Ayahs 11:48–49ربط آیات
اس سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ اور محنت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے آپ کی قوم کا کچھ حال بیان کیا اور ساتھ آپ کے بیٹے کی نافرمانی کا ذکر بھی کیا۔ پھر آخر میں نافرمانوں پر مسلط ہونے والے عذاب عذاب اور اس میں قوم کی ہلاکت کا ذکر کیا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے نوح (علیہ السلام) نے کشتی تیار کی اور اس میں اپنے اہل اور مومنوں کو سوار کیا۔ اس کے ساتھ ہر جانور کا ایک ایک جوڑا بھی لاد لیا۔ پھر اللہ نے طوفان کا ذکر کیا کہ طوفانی پانی اونچے سے اونچے پہاڑ سے بھی تیس ہاتھ اوپر تک پہنچ گیا جس میں نوح (علیہ السلام) کی کشتی چلتی رہی اور پھر ایک سو پچاس دن کے بعد جودی پہاڑ پر جا کر رک گئی۔ اس کے بعد اللہ کے حکم سے پانی اتر گیا ، بارش تھم گئی اور زمین خشک ہونے لگی۔
دسویں محرم کی فضیلت
مفسریں کرام فرماتے ہیں کہ طوفان کے تھم جانے اور کشتی والوں کے زمین قدم رکھنے کے درمیان ایک سال کا وقفہ گزر گیا۔ یہ کشتی محرم کی دس تاریخ کو جودی پہاڑ پر جا کر رکی تو نوح (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں نے اس دن شکرانے کا روزہ رکھا۔ جس دن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے نجات پائی ، اس دن بھی یہی تاریخ تھی اور بنی اسرائیل نے نجات حاصل ہونے پر روزہ رکھا۔ اس کے بعد بنی اسرائیل ہمیشہ دسویں محرم کا روزہ رکھتے تھے۔ ہماری امت کے لیے اس دن کا روزہ مستحب ہے اور باعث اجر ہے۔ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے اس دن کا روزہ فرض تھا ، پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو اس دن کا روزہ نقلی ہوگیا۔ حضور ﷺ نے دسویں محرم کے ساتھ نویں محرم کو بھی شامل کرلیا اور دو دن کا نفلی روزہ رکھنے کی ترغیب دی۔
کشتی سے اترنے کا حکم
جب کشتی کو رکے ہوئے ایک سال کا عرصہ گزر گیا تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا (آیت) ” قیل ینوح اھبط “ کہا گیا ، اے نوح (علیہ السلام) اتر جائو اترنا کشتی سے بھی ہوسکتا ہے اور جودی پہاڑ سے بھی کیونکہ آپ کشتی پر سوار تھے اور کشتی پہاڑ پر جا کر ٹکی تھی۔ تو اللہ کا حکم ہوا کہ اب زمین رہنے کے قابل ہوگئی ہے لہٰذا آپ اتر کر معمولات زندگے میں دوبارہ مصروف ہوجائیں۔ اور اترنے کی صورت کیا ہے (آیت) ” بسلم منا “ ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ (آیت) ” و برکت علیک “ اور آپ پر برکتوں کے ساتھ (آیت) ” وعلی امم ممن معک “ اور ان امتوں پر جو آپ کے ساتھیوں میں سے ہیں۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے آپ کے کشتی کے ساتھیوں کو امتوں سے تعبیر فرمایا ہے حالانکہ اس وقت تو آپ کے ہمراہ چند آدمی تھے اور پوری امتیں نہیں تھیں۔ قرآن پاک میں اس بات کی تصریح بھی موجود ہے کہ کشتی میں سوار ہونے والے نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹوں حام ، سام اور یافث کے علاوہ کسی شخص کی نسل آگے نہیں چلی۔ سورة الصف میں ہے کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) اور آپ کی اولاد کو سخت مصیبت سے نجات دی (آیت) ” وجعلنا ذریتہ ھم البقین “ اور ہم نے نوح (علیہ السلام) کی اولاد کو ہی باقی رکھا۔ باقی لوگ طوفان کے بعد اپنی زند گیا گزار کر اس دنیا اسے چلے گئے مگر کسی کی اولاد آگے نہیں چلی ، غرضیکہ اس وقت نہ تو امتیں موجود تھیں اور نہ عام لوگوں کی نسلیں ہی آگے چلیں ، تو اس مقام پر امتوں سے مراد وہی امتیں ہیں جو آگے چل کر نوح (علیہ السلام) کے تینوں بیٹوں سے دنیا کے مشرق ومغرب میں پھیل گئیں ۔
اللہ کی طرف سے سلامتی
مفسر قرآن محمد ابن کعب خورزی (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جس سلامتی کی خوشخبری دی ہے۔ وہ نوح (علیہ السلام) سے لے کر قیامت تک پیدا ہونے والے ایمانداروں کے لیے ہے اور آگے جس عذاب الیم کا ذکر ہے وہ بھی قیامت تک پیدا ہونے والے کافروں کے لیے ہے یہاں پر امم کا لفظ آیا ہے جو کہ امت کی جمع ہے۔ امت ، گروہ ، فرقہ یا جماعت کو کہا جاتا ہے تو فرمایا ہماری طرف سے سلامتی کے ساتھ اتر جائو۔ یہاں پر مطلق سلامتی کا ذکر ہے۔ جب کہ سلامتی مادی ، جسمانی یا روحانی بھی ہوسکتی ہے جسمانی اور مادی سلامتی کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو تندرستی نصیب ہو ، اچھی اولاد نصیب ہو ، آرام و آسائش کی سہولتیں میسر ہوں۔ اور روحانی سلامتی یہ ہے کہ کسی کو اچھا اخلاق حاصل ہو ، نیک اعمال انجام دینے کی توفیق نصب ہو اور اچھے طریقے سے عبادت کرنے کا ذوق وشوق پیدا ہو۔ یہاں پر مطلق سلامتی کا ذکر کیا گیا ہے جس سے مادی اور روحانی دونوں قسم کی سلامتی مراد ہے۔ قرآن پاک میں یہ بھی موجود ہے کہ ہم ہر شخص کو آزمائیں گے۔ اس آزمائش کے دوران میں اگر مادی سلامتی کسی وقت نہ بھی حاصل ہو تو روحانی سلامتی بہرحال نصیب ہوتی ہے۔ سلامتی کو عافیت سے بھی تعبیر کیا گیا ہے اور حضور ﷺ کا ارشاد ہے ” سل اللہ العافیۃ “ یعنی اللہ سے ہمیشہ عافیت طلب کیا کرو۔ عافیت انسانی جسم میں سعات کی طرح ہوتی ہے یہ انسان کی جسمانی سعادت ہے کہ اسے عافیت نصیب ہو اور وہ آفات سے محفوظ رہے۔ یہ سب چیزیں عافیت میں داخل ہیں تا ہم جسمانی عافیت ہمیشہ نہیں رہتی۔
غرا مرء منتۃ نفس
ان تدوم لہ السلام ۃ
