Ayahs 10:71–74ربط آیات
گذشتہ آیات میں قرآن پاک کی حقانیت اور دعوت الی القرآن کا کافی تذکرہ ہوچکا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل اور شرک کا رد فرمایا ہے۔ رسالت کے منکرین کی بھی تردید ہوچکی ہے۔ اب یہاں پر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کا تھوڑا سا واقہ تمثیل کے طور پر بیان کیا ہے ، اس کے بعد نام لیے بغیر دوسرے رسولوں کا ذکر بھی کیا ہے اور آگے چل کر حضرت موسیٰ اور ہارون علیما السلام کا تفصیل کے ساتھ بیان آئیگا۔ ان دو انبیاء کے واقعات بیان کر کے مشرکین مکہ کو تنبیہ کی گئی ہے۔ حضرت نوح اور موسیٰ علیما السلام کی اقوام کے لوگ بھی غرور وتکبر میں مبتلا تھے اور اسی طرح حضور ﷺ کے مخاطبین مشرکین بھی بڑی اکڑ دکھا رہے تھے اور آپ کی ہر بات کو جھٹلا رہے تھے۔ تو اللہ نے فرمایا کہ مغرور اقوام کا انجام دیکھ لو۔ اگر تم بھی اکڑ دکھائو گے تو تمہارا انجام بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔
عام طور پر دو چیزیں مال اور جاہ ضلالت کا سبب بنتی ہیں انہی کی وجہ سے لوگ غرور میں مبتلا ہو کر حق بات کو ٹھکرا دیتے ہیں۔ چناچہ فرعون کے واقعہ میں مال کی حقیقت کو بیان کیا گیا ہے۔ البتہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے تفصیلی حالات اگلی سورة میں آئیں گے۔ وہاں پر پورے دو رکوع میں یہ واقعات بیان کیے گئے ہیں ، یہاں پر صرف تنبیہ کے لیے اس تاریخی واقعہ کے کچھ حقائق سمجھائے گئے ہیں۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کا وعظ
ارشاد ہوتا ہے اے پیغمبر ! (آیت) ” وتل علیھم نبا نوح “ آپ ان کو نوح (علیہ السلام) کا حال پڑھ کر سنائیں۔ نبا کا لفظی معنی خبر یا حال ہوتا ہے ، تا ہم یہاں پر نوح (علیہ السلام) کے وعظ ونصیحت اور ان کے توکل علی اللہ کو خاص طور پر بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا (آیت) ” اذ قال لقومہ “ جب نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں سے فرمایا (آیت) ” یقوم ان کان کبر علیکم مقامی “ اے میری قوم ! اگر تمہیں میرا کھڑا ہونا گراں گزرتا ہے۔ کھڑا ہونے کا مطلب وعظ کرنا ہے کیونکہ اکثر وبیشتر واعظ وناصحین کھڑے ہو کر ہی وعظ ونصیحت کا کام کرتے ہیں۔ چناچہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق آتا ہے کہ لوگ ان کے سامنے بیٹھے ہوتے تھے اور وہ کھڑے ہو کر ان کو خطاب کیا کرتے تھے۔ بہت سی احادیث سے بھی یہی مترشح ہوتا ہے کہ حضور خاتم النبین ﷺ بھی بسا اوقات کھڑے ہو کر ہی وعظ فرمایا کرتے تھے۔ جیسے احادیث میں آتا ہے ” قام فینا رسول اللہ ص “ یعنی حضور ﷺ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور یہ یہ نصیحت فرمائی۔ اسی لیے خطبہ کھڑے ہو کردینا ہی سنت ہے۔ اس بات کا اشارہ سورة جمعہ میں بھی ملتا ہے (آیت) ” واذا راوا تجارۃ اولھو ن انفضوا الیھا وترکوک قائما “ اور جب یہ لوگ تجارت یا کھیل تماشہ دیکھتے ہیں تو آپ کو کھڑا چھوڑ کر ادھر چلے جاتے ہیں۔ آپ کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے کہ ایک تجارتی قافلہ آگیا اور سب لوگ ادھر متوجہ ہوگئے جسکی اللہ نے مذمت بیان فرمائی ہے۔ فرمایا نبی کو کھڑا چھوڑ کر بھاگ جانا تمہارے لیے مناسب نہیں تھا کیونکہ (آیت) ” واللہ خیر الرزقین “ رزق رساں تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ بہر حال کھڑے ہو کر وعظ ونصیحت کرنا انبیاء (علیہ السلام) کی سنت ہے۔
توکل علی اللہ
نوح (علیہ السلام) نے بھی قوم سے یہی فرمایا کہ اگر میرا کھڑا ہونا (آیت) ” وتذکیری بایت اللہ “ اور اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ وعظ ونصیحت کرنا تمہاری طبائع پر ناگوار گزرتا ہے تو ہوا کرے ، میں تو اس سے باز نہیں آونگا تمہاری ناگواری مجھے فرض منصبی سے ہٹا نہیں سکتی۔ ” فعلی اللہ توکلت “ میں تو میں اللہ پر بھروسہ رکھتا ہوں ، یعنی تمہاری ہر قسم کی مخالفت کے جواب میں میں اپنا کام اللہ کے بھروسے پر جاری رکھوں گا ، وہی مجھے کامیابی عطا کرے گا۔ دوسرے مقام پر حضور ﷺ کے متعلق بھی آتا ہے کہ مجرمین کے نافرمانی اکڑ اور غرور کی وجہ سے ہم وعظ ونصیحت کو ترک نہیں کرسکتے بلکہ اللہ کا نبی ہر حال میں اپنا فرض ادا کرتا رہیگا۔ سورة اعلی میں اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کو خطاب ہے ۔ (آیت) ” فذکران نفعت الذکر “ آپ ان کو نصیحت کرتے ہیں خواہ یہ فائدہ دے یا نہ دے ، آپ کے لیے تو یہ بہرحال مفید ہی ہے اور آپ کو اس کام کا اجر ملتا رہیگا ، حضرت شعیب (علیہ السلام) نے بھی یہی کہا تھا (آیت) ” علی اللہ توکلنا “ (الاعراف) ہم تو اللہ پر ہی بھروسہ کرتے ہیں ، ہود (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعات میں بھی توکل علی اللہ کی مثالیں موجود ہیں۔ سورة ابراہیم میں اللہ نے مختلف انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد ان کا یہی قول نقل فرمایا ہے (آیت) ” وما لنا الا نتوکل علی اللہ وقد ھدنا سبلنا “ کیا وجہ ہے کہ ہم اللہ کی ذات پر بھروسہ نہ کریں جب کہ اس نے تو ہمیں راستہ دکھایا ہے۔ اسی لیے فرمایا (آیت) ” وعلی اللہ فلیتوکل المتوکلون “ تمام اہل ایمان کو خدا کی ذات پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے اور اپنا کام جاری رکھنا چاہیے۔ اس میں یہ اشارہ بھی موجود ہے کہ مال و دولت یا جاہ واقتدار پر بھروسہ نہ رکھیں بلکہ اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنا فرض ادا کرتے رہیں کیونکہ نتیجہ مرتب کرنا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ جب اس پر اعتماد کر کے کوئی کام انجام دو گے تو وہ بہتر نتیجہ ظاہر کرے گا۔
