11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 11:69–76

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق آئے ہمارے بھیجے ہوئے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لے کر۔ انہوں نے کہا سلام۔ ابراہیم (علیہ السلام) بولے ، سلام ہے پس نہ ٹھہرے (ابراہیم علیہ السلام) کچھ زیادہ مگر یہ کہ لے آئے ایک تلا ہوا بچھڑا

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

پھر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس کی طرف نہیں پہنچ رہے تو اوپر ا سمجھا ان کو اور محسوس کیا ان کی طرف خوف وہ کہنے لگے نہ خوف کھا ، بیشک ہم بھیجے ہوئے ہیں قوم لوط کی طرف

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور ان کی بیوی کھڑی تھی ، پس وہ ہنس پڑی اور اس کو ہم نے خوشخبری دی اسحاق (بیٹے) کی ، اور اسحاق کے بعد یعقوب (پوتے) کی

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

وہ کہنے لگی تعجب ہے میرے لئے کہ اب میں جنوں گی اور میں بڑھیا ہوں اور یہ میرا خاوند بھی بوڑھا ہے یہ تو البتہ عجیب چیز ہے

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

وہ کہنے لگے ، کیا تو تعجب کرتی ہے اللہ کے حکم پر ، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں تم پر اے اہل بیت ! بیشک وہ تعریفوں والا اور بزرگ ہے

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

پس جب دور ہوگیا ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف اور ان کو خوشخبری حاصل ہوگئی ، تو وہ جھگڑنے لگے ہمارے ساتھ قوم لوط کے بارے میں

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

بیشک ابراہیم (علیہ السلام) البتہ بڑے برد بار (نرم دل) اور رجوع رکھنے والے تھے

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

(ارشاد ہوا) اے ابراہیم (علیہ السلام) ! چھوڑ دو اس بات کو ، یشک آ چکا ہے تیرے رب کا حکم اور ان لوگوں کے پاس آنے والا ہے ایسا عذاب جس کو لوٹایا نہیں جاسکتا۔

