Ayahs 10:28–30میدان حشر
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی ایک دوسرے طریقے پر تردید فرمائی ہے اور ساتھ ساتھ معاد کا مسئلہ بھی بیان فرمایا ہے ۔ قیامت پر یقین رکھنا بھی اہم اجزائے ایمان میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں قیامت اور حشر نشر کے واقعات کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے اس سورة میں پہلے شرک کی تردید اور نیکی اور بدی کا انجام کا تذکرہ ہوچکا ہے اور اب حشر نشر کے متعلق ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ویوم نحشرھم جمیعا “ اور جس دن ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے۔ حشر کا معنی اکٹھا کرنا ہوتا ہے دوسری جگہ فرمایا (آیت) ” احشروا الذین ظلموا وازواجھم “ (الصفت) اکٹھا کرو ان کو جنہوں نے ظلم یعنی کفر اور شرک کیا ہے مع انکی بیویوں کے جو ان کے ساتھ شریک ہیں۔ بہرحال اکٹھا کرنے والی بات اللہ نے قرآن میں مختلف جگہوں پر تفصیل کے ساتھ بیان فرمائی ہے۔ اور جو واقعات حشر کے دن پیش آنے والے ہیں ان کی مختلف کیفیتوں کا ذکر فرمایا ہے اور بہت سی باتیں ایسی ہیں جو صرف اللہ کے علم میں ہیں ، کوئی مخلوق ان کو نہیں جانتی۔ اور بہت سی ایسی باتیں بھی ہیں جن سے اللہ نے آگاہ کردیا ہے اس میں جمیعا کا لفظ ذکر فرمایا ہے یعنی ہم سب کو اکٹھا کریں گے۔ سورة واقعہ میں فرمایا (آیت) ” قل ان الاولین والاخرین لمجمعون “ ہم پہلوں اور پچھلوں سب کو اکٹھا کرلیں گے ، نیک اور بد ، چھوٹے اور بڑے ، تابع اور متبوع سب کے سب (آیت) ” الی میقات یوم معلوم “ ایک مقرر وقت پر اکٹھے کیے جائے گے۔ حشر کا معنی ہی یہ ہے کہ تمام انس وجن بلکہ جانوروں کو بھی اکٹھا کیا جائے گا۔ پھر ان سے باز پرس ہوگی اور سب کو اپنے اعمال کا بھگتان کرنا ہوگا۔ پھر ہر ایک کو اس کے اعمال کی جزا یا سزا ملے گی۔ موت کے بعد دوبارہ زندگی بھی برحق ہے اور پھر سب کا ایک جگہ پر اکٹھا کیا جانا اور محاسبہ کا عمل پیش آنا بھی شک وشبہ سے خالی ہے۔
مشرکین کے یے پانبد
جب سب لوگ ایک جگہ پر اکٹھے ہوجائیں گے تو فرمایا (آیت) ” ثم نقول للذین اشرکوا “ پھر ہم مشرکوں سے کہیں گے (آیت) ” مکانکم “ اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو۔ جہاں جہاں کوئی موجود ہوگا۔ اسی جگہ پر پابند کردیا جائے گا۔ ” الزموا مکانکم “ یعنی اپنی جگہ کو لازم پکڑو ، یہاں سے ادھر ادھر ہونے کی اجازت نہیں۔ اور یہ پابندی کن کے لیے ہوگی۔ (آیت) ” انتم وشرکائکم “ تم بھی اور تمہارے معبودان باطلہ بھی جن کو تم نے خدا کا شریک بنا رکھارکھا تھا جن کی تم پرستش کرتے تھے۔ کسی کو خدا کا بیٹا اور کسی کو بیٹی بنا لیا۔ کسی نے ابن اللہ کہا اور کسی نے عین اللہ کہہ دیا۔ کسی نے ملائکہ کی عبادت کی اور کسی نے احبار اور رہبان کی ، کسی نے شجر وحجر کو معبود بنا لیا اور کسی نے قبر پرستی شروع کردی۔ کسی نے انسانوں کی پوجا کی اور کسی نے جنات کو نافع وضار سمجھ لیا۔ غرضیکہ تمام مشرک اور ان کے معبود اکٹھے کر کے ایک مقام پر پابند کردیے جائیں گے۔
عابد اور معبود میں تفریق
فرمایا ہم عابدوں اور معبودوں کو ایک جگہ اکٹھا کردیں گے (آیت) ” فزینت بینھم “ پھر ہم ان کے درمیان تفریق ڈال دیں گے یعنی عابد اور معبود ایک دوسرے کے خلاف ہوجائیں گے۔ انبیاء ، ملائکہ یا صالحین کی پرستش کرنے والے تو خود اپنے فعل کی وجہ سے مجرم ہی ۔ اس میں انبیاء ملائکہ یا صالحین کا کوئی قصور نہیں ہے۔ انہوں نے کب کہا تھا کہ تم ہماری پوجا شروع کردو۔ انہوں نے تو ہمیشہ حق کی دعوت دی مگر یہ لوگ ہی تھے جنہوں نے شیطان کے پیچھے لگ کر اللہ کے مقربین کو معبود بنا لیا (آیت) ” وقال شرکائھم ماکنتم ایانا تعبدون “ اور وہ شریک کہیں گے کہ تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے بلکہ صحیح معنوں میں تم شیطان کی عبادت کرتے تھے جس نے تمہیں ورغلاکر غیر اللہ کی پرستش پر آمادہ کیا۔ حالانکہ سورة یسن میں بالکل واضح کیا گیا ہے (آیت) ” الم اعھدا لیکم یبنی ادم ان لا تعبدوا الشیطن “ اے آدم کے بیٹے ! کیا میں نے تم سے وعدہ نہیں لیا تھا کہ شیطان کی پوجا نہ کرنا۔ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ بعض دوسرے مقامات پر فرشتوں کی متعلق بھی آتا ہے کہ جب اللہ ان سے پوچھیں گے کہ کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کرتے تھے۔ تو فرشتے جواب دیں گے ” سبحانک “ اے اللہ ! تیرے ذات پاک ہے ہم نے تو تیرے سوا کسی کو ولی نہیں بنایا ، ہم تو تیری ہی آقائی کے قائل ہیں اور تیری ہی عبادت کرنے والے ہیں ہم ان کو اپنی عبادت کے لیے کیسے کہ سکتے تھے۔ یہ تو اپنے زعم باطل کے مطابق شیطان کے پیچھے لگنے والے لوگ ہیں۔ یہی جواب انبیاء اور صلحال کا ہوگا کہ انہوں نے کبھیء کسی کو خدا کے علاوہ اپنی عبادت کرنے کے دعوت نہیں دی۔