کفار کو چیلنج
آگے کفار ومشرکین کو چیلنج کیا گیا ہے (آیت) ” فاجمعوا امرکم وشرکاء کم “ تم اپنا معاملہ جمع کرلو اور اپنے تمام شریکوں اور معبودان باطلہ کو بھی ساتھ ملا لو۔ جن کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہو ، جن کے نام کی نذرونیاز دیتے ہو اور جن کی پرستش کرتے ہو ان سب کو اکٹھا کرلو (آیت) ” ثم لا یکن امرکم علیکم غمۃ “ پھر تمہیں اپنے معاملہ میں کسی قسم کا شبہ بھی نہیں ہونا چاہیے۔ غمہ کا معنی تاریکی ہوتا ہے امام بیضاوی (رح) اس کا معنی مستورا یعنی چھپا ہوا کرتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو کچھ کرنا چاہتے ہو ، کھلے عام کرلو ، کوئی چیز پوشیدہ یا مشتبہ نہیں رہنی چاہیے دین میں اشتباہ والی کوئی چیز نہیں ہے۔ میں نے تمام اصول دین تم پر واضح کرد یے ہیں اور تمہیں اچھے طریقے سے سمجھا دیے ہیں ، اب جو تدبیر تم کرنا چاہتے ہو وہ بھی علی الاعلان کرلو (آیت) ” ثم اقضوا الی “ پھر میرے لیے جو فیصلہ کرنا ہے کرلو (آیت) ” ولا تنظرون “ اور مجھے مہلت بھی نہ دو ۔ مجھے خدا کی ذات پر توکل ہے جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ وہی میری دستگیری کرنے والا ہے ، میں تم سے خوف نہیں کھاتا ، مجھے ہر حالت میں خدا کا پیغام پہنچانا ہے ، لہٰذا میرے خلاف جو کچھ کرنا چاہو مجھے اس کی کچھ پرواہ نہیں۔
بے لوث خدمت
فرمایا (آیت) ” فان تولیتم “ اگر تم روگردانی کرو۔ میرے وعظ ونصیحت سے کچھ اثر قبول نہ کرو اور اپنی من مانی کرتے رہو ، تو مجھے کچھ پرواہ نہیں کیونکہ (آیت) ” فما سالتکم من اجر “ میں تم سے کسی اجر ، مزدوری یا معاوضے کا طلبگار نہیں ہوں ۔ ہر نبی نے اپنے آپ کو (آیت) ” ناصح امین “ کہا ہے یعنی میں تو خیر خواہی کرنے والا اور امانتدار ہوں (آیت) ” ان اجری الا علی اللہ “ میرا معاوضہ تو پروردگار عالم کے پاس ہے۔ ہر نبی نے یہی بات کہی کہ میں تو تمہاری خیر خواہی کی بات کرتا ہوں ، میری یہ بےلوث کا وش تمہارے ہی فائدے کے لیے ہے۔ اس میں میری کوئی ذاتی غرض نہیں ہے۔ دوسری جگہ فرمایا ، اگر میں تم سے کوئی معاوضہ طلب کروں تو اسے اپنے پاس ہی رکھ لو ، مجھے ہرگز نہ دو ۔ فرمایا (آیت) ” وامرت ان اکون من المسلمین “ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں فرمانبرداری کرنے والوں میں سے ہوجائوں۔ اللہ کی اطاعت اور اس کے دین کی دعوت کو اپنا شعار بنا لوں ۔ میں تو صرف اللہ کے حکم کی تعمیل کرتا ہوں اور یہی میرا مشن ہے۔ اس طرح گویا نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو وعظ فرمایا۔
مکذبین کی غرقابی
افسوس کہ قوم پر اس نصیحت کا کوئی اثر نہ ہوا (آیت) ” فکذبوہ “ لہٰذا انہوں نے نوح (علیہ السلام) کو جھٹلادیا۔ ان کی ایک نہ مانی ، کفر پر اصرار کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا (آیت) ” فنجینہ “ اللہ نے فرمایا ، ہم نے نوح (علیہ السلام) کو تو بچا لیا۔ (آیت) ” ومن معہ فی الفلک “ اور آپ کے ساتھیوں کو بھی بچا لیا جو آپ کے ساتھ کشتی پر سوار تھے اور جن کی جملہ تعداد اسی کے قریب تھی (آیت) ” وجعلنھم خلئف “ انہیں پہلوں کا جانشین بنایا۔ انہی کو زمین میں بسایا اور انہی سے آگے نسل انسانی چلائی (آیت) ” واغرقنا الذین کذبوا بایتنا “ اور ہماری آیات کو جھٹلانے والوں کو غرقاب کردیا۔ گویا نافرمانوں کی جڑ بنیاد ہی سے کاٹ ڈالی۔ کشتی میں سوار نفوس کے علاوہ بستیوں کا ایک فرد بھی زندہ نہ چھوڑا ، سب کو ہلاک کردیا فرمایا (آیت) ” فانظر کیف کان عاقبۃ المنذرین “ پس دیکھ لو ، ڈرائے ہوئے لوگوں کا کیسا انجام ہوا۔ جن لوگوں کو اللہ کا نبی بار بار ڈرارہا تھا اور انکے برے انجام سے خبردار کر رہا تھا ، اللہ نے دنیا میں ان کا نام ونشان تک مٹا دیا۔ یہ واقعہ بیان کر کے مشرکین مکہ اور مشرکین عرب کو تنبیہ کی گئی ہے۔ کہ اگر تم بھی انکار کرتے رہو گے ، اللہ کے نبی کی تکذیب کر وگے تو تمہارا حشر بھی قوم نوح کی طرح ہی ہو سکتا ہے۔
مسلسل تکذیب
آگے اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کے بعد آنے والے انبیاء اور ان کی قوموں کا اجمالا تذکرہ کیا ہے (آیت) ” ثم بعثنا من بعدہ رسلا الی قومھم “ پھر نوح (علیہ السلام) کے بعد ہم نے ان کی اقوام کی طرف رسول بھیجے۔ ان میں سے بعض رسولوں کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے۔ جیسے ہود (علیہ السلام) ، صالح ع ، شیعب (علیہ السلام) اور ابراہیم (علیہ السلام) اور بعض کا ذکر اللہ نے نہیں فرمایا۔ سورة النساء میں ہے (آیت) ” ورسلا قد قصصناعلیک من قبل ورسلا لم نقصصھم علیک “ اے پیغمبر ! ہم نے اس سے پہلے بعض پیغمبروں کا ذکر کیا ہے اور بعض کا نہیں کیا ، غرضیکہ فرمایا کہ جو انبیاء ہم نے مختلف اقوام کی طرف بھیجے (آیت) ” فجاء وھم بالبینت “ وہ ان کے پاس واضح دلائل ، نشانیاں ، معجزات اور احکام لے کر آئے۔ بینات میں یہ ساری چیزیں شامل ہیں۔ انہوں نے ہر چیز کو واضح طور پر بیان کردیا اور کوئی ایسی بات نہ چھوڑی جو سمجھ میں نہ آسکے مگر (آیت) ” فما کانوا لیومنوا بما کذبوا بہ من قبل “ جس چیز کو اس سے پہلے ہی جھٹلا چکے تھے ، اس کو آخرتک تسلیم نہ کیا بلکہ مسلسل تکذیب ہی کرتے رہے۔