ربط آیات گزشتہ کئی دروس سے مختلف انبیاء (علیہم السلام) کی تبلیغ کا تذکرہ ہو رہا ہے حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) نے قوم کو یہی نصیحت کی کہ لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، اپنی غلطیوں کی معافی مانگو اور اسی کو طرف رجوع رکھو۔ ان نافرمان قوموں پر عذاب کا ذکر بھی ہوچکا ہے۔ قوم نوح طوفان میں تباہ ہوئی ، قوم ہود کو تیز آندھی نے آپکڑا اور صالح (علیہ السلام) کی قوم کے لئے اوپر سے چیخ اور نیچے سے زلزلہ آیا جس نے ساری قوم کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی اصطلاح میں یہ تذکیر بایام اللہ ہے۔ یہ لفظ آگے موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں آ رہا ہے اور دوسری جگہوں پر بھی موجود ہے۔ تذکیر کا معنی نصیحت پکڑنا ہے اور مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شکر گزار لوگوں کے انعامات اور نافرمانوں کی سزائوں کا ذکر فرمایا ہے تاکہ لوگ ان واقعات سے عبرت پڑکیں اور نصیحت حاصل کریں۔ اسی سلسلے میں لوط (علیہ السلام) کی قوم کا تذکرہ آ رہا ہے۔ اس نافرمان قوم کو بھی اللہ نے ہلاک کیا ، تاہم واقعہ کی ابتداء میں تمہیں کے طور پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کیفضیلت اور آپ کے گھرانے کا تذکرہ ہے۔ ابراہیم علیہالسلام کو بشارت ارشاد ہوتا ہے ولقد جآء ت رسلنا البتہ تحقیق آئے ہمارے بھیجے ہوئے یعنی فرشتے ابراہیم بالبشری وہ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بشارت لے کر آئے ۔ دراصل یہ فرشتے قوم لوط پر عذاب لے کر آئے تھے اور درمیان میں ابراہیم (علیہ السلام) کو بشارت بھی سنا کر گئے یہاں پر ابراہیم علیہالسلام نے ان کی میزبانی کا جو فریضہ انجام دیا ، اس کا ذکر بھی آ گیا ہے۔ رسول انسانوں میں بھی ہوتے ہیں اور ملائکہ میں بھی یہاں جن رسولوں کا ذکر ہے وہ فرشتے تھے اور تفسیری روایات میں ان کی تعداد مختلف بتائی گئی ہے۔ بعض نے تین …… بعض نے چار ، بعض نے چھ اور بعض نے بارہ فرشتوں کا ذکر کیا ہے مگر کسی صحیح حدیث میں ان کی تعداد ذکر نہیں کی گئی ۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ فرشتے جبرائیل ، مکائیل ، اور اسرافیل تھے۔ بہرحال وہ فرشتوں کی ایک جماعت تھی کیونکہ یہاں پر جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے اور جو بشارت وہ لے کر آئے تھے اس کے متعلق آگے موجود ہے کہ یہ ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کے فرزند کی بشارت تھی۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہ قوم لوط کی ہلاکت کی بشارت تھی جس پر ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی کو بڑی خوشی تھی کیونکہ اس قوم کے لوگ بڑے غلیظ تھے جنہیں دنیا میں باقی رہنے کا کوئی حق حاصل نہ تھا تاہم صحیح بات یہی ہے کہ یہ خوشخبری اسحاق ار یعقوب (علیہما السلام) کی ولادت کی خوشخبری تھی۔ اس ولادت سے آگے بہت بڑی نسل اور قوم آباد ہونے کا فیصلہ ہو رہا تھا ، جن میں اللہ کے بڑے بڑے جلیل القادر انبیاء (علیہم السلام) بھی شامل ہیں۔ دوسری طرف ایک ناہنجار اور بدبخت قوم کو تبا ہ کیا جا رہا تھا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی مہمان نوازی فرمایا ، ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بشارت لے کر آئے قالوا سلماً انہوں نے کہا سلام اور سلام کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی کہے السلام علیکم حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ آدم (علیہ السلام) کو سکھایا تھا کہ جب فرشتوں کی جماعت میں جائو تو جا کر السلام علیکم کہو اور جو کچھ ………… وہ آپکا اور آپ کی نسل کا قیامت تک کے لئے جواب ہوگا اور جواب وعلیکم السلام یا وعلیکم السلام و رحمتہ اللہ ہے فرشتوں کے سلام کے جواب میں قال سلم ابراہیم نے کہا سلام ہے کہتے ہیں کہ ابراہیم عل یہ ال سلام کا جواب زیادہ بہتر تھا۔ یہ جملہ اسمیہ ہے جو دوام اور استمرار پر دلالت کرتا ہے اور جس کا مطلب ہے کہ ہر لمحہ ، ہر دور اور ہر زمانے میں تم پر سلام ہو۔ ارشاد ہوتا ہے فمالبث ان جآء بعجل حنیذ ابراہیم علیہال سلام کچھ زیادہ دیر نہ ٹھہرے مگر ایک تلا ہوا بچھڑا لے آئے ابراہیم علیہالسلام بڑے مہمان نواز تھے۔ مہمانوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے پر فخر محسوس کرتے تھے۔ مہمان بھی حسین و جمیل نوجوان تھے ، آپ نے ان کی خاطر مدارت کے لئے فوری انتظام کیا۔ فلما رآیدیھم لاتصل الیہ مگر جب آپ نے دیکھا کہ مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں نکرھم آپ نے اس کو اوپر ا سمجھا کہ کیا بات ہے ، مہمان کھانا کیوں نہیں کھاتے ؟ اس دور کا یہ دستور تھا کہ کوئی دشمن اپنے دشمن کا کھانا نہیں کھاتا تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ کسی شخص کا نمک کھا کر اس کے ساتھ دشمین کرنا درست نہیں۔ ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی اسی قسم کا شبہ پیدا ہوا و اوجس منھم خیفۃ اور آپ نے ان کی طرف سے خوف محسوس کیا۔ کہنے لگے ہم تو ان کو نہایت تکریم کے ساتھ کھانا پیش کر رہے ہیں مگر یہ کھانے نہیں۔ اگلی آیت میں یہ بھی آ رہا ہے کہ اس وقت ابراہیم (علیہ السلام) کی زوجہ محترمہ بھی مہمانوں کی خدمت تواضع میں مدد کے لئے قریب ہی کھڑی تھیں۔ شاہ عبدالقادر مفسر قرآن فرماتے ہیں کہ ابراہیم السلام کا خوف میں مبتلا ہونا طبعی امر تھا کیونکہ فرشتے اللہ کی طرف سے عذاب لے کر اور شان غضب اور اتنقام کا مظہر بن کر قوم لوط کی طرف جا رہے تھے اور اس کا اثر ابراہیم (علیہ السلام) کے قلب مبارک پر پڑ رہا تھا۔ جب فرشتوں نے آپ کو خوفزدہ دیکھا قالوا لاتخف کہنے لگے ڈرو نہیں۔ ہم فرشتے ہیں اور کھانا نہیں کھاتے انا ارسلنا الی قوم لوط ہمیں تو قوم لوط کی طرف بھیجا گیا ہے تاکہ انہیں سزا دیں۔ اس موقع پر بعض مفسرین نے کئی باتیں بیان کی ہیں جن کے دلائل قوی نہیں ہیں ، تاہم یہ باتیں تفسیری روایات میں موجود ہیں۔ ان میں سے ایک بات امام ابن کثیر نے بھی اپنی تفسیر میں بیان کی ہے۔ کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے مہمانوں سے کھانا نہ کھانے کی وجہ پوچھی تو وہ کہنے لگے کہ ہم بغیر قیمت اد اکئے کھانا نہیں کھاتے۔ آپ نے فرمایا اچھا پھر اس کھانے کی قیمت ادا کردو۔ فرشتوں نے قیمت دریافت کی تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کھانے کی قیمت یہ ہے کہ کھانا شروع کرنے سے پہلے اللہ کا نام لو یعنی بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کہو اور کھانا کھا چکنے کے بعد الحمد للہ کہو۔ اس پر فرشتوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر کہا کہ اس شخص کا اخلاق اتنا عالی ہے ، جبھی تو اللہ تعالیٰ نے اسے اپنا خلیل بنا رکھا ہے ایک اور عجیب و غریب بات بھی بیان کی جاتی ہے کہ جب فرشتے کھانا کھانے کے لئے تیار نہیں ہو رہے تھے تو جبرائیل (علیہ السلام) نے اس تلے ہوئے بچھڑے کی طرف اشارہ کیا تو اللہ نے اس کو زندہ کردیا اور وہ اٹھ کر صحن میں بندھی ہوئی اپنی ماں کے پاس چلا گیا۔ اس قسم کی باتیں بطور معجزہ تو پیش آسکتی ہیں تاہم ایسے واقعات کی کوئی صحیح روایت موجود نہیں ہے۔ مسئلہ علم غیب اس واقعہ سے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے علم غیب کی نفی بھی ہوتی ہے۔ آپ ان فرشتوں کو انسان سمجھ رہے تھے اور اسی لئے انہیں کھانا بھی پیش کیا۔ پھر جب انہوں نے کھانے کی طرف رغبت نہ کی تو آپ کو خوف بھی محسوس ہوا۔ ظاہر ہے کہ ان کے فرشتے ہونے کا علم آپ کو اس وقت تک نہیں ہوا جب تک کہ آپ کو بتلایا نہیں گیا۔ آگے لوط (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی یہی بات آ رہی ہے انہوں نے بھی فرشتوں کو انسان ہی سمجھا تو نہ صرف ابراہیم (علیہ السلام) بلکہ اللہ کے سارے انبیاء لوازمات میں یہ ہے کہ کوئی بھی مخلوق علیم کال نہیں ہے۔ مخلوق کو اتنا ہی علم ہوتا ہے ، جتنا خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے۔ ذرے ذرے کا علم تو خدا تعالیٰ کا خاصہ ہے واللہ بکل شیء علیم وہی ذات ہے جس کو ہر چیز کا علم ہے سورة یونس میں گزر چکا ہے ” وما یعزب عن ربک من مثقال ذرۃ تیرے رب کے علم سے ایک ذرہ کے برا بر بھی کوئی چیز غائب نہیں۔ ہر چیز علم الٰہی میں بھی ہے اور لوح محفوظ میں بھی درج ہے۔ علم غیب اللہ تعالیٰ کی شان ہے یہ کسی مخلوق کو حاصل نہیں۔ بیٹے اور پوتے کی بشارت جب ابراہیم (علیہ السلام) اور فرشتوں کے درمیان گفتگو ہو رہی تھی ، وامراتہ قآئمۃ تو ابراہیم (علیہ السلام) کی بیوی پاس ہی کھڑی تھی جب اسے معلوم ہوا کہ مہمان انسان نہیں بلکہ فرشتے ہیں فضحلت تو وہ ہنس پڑی۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضرت سارہ اس لئے ہنسی تھیں کہ انہیں قوم لوط جیسی غلیظ قوم کی ہلاکت کا پتہ چل گیا تھا آگے اللہ نے فرمایا فبشرنھا باسحق پھر ہم نے حضرت سارہ کو اسحاق بٹے کی بشارت سنائی۔ حضرت سارہ ابتداء ہی سے پسندیدہ اور اونچے درجے کی خاتون تھیں ، آپ مقربین الٰہی میں سے تھیں۔ آپ کو ساری عمر بچے کی خواہش رہی یہاں تک کہ آپ کی عمر ننانویں سال کی ہوگئی اور اس وقت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر مبارک ایک سو بیس سال کی تھی آپ کی دوسری بیوی حاجرہ سے اسماعیل (علیہ السلام) چودہ برس قبل پیدا ہوئے تھے اور اس وجہ سے بھی حضرت سارہ کو اولاد کی شدید خواہش تھی ، بہرحال اس عمر میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اسحاق (علیہ السلام) کی ولادت کی خوشخبری دی اور ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا بنی اور رسول ہوگا اور پھر فرمایا خوشی در خوشی کی بات یہ ہے کہ ومن ورآء اسحاق یعقوب کہ اسحاق بیٹے کے بعد یعقوب پوتا بھی ہوگا۔ چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) نے ایک سو پچھتر 175 برس عمر پائی اور اس دوران میں انہوں نے یعقوب (علیہ السلام) کی پیدائش کو بھی پا لیا۔ بیٹے کی خوشخبری سن کر حضرت سارہ کو سخت حیرت ہوئی قالت یویلتی الدوانا عجوراً ہائے ! میں بچہ کیسے جنوں گی جب کہ میں تو بوڑھی ہوچکی ہوں اور بانجھ ہوں وھذا یعلی شیخاً اور میرا یہ خاند ابراہیم بھی بوڑھا ہے۔ ساری زندگی بےاولاد گزر گئی ہے ان ھذا لشی عجیب یہ تو بڑی عجیب بات ہے کہ اس عمر میں میرے ہاں بچہ پیدا ہوگا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے اہل بیت قالوا فرشتوں نے کہا اتعجبین من امر اللہ کیا تمہیں اللہ کے حکم پر تعجب ہے۔ وہ تو ہر چیز پر قادر ہے اور اس بوڑھی عمر میں بھی اولاد عطا کرسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا انعام تو یہ ہے کہ رحمت اللہ وبرکتہ علیم تم پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں اھل البیت ابراہیم (علیہ السلام) کے اہل بیت پر۔ اہل بیت اور آل سے ابراہیم (علیہ السلام) کا گھرانہ مراد ہے۔ ہم درود شریف میں بھی پڑھتے ہیں۔ اللھم صل علی محمد و علی ال محمد کما صلیت علی ابراہیم و علی ال ابراہیم فرشتوں کی بات چونکہ حضرت سارہ سے ہو رہی تھی ، اس لئے معلوم ہوا کہ اہل بیت میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیویاں بھی داخل ہیں۔ شیعہ حضرات حضور ﷺ کی بیٹی فاطمہ اور آپ کی اولاد کو اہل بیت میں شامل کرتے ہیں جب کہ حضور کی ازواج کو اس میں داخل نہیں کرتے۔ یہ غلط نظریہ ہے قرآن پاک کی آیتیں بیویوں کے حق میں نازل ہوئیں اور اولاد تو صلبی ہونے کی حیثیت سے ویسے ہی اہل بیت میں داخل ہے۔ بیوی کو اہل بیت سے خارج کرنا گمراہی کی بات ہے تو فرمایا۔ اے اہل بیت ابراہیم ! تم پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہیں۔ انہ حمید مجید بیشک اللہ تعالیٰ تعریفوں والا اور بزرگی والا ہے جس نے ابراہیم (علیہ السلام) کے گھر پر مہربانی فرمائی ، ان کو دین کا علم عطا کیا ، بزرگ دی ، آپ کے خاندان کو وسعت عطا کی اور دنیا کے تمام کمال اس خاندان میں رکھ دیئے۔ نبوت اور رسالت اس گھرانے کا طرئہ امتیاز ہے اللہ تعالیٰ نے اسحاق (علیہ السلام) کی اولاد میں چار ہزار نبی اٹھائے اور پھر اسی خاندان کی دوسری شاخ یعنی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد سے اپنے آخری نبی اور رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مبعوث فرمایا۔ اس لئے فرمایا کہ اس خاندان پر اللہ کی بیشمار رحمتیں اور برکتیں ہیں۔ قوم لوط کے متعلق تشویش فلما لعب عن ابراہیم الروع جب ابراہیم (علیہ السلام) سے خوفزدگی دور ہوگئی وجآء تہ البشری اور انہیں خوشخبری بھی حاصل ہوگئی یجادلنا فی قوم لوط تو وہ قوم لوط کے بارے میں ہمارے ساتھ جھگڑا کرنے لگے۔ یہاں جھگڑے سے مراد حض بات چیت ہے۔ جو ابراہیم علیہالسلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کی اور اپنی عرض پیش کی۔ آپ نے فرشتوں سے کہا کہ آپ قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لئے آئے ہیں مگر ان میں تو مومن بھی موجود ہیں۔ فرمایا کیا تم ایسی بستی کو ہلاک کرو گے۔ جس میں تین سو 300 مومن بھی رہتے ہوں۔ فرشتوں نے کہا ، ہم ایسی بستی کو تباہ نہیں کریں گے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دو سو مومنوں کا ذکر کیا ، پھر تیس مومن حتیٰ کہ فرمایا اگر ایک مومن ہو تو فرشتوں نے کہا ، ہم ایسی بستی کو تباہ نہیں کریں گے۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے دو سو مومنوں کا ذکر کیا ، پھر تیس مومن حتی کہ فرمایا اگر ایک مومن ہو۔ تو فرشتوں نے پھر بھی انکار کیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کہ وہاں تو خود لوط (علیہ السلام) اور ان کی مومنہ بیٹیاں بھی ہیں ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا دراصل ابراہیم (علیہ السلام) کی خواہش تھی کہ کسی طرح عذاب ٹل جائے اور اس قوم کو کچھ مزید مہلت مل جائے۔ ان کی یہ ہمدردی اس لئے تھی ان ابراہیم لحلیم کہ بیشک ابراہیم (علیہ السلام) بڑے برد بار اور تحمل والے تھے۔ آپ اواہ یعنی اہ کرنے والے تھے۔ اس سے آپ کی نرم دلی کی طرف اشارہ ہے کہ کسی کو تکلیف میں دیکھ کر آپ پریشان ہوجاتے تھے۔ سورة ابراہیم میں آپ کی دعا مذکور ہے ” فمن تبعنی فانہ منی جس نے میری اتباع کی وہ میرے گروہ میں شامل ہوگیا۔ ” ومن عصانی فانک غفور رحیم “ اور جس نے میری نافرمانی کی تو تو بخشنے والا مہربان ہے۔ یہ آپ کی نرم دلی کا ثبوت ہے۔ نیز فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) منیب بھی تھے۔ یعنی آپ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رکھنے والے تھے ، آپ ہمیشہ انابت الیٰ اللہ چاہتے تھے ، اسی لئے آپ چاہتے تھے کہ کسی طر ح قوم بچ جائے آپ لوط (علیہ السلام) اور ان کی بچیوں کے متعلق خاص طور پر فکر مند تھے۔ ادھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا یا ابراہیم اعرض عن ھذا اے ابراہیم اس خیال کو چھوڑ دو ۔ انہ قد جآء امرربک اب تیرے رب کا حکم یعنی فصلہ آ چکا ہے وانھم اتیھم عذاب غیر مردود ان کے پاس ایسا عذاب آنے والا ہے جس کو لوٹایا نہیں جاسکتا۔ یہ لوگ سرکشی میں حد سے بڑھ چکے ہیں اور اب ان کے لئے عبرتناک سزا کا وقت آ چکا ہے۔ اب آپ ان کی سفارش نہ کریں اور انہیں عذاب کا مزا چکھنے دیں۔ یہ فرشتوں کا جواب تھا۔
Ayahs 11:77–83

