10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsمعالم العرفان

Ayah 10:98

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْیَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِیْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْیِ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 10:98 in the Quran reader

پس کیوں نہ ہوئی کوئی بستی ایسی جو ایمان لاتی پھر اس کا ایمان اس کو فائدہ پہنچاتا مگر یونس (علیہ السلام) کی قوم جب وہ ایمان لائے تو ہم نے کھول دیا ان سے ذلت والا عذاب دینا کی زندگی میں اور ہم نے ان کو فائدہ پہنچایا ایک وقت تک

بطور عبرت اس سے پہلے قوم نوح اور قوم فرعون کے واقعات بیان ہوچکے ہیں ۔ اب یہ تیسرا واقعہ قوم یونس کا آرہا ہے۔ ان تینون واقعات میں ربط یہ ہے کہ اللہ کے تینوں انبیاء علیھم السلام حضرات نوح ، موسیٰ اور یونس (علیہم السلام) اپنی اپنی قوم کو لمبے عرصہ تک تبلیغ کرتے رہے مگر وہ ایمان نہ لائے اور آخر کار اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا۔ قوم نوح طوفان میں غرق ہوئی اور قوم فرعون بحر قلزم کی موجوں کی نذر ہوگئی البتہ اس تیسری قوم یونس پر بھی عذاب آیا مگر اس کی توبہ قبول ہوئی اور یہ عذاب الٰہی سے بچ گئی۔ اس لحاظ سے پوری تاریخ کائنات میں یہ واحد قوم ہے جس کی توبہ عذاب کے نظر آجانے کے بعد قبول ہوئی ، وگرنہ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ جب کسی فرد یا قوم پر نزع کی حالت طاری ہوجاتی ہے تو اس وقت کا ایمان لانا کچھ مفید نہیں ہوتا۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد مبارک بھی ہے (1۔ ترمذی ، ص 500) ” توبۃ العبد مالم یغرغر “ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول ہوتی ہے۔ جب تک اس پر غرغرہ کی حالت طاری نہ ہوجائے اور غرغرہ کی حالت وہ ہوتی ہے جب سانس حلق میں آکر اٹک جاتی ہے ، حجاب اٹھ جاتے ہیں اور موت کے فرشتے نظر آنے لگتے ہیں۔ حضرت ابو ذر غفاری ؓ کی روایت میں حضور ﷺ کے یہ الفاظ بھی آتے ہیں ” توبۃ العبد مالم یقع الحجاب “ بعنی بندے کی توبہ اس وقت تک قابل قبول ہوتی ہے جب تک کہ حجاب واقع نہ ہوجائے ، حجاب کی تعریف حضور ﷺ نے خود فرمائی ہے کہ انسان کی جان جسم سے اس حالت میں نکل جائے کہ وہ کفر یا شرک میں مبتلا ہو۔ یہ حجاب ہے اور ایسی حالت میں توبہ قبول نہیں ہوتی۔ الغرض ! عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے کے بعد کسی قوم کی توبہ قبول نہیں ہوتی ، یہ صرف قوم یونس کو استثناء حاصل ہے کہ عذاب الٰہی کے آثار نظر آنے کے بعد بھی اللہ نے ان کی توبہ قبول فرما لی اور انہیں اس عذاب سے نجات دے دی۔ ان واقعات کو بیان کر کے بنی نوع انسان کو نصیحت اور تنبیہ کی جا رہی ہے کہ وہ عذاب آنے یا نزع کا وقت طاری ہونے سے پہلے پہلے ایمان قبول کرلیں اور اگر گناہوں میں مبتلا ہیں تو توبہ کرلیں اور آخرت کے دائمی عذاب سے بچ جائیں ۔ حضرت یونس کی بعثت آیت زیر درس میں حضرت یونس (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا حال بیان کیا گیا ہے۔ اس سورة کا نام اسی نسبت سے سورة یونس ہے یہاں پر محض اشارۃ بات کی گئی ہے جب کہ قوم یونس کے مفصل حالات سورة انبیائ ، سورة صفت اور بعض دیگر سورتوں میں بیان ہوئیے ہیں۔ حضرت یونس (علیہ السلام) اصلا بنی اسرائیل کے انبیاء میں سے تھے مگر آپ کی بعثت آشوری قوم کی طرف ہوئی ، اس زمانے میں اور اس علاقے میں بیک وقت اللہ کے پانچ نبی موجود تھے۔ جن میں سے حضرت یونس (علیہ السلام) کو تبلیغ کے لیے آشوریوں کی طرف بھیجا گیا۔ آشوریوں کا پایہ تخت نینوی تھا جو عراق کے صوبہ موسل میں دریائے دجلہ کے کنارے ساٹھ میل کے علاقے میں پھیلا ہوا تھا۔ یہ شہر حضرت یونس (علیہ السلام) سے ہزاروں سال پہلے آباد تھا اور آپ کے زمانے میں اس کی آبادی ایک لاکھ بیس ہزار کے قریب تھی۔ چونکہ آشوری قوم کفر ، شرک اور معاصی میں مبتلا تھی ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے یونس (علیہ السلام) کو اس قوم کو تبلیغ کرنے کے لیے مقرر فرمایا آپ نے وہاں پر کتنا عرصہ تبلیغ کی ، اس کی تصریح قرآن وحدیث میں نہیں ہے۔ البتہ تفسیری روایات میں آتا ہے کہ آپ نے ستر سال تک فریضہ تبلیغ ادا کیا مگر لوگوں نے آپ کی دعوت قبول نہ کی۔ آخر کار آپ نے اللہ کے حکم سے انہیں عذاب کی وعید سنائی اور تفسیر روایات کے مطابق تین دن یا چالیس دن کی مہلت کا ذکر بھی کیا جس کے بعد ان پر عذاب نازل ہونے والا تھا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کی لغزش حضرت یونس (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی عذاب کی وعید تو سنا دی مگر اس موقع پر آپ سے ایک لغزش سرزد ہوگئی۔ انبیاء (علیہم السلام) چونکہ عام انسانوں کی نسبت زیادہ بلند مرتبت ہوتے ہیں ، اللہ کے مقربین میں شامل ہوتے ہیں ، اس لیے کسی معمولی لغزش پر بھی ان کی سخت گرفت ہوجاتی ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) سے لغزش یہ ہوئی کہ عذاب کی وعید سنانے کے بعد اللہ کے حکم کے بغیر اس بستی سے نکل گئے۔ سورة انبیاء میں اس طرح بیان کیا گیا ہے (آیت) ” اذ ھب مغاضبا “ جب وہ قوم سے ناراض ہو کر غصے میں نکل گئے۔ غصہ یہ کہ ان لوگوں کو اتنا لمبا عرصہ تبلیغ کی ہے مگر یہ مانتے ہی نہیں (آیت) ” فظن ان لن نقدر علیہ “ انہوں نے یہ خیال کرلیا کہ اللہ تعالیٰ ان پر تنگی نہیں ڈالے گا۔ یہ حضرت یونس (علیہ السلام) کی اجتہادی خطا تھی۔ انہیں اللہ کے حکم کے بغیر بستی کو نہیں چھوڑنا چاہیے تھا۔ اس کے متعلق مولانا مودودی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ یونس (علیہ السلام) سے فریضہ رسالت کی ادائیگی میں کچھ کوتاہیاں ہوگئی تھیں۔ یہ بات درست نہیں ہے اور اس میں رائی کے دانے کے برابر بھی کوتاہی نہیں ہوئی حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب (رح) اس بات کی تردید کرتے ہوئے اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اگر نبی فریضہ رسالت کی ادائیگی میں کوتاہی کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نبوت کے منصب عالیہ کے لائق ہی نہیں۔ امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ کوئی نبی فریضہ رسالت کی ادائیگی میں ذرہ بھر بھی کوتاہی نہیں کرتا۔ یونس (علیہ السلام) سے معمولی لغزش ہوگئی تھی کہ وہ اللہ کے حکم کا انتظار کیے بغیر بستی سے نکل گئے۔ جب یونس (علیہ السلام) بستی سے نکل کھڑے ہوئے۔ تو مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ آپ دریا کے کنارے پر پہنچے۔ آپ کا ارادہ یافہ سے ترسیس جانے کا تھا۔ یہ دونوں بستیاں دریائے دجلہ کے کنارے پر تھیں یہ سفر دجلہ میں تھا یابحرروم میں ، اس کے متعلق بھی مختلف روایات ملتی ہیں مگر قرآن پاک میں تفصیل نہیں ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) پر ابتلاء شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (رح) نے اپنی تفسیر عزیز میں اور بعض دوسرے ان کی بیوی اور دو بچے تھے۔ راستے میں کہیں چھوٹی ندی عبور کر رہے تھے کہ ایک بچہ ندی میں گر گیا ، اس کو پکڑنے کی کوشش کی تو پیچھے سے دوسرے بچے کو بھیڑیا اٹھا کرلے گیا۔ اسی اثنا میں دوسری طرف کچھ آدمی آئے جو آپ کی بیوی کو پکڑ کرلے گئے۔ اس حادثہ کے بعد آپ کشتی میں سوار ہوئے جس کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے (آیت) ” اذ ابق الی الفلک المشحون “ (الصفت) جب آپ بھری ہوئی کشتی کی طرف بھاگ کر گئے اور اس میں سوار ہوگئے۔ جب کشتی پانی کی درمیان میں پہنچی تو بھنور میں پھنس کر ہچکولے کھانے لگی جس کی وجہ سے اس کے غرق ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ، ملاحوں نے اس زمانے کے دستور کے مطابق کہا کہ کوئی نافرمان آدمی ہماری کشتی میں سوار ہوگیا ہے جس کی نحوست کی وجہ سے تمام مسافروں کی زندگیاں خطرے میں پڑگئی ہیں۔ یا پھر کوئی غلام اپنے آقا سے بھاگ کر آگیا ہے جس کی وجہ سے سب لوگ مصیبت میں گرفتار ہوگئے ہیں۔ اسی پر یونس (علیہ السلام) نے اقرار کیا کہ اپنے آقا سے بھاگا ہوا غلام تو میں ہی ہوں ، لہٰذا مجھے کشتی سے اتار دیا جائے تا کہ باقی مسافروں کی جانیں بچ جائیں لوگوں نے آپ کی نورانی وضع قطع اور چہرے کو دیکھ کر یقین نہ کیا کہ آپ کسی کے بھاگے ہوئے غلام ہو سکتے ہیں یا آپ کوئی گنہگار آدمی ہو سکتے ہیں۔ قرآن پاک میں موجود ہے (آیت) ” فساھم “ (الصفت) کشتی والوں نے قرعہ نکالا تو وہ آپ ہی کے نام نکلا تین دفعہ قرعہ اندازی ہوئی اور ہر دفعہ یونس (علیہ السلام) کا نام آیا۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ آپ نے خود ہی پانی میں چھلانگ لگا دی تھی تا کہ ان کی وجہ سے سب لوگ ہلاک نہ ہوں۔ بہرحال آپ نے خود چھلانگ لگا دی یا کشتی والوں نے آپ کو پانی میں پھینک دیا۔ آگے مچھلی خدا کے حکم سے آپ کی منتظر تھی آپ سیدھے مچھلی کے منہ میں گرے اور اس کے پیٹ میں چلے گئے۔ اس پریشانی اور تکلیف کا حال قرآن پاک کی مختلف سورتوں میں موجود ہے مچھلی کے پیت میں پہنچ کر آپ کو کتنی تکلیف پہنچی ہوگی ، سانس گھٹ رہا ہوگا اور آپ پانی کی تہوں میں مچھلی کے پیٹ میں کیسے محسوس کرتے ہوں گے۔ مصیبت سے نجات سورۃ انبیاء میں آتا ہے کہ اس تہ در تہ اندھیروں میں (آیت) ” فنادی فی الظلمت ان لا الہ الا انت سبحانک انی کنت میں الظلمین “ یونس (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کو پکارا کہ اے مولا کریم ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے تو پاک ہے اور خطاء کار تو میں ہی تھا اللہ تعالیٰ نے آپ پر رحم فرمایا۔ سورة الصفت میں ہے کہ اگر آپ یہ تسبیح نہ کرتے (آیت) ” للبث فی بطنہ الی یوم یبعثون “ تو آپ کو قیامت تک مچھلی کے پیٹ میں ہی رکھا جاتا۔ اس تسبیح کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے انہیں اس قید خانہ سے نجات دی۔ آپ نے کتنا عرصہ مچھلی کے پیٹ میں رہے ، اس کی تصریح نہیں ، تا ہم تفسیری روایات میں تین دن یا چالیس دن کا ذکر ملتا ہے۔ ترمذی شریف کی روایت میں ہے (1۔ ترمذی ، ص 504) ” دعوۃ المکرموب دعوہ ذی النون “ یعنی مصیبت زدہ آدمی کے لیے یہی دعا ہے (آیت) ” لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین “ اللہ تعالیٰ اس دعا کی برکت سے مصیبت زدہ آدمی کی پریشانی دور کر دے گا۔ یہ ایسی بابرکت دعا ہے جو یونس (علیہ السلام) کی زبان سے جاری ہوئی۔ اس کے بعد مچھلی کو حکم ہوا کہ انہیں پانی سے باہر پھینک دیا جائے۔ سورة القلم میں اللہ نے یہ احسان جتلایا ہے (آیت) ” لولا ان تدار کہ نعمۃ من ربہ لنبذ بالعراء وھو مذموموم “ اگر اللہ تعالیٰ کی نعمت اور مہربانی ان کا تدارک نہ کرتی تو آپ کو چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا اس حالت میں کہ آپ ہارے ہوئے ہوتے۔ پھر سورة الصفت میں فرمایا (آیت) ” فنبذنہ بالعراء وھو سقیم “ ہم نے انہیں چٹیل میدان میں ڈال دیا اس حالت میں کہ وہ بیمار تھے ، البتہ اللہ نے مچھلی کے پیٹ کو وحی کی تھی کہ یونس (علیہ السلام) تیری خوراک نہیں ہیں بلکہ یہ ان کے لیے قید خانہ ہے۔ چناچہ اس دوران آپ کے تمام اعضاء صحیح سلامت رہے مگر مچھلی کے پیٹ کر گرمی کی وجہ سے کھال نہایت نرم ہوگئی۔ صحرا میں سامان زیست صحرا میں آپ کو ریت پر پھینک دیا گیا جہاں سایہ کے لیے کوئی درخت بھی نہ تھا مگر اللہ نے فرمایا (آیت) ” وانبتنا علیہ شجرۃ من یقطین “ (الصفت) ہم نے آپ پر کدو کی بیل اگا دی۔ کدو کے پتے بڑے نرم اور ملائم ہوتے ہیں اور اس پر مکھی بھی نہیں بیٹھتی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے یونس (علیہ السلام) کے لیے سایہ کا بندوبست کدو کی بیل کے ذریعے کردیا حضرت یونس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کدو بہت پسند فرمایا کرتے تھے ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ کدو میرے بھائی یونس (علیہ السلام) کا درخت ہے ، اللہ نے یہ ان کے لیے لگایا تھا یہ مرطوب سبزی ہے مگر اطباء کہتے ہیں کہ مرطوب ہونے کے باوجود یہ مقوی حافظہ ہے حالانکہ اکثر مرطوب چیزیں حافظ کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔ حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ ہم ممکن حد تک کدو کا بکثرت استعمال کرتے تھے کیونکہ حضور ﷺ کو یہ سبزی بڑی مرغوب تھی۔ ادھر آپ کی خوراک کا بندوبست اللہ نے یہ کیا کہ ایک جنگلی بکری کا بچہ گم ہوگیا تھا ، اس کی تلاش میں ادھر آنکلی ، حضرت یونس (علیہ السلام) کے قریب آئی تو آپ نے اس کا دودھ پیا۔ جب تک آپ اس مقام پر مقیم رہے بکری آکر آپ کو دودھ پلاتی رہی۔ اس اثنا میں آپ کے جسم کی کھال بھی اصل حالت پر آگئی اور آپ چلنے پھرنے کے قابل ہوگئے پھر اللہ کا حکم ہوا (آیت) ” فارسلنہ الی مائۃ الف او یزیدون “ (الصفت) پھر ہم نے آپ کو ایک لاکھ یا زائد لوگوں کی طرف بھیجا اس سے مراد وہی نینوی کی بستی ہے جہاں سے آپ نکلے تھے ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ اس شہر کی آبادی ایک لاکھ بیس ہزار کے قریب تھی۔ قوم یونس کی توبہ اللہ تعالیٰ نے یہاں پر اشارۃ یہ بات بتلائی ہے۔ (آیت) ” فلولا کانت قریۃ امنت فنفعھا ایمانھا الا قوم یونس “ پس کیوں نہ ہوئی کوئی ایسی بستی جو ایمان لاتی ، پھر اس کا ایمان اس کو فائدہ پہنچاتا مگر قوم یونس۔ یعنی یا تریخ عالم میں واحد قوم ہے کہ عذاب آجانے کے بعد جس کی توبہ قبول ہوئی ۔ اس سلسلے میں مفسرین کی دو رائیں ہیں۔ امام ابن جریر طبری (رح) فرماتے ہیں کہ قوم یونس کے واقعہ کو قانون قدرت میں استثناء حاصل ہے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عذاب وارد کرنے کے بعد اس قوم کے سوا کسی قوم کی توبہ قبول نہیں کی۔ البتہ بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قانون اٹل ہے اور یہ جو قوم یونس سے بظاہر عذاب ٹل گیا تھا ، یہ اصل میں عذاب آیا ہی نہیں تھا۔ بلکہ اس کی ایک معمولی سی جھلک ظاہر کی گئی تھی تا کہ یونس (علیہ السلام) کی نبوت کی صداقت واضح ہوجائے۔ آسمان پر دھوئیں کہ شکل میں سیاہ بادل نظر آئے تھے جن کی وجہ سے مکانون کی چھتیں بھی سیاہ ہوگئی تھیں مگر فی الواقعہ عذاب نازل نہیں ہوا تھا۔ واللہ اعلم۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ آسمان پر سیاہ بدل دیکھ کر نینوی کی بستی والوں کو احساص ہوا کہ اللہ کا نبی ٹھیک ہی کہتا تھا اور اب ہم پر عذاب نازل ہونے ولا ہے تو وہ نبی کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے مگر یونس (علیہ السلام) تو حادثہ کا شکار ہوچکے تھے ، وہ کہاں ملتے ، بالآخر قوم کے سارے لوگ بڑے ، چھوٹے ، بچے عورتیں حتی کہ ان کے جانور بھی بستی سے باہر نکل گئے اور آہ وزاری شروع کردی۔ اللہ تعالیٰ سے اپنے جرم کی معافی طلب کی تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی اور عذاب کے جو آثار نظر آرہے تھے وہ ہٹ گئے۔ اللہ نے فرمایا (آیت) ” لما امنوا “ جب وہ صدق دل سے ایمان لے آئے (آیت) ” کشفنا عنھم عذاب الخزی فی الحیوۃ الدنیا “ تو ہم نے ان سے دنیا کی زندگی میں ذلت والا عذاب کھول دیا اور (آیت) ” ومتعنھم الی حین “ اور انہیں ایک خاص وقت تک فائدہ پہنچایا۔ مطلب یہ کہ ان سے فوری طور پر تو عذاب ٹل گیا۔ پھر وہ کافی مدت تک ایمان کی حالت پر قائم رہے۔ پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے حالات بگڑنے شروع ہوگئے ، وہ پھر کفر ، شرک اور معاصی میں مبتلا ہوگئے اور اس طرح ہم نے ایک خاص مدت تک ان کو زندگی دی اور سزا سے بچائے رکھا۔ ایک خاص وقت تک فائدہ اٹھانے کا یہی مطلب ہے۔ حضرت یونس کا ازالہ فقدان ادھر یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ سے باہر آنے اور کچھ دن چٹیل میدان میں رہنے کے بعد جب اپنی بستی کی طرف واپس آرہے تھے تو ان کا ایک بچہ کریاں چرانے والے ایک گڈریے کے ہاں مل گیا اس شخص نے دریافت کرنے پر بتایا کہ یہ بچہ انہوں نے پانی سے نکالا تھا۔ اس گڈریے نے بتایا کہ ایسا ہی ایک لا وراث بچہ فلاں لوگوں کے پاس بھی ہے یونس (علیہ السلام) وہاں پہنچے تو اسے بھی اپنا بچہ پایا۔ ان لوگوں نے بتایا کہ یہ بچہ انہوں نے ایک بھیڑیے کہ منہ سے چھڑایا تھا۔ آپ کی بیوی کے متعلق شاہ عبدالعزیز (رح) لکھتے ہیں کہ کوئی گھوڑے پر سوار شہزادہ ادھر سے گزرا تھا جو آپ کی بیوی کو ہمراہ لے گیا۔ وہ شہزدہ اچانک پیٹ کے شدید درد میں مبتلا ہوگیا مگر پورے علاج کے باوجود افاقے کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔ کسی درویش منش آدمی نے شہزادہ سے کہا کہ تم کسی شخص کی بیوی کو بدنیتی سے لے آئے ہو ، جب تک اسے واپش نہ کرو۔ اور اس سے معافی نہ مانگو ، تم صحت یاب نہیں ہو سکتے۔ اس طرح آپ کی بیوی بھی آپ کو واپس مل گئی۔
Ayahs 10:99–103