فرمایا (آیت) ” کذلک نطبع علی قلوب المعتدین “ ہم اسی طرح تعدی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ انصاف اور ہدایت کے طالب کا دل تو نیکی اور ایمان کے لیے کھول دیا جاتا ہے مگر تجاوز کرنے والے کے دل پر ٹھپہ لگا کر ہمیشہ کے لیے بند کردیا جاتا ہے اور پھر اس کے دل میں ایمان نہیں اتر سکتا اور وہ اس طرح دنیا سے نامراد چلا جاتا ہے۔ سورة مطففین میں فرمایا ہے (آیت) ” کلا بل ران علی قلوبھم ما کانوا یکسبون “ ان کی بری کمائی کی وجہ سے ان کے دلوں میں زنگ چڑھ جاتا ہے ان میں ہدایت داخل نہیں ہو سکتی اور ا ی سے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (آیت) ” نولہ ما تولی ونصلہ جھنم “ (النسا) جس طرف وہ جانا چاہتے ہیں ہم ادھر ہی جانے کی توفیق دے دیتے ہیں اور بالآخر ان کا ٹھکانہ جہنم ہوتا ہے۔ سورة بقرہ کی ابتداء میں بھی آتا ہے (آیت) ” ختم اللہ علی قلوبھم وعلی سمعھم “ اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے۔ اب نہ تو اچھی بات ان کے دلوں میں داخل ہو سکتی ہے اور نہ وہ اسے سن سکتے ہیں۔ سورة نساء میں ہے (آیت) ” بل طبع اللہ علیھا بکفرھم “ ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے۔ اور ا یسا پہلے دن نہیں ہوجاتا بلکہ نافرمانوں کی مسلسل تکذیب ، ہٹ دھرمی ، بغض اور عناد کی وجہ سے ان کے لیے ہدایت کا دروازہ مستقل طور پر بند کردیا جاتا ہے۔ بہرحال اس مقام پر بھی فرمایا کہ اسی طرح ہم تعدی کرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔
Ayahs 10:75–82ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ اور مشرکین عرب کو سمجھانے کے لیے اور بعد میں آنے والے مشرکوں اور نافرمانوں کی عبرت کے لیے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کی مثال بیان فرمائی ، درمیان میں اجمالی طور پر دیگر انبیاء (علیہ السلام) کا ذکر کیا اور پھر فرمایا کہ دیکھ لو ڈرائے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہوا۔ ان تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء کی معرفت برے انجام سے ڈرایا تھا مگر وہ لوگ غرور وتکبر میں مبتلا ہوئے اور انبیاء (علیہ السلام) کو برداشت نہ کیا مگر اللہ کے نبیوں نے اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے تبلیغی مشن کو جاری رکھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے منکرین کو مختلف قسم کی سزائوں میں مبتلا کر کے صفحہ ہستی سے ناپید کردیا۔
موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت
پہلے انبیاء میں سے حضرت صالح (علیہ السلام) ، ہود (علیہ السلام) ، شعیب (علیہ السلام) ، ابراہیم (علیہ السلام) اور بعض دیگر اولو العزم ابنیاء کے تذکرے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ثم بعثنا من بعدھم موسیٰ وھارون “ پھر بھیجا ہم نے ان سابقہ انبیاء کے بعد حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو یہ دونوں اللہ کے جلیل القدر نبی تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) اگرچہ عمر میں چھوڑے تھے مگر زیادہ شان والے تھے ، ہارون (علیہ السلام) آپ کے بڑے بھائی تھے ، اللہ نے ان کو بھی نبوت عطا فرمائی اور آپ کی دوا سے انہیں موسیٰ (علیہ السلام) کا معاون بنایا۔ پھر اللہ نے ان دونوں کو فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا فرمایا پھر ہم نے بھیجا موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو (آیت) ” الی فرعون وملاہہ بایتنا “ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف اپنی نشانیاں دے کر۔ دونوں انبیاء کی یہ بعثت بنی اسرائیل اور قبطیوں پر مشتمل پوری امت کی طرف تھی۔ آپ کی اپنی قوم بنی اسرائیل کے لوگ تو آپ کو نبی تسلیم کرچکے تھے ، یہ بعثت خاص طور پر فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کی طرف تھی۔ یہ لوگ بڑے سرکش ، مستبد ، جابر اور مکذب تھے اس بات کو اللہ نے سورة طہ میں یوں فرمایا ہے (آیت) ” اذ ھبا الی فرعون انہ طغی “ تم دونوں بھائی ہماری نشانیاں لے کر فرعون کی طرف جائو۔ کیونکہ وہ بہت سرکش ہوگیا ہے۔ اس کو جا کر سمجھائو اور اس کے حواریوں کو بھی جو اس کے ہم نشین ہیں ، اس کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں اور اس کی سکیموں میں اس کے ساتھ موافقت کرتے ہیں۔
قوم کا تکبر
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جو نشانیاں دے کر بھیجا تھا ان کا ذکر سورة اعراف اور بعض دوسری سورتوں میں موجود ہے۔ ان میں سے دو معجزات یعنی عصا اور ید بیضا نمایاں تھے۔ جب دونوں بھائی فرعون کے دربار میں پہنچے اور اللہ کے پیغام پہنچایا (آیت) ” فاستکبروا “ تو ان لوگوں نے تکبر کیا ، اکڑ دکھائی (آیت) ” وکانوا قوما مجرمین “ وہ سب مجرم اور گنہگار قوم تھی۔ نہ تو فرعون نے انبیاء کی بات کو تسلیم کیا اور نہ ہی اس کے سربرآوردہ لوگوں نے ان میں سے صرف ایک آدمی ایمان لایا تھا جس کا ذکر سورة مومن میں موجود ہے (آیت) ” وقال رجل مومن من ال فرعون یکتم ایمانہ “ ان میں سے ایک آدمی نے کہا جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا کہ کیا تم ایسے آدمی کو قتل کرتے ہو جو کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے ؟ بہرحال ایک آدمی کے سوا فرعون کی پوری قوم نے تکبر کای مکہ کے لوگ بھی ایسے ہیں تھے جو حضور ﷺ کی دعوت ایمانی کے جواب میں اکڑ دکھاتے تھے۔ دلید ابن مغیرہ اور بعض دوسرے سرکردہ مشرکین مکہ ، طائف کے متکبرین بھی ایسے ہی تھے۔ یہ سب جرائم پیشہ لوگ تھے۔ سورة النمل میں اللہ نے فرمایا ہے (آیت) ” بھا واستیقنتھا انفسھم ظلما وعلوا “ ان کے دل تو یقین کرتے کہ ایسی نشانیاں کوئی عام انسان ظاہر نہیں کرسکتا ، بلکہ یہ خدا تعالیٰ کی جانب سے ہی ہیں مگر انہوں نے ظلم اور اکڑ کی وجہ سے ان کا انکار کردیا۔ انہوں نے الٹا موسیٰ (علیہ السلام) کو طعن کیا (آیت) ” قال الم نربک فینا ولیدا ولبثت فینا من عمرک سنین “ (الشعرا) تو ہمارے ہاں بچہ تھا ، ہم نے تیری پرورش کی اور تو ہمارے درمیان کئی سال تک رہا۔ پھر تم نے ہمارے ایک آدمی کو قتل کردیا اور بھاگ گئے۔ اب تم نبوت کا دعویٰ کر کے ہمیں نصیحت کرنے آئے ہو۔ فرعون اپنے حواریوں کے سامنے کہتا تھا کہ اس داعی نبوت کی زبان میں تو بس لکنت ہے۔ آپ کے لیے مہین یعنی حقیر کا لفظ استعمال کیا ( العیاذ باللہ) یہ سب اکڑ اور غرور کا نتیجہ تھا اور باقی سب لوگ فرعون کی ہاں میں ہاں ملانے والے تھے (آیت) ” وکانو قوما مجرمین “ ساری کی ساری قوم مجرم تھی۔ اسی طرح قوم عاد کے متعلق فرمایا کہ ساری قوم ظالم تھی۔ نوح (علیہ السلام) کے واقعہ میں قوم کے لیے عمین کا لفظ فرمایا کہ ساری قوم اندھی تھی۔ اور یہاں موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے متعلق فرمایا کہ سب مجرم تھے ان میں انصاف پسند آدمی کوئی نہیں تھا سوائے ایک کے جس کا ذکر ہوچکا ہے۔
