Ayahs 11:25–27تاریخ انبیاء
اس سورة کی پہلی آیت میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر تھا۔ پھر اس کی دوسری آیت میں توحید کا بیان ہے۔ (آیت) ” الا تعبدوا الا اللہ “ اے لوگو ! اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ اب آج سے شروع ہونے والے حصہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کی تاریخ کا ایک حصہ بیان فرمایا ہے۔ ہر نبی کی تعلیم میں یہ بات ذکر کی گئی کہ انہوں نے اپنی اپنی قوم سے فرمایا (آیت) ” یقوم اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ “ اے میری قوم کے لوگو ! صرف اللہ کی عبادت کرو کیونکہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ گویا اپنی وحدانیت کا درس دینے کے لیے اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے کئی انبیاء کا ذکر فرمایا ہے کہ انہوں نے فریضہ تبلیغ کو کس طرح ادا کیا ، عقیدہ توحید کو کس طرح لوگوں تک پہنچایا اور پھر لوگوں نے اپنے انبیاء کو یا جواب دیا اور ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ یہاں پر تاریخ انبیاء کا اہم ترین حصہ آگیا ہے۔
زمانہ قبل از نوح (علیہ السلام)
حضرت نوح (علیہ السلام) سے پہلے اللہ کے تین نبی گزرے ہیں۔ حضرت آدم (علیہ السلام) اس خطہ ارض پر پہلے انسان اور پ ہے نبی تھے۔ نسل انسانی یعنی آدمیت کا دور حضرت آدم (علیہ السلام) ہی سے شروع ہوا۔ آپ کے متعلق حضور ﷺ کا فرمان ہے (آیت) ” نبی معلم “ آدم (علیہ السلام) اللہ کے نبی ہیں جنکے ساتھ اللہ نے کلام کیا تھا۔ جب حضور سے دریافت کیا گیا کہ سب سے پہلے نبی کون ہیں تو آپ نے یہی جواب دیا تھا اور فرمایا تھا کہ آدم (علیہ السلام) ابو البشر یعنی تمام انسانوں کے باپ ہیں۔ آپ کے بعد آپ کے بیٹے شیش (علیہ السلام) اللہ کے نبی ہیں۔ اور پھر آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں کئی پشتوں کے بعد اللہ کے بنی ادریس (علیہ السلام) پیدا ہوئے پہلی کتابوں میں آپ کا نام اخنوخ بیان کیا گیا ہے۔ تاہم نوح (علیہ السلام) سے پہلے شیث (علیہ السلام) کی ملت میں صرف بنیادی عقائد توحید وغیرہ تھے۔ اس کے علاوہ طہارت ، نماز ، روزہ وغیرہ عبادات بھی تھیں مگر تفصیلی شرعی احکام نہیں تھے ، بلکہ زیادہ تر دنیا کی آبادی کے مسائل تھے۔ پھر جب ادریس (علیہ السلام) کا دور آیا تو صاحب تفسیر مدراک کے مطابق اللہ تعالیٰ نے آپ کو وحی کے ذریعے دنیا کی آبادی کی ضروریات کی بہت سی چیزیں سکھائی۔ چناچہ کپڑے سینے کی سوئی اور دیگر اوزارا دریس (علیہ السلام) نے ایجاد کیے۔ اللہ نے ان پر کئی صحیفے نازل فرمائے۔ ظاہر ہے کہ ان میں بنیادی عقائد کی تعلیم تو ضرور ہوگی جن میں توحید ، طہارت ، نماز ، روزہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ کھیتی باڑی میں استعمال ہونے والے آلات ، ظروف سازی اور پارچہ بانی بھی شامل ہیں۔ البتہ تفصیلی شرعی احکام نوح (علیہ السلام) کے زمانے سے شروع ہوئے۔
نوح (علیہ السلام) کا دور
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولقد ارسلنا نوحا الی قومہ “ ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر قرآن پاک کی متعدد سورتوں اعراف ، یونس ، ہود اور صفت وغیرہ میں موجود ہے۔ اس مقام پر آپ کی تبلیغ کے متعلق کافی تفصیلات ہیں۔ اور پھر آپ کے نام پر ایک مستقل سورة نوح بھی ہے جس میں مکمل طور پر آپ ہی کا ذکر ہے۔ اسی طرح سورة یوسف پوری کی پوری حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعات پر مشتمل ہے۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ جسمانی طور پر بڑے طاقتور تھے گویا نسل ِ انسانی کی جوانی کا آغاز تھا۔ آپ کی قوم میں بیمیت کا بہت زیادہ غلبہ تھا ، اسی لیے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو بارہ مہینے روزے رکھنے کا حکم تھا۔ تا کہ ان کی بہیمیت کو کمزور کیا جاسکے۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ آپ جہاں کہیں بھی پڑھیں کہ فلاں قوم کو زیادہ روزے رکھنے کا حکم تھا۔ تو اس کا مطلب یہی ہوگا کہ اس قوم کے لوگوں میں بہیمیت بہت بڑھی ہوئی ہوگی جسے توڑنے کے لیے ریاضت کی ضرورت تھی تو اللہ نے انہیں روزے رکھنے کا حکم دیا ہوگا۔ ہماری اس آخری امت میں بہیمیت ویسے ہی کمزور ہے لہٰذا ان پر زیادہ مشکل احکام نہیں ڈالے گئے بلکہ ان کے لیے عبادت وریات کو آسان بنا دیا گیا ہے کہ یہ اپنی جسمانی کمزوری کے ساتھ ان احکام پر آسانی سے عمل کرسکیں۔
بہرحال حضرت نوح (علیہ السلام) روئے زمین پر اللہ کے سب سے پہلے رسول ہیں جن پر مستقل شریعت نازل ہوئی اور آپ نے لوگوں کو مسائل اور احکام دینیہ کی باقاعدہ تعلیم دی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ قیامت کے دن جب لوگ سفارش کے لیے مختلف انبیاء (علیہم السلام) کے پاس جائیں گے تو وہ حضرت نوح (علیہ السلام) سے عرض کریں گے ” یا نوح انک اول الرسل الی اھل الارض “ یعنی اے نوح (علیہ السلام) ! آپ اہل زمین کی طرف اللہ کے اولین رسول ہیں جنہیں مستقل شریعت اور احکام دیے گئے اور پھر جب لوگوں نے ان احکام کی نافرمانی کی تو انہیں سزا بھی دی گئی۔ آپ سے پہلے کسی قوم کو سزا نہیں ملی۔ یہ پہلی قوم ہے جو اللہ کے عذاب کے مستحق بنی لہٰذا اس واقعہ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضرت نوع (علیہ السلام) کے والد کا نام لمک یا ملک تھا۔ آپ متوشلخ کے فرزند تھے اور متوشلخ حضرت ادریش (علیہ السلام) کے بیٹے تھے۔ جب حضرت نوح (علیہ السلام) کی عمر چالیس سال کی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت و رسالت سے سرفراز فرمایا۔ اس کے بعد نو سو پچاس برس تک لوگوں کو دین حق کی تبلیغ کرتے رہے۔ سورة عنکبوت میں ہے کہ ہم نے نوح (علیہ السلام) کر ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا (آیت) ” فلبث فیھم الف سنۃ الا خمسین عاما “ آپ ان کو پچاس کم ہزار سال تک تبلیغ کرتے رہے۔ سورة نوح میں آپ کے طریقہ تبلیغ کا ذکر بھی موجود ہے آپ نے رات اور دن میں کوئی موقع ضائع نہیں کیا۔ آپ لوگوں کے پاس تنہائی میں بھی گئے اور عام مجمعوں میں بھی فریضہ تبلیغ انجام دیتے رہے آپ نے ترغیب اور ترہیب دونوں طریقوں سے تبلیغ کی۔ آپ نے اتنا لمبا عرصہ گزارا کہ اس دوران میں کئی نسلیں بدل گئیں۔ مگر قوم کے بہت تھوڑے لوگ ایمان لائے ، ان کی غالب اکثریت آپ کی مخالف رہی اور آپ کو طرح طرح کی تکالیف پہنچاتی رہی۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا حضرت نوح (علیہ السلام) کو چالیس سال کی عمر میں نبوت ملی۔ آپ نو سو پچاس سال تک تبلیغ کرتے رہے اور اس کے بعد آپ کی قوم پر عذاب آیا جس کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے طوفان نوح کسی خاص علاقے تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ عالمی طوفان تھا جو ساری دنیا میں آیا بعض کہتے ہیں کہ یہ طوفان دریائے دجلہ اور فرات کے درمیانی دوآبہ تک محدود رہا ، تا ہم اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اہل ایمان اسی مردوزن کے علاوہ روئے زمین پر کوئی بھی انسان زندہ نہ بچا۔ نوح (علیہ السلام) کی بیوی اور ایک بیٹا بھی طوفابن میں ڈوب گئے۔ آپ کے تین بیٹے مومن تھے وہ زندہ بچ گئے۔ اس طوفان کے بعد نوح (علیہ السلام) ساٹھ برس تک مزید زندہ رہے اور آپ کی وفات واقع ہوگئی۔ اس طرح آپ کی کل عمر ایک ہزار پچاس سال بنتی ہے۔
آغاز تبلیغ
فرمایا ، ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کی طرف رسول بنا کر بھیجا تو آپ نے تبلیغ کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” انی لکم نذیر مبین “ اے لوگو ! میں تمہارے لیے ڈر سنانے والا ہوں کھول کر ۔ یعنی میں تمہیں تمہارے برے انجام سے واضح طور پر خبردار کر رہا ہے۔ حضور ﷺ نے بھی ایک موقع پر فرمایا تھا ” انا النذیر العریان “ میں برہنہ نذیر ہوں یعنی ڈرانے والا ہوں۔ عربوں کا یہ دستور تھا کہ دشمن کی طرف سے حملہ کے وقت یا کسی دیگر شدید خطرے کے موقع پر اطلاع دینے والا آدمی کسی اونچی جگہ پر چڑھ جاتا ، اپنے کپڑے پھاڑ کر نیزے پر لٹکا لینا اور بالکل برہنگی کی حالت میں واصبا حاہ کا اعلان کرتا۔ اس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ لوگو ! دشمن سر پر آگیا ہے۔ لہٰذا اپنی فکر کرلو۔ جب لوگ یہ اعلان سنتے اور اعلان کرنے والے کو اس حالت میں دیکھتے تو فورا اپنے بچائو کا انتظام کرلیتے۔ اسی دستور کے مطابق حضور ﷺ نے بھی فرمایا کہ لوگو ! میں تمہارے لیے برہنہ نذیر ہوں۔ تمہیں خدا تعالیٰ کے عذاب سے خبردار کر رہا ہوں ، لہٰذا اپنا بچائو کرلو ، حضرت نوح (علیہ السلام) نے بھی یہی فرمایا کہ میں تمہارے لیے واضح ڈرانے والا ہوں ، میری بات مان لو اور خدا کے عذاب سے بچ جائو۔
توحید باری تعالیٰ
آپ نے قوم کو سب سے پہلا سبق دیا (آیت) ” ان لا تعبدوا الا اللہ “ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ عقیدہ توحید دین اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے اور دین کی پوری عمارت اسی عقیدہ کے گرد گھومتی ہے۔ عبادت بدنی ہو یا مالی ، قولی ہو یا فعلی ، نذر ونیاز ہو یا سجدہ تعظیم ، اللہ کے سوا کسی کے لیے روا نہیں۔ غیر اللہ کی عبادت شرک اور خدا کے ساتھ بغاوت ہے۔ اس سورة کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی زبان سے جو تین باتیں کہلوائی ہیں ، ان میں بھی یہی ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، اللہ سے معافی مانگو اور اس کے سامنے توبہ کرو۔ غرضیکہ اسی عقیدہ توحید کی تبلیغ کے لیے اللہ نے سارے نبی مبعوث فرمائے ، اس فریضہ کو انبیاء نے کس طرح انجام دیا ، اس کی تفصیلات پڑھنے سے انبیاء کی اولو العزمی اور ان کی تکالیف برداشت کرنے کا حال معلوم ہوتا ہے۔ تمام انبیاء نے اپنی اپنی قوموں کو توحید کی دعوت دی ، کفر وشرک کی مذمت بیان کی اور لوگوں کو ان کے برے انجام سے آگاہ کیا۔
توحید کی دعوت دیتے وقت حضرت نوح (علیہ السلام) نے قوم کو یہ بھی بتایا (آیت) ” انی اخاف علیکم عذاب یوم الیم “ میں تم پر دردناک دن کے عذاب سے خوف کھاتا ہوں۔ قرآں پاک میں عام طور پر عذاب الیم یا عذاب عظیم کا ذکر آتا ہے مگر اس مقام پر یوم الیم کے الفاظ آئے ہیں۔ بظاہر دن تو دردناک نہی ہوتا تا ہم اطلاق مجازی کے طور پر اس کا معنی یہ ہوگا کہ ایسا دن جس دن برا دکھ اور تکلیف ہوگی اور وہ قیامت کا دن ہے جسے یوم عظیم یعنی بڑادن بھی کہا گیا ہے ۔ فرمایا۔ میں اس دن کی مشکلات سے ت میں ڈراتا ہوں جس دن بڑا دکھ اور درد ہوگا۔ یہ نوح (علیہ السلام) کی تقریر کا پہلا حصہ ہے اور اس کے بعد قوم کا جواب آرہا ہے۔ آپ کی تقریر کا باقی حصہ آگے آئیگا۔
قوم کا جواب
نوح (علیہ السلام) کی دعوت توحید کے جواب میں (آیت) ” فقال الملا الذین کفروا من قومہ “ آپ کی قوم میں سے کفر کرنے والوں کے سربرآوردہ لوگوں نے جواب دیا (آیت) ” ما نرئک الا بشرا مثلنا “ ہم تو تمہیں اپنے جیسا انسان خیال کرتے ہیں اے نوح (علیہ السلام) تم یہ نبوت کا دعویٰ کیسے کر رہے ہو ، ہماری طرح کھاتے پیتے ہو ، لباس پہنتے ہو ، بازاروں میں چلتے پھیرتے ہو ، بیوی بچے رکھتے ہو ، بھلا تم نبوت اور شریعت کی بات کیسے کرتے ہو۔
