Ayahs 10:88–89ربط آیات
گذشتہ آیا میں قریش مکہ ، مشرکین عرب اور بعد میں آنے والے کفار ومشرکین کو کفر وشرک سے باز رہنے کی تنبیہ کی گئی اور مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ نے قوم نوح (علیہ السلام) کی سرکشی کا ذکر فرمایا۔ پھر فرعون اس کے سرداروں اور قوم کے غرور وتکبر کا ذکر فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کا حال بھی بیان کیا۔ گذشتہ درس میں فرمایا کہ نوجوان طبقہ سے تعلق رکھنے والے بہت تھوڑے افراد تھے جو آپ پر ایمان لائے۔ وہ فرعون کی طرف سے فتنے میں مبتلا ہوجانے کے خوف سے اپنے ایمان کا برملا اظہار نہیں کرتے تھے۔ تا ہم موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو تسلی دی کہ اگر تم خدا تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو تو اسی کی ذات پر بھروسہ رکھو قوم نے جواب میں توکل علی اللہ کا اعادہ کیا اور ساتھ دعا بھی کی کہ اے ہمارے پروردگار ہمیں ظالم قوم کا تختہ مشق نہ بنا اور ہمیں کافروں کی قوم سے نجات دے۔ پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو وحی کی کہ اپنی قوم کے لوگوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنے گھروں کے اندر ہی مسجدیں بنائیں ، ان کا رخ قبلہ کی طرف کریں اور نماز کا التزام کریں۔ اب آج کے درس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر ہے اور آخر میں اللہ نے فرعون اور اس کے لشکر کی تباہی کا حال ذکر کیا ہے۔
گمراہی بسبب زینت اور مال
موسیٰ (علیہ السلام) نے بارگاہ رب العزت میں دعا کی (آیت) ” وقال موسیٰ رنبا انک اتیت فرعون وملاہ زینۃ واموالا فی الحیوۃ الدنیا “ اور کہا موسیٰ نے اے ہمارے پروردگار ! بیشک تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں زینت اور مال عطا کیے ہیں۔ زینت کا معنی رونق ہوتا ہے اور اس سے مراد جسمانی صحت ، حسن صورت ، لباس ، خوبصورت گھر اور زندگی کے دیگر لوازمات ہیں۔ مال میں سونے چاندی کے ڈھیر۔ ہر قسم کے مویشی اور جانور ، بہتریں سواریاں ، اناج کے ذخائر وغیرہ شامل ہیں۔ خاص طور پر سونے ، چاندی اور جواہرات کی کانیں جو مصرے سے لے کر حبشہ تک پھیلی ہوئی تھی ، سب فرعون کے قبضہ میں تھیں اور سلطنت کی آمدنی اس کے علاوہ تھی۔ اس چیز کے پیش نظر موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اے اللہ ! تو نے ہر قسم کے مال و دولت اور زندگی کی تمام آسائشیں اور رونقیں فرعون اور اس کے حواریوں کو عطا کررکھی ہیں۔ (آیت) ” ربنا لیضلہ عن سبیلک “ تا کہ وہ لوگوں کو تیرے راستے سے گمراہ کرسکیں۔ مقصد یہ کہ تیرے عطا کردہ اسباب کو کسی کارخیر میں صرف کرنے کی بجائے تیرے ہی راستے سے گمراہ کرنے پر خرچ کر رہے ہیں گویا تو نے ان لوگوں کو مال و دولت اس لیے بخشی ہے تا کہ یہ گمراہ کرسکیں (آیت) ” لیضلوا ‘ ‘ میں لام علت کے یے بھی ہو سکتا ہے یعنی باوجود اس کے کہ یہ لوگ راہ راست سے ہٹے ہوئے ہیں حق کی مخالفت کرتے ہیں ، برے ظالم ہیں ، اس کے باوجود تو نے انہیں مال و دولت ، اور دنیا کی آسائش کے تمام سامان مہیا کیے ہیں تا کہ یہ لوگوں کو گمراہ کریں۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ لام علت کے یے نہیں بلکہ لام عاقبت ہے۔ اگر ایسا ہے تو مطلب یہ ہوگا کہ اے پروردگار ! تو نے ان کو مال و دولت دیا مگر ان کا انجام یہ ہوا کہ انہوں نے لوگوں کو تیرے راستے سے گمراہ کیا۔ اس قسم کی مثال سورة قصص میں حضرت موسیٰ کے واقعہ میں بھی ملتی ہے فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پانی سے نکال لیا۔ (آیت) ” لیکون لھم عدواوحزنا “ تا کہ ان کے لیے دشمن اور باعث غم ہوجائے۔ یہاں بھی انجام یہ ہوا کہ وہ فرعون اور اس کی قوم کا دشمن اور ان کے لیے باعث غم واندوہ ہوگیا ، وگرنہ ان کی پرورش کا اصل مقصد جیسا کہ اگلی آیت میں بیان ہوا ، یہ تھا (آیت) ” عسی ان ینفعنا او نتخذہ ولدا “ کہ ہم اسے بیٹا بنا لیں گے اور یہ فائدہ دے دیگا۔
بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں پر (آیت) ” لیضلوا “ سے پہلے لا محذوف ہے اور یہ اصل میں اس طرح ہے ” لان لا یضلوا “ یعنی اے پروردگار ! تو نے ان کو مال و دولت اس لیے تو نہیں دیا تھا کہ یہ دوسروں کو گمراہ کرتے پھیریں۔ اس کی مثال قرآن پاک میں دوسری جگہ بھی ملتی ہے۔ وہاں الفاظ ہیں ” یبین الہ لکم ان تضلوا “ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے یہ باتیں اس لیے بیان کرتا ہے تا کہ تم گمراہ نہ ہو ، یہاں پر بھی صحیح مفہوم جبھی ادا ہوتا ہے جب (آیت) ” ان تضلوا “ کے درمیان لا محذوف مانا جائے۔
دراصل مال و دولت ، جاہ و حشمت اللہ تعالیٰ اس لیے عطا کرتے ہیں تا کہ اس کی نعمت کا شکر ادا کیا جائے ، نہ کہ کفروان نعمت کیا جائے۔ مال و دولت کو غلط راستے پر استعمال کرنا اللہ تعالیٰ کی ناشکری کے مترادف ہے۔ سورة اعراف میں موجود ہے (آیت) ” قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ والطیبت من الرزق “ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کہ کس نے حرام کی ہے وہ زینت جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا ہے اور پاکیزہ رزق بھی۔ مطلب یہ ہے کہ ایسی چیزوں سے فائدہ اٹھائو اور ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکر بھی ادا کرو۔ یہ زینت اور مال و دولت اللہ تعالیٰ کا انعام ہے۔ سورة نحل میں اللہ نے فرمایا ہے (آیت) ” الخیل والحمیر لترکبوا وزینۃ “ اللہ تعالیٰ نے اونٹ خچر اور گدھے تماری سواری کے لیے پیدا کیے ہیں اور یہ چیزیں تمہارے لیے باعث زینت بھی ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس گھر میں مال مویشی اور جانور موجود ہوں ، وہاں خوب رونق ہوتی ہے یہ اللہ کی نعمت ہے ، اس سے فائدہ بھی اٹھائو اور اس نعمت کا شکریہ بھی ادا کرو۔ یہ بڑے کارآمد جانور ہیں ، اللہ نے انہیں زینت سے تعبیر فرمایا ہے۔
جائز اور ناجائز زینت
