Ayahs 11:1–4نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة ہود ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے عظیم رسول تھے جو حضرت نوع ح کے بعد قوم عاد کی طرف مبعوث ہوئے ، اس سورة میں آپ کی تبلیغ کے حالات بیان ہوئے ہیں ، اس لحاظ سے اس سورة کا نام آپ کے نام پر سورة ہود رکھا گیا ہے۔
گذشتہ سورة یونس کی طرح یہ بھی مکی سورة ہے۔ سورة یونس اور سورة ہود ہجرت سے پہلے مکی زندگی کی آخری سورتیں ہیں اور ان کا زمانہ نزول قریب قریب ہی ہے۔ اس سورة مبارکہ کی ایک سو تیئس آیات اور دس رکوع ہیں۔ ا س میں ایک ہزار چھو سو پچیس کلمات اور چھ ہزار نو سو پانچ سو پانچ حروف ہیں۔
مضامین سورة
اس سورة کا مرکزی مضمون دعوت الی التوحید ہے۔ اس کے علاوہ وحی الٰہی اور قرآن پاک کی صداقت ، رسالت اور قیامت جیسے بنیادی مسائل بیان کئے گئے ہیں اور پھر بعض ضمنی مسائل بھی آگئے ہیں۔ تبلیغ دین کے سلسلے میں رغبت بھی دلائی گئی ہے اور تبلیغ کا طریقہ بھی بتلایا گیا ہے۔ جس طرح اللہ کے انبیاء (علیہم السلام) اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہے ، اسی طرح ہمارا بھی فرض ہے کہ اللہ کے اس آخری دین کو دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچا دیں۔ تبلیغ دین کے ضمن میں حضور ﷺ اور آپ کے متبعین کو جو ناخوشگوار واقعات پیش آئے اور جو مصائب برداشت کرنے پڑے ان پر اللہ نے صبر کی تلقین بھی کی ہے۔ جس طرح سورة اعراف میں بعض انبیاء کی تاریخ بیان کر کے عالمی دعوت اسلام کا ذکر کیا گیا تھا ، اسی طرح اس سورة میں بھی بعض انبیاء (علیہم السلام) کا تذکرہ کر کے ان کی قوموں کے برے انجام سے عبرت دلائی گئی ہے ، گذشتہ سورة یونس میں حضور ﷺ کے علاوہ جلیل القدر انبیاء حضرت نوع (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت ہارون (علیہ السلام) اور حضرت یونس (علیہ السلام) اور ان کی اقوام کا ذکر تھا مگر اس سورة مبارکہ میں دیگر بہت سے رسولوں کا تذکرہ آرہا ہے ، گذشتہ سورة میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر اجمالا کیا گیا تھا مگر اس سورة میں تفصیل کے ساتھ واقعات آئیں گے اس طرح حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کا نصیحت اور عبرت پر مشتمل اہم حصہ بیان ہوگا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر ہوگا ، اور پھر خود حضور نبی کریم (علیہ السلام) کا طریقہ تبلیغ اور اس راستے میں پیش آنے والی مشکلات کا ذکر بھی آئے گا۔
سورۃ اعراف میں حضرت نوح (علیہ السلام) کا یہ قول گزر چکا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا (آیت) ” یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ “ اے میری قوم اللہ کی عبادت کرو ، اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اسی طرح یہی بات یہاں حضور ﷺ کی زبان سے کہلوائی جارہی ہے ” الا تعبدوا الا اللہ “ یعنی اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ اللہ نے نوح (علیہ السلام) ، شعیب (علیہ السلام) اور صالح (علیہ السلام) کی بھی یہی تبلیغ بیان فرمائی ہے کہ اللہ کی واحدانیت کو مانو ، اس کے علاوہ کسی کو معبود نہ بنائو۔ غرضیکہ اس سورة مبارکہ کا مرکزی مضمون بھی دعوت الیٰ التوحید ہی ہے اور سورة کی ابتداء بھی اسی مضمون سے کی گئی ہے قرآن پاک کی حقانیت ، اللہ کی توحید ، انبیاء کی رسالت اور معاد کے ذکر کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی خطائوں پر توبہ اور استغفار کر نیکی ترغیب بھی دی ہے۔
حروف مقطعات
سورۃ کی ابتداء ” الر ” کے حروف مقطعات سے ہوتی ہے ان حروف کی تفسیر مفسرین کرام مختلف طریقوں سے کرتے ہیں۔ حروف مقطعات کے متعلق جلالین والے بزرگ اس نتیجے پر پہنچے ہیں (1۔ جلالین ، ص 4) اللہ اعلم بمرادہ امنا بذلک “ اس کی حقیقی مراد اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ ہمارے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ ان حروف سے اللہ کی جو مراد ہے وہ برحق ہے اور ہمارا اس پر ایمان ہے یہ ضروری نہیں کہ ہمیں ہر چیز کا علم حاصل ہو۔ روزمرہ زندگی میں ہمیں بیشمار چیزوں سے واسطہ پڑتا ہے جن کی حقیقت سے ہم واقف نہیں ہوتے یا بہت کم علم رکھتے ہیں۔ علیم کل صرف ذات خداوندی ہے لہٰذا سلف صالحین نے حروف مقطعات کے بارے میں زیادہ بحث نہیں کی۔
امام شعبی (رح) امام ابوحنیفہ (رح) کے استاد اور تابعین میں سے ہیں۔ آپ نے پانچ سو صحابہ ؓ سے فیض حاصل کیا ہے ، کوفے میں رہتے تھے۔ آپ عظیم محدث تھے کسی نے آپ سے حروف مقطعات کے متعلق دریافت کیا تو فرمایا ” سر اللہ فلا تطلبوا “ یہ اللہ کے راز ہیں ، ان کے پیچھے مت پڑو کرید کرو گے تو حاصل کچھ نہیں ہوگا۔ بلکہ گمراہ ہونے کا خطرہ ہے۔ سلامتی اسی میں ہے کہ اس معاملے کو اللہ کی طرف سونپ دو ۔
حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس چیز کو تم جانتے ہو ، اس کو کہو اور جس کو نہیں جانتے ” وکلوہ الی عالمہ “ اس کو جاننے والے کی طرف سونپ دو ۔ تم خواہ مخواہ اس میں دخل اندازی نہ کرو ، ورنہ متشابہات میں پڑ کر گمراہ ہونے کا خطرہ ہے۔ اسی وجہ سے کئی لوگ گمراہ ہوئے اور پھر علیحدہ علیحدہ فرقے بنے۔ فرقہ مشبہ اور معطلہ وغیرہ ایسی آیات میں زیادہ کرید کی وجسہ سے ہی پیدا ہوئے مثلا کوئی یہ سوچنے لگ جائے کہ رحمان عرش پر کیسے مستوی ہے ، یا اللہ کے ہاتھ ، اس کے چہرہ اور پنڈلی کیسی ہے۔ قرآن پاک میں ان چیزوں کا ذکر موجود ہے مگر ان کی کیفیت معلوم نہیں ، لہٰذا ایسے معاملات میں کرید نہیں کرنی چاہیے۔ البتہ حضرت عبداللہ بن عباس رض ، حضرت علی ؓ اور بعض مفسرین نے لوگوں کے ذہنوں کو قرآن پاک سے قریب تر لانے کے لیے ان الفاظ کے کچھ معانی بھی بتائے ہیں مگر یہ محض احتمال اور ظن غالب ہے ، قطعی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) الہامی طریقے پر فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میرے ذوق میں یہ چیز ڈال دی ہے کہ عالم غیب سے حقائق غیبیہ یعنی دین کی تعلیم اور اس کے بڑے بڑے اصول انبیاء کی معرفت اس عالم تخلیط میں متعین ہوتے ہیں جو کہ اس مادی جہان کے عقائد فاسدہ ، رسومات بد ، اخلاق بد ، شرور اور قبائح کے ساتھ ہر وقت ٹکراتے رہتے ہیں۔ چناچہ اس کی وضاحت آگے آرہی ہے کہ مختلف انبیاء نے فریضہ تبلیغ کس طرح ادا کیا اور ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا۔ تو شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ خیرو شر کے اس ٹکرائو سے مقام انبیاء کی طرف اشارہ ملتا ہے اور ان حروف مقطعات سے یہی مراد ہے۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ’ 1 ‘ کا اشارہ انا کی طرف ہے۔ ل سے اللہ مراد ہے اور ر سے مقصود رئویت ہے اور اس طرح ” الر “ کا مفہوم بنتا ہے ” انا اللہ اری “ یعنی میں اللہ ہوں اور دیکھ رہا ہوں۔ گویا تم میں سے اطاعت گزراوں کی اطاعت اور نافرمانوں کی نافرمانی سب کو دیکھ رہا ہوں اور ہر ایک کو اس کے مطابق بدلہ دوں گا۔ بہرحال میں نے عرض کردیا کہ عوام کو یہی ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ ان حروف کی حقیقی اور اصل مراد اللہ ہی جانتا ہے۔ ہمارا اس پر ایمان ہے کہ یہ برحق ہے۔
محکم آیات
اب ابتدائے سورة میں قرآن پاک کی صداقت اور حقانیت کو ذکر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” کتب احکمت ایتہ “ یہ کتاب ہے جس کی آیات کو محکم کیا گیا ہے۔ محکم کا معنی مضبوط اور اٹل ہوتا ہے ، اور اس سے مراد یہ ہے کہ اس کتاب کی آیات میں قطعیت پائی جاتی ہے یہ ناقابل تنسیخ اور اس کے اصول و ضوابط ہر دور کے لیے واجب العمل ہیں جن پر عمل پیرا ہو کر انسانوں کو فلاح نصیب ہوگی۔ تو فرمایا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ قرآن پاک کی آیتیں محکم ہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ (آیت) ” ثم فصلت من الدن حکیم خبیر “ پھر خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے ان آیات کی تفصیل بھی کی گئی ہے۔ اب اس تفصیل کا مطلب کئی طریقے سے بیان کیا جاتا ہے تفصیل کا ایک مطلب تو یہ ہو سکتا ہے کہ پہلے اس کے اصول وقواعد کو پڑھ لو ، سن لو اور اچھی طرح یاد کرلو اور اس کے بعد اس کی تفصیل میں جائو۔ اور دوسرا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اس کتاب میں دین کے تمام عقائد ، احکام اور مسائل کو تفصیل کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے اور یہ تفصیل بھی خدا تعالیٰ کی جانب سے ہوئی ہے۔ موقع اور محل کے مطابق کہیں عقیدے کا ذکر ہے تو کہیں اعمال کی تفصیلات ہیں اور کہیں اخلاقیات کی تعلیمات کا ذکر ہے۔ تا ہم اگر ایک جگہ پر کسی چیز کا اجمالا بیان کیا گیا ہے تو دوسری جگہ اس کی تفصیلات آگئی ہیں اور اس کی تمام ضروری جزئیات کو واضح کردیا ہے اسی لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان آیات کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے
اصول تفسیر
قرآن پاک کی تفسیر کے سلسلے میں اصول یہ ہے کہ کسی آیت کی تفسیر باتشریح سب سے پہلے خود قرآن پاک میں تلاش کرو۔ اگر کسی مقام پر بات واضح نہیں ہوئی تو دوسرے مقام پر ہوجائے گی۔ اور اگر کسی مسئلہ کی تفسیر وتشریح قرآن پاک میں نہ ملے تو پھر تفسیر کا دوسرا اصول یہ ہے کہ اللہ کے نبی کی طرف رجوع کرو کہ انہوں نے مطلوبہ تشریح فرما دی ہوگی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس بات کا پابند کیا ہے (آیت) ” لتبین للناس ما نزل الیھم “ (النحل) کہ جو کچھ آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے ، لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کردیں تا کہ کسی قسم کا اشکال باقی نہ رہے۔ سورة آل عمران میں آتا ہے (آیت) ” ھذا بیان للناس “ یہ لوگوں کے لیے وضاحت ہے جو کہ نبی کی زبان سے کرائی گئی ہے۔ اگر بفرض محال کسی بات کی تشریح نبی کی زبان میں میں بھی نہ ملے تو پھر حضور ﷺ کے صحابہ کرام ؓ بالخصوص خلفائے راشدین ؓ اور آپ کے اہل بیت کی طرف رجوع کیا جائے گا اور وہاں سے تشریح معلوم کی جائے گی۔ ہر دور میں حوادثات پیش آتے رہتے ہیں اور مکان وزمان کے لحاظ سے نئے نئے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ لہٰذا اگر کوئی ایسا معاملہ پیش آجائے جس کا حل صحابہ کرام ؓ کے اقوال میں بھی نہ ہو تو قرآن میں یہ عام اصول بیان کردیا گیا ہے (آیت) ” لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم “ (النسائ) تو پھر ان لوگوں کی طرف رجوع کیا جائے جنہیں اللہ نے اجتہاد واستنباط کا ملکہ عطا کیا ہے۔ وہ بتا دیں گے کہ فلاں مسئلہ فلان آیت یا اس کے ضمن سے ثابت ہو رہا ہے اور اس طرح قرآن پاک کی کسی بھی آیت کی مطلوبہ تشریح و تفسیر حاصل ہوجائے گی۔ یاد رکھنا چاہیے کہ تفصیل مذکورہ کسی بھی ذریعہ سے حاصل ہو خدائے حکیم وخبیر کی طرف سے متصور ہوگی۔ غرضیکہ نبی کا بیان ، صحابہ کی تشریح یا مجتہد کا استنباط سب اللہ کی طرف سے ہوگا ، کیونکہ مجتہد کا اجتہاد بھی اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ علم وفہم کی بناء پر ہی ہوگا ، تفسیر کے یہ اصول امام ابوبکر جصاص (رح) نے اپنی تفسیر میں بیان کیے ہیں۔
قرآن پاک کی تفہیم کے سلسلے می آجکل اصول تفسیر کی پابندی نہیں کی جا رہی ہے۔ پرویز جیسے بعض نئے مفسرین دراصل جہاں ہیں جو قرآن پاک کی من مانی تفسیریں کر رہے ہیں۔ امام شافعی (رح) امام ابن تیمیہ رح۔ شاہ ولی اللہ (رح) اور مولانا رشید احمد گنگوہی (رح) فرماتے ہیں کہ صحیح سند سے ثابت ہونے والی ہر حدیث قرآن پاک کی شرح ہے۔ اگر کوئی شخص حدیث سے بےنیاز ہو کر قرآن پاک کی تفسیر کرے گا تو گمراہی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ایسا مفسر حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنا دے گا ، لہٰذا قرآن پاک کی تشریح و تفسیر کے لیے مسلمہ اصولوں کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا ہوگا۔
عبادت خداوندی