سورۃ مائدہ میں اللہ تعالیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کا مکالمہ تفصیل کے ساتھ ذکر ہوا جو کہ قیامت کے دن ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے اے عیسیٰ (علیہ السلام) (آیت) ” ء انت قلت للناس اتخذونی وامی لھین من دون اللہ “ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا معبود بنا لینا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نہایت عاجزی کے ساتھ عرض کریں گے ” قال سبحنک “ اے مولا کریم ! تیری ذات پاک ہے (آیت) ” ما یکون لی ان اقول ما لیس لی بحق “ میرے لیے یہ کیسے ممکن تھا کہ میں ایسی بات کرتا جس کا مجھے حق نہیں پہنچتا۔ میں نے تو ان سے وہی باتیں کیں جن کا تو نے مجھے حکم دیا اور وہ بات یہی ہے (آیت) ” ان اعبدوا اللہ ربی وربکم “ کہ عبادت صرف اللہ کی کرو جو میرا اور تمہارا سب کا رب ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی خالق ہے ، نہ مالک ، نہ مشکل کشا ، نہ حاجت روا نہ علیم کل اور نہ مختار مطلق۔ لہذا عبادت بھی صرف اسی کی کرنی چاہیے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی یہی کہیں گے (آیت) ” ربنا انک نعلم ما نخفی وما نعلن “ اے پروردگار ! ہماری پوشیدہ اور ظاہر باتوں کو تو خوب جانتا ہے۔ عالم الغیب تیرے ذات ہے اگر ہمارے دل کے کسی گوشے میں کوئی شرک والی بات ہوتی تو وہ لازما تیرے علم میں ہوتی۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا (آیت) ” یوم ینفع الصدقین صدقھم “ ان کا دن وہ ہے کہ جس میں سچوں کو ان کی سچائی کا دیگی۔ ظاہر ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) تو سچے ہیں اور عیسائی جھوٹے ہیں جو ان کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہیں غرضیکہ جن جن کو مشرکین نے معبود بنا رکھا تھا وہ سارے انکار کردیں گے کہ ہم نے تو انہیں نہیں کہا تھا کہ تم ہماری عبادت کیا کرنا۔
وہ اپنے بات کی صداقت کی دلیل کے طور پر کہیں گے (آیت) ” فکفی باللہ شھیدا بیننا وبینکم “ ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے ، ہمیں کیا علم کہ تم ہماری عبادت کرتے تھے۔ اگر بےجان چیز پتھر وغیرہ کی عبادت کرتے تھے تو ظاہر ہے کہ انہیں کیا علم ہو سکتا ہے کہ کون ان کی عبادت کر رہا ہے۔ اور اگر کی جاندار کی عبادت کرتے تھے تو ان کی بھی جب تک اللہ نے بتائے ، پتہ نہیں چل سکتا۔ لہٰذا شرکا ، صاف کہہ دیں گے (آیت) ” ان کنا عن عبادتکم لغفلین “ ہم تو تمہاری عبادت سے غافل تھے۔ ہمیں کچھ پتہ نہیں ہم نے کب کہا تھا کہ ہماری عبادت کرو ، غرضیکہ متبوعین صاف انکار کردیں گے۔ ظاہر ہے کہ اس وقت مشرکین کی کتنی تذلیل ہوگی۔ دوسری روایت میں آتا ہے کہ حکم ہوگا کہ ہر عابد اپنے معبود کے پیچھے آئے۔ عابد کی باطل عبادت معبود کی شکل میں متشکل ہو کر سامنے آجائے گی۔ سورج پرست سورج کے پیچھے چلیں گے ، چاند پرست اس کے پیچھے جائیں گے ، پتھروں اور اینٹوں کے پجاری ان کے پیچھے پیچھے چلتے جائیں گے حتی کہ جہنم میں پہنچ جائیں گے۔ البتہ نیک لوگوں کی عبادت کرنے والوں کا قانون الگ ہے۔ فرمایا (آیت) ” ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولیک عنھا معبدون “ جن کے حق میں ہماری طرف سے پہلے نیکی ثابت ہوچکی ہے ، وہ ہمارے علم میں ہیں اور وہ دوزخ سے دور رہیں گے۔ (الانبیائ)
ہر نفس کا محاسبہ
فرمایا (آیت) ” ھنا لک تبلوا کل نفس ما اسلفت “ اس وقت جانچ لے گا ہر نفس جو اس نے آگے بھیجا ۔ ہر شخص کی کارکردگی اس کے سامنے ہوگی اور وہ خود اسے دیکھ لے گا اور آزمالیگا۔ تبلوا کی بجائے تتلوا بھی پڑھا گیا ہے یعنی اس وقت پڑھ لے گا جو اس نے آگے بھیجا۔ اور اگر تتلوا تلو سے ہو تو اس کا معنی پیچھے لگنا ہوتا ہے یعنی ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے پیچھے لگے گا۔ اچھا اعمال والا اپنے اعمال کے پیچھے لگ کر جنت تک پہنچ جائیگا اور برئے اعمال والا چلتے چلتے دوزخ میں جا گرے گا۔ اس لفظ کو نبلفوا بھی پڑھا گیا ہے اور اس کا معنی یہ ہوگا کہ ہم آزمائیں گے ، ہر نیک وبد کو ممتاز کردیں گے بہرحال فرمایا کہ ہر شخص جانچ لے گا جو اس نے آگے بھیجا ، اور اللہ فرمائے گا۔ (آیت) ” ذلک بما قدمت یدک وان اللہ لیس بظلام للعبید “ یہ تیرے ہاتھوں کی کمائی ہے جو تو نے آگے بھیجی۔ خدا تعالیٰ تو کسی سے ذرہ برابر بھی زیادتی نہیں کرتا۔ حدیژ شریف میں اس طرح آتا ہے ” انما ھی اعمالکم نحصیھاعلیکم “ یہ تمہارے ہی اعمال ہیں جنہیں ہم نے شمار کر رکھا ہے۔
فرمایا (آیت) ” وردو الی اللہ “ وہ سب کے سب اللہ کی طرف لوٹائے جائیں گے ” مولھم الحق “ جو ان کا آقا ہے ، یہی وہ معبود حقیقی جس کی عبادت سے دنیا اعراض کرتے ہیں اور شرک کے پیچھے پڑے رہے اللہ کے سوا غیروں کی عبادت کرتے رہے کسی نے سجدہ کیا ، کسی نے حد درجہ تعظیم کی ، کسی نے نذرونیاز پیش کی اور کسی نے سلام کیا ، غیر اللہ کو مشکل کشا اور نافع اور ضاور سمجھتے رہے۔ یہ ساری ناروا باتیں ختم ہوگئیں کو ین کہ ان معبودوں کو تو کوئی اختیار نہیں تھا۔ انہوں نے تو اپنی عبادت کے لیے کہا ہی نہیں تھا۔ وہ تو ان کے دشمن ہوجائیں گے اور انہی کے خلاف گواہی دیں گے کہ اے پروردگار ! انہوں نے خود غلط کام کیا۔ ہم ان سے بیزار ہیں حتی کی شیطان بھی بیزاری کا اعلان کردے گا۔ اگلی سورة ابراہیم میں آئے گا کہ میں نے ان پر کوئی جبر تو نہیں کیا تھا۔ میں تو انہیں کفر ، شرک اور معاصی کی محض ترغیب دیتا تھا۔ انہوں نے میری بات پر تو یقین کرلیا مگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور محمد مصطفیٰ ﷺ کی بات پر یقین نہ کیا۔ لہٰذا یہ اپنے آپ کو ہی ملامت کریں ۔ قصور خود انہی کا ہے۔
مشرکین کی مایوسی