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جب آئے ہمارے بھیجے ہوئے لوط (علیہ السلام) کے پاس ، غمگین ہوگئے وہ ان کی وجہ سے اور ان کا دل تنگ ہوا اور کہنے لگے یہ بہت مشکل دن ہے

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور آئی ان کی قوم ان کے پاس دوڑتی ہوئی اور اس سے پہلے وہ کرتے تھے برائیاں تو کہا لوط (علیہ السلام) نے اے میری قوم کے لوگو ! یہ میری بیٹیاں ہیں ، یہ تمہارے لئے پاک ہیں ۔ ڈرو اللہ سے اور نہ رسوا کرو مجھے مہمانوں کے بارے میں۔ کیا تم میں کوئی سمجھ والا انسان نہیں ہے۔

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

کہنے لگے وہ البتہ تحقیق تو جانتا ہے کہ نہیں ہے ہمیں تیری بیٹیوں میں کوئی رغبت ، اور بیشک تو جانتا ہے جو ہم چاہتے ہیں

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

کہا (لوط (علیہ السلام) نے) کاش اگر میرے اندر قوت ہوتی یا میں پناہ پکڑتا کسی مستحکم کنارے کی طرف

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

کہا (فرشتوں نے) اے لوط (علیہ السلام) ! بیشک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے ہیں ، یہ ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے تیری طرف پس تو اپنے گھر والوں کو لے کر رات کے حصے میں نکل جا ، اور نہ پلٹ کہہ دیکھے تم میں سے کوئی بھی ، مگر تیری بیوی ، بیشک اس کو پہنچنے والی ہے وہی سزا جو ان کو پہنچے گی۔ بیشک اس کو پہنچنے والی ہے وہی سزا جو ان کو پہنچے گی ، بیشک اس کے وعدے کا وقت صبح ہے۔ کیا صبح قریب نہیں ہے