فرمایا یہ کتاب ہے جس کی آیتوں کو محکم کیا گیا ہے اور خدا تعالیٰ کی جانب سے اس کی تفصیل کی گئی ہے۔ اس میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ” الا تعبدوا الا اللہ “ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی کرو ، یعنی اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو ، عبادت کا معنی انتہائی درجے کی تعظیم ہوتا ہے۔ یہ تعظیم قول ، فعل ، مال ، جسم قالب اور جان سے بھی ہوتی ہے۔ انتہائی تعظیم میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جس ذات کی تعظیم کی جارہی ہے۔ وہ قادر مطلق ، علیم کل ، مختار کل ، نافع اور ضار ہے۔ وہ ذات ہماری غائبانہ پکار کو سنتی اور ہماری حاجت روائی کرتی ہے ، ہمہ دان ، ہمہ بین اور ہمہ تو ان ہے اس کے سوا کوئی بااختیار ذات نہیں جو ہر چیز کو جانتی اور سب کچھ کرسکتی ہو یہ صفات چونکہ صرف اللہ تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں لہٰذا فرمایا کہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کی کرو۔ کیونکہ عبادت کے لائق صرف وہی ذات ہے۔
توحید کے بعد دوسری اہم بات رسالت ہے جس کے متعلق ارشاد ہے (آیت) ” اننی لکم منہ نذیر وبشیر “ بیشک میں خدا تعالیٰ کی جانب سے تمہارے لیے ڈرانے والا اور بشارت سنانے والا ہوں میں تمہیں افعال بد سے ڈرا رہا ہوں کہ ان کا انجام بہت برا ہوگا ، تمہیں ان افعال کی سزا بھگتنا پڑے گی۔ اور بشیر اس لحاظ سے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرے گا ، نیک اعمال انجام دے گا ، اس کو خوشخبری دیتا ہوں کہ اسے فلاح نصیب ہوگی اور اسے جنت میں اعلیٰ درجات عطا ہوں گے۔
استغفار کی برکات
فرمایا اس کتاب کی محکم آیات میں یہ حکم بھی دیا گیا ہے (آیت) ” وان استغفروا ربکم “ اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو ، ہر شخص سے کوئی نہ کوئی غلطی سرزد ہوتی رہتی ہے جس کا علاج یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ معافی مانگتے رہو (آیت) ” ثم توبوا لیہ “ اور ہر طرح ، خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرو۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ تو بہ پہلے ہوتی ہے اور استغفار بعد میں ، مگر بعض دوسرے اصحاب فرماتے ہیں کہ پہلے کفر ، شرک ، بدعات اور معاصی سے معافی طلب کرنی چاہیے اور اس کے بعد فرمانبرداری کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع ہونا چاہیے۔ بہرحال فرمایا کہ اگر استغفار کرتے رہو گے اور خدا تعالیٰ کے سامنے توبہ کرو گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا (آیت) ” یمتعکم متاعا حسنا الی اجل مسمی “ کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک مقررہ مدت تک اچھا فائدہ پہنچائے گا۔ جب تک اس دنیا میں زندگی حاصل رہے گی ، اتنی مدت تک اللہ تعالیٰ بہتر فائدہ دیتا رہے گا (آیت) ” ویوت کل ذی فضل فضلہ “ اور فضیلت والے کو اپنے فضل سے خاص طور پر زیادہ عطا کریگاگویا استغفار کرنے اور توبہ کرنے والے کہ یہ دو فوائد حاصل ہوں گے۔
متاع حسن
امام محمد بن ابوبکر عبدالقادر رازی (رح) فرماتے ہیں کہ دنیا میں متاع حسن تو نافرمانوں کو بھی مل رہا ہے بلکہ ہر دور میں نافرمان زیادہ آسودہ حال نظر آتے ہیں تو یہاں پر توحید کو مان کر استغفار کرتے اور توبہ کرنے والوں کو کیا خصوصیت حاصل ہے ؟ اس سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ یہاں پر متاع حسن سے مراد دنیا کا مال و دولت اور جاہ واقتدار نہیں بلکہ اس سے پاک زندگی مراد ہے جس کے متعلق سورة نحل میں آتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد جو کوئی نیک اعمال انجام دے گا خواہ مرد ہو یا عورت (آیت) ” فلنحیینہ حیوۃ طیبۃ “ ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور یہ زندگی اس شخص کو حاصل ہوگی جو نیکی کرنے والا ، اللہ کی رضا پر چلنے والا ، اعمال صالحہ انجام دینے والا ، برائی سے بچنے والا اور توبہ و استغفار کرنے والا ہوگا ایسے شخص کو مدت حیات تک پاکیزہ زندگی نصیب ہوگی۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ فضیلت والا آدمی وہ ہے جس کی نیکیاں برائیوں پر غالب ہوں۔ امام قشیری (رح) اور بعض دوسرے بزرگ فرماتے ہیں کہ صاحب فضیلت وہ شخص ہے جسے اللہ نے نوشتہ ازلی میں فضیلت والوں درج کر رکھا ہے۔ ایسا شخص ہمیشہ فضیلت والے کام انجام دیتا رہے گا۔ بعض فرماتے ہیں کہ صاحب فضیلت وہ آدمی ہے جس کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ دوسروں کے کام پورے کراتا ہے ظاہر ہے کہ ایسا شخص وہی ہوگا جو صاحب ایمان ہوگا اور اس کے ہاتھوں سے مخلوق خدا کا بھلا ہو رہا ہوگا۔ بنی نو انسان میں انبیاء (علیہم السلام) سب کے سب اس فہرست میں آتے ہیں اور ان کے بعد ان کو صحیح طریقے سے ماننے والے اور شریعت پر عمل کرنے والے لوگ صاحب فضیلت ہیں۔ یہ لوگ دنیا کے پیشوا تھے اور ان کے ہاتھ سے اللہ نے دنیا کو فیض پہنچایا۔
خوف خدا
فرمایا (آیت) ” وان تولوا “ اگر تم رو گردانی کروگے ، توحید کا انکار کروگے توبہ اور استغفار نہیں کرو گے تو سن لو (آیت) ” فانی اخاف علیکم عذاب یوم کبیر “ کہ میں خوف کھاتا ہوں تم پر بڑے دن کے عذاب سے بڑے دن سے مراد قیامت ہے اور مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم اس دن کے عذاب کا شکار نہ بن جائو۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق سورة مطففین میں ہے (آیت) ” الا یظن اولئک انھم مبعوثون لیوم عظیم یوم یقوم الناس لرب العلمین “ کیا یہ خیال نہیں کرتے کہ مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ ایک بڑے دن میں جس دن تمام لوگ رب العلیم کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ فرمایا تم دنیا میں جو کچھ بھی کرو ، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو یا اس کی نافرمانی کرو ، ہر حالت میں (آیت) ” الی اللہ مرجعکم “ تمہیں خدا تعالیٰ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ ہر شخص کو خدا کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کی جو ابداہی کرنا ہے۔ اس سے کوئی شخص مستثنی نہیں ہے (آیت) ” وھو علی کل شئی قدیر “ اور وہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ وہ تمہارے شرک اور معصیت کو معاف نہیں کرے گا بلکہ یقینا بدعقائد اور بداعمال کی سزا دے گا۔ لہٰذا ابھی سے سوچ لو اور اس کے پیغام کو قبول کرلو۔ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، اس کی توحید میں شرک کی ملاوٹ نہ کرو اور ہر وقت اپنی کوتاہیوں کی معافی مانگتے رہو اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع رکھو ورنہ حالات خراب ہوجائیں گے۔ خدا تعالیٰ قادر مطلق ہے ، اسی کے سامنے لوٹ کر جانا ہے اگر تم روگردانی کرو گے تو وہ یقینا سزا دے گا۔
