Ayahs 10:11–14ربط آیات۔
قرآن کریم کی حقانیت اور پھر رسالت کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے توحید کے عقلی اور نقلی دلائل ذکر کیے۔ اس کے بعد قیامت کا مسئلہ بھی بیان فرمایا اور ایمان والوں کی اس کامیابی کا ذکر کیا جو انہیں اللہ کے ہاں حاصل ہونے والی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے منکرین قیامت کا ذکر کای جو اسی دنیا پر مطمئن ہو کر بیٹھ گئے ہیں اور اسی کو اپنا منتہائے مقصود سمجھ رہے ہیں۔ اللہ نے ان کی ناکامی اور ان کو ملنے والی سزا کا ذکر بھی کیا۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے بعض انسانوں کا شکوہ بیان کیا ہے کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچی ہے تو اللہ تعالیٰ سے گڑ گڑا کر دعائیں کرتے ہیں ، مگر جب اللہ اس تکلیف کو دور فرما دیتا ہے تو اللہ کا شکریہ تک ادا نہیں کرتے بلکہ اس طرح گزر جاتے ہیں۔ جیسے انہوں نے کسی تکلیف کے ازالے کے لیے کوئی دعا کی ہی نہ ہو۔
جلد بازی کا نتیجہ۔
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولو یعجل اللہ للناس الشرا ستعجالھم بالخیر “ اور اگر اللہ تعالیٰ جلدی کرے لوگوں کے لیے برائی کو جیسا کہ وہ خیر کو جلدی طلب کرتے ہیں تو ان کی خواہش ہوتی ہے کہ مطلوبہ چیز انہیں جلدی سے مہیا ہوجائے اللہ تعالیٰ اکثر جلدی بھی عطا کردیتا ہے۔ پھر بعض اوقات انسان حالات سے بددل ہو کر برائی کے لیے بھی ہاتھ اٹھا دیتے ہیں اور اس کے لیے بھی وہ جلدی کرتے ہیں ، تو ایسے معاملات میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ جس طرح انہیں اچھی چیز جلدی مل جاتی ہے اسی طرح اگر بری چیز بھی فورا دے دی جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہو (آیت) ” لقضی الیھم اجلھم “ تو ان کی عمروں کا فورا ہی خاتمہ ہوجائے اور وہ ہلاک ہوجائیں۔ اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے انسان کی ناشکری ، کفران نعمت اور جلد بازی کا ذکر فرمایا ہے اپنے حق میں بدعا کرنے کے ذکر سورة انفال میں بھی ہوچکا ہے اللہ کا فرمان ہے کہ کفار ومشرکین پیغمبر اور قرآن پاک کی مخالفت میں اس حد تک دور نکل جاتے تھے کہ وہ ان الفاظ کے ساتھ اپنے حق میں بددعا کرتے تھے (آیت) ” واذقالوا اللھم ان کان ھذا ھوالحق من عندک فامطر علینا حجارۃ من السماء اوائتنا بعذاب الیم “ کہتے تھے کہ ائے اللہ ! اگر یہ پیغمبر اور قرآن حکیم برحق ہیں تو ہم پر پتھروں کی بارش برسا یا ہم پر کوئی دردناک عذاب بھیج دے۔ سورة بنی اسرائیل میں یہ بھی موجود ہے (آیت) ” اوتسقط السماء کما زعمت علینا کسفا “ ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے کیونکہ محمد ﷺ اور اس کے لائے ہوئے دین کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ نبی (علیہ السلام) سے کہتے کہ اگر آپ دعوی نبوت و رسالت میں سچے ہیں ، اگر واقعہ قیامت آنیوالی ہے تو پھر ہمارے سروں پر آسمان کا ٹکڑا گرا دے تا کہ تیری صداقت واضح ہوجائے اس آیت کریمہ میں بھی یہی مضمون بیان کیا گیا کہ انسان بھلائی کا تو ہر وقت طلب گار رہتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے مال و دولت میں اضافہ ہو۔ ہر طرح کا آرام و راحت حاصل ہو مگر جب تنگ دل ہو کر کسی وقت سزا کی دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ جلد بازی نہیں کرتا ، وگرنہ وہ ہلاک ہوجائے۔ دوسرے مقام پر اللہ نے فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کے گناہوں کے سبب ان کو فورا پکڑ لے تو زمین پر چلتا پھرتا کوئی انسان اور جانور نظر نہ آئے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی کمال مہربانی اور لطف وکرم ہے کہ وہ فورا گرفت نہیںٰ کرتا بلکہ مہلت دیتا ہے۔ اگر انسانوں کی طرح وہ بھی جلد بازی کرے تو سب کو ہلاک کر دے۔
بددعا کی ممانعت :
حدیث شریف میں حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تنگ دل ہو کر اپنے خلاف ، اپنی اولاد کے خلاف اور اپنے اموال کے خلاف بددعا نہ کیا کرو ، کہیں یہ بددعا اس گھڑی کے موافق نہ ہوجائے جس میں دعا قبول ہوجاتی ہے۔ بعض اوقات ایسے بھی ہیں کہ انسان دعا کرتا ہے تو ضرور قبول ہوجاتی ہے اسی لیے فرمایا ” لا تدعوا علی انفسکم ولا علی اولادکم ولا اموالکم لا یوافق ساعۃ فیستجاب (مسلم شریف) بہرحال حضور ﷺ نے بددعا کرنے سے منع فرمایا ہے ، کیونکہ اگر ایسی دعا قبول ہوگئی تو نقصان ہوجائے گا۔
قانون امہال و تدریج۔
