11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 11:36–39

وَ اُوْحِیَ اِلٰى نُوْحٍ اَنَّهٗ لَنْ یُّؤْمِنَ مِنْ قَوْمِكَ اِلَّا مَنْ قَدْ اٰمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوْا یَفْعَلُوْنَۚۖ Open ayah 11:36 in the Quran reader

اور وحی نازل کی گئی نوح (علیہ السلام) کی طرف کہ بیشک ہرگز نہیں ایمان لائیں گے آپ کی قوم میں سے مگر وہ جو ایمان لا چکے ہیں۔ پس آپ غمگین نہ ہوں ان باتوں پر جو کچھ یہ کر رہے ہیں

وَ اصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا وَ وَحْیِنَا وَ لَا تُخَاطِبْنِیْ فِی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا١ۚ اِنَّهُمْ مُّغْرَقُوْنَ Open ayah 11:37 in the Quran reader

اور تیار کر کشتی ہمارے سامنے اور ہمارے حکم سے۔ اور میرے ساتھ مخاطبت نہ کرنا ان لوگوں کے بارے میں جنہوں نے ظلم کیا۔ بیشک وہ غرق کیے جائیں گے

وَ یَصْنَعُ الْفُلْكَ١۫ وَ كُلَّمَا مَرَّ عَلَیْهِ مَلَاٌ مِّنْ قَوْمِهٖ سَخِرُوْا مِنْهُ١ؕ قَالَ اِنْ تَسْخَرُوْا مِنَّا فَاِنَّا نَسْخَرُ مِنْكُمْ كَمَا تَسْخَرُوْنَؕ Open ayah 11:38 in the Quran reader

اور وہ (نوح (علیہ السلام) بناتے تھے کشتی اور جب بھی گزرتا تھا ان پر کوئی گروہ ان کی قوم کا تو ٹھٹا کرتے تھے ان کے ساتھ ۔ کہا نوح (علیہ السلام) نے کہ اگر تم ٹھٹھا کرتے ہو ہمارے ساتھ ، پس بیشک ہم بھی تمہاری ہنسی اڑائیں گے جیسا کہ تم ہنسی اڑاتے ہو

فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ یَحِلُّ عَلَیْهِ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 11:39 in the Quran reader

پس عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس آتا ہے رسوا کرنے والا عذاب اور کس پر اترتا ہے ہمیشہ رہنے والا عذاب