کفار ومشرکین ہمیشہ اس غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں کہ کوئی انسان نبوۃ و رسالت کے منصب پر فائز نہیں ہوسکتا ۔ کہتے تھے کوئی فرشتہ ، جن یا کوئی دیگر مخلوق ہو تو ہم نبی مان لیں مگر اپنے جیسے انسان کو نبی نہیں مان سکتے سورة قمر میں قوم ثمود کے واقعہ میں آتا ہے (آیت) ” فقالوا ابشرا منا واحدا نتبعہ “ کہنے لگے کیا ہم اپنے میں سے ایک انسان کے پیچھے لگ جائیں اگر ایسا کریں گے (آیت) ” انا اذا لفی ضلٰل وسعر “ تو ہم گمراہی اور دیوانگی میں پڑجائیں گے۔ صالح (علیہ السلام) میں ہم سے زیادہ کون سے خوبی ہے جس کی بناء پر اسے اللہ کا نبی تسلیم کرلیں مکہ کے مشرکین بھی یہی کہتے تھے کہ اے محمد ! تو تو ہمارے جیسا انسان ہے ہم تمہیں کیسے رسول مال لیں ؟ نبوت ملتی تو مکہ اور طائف میں سے کسی بڑے آدمی کو ملتی جو صاحب حیثیت ہوتا۔ جس کے پاس مال و دولت اور باغات ہوتے ، کوٹھی اور نوکر چاکر ہوتے ، بھلا ایک نادار آدمی کو ہم کیسے نبی مان لیں ؟
بشریت انبیاء (علیہم السلام)
انسان ہونا اور پھر غریب ہونا ، یہ دونوں باتیں نبی کو تسلیم کرنے میں ہمیشہ رکاوٹ رہی ہیں۔ اس کا جواب اللہ نے قرآن پاک میں مختلف طریقوں سے دیا ہے۔ کہیں فرمایا۔ کوئی سمجھ داری کی بات کرو ، اگر زمین میں فرشتے ہوتے تو ہم فرشتوں کو رسول بنا کر بھیج دیتے۔ جب زمین میں انسان آباد ہیں تو پھر ان کے پاس رسول بھی انسانوں میں سے ہی آئے گا ظاہر ہے کہ کسی حکم پر عمل درآمد کے لیے نمونے کی ضرورت ہے اور ایک انسان کے لیے انسان ہی نمونہ ہو سکتا ہے اگر انسان کی راہنمائی کے لیے کسی جن یا فرشتے کو رسول بنا کر بھیجا جائے تو وہ کیسے اقتداء کرسکیں گے۔ جنات انسان کی نسبت بڑی طاقتور مخلوق ہے ، اسی طرح فرشتے بھی دوسری مخلوق ہیں ، انہیں کھانے پینے کی ضرورت نہیں ، وہ مشکل کام بھی کرسکتے ہیں ، مگر ہم ان کی پیروی کیسے کرسکتے ہیں ؟ اتباع تو جبھی ہوگاجب اپنے جیسا آدمی کوئی کام کر کے دکھائے۔ جب مدینہ کے گرد خندق کھودی جارہی تھی تو صحابہ کرام ؓ نے حضور ﷺ سے بھوک کی شکایت کی اور اپنے پیٹ پر ایک ایک پتھر بندھا ہوا بھی دکھایا۔ حضور نے فرمایا کہ بھوک مجھے بھی لگ رہی ہے اور میں نے اپنے پیٹ پر دو پتھر باندھے ہوئے ہیں۔ گویا انسان نبی نے دوسرے انسانوں کے لیے نمونہ پیش کردیا ، فرشتے تو ایسا نمونہ پیش نہیں کرسکتے۔ چناچہ حضور ﷺ کی یہ حالت دیکھ کر صبر آگیا اور انہوں نے بھوک کی دوبارہ شکایت نہیں کی۔
نبی کی نبوت اور بشریت کے مسئلہ میں پرانے زمانے کے کافر اور موجودہ دور کے بدعتی برابر ہیں۔ وہ بشر مانتے تھے اور نبوت کا انکار کرتے تھے جب کہ یہ نبی مانتے ہیں اور بشریت کا انکار کرتے ہیں۔ آج کے مسلمانوں نے نبی کو انسانیت کی نوع سے نکال کر نوری مخلوق میں داخل کردیا ہے اور پھر خود ہی ” نور من نور اللہ “ کا عقیدہ وضع کرلیا ہے ، یہ دونوں طبقے گمراہی میں مبتلا ہیں۔ نبی نور ہدایت تو ہو سکتا ہے مگر اس کو انسانیت سے خارج نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وہ انسانوں ہی کی راہنمائی کے لیے آتا رہا ہے۔
انسانوں کے درجات
ہاں ایک بات ضرور ہے کہ سارے درجات کے لحاظ سے ایک جیسے نہیں ، نبی ، صدیق ، شہید اور صالح انسانوں ہی کے مختلف درجات ہیں۔ ایک نیک اور بد آدمی برابر نہیں ہوسکتے۔ عالم اور جاہل بھی برابر نہیں اسی لیے مولانا روم فرماتے ہیں
نیستند آدم خلاف آدم آند
یعنی بعض لوگوں کی شکل و صورت آدمیوں جیسی ہے مگر حقیقت میں وہ آدمی نہیں ہیں۔ بلکہ آدمیت کا خلاف اوڑھا ہوا ہے۔ اندر سے وحشی اور درندے ہیں ۔ انسان انسان میں بھی فرق ہوتا ہے۔ کافروں کی اس بات کو مولانا روم نے اپنی حقائق کی زبان میں اس طرح سمجھایا ہے
ہمسری باانبیاء برداشتند
اولیا راہم چوخود پنداشتند
منکر لوگوں نے انبیاء کی ہمسری کی کہ ہم بھی انہی کی طرح انسان ہیں اسی طرح اولیاء اللہ کو بھی اپنے جیسے مقرب خیال کیا۔
اور پھر ان کی دلیل یہ تھی
گفتہ ایں نک مابشر ایشاں بشر
ما وایشاں بستہ خوبیم وخور
ہم بھی انسان ہیں اور یہ بھی انسان ہیں ہماری طرحی یہ بھی کھاتے پیتے اور سوتے ہیں لہٰذا ہم ان کو نبی نہیں مان سکتے۔
این نہ دانستند ایشاں از عمیٰ
درمیان فرق بود بےمنتہیٰ
اندھے پن کی وجہ سے انہوں نے اس بات کو نہ جانا کہ دو آدمیوں کے درمیان زمین وآسمان کا فرق ہوتا ہے
ہر دوگون زنبور خورد ازیک محل
۔۔ یکے شد زہر وزاں دیگر عسل
دو مکھیاں ایک ہی جگہ سے ایک ہی پھول کا رس چوستی ہیں مگر بھڑ زہر پیدا کرتی ہے اور شہد کی مکھی شہد پیدا کرتی ہے۔
ہر دوگوں آہو گیا خوردندوآب
زاں یکے شد خون از دیگر مشک ناب
دو ہرنیاں ایک جگہ سے گھاس چیرتی اور پانی پیتی ہیں مگر ایک میں خون پیدا ہوتا ہے اور دوسرے میں کستوری۔
آں دونے خوردند ازیک آب خور
ایں یکے خالی و دیگر پر شکر
دو کا نے ایک ہی پانی سے سیراب ہوتے ہیں ۔ ایک کانا خالی رہتا ہے (صرف قلم وغیرہ بنانے کے کام آتا ہے) جب کہ دوسرا کانا یعنی گنا شکر سے بھر جاتا ہے۔
صد ہزاراں ہم چنیں اشبائرہ بین
فرق شاں ہفتاد سالہ راہ بین
ہزاروں مثالیں ایسی دیکھ لو کہ ان کے درمیان فرق ہوگا کہ ستر سال کی مسافت بھی طے ہوجائے تو پھر بھی وہ آپس میں نہ مل سکیں۔
بہرحال انبیاء (علیہم السلام) انسان ہوتے ہوئے بھی بڑے فضل والے ہوتے ہیں اللہ نے انہیں بڑا کمال عطا کیا ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ باقی نوع کی راہنمائی کا فریضہ انجام دیتے ہیں ان کے دل نور ایمان سے روشن ہوتے ہیں۔ ان کا ہر قول ، فعل ، حرکت اور سکون خدا تعالیٰ کی رضا کے تابع ہونا ہے۔ مگر ہوتے انسان ہی ہیں ، روٹی کھاتے ہیں ، لباس پہنتے ہیں ، شادی کرتے ہیں ، بیمار ہوتے ہیں ، دشمنوں سے جہاد کرتے ہیں۔ کبھی ان کو ہلاک کرتے ہیں ، کبھی خود شہید ہوجاتے ہیں مگر دائرہ انسانیت سے خارج نہیں ہوتے۔
مشرکین کا دوسرا اعتراض
حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا پہلا اعتراض یہ تھا کہ اے نوح (علیہ السلام) ہم تو تمہیں اپنے جیسا انسان خیال کرتے ہیں اور دوسرا یہ (آیت) ” وما نرئک اتبعک الا الذین ھم اراذلنا “ ہم نہیں دیکھتے آپ کا اتباع کرتے مگر ہم میں سے رذیل لوگ ، اگر آپ کا اتباع کوئی کھاتے پیتے امیر کبیرلوگ کرتے تو ہم آپ کے دعوی پر غور کرسکتے تھے۔ مگر آپ کے متبعین تو کمی کمین لوگ ہیں ، لہٰذا ہم اعلیٰ خاندان والے تمہاری نبوت کو تسلیم نہیں کرسکتے۔ کہنے لگے آپ کے پر وکار صرف رذیل لوگ ہی نہیں بلکہ (آیت) ” بادی الرء ی “ ہیں یہ لوگ سرسری رائے رکھتے ہیں ، کسی پختہ رائے کے مالک نہیں ہیں ، لہٰذا جس شخصیت کو ایسے کمزور لوگوں نے نبی مانا ہے ، ہم اسے نبی ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کی بےنصیبی یہ تھی کہ وہ مال و دولت ، جاہ و حشمت اور حسب نسب کو ہی کمال کی بنیاد سمجھ رہے تھے حالانکہ اللہ کے ہاں کمال اور کامیابی کا معیار ایمان اور نیکی ہے۔ مغرور لوگوں کی ہمیشہ سے یہ خصلت رہی ہے کہ وہ اہل حق کو حقیر جان کر ان کی مخالفت کرتے ہیں ، ان کا تمسخر اڑاتے ہیں جب پاس سے گزرتے ہیں تو کہتے ہیں۔ دیکھو ! یہ جنت کے وارث اور حوروں کے خاوند جار ہے ہیں جن کے پاس رہنے کے لیے چھونپڑی نہیں ، کھانے کے لیے خوراک نہیں اور پہننے کے لیے لباس سے محروم ہیں ، مگر حقیقت میں یہی وہ لوگ تھے جن کا عقیدہ درست اور اخلاق برگزیدہ تھا ، جن کا عمل صحیح تھا۔ اور جو ایمان ، نیکی اور تقوی کی دولت سے مالا مال تھے۔ اور اللہ کے ہاں انہیں کمال حاصل تھا۔
کامیابی کا مدار
الغرض ! کامیابی کا مدار مال و دولت اور حسب نہیں۔ اگر فلاں کا معیار یہ چیزیں ہوتیں تو مکہ میں امیہ بن خلف ، مغیرہ اور ابو جہل جیسے سردار موجود تھے ، طائف میں حبیب ، مسعود اور عبد یا لیل صاحب حیثیت تھے مگر اللہ کے نزدیک وہ جہنم کے کندہ تاتراش ہیں ، دولت تو فرعون کے پاس بھی بہت ذیادہ تھی ، گزشتہ سورة میں گزر چکا ہے کہ وہ سونے کی زرہ پہنتا تھا۔ اس کے خیمے سونے کے کیلوں سے گاڑھے جاتے تھے ایسی ایسی عمارات اور مقبرے بنائے تھے جنہیں دیکھ کر انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے مگر وہ بھی جہنم گیا ، لہٰذا کسی کو حقیر نہیں جاننا چاہیے۔ اکرام مسلم بہت بڑی حقیقت ہے۔ مومن ہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کا احترام کرو ، مال لباس ، مکان اور جائداد کو سلام نہ کرو بلکہ ایمان اور نیکی کو دیکھو۔ یہ نبیوں کی تعلیم ہے۔ مومنوں کو حقیر جاننا کافروں کا کام ہے یہ مسلمانوں کا شیوہ ہرگز نہیں۔ بعض لوگ ایک دوسرے کو پیشے کی وجہ سے مطعون کرتے ہیں کہ فلان دھوبی ، انائی یا لوہار ہے۔ بھائی کوئی حلال پیشہ حقیر نہیں۔ البتہ حرام پیشے ممنوع ہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے جو شخص اپنے آبائو اجداد پر فخر کرتا ہے اسے باز آجانا چاہیے ورنہ ایسا آدمی ایسے کپڑے سے بھی زیادہ ذلیل ہوگا جو غلاظت کی گولیاں بنا بنا کر اپنی ناک سے لڑھکاتا پھرتا ہے۔ ” الناس کل ابناء ادم “ سارے لوگ آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں۔ فرمایا مجھے خطرہ ہے کہ میری امت کے لوگ ستارہ پرستی کریں گے اور ایک دوسرے کے نسب پر طعن کریں گے۔ اپنے آپ کو بڑا اور دوسرے کو حقیر جاننا مشرکین کا کام ہے۔ مشرکین نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے یہ بھی کہا (آیت) ” وما نری لکم علینا من فضل “ ہم آپ میں اپنے اوپر کوئی بڑائی نہیں دیکھتے تم ہم سے کسی طرح بھی بہتر نہیں ہو۔ نہ مال و دولت کے اعتبار سے ، نہ نوکر جا کر باغات اور جائداد کے اعتبار سے (آیت) ” بل نظنکم کذبین “ بلکہ ہم تو تمہیں چھوٹا خیال کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک تمہارا دعوی نبوت درست نہیں ہے مشرکین کی طرف سے یہ باتیں نوح (علیہ السلام) کی پہلی تقریر کے جواب میں آئیں۔۔ آگے مزید تقریر اور سوال جواب اور واقعہ کی مزید تفصیلات آرہی ہیں۔
Ayahs 11:28–31نبی کی وجہ امتیاز
جب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو دعوت توحید دی (آیت) ” ان لاتعبدوا الا اللہ “ اے لوگو ! اللہ کے سوائے کسی کی عبادت نہ کرو۔ اگر غیرا للہ کی عبادت سے باز نہیں آئو گے تو سخت دن کی گرفت میں آجائو گے۔ اس پر قوم کے لوگ کہنے لگے کہ اے نوح (علیہ السلام) ! تم تو ہمارے جیسے ہی انسان ہو اور تمہارے پیچھے چلنے والے کمی کمین لوگ ہیں جو سرسری رائے رکھنے والے بےعقل لوگ ہیں ، ان کی موجودگی میں ہم تمہیں کیسے نبی مان لیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ تمہیں ہم پر کوئی فضیلت بھی حاصل نہیں جس کی وجہ سے ہم تمہاری سیادت کو تسلیم کرلیں ، ہم تو تمہیں دعوی نبوت میں جھوٹا خیال کرتے ہیں ، ان کا مطلب یہ تھا کہ نبی اور عام لوگوں میں کوئی واضح امتیاز ہونا چاہیے ۔ یہ مطالبہ تو ان کا درست تھا کہ نبی کو پوری امت میں نمایاں حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ مگر وہ وجہ امتیاز میں غلطی کرتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ عام لوگوں کی نسبت مال و دولت کی فراوانہ ہونی چاہیے۔ اس کے نوکر چاکر ہوں ، کوٹھی اور بنگلہ ہو ، اس کے پاس فوج ہو مگر وہ اس بات کو بھول جاتے تھے کہ نبی کا امتیاز اس وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ نبی اپنی پوری امت میں اپنے اعلیٰ اخلاق ، تقوی ، نیکی ، خدا پرستی اور انسانی ہمدردی کی وجہ سے ممتاز ہوتا ہے۔ یہ اعلیٰ اقدار ہر نبی کا طرہ امتیاز ہوتے ہیں۔ نبی کا علم اور عمل اسے ممتاز کرتا ہے۔ البتہ نبی کی شکل و صورت انسانوں جیسی ہی ہوتی ہے۔ وہ بھی کھاتا پیتا ہے ، کاروبار کرتا ہے ، بیوی بچوں کی پرورش کا ذمہ دار ہوتا ہے وہ لوگوں سے میل جول رکھتا ہے ، اس کے بھی رشتہ دار ہوتے ہیں مگر وہ اپنے اعلیٰ اخلاق اور اعلیٰ اعمال کی بدولت سب سے اشرف ہوتا ہے۔ نبی عبادت و ریاضت میں بھی ساری امت پر فوقیت رکھتا ہے اور صفات کمال کا مالک ہوتا ہے۔ یہی اس کی وجہ امتیاز ہوتی ہے نہ کہ دنیاوی مال و دولت اور جاہ و حشمت۔