حق کا انکار
فرمایا (آیت) ” فلما جاء تھم الحق من عندنا “ جب ان کے پاس ہماری طرف سے سچی بات گئی ، اللہ کی توحید کا پیغام آیا ، خدا کی عبادت کا پروگرام آیا ، قیامت کی فکر آئی اور نبی کی نبوت آگئی۔ حق بات وہ ہوتی ہے جو دلائل سے ثابت ہو۔ تو جب اللہ کا نبی یہ سچی باتیں لے کر آگیا تو کہنے لگے (آیت) ” قالوا ان ھذا لسحر مبین “ یہ تو کھلا جادو ہے حالانکہ اس میں جادو والی کوئی بات نہ تھی بلکہ یہ تو اللہ کا سچاپیغام تھا۔ اس طرح فرعون اور اس کے درباریوں نے حقیقت کو جادو سے تعبیر کردیا۔ اس کے جواب میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا (آیت) ” قال موسیٰ اتقولون للحق لما جائکم “ کیا تم حق بات کو جادو کہتے ہو جبکہ وہ تمہارے پاس آگئی ہے ؟ تمہیں کچھ تو حیا کرنی چاہیے (آیت) ” اسحر ھذا “ کہا یہ جادو ہے ؟ انبیاء علیھم السلام اور جادوگروں میں تو زمین وآسمان کا فرق ہے۔ انبیاء کے چہروں سے ان کے پاکیزہ اخلاق واطوار ان کا تقوی اور طہارت ، ان کی چال ڈھال کی شائستگی سب واضح ہوتے ہیں جب کہ ساحر لوگ خود غرض ہوتے ہیں۔ وہ تو جادو کو ذریعہ معاش بناتے ہیں اور اس کے ذریعے کمائی کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف ایک نبی کا یہ واضح اعلان ہوتا ہے (آیت) ” وما اسئلکم علیہ من اجر ان اجری الا علی رب العلیمن “ (الشعرائ) میں تم سے کوئی فیس یا اجرت طلب نہیں کرتا بلکہ میرا اجر تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ جب فرعون نے جادوگروں کو اکٹھا کیا تھا تو انہوں نے سب سے پہلے یہی شرط طے کی تھی کہ اگر ہم موسیٰ (علیہ السلام) پر غالب آگئے تو ہمیں انعام کیا ملے گا ؟ فرعون نے کہا کہ انعام کی کیا بات ہے ، میں تمہیں اپنا مقرب بنا لوں گا ، تمہیں دربار میں کرسی مل جائیگی ، اس سے بڑا انعام کیا ہو سکتا ہے غرضیکہ فرعون اور اس کے حواریوں نے اللہ کے نبیوں کی دعوت کو جادو کہ کر ٹھکرا دیا۔
جادو کی خباثتیں
جادو ایک ایسی چیز ہے جس میں انسان اکثر ناپاک رہتا ہے بعض اوقات جادوگر کو غسل جنابت بھی نصیب نہیں ہوتا ، کوئی قبروں سے ہڈیاں اکٹھی کرتا ہے ، کوئی زندہ آدمی کو قتل کرنے کے درپے ہوتا ہے کوئی کسی نابالغ بچے کے خون سے ہاتھ رنگتا ہے اور کوئی کسی کے بال حاصل کرنے کی فکر میں رہتا ہے اور پھر یہ کہ جادو کے لیے جو کلام پڑھا جاتا ہے ، وہ شرک پر مشتمل ہوتا ہے۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ جادو کا ادنی سے ادنی عمل بھی بدعت سے خالی نہیں ہوتاجادو میں غیر اللہ سے استمداد ، شرکیہ کلام ، فاسد عقیدہ ، گندے اور خسیس اعمال کا سہارا لینا پڑتا ہے ، اچھے اعمال کی توفیق ہی نہیں ملتی ، اسی لیے سحر کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ سورة بقرہ میں یہودیوں کی مذمت ان الفاظ کے ساتھ بیان کی گئی ہے کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال کر سحر سیکھنا شروع کردیا۔ یہ سیلمان (علیہ السلام) کے زمانے کا ذکر ہے جب جنات لوگوں کو جادو کا علم سکھاتے تھے۔ وہ جانتے ہیں کہ جس نے جادو کا علم حاصل کیا ، اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں مگر اس کے باوجود اس قبیح علم کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔
ترمذی شریف کی روایت (1۔ ترمذی ، ص 230) میں ہے کہ جو شخص جادو کے ذریعے لوگوں کو نقصان پہنچاتا ہے اس کے متعلق فرمایا ” حد السحر ضربۃ بالسیف “ یعنی ایسے جادوگر کی سزا سزائے موت ہے وہ کسی رحم کے قابل نہیں۔ ایسا آدمی تمدن کو بگاڑتا ہے۔ لہٰذا واجب التعزیر ہے حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ تمدن کو بگاڑنے والی چیزوں میں جادو بھی شامل ہے۔ جادوگر خفیہ عمل کے ذریعے لوگوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں ، جس طرح اشیائے خوردنی میں ملاوٹ کرنے والے تھوڑے نفع کی خاطر تمدن کے قاتل ہوتے ہیں اسی طرح جادوگر بھی تمدن انسانی کی تباہی کا باعث ہوتے ہیں۔
جادوگروں کی ناکامی
فرمایا ، یاد رکھو ! (آیت) ” ولا یفلح السحرون “ ساحر لوگ کامیاب نہیں ہوسکتے ، مولانا تھانوی (رح) نے یہ اشکال پیش کیا ہے کہ بعض اوقات جادوگر اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔ مگر اس آیت میں اس بات کی بالکل نفی کی گئی ہے۔ پھر آپ اس کا جواب بھی دیتے ہیں کہ یہاں جس کامیابی کی نفی کی گئی ہے وہ نبی کے ساتھ مقابلے کی صورت کا ذکر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جادوگر جب بھی اللہ کے نبی کے مقابلے میں جادوجگانا جا ہی گا ، وہ کامیاب نہیں ہو سکے گا۔ جادو ایک فن ہے اور جب اللہ تعالیٰ کی مشیت ہوتی ہے تو اس کے ذریعے بعض اوقات نقصان بھی ہوجاتا ہے۔ مگر جب یہی جادو یتی کے معجزے کے مقابلے میں آئے گا تو ناکام ہوجائے گا۔ اس مقام پر ناکامی کا یہی مطلب ہے۔
حصول اقتدار کا طعن