ہر جائز زینت کو استعمال کرنا اور اس سے مستفید ہونا درست ہے ، البتہ مصنوعی ، بناوٹی اور غیر طبعی زینت کی ممانعت آئی ہے۔ مگر دنیا میں اکثر زینت اور مال کو ملوک و سلاطین اور صاحب اقتدار لوگوں نے غلط طور پر استعمال کیا ہے۔ بہت قلیل تعداد میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اپنے وسائل کو جائز طور پر استعمال کیا ہے ، مال و دولت کے حقوق ادا کیے ہیں ہزار میں سے ایک آدمی بھی بمشکل ملیگا جو اس معیار پر پورا اترا ہو ، وگرنہ اکثریت نے من مانی ہی کی۔ جس کے ہاتھ میں اقتدار آیا اس نے اپنی مرضی سے قانون چلایا ، اپنی مرضی سے عہدے تقسیم کیے ، اور اپنی مرضی سے مال خرچ کیا اور اس طرح سیاسی رشوت دینے کا مرتکب ہوا۔ مقصد یہ ہے کہ دنیا میں مال وجاہ کا عام طور پر غلط استعمال ہوا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ مومن کے یے مال ایک بہت صاحب (ساتی) ہے بشرطیکہ وہ اس کا حق ادا کرے ، غربا و مساکین کا خیال رکھے ، رفاہ عامہ کے امور انجام دے اور معصیت ، رسوم باطلہ اور بدعات کے کاموں سے پرہیز کرے۔ اگر اس نے مال کے حقوق ادا نہیں کیے تو یہی مال اس کے لیے خسارے کا باعث بنے گا۔
موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا
الغرض ! موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ پروردگار ! تو نے فرعون اور ا س کے سرداروں کو زینت اور مال و دولت اس لیے تو نہیں بخشا کہ وہ لوگوں کو گمراہ کرتے پھریں مگر یہ لوگ ان چیزوں کو غلط طور پر استعمال کر رہے ہیں ، اس لیے عرض کیا (آیت) ” ربنا اطمس علی اموالھم “ اے ہمارے پروردگار ! ان کے مالوں کو مٹا دے طمس کا معنی متا دینا ، تبدیل کردیا یا نیست ونابود کردینا ہے ، عرض کیا ، اے مولا کریم ! یہ ایسے ہٹ دھرم لوگ ہیں کہ ان کی اصلاح کی کوئی صورت ممکن نہیں رہی ، لہٰذا ان کے مال و دولت کو اس طرح تبدیل کر دے کہ یہ اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں طمس کا لفظ قوم لوط کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ سورة القمر میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے (آیت) ” فطمسنا اعینھم “ ہم نے ان کی آنکھوں کو مٹا دیا اور وہ اندھے ہوگئے۔ تو یہاں بھی فرمایا کہ اے اللہ ! ان کے مالوں کو مٹا دے اور اس کے ساتھ (آیت) ” واشدد علی قلوبھم “ ان کے دلوں کو سخت کر دے (آیت) ” فلا یومنوا حتی یروا العذاب الالیم “ کہ جب تک دردناک عذاب کو نہ دیکھ لیں ، ایمان ہی نہ لائیں۔ شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ فرعونی جب کوئی معجزہ دیکھتے تو ایمان کا اظہار بھی کردیتے ۔ جب کوئی تکلیف پہنچتی تو موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کی درخواست کرتے اور ایمان لانے کا وعدہ کرتے مگر جب وہ تکلیف دور ہوجاتی تو پھر اپنی پرانی ڈگر پر چل نکلتے۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا ، مولا کریم ان لوگوں سے سچے ایمان کی امید باقی نہیں رہی لہٰذا ان کے دلوں کو میزید سخت کر دے تا کہ عذاب آنے سے پہلے یہ جھوٹے ایمان کا اظہار بھی نہ کرسکیں اور بالآخر دردناک عذاب کے مستحق بن جائیں۔
دعا کی قبولیت
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا کے متعلق فرمایا (آیت) ” قال قد اجیبت دعوتکما “ تحقیق میں نے تم دونوں کی دعا کو قبول کرلیا ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے مالوں کو تبدیل کردیا۔ زیادہ تفصیلات تو معلوم نہیں تا ہم مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ان کے اناج کے ذخیرے میں خرابی پیدا ہوگئی اور وہ اناج کی بجائے سنگریزے بن گئے ، اس کی مثال حضرت عمر بن عبد العزیز (رح) کے زمانے میں بھی ملتی ہے۔ آپ وقت کے مجدد اور خلفائے راشدین کا نمونہ تھے اگرچہ پہلی صدی کے آخر تک خلافت مکمل طور پر ملوکیت میں تبدیل ہوچکی تھی مگر آپ نے اپنے دواڑھائی سالہ دور حکومت میں بنو امیہ کی خاندانی ملوکیت کو خلافت راشدہ کا نماونہ بنا کر دکھا دیا۔ آپ کے زمانے میں مصر کی ایک پرانی تھیلی دریافت ہوئی جس میں فرعون کے زمانے میں چنے اور انڈے رکھے گئے تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے اپنے غلام سے وہ تھیلی لانے کو کہا ، جب وہ کھولی گئی تھی تو اس میں موجود چنے اور انڈے پتھر بن چکے تھے گویا موسیٰ (علیہ السلام) کی بددعا سے اللہ تعالیٰ نے نافرمانوں کے اموال کو اس طرح تبدیل کردیا تھا کہ وہ قابل استعمال نہ رہے۔ ظاہر ہے کہ پتھر تو خوراک کے طور پر استعمال نہیں کیے جاسکتے۔ گویا طمس اموال کی دعا اس طرح قبول ہوئی بہرحال اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے مطابق بعض پھلوں اور اناج کو ناقابل استعمال بنا دیا۔
انبیاء اور بددعا
یہاں پر ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ انبیاء علہیم السلام تو ہمیشہ دعا ہی کرتے ہیں ، پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعونیوں کے حق میں بددعا کیسے کی ؟ مفسریں کرام فرماتے ہیں کہ عام طور پر اللہ تعالیٰ کے نبی کسی کے حق میں بددعا نہیں کرتے مگر جب وہ قوم کی زیادتیوں سے تنگ آجاتے ہیں اور ان کے راہ راست پر آنے سے بالکل مایوس ہوجاتے ہیں تو پھر بددعا کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ بھی ایسا ہی ہے۔ اللہ نے وحی کے ذریعے آپ کو بتا دیا تھا کہ ان میں سے کوئی بھی ایمان نہیں لائے گا اور ان کی نسلوں میں ڈھیٹ کافر ہی ہوں گے۔ اس کے بعد انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی (آیت) ” رب لا تذر علی الارض من الکفرین دیارا “ (سورۃ نوح) اے اللہ ! روئے زمین پر ایک بھی کافر زندہ نہ چھوڑا۔ اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی علم ہوگیا تھا کہ فرعونی کسی صورت میں بھی ایمان لانے والے نہیں سوائے چند افراد کے جن کا ذکر ہوچکا ہے ، تو انہوں نے ان کے حق میں بددعا کرنا درست ہے۔