ہدایت جبرا نہیں ملتی
بہرحال قوم کے اعتراض کے جواب میں حضرت نوح (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” قال یقوم “ اے میری قوم کے لوگو ! (آیت) ” ارء یتم ان کنت علی بینۃ من ربی “ بھلا بتلا ئو تو سہی اگر میں اپنے پروردگار کی طرف سے واضح ہدایت پر ہوں ” واتنی رحمۃ من عندہ “ اور اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت عطا کی ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ کا نبی وحی الٰہی کی وجہ سے ہمیشہ واضح راستے یعنی صراط مستقیم پر ہی ہوتا ہے اس کا عقیدہ اور عمل بالکل ٹھیک ہوتا ہے ، اس کے اخلاق پاکیزہ ہوتے ہیں اور خصوصی رحمت سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے نبوت کے عہدہ جلیلہ پر سرفراز فرمایا ہے اور یہ سب سے بڑا انعام خداوندی ہے یہ اونچی صفت اور بہت بڑی فضیلت ہے جسے اللہ تعالیٰ عطا کر دے فرمایا اگر اللہ کی طرف سے مجھ پر یہ انعامات ہوں (آیت) ” فعملت علیکم “ اور یہ چیز تم پر مخفی رکھی گئی ہو۔ ظاہر ہے کہ جس کا عقیدہ فاسد اور عمل باطل یہ ہے اس کے اندر باطنی روشنی ہی موجود نہیں ہے جس کے ذریعے وہ ان انعامات الٰہی کا مشاہدہ کرسکے۔ اس میں وہ صلاحیت ہی موجود نیں جس کی وجہ سے اسے کمالات نبوت نظر آسکیں اور وہ نبی کے مرتبہ کو پہچان سکے۔
فرمایا اگر تم میرے واضح راستے اور مجھ پر ہونے والی اللہ کی خصوصی رحمت کا ادراک نہ کرو (آیت) ” انلزمکموھا وانتم لھا کرھون “ تو کیا ہم اسے تم پر لازم کردیں اگرچہ تم اسے ناپسند ہی کرو ، یعنی تم تو خدا کی ہدایت اور اس کی رحمت کو پسند ہی نہیں کرتے تو ہم کیسے یہ چیزیں زبردستی تمہیں چمٹا دیں فرمایا ایسا نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ہدایت اور خدا کی خاص مہربانی کسی کے سینے میں زبردستی نہیں ڈالی جاسکتی۔ اللہ کے ہاں جبر کا کوئی قانون نہیں ہے۔ اس نے انسان کو سارے قوی اور سامان زیست دے کر ایمان کی قبولیت کو اسی پر چھوڑ دیا ہے۔ اگر اپنی مرضی سے دین حق کو قبول کرلو کے تو فلاح پا جائو گے اور اگر قبول نہیں کرو گا تو ذلت اٹھانی پڑے گی اللہ تعالیٰ کسی سے زبردستی کوئی چیز نہیں منوانا چاہتا ، ماننا یا نہ ماننا خود انسان کی اپنی صوابدید پر ہے اور اسی کے مطابق وہ جزا یا سزا کا حقدار ہوگا۔
تبلیغ دین کا اجر
حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے دوسری بات یہ فرمائی کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ میں نے اپنی کمزور مالی پوزیشن کی وجہ سے تبلیغ دین کو ذریعہ معاش بنا لیا ہے اور میں اس لیے تبلیغ کر رہا ہوں کہ مجھے کچھ دنیاوی مال ومتاع حاصل ہوجائے تو خوب سن لو (آیت) ” ویقوم لا اسئلکم علیہ مالا “ اے میری قوم کے لوگو ! میں تم سے اس کا مکہ بدلے کوئی مال و دولت طلب نہیں کرتا۔ میں تم تک جو خدا کا پیغام پہنچا رہا ہوں ، تم سے جو خیر خواہی کر رہا ہوں ، اس کا میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا ، نہ میں یہ چاہتا ہوں کہ نبوت کا دعوی کر کے تمہیں اپنا تابع بنا لوں اور خود تم پر حاکم بن کر بیٹھ جائو۔ نبوت کے جھوٹے دعویدار تو ایسا ہی کرتے رہے ہیں۔ مسیلمہ کذاب نے مال و دولت اور سیادت کی خاطر ہی نبوت کا دعوی کیا تھا۔ ہمارے دور میں قادیانی مدعی نبوت کا بھی یہی مقصد تھا۔ وہ لوگوں سے مال و دولت ہی اکٹھا کرنا چاہتا تھا۔ اور ان کے درمیان بڑا بننا چاہتا تھا۔ مگر اللہ کے سچے نبی ہمیشہ یہ اعلان کرتے ہیں کہ تبلیغ دین کے سلسلے میں انہیں کسی مال کی ضرورت نہیں ہوتی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بھی یہی بات کی اور فرمایا (آیت) ” ان اجری الا علی اللہ “ میری مزدوری تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے میں کسی مخلوق سے کچھ نہیں مانگتا۔ میں جس مالک الملک کی خوشنودی اور رضا کی خاطر فریضہ تبلیغ انجام دے رہا ہوں ، میرا معاوضہ اسی کے پاس ہے اور وہی سب سے بہتر اجر ہوگا۔ تبلیغ دین کے سلسلے میں تم سے میرا کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں۔
اہل ایمان کی قدردانی
قوم نوح کے سرداروں کا یہ اعتراض بھی تھا کہ نوح (علیہ السلام) کے پیچھے لگنے والے غریب ہیں ، جن کی نہ کوئی رائے ہے اور نہ عقل ہے کہتے تھے کہ ان کی موجودگی میں ہم تمہاری مجلس میں نہیں بیٹھ سکتے۔ مشرکین مکہ کو بھی یہی اعتراض تھا ، وہ بھی کہتے تھے کہ اگر ہمارے ساتھ بات کرنا ہے تو ان کمی کمین لوگوں کو اپنی مجلس سے اٹھا دیں کیونکہ ان کے برابر بیٹھنے سے ہماری ہتک ہوتی ہے۔ بہرحال اس بیہودہ اعتراض کا جواب حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس طرح دیا (آیت) ” وما انا بطارد الذین امنوا “ میں ان لوگوں کو اپنی مجلس سے دھکیلنے والا نہی ہوں جو ایمان لا چکے ہیں بھلا میں ان کو اس لیے اپنی مجلس سے ہٹا دوں کہ بڑے لوگ میرے بات سن سکیں ، یہ نہیں ہوسکتا ، یہ تو اصولی طور پر غلط بات ہے جو کوئی اپنی خوشی سے ایمان قبول کرتا ہے ، وہ فیض اٹھاتا ہے اور اٹھاتا رہے گا اس کو محروم نہیں کیا جائے گا کیونکہ (آیت) ” انھم ملقوا ربھم “ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں۔ وہ اگرچہ غریب ہیں مگر اللہ کے ہاں وہی برگزیدہ ہیں۔ اگر ہم ان کے ساتھ زیادتی کریں گے ، ان کو حقیر سمجھ کر اپنی مجلس سے اٹھا دیں گے تو وہ اللہ کے حضور ہماری شکایت کریں گے تو اس وقت ہمارا کیا جواب ہوگا ؟