اہل باطل کا ہمیشہ سے یہ طریقہ رہا ہے کہ جب بھی اللہ کے کسی نبی نے انہیں حق کی طرف دعوت دی تو انہوں نے اس پر حصول اقتدار کا جھوٹا الزام لگایا ، ہمیشہ انبیاء (علیہم السلام) کو طعن دیا گیا کہ تم یہ وعظ ونصیحت اس لیے کرتے ہو کہ لوگ تم سے متاثر ہو کر تمہاری سیادت کو تسلیم کرلیں یہاں بھی ایسا ہی ذکر آرہا ہے۔ جب موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے جادو اور معجزے میں فرق کو بیان فرمایا تو فرعون اور اس کی قوم کے لوگ کہنے لگے (آیت) ” قالوا اجئتنا لتلفتنا عما وجدنا علیہ ابائنا “ اے موسیٰ (علیہ السلام) کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہمیں اس چیز سے پھیردے جس پر ہم نے اپنے ابائو اجداد کو پایا ، ہم تیری ایسی کسی بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں جس کی وجہ سے ہمیں اپنے ابائو اجداد کا دین ترک کرنا پڑے کہنے لگے تم دونوں بھائیوں کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے (آیت) ” وتکون لکما لاکبریاء فی الارض “ کہ تم دونوں کو زمین میں بڑائی حاصل ہوجائے ، تم ملک وقوم میں اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہو اور ہمیں اقتدار سے ہٹانا چاہتے ہو۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اقتدار اور جاہ تو نیک وبد سب کو حاصل ہوجاتا ہے مگر انبیاء کا مشن محض اقتدار حاصل کرنا نہیں ہوتا بلکہ ان کا مقصد بندے کا تعلق اللہ سے جوڑنا ہے ، اور وہ ساری تک ودو اسی مقصد کے حصول کے لیے کرتے ہیں۔
غرضیکہ قوم فرعون نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کو دو وجوہات کی بنا پر ٹھکرا دیا۔ پہلی وجہ یہ کہ تو ہمیں ہمارے بڑوں کی رسوم اور ان کے عقیدے سے ہٹانا چاہتا ہے اور دوسری یہ کہ تو ہم میں بڑائی حاصل کرنا چاہتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ انبیاء کا مشن محض حق کی تبلیغ ہوتا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اسلام کی دعوت دو وجہ سے ہے اگر منکرین اسلام قبول کرلیں تو ہماری لڑائی ختم ہوگئی ، یہ ہمارے بھائی بن گئے مگر موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کی دعوت کو فرعون اور اس کی قوم نے قبول نہ کیا اور کہا (آیت) ” وما نحن لکما بمومنین “ کہ ہم تمہاری باتوں پر یقین کرنے والے نہیں۔ ایمان کا لفظی معنی یقین ہی ہوتا ہے اور یہاں یہی معنی مراد ہے کہ فرعون اور اس کی قوم نے کہا کہ ہمیں تمہاری باتوں پر یقین نہیں آتا۔ تمہارا دعویٰ ہے کہ اللہ وحدہ لا شریک ہے اور تم خدا تعالیٰ کے فرستادہ نبی ہو ، تم ہمیں قیامت اور جزائے عمل کی بات بتاتے ہو ، مگر ہم تمہاری کسی بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔
ابائواجداد کی تقلید
ابائو اجداد کی تقلید دین حق کے راستے میں ہمیشہ سے رکاوٹ رہی ہے جب بھی اللہ کے نبیوں نے لوگوں کو توحید کی طرف بلایا تو انہوں نے ابائو اجداد کے قائم کردہ رسم و رواج اور باطل عقائد کا سہارا لیا قرآن پاک نے مکذبین کی اس روش کا بار بار تذکرہ کیا ہے۔ خود حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ خ ﷺ صحابی کا لقب دیا گیا ، جس کا مطلب یہ تھا کہ یہ لوگ ہمیں ابائو اجداد کے پرانے دین سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ مشرک لوگ باپ دادا کے دین پر قائم رہنے پر مصر ہیں (آیت) ” اولو کان ابائھم لا یعقلون شیا ولا یھتدون “ (البقرہ) اگرچہ ان کے باپ دادا بےعقل اور غیر ہدایت یافتہ ہی کیون نہ ہوں۔ ہاں اگر ابائو اجدادراہ راست پر ہوں تو ان کا اتباع کرنا کمال درجے کی بات ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا تھا کہ میں باطل پرستوں کا اتباع چھوڑکر (آیت) ” واتبعت ملۃ اباء ی ابراھیم واسحق ویعقوب “ (یوسف) میں نے اپنے ابائو اجداد ابراہیم (علیہ السلام) ، اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کی ملت کا اتباع کرلیا ہے اور انہی کے طریقے پر چل رہا ہوں ، اور یہ قابل فخر بات ہے۔ مگر کفر ، شرک ، بدعات اور باطل رسوم پر چلنا تو بےعقلی کی بات ہے اسی لیے حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو لوگ اپنی نسبت کفر وشرک اور باطل رسوم پر مرنے والے آبائو اجداد کی طرف کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں ، وہ لوگ اللہ کے نزدیک اس کیڑے سے زیادہ ذلیل ہیں جو گندگی کو گولیاں بنا بنا کر اپنے منہ اور ناک سے کھاتا رہتا ہے۔
جادوگراوں کا اجتماع
بہرحال فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا انکار کردیا اور ساتھ ساتھ یہ بھی حکم دیا (آیت) ” وقال فرعون ائتونی بکل سحر علیم “ میرے پاس بڑے بڑے جادوگر اکٹھے کر دو ۔ اس زمانے میں جادوگروں کی بہت قدرومنزلت تھی۔ ان میں سے بعض کو فرعونی حکومت کی طرف سے وظائف ملتے تھے اور یہ لوگ امور مملکت میں اسی طرح دخیل تھے جس طرح آجکل حکومت کے مشیروں میں ڈاکٹر ، انجیئنر ، سائنس دان ، ماہرین معاشیات اور قانون دان شامل ہیں۔ اس زمانے میں حکومت کے منصوبے ٹیکنوکریٹ بناتے ہیں جب کہ فرعون کے زمانے میں یہ کام ساحروں کاہنوں ، اور نجومیوں کے سپر دتھا۔ بہرحال فرعون نے تمام چیدہ چیدہ ساحروں کو جمع کرنے کا حکم دیا تا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف منصوبہ بندی کی جاسکے مفسر قرآن امام بغوی (رح) کے مطابق ایسے جادوگروں کی تعداد پندرہ ہزار تھی۔ (آیت) ” فلما جاء السحرۃ “ جب جادوگر آگئے۔ (آیت) ” قال لھم موسیٰ القوا ما انتم ملقون “ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے کہا کہ جو کچھ تم ڈالنا چاہتے ہو ، ڈال دو ۔ مطلب یہ تھا کہ تم جو بھی اپنا کرتب دکھانا چاہتے ہو ، دکھائو۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور جادوگرون کا مکالمہ اللہ نے مختلف سورتوں میں بیان فرمایا ہے۔ چناچہ ان سے مقابلہ شروع کرنے سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں کو حقیقت سے آگاہ کرنے کے لیے تقریر فرمائی کہ دیکھو ! تم دنیا کی خاطر حق وصداقت کے مقابلے پر آگئے ہو ، یاد رکھو ! کدا کے ہاں تمہاری اس حرکت کا انجام بہت برا ہوگا۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ اگر اب بھی تم اپنی حرکت سے باز نہیں آئے تو لائو پھر اپنا کرتب دکھائو۔ جو کچھ تمہارے پاس ہے اسے ظاہر کرو۔ بہرحال انہوں نے اپنے فن کا اظہار کردیا۔