آگے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” فنذر الذین لا یرجون لقآء نا “ ہم چھوڑتے ہیں اور مہلت دیتے ہیں ان لوگوں کو جو ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے۔ ملاقات سے مراد مرنے کے بعد زندہ ہو کر خدا تعالیٰ کے حضور پیشی ہے۔ فرمایا جو لوگ قیامت کے عمل کے منکر ہیں ہم ان کو چھوڑتے ہیں اس حال میں (آیت) ” فی طغیانھم یعمھون “ کہ وہ اپنی سرکشیوں میں ہی سرگردان ہو رہے ہیں۔ یہ مہلت دینے کی بات ہو رہی ہے جسے قانون امہال و تدریج سے تعبیر کیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ اکثر مہلت دیتا ہے کیونکہ وہ حلیم اور غفور ہے۔ یہ اس کی مہربانی اور لطف کا نتیجہ ہے کہ اس دنیا میں مجرم بھی پھلتے پھولتے رہتے ہیں اور پھر خدا ت تعالیٰ خاص وقت پر انکی گرفت کرتا ہے کیونکہ (آیت) ” ان بطش ربک لشدید “ (البروج) فرمایا تیرے رب کی پکڑ بہت سخت ہے۔ مولانا روم بھی تو کہتے ہیں ؎
تو مشو مغرور بر حلم خدا
دیر گیرد سخت گیرد مرترا
اللہ تعالیٰ کی بردباری پر تمہیں مغرور نہیں ہونا چاہیے۔ وہ دیر سے پکڑتا ہے مگر سختی سے پکڑتا ہے۔ اللہ کے اس قانون امہال و تدریج کو قرآن پاک میں کثرت سے بیان کیا گیا ہے۔ اسی لی فرمایا کہ نافرمانوں کی مہلت سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے اور نہ انہیں اللہ کا محبوب سمجھنا چاہیے بلکہ یہ تو خدا تعالیٰ کی عطا کردہ مہلت ہے۔ بخاری شریف کی حدیث میں آتا ہے کہ جب تم دیکھو کہ کوئی شخص نافرمانی میں بڑھ رہا ہے اور خدا تعالیٰ اسے انعام واکرام سے نواز رہا ہے تو ہرگز دھوکا نہ کھانا کیونکہ یہ تو استدراج ہے۔ کسی نہ کسی وقت یہ آدمی ضرور پکڑا جائے گا۔ اگر اس زندگی میں اس کی گرفت نہ بھی ہوئی تو مرنے کے بعد فورا گرفت ہوجائے گی۔ بہرحال نافرمانوں کے لیے مہلت اللہ تعالیٰ کی بردباری اور تحمل کی وجہ سے ہوتی ہے۔
شرک پر اصرار۔
فرمایا دیکھو ! انسان کا حال یہ ہے (آیت) ” واذا مس الانسان الضر “ جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے (آیت) ” دعانا لجنبہ او قاعدا او قآئما “ تو پھر وہ ہمارے سامنے دعا کرنا ہے خواہ گروٹ کے بل ( لیٹا ہوا) ہو یا بیٹھا ہوا یا کھڑا ہو ، یہ انسانی فطرت ہے کہ جب کوئی تکلیف پہنچتی ہے اور ظاہری اسباب ناکام ہوجاتے ہیں تو پھرا نسان اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ یہ تو اچھی بات ہے کہ انسان اس پر قائم رہے اور مصیبت میں اللہ ہی کو پکارے ، اس کو نافع اور رضا سمجھ کر مشکل کشائی کی درخواست کرے۔ مگر افسوس کہ انسان کی یہ حالت قائم نہیں رہتی (آیت) ” فلما کشفنا عنہ ضرہ “ جب ہم اس کی تکلیف کو رفع کردیتے ہیں (آیت) ” مرکان لم یدعنا الی ضر مسہ “ تو وہ ایسے گزر جاتا ہے کہ اس نے ہمیں کسی تکلیف کے وقت پکارا ہی نہیں۔ تکلفی کے دور ہوجانے پر وہ اس طرح بھول جاتا ہے کہ نہ اسے کبھی تکلفی آئی اور نہ اس نے خدا کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔ یہ انسان کی خود غرضی اور لاپرواہی کی انتہا ہے۔ سورة نحل میں اس طرح آتا ہے۔ (آیت) ” ثم اذا کشف عنکم اذا فریق منکم بربھم یشرکون “ پھر جب تم سے تکلیف دور ہوجاتی ہے تو تم میں سے ایک گروہ اپنے پروردگار کے ساتھ شرک کرنے لگتا ہے جب مشکل پیش آتی ہے تو خدا تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ مہربانی فرما کر تکلیف کو رفع کردیتا ہے تو اس کا اعزاز غیر اللہ کو دیتے ہیں اور ان کے نام کی نذر ونیاز دینے لگتے ہیں اور پھر وہی کفریہ اور شرکیہ رسوم شروع کردیتے ہیں۔ آپ کے سامنے مثالیں موجود ہیں۔ تکلیف رفع ہوئی تو فورا دیگ پکا کر داتا صاحب کا ادا کیا جا رہا ہے۔ سورة عنکبوت میں موجود ہے کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو بحفاظت پار اترنے کے لیے خالص اللہ کو پکارتے ہیں (آیت) ” فلما نجٰھم الی البر اذا ھم یشرکون “ پھر جب خشکی پر پہنچ جاتے ہیں تو اللہ کے شریک ٹھہرانے لگتے ہیں۔ کبھی خواجہ اجمیری (رح) کے نام کی نذر ہوتی ہے اور کبھی پیران پیر کو نیاز پیش کی جاتی ہے۔ یہ شرک پر اصرار نہیں تو اور کیا ہے اکثر لوگوں کا یہی حال ہے۔ تا ہم بعض کا مل الایمان لوگ بھی ہیں جو ہر خیر وشر کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ تکلیف میں اسی کے سامنے دست سوال دراز کرتے ہیں اور راحت میں اسی کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ” عجبالامر المومن “ مومن کی حالت عجیب ہے کہ ” امر المومن کلہ خیر “ مومن کے لیے ہر حالت ہی بہتر ہوتی ہے (آیت) ” اذا اصابتہ ضرا “ ” فصبر “ جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے (آیت) ” واذا اصابتہ سرافکان خیرا لہ “ اور جب اسے کوئی راحت اصل ہوتی ہے تو یہ اس کیلیے بہتر ہوتی ہے وہ دونوں حالتوں میں اپنا توازن قائم رکھتا ہے اور خدا تعالیٰ کو کسی وقت بھی نہیں بھولتا۔