فرمایا (آیت) ” ولکنی ارئکم قوم تجھلون “ میں تو تمہیں جاہل لوگ خیال کر رہا ہوں ، تم نادان ہو جو اس قسم کے بےہودہ مطالبات پیش کرتے ہو۔ بنی نوع انسان خصوصا اہل ایمان کو حقیر سمجھنا جہالت کی علامت ہے۔ ہاتھ سے کام کرنا اور کسی پیشے سے منسلک ہونا تو قابل قدر بات ہے۔ عربی کا محاورہ بھی ہے ” الکاسب حبیب اللہ “ یعنی کسب یا کمائی کرنے والا تو اللہ کا پیارا ہے ، اس کو حقیر سمجھنابڑی نادانی کی بات ہے حضرت نوح (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا (آیت) ” ویقوم من ینصرنی من اللہ ان طردتھم “ اے میری قوم کے لوگو ! اگر میں ان کو ہٹا دوں تو کون میری مدد کریگا۔ میں تو خدا تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہوجائوں گا۔ (آیت) ” افلا تذکرون “ کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے اگر میں تمہارے غلط مطالبات مان لون تو خدا کی گرفت میں آجائوں گا۔ پھر کون ہے جو میری مدد کرسکے گا ؟
نبی کی شخصی حیثیت
منکرین کا نوح (علیہ السلام) کے متعلق یہ بھی اعتراض تھا کہ تم تو ہمارے جیسے انسان ہو ، تمہیں ہم پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے اس کو جواب میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے کہلوایا (آیت) ” ولا اقول لکم عندی خزآئن اللہ “ میں تمہیں یہ بھی نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ میں تو اس کا بندہ ہوں اور اس کی راہ دکھانے پر مامور ہوں۔ میں نے تو اقتدار ، حکومت یا مال وخزانے کا دعوی نہیں کیا۔ خزانوں اور تصرف کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے۔ (آیت) ” فلا اعلم الغیب “ میں نے غیب دان ہونے کا دعوی بھی نہیں کیا۔ غیب بھی اللہ ہی جانتا ہے۔ مخلوق میں سے کوئی بھی غیب دان نہیں ہے وہ ہمیں وحی کے ذریعے جو حکم بھیجتا ہے ، وہ ہمیں معلوم ہوجاتا ہے اور یہ بات کہ کل کو کسی کے ساتھ کیا معاملہ پیش آئیگا اور کسی کا کیا انجام ہوگا ، اس کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ یہ بھی اللہ کے علم میں ہے کہ کون آدمی ہدایت قبول کرے گا اور کون اس سے محروم رہے گا۔ میں نے تو برتری کا دعوی نہیں کیا۔ (آیت) ” ولا اقول انی ملک “ اور میں یہ بھی نہیں کہتا کہ میں فرشتہ ہوں ، جو کھانے پینے ، پہننے اور بیوی بچوں سے پاک ہوں بلکہ مجھے تو تمام لوازمات بشریت کی ضرورت ہے۔
امیر و غریب میں تفاوت
فرمایا ، یہ بھی یاد رکھو ! (آیت) ” ولا اقول للذین تزدری اعینکم “ اور میں نہیں کہتا ان لوگوں کے متعلق جنہیں تمہاری آنکھیں حقیر جانتی ہیں (آیت) ” لن یوتیھم اللہ خیرا “ کہ اللہ انہیں ہرگز بہتری عطا نہیں کریگا۔ جن لوگوں کو تم اپنی جہالت ، غرور اور تکبر کی وجہ سے ادنیٰ خیال کرتے ہو ، ان کی بہتری تو اللہ کے اختیار میں ہے ، وہ جب چاہے اور جس قدر چاہے عطا کرے ، میں تو ان کے راستے میں حائل نہیں ہو سکتا۔ اللہ نے انہیں ایمان کی دولت سے نوازا ہے تو وہ بہتری بھی عطا کرے گا ، انہیں کامیابی حاصل ہوگی۔
غرباء کے اولین ایماندار ہونے کی شہادت ہرقل قیصر روم نے بھی دی تھی۔ جب حضور ﷺ کا نام مبارک ہر قل کے دربار میں پیش کیا گیا تو اس (1۔ بخاری ، ص 4 ، ج 1 ، ومسلم ، ص 98 ، ص 3) نے حکم دیا کہ اگر کوئی غریب کا رہنے والا موجود ہو تو اسے پیش کیا جائے۔ اس وقت ابو سفیان کا تجارتی قافلہ موجود تھا ، آپ اس وقت تک اسلام نہیں لائے تھے۔ آپ کو شاہی دربار میں پیش کیا گیا تو بادشاہ نیان سے حضور ﷺ کے متعلق کچھ سوال کیے جن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ جن لوگوں نے اسلام قبول کیا ہے ، وہ کمزور ہیں یا صاحب اثر تو ابوسفیان نے جواب دیا کہ وہ تو کمزور لوگ ہیں ہرقل نے کہا ” وھم اتباع الرسل “ ابتداء میں انبیاء کے متبعین کمزور لوگ ہی ہوا کرتے ہیں اور بڑے لوگ آخر میں اس وقت ایمان لاتے ہیں جب ان کے فرار کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ خود ابو سفیان مکہ کا سردار تھا ، اس نے انیسسال تک حضور ﷺ کی مخالفت کی ، جنگیں بھی لڑی اور آخر کا فتح مکہ کے موقع پر ایمان لائے جب کوئی چارہ باقی نہیں رہ گیا تھا۔ عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے غریب لوگ فورا ایمان لے آتے ہیں جب کہ دولت مند کوئی شاذونادر ہی راہ راست پر آتا ہے تو فرمایا کہ جن لوگوں کو تمہاری آنکھیں حقیر جانتی ہیں ان کے متعلق میں نہیں کہتا کہ انہیں بہتری حاصل نہیں ہوگی۔
فرمایا (آیت) ” اللہ اعلم بما فی انفسھم “ اللہ ہی بہتر جانتا ہے جو کچھ ان کے نفسوں میں ہے۔ ان میں اخلاص ہے یا انفاق ان کی نیت کھری ہے یا کھوٹی ، یہ اللہ ہی جانتا ہے اور اس کا بدلہ بھی اسی کے ذمے ہے ، میری اس معاملے میں کوئی ذمہ داری نہیں۔ ہم تو ظاہر کو دیکھتے ہیں کہ ایک شخص ضعیف ہے مگر ایمان قبول کرتا ہے ، نیکی اور تقوے کا راستہ اختیار کرتا ہے تو ہم اس کو اپنا متبع ہی سمجھیں گے اور آپ کے کہنے پر اسے اپنی مجلس سے انہیں اٹھائیں گے۔ تاہم اس کے خلوص ، ایمان ، دیانت اور صداقت کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔
فرمایا کہ اگر میں اس خیال سے غرباء کو اپنی مجلس سے نکال دوں کہ اس طرح امیر لوگ ایمان لے آئیں گے تو ایسا کرنے میں (آیت) ” انی اذا لمن الظلمین “ میں تو ظالموں میں سے ہوجائوں گا۔ نہ تو کسی کو دین قبول کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے اور نہ اہل ایمان کو دھکیلا جاسکتا ہے دین کی قبولیت اپنے مشیت اور ارادے سے ہوتی ہے ، اس میں امیر اور غریب میں کوئی تفاوت نہیں۔ جو قبول کرے گا وہ فیض حاصل کر گا ، خواہ وہ غریب ہی کیوں نہ ہو ، وہ اللہ کے نزدیک پسندیدہ آدمی ہوگا ، امیری اور غریبی تو اللہ کی حکمت کے مطابق آتی ہے خدا تعالیٰ نافرمانوں کو بھی بڑی دولت عطا کردیتا ہے اور کبھی مخلص بندے تکالیف بھی برداشت کرتے ہیں مگر ایمان کی بات ہی سب کے لیے بہتر ہے۔ ایمان قبول کرنے کے لیے کسی پر جبر نہیں کیا جائیگا۔ سورة کہف میں موجود ہے (آیت) ” فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر “ جو چاہے ایمان قبول کرے اور جو چاہے انکار کر دے جو کفر کریگا وہ اپنے لیے جہنم کا سامان پیدا کرے گا۔ اگر میں امراء کی طرفداری میں غرباء کو نظر انداز کردوں تو ظلم کا مرتکب سمجھا جائوں گا۔ دوسرے مقام پر آتا ہے کہ آپ ان مخلص مومنوں سے نگاہ شفقت نہ ہٹائیں ، کیا آپ دنیا کی زندگی کی زینت چاہتے ہیں ؟ یہ تو بالکل غیر مناسب ہے۔ آپ ہمیشہ غرباء پر نگاہ شفقت رکھیں ، ان کو اپنے آپ سے دور کر کے ظلم کی حد میں داخل ہوجائیں گے۔ کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ کسی بڑے آدمی کے ایمان لانے سے ایمان کی رونق میں اضافہ ہوجائے گا جب کہ حقیقی رونق تو ایمان ، تقرے اور عمل صالح سے ہوتی ہے۔ اسی کے ذریعے اسلام کو ترقی حاصل ہوگی عروج اور ترقی کا مدار محض مال و دولت پر نہیں ہے۔
Ayahs 11:32–35ربط آیات
ان دو رکوعات میں حضرت نوع (علیہ السلام) کا ذکر ہو رہا ہے۔ انہوں نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا کہ میں تو ڈر سنانے والا ہوں ، تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، اگر ایسا کرو گے تو مجھے تمہارے بارے میں خطرہ ہے کہ کہیں تم دردناک دن کے عذاب میں مبتلا نہ ہو جائو۔ قوم نے آپ کی نصیحت کو قبول نہ کیا اور یہ کہہ کر ٹال دیا کہ تم تو ہمارے جیسے ہی انسان ہو ، تمہاری اتباع کرنے والے ہمارے کمی کمین لوگ ہی ، جنہیں کوئی برتری حاصل نہیں ، لہٰذا ان کی موجودگی میں ہم تمہاری بات سننے کے لیے تیار نہیں۔ نوح (علیہ السلام) نے فرمایا کہ لوگو ! اگر میں اپنے رب کی طرف سے صحیح راستے پر ہوں ، اللہ نے مجھے اپنی رحمت سے نوازا ہے اور وہ ہدایت اور مہربانی تم پر مخفی رکھی گئی ہے تو کیا ہم یہ ہدایت تم پر زبردستی ٹھونس دینگے جب کہ تم اسے ناپسند کرتے ہو۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ہم جو کچھ تمہارے سامنے پیش کرتے ہیں اس پر کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتے کیونکہ ہمارا معاوضہ تو اللہ کے پاس ہے۔ پھر فرمایا کہ جن لوگوں کو تم حقیر سمجھتے ہو میں ان کو دور ہٹانے والا نہیں ہوں۔ یہ ایماندار لوگ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں ، میں سمجھتا ہوں کہ تم بڑی جہالت میں مبتلا ہو۔ فرمایا اگر میں ان غرباء کو اپنی مجلس سے علیحدہ کر دو تو کون میری مدد کرے گا ، کیا تمہیں اتنی بھی سمجھ نہیں۔ فرمایا میں نے کب دعویٰ کیا ہے کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں یا میں غیب جانتا ہوں۔ میں کوئی فرشتہ بھی نہیں جو کھانے پینے اور دیگر لوازمات زندگی سے مبرا ہوں۔ میں یہ بھی نہیں کہتا کہ تمہاری نظروں میں حقیر لوگوں کو اللہ تعالیٰ بھلائی عطا نہیں کریگا۔ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان اور اخلاص کو خوب جانتا ہے وہی ان کو بدلہ عطا کریگا۔ اگر میں بھی ان کو حقیر جاننے لگوں تو میں ظلم کرنیوالوں میں ہو جائونگا۔
عذاب کا مطالبہ
پہلے بیان ہوچکا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم پر طوفان آنے سے پہلے آپ نے سو پچاس برس تک قوم کو تبلیغ فرمائی۔ صبح وشام تنہائی میں اور اجتماعات میں قوم کو ہر طرح سمجھانے کی کوشش کی مگر قوم نے یہ جواب دیا (آیت) ” قالوا ینوح قد جدلتنا “ اے نوح (علیہ السلام) ! آپ نے ہم سے جھگڑا کیا ہے یعنی بحث و تکرار کی ہے (آیت) ” فاکثرت جدالنا “ اور اس جھگڑے کو بہت طول دیا ہے ہمیں تبلیغ کرتے کرتے صدیاں بیت گئی ہیں ہم ایسی باتوں کو مزید سننے کے لیے تیار نہیں ہیں انہوں نے تبلیغ حق کو بحث و تکرار سے تعبیر کیا اور کہنے لگے کہ یہ بحث اب بند ہوجانی چاہیے اور حتمی بات کرو (آیت) ” فاتنا بما تعدنا “ پس ہمارے پاس وہ چیز یعنی عذاب لے آئو جس سے تم ہمیں ڈراتے رہتے ہو (آیت) ” ان کنت من الصدقین “ اگر آپ اپنے دعوے میں سچے ہیں کہ قیامت آنے والی ہے اور عذاب نازل ہونے والا ہے تو وہ عذاب ہم پر لیہی آئو ، ہم تمہاری خالی دہمکیوں سے مرعوب نہیں ہوتے۔
لوگوں کی بدوضعی کا اندازہ لگائیں کہ نوح (علیہ السلام) یا اللہ کا کوئی نبی کسی کے ساتھ جھگڑا نہیں کرتا۔ وہ تو انسانیت کے فائدے کی بات کرتا ہے مگر وہ اسے جھگڑا اور فساد بتا رہے ہیں۔ نوح (علیہ السلام) نے تو ہمیشہ ان کے ساتھ خیر خواہی کی بات کی مگر قوم نے تسلیم نہ کیا۔ ان کی طبیعتیں ایسی مسخ ہوچکی تھیں اور دل ایسے ویران ہوچکے تھے کہ خدا کے عذاب کا خود مطالبہ کرتے تھے۔ ایسی بات تو فہم کے معکوس ہونے کی انتہائی صورت ہوتی ہے۔ مشرکین مکہ نے بھی حضور ﷺ سے اسی قسم کا مطالبہ کیا تھا۔ قرآن پاک میں موجود ہے کہ وہ کہتے تھے کہ ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرا دے ، ہم پر پتھر کیوں نہیں برستے یا اگر تو سچا ہے تو ہم پر فلاں عذاب کیوں نہیں نازل ہوجاتا ، غرضیکہ ضد اور ہٹ دھرمی تمام مشرکین کا قدیم شیوہ ہے۔
نوح (علیہ السلام) کا جواب
قوم کے عذاب کے مطالبہ پر نوح (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” قال انما یاتیکم بہ اللہ ان شائ “ اس عذاب کو اللہ تعالیٰ ہی تمہارے پاس لائے گا ، اگر وہ چاہیگا ، یہ چیز میرے اختیار میں نہیں ہے (آیت) ” وما انتم بمعجزین “ اور تم خدا تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے یاد رکھو ! خدا قادر مطلق ہے ، تم اس سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتے جب اس کا عذاب آجائیگا۔ تو وہ ٹالا نہیں جائے گا۔ جب بھی کسی پیغمبر کی قوم نے اس قسم کا مطالبہ پیش کیا تو ہر نبی نے یہی کہا کہ یہ چیز ہمارے اختیار نہیں ہے۔ اگر اللہ کسی کو اس دنیا میں عذاب دینا چاہے گا تو وہ حکمت کے مطابق بھیج دیگا۔ یہ اس کی مشیت پر موقوف ہے ، ہمارا کام تو اس کے احکام و فرامین کو لوگوں تک پہنچا دینا ہے اور ہم اپنا فرض انجام دے رہے ہیں۔
