10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 10:1–2

الٓرٰ١۫ تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْحَكِیْمِ Open ayah 10:1 in the Quran reader

الر یہ آئتیں ہیں حکمت والی کتاب کی

اَكَانَ لِلنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْهُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؔؕ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 10:2 in the Quran reader

کیا لوگوں کے لیے یہ بات تعجب خیز ہے کہ ہم نے وحی بھیجی ہے ایک بندے کی طرف ان میں سے ( اور اس سے یہ کہا ہے) کہ ڈرا دے تو لوگوں کو اور خوشخبری دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں کہ بیشک ان کے لیے سچائی کا پایہ ہے ان کے سب کے پاس کہا کفر کرنے والوں نے کہ بیشک یہ کھلا جادوگر ہے

نام اور کوائف : اس سورة کا نام سورة یونس ہے۔ اس کے آخری سے پہلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کی نافرمانی اور ایمان لانے کا مختصر تذکرہ کیا ہے ، اسی نسبت سے اس کا نام سورة یونس ہے۔ اس سورة کا ایک نام الربھی ہے جو کہ سورة کے پہلے لفظ سے اخذ کیا گیا ہے۔ یہ سورة مکی زندگی کے آخری دور میں نازل ہوئی ، لہٰذا مکی سورة کہلاتی ہے۔ اس کی ایک سو نو آیات اور گیارہ رکوع ہیں۔ یہ سورة 1082 الفاظ اور 6567 حروف پر مشتمل ہے۔ مضامین سورة : اس سورة کے مضامین پہلی سورة توبہ کے مضامین سے خاصی مناسب رکھتے ہیں۔ گذشتہ سورة کے آخر میں توحیدورسالت کا ذکر تھا تو اس سورة میں یہی مضمون ابتداء میں بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ گذشتہ سورة میں زیادہ ترجہاد بالسیف کا تذکرہ تھا اور اسی سلسلہ میں غزوہ تبوک کی تفصیلات بیان کی گئی تھیں مگر اس سورة میں زیادہ تر جہاد باللسان کا ذکر ہے۔ بہرحال ان دونوں سورتوں میں جہاد بھی قدرمشترک ہے۔ پچھلی سورة میں کفار کے تین گروہ یعنی کافر ، اہل کتاب اور منافق لوگوں کا رد کیا گیا تھا جب کہ اس سورة میں مشرکین کے ساتھ بحث مباحثہ ، ان کا رد اور ان کو اسلام کی دعوت کا ذکر کیا گیا ہے ۔ تو گویا سورة یونس میں ایک تو توحید اور شرک کا مسئلہ بالوضاحت بیان کیا گیا ہے اور دوسرا مسئلہ حضور خاتم النبین ﷺ اور دیگر انبیاء کی نبوت و رسالت پر شکوک و شبہات کا اظہار کرنے والوں کے اعترضات کا مدلل جواب دیا گیا ہے۔ پھر تیسرا مسئلہ معاد یعنی قیامت کا ہے کہ یہ بھی اجزائے ایمان میں سے ایک اہم جزو ہے۔ تو اس سورة میں قیامت کا ذکر بھی تفصیل کے ساتھ ملے گا ، اس کے علاوہ اس سورة میں سابقہ قوموں کے حالات انبیاء کی دعوت اور ان کی اقوام کا ردعمل اور پھر ان کا انجام بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے عبرت حاصل کرنے کی تلقین کی ہے۔ ان واقعات میں فرعون اور اس کی قوم کا واقعہ خاص طور پر بیان ہوا ہے۔ اس سورة کا سب سے اہم موضوع دعوت الی القرآن ہے اللہ تعالیٰ نے اس کی صداقت وحقانیت کو واضح کر کے اس کے پروگرام کی طرف دعوت دی ہے۔ اس مضمون کو وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ نیز توحید کے عقلی اور نقلی دلائل پیش کر کے شرک کا رد کیا گیا ہے۔ نیز توحید کے عقلی اور نقلی دلائل پیش کر کے شرک کا رد کیا گیا ہے۔ بہرحال قرآن کے اسلوب بیان کے مطابق مکی سورتوں میں زیادہ تر بنیادی عقائد کا ذکر کر کے ان کی اصلاح کا سبق دیا جاتا ہے۔ مکی سورة ہونے کے ناطے سورة یونس کا بھی یہی طرہ امتیاز ہے۔ حروف مقطعات : اس سورة کی ابتداء حروف مقطعات الر سے ہوئی ہے جن کے متعلق مفسرین کرام کی مختلف آراء ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ قرآن پاک میں آنے والے اس قسم کے مفرد حروف یا تو اللہ تعالیٰ کے کسی اسم پاک کی طرف اشارہ کرتے ہیں یا ان میں قرآن پاک کی کسی خاص بات کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ البتہ بعض مفسرین مختلف حروف کی مختلف تشریح کرتے ہیں مثلا یہ کہ ال سے اللہ مراد ہے اور را سے اللہ کی رافت اور رحمت کا اظہار ہوتا ہے۔ تو گویا ” الر ‘ ‘ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا کہ اے میرے بندو ! دیکھو ، میں نے تمہاری ہدایت اور راہنمائی کے لیے اپنی رافت اور رحمت کے ساتھ کتنا اچھا کلام نازل فرمایا ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں ” را “ کا اشارہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمان کی طرف ہے اور پورا مطلب یہ ہے کہ ” انا اللہ الرحمن “ میں تمہارا اللہ ہون جو رحمان بھی ہوں اور یہ میری رحمت کے کرشمے ہیں کہ تمہاری ہدایت کے لیے ایک رسول برحق کو بھیجا ، ایک کتاب بھی نازل فرمائی اور تمہارے لیے تمام ظاہری اور باطنی لوازماتِ زندگی مہیا فرمائے۔ اس سورة میں آگے آرہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کتنے عظیم انعامات سے نوازا ہے۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں ” را “ سے روئیت مراد ہے۔ اور اس طرح معنی یہ بنتا ہے ” انا اللہ اری “ یعنی میں تمہارا اللہ ہوں جو تمہاری ہر حرکت کو دیکھ رہا ہوں۔ شاہ ولی اللہ کا نظریہ : شاہ ولی اللہ محدث (1۔ الفوز الکبیر ، ص 108 ، 109) دہلوی (رح) بذریعہ کشف یا ذوق ان حروف کے معانی اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ہر سورة کی ابتداء میں آنے والے حروف مقطعات اس سورة کے مضمون کا خلاسہ ہوتے ہیں اور ان حروف کو دیکھ کر سورة کی اندرونی حقیقت سمجھ آجاتی ہے۔ فرماتے ہیں کہ ہم لفظ قاضی کا استعمال کرتے ہیں ، تو اس کا پورا مفہوم فورا سمجھ آجاتا ہے کہ یہ ایک ایسی شخصیت کا ذکر ہے جس کی یہ اہلیت ہوتی ہے اور وہ فلاں کام انجام دیتا ہے۔ اسی طرح ہم بی اے ، ایم اے یا پی ایچ ڈی کا لفظ بولتے ہیں تو ان الفاظ کے معانی ومفہوم کی پوری حقیقت ہمارے ذہن میں ہوتی ہے۔ اسی طرح شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ حروف مقطعات سے بھی مخفی حقائق کی نشاندہی ہوتی ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) اپنی کتاب الخیر الکثیر میں لکھتے ہیں کہ ” الر “ میں مقامات انبیاء کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ کے نبی اس دنیا میں آکر ہمیشہ شرور کے ساتھ متصادم رہتے ہیں۔ مشرک ، کافر ، منافق ، دہریے اور دیگر باطل عقیدے والے اور بےدین لوگ دین ِ حق کی مخالفت پر کمر بستہ رہتے ہیں اور انبیاء (علیہ السلام) ان کے مقابلے میں اللہ کے سچے دین کو پیش کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ” الر “ میں حق و باطل کے اسی تصادم کی طرف اشارہ ہے۔ چنانہ سورة ہذا میں حق و باطل کے اسی تصادم کی طرف اشارہ ہے۔ چناچہ سورة ہذا میں اس نظریہ کی جگہ جگہ تفسیر نظر آئیگی کہ اللہ نے نبیوں نے اور بالخصوص حضور خاتم النبین ﷺ نے دنیا میں کس طرح شرور وفتن کا مقابلہ کیا۔ حرف آخر : علامہ جلال الدین سیوطی (رح) اس ضمن میں آخری بات یہ فرماتے (2۔ جلالین ، ص 4 ، ج 1) ہیں کہ حروف مقطعات کا یہ نظریہ ہونا چاہیے ” اللہ اعلم بمرادہ بذلک “ یعنی ان حروف کا حقیقی معنی اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ، لہٰذا ہمارا عقیدہ یہی چاہیے امنا بہ یعنی ہم اس پر ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان حروف کی جو بھی مراد ہے وہ برحق ہے اور ہمارا اس پر ایمان ہے۔ فرماتے ہیں کہ یہی راستہ سلامتی والا ہے۔ اس معاملہ میں زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ ان الفاظ کی تعبیر وتشریح حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور حضرت علی ؓ کے اشارات میں بھی ملتی ہے مگر بعد کے زمانے میں لوگ شکوک و شبہات میں مبتلا ہونے لگے تو مفسرین نے ان حروف کے معانی کو انسانی ذہنوں کے قریب تر لانے کے لیے بعض توجیہات بھی کیں۔ مگر حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ لہٰذا محتاط اور سلامتی کا راستہ یہی ہے کہ اس معاملہ کو اللہ کے سپرد کردیا جائے اور یہ نظریہ رکھا جائے کہ ان حروف سے جو بھی اللہ تعالیٰ کی مراد ہے ، وہی برحق ہے اور اسی پر ہمارا ایمان ہے۔ اللہ کے تمام رموز کو جاننا نہ ممکن ہے اور نہ ہی ہمارے لیے ضروری ہے۔ محکمات اور متشابہات : قرآن پاک میں بعض چیزیں حکم ہیں اور بعض متشابہ ، متشابہات پر صرف ایمان لانا ضروری ہے جب کہ محکمات پر ایمان لانے کے علاوہ ان پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ پھر جہاں کہیں شک وشبہ پڑجائے تو ایسی باتوں کو محکمات کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر محض متشابہات کے پیچھے ہی پڑے رہے اور ان کو کریدنے کی فضول کوشش کرتے رہے تو گمراہ ہونے کا خطرہ ہے۔ بعض لوگ متشابہات کو غلط معانی پہنا کر ہی گمراہ ہوئے۔ قرآن پاک کی آیات اور الفاظ کو غلط معانی دینے والے لوگ پہلے زمانے میں بھی موجود تھے۔ اور ہمارے زمانے میں بھی پرویزی ، چکڑالوی اور قادیانی وغیرہ گمراہ فرقے موجود ہیں جو قرآن کی تاویلیں کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں ہدایت پانے کے بجائے گمراہی کی کھائیوں میں جا گرتے ہیں۔ ہماری عقلیں چونکہ ناقص ہیں لہٰذا ہمیں متشابہ آیات میں الٹی سیدھی تاویلیں کر نیکی بجائے ان محکم آیات کی روشنی میں راستہ تلاش کرنا چاہیے۔ پھر بھی جو بات سمجھ میں نہ آئے تو اس پر محض ایمان لا کر اسے اللہ تعالیٰ کے سپرد کردینا چاہیے۔ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ جب کوئی بات اللہ کے نبی سے قطعی طور پر پایہ ثبوت کو پہنچ جائے تو اس پر عمل کرنا چاہیے خواہ وہ چیز ہماری عقل میں آئے یا نہ آئے ، ہمارا فرض اس پر ایمان لانا ہے۔ کتاب حکیم : ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” تلک ایت الکتب الحکیم “ یہ حکمت والی کتاب کی آیتیں ہیں۔ قرآن پاک کی طوال یعنی لمبی سورتوں والا حصہ پچھلی سورة پر ختم ہوچکا ہے اور اب اس سورة مبارکہ سے دوسرا حصہ مثانی شروع ہو رہا ہے۔ یہ حصہ قرآن چودھویں پارے میں سورة نحل تک جائے گا اور اس کے بعد مئین سورتیں شروع ہوجائیں گی۔ بہرحال آیت مبارکہ میں لفظ آیات سے مراد اس سورة کی آیتیں بھی ہو سکتا ہے ، اور قرآن پاک کی مطلق آیات بھی مراد لی جاسکتی ہیں۔ فرمایا یہ اس کتاب کی آیتیں ہیں جو حکیم ہے۔ حکیم کا مطلب محکم بھی ہو سکتی ہیں۔ یعنی وہ کتاب جو محکم ، مضبوط اور پکی ہے۔ سورة بینہ کے الفاظ (آیت) ” کتب قیمۃ “ کا بھی یہی معنی ہے کہ یہ بہت مضبوط اور واقعہ کے مطابق کتاب ہے جس میں تغیر وتبدل کا کوئی امکان نہیں۔ اس کے تمام واقعات ، اوامر ونواہی تحریف سے بالکل پاک ہیں۔ یہ عقل سلیم اور فطرت کے عین مطابق ہیں اور ان میں غلطی کا کوئی امکان نہیں۔ یہ آیات انسان کی فلاح کے لیے بہترین پروگرام پیش کرتی ہیں ، اس کے تمام احکامات قیامت تک کے لیے کار آمد ہیں ، اب کوئی پیغمبر یا کوئی ایسی کتاب نہیں آئے گی جو ان احکام کو منسوخ کرسکے ، گویا یہ محکم کتاب کی اٹل آیتیں ہیں۔ کتاب حکیم کا مطلب حکمت والی کتاب بھی ہو سکتا ہے۔ اس کتاب کی ساری تعلیم حکمت سے لبریز ہے۔ قرآن پاک نے حکمت و دانائی کا مکمل کورس فراہم کردیا ہے۔ سورة بقرہ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” ومن یوت الحکمۃ فقد اوتی خیرا کثیرا “ جسے حکمت عطا کردی گئی اسے بہت بڑی بھلائی عطا کردی گئی۔ حکمت کا معنی فہم اور دانش کی باتیں ہوتا ہے۔ گویا یہ کتاب حکمت و دانائی کی نہایت عمیق اور دقیق باتوں پر مشتمل ہے۔ اس میں جہالت ، کمزوری یا غلطی والی کوئی بات نہیں۔ یہ ایسی کتاب ہے جس کی صداقت کا حتمی اعلان ہوچکا ہے۔ اس سورة میں قرآن حکیم کی حقانیت اور صداقت کو خاص طور پر بیان کیا گیا ہے۔ آگے دوسری آیت میں رسالت کی طرف بھی اشارات ملتے ہیں اور پھر تیسری آیت سے توحید کی حقیقت کو آشکارا کیا گیا ہے۔ آگے دیگر متفرق مضامین بھی آئیں گے ان کو مختلف دلائل کی روشنی میں بتکرار ذکر کیا گیا ہے۔ معیار رسالت قرآن پاک کی حقانیت کے بیان کے بعد اب دوسری آیت میں رسالت کے لیے تعجب انگیز ہے (آیت) ” ان اوحینا الی رجل منھم “ کہ ہم نے ان میں سے ایک مرد کی طرف وحی بھیجی ہے۔ استفہامیہ انداز میں فرمایا ، کیا یہ کوئی قابل اعتراض بات ہے ؟ روایات میں آتا ہے کہ مشرکین حضور کی نبوت کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ کوئی شاعر کہتا کوئی کاہن کہتا ، کسی نے دیوانگی اور افتراء کا الزام لگایا ( نعوذ باللہ) مشرکین کا نظریہ یہ تھا کہ اگر نبوت ملنی تھی تو مکہ کے کسی بڑے آدمی کو ملتی۔ ابو الحکم ( ابو جہل) بڑا آدمی ہے ، مغیرہ بڑا دولت مند ہے۔ لاکھوں اشرفیوں کی تجارت ہے ، بڑے جانوروں کا مالک ہے اور بڑے لونڈی غلام رکھتا ہے۔ نبوت کا حقدار تو وہ ہے۔ وہ یہ بھی کہتے تھے کہ طائف کی بستی میں سردار مسعود ، عبدایا لیل (1۔ سیرۃ البنی ، ص 250 ، ج 1) اور حبیب جیسے باغوں کے مالک بڑے بڑے سردار ہیں جن کی مالی حالت بڑی اچھی ہے ، نبوت تو ان کو ملنی چاہیے تھی ، بھلا محمد جیسے غریب آدمی کو یہ شرف کیسے حاصل ہو سکتا ہے۔ تو اس اعتراض کا جواب اللہ نے قرآن پاک میں مختلف انداز سے دیا ہے (آیت) ” اھم یقسمون رحمۃ ربک “ کیا تیرے رب کی رحمت کے تقسیم کنندہ یہ مشرک ہیں۔ فرمایا یہ لوگ مال و دولت اور جاہ واقتدار کو معیار رسالت قرار دے رہے ہیں ، حالانکہ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس منصب جلیلہ کا مستحق کون ہے ؟ یہ تو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے کہ اس نے فرائض نبوت سے عہدہ برا ہونے کے یے صلاحیت و استعداد کس شخصیت میں ودیعت کر رکھی ہے ، اخلاق کی بلندی ، علم کا کمال اور باطنی کیفیات کا عروج جو نبی کی ذات میں ہوتا ہے وہ کسی دوسری شخصیت میں نہیں ہوتا ، لہٰذا نبوت کے انتخاب میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہی اعلیٰ وارفع ہوتا ہے۔ مردوزن کا دائرہ کار : نبوت کے ساتھ رجل کا لفظ قرآن پاک میں کثرت سے آیا ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کا تاج ہمیشہ مردوں کے سر پر رکھا ہے ، کسی عورت کو نبوت کا منصب عطا نہیں کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ عورتوں کے ذمے ہمیشہ آسان کام لگائے جاتے ہیں جب کہ کار نبوت بڑا مشقت طلب کام ہے۔ البتہ نبوت کے بعد دوسرا بڑا درجہ صدیقیت کا ہے جو بعض عورتوں کو بھی نصیب ہوا ہے۔ عورت کی منصب نبوت سے محرومی کو اس کی توہین پر محمول نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہ تقسیم کار مردوزن کی جسمانی اور ذہنی صلاحیتوں کے عین مطابق ہے۔ اللہ نے عورت میں مشقت برداشت کرنے کا مادہ مرد کی نسبت کم رکھا ہے ، اسی لیے ان کے فرائض نسبتا کم محنت طلب ہیں ، محنت مزدوری ، کھیتی باڑی ، جہاد وغیرہ مردوں کے ذمہ ہیں جب کہ عورتوں کو امور خانہ داری کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ اسی طرح نماز باجماعت ، نماز جمعہ ، نماز عیدین جیسے اجتماعی امور میں عورت کا استثناء حاصل ہے۔ عنان حکومت جیسا کھٹن کام بھی مردوں کے ذمہ ہے۔ نظامِ حکومت میں عورتوں کو گھسیٹ کرلے جانا انگریز کی سنت ہے یا دہریوں کا خاصہ ہے۔ جب کی دین حق اس کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام کہتا ہے (آیت) ” وقرن بی بیوتکن “ تم گھر میں بیٹھ کر اپنی ذمہ داری کے کام انجام دو ۔ عورتیں اپنے گھروں میں بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرسکتی ہیں۔ امہات المومنین نے مخلوق کے لیے تعلیم کا فریضہ نہایت احسن طریقے سے انجام دیا مگر کسی ام المئومنین نے امور حکومت میں کبھی کوئی عہدہ قبول نہیں کیا۔ نہ ہی یہ مثال صحابیات میں کہیں ملتی ہے۔ عورت کو ممبری ، وزارت اور امارت تک لے جانا یورپ کی تعلیم کا اثر ہے۔ نبی کے فرائض منصبی : اس آیت میں آمدہ منھم سے مراد مخاطبین قرآن کا خاندانہ اور ان کی جنس یعنی انسانیت ہے۔ چونکہ اللہ کا نبی انسانوں کی طرف مبعوث ہوتا ہے لہٰذا نبی کا ان کی جنس میں سے ہونا بھی ضروری ہے تا کہ وہ متوحش نہ ہوں اور اس سے بآسانی استفادہ کرسکیں۔ اور نبی کے فرائض میں یہ چیز شامل فرمائی (آیت) ” ان انذر الناس “ کہ وہ لوگوں کو ان کے برے انجام سے ڈرائیں۔ انذار اور بشارت ساتھ ساتھ چلتی ہیں ۔ جہاں ڈرانے کی بات ہے وہاں بشارت کی بات بھی کی ہے۔ اس مقام پر انذار کو مقدم رکھا ہے کہ لوگوں کو کفر ، شرک ، نفاق اور ان کی غلط کاریوں سے ڈرایا جائے۔ اللہ نے انذار کا حکم اپنے نبی کو جگہ جگہ فرمایا ہے۔ سورة مدثر میں فرمایا (آیت) ” قم فانذر “ آپ کھڑے ہوجائیں اور ان کو معصیت سے ڈرائیں۔ برائیں سے ڈرانے کے بعد اہل ایمان کو بشارت دینے کا حکم بھی ساتھ ہی دیدیا (آیت) ” وبشر الذین امنوا “ آپ ایمان لانے والوں کو خوشخبری بھی سنا دیں کی حقیقی کامیابی انہی کو حاصل ہوگی چناچہ اس سورة مبارکہ میں فلاح کے بڑے بڑے اصول بیان کیے گئے ہیں۔ یہاں بھی فرمایا کہ اے پیغمبر (علیہ السلام) آپ اہل ایمان کو خوشخبری دے دیں (آیت) ” ان لھم قدم صدق عند ربھم “ کہ ان کے لیے ان کے رب کے ہاں سچائی کا پایہ ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ (آیت) ” قدم صدق “ کا ترجمہ ” درجۃ رفیعۃ “ کرتے ہیں کہ ایمان والوں کے لیے اللہ کے ہاں بڑا اونچا درجہ ہے۔ اس میں کمال ، عروج اور ترقی کی ساری حقیتیں آجاتی ہیں جو اللہ نے ایمان والوں کے لیے مقرر کی ہیں۔ کفار کی الزام تراشی : فرمایا اللہ کا نبی تو انذار اور بشارت کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ برے عقیدے ، برے اخلاق اور برے اعمال والوں کو ڈرا رہا ہے اور اچھے عقیدے ، اچھے اخلاق اور اچھے اعمال والوں کو جنت کی بشارت دے رہا ہے ، مگر کافروں کی حالت یہ ہے (آیت) ” قال الکفرون ان ھذا لسحر مبین “ وہ نبی کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو کھلا جادوگر ہے ( معاذ اللہ) قرآن پاک میں جگہ جگہ موجود ہے کہ اللہ کے نبی کو کبھی شاعر کہا گیا اور کبھی کاہن ، حلان کہ اللہ کا بنی نہ کاہن ہے اور نہ شاعر۔ وہ تو وحی کے ذریعے موصول ہونے والا اللہ کا پیغام سناتا ہے۔ یہ اللہ کا وہی کلام ہے جو فطرت انسانی کے عین مطابق ہے اور اس میں ایسی عجیب اور مستحکم باتیں ہیں جو لوگوں پر اثر انداز ہوتی ہیں اور مشرکوں کے پاس اس کا کوئی توڑ نہیں۔ بہرحال کافروں اور مشرکوں نے اللہ کے کلام کو جادو کہہ کر ٹالنے کی کوشش کی جو کہ صریح جھوٹ ہے۔ نہ اللہ کا کلام جادو ہے اور نہ اللہ کا نبی جادوگر ہے۔ آگے موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات میں جادوگروں کا ذکر بھی آئے گا کہ ان کے اخلاق نہایت ہی پست ہوتے ہیں۔ وہ غرض کے بندے ہوتے ہیں جو جادو کے ذریعے کمائی کرتے ہیں مگر اللہ کا نبی ان باتوں سے پاک ہے اور جو کتاب وہ پیش کرتا ہے وہ اللہ کی توحیدکا درس دیتی ہے۔ چناچہ آگے توحید باری تعالیٰ کے متعلق ذکر ہوگا۔
Ayahs 10:3–4