مسرفین سے شکوہ۔
فرمایا (آیت) ” کذلک زین للمسرفین ما کانوا یعملون “ اسی طرح مزین کیا گیا ہے مسرفوں کے لیے جو کچھ وہ کام کرتے ہیں۔ کفر ، شرک ، اور بدعت کا ارتکاب کرنے والوں کو شیطان ان کے کام مزین کر کے دکھاتا ہے۔ یہ لوگ حد سے بڑھے ہوئے ہیں جو ایمان کو چھوڑ کر کفر اختیار کر رہے ہیں۔ شکر کی بجائے ناشکری کو اپنا رہے ہیں اور خدا تعالیٰ کو بالکل فراموش کرچکے ہیں۔ ایسے لوگ اپنے برے اعمال کو ہی خوشنما سمجھ کر ان پر عمل کیے جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں سے یہ شکوہ کیا ہے۔
سابقہ اقوام کی ہلاکت۔
فرمایا (آیت) ” ولقد اھلکنا القرون من قبلکم “ اسی طرح ہم نے تم سے پہلی قوموں کو ہلاک کیا (آیت) ” لما ظلموا “ جس وقت انہوں نے ظلم کا ارتکاب کیا۔ قرون قرن کی جمع ہے جس کا معنی طبقہ ، سنگت ، قوم یا جماعت ہے ۔ تو مطلب یہ ہے کہ ہم نے بہت سی پہلی قوموں فرقوں یا پارٹیوں کو ان کے ظلم کی پاداش میں ہلاک کیا۔ یادرکھو ! اگر تم بھی ظلم کا ارتکاب کرو گے تو خدا کا قانون وہی ہے ، وہ تمہیں بھی ہلاک کرسکتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کچھ مدت کے لیے مہلت دے دے۔ مگر ظلم کا نتیجہ ہمیشہ برا ہی نکلے گا۔ کفر ، شرک ، بدعت اور معاصی کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلے گا ، فرمایا جنہوں نے ظلم کیا ، ان کو ہم نے ہلاک کیا (آیت) ” وجاء تھم رسلھم بالبینت “ ان کے پاس ہمارے رسول کی کھلی نشانیاں لے کر آئے۔ ان کو واضح ہدایات اور معجزات پیش کیے۔ انبیاء کرام نے اپنی تقاریر ومواعظ میں بڑے واضح دلائل کے ساتھ خدا کی وحدانیت کی طرف دعوت دی (آیت) ” وما کانوا لیومنوا “ مگر وہ لوگ ایمان نہ لائے۔ انہوں نے خدا کے انبیائ ، کتب ، ملائکہ اور معاد کا انکار ہی کی۔ اپنی زبانوں سے کہتے تھے کہ جائو۔ ہم نہیں مانتے ، جو قیامت یا عذاب ہم پر لانا ہے لے آئو۔ فرمایا (آیت) ” کذلک نجزی القوم المجرمین “ ہم مجرموں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں۔ جو لوگ برائی پر ڈٹ جاتے ہیں ، ظلم کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں ، شقاوت میں پختہ ہوجاتے ہیں اور سعادت سے محروم ہوجاتے ہیں تو ان کو سزا بھی ایسی ہی ملتی ہے اچھائی کی توفیق سلب ہوجانا بذات کود بہت بڑی سزا ہے۔ اور پھر آگے چل کر خدا کے ہاں سخت ترین عذاب ہے جو مجرمین کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔
موجودہ قوم کی آزمائش۔
سابقہ اقوام کا حال اللہ نے بیان فرمایا کہ نافرمانی کی بناء پر بعض لوگ ہلاک ہوئے اور بعض طبعی موت مرکر ختم ہوگئے اور اب ان میں سے کوئی باقی نہیں رہا۔ فرمایا اے موجودہ وقت کے لوگو ! (آیت) ” ثم جعلنٰکم خلئف فی الارض من بعدھم “ پھر ان کے بعد ہم نے زمین میں نائب بنایا۔ اب تمہیں اللہ نے موقع دیا ہے۔ آج سے سو سال پہلے جو لوگ تھے ، وہ تو ختم ہوگئے۔ اب تم ان کے جانشین ہو ، ان کی جگہ تمہٰں لا کر اللہ تعالیٰ اب تمہاری آزمائش کرنا چاہتا ہے کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔ حکومتوں کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ پہلے حکمران ختم ہوگئے۔ ان کی جگہ حکومت کی باگ ڈور نئے لوگوں نے سنبھالی ، اب یہ ان کا امتحان ہے۔ اللہ نے فرمایا ، ہم نے زمین کی خلافت اب تمہیں دی ہے (آیت) ” لننظر کیف تعملون “ تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔ کیا تم بھی پہلے لوگوں کا راستہ اختیار کر کے ہلاکت کی طرف جاتے ہو یا نیک اعمال کر کے خلافت کا صحیح حق ادا کرتے ہو (آیت) ” لننظر “ کا معنی ہے تا کہ ہم دیکھیں۔ مگر اللہ تعالیٰ تو ہمیشہ سے دیکھ رہا ہے اور ابد تک ہر چیز اس کی نگاہ میں رہے گی۔ اس لیے یہاں پر دیکھنے کا معنی ظاہر کرنا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ظاہر کر دے گا کہ پہلے لوگوں نے ایسے کام کیے اور اب تم نے یہ کچھ کیا ہے۔
دنیا اور عورت کا فتنہ۔
حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ” اتقوا الدنیا واتقوا النسائ “ اے لوگو ! دنیا سے بچتے رہو اور عورتوں کے معاملات سے بچتے رہو۔ کیونکہ (آیت) ” ان اول فتنۃ فی بنی اسرائیل فی النسائ “ کیونکہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلے فتنہ عورتوں ہی کی وجہ سے پیدا ہوا۔ عورتوں کے حقوق ادا کرو ، ان کو فحاشی کے راستے پر مت ڈالو ، یہ تمہاری ذمہ داری ہے۔ آج عورتوں کو ممبر بنایا جا رہا ہے۔ وزارتیں پیش کی جاتی ہیں۔ آج کی عورتیں کھیل تماشے کے تھیڑوں کی زینت بن رہی ہیں مگر کسی کو کچھ پروا نہیں۔ ادھر جب قرآن وسنت کی بات آتی ہے قانونِ شہادت کا اسلامی قانون نافذ ہوتا ہے تو عورتیں سڑکوں پر نکل آئی ہیں اور مطالبہ کرتی ہیں کہ انہیں بھی مردوں کے برابر گواہی کا حق ملنا چاہیے۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ شہادت کے معاملہ میں دو عورتیں ایک مرد کے برابر ہیں اور یہ بھی دیوانی مقدمات میں ہے ورنہ عائلہ معاملات اور فوجداری مقدمات میں عورت کی شہادت بالکل قابل قبول نہیں۔ اللہ نے مرد کے مقابلے میں عورت کی آدھی شہادت کی وجہ بھی بیان فرمائی ہے کہ وہ فطرتا نسیان والی ہیں ، اس لیے دو عورتوں کی شہادت بدیں وجہ ضروری ہے کہ اگر ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلا دے۔ مگر عورتوں کو اللہ کا حکم پسند نہیں ، وہ احکام خداوندی کے خلاف احتجاج کرکے خدا کے غضب کو دعوت دے رہی ہیں۔ عورتوں کو اس مقام تک پہنچانے میں مردوں ہی کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے عورتوں کو اس راستے پر ڈالا۔ وہی انہیں دنیا کی نصف آبادی اور ایک گاڑی کے دو مساوی پہلے بتاتے ہیں اور پھر خود ہی ان کے نام نہاد حقوق کے پاسبان بن جاتے ہیں۔ ٹھیک ہے بھائی ! جو حقوق اللہ اور اس کے رسول نے عورت کو نہیں دیے وہ تم دلا دو اور پھر اس کا نتیجہ بھی تمہارے سامنے ہے کہ ہر طرف بےحیائی کا مظاہرہ ہو رہا ہے۔ اسی لیے حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ دنیا اور عورتوں کے فتنے سے بچتے رہو۔
تمہارے سامنے انگریزوں اور یورپین اقوام کی مثالیں موجود ہیں۔ کیا وہ عورت کو حد درجہ آزادی دے کر کامیابی سے ہمکنار ہوئے ہیں ؟ اس میں بیشمار قباحتیں ہیں۔ ہمارے ہاں تو پھر بھی کسی حد تک سکون ہے ، یہاں پر اللہ اور اس کے دین کے نام لیوا موجود ہیں جو عورت کی بےراہ روی اور نام نہاد آزادی میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں مگر امریکہ اور یورپ جیسے ترقی یافتہ ممالک میں اطمینان اور سکون قلب نام کی کوئی چیز نہیں۔ وہ محلات میں رہتے ہوں یا بڑے بڑے ہوٹلوں کی زینت ہوں ، جدید تمدن نے انہیں بہت صلیل کیا ہے۔ ان کے اپنے فلاسفر اپنی تہذیب پر لعنت بھیج رہے ہیں۔ وہاں نیکی کا شائبہ تک نظر نہیں آتا ، بدکاری کی وجہ سے نسلیں خراب ہوچکی ہیں اور بداخلاقی حد کو پہنچ چکی ہے۔
حکومت بطور امانت۔
بہرحال جس جماعت کو یا قوم کو حکومت مل جائے ، وہ اس کے پاس بطور امانت ہوتی ہے ۔ حکومتی معاملات میں من مانی نہیں کرنی چاہیے بلکہ اللہ کے دین کو نافذ کرنا چاہیے۔ اللہ دیکھنا چاہتا ہے کہ تم لوگوں کے حقوق کس حد تک ادا کرتے ہو اور حکومت کی ذمہ داری کیسے نبھاتے ہو ؟ فرمایا تم دنیا کے نظام حکومت میں ممبر بن جائو ، وزیر یا صدر بن جائو (آیت) ” ثم تکون حسرۃ یوم القیمۃ “ پھر یہ چیزیں قیامت کو تمہارے لیے حسرت کا باعث ہوں گی۔ تم افسوس کرو گے کہ یہ ذمہ داری نہ اٹھائی ہوتی۔ ہماری زندگی ہمارے پاس امانت ہے پہلوں نے اس امانت کا حق دار نہیں کیا تو وہ ہلاک ہوئے۔ اب تم ان کے جانشین ہو۔ تمہارے اعمال کی بھی آزمائش ہوگی اور پھر تم پر واضح کردیا جائے گا کہ تم کیسے عمل کرتے رہے۔
Ayahs 10:15–17ربط آیات۔
سورۃ یونس مکی دور کے آخر میں نازل ہوئی اس کا مرکزی مضمون قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت ہے۔ سورة کی ابتدائی آیت میں ہی اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حقانیت کا ذکر فرما دیا تھا۔ اس کے بعد دو مسئلے بیان ہوئے۔ ایک توحید کے عقلی دلائل کا اور دوسرا قیامت اور جزائے عمل کا اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کی حقانیت بیان کی ہے اور اس کے ساتھ رسالت کی صداقت کو بھی عقلی دلیل سے ثابت کیا ہے۔
آیات بینات۔
چنانچہ قریش مکہ کے ساتھ مکالمے کا ذکر ہور ہا ہے (آیت) ” واذا تتلی علیھم ایتنا بینت “ جب ان پر ہماری واضح واضح آئیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں۔ یہ اس کتاب کی آیات کا ذکر ہے جس میں تمام بنیادی عقائد موجود ہیں اور جو اس زندگی سے متعلق تمام احکام ، مسائل اور دلائل پر مشتمل ہے۔ مکی سورتوں میں زیادہ تر بنیادی مسائل ہی کا ذکر ہے جن میں توحید کے دلائل ، کتاب الٰہی پر ایمان ، نزول وحی اور اس پر ایمان ملائکہ ، اور تقدیر پر ایمان ، اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات پر ایمان اور حیات بعد الممات کی تفصیلات آتی ہیں۔ تو فرمایا کہ جب ہماری واضھ آئیتیں ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں جن میں قرآن پاک کی حقانیت اور توحید باری تعالیٰ کی ہزاروں لاکھوں نشانیاں موجود ہیں۔ ان کے گردوپیش میں بیشمار دلائل بکھرے پڑے ہیں۔ قرآن پاک اور اللہ کا پیغمبر ان کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ اگر ذرا بھی ان دلائل پر غور کرلو تو معاملہ صاف ہوجائے گا اور تمہیں اللہ کی ذات وصفات پر ایمان لانے میں کوئی مشکل باقی نہیں رہیگی۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جتنے بھی انبیاء اس دنیا میں مبعوث فرمائے ہیں سب نے اپنی اپنی اقوام کے سامنے ہمیشہ واضح بات ہی کی ہے۔ چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں قرآن پاک میں آتا ہے کہ انہوں نے اپنی قوم سے فرمایا ، لوگو ! میری بات کو اچھی طرح سمجھ لو (آیت) ” ثم لا یکن امرکم علیکم غمۃ “ (یونس) اس بارے میں تمہیں کوئی اشتباہ نہیں رہنا چاہیے۔ میں بالکل صاف بات کر رہا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو ماننا ضروری ہے اور شرک نہایت ہی قبیح چیز ہے جس سے بچنا لازمی ہے۔ قرآں کریم نے اس سلسلہ میں بہت زیادہ وضاحت کی ہے۔ مسئلہ رسالت کو بھی بالوضاحت بیان کیا ہے اور پھر معاد کے ضمن میں تمام تفصیلات سے آگاہ کیا ہے قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت پر سیر حاصل بحث کی ہے۔
معاد سے انکار۔
فرمایا جب ان کے سامنے واضح آیات کی تلاوت کی جاتی ہے۔ (آیت) ” قال الذین لا یرجون لقاء نا “ تو جن لوگوں کو ہماری ملاقات کا یقین نہیں ہے یعنی وہ وقوع قیامت پر ایمان نہیں رکھتے۔ حیات بعد الممات کے قائل نہیں ہیں ، ان کا جواب یہ ہوتا ہے جو آگے آرہا ہے قیامت پر ایمان لانا بنیادی اجزائے ایمان میں سے ہے۔ ظاہر ہے کہ جس نے ایمان کے کسی ایک جزو کا بھی انکار کیا اس نے مکمل طور پر کفر کیا۔ جب لوگ دنیا میں قبیح اعمال کا ارتکاب کرتے ہیں اور انہٰں ان کے برے انجام سے ڈرایا جاتا ہے تو وہ بجائے اس کے اپنی اصلاح کرلیں۔ وہ وقوع قیامت ، حساب کتاب اور جزا سزا کا ہی انکار کردیتے ہیں۔ اور ڈرانے والوں کو کہتے ہیں کہ یہ سب تمہارے خود ساختہ افاسنے ہیں ، کوئی قیامت نہیں آئے گی ، نہ کوئی دوبارہ زندہ ہوگا اور نہ کسی کا حساب کتاب ہوگا۔ اس بات کو قرآن پاک میں جگہ جگہ بیان کیا گیا ہے۔ کہیں فرمایا کہ جب ہم فنا ہوجائیں گے ، ہماری ہڈیاں بکھر جائیں گی ، ہمارے جسم کے ذرات منتشر ہوجائیں گے تو پھر کون انہیں اکٹھا کرے گا ؟ کہتے تھے کہ آج تک تو کسی کو مر کر زندہ ہوتے نہیں دیکھا۔ بہرحال یہاں ملاقات سے ناامید ہونے سے مراد قیامت کا انکار لیا گیا ہے۔
رجا کا معنی ایک تو امید ہے اور دوسرا خوف بھی ہے۔ جیسے سورة نوح میں ہے (آیت) ” مالکم لا ترجون للہ وقار “ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت اور وقار سے خوف ہی نہیں کھاتے۔ تو اس مقام پر خوف کا معنی بھی لیا جاسکتا ہے اور پورے جملہ کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ لوگ جو اللہ کی ملاقات سے خوف نہیں کھاتے وہ اس طرح کہتے ہیں۔ ان کا بیان آیت کے اگلے حصے میں آرہا ہے تا ہم مفسرین کرام یہاں پر زیادہ تر رجا کو امید کے مضمون میں ہی لیتے ہیں کہ ان لوگوں کو اللہ کے حضور پیش ہو کر جوابدہی کی امید ہی نہیں کہ کوئی ایسا وقت بھی آنے والا ہے۔
قرآن میں ترمیم کی خواہش۔
فرمایا جو لوگ ہماری ملاقات کی امید نہیں رکھتے۔ وہ کہتے ہیں ” ائت بقران غیر ھذا “ اس کے علاوہ کوئی دوسرا قرآن پاک لے آئو ” او یدلہ “ یا اگر مکمل طور پر کوئی دوسرا قرآں نہیں لاسکتے تو اسی کو تھوڑا بہت تبدیل کر دو ۔ مشرکین مکہ کا مقصد یہ تھا کہ اس قرآن کریم کی بعض باتیں تو ہم مان لیتے ہیں اور بعض کو تسلیم نہیں کرتے۔ لہٰذا اس میں جو چیزیں ہماری مرضی کے خلاف ہیں یا تو ان کو تبدیل کر دو یا سرے سے ہماری مرضی کا قرآن لے آئو تو ہم تسلیم کرلیں گے۔
باقی رہی یہ بات کہ ان لوگوں کو قرآن حکیم کی کونسی باتوں پر اعتراض تھا جو وہ ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ اخلاقیات کو تو وہ مانتے تھے کہ یہ بہت اچھی باتیں ہیں۔ قرآن پاک میں پندونصائح ہیں مگر جب ان کے عقیدے پر زد آتی تھی تو وہ انکار کردیتے تھے کیونکہ وہ اپنے جاہلانہ اور مشرکانہ عقائد کو چھوڑنے کے لیے قطعی تیار نہ تھے۔ سورة انبیاء میں حضرت ابراہیم کے بت شکنی کے واقعہ میں آتا ہے کہ جب آپ نے کفار کو ہر طرح لاجواب کردیا اور بتوں کی مذمت سے باز رہنے کی حامی نہ بھری تو کہنے لگے (آیت) ” حرقوہ وانصروا الھتکم “ ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں جلا دو اور اس طرح اپنے معبودوں کی مدد کرو ، ورنہ دلائل کے اعتبار سے یہ نوجوان ہمارے بتوں کی پوجا چھڑا دیگا۔ بھلا ہم ان بتوں کی کیسے چھوڑیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے چلے آئے ہیں مشرکین مکہ بھی یہی بات کہتے تھے کہ ہمارے بتوں کی مذمت نہ کرو ، پھر ہم تمہاری بات ، سننے کے لیے تیار ہیں۔ وہ یہ بھی کہتے تھے کہ آئو ہمارے ساتھ سمجھوتہ کرلو۔ کچھ تمہاری باتیں ہم مان لیتے ہیں اور کچھ ہماری باتیں تم مان لو۔ سورة قلم میں اس بات کی طرف اشارہ ہے (آیت) ” ودوالو تدھن فیدھنون “ یعنی مشرکین چاہتے تھے کہ آپ تھوڑا سا نرم ہوجائیں۔ ہمارے معبودوں کے معاملہ میں سختی نہ کریں تو ہم بھی آپہ کی بعض باتیں تسلیم کرلیں گے۔ بہرحال ان کا مطالبہ یہ تھا کہ یا تو سرے سے پورا قرآن بدل دو اسی میں بعض ترامیم کر کے ہماری منشاء کے مطابق کردو۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (آیت) ” قل “ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے (آیت) ” ما یکون لی ان ابدلہ من تلقاء ی نفسی “ اس قرؤن پاک کو بدلنا میرا کام نہیں ہے یعنی اس میں تغیر وتبدل کا مجھے ہرگز اختیار نہیں بلکہ مخلوق میں سے کوئی بھی ذات ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کو تبدیل کرسکے۔ ایسا کرنا تو خدا تعالیٰ کے ساتھ بغاوت کرنے کے مترادف ہے۔ اپنے کسی حکم کو تبدیل کرنا یا اسے منسوخ کردینے کا اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ سورة بقرہ میں اس کا قانون موجود ہے (آیت) ” ماننسخ من ایۃ او ننسھا نات بخیر منھا اومثلھا “ جو ہم کسی آیت کو منسوخ کرتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں تو ہم اس سے بہتر یا اس جیسی آیت اس کی جگہ لے آتے ہیں مقصد یہ کہ کسی آیت میں تغیر وتبدل یا منسوخ کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے۔ سورة کہف میں ہے (آیت) ” لا مبدل لکمٰتہ “ اللہ تعالیٰ کے کلام کو کوئی بھی تبدیل نہیں کرسکتا کیونکہ یہ کفر کی بات ہے۔ اللہ نے اپنے نبی کو فرمایا ہے کہ آپ ان لوگوں سے صاف صاف کہہ دیں کہ مجھے کسی آیت کو تبدیل کرنے کا اختیار نہیں ہے (آیت) ” ان اتبع الا ما یوحی الی “ میں تو صرف اسی بات کا اتباع کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے دوسرے مقام پر بھی اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو یہی حکم دیا ہے (آیت) ” اتبع ما اوحی الیک من ربک “ (الانعام) کتاب میں جو بھی وحی آئے آپ اس کی اتباع کرتے رہیں۔ ہر آمدہ حکم کی تعمیل کریں اور دوسرے لوگوں کو بھی اس کی تعلیم دیں۔
ہم قرآن پاک میں جگہ جگہ پڑھتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کے کلام میں تحریف کی اور اس کے مختلف احکام کو از خود تبدیل کر کے اپنی مرضی کے مطابق بنا لیا۔ مثال کے طور پر سورة بقرہ میں ہی آتا ہے۔ (آیت) ” فبدل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لھم “ جو بات ان کو کہی گئی تھی ، ظالموں نے اس کو تبدیل کردیا۔ پھر اس کا نتیجہ کیا ہوا (آیت) ” فانزلنا علی الذین ظلموا رجزا من السماء بما کانوا یفسقون “ ان کی نافرمانی کی وجہ سے ہم نے ان پر آسمان سے عذاب نازل فرمایا ، غرضیکہ بنی اسرائیل نے اللہ کی کتاب میں تحریف کی تو وہ لعنتی اور مغضوب علیہ ٹھہرے۔ اللہ تعالیٰ ایسے مجرموں کو بعض اوقات اس دنیا میں مہلت بھی دے دیتا ہے مگر آخرت میں تو ایسے بدبخت کسی صورت بچ نہیں سکتے۔ مہلت کا یہ قانون گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے۔
فرمایا میں تو صرف وحی الٰہی کا اتباع کرتا ہوں اور اس میں تغیر وتبدل کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ کیونکہ (آیت) ” انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم “ اگر میں اپنے رب تعالیٰ کی نافرمانی کروں گا۔ تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے ، لہٰذا میں تو وہی قرآن پیش کرونگا جو بذریعہ وحی مجھ پر نازل ہوا ہے اور جس کی اشاعت کا مجھے حکم دیا گیا ہے مجھے تو اس کتاب میں پیش کردہ نظام کو قائم کرنے کا حکم ملا ہے حضور ﷺ نے دعا میں سکھایا ہے (1۔ ابودائود ، ص 353 ، ج 1) ” اللھم منزل الکتب “ یعنی اے کتاب کو نازل کرنے والے مولا کریم ! ہم تو اسی کتاب میں نازل ہونے والے پروگرام کو دنیا میں رائج کرنے کے پابند ہیں اور اسی کی خاطر تیرے راستے میں جہاد کرتے ہیں۔ ہمارا کوئی دنیاوی یا ذاتی مقصد نہیں ہے۔ لہٰذا ہم دنیا میں تیرا ہی کلمہ بلند کرنا چاہتے ہیں ، اس لیے مجھے قرآن پاک کی کسی آیت میں تغیر وتبدل کی مجال نہیں ہے۔
قرآنی قانون کا نفاذ۔