نوح (علیہ السلام) نے قوم کو یہ بھی فرمایا (آیت) ” ولا ینفعکم نصحی ان اردت ان انصح لکم “ اے لوگو ! اگر میں تمہیں نصیحت کرنے کا ارادہ بھی کروں تو میری نصیحت تمہیں فائدہ نہیں پہنچا سکتی (آیت) ” ان کان اللہ یرید ان یغویکم “ اگر خدا تعالیٰ تمہیں گمراہ کرنا چاہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر مشیت خداوندی ان کے حق میں نہیں تو کوئی تبلیغ ، نصیحت اور وعظ مفید نہیں ہوسکتا۔ قرآن پاک میں یہ بات جگہ گجہ سمجھائی گئی ہے کہ جو لوگ ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں ، عناد اور تعصب سے کام لیتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو گمراہی سے نہیں بچاتا۔ ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے وہ بلاوجہ کسی کو گمراہ نہیں کرتا بلکہ اس کے اسباب انسان خود پیدا کرتا ہے جب کوئی شخص ضد اور تکبر کی حد سے بڑھ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو معکوس کردیتا ہے اور پھر کسی نبی ، مرشد ، ہادی اور مبلغ کی تبلیغ اس پر کچھ اثر نہیں کرتی۔ اور ایسا شخص گمراہی میں مزید آگے بڑھ جاتا ہے۔
عذاب کے مطالبے کے ضمن میں مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ حق پرست کبھی خود عذاب لانے کا دعویٰ نہیں کرتے ، وہ تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنی بات تم تک پہنچا دی ہے ، ہم نے تبلیغ کا حق ادا کردیا ہے۔ اب تمہارے تعصب اور عناد کی وجہ سے خدا کو تمہاری اصلاح منظور نہیں ہے تو ہماری نصیحت کچھ مفید نہیں ہوسکتی ، ہماری لاکھ کوشش کے باوجود بھی تم گمراہی اور انجام بد سے نہیں بچ سکتے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے بھی یہی فرمایا کہ میری نصیحت تم پر کار گر نہیں ہوسکتی ، اگر اللہ ہی تمہیں گمراہی میں مبتلا رکھنا چاہتا ہے۔ فرمایا (آیت) ” ھو ربکم “ وہی تمہارا رب ہے۔ سارا ختیار اسی کے پاس ہے۔ ہدایت اور گمراہی کے کچھ اصول و ضوابط ہیں جن کے مطابق یہ دونوں چیزیں آتی ہیں۔ فرمایا تم ہدایت پر ہو یا ضلالت پر (آیت) ” والیہ ترجعون “ تم سب اسی کی طرف لوٹائے جائو گے اور پھر اسی کے پاس جزائے عمل کا سلسلہ ہوگا۔ وہ ہر چیز کا مالک اور مختار ہے۔ تو نوح (علیہ السلام) نے بہترین انداز میں قوم کو نصیحت فرمائی کہ ہم عذاب نہیں لاسکتے۔ یہ تو تمہارے اعمال اور اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت پر مبنی ہے۔ اگر اللہ کے ہاں تمہاری استعداد ہی خراب ہوچکی ہے تو پھر ہماری خواہش اور کوشش بار آور نہیں ہوسکتی۔
افتراء کا الزام
آگے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ام یقولون افترائہ “ کیا وہ منکر لوگ کہتے ہیں کہ اس نے اس قرآن کو گھڑ لیا ہے۔ (آیت) ” قل ان افتریتہ فعلی اجرامی “ آپ کہہ دیں کہ اگر میں نے اس کو گھڑ لیا ہے تو اس کا جرم بھی مجھ پر ہوگا ، میں ہی اس کا ذمہ دار ہوں گا اور اس کا خمیازہ بھگتوں گا۔ (آیت) ” وانا بری مما تجرمون “ اور میں تمہارے گناہوں سے بری الذمہ ہوں تمہارے گناہوں کا حساب کتاب تمہیں دینا ہوگا ، یہ بات اچھی طرح نوٹ کرلو۔
مفسرین کرام اس آیت کریمہ کے دو مختلف مصداق بیان فرماتے ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ اس کا تعلق بھی نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ہی ہے گذشتہ سے پیوستہ درس میں گزر چکا ہے کہ نوح (علیہ السلام) کی قوم نے آپ کے متعلق کہا تھا (آیت) ” فل نظنکم کذبین “ یعنی ہم تو تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔ تو اس کا جواب میں اللہ نے فرمایا اے نوح کہہ دو کہ اگر تم اسے افتراء سمجھتے ہو تو اس جرم کا ذمہ دار میں ہی ہوں اور حق کی تکذیب کر کے جن جرائم کا ارتکاب تم کر رہے ہو ، اس کے ذمہ دار تم ہوگئے۔ میں ان سے بری الذمہ ہوں۔
بعض دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ وعرب کا شکوہ کیا ہے۔ نزولِ قرآن کے زمانے کے مشرکین کا بھی یہی حال تھا۔ جو حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کا۔ وہ بھی کہتے تھے کہ یہ قرآن محمد نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے۔ یہ خدا کا کلام نیں ہے۔ یہ مضمون اسی سورة میں ، اس سے پچھلی سورة یونس اور سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مشرکین کو چیلنج دیا کہ اگر تم اس قرآن پاک کو خود ساختہ سمجھتے ہو ، اسے انسانی کلام سے تعبیر کرتے ہو تو پھر تم بھی تو آخر انسان ہو ، اس جیسی کوئی ایک سورة ہی بنا کرلے آئو ، مگر قرآن نے خود ہی واضح کردیا ہے کہ وہ ایسا ہرگز نہیں کرسکیں گے۔ سارے انسان اور جن مل کر بھی قرآن پاک کی نظیر لانا چاہیں تو کامیاب نہیں ہوسکتے۔ فرمایا اگر تم ایسا نہ کرسکو (آیت) ” فاتقوا النار التی وقعودھا الناس والحجارۃ اعدت للکفرین “ (البقرہ) تو دوذخ کی اس آگ سے ڈر جائو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں اور جو مجرمین کے لیے تیار کی گئی ہے کہ بات سمجھانے کا یہ نہایت ہی حکیمانہ انداز ہے۔ کہ اگر میں نے کوئی جرم کیا ہے یا اس کا میں ذمہ دار ہوں اور تمہارے گناہوں کے تم ذمہ دار ہو گے ، میرا اس میں کوئی دخل نہیں ہوگا۔ اگر تم توحید ، رسالت ، معاد اور جزائے عمل کا انکار کر رہے ہو تو یاد رکھوں ا س جواب دہی تمہیں کرنی ہے اللہ کے نبی کی طرف سے اس قسم کا جواب حق پرستی کا ظاہر کرتا ہے اس میں کسی قسم کی سختی نہیں کی گئی بلکہ موثر طریقے سے بات سمجھائی دی گئی ہے کہ معاملہ اس طرح ہے ، تم اچھی طرح سمجھ کر کسی فیصلے پر پہنچو۔