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِیْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى یَكُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:99 in the Quran reader

اور اگر چاہتا تیرا پروردگار تو البتہ ایمان لاتے جو بھی زمین میں ہیں سب کے سب ، پس کیا آپ لوگوں کو مجبور کریں گے یہاں تک کہ وہ مومن بن جائیں

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ یَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 10:100 in the Quran reader

اور نہیں ہے کسی نفس کے لیے کہ وہ ایمان لائے مگر اللہ کے حکم سے۔ اور ڈالتا ہے اللہ تعالیٰ نجاست اور ان لوگوں پر جو سمجھ نہیں رکھتے

قُلِ انْظُرُوْا مَا ذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا تُغْنِی الْاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنْ قَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 10:101 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ دیکھو جو کچھ بھی ہے آسمانوں میں اور زمین میں اور نہیں فائدہ دیتیں نشانیاں اور ڈرانے والے ان لوگوں کو جو ایمان نہیں لاتے

فَهَلْ یَنْتَظِرُوْنَ اِلَّا مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ قُلْ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 10:102 in the Quran reader

پس نہیں انتظار کرتے ہی لوگ مگر مثل ان لوگون کے دنوں کی جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ آپ کہہ دیجئے اے پیغمبر ! ہپس تما نتظار کرو ، بیشک میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں

ثُمَّ نُنَجِّیْ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ١ۚ حَقًّا عَلَیْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 10:103 in the Quran reader

پھر ہم نجات دیتے ہیں اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لاے ، اسی طرح ثابت ہے ہمارے اوپر کو ہم نجات دیتے ہیں ایمان والوں کو

