11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 11:87–90

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

کہا انہوں (شعیب کی قوم ) نے اے شعیب ! کیا تیری نماز تجھے یہ حکم دیتی ہے کہ ہم چھوڑ دیں ان چیزوں کو جن کی پوجا کرتے تھے ہمارے آبائو اجداد ، یا یہ کہ ہم کریں اپنے مالوں میں جو چاہیں۔ بیشک تو بڑا برباد بار اور نیک چلن ہے

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 11:88 in the Quran reader

کہا (شعیب نے) اے میری قوم کے لوگو ! یہ بتلائو کہ اگر میں کھلی بات پر ہوں اپنے رب کی طرف سے اور اس نے مجھے روزی دی ہو اپنی طرف سے اچھی روزی اور میں نہیں چاہتا کہ تمہاری مخالفت کروں ان چیزوں کی طرف جن سے میں تمہیں منع کرتا ہوں۔ میں نہیں چاہتا مگر اصلاح جتنی میں طاقت رکھتا ہوں اور نہیں توفیق میرے اندر مگر اللہ کے ساتھ اسی میں میں نے بھروسہ کیا ہے اور اسی کی طرف میں نے لوٹ کر جانا ہے

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ Open ayah 11:89 in the Quran reader

اور اے میری قوم کے لوگو ! میری مخالفت تمہیں آمادہ نہ کرے اس بات پر کہ پہنچے تمہیں وہ چیز جو پہنچیتھی نوح (علیہ السلام) کی قوم کو یا ہود (علیہ السلام) کی قوم تم سے کچھ زیادہ دور

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ Open ayah 11:90 in the Quran reader

اور بخشش طلب کرو اپنے پروردگار سے ، پھر رجوع کرو اس کی طرف بیشک میرا پروردگار رحم کرنے والا اور محبت کرنے والا ہے