اس آدمی کے نفس نے اسے دھوکہ دیا جو یہ سمجھتا ہے کہ سلامتی اس کے لیے ہمیشہ رہیگی تندرستی مال اقتدار وغیرہ دائمی چیزیں نہیں ہیں۔ یہ دنیا دار الابتلاء ہے۔ اگر انسان کو عافیت نصیب ہو تو خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرئے کیونکہ بڑھاپا آنے والا ہے جس اس کی سلامتی میں کمی کر کے اسے امراض کا شکار بنا دے گا گویا اس دنیا میں ہمیشہ کی سلامتی ناممکن ہے ، یہ تو صرف دارالسلام میں پہنچ کر ہی نصیب ہو سکتی ہے۔
سلامتی عربی ادب میں
جس طرح ہمارے ہاں ڈاکٹر اقبال قومی شاعر تصور کیے جاتے ہیں اسی طرح مصر کے شوقی بڑے مشہور شاعر ہیں۔ جاپان میں جب قیامت خیز زلزلہ آیا تھا تو شوقی نے اس کا ذکر یوں کیا تھا۔
قف بتوکیو وتف علی یوکوھامہ
وسل القریتین کیف القیامۃ
جاپان کی دو بستیوں ٹوکیو اور یو کو ہاما میں جا کر ٹھہرو اور ان سے پوچھا کہ قیامت کیسی ہوتی ہے۔ یہ زلزلہ بالکل قیامت کا نمونہ تھا جس میں ڈیڑھ لاکھ آدمی ہلاک اور اڑھائی لاکھ زخمی ہوگئے زمین میں بڑی بڑی داڑیں پڑگئیں اور ملک کھنڈرات میں تبدیل ہوگیا۔ پھر شاعر انسان کو خطاب کر کے کہتا ہے۔
ثق بما شئت من زمانک
الا صحبۃ العیش اوجوار السلام ۃ
اپنے زمانے کی ہر چیز پر اعتماد کرو مگر دائمی عیش اور سلامتی کی امید نہ رکھو۔ انسان کی سلامتی اور عافیت کا جتنا وقت نصیب ہوجائے۔ اسی کو غنیمت جانے کیونکہ یہ ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں ہے۔ اسی طرح ایک شاعر یوں کہتا ہے
کل ابن انثی وان طالت سلامتہ
لا بد یوما علی الۃ الحدباء محمول
ہر حوا کا بیٹا ایک دن ٹیڑھی چارپائی (جنازے والی چارپائی) پر سوار ہونے والا ہے اگرچہ اس کی سلامتی کتنی ہی دراز کیون نہ ہو۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ پر اور آپ کے ساتھیوں کی امتوں پر سلامتی ہوگی۔ ان میں سے روحانی سلامتی تو ہمیشہ قائم رہے گی مگر مادی سلامتی اسی دنیا میں بعض کو نصیب ہوجاتی ہے تا ہم یہ دیر پا نہیں ہوتی اور کسی کو وقت بھی چھن سکتی ہے۔
اللہ کی طرف سے برکت
اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کے لیے سلامتی کے علاوہ برکت کا ذکر کیا ہے۔ امام راغب اصفہانی (رح) مفردات القرآن میں فرماتے ہیں کہ برکت ایسی بہتری اور زیادتی کو کہتے ہیں جس میں تقدیس کا مادہ پایا جاتا ہے۔ برکت دینا صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے کسی کی عمر میں برکت ہوتی ہے ، کسی کے مال میں ، کسی کی اولاد میں ، کسی کی عبادت میں اور کسی کے اوقات میں۔ بسا اوقات بعض لوگ تھوڑے وقت میں بہت زیادہ کام کر جاتے ہیں ، یہ اوقات میں برکت ہوتی ہے بعض اوقات اللہ تعالیٰ تھوڑی سی چیز میں برکت عطا کرتا ہے تو وہی چیز بہت زیادہ لوگوں کی پیٹ پروری اور سیرابی کا باعث بن جاتی ہے۔ بعض اوقات بڑی سے بڑی چیز میں بھی بےبرکتی ہوتی ہے جس سے نہ پیٹ پروری ہوتی ہے اور نہ سیرابی۔
عذاب کے مستحقین
بعض امتوں کے لیے سلامتی اور برکات کے ذکر کے بعد فرمایا (آیت) ” وامم سنمتعھم “ کچھ امتیں ، جماعتیں ، گروہ ، خاندان اور نسلیں ایسی ہیں ، جن کو ہم فائدہ پہنچائیں گے (آیت) ” ثم یمسھم منا عذاب الیم “ پھر ان کو ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔ یہ نافرمان ، کافر ، مشرک ، منافق اور ملحد لوگوں کا ذکر ہے جن کے متعلق فرمایا کہ دنیا میں ان کو فائدہ پہنچے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق دنیا میں ہر انسان کو مہلت دی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں مال و دولت اور اقتدار دیتا ہے مگر جب وہ امتحان میں پورے نہیں اترتے تو عذاب الیم کے مستحق بن جاتے ہیں۔ یہ قانون قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے ہے اور اللہ تعالیٰ نے اسی وقت نوح (علیہ السلام) کو بتلا دیا تھا۔
غیب کی خبریں
نوح (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر کرنے کے بعد اگلی آیت میں حضور ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ جس قسم کے حالات نوح (علیہ السلام) کو پیش آئے وہی حالات آپ کے ساتھ بھی پیش آرہے ہیں نوح (علیہ السلام) کا واقعہ حضور ﷺ کی صداقت وحقانیت کی دلیل ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” تلک من انباء الغیب نوحیھا الیک “ یہ غیب کی خبریں ہیں جنہیں ہم نے وحی کے ذریعے آپ پر نازل کیا ہے۔ نوح (علیہ السلام) کے واقعات کو ٹھیک ٹھیک بیان کردینا۔ کیا یہ حضور ﷺ کا معجزہ نہیں ہے جس ہستی نے نہ سکول میں پڑھا ، نہ کسی انسان سے درس لیا ، نہ تعلیم یافتہ سوسائٹی میسر آئی۔ نہ تاریخ پڑھی بلکہ ایک امی ہونے کے باوجود ہزاروں سال پرانے واقعات بلا کم وکاست بیان کرنا ہی آپ کی نبوت و رسالت کا ثبوت ہے۔ فرمایا یہ واقعات ہم نے آپ کو وحی کے ذریعے بتائے ہیں (آیت) ” ماکنت تعلمھا انت “ نہ آپ ان واقعات کو جانتے تھے (آیت) ” ولا قومک “ اور نہ آپ کی قوم کے لوگ (آیت) ” من قبل ھذا “ اس سے پہلے جانتے تھے۔ آپ کی قوم کی غالب اکثریت بھی امی تھی۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد ڈیڑھ ہزار سال تک وہ صحیح دین پر تھے۔ پھر حضور ﷺ کی بعثت سے ساڑھے چار سو سال قبل دین میں بگاڑ پیدا ہوا اور دین کا کچھ کا کچھ بن گیا یہود ونصاری کے پاس تو کسی نہ کسی صورت میں کتابیں موجود تھیں مگر عربوں کے ہاں تو علم کو کوئی ذرعیہ ہی نہیں تھا۔ لہٰذا وہ ان واقعات سے بالک بےبہرہ تھے ، مگر وحی کے ذریعے علم ہونے پر آپ نے یہ سارے واقعات بیان کردیے۔
نبی عالم الغیب نہیں ہوتا
