11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 11:110–112

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 11:110 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق دی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب ، پھر اختلاف کیا گیا اس میں ۔ اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے ہوچکی ہے تیرے پروردگار کی طرف سے تو البتہ فیصلہ کردیا جاتا ان کے درمیان ، اور بیشک وہ لوگ اس کی طرف سے تردد انگیز شک میں ہیں

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 11:111 in the Quran reader

اور بیشک سب کے سب البتہ پورا پورا دے گا ان کو تیرا پروردگار ان کے اعمال کا صلہ۔ بیشک وہ جو کچھ بھی یہ عمل کرتے ہیں اس کی پوری طرح خبر رکھنے والا ہے

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 11:112 in the Quran reader

پس آپ سیدھے رہیں جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اور وہ لوگ بھی جنہوں نے توبہ کی آپ کے پاس اور حد سے آگے نہ بڑھو۔ بیشک وہ جو کچھ بھی تم کام کرتے ہو ، اس کو

ربط آیات پہلے اللہ نے مختلف نافرمان قوموں کا ذکر کیا کہ اللہ کے نبیوں نے انہیں کس طرح تبلیغ کی ، پھر اس نافرمانی کی بدولت ان اقوام پر ہونے والے مئواخذہ کا ذکر کیا۔ اس دنیا میں دی گئی سزا کے علاوہ جو سزا ان کو آخرت میں ملنے والی ہے ، اس کا بھی تذکرہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے کفر اور شرک کی تردید کی اور واضح کیا کہ کافر اور مشرک اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے۔ ہر ایک کو اپنے اپنے عقیدے اور عمل کا صلہ ملے گا ار اس ضمن میں کسی کو شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے۔ نزول تورات اسی یقین کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ولقد اتینا موسیٰ الکتب اور البتہ تحقیق ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی۔ یہ عظیم الشان کتاب تورات ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں متعدد مقامات پر موجود ہے تمامکتب سماویہ اور صحائف میں سے قرآن پاک کے بعد سب سے جامع کتاب تورات تھی۔ اس کتاب میں اللہ تعالیٰ نیتاریخ انبیاء کے علاوہ نظام خلافت اور دیگر اجتماعی معاملات سے متعلق قوانین نازل فرمائے تھے جس کے بعد میں یہودیوں نے باگڑ دیا۔ آج کل جو کتاب بائیبل کے نام سے موجود ہے اس میں کل انتالیس 39 صحیفے ہیں جن میں سے پہلے پانچ باب یا صحیفے تورات کا حصہ ہیں اور آخر میں عہد عتیق کے نام سے چار انجیلوں کو کتاب کا حصہ بنا دیا گیا ہے ، انجیل بھی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ایک ہی کتاب تھی مگر عیسائیوں نے اس میں بھی گڑ بڑ کر کے اسے چار حصوں میں تقسیم کردیا ہے۔ بہرحال تورات کا معنی ہی قانون ہے۔ یہ عبرانی یا ، سریانی زبان میں نازل ہوئیتھی۔ اب یہ اصل زبان میں تو کہیں بھی موجود نہیں۔ البتہ اس کے تراجم دنیا کی مختلف زبانوں میں میسر ہیں۔ جب فرعون اور اس کا لائو لشکر بحر قلزم میں غرق ہوگیا تو بنی اسرائیل ان کے شکنجے سے آزاد ہوگئے ، تاہم وہ مصر واپس جانے کے بجائے صحرائے سینا میں ہی سرگرداں پھرتے رہے اس دوران انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ پہلے تو ہم فرعون کی غلامی میں تھے اور اس کے خود ساختہ قانون کے پابند تھے ، مگر اب جب کہ ہم آزاد ہوچکے ہیں تو زندگی گزارنے کے لئے ہمارے پاس کوئی قانون ہونا چاہئے بنی اسرائیل کی اس فرمائش پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں درخواست پیش کی تو حکم ہوا کہ کوہ طور پر چلے جائو ، وہاں پر اعتکاف بیٹھو اور روزے رکھو تو تمہیں مطلوبہ کتاب دی جائیگی تو یہ تورات وہی کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کی۔ اختلاف کی الکتاب فرمایا بنی اسرائیل کو کتاب تو مل گئی فاختلف فیہ مگر اس میں اختلاف کیا گیا۔ حق تو یہ تھا کہ جس کتاب کو بنی اسرائیل نے خود طلب کیا تھا ، اس پر عمل کرتے تاکہ ان کو فلاح نصیب ہوتی ، مگر انہوں نے اس کے احکام میں اختلافات پیدا کردیے۔ کسی نے کسی حکم کو مان لیا مگر دوسرے نے انکار کردیا۔ کسی نے غلط تاویلیں شروع کردیں اور بعض نے بعض احکام کو بالکل ٹھکرا دیا۔ بعض لوگوں نے احکام الٰہی کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی اور بعض نے انہیں بالکل ہی بگاڑ دیا اور اس طرح یہ مقدس کتاب اختلافات کا شکار ہوگئی اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل دھڑے بندی شروع ہوگئی اور اس کے بہت سیفرقے وجود میں آگئے۔ افسوس کا مقام ہے کہ آج قرآن پاک جیسی مقدس و مطہر اللہ کی آخر کتاب کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جا رہا ہے ، جس کے نتیجے میں یہودیوں کی طرح مسلمانوں میں بہت سے فرقے معرض وجود میں آ چکے ہیں۔ حضور ﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا افترقت بنی اسرآئیل علی ثنتین وسبعین یعنی بنی اسرائیل میں بہتر 72 فرقوں میں بٹ گئے ، ہر فرقہ کا علیحدہ علیحدہ اعتقاد اور علیحدہ علیحدہ مسلک ہے۔ ان کی فکر اور طریق کار بھی جدا جدا ہے حالانکہ کتاب تو ایک ہی تھی مگر اختلافات کی وجہ سے وہ چھوٹے چھوٹے گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہودیوں کے بہتر فرقے بنے مگر میری امت کے تہتر ہوں گے جن میں سے صرف ایک ناجی ہوگا۔ جب کہ باقی سارے جہنمی ہوں گے صحابہ نے عرض کیا۔ حضور ! وہ ناجی فرقہ کون سا ہوگا ۔ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا 1۔ ما انا علیہ و اصحابی ناجی فرقہ وہ ہوگا جو میرے اور میرے صحابہ کے طریقہ پر ہوگا۔ بہرحال فرمایا کہ جو کتاب موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی اس میں اختلاف کیا گیا اور پھوٹ ڈالی گئی حالانکہ اگر یہ لوگ اللہ کی مرضی کے مطابق چلتے تو ان کا فائدہ تھا۔ اللہ نے یہ کتاب ہدایت کے لئے نازل فرمائی تھی۔ اللہ نے قرآن پاک اور تورات دونوں کے متعلق فرمایا ہے کہ کوئی ایسی کتاب لائو جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت کا راستہ بتلانے والی ہو فاتوا بکتب من عند اللہ ھو اھدی منھما (القصص) تو فرمایا اللہ کی کتاب تورات تو راہنمائی کرنے والی ہے مگر ان لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا اور فرقوں میں تقسیم ہوگئے۔ قانون اعمال و تدریج اس اختلاف کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو فوراً سزا نہیں دی بلکہ فرمایا ولولا کلمۃ سبقت اگر نہ ہوتی ایک بات جو پہلے واقع ہوچکی ہے من ربک تیرے پروردگار کی طرف سے نقضی بینھم تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا ، مگر یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف یہ۔ اس کا قانون یہ ہے کہ 1 ؎ ترمذی ص 379 دنیا میں لوگوں کو موقع دیا جاتا ہے۔ ان کو مہلت دی جاتی ہے کہ اس عرصہ میں حق کو قبول کرلیں ۔ اگر وہ تسلیم کرلیتے ہیں تو بچ جاتے ہیں ، ورنہ خدا تعالیٰ کی گرفت میں آجاتے ہیں۔ تاہم عام قانون یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ مہلت دیتا ہے ، پھر اگر اس دنیا میں ان کا فصلہ کسی مصلحت کی بناء پر نہ ہو تو آگے چل کر ضرور ہوجاتا ہے۔ آگے اسی رکوع میں آ رہا ہے۔ ” لا یزالون مختلفین “ لوگ اختلاف کرتے رہیں گے ” ان ربک ھو یفصل بینھم یوم القیمۃ فیما کالوا فیہ یختلفون “ (السجدۃ) پھر تیرا پروردگار ان کے درمیان فیصلہ کر دیگا جس بات میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ سورة بقرہ میں موجود ہے۔ قدتبین الرشد من الغنی دنیا میں ہدایت اور گمراہی کی راہیں واضح ہوچکی ہیں ، اس کے باوجود لوگوں نے اختلاف ، جھگڑے اور فرقہ بندی کو ہوا دی۔ عقیدے خراب کئے ، اللہ کی توحید کو کما حقہ تلیم نہ کیا ، مگر ان سب اختلافات کا حتمی فیصلہ اللہ تعالیٰ آگے چل کر ہی کرے گا کیونکہ وہ اپنے قانون امہال و تدریج کے مطابق مہلت دیتا رہتا ہے اور فوری گرفت نہیں کرتا۔۔ کلام الٰہی میں تردد فرمایا ، بات تو بالکل واضح کردی گئی ہے وانھم لفی شک منہ مریب مگر یہ لوگ اس کی طرسے تردد و انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ مریب شک کی صفت ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان کا دل کسی طرف نہیں جمتا حالانکہ یہ خدا تعالیٰ کا کلام برحق ہے۔ جو انسانوں کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے نازل کیا گیا ہے۔ اس پر یقین رکھنا چاہئے اور اپنی فکر و عمل اسی کے مطابق بنانی چاہئے شک کرنا منافق یا نافرمان لوگوں کا کام ہے۔ شک ان کو چین سے نہیں بیٹھنے دیتا۔ فرمایا ، یاد رکھو ! وان کلاً لما اور بیشک سب کے سب لیوفینھم ربک اعمالھم البتہ پورا پورا دیگا تیرا پروردگار ان کے اعمال کا صلہ ، صاحب کشاف کہتے ہیں کہ یہاں پر کلا کی تنوین مضاف الیہ کے عوض میں آئی ہے اور مطلب ہے و ان کلھم یعنی بیشک وہ سب کے سب بعض فرماتے ہیں کہ پوری قرأت یوں ہے وان کلا لما بعثوا یہ سب کے سب جب دوبارہ اٹھائے جائیں گے ، تو ضروری بات ہے کہ ان کا پروردگار ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیگا۔ کیونکہ انہ بما یعملون خبیر بیشک وہ ان کے ہر عمل کی پوری پوری خبر رکھتا ہے۔ اس سے کوئی چیز غائب نہیں ہے ، ذرہ ذرہ اس کے علم میں ہے و ہ ہر ایک کے ارادے اور نیت کو جانتا ہے ، لہٰذا ان کے اعمال کا بدلہ ضرور دیگا۔ جزائے عمل اس دنیا میں نہیں بلکہ اگلے جہان میں ہے ، لہٰذا یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ مجرموں کو فوری طور پر سزا کیوں نہیں دی جاتی اس کا قانون یہ ہے کہ جب جزائے عمل کا وقت آئے گا تو پھر وہ پورا پورا انصاف کریگا اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی مثال بھی بیان فرما دی ہے اور حضور ﷺ اور آپ کے متبعین کو تسلی بھی دی ہے کہ وہ گھبرائیں نہیں ، بلکہ اپنا مشن جاری رکھیں آگے جزائے عمل کا وقت آن والا ہے جب سب کو پورا پورا صلہ ملے گا۔ استقامت کا حکم آگے اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لئے ایک بڑا سخت حکم نازاں فرمایا ہے۔ ارشاد ہے فاستقم کما امرت اے پیغمبر ! آپ سیدھے رہیں جیسا کہ آپ کے حکم دیا گیا ہے۔ ومن تاب ممک اور جن لوگوں نے توبہ کی ہے آپ کے ساتھ ، یعنی کفر ، شرک اور گندے عقیدے سے تائب ہوگئے ہیں اور ایمان اور توحید میں آپ کے ہمسفر ہیں ، ان کو بھی یہی حکم ہے کہ وہ استقامت پر رہیں استقامت بہت بڑی بات ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان شک اور تردد میں نہ پڑے بلکہ اپنے ایمان پر پختہ رہے ، مگر حالت یہ ہے کہ اکثر لوگ استقامت سے محروم ہوتے ہیں۔ بزرگان دین کا قول ہے اطلبوا الاستقامۃ ولاتطلبوا الکرمۃ یعنی استقامت تلاش کرو ، کرامت کے پیچھے نہ پڑو۔ بعض لوگ کرامات کی تلاش میں رہتے ہیں کہ کہیں نظر آئے تو صاحب کرامت کو ولی اللہ تسلیم کرلیں۔ فرمایا کرامت سے بلند تر چیز استقامت ہے ، اسے اختیار کرو۔ شیخ عبدالقادر جیلانی فرماتے ہیں کہ استقامت کا معنی درست راستے پر ٹھیک ٹھیک قائم رہنا ہے۔ صحابی رسول حضرت سفیان ابن عبداللہ ثقفی نے ایک دفعہ حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا قل لی فی السلام قولاً لا اسئل احداً بعدک حضور ! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتلا دیں کہ آپ کے بعد مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہ پڑے حضور ﷺ نے فرمایا قل امنت باللہ ثم استقم علیھا کہو میں اللہ پر ایمان لایا ، اس کی وحدانیت کو تسلیم کیا اور پھر اس پر مستقیم رہو یعنی جم جائو۔ محمد ثین کرام فرماتے ہیں کہ ایمان لانے کے بعد تمام مقتضیات ایمان پر قائم رہو اور ان میں کسی قسم کا خلل نہیں آنا چاہئے۔ عقیدے کی پختگی امام بیضاوی اور بعض دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ س سے پہلے استقامت عقیدے میں ہونی چاہئے اور عقیدے میں توحید کو اولیت حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر پختہ عقیدہ ہو ، اور اس کے خلاف تمام عقائد خواہ وہ شرکیہ ہوں یا تشبیہ والے یا جبر والے ، سب باطل ہیں بعض یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ انسان خود مختار ہے اور اس پر کسی طاقت کا کنٹرول نہیں ہے۔ یہ بھی گمراہی والا عقیدہ ہے۔ بعض لوگ صفات الٰہی کا انکار کردیتے ہیں اور بعض اللہ تعالیٰ کی عبادت میں گڑ بڑ کر جاتے ہیں۔ یہ سب باتیں استقامت سے دوری کی علامت ہیں۔ استقامت یہ ہے کہ عقیدہ بالکل پاک اور صاف ہو ، اس میں کسی باطل چیز کو دخل نہیں ہونا چاہئے عبادات میں بھی استقامت پیدا کرنی چاہئے ، ایسا نہیں ہے کہ کبھی کوئی عبادت کرلی اور کبھی چھوڑ دی بلکہ عبادت خواہ فرض ہو یا واجب ، سنت ہو یا مستحب ، اس پر مداومت ہونی چاہئے اور یہ بات استقامت میں داخل ہے۔ اعمال میں استقامت تمام اعمال اور معاملات میں بھی استقامت ضروری ہے۔ انسان حلال و حرام میں استقامت اختیار کرے اور حقوق میں بھی ثابت قدم رہے۔ خواہ انسان کا اپنا ہو ، خدا تعالیٰ کا ہو یا نبی نوع انسان کا ، اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہونی چاہئے حتی کہ شریعت میں جانوروں کے حقوق بھی متعین ہیں جن کا ادا کرنا ضروری ہے۔ معاشرے کے کمزوروں ، بیماروں ، محتاجوں ، مسافروں ، یتیموں اور اقرباء کے حقوق کو ادا کرنا استقامت میں داخل ہے۔ جو شخص دوسرے کے حقوق ادا نہیں کرتا وہ استقامت سے دور ہے۔ زندگی کے باقی معاملات مثلاً سیاست میں بھی استقامت سے دور ہے۔ زندگی کے باقی معاملات مثلاً سیاست میں بھی استقامت یعنی اعتدال کی ضرورت ہے ، یہودیوں ، دہریوں اور کمیونسٹوں جیسی سیاست اختیار نہ کرو ، ہمیشہ ایمان اور اسلام کی سیاست اختیار کرو جو کہ اللہ کے نبیوں یا خلفائے راشدین کا طریقہ ہے۔ ملکی آئین اور قانون میں استقامت کی ضرورت ہے اور یہ اس وقت حاصل ہوگ ی جب دین کے بتائے ہوئے قوانین اختیار کرو گے۔ اگر مانگے تانگے کے غیر اسلامی قوانین اختیار کرو گے تو استقامت حاصل نہیں ہو سکے گی۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ ایک موقع پر حضرت ابوبکر صدیق اور بعض دیگر صحابہ نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ حضور ! کیا بات ہے آپ کے بال سفید ہو رہے ہیں اور بڑھاپے کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں آپ (علیہ السلام) نے فرمایا 1 ؎ شیبتنی سورة الھود یعنی سورة ہود نے مجھے بوڑھا کردیا ہے۔ بعض روایات میں سورة واقعہ ، سورة تکویر ، سورة نبا اور سورة مرسلت کا ذکر بھی آتا ہے کہ ان سورتوں نے مجھے بوڑھا کردیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان سورتوں میں حضرت نوع (علیہ السلام) کی قوم سے لیکر بہت سی نافرمان قوموں کا ذکر ہے اور ان پر اسی دنیا میں آنے والی سزا کا بیان ہے۔ ایسے لوگوں کا آخرت میں جو انجام ہونے والا ہے ، اس کا بھی اشارۃ ذکر کردیا گیا ہے حضور نے فرمایا کہ مجھے خوف ہے کہ کہیں میری امت کا حشر بھی سابقہ امم جیسا ہی نہ ہو اور اسی خوف ہے کہ کہیں میری امت کا حشر بھی سابقہ امم جیسا ہی نہ ہو اور اس یخوف کی وجہ سے مجھ پر بڑھاپا طاری ہو رہا ہے۔ استقامت بطور سخت حکم حضرت عبداللہ بن مسعود کے حوالے سے بعض بزرگان دین سے یہ بات بھی منقول ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ مجھ پر بڑھایا سورة ہود میں آمدہ سخت حکم فاستقم کی وجہ سے آیا ہے۔ مجھے ہر وقت ڈر رہتا ہے کہ کہیں استقامت میں فرق نہ آجائے نبی کی ذات تو اعلیٰ وارفع ہے ، اس کی استقامت میں تو کوئی شبہ نہیں ہو سکتا ، البتہ امت کے لئے یہ بڑا سخت حکم ہے ، اگر استقامت سے ادھر ادھر ہوگئے تو گرفت میں آجانے کا ڈر ہے حضور ﷺ اسی فکر میں مبتلا رہتے تھے۔ آج کے دور میں استقامت مفقود ہوچکی ہے۔ نہ عقیدے میں پختگی ہے ، نہ اعمال میں اور نہ اخلاق میں ، زندگی کے کسی شعبہ میں خواہ وہ سیاست کا ہو یا معیشت کا یا دیگر معاملات کا ، استقامت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی ، بہرحال اللہ نے حکم دیا کہ جس طرح آپ کو حکم دیا 1 ؎ ترمذی ص 473 ، مستدرک حاکم ص 323/ج 2 گیا ہے اس کے مطابق آپ استقامت پر وہیں ولا تطغوا اور حد سے آگے نہ بڑھیں معاملہ عقیدے کا ہو یا عمل کا ، اخلاقیات ہوں یا حقوق کسی بھی معاملہ میں حد سے تجاوز نہ کریں بلکہ استقامت یعنی اعتدال کو قائم رکھیں اور نہ گرفت میں آجائیں گے۔ کیونکہ انہ بما تعملون بصیر تم جو بھی کام کرتے ہو ، وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہیں۔ اس کے بعد جزائے عمل یقینی بات ہے ، لہٰذا استقامت کو تلاش کرو تاکہ تمہارا ایمان ، توحید ، اعمال اور اخلاق صحیح سمت میں رہیں۔
Ayahs 11:113–115