ربط آیات حضرت شعیب (علیہ السلام) کے واقعہ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے ان کی تبلیغ کا ذکر کیا کہ انہوں نے قوم کو غیر اللہ کی عبادت سے منع کیا اور ماپ تول میں کمی کے ذریعے لوگوں کی حق تلفی کرنے سے ڈرایا۔ یہ دونوں قبیح چیزیں ہیں شرک اور کفر اعتقادی نجاست ہے جب کہ حقوق کا ضیاع اخلاقی گندگی ہے۔ شعیب (علیہ السلام) نے لوگوں کو سمجھایا کہ اپنے مال میں تمام حقوق ادا کرنے کے بعد جو کچھ بچ رہے گا اسی میں تمہارے لئے بہتری ہے اور اسی کا نتیجہ تمہارے حق میں اچھا ہوگا مگر آپ کی قوم نے آپ کی اس پاکیزہ نصیحت کا نہایت ہی قبیح جواب دیا ۔ آج کے درس میں قوم کا جواب ہے اور پھر حضرت شعیب (علیہ السلام) کی مزید تقریر ہے۔ شعیب عل یہ السلام پر طعن قوم نے جواب دیا قالوا یشعیب ، کہنے لگے ، اے شعیب (علیہ السلام) ، اصلواتک تامرک ان نترک مایعبد ابآئنا کیا تمہاری نماز تمہیں یہ حکم دیتی ہے کہ ہم ان چیزوں کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے آبائو اجداد کرتے تھے۔ او ان نفعل فی اموالنا مان شوآء یا اپنے مالوں میں اپنی مرضی سے تصرف کرنے کو ترک کردیں۔ گویا مکذبین نے شعیب (علیہ السلام) کو نماز کا طعنہ دیا کہ تمہاری نماز تمہیں یہی کچھ سکھاتی ہے۔ بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں پر نماز سے مراد معروف نماز نہیں بلکہ اس سے شعیب (علیہ السلام) کا تقدس مراد ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر معنی یہ ہوگا کہ کیا تیرا تقدس ، پرہیز گاری ، بزرگی یا دعویٰ نبوت کا یہ تقاضا ہے کہ تو ہمیں دیرینہ مروجہ امور سے روکنا چاہتا ہے ؟ مگر صحیح بات یہی ہے کہ یہاں پر نماز سے نماز ہی مراد ہے۔ کفار آپ پر اس لئے طعن بازی کر رہے تھے کہ دیگر تمام انبیاء کی طرح آپ بھی کثرت سے نماز ادا کرتے تھے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والی عبادات میں سے نماز سب سے اہم ہے شعیب (علیہ السلام) تو رضائے الٰہی کے لئے نماز پڑھتے تھے مگر آپ کے مخالفین نے اسی کو اعتراض کا ذریعہ بنا لیا کہ بڑا نمازی بنا پھرتا ہے جو ہمیں اپنے معبودوں کی پوجا اور مال کے تصرف سے منع کرتا ہے۔ دیندار آدمیوں کو تضحیک کا نشانہ بنانا بےدین عاشرے کا ہمیشہ سے شعل رہا ہے اور آج بھی حالات کچھ مختلف نہیں۔ اس زمانے میں بھی ملحد قسم کے لوگ نمازی کے متعلق کہتے ہیں کہ فلاں کو نماز کا ہیضہ ہوگیا ہے جو ہر وقت نمازیں ہی پڑھتا رہتا ہے۔ اللہ کی وحدانیت کی بات کرو تو کہیں گے کہ اسے توحید کا یہضہ ہوگیا ہے۔ ہر وقت اسی کام میں لگا رہتا ہے کوئی اور بات سوجھتی ہی نہیں کسی اور نیکی کی بات کرو تو اس پر ٹھٹا کریں گے۔ غرضیکہ شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے بھی آپ کو نماز کا طعن دیا کہ ان نمازوں کی وجہ سے تو ہمیں ہمارے پسندیدہ کاموں سیروکنا چاہتا ہے۔ کسب و تصرف پر پابندی اللہ کی نبی عقیدے ، آسمانی شرائع اور مال کے کسب و تصرف کے متعلق بھی ہدایات دیتے ہیں ۔ انسانوں کے ……اصلاح بھی نبی کے فرائض میں ہوتی ہے۔ تو اہل ایمان کے لئے ضروری ہے کہ مال کے حصول اور اس کے خرچ کرنے کے متعلق شرائع کی پابندی کریں۔ اگر دولت کے ارتکاز اور اس کے مصرف میں ناجائز ذرائع استعمال کئے جائیں تو یہی مال و بال جان بن جائیگا۔ مال اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ انعام ہوتا ہے۔ اس میں من مانی کرنا درست نہیں۔ جو مال شراب ، جوئے ، رشوت ، چوری ، ڈاکے سود اور سمگلنگ کے ذریعے کمایا جائیگا ، وہ قطعی حرام ہے اور اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اسی طرح جو مال لہو و لعب ، عیش و عشرت سینما بینی ، بلڈنگ سازی اور رسومات باطلہ پر خرچ کیا جائے گا۔ اس کا وبال بھی خرچ کرنے والے پر ہوگا۔ ہر جائز و ناجائز طریقے سے کمانا اور حرام راستوں پر خرچ کرنا سرمایہ دارانہ ذہنیت کی عکاسی ہے آخرت میں جا کر اس کا جواب دینا پڑے گا حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کا ارشاد مبارک ہے کہ قیامت کے دن جب سب لوگ محاسبے کے لئے اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے تو کوئی آدمی اس وقت تک قدم نہیں اٹھا سکے گا جب تک بعض سوالوں کا جواب نہیں دے گا اس وقت اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ دنیا میں رہ کر مال کن ذرائع سے کمایا تھا اور کن مدات پر خچ کیا تھا۔ کیا تو نے فرائض ، واجبات ، سنن اور مستحبات ادا کئے تھے۔ غرباء اور مساکین کا حق ان کو دیا تھا یا سارا مال شادی اور غمی کی رسومات میں خرچ کردیا تھا ، اپنی شان دکھانے کے لئے عمارات بناتا رہا ، گاڑیاں خرید تا رہا یا کھیل تماشے ، عیاشی اور فحاشی میں مال ضائع کردیا ، غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے مال کے اکتساب ار اس کے مصرف دونوں پر حدود وقیوم قائم کی ہیں۔ اسلامی نظام معیشت اور سرمایہ دارانہ نظام میں یہی بنیادی فرق ہے۔ امام شاہ ولی اللہ محدمث دہلوی فرماتے ہیں کہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ اکتساب کے جائز ذرائع کی حوصلہ افزائی کرے جب کہ ناجائز ذرائع کو ختم کرے ، صنعت و حرفت اور زراعت جیسے حلال پیشوں کے فروغ میں مدد دینی چاہئے جب کہ سود ، جوا ، چور بازاری ، شراب نوشی جیسے قبیح ذرائع پر پابندی عائد کرنی چاہئے۔ حضور ﷺ کا اشاد مبارک 1 ؎ ہے فاتقوا اللہ واجملوا فی الطلب اللہ سے ڈر جائو اور روزی کے لئے حلال ذرائع استعمال کرو حرام راستے سے کمائی ہوئی دولت ہلا کر رکھ دے گی۔ سورة بقرہ میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی موجود ہے ” لا تاکلوآ اموالکم بینکم بالباطل ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت کھائو ، بلکہ رزق کی تلاش میں جائز ذرائع اختیار کرو۔ قوم نے شعیب (علیہ السلام) کو نماز کا طعنہ دیا تھا ، پھر آپ کی پارسائی کو بھی وجہ تضحیک بنایا ، کہنے لگے انک لانت الحلیم الرشید تو بڑا برد بار اور نیک چلن بنا پھرتا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ کے سارے نبی حلیم اور رشید ہوتے ہیں مگر ان لوگوں نے آپ کے حلم اور رشد کے اعتراف کے بجائے ٹھٹے کے طور پر کہا کہ یہ بڑا پرہیز گار بنا پھرتا ہے جو ہمیں اپنی من مانی کارروائیوں سے منع کرتا ہے کہتا ہے کہ ماپ تول میں کمی نہ کرو ، لوگوں کے حقوق ادا کرو اور باپ دادا کی رسومات چھوڑ دو ہم تمہاری بات ماننے کے لئے بالکل تیار نہیں۔ حلال روزی قوم کی اس طعن بازی کے باوجود اللہ کے نبی نے ان کو ہر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی۔ آج کی اگلی آیات حضرت شعیب (علیہ السلام) کی تقریر پر مشتمل ہیں۔ ارشاد ہتا ہے۔ قال یقوم آپ نے فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! ارءیتم ان کنت علی بینۃ من ربی بھلا بتلائو ! اگر میں اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل یا واضح راستے 1 ؎ کنز العمال ص 14 , 13 , 12/ج 4 پر ہوں۔ بینہ واضح برہان اور واضح ہدایت کو کہتے ہیں۔ فرمایا اگر میں کھلے راستے پر ہوں ورزقنی منہ رزقاً حسنا اور اللہ نے مجھے اپنی طرف سے حلال روزی عطا کی ہے۔ رزق حسن کو مفسرین نے دو معنوں پر معمول کیا ہے۔ اس سے ایک مراد تو نبوت ہے اور شعیب (علیہ السلام) اسی کا تذکرہ کر رہے ہیں کہ اللہ نے مجھے نبوت عطا فرمائی ہے۔ مجھ پر وحی نازل کی ہے جس کے مطابق میں خود بھی عمل کر رہا ہوں اور دورسوں کو بھی تلقین کر رہا ہوں اور میں بلاوجہ کسی کی مخالفت نہیں کرتا اور اس کا دوسرا معنی حلال روزی ہے اللہ کے نبی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اللہ نیاسیحلال روزی نصیب کی ہے۔ قرآن میں موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام انبیاء کو یہی تعلیم دی ہے ۔ ” کلوا من الطیبت و اعملوا صالحاً یعنی حلال اور پاکیزہ رزق کھائو اور نیک اعمال انجام دو اور پھر اللہ کا شکر بھی ادا کرو۔ یہی حکم تمام اہل ایمان کے لئے بھی ہے حلال روزی کمانے اور حرام سے بچنے کی اللہ نے بار بار تاکید کی ہے حرام کی کمائی جسمانی ، روحانی ، دینی اور اخروی ہر لحاظ سے مضر ہے اور اس سے بچنا چاہئے ۔ غرضیکہ رزق حلال سے مراد وہ رزق ہے جو پاکیزہ ہو اور خیانت ، دھوکہ دہی ، حق تلفی اور کسب ضار سے پاک ہو۔ قول و فعل کی مطابقت شعیب (علیہ السلام) نے مزید یہ بات کی کہ اے لوگو ! وما ارید ان اخالقکم الی مانھکم عنہ اور میں نہیں چاہتا کہ تمہاری ان چیزوں میں مخالفت کروں جن سے میں خود تمہیں روکتا ہوں میں جن باتوں کا تمہیں حکم دیتا ہوں ، ان پر خود بھی عمل پیرا ہوں اور جن سے منع کرتا ہوں ان کو خود بھی اختیار نہیں کرتا۔ آپ نے لوگوں پر واضح کردیا کہ میرے قول اور فعل میں مطابقت ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ اللہ کا نبی قوم کو تو ایک بات سے منع کرے اور خود اس پر ملوث ہو۔ اللہ کے دین پر سب سے زیادہ کاربند اس کے نبی ہوتے ہیں وہ پہلے خود احکام الٰہی پر عمل کر کے امت کے لئے نمنہ بنتے ہیں۔ اللہ نے ہر نبی کو یہی حکم دیا اتبع ما اوحی الیک من ربک (الانعام) جو کچھ آپ کی طرف وحی کی گئی ہے ، اس کا مکمل اتباع کریں اور نبی ایسا کر کے دکھاتا ہے نبی کا ہر عمل اس کے قول کے مطابق ہوتا ہے کیونکہسورۃ صف میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے لوگو ! ” الم تقولون مالا تفعلون “ تم ایسی بات کیوں کہتے ہو جو کر کے نہیں دکھاتے ، مگر عام معاشرے کی حالت یہ ہے کہ نچلی سطح سے لے کر حکومت کے ایوانوں تک قول و فعل کا تضاد پا جاتا ہے۔ تو شعیب (علیہ السلام) نے قوم پر واضح کیا کہ میں نہیں چاہتا کہ ایسے معاملہ میں تمہاری مخالفت کروں جس سے تمہیں منع کرتا ہوں۔ اصلاح احوال آپ نے یہ بھی قوم سے فرمایا ان ارید الا الاصلاح ما استطعت میں تو اصلاح کرت اہوں جتنی طاقت رکھتا ہوں۔ میرا کام تو برائی کو مٹا کر اچھا معاشرہ قائم کرنا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ لوگ اپنا حق بھی پورا کریں ، اللہ کا حق بھی ادا کریں اور بنی نوعچ انسان کے حقوق کو بھی پورا کریں۔ اگر ان تینوں قسم کے حقوق کی پاسداری کی جائے تو معاشرہ سنور جائے گا۔ اصلاح احوال پیدا ہوجائے گی۔ تو فرمایا میں اپنی طاقت کے مطابق اصلاح کرتا ہوں ، کیونکہ اللہ کی عطا کردہ وسعت سے زیادہ کوئی کچھ نہیں کرسکتا ۔ اللہ تعالیٰ کا اپنا ارشاد بھی موجود ہے لایکلف اللہ نفساً الا وسعھا (البقرہ) کوئی انسان اپنی طاقت سے زیادہ ماخوذ نہیں ہوتا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے جس قدر طاقت بخشی ہے اسی کے مطابق احوال کی اصلاح کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے حضور ﷺ نے ایک شخص سے بیعت لی اور اسے احکام شریعت کی پابندی کا حکم دیا تو اس شخص نے کہا کہ میں ان باتوں پر عمل پیرا رہوں گا ما استطعت جتنی میری طاقت ہے۔ توفیق ایزدی حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حضو رعاجزی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا وما توفیقی الا باللہ اور نہیں ہے مجھ میں توفیق مگر اللہ کے ساتھ ہر کام کی توفیق اللہ ہی بخشتا ہے ۔ اگر اللہ تعالیٰ کی توفیق شامل حال نہ ہو تو انسان کچھ نہیں کرسکتا۔ لہٰذا تمام قوتوں کا سرچشمہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ عرش کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ، اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ نیکی کا کام انجام دینے اور برائی سے بچنے کی طاقت بھی اللہ ہی کی توفیق سے حاصل ہوتی ہے۔ اسی لئے شعیب (علیہ السلام) نے یہ بھی کہا علیہ توکلت میں تو اس خداوند تعالیٰ پر ہی بھروسہ کرتا ہوں۔ ہر ایماندار کا بھی فرض ہے کہ وہ صرف اللہ پر ہی بھروسہ کرے ، اس کے بغیر کوئی ذات ایسی نہیں جس پر توکل کیا جاسکے والیہ انیبوآ الی ربکم اے ایمان والو ! اپنے رب کی طرف ہی رجوع رکھو واسلموا اور اسی کی فرمانبرداری کرتے رہو ، کفر ، شرک اور معاصی سے بچتے رہو۔ قوم سے دلی خیر خواہی فرمایا ویقوم لایجن منکم شقاقی ان یصیبکم مثل ما اصاب قوم نوح او قوم ھود او قوم صلح اے میری قوم کے لوگو ! میری مخالفت تم کو اس بات پر آمادہ نہ رے کہ تم برائی کا ارتکاب کر کے اس چیز کے مستحق بن جائو جس کے مستحق قوم نوح ، قوم ہود اور قوم صالح (علیہم السلام) کے لوگ بنے۔ مطلب یہ ہے کہ تم میری مخالفت کر کے کفر و شرک اور ظلم و زیادتی کا ارتکاب کرو گے تو تم بھی اسی سزا میں مبتلا ہو سکتے ہو جس میں سابقہ قومیں مبتلا ہوئیں۔ قوم نوح نے توحید کو تسلیم نہ کیا تو طوفان کی نذر ہوگئے۔ قوم ہود نافرمانی کر کے تباہ و برباد ہوئے اور قوم صالح (علیہ السلام) کو چیخ نے پکڑ لیا جس سے ان کے دل اور جگر پھٹ گئے اور وہ ملیا میٹ ہوگئے اور قوم لوط کے متعلق فرمایا وما قوم لوط منکم ببعید اور قوم لوط کا معاملہ تو تم سے زیادہ دور نہیں ہے۔ یہ قربت دو اعتبار سے ہے زمانے کے لحاظ سے بھی قوم لوط اور قوم شعیب کا زمانہ قریب قریب ہی ہے اور مکانیت کے اعتبار سے بھی دونوں علاقے آپس میں ملتے جلتے ہی ہیں۔ مدین اور شرق اردن میں کوئی زیادہ فاصلہ نہیں ہے تو فرمایا ، اے لوگو ! میری مخالفت میں تم کسی ایسی سزا کے مستوجب نہ بن جانا جس سے سابقہ قومیں تباہ ہوئیں۔ تم اب بھی سمجھ جائو۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرلو اور میرا کہا مان لو۔ اور دوسری بات یہ کرو واستغفرواربکم سابقہ گناہوں کی اپنے پروردگار سے معافی مانگ لو۔ ثم تو بوآ الیہ پھر اسی کی طرف رجوع رکھو۔ اگر ایسا کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں معاف کر دے گا۔ اور تمہاری توبہ قبول کرے گا کیونکہ ان ربی رحیم ودود میرا پروردگار مہربانی کرنے والا بھی ہے اور محبت کرنے والا ہے اس کی ان دو صفات کا تقاضا ہے کہ جب بندہ اس کے دروازے پر آجاتا ہے تو اس کی سابقہ کوتاہیوں پر معافی کی قلم پھیر دیتا ہے وہ اپنے بندوں سے محبت کرنے لگتا ہے اور بندے اللہ کے محبوب بن جاتے ہیں۔ لہٰذا اب بھی موقع ہے کہ راہ راست پر آجائو اور فلاح پا جائو۔
Ayahs 11:91–95