معلوم ہوا کہ اللہ کا نبی بھی غیب دان نہیں ہوتا۔ غیب دان صرف ذات خداوندی ہے۔ قرآن پاک ایسی آیات سے بھرا پڑھا ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور مخلوق میں سے کوئی بھی غیب نہیں جانتا (آیت) ” عالم الغیب والشھادۃ “ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے (آیت) ” لا یعلم من فی السموت والارض الغیب الا اللہ “ آسمان و زمین میں اللہ کے سوا کوئی بھی غیب نہیں جانتا۔ (آیت) ” قل انما الغیب للہ “ آپ کہہ دیں کہ غیب صرف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جو چیزیں مخلوق کی نگاہ سے غائب ہیں ، اللہ تعالیٰ ان سب کو جانتا ہے۔ (آیت) ” واللہ بکل شیء علیم “ علیم کل صرف ذات خداوندی ہے۔ علم محیط ، قدرت تامہ اور تصرف تام اللہ تعالیٰ کی صفات مختصہ ہیں ، ان میں اس کا کوئی شریک نہیں ، معبود بھی وہی ہے ، نافع ، ضار ، مافوق الاسباب متصرف ، علیم کل ، محیط کل صرف اللہ تعالیٰ ہے کوئی فرشتہ ، جن یا انسان غیب نہیں جانتا۔ حضور خاتم النبین ﷺ مخلوق میں سب سے زیادہ علم والے ہیں جن پر اللہ نے قرآن جیسی کتاب نازل فرمائی ، مگر ان کا علم بھی محدود ہے ، لہٰذا عالم الغیب کا اطلاق آپ پر بھی جائز نہیں۔ ہاں جو بات آپ کو وحی کے ذریعے بتلا دی جاتی ، اسے آپ جانتے ہیں۔ شریعت ساری کی ساری غیب کے علم پر مشتمل ہے جس کا آپ کو مکمل علم ہے اس کے علاوہ بھی تکوینی طور پر آپ نے بیشمار باتیں بتلائیں جن کا علم آپ کو بذریعہ وحی ہوا۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ ایک یہودی عالم نے حضور ﷺ کی خدمت میں سوال کیا کہ شکم مادر میں بچے یا بچی کی شکل وشباہت ماں یا باپ پر کیسے بنتی ہے ؟ حضور نبی اکرم ﷺ نے تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا کہ عورت اور مرد میں جس کا مادہ منویہ سبقت کرتا ہے ، پیدا ہونے والے بچے بچی کی شکل وشباہت اسی کے مطابق ہوتی ہے۔ جب سوال کرنے والا چلا گیا تو حضور نے صحابہ ؓ سے فرمایا کہ جب اس شخص نے سوال کیا تو اس وقت مجھے اس کے جواب کا علم نہیں تھا۔ پھر جب جبرائیل (علیہ السلام) نے آکر خبر دی تو میں نے اس شخص کو جواب دیا۔ غرضیکہ عالم الغیب نبی کی ذات بھی نہیں ہوتی۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی صفات مختصہ انبیاء میں پائے جانے کی نفی کرنا واجب ہے ، یعنی یہ کہ نبی مخلوق ہے اس کا علم محدود ہے ، نہ وہ علیم کل ہے اور نہ قادر مطلق ، ایسا کہنا نبی کی توہین نہیں بلکہ تعریف ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جتنا علم آپ کو دیا۔ اس کو آپ جانتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کی مصلحت کے مطابق جن چیزوں کا علم آپ کو نہیں دیا گیا ، آپ اس کو نہیں جانتے بعض لوگ بعض آیات سے غلط استدلال کرتے ہیں اور انبیاء کے علاوہ اولیاء اللہ کو بھی غیب دان مانتے ہیں۔ یہ بات نہیں ہے۔ ہاں اگر الہ کسی نبی یا ولی کے ہاتھ سے کوئی معجزہ یا کرامت ظاہر کر دے تو یہ اس کا کام ہے اور اسی کی مشیت سے ہوتا ہے۔ کسی نبی یا ولی کو از خود معجزے یا کرامت کے اظہار کا اختیار نہیں ہوتا۔
صبر کی تلقین
فرمایا (آیت) ” فاصبر “ آپ کفار ومشرکین کی ایذارسانی پر صبر کریں حضرت نوع (علیہ السلام) نے تقریبا ایک ہزار برس تک تکالیف برداشت کیں ، اسی طرح آپ بھی صبر کا دامن تھامے رکھیں۔ (آیت) ” وماصبرک الا باللہ “ صبر بھی اللہ ہی کی توفیق سے حاصل ہوتا ہے آپ تکالیف برداشت کر کے بھی اپنے مشن کو جاری رکھیں۔ صبر ملت ابراہیمی کا بہت بڑا اصول ہے۔ اللہ کا ذکر ، صبر ، شعائر اللہ کی تعظیم اور نماز وغیرہ بڑے بڑے اصول ہیں جو ہماری امت کے لیے بھی واجب التعمیل ہیں۔ لہٰذا تکلیف کے وقت برداشت کرو اور ناشکری کا کوئی کلمہ زبان سے نہ نکالو۔
فرمایا پس آپ صبر کریں (آیت) ” ان العاقبہ للمتقین “ بیشک نیک انجام متقیوں کے لیے ہی ہے۔ جو لوگ ایماندار ہیں اللہ کی وحدانیت کے قائل ہیں ، کفر اور شرک سے بیزار ہیں ، وہی لوگ متقی ہیں اور وہی اچھے انجام کے حقدار ہیں۔ بہرحال نوح (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبین ﷺ کو تسلی بھی دی ہے آگے دوسرے انبیاء کا حال بیان ہوگا۔
Ayahs 11:50–52ربط آیات
اپنی توحید کو بیان کرنے ، اپنے پیغمبر آخر الزمان کو تسلی دینے اور صبر کا قانون سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس سورة ہود میں بعض سابقہ انبیاء کا ذکر فرمایا ہے۔ یہ سورة حضرت ہود (علیہ السلام) کے نام پر ہی موسوم ہے۔ آج کے درس میں آپ ہی کا واقعہ بیان کیا جارہا ہے۔ آپ کی دعوت کے جواب میں آپ کی قوم کی نافرمانی اور کفر اور شرک کا تذکرہ ہے اور پھر ان کا حشر بھی بیان کیا گیا ہے۔ اللہ نے اس قوم کو عبرتناک سزا دی۔ پہلے نوح (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا ذکر تھا ، اب ہود (علیہ السلام) اور ان کی تقریر اور نصیحت کا کچھ حصہ ان آیات میں بیان کیا جارہا ہے۔ پھر آگے قوم کا جواب آئے گا اور آخر میں ان پر نازل ہونے والے عذاب کا تذکرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو نزول قرآن اور بعد کے زمانے والے لوگوں کے لیے باعث عبرت بنا دیا ہے۔
ہود (علیہ السلام) اور آپ کی قوم
