11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 11:9–12

وَ لَئِنْ اَذَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَةً ثُمَّ نَزَعْنٰهَا مِنْهُ١ۚ اِنَّهٗ لَیَئُوْسٌ كَفُوْرٌ Open ayah 11:9 in the Quran reader

اور اگر ہم چھکائیں انسان کو اپنی طرف سے مہربانی ، پھر ہم اسے چھین لیں ، بیشک وہ انسان البتہ مایوس ہونے والا اور ناشکر گزار ہوتا ہے

وَ لَئِنْ اَذَقْنٰهُ نَعْمَآءَ بَعْدَ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُ لَیَقُوْلَنَّ ذَهَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیْ١ؕ اِنَّهٗ لَفَرِحٌ فَخُوْرٌۙ Open ayah 11:10 in the Quran reader

اور اگر ہم اس کو چکھائیں نعمت کا مزہ تکلیف کے بعدجو اس کو پہنچتی تھی تو وہ کہتے ہے کہ دور ہوگئیں مجھ سے برائیاں۔ بیشک وہ اترانے والا اور شیخی بگھارنے والا ہوتا ہے

اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ Open ayah 11:11 in the Quran reader

مگر وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا اور اچھے اعمال انجام دیے ، یہی لوگ ہیں کہ ان کے لیے بخشش ہے اور بڑا اجر ہے

فَلَعَلَّكَ تَارِكٌۢ بَعْضَ مَا یُوْحٰۤى اِلَیْكَ وَ ضَآئِقٌۢ بِهٖ صَدْرُكَ اَنْ یَّقُوْلُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ جَآءَ مَعَهٗ مَلَكٌ١ؕ اِنَّمَاۤ اَنْتَ نَذِیْرٌ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌؕ Open ayah 11:12 in the Quran reader

پس اے پیغمبر ! شاید کہ آپ چھوڑنے والے ہوں بعض ان چیزوں کو جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہیں اور تنگ ہوتا ہے اس کے ساتھ آپ کا سینہ اس وجہ سے کہ یہ لوگ کہتے ہیں ، کیوں نہیں اتارا جاتا اس پر خزانہ یا کیوں نہیں آتا اس کے ساتھ فرشتہ بیشک آپ تو ڈر سنانے والا ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا ذمہ دار ہے

ربط آیات دعوت الی التوحید کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے علم محیط اور قدرت تامہ کا ذکر فرمایا ۔ اس سے پہلے تمام جاندار کی روزی کا ذمہ اٹھایا اور ہر ایک کے مستقر اور مستودع کے علم کا ذکر کیا۔ پھر تخلیق کائنات کا ذکر کیا جو کہ اس کی وحدانیت اور قدرت تامہ دلیل ہے آسمان و زمین کی پیدائش اور عرش الٰہی کا ذکر ہوا۔ تخلیق کائنات کا مقصد انسانوں کی مصلحت بیان فرمایا اور انسانوں کی تخلیق کو ان کی آزمائش کا مقصود بنایا کہ ان میں سے کون اچھے اعمال انجام دیتا ہے اور کون برائیوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ فرمایا یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی جانب سے برحق ہے۔ فرمایا اگر نافرمانوں پر خدا کی گرفت موخر ہوجائے تو وہ ٹھٹھا کرتے ہیں مگر اللہ نے فرمایا کہ جب اس کی طرف سے عذاب آئیگا تو پر وہ ہٹایا نہیں جائیگا اور جس چیز کے ساتھ یہ مذاق کرتے ہیں ، وہی چیز ان کو گھیرے گی۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی ناشکرگزاری کا ذکر فرمایا ہے۔ لوگ عام طور پر نہ تو راحت کے وقت اپنا فرض صحیح طور پر انجام دیتے ہیں اور نہ ہی تکلیف کے وقت آج اسی بات کا تذکرہ ہوگا۔ عروج کے بعد زوال ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولئن اذقنا الانسان منا رحمۃ “ اور اگر ہم انسان کو اپنی طرف سے رحمت کا مزا چکھائیں ، کوئی مہربانی کریں ، صحت ، مال ، اولاد ، جاہ ، حکومت ترقی عطا کریں (آیت) ” ثم نزعنھا منہ “ پھر وہ نعمت اس سے چھین لیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق جب چاہے کسی کو کوئی نعمت عطا کر دے اور جب چاہے واپس لے لے۔ تندرستی دے کر بیماری میں مبتلا کر دے یا کسی کو باہر عروج پر پہنچا کر زوال پذیر کردے یا آسائش دے کر تنگدستی میں مبتلا کر دے ، یہ سب اس کی حکمت اور مصلحت کے کرشمے ہیں۔ تو فرمایا جب ہم کسی کو راحت کے بعد تکلیف میں مبتلا کردیں ، تو انسان کی حالت یہ ہوتی ہے (آیت) ” انہ لیوس کفور “ کہ وہ مایوس ہونے والا اور ناشکر گزار بن جاتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اب میرے لیے بھلائی کا کوئی موقع باقی نہیں رہا اور ایسی حالت میں صبر وشکر کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کا گلہ شکوہ کرنے لگتا ہے کہ اس نے اسے تنگی میں ڈال دیا ہے۔ یہ انسان کی ناشکری کی دلیل ہے۔ عام طور پر انسان راحت اور تکلیف دونوں حالتوں میں ناکامی کی منہ دیکھتے ہیں۔ وہ نہ تو تکلیف میں صبر کرتے ہیں اور نہ راحت میں شکر ادا کرتے ہیں۔ البتہ بہت تھوڑے ایمان والے لوگ ایسے ہیں جو اس امتحان میں پورے اترتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” والذی نفسی بیدہ اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے ، جب کسی مومن کی تکلیف کے وقت اللہ سے معافی مانگتا ہے ، اس کے سامنے گڑ گڑاتا ہے ، تو یہی تکلیف کی حالت بھی اس کے لیے باعث رحمت ہوتی ہے۔ گویا مومن آدمی کو تکلیف اور راحت دونوں حالتوں میں کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ تکلیف کے بعد راحت آگے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولئن اذقنہ نعماء بعد ضراء مستہ “ اور گر ہم اس کو نعمت کا مزا چکھائیں تکلیف کے بعد جو اس کو پہنچی تھی۔ ضراء عام طور پر جسمانی تکلیف پر بولا جاتا ہے تا ہم اس سے دیگر تکالیف بھی مراد لی جاسکتی ہیں۔ تو فرمایا اگر بیماری کے بعد کسی انسان کو صحت عطا کردیں یا کسی دوسری تکلیف کو راحت میں بدل دیں۔ تو پھر کیا کہتا ہے ؟ (آیت) ” لیقولن ذھب السیات عنی “ کہتا ہے کہ مجھ سے تکالیف دور ہوگئیں اور اب میں بالکل آرام و آسائش میں ہوں اور پھر ایسی حالت میں (آیت) ” انہ لفرح فخور “ انسان اتراتا ہے اور شیخی بگھارتا ہے۔ کہتا ہے میں نے فلاں تدبیر کی تو مجھے کامیابی حاصل ہوگئی۔ ایسا شخص اپنی دولت حکومت اور ٹیکنالوجی کو ہی کامیابی کی دلیل سمجھتا ہے۔ کہتا ہے (آیت) ” انما اوتیتہ علیٰ علم عندی “ ( القصص) مجھے یہ نعمتیں میرے علم کی وجہ سے ملی ہیں اور وہ اس بات کو بھول جاتا ہے کہ تکلیف کو دور کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ اس کے برخلاف جب اسے تنگی آتی ہے تو شکوہ کرتا ہے۔ سورة الفجر میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کو آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے اور اس کا رزق تنگ کردیتا ہے (آیت) ” فیقول ربی اھانن “ تو کہتا ہے کہ میرے پروردگار نے مجھے ذلیل کردیا ہے میں تباہ ہوگیا ہوں ، اس کا ما م کے لیے خدا تعالیٰ کو کوئی اور آدمی نہ ملا ، ایسے ایسے ناشکری کے کلمات زبان سے ادا کرتا ہے اور جب کامیابی حاصل ہوتی ہے تو اس میں سارا اپنا کمال سمجھتا ہے۔ اور اصل عطا کرنے والے اللہ تعالیٰ کو فراموش کردیتا ہے۔ یہ انسان کی عام ذہنیت ہے ورنہ اس کا فرض ہے کہ راحت اور آرام و آسائش کی حالت میں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرے ، اس کی نعمت کی قدر کرے ، اس کا صحیح استعمال کرے اور اس کا حق بھی ادا کرے۔ اور جب تکلیف آجائے تو اسے خدا کی جانب سے سمجھے اور اس پر صبر کرے اور جزع فزع نہ کرے۔ صبر اور عمل صالح فرمایا (آیت) ” الا الذین صبروا “ مگر وہ لوگ جنہوں نے صبر کیا (آیت) ” وعملوا الصلحت “ اور نیک اعمال انجام دیے (آیت) ” اولئک لھم مغفرۃ واجر کبیر “ ان کے لیے خدا کی جانب سے معافی ہے ، اللہ تعالیٰ ان کی تمام کوتاہیاں معاف فرما دے گا۔ اور اس کے علاوہ ان کے لیے خدا کے ہاں بہت بڑا اجر بھی ہوگا۔ وہ کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لیے ان دو انعامات کا وعدہ فرمایا ہے۔ صبر ملت ابراہیمی کا بہت بڑا اصول اور حقیقت ہے۔ صبر ، شکر اللہ کا ذکر ، تعظیم شعائر اللہ اور نماز بہت بڑی حقیقتیں ہیں خاص طور پر صبر مومن کا ہتھیار ہے جس کے ذریعے وہ کامیابی حاصل کرتا ہے اور نیک اعمال وہ ہیں جنہیں عقل اور شریعت دونوں صحیح تسلیم کرتی ہیں۔ ان میں نماز روزہ ، حج ، زکوٰۃ ، صدقہ خیرات ، صلہ رحمی ، مخلوق کے ساتھ احسان ، قیام عدل ، طہارت ، سماحت اور ظلم و زیادتی سے اجتناب وغیرہ شامل ہیں۔ یہ سب نیک اعمال ہیں جن پر مغفرت اور اجر کبیر کی بشارت دی گئی ہے۔ اہل ایمان کے لیے تسلی اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر اور ان کے ماننے والوں کو تسلی دی ہے۔ قرآن پاک میں یہ مضمون متعدد مقامات پر موجود ہے جب بھی نافرمانوں ، کافروں اور مشرکوں کی ہٹ دھرمی اور ضد یا ناانصافی کی وجہ سے نبی (علیہ السلام) کے قلب مبارک پر صدقہ گزرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے تسلی دی جاتی ہے اور ساتھ ساتھ آپ کو اپنا فریضہ جاری رکھنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” فلعلک تارک بعض ما یوھی الیک وضائق بہ صدرک “ پس شاید کہ آپ چھوڑ دیں بعض ان چیزوں کو جن کو آپ کی طرف وحی کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ آپ کا سینہ تنگ ہوتا ہے (آیت) ” ان یقولوا “ اس وجہ سے کہ یہ لوگ اعتراض کرتے ہیں (آیت) ” لولا انزل علیہ کنز “ کہ آپ (علیہ السلام) پر خزانہ کیوں نہیں نازل کیا گیا ؟ ان کے زعم میں نبوت کے دعویدار کے پاس مال و دولت کا ہونا ضروری ہے اسے معاشرے میں امتیازی حیثیت ہوتا کیہ دوسرے لوگ اس سے مرعوب ہو سکیں اور وہ یقین کرلیں کہ یہ واقعی اللہ کا رسول ہے۔ فرمایا اگر خزانہ نہیں ہے (آیت) ” اوجاء معہ ملک “ تو اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہی آئے یہ فرشتہ نبی کے ساتھ رہے اور اس کی نبوت کی تصدیق کرے۔ فرمایا ایسے بیہودہ اعتراضات کی وجہ سے اپنا سینہ تنگ نہ کریں۔ ناانصاف لوگ ایسی باتیں ہمیشہ کیا کرتے ہیں۔ ان کا کیا ہے ؟ وہ تو نبی کو مافوق الانسان کوئی مخلوق سمجھتے ہیں اور اسی لیے عام لوگوں میں اس کے میل جول ، کام کاج اور دیگر معاشرتی معمولات کو نبوت کے خلاف سمجھتے ہیں۔ سورة فرقان میں ہے کہ کفار مکہ کہتے تھے (آیت) ” مال ھذا الرسول یا کل الطعام ویمشی فی الاسواق “ یہ کیسا رسول ہے جو ہماری طرح کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ اس کے بیوی بچے ہیں یہ کاروبار کرتا ہے ، اللہ نے فرمایا ایسے اعتراضات پہلے بھی ہوتے تھے اور ا ب بھی ہوتے رہتے ہیں آپ ان سے پریشان نہ ہوں بلکہ اپنا کام کرتے جائیں یہ آپ کو تسلی دی گئی ہے۔ کہ آپ ان کی باتوں میں نہ آئیں کیونکہ وہ تو آپ کو آپ کے مشن سے ہٹانا چاہتے ہیں (آیت) ” ودوا لو تدھن فیدھنون “ (القلم) یہ لوگ چاہتے ہیں کہ آپ ڈھیلے پڑجائیں تو یہ بھی مخالفت چھوڑ دیں گے۔ فرمایا ، ایسا نہیں بلکہ آپ ان کے عقائد باطلہ کا پورے طریقے سے رد کرین۔ لوگوں پر کفر وشرک کی قباحت کو واضح کریں۔ یہ لوگ کتنا بھی برا منائیں آپ اپنا کام کرتے جائیں اور اپنے دل میں کسی قسم کی تنگی محسوس نہ کریں۔ نبی بحیثیت نذیر فرمایا (آیت) ” انما انت نذیر “ آپ تو ڈر سنانے والے ہیں۔ آپ کا فرض یہ ہے کہ مشرکین کی تمام تر رکاوٹوں کے باوجود لوگوں کو ان کے برے عقائد اور برے اعمال سے ڈراتے رہیں۔ انہیں صاف صاف بتا دیں کہ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم نہیں کریں گے ، شرک پر اڑے رہیں گے اور نیک اعمال کی بجائے برے اعمال انجام دیتے رہیں گے تو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ناکام ہوجائیں گے۔ اسی لیے فرمایا کہ آپ ان کو خطرناک انجام سے آگاہ کرنے والے ہیں۔ آگے فرمایا (آیت) ” واللہ علی کل شیء وکیل “ ہر چیز کا ذمہ دار تو خدا تعالیٰ ہے۔ خزانوں کا مالک بھی وہی ہے اور فرشتوں کا مالک بھی۔ معجزات کا پیش کرنا آپ کا کام نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی مصلحت میں جب اس کا ظاہر کرنا ضروری ہوتا ہے تو وہ ایسا کردیتا ہے۔ لہٰذا آپ کے ایسی چیز کو ترک کرنے کا خیال دل میں نہ لائیں جو آپ پر وحی کے ذریعے نازل کی جاتی ہے۔ آپ کفار کے طعن سے دل برداشتہ نہ ہوں آپ بحیثیت نذیر اپنے منصب پر فائز ہیں۔ آپ کفر ، شرک اور برائی کا ارتکاب کرنے والوں کو ان کے انجام سے خبردار کردیں باقی ہر چیز کا نگران خود اللہ تعالیٰ ہے۔ وہ خود ان سے حساب لے لے گا۔ اور پھر ان کے برے عقائد و اعمال کی سزا بھی دے گا۔
Ayahs 11:13–16