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ Open ayah 11:91 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا ، اے شعیب ! نہیں سمجھتے ہم بہت سی وہ باتیں جو تم کہتے ہو ، اور بیشک ہم دیکھتے ہیں تم کو اپنے درمیان کمزور ، اور اگر نہ ہوتا تیرا یہ خاندان تو ہم تمہیں سنگسار کردیتے اور نہیں ہے تو ہمارے اوپر کوئی صاحب عزت

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 11:92 in the Quran reader

کہا (شعیب (علیہ السلام) نے) اے میری قوم کے لوگو کیا میرا خاندان زیادہ عزیز ہے تم پر اللہ کی نسبت ، اور ڈال دیا ہے تم نے اس کے حکم کو اپنی پشتوں کے پیچھے بیشک میرا پروردگار گھیرنے والا ہے جو کچھ تم کرتے ہو

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ Open ayah 11:93 in the Quran reader

اور اے میری قوم کے لوگو ! عمل کرو اپنی جگہ پر ، بیشک میں بھی عمل کرنے والا ہوں۔ عنقریب تم جان لو گے کہ کس کے پاس آتا ہے رسوا کرنے والا عذاب اور کون جھوٹا ہے اور انتظار کرو ، بیشک میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:94 in the Quran reader

اور جب آیا ہمارا حکم تو ہم نے نجات دی شعیب اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی خاص رحمت کے ساتھ اور پکڑا ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا تھا چیخ نے پس ہوگئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرنے والے

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ Open ayah 11:95 in the Quran reader

گویا وہ ان میں رہے ہی نہیں۔ سنو ! ہلاکت ہے مدین کی قوم کے لئے جیسا کہ ہلاک ہوئی قوم ثمود