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” والی عاد اخاھم ھودا “ اور قوم عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا۔ اس آیت کا عطف حضرت نوح کے واقعہ کی ابتدائی آیت (آیت) ” ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ “ کے ساتھ ہے۔ جس طرح ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا اس طرح ہود (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ قوم عاد پرانی قوموں میں سے مشہور قوم ہے جس کا ذکر قرآن پاک کی مختلف سورتوں میں ملتا ہے۔ یہ قوم سام ابن نوح کی اولاد میں سے ہے اور ہود (علیہ السلام) بھی اسی قوم کے فرد تھے۔ قوم عاد کے لوگ جسمانی طور پر بڑے مضبوط تھے وہ خود کہتے تھے (آیت) ” من اشد منا قوۃ “ (حم سجدہ) ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے اس کے علاوہ یہ لوگ بہت زیادہ متکبر تھے جس کا ذکر سورة شعراء میں موجود ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم اور اس کے بعد والی قوموں میں پائی جانے والی کفر وشرک کی بیماری قوم عاد میں بھی پائی جاتی تھی۔ بہرحال ہود (علیہ السلام) کا تعلق بھی اسی قوم سے تھا آپ کا شجرہ نسب ہود انب عبداللہ ابن رباح اور پھر آخر میں سام ابن نوح سے جا ملتا ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کی تباہی کے بعد دنیا میں جس قوم کو عروج حاصل ہوا ، وہ قوم عاد تھی۔ یہ قوم جنوبی عرب میں یمن اور اس کے اطراف ، حضر موت ، مکلہ ، عمان اور خلیج فارس کے بہت بڑے حصے پر آباد تھی اور دوسری طرف مصر تک ان کو اقتدار حاصل تھا تا ہم ان کا پایہ تخت یمن تھا۔
عربی زبان میں عادی پرانی چیز کو کہتے ہیں جیسے عادی الارض (بنجر زمین) یا شیء عادی (پرانی چیز) چونکہ یہ پرانے لوگ ہیں اس لیے ان کا نام عاد پڑگیا۔ باقی رہی یہ بات کہ ان کا زمانہ عروج کون سا ہے۔ تو اس کے متعلق مختلف روایات ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ نوح (علیہ السلام) کے دو سو سال بعد اس قوم کو عروج حاصل ہوگیا تھا مگر یہ بات زیادہ قرین قیاس نہیں بعض ان کا زمانہ عروج نوح (علیہ السلام) کے نو سال بعد بتاتے ہیں۔ البتہ امام جلال الدین سیوطی مفسر قرآن کی رائے مختلف ہے۔ آپ کی تصانیف کی تعداد پانچ سو تک پہنچتی ہے جن میں تفسیر حدیث ، تاریخ اور دیگر فنون شامل ہیں۔ آپ اپنی مشہور زمانہ دو جلدوں پر مشتمل تاریخ کی کتاب ” حسن المحاضرۃ فی احوال المصر والقاھرۃ “ میں لکھتے ہیں کہ ہود (علیہ السلام) کی بعثت مصر ابن بیصر بادشاہ کے زمانے میں ہوئی اور یہ بادشاہ طوفان نوح کے 2600 سال بعد برسراقتدار تھا۔
صابی مذہب
مصر ابن بیصر کا زمانہ حکومت 480 برس ہے جب کہ ہود (علیہ السلام) کی عمر مبارک 464 سال تھی۔ کہتے ہیں کہ نوح (علیہ السلام) سے پہلے ایک صابی دور گزرا ہے ، جس کے چار مشہور اصول توحید ، طہارت ، نماز اور روزہ تھے ، ابتداء میں یہ مذہب بھی ٹھیک تھا مگر بعد میں لوگوں نے اس میں بگاڑ پیدا کردیا۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ اصل مذہب تو سارے ہی درست تھے حتی کہ زرتشت مذہب بھی ٹھیک تھا مگر بعد میں مجوسیوں نے اس کو بگاڑ کر ستارہ پرستی کی طرف موڑ دیا۔ یہود ونصاری کا بھی یہ حال ہے۔ اصل مذہب اپنے زمانہ میں حق پر تھے مگر بعد میں آنے والون نے ان کو بالکل مسخ کردیا۔ بہر حال صابی مذہب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ تک چلتا رہا۔ پھر آپ کے زمانہ میں توحید کا تصوربالکل ختم ہوگیا۔ حضور ﷺ کی بعثت کے وقت بھی توحید خالص ختم ہوچکی تھی۔ گذشتہ پانچ سو سال میں دین کا حلیہ بگڑ چکا تھا اور توحید کا تصور ایک فیصد بھی باقی نہیں رہا تھا آپ کے زمانہ بعثت میں توحید کا تصور رکھنے والے چند آدمیوں کا ذکر ملتا ہے ، وگرنہ سارے کے سارے شرک میں مبتلا ہوچکے تھے۔
اہرام مصر ؎
امام جلال الدین سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہ مصر کے سہ گوشہ مینار بہت پرانے زمانے کے بنے ہوئے ہیں جن میں قوم عاد کا زمانہ بھی شامل ہے فرماتے ہیں کہ ان میں سے دو مینار تو نوح (علیہ السلام) سے بھی پہلے کے ہیں اور ان کے نیچے حضرت شیث (علیہ السلام) اور حضرت ادریس (علیہ السلام) کی قبریں ہیں ، اور باقی میناروں کے نیچے فراعین کی قبور ہیں۔ یہ سہ گوشہ مینار بڑے بڑے پتھر جوڑ کر نہایت پر پیچ طریقہ سے بنائے گئے ہیں ، ساڑھے چھ ہزار سال کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی یہ مینار قائم ہیں۔ آج کا انسان انہیں دیکھ کر حیران ہوجاتا ہے کہ اتنے وزنی پتھر ایک دوسرے کے اوپر کن ذرائع کے ساتھ رکھے گئے جب کہ اس وقت کوئی مشینری یا کرین وغیرہ بھی نہیں تھی ، پھر ان پتھروں کو جوڑنے کے لیے عجیب و غریب مسالہ استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے ابھی تک شکستگی کے آثار پیدا نہیں ہوئے ان میں سب سے بڑا مینار چار سو فٹ سے بھی زیادہ بلند ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے ان کو اتنی طاقت عطا فرمائی تھی کہ اتنے بڑے بڑے کام انجام دیتے تھے۔
قوم عاد کا مسکن عرب کے ربع خالی میں وادی دہنا ہے۔ جزیرہ نمائے عرب کے جنوبی حصے میں ہزاروں میل کا خطہ بےآباد ریگستان ہے جب وہاں پر ہوائیں چلتی ہیں تو ریت کے طوفان اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ وہاں پر ریت کے بڑے بڑے ٹیلے ہیں۔ پہاڑوں جتنے برے ٹیلے دیکھتے ہی دیکھتے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوجاتے ہیں۔ اور پھر ان کی زد میں آنے والے قافلے بمع اونٹ اور سازوسامان سرخ وسفید ریت کے پہاڑوں میں دب کر رہ جاتے ہیں۔ قوم عاد یہیں آباد تھی۔ تفسیر حقانی والے لکھتے ہیں کہ قوم عاد کے لوگ عمارات کی تعمیر میں بڑا کمال رکھتے تھے ان کا بنایا ہوا ایک ایک مکان سات سات منزلہ ہوتا اور ہر منزل کے درمیان چالیس گز کی مسافت ہوتی۔ اس قسم کی بعض عمارات حضرت عثمان ؓ کے دور خلافت تک موجود تھیں۔ بہرحال یہی وہ قوم عاد تھی جس کی طرف اللہ نے ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا۔