Ayahs 11:5–6ربط آیات
سورۃ کی پہلی آیت کریمہ میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کے بعد سورة کے مرکزی مضمون توحید کا بیان ہوا ” الاتعبدوا الا اللہ “ اس کے بعد رسالت کا تذکرہ ہوا اور نبی (علیہ السلام) کی زبان سے کہلوایا گیا کہ میں نذیر اور بشیر ہوں۔ پھر دوسری اہم بات یہ ذکر کی انسانوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتے رہیں اور اسی کی طرف رجوع کریں جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ انہیں اطاعت اور خوشنودی والی بہتر زندگی عطا کریگا۔ اگر انسان اللہ تعالیٰ کے احکام سے اعراض کریں گے تو بڑے دن یعنی قیامت کے عذاب میں مبتلا ہوں گے خدا تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے لہٰذا منکرین خدا کے عذاب سے بچ نہیں سکیں گے۔
شان نزول
آج کی پہلی آیت (آیت) ” الا انھم یثنون “ کا تعلق بھی گذشتہ مضمون کے ساتھ مربوط ہے تا ہم اس کے شان نزول کے متعلق مفسرین کرام کی دو متضاد راہیں ہیں۔ امام بخاری (رح) نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حضور ﷺ کے صحابہ ؓ بعض اوقات قضائے حاجت یا بیویوں سے علیحدگی کے موقع پر برہنگی کو شدت سے محسوس کرتے تھے۔ انہیں پردے کا بڑا خیال ہوتا تھا اور برہنگی سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کرتے تھے۔ صحابہ کرام ؓ ایسے مواقع پر اپنے کپڑوں کو اچھی طرح سمیٹ لیتے تھے کہ بےپردگی نہ ہو۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرما کر یہ بات سمجھا دی کہ انسان کا مواخذہ اسی حد تک ہوگا جس قدر وہ طاقت رکھتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر تکلیف ” مالا یطاق “ نہیں ڈالی۔ تا ہم ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ برہنگی سے بچنے کی کوشش کرے اور اپنے اعضائے مستورہ کو ظاہر نہ ہونے دے۔
امام بغوی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین ان آیات کے شان نزول کے متعلق فرماتے ہیں کہ یہ اللہ کے باغیوں اور نافرمانوں کے متعلق نازل ہوئیں جیسا کہ امام بیضاوی (رح) نے لکھا ہے کافر اور مشرک لوگ خیال کرتے تھے کہ اگر ہم دین اسلالم پیغمبر اسلام یا قرآن پاک کے متعلق پوشیدہ طور پر کوئی منصوبہ بندی کریں گے تو مسلمانوں کو پتہ نہیں چل سکے گا۔ شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کفار کی خفیہ سازش کو بذریہ وحی حضور ﷺ پر ظاہر کردیتے تھے۔ جب حضور ﷺ ایسی بات کو بیان کرتے تو کفار ومشرکین پریشان ہوجاتے ۔ بعض سمجھتے تھے کہ ان کی مخفی تدابیر کو کوئی مسلمان چھپ کر سن لیتا ہے اور پھر اسے حضور ﷺ تک پہنچا دیتا ہے جسے آپ ظاہر فرما دیتے ہیں۔ مگر اللہ نے فرمایا کہ ایسی بات نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ علیم کل ہے ، وہ ہر چیز کو جانتا ہے ، وہ تمہاری تمام حرکتوں اور سازشوں سے واقف ہے اور اپنے نبی کو اس پر مطلع کردیتا ہے۔
آج کے درس کی دوسری آیت بھی اسی مضمون کے ساتھ مربوط ہے جب اللہ تعالیٰ ذرے ذرے کو جانتا ہے تو اپنی تمام مخلوق کے حالات سے بھی واقف ہے اور پھر ہر جاندار کو روزی پہنچانے پر قادر بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر انسان کے ہر عمل سے بھی واقف ہے اور وہ ہر عمل کا بدلہ دینے پر بھی قدرت رکھتا ہے تو اس سے جزائے عمل کا برحق ہونا بھی ثابت ہوتا ہے غرضیکہ ان سب باتوں کا سورة کے مرکزی مضمون توحید کے ساتھ ربط ہے۔ جب قادر مطلق ، علیم کل اور رزاق صرف اللہ تعالیٰ ہے تو پھر عبادت بھی صرف اسی کی کرو ، اپنی حاجتوں میں غائبانہ طور پر صرف اسی کو پکارو اور اسی سے مدد چاہو۔
اللہ کا علم محیط
ارشاد ہوتا ہے ” الا “ سنو ، آگاہ رہو (آیت) ” انھم یثنون صدورھم “ بیشک یہ لوگ (کفار ومشرکین) موڑتے ہیں اپنے سینوں کو (آیت) ” لیستخفوا منہ “ تا کہ اس سے چھپ جائیں اور ان کا ستر ظاہر نہ ہو۔ سینے کا موڑنا دو متضاد وجوہات کی بنا پر ہوسکتا ہے اہل ایمان توحیا داری کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں تا کہ برہنہ نہ ہوں۔ مگر اللہ نے فرمایا کہ اتنے تکلف کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ مجبوری ہے اور اس پر مواخذہ نہیں ، البتہ ادب کو حتی الامکان ملحوظ خاطر رکھو اور زیادہ پریشان نہ ہو۔ شریعت نے جس حد تک پابندی لگائی ہے صرف اسی کو پورا کرو۔ اور اگر سینہ موڑنے کے مصداق کافر ومشرک ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دین کے خلاف خفیہ سازشیں کرتے ہیں اور پھر اپنے منصوبوں کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرمایا ” الا “ (آیت) ” حین یستغشون ثیابھم “ جس وقت وہ اپنے کپڑوں کو سمیٹتے ہیں۔ یعنی مومن حیاداری کی وجہ سے کپڑوں کو سمیٹتے ہیں اور کافر اپنی سازش کے ظاہر ہوجانے کے ڈر سے کپڑے سمیٹتے ہیں تو اللہ نے فرمایا (آیت) ” یعلم ما یسرون وما یعلنون “ کہ وہ جانتا ہے اس چیز کو جس وہ چھپاتے ہیں اور جس کو ظاہر کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ لوگ کتنے بھی حیلے بہانے کریں ، کسی چیز کو مخفی رکھنے کی کوشش کریں اللہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ بول وبراز ، غسل یا بیوی سے خلوت کے وقت برہنہ ہونا پڑتا ہے مگر یہ طبعی امر ہے اور اس پر کوئی مواخذہ نہیں۔ فرمایا (آیت) ” انہ علیم بذات الصدور “ وہ اللہ تو سینوں کے رازوں کو بھی جاننے والا ہے ، اس سے کوئی چیز کیسے مخفی رہ سکتی ہے۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ سینوں کے موڑنے سے اس طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ لوگ اپنے اندر باطل فکر رکھتے ہیں ، غلط طریقے پر سوچتے ہیں اور فضول شکوک و شبہات کے ذریعے وحی الٰہی کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں ، مگر یہ لوگ خدا تعالیٰ سے تو نہیں چھپ سکتے۔ اللہ تعالیٰ تو دلوں کے رازوں کو جانتا ہے ، لہٰذا یہ لوگ غلط عقائد اختیار کر کے اور غلط اعمال انجام دے کر خدا کی گرمت سے نہٰں بچ سکتے۔