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

پس جب آیا ہمارا حکم کردیا ہم نے ان (بستیوں) کے اوپر والے حصے کو نیچے اور ہم نے برسائے ان پر پتھر کھنگر تہ بہ تہ

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

نشان لگائے ہوئے تیرے رب کے پاس ، اور نہیں تھے وہ ظالموں سے زیادہ دور

ربط آیات گزشتہ آیات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو دی جانے والی بشارت کا ذکر تھا اور پھر لوط (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا تذکرہ تھا ، دراصل مضمون کا یہی حصہ ہے جو سابقہ موضوع کے تسلسل میں ہے بعض سابقہ ابنیاء اور ان کی قوموں کا حال پہلے بیان ہوچکا ہے اور پھر ان کی نافرمانی کی بنا پر ان قوموں پر جو عذاب آیا اس کا ذکر بھی ہوچکا ہے۔ اب لوط (علیہ السلام) کے واقعہ میں …… آپ کی قوم پر عذاب کی کیفیت بیان ہو رہی ہے۔ یہاں پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا ذکر اکٹھا آیا ہے۔ جو فرشتے ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بشارت لائے تھے۔ وہی قوم لوط پر عذاب برپا کرنے پر بھی مامور تھے۔ لوط (علیہ السلام) رشتے میں ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتجیی تھے۔ دونوں حضرات اکٹھے ہی بابل سے آئے تھے۔ راستے میں اللہ تعالیٰ نے لوط (علیہ السلام) کو نبوت اور رسالت عطا فرمائی اور ان کو بحرمیت کے کنارے آباد سدوم ، آمورہ ، دوامہ اور سوابہ وغیرہ بستیوں کے باشندوں کو تبلیغ کرنے پر مامور فرمایا یہ نہایت سرسبز و شاداب علاقہ تھا۔ پانی کفراوانی ، کھیتیاں اور باغات عام تھے۔ اس علاقے کی کل آبادی کم و بیش چھ لاکھ نفوس پر مشتمل تھی لوط (علیہ السلام) نے اس قوم میں لمبا عرصہ گزارا ، اسی قوم میں شادی کی اور پھر دو بچیاں بھی پیدا ہوئیں اور یہیں وہ سن بلوغت کو بھی پہنچیں ان لوگوں کی بدبختی تھی کہ آپ کی دو بچیوں کے علاوہ قوم میں سے کوئی فرد بھی آپ پر ایمان نہ لایا ، حتی کہ بیوی بھی محروم ہی رہی۔ قوم نوح قوم عاد اور ثمود کی طرح اس قوم کی عام بیماری بھی کفر اور شرک ہی تھی۔ لواطت کی بیماری مختلف قوموں میں مختلف اخلاقی بیماریاں بھی موجود رہی ہیں مثلاً قوم عاد میں غرور وتکبر تھا۔ قوم ثمود بھی اسی بیماری میں مبتلا تھی جب کہ شعیب (علیہ السلام) کی قوم ناپ تول میں کمی کی مجرم تھی اسی طرح قوم لوط کی اخلاقی بیماری لواطت تھی۔ یہ لوگ شہوت رانی کے لئے مردوں کی طرف التفات کرتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے ان کو فرمایا ” بل انتم قوم عدون “ (الشعرآئ) تم حد سے گزرنے والے لوگ ہو۔ قضائے شہوت کے لئے جو چیز اللہ نے فطری طور پر مقرر کی ہے ، تم اسے چھوڑ کر غیر فطری چیز کو اختیار کرتے ہو۔ اللہ کا فرمان ہے کہ لواطت کی بیماری سب سے پہلے اسی قوم میں آئی جسے شیطان نے جاری کیا۔ یہ زنا سے بھی بڑا جرم ہے کیونکہ یہ بدفطرتی ہے۔ لوط (علیہ السلام) کے سمجھانے کے باوجود یہ لوگ نہ تو آپ پر ایمان لائے اور نہ ہی اس قبیح حرکت سے باز آئے بلکہ اس پر اصرار کرتے رہے۔ بالآخر دیگر نافرمانوں کی طرح اس قوم پر بھی خدا تعالیٰ کا قہر و غضب نازل ہوا اور ساری قوم ہلاک ہوگئی۔ فرشتوں کی آمد ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس فرشتوں کی آمد کا تذکرہ گزشتہ درس میں ہوچکا ہے۔ ان کا اگلا ہدف لوط (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب نازل کرنا تھا اور آج کی آیات میں اسی بات کا ذکر ہے ارشاد ہوتا ہے ولما جآء ت رسلنا لوطاً جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے۔ یہ فرشتے حسین و جمیل نوجوان لڑکوں کی شکل میں تھے۔ بستی میں آ کر انہوں نے لوط (علیہ السلام) کا پتہ پوچھا کہ ان کے مہمان ہیں جب انکے پاس پہنچے سی بھم تو لوط (علیہ السلام) غمگین ہوگئے وضاق بھم ذرعاً اور ان کا دل تنگ ہوگیا۔ ذرع دراصل بازو کو کہتے ہیں مگر اس کا کنایہ دل پر ہوتا ہے۔ لوط (علیہ السلام) بڑے تنگدل ہوئے کیونکہ آپ جانتے تھے کہ آپ کی قوم کے لوگ بڑے خبیث ہیں اور یہ مہمانوں پر دست درازی کریں گے۔ یہاں بھی وہی ابراہیم (علیہ السلام) والی بات کا اعادہ ہو رہا ہے نہ ابراہیم کو علم ہوسکا اور نہ لوط (علیہ السلام) نے جانا کہ یہ تو فرشتے ہیں۔ وہ تو انہیں انسان سمجھتے رہے۔ اگر آپ کو معلوم ہوتا کہ یہ فرشتے ہیں تو آپ کو غمگین اور تنگدل ہونے کی کیا ضرورت ہے معلوم ہوا کہ اللہ کی نبی غیب دان نہیں ہوتے بہرحال لوط (علیہ السلام) نے قوم کی طرف سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے فرمایا۔ وقال ھذا یوم عصیب یہ تو بڑا مشکل دن آ گیا ہے۔ ابھی آپ اسی سوچ و بچار میں تھے وجآء ہ قومہ یھرعون الیہ کہ آپکی قوم آپ کی طرف دوڑتی ہوئی آئی۔ یھرعون اگرچہ مجہول کا صیغہ ہے مگر معنی معروف ہی ہے کہ وہ لوگ دوڑتے ہوئے آئے۔ نوجوان لڑکوں کی آمد کی خبر ملی تو فوراً برائی کے ارادے سے آگئے اور ان کی حالت یہ تھی ومن قبل کانوا یعملون السیات کہ اس سے پہلے بھی برائیوں کا ارتکاب کرتے تھے۔ سورة العنکبوت میں ہے ” وتاتون فی نادیکم المنکر “ اپنی مجلسوں میں برائیاں کرتے تھے۔ گویا برائی کے کھلے عام ارتکاب یا اس کے علی الاعلان اعتراف کرنے میں بھی انہیں کوئی شرم و حیا نہیں تھی۔ اس خلاف وضع فطری برائی کے علاوہ وہ مسافروں کو لوٹ لیتے تھے ، ان پر پتھر پھینکتے تھے ، کبوتری بازی کے شوقین تھے اور طرح طرح کی فضول حرکتیں کرتے تھے۔ لوط (علیہ السلام) کی پیشکش بائیبل کی روایت کے مطابق قوم کے لوگ لوط (علیہ السلام) کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ جو مہمان تمہارے پاس آئے ہیں انہیں ہمارے حوالے کردو تاکہ ہم اپنی قبیح خواہش کی تکمیل کرسکیں۔ لوط (علیہ السلام) سخت پریشان ہوئے قال یقوم امولاء بناتی کہنے لگے اے میری قوم ! یہ میری بیٹیاں ہیں۔ ھن اطھرلکم یہ تمہارے لئے پاکیزہ ہیں۔ ان سے نکاح کر کے اپنی جنسی خواہش کی تکمیل کرلو کیونکہ اللہ نے انہیں اسی مقصد کے لئے پیدا کیا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اگر بیٹیوں سے لوط (علیہ السلام) کی اپنی بیٹیاں مراد ہیں تو قوم کو برائی اور بےحیائی سے بچانے کے لئے یہ پیشکش بھی درست تھی ، مگر صحیح بات یہ ہے کہ اس سے تو لوط (علیہ السلام) کی اپنی بیٹیاں مراد نہیں تھیں کیونکہ آپ کی تو صرف دو ہی بیٹیاں تھیں اور وہ لوگ بہت زیادہ تعداد میں تھے تو اس پیشکش سے آپ کی مراد یہ تھی کہ اے بدنصیبو ! قوم کی بچیاں میری بچیاں ہیں کیونکہ نبی ساری قوم کا باپ ہوتا ہے۔ اللہ نے ان بچیوں کو قضائے شہوت کے لئے پیدا فرمایا ہے ، لہٰذا تم نکاح کر کے ان سے استفادہ حاصل کرو اور غیر فطری کا م سے باز آ جائو آپ نے فرمایا فاتقوا اللہ پس اللہ سے ڈر جائو اور یہ گندے کا م نہ کرو۔ ولا تخزون فی ضیفی اور مجھے مہمانوں کے بارے میں سوا نہ کرو۔ الیس منکم رجل رشید کیا تم میں کوئی بھی سمجھ بوجھ والا آدمی نہیں ہے ؟ کیا کوئی نیک چلن اور دانا آدمی نہیں ہے ؟ قوم کے ساتھ تکرار قالوا قوم کے لوگ کہنیح لگے لقد علمت مالنا فی بنتک من حق اے لوط (علیہ السلام) ! آپ جانتے ہیں کہ آپ کی بیٹیوں میں ہمارے لئے کوئی رغبت نہیں وانک لتعلم ما نرید اور آپ ہمارے ارادے کو بھی جانتے ہیں۔ ہم تو اپنی خواہش ضرور پوری کریں گے۔ اس پر لوط (علیہ السلام) سخت پریشان ہوگئے اور قال فرمایا لو ان لی بکم قوۃ کاش میرے پاس تمہارے مقابلے کے لئے طاقت ہوتی او اوی الی رکن شدید یا میں مستحکم کنارے کی طرف پناہ پکڑتا چونکہ آپ اس قوم کے فرد نہیں تھے اس لئے نہ کوئی آپ کی برادری تھی اور نہ ہی کوئی اہل ایمان موجود تھے جو آپ کی مدد کرتے ، تو اس لئے آپ نے نہایت اضطراب کی حالت میں اپنی زبان سے فرمایا ، کاش کہ میں تمہارے مقابلے کی طاقت رکھتا۔ محدثین اور مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس وقت لوط (علیہ السلام) کے ذہن میں یہ بات تھی کہ خدانخواستہ اگر ان کے مہمانوں کی تذلیل ہوئی تو وہ مہمان اس قوم کے متعلق کیا نظریہ قائم کریں گے۔ چناچہ یہ بات آپ نے مہمانوں کی دل جوئی کے لئے کی تاکہ وہ سمجھ جائیں کہ ہمارا میزبان ہمارے دفاع کی کوشش کر رہا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک بھی ہے رحم اللہ لوطاً لقد کان یا وی الی رکن شدید اللہ تعالیٰ لوط (علیہ السلام) پر رحم فرمائے ، وہ تو بڑے مضبوط رکن کی طرف پناہ پکڑنے والے تھے ، ظاہر ہے کہ آپ تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی پناہ میں تھے ، مگر یہ کلمات اضطراری حالت میں ادا کر رہے تھے۔ تاہم انہیں اللہ تعالیٰ کے ذات پر مکمل بھروسہ تھا۔ فرشتوں کی طرف سے تسلی سورۃ قمر میں موجود ہے کہ جب پوم کے لوگ ہجوم کر کے آگئے وہ اندر داخل ہونا چاہتے تھے اور لوط (علیہ السلام) ان کو روک رہے تھے تو جبرائیل علیہالسلام نے حضرت لوط (علیہ السلام) کا ہاتھ پکڑ کر انہیں پیچھے ہٹایا حالانکہ آپ کو علم ہی نہیں تھا کہ اس کا مہمان جبرائیل (علیہ السلام) ہے۔ پھر جبرائیل نے اپنا ذرا سا پر ہلایا تو اللہ نے فرمایا ” فطمسنا اعینھم کہ میں نے ان کی آنکھیں ہی مٹا دیں اور وہ سب اندھے ہوگئے۔ مگر اس کے باوجود وہ ٹٹول ٹٹول کر مہمانوں کو تلاش کرتے رہے۔ پھر قالوا فرشتوں نے کہا یلوط انا رسل ربک اے لوط ! بیشک ہم تیرے رب کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں۔ لن یصلوآ الیک یہ آپ تک ہرگز نہیں پہنچ سکیں گے ، لہٰذا آپ پریشان نہ ہوں۔ ساتھ ہی اللہ کا حکم ہوا فاسربا ھلک بقطع من اللیل آپ اپنے گھر والوں کو لے کر رات کے حصے میں چلے جائیں ولا یلتفت منکم احد الا مراتک اور تم میں سے کوئی بھی پیچھے پلٹ کر نہ دیکھے مگر آپ کی بیوی ۔ لوط (علیہ السلام) کی بیوی بائیبل کے بیان کے مطابق لوط (علیہ السلام) کی بیوی بھی آپ کے ساتھ ہی بستی سے نکل کھڑی ہوئی تھی مگر راستے میں اس نے پیچھے پلٹ کر دیکھا اور کہا کہ اللہ نے میری قوم کو اسی وقت مسخ کردیا۔ اتنی بات تھی کہ وہ عورت نمک اور پتھر کا کھمبا بن گئی۔ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ جب آپ کی بیوی نے پیچھے پلٹ کر دیکھا تو اس پر اللہ کی جانب سے ایک پتھر برسا اور وہ ہلاک ہوگئی۔ وہ کافرہ تھی اور درپردہ کافروں کے ساتھ ساز باز کر رکھی تھی۔ اگرچہ وہ لوط (علیہ السلام) کے نکاح میں تھی مگر ایمان نہیں لائی تھی اور منافقوں کی طرح آپ کے ساتھ ہی رہتی تھی۔ یاد رہے کہ اس زمانے میں مومن اور کافرہ کا نکاح درست تھا۔ ہماری امت کے ابتدائی دور میں بھی ایسا نکاح روا تھا مگر بعد میں اسے ممنوع قرار دیدیا گیا۔ اب کسی مومن آدمی کا نکاح روا تھا مگر بعد میں اسے ممنوع قرار دیدیا گیا۔ اب کسی مومن آدمی کا نکاح کسی کافرہ یا مشرکہ سے نہیں ہو سکتا۔ بعض فرماتے ہیں کہ آپ کی بیوی آپ کے ساتھ نکلی ہی نہیں تھی ، تاہم اللہ نے فرمایا انہ مصیبھا ما اصابھم کہ اس عورت پر بھی وہی آفت آنے والی تھی جو باقی قوم کے مقدر میں ہوچکی تھی اور عذاب کی آمد کے متعلق اللہ نے فرمایا ان موعدھم الصبح بیشک ان کے وعدے یعنی عذاب کے نازل ہونے کا وقت صبح مقرر کیا گیا تھا۔ الیس الصبح بقریب کیا صبح قریب نہیں ہے۔ فرشتوں نے لوط (علیہ السلام) کو تسلی دی کہ صبح کے وقت ان کی مہلت پوری ہو جائیگی اور پھر ان پر عذاب نازل ہو ائے گا۔ عذاب الٰہی آ گیا اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق لوط (علیہ السلام) اپنی بچیوں کو لے کر رات کے آخری حصے میں بستی سے نکل گئے اور پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا جب کافی دور چلے گئے تو صبح کا وقت بھی ہوگیا۔ پھر کیا ہوا۔ فلما جآء امرنا جب ہمارے عذاب کا حکم آ گیا جعلنا عالیھا سافلھا تو ہم نے ان بستویں کے اوپر والے حصے کو نیچے اور نیچے والے کو اوپر کردیا ساری بستیوں کو الٹ کر رکھ دیا کیونکہ وہ لوگ کام ہی الٹے کرتے تھے اس کے علاوہ فرمایا وامطرنا علیھا حجارۃ من سجیل ہم نے ان پر پتھروں کی بارش برسائی جو مٹی کے پکے ہوئے کھنگروں کی صورت میں تھے۔ اور منضود یہ پتھر نہ در تہ برس رہے تھے مسومۃ وہ پتھر نشان زدہ بھی تھے عند ربک تیرے پروردگار کی طرف سے ہر پتھر پر اللہ نے نشان لگا دیئے تھے یا نام لکھ دیئے تھے کہ یہ فلاں سردار کے سر پر لگے گا ، یہ فلاں کی پشت میں پیوست ہوجائیگا اور یہ فلاں کا خاتمہ کر دیگا۔ چناچہ صبح کے وقت سارا علاقہ درہم برہم ہوگیا۔ یہ علاقہ بحرمیت کے کنارے واقع ہے اور اس کے پانی میں اللہ تعالیٰ نے ایسی خرابی پیدا کردی کہ ہزاروں سا گزرنے کے باوجود اب تک بھی ٹھیک نہیں ہوا تو اللہ تعالیٰ نے کفر ، شرک اور لواطت کی بیماریوں کی وجہ سے ان کو ایسی مہلک سزا میں مبتلا کیا کہ چھ لاکھ کی آبادی میں سے ایک فرد بھی زندہ نہ بچا ، سوائے لوط (علیہ السلام) اور آپ کی بچیوں کے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وھا ھی من الظلمین ببعید یہ عذاب ظالموں سے کچھ زیادہ دور نہیں۔ اس سے پہلی اقوام عاد ، ثمود ، قوم نوح وغیرہ پر بھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت آگئی۔ یہی بات مکہ اور عرب کے مشرکین کو بھی سمجھائی جا رہی ہے اور بعد میں آنے والوں کو بھی بتائی جا رہی ہے کہ یاد رکھو ! اللہ کی سزا ظالموں سے دور نہیں ہے۔ اگر پہلی قومیں اس قسم کے ظلم کی وجہ سے ہلاک ہوئیں تو ایسی سزا تم پر بھی آسکتی ہے۔ عرب لوگ بحرمیت کے کنارے سے تجارتی سفر کے دوران گزرتے تھے ، شام ، فلسطین یا مصر کے لئے یہی راستہ تھا ، تو ان اجڑی ہوئی بستیوں کو دیکھتے تھے۔ اللہ نے ان کو متنبہ کیا کہ دیکھو ! ان لوگوں نے نافرمانی کی تو صفحہ ہستی سے ناپید ہوگئے ، اگر تم بھی شرک ، کفر یا معاصی پر اصرار کرو گے ، تو خد ا کا عذاب دور نہیں ہے وہ کسی وقت بھی نازل ہو سکتا ہے۔
Ayahs 11:84–86