اخوت کی مختلف صورتیں
اخوت کی مختلف صورتیں ہیں۔ حقیقی بھائی تو وہ ہوتے ہیں جو نسل اور خاندان کے اعتبار سے بھائی ہوتے ہیں ، تا ہم کسی ایک دین کے پیروکار دینی بھائی بھی ہوتے ہیں۔ جیسے خود مومنوں کے متعلق قرآن پاک میں ہے (آیت) ” انما المومنون اخوۃ “ (الحجرات) سارے مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اس لیے اگر ایک مومن خود کو دوسرے سے برتر سمجھتا ہے تو وہ شیطان کا مرید ہے کیونکہ دین میں کوئی اونچ نیچ نہیں بلکہ سارے مسلمان برابر ہیں۔ پھر زبان کے لحاظ سے بھی اخوت ہوتی ہے۔ ہم زبان بھائی بھائی ہوتے ہیں۔ اس زمانے میں قومیتوں کی بنیاد وطن پر ہے۔ اس لیے کسی ایک ملک کے باشندے رشتہ اخوت میں منسلک ہوتے ہیں۔ ذرائع نقل وحمل کی فراوانی کی وجہ سے آجکل دنیا بھر کا سفر نہایت آسان ہے۔ جب کسی ایک ملک کا باشندہ دوسرے ملک میں جاتا ہے تو وہ اپنی ملکی قومیت کے اعتبار سے پہچانا جاتا ہے جیسے فلاں پاکستانی ہے اور فلان ہندی ، ملائی ، امریکن یا جرمن ہے۔ پاسپورٹ پر بھی شہریت کا اندراج ملکی اعتبار سے ہی ہوتا ہے اگرچہ ایک ملک میں کئی صوبے ہوتے ہیں اور کئی زبانیں بولی جاتی ہیں مگر قومیت ایک ہی ہوتی۔
یہاں پر ہود (علیہ السلام) کو قوم عاد کا بھائی نسلی اعتبار سے کہا گیا ہے۔ آپ انہی کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اگرچہ آپ اللہ کے رسول تھے اور ساری قوم کافر تھی۔ اس دینی تفاوت کے باوجود وہ نسلی اعتبار سے بھائی تھے۔ یہاں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ مختلف مذاہب رکھنے کے باوجود لوگ ایک ہی خاندان اور برادری سے متعلق ہوتے ہیں۔ مثلا ہمارے رجپوت مسلمان بھی ہیں اور غیر مسلم بھی۔ ان کا جد امجد ایک ہی تھا۔ پھر خواجہ فرید الدین گنج شکر (رح) کی تبلیغ سے کچھ لوگ مسلمان ہوگئے اور دوسرے ہندو ہی رہے ، چناچہ آج بھی ہندوستان میں ہندو راجپوتوں کی بڑی آبدی موجود ہے۔
بہرحال ہود (علیہ السلام) کی قوم کے ساتھ اخوت نسلی اعتبار سے بھی تھی اور لسانی لحاظ سے بھی ، کیونکہ وہ سب عربی زبان بولتے تھے اور قدیم عرب کہلاتے ہیں۔ یہ عرب بائدہ کہلاتے ہیں جو اللہ کے عذابوں کی وجہ سے تباہ وبرباد ہوئے۔ دوسرے نمبر پر قحطائی نسل آتی ہے اور ان کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان بولنے والا تیسرا خاندان بنی جرہم ہے جو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں۔ یاد رہے کہ اسماعیل (علیہ السلام) عربی زبان بولتے تھے جب کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زبان عبرانی اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی زبان سریانی تھی۔
ہود (علیہ السلام) کی دعوت توحید
فرمایا ہم نے ہود (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا انہوں نے اپنی قوم کو جو وعظ ونصیحت اور تقریر کی اس کے الفاظ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں محفوظ کردیے ہیں۔ انہوں نے کہا (آیت) ” قال یقوم اعبدوا اللہ “ اے میری قوم کے لوگوں اللہ کی عبادت کرو (آیت) ” مالکم من الہ غیرہ “ اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کوئی مشکل کشا ، حاجت روا اور مافوق الاسباب متصرف نہیں۔ قادر مطلق ، علیم کل ہمہ دان ، ہمہ بین اور ہمہ تو ان دہی ہے ، لفظ الٰہ میں یہ ساری چیزیں آجاتی ہیں۔ جیسا کہ سورة اعراف کی آیات سے معلوم ہوتا ہے۔ ان لوگوں نے مختلف معبود بنا رکھے تھے ، کوئی بیماری سے شفا کے لیے کوئی مقدمہ سے بری کرانے کے لیے ، کوئی رزق فراہم کرنے والا اور کوئی اولاد دینے والا۔ اسی بناء پر وہ ان کی دہائی دیتے تھے ، ان کے سامنے رکوع و سجود کرتے تھے اور ان سے حاجتیں طلب کرتے تھے ، مگر حقیقت میں کچھ نہیں تھا۔
اس زمانے میں بھی لوگ اپنی حاجات کے لیے مختلف معبودوں کی حاضری دیتے ہیں۔ بیماری سے شفاء کے لیے فلاں قبر پر جاء اور اولاد کے لیے فلاں مزار پر منت مانو۔ اگر ملازمت کی ضرورت ہو تو فلاں کی چلتی ہے اور مال و دولت چاہیے تو فلاں قبر کا چلہ کاٹو۔ توحید کا مسئلہ اللہ تعالیٰ نے سورة ہذا کی ابتدائی آیت میں ہی بیان کردیا تھا (آیت) ” الا تعبدوا الا اللہ “ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ حضور ﷺ کی تبلیغ کا لب لباب بھی یہی تھا اور ہود (علیہ السلام) نے بھی قوم کو یہ سبق دیا۔ لوگو ! اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی الہ نہیں۔ (آیت) ” ان انتم الا مفترون “ تم تو افتراء باندھنے والے ہو۔ اللہ کے علاوہ اپنی حاجات میں دوسروں کو پکارنا ہی شرک اور افترا علی اللہ ہے۔ پیچھے گزر چکا ہے (آیت) ” فتعلی اللہ عما یشرکون “ اللہ تعالیٰ کی ذات ان چیزوں سے پاک ہے جن کو یہ خدا کا شریک بناتے ہیں اور پھر مختلف طریقوں سے ان کی عبادت بھی کرتے ہیں۔
شرک کی بنیاد