رزق کی ذمہ داری
اب اگلی آیت بھی اسی آیت کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے ارشاد ہے (آیت) ” وما من دابۃ فی الارض “ اور نہیں ہے کوئی بھی زمین پر چلنے پھرنے والا جانور (آیت) ” الا علی اللہ رزقھا “ مگر اس کی روزی اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ عربی زبان می دابہ گھوڑے کو بھی کہتے ہیں مگر عام اصطلاح میں زمین پر پائوں سے چلنے پھیرنے والے جانور اور رینگنے والے کیڑوں کو دابہ کہا جاتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ سب کو خوراک مہیا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ یہاں پر اشکال پیدا ہوتا ہے کہ زمین پر چلنے پھیرنے والے جانداروں کا ذکر تو آگیا ہے مگر ہوا میں اڑنے والے پرندوں کو بھی اللہ تعالیٰ ہی روزی پہنچاتا ہے ، ان کا ذکر کیوں نہیں آیا۔ اس ضمن میں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ پرندوں کی نسبت زمین میں رہنے والے جانداروں کی تعداد بہت زیادہ ہے اس لیے محض دابہ کا لفظ استعمال کیا ہے ، وگرنہ بلاشبہ ہوا میں اڑنے والے پرندوں اور پانی میں رہنے والی ساری مخلوق کا روزی رساں وہی اللہ تعالیٰ ہے۔
ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ اے لوگو ! دیکھو ! صبح کے وقت پرندے خالی پیٹ اپنے گھونسلوں سے نکلتے ہیں اور پیت بھر کو واپس لوٹ آتے ہیں۔ وہ اللہ کے توکل پر نکلتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انہیں روزی پہنچاتا ہے۔ اگر تم بھی اللہ پر ایسا ہی توکل کرو تو وہ تمہیں بھی ایسا ہی رزق پہنچائے گا۔ اللہ نے اپنے فضل سے تمام جانداروں کی روزی اپنے ذمہ لے رکھی ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے (آیت) ” الا وان نفسا لن تموت حتی تستکمل رزقھا “ کوئی جاندار اپنی روزی پوری کیے بغیر نہیں مرتا۔ جب تک اللہ کو اس کی زندگی مقصود ہوتی ہے اسے رزق ملتا رہتا ہے۔ جو روزی اللہ کے حکم میں کسی شخص یا کسی جاندار کے لیے مقدر ہے وہ اسے کھائے بغیر نہیں مر سکتا۔ اور اللہ تعالیٰ اس کی حین حیات روزی کے ایسے ایسے سامان پیدا کرتا ہے جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے ، لہٰذا انسان وحیوان اپنی روزی کی جگہ پر لازما پہنچ جاتا ہے۔
دو چیز آدمی راکشد زور زور
یکے آب ودانہ دگر خاک گور
یعنی دو چیزیں آدمی کو زبردستی اپنی طرف کھینچ کرلے جاتی ہیں ، ایک اس کی خوراک اور پانی اور دوسری اس کی قبر کی مٹی۔ آب ودانہ بھی انسان کو کھینچ کر کسی نہ کسی بہانے لے جاتا ہے اور اسی طرح انسان اپنی موت کے مقام پر کسی نہ کسی طریقے سے ضرور پہنچ جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مقررہ وقت تک ہر جاندار کو روزی پہنچاتا اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے اپنے ذمے لے رکھا ہے۔
امام رازی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی نازل ہو رہی تھی اور آپ کو اپنے گھروالوں کی روزی کا خیال آرہا تھا۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی تو فرمایا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اس سامنے والے پتھر پر اپنی لاٹھی مارو۔ جب لاٹھی ماری گئی تو پتھر دو ٹکڑے ہوگیا اور اس کے اندر سے ایک اور پتھر برآمد ہوا۔ اللہ نے فرمایا ، اس پتھر کو بھی ضرب لگائو۔ جب ایسا کیا تو اس کے بھی دو ٹکڑے ہوگئے اور اس میں سے ایک تیسرا پتھر نکلا۔ پھر حکم ہوا کہ اس تیسرے پتھر کو بھی توڑ دو ۔ جب وہ بھی توڑا گیا تو اس پتھر میں سے ایک چیونٹی جیسا چھوٹا سا کیڑا برآمد ہوا جس کے منہ میں اس کی خوراک سبز پتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے حجاب اٹھا دیا تو آپ نے دیکھا کہ وہ چھوٹا سا کیڑا زبان حال سے یہ تسبیح بیان کر رہا تھا۔ ” سبحان من یرانی ویسمع کلامی ویعلم مکانی ویذ کرنی ولا ینسی “ پاک ہے وہ ذات جو مجھے دیکھ رہی ہے ، میرے کلام کو سن رہی ہے میری قیام کی جگہ کو جانتی ہے۔ مجھے یاد رکھتی ہے اور بھولتی نہیں اس سے موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ باور کرانا مقصود تھا کہ جو اللہ تعالیٰ پتھر در پتھر میں رہنے والے کیڑے کو اس کی روزی پہنچا رہا ہے وہ اس کے گھرو الوں سے کسیے غافل ہو سکتا ہے ، بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ کوئی پرندہ خوراک کے لیے دانہ دور سے چونچ میں پکڑ کر لاتا ہے تا کہ گھونسلے میں جا کر خود کھائے یا اپنے بچوں کے منہ میں ڈال دے مگر وہ دانہ ان کی خوراک نہیں ہوتا بلکہ کسی دوسرے جاندار کے مقدر میں ہوتا ہے۔ چناچہ وہ دانہ اس کی چونچ سے گرتا ہے اور نیچے گندی نالی کے کنارے موجود کیڑے کی خوراک بن جاتا ہے۔ یہ اس کیڑے کا رزق تھا جو اللہ ن پرندے کے ذریعے اس کے مقام تک پہنچایا۔