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ یُدَبِّرُ الْاَمْرَ١ؕ مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 10:3 in the Quran reader

بیشک تمہارا پروردگار وہ اللہ ہے جس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو چھ دن کے وقفے میں۔ پھر وہ مستوی ہوا عرش پر تدبیر کرتا ہے معاملے کی۔ نہیں ہے کوئی سفارشی مگر اس کی اجازت کے بعد۔ یہی ہے اللہ تمہارا پروردگار ، پس اسی کی عبادت کرو۔ کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے

اِلَیْهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ اِنَّهٗ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ بِالْقِسْطِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَهُمْ شَرَابٌ مِّنْ حَمِیْمٍ وَّ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ Open ayah 10:4 in the Quran reader

اسی کی طرف تم سب کو لوٹ کر جانا ہے یہ وعدہ ہے اللہ کا سچا ، بیشک وہی ابتداء میں پیدا کرتا ہے مخلوق کو۔ پھر دوبارہ اس کو لوٹائیگا۔ تا کہ بدلہ دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے عمل کیے انصاف کے ساتھ۔ اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کے لیے پینا ہوگا کھولتا ہوا پانی اور عذاب ہوگا دردناک اس وجہ سے کہ وہ کفر کیا کرتے تھے

ربط آیات : اس سورة کی پہلی دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر کیا۔ فرمایا یہ کتاب وحی الٰہی کے ذریعے نازل ہوئی اور یہ علم و حکمت کا خزینہ ہے۔ پھر دوسری آیت میں رسالت کے متعلق فرمایا کہ یہ نافرمان لوگ اس بات پر تعجب کرتے ہیں کہ ہم نے ایک مرد کی طرف وحی بھیجی ہے جس کا مقصد ایمان سے بےبہرہ لوگوں کو ڈرانا اور اہل ایمان کو خوشخبری سنانا ہے۔ گر کافر لوگ جب اس دعوت کا کوئی معقول جواب نہ دے سکے تو کہنے لگے یہ تو کھلا جادوگر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس لغو اعتراض کا رد فرمایا اور نہایت لطیف پیرایہ میں معاد کا ذکر بھی فرمایا کہ ایمان والوں کے لیے ان کے رب کے ہاں سچائی کا پایہ ہے اور وہ آخرت میں کامران وکامیاب ہونے والے لوگ ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ کتنی غلط بات نہیں جو سمجھ میں نہ آتی ہو۔ یہ ان کا محض تعصب اور عناد ہے کہ اللہ کی کتاب اور اس کے رسول پر ایمان لانے سے انکار کر رہے ہیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ بعثت انبیاء اس ذات کا کام ہے جس نے تمام کائنات کو پیدا فرمایا ہے۔ اب آج کی آیات میں پہلے اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کی گئی ہیں اور پھر اس کی وحدانیت کا ذکر کر کے اس کی توحید کا مسئلہ سمجھایا ہے اور ساتھ ساتھ اس کی عبادت کا حکم بھی دیا ہے۔ دراصل رسول جس بات کو بیان کرتا ہے وہ اللہ کی وحدانیت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عظیم کاموں میں سے ایک کام بعثت انبیاء بھی ہے جیسا کہ سورة کہف میں فرمایا (آیت) ” ومانرسل المرسلین الامبشرین ومنذرین “ ہم رسولوں کو نہیں بھیجتے مگر اس لیے کہ وہ بشیر ونذیر ہوں۔ گویا بعثت انبیاء اللہ کی صفت ہے اور جو اس صفت کا انکار کرے وہ کافر ہے۔ صفت ربوبیت ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ان ربکم اللہ الذی خلق السموت والارض “ بیشک تمہارا پروردگار وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا یہاں پر سب سے پہلے ربوبیت کی صفت کا تذکرہ کر کے الوہیت کا مسئلہ سمجھایا گیا ہے۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن پاک کی ابتداء بھی صفت ربوبیت سے ہوئی ہے (آیت) ” الحمد للہ رب العلمین “ اور اس کی انتہا میںٰ یہی صفت ہے (آیت) ” قل اعوذ برب الفلق “ اور (آیت) ” قل اعوذ برب الناس “ ربوبیت کا مطلب کسی چیز کو بتدریج درجہ کمال تک پہنچانا ہوتا ہے اور یہ صفت خدا تعالیٰ کی سوا کسی دوسری ذات میں نہیں پائی جاتی۔ اسی لیے فرمایا کہ تمہارا پروردگار وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا (آیت) ” فی ستۃ ایام “ چھ دنوں کے وقفے میں۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہاں پر چھ دن سے مراد اس دنیا کے چھ دن نہیں بلکہ یہاں پر دن سے مراد وہ دن ہے جو اللہ کے ہاں شمار ہوتا ہے۔ اس کو آخرت کا دن بھی کہہ سکتے ہیں اور اس دن کے متعلق سورة حج میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” ان یوما عند ربک کالف سنۃ مما تعدون “ تمہارے پروردگار کے ہاں ایک دن ایک ہزار سال کے برابر ہے تو اس طرح گویا خدا تعالیٰ ارض وسما کو چھ ہزار سال کے وقفے میں پیدا کیا۔ اس کی قدرت تامہ اور حکمت تو ایسی ہے کہ وہ یکدم بھی ہر چیز کو پیدا کرسکتا ہے۔ مگر اس نے انسان کو سمجھانے کی مصلحت کے تحت تدریج اختیار کی اور اس کام کے لیے چھ دن کا وقفہ لیا۔ حدیث شریف میں آتا ہے ” التئودۃ من الرحمن والعجلۃ من الشیطن “ یعنی آہستگی رحمان کی صفت ہے جب کہ جلد بازی شیطانی فعل ہے۔ بہر حال پہلے اللہ کی صفت ربوبیت کا ذکر ہوا۔ اس کے بعد صفت خلق کا اور آگے صفت الوہیت کا ذکر ہوگا۔ استوی علی العرش آسمان و زمین کو چھ دن کے وقفہ میں پیدا کرنے کے بعد فرمایا (آیت) ” ثم استوی علی العرش “ پھر اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہوا۔ استوی کا معنی قائم ہونا ، قرار پکڑنا یا کسی دوسری چیز کے ساتھ برابر ہونا آتا ہے۔ عربی میں کہتے ہیں ” استوی علی الدآبۃ “ فلاں شخص سواری پر قائم ہوگیا ، قرار پکڑ گیا۔ استوی کا معنی ارادہ کرنا بھی آتا ہے جیسے (آیت) ” ثم استوی الی السماء فسوھن سبع سموت “ (البقرہ) پھر اس نے آسمانوں کی طرف ارادہ فرمایا اور انہیں سات آسمانوں کی شکل میں بنا دیا۔ اسی طرح استوی کا معنی غالب آنا بھی ہے۔ جیسے شاعر کہتا ہے۔ استوی بشر علی العراق من غیر مادم مھراق (بشر عراق پر قابض ہوگیا۔ غالب آگیا بغیر خونریزی کے) تو اس مقام پر بھی استوی علی العرش کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی یعنی غالب ہے۔ اور عرش ایسی چیز ہے جو ساری مخلوق میں بلند ترین ہے۔ ساتوں آسمانوں کے بعد بہشت کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ جس کا بلند ترین درجہ جنت الفردوس ہے جس کے اوپر عرش الٰہی کا سایہ ہے مطلب یہ ہے کہ سب سے بلند ترین چیز عرش پر جب اللہ تعالیٰ کا قبضہ ہے تو باقی چیزیں تو بطریق اولیٰ اس کے تسلط میں ہیں۔ استوی علی العرش سے یہی بات سمجھانا مقصود ہے۔ شاہ ولی اللہ (رح) کا فلسفہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کی اصطلاح کے مطابق عرش تمام شخص اکبر کا قلب ہے ، اور اس پر مستوی ہونے کی کیفیت ایسی نہیں ہے جیسے ہم تخت ، چارپائی یا کرسی وغیرہ پر بیٹھتے ہیں۔ کیونکہ اگر خدا تعالیٰ کے استوی کو بھی ہم اپنے اوپر محمول کریں تو پھر خدا تعالیٰ کی جہت لازم آئیگی اور اس کا طورل عرض بنے گا حالانکہ ذات خداوندی ، جہت ، زمان اور مکان سے منزہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ ہیں مگر ہماری طرح نہیں بلکہ جیسا اس کی شان کے لائق ہے ، اس کی پنڈلی ہے مگر اپنی شان کے مطابق ، چہرہ ہے مگر مخلوق کی طرح نہیں بلکہ جس طرح اس کی شان کے لائق ہے۔ اسی لیے امام مالک رح ، امام ترمذی رح ، سفیان ثوری رح ، امام ابوحنیفہ (رح) عبداللہ بن مبارک (رح) ، وغیرہم فرماتے ہیں کہ استوی علی العرش کے الفاظ کو ظاہر رکھتے ہوئے اس کی کیفیت کو خدا تعالیٰ کے سپرد کردینا چاہیے کہ وہ عرش عظیم پر مستوی ہے جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے ایک شخص نے امام مالک (رح) سے استوی علی العرش کی کیفیت کے مطابق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا ” الاستوآء معلوم والکیف مجھول “ یعنی استوی کا ظاہری معنی تو معلوم ہے کہ قائم ہونا یا غالب ہونا ہے مگر اس کی کیفیت معلوم نہیں۔ ہمارے لیے صرف ایمان لانا ہی واجب ہے۔ کیفیت کے متعلق کرید کرنا درست نہیں بلکہ بدعت ہے۔ آپ نے اس شخص سے فرمایا کہ میں تمہارے متعلق یہی خیال کرتا ہوں کہ تم بدعتی آدمی ہو ، لہٰذا میری مجلس سے اٹھ جائو۔ بہرحال نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے استوی کا معنی معلوم ہے مگر اس کی کیفیت کا علم نہیں ۔ وہ اپنی شان کے مطابق عرش پر مستوی ہے ، ہمارے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) اس بات کو آسان طریقے سے اس طرح فرماتے ہیں کہ عرش پر خدا تعالیٰ کی تجلی اعظم پڑتی ہے جو سارے عرش کو رنگین کردیتی ہے پھر عرش سے نیچے کی چیزیں بھی اس تجلی سے متاثر ہوتی ہیں اور پھر تمام کائنات اس کا اثر قبول کرتی ہے اور اس طرح تجلی اعظم کا اثر تمام کائنات پر پڑتا ہے۔ تدبیر امر۔ اللہ تعالیٰ کے استوی علی العرش کے ذکر کے بعد فرمایا (آیت) ” یدبر الامر ‘ ‘ وہ معاملے کی تدبیر کرتا ۔ سورة الٓم “ سجدہ میں ہے (آیت) ” یدبر الامر من السمآء الی الارض “ وہ بلندیوں سے پستیوں تک ہر چیز کی تدبیر کتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر شے کا تدبیر کنند ہ صرف خدا تعالیٰ ہے۔ مگر مشرک لوگ اس مسئلہ میں بھی بہک جاتے ہیں اور شرک کا ارتکاب کرنے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے واجب الوجود اور خالق ہونے میں تمام مشرک بھی متفق ہیں کہ واجب الوجود بھی وہی خدا ہے اور ہر چیز کا مالک بھی وہی ہے مگر جب تدبیر کی صفت آتی ہے تو پھر اس میں غیر اللہ کو بھی شریک کرلیتے ہیں۔ پھر کہتے ہیں کہ ہمارے معبود بھی ہیں جو ہماری مرادیں پوری کرتے ہیں اور ہماری سفارشیں کرتے ہیں۔ البتہ جو مخلص مومن ہیں وہ تدبیر کو اللہ کے ساتھ مخصوص کرتے ہیں کہ ذرے ذرے تک کی تدبیر صرف ذات باری تعالیٰ ہی کرتی ہے۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی چار صفات درجہ بدرجہ کام کرتی ہیں۔ سب سے پہلے صفت ابداع کا اظہار ہوتا ہے جیسے فرمایا (آیت) ” بدیع السموت والارض “ یا فرمایا (آیت) ” فاطر السموت والارض “ یعنی آسمانوں اور زمین کا بغیر آے اور مادے کے پیدا کرنے والا خدا تعالیٰ ہے۔ کسی چیز کو کسی دوسری چیز کے استعمال کیے بغیر ایجاد کردینا خاصہ خداوندی ہے۔ یہ صفت ابداع ہے۔ پھر دوسرے نمبر پر صفت خلق آتی ہے۔ خلق کا معنی بھی پیدا کرنا ہے مگر کسی دوسرے مادے یا آلے کے ساتھ۔ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی کے مادے سے اور جنات کو آگے کے مادے سے پیدا فرمایا یہ اس کی صفت خلق کا ظہور ہے۔ جب بعض چیزیں معرج وجود میں آجاتی ہیں تو پھر ان میں توازن قائم کرنے کے لیے ، کسی کو گھٹانے کے لیے اور کسی کو بڑھانے کے لیے ، کسی کو زندگی بخشنے کے لیے یا کسی پر موت طاری کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی تیسری صفت تدبیر کام کرتی ہے۔ چناچہ ہر ذرے ذرے کی تدبیر خدا تعالیٰ براہ راست کرتا ہے۔ جو اس صفت میں کسی کو شریک کرتا ہے ، وہ بھی مشرک بن جاتا ہے اور پھر چوتھی صفت تدلی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی انسان پیدا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا تجلی اعظم کا عکس اس کے قلب پر بھی پڑتا ہے۔ لیکن یہ کئی واسطوں کے ذریعے آتا ہے۔ تجلی اعظم کا اثر عرش الٰہی پر پڑتا ہے۔ نیچے امام نوع انسان ہوتا ہے ، اس کے قلب پر پڑتا ہے اور پھر اس کے واسطے سے وہ اثر روح انسانی پر پڑتا ہے روح انسان میں بڑے بڑے مرکز ہوتے ہیں جن کے ذریعے تجلی اعظم کا اثر ہر انسانی قلب پر پڑتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرنے کے بعد انسانی ذہن بہت تیز ہوجائیگا۔ اگر اس نے دنیا میں ایمان قبول نہیں کیا تو اس کو بڑا افسوس ہوگا کہ وہ ایمان سے کیوں محروم رہا۔ اس کے قلب پر پڑنے والی تجلی اسے ستائیگی اور ملامت کرے گی کہ دنیا میں رہ کر تم نے کیا کیا ؟ ابتداء ہی سے ہر انسان کے قلب میں خدا شناسی کا بیج بویا ہوا ہے جو کہ تجلی اعظم کے ذریعے سے آتا ہے۔ بہرحال فرمایا کہ اللہ تعالیٰ معاملے کی تدبیر کرتا ہے اور صفت تدبیر بھی اسی کے ساتھ خاص ہے۔ مسئلہ شفاعت فرمایا (آیت) ” ما من شفیع الا من بعد اذنہ “ کوئی سفارشی نہیں ہے مگر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بعد۔ یہود ونصاری اور مشرکین نے سفارشی بنا رکھے ہیں جن کے متعلق ان کا عقیدہ ہے کہ خدا راضی ہو یا ناراض یہ سفارشی ہمارا کام ضرور کروا دیں گے۔ یہ باطل عقیدہ ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی کسی کی سفارشی نہیں کرسکے گا (آیت) ” من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ “ (البقرہ) میں بھی یہی بات ہے اللہ کے نبی اور حضور خاتم النبین ﷺ بھی سفارش کریں گے تو اللہ کی اجازت سے۔ اللہ کے اذن کے بغیر کسی کو سفارش کا حق نہیں پہنچتا یہ جبری سفارش والا عقیدہ تو مشرکین کا ہے۔ اور صحیح سفارش بھی ان لوگوں کے حق میں ہوگی جن کے دل نور توحید سے روشن ہوں گے۔ ان کے لیے انبیائ ، شہداء اور نیک لوگ سفارش کریں گے۔ جو لوگ نور ایمان سے خالی ہوں گے ان کے لیے قطعا سفارش نہیں ہو سکے گی۔ اسی لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی کسی کی سفارش نہیں کرسکتا۔ ۔۔۔ فرمایا ، یاد درکھو ! (آیت) ” ذلکم اللہ ربکم “ یہی ہے تمہارا رب ، جو خالق اور مدبر ہے ، وہ ذرے ذرے کا مالک ہے (آیت) ” فاعبدوہ “ لہٰذا عبادت بھی صرف اسی کی کرو۔ اللہ کا نبی بھی یہی تعلیم دیتا ہے کہ عبادت صرف ایک اللہ وحدہ لا شریک کی کرو۔ فرمایا (آیت) ” افلا تفکرون “ کیا تم دھیان نہیں کرتے ؟ نصیحت نہیں پکڑتے ؟ اللہ کا نبی تمہیں واضح بتاتا ہے۔ اللہ کی کتاب تمہاری راہنمائی کرتی ہے۔۔ نشاناتِ قدرت تمہیں پکار پکار کر توحید کی دعوت دے رہے ہیں مگر تم اول فول باتیں کر رہے ہو۔ کبھی اللہ کے سچے نبی کو نبی ماننے سے انکار کرتے ہو اور اسے جادوگر کا لقب دیتے ہو اور کبھی کتاب الٰہی کا انکار کرتے ہو اور کہتے ہو کہ ہم اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑیں گے نیز یہ ہمارے سفارشی ہماری مرادیں پوری کرنے والے ہیں ہم ان کی پرستش ضرور کریں گے یا یہ ہمیں ضرور ہی چھڑا لیں گے۔ بہرحال فرمایا کہ رب وہ ہے جس کی صفات بیان کی گئی ہیں کہ وہ خالق اور مدبر ہے۔ لہٰذا عبادت بھی اسی کی کرو۔ اللہ کا قانون یہی ہے۔ وقوع قیامت آگے اللہ تعالیٰ نے معاد کا ذکر فرمایا ہے۔ قرآن کی صداقت ، رسول کی رسالت اور وقوع قیامت آپس میں مربوط چیزیں ہیں کیونکہ اس دنیا میں کتب سماویہ اور انبیائے کرام پر ایمان لانے یا نہ لانے کا بدلہ تو قیامت کو ہی ملے گا۔ تو فرمایا ، لوگو ! یاد رکھو ! اس دنیا میں تم جو چاہوکر لو ، غلط سلط عقائد وضع کرلو ، اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرلو۔ مگر (آیت) ” الیہ مرجعکم جمیعا “ بالآخر تم سب کو اسی اللہ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے (آیت) ” وعد اللہ حقا “ یہ اللہ پاک کا سچا وعدہ ہے اور اس میں کوی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔ ہر شخص نے اپنے رب تعالیٰ کے سامنے حاضر ہونا ہے اور اپنے اعمال و عقائد کی جوابدہی کرنا ہے۔ فرمایا۔ ذرا اس بات پر غور کرو (آیت) ” انہ یبدئو الخلق “ بیشک ابتداء میں پیدا کرنے والا وہی ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کائنات کی تمام چیزیں وہ کس طرح پیدا کرتا ہے (آیت) ” ثم یعیدہ “ پھر وہ اس کو دوبارہ لوٹائے گا۔ مرنے کے بعد وہ پھر زندہ کر کے اپنے سامنے کھڑا کرلے گا۔ اور اس سے پوری زندگی کا حساب لے گا۔ فرمایا دوبارہ لوٹانے کا مقصد یہ ہے (آیت) ” لیجزی الذین امنوا وعملوالصلحت بالقسط “ تا کہ ایمان لانے والوں اور اچھے عمل کرنے والوں کو انصاف کے ساتھ پورا پورا بدلہ ملے۔ اچھے اور برے اعمال کی جزا یا سزا اس دنیا میں بھی کسی حد تک ملتی ہے مگر مکمل طور پر نہیں ، لہٰذا نیکی کی مکمل جزا اور برائی کی سزا تو آخرت میں ہی ملیگی جب ہر چیز کھل کر سامنے آجائے گی اور کوئی شخص اپنے کسی کام کا انکار نہیں کرسکے گا۔ اس دنیا میں تو بعض چیزیں پردہ میں بھی رہ جاتی ہیں اور اس دنیا کی عدالتوں سے غلطی بھی سرزد ہو سکتی ہے مگر مالک الملک کی عدالت میں ہر چیز نکھر کر سامنے آجائے گی اور نہ کوئی دھوکا دے سکیگا ، نہ کوئی چیز پوشیدہ رہ سکے گی اور نہ کوئی وکیل جھوٹ موٹ ملاکر کسی کو چھڑا سکے گا۔ وہاں ہر عمل کا پورا پورابدلہ مل کر رہے گا۔ فرمایا اسی مقصد کی تکمیل کے لیے قیامت کا آنا برحق ہے اور یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے۔ کفار کا انجام اس کے برخلاف کفار کے انجام کے متعلق ارشاد ہوتا ہے۔ (آیت) ” والذین کفروا “ جن لوگوں نے کفر کیا ، اللہ تعالیٰ کی ذات ، اس کی صفات ، اس کے رسولوں ، اس کی کتابوں اور قیامت کے دن کا انکار کیا (آیت) ” لھم شراب من حمیم “ پیاس کے وقت ان کے لیے کھولتا ہوا پانی ہوگا۔ جب کافر لوگ اس پانی کو حلق سے نیچے اتاریں گے تو وہ ان کی آنتوں کا کاٹ کر باہر پھینک دے گا ، اتنا گرم ہوگا۔ اس کے علاوہ فرمایا (آیت) ” و عذاب الیم “ ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا۔ انہیں نہایت تکلیف دہ سزا ملے گی کیوں ؟ (آیت) ” بما کانوا یکفرون “ اس وجہ سے کہ وہ کفر کرتے تھے۔ بلا وجہ کسی کو سزا نہیں دی جاتی۔ اللہ نے فرمایا کہ کافروں کو کھولتا ہوا پانی اور دردناک سزا ان کے کفر کی وجہ سے دی جائیگی۔ ان کے پاس ہمارے رسول آئے کتابیں آئیں ، ان کو توحید کی دعوت دی گئی ، شرک سے منع کیا گیا ، اچھے اعمال کی طرف راغب کیا گیا اور اس کے لیے انہیں خوشخبری سنائی گئی۔ ساتھ ساتھ برے افعال کے انجام سے ڈرایا گیا مگر ان لوگوں پر کوئی اثر نہ ہوا۔ انہوں نے اللہ کی وحدانیت اور انبیاء کی رسالت کا انکار کیا۔ قرآن پاک کی صداقت وحقانیت کو تسلیم نہ کیا۔ لہٰذا جب لوگ اس مالک الملک کی طرف لوٹائے جائیں گے تو پھر سخت سزا میں مبتلا ہوں گے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات خلق اور تدبیر کا ذکر کیا ہے۔ سفارش کا مسئلہ سمجھایا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کا درس دیا ہے۔ اور آخر اہل ایمان اور کفار کی جزا اور سزا کا ذکر فرما کر ان کے انجام سے بھی آگاہ کردیا ہے۔
Ayahs 10:5–10