ربط آیات گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے یونس (علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا ، نیز آپ کی قوم کی منفرد حیثیت کا تذکرہ فرمایا کہ یہ واھد قوم ہے جس کی توبہ اللہ تعالیٰ نے عذاب کی نشانیان ظاہر ہوجانے کے بعد قبول کی۔ اس سلسلے میں بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ عذاب کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس (علیہ السلام) کی تصدیق کے لیے عذاب کی کچھ علامات ظاہر فرمائی تھیں۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور آپ پر ایمان لانے والوں کو تسلی دی ہے کہ لوگوں کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے آپ دل برداشتہ نہ ہوں کیوں کہ ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ اور آپ کسی کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کرسکتے۔ ہدایت اور گمراہی کا قانون سو اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی کا وہ قانون بیان فرمایا ہے جس کے تحت بعض لوگوں کو ہدایت نصیب ہوتی ہے اور بعض گمراہی میں بھٹکتے رہتے ہیں ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولو شاء ربک “ اگر تیرا رب چاہتا (آیت) ” لامن من فی الارض کلھم جمیعا “ تو زمین میں رہنے والے سارے کے سارے افراد ایمان لے آتے اور کوئی بھی کافر اور مشرک باقی نہ رہتا۔ یہاں پر شاء سے مراد محض چاہنا نہیں بلکہ مجبور کرنا ہے ، کہ تمام لوگوں کو ایمان لانے پر مجبور کردیا جاتا ، تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کے سامنے کون دم مارسکتا ہے ، لہٰذا اب ایماندار ہوجاتے ۔ سورة نحل میں (آیت) ” ولو شاء لھدکم اجمعین “ اگر ہم چاہتے تو سب کو ایک ہی لائن پر ڈال کر ہدایت دے دیتے۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے۔ وہ کسی پر جبرا ہدایت ٹھونس سکتا ہے مگر یہ اس کی مصلحت کے خلف ہے۔ سورة ہود میں ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا (آیت) ” فجعل الناس امتۃ واحدۃ “ تو تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا (آیت) ” ولا ۔۔ مختلفین “ مگر وہ ہمیشہ اختلاف کرتے رہیں گے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ انہیں جبرا کسی چیز پر جمع نہیں کرنا چاہتا ، ایمان وہی قبول ہے جو اللہ کے دیے ہوئے اختیار کے مطابق اپنی مرضی سے شرح صدر کے ساتھ قبول کیا جائے (آیت) ” افانت تکرہ الناس حتی یکونوا مئومنین “ کیا آپ لوگوں کو مجبور کرینگے کہ وہ مومن بن جائیں اسی لیے اللہ نے واضح قانون دے دیا ہے (آیت) ” لا اکراہ فی الدین قد تبین الرشد من الغی “ (البقرہ) یاد رکھو ! دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ اللہ نے ہدایت اور گمراہی دونوں باتوں کو واضح کردیا ہے ، لہٰذا جو کوئی اپنی مرضی سے ایمان قبول کریگا وہی بہتر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے تمام ذرائع عقل ، سمجھ ، اختیار اور ارادہ وغیرہ انسان کو مہیا کردیے ہیں ، لہٰذا سب یہ ذمہ داری ہر انسان کی ہے کہ وہ کون سا راستہ اختیار کرتا ہے۔ سورة کہف میں ہے (آیت) ” فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکم “ جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے ، یہ اس کی مرضی پر منحصر ہے ، اس پر کس قسم کا جبر نہیں ہے البتہ ہر شخص کو یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہیے کہ اگر وہ ایمان لائے تو خدا تعالیٰ اس پر راضی ہو کر اپنی رحمت کے مقام میں داخل کریگا اور اگر اس نے کفر کا راستہ اختیار کیا تو دنیا اور آخرت دونوں جگہ خسارے میں رہے گا۔ دین میں جبر نہیں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو بھی فرمایا کہ آپ کا کام کسی کو زبردستی منوانا نہیں ہے بلکہ (آیت) ” فانما علیک البلاغ وعلینا الحساب “ (الرع) آپ کا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اس کے بعد کی شخص کے اعمال کا حساب لینا ہمارے ذمے ہے ، اس سلسلے میں آپ سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔ اس طرح سورة غاشیہ میں فرمایا (آیت) ” لست علیھم بمصیطر “ آپ ان پر کوئی داروغہ نہیں ہیں کہ ان سے زبردستی منوالیں۔ آپ اللہ کے رسول ہیں اور کسی کو مجبور کرنا رسول کا کام نہیں ہوتا۔ غرضیکہ ایمان قبول کرنے یا نہ کرنے کا سوال براہ راست ہر شخص سے ہوگا اور کسی نبی یا مبلغ سے نہیں پوچھا جائے گا کہ یہ لوگ ایمان کیوں نہ لائے۔ پھر اللہ نے ہدایت کا یہ قانون بھی بیان فرمادیا (آیت) ” وما کان لنفس ان تو من الا باذن اللہ “ کسی نفس کے لیے یہ بات نہیں ہے کہ وہ ایمان لائے جب تک کہ اللہ کا حکم نہ ہو ، خدا تعالیٰ کی مشیت اور ارادے سے ہی انسان ہدایت حاصل کرتے ہیں کیونکہ اللہ کی مشیت اور ا رادہ ہی غالب ہے ، لہٰذا اس کے حکم کے بغیر ایمان اور ہدایت حاصل نہیں ہو سکتی لیکن یہ بات یاد رکھو (آیت) ” ویجعل الرجس علی الذین لا یعقلون “ اللہ تعالیٰ نجاست اور گندگی انہی پر ڈالتا ہے جو عقل کو صحیح طور پرا ستعمال نہیں کرے ، کفر ، شرک اور معاصی میں ملوث رہنے والے لوگوں پر گندگی پڑتی ہے۔ عقیدے کی نجاست یہاں پر رجس سے مراد عقیدے کی گندگی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے (آیت) ” فاجتنبو الرجس من الاوثان “ (الحج) بت پرستی کی نجاست سے بچو ، سورة مدثر میں ہے (آیت) ” والرجز فاھجر “ ہر قسم کی گندگی کو اپنے آپ سے دور رکھیں ، خاص طور پر عقیدے کی نجاست تو بہت بری نجاست ہے۔ سورة توبہ میں بھی آپ منافقین کے متعلق سن چکے ہیں (آیت) ” انھم رجس “ ان کے دل و دماغ اور قلب وروح میں نفاق کی نجاست ہے آپ ان کو چھوڑدیں۔ عقل کا استعمال اللہ تعالیٰ نے کفار کے متعلق سورة انفال میں فرمایا ہے (آیت) ” ان شرالدواب عند اللہ الصم المکم الذین لا یعقلون “ ایسے لوگ اللہ کے نزیک بدترین جانور ہیں جو اندھے اور بہرے ہیں اور عقل کو صحیح استعمال نہیں کرتے ، اللہ نے انسان کو عقل جیسا عظیم جوہر عطا کر کے اسے مکلف بنایا ہے جب اللہ تعالیٰ نے عقل کو پیدا کیا تو فرمایا آگے آئو ، وہ آگے آگئی ، پھر فرمایا پیچھے ہٹ جائو ، تو وہ پیچھے ہٹ گئی۔ پھر فرمایا کہ تیری وجہ سے ہی میں مواخذہ کروں گا ، تیری وجہ سے ہی عطا کروں گا اور تیری وجہ سے ہی منع کروں گا ۔ پاگل آدمی یا چھوٹے بچے سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی کیونکہ وہ عول نہیں رکھتا۔ جوابدہی کا مدار اللہ نے عقل پر رکھا ہے ، لہٰذا جو لوگ اپنی عقل کو صحیح استعمال نہیں کرتے گندگی انہیں پر پڑتی ہے۔ وہ ہمیشہ ضد ، عناد اور ہٹ دھرمی میں مبتلارہتے ہیں۔ یہود ونصارٰ اور مشرکین کو دیکھ لیں بظاہر بڑے دانا سمجھے جاتے ہیں مگر عقل کے غلط استعمال کی وجہ سے ان پر گندگی پڑی ہوئی ہے۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ عقل دو قسم کی ہوی ہے یعنی عقل معاش اور عقل معاد ، بعض لوگ عقل معاش میں بڑے کامل ہوتے ہیں۔ ان میں بڑے بڑے ڈاکٹر ، انجینئر ، فلاسفر اور ماہرین تعلیم شامل ہیں مگر ان کی عقل عقل معاش تک محدود ہے۔ انہوں نے دینوی ترقی کے لیے بڑی ایجادات کی ہیں ، علم وفن کو عروج کی بلندیوں تک پہنچایا ہے مگر عقل معاد کے لحاظ سے بالکل صفر ہیں۔ وہ آخرت کی بات کو نہیں سمجھ سکتے ، دین اسلام ، قرآن ، انبیائ ، کتب سماویہ اور معاد پر اعتراض کرنے والاے بےعقل لوگ ہیں۔ انہوں نے عقل سلیم کو ٹھیک طور سے استعمال نہیں کیا۔ ایسے شخص کی اپنی عقل ٹیڑھی ہوتی ہے مگر وہ دوسری چیز کو ٹیڑھا سمجھتا ہے اور اس کو ایک کے دو دو نظر آتے ہیں۔ یرقان کا مریض بھی ایسا ہی ہوتا ہے ۔ اگر ہر چیز اپنے قدرتی رنگ پر ہوتی ہے مگر بیماری کی وجہ سے اسے ہر چیز سبز نظر آتی ہے اسی طرح معاد کا انکار بھی کسی شخص کی اپنی عقل کی خرابی اور اس کے غلط استعمال کی وجہ سے ہوتا ہے اسی لیے فرمایا کہ ہر نفس اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایمان لاتا ہے ، لیکن اللہ تعالیٰ نجاست اس پر ڈالتا ہے جو عقل کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرتا۔ مشاہدہ نشانات قدرت فرمایا (آیت) ” قل انظروا ماذا فی السموت والارض “ اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں کہ دیکھ لو جو کچھ آسمانوں میں ہے ، اور زمین میں ہے ، دیکھو ! اللہ نے اپنی قدرت کی کتنی نشانیاں پھیلا رکھی ہیں انہی نشانیوں کو دیکھ کر لوگ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہنچانتے ہیں۔ وسیع آسمان پر پھیلے ہوئے سیارے اور ستارے شمس ، وقمر ، فضائیں اور ہوائیں ، ابروباراں ، شجر وحجر ، پہاڑ ، سمندر ، دریا ، پھول اور پھل سارے کے سارے نشانات قدرت ہیں اگر انسان تھوڑا ساغور کرے تو اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ سمجھ میں آجاتی ہے۔ سورة یوسف میں فرمایا کتنے لگو ہیں (آیت) ” یمرون علیھاوھم عنھا معرضون “ جو ان نشانیون پر گزر جاتے ہیں مگر ان کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے ، عقل کو صحیح طور پر استعمال کر کے اللہ کی معرفت حاصل نہیں کرتے۔ فرمایا ، دیکھو آسمان و زمین میں کیا کچھ ہے (آیت) ” وما تغنی الایت والنذر عن قوم لا یومنون “ مگر یہ نشانات اور ڈرانے والے ان لوگوں کو کچھ فائدہ نہیں دیتے جو ایمان ہی نہیں لاتے۔ جو لوگ ضد ، عناد ، اور ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہیں ان کے لیے نہ کوئی معجزہ کار گر ہوتا ہے اور نہ کوئی دیگر نشانی۔ ڈرانے والی نشانیاں بھی ہو سکتی ہیں اور وہ ہادی اور راہما بھی جو اندار کا کام کرتے ہیں۔ وہ سمجھانے کی بڑی کوشش کرتے ہیں مگر ان کے دل میں کوئی بات نہیں بیٹھتی ان کے ذہنوں میں تعصب اور عناد بھرا ہوا ہے ، لہٰذا ان پر کوئی چیز اثر نہیں کرتی۔ ان نشانات سے وہ لوگ مستفید ہوتے ہیںٰ جو اعتدال پسند ہوں اور جن میں سمجھنے کا جذبہ موجود ہو۔ ایام اللہ کا انتظار فرمایا ، اے پیغمبر ! (آیت) ” فھل ینتظرون الا مثل ایام الذین خلوا من قبلھم “ کیا یہ لوگ نہیں انتظار کر رہے ہیں ، مگر مثل ان دنوں کی جو ان سے پہلے لوگوں پر گزرے ہیں۔ ایام دو قسم کے ہیں جن کا ذکر قرآن میں ایام اللہ کے عنوان سے آیا ہے۔ یہ ایام وہ ہیں کہ بعض لوگوں کے لیے انعام کا باعث ہوتے ہیں اور بعض کے لیے تعذیب کا تو فرمایا کیا یہ بھی ایسے ایام کے انتظار میں ہیں جو قوم نوح ، قوم لوط ، عاد اور ثمود پر گزرے ان اقوام کو اللہ نے ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے عذاب میں مبتلا کیا تو کیا یہ بھی کسی عذاب کے انتظار میں ہیں۔ یہی دن بعض لوگوں کے لیے بابرکت ہوتے ہیں جیسا کہ یونس (علیہ السلام) کی قوم کے حق میں عاشورے کا دن بابرکت دن ہے جب کہ ان کی توبہ قبول ہوئی ، یہ دن بنی اسرائیل کے لیے بھی بابرکت دن ہے کہ اللہ نے انہیں اسی دن فرعونیوں سے نجات دی۔ مگر یہی دن فرعون اور اس کے لاء لشکر کے لیے سختی کا دن ثابت ہوا کہ وہ ہلاک ہوگئے ، تو فرمایا پس نہیں انتظار کرتے یہ لوگ مگر مثل ان لوگوں کے دنوں کے جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ اور جن پر سزائیں نازل ہوئیں۔ فرمایا گرفت کرنا یا سزا دینا میرا کام نہیں (آیت) ” قل فانتظروا انی معکم من المنتظرین “ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کہ اس دن کا تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ پھر اللہ تعالیٰ کا حکم اور اس کی مشیت سامنے آجائے گی ، پھر تمہیں پتہ چل جائے گا کہ تمہاری نافرمانی اور ہٹ دھرمی کا کیا نتیجہ برآمد ہوا ہے۔ اہل اللہ کا تحفظ فرمایا خدا تعالیٰ کا قانون یہ رہا ہے (آیت) ” ثم ننجی رسلنا والذین امنوا “ پھر ہم بچاتے ہیں اپنے رسولوں کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے دنیا میں جب بھی اللہ کے رسولوں نے حق کا پیغام سنایا ا اور ہدایت کا سلسلہ واضح کیا تو قوم نے مخالفت کی اور رسولوں کو اور اہل ایمان کی ختم کرنے کی کوشش کی ، مگر اللہ تعالیٰ کا دستور ہے کہ وہ ان کی حفاظت کرتا ہے نوح (علیہ السلام) کی قوم نے انکار کیا تو ان سب کو غرق کردیا گیا۔ اور حضرت نوح (علیہ السلام) اور اہل ایمان کو بچا لیا گیا۔ اسی طرح فرعون اور اس کے لشکری ہلاک ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل بچا لیے گئے۔ باقی انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ بھی ایسے ہی واقعات پیش آئے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح ع ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) وغرہم کی اللہ نے خود حفاظت فرمائی اور ان پر ایمان لانے والون کو بھی کفار کی دست برد سے محفوظ رکھا۔ سورة المومن میں بھی آتا ہے (آیت) ” انا لننصر رسلنا والذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا ویوم یقوم الاشھاد “ ہم اپنے رسولوں اور ان کے ماننے والوں کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی ان کو غلبہ حاصل ہوگا جس دن گواہ کھڑے ہوں گے یعنی قیامت کے دن اس کے برخلاف کفار ومشرکین ذلیل ہو کر جہنم کے مستحق ہون گے۔ نتیجہ کے اعتبار سے دنیا اور آخرت میں انبیاء اور اہل ایمان ہی کو کامیابی حاصل ہوگی۔ اگرچہ اللہ والوں کو بعض تکالیف بھی پہنچتی ہیں اور انہیں بعض آزمائشوں سے بھی گزرنا پڑتا ہے مگر بالانتہا وہی کامیاب ہوتے ہیں۔ اگر عذاب آ بھی جائے تو اللہ تعالیٰ ان کو بچا لیتا ہے۔ فرمایا (آیت) ” کذلک حقا علینا ننجی المومنین “ اسی طرح ہم پر ثابت ہے کہ ہم ایمان والون کو نجات دیا کرتے ہیں۔ اللہ پر حق کا قیام حق کا معنی ثابت ہونا یا پختہ ہونا ہے۔ حق کو حق اسی لیے کہا جاتا ہے کہ وہ پختہ اور اٹل چیز ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف باطل مٹنے والی چیز ہوتی ہے کیونکہ بطلان کا معنی کسی چیز کا مٹ جانا ہے۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ یہاں پر حق سے مراد رحمت ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت اور شفقت سے ایمان والوں کو محفوظ رکھتا ہے ، وگرنہ خدا تعالیٰ پر کوئی چیز واجب نہیں ہے۔ اسی لیے فقہ اور عقیدے کی کتابوں میں یہ مسئلہ موجود ہے کہ ” بحق فلاں “ کہنا مکروہ ہے کیونکہ ” لا حق للمخلوق علی الخالق “ مخلوق کا کوئی حق خالق پر ثابت نہیں ہوتا۔ معتزلہ جیسے قدیم فرقوں میں سے بعض کا عقیدہ یہ ہے کہ جو چیز بندے کے لیے اچھی ہے وہ اللہ پر واجب ہے۔ یہ بالکل غلط عقیدہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کوئی چیز واجب نہیں ، وہ بےنیاز ہے البتہ اس نے اپنی رحمت سے کوئی چیز اپنے ذمہ لے لی ہو تو یہ اس کی مہربانی ہے۔ تو یہاں پر بھی (آیت) ” حقا علینا “ کا مطلب یہ ہے کہ ہماری مہربانی سے ہم پر یہ ثابت ہے کہ ہم اہل ایمان کو نجات دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا سورة انعام میں فرمان ہے (آیت) ” کتب علی نفسہ الرحمتۃ “ اس نے اپنی مہربانی سے اپنے اوپر اپنی رحمت کو لکھ رکھا ہے۔ حدیث شریف (1۔ مشکوۃ ، ص 14) میں آتا ہے کہ حضرت معاذ ؓ حضور ﷺ کے ردیف تھے۔ آپ نے فرمایا معاذ ! کیا تم جانتے ہو کہ اللہ کا حق بندوں پر کیا ہے ؟ عرض کیا ، اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا اللہ کا حق بندوں پر یہ ہے کہ بندے صرف اسی کی عبادت کریں اور اس کیک ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔ پھر فرمایا معاذ ! کیا تم جانے تو ہو کہ بندوں کا حق اللہ پر کیا ہے۔ عرض کیا ، اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا جب بندے اپنے حقوق کو پورا کریں تو پھر ان کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ ان کو سزا نہیں دے گا بلکہ جنت تک پہنچائے گا۔ لیکن یہ حق بھی اللہ پر واجب نہیں بلکہ اس کی مہربانی کا حق ہے ، اس نے اپنی مہربانی کے ساتھ یہ بات اپنے ذمے لے رکھی ہے۔ تو اس حق کے مطابق آدمی دعا بھی کرسکتا ہے جیسے۔ الٰہی بحق بنی فاطمہ کہ بر قول ایمان کنم خاتمہ اے اللہ اہل بیت کا جو حق اپنی مہربانی سے تو نے اپنے ذمے لے رکھا ہے ، اس حق کے ساتھ یہ سوا ل کرتا ہوں۔ مطلب یہ کہ بندوں کا حق اللہ پر واجبی نہیں ہو سکتا۔ حدیث شریف میں یہ بھی آتا ہے ” من رد عن عرضہ “ جو آدمی اس دنیا میں اپنے بھائی کی آبرو کو بچائے گا ، اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے بچائے گا ، یہ اللہ پر اس کی مہربانی کا حق ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ کا حق بندوں پر تو ضرور ہے کیونکہ وہ مخلوق ہیں مگر بندوں کا اللہ پر کوئی حق نہیں کیونکہ وہ خالق ہے۔ ہاں ! اپنی مہربانی سے جو چیز اس نے اپنے ذمے لے رکھی ہے ، وہ اس کو پورا کرتا ہے۔ غرضیکہ فرمایا کہ اسی طرح ہماری مہربانی سے ہم پر ثابت ہے کہ ہم اہل ایمان کو ضرور نجات دیں گے۔ دنیا میں بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جب کسی قوم پر مجموعی سزا آتی ہے تو ایمان والوں کو الگ کرلیا جاتا ہے۔ یہ تو دنیا کا حال ہے کہ اپنے اپنے زمانے میں انبیاء کے ساتھ واقعات پیش آتے رہے اور آخرت کے متعلق تو اللہ نے خود ہی فرمادیا ہے کہ قیامت کے دن جب گواہ کھڑے ہوں گے تو اس دن ہم ایمان والوں کو بچالیں گے اور مخالفین کو ذلیل ورسوا کریں گے۔
Ayahs 10:104–107