ربط آیات گزشتہ آیات میں شعیب (علیہ السلام) نے قوم کی طرف سے کئے گئے بیہودہ اعتراض کا جواب دیا تھا۔ انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کی نماز کو طعن کی بنیاد بنایا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم تمہارے کہنے سے اپنے آبائو اجدا کے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے اور نہ ہی اپنے مالوں میں اپنی مرضی کے تصرف سے باز آسکتے ہیں۔ شعیب (علیہ السلام) نے اچھے طریقے سے سمجھایا کہ دیکھو ! کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے نبوت اور پاکیزہ روزی عطا فرمائی ہے۔ میں جو بات تم سے کہتا ہوں ، اس پر خود بھی عمل کرتا ہوں یعنی میرے قول و فعل میں تضاد نہیں ہے ، میں حسب استطاعت اصلاح کی کوشش کر رہا ہوں اور میرا بھروسہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہے کیونکہ ہر کام اسی کی توفیق سے انجام دیا جاسکتا ہے۔ آپ نے فرمایا ، لوگو ! میری مخالفت میں اتنے دور نہ نکل جانا کہ جس کی وجہ سے تم پر بھی وہی عذاب آجائے جو عذاب حضرت نوح ، صالح اور لوط (علیہ السلام) کی اقوام پر آیا تھا۔ میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے نگاہوں کی معافی مانگو اور اسی کی طرف رجوع کرو کیونکہ وہ نہایت مہربان اور اپنے بندوں سے محبت کرنے والا ہے۔ نافہمی کا بہانہ شعیب (علیہ السلام) کی اس نصیحت آموز تقریر کے جواب میں قوم نے کہا قالوایشعیب مانفقہ کثیراً مما تقول اے شعیب (علیہ السلام) ہم نہیں سمجھتے بہت سی باتیں جو تم کہتے ہو۔ یہ بات انہوں نے تعصب اور عناد کی بنا پر کی ، وگرنہ شعیب (علیہ السلام) کی بات سمجھنے میں انہیں کوئی امر مانع نہیں تھا۔ آپ اسی قوم کے فرد تھے ، وہی زبان بولتے تھے ، وہ آپ کی ہر بات سمجھتے تھے مگر جب اعتقادی اور اخلاقی بیماری کا ذکر آتا ہے تو نافہمی کا بہانہ بنا دیتے تھے ویسے بھی شعیب (علیہ السلام) کی فصاحت و بلاغت کا یہ عالم تھا کہ آپ خطیب الانبیاء مشہور ہیں۔ اللہ نے آپ کو تقریر کا خوب ملکہ عطا کیا تھا مگر ہٹ دھرمی کی وجہ سے قوم کو آپ کی بات سمجھ میں نہیں آ رہی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار ، ار شرک کا انکار ، ماپ تول میں انصاف ، حقوق العباد کی پاسداری ، ظلم ہے پرہیز کون سی ایسی باتیں ہیں جو عام آدمی کی سمجھ سے بالاتر ہوں ، مگر آپ کی قوم تعصب اور عناد میں غرق ہوچکی تھی اور وہ آپ کی کسی نصیحت کی بات کو سننے کے لئے تیار نہیں تھی اور نافہمی کا بہانہ بنا رہی تھی۔ جب کسی بات کو تسلیم کرنے کا ارادہ نہ ہو تو پھر اس قسم کے بہانے تراشنا ایک معمول کی بات ہے۔ مشرکین مکہ بھی حضور ﷺ کے متعلق کہتے تھے کہ یہ شخص عجیب و غریب باتیں کرتا ہے۔ ہمارے آبائو اجداد بڑے ذہین و فطین اور عظیم لوگ تھے ، وہ سب انہی معبودوں کی پوجا کرتے رہے مگر یہ شخص ان کے خلاف بات کرتا ہے۔ ” ویقولون انہ لمجنون “ (القلم) کفار مکہ بھی کہتے تھے یہ تو دیوانہ ہے۔ بہکی بہکی باتیں کرتا ہے۔ یہ قوم شعیب کی ہٹ دھرمی یعنی کفر و شرک میں پختگی کی علامت تھی ، ورنہ شعیب (علیہ السلام) کی بات ناقابل فہم نہیں تھی۔ یہ ساری باتیں آسانی سے سمجھ میں آ رہی تھیں۔ کمزوری کا طعنہ شعیب (علیہ السلام) کے مخالفین آپ کو ایک یہ طعنہ بھی دیتے تھے وانا لنرئک فینا ضعیفاً ہم تمہیں اپنے درمیان کمزور خیال کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک تمہارے کوئی حیثیت نہیں ، تم نے خوامخواہ قوم کو اپنا دشمن بنا رکھا ہے۔ اپنے حال پر رحم کرو اور خاموشی سے گزر اوقات کرو بعض سلف نے کہا ہے کہ یہاں پر ضعف سے مراد نابینا ہونا ہے کیونکہ شعیب (علیہ السلام) اپنی زندگی میں کچھ عرصہ کے لئے نابینا بھی ہوگئے تھے۔ پھر اللہ نے معجزانہ طریقے پر بینائی لوٹا دی ، اسی طرحشعیب علیہالسلام بھی کثرت گریہ کی وجہ سے بینائی کھو بیٹھے تھے۔ حضرت شیخ الاسلام نے بیان کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شعیب (علیہ السلام) سے دریافت کیا کہ تم اتنا کیوں روتے ہو ، جنت کے شوق میں یا دوزخ کے ڈر سے ، تو آپ نے جواب دیا ، پروردگار ! تیری بقا کا خیال کر کے اس لئے روتا ہوں کہ پتہ نہیں کہ دیدار کے وقت آپ میرے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ اللہ کا ارشاد ہوا ، اے شعیب ! ہماری ملاقات اور دیدار تمہیں مبارک ہو۔ میں نے تمہاری اس صنعف کے باعث اپنے کلیم موسیٰ ابن عمران کو تمہاری خدمت پر مامور کردیا ہے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے بعد میں شعیب (علیہ السلام) کی بینائی واپس لوٹا دی تھی۔ خاندان کا لحاظ آپ کی قوم نے یہ بھی کہا ولولا رھطک لرجمنک اگر تیرا یہ خاندان نہ ہوتا تو ہم تمہیں پتھر مار مار کر ہلاک کردیتے۔ سنگساری انسانی تاریخ کی سخت ترین سزا ہے جو شادی شدہ زانی کے لئے اللہ نے مقرر کی ہے کہنے لگے تیرے خاندان کی اکثریت تیرے مذہب پر نہیں ہے بلکہ وہ اپنے آبائی دین پر ہیں ، ہمیں ان کی دل جوئی منظور ہے اور نہ تمہیں سنگساری جیسی سخت سزا دیتے اور دوسری بات یہ ہے وما انت علینا بعزیز اور تو ہم میں کوئی عزت والا بھی نہیں ہے۔ شعیب (علیہ السلام) نے جواب میں فرمایا قال یقوم ارھطی اعز علیکم من اللہ اے میری قوم ! کیا میرا خاندان تمہارے نزدیک اللہ تعالیٰ سے زیادہ عزیز ہے ؟ تمہیں اللہ تعالیٰ اور اس کے حکم کا تو کچھ خیال نہیں اور محض میرے خاندان کا لحاظ ہے۔ یہ تو بہت غلط بات ہے کہ خدا تعالیٰ جو خالق ، مالک ، مربی معطی ، نافع ، ضار اور معبود برحق ہے اس کا تو خیال نہ ہو ، اس کے احکام کو پس پشت ڈال دیا جائے مگر خاندان اور قبیلے کو اعلیٰ حیثیت دی جائے حالانکہ تمہیں اس خداوند قدوس کے احکام کو اولیت دینی چاہئے جس نے مجھے نبی بنا کر تمہاری طرف بھیجا ہے۔ فرمایا واتخذ تم وہ ورآء کم ظھریاً تم نے اللہ کے احکام کو پس پشت ڈال دیا ہے جو کہ کسی طرح بھی جائز اقدام نہیں ہے۔ یاد رکھو ! ان ربی بما تعملون محیط تم جو بھی کام کرتے ہو میرا پروردگار اس کا احاطہ کرنے والا ہے ہر چیز اور تمہارا ہر عمل اس کی نگاہوں میں ہے۔ تمہیں خدا تعالیٰ کی عظمت و جلال کا کچھ خیال نہیں اور مجھ پر میرے خاندان کا دبائو ڈالنا چاہتے ہو ، یہ تو بالکل تمہارا غلط نظریہ اور غلط سوچ ہے۔ حق و باطل میں امتیاز شعیب (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا ویقوم اعملوا علی مکانتکم اے میری قوم کے لوگو ! تم اپنی جگہ پر کام کرتے رہو۔ انی عامل اور میں اپنے طور پر عمل کرتا ہوں۔ سوف تعلمون من یاتیہ عذاب یحزیہ تمہیں عنقریب پتہ چل جائے گا کہ رسوا کن عذاب کس پر آتا ہے۔ ومن ھو کاذب اور یہ بھی جان لو گے کہ جھوٹا کون ہے ، میں یا تم ۔ آپ نے فرمایا وارتقبوآ انی معکم رقیب تم بھی راہ دیکھتے رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ، جلدی ہی حق و باطل میں امتیاز ہوجائے گا ۔ رقیب کا لفظی معنی نگرانی کرنا اور راہ دیکھنا ہوتا ہے۔ فرمایا انتظار کرو ، اللہ تعالیٰ اسی طرح انبیاء کو بھیج کر اور پھر موقع دے کر آزماتا ہے۔ پھر جب حجت تمام ہوجاتی ہے اور لوگ راہ راست پر نہیں آتے ، تو سزا میں مبتلا کردیتا ہے۔ بہرحال شعیب (علیہ السلام) نے ان پر واضح کردیا کہ اللہ کے سارے نبی نہایت ہی استقامت کی حالت میں ہوتے ہیں اور وہ قوم کے ڈرانے دھمکانے سے خوفزدہ نہیں ہوتے۔ عذاب کی آمد بہرحال یہ ساری باتیں شعیب (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کے درمیان ہوگئیں اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ کا فیصلہ آ گیا۔ ارشاد ہوتا ہے ولما جآء امرنا جب ہماری سزا کا حکم آ گیا نجینا شعیباً والذین امنوا معہ برحمۃ منا تو ہم نے بچا لیا شعیب (علیہ السلام) اور ان کے ساتھ ایمان لانے والوں کو اپنی خاص مہربانی سے۔ ان پر اس عذاب کا کچھ اثر نہ ہوا۔ جو باقی قوم پر آیا ۔ واخذت الذین ظلموا الصیحۃ اور ظلم کرنے والوں کو ایک چیخ نے پکڑ لیا جس کی وجہ سے وہ سب کے سب ہلاک ہوگئے فاصبحوا فی دیارھم جسمین اور ہوگئے وہ اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرنے والے گویا کہ وہ خوفزدہ ہو کر منہ کے بل زمین پر گر پڑے۔ قوم شعیب کی سزا کے متعلق اس مقام پر صرف چیخ کا ذکر ہے جب کہ سورة اعراف میں رجفۃ یعنی زلزلے کا ذکر بھی آتا ہے ” فاخذتھم الرجفۃ “ اور پھر سورة شعراء میں سائبان کے دن کا عذاب بتایا گیا ہے ” فاخذھم عذاب یوم الظلمۃ “ انہیں یوم ظلہ کے عذاب نے پکڑ لیا۔ بعض فرماتے ہیں کہ ایکہ والوں پر سائبان کی عذاب آیا تھا اور مدین والوں پر چیخ اور زلزلہ آیا تھا۔ یعنی ابتدائی طور پر زلزلہ آیا تھا اور پھر خوفناک چیخ سنائی دی جس سے لوگوں کے جگر اور دل پھٹ گئے اور وہ ہلاک ہوگئے۔ تاہم مفسر قرآن امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اصحاب ایکہ یا اہل مدین ایک ہی قوم کے فرد تھے یا دو علیحدہ علیحدہ قومیں تھیں لیکن سب پر تینوں قسم کا عذاب آیا تھا البتہ اللہ تعالیٰ نے مختلف سورتوں میں مختلف عذاب کا ذکر خاص مناسبت کی وجہ سے کیا ہے۔ مثلاً سورتوں میں مختلف عذاب کا ذکر خاص مناسبت کی وجہ سے کیا ہے۔ مثلاً سورة اعراف میں آتا ہے کہ آپ کی قوم نے شعیب (علیہ السلام) کو دھمکی دی ” لنحزجنک یشعیب والذین امنو معک من قریتنا اولتعودن فی ملتنا “ کہ یا تو تم ہمارے دین میں واپس آ جائو ورنہ ہم تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کو اپنی سر زمین سے نکال دیں گے۔ اس کے جواب میں اللہ نے ان پر زمین ہی کا زلزلہ مسلط کردیا کہ تم اللہ کے نبی کو جس زمین سے نکالنا چاہتے ہو ، اسی زمین پر خود تمہیں ٹھکانا میسر نہیں ہوگا۔ اس سورة مبارکہ میں مخالفین کے غرور وتکبر کا ذک ہے کہ وہ کہتے تھے کہ تو بڑا نمازی بنا پھرتا ہے اور ہمیں اپنے ہی کمائے ہوئے مال میں من مرضی کا تصرف ک کرنے سے روکتا ہے ، وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اے شعیب ! تیری یہ ناصحانہ باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں ، تو انہیں اپنے تک ہی محدود رکھ ۔ وہ لوگ آپ پر خاندانی لحاظ کا رعب بھی ڈالتے تھے کہ تیرے خاندان کی وجہ سے تمہارا لحاظ کر رہے ہیں ، ورنہ تمہیں سنگسار کردیں۔ چونکہ یہ ساری غرور وتکبر کی باتیں تھیں ، تو اللہ نے ان کے جھوٹے غرور کو توڑنے کے لئے ان کو چیخ کے ذریعے ہلاک کرنے کا ذکر فرمایا ہے اور آگے سورة شعراء میں جہاں یوم الظلہ کے عذاب کا ذکر ہے ، وہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کے مخالفین کی اس بڑ کا ذکر فرمایا ہے کہ وہ کہتے تھے اے شعیب ! ہم تیری بات ماننے کے لئے تیار نہیں اور اگر تو سچا ہے فاسقط علینا کسفاً من السمآء ان کنت من الصدقین تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے پہلے سخت گرمی بھیجی ، پانی خشک ہوگیا اور مارے گرمی اور پیاس کے لوگوں کے ہونٹ خشک ہوگئے۔ سات دن تک یہی صورتحال رہی پھر اللہ نے بادلوں کو ٹھنڈی ہوا کے ساتھ بھیجا۔ سب لوگ بادلوں کے نیچے اکٹھے ہوگئے کہ اب بارش برسے گی اور جل تھل ایک ہوجائے گا۔ مگر ہوا یہ کہ جب سب لوگ جمع ہوگئے تو بادلوں سے آگ برسنے لگی۔ جس نے ساری قوم کو جلا کر خاکستر کردیا۔ یہ یوم الظلہ کا عذاب تھا۔ بہرحال امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اللہ نے اس قوم پر تینوں قسم کے عذاب بھیجے۔ مکمل تباہی فرمایا اللہ کے بھتیجے ہوئے عذاب نے انہیں اس طرح تباہ کردیا کان لم یغنوا فیھا گویا کہ وہ وہاں کبھی آباد نہ تھے۔ فرمایا الاسنو ! آخر میں اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی ہے بعد المدین خدا کی رحمت سے دوری اور ہلاکت ہے مدین والوں پر کما بعدت ثمود جیسا کہ قوم ثمود ہلاک ہوئی۔ وہ لوگ بھی بڑے عقلمند ، ذہین اور مغرور تھے بڑے صناع اور کاریگر تھے مگر ان کی نافرمانی کی وجہ سے ان کو بھی اللہ نے تباہ و برباد کیا اور اسی طرح قوم شعیب بھی ہلاک ہوئی اور اصل یہ اہل مکہ اور بعد میں آنے والوں کو تنبیہ کی جا رہی ہے کہ اسے منکرین ! تم بھی اپنا انجام سوچ لو اگر تم بھی نافرمان قوموں کے نقش قدم پرچلو گے تو تمہارا انجام بھی ان سے مختلف نہیں ہوگا۔
Ayahs 11:96–101