جب موسیٰ نے ان کے کرتب کو دیکھا تو فرمایا (آیت) ” فلما القوا قال موسیٰ ما جئتم بہ السحر “ کہ جو چیزتم لائے ہو۔ یہ تو جادو ہے۔ یہ جو سانپ نظر آرہے ہیں یہ سانپ نہیں بلکہ رسیاں ہیں۔ اور انکی حقیقت کیا ہے (آیت) ” ان اللہ سیبطلہ “ بیشک عنقریب اللہ تعالیٰ اس کو باطل کر دیگا یعنی مٹا دیگا ، کیونکہ (آیت) ” ان اللہ لا یصلح عمل المفسدین “ بیشک اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کے کام کو نہیں سنوارا کرتا تمہا ا مقصد فرعون کی مدد اور باطل کی تائید ہے مگر یہ چیز حق کے مقابلہ میں نہیں چل سکتی ، کفر ، شرک ، استبداد اور ظلم سے بڑھ کر کونسا فساد ہو سکتا ہے تم ان قبیح حرکات کے مرتکب ہو رہے ہو ، لہٰذا تم فسادی ہو اور اللہ تعالیٰ فسادیوں کے کام کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچاتا۔
حق کا بول بالا
فرمایا (آیت) ” ویحق اللہ الحق بکلمتہ “ اللہ تعالیٰ حق کو اپنے کلام سے ثابت کرتا ہے (آیت) ” ولو کرہ المجرمون “ اگرچہ مجرم لوگ اس کو ناپسند ہی کیوں نہ کریں۔ خدا تعالیٰ کا یہ دستور اور طریقہ ہے کہ وہ حق کی حمایت کرتا ہے اور باطل کو مٹا دیتا ہے۔ خصوصا جب انبیاء کے مقابلے میں باطل کو پیش کیا جائے تو اللہ تعالیٰ یقینا اس کو مٹا دیتا ہے اسی لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فسادیوں کے عمل کو کبھی نہیں سنوارے گا۔
Ayahs 10:83–87ربط آیات
سرکش لوگوں کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا حال بیان کیا۔ پھر موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) اور ان کے مخالفین اور متکبرین فرعون اور اس کی قوم کا ذکر کیا۔ دراصل یہ مشرکین عرب اور ان کے بعد آنے والوں کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ اگر وہ بھی سابقہ اقوام کی طرح غرور اور تکبر کو اختیار کریں گے ، حق کے خلاف بغاوت کریں گے تو ان کا انجام بھی فرعون اور اس کے سرداروں سے مختلف نہیں ہوگا۔ فرعون کا واقعہ مختصرا پہلے بیان ہوچکا ہے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے سامنے خدا تعالیٰ کا پیغام پیش کیا تو اس نے اور اس کے ساتھیوں نے اسے سحر کہہ کر رد کردیا ، اور کہنے لگا کہ تم ہمیں ہمارے آبائو اجداد کے طریقے سے ہٹانا چاہتے ہو اور ہم سے ہمارا دین چھڑانا چاہتے ہو۔ اور ساتھ یہ بھی کہا کہ ہم اپنے جادوگروں کو تمہارے مقابلے کے لیے لے آئیں گے۔ چناچہ بڑے بڑے جادوگروں کو اکٹھا کرلیا گیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں اپنا کرتب پیش کرنے کی دعوت دی۔ جب انہوں نے اپنا کرتب دکھایا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ تو جادو ہے اور اللہ تعالیٰ جادو کو ضرور باطل کر دیگا اور یاد رکھو ! کہ اللہ تعالیٰ فسادیوں کے کام کو کبھی نہیں سنوارتا اور حق کو اپنے حکم سے ثابت کرتا ہے اگرچہ مجرم لوگ کتنا ہی ناپسند کیوں نہ کریں۔
چند اہل ایمان افراد
اب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لانے والوں کی کچھ کیفیت بیان فرمائی ہے۔ جس سے فرعون اور اس کی قوم کے مظالم کا نقشہ بھی کسی حد تک سامنے آتا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” فما امن لموسی “ اور نہ ایمان لائے موسیٰ (علیہ السلام) پر (آیت) ” الا ذریۃ من قومہ “ گر آپ کی قوم کے کچھ نوجوان۔ ذریت کا لفظی معنی۔۔ خواہ وہ لڑکے ہوں یا لڑکیاں۔ سورة آل عمران میں حضرت مریم (علیہ السلام) کے واقعہ میں آتا ہے (آیت) ” ذریۃ بعضھا من بعض “ یعنی اولاد کے بعض افراد بعض سے ہیں۔ اس آیت کریمہ میں ذریت کے لفظ کو مفسرین کرام نے دو مختلف معانی پر محمول کیا ہے ۔ اور اس کا ایک معنی افراد کی قلیل تعداد ہے۔ جب قومہ کی ضمیرفرعون کی طرف لوٹائی جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ قوم فرعون کے تھوڑے سے افراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے جن کا ذکر قرآن واحادیث میں ملتا ہے۔ ان میں فرعون کی بیوی آسیہ ، فرعون کا ایک خزانچی ، فرعون کی بیٹی کو کنگھی وغیرہ کرنے والی خادمہ کا خاندان ، اور آل فرعون کا ایک مومن شامل ہیں۔ فرعون کی بیوی آسیہ کا ذکر سورة تحریم میں موجود ہے۔ اس نے بڑی تکالیف برداشت کیں اور بالآخر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ اسے قوم فرعون کے ظالم سے نجات دے۔ اسی طرح فرعون کی بیٹی کی خادمہ کے خاندان کو بھی فرعون نے بڑی سخت سزا دی۔ تانبے سے بنے ہوئے گھوڑے کے مجسمہ میں آگے جلا کر پورے خاندان کو اس میں جھونک دیا اور جلا ڈالا۔ آل فرعون کے ایک مومن کا ذکر سورة مومن میں موجود ہے ، بلکہ سورة کا نام مومن اسی مومن کے نام پر ہے۔ پہلے وہ شخص اپنے ایمان کو ظاہر نہیں کرتا تھا مگر کسی موقع پر اس نے اپنے ایمان کا اظہار کیا تو سخت آزمائش میں مبتلا ہوگیا ، بہرحال ذریت سے مراد یہی تھوڑے سے لوگ ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے۔
چند بنی اسرائیلی نوجوان