امام قرطبی (رح) اور بعض دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ قبیلہ اشعر کے لوگ یمن سے ہجرت کر کے مدینہ کی طرف بذریہ بحری سفر آرہے تھے کہ راستے میں جہاز کو حادثہ پیش آگیا اور وہ حجاز کی بجائے حبشہ کے ساحل پر پہنچ گئے اور پھر یہ لوگ حبشہ سے ڈیل ہجرت کر کے مدینہ طیبہ پہنچے مشہور صحابی حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کے قبیلے کے یہ لوگ مدینے میں بےسروسامانی کی حالت میں پہنچے۔ ایک موقع پر انہوں نے اپنا ایک آدمی حضور ﷺ کی خدمت میں یہ پیغام دے کر بھیجا کہ ہمارا راشن ختم ہوگیا ہے ، اس کے لیے کوئی انتظام فرمائیں۔ وہ شخص جب حضور ﷺ کے گھر پہنچا تو اندر سے حضور کی زبان مبارک سے اسی آیت کی تلاوت آرہی ہے (آیت) ” وما من دابۃ فی الارض الا علی اللہ رزقھا “ جب اس شخص نے یہ الفاظ سنے تو اس کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ ہم بھی اللہ کی مخلوق ہیں۔ جب وہ ہر جاندار کی روزی کا ذمہ دار ہے تو ضرور ہمارے لیے بندوبست کریگا ، ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ چناچہ اس شخص نے حضور ﷺ سے کوئی بات نہ کی اور اسی طرح واپس اپنے قبیلے کے لوگوں کے پاس آگیا اور کہنے لگا تمہیں خوشخبری ہو کہ اللہ کی مدد آرہی ہے ساتھی مطمئین ہوگئے کہ حضور ﷺ نے مدد کا وعدہ کیا ہوگا۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ ان کے پاس دو آدمی آئے جن کے پاس ایک بہت بڑا برتن تھا ، جس میں گوشت اور روٹیاں تھیں۔ سب نے کھانا کھایا مگر پھر بھی بچ گیا انہوں نے وہ کھانا دو آدمیوں کے سپرد کیا کہ اے حضور ﷺ کی خدمت میں لے جائو ، کھانا بھیجنے کا شکر ادا کرو اور ساتھ یہ بھی کہو کہ یہ بچ گیا ہے کسی اور ضرورت مند کو دے دیں۔ جب وہ آدمی کھانا لے کر پہنچے تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تو تمہارے لیے کوئی کھانا نہیں بھیجا تھا۔ پھر جب پورے معاملے کی وضاحت ہوئی تو آپ نے فرمایا کہ بیشک اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے اور وہ جس کے لیے چاہے اسی طرح روزی کا سامان مہیا کرتا ہے۔ جب تک کسی کی زندگی مقصود ہوتی ہے ، رزق پہنچتارہتا ہے ، جب اس کا وقت پورا ہوجاتا ہے تو روزی کا سلسلہ بھی منقطع ہوجاتا ہے۔
مستقر اور مستودع
فرمایا اللہ تعالیٰ زمین کے ہر جاندار کو روزی پہنچانے کا ذمہ دار ہے (آیت) ” ویعلم مستقرھا ومستودعھا “ اور وہ اس کے مستقر۔ (ٹھہرنے کی جگہ) اور مستودع (سونپے جانے کی جگہ) کو بھی جانتا ہے۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ مستقر اس جگہ کو کہتے ہیں جسے انسان اپنے ارادے سے اختیار کرتا ہے جیسے عام رہائش گاہ مکان وغیرہ اور مستودع وہ جگہ ہوتی ہے جہان انسان بغیر اختایر کے پڑا رہے۔ مثلا انسان زمین پر خود اپنا گھر بناتا ہے ، یہ اس کا مستقر ہے۔ شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ انسان اپنے باپ کی پشت اور ماں کے رحم میں بلا اختیار پڑا رہتا ہے ، یہ اس کے لیے مستودع ہے۔ ماں کے پیٹ سے جب اس دنیا میں آتا ہے تو یہ اس کے یے مستقر ہوتا ہے۔ پھر جب مر کر قبر میں چلا جاتا ہے تو یہ اس کے لیے سونپے جانے یا امانت کی جگہ ہوتی ہے۔ کسی بھی انسان کے لیے قبر بحیثیت مستودع ہوتی ہے جہاں اسے بلا اختیار داخل کردیا جاتا ہے یہ غلط العام بات ہے کہ قبر انسان کی آخری آرام گاہ ہے۔ نہیں بلکہ یہ تو حشر تک کے لیے عارضی ٹھکانہ ہے جب حساب کتاب ہوگا تو پھر ہر شخص اپنے اعمال کے مطابق جنت یا دوزخ میں جائے گا۔ اور یہ جگہ اس کے لیے مستقر ہوگی۔
کتاب مبین
یہ ذکر کرنے کے بعد فرمایا (آیت) ” کل فی کتب مبین “ یہ سب باتیں یعنی روزی ، مستقر اور مستودع وغیرہ کتاب مبین میں درج ہیں کتاب مبین کو علم الٰہی کا نمبونہ سمجھ لیں۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) اسے علم الہٰی سے تعبیر کرتے ہیں۔ قرآن پاک میں (آیت) ” فی کتب مبین “ ‘ اور (آیت) ” فی لوح محفوظ “ کے الفاظ بھی آتے ہیں۔ اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے قرآن کریم کی ان آیات اور حضور ﷺ کے فرمان کی رو سے اللہ تعالیٰ نے تخلیق کائنات سے پہلے ہر چیز کو لوح محفوظ میں لکھ رکھا ہے۔ جو کچھ وہاں لکھا ہوا موجود ہے قیامت تک وہی کچھ کائنات میں پیش آئے گا اور ذرہ بھی بھی اس کے خلاف نہیں ہوگا۔ چناچہ اہل سنت کا ایمان ہے کہ تمام چیزوں کو اللہ تعالیٰ جانتا ہے ، ان کا ارادہ بھی وہی کرتا ہے اور ان کو لکھ بھی رکھا ہے۔ یہ تمام چیزیں اس کے علم میں ہیں۔
Ayahs 11:7–8ربط آیات
گذشتہ آیات میں قرآن کریم کی آیات کے محکم اور مفصل ہونے کا بیان تھا۔ پھر دعوت الیٰ التوحید اور بندے کی توبہ اور استغفار کا ذکر ہوا۔ نافرمانوں کی سازش اور اللہ تعالیٰ کے علم محیط اور قدرت تامہ کو بیان کیا گیا اور ساتھ یہ بھی کہ ہر جاندار کی روزی کا ضامن وہ خود ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر انسان کی جائے قرار اور سونپے جانے کی جگہ کو جانتا ہے۔ فرمایا یہ سب چیزیں خدا کی کتاب میں درج ہیں۔ اب آج کی آیات میں تخلیق کائنات کا تذکرہ ہے جو کہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور قدرت تامہ کی دلیل اور اس کے کمال حکمت کی نشانی ہے۔
تخلیق ارض وسماء
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وھو الذی “ خدا کہ ذات وہ ہے (آیت) ” خلق السموت والارض فی ستۃ ایام “ جس نے پیدا کیا ہے آسمانوں کو اور زمین کو چھ دن کے وقفہ میں۔ کائنات کی چھ دن میں تخلیق کا ذکر قرآن پاک کے دوسرے مقامات پر بھی آیا ہے۔ مثلا سورة اعراف میں ہے (آیت) ” ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض فی ستۃ ایام “ یعنی بیشک تمہارا پروردگار وہ ہے جس نے ارض وسما کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا۔ سورة الم سجدہ میں ہے (آیت) ” اللہ الذی خلق السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام “ اللہ کی ذات وہ ہے جس نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان والی اشیاء کو چھ دن میں پیدا کیا۔ ایسا ہی ذکر بعض دوسری سورتوں میں بھی آتا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو تخلیق کائنات کے لیے چھ دن کا عرصہ ضروری نہیں تھا کیونکہ وہ تو قادر مطلق ذات ہے جو آن واحد میں بھی کسی چیز کو پیدا کرنے پر قدرت رکھتا ہے تا ہم چھ دن کا وقفہ بنی نوع انسان کی تعلیم کے لیے ذکر کیا گیا ہے کیونکہ حدیث شریف میں آتا ہے ” التودۃ من الرحمن والعجلۃ من الشیطن “ یعنی آہستگی رحمان کا کام ہے جب کہ جلد بازی شیطان کی خصلہ ہے۔ مقصد یہ کہ ہر کام کو احسن طریقے سے انجام دینا چاہیے اور جلد بازی اچھی چیز نہیں ہے۔