وقت انتقام گذشتہ درس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے وعظ کے جواب میں قوم کا ردعمل بیان ہوچکا ہے ک انہوں نے اس وعظ نصیحت کو جھگڑے سے تعبیر کیا اور عذاب کا مطالبہ کیا ، نوح (علیہ السلام) نے اس بات کو جواب بھی دیا۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے عدل کے پیش نظر قوم نوح سے انتقام لینے کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ حالات خراب ہوچکے تھے۔ قوم کے لوگ نوح (علیہ السلام) کو سخت اذیتیں پہنچا رہے تھے اس کے متعلق تورات میں بھی آتا ہے کہ نوح (علیہ السلام) اللہ کے ساتھ ساتھ چلتے رہے یعنی اللہ کے حکم کے مطابق فریضہ تبلیغ ادا کرتے رہے مگر زمین ظلم سے بھر چکی تھی اور قوم سے انتقام لینے کا وقت آگیا تھا (آیت) ” واوحی الی نوح “ چناچہ وحی کی گئی نوح (علیہ السلام) کی طرف اور ان پر واضح کردیا گیا (آیت) ” انہ لن یومن من قومک “ کہ آپ کی قوم میں سے کوئی فرد بھی ایمان نہیں لائے گا (آیت) ” الا من قد امن “ مگر وہ جو ایمان لا چکے ہیں۔ اور پھر آپ کی کارگزاری کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی بھی دی۔ نوح (علیہ السلام) کے ساتھ زیادتی جب بھی نوح (علیہ السلام) اپنی قوم کو خدا کا پیغام پہنچاتے تو وہ آپ کو مارنا پیٹنا شروع کردیتے اور آپ کو سخت اذیت پہچاتے مثلا آپ کسی مجلس میں وعظ کر رہے ہیں تو اتنے میں ایک شخص اٹھ کر آپ کا گلا دبا دیتا ہے اور آپ بیہوش ہوجاتے اس قسم کے واقعات امام بغوی (رح) اور صاحب تفسیر مظہری وغیرہ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے حوالے سے ذکر کیے ہیں۔ بعض اوقات آپ کو ادھ موا کر کے کسی نمدے میں لپیٹ کر کہیں پھینک دیتے اور سمجھتے کہ اب آپ کی جان نہیں بچ سکے گی مگر دوسرے دن وہ پھر نوح (علیہ السلام) کو اللہ کا پیغام سناتے ہوئے پاتے۔ ایک دفعہ لاٹھی کے سہارے چلنے والے ایک بوڑھے آدمی نے اپنے جوان بیٹے سے کہا کہ اس بوڑھے دیوانے (نوح (علیہ السلام) کی باتوں میں نہ آنا۔ بیٹے نے وہی لاٹھی باپ کے ہاتھ سے لے کر آپ کے سر پر اس زور سے ماری کہ آپ لہولہان ہوگئے اور بیہوش ہو کر گر پڑے بڑی بڑی تکالیف برداشت کرنے کے بعد جب نوح (علیہ السلام) ہوش میں آتے تو یہی دعا کرتے ” رب اغفرلقومی فانھم لا یعلمون “ خداوند کریم ! میری اس قوم کو معاف کر دے کہ یہ نادان ہیں۔ نوح (علیہ السلام) کی دعا پھر جب حالات زیادہ سنگین ہوگئے ، زمین ظلم سے بھر گئی اور کل اسی یا بیاسی افراد کے علاوہ کسی دیگر فرد کے ایمان لانے کی کوئی امید باقی نہ رہی اور اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اس بات کی خبر بھی دے دی ، تو نوح (علیہ السلام) کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا (آیت) ” فلا تبتئس بما کانوا یفعلون “ یہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں آپ اس پر غمگین نہ ہوں۔ اب عدل کا وقت آچکا ہے اور ان سے انتقام لیا جائے گا اس پر نوح (علیہ السلام) نے بھی دعا کی (آیت) ” انی مغلوب فانتصر “ (القمر) اے پروردگار میں مغلوب ہوچکا ہوں ، لہٰذا میری مدد فرما۔ سورة نوح میں آپ کی دعا مذکور ہے (آیت) ” رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا “ پروردگار ! زمین پر چلنے پھرنے والے کسی کافر کو زندہ نہ چھوڑ کیونکہ ان میں اب کوئی ایمان لانے والا نہیں ہے۔ بہرحال یہ دعا نوح (علیہ السلام) نے اس وقت کی جب اللہ نے بذریعہ وحی بتا دیا کہ اب کوئی ایمان نہیں لائیگا۔ کشتی کے تیاری اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دیا (آیت) ” واصنع الفلک باعیننا ووحینا “ ہماری آنکھوں کے سامنے اور ہمارے حکم سے کشتی تیار کرو اس کشتی کی بہت سی تفصیلات تورات اور قرآن پاک کی تفاسیر میں ملتی ہیں۔ یہ کشتی اتنی بڑی تھی کہ تمام مومن مرد وزن اور دیگر جاندار اس میں سوار ہوگئے۔ تورات کے مطابق نوح (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ گوکھر کی لکڑی سے کشتی تیار کرو۔ عام تفاسیر والے ساگو دان ذکر کرتے ہیں جو کہ بہت مضبوط لکڑی ہوتی ہے۔ ممکن ہے گوکھر اور ساگوان ایک ہی درخت کے دو مختلف زبانوں میں ہوں۔ محققین کی تحقیق کے مطابق کشتی 525 فٹ لمبی ، تقریبا 87 ، 88 فٹ چوڑی اور ساڑھے باون فٹ اونچی تھی ، اس کی تین منزلیں تھیں۔ ایک منزل پر جانور تھے ، دوسری پر سامان اور تیسری منزل پر انسان سوار ہوئے۔ لمائی چوڑائی کے لحاظ سے یہ کشتی اتنی بڑی تھی جتنا بڑا پاکستانی بحری جہاز سفینہ حجاج تھا یہ جہاز جرمنی کا ساختہ تھا اور جرمن فوج اسے نقل وحمل کے لیے استعمال کرتی رہی پاکستان کی تحویل میں آیاتو یہ حاجیوں کی نقل وحمل کے لیے کراچی اور جدہ کے درمیان چلتا رہا۔ کچھ عرصہ قبل اسے ناقابل سروس قرار دے کر ضائع کردیا گیا۔ اس جہاز کی گیارہ منزلیں تھیں جب کہ کشتی نوح صرف تین منزلوں پر مشتمل تھی۔ بہرحال اس کشتی میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق کھڑکیاں اور روشن دان بھی بتائے گئے۔ اس دنیا میں استعمال ہونے والی بعض چیزوں کی ابتداء وہی الٰہی سے ہوئی۔ اللہ نے کسی شخص کے ذہن میں کوئی بات ڈال دی ، ایک ڈھانچہ تیار ہوگیا۔ اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں ترقی ہوتی گئی۔ آج کے سب ترقی یافتہ دور میں نقل وحمل کے لیے جتنی بھی سواریاں زیر استعمال ہیں ان سب کی بنیاد پہیے پر ہے۔ چناچہ اس آدمی کا بہت بڑا کمال ہے جس نے سب سے پہلے پہیہ ایجاد کیا۔ تفسیر روایات میں آتا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کی کشتی سو سال میں تیار ہوئی۔ بعض کہتے ہیں اس پر تیس سال کا عرصہ صرف ہوا عام مشہور روایت یہ ہے کہ یہ کشتی دو سال کے عرصہ میں تیار ہوگئی۔ بہرحال یہ کشتی تیار ہوگئی اور پھر اس کے ساتھ دو واقعات پیش آئے جن کا ذکر آگے آئے گا اور جو اللہ تعالیٰ کے علم اور حکمت کے مطابق تھے۔ اس کشتی کو اللہ تعالیٰ نے رہتی دنیا تک باعث عبرت بھی بنا دیا اور یہ ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ ایمان اور اعمال صالحہ بطور کشتی شیخ ابن عربی فرماتے ہیں کہ انسان کا جسم مادیت سے پر ہے اور یہ جسم مادیت کے طوفان میں گھرا ہوا ہے۔ جب مادی جسم ختم ہوجائے گا۔ تو پھر اس کی روح کو منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے ایمان اور اعمال کی کشتی کی ضرورت پڑیگی۔ حضرت ادریس (علیہ السلام) کے ملفوظات میں بھی یہ بات آتی ہے کہ اے لوگو ! ساری زمین پانی ہے۔ بالآخر انسانی جسم ویران ہوجائے گا لہٰذا اس وقت سے پہلے پہلے ایمان اور اعمال صالحہ کی کشتی تیار کرلو تا کہ اس پر سوار ہو کر کامیابی کی منزل تک پہنچ سکو۔ اگر تمہارے پاس یہ کشتی نہ ہو تو مادیت کے دلدل اور طوفان میں پھنس کر ہمیشہ کے لیے تباہ ہوجائو گے۔ لہٰذا ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اپنے لیے ایمان اور اعمال صالحہ کی کشتی تیار کرے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ میرے اہل بیت کی مثال کشتی جیسی ہے اور میرے صحابہ رج کی مثال ستاروں جیسی ہے۔ ان دونوں گروہوں کو نظر انداز نہ کرو۔ اہل بیت کی کشتی پر سوار ہوجائو۔ یعنی اہل بیت کے ساتھ مل جائو جیسا کہ نوح (علیہ السلام) کی امت کے مومن آپ کے ساتھ کشتی میں سوار ہر کر مل گئے تھے۔ جس طرح تاریکی میں ستاروں سے راہنمائی حاصل کرو۔ یہ بات امام رازی (رح) نے لکھی ہے۔ غرضیکہ انسان کو چاہیے کہ وہ ایمان اور اعمال صالحہ کی کشتی تیار کر کے اس پر سوار ہوجائے جسم تو ایک دن خراب ہوجائے گا پھر اگر یہ کشتی ہوگی تو اس طوفان سے پار ہو کر ہمیشہ کے لیے کامیاب ہوجائے گا۔ سفارش کی ممانعت نوح (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ ہمارے حکم سے ہمارے سامنے کشتی تیار کرو (آیت) ” ولا تخاطبنی فی الذین ظلموا “ اور ظلم کرنے والوں کے بارے میں مجے سے بات نہ کرنا۔ جن لوگوں نے آپ کی نبوت و رسالت کو تسلیم کرنے اور آپ کی اطاعت سے انکار کردیا ہے ، وہ ظالم لوگ ہیں کفر وشرک میں مبتلا ہیں ، آپ ان کی بہتری کے لیے مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا۔ اس کی تفصیلات آگے آرہی ہیں۔ جب قوم لوط پر عذاب کا وقت آیا تو ابراہیم (علیہ السلام) کی خواہش تھی کہ یہ عذاب کسی طرح ٹل جائے مگر اللہ نے فرمایا (آیت) ” یابرھیم اعرض عن ھذا “ اے ابراہیم (علیہ السلام) ! اس بات کو چھوڑ دیں (آیت) ” انہ قد جاء امر ربک “ آپ کے رب کا حکم آچکا ہے (آیت) ” وانھم اتیھم عذاب غیر مردود “ (ہود) ان کے پاس نہ ٹلنے والا عذاب آچکا ہے اور (آیت) ” انھم مغرقون “ یہ غرق ہوجانے والے ہیں۔ نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ٹھٹھہ پھر اللہ کے حکم مطابق (آیت) ” ویصنع الفلک “ نوح (علیہ السلام) کشتی بنا رہے تھے اور اس دوران (آیت) ” وکلما مر علیہ ملا من قومہ “ جب بھی آپ کی قوم کے سردار آپ کے پاس سے گزرتے تھے (آیت) ” سخروا منہ “ تو نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ٹھٹھا کرتے تھے ، کہتے ، نبوت کے دعویٰ کے بعد اب یہ بڑھئی بن گیا ہے۔ ابن عربی (رح) اور بعض دیگر حضرات فرماتے ہیں کہ جس طرح قوم نوح کے لوگ آپ کے ساتھ ٹھٹھا کرتے تھے اسی طرح ہر زمانے کے شاطر لوگ ایسا ہی کرتے ہیں کسی داڑھی والے آدمی کو دیکھتے ہیں تو مغرب زدہ لوگ طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں۔ کسی نے ٹخنوں سے اوپر سنت کے مطابق پاجامہ پہن لیا تو اسے مذاق کرتے ہیں۔ کسی نے شادی سنت کے مطابق کی ، خرافات سے بچا رہا تو بھی تضیحک کا نشانہ بنتا ہے۔ لیکن یہ سب ناکامی کے ذرائع ہیں۔ غرضیکہ نوح (علیہ السلام) قوم کو عذاب الٰہی سے بچانے کی کوشش کرتے تھے مگر قوم ان کی ہنسی اڑاتی تھی۔ مکذبین کا انجام جب منکرین کی طرف سے ٹھٹھا حد سے بڑھ گیا (آیت) ” قال ان تسخروا منا “ نوح (علیہ السلام) نے کہا ، اگر آج تم ہمارے ساتھ ٹھٹھہ کرتے ہو ، (آیت) ” فانا نسخر منکم کما تسخرون “ تو ہم بھی تمہاری اسی طرح ہنسی اڑائیں گے جس طرح تم ہنسی اڑا رہے ہو۔ اور پھر تمہیں پتہ چل جائے گا کہ کفر اور شرک کا کیا انجام ہوتا ہے۔ مشرکین مکہ کے متعلق بھی آتا ہے کہ جب سردارانِ قوم کسی غریب ایماندار کے پاس سے گزرتے (آیت) ” واذا مروابھم یتغامزون “ (المطففین) تو ایک دوسرے کو کن انکھیوں سے اشارے کرتے اور ہنستے ہوئے نکل جاتے ، کہتے دیکھو یہ جنت کے وارث جار ہے ہیں جن کے پاس نہ پہننے کو کپڑا ہے ، نہ رہنے کو مکان اور نہ معاش کے لیے کوئی کاروبار۔ اللہ نے فرمایا (آیت) ” فالیوم الذین امنوا من الکفار یضحکون “ (المطففین) ایک دن آئے گا جب ایمان والے کافروں کی ہنسی اڑائیں گے۔ تو فرمایا کہ اگر تم ہمارے ساتھ ٹھٹھا کرتے ہو (آیت) ” فسوف تعلمون “ تم عنقریب جان لو گے (آیت) ” من یاتیہ عذاب یخزیہ “ کہ کس کے پاس رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے (آیت) ” ویحل علیہ عذاب مقیم “ اور کس پر دائمی عذاب نازل ہوتا ہے۔ وہ وقت آنے والا ہے اور تمہیں جلدی ہی اس کا پتہ چل جائے گا۔
Ayahs 11:40–43