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْ دِیْنِیْ فَلَاۤ اَعْبُدُ الَّذِیْنَ تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ اَعْبُدُ اللّٰهَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۖۚ وَ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 10:104 in the Quran reader

اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے ، اے لوگو ! اگر تمہیں شک ہو میرے دین کے بارے میں تو میں نہیں عبادت کرتا ان کی جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے سوا۔ لیکن میں تو عبادت کرتا ہوں اس اللہ کی جو تمہاری جانوں کو کھینچتا ہے اور میں حکم دیا گیا ہوں کہ ہو جائوں میں ایمان والوں میں سے

وَ اَنْ اَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّیْنِ حَنِیْفًا١ۚ وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 10:105 in the Quran reader

اور یہ حکم دیا گیا ہے کہ قائم رکھیں آپ اپنے رخ کو دین کے لیے حنیف (سیدھے) ہو کر ، اور نہ ہوں آپ شرک کرنیوالوں میں سے

وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكَ وَ لَا یَضُرُّكَ١ۚ فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 10:106 in the Quran reader

اور نہ پکاریں آپ اللہ کے سوا ان چیزوں کو جو نہ نفع پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان پس اگر بالفرض آپ نے ایسا کیا تو بیشک آپ بھی اس وقت البتہ ظلم کرنے والوں میں سے ہوں گے

وَ اِنْ یَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اِنْ یُّرِدْكَ بِخَیْرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضْلِهٖ١ؕ یُصِیْبُ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 10:107 in the Quran reader

اور اگر پہنچائے اللہ تعالیٰ آپ کو کوئی تکلیف ، پس نہیں کھولنے والا اس کو اس کے سوا کوئی۔ اور اگر وہ ارادہ کرے آپ کے ساتھ بھلائی کا ، پس کوئی نہیں رد کرتا اس کے فضل کو۔ پہنچاتا ہے وہ اپنا فضل جس کو چاہے اپنے بندوں میں سے اور وہ بےانتہا بخشش کرنے والا اور از حد مہربان ہے