بہرحال فرمایا کہ یہ اپنے برحق آقا کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ ” لا الہ الا اللہ الملک الحق المبین “ ورد میں ایسا ہی آتا ہے یعنی اللہ کے سوعا کوئی معبود برھق نہیں۔ وہی سچا مالک ہے۔ فرمایا یہ لوگ اپنے کیے دھرے کو جانچ لیں گے کہ انہیں کا عمل ہے۔ اور پھر کیا ہوگا ؟ (آیت) ” وضل عنھم ما کانوا یفترون “ اور گم ہوجائیں گی ان سے وہ باتیں جن کو وہ افتراء کیا کرتے تھے۔ ان لوگوں نے جو شرکیہ اور کفریہ باتیں اپنے عقائد میں جما رکھی تھیں ، اور جو اعمال وہ انجام دیتے رہے وہ سارے کے سارے گم ہوجائیں گے۔ کوئی چیز ان کے لیے مفید ثابت نہیں ہوگی بلکہ سب کچھ ان کے خلاف جائیگا اور مضر ثابت ہوگا۔ وہاں نہ کوئی دستگیری کرنے والا ہوگا اور نہ خدا کے غضب سے بچانے والا ہوگاسب کے سب وہاں عاجز ہو کر رہ جائیں گے اور پھر اس کا نتیجہ خطرناک سزا کی صورت میں نکلے گا اس کا تذکرہ پچھلی آیت میں بھی ہوچکا ہے اللہ نے مشرکوں کی قباحت اور برائی حشر کے عنوان سے بیان فرمائی ہے۔
Ayahs 10:31–33ربط آیات۔
گذشتہ آیا ت میں اللہ تعالیٰ نے حشر کے عنوان سے توحید کا مسئلہ بیان فرمایا تھا۔ یعنی حشر کے میدان میں مشرکین کا شدید محاسبہ ہوگا اور ان کی سخت تذلیل ہوگی۔ اس طرح گویا اللہ نے شرک اور مشرکین کا رد فرمایا۔ اب آج کے درس کا مضمون بھی توحید کے حق میں اور شرک کی تردید میں ہے۔ اس کے بعد پھر اس سورة کے مرکزی مضمون قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا ذکر آئے گا۔ آج کی آیات میں توحید کے عقلی دلائل پیش کیے گئے ہیں اور ان کا انداز یہ ہے کہ اس سوال کا جواب طلب کیا گیا ہے کہ ت میں داخلی نعمتیں عطا کرنے والی کونسی ذات ہے انسان ذرا بھی غور وفکر کرے گا۔ تو اس کا جواب یہی ہوگا کہ تمام نعمتیں مہیا کرنے والا فقط خدا تعالیٰ ہے جب یہ بات ہے تو پھر مشرکین سے اگلا سوا ہے کہ پھر خدا کے ساتھ دوسروں کو شریک بناتے ہو ، ان سے کیوں ڈرتے ہو اور ان کی عبادت کیوں کرتے ہو ؟
روزی رساں ذات
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” قل “ اے پیغمبر ! آپ ان لوگوں سے دریافت کریں (آیت) ” من یرزقکم من السماء والارض “ تم کو کون روزی پہنچاتا ہے آسمان سے اور زمین سے۔ جاندار مخلوق کی روزی کا تعلق آسمان سے بھی ہے اور زمین سے بھی۔ آسمان سے بارش نازل ہوتی ہے اور زمین میں روئیدگی کا مادہ ہوتا ہے اور یہ دونوں چیزیں مل کر اجناس اور پھل کی پیدائش کا سبب بنتی یہ۔ سورة الذاریات میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے (آیت) ” وفی السماء رزقکم وما توعدون “ تمہاری روزی اور تم سے وعدہ شدہ چیز کا تعلق آسمان سے ہے۔ ان چیزوں کا حکم عالم بالا سے آتا ہے۔ رزق کا معاملہ تو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کے ساتھ سمندروں سے بخارات کو اٹھاتا ہے ، پھر وہ بادلوں کی شکل اختیار کرتے ہیں جن میں بڑی مقدار میں پانی ہوتا ہے پھر ہوائیں ان بادلوں کو لے کر چلتی ہیں اور پھر اللہ تعالیٰ اپنی مصلحت کے مطابق جہاں چاہتا ہے اور جتنی مقدار میں چاہتا ہے اتنی بارش برسا دیتا ہے ادھر زمین کو بھی حکم ہوتا ہے (آیت) ” والارض ذات الصدع “ (الطارق) زمین پھٹ جاتی ہے اور اس کے اندر سے اللہ تعالیٰ انسانوں اور جانوروں کے لیے رزق کو اگاتا ہے۔ گزشتہ آیات میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ جانوروں کا کھانا بھی مقصودی ہوتا ہے۔ سورة اعلی میں موجود ہے (آیت) ” والذی اخرج المرعی “ اللہ ہی زمین سے چارہ پیدا کرتا ہے جو جانوروں کی خوراک بنتا ہے اور پھر یہی جانور اللہ کے حکم سے انسان کی خدمت پر مامور ہیں۔ ان کی روزی کا سامان بھی خدا تعالیٰ نے ہی مہیا فرمایا ہے۔
سماعت اور بینائی
رزق کا مسئلہ بیان کرنے کے بعد آگے اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم کے دو نہایت ہی اہم اعضاء کا ذکر فرمایا ہے اور مشرکین سے پوچھا ہے کہ بھلا بتائو کہ ان اعضا کا مالک کون ہے ؟ ارشاد ہوتا ہے اے بنی کریم ! آپ ان سے یہ بھی دریافت کریں (آیت) ” امن یملک السمع والابصار “ کہ کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے ؟ انسانی جسم کے یہ اہم ترین اعضا کس نے پیدا کئے ہیں ؟ سمع کا مطلب ظاہر کان بھی ہوسکتے ہیں اور اس سے قوت سامعہ بھی مراد لی جاسکتی ہے۔ اسی طرح آنکھوں سے ظاہری آنکھوں کے علاوہ قوت بنیائی بھی مراد لی جاسکتی ہے۔ مطلب بہر حال یہی ہے کہ کانوں اور آنکھوں یا قوت سامعہ اور قوت باصرہ کا مالک کون ہے ؟ انسانی جسم کی یہ دو چیزیں اللہ نے بطور نشانی بیان فرمائی ہیں۔ جس طرح آسمان اور زمین اللہ کی عظیم نشانیاں ہیں۔ اسی طرح کان اور آنکھ بھی اللہ کی عظیم نعمتیں اور اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ فرمایا ان کا مالک کون ہے ؟ ان کا صانع کون ہے اور ان میں سماعت اور بصارت کی قوت پیدا کرنے والی کون ذات ہے۔
اعضائے انسانی کی حکمت
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بہت سے اعضاء عطا فرمائے ہیں ان میں سے بعض ایک ایک ہیں اور بعض دو دو۔ انسانی جسم کے لیے جن اعضاء سے زیادہ کام لینا مقصود ہے ان کو دو کی تعداد میں پیدا کیا گیا ہے اور جن اعضاء سے نسبتا کم کام مطلوب ہے ، ان کی تعداد ایک ایک ہے ، مثلا ہاتھ اور پائوں سے زیادہ کام لیا جاتا ہے اس لیے یہ دو دو ہیں۔ کان اور آنکھیں بھی انسان کے لیے نسبتا زیادہ خدمت پر مامور ہٰں ، لہٰذا ان کی تعداد بھی دو دو ہے برخلاف اس کے اللہ نے انسان کو زبان صرف ایک عطا کی ہے جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ انسان کو سننے اور دیکھنے کی نسبت بولنا کم چاہیے ، زیادہ بولنا اکثر باعث وبال ہوتا ہے ہمیشہ تھوڑی بات کرے مگر اچھی کرے ، کوئی ایسی لغو بات نہ کرے جو قابل مواخذہ ہو۔ بہرحال دریافت یہ کیا گیا ہے کہ کان اور آنکھ جیسی عظیم نعمتیں کس نے پید کی ہیں ؟ کیا یہ کسی ڈاکٹر ، انجینئر ، سائنسدان یا ماہر صناع کی تیار کردہ ہیں ؟ اور پھر ان میں قوت سماعت اور قوت بصارت کس نے پیدا کی ہے ؟ ظاہر ہے یہ قوی بھی اللہ ہی کے پیدا کردہ ہیں وہ جب چاہتا ہے ان میں بگاڑ پیدا کردیتا ہے یا یہ قوی بالکل ہی چھین لیتا ہے اور پھر انسان ٹھوکریں کھاتے پھرتے ہیں اور انسانی سوسائٹی میں اپنا موثر کردار ادا نہیں کرسکتے۔ ان دو نشانیوں پر ہی غور کرے تو انسان اللہ کی معرفت کو پا سکتا ہے۔