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَمْرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوْرُ١ۙ قُلْنَا احْمِلْ فِیْهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَ اَهْلَكَ اِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَیْهِ الْقَوْلُ وَ مَنْ اٰمَنَ١ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلٌ Open ayah 11:40 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب آیا ہمارا حکم اور تنور نے جوش مارا تو ہم نے کہا (نوح (علیہ السلام) سے) چڑھا لے اس (کشتی) میں ہر قسم کے جوڑے کو اور اپنے گھر والوں کو مگر وہ کہ جن پر پہلے بات ہوچکی ہے۔ اور (ان کو بھی) جو ایمان لائے اور نہیں ایمان لائے اس کے ساتھ مگر بہت تھوڑے لوگ

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

اور فرمایا اس نے سوار ہو جائو اس کے اندر اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ ہی ہے اس کا چلنا اور اس کا لنگر انداز ہونا بیشک میرا پروردگار بہت بخشش کرنے والا اور از حد مہربان ہے

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ کشتی ان کو لے کر چل رہی تھی۔ موجوں کے اندر جو پہاڑوں جیسی تھیں۔ اور پکارا نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو اور تھا وہ دور کنارے پر۔ فرمایا اے بیٹے ! سوار ہو جائو ہمارے ساتھ اور نہ ہو کفر کرنے والوں کے ساتھ

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

تو کہا اس نے کہ میں پناہ پکڑوں گا اس پہاڑ کی طرف جو مجھے بچالے گا پانی میں ڈوبنے سے۔ فرمایا (نوح (علیہ السلام) نے ) نہیں ہے کوئی بچانے والا آج کے دن اللہ کے حکم سے مگر وہ جس پر رحم کیا اس نے۔ اور حائل ہوگئی ان کے درمیان ایک موج ، پس تھا وہ ڈوبنے والوں میں