اب رہی یہ بات کہ چھ دن سے کون سے دن مراد ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس سے کرہ ارضی کے چوبیس گھنٹے کے دن تو مراد نہیں ہو سکتے کیونکہ ان کا تعلق سورج کے ساتھ ہے جس کے طلوع و غروب سے لیل ونہار کا نظام وابستہ ہے۔ سورج اور دیگر سیاروں کی تخلیق تو آسمانوں کی تخلیق کے بعدہوئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا تو اس وقت تو دن رات کا تصور ہی نہیں تھا لہٰذا ان چھ ایام سے ہمارے چھ ایام مراد نہیں ہو سکتے۔ آئیے قرآن پاک سے پوچھیں کہ ان چھ دنوں سے کون سے دن مراد ہیں۔ سورة الم سجدہ میں ہے (آیت) ” ثم یعرج الیہ فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون “ پھر وہ ایک روز اس کی طرف رجوع کریگا جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہوگی۔ سورة معارج میں قیامت والے دن کی مقدار کے متعلق فرمایا (آیت) ” تعرج الملئکۃ والروح الیہ فی یوم کان مقدارہ خمسین الف سنۃ “ ملائکہ اور جبرائیل (علیہ السلام) اس کی طرف چڑھتے ہیں ایک دن میں جس کی مقدار تمہارے حساب سے پچاس ہزار سال ہے۔ مقصد یہ کہ اللہ کے ہاں ایک دن کم از کم ایک ہزار سال کے برابر ہے۔ اور چھ دن میں ارض وسما کی تخلیق کا مطلب یہ ہے کہ یہ تخلیق چھ ہزار سال میں مکمل ہوئی کائنات کی تخلیق کے متعلق سورة حم سجدہ میں تخلیق کا حال اس طرح آتا ہے (آیت) ” قل ائنکم لتکفرون بالذی خلق الارض فی یومین “ کر دیجئے ، کیا تم اس ذات کا انکار کرتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں پیدا کیا۔ (آیت) ” وجعل فیھا رواسی من فوقھا “ پھر اس کے اوپر پہاڑ رکھ (آیت) ” وبرک فیھا “ اور اس میں برکت رکھی (آیت) ” وقدر فیھا اقواتھا “ اور اس میں سامان معیشت مقرر کیا اور یہ سب کچھ کتنے عرصہ میں کیا ؟ فرمایا (آیت) ” فی اربعۃ ایام “ چار دنوں میں (آیت) ” ثم استوی الی السمائ “ پھر اس نے آسمان کا ارادہ کیا (آیت) ” وھی دخان “ اور وہ دھواں سا تھا (آیت) ” فقال لھا وللارض ائتیا طوعا اوکرھا “ پھر آسمان اور زمین دونوں نے کہا (آیت) ” قالتا اتینا طائعین “ ہم خوشی سے تیرا حکم مانیں گے اللہ نے فرمایا (آیت) ” فقضھن سبع سموت فی یومین “ پھر دو دن میں سات آسمان بنا دیئے۔ (آیت) ” واوحی فی کل سماء امرھا “ اور ہر آسمان میں اس کا حکم جاری کردیا (آیت) ” وزینا السماء الدنیا بمصابیح “ اور آسمان دنیا کو ستاروں کے ساتھ زینت بخشی۔
بہرحال اللہ کے ہاں چھ دن سے اس دنیا کے چھ ہزار سال مراد ہیں البتہ دن کے دورانیہ میں تفاوت کی مثال اس دنیا میں بھی موجود ہے کرہ ارض کے لیل ونہار عام طور پر چوبیس گھنٹے کے ہوتے ہیں مگر زمین کے کنارون پر یعنی قطب شمالی اور قطب جنوبی میں دن کی مقدار بدل جاتی ہے چناچہ انتہائی شمال اور انتہائی جنوب میں بعض خطے ایسے بھی ہیں جہان چھ ماہ کی رات اور چھ ماہ کا دن ہوتا ہے ایسے مقامات پر ایک دن کی مقدار ایک سال کے برابر ہوتی ہے اسی طرح اس نظام شمسی سے باہر اللہ کے ہاں ایک دن کی مقدار اس دنیا کے ایک ہزار سال کے برابر ہے۔
عرش پر آب
فرمایا اللہ وہی ذات ہے جس نے زمین وآسمان کو چھ دن کے وقفے میں پیدا فرمایا (آیت) ” وکان عرشہ علی المائ “ اور اس کا عرش پانی پر تھا۔ اب پانی کی کیفیت کے متعلق مفسرین کرام کا اختلاف ہے کعب احبار جو پہلے یہودی عالم تھا ، پھر اسلام لائے ان کی بیان کردہ روایت میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سبز رنگ کا ایک یاقوت پیدا فرمایا ، پھر جب اس پر قہری تجلی ڈالی تو وہ پگھل کر پانی بن گیا اور اس طرح پانی وجود میں آیا۔ پھر اللہ نے پانی کے نیچے ہوا کو پیدا فرمایا اور اس طرح گویا پانی ہوا کے اوپر ٹکا ہوا ہے اور پانی کے اوپر خدا تعالیٰ کا عرش تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عرش بھی خدا کی مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے۔ صحیح بخاری میں عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے ” کان اللہ قبل کل شیئ “ اللہ تعالیٰ تمام چیزوں سے پہلے موجود تھا۔ پھر اس نے ہوا کو پیدا کر کے اس کی پشت پر پانی کو ٹکایا اور اس کا عرش اس پانی پر تھا۔ حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ” قدر مقادیر الخلق قبل خلق خمسین الف سنۃ “ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے تمام چیزوں کا اندازہ مقرر فرمایا اور اس وقت اللہ تعالیٰ کا عرش پانی کے اوپر تھا۔
بعض فرماتے ہیں کہ اس آیت میں مذکورہ پانی سے یہ ہمارے استعمال والا پانی نہیں ہے اور عرش کے پانی پر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عرش اور پانی کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں تھی۔ یعنی ہر چیز پر اللہ تعالیٰ ہی کا تصرف ہے گویا یہاں پر اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ اور اس کے تصرف کو بیان کرنا مقصود ہے۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ موجود کل ، انسان اکبر ہے جس کو روح اعظم بھی کہا جاتا ہے۔ یہ سارا مجموعہ انسانیت کا ایک نمونہ ہے جو عرش الٰہی کے نیچے واقع ہے اور اس کے ذریعے تمام انسانوں کا تعلق خدا تعالیٰ کی تجلی اعظم کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور فعلیت یعنی کام کرنے کی قدرت اور صلاحیت کا نام عرش ہے اور قوت کا معنی پانی ہے۔ تا ہم عام فہم تفسیر یہ ہے کہ اس پانی سے مراد یہی پانی ہے جس کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے (آیت) ” وجعلنا من الماء کل شیء حی “ (الانبیائ) ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے پیدا کیا۔ کم از کم اتنی بات واضح ہے کہ موالید ثلاثہ یعنی جمادات ، نباتات اور حیوانات کی تخلیق پانی سے ہوئی۔ تو فرمایا کہ اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کو بیان کرنا مقصود ہے کہ خدا تعالیٰ وحدہ لا شریک ہے کہ خالق صرف اللہ ہے اور تخلیق میں کوئی اس کا شریک نہیں۔