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

اور مت جھکو ان لوگوں کی طرف جنہوں نے ظلم کیا ، پس چھوٹے گی تم کو آگ ، اور نہیں ہوگا تمہارے لئے اللہ کے سوا کوئی مددگار ، پھر تمہاری (کسی طرف سے بھی) مدد نہیں کی جائے گی

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور قائم کرو نماز کو دن کے دونوں اطراف میں اور رات کی گھڑیوں میں بیشک نیکیاں دور کرتی ہیں برائیوں کو یہ نصیحت ہے نصیحت پکڑنے والوں کے لئے

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور آپ صبر کریں ، بیشک اللہ تعالیٰ نہیں ضائع کرتا اجر نیکی کرنیوالوں کا

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے بنیادی طور پر توحید کا مسئلہ بیان فرمایا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر عقائد یعنی رسالت ، قیامت ، جزائے عمل اور قرآن کی صداقت و حقانیت کا ذکر ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک متعدد انبیاء اور ان کی قوموں کا حال بیان کیا گیا ہے۔ جسم میں دعوت الٰہی التوحید کی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبین ﷺ کی زبا ن سے کہلوایا ہے۔ ” الاتعبدوآ الا اللہ “ لوگو ! عبادت صرف اللہ کی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو ، اپنے گناہوں کو بخشوائو اور خدا تعالیٰ کے سامنے توبہ کرو۔ یہی بات دوسرے انبیاء نے بھی فرمائی۔ اس کے جواب میں مختلف اقوام کے لوگوں میں جو ردعمل پیدا ہوا ، اللہ نے اس کا بھی ذکر کیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ جن لوگوں نے نافرمانی کی۔ توحید باری تعالیٰ کا انکار کیا ، انبیاء کی نبوت اور رسالت کو تسلیم نہ کیا بلکہ الٹا ان کو تکالیف پہنچاتے ہرے ، ان کی توہین کرتے رہے ، اللہ نے ان کو اس دنیا میں بھی مختلف قسم کی سزائوں میں مبتلا کیا اور پھر آخرت کا عذاب تو ان کے لئے دائمی ہوگا۔ تاریخ انبیاء کی آخری کڑی کے طور پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ہے کہ دیکھو ! آپ کو اللہ تعالیٰ نے عظیم الشان کتاب عطا فرمائی تاکہ لوگ اس سے ہدایت اور راہنمائی حاصل کریں مگر لوگوں یک بدقسمتی ہے کہ انہوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا ، پاکیزہ عقائد کو بگاڑ کر مختلف فرقے بنا لئے۔ اللہ نے فرمایا کہ آگے جزائے عمل کی منزل آنے والی ہے جب ہر شخص کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ ملنے والا ہے۔ استقامت علی الدین گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا ” فاستقم “ یعنی آپ اپنے دین پر مستقیم رہیں اور جن ایمانداروں نے آپ کے ساتھ توبہ کی ہے ، وہ بھی دین پر سیدھے رہیں اور سرکشی اختیار نہ کریں۔ فلاح و کامیابی کا مرکزی اصول استقامت علی الدین ہے یعنی دین پر مضبوطی کے ساتھ جم جانا اور اس ضمن میں کسی قسم کی کمزوی یا بزدلی نہ دکھانا ، حضور ﷺ اس اصول کی خاطر بڑے غمگین رہتے تھے کہ میری امت دین پر کس طرح مستقیم رہ سکے گی امام رازی فرماتے ہیں کہ دین کے تمام شعبوں میں استقامت کی ضرورت ہے۔ عقیدہ ، ایمان ، سیاسیات ، معاشیات ، اخلاقیات اور عبادات تمام معاملات میں پختگی کی ضرورت ہے حتی کہ وضو بھی سنت میں بتائی گئی ترتیب کے مطابق کرو کیونکہ غیر مرتب وضو کرنا مکروہ اور خلاف سنت سمجھا جاتا ہے۔ غرضیکہ تمام امور میں استقامت کی ضرورت ہے۔ ظالم اور مظلوم میں کشمکش اب ارشاد ہوتا ہے ولا ترکنوا الی الذین ظلموا اور آپ نہ جھکیں یعنی نہ مائل ہوں ان لوگوں کی طرف جنہوں نے ظلم کیا۔ اگر ایسا کرو گے فتمسکم النار تو تم کو بھی جہنم کی آگ چھوٹے گی ، مطلب یہ ہے کہ ظالموں کے ساتھ میلان رکھنے کی بھی اجازت نہیں ہے ، اللہ نے ظالم کی حمایت کرنے سے بھی منع فرما دیا ہے۔ فرمایا آگے جب جزائے عمل کی منزل آئے گی وما لکم من دون اللہ من اولیآء تو اللہ کے سوا تمہارا کوئی کار ساز اور مددگار نہیں ہوگا ۔ تم سمجھتے ہو کہ اگر دنیا میں کسی کی حمایت کریں گے تو وہ اگلے جہان میں چھڑا لے گا ، ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ بلکہ اللہ کے دربار میں کسی کو لب کشائی کی بھی ہمت نہیں ہوگی۔ ظالم اور مظلوم کی باہمی جنگ ہابیل اور قابیل کے وقت سے چلی آ رہی ہے۔ دنیا کا عام مشاہدہ یہ ہے کہ اکثر لوگ مظلوم کی بجائے ظالم کا ساتھ دیتے ہیں جس کی وجہ سے انسانی معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے لعن اللہ من اوی محمد ثاً جو مجرم کو پناہ دیتا ہے اس پر اللہ کی لعنت ہے ظاہر ہے کہ جس شخص پر اللہ لعنت کرے اس کے حالات کیسے درست ہو سکتے ہیں اور انسانی عاشرہ کیسے سدھر سکتا ہے ؟ حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ اپنے بھائی کی مدد کرو ، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم صحابہ نے عرض کیا ، حضور ! ظالم کی مدد کیسے ہوگی ؟ فرمایا اس کو ظلم سے روک دنیا ہی اس کی مدد ہے۔ حضور کا یہ بھی ارشاد ہیعون الضعیف ونصر المظلوم یعنی کمزور آدمی کی اعانت کرو اور مظلوم کی مدد کرو۔ ہمارے دین کا یہ اہم اصول ہے لاتظلموا ولا تظلموا نہ خود کسی پر ظلم کرو اور نہ ظلم کو برداشت کرو۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ہے۔ من مشی مع ظالم لیقویہ وھو یعلم انہ ظالم قد خرج من الاسلام جو آدمی ظالم کی تائید کے لئے چل کرجاتا ہے اور وہ جانتا بھی ہے کہ یہ ظالم ہے تو ایسا شخصاسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ ایک موقع پر ایک شخص نے حضرت ابوہریرہ کی موجودگی میں کہا الظالم لایغرالانفسہ ، ظالم خود اپنا ہی نقصان کرتا ہے کسی دوسرے کا کچھ نہیں بگاڑتا اس پر حضرت ابوہریرہ نے فرمایا کہ تم غلط کہتے ہو بلکہ ظلم کا اثر ہر چیز پر پڑتا ہے حتی کہ درخت اور نباتات بھی ظلم سے محفوظ نہیں رہتے اور پرندے بھی ظلم کی وجہ سے اپنے گھونسلوں میں لاغر ہو کر مرتے ہیں جب کوئی ناہنجار آدمی مرجاتا ہے تو درخت کہتے ہیں الحمد للہ یہ موذی انسان اس دنیا سے چلا گیا۔ خود قرآن پاک میں موجود ہے ” فقطع دابرالقوم الذین ظلموا ، والحمد للہ رب العلمین “ (الانعام) ظالموں کی جڑ کاٹ دی گئی اور سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں۔ یہی ظلم ہے جس کی وجہ سے دنیا بدامنی اور فتنہ و فساد کا گھر بنی ہوئی ہے۔ اکثر لوگ سرمایہ داروں ، وڈیروں ، ڈکٹیٹروں اور جاگیرداروں کا ساتھ دیتے ہیں اور مظلوم کی مدد کے لئے کوئی تیار نہیں ہوتا۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ ہر طرف ظلم و جور کا دور دورہ ہے۔ ظلم کی ریاست پوری دنیا کی سیاست کی طرف نظر اٹھا کر دیکھیں ، ظلم کی ہاں میں ہاں ملائی جا رہی ہے۔ مگر مظلوم کا حال پوچھنے والا بھی کوئی نہیں افغان عوام کتنے سالوں سیروسی مظالم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ مگر کوئی پرسان حال نہیں۔ امریکہ اور روس جیسی سپرطاقتوں کے حمایتی تو بہت مل جائیں گے مگر مغلوب کے حق میں آواز اٹھانے کی بھی جرأت نہیں کی جاتی۔ اگر سارے مسلمان ممالک ہی افغانستان کی حمایت میں اٹھ کھڑے ہوتے تو معاملہ طے ہو سکتا تھا۔ مگر یہاں تو ہر طرف منافقت کی حکمرانی ہے ، زبان پر کچھ ہوتا ہے اور دل میں کچھ اور ہر طرف انسانیت کے ساتھ دھوکہ اور فریب ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ نے یہ پاکیزہ اصول بتلا دیا ہے کہ ظالموں کی طرف مت مائل ہو۔ ظالم کی مدد سے معاشرہ پاک نہیں ہو سکتا۔ اگر دنیا کو امن و چین کا گہوارہ بنانا چاہتے ہو تو مظلوم کی مدد کرو اور ظالم کو اس کے ظلم سے روکو ، ظلم میں کفر ، شرک ، بدعات اور گناہ ساری چیزیں شامل ہیں۔ ان چیزوں کے مرتکبین ظالم ہیں جو کہ جہنم کا نشانہ بنیں گے اور پھر ان کی حمایت کرنے والے بھی ان کے ساتھ ہی جائیں گے۔ ان کا کوئی حامی و ناصر نہیں ہوگا ثم لا تنصرون پھر ان کی مدد بھی نہیں کی جائے گی اور ایسے لوگ بےیارو مددگار رہ جائیں گے۔ اس قسم کے ظالموں اور ان کے حمایتیوں کا ذکر قرآن میں بار بار آیا ہے۔ سورة فیل میں فرمایا ہے ” الم ترکیف فعل ربک باصحب الفیل “ کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ آپ کے رب نے ہاتھوں والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ سورة فجر میں ہے ” الم ترکیف فعل ربک بعاد “ قوم عاد کے ساتھ کیا معاملہ پیش آیا اور اللہ نے انہیں کس طرح ہلاک کیا یہ سب کچھ ظلم کی وجہ سے ہوا ، لہٰذا اللہ نے ظالموں کی طرف مائل ہونے سے منع فرما دیا۔ اقامت صلوۃ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ نے ظلم سے منع فرمایا اور دوسری طرف حضور ﷺ کو خطاب کر کے عام لوگوں سے فرمایا واقم الصلوۃ طرفی النھار نماز قائم کرو دن کے دونوں اطراف میں وزلفا من الیل اور رات کی گھڑیوں میں بھی استقامت علی الدین کے بعد اقامت صلوۃ دین کا اہم ترین اصول ہے دن کے دونوں اطراف سے مراد فجر ار عصر کی نمازیں ہیں جب کہ رات کی گھڑیوں میں مغرب اور عشاء آتی ہیں۔ بعض مفسرین اسی آیت کو پانچوں نمازوں پر محمول کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ دن کے پہلے کنارے سے پہلا پہر مراد ہے اور اس میں فجر کی نماز آتی ہے۔ جب کہ دوسرے کنارے سے پچھلا پہر مراد ہے جس میں ظہر اور عصر دونوں نمازیں آتی ہیں۔ اس طرح اس آیت میں پانچوں نمازوں کی طرف اشارہ ملتا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سورة ہود مکی سورة ہے جب کہ پانچ نمازوں کی فرضیت معراج کی رات کو ہوئی جو کہ مکی دور کے بالکل آخری حصے کا واقعہ ہے اس لئے بعض مفسرین کا خیال ہے کہ اس آیت سے پانچ نمازیں نہیں بلکہ تین مراد ہیں یعنی فجر ، عصر اور رات کی نمازیں اور اسلا م کے ابتدائی دور میں نمازیں تین ہی تھیں جو کہ بعد میں پانچ کردی گئیں۔ نماز ایک ایسی عبادت ہے جس سے تعلق باللہ درست ہوتا ہے۔ پانچ وقتہ نماز تقرب الی اللہ کا بہترین ذریعہ ہے اگر انسان کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ درست ہوجائے گا تو انسان ظلم سے بچ جائیں گے ، وہ تمام حقوق ادا کریں گے اور ظلم و زیادتی کا قلع قمع کردیں گے۔ اس کے برخلاف اگر حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ضائع کیا گیا تو اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم نہیں رہ سکے گا اور ساری باتیں بگڑ جائیں گی ، جو شخص نماز کو ضائع کرتا ہے ، اس کے لئے دین کی باقی باتوں کو ضائع کرنا آسان ہے۔ حضرت عمر فاروق کا قول بھی ہے کہ لوگو ! نماز قائم کرو تاکہ تمہارا تعلق باللہ درست رہے۔ برائی کے بعد نیکی نماز جیسی عظیم نیکی کے ذکر کے بعد فرمایا ان الحسنت یذھبن السیات بیشک نیکیاں برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ نماز کے تمام اراکین طہارت ، وقت ، تلاوت ، تسبیح ، تہلیل ، مناجات ، دعا ، قیام ، رکوع قعود اور سجود وغیرہ نیکیاں ہیں۔ یہ نیکیاں بجا لائو گے تو برائیاں مٹتی چلی جائیں گی۔ حضور ﷺ نے حضرت ابو ذر غفاری سے فرمایا کہ اگر تم سے کوئی برائی سر زد ہوجائے تو اس کے پیچھے نیکی لگا دو تاکہ وہ برائی مٹ جائے ۔ نیز فرمایا خالق الناس بخلق حسن لوگوں کے ساتھ اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آئو۔ برائیوں کو مٹانے کا یہ عمدہ نسخہ ہے۔ شاہ عبدالقادر محدث دہلوی نے اپنے ترجمہ قرآن پاک کیحاشیے میں صرف ایک سطر میں کمال درجے کا مضمون باندھا ہے فرماتے ہیں کہ نیکیاں برائیوں کو تین طریقے سے ختم کرتی ہیں۔ حضور ﷺ کے فرمان کے مطابق پہلی بات یہ ہے کہ جو نیکی کریگا اس کی برائیاں معاف ہوں گی مالم یوت کبیراً بشرطیکہ وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب نہ ہو۔ کیونکہ کبیرہ گناہ توبہ کے بغیر معاف نہیں ہوتا۔ دوسری جگہ فرمایا ” نکفر عنکم سیاتکم “ ہم تمہارئی برائیوں کو مٹا دیں گے حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ جمعہ کی نماز ادا کرنے والے کی ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کی خطائیں معاف فرما دیتا ہے بلکہ تین مزید دنوں کی خطائوں کی بھی معافی مل جاتی ہے۔ اسی طرح فرمایا کہ اللہ ایک رمضان سے دوسرے رمضان تک کی غلطیوں کو معاف کردیتا ہے۔ ایک نماز سے دوسری نماز تک کے گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں۔ انسان جب وضو کے لئے ہاتھ دھوتا ہے تو اس کے ہاتھوں یک گناہ معاف ہوجاتے ہیں ، جب منہ دھوتا ہے تو منہ کے گناہ معاف اور جب پائوں دھوتا ہے تو پائوں سے چل کر کئے گئے گناہ بھی معاف ہوجاتے ہیں۔ بہرحال فرمایا پ ہلی بات یہ ہے کہ جب انسان نیکی کرتا ہے اس کی برائیاں مٹا دی جاتی ہیں اور دوسری بات شاہ صاحب نے یہ فرمائی ہے کہ ” جو نیکیاں اختیار کرے ، اس سے خود برائیوں کی چھوٹے “ اور تیسری بات یہ کہ ” جس ملک میں نیکیوں کا رواج ہو ، وہاں ہدایت آئے اور گمراہی مٹے۔ ان تینوں طریقوں سے برائیاں ختم ہوتی ہیں۔ مگر شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ برائیاں اس وقت مٹیں گی جب نیکیوں کا وزن غالب ہوگا۔ کیونکہ جس قدر کپڑے میں میل زیادہ ہوتی ہے۔ اسی قدر صابن کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کسی شخص کی نیکیاں ساٹھ فیصد ہیں تو اس کی چالیس فیصد برائیاں مٹ جائیں گی اور اگر برائیوں کا غلبہ ہوگا تو ان کے لئے مٹنا مشکل ہوجائے گا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ جہاں نیکی برائیوں کو دور کرتی ہیں۔ فرمایا ذلک ذکریللذکرین یہ نصیحت ہے نصیحت حاصل کرنے والوں کے لئے جو شخص ان نصائح کو قبول کرے گا ، نماز ادا کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ نیکیوں کے بدلے میں اس کی برائیوں کو مٹا دے گا۔ صبر کا اجر آگے حضور ﷺ کو خطاب کر کے پوری امت کو بات سمجھائی گئی ہے واصبر آپ صبر کریں۔ جو بھی نیکی کا کام کریگا ، اسے تکالیف پہنچیں گی ، تمام انبیاء اور اللہ کے نیک بندے اس آزمائش سے گزرچکے ہیں اور یہ دین کا زریں اصول ہے کہ سختی کو برداشت کریں۔ صبر ہمارے دین کے اہم اصولوں میں سے ایک ہے۔ باقی اصول اللہ کا ذکر ، توحید ، شکر ، تعظیم شعائر اللہ وغیرہ ہیں۔ اپنے اپنے مقام پر یہ سب چیزیں ضروری ہیں۔ تو فرمایا آپ صبر کریں کیونکہ فان اللہ لایضیع اجر المحسنین اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کے اجر کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔ اگر دین پر استقامت اختیار کرو گے ، مظلوم کیحمایت کرو گے تو اس کی نیکی کا اجر ضرور ملے گا جب اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی اطاعت کا جذبہ پیدا ہوگا تو برائی کا جذبہ مضمحل ہوجائے گا۔ یہی نیکی ہے جس کا اجر ضائع نہیں ہوتا۔
Ayahs 11:116–119

