Ayahs 11:58–60ربط آیات
اس سے پہلے حضرت ہود (علیہ السلام) کی قوم کے سامنے تقریر ، ان کی نصیحت وعظ ، تبلیغ اور اس ضمن میں کی جانے والی محنت اور کوشش کا ذکر ہوچکا ہے۔ اللہ نے آپ کی قوم کی نافرمانی اور سرکشی کا ذکر بھی فرمایا۔ قوم ہود کا ذکر قرآن پاک کی مختلف سورتوں میں آیا ہے۔ سورة احقاف میں آپ کا بیان ہے اور سورة اعراف میں زیادہ تفصیل ہے۔ وہاں پر کفر و شرک کی مختلف باتوں کا تذکرہ ہے ان لوگوں نے مختلف مقاصد کے حصول کے لئے مختلف معبود بنا رکھے تھے۔ ہود علیہالسلام کی تبلیغ کے جواب میں قوم نے آپ کو بیوقوف کہا ، یہاں بھی گزر چکا ہے کہ وہ کہتے تھے ، اے ہود ! تمہارا دماغ خراب ہو یا ہے اور تم پر ہمارے معبودوں کی مار پڑگئی ہے تم ہمیں خواہ مخواہ ڈرا رہے ہو کہ اگر ان معبودوں کی عبادت نہ چھوڑی تو ہلاک ہوجائیں گے ہم تمہاری باتوں سے خوف نہیں کھاتے ” فآتنا بما تعدنا “ تم ہمیں جس عذاب سے ڈرا رہو ہو۔ اسے لے آئو۔ ہم تمہاری کسی بات کو تسلیم نہیں کرتے۔
حضرت ہود (علیہ السلام) کو چالیس سال کی عمر میں نبوت عطا ہوئی ، جیسا بالعموم اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہے۔ آپ نے کل 464 سال عمر پائی اور اس سارے عرصہ میں خدا تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہے اور تکلیفیں اٹھاتے رہے۔ آپ فرماتے تھے کہ تم نے جو کچھ میرے ساتھ کرنا ہے ، کر گزرو ، مجھے کسی چیز کا خوف نہیں ، میں تو صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرتا ہوں جو میرا رب اور تمہارا سب کا پروردگار ہے ہر جاندار کی پیشانی اس کے ہاتھ میں ہے ، وہ جب چاہے کسی قوم کو ہلاک کر کے کسی دوسری قوم کو کھڑا کر دے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ قوم عاد کی مسلسل نافرمانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر تنگی ڈال دی قحط پڑگیا اور ان کی عورتیں بھی بانجھ ہوگئیں۔
قوم عاد کے دو خاندان
ترمذی شریف کی روایت کے مطابق امام بیضاوی اور بعض دیگر مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ ہود (علیہ السلام) پر ایمان لانے والے لوگوں کی تعداد صرف چار ہزار تھی جب کہ باقی ساری قوم منکر ہی تھی اس دور میں مکہ کے اطراف میں بھی قوم عاد ہی آباد تھی ، البتہ دادی دہنا اور مکہ کے قرب و جوار میں رہنے والے اسی نسل کے ہی دو مختلف خاندان تھے جوار مکہ والے خاندان کا سردار معاویہ ابن بکر تھا جب کہ یمن والے خاندان کا املیک ابن اعوذ تھا۔ دونوں خاندانوں کی آپس میں رشتہ داریاں اور میل ملاقات بھی تھی مفسرین فرماتے ہیں کہ اس دور میں خانہ کعبہ کی عمارت تو سیلاب کی نظر ہوچکی تھی ، البتہ اس مقام پر ایک سرخ ٹیلہ تھا ، جسے متبرک سمجھا جاتا تھا اور لوگ وہاں جا کر دعائیں کرتے تھے۔
قوم عاد کا وفد
یمن کے علاقے میں جب عرصے تک بارش نہ ہوئی تو پانی کی قلت پیدا ہوگئی اور قحط کے آثار پیدا ہونے لگے ، ان حالات میں قوم عاد نے فیصلہ کیا کہ اپنا ایک وفد مکہ بھیجا جائے جو وہاں جا کر بارش کے لئے دعا کرے تو شاید اللہ تعالیٰ قحط کو دور کر دے اور خوشحالی لوٹ آئے چناچہ ستر آدمیوں کا ایک وفد دو سرداروں کیل اور مرثد کی قیادت میں مکہ روانہ ہوا۔ وہ لوگ مکہ کے قریب وہاں کے سردار معاویہ ابن بکر کے ہاں جا کر اترے۔ میزبان نے ان کی بڑی آئو بھگت کی اور وہاں کے رواج کے مطابق ان کے خوردو نوش اور عیش آئو بھگت کی اور وہاں کے رواج کے مطابق ان کے خوردو نوش اور عیش آرام کے لئے خوب انتظام کیا حتیٰ کہ ان کی تفریح طبع کے لئے گانے والی لونڈیوں کا بندوبست کیا وہ لوگ مہینہ بھر دعوتیں اڑاتے رہے اور جس مقصد کے لئے آئے وہ بھول ہی گئے۔ میزبان خود بھی ان کے قیام کی طوالت سے تنگ آ چکا تھا مگر انہیں کہہ نہیں سکتا تھا کیونکہ یہ عرب کے اصول میزبانی کے خلاف تھا۔ بالآخر مہمان سردار مرثد کو خیال آیا کہ ہم تو خوشحالی کی دعا کرنے آئے ہیں مگر یہاں عیش و آرام میں پڑ کر اسے بھی بھول گئے اس نے ساتھیوں کو مشورہ دیا کہ اب انہیں …… یہاں سے رخصت ہو کر اصل مقصد کی طرف آنا چاہئے اس نے یہ بھی کہا کہ میرا دل یہ گواہی دیتا ہے کہ جب تک تم اللہ کے رسول ہود (علیہ السلام) پر ایمان نہیں لائو گے ، یہاں پر دعائیں کرنا بھی تمہیں کچھ مفید نہیں ہوگا۔ دوسرے ساتھیوں نے سمجھا کہ مرثد ہود (علیہ السلام) پر ایمان لا چکا ہے ، لہٰذا وہ اس سے ناراض ہوگئے اور کہنے لگے کہ اسے ہم دعا کے مقام پر اپنے ساتھ نہیں لے جائیں گے۔
ادھر جب میزبان ان کے قیام سے تنگ آ گیا تو اس نے ایک ترکیب سوچی اور گانے والی لونڈی کو کہا کہ جب گانے کی محفل قائم ہو تو اس میں تم یہ شعر گانا۔
الا یاقیل ویحک قم فھینم لعل اللہ یصبحنا غماماً ۔ اے قیل اٹھو ! اور کچھ مناجات اور التجا کرو ، شاید اللہ تعالیٰ ہمیں بارش سے سیراب کر دے۔
فیشقی ارض عادٍ ان عاداً قد امسوالا یبینون الکلاماً ۔ شاید کہ اللہ تعالیٰ ارض عاد کو سیراب کر دے کیونکہ عاد کے لوگ اس قدر کمزور ہوچکے ہیں کہ بات بھی نہیں کرسکتے۔
جب لونڈی کی زبان سے مہمانوں نے یہ شعر سنے تو پھر انہیں ہوش آیا کہ ہم نے تو یہاں بہت دیر کردی ہے۔ ہمیں فوراً اپنے مقصد کی طرف جانا چاہئے۔ چناچہ بیت اللہ شریف کے مقام پر واقع ٹیلے پر جا کر انہوں نے دعا کی کہ اے پروردگار۔ ہم بڑی پریشانی میں مبتلا ہیں جس طرح تو پہلے قوم عاد کو سیراب کرتا تھا ، اب بھی ان کے لئے پانی نازل فرما۔
قوم عاد پر عذاب