مقصد تخلیق کائنات
بعض فرماتے ہیں کہ عرش کے اوپر عالم امر ہے اور اس کے نیچے عالم خالق ہے۔ ان دونوں عالموں میں اللہ تعالیٰ ہی کا تصرف ہے اوپر کی چیزوں کا مخلوق کو علم نہیں مگر نیچے کی چیزوں کا علم ہے۔ ساری کائنات عرش کے نیچے ہے۔ چناچہ تخلیق کائنات کے مقصد کے متعلق شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ دیکھو ! اللہ نے ساری کائنات کو انسان کی مصلحت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ ملائکہ مقربین کو بھی محض نوع انسانی کی مصلحت کی خاطر پیدا کیا ہے حالانکہ فرشتوں کی تخلیق انسان کی تخلیق سے اربوں کھربوں سال پہلے ہوئی تھی۔ پہلے اللہ نے ملاواعلی کو پیدا کیا۔ اور پھر باقی چیزوں کو اور سب سے آخر میں انسان کو پیدا کیا اور اس کا منتہائے مقصود یہ بیان فرمایا (آیت) ” لیبلوکم ایکم احسن عملا “ تا کہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے اعمال انجام دیتا ہے۔ گویا تمام کائنات کو انسان کی مصلحت کی لیے پیدا کیا اور اس کو امتیازی حیثیت دی تا کہ وہ اچھے اور برے عمل کا امتحان کرسکے انسان کی آزمائش کے لیے ساری کائنات کو وجود بخشا۔ پھر اللہ نے نیکی اور برائی کا انجام بھی بیان فرمایا ظاہر ہے کہ جس انسان کی عقل تام ہوگی اور وہ حرام سے بچنے والا ہوگا اور اللہ کی اطاعت کی طرف جلدی سے پیش قدمی کرنیوالا ہوگا۔ وہی صاحب کمال ہوگا جس کا مطلب یہ ہے کہ ایسے شخص کے لیے اللہ تعالیٰ نے ارض وسما اور ان کے درمیان والی ہر چیز کو پیدا کیا ہے۔
بعث بعد الموت
اور باقی کفر ، شرک اور معاصی کا ارتکاب کرنے والوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” ولئن قلت انکم مبعوثون منم بعد الموت “ اگر آپ ان سے کہیں کہ تم مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جائو گے یعنی یہ اللہ تعالیٰ کی مصلحت اور اس کی حکمت ہے کہ ہر انسان کو موت کے بعد دوبارہ اپنے سامنے کھڑا کر کے اس کی زندگی کے کارناموں کا حساب لے گے تو (آیت) ” لیقولن الذین کفروا “ تو کفر کرنے والے کہیں گے (آیت) ” ان ھذا الا سحر مبین “ یہ تو کھلا جادو ہے۔ مشرک لوگ قرآن پاک کے اثر کا انکار نہیں کرسکتے تھے مگر وہ اس کو حق نہیں مانتے تھے بلکہ کہتے تھے کہ جادو کے زیر اثر ہے۔ گویا قرآن پاک کی تاثیر کو بھی جادو تصور کرتے تھے جادو کا بھی یہی تصور ہے کہ وہ موثر ضرور ہوتا ہے مگر باطل ہے اور کافر ومشرک قرآن حکیم کو بھی اسی بات پر محمول کرتے تھے۔ فرمایا یہ کتنے ظالم لوگ ہیں۔ کہتے تھے کہ اگر قرآن پاک کی پیش گوئی سچی ثابت ہوگی اور مرنے کے بعد لوگ دوبارہ زندہ ہوگئے تو اس میں خدا تعالیٰ اور حساب کتاب کا کوئی دخل نہیں ہوگا بلکہ یہ محض جادو کے ذریعے ہوگا یہ تو آنے والی بات تھی ، ان لوگوں نے اپنی آنکھوں سے معجزات دیکھ کر بھ انکار کردیا۔ خود اپنی فرمائش پر جب شق القمر کا معجزہ ہوا تو کہنے لگے۔ (آیت) ” سحر مستمر “ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔ پہلے بھی لوگ جادو کرتے تھے اور آج محمد بھی ایسا ہی کر رہے ہیں (الیعاذ باللہ)
عیسائی اور یہودی مستشرقین بھی اسی قبیل سے ہیں مغربی تعلیم کے دالدہ بعض نام نہاد مسلمان بھی ان سے متاثر ہیں۔ یہ لوگ حضور خاتم النبین ﷺ کے کارہائے نمایاں کا انکار تو نہیں کرسکتے ، ان کے لائے ہوئے عظیم انقلاب کو تسلیم کرتے ہیں مگر آپ کو خدا کا سچا رسول ماننے کے لیے تیار نہیں کہتے ہیں کہ آپ بڑے ذہین ، عقلمند اور عظیم آدمی تھے۔ جو انقلاب آپ نے برپا کیا وہ موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) بھی نہ کرسکے۔ مگر آپ اللہ کے رسول نہیں ہیں۔ یہی ان کی ہٹ دھرمی اور آخرت سے محرومی کی نشانی ہے
عذاب الٰہی
فرمایا (آیت) ” ولئن اخرنا عنھم العذاب الی امۃ معدودۃ “ اگر ہم ان سے ایک خاص مدت تک کے لیے عذاب کو موخر کردیں ، (آیت) ” لیقولن ما یحبسہ “ تو کفار لوگ کہتے ہیں کہ عذاب کو کس چیز نے روک لیا ہے۔ یہ بات وہ از راہ تمسخر کہتے تھے کہ جس عذاب سے ہمیں ڈرا رہے ہو ، وہ آکیوں نہیں جاتا۔ مشرکین مکہ بھی ایسے ہی کہتے تھے اللہ نے ان کو مہلت دی ایک خاص وقت تک اور پھر میدان بدر میں ان پر عذاب الٰہی نازل ہوگیا۔ امت کا معنی عام طور پر جماعت یا گروہ ہوتا ہے جیسے سورة آل عمران میں ہے (آیت) ” کنتم خیر امۃ “ تم ایک بہترین جماعت ہو جو لوگوں کو نیکی کا حکم کرتے ہو اور برائی سے روکتے ہو۔ سورة نحل میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا (آیت) ” ان ابراھیم کان امۃ قانتا للہ حنیفا “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پیشوا ، اللہ کے فرما نبردار اور ایک طرف لگنے والے تھے۔ یہاں امت کا معنی پیشوا ہے۔ مگر اس آیت کریمہ میں امت کا معنی مدت ہے کہ اگر ہم ا یک خاص مدت تک عذاب کو ٹالے رکھیں تو کہتے ہیں کہ وہ عذاب کہاں گیا جس سے تم ڈراتے ہو۔ اللہ نے جواب میں فرمایا الا سنو ! (آیت) ” یوم یاتیھم لیس مصروفا عنھم “ جس دن وہ عذاب آجائے گا تو پھر ہٹایا نہیں جائے گا۔ فرعون کے پاس عذاب آیا تو اسے غرق کر کے چھوڑا ، قوم عاد وثمود کو نیست ونابود کیا۔ قوم لوط اور دوسری قوموں کو ہلاک کیا۔ اسی طرح ان کے پاس بھی عذاب آجائے گا تو پھر یہ بچ نہیں سکیں گے۔ (آیت) ” وحاق بھم ما کانوا بہ یستھزء ون “ اور گھیر لے گی ان کو وہ چیز جس کے ساتھ وہ ٹھٹا کیا کرتے تھے۔ ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جس کو تم مذاق کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے۔ غرضیکہ اگر فی الوقت عذاب سے مہلت مل رہی ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کے قانون امہال و تدریج کے مطابق مل رہی ہے۔ وہ نافرمانوں کو موقع دیتا ہے پھر جب نافرمانی حد سے تجاوز کر جاتی ہے تو اس کی گرفت آجاتی ہے اور وہ پکڑ لیتا ہے۔ تو فرمایا ، ان کا بھی یہی حال ہے کہ ٹھٹا اور تمسخر کی بناء پر کہتے ہیں کہ عذاب کو کس چیز نے روک رکھا ہے۔ فرمایا جب عذاب آجائے گا تو وہ ان کو گھیرے گا اور ان سے ہٹایا نہیں جاسکتے گا۔