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 11:96 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ہم نے بھیجا موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی آیتوں اور کھلے غلبے کے ساتھ

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ Open ayah 11:97 in the Quran reader

فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف ، پس انہوں نے اتباع کیا فرعون کی بات کا اور نہیں تھی فرعون کی بات کوئی درست

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ Open ayah 11:98 in the Quran reader

آگے آگے ہوگا وہ اپنی قوم سے قیامت کے دن پس پہنچائے گا ان کو آگ میں ، اور برا ہے وہ گھاٹ جس پر وہ پہنچیں گے

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ Open ayah 11:99 in the Quran reader

اور پیچھے لگائی گئی ان کے اس دنیا میں لعنت اور قیامت کے دن برا عطیہ ہے جو ان کو دیا گیا

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ Open ayah 11:100 in the Quran reader

یہ ہیں بستیوں کی خبروں سے ہم بیان کرتے ہیں ان کو آپ پر ، بعض ان میں سے قائم ہیں اور بعض کٹی ہوئی

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ Open ayah 11:101 in the Quran reader

اور ہم نے نہیں ظلم کیا ان پر ، مگر تھے وہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ، پس نہ کام دیا ان کو ان کے معبودوں نے ، جن کو پکارتے تھے اللہ کے سوا ، کچھ بھی ، جب کہ آ گیا تیرے رب کا حکم ، اور نہ زیادہ کیا انہوں نے ان کے لئے سوائے ہلاکت کے

ربط آیات گزشتہ دروس میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کا ذکر تھا۔ تاریخ انبیاء کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے جو واقعات بیان فرمائے ہیں ، ان کے ذریعے مسئلہ توحید کو واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کے ان پاک نفوس نے یہ مسئلہ کس طرح لوگوں کے سامنے پیش کیا پھر جن لوگوں نے اس کا انکار کیا وہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة مبارکہ میں چند اقوام کا ذکر بطور تذکیر بایام اللہ کیا ہے۔ یعنی ان ایام کا تذکرہ جو مختلف اقوام پر سزا اور نکبت کے ساتھ پیش آئے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت حضرت شعیب (علیہ السلام) کے واقعہ کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہو رہا ہے ارشاد ہے ولقد ارسلنا موسیٰ بایتنا اور البتہ تحقیق ہم نے رسول بنا کر بھیجا موسیٰ (علیہ السلام) ک اپنی آیتوں کے ساتھ ، آیات میں احکام بھی شامل ہیں اور معجزات بھی اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہالسلام کو تورات کی شکل میں احکام بھی دیئے تھے۔ معجزات کے ضمن میں آپ کی تو نشانیوں کا ذکر قرآن پاک میں آتا ہے جن میں سے دو زیادہ واضح ہیں یعنیعصا اور یدبیضا آیات سے دلائل بھی مراد ہو سکتے ہی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کی توحید کے متعلق بڑے واضح دلائل پیش کیے ار یہ کام سارے انبیاء ہی کرتے رہے ہیں۔ ایک تو نشانیاں عطا فرمائیں اور دوسری چیز وسلطن مبین کھلا غلبہ یا کھلی سند بھی موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا فرمائی۔ کھلے غلبے یا کھلی سند سے بھی معجزات ہی مراد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر بہت سے معجزات ظاہر کئے حتی کہ لاٹھی کا معجزہ دیکھ کر تمام جادوگر بھی ایمان لے آئے مگر فرعون نے پھر وہی ضد اور عناد کا اظہار کرتے ہوئے انکار ہی کیا۔ فرمایا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی آیتوں اور کھلی سند کے ساتھ رسول بنا کر بھیجا الی فرعون و ملائہ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف فرعون اور اس کی قوم قبطی خاندان سے تعلق رکھتے تھے جو مصر کے قدیم باشندے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت دونوں اقوام کی طرف تھی۔ یہاں پر قبطی قوم کی طرف اشارہ ہے جب کہ دوسرے مقام پر بنی اسرائیل کا ذکر بھی ہے۔ چونکہ فرعون اور اس کے سردارسرکشی میں حد سے بڑھ چکے تھے تو یہاں پر اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر ان کا ذکر کیا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی طرف مبعوث کیا گیا۔ فاتبعوآ امرفرعن ان سرداروں نے فرعن کے حکم کا اتباع کیا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا انکار کر کے تزکیہ سے محروم رہے انہوں نے اپنی فکر اور عقیدے کو پاک کرنے ، اللہ کی وحدانیت کو اپنانے اور ایمان کو درست کرنے کی بجائے فرعون کی بات کی پیروی کی۔ ومآ امر فرعن برشید حالانکہ فرعن کی بات نیکی ، ہدایت یا سمجھ بوجھ والی بات نہیں تھی۔ فرعون کی بات میں تو سراسر تکبر اور غرور تھا ، یہ کفر و شرک سے پر تھی اور نیکی سے خالی تھی یہ تو سو فیصدی غلط بات تھی مگر قوم واضح نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائی اور دشمن خدا کے پیچھے چلتی رہی۔ دوزخیوں کی قیادت اس قوم کا انجام بھی بالآخر وہی ہوا جو ہمیشہ نافرمان قوموں کا ہوا کرتا ہے۔ پہلی اقوام کے واقعات موجود ہیں کہ وہ لوگ مغلوب اور ذلیل ہوئے یا پھر اپنے لائو لشکر سمیت تباہ و برباد ہوئے۔ یہاں پر فرعون کے متعلق فرمایا یقدم قومہ یوم القیمۃ کہ قیامت والے دن وہ اپنی قوم کی قیادت کریگا اور ان کے آگے آگے چلے گا ، جس طرح دنیا میں وہ بحیثیت بادشاہ اور ڈکٹیٹر قوم کی قیادت کرتا تھا ، ان کو اپنے پیچھے لگا رکھا تھا ، ہر بات کی تعمیل کراتا تھا ، اسی طرح قیامت کو بھی اس کی قوم اس کے پیچھے پیچھے ہوگی۔ اللہ نے سورة نبی اسرائیل میں فرمایا یوم ندعوا کل اناس یامامھم اس دن ہم تمام لوگوں کو ان کے مقتدائوں سمیت طلب کریں گے۔ متبوع آگے ہوں گی اور تابع پیچھے پیچھے اسی اصول کے مطابق فرعون بھی اپنی قوم کے آگے آگے ہوگااور دھم النار پھر ان کو لے کر دوزخ میں جائیگا وبئس الورد المورود اور یہ بہت ہی برا گھاٹ ہے ، جس پر یہ لوگ وارد ہوں گے۔ مطلب یہ ہے کہ فرعون جیسا مغرور و متکبر شخص اپنے متبعین سمیت دوزخ والے گھاٹ پر پہنچے گا جو انہیں جلا کر بھسم کر دیگی۔ وہاں دکھ ہی دکھ ہوگا ، آرام و آسائش کی کوئی بات نہیں ہوگی۔ مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا امرہ القیس حامل لوآء الشعرآء الجاھلیۃ الی النار یعنی امراء القیس جاہلیت کے زمانے کے شعراء کا جھنڈا ہاتھ میں لئے سب کو جہنم میں لے جائیگا۔ یہ شخص جاہلیت کے زمانہ کا بہت بڑا شاعر ہوا ہے۔ حضور ﷺ کی ولادت سے بیس برس قبل مر گیا۔ اس نے اپنے زمانے میں بڑا نام پیدا کیا اور بہت سے لوگوں کو اپنے پیچھے لگا لیا۔ حضور نے فرمایا کہ ان سب لوگوں کو لے کر وہ جہنم میں چلا جائے گا یہی حال فرعون کا ہوگا کہ وہ بھی اپنے حمایتیوں سمیت دوزخ کا ایندھن بنے گا۔ دنیا و آخرت کی لعنت فرمایا اس بات کا نتیجہ یہ نکلا واتبعوا فی ھذہ لعنۃ اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگائی گئی ویوم القیمۃ اور قیامت کے دن بھی وہ اسی لعنت میں گرفتار رہیں گے وبئس الرقد المرفود اور یہ بہت بڑا عطیہ ہے جو ان کو دیا گیا۔ دوزخ کے ٹھکانے کو عطیہ یا انعام تحکم کے طور پر کہا گیا ہے کہ ان کو ایسی درد ناک نعمت میسر آئیگی جس میں انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہنا ہوگا۔ یہ بہت برا انجام ہوگا۔ تذکیر بایام اللہ فرمایا ذلک من انبآء القریٰ یہ بستیوں میں رہنے والے لوگوں کے حالات و واقعات ہیں۔ یہ واقعات اللہ تعالیٰ نے نوح (علیہ السلام) سے شروع کر کے موسیٰ (علیہ السلام) تک ذکر کئے ہیں۔ ان میں عاد ، ثمود ، قوم لوط ، ایکہ اور میدن کے سارے واقعات آگئے ہیں۔ انہوں نے اللہ کے نبیوں کی نافرمانی کی تو اللہ نے ان پر عذاب کو بھیج کر صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ فرعون بھی بڑی متمدن سلطنت کا مالک تھا اس کے حالات قرآن پاک کی متعدد سورتوں میں مذکور ہیں ، اس کے غرور وتکبر اور نافرمانی کی وجہ سے اللہ نے اسے اور اس کی پوری قوم کو بھی ہلاک کردیا اور پھر اس کی لاش کو عبرت کے لئے محفوظ کردیا۔ فرمایا نقصہ علیک ہم یہ واقعات آپ پر بیان کرتے ہیں اور مقصد یہ ہے کہ قیامت تک آنیوالی نسلیں ان واقعات سے عبرت حاصل کریں۔ تذکیر یا یام اللہ کا یہی مطلب ہے کہ لوگوں کو خبردار کردیا جائے کہ کفر ، شرک اور نافرمانی کا انجام یہی ہوتا ہے۔ اللہ نے فرمایا منھا قائم جن بستیوں کے حالات بیان ہوئے ہیں۔ ان میں سے بعض قائم ہیں یعنی ان تباہ شدہ بستیوں کے کھنڈرات موجود ہیں جو ہر آنے الے کو عبرت کا درس دے رہے ہیں۔ وحصید اور بعض بستیاں کٹی ہوئی ہیں یعنی ایسی ناپید ہوئی ہیں کہ ان کا نشان تک باقی نہیں رہا۔ ان کو اللہ نے ایسا م لیا میٹ کیا کہ کوئی نشان بھی باقی نہیں بچا۔ فرمایا ان لوگوں کو ہلاک کر کے وما ظلمنھم ہم نے ان پر کوئی زیادتی نہیں کی۔ ہم نے انہیں بلا وجہ نیست و نابود نہیں کیا ولکن ظلموآ انفسھم بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے اللہ تعالیٰ تو مخلوق پر ہمیشہ مہربان ہوتا ہے اور ان پر زیادتی نہیں کرتا کیونکہ اس کا فرمان ہے ” وما اللہ بظلام للعبید “ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر قطعاً زیادتی نہیں کرتا۔ بلکہ ہر زیادتی کرنے والا خود ہی اپنے انجام کو پہنچتا ہے کیونکہ اللہ کا قانون یہ۔ “ علیھا ما اکتسبت “ جو کوئی برائی کا ارتکاب کرے گا ، اس کا وبال خود اسی پر پڑے گا۔ مطلب یہ کہ فرعون اور اس کی قوم نے اپنے آپ پر خود ہی ظلم کیا۔ معبودان باطلہ سے مایوسی فرمایا : فما اعنت عنھم الھتھم التی یدعون من دون اللہ من شیء کفر اور شرک کرنے والے اللہ کے سوا جن معبودان باطلہ کو پکارا کرتے تھے ، وہ ان کے کچھ نہ آئے جن معبودوں کی نذر و دنیاز دیتے ، انہیں اپنی حاجتوں میں پکارتے تھے ، ان میں اختیارات کو تسلیم کرتے تھے ، قیامت والے دن وہ معبود ان کے کچھ کام نہیں آئیں گے بلکہ ان سے بیزاری کا اظہار کردیں گے۔ یہ لوگ دنیا میں جو کچھ کرتے رہے اور جو عقیدہ انہوں نے بنا رکھا تھا وہ جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ ان باطل معبودوں کے پاس کوئی اختیار نہیں تھا اور نہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تدبیر و تصرف کا مالک بنایا تھا۔ دنیا میں اللہ کا رسول منع کرتا تھا کہ ان سے تمہیں کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ ان کو چھوڑ دو مگر یہ کہتے تھے کہ ہم ان معبودوں کو کیسے چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ ادا کرتے آئے ہیں اور جن کی وہ نذر و نیاز دیتے رہے ہیں۔ فرمایا لما جآء امر ربک جب تیرے پروردگار کا حکم یعنی سزا کا وقت آ گیا تو کسی نے کوئی فریاد رسی نہ کی۔ ان کے متعلق تمام عقائد باطل ثابت ہوئے۔ فرمایا وما زادوھم غیر تتبیب اور انہوں نے ہلاکت کے سوا کچھ بھی اضافہ نہ کیا۔ البتہ افسوس ضرور پیدا ہوا کہ ہم دنیا میں جن کی پرستش کرتے رہے ، انہوں نے دھوکہ دیا اور آج کسی کام نہ آئے۔ معبود ان باطلہ اپنے متعبین کو تو کیا بچاتے وہ الٹا ان کی ہلاکت اور مزید تباہی کا باعث بنے ، ان پر خدا تعالیٰ کا مزید غضب نازل ہوا اور وہ ناکام و نامراد ہوگئے۔
Ayahs 11:102–109