اب آپ قرآن پاک کی اس واضح آیت کو مدنظر رکھ کر ذرا موجودہ حکومتوں کے نظام کا جائزہ لیں کہ دنیا میں آج جتنے بھی حکمران موجود ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے قانون کی کسی حد تک پابندی کر رہے ہیں۔ غیر مسلم اقوام تو خارج از بحث ہیں۔ ہم دنیا کی پچاس کے قریب مسلمان ریاستوں پر بھی نظر ڈالتے ہیں تو اس معاملہ میں سخت مایوسی ہوتی ہے کہ کسی ایک ریاست میں بھی من وعن قرآن پاک کے قانون پر عملدرآمد نہیں ہو رہا ہے۔ قرآنی پروگرام کے نفاذ کا خیال تو اسے آسکتا ہے جو قرآن پاک کی تلاوت کرلے گا۔ اور پھر اس کو سمجھنے کو کوشش کرے گا اور جس نے قرآن کریم کو پڑھا ہی نہیں ، وہ اس کے قوانین کو نافذ کیسے کرے گا ؟ آج کتنے لوگ ہیں جو قرآن پاک کے مطالب ومعانی کے عمق میں جانے کی کوشش کرتے ہیں ، حالانکہ اس کو کماحقہ سمجھنے کے لیے سخت محنت اور بڑا وقت دینے کی ضرورت ہے۔ محض امتحان پاس کرنے کے لیے چند سورتیں پڑھ لینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے آٹھ سال میں سورة بقرہ کی تفسیر مکمل کی تھی۔ علوم ، معارف اور حقائق کو معلوم کیا تھا۔ قرآن پاک میں تمام اصول موجود ہیں عمل کے لیے واضح لائحہ عمل موجود ہے۔ اس کے لیے پوری پوری عمر وقف کرنے کی ضرورت ہے۔ تب جا کر ساری باتیں سمجھ میں آئیں گی۔ مولانا علامہ انور شاہ کشمیری (رح) فرماتے ہیں کہ امام شافعی (رح) امت کے ذکی ترین لوگوں میں سے ہیں۔ انہیں ایک مسئلہ میں تردد پیدا ہوگیا تو اس کو حل کرنے کے لیے قرآن پاک کی تین سور مرتبہ تلاوت کی۔ ہر ہر آیت پر غور فکر کرتے اور مسئلہ کا حل تلاش کرتے۔ آخر تین سو مرتبہ کی تلاوت کے بعد وہ ایک آیت پر آکر رک گئے اور اپنا مقصود پا لیا۔ مطلب یہ ہے کہ حقیقت کو پانے کے لیے بڑی بڑی قربانی اور زیادہ سے زیادہ محنت بھی کرنی پڑے تو درگزرنے سے گوہر مقصود حاصل ہوگا۔ آج ہمارے قائدین اسمبلیوں میں بیٹھ کر بحث کرتے ہیں کہ امریکہ اور برطانیہ کا سرمایہ دارانہ نظام بہتر ہے یا روس اور چین کا اشتراکی نظام ؟ کونسا نظام زیادہ ترقی یافتہ ہے اور کونسا کم تر ہے ؟ ترکوں نے جرمن قانون لے لیا تھا اور ہم دوسروں کی طرف دیکھ رہے ہیں حالانکہ یہ سب لعنتی نظام ہیں۔ ہمارے لیے ان میں سے کوئی بھی مفید نہیں پھر قرآن پاک کو چھوڑ کر کون سے نظام کو اپنائیں گے ؟ سورة مرسلٰت میں اسی بات کو شکوہ کیا گیا ہے (آیت) ” فبای حدیث بعدہ یومنون “ قرآن پاک کو چھوڑ کر دوسرے کون سے پروگرام پر ایمان لائو گے۔ جب تک دنیا قائم ہے ، قرآن کے علاوہ کوئی دوسرا پروگرام نہیں آئیگا تو اس کو چھوڑ کر کدھر جائو گے۔ اسی پروگرام کے متعلق قرآن کریم نے ابتداء ہی میں فرمادیا (آیت) ” ذلک الکتب لا ریب فیہ “ اللہ کی اس آخری کتاب میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ پھر اس پروگرام کو اپنانے والوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” اولئک علی ھدی من ربھم واولئک ھم المفلحون “ یہی لوگ ہیں جو اپنے پروردگار کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ دائمی کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔ بہرحال قرآن کریم کے پروگرام کو سمجھنے اور اس کو نافذ کرنے کے لیے ، بڑی محنت ، افرادی قوت اور وقت کی ضرورت ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انگریز لوگ تو مختلف کمیٹیاں بنا کر حدیث پر تحقیقات (ReseArch ریسرچ) کر رہے ہیں اس پر کثیر رقم خرچ کر رہے ہیں مگر ہم زبانی ایمان لانے تک ہی محدود ہیں نہ اس ضمن میں کوئی محنت و کاوش ہوتی ہے اور نہ قرآنی پروگرام پر عملدرآمد کا موقع آتا ہے۔ ہماری ناکامی کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم خود اپنے ذخیرہ علوم سے مستفید ہونے کے بجائے دوسروں کا منہ تک رہے ہیں۔ برطانیہ اور امریکہ کو آزمانے کے بعد اقتصادی نظام کے لیے چین کے نظام کی طرف آنکھیں اٹھتی ہیں اور کبھی روس اور جرمن کے نظاموں سے امید وابستہ کی جاتی ہے۔ پچاس سال سے اشتراکی نظام کو بھی آزمایا جا رہا ہے مگر اس میں بھی ایجاد ، بےدینی ، استبداد اور دماغی خرابی کے سوا کچھ نہیں ملا۔ تو یہاں پر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا کہ اگر میں بھی اللہ تعالیٰ کے کسی حکم کے خلاف کروں گا تو بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔
حیات پیغمبر بطور دلیل۔