کان کی ساخت۔
کان کی ظاہری ساخت بھی اللہ تعالیٰ نے عجیب و غریب بنائی ہے یہ ٹیڑھی وضع قطع ، اندر گڑھے اور ابھار پھر ان میں سوراخ انسانی ضرورت کے عین مطابق ہیں۔ آواز بردار ہوا کان کے ابھاروں سے ٹکرا کر نالیوں میں سے ہوتی ہوئی کان کے سوراخ میں چلی جاتی ہے۔ سوراخ اس ہوا کو آگے نہایت ہی نازک چمڑے کے پردے تک لیے جاتا ہے جو آگے سے بند ہے۔ پردے کے آگے حوض ہے جس میں رطوبت بھری ہوئی ہے جب ہوا پردے سے ٹکراتی ہے تو کان کے حوض میں بالکل اسی طرح لہریں پیدا ہوتی ہیں جس طرح کسی جوہڑ میں پتھر مارنے سے۔ حوض کی دوسری جانت جہاں لہریں ختم ہوتی ہیں وہاں ہر ایک کان میں تین تین ہزار اعصاب ہیں جو ٹیلیفون کا کام دیتے ہیں۔ ہر قسم کی آواز سننے کے لیے ایک ہی ٹیلیفون نہیں بلکہ ہر قسم کی آوازوں کی سماعت کے یے علیحدہ علیحدہ ٹیلیفون ہیں مثلا گانا سننے کے لیے اور ٹیلیفون ہے اور رونے کی آواز کے لیے دوسرا نرم آواز ایک ٹیلیفون سنتا ہے تو کر کت آواز کو دوسرا۔ بہرحال یہ ٹیلیفون آواز کو سن کر اس کی اطلاع مرکز سماعت کو دیتے ہیں۔ اور پھر قوت عقلیہ اور دماغیہ فیصلہ کرتی ہے کہ یہ کس چیز کی اور کس قسم کی آواز ہے۔ بہرحال اللہ نے سماعت کے یے کانوں میں حیرت انگیز نظام قائم کر رکھا ہے۔
آنکھوں کی ساخت
آنکھوں کی ساخت کان سے بھی زیادہ پیچیدہ ہے اس پر بقراط کے زمانے سے تحقیق ہو رہی ہے جو کہ مسلسل جاری ہے ، آنکھ میں اللہ نے سات طبقے اور تین قسم کی رطوبتیں رکھی ہیں۔ آنکھ کے درمیان میں جو سوراخ نظر آتا ہے اس میں نہایت ہی شفاف قسم کی رطوبت ہوتی ہے۔ جب یہ رطوبت گدلی ہوجاتی ہے تو موتیا بند بن جاتا ہے آدمی اندھا ہوجاتا ہے اور پھر آپریشن کے ذریعے اس کثافت کو دور کر کے آنکھ کو دیکھنے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ بقراط کے قول کے مطابق اللہ تعالیٰ نے آنکھ کے سامنے والے حصے میں نہایت ہی باریک اور شفاف چالیس پردے رکھے ہیں جو کہ دیکھنے میں ایک ہی معلوم ہوتا ہے۔ اس شیشے کے گرد ایک غلاف بنا رکھا ہے جس کے ذریعے کسی حادثے یا دیگر ضرورت کے وقت آنکھ کو بند کرلیا جاتا ہے۔ یہ قدرت خداوندی کی کمال صناعی کا نمونہ ہے کہ اس نے چہرے پر ہڈیوں میں گڑھے بنا کر آنکھوں کو ان کے اندار محفوط کردیا ہے تا کہ حادثہ کی صورت میں ہڈی اس آنکھ کا دفاع کرسکے جب کوئی چیز آنکھ کے سامنے آتی ہے تو اس کا عکس رطوبت کی وساطت سے آنکھ کے پچھلے حصے میں چلا جاتا ہے۔ جہاں رطوبت ختم ہوئی ہے ، وہاں پر اعصاب کا جال بچھا ہوا ہے۔ جب باہر سے آنے والا عکس ان جالیوں پر پڑتا ہے تو یہ اسے مجمع نور تک پہنچاتی ہیں۔ مجمع نور اس عکس کو حس مشترک تک وہ اسے مرکزی قوت بصارت پہچا دیتی ہے۔ اس قوت کا تعلق دماغ سے ہوتا ہے چناچہ آخر میں مرکزی قوت فیصلہ کرتی ہے کہ آنکھ نے جو کچھ دیکھا ہے وہ فلاں رنگ یا فلاں قسم کی شکل ہے۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے آنکھ میں بھی عجیب و غریب اور نہایت ہی نرم ونازک نظام پیدا کر کے بینائی جیسی عظیم نعمت عطا فرمائی ہے۔
کان اور آنکھ بلحاظ فضیلت
انسانی کان اور آنکھ میں سے کون سا عضو افضل ہے ، اس کے متعلق مختلف حکماء کی مختلف آراء ہیں جو محققین کان کے حق میں ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ اگر کسی آدمی کی بینائی زائل ہوجائے تو عقل کا م کرتی رہتی ہے جب کہ سماعت کے ضیاع سے عقل بھی کام نہیں کرتی ، لہٰذا کان افضل ہیں۔ اس آیت کریمہ میں کان کا ذکر پہلے ہوا ہے اور آنکھ کا بعد میں ، اور یہ چیز بھی کان کی افضلیت کی دلیل ہے کان کے حق میں ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ اللہ کے انبیاء میں سے بعض نابینا تو ہیں جیسے حضرت یعقوب (علیہ السلام) مگر کسی نبی کی قوت سماعت کا ابطال ثابت نہیں چونکہ سماعت سے محرومی تبلیغ دین کے حق میں رکاوٹ بن سکتی ہے اس لیے اللہ نے اپنے کسی نبی کو اس سے محروم نہیں کیا ، لہٰذا یہ بھی کان کی فضیلت کے حق میں جاتا ہے غرضیکہ بعض لوگ ان دلائل کی بنا پر کان کو آنکھ کی نسبت افضل مانتے ہیں۔
بعض مفکر آنکھ کو افضل تسلیم کرتے ہیں کیونکہ ” لبس ورآء العیان بیان “ جو چیز مشاہدے میں آجاتی ہے وہ آخری ہوجاتی ہے انسان جب کسی چیز کو اپنی آنکھون سے دیکھ لیتا ہے تو پھر اس کے وجود پر مزید کسی دلیل کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ فارسی کا مقولہ بھی یہی ہے ” عیاں راچہ بیان “ جو چیز نظر آجائے اس پر مزید دلیل قائم کرنے کے ضرورت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے ہزاروں نشانات بکھیر دیے ہیں جنہیں آنکھ کے ذریعے دیکھ کر انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا قائل ہوتا ہے۔