ربط آیات حضرت نوح (علیہ السلام) نے طویل عرصہ تک قوم کو تبلیغ کی مگر ان کے مسلسل انکار کی وجہ سے مایوس ہوگئے۔ پھر آپ کو وحی الٰہی کے ذریعے پتہ چل گیا کہ اب مزید کوئی فرد ایمان نہیں لائے گا ، لہٰذا آپ نے اللہ کی بارگاہ میں قوم کے خلاف دعا کی۔ پھر اللہ کے حکم سے آپ نے کشتی تیار کی۔ اس دوران نوح (علیہ السلام) قوم کو ظلم و زیادتی سے منع کرتے رہے اور ان کو آگاہ کرتے تھے کہ نافرمانی سے باز آجائو اللہ کے عدل و انصاف اور انتقام کا وقت آچکا ہے اور اب تم بچ نہیں سکو گے۔ طوفان کی علامت ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” حتی اذا جاء امرنا “ یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا کہ اس قوم کو اب سزا ہی دینی ہے اور کسی کافر کو زندہ نہیں چھوڑنا تو پھر اس عذاب الٰہی کی علامت بھی ظاہر ہوگئی (آیت) ” وفارالتنور “ اور تنور نے جو ش مارا۔ اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کو آگاہ کر رکھا تھا کہ اس کے عذاب کی نشانی یہ ہے کہ فلاں مقام سے پانی ابلنے لگے گا ، جو بڑھتے بڑھتے پوری قوم کو اپنی لپیٹ میں لے کر انہیں غرق کردیگا۔ عربی ، فارسی ، اردو ، پنچابی وغیرہ میں تنور اس بھٹی کو کہتے ہیں جس میں آگ جلا کر روٹیاں پکائی جاتی ہیں۔ بعض مفسرین اس سے عام روٹی پکانے والا تنور ہی مراد لیتے ہیں۔ جب کہ بعض فرماتے ہیں حضرت نوح (علیہ السلام) ک گھر میں ایک تنور تھا جس میں حضرت حوا روٹیاں پکایا کرتی تھیں اور اللہ تعالیٰ نے اسی تنور کو عذاب کی علامت قرار دیا تھا کہ جب اس تنور سے پانی ابلنے لگے تو سمجھ لینا کہ اللہ کا عذاب آگیا ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ تنور کے جوش مارنے سے مراد طلوع فجر ہے کیونکہ عام طور پر اسی وقت اکثر قوموں پر عذاب نازل ہوا ہے جب قوم لوط پر عذاب آیا تو صبح کا وقت ہی تھا آگے اسی سورة میں آرہا ہے (آیت) ” ان موعدھم الصبح الیس الصبح بقریب “ ان کا وعدے کا وقت صبح ہے اور کیا صبح اب قریب نہیں ہے ؟ اسی طرح قوم عاد اور ثمود پر بھی صبح کے وقت ہی عذاب آیا ۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ تنور سے مراد سطح ارض ہے۔ اللہ نے فرمایا تھا کہ جب سطح ارض سے پانی پھوٹنے لگے تو سمجھ لینا کہ اب طوفان آگیا ہے۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ اکثر مفسرین نے اسی روایت کو اختیار کیا ہے۔ بہرحال تنور سے مراد خاص تنور ہو ، کوئی خاص چشمہ ہو یا سطح ارض ہو ، مراد یہی ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے عذاب کی آمد کے لیے جو بھی نشانی مقرر کی تھی ، اس سے پانی ابلنے لگا۔ اور اسی وقت کے لیے نوح (علیہ السلام) کو اللہ کا حکم تھا کہ جب یہ نشانی ظاہر ہوجائے تو فورا کشتی میں سوار ہوجانا۔ ہر قسم کے جانور جب عذاب کی علامت ظاہر ہوگئی تو اللہ نے فرمایا (آیت) ” قلنا احمل فیھا من کل زوجین اثنین “ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو فرمایا کہ اس کشتی میں ہر قسم کے جانوروں کا جوڑا جوڑا سوار کرلو۔ بائیبل کے بیان کے مطابق اس سے روئے زمین کے تمام جانور مراد ہیں مگر ایسا نہیں ہے نوح (علیہ السلام) نے وہ مویشی وغیرہ اپنے ساتھ سوار کیے تھے جو عام طور پر پالے جاتے ہیں اور بذریعہ تناسل پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں اونٹ ، بھیڑ بکری ، بلی ، کتا وغیرہ اور بعض پرندے شامل ہیں۔ ا لبتہ ان میں کیڑے مکوڑے شامل نہیں تھے۔ جن کی پیدائش بغیر سلسلہ تولید کے ہوتی ہے۔ بہرحال جن کو طوفان سے بچانا مقصود تھا ، ان انسانوں اور جانوروں کشتی پر سوار کرالیا گیا اور باقی طوفان میں غرق ہوگئے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان تو للہ کی نافرمانی کی وجہ سے ہلاک ہوئے مگر جانور ، چرند ، پرند وغیرہ کس جرم کی پاداش میں ہلاک کردیئے گئے۔ وہ تو بیچارے بےگناہ تھے۔ اس کے جواب میں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جانوروں کی ہلاکت سزا کے طور پر نہیں بلکہ طبعی تھی اللہ تعالیٰ نے جانوروں کو جس مقصد کے لیے پیدا کیا ہے اور اس مقصد کی تکمیل کے بعد ختم ہوجاتے ہیں اور یہ ان کی طبعی موت ہوتی ہے دنیا میں بھیڑ بکری گائے بیل وغیرہ ہر روز کتنی بڑی تعداد میں ہلاک ہوتے ہیں۔ اگر بنظر غور دیکھا جائے تو آج کی دنیا میں جنتے جانور ایک دن میں اپنی طبعی موت کو پہنچتے ہیں اتنے جانور طوفان نوح میں بھی ہلاک نہیں ہوئے ہوں گے بہرحال جانوروں کی موت طبعی تھی جب کہ انسانوں کی ہلاکت ان کے اعمال بد کی پاداش میں واقع ہوئی۔ فرمایا ہر جانور کا ایک ایک جوڑا اس کشتی میں سوار کرلو۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ اس کشتی کے اوپر تلے تین منزلیں تھیں نچلے حصے میں جانور تھے ، درمیانے حصے میں انسان اور ان کا سامان تھا اور اوپر والے حصے میں پرندے تھے۔ بعض فرماتے ہیں کہ انسان اوپر والی منزل میں تھے ، درمیان میں سامان تھا اور نچلے حصے میں جانور وغیرہ تھے۔ گھر والے اہل ایمان فرمایا ایک تو جانوروں کو سوار کرلو (آیت) ” واھلک الا من سبق علیہ القول “ اور اپنے گھر والوں کو بھی سوار کرلو سوائے ان کے جن کے متعلق بات ہوچکی ہے کہ ان کی ہلاکت لازمی ہے۔ ان افراد خانہ میں ایک بیوی اور ایک بیٹا کنعان شامل ہیں۔ اس کے متعلق سعدی صاحب کہتے ہیں طبع ناموزون بود پیغمبر زادگی قدر نہ افزود یعنی کنعان کی طبیعت ناموزوں تھی اور اس نے پیغمبر زادہ ہونے کی بھی کوئی اقدر نہ کی۔ بعض کہتے ہیں کہ کنعان نوح (علیہ السلام) کا حقیقی بیٹا نہیں تھا۔ بلکہ آپ کی بیوی کا بیٹا تھا مگر اکثر کہتے ہیں کہ یہ آپ کا حقیقی بیٹا ہی تھا مگر کافرہ بیوی کے بطن سے تھا۔ سورة مریم میں موجود ہے (آیت) ” کفروا امراۃ نوح ومراۃ لوط “ یعنی نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) دونوں کی بیویاں کافرہ تھیں اور اللہ نے ان کو جہنم رسید کیا ، اسی طرھ بیٹا بھی نافرمان تھا اور کافروں سے ملا ہوا تھا ، اسی لیے فرمایا کہ اپنے گھر والوں کو سوار کرلیں سوائے بیوی اور بیٹے کے جن کے متعلق پہلے فیصلہ ہوچکا ہے کہ وہ غرق ہی ہوں گے۔ ان کے علاوہ (آیت) ” ومن امن “ ان کو بھی کشتی میں سوار کرلیں جو ایمان لا چکے ہیں۔ یعنی تمام اہل ایمان مرد وزن کو بھی کشتی میں بٹھالیں جن کی تعداد بعض روایات کے مطابق اسی یا بیاسی تھی۔ فرمایا (آیت) ” وما امن معہ الا قلیل “ اور نہیں ایمان لائے تھے نوح (علیہ السلام) کے ساتھ مگر تھوڑے آدمی۔ اہل ایمان میں نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹے حام ، سام اور یافث اور ان کی بیویاں بھی تھیں۔ ان کے علاوہ نوح (علیہ السلام) کی ایک بیوی بھی تھی جو ایمان لا چکی تھی۔ بعض فرماتے ہیں کہ کشتی میں سوار تمام افراد میں سے آئندہ نسل انسانی صرف نوح (علیہ السلام) کے تین بیٹوں سے ہی چلی ، اور کسی انسان کی اولاد آگے نہیں چلی۔ اسی لیے نوح (علیہ السلام) کو آدم ثانی بھی کہا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی حکمت میں یہی تھا۔ سوار ہو نیکی دعائیں (آیت) ” وقال ارکبوا فیھا (آیت) ” نوح (علیہ السلام) نے کہا ، اس میں سوار ہو جائو۔ (آیت) ” بسم اللہ مجرھا ومرسھا “ اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ ہی ہے اس کا چلنا اور لنگر انداز ہونا۔ اس کی قرات ” مجرھا ومرسھا “ بھی آتی ہے اور یہ مصدر میمی ہے۔ ” جری “ کا معنی چلنا اور ” رسی “ کا معنی ٹھہرنا یا لنگر انداز ہونا ہے ۔ گویا کشتی کا چلنا بھی اللہ تعالیٰ کے نام کی برکت سے ہے اور اس کا رک جانا بھی اسی کے نام سے ہے۔ (آیت) ” ان ربی لغفور رحیم “ بیشک میرا پروردگار البتہ بخشش کرنے والا اور از حد مہربان ہے۔ نوح (علیہ السلام) نے کشتی پر سوار ہو کر یہ دعا پڑھی۔ اس امت کے لیے حضور ﷺ کا فرمان بھی یہ ہے کہ کشتی یا جہاز میں سوار ہوتے وقت یہی دعا پڑھیں تو اللہ تعالیٰ غرق ہونے سے امن دے گا۔ ” بسم اللہ الملک ما قدروا اللہ حق قدرہ بسم اللہ مجرھا ومرسھا ان ربی لغفور رحیم “ اگر زائد حصہ یاد نہ ہو قرآن پاک کی آیت والا حصہ ہی کافی ہے۔ دوسری سورة میں خشکی کی سواری پر بیٹھ کر پڑھنے کی دعا بھی موجود ہے (آیت) ” سبحن الذی سخرلنا ھذا وما کنا لہ مقربین وانا الی ربنا لمنقلبون “ (الزخرف) کسی بھی سواری پر بیٹھیں موٹر گاڑی ، اونٹ ، گھوڑا وغیرہ یہ دعا پڑھنا سنت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے تابع بنایا اور ہم ان کو تابع کرنے کے اہل نہ تھے۔ ہر صنعت کی تیاری میں اللہ تعالیٰ ہی کا فضل شامل حا ل ہے ، سائنسدان اور انجینئر اسی مالک کی عطا کی ہوئی عقل اور سمجھ کے ذریعے ایجادات کرتے ہیں مگر ان ایجادات کے لیے جن عناصر (elements ایلیمنٹس) کی ضرورت ہے وہ خالق کائنات ہی کے پیدا نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ نے خام مواد مہیا کر کے لوگوں کو سمجھ عطافرمائی تو انہوں نے انسانی ضروریات کی یہ سب چیزیں بنا لی ہیں۔ سائنسدان بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر کچھ نہیں کرسکتے۔ بہرحال ہر قسم کی سواری پر بیٹھ کر دعائے مسنونہ پڑھنی چاہیے اور محض گپ بازی سے اجتناب کرنا چاہیے۔ کشتی کی روانگی فرمایا (آیت) ” وھی تجری بھم فی موج کالجبال “ وہ کشتی ان سب کو لیکر پہاڑوں جیسی بلند موجوں کے درمیان چل رہی تھی۔ قرآن پاک اور بائیبل میں بھی ہے کہ اللہ کے حکم سے زمین کے سارے چشموں نے پانی اگل دیا اور اوپر سے بارش بھی برسنے لگی۔ تورات کی روایت کے مطابق چالیس دن تک مسلسل بارش ہوتی رہی۔ یہاں دس بارہ گھنٹے تک بارش نہ رکے تو کہرام مچ جاتا ہے ، مکان کرنے لگتے ہیں اور لوگ بےبس ہوجاتے ہیں مگر جہاں چالیس دن تک متواتر بارش ہوتی رہی اور زمین کے چشموں کا سارا پانی بھی باہر آگیا تو وہاں ہلاکت کے سوا کیا ہو سکتا تھا۔ تفسیری روایات میں آتا ہے کہ روئے زمین پر پانی کی سطح اس قدر بلند ہوگئی کہ اونچی سے اونچی پہاڑیوں سے بھی پانی بیس یا تیس ہاتھ اوپر چلا گیا۔ بعض نے پندرہ ہاتھ کا ذکر کیا ہے جو کہ پچیس فٹ بنتا ہے۔ بہرحال اللہ نے اپنی قدرت کا کرشمہ دکھانا تھا اور کفار کو نیست ونابود کرنا تھا جس کے لیے پانی کو ان پر مسلط کردیا۔ نوح (علیہ السلام) کی کشتی چلتی رہی حتی کہ بائبیل کی روایت میں آتا ہے کہ مومن لوگ ایک سو پچاس روز تک کشتی میں سوار رہے پھر وہ کشتی ایک پہاڑ کے ساتھ جالگی۔ بیٹے کے ساتھ مکالمہ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ونادی نوح ابنہ وکان فی معزل “ اور ادھر نوح (علیہ السلام) نے اپنے بیٹے کو آواز دی جو کہ کنارے پر کھڑا تھا فرمایا (آیت) ” یبنی ارکب معنا “ اے بیٹے ! کشتی پر ہمارے ساتھ سوار ہو جائو (آیت) ” ولا تکن مع الکفرین “ اور کفر کرنے والوں کے ساتھ مت رہو۔ بیٹا نافرمان تھا (آیت) ” قال ساوی الی جبل “ کہنے لگا میں اونچے پہاڑ پر چڑھ جائوں گا۔ (آیت) ” یعصمنی من الماء “ وہ مجھے پانی میں ڈوبنے سے بچا لیگا۔ اس پر حضرت نوح (علیہ السلام) نے بیٹے کو پھر سمجھایا (آیت) ” قال لا عاصم الیوم من امر اللہ “ آج کے دن اللہ کے حکم یعنی اس کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکتا (آیت) ” الا من رحم “ سوائے اس کے کہ جس پر رحم کیا گیا۔ جس پر رحم کیا جائے وہ تو معصوم کہلاتا ہے مگر یہاں پر عاصم کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو کہ فاعل کا صیغہ ہے۔ اس کے متعلق مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں پر عاصم کا معنی معصوم ہی ہے اور اس قسم کی مثالیں قرآن پاک میں دوسری جگہ میں موجود ہیں۔ مثلا سورة الطارق میں ہے (آیت) ” خلق من ماء دافق “ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ٹپکائے ہوئے پانی سے پیدا کیا۔ یہاں دافق مدفوق کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اسی طرح سورة فجر کے آخر میں نفس انسانی کے متعلق آتا ہے (آیت) ” ارجعی الیٰ ربک راضیۃ مرضیۃ “ اے جان اپنے رب کی طرف لوٹ جا ا س حالت میں کہ تو خوش بھی ہوگی اور خوش کی ہوئی بھی۔ یہاں پر بھی راضیۃ دراصل مرضیۃ ہی ہے۔ عربی زبان میں کہتے ہیں ” سرکاتم “ پوشیدہ راز۔ یہ بھی دراصل کا تم نہیں بلکہ مکتوم کا معنی دیتا ہے۔ اسی طرح اس آیت کریمہ میں عاصم بمعنی معصوم ہے اور اگر اسے غافل کے معنوں میں ہی لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آج کے دن اللہ کے حکم سے کوئی نہیں بچانے والا مگر وہی جو رحم کرنیوالا یعنی خود خدا ہے۔ یعنی فرماتے ہیں ” لا عاصم الیوم “ کا معنی یہ ہے کہ آج کے دن بچانے والا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے ، مجرموں کو الہ کے عذاب سے کوئی ٹھکانا ، کوئی مکان نہیں بچا سکتا وہی ٹھکانہ کہ جس پر اللہ نے رحم کیا ہے اور یہ ٹھکانہ کشتی ہے کہ بچنے والے اس کشتی کے ٹھکانے پر ہی بچ سکیں گے اور باقی سب کے سب غرق ہوجائیں گے قرم کی غرقابی امام ابن کثیر (رح) اور بعض دیگر مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ ایک نافرمان عورت طوفان میں گھری ہوئی تھی۔ جوں جوں پانی آتا رہا وہ بلند پہاڑی پر چڑھتی گئی۔ اس کے پاس شیر خوار بچہ بھی تھا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ رحم فرماتا تو اس بچے پر ضرور کرتا مگر خدا تعالیٰ کے علم اور قدرت میں یہ بات طے ہوچکی تھی کہ ان سب کو ہلاک کرنا ہے۔ چناچہ جب پانی اس عورت کے پاس پہنچ گیا تو اس نے بچے کو کندھے پر بٹھا لیا ۔ پھر جب پانی اس کی گردن تک پہنچ گیا تو اس نے دونوں ہاتھوں سے بچے کو اوپر اٹھا لیا ، مگر بالآخر ایک موج آئی اور دونوں ماں بیٹے کو ہلاک کردیا گیا۔ فرمایا آج بچانے والی کوئی جگہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ جس پر اللہ تعالیٰ رحم فرمائے اور وہ رحم والا مقام کشتی ہی تھا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کے بیٹے کے درمیان پانی کی ایک موج حائل ہوگی۔ ایسی زبردست لہر آئی جس نے کنعان کو نشانہ بنایا (آیت) ” فکان من المغرقین “ پس تھا وہ ڈوبنے والوں میں سے۔ وہ بھی باقی قوم کے ساتھ ہی طوفان کی نذر ہوگیا۔
Ayahs 11:44–47