مفسرین بیان کرتے ہیں کہ اس دعا کے بعد تین قسم کے بادل اٹھے یعنی سید ، سرخ اور سیاہ غیب سے کیل سردار کے نام آواز آئی کہ ان بادلوں میں سے جونسا چاہو پسند کرلو۔ چونکہ عموماً کالی گھٹائیں زیادہ سے زیادہ بارش کا سبب بنتی ہیں ، اس لئے قیل نے سیاہ بادلوں کو پسند کیا۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ آواز آئی اچھا پھر انہی کو اختیار کرلو لاتبقی من العاد احداً یہ قوم عاد میں سے کسی کو بھی باقی نہیں چھوڑیں گے۔ جب سیاہ بادل وادیوں پر نمودار ہوئے تو وہ لوگ بڑے خوش ہوئے کہ اب خوب بارش ہوگی اور قحط دور ہوجائے گا۔ سورة احقاف میں ہے ” فلما راوہ عارضاً مستقبل اودیتھم قالوا ھذا عارض ممطرنا “ پھر جب انہوں نے دیکھا کہ بادل ان کے میدانوں کی طرف آ رہے ہیں تو کہنے …… لگے کہ یہ تو بادل ہے جو ہم پر برسے گا۔ مگر اللہ نے فرمایا یہ بارش برسانے والے بادل نہیں ” بل ھوما استعجلتم بہ بلکہ یہ تو وہ چیز ہے جس کے لئے تم جلدی کرتے تھے ریح فیھا عذاب الیم ۔ “ اس میں آندھی ہے جس میں درد ناک عذاب بھرا ہوا ہے۔ تدتر کل شیء بامر ربھا۔ “ یہ ایسی چیز ہے جو ہر چیز کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیگی۔ چناچہ جب بادل آئے تو ان میں سے ایسی زہریلی ہوا خارج ہوئی جس نے پوری قوم کو تباہ کردیا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ یہ ہوا مغرب کی جانب سے آئی تھی۔
حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کا فرمان بھی ہے کہ قوم عاد کو مغرب کی طرف سے چلنے والی گرم ہوا سے ہلاک کیا گیا۔ جب کہ اللہ نے میری مدد مشرق سے چلنے والی ٹھنڈی ہوا کے ساتھ کی۔ غزوہ احزاب کے موقع پر بھی مشرق کی جانب سے ٹھنڈی ہوا چلی تھی جس کی وجہ سے مشرکین کے خیمے اکھڑ گئے اور انہوں نے محاصرہ اٹھا کر واپس جانے کا فیصلہ کرلیا۔
بہرحال قوم عاد پر ایسی خطرناک ہوا چلی کہ اس نے ہر چیز کو تہ وبالا کردیا۔ درخت گرا دیئے ، عمارتیں منہدم ہوگئیں انسانوں کو اچھال اچھال کر اور آپس میں ٹکرا ٹکرا کر ہلاک کیا گیا۔ گرم اور تیز ہوا لوگوں کے ناک میں داخل ہو کر دوسری طرفنکل جاتی تھی اور اعضاء کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتی تھی۔ سورة الحاقہ میں ہے ” سخرھا علیھم سبع لیال و ثمنیۃ ایام حسوماً “ یہ تند و تیز ہوا سات راتیں اور آٹھ دن تک مسلسل چلتی رہی اور پوری قوم کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ، بڑے بڑے جسم آدمی ایسے پڑے تھے ، جیسے کھجوروں کے تنے ہوں۔ اللہ نے فرمایا ” فھل تری لھم من باقیہ کیا ان میں سے ایک بھی زندہ بچا۔ اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر ایسا سخت عذا نازل فرما کر پوری قوم کو ملیا میٹ کردیا۔
اہل ایمان کی نجات
اللہ نے فرمایا ولما جآء امرنا ۔ جب ہمارا حکم آ گیا نجینا ھودوالذین امنوا معہ برحمۃ منا ہم نے ہود (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اپنی خاص مہربانی سے بچا لیا ، ان کی تعداد چار ہزار تھی کہتے ہیں کہ جس مکان میں اہل ایمان موجود تھے وہاں مسموم ہوا نہیں پہنچتی تھی ، باقی ساری قوم کا خاتمہ ہوگیا۔ اللہ نے فرمایا ونجینھم من عذاب غلیظ ہم نے انہیں گاڑھے عذاب سے نجات دی۔ اگر عذاب غلیظ سے دنیوی عذاب مراد ہے تو پھر یہ وہی گرام ہوا ہے جو کافروں پر متواتر ہفتہ بھر چلتی رہی اور بالآخر سب کو ہلاک کردیا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اگلی آیت میں قیامت کا ذکر بھی ہے اور اس لحاظ سے عذاب غلیظ سے آخرت کا عذاب بھی مراد ہو سکتا ہے۔ یہاں نجینا کا لفظ دو دفعہ آیا ہے تو اس سے یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ اہل ایمان کو ایک دفعہ ہم نے اس دنیا کے عذاب سے نجات دی اور پھر آگے چل کر قیامت کے دن کے عذاب سے بھی نجات دیں گے۔
آیات اور رسول کا انکار
فرمایا وتلک عاد یہ ہے قوم عاد کہ جن کی کارگزاری بیان ہوئی ہے۔ حجد وا بایت ربھم انہوں نے اپنے رب کی آیتوں کا انکار کیا وعصوا رسلہ اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی۔ ان کو جھوٹا اور مجنوں کہا اور ان کی بات ماننے سے انکار کردیا۔ یہاں اشکال پیدا ہوتا ہے کہ ذکر تو صرف ہود (علیہ السلام) کا ہو رہا ہے مگر رسل جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ ممکن ہے اس وقت ہود (علیہ السلام) کے علاوہ بعض دوسرے رسولبھی موجود ہوں کیونکہ ایک ایک وقت میں کئی کئی انبیاء کا ذکر بھی تو ملتا ہے۔ جیسے بنی اسرائیل کے دور میں ہوتا رہا ہے۔ یونس (علیہ السلام) کے زمانے میں بھی بیک وقت پانچ رسول موجود تھے جن میں سے آپ کو منتخب کر کے نینوی کی بستی ……کی طرف بھیجا گیا۔ بعض فرماتے ہیں کہ جمع کا صیغہ رسولوں کے متعلق دیگر مقامات پر بھی استعمال ہوا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی ایک رسول کا انکار تمام رسولوں کے انکار کے مترادف ہے کیونکہ دین اور پیغام تو سب کا ایک ہی رہا ہے۔ سارے پیغمبر یہی کہتے رہے۔ اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ لوگو ! صرف اللہ کی عبادت کرو کیونکہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔
سرکشوں کی پیروی
فرمایا قوم عاد نے آیات الٰہی کا انکار کیا ، رسولوں کی نافرمانی کی واتبعوا امر کل جبار عنید اور ہر سرکش اور عنادی آدمی کی پیروی کی۔ ہر اس سردار اور چوہدری کے پیچھے لگے جو حق کے ساتھ عناد رکھتا تھا اور حکم الٰہی کی سرتابی کرتا تھا۔ بالعموم مفاد پرست اور اغراض کے بندے ایسے ہی لوگوں کا اتباع کرتے ہیں اور اچھے لوگوں کی بات نہیں مانتے۔ فرعون نے بھی موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کی بات نہ مانی بلکہ اپنے عنادی سرداروں کا کہا مانا۔ قوم عاد نے بھی یہی کیا کہ اللہ کے رسول ہود (علیہ السلام) ک بات پر غور نہ کیا بلکہ عناد اور تعصب کے پیچھے چلتے رہے۔
لعنت کا طوق
اس کا نتیجہ یہ ہوا واتبعوا فی ھذہ الدنیا لعنۃ اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دیگئی۔ ظاہر ہے کہ اس دنیا میں بھی قوم فرعون ، عاد ، ثمود یا قوم لوط کو اچھے لفظوں سے یاد نہیں کیا جاتا ہے تاریخ میں ان کا ذکر نافرمان اور عذاب زدہ قوموں کی حیثیت سے آتا ہے اور انہیں ہمیشہ کے لئے لعنت کا تمغہ لگا دیا گیا ہے۔ یہ تو اس دنیا کا حال ہے ویوم القیمۃ اور قیامت کے دن بھی یہ لوگ لعنت میں گرفتار رہیں گے۔ وہاں ان کو اس دنیا سے بھی زیادہ ذلت اٹھانا پڑے گی۔