پھر یہ بھی ہے کہ آنکھ آسمان کی طرف دور تک کی چیزوں کو دکھ سکتی ہے جب کہ کان کی شنوائی زیادہ دور تک نہیں ہوتی۔ یہ بھی آنکھ کی افضلیت پر دلیل ہے۔ انبیاء (علیہ السلام) نے اللہ کا کلام اس دنیا میں سنا مگر ان کو رویت نصیب نہیں ہوئی کیونکہ یہ زیادہ افضل چیز ہے اور دوسرے جہاں میں ہی ہوگی اور وہ اس کے نیک بندوں کو باطل پرست وہاں بھی روئیت الٰہی سے محروم ہی رہیں گے۔ صرف خاتم الانبیاء حضور نبی کریم ﷺ کو اس زندگی میں روئیت الٰہی نصیب ہوئی ہے مگر وہ بھی اس دنیا میں نہیں بلکہ معراج کے موقع پر عالم بالا میں جا کر یہ چیز بھی آنکھ کی فضیلت کے حق میں جاتی ہے۔
ایک اور بات بھی ہے کہ اگر کسی شخص کے کان ضائع ہوجائیں تو وہ بظاہر اتنا عیب دار معلوم نہیں ہوتا جتنا وہ شخص ہوتا ہے جس کی آنکھیں ضائع ہوجائیں۔ پھر اسے چلنے پھرنے اور کام کاج میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک (1۔ ترمذی ، ص 346) ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” من سلبت کریمتیہ فصبر فلن ارضی لذ دون الجنۃ “ جس شخص کی میں نے دو بزرگی والی آنکھیں سلب کرلیں اور پھر اس نے صبر کیا ، تو پھر میں اسے جنت میں پہنچائے بغیر کسی چیز پر راضی نہیں ہوگا۔ بہرحال انسانی اعضاء کان اور آنکھ کے متعلق یہ بحث امام رازی (رح) نے اپنی تفسیر میں کی ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ یہ دونوں نعمتیں اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہیں اور اس کی قدرت کا عظیم شاہکار ، ان کے بغیر خود انسان ان خصائل سے محروم ہوتا ہے جو اللہ نے ان کے ذریعے اس میں پیدا فرمائے ہیں۔
زندہ اور مردہ کا خالق
بات کی ابتداء اس طرح ہوئی تھی کہ اے پیغمبر ! آپ ذرا ان کفار ومشرکین سے پوچھیں کہ آسمان و زمین سے روزی کون مہیا کرتا ہے اور کان اور آنکھوں کا مالک کون ہے ؟ اسی سلسلہ سوال کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا (آیت) ” ومن یخرج الحیی من المیت “ اور زندہ کو مردہ سے کون نکالتا ہے (آیت) ” ویخرج المیت من الحی “ اور مردہ کو زندہ سے کون پیدا کرتا ہے ؟ ان دونوں چیزوں کے مشاہدات ہم روز مرہ زندگی میں کرتے ہیں۔ ایک حقیر ار بےجان قطرہ آب سے اللہ تعالیٰ اپنی افضل ترین مخلوق انسان کو پیدا کرتا ہے انڈا ایک بےجان چیز ہے مگر اس سے جیتا جاگتا زندہ چوزا نکل آتا ہے۔ اب مرغی ایک جاندار پرندہ ہے اور اس سے پیدا ہونے والا انڈہ مردہ ہوتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ ذرا یہ تو بتائی کہ مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کون پیدا کرتا ہے ؟ عالم سے جاہل اور جاہل آدمی سے عالم کو کون پیدا کرتا ہے اسی طرح نیک آدمی سے بد اور برے آدمی سے نیک کو پیدا کرنا کس ذات کا کام ہے۔
پھر آگے فرمایا (آیت) ” ومن یدبرا لامر “ اور معاملے کی تدبیر کون کرتا ہے ؟ دوسرے مقام پر آتا ہے کہ آسمان کی بلندیوں سے زمین کی پستیوں تک تمام امور کی تدبیر کون کرتا ہے ؟ ہر ہر کام کا عروج وزوال ترقی وتنزل ، امیری غریبی ، صحت اور مرض ، حوادثات اور انعامات ، یہ سب چیزیں کون مہیا کرتا ہے ؟ ان چیزوں کو اپنے اپنے وقت اور اللہ کی حکمت اور مصلحت کے مطابق کون لاتا ہے ؟ تکلیفیں کون بھیجتا ہے اور راحت کے سامان کون مہیا کرتا ہے ؟ زندگی کون عطا کرتا ہے اور موت کون طاری کرتا ہے ؟ غرضیکہ پوچھا گیا ہے کہ تمام معاملات کی تدبیر کون کرتا ہے۔
ان تمام سوالوں کا جواب اللہ نے فرمایا (آیت) ” فسیقولون اللہ “ یقینا مشرکین یہی جواب دیں گے کہ ان تمام امور کا انجام دینے والی خدا تعالیٰ ہی ہے۔ اس بات کو وہ بھی مانتے ہیں کہ کارسازی کرنے والا اللہ کے سوا کوئی نہیں ۔ فرمایا اگر ان کا یہی جواب ہے۔ (آیت) ” فقل “ تو آپ ان سے کہہ دیں (آیت) ” افلا تتقون “ پھر تم ڈرتے کیوں نہیں ، جب تمام کام اللہ ہی کرتا ہے تو پھر تم اس کی عبادت اور صفات میں غیروں کو کیوں شریک کرتے ہو ؟ ان کو نذرانے کیوں پیش کرتے ہو ؟ ان کی دہائی کیوں دیتے ہو ؟ ان کی قبروں پر چڑھاوے کیوں چڑھاتے ہو ؟ اور ان سے مرادیں اور حاجتیں کیوں طلب کرتے ہو ؟ فرمایا حقیقت یہ ہے (آیت) ” فذالکم اللہ ربکم الحق “ تمہارا رب وہی وحدہ لا شریک ہے جو برحق ہے۔
فرمایا اگر یہ بات ہے (آیت) ” فماذا بعدالھق الا الضلل “ تو پھر حق کے ظاہر ہوجانے کے بعد گمراہی کے سوا کیا رہ جاتا ہے۔ کفر اور شرک تو سراسر گمراہی ہے۔ اگر اللہ کی وحدانیت کو پس پشت ڈال دو گے تو باقی صرف گمراہی رہ جائیگی۔ جب ربوبیت کا اقرار کرتے ہو تو پھر الوہیت کا انکار کیوں کرتے ہو ؟ پھر اسی وحدہ لا شریک کی عبادت پر اکتفا کیوں نہیں کرتے ؟ اغیار کے پیچھے کیوں بھاگتے ہو ؟ فرمایا جب حق واضح ہوگیا (آیت) ” فانی تصرفون “ پھر تم کدھر پھرے جا رہے ہو ؟ اور شیطان نے تمہیں کس راستے پر ڈال دیا ہے ؟
فسق ذریعہ محرومی
اللہ تعالیٰ نے ایک اور بات بھی اشارۃ فرمادی ہے (آیت) ” کذلک حقت کلمت ربک علی الذین فسقوا “ اسی طرح تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے ان لوگوں پر جو فاسق ہیں۔ یاد رکھو یہ فسق اور نافرمانی ہی انسان کی محرومی کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ فلاں شخص نافرمانی پر ڈٹ جانے والا ہے ، لہٰذا اسے ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔ ایساشخص ایمان سے محروم ہی رہتا ہے۔ یہاں پر فسق کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ دوسری جگہ ظلم کا ذکر بھی آتا ہے یعنی ظالموں پر اللہ کی بات ثابت ہوچکی ہے اور وہ محروم رہیں گے اور انہیں ہدایت نصیب نہیں ہوگی۔ جب تک فسق اور ظلم کو ترک نہیں کریں گے نیکی سے محروم ہی رہیں گے۔ فرمایا یہ بات نافرمانوں پر ثابت ہوچکی ہے (آیت) ” انھم لا یومنون “ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ برائی پر اصرار ایسی خصلت ہے جو انسان کو ہر خیر سے محروم کردیتی ہے اور انسان ذلیل ہو کر رہ جاتا ہے۔