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور حکم دیا گیا (زمین کو) اے زمین ! نگل جا تو اپنے پانی کو اور (آسمان کو حکم دیا گیا) اے آسمان ! اب تھم جائو تم (بارش برسانے سے) اور خشک کردیا گیا پانی اور فیصلہ کیا گیا معاملے کا اور جا ٹکی وہ کشتی جودی پہاڑ پر اور کہا گیا کہ دوری (اور ہلاکت) ہے ان لوگوں کے لیے جو ظلم کرنے والے ہیں

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور پکارا نوح (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کو ، بیشک میرا بیٹا میرے اہل سے ہے اور تیرا وعدہ برحق ہے اور تو سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم ہے

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

فرمایا اس نے اے نوح ! بیشک وہ نہیں تیرے اہل سے ۔ بیشک وہ سرتاپا غیر صالح عمل ہے۔ پس نہ سوال کر مجھ سے اس چیز کا جس کا تجھے علم نہیں۔ میں نصیحت کرتا ہوں تجھ کو اس بات سے کہ ہوجائے تو نادانوں سے

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

عرض کیا ، اے پروردگار ! بیشک میں پناہ پکڑتا ہوں تیری ذات کے ساتھ اس بات سے کہ میں سوال کروں آپ سے اس چیز کا جس کا مجھے علم نہیں ، اور اگر تو نہیں معاف کریگا مجھ کو اور رحم نہیں کریگا ، تو ہو جائوں گا میں نقصان اٹھانے والوں میں سے