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ١ؕ قُلْ فَاْتُوْا بِعَشْرِ سُوَرٍ مِّثْلِهٖ مُفْتَرَیٰتٍ وَّ ادْعُوْا مَنِ اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 11:13 in the Quran reader

کیا کہتے ہیں یہ لوگ کہ یہ قرآن اس نے گھڑ لیا ہے آپ کہہ دیجئے اے پیغمبر ! لائو دس سورتیں اس جیسی گھڑی ہوئی اور بلا لو جس کو تم طاقت رکھتے ہو اللہ کے سوا ، اگر تم سچے ہو

فَاِلَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اُنْزِلَ بِعِلْمِ اللّٰهِ وَ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 11:14 in the Quran reader

پس اگر یہ جواب نہ دے سکیں تم کو پس جان لو کہ بیشک یہ قرآن کریم نازل کیا گیا ہے اللہ کے علم کے ساتھ اور یہ بات بھی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، پس کیا تم فرمانبرداری کرو گے

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا نُوَفِّ اِلَیْهِمْ اَعْمَالَهُمْ فِیْهَا وَ هُمْ فِیْهَا لَا یُبْخَسُوْنَ Open ayah 11:15 in the Quran reader

جو شخص ارادہ کرتا ہے دنیا کی زندگی اور اس کی زینت کا ، ہم پورا پورا دیتے ہیں ان کو ان کے اعمال اس میں اور ان کے ساتھ اس دنیا میں کمی نہیں کی جاتی

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَیْسَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ اِلَّا النَّارُ١ۖ٘ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِیْهَا وَ بٰطِلٌ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 11:16 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں کہ نہیں ہے ان کے لیے آخرت میں مگر دوزخ کی آگ ، اور ضائع ہوگیا جو کچھ انہوں نے اس دنیا میں کیا ، اور باطل ہے وہ جو کچھ وہ کیا کرتے تھے