Ayahs 10:34–36ربط آیات
آج کا درس بھی پہلی آیات کے ساتھ مربوط ہے۔ اس میں بھی توحید کے اثبات شرک کی تردید اور مشرکین کی ذہنی پستی کا ذکر ہے۔ گزشتہ درس میں اللہ نے توحید کے دلائل اس انداز میں بیان فرمائے کہ ذرا بتائو تو سہی کہ آسمان و زمین سے روزی کون نازل کرتا ہے ؟ کانوں اور آنکھوں کا مالک کون ہے ؟ زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے کون پیدا کرتا ہے ؟ اور تمام معاملات کی تدبیر کون کرتا ہے ؟ اس کا جواب خود ہی بیان فرمایا کہ سب لوگ یہی کہیں گے کہ مذکورہ تمام امور انجام دینے والا فقط اللہ ہی ہے پھر خود ہی فرمایا کہ اگر یہ بات ہے تو پھر اس الہ سے ڈرتے کیوں نہیں اور اس کے ساتھ دوسروں کو شریک کیوں ٹھہراتے ہو ؟ یہی اللہ ہر چیز کی پرورش کرنے والا ہے ، یہی ہر ایک کے لیے سامان زیست مہیا کرتا ہے۔ اب حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے ؟ فرمایا جو لوگ نافرمان ہیں اور اس پر ڈٹے ہوئے ہیں ، وہ ایمان نہیں لاتے۔
ابتدائی تخلیق اور اعادہ
گذشتہ درس کی طرح یہ درس بھی دلائل ِ توحید پر ہی مشتمل ہے آج مخلوق کی ابتدائی تخلیق اور پھر دوبارہ لوٹائے جانے کو بطور دلیل پیش کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اے پیغمبر ! قل آپ کہہ دیں (آیت) ” ھلہ من شرکائکم من یبدئو الخلق “ کوئی ا یسا ہے جس نے ابتدائی طور پر کوئی انسان ، جن یا کسی اور چیز کو پیدا کیا ہو ؟ ظاہر ہے کہ ہر جاندار اور غیر جاندار کو پیدا کرنے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس مضمون کو اللہ نے دوسرے مقام پر اس طرح بیان فرمایا (آیت) ” فارونی ماذا خلق الذین من دونہ “ (لقمن) مجھے دکھائو تو سہی جو انہوں نے اللہ کے سوا پیدا کیا ہے۔ کوئی درخت ، کوئی جانور ، چرند پرند ، انسان ، جن ، ملائکہ ، کوئی خطہ ارضی ، کوئی آسمانی کرہ۔ کوئی ہے جس نے ان میں سے کوئی چیز پیدا کی ہو۔ غرضیکہ اللہ نے فرمایا کہ جن شرکاء کو تم کبھی عبادت میں اور کبھی صفت میں شریک بناتے ہو ، کبھی ان کی نذر ونیاز دیتے ہو اور کبھی ان کو پکارتے ہو اور ان کے نام کی دہائی دیتے ہو ، کبھی انتہائی تعظیم اور کبھی سجدہ کرتے ہو۔ بھلا بتلائو تو سہی کہ کسی نے کسی مخلوق کو ابتدائی طور پر پیدا کیا ہو (آیت) ” ثم یعیدہ “ اور پھر اس کو لوٹایا ہو یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا ہو۔
فرمایا ، اے پیغمبر (آیت) ” قل اللہ عبدئو الخلق ثم یعیدہ “ آپ کہہ دیں کہ وہ تو اللہ کی ذات ہی ہے جس نے مخلوق کو ابتداء پیدا کیا ہے ، پھیر وہی اس کو لوٹائے گا۔ یہ بات تو اللہ نے بتکرار بیان کی ہے کہ (آیت) ” اللہ خالق کل شئی “ (الزمر) یعنی ہر چیز کا خالق اللہ ہے پہلی دفعہ بھی انسان کو وہی پیدا کرتا ہے اور مرنے کے بعد دوبارہ بھی وہی لوٹائے گا۔ سورة بقرہ میں بھی موجو ہے۔ کہ تم اللہ تعالیٰ کا انکار کیسے کرتے ہو۔ حالانکہ تم مردہ تھے تو اس نے تمہیں زندہ کیا (آیت) ” ثم یمیتکم “ پھر وہ تمہیں موت دیگا (آیت) ” ثم یحییکم “ پھر وہ تمہیں زندہ کرے گا۔ (آیت) ” ثم الیہ ترجعون “ پھر تم سب اسی کی طرف لوٹائے جائو گے پھر محاسبے کی منزل آئیگی جس کے نتیجہ میں یا تو اللہ کی رحمت میں داخل ہوجائیں گے اور یا پھر سزا پا جائیں گے۔ غرضیکہ اولا پیدا کرنا اور پھر اس کا عادہ کرنا صرف اللہ کا کام ہے ، اس کے سوا کوئی دوسرا یہ کام نہیں کرسکتا فرمایا اگر حقیقت یہی ہے (آیت) ” فانی توفکون “ تو تم کدھر پلٹائے جاتے ہو۔ کیا اس بات پر غور نہیں کرتے کہ جب ابتداء اور انتہاء کا مالک اللہ ہے تو درمیان کی تمام چیزوں کا مالک بھی وہی ہے۔ انسانی زندگی کے تمام لوازمات اسی کے قبضہ قدرت اور اسی کے تصرف میں ہیں ، تو پھر اس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرانے کی کیا تک رہ جاتی ہے۔ خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی قدرت تامہ کی یہ بہت بڑی دلیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے غور وفکر کے لیے ذکر کی ہے۔
راہنمائی بطرف حق
آگے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کی دوسری دلیل ہدایت اور راہنمائی کے اعتبار سے بیان فرمائی ہے ارشاد ہوتا ہے ، اے پیغمبر ! قل آپ ان سے دریافت کریں (آیت) ” ھل من شرکائکم من یھدی الی الحق “ کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ہے جو حق کی طرف راہنمائی کرتا ہو ؟ لفظ حق اپنے اندر برا وسیع مفہوم رکھتا ہے۔ حق اس چیز کو کہتے ہیں جو ثابت ، ٹھوس ، اٹل اور صحیح ہو اور اس کی طرف راہنمائی سے مراد یہ ہے کہ صحیح قانون اور صحیح راستے پر چلنے کی تلقین ہو۔ تو فرمایا ، کیا تمہارے معبودان باطلہ میں سے کوئی ایسا ہے جو حق بات کی دعوت دے۔ ؟ پھر اللہ نے اس سوال کا جواب بھی خود ہی اپنے نبی کی زبان سے دلوایا (آیت) ” قل اللہ یھدی للحق “ آپ کہہ دیں کہ وہ اللہ ہی ہے جو حق کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ حق کی طرف راہنمائی کرنے والا بھی کوئی نہیں آگے پھر دوسرا سوال پیش کیا (آیت) ” افمن یھدی الی الحق احق ان یتبع “ کیا حق کی طرف راہنمائی کرنے والا اتباع کا زیادہ حقدار ہے (آیت) ” امن لا یھدی الا ان یھدی “ یا وہ زیادہ حقدار ہے۔ جو نہیں راہ پاتا بلکہ خود اسے راہ دکھائی جائے۔ جواب بڑا واضح ہے کہ اتباع کے لائق تو وہی ذات ہوگی جو خود حق پر ہو اور حق ہی کی طرف دعوت دے ، نہ وہ جو خود ہدایت کا محتاج ہو۔ حق کی طرف راہنمائی کرنے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے لہٰذا ان کا اتباع کیسے ہو سکتا ہے ؟