امام محمد ابن عمر رازی (رح) ایران کے علاقے رے کے رہنے والے تھے آپ محمد غوری کے زمانے میں ہوئے ہیں اور آپ کی وفات 606 ھ میں ہوئی ۔ آپ عظیم عالم باپ کے بیٹے تھے ، اولاد بھی عالم فاضل تھی۔ آپ نے تفسیر کبیر کے حوالے سے شہرت پائی ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ہندوستان کا سفر بھی کیا۔ وہاں میں نے کسی کو خدا تعالیٰ کی ذات میں شریک بناتے نہیں سنا۔ سب یہی کہتے تھے کہ واجب الوجود صرف خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔ اللہ کے وجود میں کوئی شریک نہیں مگر عبادت میں آکر اللہ کے شریک ٹھہرا لیتے ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) بھی فرماتے ہیں۔ کہ توحید کے دو درجات تو سارے مشرک بھی تسلیم کرتے ہیں ، یعنی واجب الوجود صرف اللہ ہے ، اور خالق بھی وہی ہے۔ مگر جب عبادت کی باری آتی ہے تو اس میں غیروں کو بھی شریک کرنے لگتے ہیں اس کے علاوہ صفات میں بھی پھسلتے ہیں۔ اللہ کی صفات بندوں میں ثابت کی جائیں یا بندوں کی صفات اللہ میں مانی جائیں تو یہ شرک فی الصفات ہوگیا۔ اسی طرح خدا کے لیے اولاد کی صفت ثابت کرنا عقیدہ تشبیہ ہے جو کہ کفر ہے۔ اللہ کی صفات بندوں میں اس طرح ثابت کی جاتی ہیں کہ فلاں بھی سب کچھ جانتا ہے اور جو چاہے کرسکتا ہے ، وہ ہمارے دل کی باتوں کو بھی جانتا ہے۔ اسی طرح اللہ ہر چیز پر گواہ اور حاضر ہے۔ مگر یہ صفت غیروں میں بھی ثابت کی جاتی ہے۔ کہتے ہیں کہ نبی اور ولی بھی حاضر ناظر ہیں اور یہی شرک ہے۔ عبادت میں شرک یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی غیر کی انتہائی تعظیم اس نیت کے ساتھ کی جائے کہ اس ہستی کو مافوق الاسباب تصرف حاصل ہے۔ اس کو نافع اور ضار سمجھا جاتا ہے اس کے سامنے رکوع و سجود کیا جاتا ہے ، اس کے نام کی نیاز دی جاتی ہے ، اس کا نام کا ورد کیا جاتا ہے اور اس کے سامنے مناجات پیش کی جاتی ہے یہ سب عبادت ہے کوئی قولی ، کوئی فعلی اور کوئی مالی۔
ہود (علیہ السلام) نے قوم سے یہ فرمایا (آیت) ” یقوم لا اسئلکم علیہ اجرا “ اے میری قوم کے لوگو ! میں اپنی اس تبلیغ کا تم سے کوئی بدلہ طلب نہی کرتا۔ (آیت) ” ان اجری الا علی الذین فطرنی “ میرا اجر تو اس ذات کے ذمے ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے۔ میرے کام کی مزدوری وہی دے گا (آیت) ” افلا تعقلون “ کیا تم اتنی عقل بھی نہیں رکھتے۔
استغفار کی برکات
حضرت ہود (علیہ السلام) نے یہ بھی کہا (آیت) ” ویقوم استغفروا ربکم “ اے میری قوم کے لوگو ! اللہ سے معافی طلب کرو۔ (آیت) ” ثم توبوا الیہ “ پھر اس کے سامنے توبہ کرو۔ بزرگان دین فرماتے ہیں کہ استغفار صابن کی طرح روح کی میل کچیل کو صاف کرتا ہے اور تسبیح وتہلیل بمنزلہ خوشبو ہے۔ چونکہ لوگوں سے اکثر گناہ سرزد ہوتے رہتے ہیں ، اس لیے حضور ﷺ نے فرمایا کہ بہتر لوگ وہی ہیں جو معافی مانگتے رہتے ہیں۔ اور توبہ کرتے رہتے ہیں۔ خود حضور ﷺ ایک ایک مجلس میں سو سو مرتبہ اپنی زبان سے استغفار کے کلمات ادا فرماتے تھے کہ اے اللہ جو غلطی ہوگئی ہے اسے معاف فرما دے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا اور اس کے سامنے توبہ کرنا مومن کی سات منزلوں میں سے پہلی منزل ہے سورة توبہ میں یہ سات منزلیں گزرچکی ہیں (آیت) ” التائبون العبدون الحمدون السائحون الرکعون السجدون الامرون بالمعروف والناھون عن المنکر والحفظون لحدود اللہ “ مفسرین فرماتے ہیں کہ جب اس قوم نے نافرمانی کی تو تین سال تک بارش بند رہی اور اس عرصہ میں عورتیں بھی بانجھ ہوگئیں ، کوئی بچہ پیدا نہی ہوا ، تو ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ لوگو ! استغفار اور توبہ کرو ، جس کے نتیجے میں (آیت) ” یرسل السماء علیکم مدرارا “ اللہ تعالیٰ آسمان کو تم پر بارش برسانے کے لیے چھوڑ دیگا۔ قحط سالی دور ہو جائیگی (آیت) ” ویزدکم قوۃ الی قوتکم “ اللہ تعالیٰ تمہیں جسمانی قوت کے ساتھ قوت عطا کریگا۔ تمہاری طاقت میں اضافہ ہوجائے گا اور اولاد بھی ہونے لگے گی (آیت) ” ولا تتولوا مجرمین “ تم مجرم بن کر پشت نہ پھیرو۔ ہود (علیہ السلام) کی تقریر کا یہ پہلا حصہ ہے جو آپ نے قوم کے سامنے پیش کیا۔
Ayahs 11:53–57ربط آیات
کل کے درس میں حضرت ہود (علیہ السلام) کی تقریر اور قوم کی نصیحت کا پہلا حصہ بیان ہوا تھا۔ انہوں نے لوگوں کو اللہ کی عبادت کا حکم دیا کیونکہ اس کے سوا کوئی مستحق عبادت نہیں ۔ حاجت روا ، مشکل کشا ، نافع اور ضار ، علیم کل ، محیط کل اور متصرف اس کے سوا کوئی نہیں۔ آپ نے قوم سے فرمایا کہ تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرا کر اس پر افتراء باند ھ رہے ہو۔ پھر ہود (علیہ السلام) نے اپنی بےلوث خدمت کا ذکر بھی کیا کہ میں اس وعظ ونصیحت کا تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا کیونکہ میرا بدلہ تو اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔ صرف اللہ کی عبادت کرو ، اس کے سامنے استغفار اور توبہ کرو ، وہ تم پر مہربانی فرمائے گا ، تمہیں قوت بھی دے گا اور بارش برسا کر قحط کو بھی دور کردیگا ، تم روگردانی کر کے مجرم نہ بنو۔ غرضیکہ ہود (علیہ السلام) نے نہایت عمدہ طریقے سے قوم کو سمجھایا مگر انہوں نے ایک نہ مانی اور آپ کو الٹا جواب دیا۔
معجزے کا مطالبہ
