسف (علیہ السلام) کو گرفتار کرا کے فوری جیل بھیج دیا۔ اس مقام پر بھی قرآن پاک کا بیان مختلف ہے کہ جب عزیز مصر نے دیکھا کہ قمیص پیچھے سے پھٹی ہوئی ہے اور اس شیر خوار بچے نے یوسف (علیہ السلام) کی بیگناہی کی شہادت دی تو اس نے اپنی عورت سے کہا کہ یہ تیری فریب کاری ہے ، تو یوسف (علیہ السلام) سے گناہ کی معافی مانگ اور ادھر یوسف (علیہ السلام) سے بھی کہا کہ اس معاملے کو یہیں دفن کردو اور درگزر سے کام لو۔
یوسف (علیہ السلام) کے برائی سے بھاگنے کے حوالے سے فارس کا ایک نہایت عمدہ اور سبق اموز شعر ہے۔
نیست رفتن گرچہ در عالم پدید
ہم چو یوسف خیرہ سر باید دوید
اگرچہ انسان کے لئے پورے جہان میں بھاگ نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو پھر بھی اس کا فرض ہے کہ وہ یوسف کی طرح برائی سے بھاگنے کی پوری کوشش کرے۔
خاوند سے شکایت
فرمایا کہ اس عورت نے یوسف (علیہ السلام) کی قمیص کو پھاڑ دیا مگر اس کے باوجود آپ دروازے سے باہر نکل گئے ، زلیخا بھی پیچھے آ رہی تھی والفیا سیدھا لدا الباب تو پایا ان دونوں نے عورت کے خاوند یعنی عزیز مصر کو دروازے کے پاس۔ یہ حسن اتفاق تھا کہ اس وقت عزیز مصر بھی کہیں قریب ہی تھا۔ جب زلیخا نے اپنے خاوند کو پایا تو اپنی برأت کے لئے فوراً پینترا بدلا اور الٹا یوسف (علیہ السلام) کو قصور وار ٹھہرانے کی کوشش کی قالت ماجزآء من ارادیاھلک سوء “ کہنے لگی ، نہیں سزا اس کی جس نے تیرے اہل کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا ہے الا ان یسجن سوائے اس کے کہ اسے قید کیا جائے۔ او عذاب الیم یا کوئی دوسری سخت سزا دی جائے۔ یعنی پٹائی وغیرہ کی جائے۔ اس موقع پر یوسف (علیہ السلام) کی خاموشی عورت کی بات کی تصدیق کرنے کے مترادف تھی لہذا آپ نے اپنی صفائی پیش کرنے کا حق اسعتمال کیا قال ھی راودتنی عن نفسی فرمایا کہ اس عورت کا بیان غلط ہے حقیقت یہ ہے کہ اسی عورت نے مجھے اپنے نفس سے پھسلانا چاہا ہے۔ مجھے برائی پر آمادہ کرنا چاہتی ہے جب کہ میں بالکل بےقصور ہوں۔
یوسف (علیہ السلام) کی بیگناہی
اس پر زلیخا نے اپنے دعویٰ کی تائید میں کچھ ار باتیں بھی کی ہوں گی اور اپنے خاوند پر اپنی بےگناہی ثابت کر نیکی کوشش کی ہوگی۔ جب عزیز مصر کے لئے حقیقت حال کو معلوم کرنا مشکل ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے یوسف (علیہ السلام) کی بےگناہی ثابت کرنے کے لئے یہ اتنظام فرمایا و شھد شاھد من اھلھا اس عورت کے خاندان میں سے ایک گواہ نے یہ گواہی دی ان کان قمیصہ قدمن قبل اگر یوسف (علیہ السلام) کی قمیص آگے سے پھٹی ہے فصدقت تو زلیخا سچی ہے وھومن الکذبین اور یہ جھوٹا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یوسف (علیہ السلام) نے اقدام کیا ہے اور عورت بچنا چاتہی ہے۔ وان کان قمیصہ قدمن دبر اور اگر آپ کی قمیص پیچھے سے پھٹی ہے فکذبت تو عورت جھوٹی ہے وھو من الصدقین اور یوسف (علیہ السلام) سچے ہیں۔ آپ بھاگنا چاہتے تھے مگر زلیخا نے پیچھے سے پکڑنے کی کوشش میں قمیص کو پھاڑ دیا۔
قرائن کی یہ شہادت عزیز مصر کو پسند آئی فلما راقمیصہ قد …دبر پھر جب اس نے دیکھا کہ یوسف (علیہ السلام) کی قمیص پچیھے سے پھٹی ہوئی ہے ، تو فوراً بات کی تہ تک پہنچ گیا قال انہ من کیدکن اپنی بیوی سے کہا ، یہ تمہاری فریب کاریوں میں سے ہے۔ یعنی تیرا بیان جھوٹ پر مبنی ہے اور حقیقت یہ ہے ان کیدکن عظیم تم عورتوں کے فریب کاریاں بہت بڑی ہوتی ہیں۔