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو (ہم نے رسول بنا کر بھیجا) انہوں نے کہا ، اے میری قوم کے لوگو ! عبادت کرو اللہ کی ، نہیں ہے تمہارے لئے کوئی معبود اس کے سوا اور نہ کمی کرو ماپ اور تول میں بیشک میں دیکھتا ہوں تم کو بہتری میں اور مجھے خطرہ ہے تم پر گھیرنے والے دن کے عذاب کا

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور اے میری قوم کے لوگو ! پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ ، اور لوگوں سے ان کی چیزوں کو کم نہ کرو۔ اور زمین میں فساد کرتے ہوئے مت چلو

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

اللہ کا چھوڑا ہوا بہتر ہے تمہارے لئے اگر تم ایمان والے ہو اور نہیں ہوں میں تم پر کوئی نگہبان

ربط آیات اس سورة مبارکہ میں تاریخ انبیاء (علیہم السلام) کے ضمن میں حضرات نوح ، ہود ، صالح اور لوط (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کا حال بیان ہوچکا ہے اس بات کا تذکرہ بھی ہوچکا ہے کہ اللہ کے نبیوں نے حق تبلیغ ادا کرنے اور اپنی اپنی قوموں کو سمجھانے میں کتنی محنت اور کوشش کی اور پھر ان قوموں کا ردعمل کیا ہوا اور وہ کس طریقے سے درد ناک عذاب میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوئے۔ اب اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر حضرت شعی (علیہ السلام) کا ذکر ہو رہا ہے۔ آپ کا ذکر اس سورة مبارکہ کے علاوہ سورة اعراف میں بھی بیان ہوچکا ہے۔ سورة شعراء اور بعض دوسری سورتوں میں بھی آپ کے واقعات بیان ہوئے ہیں۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) ارشاد ہوتا ہے والی مدین اخاھم شعیباً اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا و الی مدین کا عطف بھی حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ کے ابتدائی الفاظ و لقد ارسلنا کے ساتھ ہے۔ گویا یہاں پر یہ الفاظ مخذوف ہیں اور پورا مفہوم یہی ہے کہ ہم نے شعیب (علیہ السلام) کو مدین کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ مدین حجاز سے شمال مغرب اور فلسطین سے جنوب کی طرف خلیج عقبہ اور بحر احمر کے کنارے ایک مشہور شہر اور تجارتی منڈی تھا۔ یمن یا مکہ سے شام یا مصر کو جانے والے قافلے یہیں سے گزرتے تھے کیونکہ یہ بستی ایک بڑی شاہراہ پر واقع تھی مدین کی بستی دراصل ایک شخص مدین ہی کے نام پر موسوم تھی جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بیٹے تھے آپ کی بیویاں سارہ اور ہاجرہ تو مشہور ہیں۔ تاہم آپ کی دیگر بیویاں بھی تھیں جن میں سے مدین اپنی ماں قطورا کے بطن میں سے تھے۔ پھر اسی نام سے شہر ، قبیلہ اور قوم بھی مشہور ہوگئی جیسا کہ اس زمانہ میں اکثر ایسا ہوتا تھا۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اسی قوم مدین کے فرد تھے۔ بائیبل میں آپ کا نام حباب اور پیرو بھی ذکر کیا گیا ہے تاہم قرآن نے آپ کا نام شعیب بتایا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ شعیب (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے دو قوموں کی طرف مبعوث فرمایا تھا ایک اصحاب مدین دوسرے ایکہ والے ایکہ جنگل کو کہتے ہیں اور یہ مدین کے قریب ہی واقع تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ ایکہ اور میدن والے ایک ہی قبیلہ کے لوگ تھے تاہم زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ مدین اور ایکہ والے الگ الگ خاندان تھے اور اللہ نے شعیب (علیہ السلام) کو ان دونوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ مئورخین اور مفسرین میں شعیب (علیہ السلام) کی شخصیت کے متعلق قدرے اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ شعیب (علیہ السلام) اللہ کے وہی نبی ہیں جن کے پاس حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دس برس تک قیام کیا تھا اور پھر ان کی بیٹی سے نکاح بھی کیا تھا۔ تاہم بعض کہتے ہیں کہ جن کی خدمت میں موسیٰ (علیہ السلام) رہے تھے ، وہ خود شعیب (علیہ السلام) نہیں تھے بلکہ آپ کے بھتیجے یا بھانجے تھے تاہم مشہو یہی ہے۔ ؎ شعیبی سے کلیمی دو قدم ہے کہ آپ شعیب (علیہ السلام) ہی تھے جو اللہ کے برگزیدہ نبی ہوئے ہیں۔ بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) مصر سے نکل کر جس مقام پر آ کر کنوئیں پر بیٹھے تھے اور پھر آپ نے شعیب (علیہ السلام) کے جانوروں کو پانی پلایا تھا ابتداء میں اسے مقدس مقام خیال کیا جاتا تھا۔ شعیب (علیہ السلام) کی دعوت فرمایا ہم نے شعیب (علیہ السلام) کو مدین کی طرف رسول بنا کر بھیجا ، تو باقی انبیاء (علیہم السلام) کی طرح آپ کی تبلیغ کا مرکزی نقطہ بھی دعوت الی التوحید تھا۔ قال یقوم اعبدواللہ انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ اللہ کی عبادت کرو مالکم من الہ غیرہ کیونکہ اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارا خالق ، مالک ، مربی ، نافع ، ضار ، متصرف فی الامور ، علیمکل ، قادر مطلق صرف اللہ ہے ، لہٰذا عبادت بھی اسی کی روا ہے۔ اس کے علاوہ کسی دوسرے کی عبادت قطعی حرام ، شرک ، اور خدا کے ساتھ بغاوت کے مترادف ہے۔ اگلی آیات میں قوم کا جواب بھی آ رہا ہے کہ انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کی خیر خواہی کا جواب کس بھونڈے طریقے سے دیا۔ بہرحال اس واقعہ میں حضور ﷺ اور آپ کے ماننے والوں کے لئے تسلی کا پہلو بھی ہے اور دوسری طرف توحید کے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے حوصلہ افزائی بھی کی جا رہی ہے ۔ شرک کی بیماری ساری قوموں میں پائی گئی ہے اور آج بھی دنیا کے اکثر و بیشتر لوگوں میں موجود ہے۔ اسی لئے سب سے پہلے اسی بنیادی عقیدے کی درستگی کی سعی کی گئی ہے۔ حضور ﷺ نے بھی مکی زندگی کا اکثر حصہ ایسے ہی حالات میں گزارا۔ آپ بھی لوگوں کو یہی دعوت دیتے قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا اے لوگو ! کہہ دو اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، فلاح پا جائو گے۔ آپ علیہالسلام نے ہر مقام اور ہر مجلس میں یہی بات کی۔ باقی انبیاء کی دعوت بھی یہی تھی۔ کیونکہ جب تک بنیادی عقیدہ توحید درست نہیں ہوگا ، دین کی عمارت قائم نہیں ہو سکتی۔ لہٰذا تمام انبیاء نے مسئلہ توحید کو ہی سمجھانے کے لئے سب سے اولین کوشش کی ہے اللہ کا فرمان ہے ” فمن یعمل من الصلحت وھو مومن فلا کفران لسعیہ “ (الانبیائ) جو کوئی نیک اعمال کرے گا بشرطیکہ ایمان موجود ہو تو اس کی ناقدری نہیں کی جائیگی ۔ غرضیکہ دین اور شریعت کی بنیاد ایمان اور توحید پر قائم ہے۔ اگر ایمان ہی خراب ہے ، اس میں کفر اور شرک کی ملاوٹ ہے تو پھر …کسی نیکی کا کوئی فائدہ نہیں ، بلکہ اس کا نتیجہ ا لٹا ہی نکلے گا اسی لئے شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا ، اے لوگو ! اپنے رب کی عبادت کرو ، اس کے بغیر کوئی بھی مستحق عبادت نہیں۔ ماپ تول میں کمی شروع ہی سے ہر قوم میں کوئی نہ کوئی اخلاقی برائی ہی رہی ہے جس سے اللہ کے نبی روکتے رہے۔ بعض قوموں میخ غرور وتکبر کی بیماری تھی بعض میں فضول خرچی کی اور بعض میں لواطت کی۔ قوم شعیب چونکہ تجارت پیشہ لوگ تھے ، ان کی اخلاقی برائی ماپ تول میں کمی تھی۔ اللہ کے نبی نے ایک طرف تو شرک اور کفر کی بیماری سے روکا اور توحید کا درس دیا ، تو دوسری طرف سے ان کو تجارتی بد اخلاقی سے بھی منع فرمایا ، آپ نے واضح کیا کہ لین دین میں بندوں کے حقوق کا معاملہ ہوتا ہے جس کو پورا کرنا ضروری ہے اور کسی کی حق تلفی بہت برے نتیجے کا باعث بنتی ہے یہ ایسی برائی ہے کہ اس کو اللہ بھی اس وقت تک معاف نہیں کرے گا ، جب تک وہ بندہ راضی نہ ہوجائے اس کی حق تلفی ہوئی ہے۔ تو حضرت شعیب (علیہ السلام) نے قوم کو تلقین فرمائی ولا تنفصوا المکیال والمیزان اے لوگو ! ماپ اور تول میں کمی نہ کرو یعنی تجارتی لین دین میں ڈنڈی نہ مارا کرو۔ ایک موقع پر حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) بازار میں تشریف لے گئے تو آپ نے تاجروں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا 1 ؎ یمعشی التجار قدولیتم امرین ھلکت فیہ الامم السافلۃ قبلکم اے تاجروں کے گروہ ! تمہیں دو چیزوں کا ذمہ دار بنایا گیا ہے جن کی وجہ سے پہلی کئی قومیں تباہ ہوئیں۔ وہ دو چیزیں الکیل والمیزان ماپ اور تول ہیں۔ حضور ﷺ نے جمع کا صیغہ فرمایا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ قوم شعیب سے پہلے بھی کئی قومیں ناپ تول میں کمی کی بیماری میں مبتلا تھیں سورة مطففین میں بھی یہی بات سمجھائی گئی ہے کہ ناپ تول میں کمی کرنے 1 ؎ ترمذی ص 196 والوں کے لئے ہلاک و تباہی ہے۔ سورة الرحمٰن میں ……کرنے کا مقصد ہی یہ بیان فرمایا ہے ” الا تطغوا فی المیزان کہ اس میں تجاوز نہ کرو یعنی ماپ تول میں کمی نہ کرو۔ خود حضور ﷺ جب کسی کو کوئی چیز دیتے تو تولنے والے کو کہہ دیتے ” زن وارجع “ یعنی جب تولو تو کچھ زیادہ ہی ہو ، کمی نہ کرو۔ ماپ تول میں کمی کی بیماری آج کے معاشرے میں بھی موجود ہے۔ لوگ گز اور میٹر کے چکر میں کم ناپتے ہیں۔ بھائو میٹر کے حساب سے کرتے ہیں مگر ناپتے وقت گز استعمال کرتے ہیں جس سے گاہک کو نقصان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ کپڑا ماپتے وقت کھینچ کر ماپتے ہیں۔ گاہک جب کپڑا سینے کی لئے حساب کرتا ہے تو انیس کی بجائے اٹھارہ انچ ہی نکلتا ہے اس طرح کی دھوکے کی کمائی قطعی حرام ہے اور مال حرام کا مقولہ یہ ہے کہ ” مال حرام بود بجائے حرام رفت “ اس قسم کا حرام مال بےبرکت ہوتا ہے ار وہ حرام کاموں میں ہی صرف ہوتا یہ یا تو شادی اور غمی کی باطل اور غلط رسومات کی نذر ہوجاتا ہے یا عیش و عشرت کے کاموں میں ضائع چلا جاتا ہے۔ بیماری میں لگ جاتا ہے اور کبھی کسی مقدمے میں اڑ جاتا ہے بہرحال ماپ تول میں کمی کی بیماری ایک مہلک بیماری ہے جس سے شعیب (علیہ السلام) نے قوم کو منع فرمایا۔ حقوق العباد حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کا اشرادمبارک ہے ات کل ذی حق حقہ ہر حقدار کو اس کا حق ادا کرو۔ یہ بڑا سخت مسئلہ ہے اللہ تعالیٰ اگر چاہے گا تو توبہ کرنے سے کوئی گناہ معاف کر دیگا۔ مگر حقوق العباد کی معافی اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک صاحب حق خود معاف نہیں کرے گا۔ حضور ﷺ وفات سے چند روز قبل آخری بار منبر پر تشریف لائے۔ آپ نے وعظ و نصیحت کی اور حضرت فضل ابن عباس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر فرمایا ، اے لوگو ! اگر کسی نے مجھ سے کوئی حق یعنی کوئی درہم و دینار لینا ہے تو آج لے لو ، کیونکہ قیامت کے دن معاملہ بڑا دشوار ہوگا۔ آپ نے مردوں کے سامنے بھی بیان کیا اور عورتوں کو بھی وعظ کیا۔ بہرحال جو باتیں حضور ﷺ نے سخت تاکید کے ساتھ فرمائی ہیں ان میں حقوق العباد بھی شامل ہے۔ عذاب کا خطرہ فرمایا لوگو ! ماپ تول میں کمی نہ کرو انی ارئکم بخیر میں تمہیں بہتری یعنی آسودہ حالی میں دیکھ رہا ہوں۔ جب تم تجارت کے ذریعے محنت کر کے کمائی کرتے ہو تو اس میں کسی کا حق ضائع نہ کرو۔ ایک طرف تو میں تمہیں اچھی حالت میں دیکھ رہا ہوں ، اور دوسری طرف وانی اخاف علیکم عذاب یوم محیط میں خائف ہوں تم پر گھیرے لینے والے دن کے عذاب سے مجھے ڈر ہے کہ قیامت والے دن تم ایسے عذاب میں مبتلا ہو جائو گے کہ جس سے نکلنا کبھی نصیب نہیں ہوگا۔ گویا کسی کی حق تلفی ایسی بری چیز ہے کہ اس کی وجہ سے انسان دائمی عذاب میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ ” ویل للمطففین “ میں یہی بات سمجھائی گئی ہے کہ کم ماپنے اور تولنے والوں کے لئے ہلاکت اور جہنم کی آگ ہے ، ایسے لوگوں کی عادت یہ ہوتی ہے کہ جب دوسروں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں اور جب آگے دینے کا موقع آتا ہے تو اس میں کمی کردیتے ہیں۔ مثال کے طور پر کوئی چیز چارسیر تول کردی ہے تو وہ پونے چار سیر ہی نکلے گا ، یا تو باٹ ہی کم ہوتے ہیں یا پھر تولنے میں کمی کر جاتے ہیں۔ یہ سب حرام ہے۔ فرمایا میں تمہیں بہتری میں دیکھ رہا ہوں اور مجھے خوف ہے کہ تم گھیر لینے والے دن کے عذاب میں مبتلا نہ ہو جائو۔ فسادفی الارض تو شعیب (علیہ السلام) نے قوم کو خطاب فرمایا ویقوم اوفوا المکیال والمیزان بالقسط اے میری قوم کے لوگو ! پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ ، کسی پر ظلم و زیادتی نہ کرو ولاتجسوا الناس اشیآء ھم اور نہ کم کرو لوگوں سے ان کی چیز ولاتعثوا فی الارض مفسدین اور زمین میں فساد برپا کرتے ہوئے مت چلو ، شرک ، کفر ، بدعات ، رسومات باطلہ یہ سب فساد فی الارض ہے اور اللہ تعالیٰ کو یہ باتیں ہرگز پسند نہیں۔ فساد کے برخلاف اصلاح کی بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید کو مانا جائے ، قانون شریعت کی پابندی کی جائے ، کھیل تماشے ، حق تلفی ، حرام کاری ، جواء بازی ، رشوت خوری ، اور فضول رسومات سے اجتناب کیا جائے۔ چوری ڈاکہ ، دنگا فساد زنا ، قتل وغیرہ زمین میں فساد کا باعث بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان تو یہ ہے ” واللہ لایحب الفساد “ کہ وہ فتنہ و فتار کو پسند نہیں فرماتا۔ اللہ تعالیٰ تو عدل و انصاف اور حق رسی کو پسند کرتا ہے۔ مگر آج کل تو ہر جگہ ناانصافی کا دور دورا ہے کسی عدالت ، تھا نے ، دفتر یا ادارے میں انصاف مشکل سے ہی ملے گا۔ بقیت اللہ ہی بہتر ہے آگے شعیب اللہ تعالیٰ نے اپنی قوم کو ایک بہت بڑا اصول بتلایا ہے اے میری قوم ! بقیت اللہ خیرلکم اللہ کا باقی چھوڑا ہوا ہی تمہارے لئے بہتر ہے ان کنتم مومنین اگر تم ایماندار ہو۔ اللہ تعالیٰ کے بقیہ کا مطلب یہ ہے کہ اس کے دیئے ہوئے مال میں تمام حقوق منجملہ فرائض ، واجبات وغیرہ ادا کرنے کے بعد جو کچھ باقی بچ رہے اسی میں تمہارے لئے بہتری ہے ، وہی بابرکت ہے۔ اس کے علاوہ اگر حقوق ادا نہیں کرو گے یا مال کو ناجائز طریقے سے حاصل کرو گے ، تو وہ حرام ہوگا اور بالآخر قابل مئواخذہ ہوگا۔ اگرچہ بظاہر زیادہ مال میں زیادہ فائدہ نظر آئے گا مگر حقیقت اس کے برخلاف ہے ایسا مال حاصل کر کے یا مال کے حقوق ادا نہ کر کے انسان سخت خسارہ اٹھاتا ہے ، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ صحیح اور جائز حق ہی اپنے پاس رکھو اور کسی دوسرے شخص کا مال ناجائز طریقے سے ھکانے کی کوشش نہ کرو۔ اگر کوئی شخص زکواۃ ادا نہیں کرتا۔ قربانی نہیں کرتا ، صدقہ فطر ادا نہیں کرتا ، اقرباء یتیموں ار مسکینوں کا حق نہیں دیتا تو ایسا مال بےبرکت ہوگا۔ بابرکت مال وہی ہوگا جس میں کسی دوسرے کا حق متعلق نہ ہو۔ فرمایا دیکھو ! وما انا علیکم بحفیظ میں تم پر کوئی نگہبان نہیں ہوں۔ میں تو نصیحت ہی کرتا ہوں ، تم سے زبردستی عمل نہیں کرا سکتا لہذا میں تمہارے عمل کا ذمہ دار نہیں ہوں اس کی جوابدہی تمہیں خود ہی کرنا ہوگا۔ میں نے خیر خواہی کا حق ادا کردیا ہے اور ہر نبی ایسا ہی کرتا ہے۔