آگے عام لوگوں کو تنبیہ کی جا رہی ہے الا سنو ! ان عاداکفروا ربھم بیشک عادیوں نے اپنے پروردگار کا انکار کیا۔ اپنے وجود بخشنے والے ، نعمتیں عطا کرنے والے اور ہر آسائش مہیا کرنے والے رب کا انکار کیا ، اس کی توحید اور اس کے رسولوں کو تسلیم نہ کیا اور اس کا حکم نہ مانا۔ فرمایا الا سنو ! بعداً العاد قوم ھود۔ قوم ہود کے لئے ہلاکت اور بربادی ہے بعد کا معنی دوری ہوتا ہے اور یہاں مراد اللہ کی رحمت سے دوری ہے لعنت کا بھی یہی مفہوم ہے کہ لعنتی آدمی اللہ کی رحمت سے دور ہوجاتا ہے۔ بعد کا دوسرا معنی ہلاکت ہوتا ہے۔ اور اس مقام پر یہی موزوں ہے۔ اس لفظ کو ایک شاعرہ نے اپنے شعر میں اس طرح استعمال کیا ہے۔
اخوتی لاتبعدوا
بلی واللہ قد بعدوا
اے میرے بھائیو ! خدا کرے تم ہلاک نہ ہو۔ مگر میں یہ بات کیسے کروں کیونکہ وہ تو ہلاک ہوچکے ہیں یعنی سارے کے سارے لڑائی میں مارے جا چکے ہیں۔ تو فرمایا سنو ! ہلاکت ہے قوم عاد کے لئے جو ہود (علیہ السلام) کی قوم تھی۔ انہوں نے اپنے مخلص اور خیر خواہ نبی کی بات نہ مانی بلکہ سرکش اور مخالف لوگوں کا اتباع کیا جس کی وجہ سے وہ تباہی و بربادی کا شکار ہوئے۔
Ayahs 11:61–63ربط آیات
مسئلہ توحید کو سمجھانے اور اس پر ایمان لانے کے لئے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ کا ذکر فرمایا اور پھر آپ کی قوم کی نافرمانی اور غرقابی کا حال بیان کیا ۔ اس کے بعد ہود (علیہ السلام) کی وعظ و نصیحت اور ان کی قوم کا ذکر بھی کیا۔ اللہ کے دونوں پیغمبروں کی تبلیغ کا موضوع ایک ہی تھا کہ اے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ نوح (علیہ السلام) کی قوم سے صرف وہی لوگ بچے جو ایمان لا کر کشتی میں سوار ہوگئے اور ہود (علیہ السلام) کی قوم کے بھی صرف ایمان دار ہی بچے اور کافروں میں سے فرد واحد بھی زندہ نہ بچا۔
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کا ذکر فرمایا ہے یہ قوم عادثانیہ بھی کہلاتی ہے۔ عاد کی طرح یہ لوگ ارم میں سام بن نوح کی اولاد میں سے تھے۔ حضرت نوح کے بعد قوم عاد کو 800 سال بعد یا 2600 سال بعد عروج حاصل ہوا اور پھر عاد کے ایک سو یا دو سو سال بعد قوم ثمود برسر اقتدار آئی۔
قوم ثمود
جیسا کہ پہلے درس میں بیان ہوچکا ہے قوم عاد جزیرہ نمائیعرب کے نجوب میں ربع خلای کی وادی دہنا میں آباد تھے جب کہ قوم ثمود شمال میں تبوک سے لے کر وادی قریٰ تک کے درمیان رہتے تھے۔ شاہ عبدالعزیز مفسر قرآن لکھتے ہیں کہ اس علاقے میں قوم کے ایک ہزار سات 1700 سو دیہات ، قصبات اور شہر آباد تھے۔ یہ لوگ بڑے متمدن تھے ، سنگ تراشی کے بڑے ماہر تھے ، پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر بڑے عالیشان نقش و نگار والے مکان تعمیر کرتے تھے ، سورة اعراف میں موجود ہے کہ کھلی جگہوں پر یہ لوگ بڑے عالیشیان محلات تعمیر کرتے تھے۔ ان کے بنائے ہوئے مکانات ہرزاروں سال گزرنے کے بعد آج بھی موجود ہیں۔ ان پر بنے ہوئے نقش و نگار ان لوگوں کی صناعی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ دنیا بھر کے سیحا ان تع میرات کو دیکھنے کے لئے جاتے ہیں۔ ان عمارات کے کھنڈرات پر ثمودی ، سامی یا آرامی زبان میں لکھے ہوئے کتبے بھی موجود ہیں۔
ہندوستان میں مہاتما بندھ کے دور میں بھی تع میرات کے بڑے بڑے ماہر موجود تھے۔ اس زمانے میں موجود ٹیکسلا بہت بڑا شہر تھا جو چار پانچ میل کے رقبے میں پھیلا ہوا تھا۔ اس دور کے بعض برتن اور مجسمے وغیرہ ٹیکسلا میوزیم میں موجود ہیں۔ برصغیر میں صوبہ بہار اور دکن میں ایجنٹا اور الورا کی تہذیبوں کے اثرات اب بھی پائے جاتے ہیں۔ قرآن پاک میں موجود ہے کہ پہلی قوموں کے لوگ بڑے سمجھدار تھے مگر دنیاوی معاملات میں وہ لوگ معاد کے اعتبار سے بالکل اندھے تھے اور وہ اخروی عقل سے محروم تھے ، خدا کے دین اور ایمان کی بات کو نہیں سمجھتے تھے۔
صالح (علیہ السلام) کی بعثت
بہرحال یہاں پر اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کا حال بیان فرمایا ہے کہ انہوں نے کس طرح اللہ کے نبی صالح (علیہ السلام) کی مخالفت کی ، ان کو جھٹلایا اور پھر آخر کار قوم کا کیا حشر ہوا۔ ارشاد ہوتا ہے والی ثمود اخاھم صلحاً اور قوم ثمود کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا۔ یہاں پر بھی ولقد ارسلنا کے الفاظ محذوف ہیں۔ یہ الفاظ نوح (علیہ السلام) کے واقعہ کے ساتھ آئے ہیں اور ان کا اطلاق ہود (علیہ السلام) کے ذکر کے ساتھ اور اب صالح (علیہ السلام) کے بیان کے ساتھ بھی کیا گیا ہے۔ آپ کی قوم کا تعلق بھی سامی نسل سے ہے۔ آپ کا شجرہ صالح ابن عبید اوپر جا کر سام ابن نوح سے جا ملتا ہے بعض اقوام کی طرف رسول باہر سے آ کر تبلیغ کرتے رہے ہیں جیسے لوط (علیہ السلام) ہیں۔ وہ عراق کے رہنے والے تھے جب کہ انہیں تبلیغ کے لئے شرق اردن کی طرف مبعوث کیا گیا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) بھی شام سے نینویٰ کی بستی میں آئے۔ تاہم ہود (علیہ السلام) اور صالح (علیہ السلام) اپنی اپنی اقوام کی طرف ہی مبعوث ہوئے۔ صالح (علیہ السلام) اپنی قوم ثمود ہی کے ایک فرد تھے اور اللہ نے انہیں اپنی قوم کو تبلیغ کرنے کے لئے مقرر فرمایا۔
دعوۃ الی التوحید