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ قومہ سے مراد موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم ہے اور ذریت سے مراد نوجوان ہیں اور اس طرح مطلب یہ ہوگا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ان کی قوم کے چند نوجوان ہی ایمان لائے۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کی تعداد تو چھ لاکھ سے تجاوز کرچکی تھی جب انہوں نے بحرقلزم کو عبور کیا مگر یہاں صرف چند نوجوانوں کے ایمان کا ذکر آیا ہے۔ بات یہ ہے کہ بنی اسرائیل اپنی کثیرتعداد کے باوجود فرعون کے مظالم سے سہمے ہوئے تھے وہ اگرچہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان رکھتے تھے مگر اس کا اظہار نہیں کرتے تھے کہ کہیں کسی بڑی مصیبت میں گرفتار نہ ہوجائیں۔ فرعون قوم بنی اسرائیل کے خلاف ابتدا ہی سے تھا۔ اسے نجومیوں نے بتا دیا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا بچہ پیدا ہونے والا ہے جو تیری سلطنت کے زوال کا باعث بنے گا۔ لہٰذا اس نے بنی اسرائیل کے نو مولود بچوں کے قتل کا حکم دے دیا اور اسی طرح وہ نوے ہزار بچوں کے قتل کا مرتکب ہوا۔ چناچہ بنی اسرائیل فرعون کی طرف سے سخت سزا کے خوف سے اپنے ایمان کا اظہار نہ کرتے تھے حالانکہ ان میں یہ تصور پایا جاتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسی شخصیت کو بھیجے گا جو انہیں فرعون کے ظلم سے نجات دلائے گا۔ تا ہم وہ چند لوگ ہی تھے جنہوں نے اپنے ایمان کا برملا اظہار کیا اور پھر سخت ترین تکالیف برداشت کیں حتی کہ فرعون کی بیوی نے جام شہادت نوش کیا۔ اس لیے فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہ لائے مگر اس کی قوم کے چند جوان۔
فرعون کے مظالم
اور اس کی وجہ یہ تھی (آیت) ” علی خوف من فرعون وملائھم “ انہیں فرعون اور اس کے سرداروں مظالم کا خوف تھا اس لیے وہ کھل کر اپنے ایمان کا اظہار نیں کرتے تھے۔ کہتے تھے (آیت) ” ان یفتنھم “ کہیں وہ انہیں کسی فتنہ میں مبتلا نہ کر دے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے (آیت) ” وان فرعون لعال فی الارض “ کہ فرعون زمین پر مغرور تھا ، لہٰذا وہ کسی کو خاطر میں نہ لاتا تھا (آیت) ” وانہ لمن المسرفین “ اور بیشک وہ حد سے بڑھنے والا تھا۔ فرعون کی سرکشی ، اس کی من مانی کاروائی اور بنی اسرائیل کو ایذا رسانی سب کے سامنے تھی ، لہٰذا وہ اس ڈر سے ایمان کا اظہار نہیں کرتے تھے کہ کہیں فرعون کے مظالم کا شکار نہ ہوجائیں۔
چند نوجوانوں کے ایمان لانے میں اس حقیقت کا انکشاف کیا گیا ہے کہ نوجوانوں میں نیا خون ، نیا ولولہ اور نیا جوش ہوتا ہے اس لیے کسی انقلابی اقدام کی توقع انہیں سے کی جاسکتی ہے۔ اس کے برخلاف عمر رسیدہ لوگ مصلحت کوش ہوتے ہیں۔ کم وبیش چالیس سال میں بن جانے والی ذہینت کو بدلنا نہایت مشکل ہوتا ہے ، لہٰذا بوڑھے لوگوں میں سے شاذ ونادر ہی ایسے ہوتے ہیں جو اپنی پرانی ڈگر کو ترک کرسکیں۔ چناچہ حضور خاتم النبین ﷺ پر ایمان لانے والوں میں نوجوان طبقہ ہی پیش پیش تھا جب کہ بوڑھے آدمیوں کی تعداد نہایت قلیل تھی۔
خدا پر بھروسہ
فرعون اور اس کے حواریوں کے مظالم کے پیش نظر (آیت) ” وقال موسیٰ “ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا (آیت) ” یقوم ان کنتم امنتم باللہ “ اے میری قوم کے لوگو ! اگر تم حقیقت میں اللہ پر ایمان لائے ہو (آیت) ” فعلیہ توکلوا “ تو پھر بھروسہ بھی اسی پر کرو (آیت) ” ان کنتم مسلمین “ اگر تم فرمانبرداری کرنے والے ظاہری اسباب کو اختیار کرنا بھی ضروری ہے مگر ان اسباب کو ہی اول وآخر نہیں سمجھ لینا چاہیے بلکہ اسباب کو بروئے کار لاتے ہوئے بھروسہ اللہ پر ہی کرنا چاہیے کیونکہ اسباب کا پیدا کرنے والا اور ہر چیز کا متصرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اگر وہ چاہے تو بےسروسامانی کی حالت میں بھی ایسے اسباب پیدا فرمادے گا جس سے تمہیں کامیابی نصیب ہو جائیگی اور وہ اس چیز پر بھی قادر ہے کہ تمام اسباب کی موجودگی میں بھی کسی چیز کو ناکام بنا دے ، لہٰذا بھروسہ اسی پر ہونا چاہیے۔ تو اس کے جواب میں معدودے چند اہل ایمان نے کہا (آیت) ” فقالوا علی اللہ توکلنا “ تو کہا انہوں نے ہم اللہ کی ذات پر ہی بھروسہ کرتے ہیں۔ اور ساتھ اللہ کی بارگاہ میں یہ دعا بھی کی۔ (آیت) ” ربنا لا تجعلنا فتنۃ للقوم الظلمین “ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں ظالم قوم کے لیے آزمائش نہ بنا کر ہم ہر وقت ان کے تختہ مشق بنے رہیں۔
اہل ایمان کی آزمائش
فرعون جیسے ظالم لوگ ہمیشہ کمزوروں پر دست درازی کرتے رہتے ہیں اور دین میں اختلاف رکھنے والے تو خاص طور پر ان کے مظالم کا نشانہ بنتے ہیں۔ قریش مکہ نے بھی غریب مسلمانوں کے ساتھ یہی سلوک کیا۔ اہل ایمان اور خود حضور ﷺ کو سخت اذیت پہنچاتے تھے حتی کہ جب ابو جہل جہنم واصل ہوا تو حضور ﷺ اللہ کی بارگاہ میں سجدہ شکر بجا لائے اللہ کے حضور دعا کی کہ مولا کریم ! ہمیں ظالم قوم کا تختہ مشق نہ بنا (آیت) ” ونجنا برحمتک من القوم الکفرین “ اور اپنی خاص رحمت سے ہمیں کافر قوم سے نجات دے۔
کافر ہمیشہ سے اہل ایمان پر ظلم وستم کرتے آئے ہیں۔ ہماری امت کے مسلمانوں کا بھی آجکل یہی حال ہے ساری دنیا کے مسلمان کافر قوموں کا تختہ مشق بنے ہوئے ہیں کہیں امریکہ ظلم ڈھا رہا ہے ، کہیں روس اور کہیں دوسرے اغیار۔ وہ جس طرح چاہتے ہیں مسلمانوں کو ذلیل و خوار کرتے ہیں مگر کوئی کسی کی مدد کو نہیں پہنچ سکتا۔ اور یہ آزمائش اس لیے آئی ہوئی ہے کہ مسلمان قوم اپنے مرکز سے ہٹ چکی ہے پوری دنیا میں مسلمانوں کے قتل اور لوٹ مار کی داستانیں سنی جاتی ہیں ، فلسطین ہو یا لبنان ، قبرص ہو یا افریقہ ، فلپائن ہو یا افغانستان ہر جگہ مسلمان ہی مصیبت ہیں لہٰذا اہل ایمان کو نہایت خلوص کے ساتھ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا کرنی چاہیے کہ وہ انہیں کفار کے مظالم کی آزمائش میں نہ ڈالے۔