ربط آیات گذشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تسلی دی کہ مشرکوں اور کافروں کے اعتراضات کی وجہ سے آپ اپنے مشن کو نہ چھوڑیں۔ یہ لوگ تو بیہودہ اعتراض کرتے ہی رہتے ہیں۔ لہٰذا آپ کو دل میں کسی قسم کی تنگی محسوس نہیں کرنی چاہیے کہتے ہیں کہ آپ کے پاس خزانہ کیوں نہیں ہوتا یا آپ کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہیں ہوتا تو فرمایا آپ کہہ دیں کہ خزانوں اور فرشتوں کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے ، میرا کام تو خبردار اور برے انجام سے ڈرانا ہے۔ اب آج کی آیات میں قرآن پاک کی صداقت وحقانیت کی دلیل پیش کی گئی ہے کفار ومشرکین اللہ کی کتاب کے متعلق شکوک و شبہات کا اظہار کرتے تھے ، اللہ نے یہ دلیل پیش کی ہے کہ اگر تم قرآن پاک کو وحی الٰہی تصور نہیں کرتے تو پھر اس جیسی دس سورتیں لائو۔ اگر یہ انسانی کلام ہے تو تم بھی انسان ہی ہو ، لہٰذا اس جیسا کلام بنا کر پیش کرو۔ یہ بھی مکی سورة ہے اور مکی سورتوں میں عام طور پر توحید ، رسالت ، قیامت اور قرآن پاک کی حقانیت کے مضامین ہی بیان کئے گئے ہیں۔ اس سورة مبارکہ میں بھی یہی مضامین بتکرار آرہے ہیں۔ چناچہ آج کے درس میں قرآن کی صداقت ، توحید باری تعالیٰ اور معاد کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ قرآن بطور چیلنج ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ام یقولون افترئہ “ کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے خود قرآن گھڑ لیا ہے۔ یہ کلام الٰہی نہیں بلکہ محمد ﷺ کا خود ساختہ ہے اسکے جواب میں اللہ نے فرمایا (آیت) ” قل “ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کہ اگر یہ قرآن پاک من گھڑت ہے (آیت) ” فاتوا بعشر سور مثلہ مفتریت “ تو پھر تم بھی اسی جیسی دس گھڑی ہوئی سورتیں لے آئو۔ آخر تم اہل زبان ہو۔ عربی پر تمہیں دسترس حاصل ہے فصاحت وبلاغت کے ماہر ہو۔ تم بھی ایسا کلام پیش کرو۔ اور اگر تم اکیلے یہ کام نہیں کرسکتے۔ (آیت) ” وادعوا من استطعتم من دون اللہ “ تو اللہ کے سوا جس کو چاہو اپنی مدد کے لیے بلا لو اور سارے مل کر قرآن جیسی چھوٹی سے چھوٹی دس سورتیں ہی بنا لائو (آیت) ” ان کنتم صدقین “ اگر تم اس دعوی میں سچے ہو کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ہے۔ اس سورة میں دس سورتیں پیش کرنے کا چیلنج دیا گیا ہے جب کہ سابقہ سورة میں صرف ایک سورة لانے کا مطالبہ کیا گیا تھا (آیت) ” فاتوا بسورۃ مثلہ “ (یونس) اس جیسی ایک سورة ہی بنا کر لائو۔ سورة بقرہ میں بھی ایک ہی سورة لانے کا چیلنج دیا گیا ہے۔ وہاں یہ الفاظ آئے ہیں (آیت) ” فاتوا بسورۃ من مثلہ “ ۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ جہاں ایک سورة لانے کے لیے کہا گیا ہے وہاں کلام الٰہی کا تقابل ہے (آیت) ” مما نزلنا علی عبدنا “ جو کچھ بھی ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے اور اس مقام پر جہاں دس سورتوں کا ذکر ہے ، یہاں قرآن پاک کی بات ہے (آیت) ” ام یقولون افترئہ “ سورة بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” قل لئن اجتمعت الانس والجن علی ان یاتوا بمثل ھذا القران لا یاتون بمثلہ ولو کان بعضھم لبعض ظھیرا “ اگر تمام انسان اور جن مل کر بھی قرآن کی مثل لاناچا ہیں تو نہیں لاسکیں گے خواہ ایک دوسرے کے مدد گار بھی بن جائیں وہاں بھی پورے قرآن پاک کا ذکر ہے۔ سورۃ یونس میں ایک سورة لانے کا چیلنج ہے جب کہ اس سورة ہود میں دس سورتوں کا ذک ہے۔ یہ دونوں سورتیں مکی ہیں اور ان کا زمانہ نزول بھی قریب قریب ہی ہے۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ ترتیب نزول کے لحاظ سے سورة ہود پہلے ہے اور سورة یونس بعد میں ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے پہلے دس سورتوں کا مطالبہ کیا۔ جب کفار ومشرکین اس چیلنج کو قبول نہ کرسکے تو پھر اللہ نے ایک ہی سورة لانے کا اعلان فرما دیا۔ سورة بقرہ تو مدنی ہے اور اس کا زمانہ بہرحال ان دونوں سورتوں سے بعد کا ہے ، لہٰذا اس میں بھی ایک ہی سورة بنا کر لانے کا چیلنج دیا گیا ہے۔ چیلنج کی بنیاد سوال پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس بنیاد پر قرآن پاک کی نظیر لانے کو چیلنج کیا ہے۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کی فصاحت وبلاغت کے اعتبار سے مخلوق میں سے کوئی بھی اس کی مثال پیش نہیں کرسکتا اور اس لحاظ سے قرآن حکیم معجز ہے تا ہم امام ابوبکر جصاص (رح) اور بعض دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ محض فصاحت وبلاغت ہی قرآن کے معجز ہونے کی بنیاد نہیں بن سکتی کیونکہ اس کا تعلق عربی زبان سے ہے جس کا دائرہ عمل صرف عربوں تک محدود ہے۔ یہ چیلنج پوری دنیا کے انسانوں اور جنوں تک پھیلا ہوا ہے اس کلام الٰہی کا معجز ہونا فصاحت وبلاغت کے علاوہ بعض دوسری چیزوں میں بھی ہے۔ مثلا علوم ومعارف جو اللہ نے قرآن کریم میں رکھے ہیں وہ کسی دوسرے کلام میں نہیں۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ جو حکمتیں اور مصلحتیں قرآن حکیم کی آیات اور سورتوں میں پائی جاتی ہیں ، ساری مخلوق مل کر اس کا عشر عشیر بھی پیش نہیں کرسکتی۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن پاک فصاحت وبلاغت ، علوم ومعارف ، مصلحت اور حکمت اور دلائل وعلل کے اعتبار سے معجز ہے اور اللہ تعالیٰ نے ان تمام کمالات کے پیش نظر چیلنج کیا ہے کہ اس کی مثال لا کر دکھائو۔ قرآن حکیم کا ایک بڑا کمال اس کا قانون ہے۔ قرآن کریم جس قسم کا قانون دستور اور نظام پیش کرتا ہے۔ ایسا کوئی قانون اور نظام کسی انسانی کلام میں نہیں مل سکتا۔ نہ تو سرمایہ دارانہ نظام ، اسلام نظام کا مقابلہ کرسکتا ہے اور نہ سوشلزم اور کمیونزم۔ نہ امریکہ کا دستور اس کا ہم پلہ ہے اور نہ فرانس ، جرمنی اور برطانیہ کا۔ قرآن پاک کا پیش کردہ نظام ہمیشہ کے لیے اٹل ہے۔ جبکہ انسانوں کے بنائے ہوئے دساتیر ہر روز بدلتے رہتے ہیں۔ جونہی کوئی حکومت کوئی قانون وضع کرتی ہے ، اس کے ساتھ ہی اس میں ترامیم بھی شروع ہوجاتی ہیں اور بسا اوقات اسے منسوخ کر کے دوسرا قانون لانا پڑتا ہے یہ صرف قرآن پاک کے قانون کو شرف حاصل ہے کہ یہ ہمیشہ کے یے غیر متبدل ہے۔ سورة بینہ میں اسے (آیت) ” ذلکل دین القیمۃ “ کہا گیا ہے یعنی یہ اٹل قانون ہے جو تا قیام قیامت کار آمد ہے ۔ امام ابوبکر جصاص (رح) فرماتے ہیں کہ قرآن کی حقانیت اور صداقت کی ایک بہت بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ اس کے نزول کے زمانہ میں یہود ونصاری جیسے اہل علم لوگ بھی اس کا مقابلہ نہ کرسکے بلکہ اگر کسی نے اس کی نظیر لانے کی کوشش کی تو اسے منہ کی کھانا پڑی۔ مسیلمہ کذاب نے قرآن کے مقابلے میں کلام پیش کیا مگر عربوں نے اس کے منہ پر تھوکا اور لعنت بھیجی ، کہنے لگے کجا علوم ومعارف سے لبریز خدائی کلام اور کہاں تمہاری یہ بیہودہ کوشش ، اس زمانے میں عربوں میں بڑے بڑے شاعر اور ادیب تھے ، بڑے بڑے منصف تھے جو مختلف کلاموں کا موازنہ کر کے ان کے متعلق فیصلہ دیتے تھے۔ مگر وہ سارے کے سارے مل کر بھی قرآن پاک کی نظیر نہ لاسکے ، اور قرآن کا یہ چیلنج چودہ صدیوں سے اسی طرح موجود ہے مگر کسی نے اس کو قبول کرنے کی جرء ات نہیں کی۔ نزول بعلم اللہ فرمایا ان کو قرآن پاک کی نظیر لانے کا چیلنج دو (آیت) ” فالم یستجیبوا لکم “ پس اگر یہ تمہارے چیلنج کا جواب نہ دے سکیں (آیت) ” فاعلموا “ تو یقین کے ساتھ جان لینا چاہیے (آیت) ” انما انزل بعلم اللہ “ کہ بیشک یہ قرآن پاک اللہ کے علم کے ساتھ نازل کیا گیا ہے۔ یہ اس کے حکم سے نازل ہوا ہے اور کسی انسان کا کلام نہیں ہے۔ نہ تو یہ پیغمبر کا کلام ہے نہ کسی فرشتے یا جن کا بلکہ یقینا یہ اللہ کے علم سے نازل ہوا ہے۔ مخلوق میں سے کوئی بھی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ نزول قرآن کے زمانے میں عربی زبان انتہائی بلندیوں پر تھی۔ عرب لوگ شعر و شاعری ، خطابت ، کلام اور محاورے میں فصیح وبلیغ اور اپنی مثال آپ تھے۔ مگر کوئی بھی قرآن کا چیلنج قبول نہ کرسکا۔ حضرت ابو ذر غفاری ؓ کے بھائی انیس ؓ بڑے پائے کے شاعر تھے کہنے لگے میں نے بڑے بڑے شاعروں کا کلام سنا ہے کاہنوں اور ساحروں کی بات سنی ہے مگر اللہ کا کلام ان سب سے بلند ہے ، کوئی کلام بھی اس کا ہم پلہ نہیں۔ حقیقت یہ ہے ایں کتاب نیست چیزے دیگر است یعنی یہ خالی کتاب ہی نہیں بلکہ کچھ اور ہی چیز ہے۔ معبود برحق فرمایا ایک بات تو یہ جان لو کہ قرآن پاک اللہ کے علم سے نازل کیا گیا اور دوسری یہ کہ (آیت) ” وان لا الہ الا ھو “ اس مالک الملک کے سوا معبود بر حق بھی کوئی نہیں۔ اس کے علاوہ کوئی دوسری ذات نہیں جو ایسا کلام نازل کرسکے۔ وہی مشکل کشا اور حاجت روا ہے ، وہ حاکم ، مختار کل اور قادر مطلق ہے ، وہی علیم کل ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (آیت) ” فھل انتم مسلمون “ پس کیا تم فرمانبرداری کروگے ؟ تمہارا فرض ہے کہ اسی وحدہ لا شریک کی اطاعت قبول کرلو اس کی وحدانیت کو تسلیم کرلو اور اس کے کلام کو بھی برحق مان لو۔ دنیا کی خواہش آگے اللہ تعالیٰ نے دنیا کے طالبوں اور نافرمانوں کا ذکر فرمایا ہے۔ (آیت) ” من کان یرید الحیوۃ الدنیا وزینتھا “ جو کوئی دنیا کی زندگی اور ا س کی زیب وزینت کا طلب گار ہے (آیت) ” نوف الیھم اعمالھم فیھا “ ہم اسی دنیا میں ان کے اعمال ان کو پورا پور ادیتے ہیں (آیت) ” وھم فیھا لا یبخسون “ اور اس میں کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ جس شخص کا مقصد صرف دنیا کے حصول تک محدود ہے۔ وہ اسی دنیا میں ہر قسم کا آرام و آسائش چاہتا ہے اور آخرت کی اسے کوئی فکر نہیں ۔ فرمایا اس کے اعمال کا بدلہ ہم اسی دنیا میں مکمل طور پر دے دیتے ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ یاد رکھو ! کفار ومشرکین میں بعض اچھے اعمال انجام دیتے ہیں۔ رفاع عامہ کے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ، سرائیں سڑکیں اور ہسپتال بناتے ہیں غرباء کی اعانت کرتے ہیں مظلوم کی دل جوئی کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کا بدلہ دنیا میں ہی عطا کردیتا ہے۔ رزق میں وسعت ملتی ہے۔ عزت ، شہرت ، حکومت اور طاقت میسر آتی ہے ، مگر جب وہ آخرت میں جائیں گے تو ایمان سے خالی ہونے کی وجہ سے وہاں ان کے لیے کچھ نہیں ہوگا (آیت) ” ومن کان یرید حرث الدنیا نوتہ منھا ومالہ فی الاخرۃ من نصیب “ (الشوری) جو کوئی دنیا کی کھیتی ( مال و دولت) کا طالب ہوگا ، ہم اسے یہیں دے دیں گے اور اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ حضور ﷺ ایک موقع پر چٹائی پر آرام فرما رہے تھے اور آپ کے جسم پر چٹائی کے نشانات نمودار ہوگئے تھے۔ حضرت عمر ؓ نے یہ حالت دیکھی تو عرض کیا ، حضور ! قیصر و کسری اور دنیا کے دیگر ملوک کو بڑے آرام و آسائش حاصل ہیں ، مگر آپ اللہ کے برحق رسول ہو کر اتنی تکالیف برداشت کرتے ہیں۔ آپ اپنے لیے اور امت کی وسعت کے لیے دعافرمائیں۔ حضور ﷺ یہ سن کر اٹھ کر بیٹھ گئے اور فرمایا ” افی ھذا یا بن الخطاب “ اے خطاب کے بیٹے ! کیا میں اس چیز کی خواہش کروں ؟ یہ تو ایسے لوگ ہیں جنہیں ان کی اچھائیوں کا بدلہ اسی دنیا میں دے دیا گیا ہے ۔ کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ ان کو دنیا میں ملے اور ہمیں آخرت میں اچھا بدلہ ملے ؟ اس پر حضرت عمر ؓ کو حقیقت معلوم ہوگئی۔ تو اللہ نے فرمایا کہ وہ ایسے لوگوں کو یعنی ہر کافر ومشرک کو ان کے اچھے اعمال کا بدلہ اسی دنیا میں دے دیتا ہے اور ایمان والوں کے متعلق فرمایا کہ اللہ انہیں دنیا میں کھانے پینے کے لیے بھی دیتا ہے مگر جب وہ آخرت میں پہنچیں گے تو انہیں مکمل بدل ملے گا ، اور ایک ایک عمل کے بدلے میں اجر عظیم حاصل ہوگا۔ گویا اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو دنیا میں بھی دیتا ہے۔ کسی کو کم اور کسی کو زیادہ ، مگر کافروں کی نیکیوں کا سارا بدلہ انہیں اسی دنیا میں مل جاتا ہے ، اور وہ آخرت سے محروم رہتے ہیں کیونکہ آخرت کا دارومدار ایمان پر ہے۔ آخرت میں محرومی فرمایا (آیت) ” اولئک الذین لیس لھم فی الاخرۃ الا النار “ ایسے نافرمانوں ، کافروں اور مشرکوں کے لیے آخرت میں دوزخ کی آگ کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ (آیت) ” وحبط ما صنعوا فیھا “ اور انہوں نے دنیا میں جو کچھ کیا وہ ضائع ہوگیا۔ یعنی دنیا کے تمام اچھے کام آخرت کے اعتبار سے ضائع ہوگئے۔ آخرت میں ان کا کچھ صلہ حاصل نہ ہوگا کفر ، شرک ، نفاق اور بدعقیدگی انسان کے نیک اعمال کو ضائع کردیتی ہیں۔ اگر کوئی شخص ایمان لانے کے بعد مرتد ہوجائے تو اس کی ساری عمر کی نمازیں ، روزے ، حج اور زکوۃ سب بیکار گئے۔ اسی لیے فرمایا (آیت) ” وبطل ما کانوا یعملون “ ان کے تمام اعمال ضائع ہوگئے ، ان کا کچھ فائدہ نہ ہوا۔ سورة بی اسرائیل میں بھی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ومن اراد الاخرۃ وسعی لھا سعیھا وھو مومن فائولئک کان سعیھم مشکورا “ جس نے آخرت کے حصول کا ارادہ کیا اور پھر اس کے لیے کوشش اور محنت بھی کی اور ایمان کی دولت اس کے پاس ہے تو پھر ان کی محنت کی قدردانی کی جائے گی۔ ان کے اعمال کو پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور جو شخص ایمان سے خالی ہے۔ وہ کتنا بڑا نیکی کا کام کرے ، اس کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ تو فرمایا کفار ومشرکین کے پاس چونکہ ایمان نہیں ہے ، اس لیے ان کے تمام اچھے اعمال بھی ضائع ہوگئے اور آخرت میں انہیں دوزخ کی آگ کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
Ayah 11:17