صالح (علیہ السلام) نے بھی اپنی تبلیغ کا آغاز دعوت الی التوحید سیہی کیا جیسا کہ دوسرے انبیاء کرتے رہے ہیں۔ قال یقوم اعبدواللہ فرمایا اے میری قوم کے لوگو ! صرف اللہ کی عبادت کرو مالکم من الہ غیرہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ اس قوم نے بھی بہت سے معبود بنا رکھے تھے۔ ہر کام کا علیحدہ علیحدہ معبود تھا۔ ان کے سامنے سجدہ کیا جاتا ، ان کے نام کی نذر و نیازی دی جاتی ، ان پر چادریں اور چڑھاوے چڑھتے۔ یہ دیکھ کر اللہ کے نبی نے فرمایا لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت روا نہیں۔ عبادت انتہائی درجے کی تعظیم کا نام ہے جو اس اعتقاد کے ساتھ کی جاتی ہے کہ جس کی تعظیم کی جا رہی ہے وہ ہماری حالت کو جانتا ہے ، ہماری مشکلات کو حل کرسکتا ہے ، عالم اسباب پر اس کا کنٹرول ہے اور وہ نفع نقصان کا مال کہے۔ مشرک لوگ ہمیشہ ایسی ہی باتیں کرتے ہیں کہ اللہ نے ان کو اختیار دے رکھا ہے کہ جس کی چاہو حاجت براری کرو مگر وہ اس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے تو بڑی وضاحت کے ساتھ اس مسئلہ کو بیان کردیا ہے۔ ” یدبر الامر من السمآء الی الارض (السجدہ) آسمان سے لیکر زمین تک کے ذرے ذرے کی تدبیر تو خود اللہ تعالیٰ کرتا ہے۔ ادنیٰ سے ادنیٰ مخلوق کے اسباب حیات اور رزق رسانی کی ذمہ داری اس نے اٹھا رکھی ہے۔ ترقی و تنزل کے تمام تصرفات وہ خود انجام دیتا ہے ، اس نے کسی کو کہاں اختیار دے رکھا ہے کہ میرے حکم کے بغیر جو چاہو کرتے پھرو۔ یہ تو مشرکین کا زعم باطل ہے ، لائق عبادت وہی ذات ہو سکتی ہے جو واجب الوجود ، خالق ، متصرف اور مدبر ہو ، اس کے بغیر کوئی ذات کوئی ہستی عبادت کے لائق نہیں۔
مٹی سے انسانی تخلیق
مسئلہ توحید کے دلائل کے طور پر صالح (علیہ السلام) نے بعض باتیں قوم کو بتلائیں۔ فرمایا ھو انشا کم من الارض یہ وہی ذات خداوندی ہے جس نے تمہیں مٹی سے یعنی زمین سے پیدا کیا۔ مٹی سے انسانی تخلیق کی دو صورتیں ہیں۔ پہلی یہ کہ تمام انسانوں کے جد امجد آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے براہ راست مٹی سے پیدا فرمایا جیسا کہ سورة آل عمران میں ہے ” خلقہ من تراب ثم قال لہ کن فیکون آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا ، پھر اس میں روح ڈالی اور کہا ہوجا ، تو وہ ہوگیا۔ دوسری جگہ پر ہے کہ مٹی کو گوندھ کر اس کا خمیر بنایا گیا ، پھر اس کا مجسمہ بنایا اور اس میں روح ڈالی۔ مطلب یہ کہ جب اولین انسان کی پیدائش براہ راست مٹی سے ہوئی تو باقی انسان بھی بالواسطہ مٹی ہی کی پیدائش تصور کئے جائیں گے۔ اسی لئے حضور ﷺ نے لوگوں کو یاد دلایا کہ ان کی تخلیق حقیر سٹی سے ہوئی اس لئے وہ ایک دوسرے پر نسلی فوقیت پر فخر نہ کیا کریں فرمایا لایفخر بعضکم علی بعض تم میں سے بعض لوگ بعض دوسروں پر فخر نہ کیا کریں کلکم ابنائو ادم وادم من تراب تم سب آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہو اور آدم (علیہ السلام) مٹی سے پیدا کئے گئے تھے۔
نسلی اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے انسانی تخلیق کا یہ انتظام فرمایا ہے کہ جب مرد و زن آپس میں ملتے ہیں تو رحم مادر میں ان کا مادہ منویہ اکٹھا ہو کر انسان کی پیدائش کا سبب بنتا ہے۔ اب عورت اور مرد کے جسمانی مواد جو بچے کی پیدائش کا ذریعہ بنتے ہیں وہ اس خوراک سے ملتے ہیں جو انسان کھاتا ہے اور انسانی خوراک کا سارا دار و مدار زمین یعنی مٹی پر ہے۔ ہر چیز زمین سے پیدا ہوتی ہے ، اجناس ، سبزیات حتی کہ نمک اور دیگر مع دنیات جو انسانی جسم کا حصہ ہیں سب زمین کی پیداوار ہیں تو گویا اولین انسان براہ راست مٹی سے پیدا ہوا اور پھر نسلی اعتبار سے پیدا ہونے الے تمام انسان مٹی سے حاصل ہونیوالی خوراک کے بل بوتے پر پیدا ہو کر اپنی مدت العمر تک زندہ رہتے ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ ہم نے تمہیں زمین یعنیمٹی سے پیدا کیا۔
زمین کی آباد کاری
واستعمرکمفیھا اور اسی زمین میں تمہیں آباد کیا۔ استعمار کا معنی مدت العمرتک آباد کرنا ہے۔ جب تک تمہاری زندگی ہے تمہارے تمام مفادات اور ضروریات اسی زمین سے وابستہ ہیں۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے۔ انسانی خوراک اور اس کی ضروریات کی تمام چیزیں اللہ تعالیٰ زمین ہی سے پیدا کرتا ہے ، بعض فرماتے ہیں واستعمرکم میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اے لوگو ! تم اس زمین کو آباد کرو۔ اس میں کھیتی باڑی کر کے غلہ اگائو ، باغات لگا کر پھیل پیدا کرو اور زمین کی تہ سے پانی اور مع دنیات نکالو اور ان چیزوں کو اپنے استعمال میں لائو ، زمین کی آباد کاری کا یہی مطلب ہے چناچہ فقہائے کرام اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ جو شخص زمین کا مالک ہے اور اسے آباد نہیں کرتا ، تو ایسی صورت میں حکومت کو حق پہنچتا ہے کہ وہ اس زمین کی آباد کاری کے لئے مدت مقرر کرے اور اگر پھر بھی مالک اسے آباد کرنے سے قاصر رہے تو زمین چھین لی جائے اور کسی آباد کرنے والے کو دے دی جائے کیونکہ اس آیت کی رو سے زمین کی آباد کاری واجب ہے۔
شاہ ولی اللہ محمد ث دہلوی فرماتے ہیں کہ کسی ملک کی آبادی زراعت سے ہوتی ہے۔ انسانی ضروریات کے سلسلے میں زراعت کو سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے لہٰذا ہر ملک کا اسی فیصد زراعت میں اور باقی بیس فیصد صنعت وحرفت میں استعمال ہونا چاہئے۔ اگر تمام لوگ کارخانوں میں کام کرنے لگیں یا فوج کی ملازمت اختیار کرلیں تو زراعت کا کام کون کرے گا اگر زراعت رک گئی تو ملک ویران ہوجائے گا ، لہٰذا حکومت اور خود مالک اراضی کا فرض ہے کہ زمین کو آباد کری تکاہ لوگوں کی خوراک کا بندوبست ہو سکے۔
عمرہ کا لفظ بھی اسی لفظ و استعمر سے مشتق ہے۔ اگر کوئی شخص اپنا مکان یا زمین عمر بھر کے لئے کسی دوسرے شخص کو دے دیتا ہے تو وہ ہبہ یا صدقہ ہوجائے گا۔ ایسی جائیداد دوسرے شخص کی ملکیت میں چلیجائے گی اور پھر واپس نہیں ہو سکے گی۔ اس شخص کی وفات کے بعد وہ جائیداد اس کے وارثان میں تقسیم ہوگی اور اصل مالک کر واپس نہیں ہو سکے گی۔ اگر کوئی شخص ہبہ کرتے وقت کسی خاص مدت کے بعد واپسی کی شرائط لگائے گا تو ایسی شرط باطل سمجھی جائے گی۔
استغفار کی تلقین