آج کی دنیا میں بھی مال و دولت رکھنے والی طاقتیں غریب ممالک کو گمراہ کر رہی ہیں۔ دنیا کی متمول قومیں فضول کاموں پر بےدریغ روپیہ صرف کر رہی ہیں اور دنیا کو گمراہ کر رہی ہیں۔ اعداد و شمار والے بتاتے ہیں کہ اس وقت دنیا کی سپر طاقتیں ہلاکت خیز اسلحہ پر جس قدر رقم صرف کر رہی ہیں اس کا ایک فیصد بھی اگر پوری دنیا کے غریبوں پر تقسیم کردیا جائے تو کوئی ایک بھی غریب آدمی نہ رہے۔ آج صاحب مال لوگ زیبوزینت ، سامان آسائش ، کوٹھیوں اور کاروں پر بےتحاشا خرچ کر رہے ہیں مگر انسانی قدریں بالکل تباہ ہوچکی ہیں۔ دو سو سال تک دنیا میں برطانیہ کا طوطی بولتا رہا۔ اس کی وسیع و عریض سلطنت پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ پھر اللہ ن اس کو کمزور کردیا۔ جرمنی اور فرانس کا حال بھی ایسا ہی ہوا۔ اب امریکہ اور روس کا دور دورہ ہے یہ سب عیسائی یا دہریے ہیں جو غریب ممالک خصوصا مسلمانوں کو ہر طریقے سے گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ، لہٰذا ان کے خلاف بھی بددعا کرنی درست ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خود مسلمانوں کو بھی اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرنی چاہیے ، اپنی کم علمی ، نادانی اور کاہلی کے جال سے نکلنا چاہیے ترقی یافتہ ممالک کی صفت میں شامل ہونے کے لیے سائنس ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کرنی چاہیے ، محنت کو شعار بنان چاہیے اور اپنے وسائل کو جائز امور پر صرف کرنا چاہیے ، عیاشی ، فحاشی اور کھیل تماشے میں اپنے قویٰ اور دولت کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو سوچنے کی صلاحیت عطا کی ہے۔ لہٰذا انہیں بھی چاہیے کہ وہ اپنی استعداد اور وسائل کو بروئے کار لائیں ، ایک مرکز پر جمع ہوجائیں اور گمراہ کرنے والی طاقتوں سے چھٹکارا حاصل کرلیں۔
دعا اور آمین
مفسر قرآن ابوالعالیہ ، عکرمہ اور بعض دوسرے فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) دعا کر رہے تھے اور ہارون (علیہ السلام) آمین کہتے جاتے تھے گویا دعا کرنے والا اور آمین کہنے والا ایک جیسے ہوتے ہیں۔ امام ابوبکر جصاص (رح) اور بعض دیگر لوگوں نے اسی بات سے استدلال کیا ہے کہ سورة فاتحہ پڑھے بغیر صرف آمین کہنے والا بھی ایسا ہی ہے جسے اس نے خود سورة فاتحہ پڑھی ہو۔ پھر دعا کے آداب میں یہ بھی ہے کہ آہستہ دعا کرنا زیادہ بہتر ہے۔ اللہ نے سورة اعراف میں فرمایا ہے (آیت) ” ادعوا ربکم تضرعا و خفیہ “ اپنے پروردگار کو گڑ غرا کر اور چپکے چپکے پکارو۔ اگرچہ آمین بلند آواز سے کہنا بھی جائز ہے مگر افضیلت آہستہ کو حاصل ہے۔ حضرت عطا (رح) نے یہی بات فرمائی ہے۔ لوگ خواہ مخواہ اس بات پر جھگڑتے ہیں۔ یہ فروعی باتیں ہیں۔ ایک امام نے ایک طریقہ اختیار کیا ہے تو دوسرے نے دوسرے کو ترجیح دی ہے بعض غیر مقلد حضرات کہتے ہیں کہ احناف یہودیوں کی طرح آمین سے چڑ رکھتے ہیں۔ بھائی ! ایسی بات نہیں ہے بلکہ مسئلہ صرف افضلیت کا ہے کہ کونسا عمل زیادہ بہتر ہے۔
استقامت کا حکم
بہرحال اللہ نے فرمایا کہ تم دونوں بھائیوں کی دعا قبول کرلی گئی ہے (آیت) ” فاستقیما “ پس تم دونوں استقامت رکھو کیونکہ صحیح بات پر قائم رہنا ضروری ہے۔ حضور کو بھی یہی حکم ہوا (آیت) ” فاستقم کما امرت “ (ھود) آپ کو جو حکم دیا گیا ہے اس پر ثابت قدم رہیں۔ اگر آپ ڈانواں ڈول ہوں گے تو بہتر نتائج نہیں نکل سکیں گے ، کام ٹھیک طریقے سے کرتے رہیں اور اللہ کی ذات پر بھروسہ رکھیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس دعا کی قبولیت کے بعد فرعون چالیس سال تک زندہ رہا اور اس کے بعد بمع اپنی قوم کے غرق ہوا ، بہرحال اللہ تعالیٰ نے اپنی مصلحت کے تحت مناسب وقت پر کاروائی کی۔
فرمایا تم دونوں ثابت قدم رہنا (آیت) ” ولا تتبعن سبیل الذین لا یعلمون “ اور ان لوگوں کی راہ پر نہ چلنا جو ناواقف ہیں نادان اور بےعلم لوگوں کا اتباع نہ کرنا اور ان لوگوں کی راہ پر نہ چلنا جو ناواقف ہیں نادان اور بےعلم لوگوں کا اتباع نہ کرنا بلکہ حقیقت اور علم پر مستقیم رہنا حقیقت اور علم وہی ہے جو وحی کے ذریعے انبیاء پر نازل ہوتا ہے باقی سب ظنی باتیں ہیں اکثر وبیشتر کافر ، مشرک اور بدعتی بےعلموں کی بات پر چلتے ہیں۔ تمام رسومات باطلہ جہالت کی پیداوار ہیں جو اصول دین کے خلاف ہوتی ہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ دین اور شریعت پر چلو گے تو اللہ تعالیٰ اچھے نتائج پیدا کرے گا ، اس کی مثالیں حضور ﷺ کے زمانہ مابرک ، خلفائے راشدین اور خیرا لقرون کے زمانوں میں سامنے آچکی ہیں ، لہٰذا حقیقت کا اتباع کریں اور جاہلوں کے پیچھے نہ چلیں کیونکہ حقیقت سے دور ہوجانے کے وجہ سے ہی خرابی آتی ہے۔
Ayahs 10:90–92ربط آیات
گذشتہ آیات میں فرعون کی طرف سے بنی اسرائیل پر ہونے والے مظالم کا بیان تھا۔ آخر میں مایوس ہو کر موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعونیوں کے خلاف بددعا کی کہ پروردگار ! ان کے مالوں کو مٹا دے اور ان کے دلوں کو اس قدر سخت کر دے کہ یہ عذاب الیم دیکھے بغیر یقین نہ کریں۔ اللہ نے ارشاد فرمایا تمہاری دعا قبول ہوگئی ہے ، لہٰذا تم اپنے طریقے پر قائم رہو اور بےعلم اور ناواقفوں کے راستے کا اتباع نہ کرو۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ دعا کی قبولیت کے بعد چالیس سال تک موسیٰ (علیہ السلام) اس دنیا میں رہ کر اپنا کام کرتے رہے گویا چالیس سال تک اللہ تعالیٰ نے فرعون اور اس کی قوم کو مزید مہلت دی اور پھر آخر کار فرعون کے پورے لشکر کو بحر قلزم میں غرق کردیا۔ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ اور عرب اور ان کے بعد آنے والوں کے لیے عبرت کے طور پر صرف دو انبیاء حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا۔ دونوں انبیاء حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا۔ دونوں انبیاء کے مخاطبین سرکش اور مغرور تھے سو اللہ تعالیٰ نے دونوں اقوام کو پانی میں غرق کرنے کی سزا دی۔
بنی اسرائیل کی روانگی