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

پس کیوں نہیں ہوئے ان قوموں میں سے جو تم سے پہلے گزری ہیں ، صاحب عقل و خرد ، جو منع کرتے زمین میں فساد سے مگر بہت تھوڑے ان میں سے جن کو ہم نے نجات دی اور پیچھے چلے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا اس چیز کے جس خو شحال میں ڈالے گئے تھے وہ اور وہ گنہگار تھے

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

اور نہیں ہے تیرا پروردگار کہ ہلاک کرے بستیوں کو ظلم کی وجہ سے جب کہ وہاں کے رہنے والے اصلاح کرنے والے ہوں

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

اور اگر چاہے تیرا پروردگار تو البتہ کر دے ان لوگوں کو ایک ہی امت ، اور ہمیشہ رہیں گے یہ اختلاف کرنیوالے

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 11:119 in the Quran reader

مگر وہ کہ جسپر تیرے پروردگار نے رحم کیا ، اور اسی واسطے ان کو پیدا کیا ہے اور پورا ہوگیا کلمہ تیرے رب کا کہ میں ضرور بھر دوں گا جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے

ربط آیات حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تک کے بعض انبیاء کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم (علیہ السلام) اور آپ کے ماننیوالوں کو تسلی بھی دی ہے۔ پہلے استقامت علی الدین کا مطالبہ کیا ، ظلم اور تعدی سے بچنے کا حک دیا اور تعلق باللہ کی استواری کی ترغیب دی۔ مصائب اور مشکلات کو برداشت کرنے اور صبر کا دامن تھامے رہنے کی تلقین کی۔ سابقہ امتوں کا حال بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے آخری امت کو بات سمجھائی ہے کہ ہمیشہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر کاربند رہیں۔ دین اور ایمان کے مقتضیات کو قائم رکھیں۔ کفر ، شرک نافرمانی ، ظلم اور تعدی سے بچتے رہیں۔ فساد فی الارض کی ممانعت اب ارشاد ہتا ہے فلولا کان من القرون من قبلکم پس کیوں نہ ہوئے ا ن قوموں میں سے جو تم سے پہلے گزرے ہیں اولوا بقیۃ صاحب عقل و خرد لوگ ینھون عن الفساد فی الارض جو منع کرتے زمین میں فساد کرنے سے الا قلیلاً ممن انجینا منھم مگر ان میں سے بہت تھوڑے ہیں (جو فساد سے منع کرتے ہیں) جنہیں ہم نے نجات دی۔ یہاں پر قرون کا لفظ استعمال ہوا ہے جو قرن کی جمع ہے اور اس کا معنی جماعت ، سنگت ، نسل ، قوم ، طبقہ ، صدی یا دور ہوتا ہے۔ اس مقام پر ان تمام معافی کا اطلاق ہوتا ہے اور مطلب یہ ہے سابقہ اقوام اور ادوار میں بھی ایسا ہی ہوا کہ فساد سے روکنے والے بہت کم لوگ ہوئے ہیں۔ اولوا بقیۃ سے وہ لوگ مراد ہیں جن پر فساد سے روکنے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے یعنی صاحب عقل ، سمجھدار ، سوچ بچار کرنے والے اصحاب الرائے لوگ ، لوگوں کو فساد فی الارض سے منع کرنا ان لوگوں ا کام ہے ، مگر اللہ نے فرمایا کہ تم سے پہلے بہت تھوڑے لوگ ہی ایسے ہوئے ہیں جنہوں نے فساد کو ختم کرنے کی کوشش کی وگرنہ اکثر و بیشتر لوگ فتنہ و فساد کے حمایتی ہی رہے ہیں اور انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔ اس میں دراصل امت مسلمہ کے لئے تسلی کا پہلو ہے کہ اگر لوگوں کی اکثریت کفر و شرک کا ارتکاب کرتی ہے ظلم و تعددی کی مرتکب ہوتی ہے یا معاصی میں غرق ہے تو تمہیں اس سے گھبرانا نہیں چاہئے تم سے پہلے بھی ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ البتہ ان حالات میں کرنے کا کام یہ ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کیا جائے۔ لوگوں کو فساد کرنے سے روکا جئے۔ دنیا میں سب سے بڑا فساد کفر ، شرک اور ظلم وتعدی ہے۔ اصحاب عقل و خرد اور اصحاب جاہ و اقتدار کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کو ہر قسم کے فساد سے روکیں۔ اگر ایسا نہیں کرینگے تو سب پر خدا کا قہر نازل ہوگا جس کے نتیجے میں تباہی اور بربادی آئے گی۔ اللہ کے نبی اور ان کے پیروکار تھوڑی تعداد میں ہونے کے باوجود اس کام کو انجام دیتے رہے ہیں اور وہی لوگ ہیں جن کو اللہ نے نجات دی اور باقی سب کو ہلاک کیا۔ متاع دنیا میں رغبت فرمایا فساد فی الارض کو مٹانے والے تو تھوڑے لوگ رہے ہیں اور ان کی اکثریت نے کیا کیا ؟ واتبع الذین ظلموا ما اترفوا فیہظالم لوگوں نے اس خوشحالی کا اتباع کیا جس میں ان کو ڈالا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں آسودگی ، آرام طلبی ، خوشحالی عطا کی تھی ، چناچہ یہ لوگ انہی چیزوں کے پیچھے لگے رہے ظلم و فساد کو مٹانے کی کوشش نہ کی ، اپنی عیاشی میں منہمک رہے ، جس کا نتیجہ یہ نکلا وکانوا مجرمین اور وہ گنہگار اور مجرم تھے ۔ یہ لوگ حق کو قبول کرنے کی بجائے شرکیہ اور کفریہ رسومات کے پیچھے چلتے رہے ، بدعات کو رواج دیتے رہے اور دنیا کا سامان عیش و راحت ہی اکٹھا کرتے رہے انہوں نے فساد کرنے والوں کو منع تک نہ کیا۔ سورة انعام میں مکہ کے مشرکین کا بھی یہی حال اللہ نے بیان فرمایا ہے ” وھم ینھون عنہ وینون عنہ “ وہ لوگوں کو قرآن پاک سے روکتے تھے اور خود ہی اس سے دور رہتے تھے۔ اس طرح وہ فساد فی الارض کی حمایت کرتے تھے تو امت آخر الزمان کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ تم بھی سابقہ اقوام کی طرح نہ ہوجانا بلکہ خود بھی صحیح راستے پر چلنا اور دوسرے غلط راستے پر چلنے والوں کو بھی منع کرنا کہ وہ زمین میں فساد کے مرتکب نہ ہوں۔ فساد کے اثرات سورۃ بقرہ میں منافقوں کا حال بیان کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا ہے ” واذا قیل لھم لاتفسدوا فی الارض “ جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو ” وقالوآ انما نحن مصلحن “ تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں اس کی تفسیر میں امام بیضاوی نے فساد فی الارض کی تعریف میں لکھا ہے الاخلال بالشرائع الالھیۃ یعنی اللہ کی نازل کردہ شریعت میں خلل ڈالنا اور اس کی خلاف ورزی کرنا فساد فی الارض ہے۔ امام شاہ ولی اللہ کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی اطاعت سے زمین میں اصلاح ہوتی ہے اور شریعت کے خلاف کرنے سے فساد پیدا ہوتا ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں پاکیزہ عقیدے ، پاکیزہ عمل ، خدا کے سامنے عاجزی اور عدل و انصاف کے قیام سے انسان کا مزاج درست رہتا ہے اور وہ فرشتوں کے مزاج کے ساتھ مل جاتا ہے مگر جب انسان میں عقیدے کی نجاست آجاتی ہے اخلاق اور عمل کی نجاست پیدا ہوجاتی ہے۔ عاجزی کی بجائے غرور ، احسان کی بجائے لوٹ کھسوٹ اور عدل کی جگہ ظلم لے لیتا ہے تو پھر انسان کا مزاج بگڑ جاتا ہے۔ اس کی مثال حلال جانوروں کی ہے جن کا ہم دودھ پیتے اور گوشت کھاتے ہیں۔ جب تک یہ جانور اونٹ گائے ، بھینس ، بھیڑ ، بکری وغیرہ گھاس کھاتی رہیں گی ان کا مزاج درست رہے گا اور اگر ان میں سے کوئی جانور چارے کی بجائے گوشت کھانا شروع کر دے تو اس کا مزاج بگڑ جائے گا ، پھر اس کا دودھ قابل استعمال رہے گا اور نہ گوشت ، اس لئے شریعت میں گندگی کی کھانے والے جانور کا گوشت مکروہ تحریمی میں آتا ہے کیونکہ گندی چیزیں کھانے سے اس کا مزاج بگڑ جاتا ہے اور اس کا دودھ اور گوشت قابل استعمال نہیں رہتا۔ شریعت کا حکم یہ ہے کہ ایسے جانور کو کم از کم دس دن تک باندھ کر رکھو تاکہ وہ گندگی نہ کھائے اس دوران اسے پاک چارہ کھلائو ، تب اس کا دودھ اور گوشت کھانے کے قابل ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ شریعت الٰہیہ کو قائم رکھنے سے انسان کا مزاج درست رہتا ہے اور جب وہ شرائع کی پابندی چھوڑ دیتا ہے تو مزاج بگڑ جاتے ہیں اور پھر تباہی و برباد کی کی قریب ہوجاتا یہ۔ اسلام میں جبر نہیں آگے ارشاد ہوتا ہے وما کان ربک لیھلک القری بظلم تیرا پروردگار ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کے رہنے والوں کو ظلم و زیادتی کے ساتھ ہلاک کر دے واھلھا مصلحون جب ان بستیوں کے رہنے والے اصلاح سند ہوں۔ جب تک لوگ اصلاح کی طرف مائل رہیں گے ، اللہ کی طرف سے عذاب نہیں آتا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر الے ، شرائع الہیہ پر چلنے والے اور قانون الٰہی کا احترام کرنے والے اللہ کے قہر سے محفوظ رہتے ہیں۔ اللہ نے سابقہ اقوام کے حالات اسی لئے بیان فرمائے ہیں تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں۔ اب آگے تسلی کا مضمون آ رہا ہے کہ تمام کے تمام لوگ ایک راستے پر کبھی نہیں ہے۔ لہٰذا اختلاف سے دل شکستہ نہیں ہونا چاہئے۔ ولو شآء ربک لجعل الناس امۃ واحدۃ اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی امت یعنی ایک ہی ایمان کے راستے پر ڈال دیتا اور کوئی شخص بھی شرائع الہیہ کی خلاف ورزی نہ کرتا۔ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کے عین اختیار میں ہے مگر اس کے قانون کے خلاف ہے۔ وہ کسی کو زبردستی کوئی بات نہیں منوانا چاہتا ہے۔ اس نے ایک حد تک انسان کو عقل و شعور اور اختیار دیا ہے کہ وہ اچھے اور برے راستے میں سے جونسا چاہے اختیار کرے لے اور ساتھ حم بھی دیا کہ ایمان اور نیکی کا راستہ اختیار کرو اور کفر و شرک اور معاصی سے بچ جائو۔ تم جو بھی طریقہ اختیار کرو گے اسی کے مطابق بدلہ پائو گے۔ اللہ تعالیٰ کا عام قانون یہ ہے ” لا اکراہ فی الدین “ (البقرۃ) یعنی دین میں جبر نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی کو ایمان قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا بلکہ اسے موقع دیتا ہے اور پھر ایمان اسی کا معتبر ہوگا جو اپنی مرضی سے اسے قبول کریگا۔ اس نے ہدایت اور گمراہی کا راستہ واضح کردیا ہے ، اس کے لئے انبیاء کو مبعوث فرمایا ہے اور کتابیں نازل کی ہیں اور فرمایا ” فمن شآء فلیومن ومن شآء فلیکم “ (الکہف) جس کا جی چاہے ایمان قبول کرے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے ، یہ اس کی مرضی پر منحصر ہے حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عقل کو پیدا کیا اور فرمایا ، تیری وجہ سے ہی میں مئواخذہ کروں گا اور تیری وجہ سے ہی عطا کروں گا ، اللہ نے جس کو عقل عطا نہیں کی اس کا مئواخذہ بھی نہیں ہے۔ جب تک بچہ سن شعور کو نہیں پہنچتا وہ مکلف نہیں ہوتا۔ پاگل اور دیوانے بھی اسی لئے غیر مکلف ہیں کہ وہ عقل سے خالی ہیں۔ اللہ نے عقل بہت بڑا جوہر عطا کیا ہے ، اس کے ساتھ جملہ سامان ہدایت عطا کئے ہیں۔ انبیاء مبعوث فرمائے ، کتابیں نزل کیں۔ حواس ظاہرہ اور باطنہ عطا کر کے کھلا چھوڑ دیا کہ جس کا جی چاہے اطاعت اختیار اور جس کا جی چاہے کفر کا انتخاب کرے۔ اگر نیکی کو اپنائے گا تو اللہ تعالیٰ راضی ہوگا اور اگر کفر اور شرک کا راستہ اختیار کرے گا تو گرفت میں آئے گا کیونکہ اس کا فیصلہ ہے ” ولا یرضی لعبادہ الکفر “ (الزمر) اللہ اپنے بندوں سے کفر کو پسند نہیں کرتے۔ وہ ظالموں کو ایسے جہنم میں ڈالے گا احاط بھم سراد فھا (الکہف) جیسے آگ کی قناتیں گھیرے ہوں گی۔ دین میں اختلاف فرمایا ولا یزالون مختلفین الا من رحم ربک لوگ برابر اختلاف کرنے والے ہوں گے ، ہاں جس پر خدا تعالیٰ کی مہربانی ہوگی وہ کفر و شرک کے اختلاف سے بچ جائے گا۔ رحمت الٰہی اس شخص کی طرف متوجہ ہوتی ہے جو عناد اور ضد نہیں کرتا۔ ہر چیز کا ظاہری اور باطنی سبب ہوا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرتا ہے جو اس کا قائل ہو۔ من لایرحمالناس لای (رح)۔ جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا ، اللہ تعالیٰ بھی اس پر رحم نہیں کرتا۔ لہٰذا عناد ی لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم رہتے ہیں۔ ولذلک خلقھم اللہ تعالیٰ نے انہیں اسی واسطے پیدا کیا ہے۔ ذلک کا مرجع اختلاف بھیہو سکتا ہے اور رحم بھی۔ اگر اختلاف مراد لیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے تو انسانکو مجبور پیدا نہیں کیا اس نے تو انسان کو تمام صلاحیتیں اور راہنمائی کے تمام ذرائع مہیا کردیئے ہیں اس کے باوجود اگر کوئی اختلاف کرتا ہے تو کرتا رہے اسے آگے چل کر اس کا نتیجہ بھی بھگتنا پڑے گا اور اگر تخلیق انسانی کو رحم کی طرف منسوب کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تو انسان کی تخلیق اس پر رحم کرنے کے لئے کی تھی ، مگر یہخود اپنے خلاق اور مالک کی حکم عدولی کر کے سزا کا مستحق بنتا ہے۔ قرآن پاک میں انسانی تخلیق کا مقصد یہ بیان کیا گیا ہے ” وما خلقت الجن والانس الالیعبدون “ (الذریت) یعنی انسانوں اور جنوں کو محض اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اگر انسان مقصد تخلیق کو پورا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی صحیح طریقے سے عبادت کریگا تو لازماً وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا مستحق بنے گا ، اسی لئے فرمایا کہ انسان کی تخلیق کا مقصد اس پر مہربانی کرنا ہے۔ جہنم پھرجائے گی فرمایا اللہ تعالیٰ نے تو لوگوں کو رحم کے لئے پیدا کیا تھا مگر انہوں نے برابر اختلاف کیا ، اور کرتے رہیں گے اور پھر ایکدنایسا بھی آئیگا جب کہ ” ان ربک ھو یفصل بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون “ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا اس بات میں جس میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔ یہ قیامت کا دن ہوگا جب تمام متنازعہ امور کا فیصلہ کر دیاجائے گا ۔ پھر آگے فرمایا وتمت کلمۃ ربک تیریرب کی بات پوری ہوجائے گی اور وہ یہ ہے کہ لاملئن جھنم من الجنۃ والناس اجمعین میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے ضرور بھر دوں گا۔ جس نے بغاوت کی اور زمین میں فساد برپا کیا ، کفر و شرک کا راستہ پکڑ ا ظلم وتعدی کو اختیار کیا ، ان سب کو جہنم رسید کروں گا۔ اکثر و بیشتر انسان ہمیشہ اسی بیماری میں مبتلا رہے ہیں اور آج بھی ہیں۔ پوری دنیا کی پانچ ارب کی آبادی میں سوا چار ارب انسان کفر و شرک میں ہی مبتلا ہیں۔ کل آبادی کا پانچواں حصہ بھی خدا کی وحدانیت پر قائم نہیں اور پھر جنوں کی آبادی تو انسانوں سے بھی زیادہ ہے۔ آج وہ نظر نہیں آتے مگر قیامت کو سب پردے اٹھ جائیں گے اور سب ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں گے تو ایسے ہی ناہنجاروں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کیا ہے کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سے بھر دوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے سابقہ اقوا م کا حال بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ اس امت محدمیہ کو خیال کرنا چاہئے کہ کہیں وہ بھی اس بیماری کا شکار بن کر جہنم کے مستحق نہ ٹھہریں۔
Ayahs 11:120–123