فرمایا اللہ نے تمہارے لئے اس زمین میں آبادی کا سامان پیدا کیا ہے۔ اب تمہارا بھی فرض ہے کہ فاستغفروہ اس پروردگار سے بخشش طلب کرتے رہو ، اپنے گناہوں کی معافی مانگو۔ استغفار بہت بڑی حقیقت اور بڑی ضروری چیز ہے۔ بزرگان دین فرماتے ہیں کہ انسان کے لئے استغفار بمنزلہ صابن کے ہے ۔ انسان کے دل پر جتنی زیادہ میل کچیل ہوگی اتنی زیادہ استغفار کی ضرورت ہوگی۔ اس کے بعد تسبیح و تحلیل بمنزلہ خوشبو کے ہے اور استغفار کے بعد تسبیح و تہلیل انسان کی روح کو نکھار دیتی ہے۔ اسی لئے بزرگان دین ان وظائف کی بڑی تلقین کرتے ہیں۔
حدیث شریف میں استغفار کے کئی کلمات آئے ہیں۔ مثلاً استغفر اللہ الذی لا الہ الا ھو الحی القیوم واتوب الیہ میں اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زندہ اور قائم ہے اور میں اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ استغفر اللہ ربی من کل ذنب واتوب الیہ ۔ میں ہر گناہ سے اللہ تعالیٰ کی بخشش طلب کرتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ خالی استغفر اللہ کا ورد بھی کرتا رہے تو درست ہے صحابہ بیان کرتے ہیں کہ خود حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) ایک ایک مجلس میں سو سو مرتبہ استغفار کے کلمات اپنی زبان مبارک سے ادا فرماتے تھے۔ ترمذی اور ابن ماجہ شریف کی روایت میں آتا ہے کلکم خطآ ون و خیر الخطآئبن التوا بون یعنی تم میں سے ہر شخص خطا کار ہے اور بہتر خطا کار وہ ہے جو غلطی کرنے کے بعد معافی مانگ لیتا ہے اور اس پر اصرار نہیں کرتا۔ جب کوئی شخص صدق دل سے تانب ہوجاتا ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا 1 ؎ التآئب من الذنب کمن لا ذنب لہ گناہوں سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہ ہو۔ تو فرمایا ایک تو اللہ سے معافی مانگو اور دوسرے یہ کہ ثم توبوآ الیہ پھر اس کے سامنے تو بہ بھی کرو کہ آئندہ ایسا غلط کام نہیں کروں گا۔
خدا سے براہ راست دعا
فرمایا اپنے رب کے سامنے استغفار اور توبہ کرو اور ساتھ یہ بھی
1 ؎ ابن ماجہ ص 313
سمجھ لو ان ربی قریب مجیب بیشک میرا پروردگار میریقریب بھی ہے اور میری دعا کو قبول بھی کرتا ہے۔ اس لفظ سے اللہ تعالیٰ نے یہ بات بالکل واضح کردی کہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ رب تعالیٰ کہیں دور دراز مقام پر ہے ، بلکہ وہ تو انسان کے بالکل قریب ہے قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا فرمان موجود ہے ” نحن اقرب الیہ من حبل انورید “ ہم انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔ اس وقت درمیان میں حجاب پڑے ہوئے ہیں ، جب یہ دور ہوجاتے ہیں ، تو انسان کو حضوری نصیب ہوجاتی ہے۔ غرضیکہ خدا تعالیٰ قریب اور مجیب بھی ہے کہ وہ ہر دا کرنے والے کی دعا کو سنتا ہے اور قبول کرتا ہے مشرک لوگ درمیان میں بلا وجہ واسطہ ڈالتے ہیں کہ ہماری تمہارے آگے اور تمہاری خدا کے آگے ، یہ باطل نظریہ ہے۔ اللہ نے قریب و مجیب کے الفاظ لا کر اس باطل عقیدہ کی جڑ کاٹ دی ہے۔ مگر مشرک لوگ اسی عقیدے پر اڑے ہوئے ہیں کہ ہم ان کو راضی کرتے ہیں اور یہ آگے خدا تعالیٰ کو راضی کرتے ہیں۔ خدا تعالیٰ تو علیالاعلان کہہ رہا ہے کہ وہ ہر شخص کے قریب ہے اور اس کی دعا کو سنتا ہے اور قبول کرتا ہے۔
توسل کی حقیقت
جس توسل کو بزرگان دین جائز قرار دیتے ہیں ، وہ ایک فروعی بات ہے۔ اس توسل کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ ان لوگوں سے ہمیں محبت ہے کیونکہ انہوں نے ہمیں اللہ کا راستہ بتایا ہے ۔ دعا کا قبول و رد تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے تاہم ہم التجا کرتے ہیں کہ ان بزرگوں کے طفیل سے ہماری دعا کو قبول فرما۔ اور اگر کوئی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ فلاں بزرگ اللہ تعالیٰ کو ضرور ہی راضی کرے گا۔ لہٰذا ہمیں اس کو راضی کرنا چاہئے تو یہی شرک ہے۔
حضرت مولانا حسین علی صاحب واں بھچراں والے کہتے ہیں کہ کسی نبی یا ولیکا وسیلہ درحقیقت اعمال ہی کا واسطہ ہوتا ہے جو کہ سب کے نزدیک جائز ہے۔ اعمال کا وسیلہ یہ ہے کہ انسان کہے کہ اے مولا کریم ! میرے اس نیک عمل کے طفیل میرے گناہ معاف کر دے یا میری فلاں حاجت پوری کر دے ، اسی طرح یوں کہنا کہ اے اللہ ! علی ہجویری یا فلاں بزرگ کے طفیل سے میری دعا قبول کرلے تو یہ بھی حقیقت میں فعل ہی کا واسطہ ہے کیونکہ کوئی نبی یا ولی بذات مقصود نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ محبت ہونے کی وجہ سے اس کو ذریعہ بنایا جاتا ہے اور محبت ایک فعل ہے اسی طرح کسی متبع کی اتباع ایک فعل ہے اور اس فعل کی برکت سے وہ دعا کی قبولیت کی درخواست کرتا ہے اس سے زیادہ فیصلے کا کوئی مقصد نہیں۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ کوئی نبی یا ولی من حیث الذات اس کی مراد پوری کرتا ہے اور وہ اسی کی رضا چاہتا ہے یا وہ سفارش کر کے بچا لے گا تو یہ مشرکانہ عقیدہ ہے جس کی عدم معافی کا اللہ نے بار بار اعلان فرمایا ہے۔
آبائو اجداد کا طریقہ