معبودانِ باطلہ میں سے بعض تو مٹی ، پتھر یا لکڑی کے بےجان بت ہیں جو اپنی جگہ سے ہلنے کی طاقت بھی نہیں رکھتے۔ اور اگر وہ جاندار بھی ہوں تو بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت اور دستگیری کے محتاج ہیں۔ انبیاء ہوں یا ملائکہ ، اولیاء ہوں یا شہدا ، صالحین ہوں یا مقربین سارے کے سارے ہر لحظ ہدایت و راہنمائی کے لیے اللہ کے محتاج ہیں۔ اب تم خود ہی فیصلہ کرو کہ اتباع کے لائق کون ہے ؟ کیا اس کی اتباع ہونی چاہیے جو راہ حق کی طرف راہنمائی کرتا ہے یا وہ جو خود راہنمائی کا طالب ہے ؟
راہنمائی کی ضرورت
راہنمائی کی دو صورتیں ہوتی ہیں۔ پہلی یہ کہ طالب کو منزل مقصود تک پہنچا دیا جائے اور دوسری یہ کہ درست راستے کی نشاندہی کردی جائے ظاہر ہے کہ یہ دونوں کام اللہ تعالیٰ ہی کے ساتھ مخصوص ہیں۔ ان امور میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ اس مقام پر ہدایت کا ذکر ہے جب کہ دوسری جگہ (آیت) ” سبلنا “ کا لفظ آتا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی ضروریات کے تمام شعبوں راہ حق کی طرف راہنمائی کی ضرورت ہے مثلا سب سے پہلے فکر اور عقیدے کی طہارت کی ضرورت ہے عقائد کی درستگی کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کی طرف وحی بھیجتا ہے ، جو آکے اپنی اپنی امت کو وہ اصول بتاتے ہیں جن کے ذریعے فکر کو پاک کیا جاتا ہے ، گویا انسان کی سب سے پہلی ضرورت اس کے ذہن ، دماغ ، فکر اور روح کی طہارت ہے۔ اس کے بعد انسان کی دوسری ضرورت یہ ہے کہ وہ عبادت کے طریقے سمجھے اور برائیوں سے بچنے کی تدابیر اختیار کرے امام شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ اس ضرورت کی تکمیل کے لیے اللہ نے انبیاء کو مبعوث فرمایا تا کہ وہ لوگوں کو اللہ کی عبادت کے طریقے سکھائیں اور یہ کام بھی اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کے بغیر انجام نہیں دیا جاسکتا ، اس ضمن میں نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ ، جہاد اور قربانی وغیرہ کی جزئیات معلوم کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر معاملات میں راہنمائی کی ضرورت ہے کہ خریدوفروخت میں کون سے اصول پیش نظر ہونے چاہیں لین دین کا طریقہ کیا ہو۔ پھر اخلاقیات میں بھی راہنمائی کی ضرورت ہے کہ کونسا اخلاق اپنانا چاہیے اور کس سے بچنا چاہیے۔ سیاسیات میں بھی اللہ تعالیٰ کی راہنمائی کی ضرورت ہے اگرچہ آجکل اسے تسلیم نہیں کیا جاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری سیاست کا رخ بھی صحیح نہیں ہے جس کی وجہ سے ہم منزل مقصود پر پہنچنے سے قاصر ہیں۔ ا س معاملہ میں بھی صحیح راہنمائی اللہ کی کتاب اور اس کے نبی کی زبان مہیا کرتی ہے۔ گر ہم ان کے بتائی ہوئے اصولوں پر چلیں گے تو سیاست میں کامیابی ہوگی ورنہ اندھیرے میں ٹکریں مارتے رہیں گے ، خود بھی تباہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی برباد کریں گے معاشرتی معاملات میں بھی حقیقی راہنمائی کی ضرورت ہے۔ ہماری شریعت اور دین نے آپ میں میل جول اور معاملات کے لیے پاکیزہ اصول بیان کیے ہیں۔ تمام انفرادی اور اجتماعی معاملات میں انہی اصولوں کی راہنمائی کی ضرورت ہے۔ اسی طرح تعلیم اور تبلیغ کے شعبے ہیں کہ ان کو کس طرح انجام دینا ہے۔ ان چیزوں کے لیے بھی ہم صحیح راہنمائی کے محتاج ہیں جو صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے حاصل ہو سکتی ہے۔
سورۃ فاتحہ نہایت ہی اہم سورة ہے جسے ہم ہر نماز کی ہر رکعت میں پڑھتے ہیں۔ اس کے آخری حصے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی زبان سے کہلوایا ہے کہ اے مولا کریم ! (آیت) ” اھدنا الصراط المستقیم “ یعنی سیدھے راستے کی طرف ہماری راہنمائی فرما۔ گویا ہم ہر بت میں اس کی راہنمائی کے محتاج ہیں۔ چناچہ اس دعا اور درخواست کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ جس راہنمائی کی تجھے ضرورت ہے (آیت) ” ذلک الکتب لا ریب فیہ “ وہ اس کتاب قرآن پاک میں ہے جو شک وشبہ سے بالا ہے۔ قرآن پاک کی یہ صفت اگلی آیات میں بھی آرہی ہے۔ بہرحال اللہ کی کتاب تمام معاملات میں اصول و ضوابط مہیا کرتی ہے جب کہ نبی کی زبان اس کی شرح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی یہ ڈیوٹی لگادی ہے (آیت) ” لتبین للناس مانزل الیھم “ جو چیز بھی اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے ، آپ لوگوں کے سامنے اس کی وضاحت کردیں۔ گویا نبی کی زبان قرآن کی وضاحت یا بیان (StAtement سٹیٹمنٹ) ہے۔ سورة نحل میں موجود ہے (آیت) ” وانزلنا الیک الذکر لتبین للناس ما نزل الیھم “ ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف اس لیے نازل کی ہے تا کہ آپ لوگوں کے سامنے اس کی خوب وجاحت کردیں قرآن پاک صرف عبادات کی تعلیم تک محدود نہیں بلکہ انسانی زندگی کے تمام معاملات کے لیے اس میں راہنمائی موجو ہے اور ہم اس کے محتاج ہیں۔ حتی کہ اللہ نے اپنے نبی کو بھی یہی حکم دیا ہے (آیت) ” اتبع ما اوحی الیک من ربک “ (الانعام) آپ بھی اس چیز کی پیروی کریں جو آپ کے رب کی طرف سے آپ پر وحی کی گئی ہے۔ اللہ نے اپنے نبی کی زبان سے بھی کہلوایا (آیت) ” انما اتبع ما یوحی الی من ربی “ (الاعراف) میں تو اسی راہ کی پر وی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے میرے رب کی طرت سے غرضیکہ فرمایا کہ جو ہستی حق کی طرف راہنمائی کرتی ہے اس کی بات ماننی چاہیے یا اس کی جس کا کچھ اختیار ہی نہیں ؟ یہ تم خود فیصلہ کرلو۔