ربط آیات گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کا رد کیا اور اس سلسلے میں قوم نوح قوم فرعون اور قوم یونس کی مثال بیان فرمائی۔ اللہ نے یہ بات بھی سمجھا دی کہ جو لوگ تعصب عناد اور ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہیں ان پر کفروشرک کی گندگی پڑتی رہتی ہے کیونکہ وہ انصاف سے کام نہیں لیتے اور نہ خدا تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں میں غور وفکر کرتے ہیں ایسے لوگ نہ تو انبیاء (علیہم السلام) کی بات سنتے ہیں ، نہ اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ عقل کو صحیح طور پر استعمال کرتے ہیں ، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان پر کفر وشرک کی گندگی پڑتی رہتی ہے۔ اس سورة کی ابتداء میں بھی یہ بات بیان کی گئی تھی کہ اللہ نے حکم دیا ہے کہ عبادت صرف اسی کی کی جائے ۔ اس کے ساتھ دعوت الی القرآن کو خاص طور پر ذکر کیا گیا ۔ اب سورة کے آخر میں بھی اللہ تعالیٰ نے اعتقاد کی پختگی کی بات کی ہے۔ البتہ درمیان میں دیگر مضامین منجملہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، شرک کا رد ، قرآن پاک کی صداقت وحقانیت ، مسئلہ رسالت انبیاء پر ایمان اور ان کے فرمودات پر عمل وغیرہ بیان ہوئے ہیں۔ اب آخر میں بھی انہی تین بنیادی مسائل کے علاوہ چوتھی بات قیامت کا ذکر بھی فرمایا ہے۔ خدائے واحد کی عبادت سب سے پہلے ایمان کا مسئلہ بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے اے پیغمبر ! (آیت) ” قل “ آپ کہہ دیں (آیت) ” یایھا الناس “ اے لوگو ! (آیت) ” ان کنتم فی شک من دینی “ اگر تمہیں میرے دین کے بارے میں کوئی شک ہو ، تم میرے دین کے متعلق جاننا چاہو کہ یہ سچا ہے یا نہیں اور یہ بھی کہ میرے دین کا اصول کیا ہے ، تو میں تمہیں واضح طریقے سے بتلا دینا چاہتا ہوں (آیت) ” فلا اعبدالذین تعبدون من دون اللہ “ پس میں نہیں عبادت کرتا ان کی جن کی تم عبادت کرتے ہو اللہ کے سوا۔ تم نے تو اللہ کے علاوہ دوسرے معبود بنا رکھے ہیں جنہیں تم اپنی حاجتوں میں پکارتے ہو ، جن کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہو مگر یاد رکھو ! میرے لیے ان کی عبادت کرنا قطعی ناممکن ہے۔ (آیت) ” ولکن اعبداللہ الذی یتوفکم “ لیکن میں تو اس خدائے واحد کی عبادت کرتا ہوں جو تم کو وفات دیتا ہے ، یعنی جو تمہاری جانوں کو قبض کرتا ہے میرا دین توحید کامل ہے یعنی عبادت صرف اللہ کی کرنا ، اس کی وحدانیت پر ایمان لانا اور اپنی حاجتوں میں صرف اسی کو پکارنا۔ وفات بطور دلیل اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی وفات کو اپنی وحدانیت کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے۔ موت ایک ایسی یقینی بات ہے جس پر تمام بنی نوع انسان کا اتفاق ہے۔ پوری مخلوق میں کوئی فردواھد بھی ایسا نہیں ہوگا جسے موت کے واقع میں اختلاف ہو۔ موت کے مشاہدات روز مرہ زندگی میں ہوتے رہتے ہیں ، ہر زندہ انسن ، جانور ، پرندہ ، درندہ ، کیڑا مکوڑا موت کا ذائقہ چکھے بغیر نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خطاب فرمایا (آیت) ” واعبد ربک حتی یاتیک الیقین “ (الحجر) آپ اپنے رب کی عبادت کرتے چلے جائیں یہاں تک کہ آپ کے پاس یقینی بات یعنی موت آجائے مطلب یہ ہے کہ موت ایک یقینی بات ہے جو آکر رہے گی۔ اس سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسے دلیل کے طور پر ذکر کیا ہے اور اپنے نبی سے کہلوایا ہے کہ میں تو اس اللہ کی عبادت کرتا ہوں جو تم سب کو وفات دیتا ہے۔ متبنی بھی کہتا ہے کہ لوگ ہر چیز میں اختلاف کرتے ہیں ” الا علی شجب “ مگر موت کے معاملہ میں اختلاف نہیں کرتے ، اس کے وارد ہونے پر سب متفق ہیں مطلب یہ کہ عبادت کے لائق صرف وہی ذات ہے جس کے قبضہ قدرت میں زندگی بھی ہے اور موت بھی۔ بعض لوگوں نے جہالت کی بناء پر یہ تصرف غیروں میں ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جو کہ قطعا غلط ہے بعض نے تین خدا تسلیم کیے ہیں ، ایک پیدا کرنے والا ، دوسرا تھامنے والا اور تیسرا موت دینے والا۔ یہ سب شرکیہ عقائد ہیں۔ کیونکہ (آیت) ” حی القیوم “ بھی وہی ہے اور ” یحییٰ ویمیت “ بھی وہی ذات باری تعالیٰ ہے اللہ ہی زندہ کرتا ، وہی موت دیتا اور وہی تھامتا ہے۔ بہر حال موت ایک قطعی اور یقینی امر ہے جسے بطور دلیل پیش کیا گیا ہے ۔ ایمان پر استقامت اللہ نے فرمایا کہ آپ کہہ دیں کہ میں تو اس خدائے واحد کی عبادت کرتا ہوں جو تم پر موت طاری کرتا ہے اس کے علاوہ (آیت) ” وامرت ان اکون من المومنین “ مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اہل ایمان میں سے ہو جائوں۔ اور ساتھ ساتھ یہ بھی حکم دیا گیا ہے (آیت) ” وان اقم وجھک للدین حنیفا “ کہ آپ اپنے رخ کو دین کے لیے قائم رکھیں حنیف بن کر۔ حنیف اس شخص کو کہتے ہیں جو ہر طرف سے ہٹ کر صرف ایک ظرف لگنے والا ہو یعنی توحید کا قائل ہو اور یکسوہو کر صرف ایک خدا کہ عبادت کرنے والا ہو ، نماز کے وقت اپنا رخ بیت اللہ شریف کی طرف کرتا ہو ، حج کرے اور ختنہ کرے شاہ ولی اللہ (رح) نے حنیف کی یہی صفات بیان کی ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حنیف بننے کا حکم دیا تھا اسی طرح حضور ﷺ کو بھی یہی حکم دیا (آیت) ” حنفاء للہ غیر مشرکین بہ “ (الحج) تم سب کے سب اللہ تعالیٰ کے حنیف بن جائو ، اس کے ساتھ شریک نہ بنائو ، اسی لیے فرمایا کہ آپ اپنے چہرے کو دین کے لیے قائم رکھیں حنیف بن کر (آیت) ” ولا تکونن من المشرکین “ اور نہ ہوں آپ شرک کرنے والوں میں۔ شرک کی بیماری شرک ایک مہلک بیماری ہے جو انسان میں شروع سے ہی پائی جاتی ہے۔ کبھی عبادت میں شرک ہوتا ہے اور کبھی صفات خداوندی میں شرک کیا جاتا ہے۔ لوگ غیروں کے تقرب کے لیے جانور ذبح کرتے ہیں جو شرک کی مکروہ قسم ہے۔ کبھی نام رکھنے میں شرک کیا جاتا ہے اور کبھی جنات کو خدا تعالیٰ کے شریک بناتے ہیں ۔ مکان بناتے وقت اس کی بنیادوں میں خون گرایا جاتا ہے تا کہ جنات نقصان نہ پہنچائیں۔ کوئی جبرائیل اور میکائیل فرشتوں کو مصیبت میں پکارتا ہے ، کوئی اولیاء اللہ کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر ان کی قبروں کی بھی پوجا کرتا ہے۔ کوئی غیر اللہ کو سجدہ کر کے مشرک بنتا ہے تو کوئی انتہائی تعظیم کی کسی دوسری صورت میں شرک کا مرتکب ہوتا ہے۔ اسی طرح نذر لغیر اللہ بی شرک ہی کی قسم ہے ، جس نے غیر اللہ کے نام پر جانور نامزد کیا ، وہ بھی مشرک ٹھہرا ، اور جن نے غیر اللہ کی قسم اٹھائی ، وہ بھی شرک کا مرتکب ہوا غرضیکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں شرک کی کوئی بات گوارا نہیں ، اسی لیے فرمایا کہ آپ شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں۔ اپنی ضروریات میں اللہ کے علاوہ دوسروں کو پکارنا بھی مشرک کی ایک قسم ہے ، اسی لیے فرمایا کہ آپ شرک کرنے والوں میں سے نہ ہوں۔ اپنی ضروریات میں اللہ کے علاوہ دوسروں کو پکارنا بھی شرک کی ایک قسم ہے ، اسی لیے فرمایا (آیت) ” ولا تدع من دون اللہ مالا ینفعک ولا یضرک “ آپ اللہ کے سوا ان کو نہ پکاریں جو نہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان ، نافع اور ضار تو صرف اللہ کی ذات ہے قادر مطلق ، علیم کل ، مختار کل اور حاضر وناظر صرف وہی ہے جو شخص یہ صفات غیروں میں مانے گا ، اپنی حاجات میں انہیں پکاریگا ، وہ لازما مشرک بنے گا۔ لہٰذا آپ کو بھی اس سے منع فرمایا گیا۔ اور ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے (آیت) ” فان فعلت “ اگر آپ نے بھی دوسروں کو پکارا ، ان سے حاجت روائی کی درخواست کی (آیت) ” فانک اذا من الظلمین “ تو آپ بھی ظلم کرنے والوں میں سے ہوں گے۔ ظلم کا معنی کسی چیز کو بےمحل کرنا ہے اور اس کے متعلق سورة لقمان میں ہے (آیت) ” ان الشرک لظلم عظیم “ شرک بہت بڑا ظلم ہے لہٰذا اس سے ہمیشہ بچتے رہنا چاہیے۔ مافوق الاسباب استعانت اس آیت کریمہ میں جس پکارنے سے منع کیا گیا ہے ، وہ مافوق الاسباب مددد کے لیے پکارنا ہے۔ یہاں پر لوگ دو چیزوں کو خلط ملط کردیتے ہیں اسباب کے دائرے میں رہتے ہوئے تو پکارنا بالکل جائز بلکہ اولی ہے۔ ظاہری اسباب میں ایک دوسرے کی مدد کرسکتے ہیں۔ بیمار ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرو۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ کے بندو ! جب بیمار پڑ جائو تو علاج معالجہ کیا کرو۔ کوئی ضروت مند مسکین آدمی کسی دوسرے شخص سے اشیائے خوردونوش کا سوال کرتا ہے یا مالی امداد کی درخواست کرتا ہے تو اس کی مدد کرنا نیکی کا کام ہے۔ البتہ ڈاکٹر یا دوائی کو موثر بالذات سمجھنا شرک کی تعریف میں آئے گا۔ علاج ضرور کرو مگر شفاء اللہ سے طلب کرو۔ اس کی مشیت ہوگی تو دوائی سے فائدہ ہوگا ، ونہ نہیں ہوگا اسی طرح عام نیکی کے کام میں ایک دوسرے کی مدد کرنا اللہ کے حکم کی تعمیل کرنا ہے جیسے فرمایا (آیت) ” وتعاونوا علی البر والتقوی “ (المائدۃ) نیکی اور تقوے کا کام میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ کوئی شخص مصیبت میں گرفتار ہے تو اس کی اسباب کے دائرہ میں رہ کر امداد کرو۔ جہاں ظاہری اسباب ختم ہوجاتے ہیں وہاں پھر نہ کوئی پیغمبر مدد کرسکتا ہے ، نہ فرشتہ ، نہ کوئی جن اور نہ کوئی انسان جو کوئی اللہ کے سوا غیر اللہ سے مافوق الاساب مدد طلب کرے گا ، وہ مشرک بن جائے گا۔ مثلا کشتی ڈوب رہی ہے اور ظاہری اسباب ختم ہوچکے ہیں تو پھر خدائے وھدہ لا شریک کے علاوہ کسی کو مدد کے لیے نہیں پکارا جائے گا۔ اگر کوئی خواجہ معین الدین چشتی (رح) یا خواجہ بہائو الحق (رح) سے فرمایا درسی چاہے گا۔ تو اس کے مشرک ہونے میں کوئی شک نہیں ہوگا ، اسی لیے فرمایا کہ مافوق الاسباب اللہ کے سوا کسی کو نہ پکاریں جو نہ نفع دے سکتے ہیں اور نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ اگر آپ نے ایسا کی تو یقینا آپ ظلم کرنے والوں میں ہوں گے۔ یہ خطاب نبی (علیہ السلام) سے ہے مگر بات دوسروں کو سمجھائی جا رہی ہے۔ شرک کا وبال سورۃ الزمر میں فرمایا (آیت) ” لئن اشرکت لیحبطن عملک و ولتکونن من الخسرین “ اے نبی ﷺ اگر آپ بھی شرک کریں گے تو آپ کے سارے اعمال ضائع ہوجائیں گے اور آپ نقصان اٹھانے والوں میں ہوں گے۔ شرک ایسی بری چیز ہے جو تمام اعمال کو برباد کردیتی ہے۔ مشرک پر خدا کا غضب اور اس کی لعنت برستی ہے ، اس لیے شرک سے بار بار نفرت دلائی گئی ہے اور اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے ۔ اللہ نے فرمایا ہے (آیت) ” فادعوا اللہ مخلصین لہ الدین “ (سورۃ المومن) صرف اللہ ہی کو پکارو۔ اس کے علاوہ نہ کوئی صحت دے سکتا ہے نہ مشکل کو حل کرسکتا یہ نہ تکلیف کو دور کرسکتا ہے سارا اختیار اسی کا ہے لہٰذا خالص اسی کو پکارو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو۔ خیر وشر کا اختیار فرمایا (آیت) ” وان یمسسک اللہ بضر فلا کاشف لہ الا ھو “ اگر اللہ تعالیٰ کوئی تکلیف ، بیماری ، دکھ ، شکست پہنچا دے تو اللہ کے سوا کوئی کھولنے ولا نہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اول وآخر کے سارے لوگ جمع ہوجائیں تو چیز اللہ کے علم او ا ارادے میں نہیں ہے اس میں ایک تنکے کے برابر بھی فائدہ نہیں پہنچا سکتے ، اور نہ ہی اس میں ایک تنکا بھر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ فرمایا (آیت) ” وان یردک بخیر فلا راد لفضلہ “ اور اگر اللہ تعالیٰ تمہارے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ (آیت) ” یصیب بہ من یشاء من عبادہ “ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے اپنا فضل پہنچاتا ہے سارا اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے ، لہٰذا انسان کا فرض ہے کہ وہ اپنی مافوق الاسباب حاجات میں صرف خدا کو ہی پکارے ار اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے کیونکہ شرک بہت بری بیماری ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کی زبان سے اعلان کروا دیا کہ اگر میرے دین کے بارے میں تمہیں کوئی تردد ہو تو میں تو توحید خالص کا حامل اور شرک سے بیزار ہوں۔ فرمایا ، وہ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے اپنا فضل اور مہربانی پہنچاتا ہے (آیت) ” وھو الغفور الرحیم “ اور وہ غفور بھی ہے اور رحیم بھی وہ نہایت بخشنے والا ہے مگر اس شخص کو جو اس کی طرف رجوع کرے اپنے گناہوں سے توبہ کرے اور معافی مانگے۔ مہربانی اس کے شامل حال ہوتی ہے جس کا عقیدہ درست اور فکر پاک ہو ، جو ایمان پر مستقیم اور توحید کا حامل ہو۔ اللہ تعالیٰ کی بخشش اور مہربانی ایسے ہی لوگوں کے لیے مخصوص ہے۔