تاریخ عالم شاہد ہے کہ جب کسی قوم کی سرکشی حد سے بڑھ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی گرفت بھی آجاتی ہے۔ پھر وہ انبیاء کو کامیاب کرتا ہے اور مخالفین کو ملیامیٹ کردیتا ہے۔ فرعون کی گرفت کا وقت بھ آچکا تھا۔ فرعون کی قوم کی سرکشی حد سے بڑھ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ کی گرفت بھی آجاتی ہے۔ پھر وہ انبیاء کو کامیاب کرتا ہے اور مخالفین کو ملیامیٹ کردیتا ہے۔ فرعون کو گرفت کا وقت بھی آچکا تھا۔ فرعون کی قوم کی تفصیلات قرآن پاک میں بہت سی جگہوں پر ذکر ہوئی ہیں اس سورة کے علاوہ اگلی سورة ہود میں بھی ذکر آرہا ہے۔ سورة شعراء میں بھی یہ واقعہ تفصیل سے آیا ہے۔ غرضیکہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کا واقعہ قرآن پاک کی مختلف سورتوں میں چھیالیس مرتبہ بیان ہوا ہے بنی اسرائیل کی مصر سے روانگی کے حالات کئی سورتوں میں آئے ہیں مثلا یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ اپنی قوم کو لے کر مصر سے نکل جائیں اس مقصد کے لیے مذہبی رسومات کی ادائیگی کا حیلہ کیا گیا۔ فرعونی بھی یہی سمجھے کہ یہ لوگ معمول کے مطابق مذہبی رسوم ادا کر کے واپس آجائیں گے لہٰذا انہوں نے بنی اسرائیل کی روانگی پر کوئی تعرض نہ کیا۔ بہرحال بنی اسرائیل قوم مصر سے نکل کھڑی ہوئی۔ ان کے مردوں کی تعداد سات لاکھ کے قریب تھی ، عورتیں اور بچے ان کے علاوہ تھے۔ بہرحال یہاں پر تفصیلات بتائی گئیں بلکہ صرف فرعون کا ذلت ناک انجام بیان فرماتا ہے تا کہ اس سے عبرت حاصل کی جائے۔
فرعون کی طرف سے تعاقب
جیسا کہ عرض کیا ہے موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے واقعات قرآن پاک میں کثرت سے بیان ہوئے ہیں۔ بعض تفصیلات احادیث میں بھی ملتی ہیں جنہیں امام ترمذی رح ، صاحب مستدرک حاکم (رح) اور بعض دوسرے محدثین نے بیان کیا ہے ۔ کچھ باتیں بائیبل میں بھی ملتی ہیں مگر ان پر کلیۃ اعتماد نہیں کیا جاسکتا ان میں بعض باتیں صحیح بھی ہیں اور بعض غلط بھی۔ اس کے علاوہ بعض بالکل تاریخی واقعات ہیں جنہیں مورخین اور مفسرین نے بیان کیا ہے۔ بہرحال بنی اسرائیل کے اس سفر اور فرعون کی طرف سے ان کے تعاقب کے متعلق جو حالات ملتے ہیں ان کے مطابق جب بنی اسرائیل کو مصر سے روانہ ہوئے ایک دو دن گزر گئے تو فرعونیوں کو تنبہ ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) قوم کو لے کر کہیں سمندر سے اس پر ہی نہ چلے جائیں۔ یہ پوری قوم ہماری غلام ہے۔ ہم ان سے من مانا کام لیتے ہیں۔ اگر یہ چلے گئے تو ہمارا سارا کام کاج ٹھپ ہو کر رہ جائیگا۔ فرعون بنی اسرائیل کا بحیثیت قوم دیرینہ دشمن تھا اور پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے منظر عام پر آنے کی وجہ سے اس کی نفرت میں کئی گنا اضافہ ہوچکا تھا۔ اسے خطرہ تھا کہ یہ سب مل کر میری سلطنت کے زوال کا باعث نہ بن جائیں۔ چناچہ جب فرعون کو بنی اسرائیل کے بھاگ نکلنے کا عندیہ ملا تو اس نے اپنے تمام لشکریوں کو حکم دیا کہ بنی اسرئیل کا تعاقب کیا جائے تفسیری روایات میں آتا ہے فرعون کم وبیش بارہ لاکھ مسلح فوجی ہمراہ لے کر موسیٰ (علیہ السلام) کے تعاقب میں نکل کھڑا ہوا۔
بنی اسرائیل کی پریشانی
اب آگے آگے بنی اسرائیل جا رہے تھے اور پیچھے پیچھے فرعون اور اس کی فوجیں تھیں۔ جب بنی اسرائیل بحر قلزم کے کنارے پر پہنچے تو سخت پریشان ہوگئے۔ سورة شعراء میں اس کا کچھ حال مذکور ہے۔ پریشانی کے عالم میں بنی اسرائیل کہنے لگے (آیت) ” انا لمدرکون “ کہ ہم تو فرعون کے ہاتھوں پکڑے گئے۔ آگے سمندر تھا اور پیچھے سے فرعون کا جم غفیر آرہا تھا۔
کہنے لگے اب ہماری خیر نہیں ، فرعون ہمیں سخت سزائیں دے گا ، مگر جیسا کہ سورة اعراف اور سورة شعراء میں بھی موجود ہے ، موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو تسلی دی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں (آیت) ” ان معی ربی سیھدین “ (الشعرائ) بیشک میرا رب میرے سات ہے ، وہ خود راہنمائی کرے گا۔ ہم اسی کے حکم کے مطابق تو مصر سے نکلے ہیں ، وہ ہمیں بےیارومددگار نہیں چھوڑے گا۔ چناچہ جب پوری قوم بنی اسرائیل بحر قلزم پر پہنچ گئی تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی فرمائی (آیت) ” ان اضرب بعصاک البحر “ (الشعرائ) اپنی لاٹھی کو سمندر پر مارو۔ یہ وہی لاٹھی تھی جو موسیٰ (علیہ السلام) کو معجزہ کے طور پر ملی ہوئی تھی اور اسے ہمیشہ آپ ساتھ رکھتے تھے یہی لاٹھی جادوگروں کے مقابلے میں اژدہا بن گئی تھی۔ تو اس لاٹھی کے متعلق حکم ہوا کہ اسے سمندر پر مارو۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اس حکم کی تعمیل کی تو سمندر میں فورا بارہ راستے بن گئے۔ ہر سڑک کے دائیں بائیں پانی کی دیواریں کھڑی ہوگئیں۔ جنہیں سورة شعراء میں (آیت) ” کالطود العظیم “ کہا گیا ہے۔ درمیان میں بارہ خشک راستے بن گئے۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے ، ہر ایک کو ایک ایک سڑک پر چلنے کا حکم ہوا۔ وہ چل رہے تھے اور سمندر کے بیچوں بیچ ایک دوسرے کو دیکھ بھی رہے تھے جس کی وجہ سے مطمئن تھے کہ وہ سمندر کو بخیریت پار کر رہے ہیں
فرعونیوں کی غرقابی
اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہاں فرمایا ہے (آیت) ” وجوزنا ببنی اسرائیل البحر “ اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار اتار دیا۔ پیچھے فرعون کی فوج آرہی تھی ۔ جب انہوں نے دیکھ کہ بنی اسرائیل ان راستوں سے گزر کر سمندر کے اس پار چلے گئے ہیں تو فرعون نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ وہ انہی راستوں سے بنی اسرائیل کا تعاقب کریں اور پھر خود بھی اپنا گھوڑا سمندر میں ڈال دیا۔ پھر فرعونیوں کا کیا حشر ہوا ؟ سورة طہ میں ہے (آیت) ” فغشیھم من الیم ما غشیھم “ پھر پانی کی موجوں نے انہیں خوب گھیرا ، حتی کہ ان میں سے ایک بھی زندہ نہ بچا ، سب کے سب غرق ہوگئے ، حکومت کا سربراہ ، فرعون ، اس کے وزیر ، امیر ، عہدے دار اور فوجی سب غرق ہوگئے اور پیچھے صرف عام پبلک کے لوگ رہ گئے۔ اللہ نے فرمایا ، نہ پوچھو پھر ان کا کیا حشر ہوا۔ تو اس مقام پر بھی ارشاد ہوتا ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار اتار دیا (آیت) ” فاتبعھم فرعون و جنودہ بغیا وعدوا “ فرعون اور اس کے لشکر نے ان کا تعاقب کیا سرکشی اور تعدی کرتے ہوئے۔ یہ فرعون کی تعدی اور ظلم تھا کہ اس نے اسرائیل کو غلام بنائے رکھنے کے لیے ان کا سمندر میں پیچھا کیا۔