خاندان زلیخا میں سے گواہی دینے والا کون آدمی تھا ؟ اس کے متعلق مفسرین کی دورائیں ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ ایک عاقل اور بالغ شخص تھا ار اس نے نہایت حکیمانہ گواہی دی جس کی بنا پر عزیز مصر کو اصل واقعہ کا علم ہوگیا ۔ البتہ اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ گواہ ایک شیر خوار بچہ تھا۔ اللہ نے اس کو قوت گویائی عطا کی اور اس نے ایسے پیرائے میں گواہی دی کہ یہ براہ راست کسی کے خلاف نہ تھی بلکہ محض ایک قرینے کی نشاندہی کی گی ھتی جو کہ قابل فہم اور قابل عمل تھی ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ چھوٹے بچے کی گویائی کوئی واحد عجوبہ نہ تھی بلکہ اس کے علاوہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بھی بچپن میں ہی اپنی نبوت کی گواہی دی تھی کہ اللہ نے مجھے کتاب بھی دی ہے اور نبوت بھی عطا کی ہے اسی طرح ایک بزرگ حضرت جزیج پر جب ایک فاحشہ عورت نے الزام لگایا تو آپ کی بریت کی گواہی بھی ایک شیر خوار بچے ہی نے دی تھی۔ اصحاب اخدود کے واقعہ میں بھی ایک شیر خوار بچے کے بولنے کا ذکر آتا ہے جس کو اس کی ماں سے چھین کر آگ میں پھینک دیا گیا تھا تو اس نے اپنی ماں کو تسلی دی تھی۔ فرعون کی بیٹی کو کنگھی کرنے والی عورت کے بیٹے کو آگ میں ڈالنے لگے تو اس بچے نے بھی ماں کو صبر کی تلقین کی تھی اور کہا تھا کہ ماں تم حق پر ہو۔
علامت کی اہمیت
کسی مقدمہ میں علامت کی اہمیت کے متعلق مفسرین بحث کرتے ہیں کہ یہ مقدمہ میں کس حد تک اثر انداز ہو سکتی ہے۔ امام ابوحنیفہ اور آپ کے تمام شاگرد کہتے ہیں کہ اگرچہ علامت پر کسی کیس کا قطعی فیصلہ تو نہیں ہو سکتا مگر اس سے فیصلہ کرنے میں مدد تو مل سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی ایک چیز کے دو دعویدار ہوں تو حاکم مجاز ہے کہ وہ کسی ایک فریق کی طرف سے محض علامت قبول کر کے اس کے حق میں فیصلہ دے دے ، تاہم اگر دوسرا فریق مطمئن نہ ہو تو وہ گواہی پر فیصلہ دے گا۔
کیونکہ قطعی فیصلہ گواہی پر ہوتا ہے۔ بہرحال کسی چیز کی علامت تصفیہ میں ممد ضرور ثابت ہو سکتی ہے۔ مثلاً اگر میاں بیوی میں کسی چیز کی ملکیت کے متعلق تنازعہ پیدا ہوجائے تو قاضی اس علامت پر بھی فیصلہ کرسکتا ہے کہ متنازعہ چیز دونوں میں سے کس کے استعمال کی ہے۔ اور اگر متنازعہ چیز مشترکہ استعمال کی ہے تو وہ خاوند کو دے دی جائیگی تاکہ دونوں استعمال کرسکیں۔
تابعین کے زمانے کے قاضی شریح بڑے مشہور قاضی ہوئے ہیں جنہوں نے ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ قضا کی ، ان کی عدالت میں دو عورتیں پیش کی گئیں ، جو بلی کے ایک بچے پر اپنا حق ملکیت جتلاتی تھیں۔ قاضی صاحب نے بلی کا متنازعہ بچہ منگوا کر ایک عوت کے سپرد کیا اور فرمایا …د اگر یہ بچہ ٹک گیا ، اس نے قرار پکڑا اور اس کے اردگرد گھمنے لگا ، انگڑائی لی تو یہ اس کی مانوسیست کی علامت ہوگا اور بچہ اسی عورت کی ملکیت سمجھا جائیگا۔ اگر ھرت فرت واذبعرت غرانے لگا بھاگنے لگا تو اس عورت سے غیر مانوسیت کی علامت ہوگا اور اس کو نہیں دیا جائیگا ۔
تابعین اور تیغ تابعین کے دور میں قاضی ایاس بھی بڑے پائے کے قاضی ہوئے ان کے پاس کاٹی ہوئی اون یا روئی کی ایک اٹی لائی گئی جس کی ملکیت کی دعویدار دو عورتیں تھیں قاضی صاحب نے دونوں عورتوں کو ایک ایک کر کے علیحدگی میں بلایا اور پوچھا کہ یہ سوت تم نے کس چیز پر لپیٹا تھا ایک عورت نے بتلایا کہ اس نے یہ سوت روٹی کے ٹکڑے پر لپیٹا تھا ، جب کہ دوسری عورت نے اخروٹ کا دانہ بتلایا۔ چناچہ اس اٹی کو آخر تک کھولا گیا اور اس میں سے جس عورت کے بیان کے مطابق چیز نکلی اس کے حق میں فیصلہ دے دیا گیا ۔ گویا یہ فصلہ بھی علامت پر ہی تھا۔