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:120 in the Quran reader

اور تمام خبریں جو ہم بیان کرتے ہیں آپ پر رسولوں کی خبروں سے جن کے ذریعے ہم آپ کے دل کو ثابت رکھتے ہیں اور آیا ہے آپ کے پاس ان (خبروں) میں حق اور نصیحت اور یاد دہانی ایمان والوں کے لئے

وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ١ؕ اِنَّا عٰمِلُوْنَۙ Open ayah 11:121 in the Quran reader

اور آپ کہہ دیجیے (اے پیغمبر ! ) ان لوگوں سے جو ایمان نہیں لاتے (اے لوگو ! ) تم کام کئے جائو اپنی جگہ پر ، بیشک ہم بھی کام کرنے والے ہیں

وَ انْتَظِرُوْا١ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 11:122 in the Quran reader

پس انتظار کرو ، بیشک ہم بھی انتظار کرنے والے ہیں

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِ١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 11:123 in the Quran reader

اور اللہ کے پاس ہی ہے غیب آسمانوں اور زمین کا اسی کی طرف لوٹایا جائے گا سب معاملہ پس اسی کی عبادت کرو اور اسی پر بھروسہ رکھو۔ اور نہیں ہے تمہارا پروردگار غافل ان کاموں سے جو تم کرتے ہو ۔