فرعون کا ایمان لانا
فرمایا (آیت) ” حتی اذا ادر کہ الغرق “ یہ ان تک کہ جب پا لیا اس کو ڈوبنے نے۔ جب فرعون ڈوبنے لگا (آیت) ” قال امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنوا سراء یل “ تو کہنے لگا میں ایمان لایا کہ بیشک نہیں کوئی معبود مگر وہی جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں۔ (آیت) ” وانا من المسلمین “ اور میں بھی فرمانبردار ہوں یعنی اسی خدا پر ایمان لایا ہوں۔ مقصد یہ تھا کہ کسی طرح ڈوبنے سے بچ جائوں۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ جب فرعون ایمان کا اقرار کر رہا تھا تو جبرائیل (علیہ السلام) سمندر کی تہ سے گارا نکال کر اس کے منہ میں دے رہا تھا۔ گویا کہہ رہا تھا کہ اس منہ کو بند رکھو۔ اب ایمان لانے کا وقت نہیں رہا۔
جب فرعون نے یہ بات کی تو ادھر سے ارشاد ہوا ” الئن “ اب کلمہ پڑھتے ہو جب کہ ایمان لانے کا وقت گزر چکا ہے اور اللہ کی گرفت آچکی ہے۔ اللہ نے فرمایا تیری حالت یہ ہے (آیت) ” وقد عصیت قبل “ کہ اس سے پہلے تم نافرمانی ہی کرتے رہے ہو (آیت) ” وکنت من المفسدین “ تم غنڈے تھے۔ تم نے فساد برپا کرنے کا کوئی موقع نہیں چھوڑا۔ تم نے بنی اسرائیل کے ساتھ ظلم وتعدی کی انتہا کردی۔ اب عذاب کو آنکھوں سے دیکھ کر کلمہ پڑھتے ہو ، اب اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان (1۔ ترمذی ، ص 500) بھی ہے ” التوبۃ مالم یغرغر “ بندے کی توبہ اور ایمان اس وقت تک مقبول ہے جب تک کہ غرغرہ طاری نہ ہوجائے یعنی انسان پر نزع کی حالت طاری نہ ہوجائے۔ جب موت کے فرشتے نظر آنے لگیں اور غیب کا پردہ اٹھ جائے تو توبہ کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اب تمہاری توبہ قبول نہیں ہے۔ اس واقعہ سے اہل مکہ اور دیگر مشرکین عرب کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ دیکھوفرعون تم سے کتنا بڑا طاقتور اور جابر تھا جن نے الوہیت کا دعوی کیا ، بڑا آسودہ حال تھا ، ملک کے تمام وسائل اس کے قبضہ میں تھے مگر توحید و رسالت کا انکار کر کے اس کا حشر بہت برا ہوا۔ اگر تم نے بھی یہی راستہ اختیار کیا تو اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکو گے۔
نعش فرعون کی سلامتی
اللہ نے پورے فرعونی لشکر کو غرق کرنے کے بعد فرعون سے خطاب کیا (آیت) ” فالیوم ننجیک ببدنک “ آج ہم تیرے بدن کو باہر نکال دیں گے اللہ تعالیٰ کو فرعون کی نعش کی حفاظت بھی منظور تھی (آیت) ” لتکون لمن خلفک ایۃ “ تا کہ تو بعد میں آنے والوں کے لیے نشان عبرت بن جائے بعض کمزور دل لوگ فرعون کی غرقابی کے بعد بھی متفکر تھے کہ پتہ نہیں وہ غرق ہوا ہے یا نہیں۔ تو اللہ نے ان لوگوں کی تسلی کے لیے اور پیچھے آنے والوں لوگوں کی عبرت کے لیے فرعون کی لاش کو پانی سے باہر ایک ٹیلے پر پھینک دیا جب کہ باقوی سب لشکری سمندر میں غرق ہوگئے اور ان میں سے کسی ایک کی لاش بھی برآمد نہ ہوئی۔ بعض مورخین اور مفسرین کہتے ہیں کہ فرعون کی لاش کی ناک کا تھوڑا سا حصہ کسی مچھلی نے کاٹا تھا ، باقی سارا جسم صحیح سلامت تھا۔ اس وقت بحیرہ احمر کے کنارے ابو زنیمہ نامی بستی سے چند میل دور مقامی لوگ اس ٹیلے کی نشاندہی کرتے ہیں جہاں فرعون کی لاش پائی گئی تھی بعض علماء ناک کٹ جانے سے یہ مراد لیتے ہیں کہ شائد اللہ تعالیٰ کو یہ بتانا مقصود تھا کہ دیکھو اونچی ناک والا آدمی کس قدر ذلیل و خوار ہوا۔ تا ہم یہ سب تاریخی اور ظنی باتیں ہیں ، یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
فراعین مصر
یہ کونسا فرعون تھا جو غرق ہوا ، اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہ رعمسیس ثانی تھا۔ اور بعض اس کا نام منفتہ بتاتے ہیں۔ مورخین بتاتے ہیں کہ فراعینِ مصر کی دو لائنیں گزری ہیں اور یہ غرق ہونے والا فرعون دوسری لائن کے فراعین میں سے بتیسویں یا چھتیس نمبر پر آتا ہے۔ اس زمانے میں نعش کو حنوط کرنے کے ماہرین موجود تھے۔ مصر کے لوگ اس سے پہلے بھی فراعین کی لاشوں کو حنوط کرتے رہے تھے۔ لاش کو خاص قسم کا مسالہ لگا کر پٹیاں باندھ دی جاتی تھیں جس سے لاش گلنے سڑنے سے محفوظ ہوجاتی تھی۔ چناچہ اس دستور کے مطابق مصر کے لوگ اس فرعون کی لاش کو بھی اٹھا کرلے گئے اور اسے حنوط کر کے مقبرے میں رکھ دیا۔ اٹھارھویں یا انیسویں صدی میں جب انگریزوں نے آثار قدیمہ کی کھدائی کی ، تو ایسی حنوط شدہ (Preserved پر یسرود) لاشیں برآمد ہوئیں جنہیں مختلف عجائب گھروں میں رکھ دیا گیا۔ اس فرعون کی لاش بھی 1907 ئ تک مصر میں تھی۔ وہاں سے انگریز اسے برٹش میوزیم لندن میں لے گئے۔ اب پتہ نہیں کہاں ہے ؟ وہیں ہے یا مصریوں نے واپس منگوالی ہے۔
نشان عبرت
بہرحال قرآن پاک میں صرف دو باتوں کا ذکر ہے ایک یہ کہ فرعون کی لاش کو پانی سے باہر پھینک دیا گیا جب کہ باقی سارے فرعونی ڈبو دیے گئے اللہ کا فرمان ہے کہ ایک طرف تو پانی میں ڈبوئے گئے اور دوسری طرف (آیت) ” النار یعرضون علیھا غدوا وعشیا “ (المومن) صبح شام آگ پر پیش کیے جاتے ہیں۔ برزخ میں جہنم کی آگ پر پیش کیا جاتا رہیگا اور پھر آخرت میں تو سخت ترین عذاب ہوگا۔ بہرحال یہ لاش ان لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی اور آئندہ آنے والوں کے لیے نشان عبرت بن گئی۔ جس طرح نوح (علیہ السلام) کی کشی رہتی دنا تک یادگار کے طور پر قائم ہے۔ اسی طرح فرعون کی لاش کو بھی اللہ تعالیٰ نے یادگار اور عبرت کے لیے محفوظ کردیا۔ بعض لوگ ” لمن خلفک “ کو ” لمن خلقک “ پڑھتے ہیں۔ اگر ایسا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تو نے اپنے پیدا کرنے والے کی نشانی بن جائے۔ یہ شخص اپنے خالق کا سخت نافرمان تھا۔ الوہیت کا دعویدار تھا۔ اب اس کا حشر دیکھ لو کہ کس طرح اللہ نے اسے نشان عبرت کے طور پر باقی رکھا۔