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ Open ayah 11:102 in the Quran reader

اور اسی طرح ہے پکڑ تیرے رب کی جس وقت کہ وہ پکڑتا ہے بستیوں میں رہنے والوں کو درآئحالی کہ وہ ظلم کرنے الے ہوتے ہیں۔ بیشک اس کی پکڑ بڑی درد ناک اور بہت شدید ہوتی ہے

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ Open ayah 11:103 in the Quran reader

بیشک اس میں البتہ عبرت ہے ان لوگوں کے لئے جو خوف کھاتے ہیں آخرت کے عذاب سے یہ ایک دن ہے جس میں لوگ اکٹھے کئے جائیں گے اور یہ دن ہے کہ جس میں حاضری ہوگی

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ Open ayah 11:104 in the Quran reader

اور ہم نہیں اس کو مئوخر کرتے مگر ایک وقت مقررہ کے لئے

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ Open ayah 11:105 in the Quran reader

جس دن وہ آئے گا ، نہیں کلام کرے گا کوئی نفس مگر اس کی اجازت سے پس بعض ان میں سے بدبخت ہوں گے اور بعض نیک بخت

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ Open ayah 11:106 in the Quran reader

بہرحال جو بدبخت ہوئے ، پس وہ جہنم میں ہوں گے ، ان کے لئے اس میں چیخنا چلانا ہوگا اور رونے کی آوازیں

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ Open ayah 11:107 in the Quran reader

وہ ہمیشہ رہنے والے ہوں گے اس میں جب تک کہ آسمان اور زمین ہوں گے ، مگر جو چاہے تیرا پروردگار ، بیشک تیرا پروردگار کرنیوالا ہے اس کو جو چاہے

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ Open ayah 11:108 in the Quran reader

اور بہرحال وہ لوگ جو نیک بخت ہوئے ، پس وہ جنت میں ہونگے ہمیشہ رہنے والے ہوں گے اس میں جب تک آسمان اور زمین ہونگے ، مگر جو چاہے تیرا پروردگار ، یہ ایسی بخشش ہے جو قطع نہیں کی جائیگی

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ Open ayah 11:109 in the Quran reader

پس نہ ہوں آپ شک میں اس چیز سے جس کی عبادت کرتے ہیں یہ لوگ ۔ نہیں عبادت کرتے یہ مگر ایسے ہی جیسے کہ ان کے آبائو و اجداد عبادت کرتے تھے اس سے پہلے اور بیشک ہم پورا پورا دینے والے ہیں ان کو ان کا حصہ جو کم نہیں کیا جائے گا۔