ہندوستان کے ہندوئوں کی تنگ نظری بھی آپ کے سامنے ہے تقسیم ملک کے بعد ہندوستان میں چھبیس ہزار سے زیادہ ہندو مسلم فساد برپا کیے جا چکے ہیں جن میں لاکھوں انسان موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں۔ یہ سب کچھ ہندوئوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے خلاف ہو رہا ہے۔ جہاں بھی کسی کافر یا مشرکی کو موقع ملتا ہے وہ مسلمانوں کو ذلیل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ بہرحال اس زمانہ میں دنیا کے تمام خطوں میں مسلمان کڑی آزمائش میں مبتلا ہیں۔ صرف افغانستان میں بیس لاکھ آدمی موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں مگر کوئی پرسانِ حال نہیں۔
قوم موسیٰ (علیہ السلام) کو علیحدگی کا حکم
بنی اسرائیل کے ساتھ یہی سلوک ہو رہا تھا جب انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہمیں ظالموں کا تختہ مشق نہ بنا اور اپنی خاص رحمت سے ان ظالموں سے نجات دے۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واوحینا الی موسیٰ واخیہ “ اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی (آیت) ” ان تبوا لقومکما بمصربیوتا “ کہ اپنی قوم کے لیے مصر کے اندار گھر مقرر کرو۔ شاہ عبدالقادر (رح) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ جب فرعون کے مظالم بہت بڑھ گئے تو بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنے گھر قبطی قوم سے علیحدہ کرلیں۔ فرعونی قوم میں خلط ملط ہونے کی بجائے اپنی علیحدہ بستیاں آباد کریں اور وہاں سارے بنی اسرائیل مل جل کر رہیں تا کہ فرعون کے مظالم سے کسی حد تک محفوظ رہ سکیں۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ فرعونی قوم تو کسی کا زبانی ایمان لانا بھی برداشت نہیں کرتے تھے۔ چہ جائیکہ اہل ایمان اپنے عبادت خانے تعمیر کر کے ان کے اندر نماز ادا کرتے اس زمانے میں عبادت صرف عبادت کے لیے مخصوص مقامات پر ہی ادا ہوسکتی تھی ، لہٰذا بنی اسرائیل کی قوم فرعون سے علیحدگی کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے گھروں میں نماز پڑھنے کے لیے مناسب جگہ بھی مخصوص کرسکیں۔
گھروں میں نماز کا حکم
فرمایا مصر میں اپنے ٹھکانے بنائو (آیت) ” واجعلوا بیوتکم قبلۃ “ اور اپنے گھروں کے اندر ہی قبلہ بنائو۔ بعض فرماتے ہیں کہ اپنے گھروں میں ہی مسجدیں بنائو جن کا رخ قبلہ کی طرف ہو۔ اور پھر وہاں چھپ کر نمازیں ادا کرو۔ تا کہ فرعونیوں کو تمہارے ایمان کا پتہ نہ چل سکے۔ بہر حال اگر نماز کے لیے گھر میں بھی کوئی جگہ مخصوص کرلی جائے تو اس کا قبلہ رخ ہونا ضروری ہے تا کہ نماز ادا کرنے میں دقت نہ ہو اور پھر ایسی جگہ کو پاک صاف رکھنا بھی ضروری ہے کیونکہ یہ جگہ مسجد ہی کے حکم میں آتی ہے۔ ہماری امت کے لیے بھی حضور ﷺ کا فرمان ابودائود شریف میں موجود ہے کہ گھر میں جس جگہ کو نماز کے لیے مخصوص کرو اس کو پاک صاف رکھا کرو۔ سورة نور میں خدا تعالیٰ کا حکم بھی موجود ہے (آیت) ” فی بیوت اذن اللہ ان ترفع ویذکر فیھا اسمہ “ ایسے ہی گھروں کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ ان کو بلند کیا جائے اور ان میں اللہ کا ذکر کیا جائے ، وہاں کوئی کوڑا کرکٹ یا ظاہری گردوغبار نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی باطنی گندگی یعنی کفر ، شرک ، بدعات اور شعر و شاعری ہونی چاہیے۔
مسجد کے آداب
ہمارے ملک میں مساجد کے آداب کو قطعا ملحوظ نہیں رکھا جارہا۔ اللہ کی مسجدوں میں شرکیہ باتیں ہوتی ہیں۔ بدعات کو رواج دیا جاتا ہے شعر و شاعری اور شور شر برپا کیا جاتا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ لوگ مساجد میں شور برپا کریں گے اب تو لاوڈ سپیکر ایک مصیبت بن کر آگیا ہے۔ اس کے فائدے سے اس کا نقصان زیادہ ہے۔ مسجد میں کوئی سننے والا موجود ہو یا نہ ہو ، سپیکر چل رہا ہے اور سارے محلے میں خلفشار برپا ہے۔ نہ کوئی سکون کے ساتھ نماز ادا کرسکتا ہے ، نہ تلاوت کرسکتا ہے ، بیمار کو آرام میسر نہیں ، طالب علم اپنی تیاری سے محروم ہے۔ کبھی صلوٰۃ وسلام ہو رہا ہے ، کبھی تلاوت ہو رہی ہے ، کبھی سپیکر پر بچوں کی درس و تدریس ہر وہی ہے ، نعت خوانی اور غزل گوئی چل رہی ہے ، یہ سب زیادتی اور غلط طریقہ ہے۔ اگر لاوڈ سپیکر کا استعمال واقعی ضروری ہے تو پھر اسے سامعین تک محدود رکھو ، ساری دنیا کو کیوں پریشان کرتے ہو۔ اگر مسجد میں کچھ لوگ بیٹھے ہیں اور وعظ وتبلیغ کے لیے سپیکر کی واقعی ضرورت ہے تو پھر اسے مسجد تک محدود رکھو۔ باقی لوگوں کو پریشان کرنا کہاں کا انصاف ہے اور کونسا دین ہے ؟ اس قباحت میں کوئی ایک گروہ نہیں بلکہ سارے کے سارے فرقے شامل ہیں اور ایک دوسرے سے بڑھ کر شور کرنے میں مصروف ہیں۔
نماز کی تلقین
الغرض ! فرمایا ، اپنے گھروں کے اندر ہی مسجدیں بنائو اور ان کا رخ قبلہ کی طرف رکھو (آیت) ” واقیموا الصلوۃ “ اور پھر ان میں نماز بھی ادا کرو کیونکہ نماز کسی حالت میں بھی ترک نہیں کی جاسکتی۔ نماز کی برکت سے اللہ تعالیٰ تمہاری مشکلات کو آسان فرمائے گا اور تمہارا تعلق بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ درست رہے گا ، لہٰذا نماز پڑھا کرو۔ اور اس کے صلے کے طور ارشاد ہوا (آیت) ” وبشر المومنین “ ایمان والوں کو خوشخبری سنا دو کہ خواہ ان پر کتنے بھی مصائب آئیں ، بالآخر اللہ تعالیٰ انہیں ابدی راحتوں سے نوازے گا اور انہیں ابدی کامیابی نصیب ہوگی۔