بدن بمعنی زرہ
اس آیت میں بدن کا لفظ آیا ہے جس کا عام فہم معنی جسم ہوتا ہے اسی لیے آیت کا معنی یہ کیا گیا ہے کہ آج ہم تمہارے جسم کو شکست وریخت سفے بچا لیں گے۔ البتہ امام ترمذی رح ، امام بیضاوی (رح) اور امام مبرد (رح) نے اپنی کتاب کامل میں لکھا ہے کہ یہاں پر بدن سے مراد جسم نہیں بلکہ زرہ ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ اے فرعون ! ہم تیرے جسم کو بمع زرہ باہر نکال دیں گے۔ زرہ عام طور پر لوہے کی ہوتی ہے مگر فرعون کی زرہ سونے کی بنی ہوئی تھی اور بڑی مشہور تھی۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے بھی بدن سے مراد زرہ ہی ہے یعنی ہم تمہیں مردہ حالت میں بمع زرہ باہر نکالیں گے تا کہ لوگ دیکھ لیں کہ قمیص کے نیچے سونے کی زرہ پہننے والا فرعون ہلاک ہوچکا ہے۔ بدن ان چھوٹی زرہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے جس کے اوپر بڑی زرہ پہنی جائے ، بدن کا یہ معنی عربی ادب میں ملتا ہے۔ دیوان حماسہ کا ایک شعر ہے جسمیں ایک شخص اپنے ممدوح کی مدح میں کہتا ہے
؎ حقیبۃ رحلھا بدن وسرج
اس کے کجاوے کی گٹھری میں دو ہی چیزیں ہیں ایک زرہ اور دوسری کاٹھی۔ بہرحال بدن سے مراد چھوٹی زرہ بھی ہو سکتی ہے۔
فرمایا (آیت) ” وان کثیرا من الناس عن ایتنا لغفلون “ بہت سے لوگ ہماری آیتوں سے غفلت برتنے والے ہیں۔ جس طرح عذاب کے وقت فرعون کا ایمان لانا کچھ مفید نہ ہوا۔ اس طرح اس کے محفوظ جسم سے بھی کسی کو کچھ فائدہ نہیں سوئے اس کے کہ پچھلوں کو عبرت حاصل ہو ، مگر افسوس کہ لوگوں کی اکثریت ہماری نشانیوں میں غور وفکر نہیں کرتی۔ اگر ذرا بھی غور کریں تو اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ سمجھ میں آسکتی ہے انسان اچھی طرح جان سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نافرمانوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے یہی عبرت کا مقام ہے۔
Ayahs 10:93–97ربط آیات
گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے دو نافرمانوں قوموں کا حال بطور مثال ذکر کیا ہے تا کہ مشرکیں مکہ ، مشرکین عرب اور بعد میں آنے والے لوگوں کو عبرت حاصل ہو۔ ان میں سے ایک قوم نوح ہے جس کو اللہ نے کے نبی (علیہ السلام) نے ساڑھے نو سا سال تک وعظ کیا اور قوم فرعون ہے جس کی طرف اللہ نے جلیل القدر انبیاء حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو مبعوث فرمایا۔ وہ مجرم قوم ایمان نہ لائی۔ انہوں نے ظلم وتعدی کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قوم نوح کو اللہ نے بذریعہ طوفان پانی میں ڈبویا جب کہ فرعون اور اس کے لشکر کو بحر قلزم کی موجوں میں لقمہ اجل بنایا۔ اللہ نے فرعون کی لاش کو عبرت کے لیے سمندر سے باہر پھینک دیا۔ اس زمانے کے لوگوں نے اس واقعہ کو بچشم خود دیکھا جب کہ بعد میں آنے والون نے یہ حالات تاریخ میں پڑھے ، اس طرح گویا یہ واقعہ تمام موجود اور آئندہ آنے والے لوگوں کے لیے نصیحت اور عبرت کا باعث بن گیا۔
بنی اسرائیل کا عروج وزوال
قوم نوح اور قوم فرعون کا حال ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بنی اسرائیل کا تذکرہ فرمایا ہے۔ تاریخ میں اس قوم پر بڑے اتار چڑھائو آئے ہیں۔ اس عظیم قوم نے عروج وزوال کے بہت سے ادوار دیکھے ہیں۔ بعد میں یہ لوگ نافرمانی کرتے رہے اور طرح طرح کی مشکلات اور سزائوں میں گرفتار رہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو فرعون کے مظالم سے نجات دی تو پھر اس قوم پر بڑے انعامات کئے مگر اس قوم کی تعداد اور صلاحیت کمزور پڑچکی تھی فرعون کی مسلسل غلامی کی وجہ سے وہ انعامات الہٰی سے کماحقہ استفادہ نہ کرسکے۔ پھر کافی عرصہ بعد جب نئی نسل آئی تو اللہ نے انہیں سرزمین شام و فلسطین میں اقتدار دیا۔ سورة اعراف میں موجود ہے کہ اللہ نے فرمایا (آیت) ” واورثنا القوم الذین کانوا یستضعفون مشارق القرض ومغاربھا التی برکنا فیھا “ ہم نے اپنی بابرکت زمین کے مشرق ومغرب کا مالک ان کمزور لوگوں کو بنا دیا جس پر فرعون اور اس کی قوم کے لوگ بےانتہا ظلم وستم ڈھا رہے تھے۔ اللہ نے اسی بات کا اشارہ آج کی آیات میں بھی کیا ہے۔ پھر جو لوگ حضور ﷺ کی نبوت و رسالت اور قرآن کے برحق ہونے پر شک کرتے تھے ، ان کو تنبیہ فرمائی ہے۔
ارشاد وہوتا ہے ” ولقد بوانا بنی اسرائیل مبوا صدق “ تحقیق ہم نے بنی اسرائیل کو جگہ دی بہت ہی پسندیدہ جگہ ۔ اس سے شام و فلسطین کے زرخیز خطے مراد ہیں مگر فرعون کی غرقابی کے فورا بعد بنی اسرائیل یہ سر زمین حاصل کرتے ہیں ناکام رہے۔ سورة مائدہ میں گزر چکا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ تم سرزمین شام و فلسطین میں داخل ہو جائو وہاں پر آباد قوم عمالق سے جہاد کرو تو اللہ تعالیٰ تمہیں آسانی سے یہ ملک عطا کرے گا مگر غلامی کی وجہ سے ذہنی پستی میں مبتلا یہ قوم جہاد پر آمادہ نہ ہوئی بلکہ موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا (آیت) ” فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قعدون “ اے موسیٰ (علیہ السلام) تم اور تمہارا خدا جا کر جہاد کرو ، ہم تو یہیں بیٹھیں گے۔ قوم عمالقہ اگرچہ بڑی طاقتور قوم تھی لیکن ادھر اللہ کا وعدہ تھا کہ وہ بنی اسرائیل کو غلبہ عطا کرے گا مگر وہ اس کے لیے آمادہ نہ ہوئے جس کا نتیجہ یہ ہوا (آیت) ” قال فانھا محرمۃ علیھم اربعین سنۃ یتیھون فی الارض “ اللہ تعالیٰ نے وہ سرزمین ان پر حرام کردی اور وہ چالیس سال تک میدان تیہ میں سرگردان پھرتے رہے۔ اس طرح گویا چالیس برس تک انہوں نے قید اور نظر بندی کی زندگی گزاری پھر جب پرانی نسل کے لوگ ختم ہوگئے ، پہلے حضرت ہارون (علیہ السلام) اور پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی وفا پاگئے تو نئی نسل میں شعور پیدا ہوا۔ نئی نسل نے حضرت موسیٰ کے جانشین حضرت یوشع بن قالب (علیہ السلام) کی قیادت میں جہاد کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں شام ، فلسطین اور اردن وغیرہ میں تسلط عطا کیا۔ مصر سے نکلنے کے بعد بنی اسرائیل دوبارہ مصر کی طرف نہ گئے لہٰذا وہ شام و فلسطین کی سلطنت تک ہی محدود رہے البتہ بعد میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے زمانے میں اللہ نے مصر کی سلطنت بھی بنی اسرائیل کو عطا کردی۔