دلی تسلی کا مضمون آج کے درس کی پہلی آیات میں حضور علیہ الصلواۃ والسلام اور آپ کے صحابہ کے لئے تسلی کا مضمون ہے جب کہ آخری آیت میں سورة کا لب و لباب دے دیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ تنبیہ بھی کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے واقف ہے اور وہ انہی کے مطابق بدلہ دیگا اس سورة مبارکہ میں گزشتہ انبیاء اور ان کی اقوام کے جو حالات بیان کئے گئے ہیں ، ان واقعات سے انسان جان سکتا ہے کہ سابقہ امم نے کو نکون سے جرائم کا ارتکاب کیا اور پھر انہیں کس قدر ذلت ناک سزا سے دوچار ہونا پڑا اور پھر جو لوگ انبیاء پر ایمان لے آئے ان کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح نجات دی۔ ان واقعات سے انسان جان سکتا ہے کہ جو شخص حق پر قائم رہتا ہے وہ بالآخر کامیاب ہوتا ہے اور اس سے اسے تسلی حاصل ہوتی ہے اور نافرمان لوگوں کے عذاب کے متعلق جان کر عبرت حاصل ہوتی ہے کہ جو شخص بھی حق کو تسلیم کرنے سے گریز کریگا ، اللہ کے انبیاء کی مخالفت کریگا ، وہ ضرور ناکام ہوگا۔ ارشاد ہوتا ہے وکلا نقص علیک من انبآء الرسل وہ تمام (خبریں) جو ہم آپ پر بیان کرتے ہیں رسولوں کی خبروں سے مانبت بہ قوادک جن کے ذریعے ہم آپ کے دل کو ثابت کرتے ہیں۔ عربی قاعدہ کے مطابق یہاں کلا کے بعد مضاف الیہ نبا محذوف مانا جاتا ہے اور مطلب ہوتا ہے کل نبا یہ کلا کی تنوین مضاف الیہ کے قائم مقام ہی آئی ہے۔ یہی تسلی کا مضمون ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ، ہم نے انبیاء (علیہم السلام) کے جتنے واقعات بیان کئے ہیں ۔ اے پیغمبر ! ان میں آپ کے لئے اور آپ کے صحابہ کے لئے دلی تسلی کا سامان ہے۔ ان واقعات سے آپ کو علم ہوجائے گا کہ اللہ کے پہلے نبیوں کے ساتھ بھی ایسے ہی واقعات پیش آتے رہے ہیں جیسے آپ کے ساتھ پیش آ رہے ہیں اور یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ اللہ کے سارے نبیوں کو ایسے مشکل حالات سے گزرنا پڑا ہے اس طرح دل کو تسلی ہوجاتی ہے کہ تکالیف صرف ہمیں ہی نہیں آئیں بلکہ پہلے لوگ بھی اس قسم کے مصائب کو برداشت کرتے رہے ہیں۔ لہٰذا ہمیں بھی تمام مشکلات کو خوش دلی سے برداشت کرنا چاہئے جس کا انجام بالآخر اچھا ہوگا۔ حق کی آمد فرمایا سابقہ انبیاء اور رسل کی خبروں کے ذریعے وجائکفی ھذہ الحق آپ کے پاس حق آ چکا ہے۔ یہاں ھذہ کا اشراد اگر خبروں کی طرف ہو تو مطلب ہوگا کہ ان خبروں کے ذریعے آپ کے پاس حق آ گیا ہے اور اگر اس کا اشارہ سورة میں بیان کردہ واقعات کی طرف ہے تو یہ بھی پکی اور اٹل بات ہے اور اس سے مقصود نبی (علیہ السلام) اور آپ کے پیرو کاروں کو تسلی دلانا ہے ، تاکہ وہ گھبرائیں نہیں بلکہ تبلیغ دین کے مشن کو دل جمعی کے ساتھ آگے بڑ ھاتے رہیں۔ بہرحال فرمایا کہ ان واقعات کی صورت میں آپ کے پاس حق بات آگئی ہے۔ وعظ و نصیحت ان واقعات سے جو دوسری چیز حاصل ہوتی ہے وہ وموعظۃ وہ نصیحت کی بات ہے۔ موعظت قرآن پاک کا ایک لقب بھی ہے اور یہ لفظ قرآن پاک میں بکثرت آیا ہے۔ وعظ و نصیحت اجزائے دین میں سے ہے۔ امام شاہ ولی اللہ محمد ث دہلوی 1 ؎ نے موعظت کی تعریف یوں کی ہے قھر المدرک الظلمانیۃ بانوارالمعارف القدسانیۃ یعنی انسانوں میں موجود تاریکی والے علوم و خیالات کو مقدس علوم اور معارف کے ساتھ 1 ؎ الخیر الکثیر ص 76 مغلوب کرنے کا نام موعظت ہے۔ اس پر ترغیب اور ترہیب دونوں چیزیں آتی ہیں کبھی انسان کو اعلیٰ مقام حاصل کرنے کی ترغیب ہوتی ہے اور کبھی برے انجام سے ڈر آتا ہے اور اس طرح انسانی نفس موظعت سے متاثر ہوتا ہے۔ وعظ و نصیحت کا مقصود کوئی گانا بجانا نہیں ہوتا بلکہ تاریک خیالات کو ذہنوں سے نکال کر وہاں پر پاکیزہ خیالات کو جگہ دینا ہوتا ہے۔ قرآن پاک میں وہ پاکیزہ علوم و معارف موجود ہیں جن کی وجہ سے انسان کے دل میں نورانیت پیدا ہوتی ہے ، اسی لئے قرآن پاک کا ایک اسم موعظت ہے تو اللہ نے فرمایا ہے کہ سابقہ امم کے واقعات میں تمہارے لئے وعظ ونصیحت کی باتیں بھی ہیں۔ یاد دہانی فرمایا ان واقعات کے بیان کرنے میں جو تیسری حکمت ہے وذکری للمئومنین وہ اہل ایمان کے لئے یاد دہانی ہے۔ قرآن کریم کا ایک نام تذکرہ بھی ہے ” ان ھذہ تذکرہ “ (الدھر) انسان بعض چیزیں فراموش کردیتے ہیں تو قرآن پاک انہیں بار بار یاد دلاتا ہے بشرطیکہ انسان کا تعلق قرآن پاک کے ساتھ قائم ہوا جب بھی قرآن پاک کی تلاوت کی جائے گی اسے ضروری باتیں یاد آتی رہیں گی۔ جب کوئی شخص غفلت کی وجہ سے بعض باتوں کو فراموش کردیتا ہے تو وہ تلاوت قرآن سے تازہ ہوجاتی ہیں ، لہٰذا فرمایا کہ قرآن مجید میں بیان کردہ واقعات مومنوں کے لئے یاد دہانی کا کام بھی دیتے ہیں۔ خدائی فیصلے کا انتظار فرمایا کہ ان تمام حقائق اور شواہد کے باوجود وقل للذین لایومنونجو لوگ ایمان نہیں لاتے آپ ان سے کہہ دیں اعملوا علی مکانتکم تم اپنی جگہ پر کا کرتے رہو انا عملون ہم بھی اپنا کام کرنے والے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لاتے ہوئے اپنے کام کریں گے اور تم کفر و شرک پر ڈٹے ہوئے اپنا کام کرو اور پھر وانتظروا تم بھی نتیجے کا انتظار کرو انا منتظرون ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ پھر پتہ چل جائے گا کہ نتیجہ کس کے حق میں نکلتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ایمان معرفت اور توحید کا نتیجہ اچھا نکلے گا ، جب کہ کفر ، شرک اور برائی کا انجام برا ہی ہوگا۔ یہ ان لوگوں کے لئے تنبیہ ہے جو تعصب اور عناد رکھتے ہیں اور اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑے ہوئے ہیں۔ ایسے ہی حالات میں سورة الکافرون میں فرمایا ہے ” لکم دینکم ولی دین “ یعنی تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرا دین ہے۔ اس کا حتمی فیصلہ آگے چل کر ہی ہوگا کہ کون سا دین سچا ہے اور کونسا جھوٹا ہے بہرحال اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر اور اہل ایمان کو تسلی دی ہے کہ وہ نامساعد حالات سے گھبرائیں نہیں بلکہ اپنے مشن کو جاری رکھیں اور جو لوگ انکار پر اصرار کر رہے ہیں انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دیں۔ علم غیب سورۃ ہذا کی آخری آیت میں اللہ تعالیٰ نے پوری سورة کا خلاصہ بیان فرما دیا ہے۔ پہلی بات یہ فرمائی ہے وللہ عنیک السموت والارض اللہ ہی کے پاس ہے غیب آسمانوں اور زمین کا عالم الغیب والشہادۃ اس محسوس جہان کو کہا جاتا ہے۔ اس جہاں میں بعض چیزیں مخلوق کے سامنے ہیں اور بعض اس کی نظروں سے غائب ہیں۔ یہ غیب اور شہادت مخلوق کی نسبت سے ہے وگرنہ ” وما یعرب عن ربک من مثقال ذرۃ “ (یونس) تیرے پروردگار سے تو ذرے کے برابر بھی کوئی چیز غائب نہیں۔ ” واللہ علی کل شیء شھید “ وہ تو ہر چیز پر حاضر ہے اور اسے جاننا ہے۔ سورة ملک میں ہے ” الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر کیا وہ خدا تعالیٰ ہی کسی چیز کو نہیں جانے گا جس نے خود ہر چیز پیدا کی ہے۔ جس ذات نے خود عناصر کو جوڑ کر کائنات کی ہر چیز تخلیق کی ہے۔ بھلا وہ ان سے کیسے غافل رہ سکتا ہے اور وہ ہے بھی نہایت باریک بین ، اور خبردار چناچہ غیب دان صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہی ہے۔ اس کے علاوہ ذرے ذرے کا علم رکھنے والا کوئی ذات نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ جسے جتناعلم چاہتا ہے عطا کردیتا ہے اور وہ اتنی بات ہی جانتا ہے۔ علم غیب کی نفی میں اللہ کے مقدس پیغمبر بھی شامل ہیں۔ اسی سورة میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کا واقعہ بیان ہوا ہے جب اللہ کے فرشتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس انسانی صورتوں میں آئے تو وہ نہ جان سکے کہ یہ انسان نہیں بلکہ فرشتے ہیں۔ چناچہ آپ مہمانوں کی خاطر مدارت کے لئے فوراً ایک بچھڑا بھون کرلے آئے مگر مہمانوں کے کھانے سے انکار کردیا آپ کو حقیقت کا علم اس وقت ہوا جب مہمانوں نے کہا ” لاتخف انا ارسلنا الی قوم لوط “ اے ابراہیم (علیہ السلام) ! آپ خوف نہ کھائیں ، ہم تو اللہ کے فرشتے ہیں جو قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں۔ پھر یہی فرشتے مہمانوں کی شکل میں جب لوط (علیہ السلام) کے پاس پہنچے تو قمو کے لوگوں نے آپ کے گھر پر حملہ کردیا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ ان نوجوانوں کو ہمارے سپرد کرو مگر لوط (علیہ السلام) ان کا دفاع کر رہے تھے اور نہیں جانتے تھے کہ یہ تو اللہ کے فرشتے ہیں اور اس قوم پر عذاب کرنے کے لئے آئے ہیں۔ بہرحال جب آپ کی تشوی بہت بڑھ گئی تو فرشتے کہنے لگے یلوط انا رسل ربک ہم تو تیرے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور ان کی طرف عذاب کرنے کے لئے آپ کے پاس آئے ہیں ، لہٰذا آپ اپنی اہل کو لے کر رات کے آخری حصے میں بستی سے نکل جائیں ، سورة قمر میں آتا ہے کہ فرشتے نے ذرا سا پر ہلایا ” فطمسنا اعنھم تو ان کی آنکھیں اچک لیں اور وہ انھے ہوگئے اللہ نے فرمایا ” قذوقوا عذا بی و نذر “ اب میرے عذاب کا مزا چکھو۔ مطلب یہ ہے کہ غیب تو اللہ کے نبی بھی نہیں جانتے چہ جائیکہ یہصفت فرشتوں ، جنات یا اولیاء اللہ میں مانی جاتی۔ جو شخص مخلوق میں غیب دانی کا دعویٰ کرتا ہے اس کا ایمان سلب ہوجاتا ہے۔ اور وہ شرک میں مبتلا ہو کر تباہ ہوجاتا ہے۔ چونکہ اس سورة کا مرکزی مضمون توحید ہے ، لہٰذا یہاں پر اللہ تعالیٰ کی اس صفت مختصر کا ذکر بھی کردیا گیا ہے کہ آسمانوں اور زمین کے غیب کو جاننے الا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ عبادت الٰہی اس سورة کا دوسرا اہم مضمون معاد ہے اور آگے اس کی طرف اشارہ ہے۔ والیہ یرجع الامرکلہ تمام معاملات اسی خدا تعالیٰ کی طرف ہی لوٹائے جائیں گے۔ محاسبے کا عمل واقع ہو کر رہے گا۔ قیامت برپا ہوگی اور ہر چیز اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوگی۔ سورة النازعت میں ہے ” الیربک منتھھا “ ہر چیز کی انتہا تیرے پروردگار کی طرف ہی ہونے والی ہے۔ فرمایا جب یہ سب کچھ اٹل ہے فاعبدہ تو پھر عبادت بھی خالصتہ اسی کی کرو۔ اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو۔ سورة کی ابتداء میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت بیان کرنے کے بعد خالص عبادت الٰہی کا ہی حکم دیا گیا ہے ان لاتعبدوآالا اللہ “ اے لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ عبادت اور تدبیری کے معاملے میں لوگ اللہ کا شریک بناتے ہیں۔ حالانکہ یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہیں۔ اس سورة مبارکہ میں جن انبیاء (علیہ السلام) کا ذکر کیا گیا ہے انہوں نے بھی اپنی اپنی قوموں کو توحید کی دعوت دی حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا ، اے لوگو ! میں تمہاری طرف ڈرسنانے والا بن کر آیا ہوں اور میری تعلیم یہ ہے ان لاتعبدوا الا اللہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ پھر ہود (علیہ السلام) کا بھی اپنی قوم کو یہی پیغام تھا ” یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ “ اے میری قوم ! اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے بغیر تمہارا کوئی معبود نہیں آگے شعیب اور صالح (علیہما السلام) نے بھی اپنی قوم کو بالکل یہی تعلیم دی اس کے ساتھ ساتھ ان اقوام کی باقی خرابیوں کا ذکر بھی ہوتا رہا۔ لوط (علیہ السلام) کی قوم میں خلاف وضع فطری کی بیماری تھی۔ قوم شعیب ماپ تول میں کمی کرتی تھی۔ قوم عاد غرور تکبر میں مبتلا تھی اور قوم ثمود میں اسراف کی بیماری تھی۔ ان انبیاء نے ایک تو ان انفرادی بیماریوں کا علاج تجویز کیا ار دوسرے سب کو توحید کی مشترکہ دعوت دی کہ عبادت صرف اللہ کی روا ہے ، اس کے علاوہ کسی دوسری ذات کو عبادت میں شریک نہ کرو۔ حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے بھی اپنی قوم کو توحید ہی کی دعوت دی اور پھر سورة کے آخر میں اللہ نے خلاصہ اور نچوڑ بیان کردیا ہے واللہ غیب السموت والارض کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت میں اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی طرح اس کی صفات مختصر میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں۔ غیب بھی اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بہرحال آخر سورة میں اللہ نے ایمان ، توحید ہعاد قرآن پاک کی صداقت و حقانیت اور انبیاء کی نبوت و رسالت کا مضمون بیان کردیا ہے جس میں ان کے حالات اور ان کی تبلیغ کا تذکرہ ہے قوم کا جواب اور پھر ان کا انجام بھی ذکر کردیا گیا ہے۔ توکل علی اللہ اللہ تعالیٰ نے یہاں پر جو آخری بات فرمائی ہے وہ ہے۔ و توکل علیہ بھروسہ بھی اللہ پر ہی کرو ، اس کے سوا کوئی ذات موثر نہیں ہے۔ اسباب کو اختیار کرو مگر انہیں موثر نہ سمجھ بلکہ صرف خدا کی ذات پر بھروسہ کرو۔ وہ چاہے گا تو اسباب میں اثر پیدا کر دے گا ، ورنہ ہر چیز دھری کی دھری رہ جائیگی۔ تمام قوت اور تصرف اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ لہٰذا بھروسہ صرف اسی پر کرو اور پھر تنبیہ کے طور پر فرمایا وما ربک بغافل عما تعملون تم جو اعمال بھی کرتے ہو اللہ ان سے غافل نہیں ہے۔ بلکہ سب کچھ اس کی نگاہ میں ہے تمہارے اعتقادات ، خیالات ، تصورات اور اعمال سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں اور آخر میں نتیجہ بھی انہی کے مطابق نکلے گا۔ جس قسم کے اعتقادات اور اعمال ہوں گے۔ انہی کے مطابق جزا اور سزا ہوگی۔