ربط آیات فرعون اور اس کی قوم کا حال بیان ہوچکا ہے۔ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی طرف رسول بنا کر بھیجا مگر فرعون اور اس کے سرداروں نے آپ کی بات کا انکار کیا۔ لوگوں نے فرعون کی بات کا اتباع کیا ، حالانکہ وہ بالکل غلط موقف پر تھا ان کے انجام کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ قیامت کے دن فرعون اپنی قوم کے آگے آگے چل رہا ہوگا اور سب کو دوزخ میں لے جائیگا۔ اللہ نے دنیا میں بھی ان کے پیچھے لعنت لگائی ، اور قیامت کو بھی وہ اسی لعنت میں گرفتار ہوں گے۔ اللہ نے مختلف بستیوں کا حال بیان فرمایا کہ ان میں سے بعض بالکل اجڑ چکی ہیں اور بعض کے نشانات موجود ہیں اور آنے والے لوگوں کے لئے باعث عبرت ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ ہم نے کسی نفس پر ظلم نہیں کیا۔ بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی سزا کے مستحق بنتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ جن معبودان باطلہ کی پرستش کرتے رہے ، قیامت والے دن ان کے کچھ کام نہیں آئیں گے اور صرف ہلاکت ہی ا ن کے مقدر میں ہوگی۔ اللہ والے کی گرفت ایسے ہی نافرمانوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا اشراد ہے وکذلک اخذ ربک اذا اخذ القریٰ اور تیرے پروردگار کی پکڑ اسی طرح ہوتی ہے جب وہ بستیوں والوں کو پکڑتا ہے وہی ظالمۃ درآں حالیکہ وہ ظلم کرنے والے ہوتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت صرف سابقہ اقوام نوح ، عاد ، ثمود ، لوط ، اصحاب ، ایکہ اور مدین اور قوم فرعون کے لئے ہی نہ تھی بلکہ جب بھی کوئی قوم ظلم و جور پر اتر آتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی گرفت بھی آجاتی ہے۔ اور ایسے لوگوں کو بالا نتہا سزا مل کر رہتی ہے۔ ان اقوام کا ذکر اللہ نے نمونے کے طور پر کیا ہے ، وگرنہ اس کا قانون ساری مخلوق کے لئے ایک سا ہے۔ دوسری جگہ فرمایا کذلک نجزی کل کفورً ہم ہر ناشکر گزار کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں اور کسی گنہگار کو چھوڑتے نہیں۔ بعض اوقات اللہ تعالیٰ مہلت دے دیتا ہے مگر آخر کار مجرم پکڑے جاتے ہیں۔ ان اخذہ الیم شدید بیشک اللہ تعالیٰ کی پکڑ درد ناک اور بڑی سخت ہے۔ اس سے کوئی شخص بچ نہیں سکتا۔ نشان عبرت فرمایا ان فی ذلک لایۃ لمن خاف عذاب الاخرۃ بیشک اس میں نشان عبرت ہے اس شخص کے لئے جو آخرت کے عذاب سے خوف کھاتا ہے۔ اسے ڈر ہے کہ کہیں وہ بھی سابقہ قوموں کی طرح اللہ کی گرفت میں نہ آجائے۔ فرمایا آخرت کا دن ایسا ہے ذلک یوم مجموع ” لہ الناس کہ اس دن لوگوں کو اکٹھا کیا جائیگا و ذلک یوم مشھود اور یہی حاضری کا دن ہے اس دن سب کے سب اللہ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے اور کوئی بھی غیر حاضر نہیں ہوگا اور پھر اس دن کے وقوع کے متعلق فرمایا وما نوخرۃ الا لاجل معدود ہم اس دن کو مئوخر نہیں کرتے مگر ایک مقررہ وقت تک ۔ قیامت کا دن اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے ، اس کی میعاد اور وقت مقررہ ہے۔ ہر جاندار اور شجر و حجر تک کے لئے ایک وقت مقرر ہے۔ پھر اسی طرح مجموعہ عالم کے لئے بھی ایک وقت مقرر ہے۔ پھر اسی طرح مجموعہ عالم کے لئے بھی ایک وقت مقرر ہے۔ یہ تمام اوقات اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں اور وہ ان مقررہ اوقات پر ہر چیز کو ظاہر کرتا ہے۔ اس طرح جب پوری کائنات کا مقررہ وقت آجائے گا تو قیامت واقع ہوجائے گی اور اسی دن کے لئے اسے مئوخر کیا گیا ہے۔ سورة انعام کی ابتداء میں بھی گزر چکا ہے کہ جس طرح ہر فرد کی عمر اور مدت مقرر ہے اسی طرح مجموعہ عالم کی بھی ایک عمر اور مدت مقرر ہے جب وہ مدت پوری ہوجائے گی تو یہ سارا سلسلہ تبدیل کردیا جائے گا۔ موجودہ پورا نظام درہم برہم ہو ائے گا اور اس کی جگہ دوسری نظام قائم ہوگا تو فرمایا کہ اس دن کو مئوخر کرنا اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مصلحت کے مطابق ہے۔ مجرم یہ نہ سمجھیں کہ وہ اس طرح ہمیشہ دندناتے پھریں گے اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ، بلکہ بتلایا یہ جا رہا ہے کہ اللہ کی حکمت کے مطابق جب وہ مقررہ دن آجائے گا تو پھر سب کو اللہ کے حضور پیش ہو کر اعمال کی جوابدہی کرنا ہوگی۔ انسانوں کی زبان بندی فرمایا یوم یات جب وہ دن آجائے گا لاتکلم نفس الا باذنہ تو کوئی شخص کلام نہیں کرسکے گا۔ مگر اللہ تعالیٰ کی اجازت سے آج تو لوگ طاقت اور اقتدار کے نشے میں سرشار بڑا شور مچاتے ہیں مگر اس دن کوئی شخص اس وقت تک لب کشائی نہیں کرسکے گا۔ جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بولنے کی اجازت نہیں ملے گی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ، اس دن کوئی نہیں بول سکے گا سوائے انبیاء (علیہم السلام) کے اور ان کی پکار یہی ہوگی رب سلم رب سلم اے اللہ ! آج کے دن بچا لے ، ایسا موقع ہوگا اور ایسی دہشت طاری ہوگی۔ حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے ان اللہ لیملی للظالم حتی اذا اخذہ لم یخلصہ بیشک اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا رہتا ہے مگر جب پکڑتا ہے تو پھر چھوڑتا نہیں۔ تو فرمایا آج یہ لوگ ظلم و زیادتی پر ڈٹے ہوئے ہیں مگر وہ دن بھی آنے والا ہے ۔ جب بولنے کی طاقت بھی نہیں ہوگی۔ شقاو ت و سعادت جس دن کا ذکر ہو رہا ہے اس دن انسان دوگروہوں میں تقسیم ہوں گے فمنھم شقی و سعید ان میں سے بعض بدبخت ہوں گے اور بعض نیک بخت اور آگے اللہ نے دونوں گروہوں کا انجام بھی بیان فرمایا ہے۔ یہ بدبختی اور نیک بختی دنیاوی لحاظ سے بھی ہوتی ہے ، دینی لحاظ سے بھی اور روحانی لحاظ سے بھی اگر نیک بختی کو محض دنیاوی لحاظ سے شمار کیا جائے تو بہت سے کافر ، مشرک ، نافرمان ، باغی ، ظالم اور سرکش نیک بخت سمجھے جائیں گے کیونکہ انہیں صحت و تندرستی حاصل ہے ، مال و دولت کی فراوانی ہے ، کاریں اور کوٹھیاں ہیں ، الاد اور نوکر چاکر ہیں ، جاہ اور اقتدار حاصل ہے مگر یہ حقیقی سعادت نہیں ہے۔ امام شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ انسان کو حقیقی سعادت اس وقت حاصل ہوگی جب وہ انسان اکبر کے نمونے کے مطابق ہوگا جو خطیرۃ القدس میں تمام انسانیت کے لئے موجود ہے۔ اس کو وح اعظم بھی کہتے ہیں۔ جو شخص اس نمونے کے زیادہ قریب ہوگا وہی سعادت مند ہوگا اور جو شخص اس نمونے سے جتنا دور ہوگا وہ اتنا ہی بدبخت ہوگا۔ حضرت شقیق ملجی بڑے پائے کے بزرگ اور اولیاء اللہ میں سے ہوئے ہیں ، وہ فرماتے ہیں کہ اس دنیا میں شقاوت کی علامت یہ ہے کہ انسان کا دل سخت ہوتا ہے اور اس کی آنھیں خوف خدا اور خوف آخرت سے کبھی تر نہیں ہوتیں۔ ایسے شخص کا دل دنیا کی طرف ہی راغب رہتا ہے۔ وہ لمبی لمبی آرزوئیں بادنھتا ہے ، سکی میں بناتا ہے کہ یوں کر دوں گا اور یوں کر دوں گا مگر حقیقت میں کچھ نہیں ہوتا۔ فرماتے ہیں کہ شقی آدمی بےحیائی کی طرف بھی مائل ہوتا ہے۔ اور سعادت مند آدمی وہ ہوتا ہے جو نرم دل ہو۔ خدا کے خوف سے اس کی آنکھیں پرنم رہتی ہوں دنیا سے ایک حد تک نفرت کا اظہار کرتا ہو۔ لمبی خواہشات سے بچتا ہو او اس میں شرم و حیا کا مادہ موجود ہو۔ شقی و سعید کا انجام فرمایا فاما الذین شقوا ففی النار بہرحال جو بدبخت ہوئے وہ دوزخ میں جائیں گے لھم فیھا زفیر وشھیق وہاں ان کے لئے چیخنا چلانا اور رونے کی آوازیں ہونگی۔ مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ زفیر گدھے کی اس آواز کو کہیت ہیں جو ابتداء میں بڑی بلند ہوتی ہے اور شہیق وہ آواز ہوتی ہے جو آخر میں نرم پڑجاتی ہے یہ ایسی آواز ہوتی ہے جو سینے اور حلق سے غم واندوہ کی صورت میں نکلتی ہے تو فرمایا کہ بدبخت آدمی کے لئے دوزخ میں جا کر رونا پیٹنا اور چیخنا چلانا ہوگا خلدین فیھا مادامت السموت ولارض یہ لوگ وہیں دوزخ میں ہی رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں۔ الا ماشآء ربک مگر جوت یرا پروردگار چاہے۔ اگر اس کی مشیت ہوگی تو حالات مختلف بھی ہو سکتے ہیں۔ وہ مالک ہے۔ جو چاہے کرے مگر عام قانون یہی ہے کہ شقی لوگ دوزخ میں دائمی طور پر رہیں گے ان ربک فقال لما یرید بیشک تیرا پروردگار کر گزرنے والا ہے جو چاہے ۔ اس کو حق پہنچتا ہے کہ کسی بندے سے جیسا چاہے سلوک کرے۔ فرمایا واما الذین سعدواففی الجنۃ اور بہرحال وہ لوگو جو نیک بخت ہوئے۔ وہ جنت میں ہوں گے۔ خلدین فیھا مادامت السموت والارض وہ اسی میں مقیم رہیں گے جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں۔ الا ماشآء ربک سوائے اس کے کہ جو تیرا پروردگار چاہے وہ اگر کچھ اور فیصلہ کرنا چاہے۔ یا اس قانون میں کوئی استثنا برتنا چاہے تو وہ مختار کل ہے۔ ان جنتیوں کے متعلق فرمایا عطآء غیر مجدود جنتیوں کے جنت میں جانے کا یہ ایسا انعام ہے جو قطع نہیں کیا جائے گا یعنی ایسے لوگوں کو جنت سے محروم کی کوئی صورت نہیں ہوگی اور وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ ارض و سما کی ابدیت اس آیت کریمہ میں دوزخیوں اور جنتیوں دونوں گروہوں کے لئے مادامت السموت والارض کے الفاظ آئے ہیں ، یعنی جب تک آسمان و زمنی کا نظام قائم ہے دونوں گروہ اپنے اپنے مقام پر رہیں گے۔ ان الفاظ سے یہ متر شح ہوتا ہے کہ جنت اور دوزخ کا قیام ابدی نہیں بلکہ زمین و آسمان کی موجودگی تک ہے ، اور جب یہ نظام بدل جائے گا تو جنت یا دوزخ سے نکلنا پڑے گا ، حالانکہ مشہور یہ ہے کہ جنت اور دوزخ ہمیشہ رہیں گے ۔ اس اشکال کے جواب میں مفسرین فرماتے ہیں کہ عربی محاورے میں جب لندی کا ذکر کرنا ہو تو آسمان سے تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ انسانی ذہن میں آسمان بلند ترین جگہ پر ہے اور جب پستی کا ذکر مطلوب ہو تو زمین سے تشبیہدی جاتی ہے تو اس سے پوری کائنات مرد ہوتی ہے جس میں کسی چیز کو استشناء حاصل نہیں ہوتا دوسری بات یہ ہے کہ جب سے انسان پیدا ہوا ہے ، زمین و آسمان کو دیکھ رہا ہے کہ ان میں کوئی تغیر و تبدل پیدا نہیں ہوتا لہٰذا اس کے دل میں ان کی ابدیت کا تصور پیدا ہتا ہے اور جب زمین و آسمان کے قیام کے حوالے سے کسی بات کا ذکر کیا جائے تو مراد یہی ہوتی ہے کہ زمین و آسمان کی طرح یہ چیز بھی ابدی ہے تو یہاں پر بھی اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے کہ جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں دوزخی اور جنتی اپنے اپنے مقام میں رہیں گے۔ اس کا یہی مطلب ہے کہ یہ لوگ ان مقامات پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رہیں گے اور وہاں سے نکالے نہیں جائیں گے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں مذکورہ آسمان و زمین سے مراد اس دنیا کے آسمان و زمین نہیں بلکہ آخرت کا آسمان اور زمین مراد ہے۔ آگے سورة ابراہیم میں آ رہا ہے ۔ ” یوم تبدل الارض غیر الارض والسموت “ وہ دن آنے والا ہے جب کہ موجودہ زمین اور آسمان تبدیل کردیئے جائیں گے اور ان کی جگہ دوسری زمین اور دوسرا آسمان قائم ہوگا۔ ظاہر ہے کہ قیامت کے بعد جو زمین و آسمان قائم کئے جائیں گے وہ ابدی ہوں گے ، لہٰذا اس آیت میں آخرت کے زمین و آسمان مراد ہیں۔ جس طرح یہ زمین آسمان ابدی ہوں گے اسی طرح جنتیوں اور دوزخیوں کا قیام بھی ابدی ہوگا۔ ماشاء اللہ کی توجیہات یہاں پر دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب جنت اور دوزخ کا قیام ابدی ٹھہرا تو پھر ماشاء اللہ کے استثناء کا کیا مطلب ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جنت اور دوزخ کے قیام کے علاوہ حشر کا جو عرصہ ہوگا اس میں نہ تو لوگ جنت میں ہوں گے اور نہ دوزخ میں تو اس عرصہ کو الا ماشآء اللہ پر ہی محول کر سکیت ہیں۔ اس ضمن میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی یہ توجیہہ پیش کرتے ہیں کہ دوزخی لوگ جب جہنم میں جلتے جلتے کافی عرصہ گزاریں گے اور وہ شدید پیاس میں مبتلا ہوں گے ، تو انہیں حجیم (گرم آگ) سے حمیم (گرم پانی) کی طرف لے جایا جائے گا تو یہ درمیانی عرصہ الا ماشاء اللہ کی استثنائی حالت میں ہوگا ، کیونکہ اس وقفہ کے دوران دوزخی کم از کم دوزخ میں نہیں ہوں گے۔ ایک بات یہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ جنتیوں کا جنت میں اور دوزخیوں کا دوزخ میں قیام اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے اگرچہ بعض گمراہ فرقوں کا یہ خیال بھی ہے کہ خدا تعالیٰ جنتیوں کو جنت میں اور دوزخیوں کو دوزخ میں رکھنے پر مجبور ہے مگر یہ غلط نظریہ ہے حقیقت یہ ہے اللہ تعالیٰ کسی کام پر ہرگز مجبور نہیں ہے ، بلکہ وہ اپنی مشیت کے مطابق جو چاہے کرنے پر قادر ہے ، لہٰذا جنت اور دوزخ میں رکھنے کا فیصلہ خالصتاً اس کی مرضی پر موقوف ہے ، وہ جو چاہے فیصلہ کرے ، اس پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ بہرحال جہاں تک جنت اور دوزخ کی ابدیت کا تعلق ہے ، یہ قرآن و سنت سے ثابت ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایک وقت ایسا بھی آئیگا کہ موت کو ذبح کردیا جائے گا اور جنت والوں سے کہا جائیگا خلود ولا موت تمہیں ہمیشہ رہنا ہے اور اب موت نہیں آئے گی پھر دوزخ والوں سے بھی یہی کہا جائے گا جس کا مطلب بھی یہی ہے کہ جنت اور دوزخ ابدی میں اور وہاں پہنچنے والوں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے وہیں رہنا ہوگا البتہ جنتیوں کے متعلق خاص طور پر فرمایا گیا ہے۔ عطا غیر مجذوذ جنت میں داخلہ ایک ایسی بخششیں ہے جو منقطع نہیں ہوگی۔ سورة التین میں بھی اس قسم کے الفاظ آئے ہیں کہ اہل ایمان اور اعمال صالح کے مرتکبین کے لئے آخر غیر ممنون نہ ختم ہونے الا اجر ہوگا۔ شرک اور اس کا بدلہ آگے شرک کی مذمت بیان فرمائی فلاتک فی مریۃ مما یعبدھولآء آپ اس چیز سے شک میں نہ پڑیں جس کی یہ لوگ پرستش کرتے ہیں ، کیونکہ مایعبدون الا کما یعبد ابآئو ھم من قبل یہ بھی انہی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جن کی عبادت اس سے پہلے ان کے آبائو اجداد کرتے آئے ہیں مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے شرک کے ارتکاب میں آپکو کسی قسم کا شک نہیں ہونا چاہئے۔ یہ پکی بات ہے کہ نزول قرآن کے زمانے کے مشرک یا موجودہ زمانے کے مشرک انہی معبودان باطلہ کی پوجا کر رہے ہیں جو ان کے بزرگ سے چلے آ رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ جوئی غیر اللہ کی پرستش کریگا وہ ہلاک ہو کر رہے گا فرمایا وانا لموفوھم نصیبھم غیر منقوص اور ہم ان کو پورا پورا بدلہ دینے والے ہیں۔ ان کو پوری پوری جزا ملے گی اور اس میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ کفر و شرک یا ظلم و زیادتی کرنے والے قطعاً یہ خیال نہ کریں کہ وہ کسی طرح اللہ کی گرفت سے بچ جائیں گے ، بلکہ انہیں ان کے کئے کا مکمل بدلہ ملے گا۔ اس سے یہ مفہوم بھی لیا جاسکتا ہے کہ ایسے لوگوں کے لئے دنیا میں جو حصہ مقرر ہے۔ وہ پورا پورا دیا جائے گا۔ دنیا میں ہر نیک و بد کے لئے اللہ کے علم کے مطابق ایک ایک حصہ مقرر ہے جو لازماً ہر ایک کو ملے گا۔ اس دنیا کی زندگی میں اللہ تعالیٰ نے صحت ، زندگی ، مال ، الاد ، راحت جو کچھ بھی لوازمات زندگی کے طور پر مقرر کیا ہے ، وہ سب کچھ مل کر رہے گا اور اس میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی اور جب یہ مقررہ حصے مکمل ہوجائیں گے تو پھر سزا کا سلسلہ بھی شروع ہوجائے گا۔ گویا اپنا پورا حصہ حاصل کرلینے کے بعد اگلی منزل آئیگی۔