بہرحال اللہ نے فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو شام و فلسطین جیسی بہت اچھی اور پسندیدہ جگہ عطا فرمائی۔ اس زمین میں اللہ نے ظاہری اور باطنی برکات رکھی ہیں۔ یہ انبیاء علیھم السلام کی سرزمین ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء نے اس سرزمین کے لیے بابرکت ہونے کی دعائیں کیں جن کو اللہ نے مستجاب فرمایا اور وہاں پر پانی ، زرخیزی اور سرسبزی کا وافر انتظام فرمایا جس کی وجہ سے (آیت) ” ورزقنھم من الطیبت “ ہم نے انہیں پاکیزہ روزی عطا کی۔ اس سلسلے میں بنی اسرائیل کے لیے اشیائے خورد ونوش اور دیگر انعامات کا ذکر مختلف سورتوں میں بیان ہوا ہے۔
بنی اسرائیل کی علمی خیانت
آگے بنی اسرائیل کی نافرمانی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” فما اختلفوا حتی جاء ھم العلم “ نہیں اختلاف کیا انہوں نے یہاں تک کہ ان کے پاس علم آگیا۔ مطلب یہ ہے کہ علم آنے اور حقیقت واضح ہوجانے کے بعد انہوں نے پھوٹ ڈالی جس کی وجہ سے کئی قسم کی مشکلات پیدا ہوگئیں۔ بنی اسرائیل نے سب کچھ جانتے ہوئے اللہ نے نبیوں کی مخالفت کی ، اس لیے اللہ نے دو مرتبہ ان پر دشمن کو مسلط کیا۔ پہلی دفعہ بخت نصر ان پر غالب آیا جس کی غلامی میں وہ سو سال تک پستے رہے اور بڑی ذلت اٹھائی۔ پھر دوسری دفعہ وہ رومیوں کے زیر تسلط آئے اور بڑی تکالیف برداشت کیں۔ جب حضور ﷺ کا زمانہ آیا تو پھر بھی انہوں نے نبی آخر الزمان کی نبوت کو تسلیم نہ کیا ، اس وقت مدینے کے اطراف میں یہودیوں کے دس بڑے عالم تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ، اگر یہ سارے کے سارے دین حق کو قبول کرلیں توروئے زمین کے یہودی صحیح ہوجائیں ، مگر ان دس علماء میں سے صرف عبداللہ ابن سلام نے ایمان قبول کیا جب کہ باقی نو باطل پر ہی اڑے رہے۔ اب اس بات کو بھی چودہ سو سال گزر چکے ہیں مگر یہ بےنصیب اپنی ضد پر قائم ہیں۔ کفر وشرک کی بدترین قسم میں مبتلا ہیں ، مشرک تو ختم ہوگئے۔ بعض نے ایمان قبول کرلیا مگر اہل کتاب کہلانے والے یہود ونصاری ابھی تک گمراہی میں مبتلا ہیں۔ سو اللہ نے فرمایا کہ انہوں نے علم آنے کے بعد اختلاف کیا (آیت) ” ان ربک یقضی بینھم یوم القیمۃ “ بیشک تیرا پروردگار فیصلہ کریگا ان کے درمیان قیامت کے دن (آیت) ” فیما کانوا فیہ یختلفون “ ان باتوں میں جن میں وہ اختلاف کرتے تھے۔ غرضیکہ ان کے کارناموں کا حتمی فیصلہ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں جا کر ہوگا۔
قرآن کریم کی حقانیت
فرمایا (آیت) ” فان کنت فی شک مما انزلنا الیک “ اگر آپ کو اس چیز میں شک ہو جس کو ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے (آیت) ” فاسئل الذین یقرء ون الکتب من قبلک “ پس آپ ان لوگوں سے پوچھ لیں جو آپ سے پہلے کتاب پڑھنے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ خطاب حضور ﷺ کو ہے جن کی طرف قرآن پاک نازل ہوا مگر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس شک کو نبی کریم ﷺ کی طرف منسوب کرنا تو کسی طرح درست نہیں کیونکہ اللہ کی نازل کردہ شریعت ، دین اور آخری کتاب میں آپ کو تو کسی قسم کا شک ہو ہی نہیں سکتا۔ لہٰذا اس خطاب کی مخاطب حضور ﷺ کی ذات مبارکہ نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو حضور کے زمانے میں قرآن پاک کی حقانیت میں شک کرتے تھے۔ ان میں کافر ، مشرک اور منافق تھے اور یہود ونصاری بھی شامل تھے۔
بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کی حقانیت کے متعلق آپ ان اہل کتاب سے پوچھیں جو اب اللہ کی آخری کتاب پر ایمان لا چکے ہیں۔ قرآن پاک کی صداقت کی گواہی یہ لوگ دیں گے ، اور جو لوگ اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں ، وہ اس کی تصدیق نہیں کریں گے ، ایمان لانے والوں میں حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ یہ آپ کو بتائیں گے کہ قرآن مجید اللہ کی سچی کتاب ہے جس کے متعلق تورات میں بھی ہے کہ ” میں تیرے بھائی بندوں میں سے تیرے جیسا ایک عظیم رسول برپا کروں گا اور اس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا “ مطلب یہ ہے کہ حق پرست آپ کو ٹھیک ٹھیک بتائیں گے کہ آپ اللہ کے برحق رسول اور یہ اللہ کی آخری کتاب ہے جن کی پیشین گوئی ہزاروں سال پہلے ہوچکی ہے۔
اہل کتاب کے باطل پرست لوگوں کے متعلق بھی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” یعرفونہ کما یعرفون ابناء ھم “ (البقرہ) یہ لوگ اللہ کے نبی کو اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنی اولادوں کو حضور نبی کریم ﷺ کی صداقت کے متعلق سورة اعراف میں ہے (آیت) ” الذی یجدونہ مکتوبا عندھم فی التورۃ والانجیل “ یہ وہی نبی آخر الزمان ہیں جن کا اسم گرامی اور صفات تورات اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہیں۔ ان کو اچھی طرح پہنچانتے ہیں مگر ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکار کرر ہے ہیں مگر جو ماننے والے لوگ ہیں وہ صحیح صحیح بتا دیں گے کہ یہ وہی رسول ہیں جن کی پیشین گوئی پہلی کتابوں میں ہوچکی ہے۔