عورتوں کی مکاریاں
دوسری بات عورتوں کی مکاری کی ہے جس کی تصدیق عزیز مصر نے کی کہ عورتوں کی مکاریں بہت بڑی ہوتی ہیں۔ اس سلسلہ میں حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے ما رایت ناقصت عقل ودین ازھب للب الرجل الحازم من احدلکن عورتوں سے خطابکے دوران فرمایا کہ تم عقل اور دین میں ناقص ہونے کے باوجود دانا آدمی کی عقل کو خراب کرنے والی ہو یعنی عقلمند آدمی کو بھی چکر دے اتی ہو اگرچہ خود تمہاری عقل ناقص ہے حوضر کا یہ بھی فرمان ہے ما ترکت بعدی فتنۃ اضر علی الرجال من النسآء میں اپنے بعد مردوں کے حق میں عورتوں سے بڑھ کر کسی فتنے کو نہیں چھوڑ چلا۔ اکثر جھگڑے فساد عورتوں کی ذات یا ان کی کارگزاریوں کی وجہ سے ہوتے ہیں حتی کہ بعض عورتوں کی وجہ سے عظیم سلطنتیں بھی آپس میں ٹکرا جاتی ہیں۔
آج کی دنیا میں بھی عورتوں کا فتنہ عروج پر ہے۔ جدید تہذیب و تمدن نے عورت کو بڑی آزادی دی ہے حتی کہ اسے اپنے اصل مقام سے ہی علیحدہ کردیا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ پورے معاشرے کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔ عریانی ، فحاشی اور بےحیائی عا مہو چکی ہے عورتوں کو ایسے مناصب پر فائز کیا گیا ہے۔ جو ان کی صنف کے خلاف ہیں۔ جب عورتیں فوج اور پولیس میں شامل ہوں گی۔ عوام الناس سے تعلق رکھنے والے دفاتر میں ملازمت حاصل کریں گی تو اس سے فتنے کے سوا کیا پیدا ہوگا ؟ حضور ﷺ نے فرمایا ، اے لوگو ! اللہ سے ڈرو بنی اسرائیل میں پہلا فتنہ عورتوں کی وجہ سے پیدا ہوا ، قاضی ثناء اللہ پانی پتی فرماتے ہیں کہ شیطان سے اتنا خوف نہیں آتا جتنا عورت سے آتا ہے کیونکہ شیطان کی فریب کاری کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” ان کید الشیطن کان ضعیفاً (نسآئ) یعنی شیطان کی مکاری تو کمزور ہے مگر عورتوں کی قریب کاری کے متعلق یہاں فرمایا گیا ہے۔ ان کیدکن عظیم یعنی تمہاری مکاریاں بہت بڑی ہیں۔ اسی لئے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ عورتوں کی فریب کاری سے زیادہ چوکنا رہنا چاہئے۔
عزیز مصر کی معاملہ فہمی
بہرحال عزیز مصر نے اپنی بیوی کے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے فرمایا کہ تم نے یہ فریب کیا ہے اور عورتوں کی فریب کاریاں بہت بڑی ہوتی ہیں۔ ادھر یوسف (علیہ السلام) سے کہا ، یوسف اعرض عن ھذا اے یوسف (علیہ السلام) ! اس معاملہ سے درگزر کرو معاف کر دو ، چھوڑ دو ، وہ یوسف (علیہ السلام) پر بالکل خفا نہیں ہوا کیونکہ وہ تو آپ کو بےگناہ سمجھ کر معذرب خواہانہ لہجے میں کہہ رہا ہے کہ اس واقعہ کو عام کرنے سے بدنامی ہوگی ، لہٰذا اس کو یہیں ختم کر دو اور عورت کو معافی دے دو ، کہ اس نے تمہارے ساتھی کی ہے۔ اور ادھر اپنی عورت سے کہا واستغفری لذنبک تم یوسف (علیہ السلام) سے اپنے گناہ کی معافی مانگو ، کیونکہ انک کنت من الخطئین غلطی کا ارتکاب تم نے کیا ہے۔ تو نے اس پر غلط الزام لگایا ہے اور اس کو پھانسنے کی کوشش کی ہے۔ دوسری طرف اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے ، لہٰذا اس سے بھی معافی مانگو اور اپنے گناہ کی تلافی کرو۔