صالح (علیہ السلام) کی یہ تقریر سن کر قالوا یصلح وہ لوگ کہنے لگے کہ اے صالح (علیہ السلام) ! قد کنت فینا مرجوا قبل ھذا اس سے پہلے تو ہمارے درمیان امید کیا گیا تھا۔ تمہاری تبلیغ سے پہلے ہم تمہیں بڑا ہونہار اور لائق سمجھتے تھے کہ تو باپ دادا کا نام روشن کریگا مگر تو تو ان کی راہ سے ہٹ کر اسی راہ کو مٹانے کے درپے ہے کہنے لگے اتنھنآ ان نعبد ما یعبد آبائونا کیا تو ہمیں روکتا ہے ان کی عبادت کرنے سے جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں۔ تو ہمارے آبائو اجداد کے رسم و رواج ہم سے چھڑانا چاہتا ہے آج کے مشرک بھی یہی کہتے ہیں کہ فلاں کام اور فلاں رسم تو وہ بھی کرتے تھے ، وہ کوئی بیوقوف تھے جو ایسا کرتے تھے۔ یہ نئے عالم پیدا ہوگئے ہیں جو ہمیں تیسرے اور چہلم سے روکتے ہیں۔ قبروں پر گنبد بنانے ان پر چادریں پھیلانے اور چڑھا وے چڑھانے سے منع کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ تو ہمارے بزرگ کرتے چلے آئے ہیں ، یہ کون ہیں ہمیں روکنے والے مشرک لوگ ہمیشہ اپنے بڑوں کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں جب کہ اللہ نے فرمایا ” اولو کان آبائوھم لایعقلون شیئاً ولایھتدون “ (البقرۃ) اگرچہ ان کے آباو اجداد عقل و شعور اور ہدایت سے محروم ہی کیوں نہ ہوں۔ ہاں اگر آبائو اجداد یا بزرگ صحیح راستے پر ہوں تو پھر ضرور ان کے راستے پر چلو اور اس کی دعوت دوسروں کو بھی دو ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھی کہا تھا واتبعت ملۃ ابآءی ابراہیم واسحق ویعقوب (یوسف) میں تو اپنے باپ دادا ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کی ملت کا اتباع کرتا ہوں کیوں کہ وہ حق پر تھے۔ بہرحال اگر آبائو اجداد توحید الٰہی پر ہیں تو ان کی مانی جائے گی اور اگر وہ گمراہ ہیں تو ان پر فخر کرنا جہنمی ہونے کی علامت ہے۔
تو فرمایا ، اے صالح ! کیا تو ہمیں ان کی عبادت کرنے سے روکتا ہے جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں واننا لفی شک مما تدعونا الیہ مریب تو ہمیں جس چیز کی دعوت دیتا ہے ہم تو اس کے متعلق شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ ہمیں تمہاری بات سچی معلوم نہیں ہوتی۔ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سب کی حاجات ایک ہی خدا پوری کرے اور ہم سب کو چھوڑ کر اسی ایک کو پکاریں۔
توحید پر استقامت
اس کے جواب میں صالح (علیہ السلام) نے فرمایا قال یقوم ارء یتم ان کنت علی بینۃ من ربی اے میری قوم کے لوگو مجھے بتلائو کہ اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں اس نے مجھ پر وحی نازل فرمائی اور مجھے صحیح دین عطا کیا واتنی منہ رحمۃ اور اس اللہ نے اپنی طرف سے مجھے مہربانی بھی عطا کی ہے ہدایت ، ایمان ، نیکی اور تقویٰ یہ سب اللہ کی مہربانی ہی تو ہے جو اس نے عطا فرمائی ہے۔ فرمایا ان حالات میں فمن ینصرنی من اللہ ان عصیتہ اگر میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کروں گا تو اس کے سامنے کون میری مدد کریگا۔ یہ ایسی واضح بات ہے کہ جس میں کوئی شک اور تردد نہیں۔ فرمایا اگر میں تمہاری بات امان لوں فما تزید و ننی غیر تخسیر پس نہیں زیادہ کرتے تم میرے لئے نقصان کے سوا مطلب یہ کہ اگر میں توحید کا درس چھوڑ دوں اور تمہاری شرکیہ رسوم کی تردید کرنے کی بجائے خود اختیار کرلوں تو مجھے نقصان کے سوا کیا حاصل ہوگا یہ تو میرے لئے سراسر نقصان کا سودا ہوگا ، لہٰذا نہ میں پیغام الٰہی پہنچانے سے باز آسکتا ہوں اور نہ تمہاری غلط بات کے پیچھے لگ سکتا ہوں اب اگلی آیات میں قوم کی طرف سے نشانی کا مطالبہ آ رہا ہے اور پھر ان کی ہلاکت و تباہی کا تذکرہ ہے۔
Ayahs 11:64–68ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے مسئلہ توحید کی تفہیم کے لئے اس سورة مبارکہ میں متعدد انبیاء (علیہم السلام) کا تذکرہ کیا ہے۔ پہلے حضرت نوح اور ہود (علیہما السلام) کا ذکر فرمایا کہ انہوں نے اپنی اپنی قوم کو یہی دعوت دی۔ ” اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ “ اے لوگو ! صرف اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے بغیر تمہارا کوئی معبود نہیں۔ سورة کی ابتداء میں حضور خاتم النبین ﷺ کی زبان مبا کہ سے بھی یہی کلمات دہرائے گئے اور صالح (علیہ السلام) کو تبلیغ کالب لباب بھی یہی تھا کہ لوگو ! عبادت صرف اللہ کی کرو ، اس سے معافی مانگو اور اس کی طرف رجوع رکھو۔ آپ کی قوم نے کہا کہ ہم تو تمہیں بڑا ہونہار سمجھتے تھے کہ تو باپ دادے کا نام روشن کے گا مگر تو نے ہمیں انہی کے دین سے ہٹانا شروع کردیا ہے۔ ہمیں تو تیری بات مشکوک نظر آتی ہے۔ صالح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے لوگو ! اگر میں کھلے راستے اور واضح دلیل پر ہو اپنے رب کی طرف سے جس نے مجھے خاص مہربانی عطا کی ہے اگر میں اس کی نافرمانی کروں تو اس کے سامنے میری کون مدد رکے گا ، کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے اگر میں تمہاری بات مان لوں تو سراسر نقصان اٹھائوں گا۔
نشانی کا مطالبہ
اکثر انبیاء کی اقوام نے ان سے من مرضی کی نشانی طلب کرنے پر اصرار کیا ہے۔ اکثر مقامات پر ایسا بھی ہوا ہے کہ اللہ نے اپنی نبی سے کہلوایا کہ نشانی پیش کرنا میرا کام نہیں ہے بلکہ اس کا دار و مدار اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت پر ہے۔ وہ جب چاہے کوئی نشانی ظاہر فرما دے۔ مگر بعض اوقات اللہ تعالیٰ مطلوبہ نشانی ظاہر بھی فرما دیتا تھا۔ مکہ والوں نے حضور نبی کریم سے شق القمر کی نشانی طلب کی تو اللہ تعالیٰ نے چاند کو دو ٹکڑے کردیا۔ ایک ٹکڑا پہاڑ کی ایک طرف چلا گیا اور دوسرا دوسری طرف اس معجزے کو سب لوگوں نے دیکھا پھر بھی ” سحر مستمر “ کہہ کر ٹال دیا اور واضح معجزے کا انکار کردیا۔
حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم نے یہ مطالبہ پیش کیا کہ ہمارے سامنے پہاڑوں میں سے بڑی جسامت والی اونٹنی نکالو جو ہمارے سامنے بچہ جنے اور اس میں فلاں فلاں خصوصیت ہو تو ہم ایمان لے آئیں گے حضرت صالح (علیہ السلام) نے اللہ کی بارگاہ میں دعا کی جسے اللہ نے منظور فرما لیا۔ قوم کے میلے کا دن تھا۔ کھلے میدان میں مشرک کافر اور اہل ایمان ہزاروں کی تعداد میں موجود تھے ان سب کی موجودگی میں اللہ تعالیٰ نے چٹان سے اونٹنی کو نکالا پھر اس پر دردزہ جیسی کیفیت طاری ہوئی اور سب کے سامنے اس نے بچہ جنا۔ پھر یہ بچہ بھی بڑا ہوگیا۔ اس اونٹنی کے متعلق اللہ نے بعض پابندیاں بھی عائد کیں جن کا ذکر قرآن پاک کی مختلف سورتوں میں موجود ہیں۔ اس معجز اونٹنی کے متعلق حضرت ابو موسیٰ اشعری نے روایت بیان کی ہے جسے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے اپنی تفسیر عزیزی میں نقل کیا ہے کہ انہوں نے اونٹنی کے بیٹھنے والی جگہ کو پیمائش کیا تھا تو یہ ساٹھ ہاتھ یعنی نوے فٹ ہوئی تھی ۔
مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ اے لوگو ! اپنے منہ سے نشانیاں اور معجزے نہ طلب کیا کرو ، دیکھو قوم ثمود نے اپنے منہ سے معجزہ طلب کیا تھا اللہ نے ان کا مطالبہ پورا کردیا۔ پھر وہ اللہ تعالیٰ کی عائد کردہ پابندیوں کی پاسداری نہ کرسکے جس کی وجہ سے اللہ نے ان پر سخت عذاب نازل فرما کر انہیں ہلاک کردیا۔
اونٹنی کے لئے شرائط
یہ عجیب و غریب اونٹنی کھلی پھرتی تھی ، اپنی مرضی سے کبھی اس درے میں جاتی کبھی اس درے میں۔ اس کی خصوصیت یہ تھی کہ جس کنوئیں یا چشمے سے قوم کے جانور پانی پیتے تھے اللہ نے اس کو اس اونٹنی اور باقی جانوروں کے درمیان تقسیم کردیا۔ ایک دن صرف اونٹنی سارا پانی پی جاتی تھی جب کہ دوسرے دن باقی جانور اس گھاٹ سے سیراب ہوتے تھے۔ سورة قمر میں موجود ہے۔ اللہ نے فرمایا ، اے صالح (علیہ السلام) ! ” نبئھمء ان المآء فسمۃ بینھم کل شرب مختضر ان کو آگاہ کردیں کہ ان میں پانی کی باری مقرر کردی گئی ہے۔ ہر ایک کو اپنی اپنی باری پر آنا چاہئے۔
بہرحال یہ اونٹنی جس کثرت سے پانی پیتی تھی اسی کثرت سے دودھ بھی دیتی تھی جسے تمام لوگ اسعتمال کرتے تھے جس کا جی چاہتا اونٹنی کا ودھ نکال کر پی لیتا۔
آج کے درس میں اسی اونٹنی کی طرف اشارہ ہے ویقوم ھذہ ناقد اللہ صالح (علیہ السلام) نے فرمایا ، اے میری قوم کے لوگو ! یہ اللہ کی اونٹنی ہے۔ اونٹنی کی اللہ کے ساتھ یہ نسبت ایسی ہی ہے جیسی بیت اللہ شریف کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ گھر تو سارے کے سارے اللہ ہی کے ہیں مگر خانہ کعبہ کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ وہاں پر اللہ تعالیٰ کی تجلیات نازل ہوتی رہتی ہے اور وہ اللہ کی عبادت کا اولین مرکز ہے کلمتہ اللہ اور عیسیٰ روح اللہ جیسے کلمات کی اللہ کی طرف نسبت ان کی شرافت کی بناء پر ہے کلمات تو سارے اللہ ہی کے ہیں اور روح اللہ کا لقب دیا گیا ۔ اسی طرح اونٹنیاں تو ساری اللہ ہی کپیدا کردہ ہیں مگر صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی کو اللہ تعالیٰ نے سلسلہ تولید و تناسل کے بغیر معجزانہ طور پر پیدا فرمایا۔ اس لئے اسے ناقۃ اللہ کا لقب دیا گیا۔
فرمایا یہ اللہ کی اونٹنی ہے لکم ایۃ یہ تمہارے لئے ایک خاص نشانی کے طور پر ہے۔ قذروھا پس اس کو چھوڑ دو تاکل فی ارض اللہ تاکہ یہ زمین میں کھاتی رہے۔ یہ جہاں چاہے چرتی پھرے اس کے ساتھ کوئی تعرض نہ کرو ولا تمسوھا بسوآء اور اس کو برائی کے ساتھ مت چھونا یعنی اس کو کوئی گزند نہ پہنچانا۔ اگر ایسا کرو گے فیاخذکم عذاب قریب تو تمہیں اللہ کا عذاب بہت جلدی آ کر پکڑلے گا اور پھر تمہیں مہلت بھی نہیں ملے گی۔ یہ بات جان لینی چاہئے کہ یہ اونٹنی اللہ کی نشانی ہے ، اس کا احترام لازمی ہے اور اس کی توہین موجب سزا ہے۔
شعائر اللہ کی تعظیم
اللہ کے تمام شعائر کی تعظیم ضروری ہے۔ سورة حج میں موجود ہے۔ ومن یعظم شعآئر اللہ فانھا من تقویٰ القلوب اور جو کوئی شعائر اللہ کی تعظیم کرتا ہے تو یہ تو دل کے تقوے کی بات ہے یعنی جس کے دل میں خوف خدا ہوگا۔ وہ ضرور اللہ کے شعائر کی تعظیم کریگا۔ اب شعائر اللہ میں بہت سی چیزیں آتی ہیں جن میں بیت اللہ شریف اور ساری مسجدیں ہیں ، صفا ومروہ کی پہاڑویں کو اللہ نے شعائر اللہ کا لقب دیا ہے۔ قرآن پاک ، نماز ، آدان ، حج اور خود نبی کی ذات شعائر اللہ میں داخل ہیں ، ان سب کا احترام ضروری ہے ، جو توہین کرے گا سزا کا مستحق ہوگا۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی شخص دنیا کی زندگی میں چند روز سزا سے بچا رہیگا مگر شعائر اللہ کی توہین کر کے کوئی شخص اللہ کی گرفت سے نہیں بچ سکتا۔ امام شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ شعائر اللہ کی تعظیم خود اللہ تعالیٰ کی تعظیم کے برابر ہے کیونکہ شعائر اللہ ہی کے مقرر کردہ ہیں۔ اسی لئے … اللہ نے قوم ثمود کو فرمایا کہ اس اونٹنی کو برئای کے ساتھ مت چھونا ، ورنہ اللہ تعالیٰ کا عذاب تمہیں جلد ہی آ کر پکڑ لے گا۔ اس قوم نے اللہ کے حکم کی نافرمانی کی۔ سورة الشمس میں ہے ” کذبت ثمود بطغوائھا “ قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی بنا پر اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور پھر شدید عذاب میں مبتلا ہوئے۔ اس واقعہ کی مزید تفصیلات سورة اعراض اور بعض دوسری سورتوں میں بھی موجود ہیں۔
عذاب الٰہی کی آمد
اللہ تعالیٰ کے واضح حکم کے باوجود قوم ثمود نے نافرمانی کی فعقروھا اور اونٹنی کے پائوں کاٹ دیئے اس مقصد کے لئے انہوں نے ایک آدمی مقرر کیا جس نے اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس منصوبے کو عملی جامہ پہنایا۔ یہ لوگ گھات لگا کر ایک درے میں بیٹھ گئے۔ جب اونٹنی پھرتی پھراتی وہاں سے گزری تو غنڈوں نے تلوار چلا کر اس کے پائوں کاٹ دیئے پھر جب وہ زمین پر گر گئی تو اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اس کا گوشت تقسیم کرلیا جب اونٹنی زمین پر گئی تو اس کے بچے نے تین چیخیں ماریں اور پھر دوڑ کر اسی پہاڑی کی طرف چلا گیا جہاں سے اونٹنی پیدا ہوئی تھی اور وہیں غائب ہوگیا۔ صالح (علیہ السلام) نے بچے کی کافی تلاش کی مگر وہ نہ ملا۔ اس سانحہ کے بعد فقال اللہ کے نبی نے فرمایا تمتعوا فی دارکم ثلثۃ ایام تین دن تک اپنے گھروں میں فائدہ اٹھا لو زاد المیر اور دوسری تفاسیر میں ذکر ہے کہ صالح (علیہ السلام) نے قوم کو بتلا دیا تھا کہ تمہارا عرصہ حیات صرف تین دن ہے ۔ پہلے دن تمہارے چہرے زرد ہوجائیں گے ، دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن سیاہ پڑجائیں گے اور پھر تم ہلاک ہو جائو گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ بدھ کے دن ان کے چہرے زرد ہوئے ، جمعرات کو سرخ اور جمعہ کو سیاہ ہوگئے۔ پھر ہفتہ کے دن علی الصبح ان پر عذاب مسلط ہوا ار وہ ہلاک کردیئے گئے۔ حضور علیہالسلام نے فرمایا کہ اللہ نے ان پر دو عذاب بھیجے اوپر سے چیخ آئی اور نیچے سے زلزلے نے آپکڑا ، فرشتے نے ایسی خوفناک چیخ ماری جس سے لوگوں کے قلب و جگر پھٹ گئے اور وہ ہلاک ہوگئے ، حضور نے فرمایا کہ قوم ثمود کے کافروں میں سے مشرق و مغرب میں کسی کو بھی اللہ نے زندہ نہ چھوڑا۔ فرمایا ، عذاب کے وقت ابورغال نامی ایک شخص بیت اللہ شریف میں ہونے کی وجہ سے بچ گیا مگر جب وہ حرم سے باہر نکلا تو اس پر بھی وہی سزا آئی جو قوم کے دور سے افراد پر آئی تھی۔ عزوہ حنین کے بعد جب حضور ﷺ طائف کی طرف جا رہے تھے تو آپ نے صحابہ سے فرمایا کہ اس مقام پر ابورغال ہلاک ہوا تھا اور اس کی نشانی یہ ہے کہ اس کے پاس سونے کی چھڑی تھی جو کہ اس جگہ پر اس کے ساتھ ہی دفن ہے۔ صحابہ نے وہ جگہ اکھاڑی تو وہاں سے چھڑی برآمد ہوگئی۔
بدبخت آدمی
قوم ثمود کے جس آدمی نے اونٹنی کے پائوں کاٹے تھے اس کے متعلق حضور ﷺ نے ایک دفعہ حضرت علی سے خطاب فرماتے ہوئے کہا۔ اے علی ! پہلی امتوں کا بدبخت آدمی احمر ثمود نامی تھا۔ یہ سرخ رنگ اور ٹھنگنے قد کا آدمی بڑا بدمعاش تھا جس نے اللہ کی اونٹنی کو ہلاک کیا اور اس امت کا بدبخت آدمی وہ ہوگا جو تمہارے سر کے خون سے تمہاری داڑھی کو رنگین کرے گا۔ یہ عبدالرحمٰن ابن ملجم خارجی تھا ، جس نے حضرت علی کو شہید کیا ، شاہ عبدالعزیز فرماتے ہیں کہ یہ عجیب اتفاق ہے کہ احمر ثمودی نے بھی ایک عورت کی خاطر اللہ کی اونٹنی کو ہلاک کیا اور اس خارجی نے بھی عورت ہی کی خاطر حضرت علی کو شہید کیا ، آپ خلیفہ علیٰ منہاج النبوۃ تھے اور یہ خلافت راشدہ آپ کے ساتھ ہی ختم ہوگئی۔ بہرحال صالح (علیہ السلام) نے قوم کو متنبہ کیا کہ اپنے گھروں میں تین دن تک فائدہ اٹھا لو ، اس کے بعد تم ہلاک ہو جائو گے۔ فرمایا ذلک وعد غیر مکذوب اللہ تعالیٰ کا یہ ایسا وعدہ ہے ، جو جھوٹا نہیں ، بلکہ پورا ہو کر رہیگا اور تم صفحہ ہستی سے ناپید ہو جائو گے۔
اہل ایمان کی نجات
فرمایا فلما جآء امرنا پھر جب ہمارا حکم یعنی عذاب آ گیا نجینا صلحاً والذین امنوا معہ ہم نے بچا لیا صالح (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اہل ایمان پر نہ تو چیخ کا کوئی اثر ہوا اور نہ ہی زلزلے نے انہیں تہ وبالا کیا۔ وہ اللہ کے نبی کی ہمراہی میں الگ تھلگ رہے اور اس عذاب سے بچ گئے۔ فرمایا ان کا محفوظ رہنا برحمۃ منا ہماری خاص مہربانی سے ہوا وہ اللہ پر ایمان لائے ، اس کی وحدانیت کو تسلیم کیا اور نبی کی اطاعت کی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی رحمت کی اور عذاب سے بچا لیا اور پھر یہی نہیں بلکہ ومن خزی یومئذ اس دن کی رسوائی سے بھی بچ گئے جس دن اللہ نے باقی قوم کو ہلاک کردیا تھا۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو قیامت والے دن کی رسوائی سے بھی محفوظ رکھے گا۔ فرمایا ان ربک ھو القوی العزیز بیشک تمہارا پروردگار طاقتور بھی ہے اور غالب بھی وہ جس طرح چاہے کسی قوم کو ہلاک کر دے ، اس کے راستے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی ، اس نے کسی قوم کو طوفان کے ذریعے ہلاک کیا ، کسی کو تیز گرم ہوا بھیج کر تباہ کیا اور کسی کو چیخ اور زلزلہ بھیج کرنا بود کردیا۔ وہ ہر چیز پر غالب ہے اور جو چاہے کر گزرتا ہے۔
ظالموں کی ہلاکت
فرمایا اللہ کی وحدانیت کے انکار ار نبی کی مخالفت کا نتیجہ یہ نکلا وہ اخذ الذین ظلموا الصیحۃ اور پکڑ لیا ظلم کرنے والوں کو چیخ نے اوپر سے چیخ آئی اور جیسا کہ دوسری جگہ آتا ہے نیچے سے زلزلہ بھی آیا۔ فاصبحوا فی دیارھم جثمین پس ہوگئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرنے والے۔ جب زلزلہ آتا ہے تو لوگوں کے پائوں اکھڑ جاتے ہیں اور وہ اوندھے منہ گر پڑتے ہیں۔ قوم ثمود کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ اللہ نے فرمایا وہ ایسے ہوگئے کان لم یغنوا فیھا گویا کہ وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے۔ ان کی تمام بستیاں ویران ہوگئیں اور وہاں کوئی فرد بشر نظر نہیں آتا تھا حالانکہ ان کے علاقے میں ایک ہزار سات 1700 سو قصبات اور شہر آباد تھے۔ یہ ظلم کا نتیجہ تھا ، ظلم و کفر و شرک سر فہرست ہیں۔ نی کی توہین ، شعائر اللہ کی توہین اور جزائے عمل کے انکار کا نتیجہ ان کی تباہی کی صورت میں نکلا۔ ان کے بڑے بڑے محلات تھے جو ویران ہوگئے اور ان میں بسنے والا کوئی متنفس وہاں باقی نہ رہا۔ اللہ نے تمام نافرمانوں کو ہلاک کردیا۔
سامان عبرت اور تنبیہ
اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ نے بعد میں آنے والوں کے لئے باعث عبرت اور تنبیہ بنا دیا ہے۔ فرمایا الا ان ثموداکفروربھم قوم ثمود نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ، اس کی توحید کا انکار کیا اور نبی کی نافرمانی کی الا بعدا لثمود خبردار ! دوری اور ہلاکت ہے قوم ثمود کے لئے۔ بعد کا معنی دوری ہے یعنی وہ خدا تعالیٰ کی رحمت سے دور ہوگئے اور بعد کا معنی ہلاکت بھی آتا ہے۔ چناچہ یہ لوگ صفحہ ہستی سے بالکل نابود ہوگئے یہ تو اس دنیا میں عذاب آیا اور آخرت کا مرحلہ ابھی آگے ہے۔ غرضیکہ تنبیہ کی جا رہی ہے کہ جو بھی رب تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے گا ، وہ بچ نہیں سکے گا۔ یہ نہ سمجھیں کہ یہ سزا صرف قوم عاد یا قوم ثمود کے لئے تھی بلکہ ہر نافرمان ایسی ہی سزا میں پکڑا جاسکتا ہے۔ مالک الملک اپنے قانون امہال کے مطابق کسی فرد یا قوم کو مہلت دیتا رہتا ہے مگر جب وہ مہلت پوری ہوجاتی ہے تو اس کی گرفت آجاتی ہے۔