اَفَمَنْ كَانَ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ وَ یَتْلُوْهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَ مِنْ قَبْلِهٖ كِتٰبُ مُوْسٰۤى اِمَامًا وَّ رَحْمَةً١ؕ اُولٰٓئِكَ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِهٖ مِنَ الْاَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهٗ١ۚ فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْهُ١ۗ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 11:17 in the Quran reader

بھلا وہ شخص جو واضح راستے پر ہو اپنے رب کی طرف سے اور آتا ہے اس کے ساتھ ایک گواہ اس (اللہ ) کی طرف سے اور اس سے پہلے موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب پیشوا اور رحمت تھی ، یہی لوگ ہیں جو اس پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور جو شخص کفر کرے گا اس کے ساتھ مختلف گروہوں سے ، پس (دوزخ کی) آگ اس کا ٹھکانہ ہے۔ پس نہ ہوں آپ شک میں اس کیطرف سے ۔ بیشک یہ برحق ہے تیرے پروردگار کی طرف سے لیکن اکثر لوگ ایسے ہیں جو ایمان نہیں لاتے

ربط آیات گذشتہ آیات میں قرآن کی حقانیت اور صداقت کا ذکر تھا۔ اللہ نے معترضین کو چیلنج کیا کہ اگر قرآن انسانی تخلیق ہے تو پھر تم بھی اس جیسی دس سورتیں ہی بنا کرلے آئو اور اس کام کے لیے دوسروں کو بھی شامل کرلو۔ پھر پتہ چل جائے گا کہ کیا کوئی انسانی ایسا کلام بنا سکتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اگر تم اس چیلنج کو قبول نہ کرسکو تو اچھی طرح جان لو کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے علم کے ساتھ اتاری گئی ہے فرمایا اس کتاب کا مرکزی مضمون توحید خداوندی ہے یعنی اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور نہ ہی کوئی قرآن جیسی کتاب لاسکتا ہے۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ تمہارا فرض ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی بسروچشم اطاعت کرو۔ واضح راستہ اب آج کی آیت میں قرآن کریم پر ایمان لانے والوں کا ذکر ہے اور ساتھ ساتھ منکرین کا انجام بھی بیان فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” افمن کان علی بینۃ من ربہ “ بھلا وہ شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے واضح راستے پر ہو ، وہ اس شخص کی طرح کیسے ہو سکتا ہے ، جو قرآۃ ن پاک کا منکر ہے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم نہیں کرتا۔ بینہ کا عام فہم معنی واضح چیز ہے جب کہ یہ لفظ قرآن پاک میں بعض دوسرے معانی میں بھی استعامل ہوا ہے۔ مثلا سورة بینہ میں یہ لفظ دو دفعہ آیا ہے اور وہاں اس سے پیغمبر (علیہ السلام) کی ذات مراد لی گئی ہے۔ بینہ کا لفظ معجزات کے لیے بھی آتا ہے اور اسے دلائل پر بھی محمول کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور فرامین کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ تا ہم ا س مقام پر بینہ کے معانی میں مفسرین فرماتے ہیں یہاں پر بینہ سے مراد وہ عقلی دلائل ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسان کو فطرۃ عطا فرمائے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے ” کل مولود یولد علی الفطرۃ “ ہر بچے کی پیدائش فطرت سلیمہ پر ہوتی ہے اور فطرت سلیمہ کا تقاضہ یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرے اور کفر وشرک سے باز رہے۔ چناچہ بعض حضرات فطرت سلیمہ کو عقل سلیم پر اور بعض اسے واضح دین پر محمول کرتے ہیں۔ غرضیکہ جو شخص فطرت سلیمہ پر ہے ، وہی عقل سلیم ، واضح دین اور واضح راستے پر ہے اور اسی کے متعلق کہا گیا ہے کہ ایسا شخص اس شخص کے برابر کیسے ہو سکتا ہے جو اللہ کی کتاب کو من گھڑت کہتا ہے اور اس پر ایمان نہیں لاتا۔ شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ بینہ سے مراد خود قرآن اور وہ دین ہے جسے قرآن اور نبی کی زبان نے پیش کیا ہے۔ فطرت سلیمہ کی تشریح میں امام ابوحنیفہ (رح) کا قول ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو نہ بھیجتا تو انسان سے شرک کا مواخذہ پھر بھی ہوتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ماننا عقلا بھی فرج ہے۔ مثال کے طور پر فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کسی ایسے دور دراز مقام پر رہتا ہو ، جہاں کوئی نبی ، رسول ہادی یا مبلغ خدا کا پیغام لے کر نہ پہنچے تو پھر بھی ایسا شخص شرک کی پاداش میں پکڑا جائیگا۔ اللہ فرمائے گا کہ اپنے وحدانیت کے لاکھوں دلائل میں نے تیرے اردگرد بکھیر رکھے تھے پھر تو نے اپنی عقل سلیم سے کام لیتے ہوئے اس کا کیوں نہ اقرار کیا اور شرک کا کیوں مرتکب ہوا ؟ فرماتے ہیں کہ ایسے شخص سے نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ جیسے احکام کے متعلق تو باز پرس نہیں ہوگی کیونکہ ان کی تفصیلات اس تک نہیں پہنچیں مگر شرک کا مواخذہ ضرور ہوگا کیونکہ توحید کو تسلیم کرنے کے لیے اس کے اردگرر بیشمار دلائل موجود تھے مگر اس نے اپنی عقل سلیم سے کام نہ لیا اور پکڑا گیا۔ لفظ شاھد کی توجہیات ایک تو اس شخص کا ذکر کیا جو اپنے رب کی طرف سے واضح راستے پر ہے اور دوسری بات یہ کہ (آیت) ” ویتلوا شاھد منہ “ ا س شخص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک گواہ بھی آتا ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس شاہد سے مراد قرآن کریم ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور فطرت سلیمہ کی شہاد ت دیتا ہے بعض مفسرین فرما تھے ہیں کہ گواہ سے مراد نبی کے معجزات ہیں جو خدا کی توحید کی گواہی دیتے ہیں۔ بعض کہتے ہی کہ نبی کا وجود مبارک اور آپ کا چہرہ انور گواہ ہے کہ اس کو دیکھ کر اللہ کی حدانیت کی سمجھ آجاتی ہے چناچہ حضرت عبداللہ بن سلام ؓ نے حضور ﷺ کے چہرہ انور کی نورانیت اور رونق کو پہلی نظر میں دیکھ کر ہی کہہ دیا تھا ” لیس ھذا الوجہ بوجہ الذاب “ (بخاری شریف) یعنی یہ چہرہ انور کسی جھوٹے شخص کا چہرہ نہیں ہو سکتا۔ غرضیکہ نبی کی ذات ، اس کی آواز ، اس کے معجزات اور آپ کی حیات سارے کے سارے خدا کی وحدانیت کے گواہ ہیں۔ مولانا روم (رح) بھی کہتے ہیں ۔ روئے او آواز پیغمبر معجز است یعنی نبی کا چہرہ انور اور آواز بھی ایک معجزہ ہے۔ حق پرست لوگ ایک ہی ملاقات میں حقیقت کو پالیتے ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ شاہد سے مراد دین کا وہ مزا اور نور ہے جو مومن اپنے اندر پاتا ہے۔ مومن اس دین حق پر ہوتا ہے جو قرآن وسنت میں مذکور ہے ، وہ اس پر یقین رکھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے۔ یہ خدا کی جانب سے مزید تائید ہے کہ مومن اپنے اندر قرآن پاک کی حلاوت محسوس کرتا ہے اور یہی اس کے لیے بطور گواہ ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ گواہ سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں جو کلام الٰہی کو پیغمبر خدا تک لانے پر مامور ہیں اور اسی مناسبت سے (آیت) ” یتلوہ “ کا ترجمہ تلاوت کرتا ہے “ کرتے ہیں۔ یعنی جبرائیل (علیہ السلام) یہ قرآن پاک اللہ کی جانب سے نبی کے پاس لا کر تلاوت کرتے ہیں۔ چناچہ بینہ کا اصل مصداق قرآن پاک ہے اور اس کو لانے والا جبرائیل (علیہ السلام) اس کے ساتھ گواہ ہے۔ توحید کا بیج مسلم شریف کی روایت میں حضور ﷺ کا فرمان موجود ہے (آیت) ” ان الامانۃ نزلت فی جزر قلوب الرجال “ یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کے دلوں کی اصل میں امانت کو نازل فرمایا ہے امانت سے انسان کی وہ صلاحیت مراد ہے جس کی وجہ سے وہ مکلف بنتا ہے اور ایمان قبول کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے توحید کا بیج ہر انسان کی فطرت میں بو دیا ہے۔ اسی لیے امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کے روح میں 19 مرکز ہیں۔ جب ایک مرکز کا پردہ اٹھایا جائے تو دوسرا مرکز سامنے آجاتا ہے ، جب دوسرے پردہ کو اٹھائیں تو تیسرا مرکز آجاتا ہے اور اسی طرح کل انیس مرکز بن جاتے ہیں اور پھر آخری مرکز کو حجر سحر کہا جاتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی تجلی اعظم کا عکس پڑتا رہتا ہے ، گویا ہر انسان کے دل میں تجلی اعظم کا عکس پڑ رہا ہے۔ پھر جب انسان کا یہ مادی خول اتر جائیگا تو سارے پردے کھل جائیں گے اور تجلی اعظم کی کشش انسان کو اوپر کی طرف کھینچے گی اور اگر انسان نے اس دنیا میں رہ کر کوئی کمال حاصل نہیں کیا۔ تو اس کی مادیت ، کفر ، شرک اور برائی اس کو نیچے کی طرف کھینچے گی اور اس کھینچا تانی میں انسان کو بڑی تکلیف اٹھانی پڑے گی۔ فرمایا ہر انسان کے قلب میں اللہ نے توحید کا بیج بویا ہے (آیت) ” علمو امن الکتب والسنۃ “ جس کی تفصیل لوگوں نے دنیا میں آکر کتاب وسنت سے معلوم کی اور یہی وہ واضح راستہ ہے جس کے متعلق فرمایا کہ کیا وہ شخص جو واضح راستے پر ہے اور پھر اس کے ساتھ ایک گواہ بھی ہے ، ایسے شخص کے برابر ہو سکتا ہے جو خدا کی توحید ، قرآن ، اور سنت کا منکر ہے۔ تورات بطور پیشوا اور رحمت فرمایا اس قرآن پاک سے پہلے (آیت) ” ومن قبلہ کتب موسیٰ “ موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تورات تھی (آیت) ” امام ورحمۃ “ جو کہ دنیا میں پیشوائی کرنے والے اور رحمت تھی۔ ظاہر ہے کہ آخری کتاب قرآن پاک سے پہلے دیگر کتب سماویہ ہی اپنے اپنے دور میں لوگوں کی پیشوائی کرتی تھیں اور انہیں ہدایت کا راستہ دکھاتی تھیں یہاں پر تورات کا ذکر ہے جسے آسمانی کتابوں میں بڑا مرتبہ حاصل ہے۔ اب اللہ کی آخری کتاب قرآن مجید ہے۔ جس کے احکام قیامت تک کے لیے قابل عمل ہیں۔ سورة انعام ، اعراف اور دیگر سورتوں میں اسے بھی رحمت کا لقب دیا گیا ہے۔ اس کی امامت اور پیشوائی کے متعلق حضور ﷺ نے دیا میں سکھایا ہے ” واجعلہ لی امام ونورا وھدی ورحمۃ “ اے اللہ ! قرآن پاک کو میرے لیے پیشوائی کرنے والا ، نور ، ہدایت اور رحمت بنا دے۔ چناچہ قرآن پاک میں ان دونوں کتابوں یعنی تورات اور قرآن مجید کے متعلق آتا ہے (آیت) ” قل فاتوا بکتب من عنداللہ ھو اھدی منھما “ (القصص) اگر تمہیں اس بات پر یقین نہیں ہے کہ کتب سماویہ اللہ نے انسانی راہنمائی کے لیے نازل فرمائی ہیں تو پھر کوئی ایسی اور کتاب لے آئو جو ان سے زیادہ راہنمائی کرنے والی ہو۔ بہرحال فرمایا جو کوئی ان کتب پر ایمان لا کر ان پر عمل پیرا ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے شامل حال ہوتی ہے۔ فرمایا (آیت) ” اولئک یومنون بہ “ یہی لوگ ہیں جو اس کے ساتھ ایمان رکھتے ہیں ، اس کتاب کو پیشوا اور مقتدا مانتے ہیں اور پھر عقل سلیم اور فطرت سلیمہ کے مطابق اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ منکرین کا انجام اس کے برخلاف (آیت) ” ومن یکفر بہ من الاحزاب “ جو کوئی کفر کرے گا اسکے ساتھ مختلف گروہوں سے ، کسی بھی پارٹی ، گروہ فرقہ یا مسلک سے تعلق رکھتا ہو ، جو انکار کرتا ہو (آیت) ” فالنار موعدہ “ تو اس کے وعدہ کی جگہ جہنم ہوگی ، ایسے شخص کے لیے دوزخ کا وعدہ کیا گیا ہے اور وہ وہیں پہنچے گا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص میرے بارے میں سن لے کہ محمد ﷺ دنیا میں تشریف لے آئے ہیں اور آپ نے ہدایت کا پروگرام پیش کردیا ہے۔ ایمان کی دعوت عام دے دی ہے۔ وہ خواہ یہودی ہو یا نصرانی یا کوئی مذہب رکھتا ہو ، پھر اگر وہ مجھ پر ایمان نہ لائے تو فرمایا (آیت) ” الا دخل النار تو وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ وہ کتنی بھی عبادت و ریاضت کرتا ہوصدقہ خیرتا کرتا ہو ، رفاہ عامہ کا کام انجام دیتا ہو مگر ایمان کے بغیر اس کی کوئی نیکی کام نہیں آئیگی اور ایسا شخص جہنم رسید ہوگا۔ حضرت سعید بن جبیر ؓ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے شاگرد اور مفسر قرآن ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ میں جب بھی کوئی حدیث رسول سنتا تو اس کا مصداق قرآن میں پاتا۔ ظاہر ہے کہ تمام صحیح احادیث کا مصداق قرآن میں موجود ہونا چاہیے۔ فرمایا کہ جب میں نے مذکورہ بالا حدیث سنی کہ حضور ﷺ پر ایمان لائے بغیر تمام یہودیوں اور نصرانیوں کو دوزخ میں جانا ہوگا تو میں نے اس کا مصداق قرآن میں تلاش کیا آخر کار اس حدیث کی مصداق مجھے یہی آیت نظر آئی (آیت) ” ومن یکفر بہ من الاحزاب فالنار موعدہ “ گویا ایمان سے محروم شخص کا تعلق کسی مذہب یا دنیا کے کسی خطے امریکہ ، روس ، فرانس اور جرمنی سے ہو اسے نجات حاصل نہیں ہوسکتی۔ وہ جہنمی ہے۔ حق من جانب اللہ فرمایا (آیت) ” فلا تک فی مریۃ منہ “ آپ کو اس بارے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہونا چاہیے۔ یہ خطاب تو حضور ﷺ کو ہے مگر آپ کو تو کسی شبہ کا احتمال نہیں ہوسکتا ، البتہ یہ بات عام لوگوں کو سمجھائی جا رہی ہے کہ اہل ایمان کو اللہ کی بات میں کوئی تردد نہیں ہونا چاہیے کہ قرآن پاک اللہ کا آخری پروگرام ہے اس کا انکار کرنے والا لازما جہنم میں جائے گا۔ فرمایا (آیت) ” انہ الحق من ربک “ یہ آپ کے پروردگار کی طرف سے حق ہے (آیت) ” ولکن اکثر الناس لا یومنون “ مگر اکثر لوگ ایمان قبول نہیں کرتے آج کی دنیا میں بھی یہی صورت حال ہے۔ لوگوں کی اکثریت ایمان سے محروم ہے۔ پوری دنیا کی آبادی کا پانچواں حصہ مسلمان ہیں اور باقی چار ارب انسان کفر وشرک کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ، انہیں ایمان نصیب نہیں ہے۔ لوگوں کی غالب اکثریت اپنے عقل وفہم سے بنائے ہوئے دین کو مانتے ہیں یا رسم و رواج کو ہی سینوں سے لگا رکھا ہے۔ یہ لوگ قرآن پروگرام کے قریب نہیں آتے بلکہ الٹا اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ لہٰذا حق وصداقت کا معیار اکثریت نہیں بلکہ ایمان ، توحید ، نیکی اور تقوی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں یہی واضح راستہ اختیار کرنے کی توفیق دے اور ساری دنیا اگر کفر وشرک میں غرق ہوتی ہے تو ہوتی رہے ، نجات کا راستہ صرف ایمان اور نیکی کا راستہ ہے۔
Ayahs 11:18–24