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفان کی شکل میں عذاب نازل فرمایا اور ساری نافرمان قوم کو اس طوفان میں غرق کیا ، پھر یہ بات بھی بیان ہوچکی ہے کہ آپ کی قوم کے اہل ایمان کو اللہ نے کشتی کے ذریعے نجات دی۔ یہ طوفان تقریبا سات ماہ تک اس قوم پر مسلط رہا۔ چالیس دن تک متواتر بارش ہوتی رہی اور زمین کے چشمے بھی پھوٹتے رہے حتی کہ پوری سطح ارض بلند ترین پہاڑوں سے بھی بیس ہاتھ اوپر تک پانی سے بھر گئی جیسا کہ گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ زمین پر پہاڑوں سے بھی بیس ہاتھ اوپر تک پانی سے بھرگئی جیسا کہ گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ زمین پر پہاڑوں جتنی بلند موجیں اٹھ رہیں تھیں اور نوح (علیہ السلام) کی کشتی ان کے درمیان چل رہی تھی۔ وہ منظر کتنا خوفناک ہوگا۔ اس پر یشانی کے عالم میں اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) اور ان کے ایماندار ساتھیوں کو بچالیا۔ طوفان تھم گیا جب پوری قوم غرق ہوگی (آیت) ” وقیل یارض ابلعی ماء ک “ اے زمین اپنا پانی نگل لے۔ بارش اور چشموں کا جو اپنی سطح زمین پر جمع ہوگیا تھا اس کے متعلق زمین کو حکم ہوا کہ اس سارے پانی کو اپنے اندار جذب کرلے۔ سورة زمر میں (آیت) ” فسل کہ ینابع فی الارض “ اللہ تعالیٰ نے نالیوں اور چشموں کی صورت میں پانی کو زمین کے اندر ذخیرہ کردیا ہے۔ چناچہ پانی کی عام ضروریات بارش کے علاوہ زمینی پانی سے بھی پوری کی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کی تہ میں پانی کو محفوظ کردیا ہے۔ جو کنوئیں ، ہینڈ پمپ اور ٹیوب ویل کے ذریعے نکال کر انسانی ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال قدرت سے پانی کو کہیں مسطع ارض سے قریب رکھا ہے جہاں سے بیس تیس فٹ کی گہرائی سے پانی مل جاتا ہے جب کہ بعض خطے ایسے ہیں جہاں پر بارہ بارہ سو میٹر کی گہراہی سے پانی نکالنا پڑتا ہے بہرحال بارش اور ان چشموں کا جو پانی اللہ کے حکم سے زمین کی سطح پر آگیا تھا اس کے متعلق حکم ہوا کہ اے زمین اس سارے پانی کو اب واپس اپنے اندر چشموں کی صورت میں جذب کرلے۔ اور ساتھ یہ بھی حکم ہوا۔ (آیت) ” ویسماء اقلعی “ اور اے آسمان تھم جائو یعنی بارش برسانے سے رک جائو۔ (آیت) ” وغیض الماء “ اور جو پانی زمین پر موجود تھا اسے بتدریج خشک کردیا گیا۔ مطلب یہ کہ طوفان کے تمام ذرائع کو ختم کردیا گیا (آیت) ” وقضی الامر “ اور معاملے کا فیصلہ کردیا گیا یعنی جن نافرمانوں کو ختم کرنا مقصود تھا ان کو پانی میں غرق کردیا گیا۔ جودی پہاڑ ادھر کشتی تو پانی پر چل رہی تھی جب پانی اتر گیا (آیت) ” واستوت علی الجودی “ تو کشتی جودی پہاڑ پر جا کر رک گئی۔ تورات میں اس پہاڑی کا نام اراروط یا اراراط آیا ہے۔ تا ہم اس بات کی وضاحت کہیں نہیں ملتی کہ زمین کا پانی کتنے عرصہ میں خشک ہوا جس کے بعد لوگ کشتی سے باہر آئے۔ البتہ تفسیری روایات سے یہ بات واضح ہے کہ نوح (علیہ السلام) طوفان کے بعد بھی ساٹھ سال تک زندہ رہے۔ اس دوران اللہ تعالیٰ نے نوع (علیہ السلام) کی اولاد کو خوب پھیلایا۔ روایات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کشتی سوار انسانوں میں سے نوح (علیہ السلام) کے صرف تین بیٹوں سام ، حام ، اور یافث سے نسل انسانی آگے بڑھی اور زمین پھر انسانوں سے آباد ہوگئی جودی پہاڑ آرمینیا کے پہاڑوں میں سے ایک پہاڑ ہے۔ یہ سلسلہ کوہ خلیج فارس سے لے کر کردستان تک پھیلا ہوا اور یہیں ایک پہاڑ جودی بھی ہے۔ جس طرح ہمارے ہاں کوہ ہمالیہ اور قراقرم اڑھائی تین ہزار میل میں پھیلا ہوا ہے ، اسی طرح آرمینیا کا پہاڑی سلسلہ بھی ہزاروں میلوں میں موجود ہے۔ بہرحال نافرن قوم کی ہلاکت کے بعد طوفان کر روک دیا گیا۔ (آیت) ” وقیل بعدا للقوم الظلمین “ اور کہا گیا کہ ہلاکت ہے ظالم قوم کے لیے جن لوگوں نے اللہ کی توحید کا انکار کیا ، حضرت نوح (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کو تسلیم نہ کیا۔ قیامت کا انکار کیا ، اللہ کے نبی کو بیحد تکلیفیں دیں ، حقیقت میں انہوں نے بڑا ظلم کیا اور اللہ نے ان کے لیے ہلاکت وتباہی کا حکم صادر فرما دیا۔ بیٹے کے لیے دعا پچھلے درس میں گزر چکا ہے کہ نوح (علیہ السلام) نے اپنے نافرمانوں بیٹے کنعان کو بھی کشتی میں سوار ہونے کی دعوت دی مگر اس نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ میں غرق ہونے سے بچنے کے لیے کسی پہاڑ پر چڑھ جائوں گے۔ مگر اسی دوران میں پانی کی ایک زبردست لہر آئی جو کنعان کو بہا کرلے گئی۔ اس موقع پر نوح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے اس بیٹے کے حق میں دعا بھی کی تھی جس کا ذکر اس آیت میں آیا ہے (آیت) ” ونادی نوح ربہ “ اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کو پکارا (آیت) ” فقال رب ان ابنی من اھلی “ اور کہا اے پروردگار ! میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے (آیت) ” وان وعدک الحق “ اور تیرا وعدہ بھی برحق ہے (آیت) ” وانت احکم الحکمین “ اور تو سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم ہے۔ اللہ کا وعدہ یہ تھا کہ کشتی میں اپنے گھر والوں کو سوار کر سوائے ان کے کہ جن کے متعلق بات ہوچکی ہے۔ اس کے ساتھ اہل ایمان کو اور ہر جانور کا جوڑا جوڑا بھی لاد لو ، اللہ تعالیٰ ان کو محفوظ رکھے گا اور باقی سب کو ہلاک کر دیگا۔ تو (آیت) ” وعدک الحق “ سے یہی مراد ہے کہ مولا کریم ! تو نے خود فرمایا تھا کہ اپنے اہل کو سوار کرلے مگر یہ نافرمان بیٹا خود انکار کر رہا ہے ۔ تیرا وعدہ بھی برحق ہے اور یہ سوار بھی نہیں ہوتا ، آخر اس میں تیری کیا حکمت ہے ؟ اللہ کا سخت جواب نوح (علیہ السلام) کی اس دعا کا اللہ تعالیٰ نے بڑی سختی کے ساتھ جواب دیا (آیت) ” قال ینوح انہ لیس من اھلک “ فرمایا ، اے نوح (علیہ السلام) ! یہ بیٹا تیرے اہل میں سے نہیں ہے۔ کیونکہ (آیت) ” انہ عمل غیر صالح “ یہ سرتاپا بےعمل ہے ، ایسا شخص تیرے اہل میں سے کیسے ہوسکتا ہے ؟ تیرے اہل میں سے تو ایمان دار ہی ہو سکتے ہیں مگر یہ تو کلیۃ بےعمل ہی بےعمل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مبالغے کے طور پر یہ الفاظ استعمال کیے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوسکتا ہے (آیت) ” ان لہ عمل غیر صالح “ اس کے اعمال اچھے نہیں ہیں۔ بعض نے اس قراءت میں بھی پڑھا ہے (آیت) ” انہ عمل غیر صالح “ اس نے برا کام کیا ہے۔ بداعتقادی اور بدعملی کو یکجا کردیا ہے۔ بعض اس کا معنی یہ بھی کرتے ہیں (آیت) ” انہ ذو عمل غیر صالح “ یہ تو ایسے عمل کا مالک ہے جو صالح نہیں ، بہرحال اللہ نے فرمایا یہ تیرے اہل میں سے نہیں کیونکہ اس کے اعمال بہتر نہیں (آیت) ” فلا تسئلن ما لیس لک بہ علم “ پس نہ سوال کر مجھ سے اس چیز کے بارے میں جس کا تجھے علم نہیں (آیت) ” انی اعظک ان تکون من الجھلین “ میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ تو نا دانوں میں سے ہوجائے گا۔ جس چیز کے متعلق تجھے علم نہیں اس کا کیوں سوال کرتے ہو ؟ خالی نسلی قرابت مفید نہیں اس سے ایک مسئلہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ نبی کے ساتھ خالی نسلی قرابت مفید نہیں جب تک کہ ایمان موجود نہ ہو۔ خود حضور خاتم النبین ﷺ نے بھی اپنی بیٹی ، پھوپھی اور چچائوں سے فرمایا تھا کہ میرا تم سے قرابت کا رشتہ ہے جس کا حق میں تمہیں دنیا میں ہی ادا کرتا رہوں گا۔ لیکن اگر تم ایمان قبول نہیں کرو گا اور نیکی اختیار نہیں کرو گے تو اللہ کے پاس میں تمہیں بچا نہیں سکوں گا۔ (آیت) ” انقذوا انفسکم من النار “ اپنی جانوں کو دوزخ کی آگ سے بچا لو یعنی ایمان قبول کرلو کیونکہ رشتہ داری اور قرابت ایمان کے ساتھ ہی قبول ہوسکتے ہیں۔ یہی بات اس آیت میں بھی پائی جاتی ہے اور حضور ﷺ کی حدیث بھی موجود ہے کہ خالی نسلی قرابت کسی کام نہ آئے گی۔ نوح (علیہ السلام) کی لغزش جمہور مفسرین نے بیٹے کے حق میں اس دعا کو نوح (علیہ السلام) کی لغزش قرار دیا ہے ، یہ کوئی ایسی گناہ کی بات نہ تھی ، معمولی لغزش تھی۔ مگر چونکہ آپ اللہ کے نبی اور مقرب تھے اس لیے اللہ نے اس معمولی لغزش کا بھی سختی سے نوٹس لیا اور آپ کو ایسا سوال کرنے کی وجہ سے جھڑک دیا۔ البتہ بعض مفسرین کو یہ نکتہ سمجھنے میں خود غلطی ہوئی ہے جن میں ہمارے زمانے کے مفسر قرآن مولانا ودودی بھی شامل ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ ان کی تفسیر اردو دان طبقے میں کثرت سے پڑھی جاتی ہے مگر یہ اغلاط سے خالی نہیں۔ اس میں کئی اعتقادی اور فقہی یعنی مسئلے مسائل کی غلطیاں پائی جاتی ہیں۔ مولانا ذہین اور وسیع المطالعہ شخصیت تھے مگر ان کی غلطیوں کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے علم مطالعہ کے زور پر حاصل کیا تھا ، کسی استاد سے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی ، لہٰذا مستند عالم نہیں تھے ، استاد سے پڑھنے والے آدمی کے خیالات منظم ہوتے ہیں اور جہاں کہیں اشکال پیدا ہو یا کوئی بات سمجھ میں نہ آتی ہو تو استاد یا شیخ کی طرف رجوع کرلیا جاتا ہے۔ مولانا مرحوم میں یہ چیز مفقود تھی لہٰذا جو کچھ ان کی سمجھ میں آگیا ، انہوں نے بلا تصدیق کہہ دیا۔ مولانا سید احمد بجنوری ابھی تقید حیات ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے مولانا صاحب کی تفسیر کا مطالعہ کیا ہے اور میں نے اس میں علمی ، اعتقادی ، فقیہی اور تفسیری ایک سو غلطیاں نوٹ کی ہیں۔ چناچہ مودودی اس آیت کی تفسیر میں میں لکھتے ہیں۔ 50 ؎ اس ارشاد کو دیکھ کر کوئی شخص یہ گمان نہ کرے۔ کہ حضرت نوح کی اندر روح ایمان کی کمی تھی ، یا ان کے ایمان میں جاہلیت کا کوئی شائبہ تھا۔ اصل بات یہ ہے کہ انبیاء بھی انسان ہی ہوتے ہیں ، اور کوئی انسان بھی اس پر قادر نہیں ہوسکتا کہ ہر وقت اس بلند ترین معیار کمال پر قائم رہے جو مومن کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ بسا اوقات کسی نازک نفسیاتی موقع پر نبی جیسا اعلی اوشرف انسان بھی تھوڑی دیر کے لیے اپنی بشری کمزوری سے مغلوب ہوجاتا ہے ، لیکن جونہی کہ اسے یہ احساس ہوتا ہے ، یا اللہ کی طرف سے احساس کرا دیا جاتا ہے کہ اس کا قدم معیار مطلوب سے نیچے جا رہا ہے ، وہ فورا توبہ کرتا ہے اور اپنی غلطی کی اصلاح کرنے میں اسے ایک لمحہ کے لیے بھی تامل نہیں ہوتا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی اخلاقی رفعت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوسکتا ہے کہ ابھی جان جوان بیٹا آنکھوں کے سامنے غرق ہوا ہے اور اس نظارہ سے کلیجہ منہ کو آرہا ہے ، لیکن جب اللہ تعالیٰ انہیں متنبہ فرماتا ہے کہ جس بیٹے نے حق کو چھوڑ کر باطل کا ساتھ دیا اس کو محض اس لیے اپنا سمجھنا کہ وہ تمہاری صلب سے پیدا ہوا ہے محض ایک جاہلیت کا جذبہ ہے ، تو وہ فورا اپنے دل کے زخم سے بےپروا ہو کر اس طرف فکر کی طرف پلٹ آتے ہیں جو اسلام کا مقتضیٰ ہے۔ دیکھو کتنی غلط بات کہہ رہے ہیں کہ نبی اپنی بشری کمزوری سے مغلوب ہو کر معیار کمال سے گر جاتا ہے۔ حالانکہ نبی اس کمال کو ہر وقت قائم رکھتے ہیں جو اللہ نے ان کے لیے رکھا ہے۔ خدا تعالیٰ ان سے کوئی گناہ نہیں ہونے دیتا کیونکہ یہ عصمت انبیاء کے خلاف بات ہے۔ مودودی صاحب کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح ایک آدمی جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی بات کرتا ہے ، اسی طرح نبی بھی ایسی بات کرتا ہے۔ اس طرح تو نبی مقتداء کیسے بنے گا اور اس کی بات کا ہر وقت یقین کیسے ہوگا ؟ اسی طرح آگے آپ نے نوح (علیہ السلام) کے لیے جذبہ جاہلیت ثابت کیا ہے۔ یہ فحش غلطی ہے۔ نوح (علیہ السلام) میں نہ جذبہ جاہلیت تھا اور نہ وہ بشری کمزوری میں مبتلا ہو کر معیار کمال سے نیچے گرے تھے۔ یہ نہ تو گناہ کبیرہ تھا اور نہ صغیرہ ، بلکہ صرف ایک اجتہادی لغزش تھی اور نبی سے اجتہادی لغزش ہو سکتی ہے جیسا کہ حضرت یونس (علیہ السلام) سے بھی ہوئی۔ ہر نبی سے کچھ نہ کچھ معمولی لغزشت ہوجاتی ہے جو کہ عام آدمیوں کے اعتبار سے گناہ ہی نہیں ہوتا لکین نبی کی ذات چونکہ بلند ہوتی ہے ، اس لیے وہاں معمولی سی بات پر بھی بڑی گرفت ہوتی ہے۔ ما تریدی (رح) کی توجہیہ امام ابو منصور ماتریدی (رح) امام ابوحنیفہ (رح) کے دو واسطوں سے شاگرد تھے۔ وہ تفسیر میں لکھتے ہیں ، حقیقت یہ ہے کہ نوح (علیہ السلام) کو اپنے بیٹے کے ایمان کے بارے میں علم ہی نہیں تھا۔ وہ آپ ہی کے گھر میں منافقوں کی طرح رہتا تھا مگر کافروں کے ساتھ ملا ہوا تھا ، بیوی کا بھی یہی حال تھا۔ یہ دونوں درپردہ کافروں کے ساتھ تھے مگر نوح (علیہ السلام) کو علم نہیں تھا کہ یہ حقیقت میں ایمان سے خالی ہیں۔ یہ بات قرین قیاس ہے کیونکہ نبی عالم الغیب تو ہوتا نہیں کہ اسے معلوم ہو کہ فلاں فلاں منافق آدمی ہیں۔ خود حضور ﷺ کو اللہ نے سورة توبہ میں فرمایا ہے۔ کہ مدینہ اور اردگرد میں کتنے منافق ایسے ہیں (آیت) ” لا تعلمھم نحن نعلمھم “ جن کو آپ نہیں جانتے بلکہ ہم انہیں جانتے ہیں۔ وہ لوگ آپ کے ساتھ نمازیں پڑھتے ہیں آپ کی مجلس میں آتے ہیں اور بعض اوقات جہاد میں شریک ہوتے ہیں مگر جب تک وحی کے ذریعے اطلاع نہ دی جائے ان کا پتہ نہیں چلتا۔ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کو بھی بیٹے کے کفر اور نفاق کا علم نہ ہو مگر اللہ نے اس معاملے میں سختی اس لیے کی کہ آپ کا بیٹا آپ کی دعوت کے باوجود آپ کے ساتھ کشتی میں سوار نہ ہوا اور نبی کی فراست بھی غیر معمولی ہوتی ہے تو آپ کو بیٹے کے کفر کا اندازہ ہوجانا چاہیے تھا اور خدا کی بارگاہ میں اس لیے دعا نہیں کرنی چاہیے تھی ، کیونکہ یہ بات خدا کی مرضی کے خلاف تھی۔ یہ نہ تو جذبہ جاہلیت تھا اور نہ نوح (علیہ السلام) اپنے مقام عصمت سے گرے تھے ، یہ تو چھوٹی سی لغزش تھی۔ نبی معصوم ہوتا ہے ، خدا اس سے گناہ نہیں سرزد ہونے دیتا بلکہ اسے گارنٹی حاصل ہوتی ہے۔ نبی خواہ خوشی کی حالت میں ہو یا غمی کی حالت میں یا غصے کی حالت میں ، اس کی ہر بات حق اور واجب التعمیل ہوتی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ میں جو کچھ زبان سے کہتا ہوں۔ وہ حق ہوتا ہے ، چاہے میں کوئی بات ہنسی مذاق میں ہی کیوں نہ کروں۔ تو امام ابو منصور ما تریدی (رح) کی توجیہ یہ ہے کہ نوح (علیہ السلام) کو علم نہیں تھا کہ ان کا بیٹا کافر ہے۔ آپ سوال کر بیٹھے تو اللہ نے سخت ڈانٹ پلائی۔ آپ کے بلند مرتبہ پر فائز ہو نیکی وجہ سے اللہ نے اتنی سی لغزش بھی معاف نہ فرمائی۔ خود حضور ﷺ نے نابینا آدمی سے ذرا بےاعتنائی برتی تھی تو سورة عبس کی آیات نازل ہوگئیں آیت ” عبس وتولی ان جاء ہ الاعمی “ آپ نے ایک نابینا آدمی سے روگردانی کی۔ یہ کوئی گناہ نہیں تھا بلکہ ذرا سی بےتوجہی کی تو فورگرفت آگئی۔ شیخ الاسلام (رح) کی توجہیہ شیخ الاسلام (رح) فرماتے ہیں کہ اگر نوح (علیہ السلام) کو بیٹے کے کفر کا علم تھا تو پھر سوال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ نوح (علیہ السلام) اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ کی حکمت کو سمجھنا چاہتے تھے کہ اے پروردگار ! تیرا وعدہ تو یہ تھا کہ تیرے اہل کو بچا لوں گا مگر میرا بیٹا ڈوب رہا ہے ، مجھے خبر دے کہ اس کی حکمت کیا ہے۔ آپ کے سوال کرنے کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اس کو کیوں غرق کیا یا اس کو ضرور ہی بچا لیا جائے۔ تا ہم شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ اگر حقیقت حال ہی معلوم کرنا مطلوب تھی ، تو بڑے آدمیوں کو پہلے مالک کی مرضی معلوم کرنی چاہیے کہ وہ ایسے سوال سے سے ناراض تو نہیں ہوگا ، مگر نوح (علیہ السلام) نے براہ راست بیٹے کے متعلق سوال کردیا جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند تھا ، اس لیے اس نے تنبیہ فرمائی۔ نوح (علیہ السلام) کو بیٹے کے کفر کے بارے میں علم نہیں تھا اور جس بات کے متعلق علم نہ ہو ، اس کو ابہام پر ہی رہنے دینا چاہیے تھا۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ کسی چیز کو مخفی رکھنا چاہتا ہے اور اگر ایسی بات کے متعلق سوال ہوگا تو اللہ تعالیٰ ناپسند کرے گا۔ معافی کی درخواست جب نوح (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ بیٹے کے متعلق ان کا سوال اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں آیا تو انہوں نے فورا رجوع کرلیا (آیت) ” قال رب انی اعوذ بک ان اسئلک ما لیس لی بہ علم “ اے پروردگار میں تیری ذات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں کہ میں کسی ایسی چیز کے بارے میں سوال کروں جس کا مجھے علم نہیں۔ یہی آپ کے کمال کی علامت ہے جب آدم (علیہ السلام) کو اپنی لغزش کا احساس ہوا تو انہوں نے بھی فورا اقرار کرلیا (آیت) ” ربنا ظلمنا انفسنا “ اے پروردگار ! بیشک ہم نے نفسوں پر ظلم کیا۔ (آیت) ” وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخسرین “ (اعراف) اگر تو ہمیں معاف نہیں کرے گے یہی عاجزی اور ابتہال نوح (علیہ السلام) نے اللہ کے سامنے کی ۔ (آیت) ” والا تغفرلی وترحمنی ان من الخسرین “ اور اگر تو مجھے معاف نہیں کرے گا اور مجھ پر رحم نہیں فرمائے گا۔ تو میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوجائوں گا آپ نے یہ نہیں کہا کہ باری تعالیٰ ! میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا ، بلکہ لغزش کی معافی طلب کرلی اور یہی عاجزی اللہ کے نزدیک سب سے بڑا کمال ہے۔