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ ضِیَآءً وَّ الْقَمَرَ نُوْرًا وَّ قَدَّرَهٗ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوْا عَدَدَ السِّنِیْنَ وَ الْحِسَابَ١ؕ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذٰلِكَ اِلَّا بِالْحَقِّ١ۚ یُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 10:5 in the Quran reader

وہی (اللہ) ہے جس نے بنایا ہے سورج کو اور چاند کو روشنی اور مقرر کی ہیں اس کے لیے منزلیں تا کہ تم جان لو گنتی سالوں کی اور حساب۔ نہیں پیدا کیا اللہ تعالیٰ نے اس کو مگر حق کے ساتھ۔ وہ تفصیل سے بیان کرتا ہے آیتیں ان لوگوں کے لیے جو سمجھ رکھتے ہیں

اِنَّ فِی اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوْنَ Open ayah 10:6 in the Quran reader

بیشک رات اور دن کے اختلاف میں اور جو کچھ اللہ نے پید کیا ہے آسمانوں میں اور زمین میں۔ البتہ نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو بچتے ہیں

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوْا بِالْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوْا بِهَا وَ الَّذِیْنَ هُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَۙ Open ayah 10:7 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو نہیں امید رکھتے ہماری ملاقات کی اور راضی ہوگئے ہیں وہ دنیا کی زندگی پر مطمئن ہوگئے ہیں وہ اس کے ساتھ۔ اور وہ لوگ جو ہماری آیتوں سے غافل ہیں

اُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 10:8 in the Quran reader

یہ لوگ ہیں کہ ان کا ٹھکانہ دوزخ کی آگ ہے اس وجہ سے کہ وہ جو کچھ کماتے تھے

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَهْدِیْهِمْ رَبُّهُمْ بِاِیْمَانِهِمْ١ۚ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ فِیْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 10:9 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے۔ پہنچائے گا ان کو ان کا پروردگا ان کے ایمان کی وجہ سے جاری ہیں ان کے سامنے نہریں ، نعمتوں کے باغوں میں

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌ١ۚ وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 10:10 in the Quran reader

اور دعا ان کی ان (باغوں) کے اندر یہ ہوگی۔ پاک ہے تیری ذات اے اللہ ! اور ملاقت ان کی اس کے اندر سلام ہوگا۔ اور آخری دعا ان کی یہ ہوگی کہ سب تعریف اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔

ربط آیات : اس سورة کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت کو واضح کیا پھر نبوت پر اعتراض کرنے والوں کا رد فرمایا اور توحید کے دلائل بیان فرمائے زمین وآسمان کی پیدائش ، اللہ کی صفات ربوبیت ، خالقیت ، تدبیر اور اختیار اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دی۔ پھر قیامت کا ذکر فرمایا اور واضح کیا کہ ہر شخص کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہو کر اپنے اعمال کی جوابدہی کرنا ہے۔ پھر ایمان والوں کے انعامات اور کفار کے برے حشر کا تذکرہ کیا اور بتلایا کہ ارض وسما کی پیدائش دارصل توحید کی دلیل ہے کیونکہ ان تمام چیزوں کا خالق اللہ وحدہ لا شریک ہے۔ سورج اور چاند۔ آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کے سلسلے میں عقلی دلیل پیش کی اگر انسان اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ جوہر عقل کو صحیح طور پر استعمال کرے تو وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر آسانی سے ایمان لاسکتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ھو الذی جعل الشمس ضیآئ “ اللہ تعالیٰ کی ذات وہی ہے جس نے سورج کو چمکدار بنایا (آیت) ” والقمر نوار “ اور چاند کو روشن بنایا۔ اس کائنات میں نہ صرف انسان بلکہ ہر جاندار سورج اور چاند سے مستفید ہو رہا ہے جانداروں کے علاوہ نباتات ، پوردے ، درخت اور کیڑے مکوڑے تک سورج کی ضیاء اور چاند کی روشنی سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ نظام شمسی میں سب سے بڑا سیارہ سورج ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنی روشنی اور حرارت رکھ دی ہے جو پورے نظام کے لیے کافی ہے۔ اسی طرح چاند کی دھیمی اور ٹھنڈی روشنی ایک طرف انسانوں کے لیے روشنی مہیا کرتی ہے تو دوسری طرف پھلوں میں مٹھاس پیدا کرنے کا سبب بھی بنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں ایسی خاصیت رکھی ہے کہ یہ انسان کی خدمت پر مامور ہیں۔ اللہ نے سورج کے لیے ضیاء کا لفظ استعمال کیا ہے جس کی روشنی تیز اور گرم ہوتی ہے اور چاند کو نور فرمایا ہے کہ اس کی روشنی مدہم اور میٹھی ہوتی ہے۔ اس نظام شمسی میں اللہ نے سورج کی روشنی کو مستقل حیثیت دی ہے جب کہ باقی سیاروں کی روشنی سورج سے مستعار ہوتی ہے۔ چاند اور دیگر سیارے بذات خود روشن نہیں ہیں بلکہ جب سورج کی روشنی ان پر پڑتی ہے تو وہ بھی روشن ہوجاتے ہیں۔ ان میں سے چاند کا مشاہدہ ہم ہر روز کرتے ہیں جب سورج کی روشنی چاند پر پڑتی ہے تو پھر منعکس ہو کر اس کی شعائیں زمین تک بھی پہنچتی ہیں۔ اب سائنس نے اس حد تک ترقی کرلی ہے کہ سورج کی حرارت SolAr energy سولر انرجی) کو ایندھن کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ہے جس طرح آجکل سوئی گیس عام گھروں میں ایندھن کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ اسی طرح کچھ عرصہ بعد سورج کی حرارت بھی خاص آلات کے ذریعے استعمال ہونے لگے گی۔ جب گیس کے ذخائر ختم ہوجائیں گے تو اس کی جگہ شمسی توانائی لے لے گی اور پھر اس سے نہ صرف گھروں کے چولھے جلیں گے بلکہ بڑے بڑے کارخانے اور بھٹیاں بھی یہ توانائی استعمال کرسکیں گے۔ اللہ نے سورج میں جلنے کا جو مادہ رکھا ہوا ہے۔ یہ جب تک اللہ کو منظور ہے اسی طرح جلتا رہیگا اور نظام شمسی کی حدود میں روشنی اور حرارت پہنچاتا رہے گا۔ چاند بھی زمین کی طرح ایک ٹھوس کرہ ہے۔ چاند پر بھی بڑے بڑے صحرا ، پہاڑ ، پتھر اور گڑھے ہیں مگر زمین کے برخلاف اس پر کوئی ندی نالہ نہیں۔ سیارہ چاند بالکل خشک ہے اور اسی لیے وہاں پر زندگی کے کوئی آثار موجود نہیں۔ جو لوگ اب تک چاند پر پہنچے ہیں وہ پانی اور خوراک کا ذخیرہ زمین سے لے کر گئے ہیں۔ چاند کے بعد دوسرے سیارے مریخ کے متعلق بھی معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔ وہاں پر سبزے کے آثار پائے جاتے ہیں مگر وہاں تک پہنچنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا ہوگا اب تک سائنسدان وہاں کی کچھ تصاویر ہی لینے میں کامیاب ہوئے ہیں چاند کے علاوہ باقی سیارے زمین سے بہت دور ہیں جن کی مسافت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ کوئی راکٹ اپنی تیز ترین رفتار سے اڑان کرے تو بھی وہاں پہنچنے میں دو سال کا عرصہ درکار ہوگا۔ بہرحال قدرت کے اس نظام کو انسان عقل کے ذریعے غور وفکر کر کے سمجھ سکتا ہے اور پھر اس سے فائدہ بھی اٹھا سکتا ہے۔ فرمایا چاند کو روشنی بنایا (آیت) ” وقدرہ منازل “ اور اس کے لیے منزلیں مقرر کردیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ چاند کی اٹھائیس منزلیں ہیں اور وہ ہر روز نئی منزل میں ہوتا ہے۔ پھر ایک یا دو دن غائب رہتا ہے اور اس طرح پورے مہینہ میں اپنی منزلیں طے کرلیتا ہے۔ اسی طرح اللہ نے سورج کے لیے بھی منزلیں مقرر کر رکھی ہیں۔ سورج اپنی حرکت بارہ برجوں میں جاری رکھتا ہے۔ سال بھر ان منزلوں پر چلنے کی وجہ سے موسمی تغیر وتبدل پیدا ہوتا ہے ، کبھی گرمی ، کبھی سردی ، کبھی بہار اور کبھی خزاں۔ اگر سورج پورا سال ایک ہی راستہ پر چلے تو موسم تبدیل نہ ہوں بلکہ سارا سال ایک موسم رہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص حکمت کے تحت سورج کی منزلیں مقرر کردی ہیں جن کی وجہ سے انسان مختلف موسموں میں مختلف ضروریات حاصل کرلیتا ہے۔ فرمایا۔ ہم نے اس کی منزلیں مقرر کی ہیں (آیت) ” لتعلموا عدد السنین والحساب “ تا کہ تم سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کرسکو۔ رات اور دن کا نظام بھی اللہ نے ان سیاروں کی گردش کے ساتھ منسلک کر رکھا ہے لہٰذا ایک دن اور ایک رات کی تکمیل پر چوبیس گھنٹے شمار ہوتے ہیں اور پھر ایک ایک دن کر کے مہینوں ، سالوں اور صدیوں کی گنتی معلوم کرلی جاتی ہے۔ اگر دن اور رات کا تغیر وتبدل نہ ہو تو تقویم کا معلوم کرنا ممکن نہ ہو۔ تمام کاروبار اور عبادات کا نظام دن رات کے سلسلے سے منسلک ہے دن کے وقت کام کر کے آدمی تھک جاتا ہے تو رات کو آرام کر کے اگلے دن کے کام کاج کے لیے پھر تیار ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ نے اس نظام میں بڑی مصلحت رکھی ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ چاند اور سورج کو تمہارے تقویم اور حساب کا ذریعہ بنایا۔ ایک حدیث شریف میں حضور ﷺ کا فرمان موجود ہے کہ اللہ کے اچھے بندے (خیار عباد اللہ) وہ ہیں جو سورج اور چاند کی نقل و حرکت سے اوقات معلوم کر کے اللہ کی عبادت کا اہتمام کرتے ہیں۔ گویا عبادت کا تعلق بھی اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کے ساتھ منسلک کر رکھا ہے۔ فرمایا (آیت) ” ما خلق اللہ ذلک الا بالحق “ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اس سے پیدا کیا ہے حق کے ساتھ پیدا کیا ہے زمین اور فلکیات کا سارا نظام اللہ تعالیٰ کی خاص حکمت اور تدبیر کے ساتھ چل رہا ہے۔ اور اس طرح اللہ تعالیٰ (آیت) ” یفصل الایت لقوم یعلمون “ اپنی نشانیاں تفصیل کے ساتھ بیان کرتا ہے ان لوگوں کے لیے جو سمجھ رکھتے ہیں۔ جو لوگ عقل و شعور سے کام لیتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے قادر مطلق ہونے ، علیم کل ہونے ، رب ہونے ، معبود ہونے اور واجب الوجود ہونے کو معلوم کر کے اس پر یقین کرلیتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج اور چاند کا ایک مربوط نظام قائم کر رکھا ہے کہ صرف اسی میں غور وفکر کر کے انسان اللہ کی وحدانیت کا قائل ہوجاتا ہے۔ نشانیوں کو مفصل بیان کرنے کا یہی مطلب ہے۔ نشانات قدرت۔ آگے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ان فی اختلاف الیل والنھار “ بیشک رات اور دن کے اختلاف میں (آیت) ” وما خلق اللہ فی السموت والارض “ اور جو کچھ اللہ نے آسمانوں اور زمین میں پیدا کیا ہے (آیت) ” لایت لقوم یتقون “ بیشک نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو بچتے ہیں اور تقوی اختیار کرتے ہیں ، کفر شرک اور معاصی سے بچ نکلنے والے خوب پہنچانتے ہیں کہ ان چیزوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کی بڑی بڑی نشانیاں ہیں۔ ان میں سے ہر چیز اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی منہ بولتی تصویر ہے۔ اور جو لوگ کفار اور مشرکین کی طرح عقل کو صحیح طور پر استعمال نہیں کرتے وہ بہرے اور گونگے ہیں ، ان کے لیے یہ نشانات قدرت کچھ مفید نہیں ہو سکتے۔ یہاں تک اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کے عقلی دلائل پیش کیے ہیں کہ صاحب عقل وخرد اللہ کی پیدا کردہ مخلوق اور اس کے نظام کائنات کو دیکھ کر ہی سمجھ سکتا ہے کہ اس کو قائم کرنے والا اور چلانے والا وہی وحدہ لا شریک ہے۔ معاد پر ایمان۔ توحید کے بعد آگے معاد کا ذکر آرہا ہے۔ معاد پر ایمان بھی اجزائے ایمان میں سے ہے۔ اس کے بغیر انسان ایماندار نہیں ہو سکتا۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ان الذین لا یرجون لقاء نا “ بیشک وہ لوگ جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے۔ انہیں اس بات کا یقین نہیں ہے کہ مرنے کے بعد پھر زندہ ہونا ہے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اپنے ہر عمل کو جواب دینا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے لوگ آخرت کے لیے کوئی تیاری نہیں کریں گے ، وہ سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہے اسی دنیا میں ہے۔ آگے کون پوچھے گا ان کے دلوں میں شیطان نے ایسا وسوسہ ڈال دیا ہے کہ نہ وہ قیامت پر یقین رکھتے ہیں اور نہ جزا اور سزا پر۔ وہ کہتے ہیں کہ اسی دنیا میں کھا پی لو ، آگے کچھ نہیں ہے۔ سورة المومنون میں اس طرح بیان کیا گیا ہے (آیت) ” ان ھی الا حیاتنا الدنیا نموت ونحیا وما نحن بمبعوثین “ دنیا کی زندگی اتنی ہی ہے کہ ہم مرتے ہیں اور زندہ رہتے ہیں مگر دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔ دوسرے مقام پر اس طرح آتا ہے کہ جو لوگ آخرت کے عقیدے پر ایمان نہیں رکھتے وہی لوگ اکثر کفر اور شرک بھی کرتے ہیں اور برائیوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ ان کا یہی عقیدہ ان کی نیکی کے راستے میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ پھر وہ نہ تو کوئی اچھا کام کرتے ہیں اور نہ کسی ظلم و زیادتی سے بچتے ہیں کیونکہ ان کا محاسبے کے عمل پر یقین ہی نہیں ہوتا۔ اگر انہیں جواب دہی پر یقین ہوتا تو وہ برائیوں سے بچ جاتے۔ یہاں پر رجی کا لفظ آیا ہے جس کا معنی امید بھی ہوتا ہے اور خوف بھی۔ جیسے سورة نوح میں ہے (آیت) ” مالکم لا ترجون للہ وقارا “ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے وقار سے خوف نہیں کھاتے۔ تا ہم یہاں پر (آیت) ” یرجون “ کا معنی امید ہی زیادہ موزوں ہے یعنی وہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی امید ہی نہیں رکھتے۔ دنیا اور آخرت کا تقابل۔ فرمایا ایک تو قیامت پر یقین نہیں رکھتے اور دوسری بات یہ ہے (آیت) ” ورضوبالحیوۃ الدنیا “ وہ دنیا کی زندگی پر ہی راضی ہوگئے ہیں ان کی ساری تک ودو اسی دنیا کی زندگی کے لیے ہے۔ دوسری آیت میں فرمایا (آیت) ” یعلمون ظاہرا من الحیوۃ الدنیا “ (الروم) وہ دنیا کے ظاہری حالات کو خوب جانتے ہیں (آیت) ” وھم عن الاخرہ ھم غفلون “ مگر آخرت کے بارے میں یکسر غافل ہیں۔ فرمایا جو لوگ ہماری ملاقات پر یقین نہیں رکھتے ان کی تیسری صفت یہ ہے (آیت) ” واطمانوا بھا “ اور اس زندگی کے ساتھ ہی مطمئن ہوگئے ہیں۔ وہ اسی دنیا کو اپنا مقصود ومنتہائے بنائے بیٹھے ہیں۔ حدیث شریف میں حضور ﷺ کی دعا منقول ہے (1۔ ترمذی ، 505) اللھم لا تعجل الدنیا اکبر ھمنا ولا مبلغ علمنا ولا غایۃ رغبۃ “ اے اللہ ! دنیا گو ہمارا بڑا مقصد نہ بنا اور نہ اسے ہمارے علم کی انتہائی پہنچ بنا اور نہ بنا ہماری رغبت کی منتہا بنا کہ ہم آخرت سے غافل ہو کر رہ جائیں۔ اور چوتھی بات یہ فرمائی (آیت) ” والذین ھم عن ایتنا غفلون “ اور وہ لوگ جو ہماری آیتوں سے غافل ہیں۔ ہماری نشانیوں کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔ اگر ذرا بھی دھیان دیں تو انہیں توحید کے بیشمار دلائل مل جائیں مگر وہ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں قیامت کے منکرین کی چارقباحتیں بیان فرمائی ہیں کہ ایک تو وہ ہماری ملاقات پر یقین نہیں رکھتے ، دوسرا اس دنیا کی زندگی پر راضی ہوگئے ہیں۔ تیسرا اس دنیا کے ساتھ مطمئن ہوگئے اور کہتے ہیں (آیت) ” ربنا عجل لنا قصنا قبل یوم الحساب “ اے ہمارے رب ہمیں قیامت سے پہلے پہلے ہی جو کچھ دینا ہے دے دے۔ اور چوتھی قباحت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے غافل ہیں۔ ان کے اردگرد قدرت کے ہزاروں نشانات بکھرے پڑے ہیں مگر وہ ان سے بالکل غافل پڑے ہیں ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” اولئک ماوھم النار “ ان کا ٹھکانہ دوزخ میں ہے۔ اس وجہ سے کہ (آیت) ” بما کانوا یکسبون “ جو کمائی انہوں نے کی۔ اس دنیا کی زندگی میں انہوں نے اپنے ذہنوں میں اعتقاد فاسد کو جمایا ، کفر ، شرک ، اور معاصی کا ارتکاب کرکے خدا کے قانون کو توڑا۔ لہٰذا ان کا ٹھکانہ جہنم میں ہوگا۔ یہ معاد کا ذکر بھی ہوگیا۔ اہل ایمان کے لیے انعامات : اب منکرین کے مقابلے میں ایمان والوں کا ذکر ہوتا ہے (آیت) ” ان الذین امنوا “ بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے۔ اللہ کی وحدانیت کو صحیح طریقے سے مانا اور کفر وشرک سے بیزاری کا اعلان کیا۔ نبی کی نبوت پر ، خدا کی کتاب پر ، ملائکہ پر اور تقدیر پر ایمان لائے۔ اللہ کے رسول کہ مسلمہ باتوں پر یقین لائے ، اور اس کے علاوہ (آیت) ” وعملوا الصلحت “ نیک اعمال بھی انجام دیے۔ نماز اور روزہ کی پابندی کی ، حج اور زکوٰۃ کو ادا کیا۔ صدقہ و خیرات کیا ، انسانوں کے ساتھ نیکی کی ، مصیبت میں صبر اور راحت میں شکر ادا کیا۔ جہاد میں حصہ لیا۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” یھدیھم بایمانھم “ اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کی وجہ سے ان کی راہنمائی کرے گا۔ تمام اعمال کا دارومدار ایمان پر ہے اگر ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ ہیں تو ان کا پروردگار راہنمائی کرے گا۔ (آیت) ” فی جنت النعیم “ نعمت کے باغوں میں ، اور وہ ایسے باغ ہوں گے (آیت) ” تجری من تحتھم الانھر “ جن کے سامنے نہریں بہتی ہوں گی۔ اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ نے جنت کی خوشخبری بھی سنا دی۔ اہل جنت کی تسبیحات : فرمایا جب اہل ایمان راحت کے مقام میں پہنچیں گے تو (آیت) ” دعوھم فیھا سبحنک اللھم “ تو وہاں ان کی دعا یہ ہوگی۔ اے اللہ ! تیری ذات پاک ہے۔ اللہ کی یہ تسبیح غیرارادی طور پر جنتیوں کی زبان پر جاری ہوجائے گی۔ جنت میں کسی مالی یا بدنی عبادت کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ صرف قولی عبادت ہوگی جو کہ تسبیحات کی صورت میں ان کی زبانوں سے ادا ہوگی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ یہ تسبیح اہل جنت کو الہام کی جائیگی اور وہ ہر وقت سبحان اللہ ، الحمد للہ وغیرہ کا ورد کرتے رہیں گے جس طرح سانس انسان کو الہام کیا گیا ہے اور وہ غیرارادی طور پر ہر وقت اور ہر حالت میں سانس لیتا رہتا ہے۔ اسی طرح اہل جنت اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتہلیل بیان کرتے رہیں گے۔ اے پروردگار ! تیری ذات ہر عیب ، نقص ، شراکت کمزوری اور عجز سے پاک ہے۔ سلامتی کے نغمے : فرمایا جنتیوں کی ایک صفت یہ بھی ہوگی (آیت) ” وتحیتھم فیھا سلم “ وہاں پر ان کی ملاقات سلام سے ہوگی۔ جب جنت والے ایک دوسرے کو ملیں گے تو ایک دوسرے کو سلام کریں گے۔ جب فرشتوں سے ملاقات ہوگی تب بھی سلام ہوگا۔ ادھر اللہ تعالیٰ فرمائیگا۔ سلام علیکم “ اے میرے بندو ! تم پر سلام ہو۔ سورة یسن میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں (آیت) ” سلم قولا من رب رحیم “ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر سلام ہو۔ غرضیکہ ہر ملاقات سلام کے ساتھ ہوگی۔ اور اس کے علاوہ ہر مجلس میں ان کی آخری دعا یہ ہوگی۔ (آیت) ” واخردعوٰھم ان الحمد للہ رب العلمین “ بیشک تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ دنیا کے سازو سامان بھی اسی نے مہیا کیے ہیں اور ابدی راحت کے مقام میں بھی وہی مہربانی فرما رہا ہے۔ اس لیے تمام کی تمام تعریفیں اسی ذات کے لیے ہیں۔ آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کے عقلی دلائل پیش کردیے ہیں اور ساتھ ساتھ قیامت کا ذکر بھی کردیا ہے۔ اس ضمن میں قیامت کے دن پر ایمان لانے والے اور اس کے منکرین کا حال بھی علیحدہ علیحدہ بیان فرما دیا ہے۔