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ؕ اُولٰٓئِكَ یُعْرَضُوْنَ عَلٰى رَبِّهِمْ وَ یَقُوْلُ الْاَشْهَادُ هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ كَذَبُوْا عَلٰى رَبِّهِمْ١ۚ اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 11:18 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اللہ پر افترا باندھتا ہے جھوٹ۔ یہی لوگ ہیں جو پیش کیے جائیں گے اپنے رب کے سامنے اور کہیں گے گواہی دینے والے کہ یہ وہ ہیں کہ جنہوں نے جھوٹ بولا اپنے پروردگار پر سنو ! لعنت ہے اللہ کی ظلم کرنے والوں پر

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ؕ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 11:19 in the Quran reader

وہ جو روکتے ہیں اللہ کے راستے سے اور تلاش کرتے ہیں اس راستے میں کجی اور وہ آخرت کا انکار کرنے والے ہیں

اُولٰٓئِكَ لَمْ یَكُوْنُوْا مُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كَانَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ١ۘ یُضٰعَفُ لَهُمُ الْعَذَابُ١ؕ مَا كَانُوْا یَسْتَطِیْعُوْنَ السَّمْعَ وَ مَا كَانُوْا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 11:20 in the Quran reader

یہ لوگ ہیں کہ نہیں یہ عاجز کرسکتے زمین میں (اللہ کو) اور نہیں ہے ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی حمایتی دگنا کیا جائے گا ان کے لیے عذاب ، وہ نہیں طاقت رکھتے تھے سننے کی اور نہیں تھے وہ دیکھنے

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 11:21 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جنہوں نے نقصان میں ڈالا اپنی جانوں کو اور گم ہوجائے گا ان سے وہ جو افتراء کرتے تھے

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ Open ayah 11:22 in the Quran reader

ضرور بر ضرور بیشک یہ لوگ آخرت میں بہت نقصان اٹھانے والوں میں ہوں گے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخْبَتُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ١ۙ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 11:23 in the Quran reader

تحقیق وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے کام کیے اور جنہوں نے عاجزی کی اپنے رب کے سامنے ، یہی لوگ ہیں جنت والے وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے

مَثَلُ الْفَرِیْقَیْنِ كَالْاَعْمٰى وَ الْاَصَمِّ وَ الْبَصِیْرِ وَ السَّمِیْعِ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیٰنِ مَثَلًا١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 11:24 in the Quran reader

مثال دونوں فرقوں کی جیسا اندھا اور بہرہ اور دیکھنے والا اور سننے والا ہوتا ہے کیا یہ دونوں برابر ہیں مثالیں کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے

ربط آیات گذشتہ درس میں قرآن کی حقانیت اور پیغمبر خدا کے بارے میں تھا کہ جو خدا کی جانب سے واضح راستے پر ہو اور قرآن بطور شاہد بھی اس کے ساتھ ہو تو ایسے لوگ یقینا کامیاب ہیں۔ جس طرح سابقہ امت میں موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب پیشوائی کرنے والی تھی اور باعث رحمت تھی اس طرح قرآن پاک ہے۔ جو گروہ اور جماعتیں اس کا انکار کریں گی ، ان کے لیے دوزخ کی آگ تیار ہے ، وہی ان کے وعدے کی جگہ ہے کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ قرآن کریم تیرے پروردگار کی طرف سے برحق ہے مگر اکثر لوگ ایمان قبول نہیں کرتے ۔ افترا علی اللہ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے کفار ، مشرکین اور منکرین قرآن کی مذمت بیان فرمائی ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا “ اور اس سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ جھوٹ باندھنے کی مختلف صورتیں ہیں۔ اگر کوئی شخص اللہ کی کتاب یا اس کے رسول پر ایمان نہیں لاتا تو وہ بھی افتراء علی اللہ کا مرتکب ہے۔ اللہ کی ذات ، صفات یا عبادت میں اس کا شریک ثابت کرنا بھی اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے کیونکہ اس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی طرح جو شخص کوئی غلط دعوی کرتا ہے وہ بھی مفتری ہے جیسے مسیلمہ کذاب یا مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو انہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا کیونکہ اللہ نے تو انہیں نبی بنا کر نہیں بھیجا تھا۔ یہ ساری باتیں افتراء علی اللہ اور بہت بڑا جرم ہے۔ اللہ کے حضور پیشی اللہ پر جھوٹ باندھنے والوں فرمایا (آیت) ” اولئک یعرضون علی ربھم “ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ ایک دن آنے والا ہے جب سب کو اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہونا پڑے گا۔ (آیت) ” ویقول الاشھاد “ اور گواہی دینے والے کہیں گے (آیت) ” ھولاء الذین کذبوا علی ربھم ‘ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رب پر جھوٹ باندھا ۔ اور گواہی دینے والے اللہ کے فرشتے ہوں گے تو محافظ اعمال ہیں۔ ان میں کراما کاتبین اور بعض دوسرے فرشتے بھی ہو سکتے ہیں جیسا کہ سورة طارق میں اللہ نے فرمایا ہے (آیت) ” ان کل نفس لما علیھا حافظ “ ہر نفس پر نگران قوت مقرر ہے۔ یہ بھی گواہی ہو سکتے ہیں۔ ان کے علاوہ اللہ کے نبی بھی آدمی کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دینگے۔ جو اہل ایمان کسی کے متعلق جانتے ہوں گے وہ بھی شہادت دیں گے کہ فلاں نے اللہ پر جھوٹ باندھا تھا۔ اللہ کا فرمان ہے جس قطعہ زمین پر ہم عبادت کرتے ہیں یا گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں وہ قطعہ بھی بول کر گواہی دے گا ، غرضیکہ نیکی اور بدی کا ہر مقام اور شجر اور حجر بھی انسان کے حق میں یا خلاف گواہی دیں گے۔ انسان کے اپنے اعضاء جوارح کے متعلق سورة یسن میں موجود ہے (آیت) ” الیوم نختم علی افواھھم وتکلمنا ایدیھم وتشھد ارجلھم بما کانوا یکسبون “ اس دن ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور ان کے ہاتھ اور پائوں بول کر گواہی دیں گے کہ اس شخص نے فلاں فلاں جرم کیا تھا۔ کفر ، شرک ، اور معصیت کے سارے پول کھل جائیں گے۔ کسی کا حق غضب کیا ہے کسی کو تکلیف پہنچائی ہے ہر چیز کے متعلق گواہ پیش ہو کر بتادیں گے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے خدا تعالیٰ پر افتراء باندھا۔ انہوں نے اس ذات پر جھوٹ باندھا جو ان کی خالق ، پرورش کرنے والی ، نعمتیں بخشنے والی اور قائم رکھنے والی ہے۔ دیکھو ! انہوں نے کتنے بڑے جرم کا ارتکاب کیا پھر حکم ہوا (آیت) ” الا سنو ! (آیت) ” لعنۃ اللہ علی الظلمین “ ظلم کرنے والوں پر اللہ کی لعنت ہے۔ لعنت کا معنی خدا کی رحمت سے دوری ہے لہٰذا مفتری اشخاص اللہ کی رحمت کے قریب نہیں آسکیں گے بلکہ پھٹکار میں رہیٰں گے۔ اللہ کے راستے سے روکنے والے فرمایا (آیت) ” الذین یصدون عن سبیل اللہ “ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ وہ اپنے قول اور فعل سے کوشش کرتے ہیں کہ لوگ صحیح راستہ اختیار نہ کرین۔ اس کے علاوہ (آیت) ” ویبتغونھا عوجا “ اور اس راستے میں کجی تلاش کرتے ہیں ، اللہ کے صحیح راستے پر اعتراض کرتے ہیں ، خدا کے سچے دین میں شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں تا کہ لوگ اس سے بدظن ہوجائیں۔ فرمایا (آیت) ” وھم بالاخرۃ ھم کفرون “ وہ آخرت کا بھی انکار کرتے ہیں یعنی محاسبے اور جزائے عمل کے بھی منکر ہیں ، کہتے ہیں کہ نہ کوئی قیامت آئے گی اور نہ ہم سے ہمارے اعمال کی باز پرس ہوگی۔ اللہ نے فرمایا کہ کافر ، مشرک اور منکرین جو کچھ بھی کریں (آیت) ” اولئک لم یکونوا معجزین فی الارض “ یہ لوگ اللہ کے ارادے اور مشیت کو زمین میں عاجز نہیں کرسکتے اور نہ اس کی کسی سکیم کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ ایک دوسرے کے خلاف تو یہ سازش کر کے ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچتے رہتے ہیں کبھی کامیاب ہوجاتے ہیں اور کبھی ناکام ہوتے ہیں مگر اللہ کے ہاں ان کو کوئی غلط کوشش کامیاب نہیں ہو سکے گی۔ اسلام کے خلاف سازش اس وقت دنیا میں عیسائیوں آبادی اڑھائی ارب ہے جو کہ اسلام کے خلاف بیشمار سازشیں کر رہے ہیں ، پیغمبر خدا ، قرآن پاک اور دین حق کے پروگرام کو مغلوب کرنا چاہتے ہیں جس کے لیے بےانتہا دولت صرف کر رہے ہیں۔ عیسائی پادریوں نے اسلام پر بڑے اعتراض کیے ہیں۔ شکیب ارسلان اپنی کتاب ” حاضر العالم الاسلامی “ میں رقمطراز ہیں کہ یورپ اور امریکی عیسائیوں نے اسلام کے خلاف چھ لاکھ کتابیں اور رسالے لکھے ہیں جن میں قرآن کریم کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اسلام پر دوہرا وار کیا ہے ، دشمن کی حیثیت میں بھی اور دوست کی صورتیں میں بھی۔ مغربی مستشرقین ہمیشہ خیر خواہ کی صورت میں آتے ہیں اور تحقیق کے نام پر قرآن کی بیخ کنی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ لوگ پیغمبر (علیہ السلام) کی ذات کے متعلق شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تا کہ لوگ بدگمان ہو کر دین سے بدظن ہوجائیں اور آپ کی ذات پر ایمان نہ لائیں۔ یہ لوگ رفاہ عامہ کے کاموں کے ذریعہ بھی اہل ایمان میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سکول اور ہسپتال قائم کرتے ہیں اور ان کے ذریعے عیسایت کی تعلیم دیتے ہیں۔ ایڈ کے نام پر غلط نظریات بھی داخل کرتے ہیں۔ سکولوں میں بائیبل کی باقاعدہ تعلیم دی جاتی ہے۔ ہسپتالوں میں ہر صبح ہر مریض کے سرہانے بائیبل کی تلاوت کی جاتی ہے۔ ہسپتالوں میں ہر صبح ہر مریض کے سرہانے بائیبل کی تلاوت کی جاتی ہے ، انہیں عیسائیت کی خوبیوں سے آگاہ کیا جاتا ہے تا کہ وہ ایمان کو چھوڑ کر مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا تسلیم کرلیں۔ لیکن اس کے باوجود اسلام کی حقانیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ حکومتیں اگرچہ اسلام کی آبیاری سے چشم پوشی اختیار کیے ہوئے ہیں اور دولت مند اس کے خلاف ہیں مگر اسلام ہے کہ مسلسل پھیل رہا ہے۔ گذشتہ دو صدیوں میں انگریز کو دنیا میں سیاسی غلبہ حاصل رہا ہے اس دوران میں اس نے مسلمانوں کے دین ، قومیت ، اجتماعیت اور خلافت کو بگاڑنے کی ہر چند کوشش کی ہے مگر اسلام موجود ہے اور موجود رہے گا۔ قرب قیامت میں نزول مسیح (علیہ السلام) تک اسلام کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ یہ سچا دین ہے ، وہ اس کی مدد کرتا رہے گا اور اسے کوئی نہیں مٹا سکے گا۔ جہاں تک خود مسلمانوں کے کردار کا تعلق ہے ، وہ اسلام کی حمایت میں مخلص نہیں ہیں۔ دنیا بھر کی اسلامی حکومتیں اپنے اقتدار کے دوام کے لیے تگ ودو میں مصروف ہیں اور اسلام کی آبیاری ان کے نزدیک ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ اسلام کی دعویدار ایرانی حکومت نے اسلام کے نصب العین کے لیے کیا گیا ہے ؟ سعودی عرب میں ملوکیت کی حکومت ہے ان کی کچھ باتیں اچھی بھی ہیں جن کا احترام کیا جانا چاہیے مگر دوسری طرف اقتصادی نظام کا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ وہاں اسلامی نظام معیشت رائج ہے ؟ وہاں تو مغربی بنکاری نظام چل رہا ہے جس کی بنیاد سود پر ہے۔ بہرحال اسلام کا حامی صرف اللہ تعالیٰ ہے اور وہ کافی ہے۔ گذشتہ دو صدیوں میں انگریزوں نے اسلام کو مٹانے کی پوری کوشش کی ہے۔ اب اخباروں میں پڑھتے ہیں کہ یہودیوں نے قرآن کے تحریف شدہ نسخے ہزاروں کی تعداد میں تقسیم کیے ہیں۔ جب افریقہ میں ایسی کوشش کی گئی تو مصر کے ناصر مرحوم نے اس کا فورا نوٹس لیا ، ایک کمیٹی قائم کی جس نے قرآن پاک کے صحیح نسخے لاکھوں کی تعداد میں چھپوا کر تقسیم کیے تا کہ لوگ گمراہ نہ ہوں۔ اب معلوم ہوا ہے کہ یہودیوں نے تحریف شدہ نسخے پاکستان میں بھی بھیجے ہیں۔ یہ ساری کوشش کے راستے سے روکنے کے لیے جارہی ہے۔ خود مسلمانوں کا کردار بھی ایسا ہے جو اسلام کے راستے میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ بہت سے گمراہ فرقے وجود میں آگئے ہیں جو اپنے باطل عقیدے اور عمل سے لوگوں کو بدظن کر رہے ہیں۔ اگر اسلام یہی ہے جو یہ لوگ پیش کر رہے ہیں تو پھر اس کا اللہ ہی حافظ ہے۔ یہ تو خدا کے راستے سے روکنے والی بات ہے۔ مسلمانوں کو دنیا میں نہایت احتیاط کے ساتھ چلنا چاہیے اور کو ائی ایسا عقیدہ ، عمل اور کردار پر یش نہیں کرنا چاہیے جو اسلام کی بدنامی کا باعث بنے۔ منکرین کے لیے دوگنا عذاب فرمایا یہ لوگ زمین میں خدا کو عاجز نہیں کرسکتے اور یاد رکھو ! (آیت) ” وما کان لھم من دون اللہ من اولیاء “ اللہ کے سوا ان کا کوئی حامی نہیں ہے (آیت) ” یضعف لھم العذاب “ ان کے لیے دگنا عذاب ہوگا۔ ایک عذاب اس لیے کہ وہ خود کفر ، شرک اور معاصی کے مرتکب ہوئے اور دوسرا اس لیے کہ انہوں نے دوسروں کو بھی گمراہ کیا فرمایا (آیت) ” ماکانوا یستطیعون السمع وما کانوا یبصرون “ ان میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ وہ سچی بات کو سنتے اور یہ اس کو دیکھتے بھی نہیں مطلب یہ ہے کہ انہوں نے عقائد اور عمل کے اعتبار سے اپنے آپ کو ایسا بنا لیا تھا کہ وہ حقیقت کو سن سکتے تھے اور نہ دیکھ سکتے تھے (آیت) ” اولئک الذین خسروا انفسھم “ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو خسارے میں ڈالا (آیت) ” وضل عنھم ما کانوا یفترون “ اور جو کچھ وہ افتراء کیا کرتے تھے وہ سب گم ہو کر رہ گیا۔ قیامت کو پوچھا جائے گا کہ جن معبودانِ باطلہ کی تم پرستش کرتے تھے ، جن کو حاجت روا اور مشکل کشا مانتے تھے ، آج وہ کہاں گئے ؟ تم نبی کی رسالت اور خدا کی کتاب کو جھٹلاتے تھے ، آج تمہارے وہ دعوی کہاں گئے ؟ تم قیامت کا انکار کرتے تھے مگر وہ برپا ہوچکی ، یہ سارے افترا آج گم ہوگئے۔ فرمایا ” لا جرم “ یعنہ لا محالہ ، ضرور برضرور (آیت) ” انھم فی الاخرۃ ھم الاخسرون “ یہ لوگ آخرت میں بہت بڑا نقصان اٹھانے والے ہوں گے خاسر عام نقصان رسیدہ کو کہتے ہیں جب کہ ” اخسر “ بہت زیادہ نقصان اٹھانے والوں میں ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ بھی گمراہ ہوئے ، دوسروں کو بھی گمراہ کیا ، ان کے لیے اس سے بڑھ کر کیا خسارہ ہوگا کہ وہ ڈبل سزا کے مستحق ہوں گے۔ اہل ایمان کے لیے جنت قرآن پاک میں عام طور پر جہاں منکرین اور ان کے انجام کا ذکر ہوا ہے اس کے ساتھ اہل ایمان اور ان کے انعامات کا تذکرہ بھی ہے اس مقام پر بھی مفسرین کا ذکر کرنے کے بعد اللہ نے اہل ایمان کا ذکر کیا ہے (آیت) ” ان الذین امنوا “ بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے۔ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کیا۔ پھر اللہ کے رسول اور وحی الٰہی پر ایمان لائے ملائکہ پر یقین لائے۔ خدا کی تقدیر اور جزائے عمل کو تسلیم کیا ان سب باتوں کی دل سے تصدیق کی۔ (آیت) ” وعملوا الصلحت “ اور اس کے ساتھ ساتھ اعمال صالحہ بھی انجام دیے۔ بنیادی طور پر عبادات اربعہ نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰۃ نیک اعمال ہیں۔ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ جس شخص کا عقیدہ صحیح ہوگا اور وہ چار عبادات ادا کریگا ، وہ ضرور جنت تک پہنچے گا۔ اس کے علاوہ انسانی ہمدردی ، غریب پروری ، صدقہ خیرات وغیرہ سب نیک اعمال ہیں۔ فرمایا جو یہ انجام دیں گے (آیت) ” واخبتوا الی ربھم “ اور جنہوں نے اپنے پروردگار کے سامنے عاجزی کی ، پہلے گزر چکا ہے کہ کافر لوگ اکڑ دکھاتے تھے۔ اپنے آپ کو اعلی اور نبی کو حقیر سمجھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے کلام کو سچا تسلیم نہیں کرتے تھے۔ مگر اللہ نے فرمایا ، غرور وتکبر کی بجائے جنہوں نے خدا کے سامنے عاجزی کا اظہار کیا ، اس کی وحدانیت کو تسلیم کیا ، اس کے نبی اور قرآن پر ایمان لائے اور پھر اس کے سامنے خشوع و خضوع کیا (آیت) ” اولئک اصحب الجنۃ “ یہی لوگ جنت والے ہیں (آیت) ” ھم فیھا خلدون “ اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یاد رہے کہ اخبات یعنی عاجزی ان چار اخلاق میں سے ایک ہے جو تمام آسمانی شریعتوں میں بنی نوع انسان کے لیے ضروری قرار دیے گئے ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ وہ چار اخلاق ، طہارت ، سماحت ، اخبات اور عدالت ہیں ، جو کسی نبی کی شریعت میں منسوخ نہیں ہوئے اور ہم بھی ان کے پابند ہیں۔ تو یہاں پر عاجزی کرنے والوں کی اللہ نے تعریف بھی بیان فرمائی ہے۔ کہ جنت ان لوگوں کے لیے ہے جنہوں نے ایمان اور اعمال صالحہ کے ساتھ اپنے رب کے سامنے عاجزی بھی کی۔ نیک وبد کا تقابل آگے اللہ تعالیٰ نے نیک اور بد آدمی کا تقابل ایک مثال کے ذریعے کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” مثل الفریقین کا لاعمی والاصم “ دونوں گروہوں کی مثال ایسی ہے جیسے اندھا اور بہرہ (آیت) ” والبصیر والسمیع “ اور دیکھنے والا اور سننے والا۔ ایک گروہ وہ ہے جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ، ان کی مثال اندھے اور بہرے جیسی ہے جو نہ حق کو دیکھتے ہیں اور نہ اسے سنتے ہیں ، دوسرا گروہ ایمان نیکی اور عاجزی والا ہے جس کی مثال دیکھنے والے اور سننے والے کی ہے فرمایا (آیت) ” ھل یستوین مثلا “ کہا یہ دونوں گروہ برابر ہیں۔ ظاہر ہے کہ اندھا اور بینا برابر نیں ہو سکتے اور اسی طرح بہرہ اور سننے والا برابر نہیں۔ کافر لوگ اندھوں اور بہروں کی طرح ہیں جو نہ حق بات کو دیکھتے ہیں اور نہ سنتے ہیں۔ اس کے برخلاف مومن آدمی حقیقت کو دیکھتا بھی ہے اور اسے سنتا بھی ہے۔ اور حقیقت میں یہی چیز بصیرت کی طرف راجح ہے اللہ نے سورة حج میں فرمایا ہے (آیت) ” فانھا لا تعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور “ ان بد طینت لوگوں کی ظاہر آنکھیں اندھی نہی ہوتیں بلکہ ان کے دلوں کی آنکھیں اندھی ہوتی ہیں اور وہ بصیرت سے محروم ہوتے ہیں۔ وہ حقیقت کو پا ہی نہیں سکتے سورة اعراف میں گزر چکا ہے (آیت) ” وترھم ینظرون الیک وھم لا یبصرون “ آپ ان کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف تک رہے ہیں مگر حقیقت میں وہ نہیں دیکھتے۔ اگر دل کی آنکھوں سے دیکھتے تو نبی کی ذات کو پہچان لیتے ، حق کو پالیتے مگر ان کے دل کی آنکھیں اندھی ہیں اس لیے وہ حق کو دیکھ نہیں سکتے۔ ان کے دل کا کان بہرے ہیں جو اچھی بات کو نہیں سن سکتے۔ ہاں جس کے دل میں نور ایمان اور نور توحید ہے ، وہ اہل بصیرت ہے۔ ایسا شخص دین ِ حق کو فورا پہچان لیتا ہے۔ اور پھر حسب استطاعت اس پر عمل پیرا ہوجاتا ہے۔ فرمایا کہ ان دونوں کی مثالیں برابر ہو سکتی ہیں ؟ ہرگز نہیں (آیت) ” افلا تذکرون “ کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے ؟ کیا حق کی طرف تمہارا میلان نہیں ہوتا ؟ اب اگلی آیت میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر آرہا ہے جس کے متعلق سورة اعراف میں گزر چکا ہے (آیت) ” قوما عمین “ یہ ساری کی ساری قوم اندھی تھی۔ اس سورة میں بھی حضرت نوح (علیہ السلام) کی تبلیغ اور قوم کے انکار کی بات ہو رہی ہے۔