امام عبدالرزاق (رح) نے اپنی مصنف میں یہ روایت نقل کی ہے کہ حضرت قتادہ ؓ نے کہا کہ ہم تک یہ بات پہنچی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ” انی لا اشک ولا اسئل “ کہ مجھے قرآن کی حقانیت میں نہ تو کوئی شک ہے اور نہ ہی میں کسی سے دریافت کروں گا۔ لہٰذا ” فسئل الذین “ کا خطاب حضور ﷺ سے نہیں ہے بلکہ یہ ان لوگوں سے خطاب ہے جو کسی قسم کا شک رکھتے ہیں کہ پتہ نہیں یہ واقعی اللہ کی کتاب ہے یا نہیں ہے۔ وہ لوگ اپنی تصدیق کے لیے اہل کتاب میں سے ایمان لانے والوں سے دریافت کرلیں۔ خاص خطاب کے ذریعے عام بات کرنے کی مثال سورة احزاب کی پہلی آیت کریمہ میں بھی ہے (آیت) ” یایھا النبی اتق اللہ ولا تطع الکفرین والمنفقین “ اے نبی کریم ! اللہ سے ڈریں اور کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانیں۔ ظاہر ہے کہ اللہ کا نبی تو اللہ کو سب سے زیادہ جاننے اور سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوتا ہے اور وہ کافروں اور منافقوں کی بات نہیں مان سکتا۔ آپ کا ارشاد ہے ” انا اعلمکم باللہ واتقکم “ تو مراد یہ ہے کہ یہاں پر بھی خطاب تو نبی (علیہ السلام) کو ہے مگر بات عام لوگوں کو سمجھائی جا رہی ہے کہ اگر کسی کو شک ہو تو وہ اہل علم سے اس کی صداقت کی تصدیق کرسکتا ہے۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس سے یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر کسی علم کی بات یا دینی مسئلہ میں شک اور تردد ہو تو اہل علم کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ اس سلسلے میں اللہ کا واضح حکم ہے (آیت) ” فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون “ (النحل) اگر تم کسی چیز سے بےبہرہ ہو تو اس کے متعلق جاننے والوں اور یاد رکھنے والوں سے دریافت کرلو تو فرمایا (آیت) ” لقد جاء ک الحق من ربک “ بیشک البتہ آپ کے رب کی طرف سے آپ کے پاس حق آچکا ہے۔ قرآن کریم بالکل حق ہے۔ یہ اللہ کی آخری کتاب ہے جس میں آخری دین ہے (آیت) ” فلا تکونن من الممترین “ پس آپ شک کرنے والوں میں نہ ہوں۔ یہ بات دوسرے لوگوں کو سمجھائی جا رہی ہے کہ اس بات کے متعلق دل میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہونا چاہیے۔ پھر فرمایا (آیت) ” ولا تکونن من الذین کذبوا بایت اللہ “ آپ ان لوگوں میں بھی نہ ہوں جنہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا۔ اگر ایسا ہوگا (آیت) ” فتکون من الخسرین “ تو آپ خسارہ پانے والوں میں ہوجائیں گے۔ اللہ کی آیات کی تکذیب بھی بہت بڑا جرم ہے۔ ایسا کرنے والوں کی عبرت کے لیے پہلی قوموں کا حال اللہ نے بار بار بیان فرمایا ہے کہ جس نے بھی آیات الہٰی کی تکذیب کی اس نے سخت نقصان اٹھایا اس دنیا میں بھی ذلیل و خوار ہوئے اور آخرت کی رسوائی تو دائمی ہے لہٰذا فرمایا کہ قرآن حکیم کی حقانیت کو تسلیم کرلو اور اس کی آیتوں کی تکذیب نہ کرو کہ اسی میں تمہاری بہتری ہے۔
حضور کے لیے تشفی
آگے حضور ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ مخالفین کی طرف سے ایک حد تک مطمئن رہیں ، اس لیے کہ (آیت) ” ان الذین حقت علیھم کلمت ربک “ بیشک وہ لوگ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہوچکی ہے۔ خدا کے علم اور نوشتے میں جن لوگوں کے بارے میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ یہ لوگ صلاحت سے محروم ہیں اور یہ حق کو قبول نہیں کریں گے۔ سو آپ زیادہ متفکر نہ ہوں (آیت) ” لا یومنون “ کیونکہ وہ ایمان قبول نہیں کریں گے ، اللہ تعالیٰ ان کی استعداد سے واقف ہے اور وہ جانتا ہے کہ ان کی قسمت میں ایمان نہیں ہے ، لہٰذا آپ ان کے متعلق زیادہ فکر نہ کریں بلکہ تسلی رکھیں۔ اس سے پہلے فرعون اور اس کی قوم کا حال بیان ہوچکا ہے کہ وہ بھی ایمان نہ لائے حتی کہ وقت گزر گیا۔ قوم نوح بھی بڑی سرکش قوم تھی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساڑھے نو سالہ وعظ کے جواب میں صرف ستر بہتر یا اسی آدمی ایمان لائے جو کشتی میں سوار ہوگئے ، باقی سب نافرمان ہی رہے۔ انہوں نے حق کو قبول نہ کیا۔ لہٰذا آپ بھی اپنا فریضہ ادا کرتے رہیں اور ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے زیادہ فکر نہ ہوں۔
منکرین کی ہٹ دھرمی
فرمایا یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے (آیت) ” ولو جاء تھم کل ایۃ “ اگرچہ ان کے پاس ہر قسم کی نشانی آجائے۔ آپ نے دیکھا کہ مکہ والوں نے شق القمر کی نشانی مانگی۔ اللہ نے ان کی یہ فرمائش قبول کرلی چاند کے دو ٹکڑے پہار کی دونوں طرف دیکھ کر کہنے لگے (آیت) ” سحر مستمر “ (القمر) یہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔ پہلے بھی ہوتا تھا ، آج بھی ہو رہا ہے یہ کون سی بڑی بات ہے۔ اسی طرح فرعون اور اس کی قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر بیشمار نشانیاں دیکھیں مگر نہیں مانے (آیت) ” وجحدوابھا “ (النمل) اور انہوں نے انکار ہی کیا۔ تو فرمایا اگر ان کے پاس ہر قسم کی نشانیاں بھی آجائیں تو پھر بھی تسلیم نہیں کریں گے (آیت) ” حتی یروا العذاب الالیم “ یہاں تک کہ وہ عذاب الیم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ جب فرعون ڈوبنے لگا تو ایمان کا اقرار کیا مگر اس وقت کا ایمان لانا کچھ مفید نہ ہوا۔ فرمایا یہ ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی انتہا ہے کہ جب تک یہ لوگ دردناک عذاب کا بچشم خود ملاحظہ نہیں کرلیں گے ، یہ ایمان نہیں لائیں گے مگر اس وقت کا ایمان مفید نہیں ہوگا ، لہٰذا آپ ان کی طرف سے تسلی رکھیں۔ آگے حضرت یونس (علیہ السلام) کی قوم کا ذکر بھی آرہا ہے۔ آپ نے اس قوم کو ستر سال تک وعظ کیا مگر وہ لوگ نہ مانے۔ پھر جب عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تو اللہ کی بارگاہ میں توبہ کی۔ یہ واحد قوم ہے جس کی توبہ اللہ نے قبول فرمالی کہ اسی میں مصلحت تھی وگرنہ عذاب آجانے کے بعد کسی قوم کی توبہ قبول نہیں ہوئی۔ غرضیکہ ان آیات میں حضور خاتم النبین ﷺ کو تسلی بھی دی ہے کہ آپ اپنا کام کرتے رہیں ، زیادہ متفکر نہ ہوں کیونکہ یہ لوگ تو عذاب الیم دیکھے بغیر ایمان کا اقرار نہیں کریں گے۔