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” قل “ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں (آیت) ” لوشاء اللہ ماتلوتہ علیکم “ اگر اللہ چاہتا تو میں یہ آیات قرآنی تم پر تلاوت نہ کرتا ، مقصد یہ ہے کہ تم اس قرآن پر ایمان نہیں لاتے اور اسے تبدیل کرنے کا مطالبہ کرتے ہو ، اللہ بھی اگر ایسا ہی چاہتا تو میں تمہیں پڑھ کر نہ سناتا ، مگر خدا تعالیٰ کی مشیت تو اسی پر وگرام کو غالب کرنا ہے۔ لہٰذا اسی کی تلاوت کرنا میرا فرض ہے۔ اگر اللہ کو تمہاری بات منظور ہوتی (آیت) ” ولا ادرکم بہ “ تو وہ تمہیں اس قرآن پاک کی خبر ہی نہ دیتا۔ مگر اس کی مشیت تو اسی میں ہے کہ میں یہی کلام الہٰی تمہیں پڑھ کر سنائوں یہ کوئی میرا خود ساختہ پروگرام نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے اگر تمہیں اس بارے میں کوئی شک ہے کہ قرآن میں اپنی طرف سے بنا کرلے آیا ہوں تو ذرا اس دلیل پر غور کرو (آیت) ” فقد لبثت فیکم عمرا من قبلہ “ میں نے تمہارے درمیان عمر کا ایک بڑا حصہ (چالیس سال گزارے ہیں۔ تم مجھے اور میرے خاندان کو جانتے ہو۔ ابھی پانچ سال پہلے کی بات ہے کہ حجر اسود کی تنصیب کے لیے تم نے مجھ ہی پر اعتماد کیا تھا ، تم مجھے صادق اور امین کہتے رہے ہو آج تک میرے کردار پر کسی کو انگلی اٹھانے کی جرت نہیں ہوئی ، میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا ، کبھی وعدہ خلافی نہیں کی ، کسی پر بہتان نہیں لگایا ، کسی کو تکلیف نہیں دی ، کسی کا مال نہیں چھینا ، کسی کی تذلیل وتوہین نہیں کی بلکہ دوسروں کی خدمت کو شعار بنا رکھا ہے۔ ان تمام شواہد کے باوجود (آیت) ” افلا تعقلون “ تم اتنی بھی عقل و شعور نہیں رکھتے اور یہ نہیں سوچ سکتے کہ جو شخص چالیس سال تک سچا اور ایماندار رہا ہے وہ یکایک جھوٹ پر کیسے اتر آئے گا اور خود قرآن بنا کر اسے اللہ کی طرف منسوب کرے گا (العیاذ باللہ) یہ تو معمولی سوجھ بوجھ کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ جو شخص اتنے اعلی کردار کا حامل ہے ، جس کی زندگی کا کوئی گوشہ تمہاری نظروں سے اوجھل نہیں وہ یکدم جھوٹ کسیے بولنے لگے گا۔ جو شخص اللہ کی مخلوق کے سامنے غلط بیانی نہیں کرتا ، وہ اللہ پر کیسے افتراء باندھے گا۔ فرمایا ذرا عقل کو بروئے کار لائو تو تمہارے تمام شبہات دور ہوجائیں گے۔
ابو دائو د شریف کی روایت میں عبداللہ ابن ابی الخنساء کا واقعہ آتا ہے کہ اس نے حضور ﷺ کے ساتھ کوئی معاملہ کیا تو کہنے لگا آپ یہیں ٹھہریں میں ابھی آتا ہوں۔ آپ وہیں کھڑے اس کا انتظار کرتے رہے حتی کہ تین دن گزر گئے۔ جونہی اس شخص کو یاد آیا تو اس جگہ پر پہنچا تو دیکھا کہ حضور ﷺ اس کا انتظار کر رہے ہیں ، معذرت کی کہ میں بھول گیا تھا۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ، اے نوجوان ! تو نے مجھے مشقت میں ڈال دیا۔ مجھ سے وعدہ لے لیا جس کی میں خلاف ورزی نہیں کرسکتا تھا غرضیکہ حضور ﷺ کی پوری زندگی تو شیشے کی طرح صاف ہے اور آپ سے کسی غلط بات کی توقع نہیں کی جاسکتی تو اب یکدم حضور کی ذات سے غلط بیانی کو کیسے منسوب کرلیا ۔ فرمایا یہ قرآن نہ تو میرا اپنایا ہوا ہے اور نہ میں اس میں تبدیلی کرنے کا مجاز ہوں۔ میں اپنی زندگی کو تمہارے سامنے بطور دلیل پیش کر رہا ہوں ، اب بھی تمہیں سمجھ نہیں آتی۔
بڑا ظلم۔
فرمایا (آیت) ” فمن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا “ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوسکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹا افتراء باندھے فرمایا اگر میں بھی ( نعوذ باللہ) غلط بات کروں گا تو اسی فہرست میں آئوں گا۔ میرے لیے یہ بات ہرگز لائق نہیں کہ میں خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھوں (آیت) ” او کذب بایتہ “ اور اس سے بڑا ظالم بھی کوئی نہیں جو خدا تعالیٰ کی آیتوں کو جھٹلایا ہے۔ جھوٹا دعوی کرنا والا مفتری اور کذب ہوتا ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی ظالم نہیں ہوتا ۔ فرمایا نہ تو میں اللہ پر جھوٹ باندھ رہا ہوں کہ قرآن پاک کو غلط طور پر اس کی طرف منسوب کر رہا ہوں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کلام اللہ تعالیٰ ہی کا نازل کردہ ہے اور میں اسی کی منشاء کے مطابق اس کی اشاعت کر رہا ہوں اور جو کچھ میں تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں ، یہ من وعن وہی ہے جو اللہ نے نازل فرمایا ہے۔ اور میں خدا تعالیٰ کی کسی آیت کو (العیاذ باللہ) جھٹلا کر ظالموں میں شامل نہیں ہونا چاہتا۔ فرمایا یاد رکھو ! جو کوئی اللہ پر افتراء باندھتا ہے یا اس کی آیتوں کو جھٹلاتا ہے وہ مجرم ہے اور اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے (آیت) ” انہ لا یفلح المجرمون “ کہ وہ مجرموں کو فلاح نصیب نہیں کرتا۔ میں نہ تو مفتری ہوں اور نہ مجرم۔ میں تو اللہ کی مشیت کے مطابق اس کے احکام کی تعمیل کر رہا ہوں اصل میں اللہ تعالیٰ اور اس کی آیتوں کو جھٹلانے والے تم خود ہو ، لہٰذا تمہیں اپنے انجام سے باخبر ہونا چاہیے۔ تم لوگ کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