اس آیت میں (آیت) ” یھدی “ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو اصل میں ” یھتدی “ ہے اس میں تا کو دال بنایا گیا ہے اور اس دال کو اگلی دال میں مدغم کر کے ادال پر شد اور پھر اس کو کسرہ دے کر ” یھدی “ بنا دیا گیا ہے اور جملے کا مطلب یہ ہے کہ کیا اتباع کا وہ زیادہ حقدار ہے (آیت) ” امن لا یھدی “ جو نہیں راہ پاتا ، مگر یہ کہ اس کو راہ دکھائی جائے۔ فرمایا (آیت) ” فمالکم “ پس تمہیں کیا ہوگیا ہے (آیت) ” کیف تحکمون “ تم کیا فیصلہ کرتے ہو۔ دیکھو ! یہ کتنی ناانصافی کی بات ہے کہ تم ان کو خدا کا شریک بنا رہے ہو ، ان کی پوجا کر رہے ہو جن کا اختیار ہی کچھ نہیں اور جو ذات اتباع کے قابل ہے اس کی بات ہی نہیں مانتے۔
اتباع الظن
اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی ایک قباحت بیان فرمائی ہے (آیت) ” وما یتبع اکثرھم الا ظنا “ اور نہیں پیروی کرتے ان میں سے اکثر مگر محض گمان کی۔ تمام مشرک اور رسومات کے پیروکار محض گمان کے پیچھے ہی چلتے ہیں۔ تمام بدعات گمان کی پیداوار ہیں جن کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ کسی سے پوچھا جائے کہ یہ کام کیوں کر رہے ہو۔ تو جواب ملتا ہے کہ اس میں کیا خرابی ہے ، ہمارے فلاں بزرگ اور فلاں خاندان والے ایسا ہی کرتے آئے ہیں۔ آخرت یہ کوئی اچھا کام ہی ہے تو اتنے لوگ انجام دے رہے ہیں۔ عید میلاد کے ایک جلسے میں کسی وزیر نے بھی کہا تھا کہ جہاں اتنے لوگ جمع ہو اجائیں بھلا وہ کام باطل ہو سکتا ہے مقصد یہ کہ دلیل کوئی نہیں۔ محض اٹکل پچو باتیں ہیں جن کے پیچھے بلا سوچے سمجھے چلے جا رہے ہیں۔ ہر بدعت کی ابتداء میں کہا جاتا ہے کہ اگر یہ کتاب وسنت سے ثابت نہیں تو اس میں حرم بھی کہا ہے۔ پھر جب وہ بدعت رائج ہوجاتی ہے کہ سب لوگ کر رہے ہیں ، آخر ہم کیوں نہ کریں۔ اس کا معنی تو یہ ہے کہ اگر کسی کام کے لیے بہت سے گدھے بھی اکٹھے ہوجائیں تو یہ اس کام کے حق میں دلیل بن جاتی ہے۔ اسی کے متعلق فرمایا کہ ان کے اکثر لوگ بلا دلیل محض گمان کی پیروی کرتے ہیں۔
یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ گمان دو طرح کا ہے امام بضاوی (رح) مفسر قرآن فرماتے ہیں کہ فروعات اور اعمال میں گمان پر چلنا جائز ہے جیسے مجتہدین اور فقائے کرام ظنی باتوں کے ذریعے ہی مسائل کا حل نکالتے ہیں۔ آپ اس پر عمل کرسکتے ہیں مگر عقیدے کے معاملے میں ظن پر عمل نہیں کیا جاسکتا۔ وہاں قرآن وسنت سے نص کی ضرورت ہے جب پکی دلیل موجود نہ ہو ، محض سنی سنائی اور قیاسی باتوں سے دلیل قائم نہیں کی جاسکتی۔ لہٰذا عقیدے کے متعلق ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ حق بات کو تلاش کرے اور پھر اس کے مطابق عمل کرے۔ جب حق معلوم ہوجائے تو پھر اس کے مقابلے میں ظن فائدہ نہیں دے سکتا۔ عقیدے کے معاملے میں کوئی اٹکل پچو بات کام نہیں دے گی۔
اچھا گمان
بعض اچھے گمان بھی ہوتے ہیں جیسے فرمایا ” ظنوا المنومنین خیرا “ ایک مومن کو دوسرے مومن کے متعلق اچھا گمان رکھنا چاہیے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ تم میں سے کوئی آدمی نہ مرے مگر اس حالت میں کہ اللہ کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہو کہ وہ غور اور رحیم ہے اور ضرور مہربانی فرمائے گا۔ کسی شخص کو مایوسی کی حالت میں اللہ کے پاس نہیں جانا چاہیے۔ اچھے گمان کی ایک مثال یہ ہے کہ ایک چھوٹا بچہ کوئی ہدیہ لے کر آپ کے پاس آتا ہے کہ اس کے والد نے آپ کے لیے بھیجا ہے ظاہر ہے کہ اس کے متعلق آپ کو یقین تو نہیں ہے کہ یہ تحفہ واقعی فلاں شخص نے بھیجا ہے مگر آپ اس گمان پر چلتے ہوئے اس تحفہ کو قبول کرلیتے ہیں۔ اسی کو اچھا گمان کہا گیا ہے۔ ایسی باتوں میں گمان پر چلنا درست ہے مگر خدا کی ذات ، اس کی صفات ، توحید ، نبوت ، قیامت ، کتب سماویہ ، ملائکہ اور تقدیر وغیرہ کے معاملہ میں ظن کچھ فائدہ نہیں دیگا بلکہ ان چیزوں کے لیے قطعی دلیل کی ضرورت ہوگی۔ اسی طرح حلال حرام بھی محض گمان سے ثابت نہیں ہوتا۔ حلال وہی ہے جس کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے اور اس کے رسول نے حلال بتلایا ہے ، محض سنی سنائی باتوں سے کسی چیز پر حلت و حرمت کا حکم نہیں لگایا جاسکتا۔ فرمایا ” ان الظن لا یغنی من الحق شیا “ بیشک گمان حق کے مقابلے میں کچھ فائدہ نہیں دیتا (آیت) ” ان اللہ علیم بما یفعلون “ بیشک اللہ تعالیٰ ان کے تمام افعال کو جانتا ہے۔ اس کے علم میں ہے کہ کون حق پر ہے اور کون محض گمان کی پیروی کررہا ہے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ کون مخلص ہے۔ اور کون ضد اور عناد پر ڈٹا ہوا ہے۔ سب کے محاسبہ کا وقت آنے والا ہے جب ان کو اپنے کئے کا بھگتان کرنا ہوگا۔