(آیت) ” قالوا “ کہنے لگے (آیت) ” یھود ما جئتنا ببینۃ “ اے ہود (علیہ السلام) ! آپ تو ہمارے پاس کوئی نشانی لے کر نہیں آئے۔ بینہ نشانی اور واضح چیز کو کہتے ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ اس سے مراد معجزہ ہے۔ یعنی آپ ہمارے پاس کوئی معجزہ لے کر نہیں آئے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کے ہاتھ پر کوئی نہ کوئی معجزہ ظاہر فرمایا ہے مگر مشرک لوگ اپنی مرضی کی معجزہ حاصل کرنے پر اصرار کرتے ہیں۔ قرآن میں مختلف مقامات پر آتا ہے (آیت) ” لولا انزل علیہ ایۃ “ اس پر ہماری مرضی کی کوئی نشانی کیوں نہیں نازل ہوئی۔ اللہ کے نبیوں نے اس کے جواب میں ہمیشہ یہی کہا ہے کہ معجزہ ظاہر کرنا ہمارے اختیار میں نہیں ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو کوئی نہ کوئی نشانی دی ہے جسے دیکھ کر لوگ ایمان لائے۔ فرمایا ، اللہ نے مجھے جو خصوصی معجزہ عطا فرمایا ہے وہ قرآن ہے جو وحی الٰہی کے ذریعے نازل ہوا۔ یہ لوگ معجزات کا مطالبہ محض ضد اور عناد کی وجہ سے طلب کرتے ہیں ، وگرنہ نبی کا وجود ، اس کی تقریر ، اس کا چہرہ آواز اور عمل سب معجزات ہیں۔ پیچھے اسی سورة میں اور سورة انعام اور بعض دوسری سورتوں میں بھی ہے کہ تم نشانیاں طلب کرتے ہو ، تمہارے اپنے وجود میں اور تمہارے اردگرد قدرت کی ہزاروں نشانیاں بکھری پڑی ہیں۔ ذرا ان درختوں اور پودوں کو ہی دیکھو ، اللہ کی قدرت کے کمال نمونے نظر آئیں گے۔ کیا یہ خدا کی قدرت کی نشانیاں نہیں ہیں جو مزید نشانیاں طلب کرتے ہو۔ نبی کی ہر چیز بینہ ہوتی مگر جس نے نہیں ماننا وہ اپنی مرضی کی نشانی طلب کرتا ہے۔ مشرکین مکہ نے شق القمر کا معجزہ خود طلب کیا تھا مگر جب چاند دو ٹکڑے ہوگیا ، ایک ٹکڑا پہاڑ کی ایک طرف نظر آرہا تھا اور دوسری طرف ، تو وہ پھر بھی کہنے لگے ، (آیت) ” سحر مستمر “ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔ بہرحال ہود (علیہ السلام) کی قوم نے بھی آپ سے معجزہ طلب کیا۔
معبودان باطلہ پر اصرار
اور دوسری بات یہ کی (آیت) ” وما نحن بتارکی الھتنا عن قولک “ ہم تیری بات کی وجہ سے اپنے معبودوں کو چھوڑنے والے نہیں۔ تو کتنی بھی وعظ ونصیحت کرے ، اس کا ہم پر کچھ اثر نہیں ہوگا۔ اور ہم اپنے معبودان کی پرستش کرتے رہیں گے۔ ہم ان کے نام کی منتیں مانیں گے۔ ان پر چڑھاوے چڑھائیں گے ، ان سے مرادیں مانگیں گے اور ان کی تعظیم کرتے رہیں گے۔ مکہ کے مشرک بھی یہی کہتے تھے (آیت) ” اجعل الالحۃ الھا واحدا ان ھذا لشیء عجاب “ کیا ہم تمام معبودان کے بجائے صرف ایک معبود بنا لیں۔ یہ تو عجیب بات معلوم ہوتی ہے۔ کیا ہم لات ، منات ، عزی ، ہبل ، ود ، سواع ، نائلہ اور اصناف سب کو چھوڑ کر صرف ایک خدا کی عبادت کریں ہم اپنے آبائو اجداد کے تمام معبودوں کو کیسے چھوڑیں۔ قرآن پاک نے مشرکین کی دو باتوں پر تعجب کا اظہار کیا ہے۔ ایک وقوع قیامت پر اور دوسرا توحید کے مسئلہ پر ، ان میں شرک ایسا رچ بس گیا تھا کہ وہ اسے چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے۔ ہر قوم ، خاندان اور قبیلے کا الگ الگ معبود تھا۔ ہر گھر میں علیحدہ علیحدہ معبود تھے۔ ہر معبود کی علیحدہ شکل و صورت اور اس کے ذمے مخصوص کام تھا جو وہ انجام دیتا تھا۔ بہر حال انہوں نے کہا کہ ہم اپنے معبودوں کو چھورنے کے لیے تیار نہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی آتا ہے کہ ان کی قوم کے لوگوں نے کہا (آیت) ” اصبروا علی الھتکم “ اپنے معبودوں پر جمے رہو ، ان کو ترک نہ کرنا۔ اس کی بجائے ابراہیم (علیہ السلام) کو ہلاک کر دو ۔ تا کہ ہمارے معبودوں کی مذمت بیان نہ ہو۔
ہود (علیہ السلام) کی قوم نے کہا کہ تیرا بیان کتنا بھی شیریں اور پرکشش کیون نہ ہو مگر ہم اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑیں گے (آیت) ” وما نحن لک بمومنین “ اور نہ ہی ہم تیری تصدیق کرنے والے ہیں۔ ہم تمہیں اللہ کا رسول تسلیم نہیں کرتے یہ معبودان ہمیں خدا کا قرب دلاتے ہیں ہماری مرادین پوری کراتے ہیں ، خدا کے پاس ہماری سفارش کرتے ہیں بھلا ان کو ہم کیوں چھوڑ دیں۔ کہنے لگے (آیت) ” ان تقول الا اعترک بعض الھتنا بسوئ “ ہم تو کہیں گے کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں برائی پہنچائی کسی معبود نے تمہیں مخبوط الحواس بنا دیا ہے۔ تم ان کی برائی بیان کرتے تھے ان کی تو ہیں کرتے تھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی معبود کی تم پر مارپڑ گئی ہے۔ تم بہکی بہکی باتیں کرنے لگے ہو۔ ہر زمانے میں مشرکین عام طور پر اسی قسم کی باتیں کرتے ہیں اور توحید کے انکار کے لیے اسی قسم کی تاویلات کرتے ہیں۔
شرک سے بیزاری
قوم کی ان باتوں کے جواب میں ہود (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” قال ان اشھد اللہ “ فرمایا اے لوگو ! میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں (آیت) ” واشھدوا انی بری مما تشرکون “ اور تم بھی گواہ ہو جائو کہ بیشک میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کو تم خدا کا شریک بناتے ہو۔ (آیت) ” من دونہ “ خدا کے ورے یا خدا کے سوا تم جن کو بھی شریک ٹھہراتے ہو میں ان سب سے بیزار ہوں یعنی میں ان سے نفرت کرتا ہوں۔ یہ بےحقیقت چیزیں ہیں۔ نرا جھوٹ اور افتراء ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی یہی بات فرمائی تھی (آیت) ” اننی براء مما تعبدون “ (الذخرف) میں تو ان سب سے بیزار ہوں جن کی تم پوجا کرتے ہو۔ یہ سب میرے دشمن ہیں اور میرا دوست صرف رب العلیمین ہے۔ (آیت) ” انھن اضللن کثیرا من الناس “ معبودان باطلہ بہت سے لوگوں کی گمراہی کا باعث بنے ہیں اور ایسا کام کوئی دشمن ہی کرسکتا ہے ، میں ان معبودوں کے بارے میں کسی قسم کی نرمی اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گو یا تمام باطل ادیان ، کفر اور شرک سے بیزاری کا اعلان بھی ضروری ہے۔ (آیت) ” تبرات من الکفر والشرک والنفاق “ اے اللہ ! میں کفر ، شرک ، نفاق اور ہر باطل دین یہودیت ، نصرانیت وغیرہ سے بیزار ہوں۔ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی توحید ، رسالت ، ملائکہ ، انبیاء کتب سماویہ معاد اور تقدیرخیر وشر پر تو ایمان رکھتا ہے مگر کفر وشرک سے اظہار بیزاری نہیں کرتا تو اس کا ایمان قابل قبول نہیں ہے اگر ایک یہودی خدا تعالیٰ کو وحدہ لا شریک مانتا ہے ، حضور ﷺ کو سچا رسول مانتا ہے مگر یہودیت سے بیزاری کا اظہار کرتا تو اس کا ایمان قابل قبول نہیں ہوگا۔ گاندھی بھی کہتا تھا کہ اسلام سچا مذہب ہے مگر ہندومت کو بھی برحق خیال کرتا تھا ، اس سے برائت کا اعلان نہیں کرتا تھا لہٰذا وہ کافر ہی رہا۔ مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر کفر ، شرک اور باطل دین سے برات کا اظہار کرے۔
توحید پر ثابت قدمی
الغرض ! ہود (علیہ السلام) نے بھی یہی بات کی کہ اے لوگو ! میں اس بات میں خدا تعالیٰ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ بن جائو کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جن کو تم خدا کے ساتھ شریک بناتے ہو۔ فرمایا اس معاملے میں (آیت) ” فکیدونی جمعیا “ تم سب مل کر میرے خلاف تدبیر کرلو (آیت) ” ثم لا تنظرون “ پھر مجھے مہلت بھی نہ دو ۔ دیکھوں اللہ کا نبی توحید اور توکل کے کس اعلیٰ مقام پر کھڑا ہے کہتا ہے (آیت) ” انی توکلت علی اللہ “ بیشک میں اللہ ہی پر بھروسہ کرتا ہوں (آیت) ” ربی وربکم “ جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ یہ درجہ کمال ایک نبی کو ہی حاصل ہو سکتا ہے ، ایک عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔ اللہ کے سامنے سارے نبیوں نے یہی کہا (آیت) ” ومالا الا نتوکل علی اللہ وقد ھدنا سبلنا “ (ابراہیم ) ہم خدا کی ذات پر کیوں توکل نہ کریں کہ اس نے ہمیں صراط مستقیم پر فائز فرمایا ہے۔ ہمیں ہدایت کا راستہ اسی نے بتلایا ہے اور اسی نے اس کو آگے پھیلانے کا حکم دیا ہے تمام اہل ایمان کے متعلق بھی یہی آتا ہے (آیت) ” وعلی اللہ فلیتوکل المومنون “ (ابراہیم) کہ وہ بھی اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہیں اہل ایمان اسباب کو اختیار تو کرتے ہیں مگر بھروسہ خدا کی ذات پر ہوتا ہے۔ جب وہ چاہتا ہے ، کسی چیز میں اثر پیدا کردیتا ہے نہیں چاہتا تو سارے اسباب دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں۔ اختیار سارا اللہ کے پاس ہے۔ اگر وہ نقصان پہنچانا چاہے گا تو پہنچے گا ، ورنہ کوئی کس کا بال بیکا نہیں کرسکتا کیونکہ (آیت) ” ما من دابۃ الا ھو اخذ بناصی تھا “ زمین پر کوئی چلنے پھرنے والا جاندار نہیں مگر اللہ تعالیٰ اس کی پیشانی کو پکڑنے والا ہے وہ جب چاہے پکڑ کر گھسیٹ لے۔ ہود نے فرمایا تم مجھے کن چیزوں سے ڈراتے ہو ، ہر چیز پر اختیار تو میرے رب کا ہے۔ ڈرنا تو تمہیں چاہیے جو کفر وشرک کی غلاظت میں پھنسے ہوئے ہو اور بالآخر پکڑے جائو گے۔
عدل و انصاف کا راستہ
فرمایا (آیت) ” ان ربی علی صراط مستقیم “ بیشک میرا پروردگار صراط مستقیم پر ہے۔ یہاں اشکال پیدا ہوتا ہے کہ صراط مستقیم پر چلنے کا حکم تو خود اللہ نے اپنے بندوں کو دیا ہے اور ہم خود اپنی دعا میں کہتے ہیں (آیت) ” اھدنا الصراط المستقیم “ اے اللہ ہمیں سیدھا راستہ عطا فرما اور اللہ بھی کہتا ہے (آیت) ” ھذا صراط علی مستقیم “ (الحجر) قرآن کا راستہ ہی صراط مسقیم ہے جو مجھ تک پہنچنے والا ہے۔ تو پھر اللہ تعالیٰ کے صراط مستقیم پر ہونے کا کیا مطلب ہے ؟ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ میرا پروردگار عدل کے سیدھے راستے پر ہے۔ وہ عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے۔ وہ مجرموں کو سزا دے گا اور مومنوں کو بہترین اجر سے نوازے گا ، کہ عدل کا یہی تقاضا ہے۔
فرمایا اس کے باوجود (آیت) ” فان تولوا “ اگر تم روگردانی کروگے ، اس کی وحدانیت کو تسلیم نہیں کرو گے ، کفر اور شرک پر اڑے رہو گے ، تو یاد رکھو ! (آیت) ” فقدابلغتکم ما ارسلت بہ الیکم “ جو چیز مجھے دیکر تمہاری طرف بھیجا گیا تھا۔ وہ میں نے تم تک پہنچا دی ہے۔ میں نے تمہیں آگاہ کردیا ہے کہ لوگو ! عبادت صرف خدا تعالیٰ کی کرو ، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس سے معافی مانگو اور اس کے سامنے توبہ کرو۔ یہ پیغام تمام انبیاء نے اپنی اپنی امتوں کو پورے طریقے سے پہنچا دیا ہے اور میں بھی تم تک پہنچا رہا ہوں۔ فرمایا اگر تم نافرمانی سے باز نہیں آئو گے (آیت) ” ویستخلف ربی قوما غیرکم “ تو میرا رب تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو تمہارا قائم مقام بنا دیگا ، تمہاری بری روش کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ (آیت) ” ولا تضرونہ شیئا “ اور تم خدا تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکو گے یاد رکھو ! (آیت) ” ان ربی علی کل شیء حفیظ “ میرا پروردگار ہر چیز پر نگہبان ہے۔ تمہاری نافرمانی ، کفر اور شرک اس سے مخفی نہیں ہے ، ہماری نیکیاں اور کوششیں بھی خدا سے پوشیدہ نہیں ، وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے اور ہر چیز کی حفاظت کر رہا ہے۔ یاد رکھو ! جزائے عمل پیش آنے والی ہے جب تمہیں اس بری روش کا بدترین بدلہ دیا جائے گا۔