Ayahs 10:37–40ربط آیات
گذشتہ دروس میں شرک اور مشرکین کی تردید ہوچکی ہے اور آج کے درس میں قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا بیان ہے اور اس کے ساتھ رسالت کا ذکر ہے۔ دعوت الی القرآن اس سورة کا خاص موضوع ہے۔ اس کے علاوہ توحیدع کا اثبات اور شرک کا ابطال بھی خاص طور پر بیان ہوا ہے۔ ساتھ ساتھ قیامت کا وقوع اور اس کے متعلقات زیر بحت آئے ہیں۔ اس سورة کی ابتدائی آیت میں قرآن کریم کی صداقت کے متعلق بیان ہوچکا ہے (آیت) ” تلک اٰیٰت الکتب الحکیم “ یہ بری حکمت والی کتاب ہے اور پھر آگے چل کر آتا ہے (آیت) ” واذا تتلی علیھم ایتنا بینت قال الذین لا یرجون لقائنا ائت بقران غیر ھذا او بدلہ “ جب ان کو ہماری واضح آئیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو کدا کی ملاقات سے ناامید لوگ کہتے ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی دوسرا قرآن لے آئو یا اس میں تبدیلہ پیدا کردو جو ہمارے عقائد کے مطابق ہو اور ہمارے معبودوں کا رد نہ ہو ، تو پھر ہم اسے تسلیم کرلیں گے۔ اس کا جواب اللہ نے ارشاد فرمایا تھا۔
قرآن کی حقانیت
آج کی آیات میں بھی قرآن پاک کی صداقت اور حقانیت ہی کا بیان ہے۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وما کان ھذا القران ان یفتری من دون اللہ “ یہ قرآن ایسا نہیں ہے کہ گھڑا گیا ہو اللہ کے سوا ، یعنی اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اس کے ارادے کے بغیر اس قرآن پاک کو کسی نے نہیں بنایا ۔ مشرکین کا یہ اعتراض اور محض بہتان ہے کہ قرآن پاک کسی کی خود ساختہ کتاب ہے گذشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ اکثر مشرکین محض ظن اور تخمین کی بات کرتے ہیں ان کے پاس کوئی پکی بات نہیں ہوتی۔ فرمایا حقیقت یہ ہے کہ قرآن پاک ظلمات سے نکال کر صحیح راستہ کی طرف راہنمائی کرنے والی کتاب ہے۔ یہ کتاب حقائق پر مننی ہے اور علوم ، معارف ، احکام ، قوانین اور معجزات کا مجموعہ ہے۔ اس کی فصاحت وبلاغت بےمثال ہے ، لہٰذا اس کو من گھڑت کتاب کہنا بڑی زیادتی اور بدنصیبی کی بات ہے فرمایا (آیت) ” ولکن تصدیق الذی بین یدیہ “ بلکہ یہ قرآن تو پہلی کتب سماویہ کی تصدیق کرنے والی کتاب ہے۔ پہلی کتابیں اپنے اپنے وقت پر اپنے اپنے انبیاء پر نازل ہو کر ہدایت کا سامان فراہم کرتی رہیں مگر ان کے مخاطبین اپنی نالائقی ، بددیانتی اور خیانت کی وجہ سے ان سے مستفید نہ ہو سکے ، بلکہ انہوں نے ان کتابوں میں تحریف کر کے اللہ کے غضب کو دعوت دی ۔ غرضیکہ یہ قرآن پاک زبور ، تورات ، انجیل اور دیگر صحائف کو مصدق ہے۔
تفصیل احکام
فرمایا ایک تو یہ پہلی کتابوں کی مصدق کتا ہے اور دوسرا (آیت) ” و تفصیل الکتب “ کتاب کی تفصیل بھی ہے۔ کتاب کا لفظی معنی لکھی ہوئی چیز ہوتا ہے اور اس سے مراد تمام احکام کی تفصیل ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی فلاح کے لیے نازل فرمائے ہیں۔ اور یہ تفصیل اس نوعیت کی ہے کہ اس میں تمام کتب سماویہ اور صحائف سابقہ کا خلاصہ آگیا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جن کتب کا خلاصہ اس آخری کتاب میں موجود ہے ، اگر وہ ساری کتابیں اور صحائف منجانب اللہ اور برحق ہیں تو پھر یہ قرآن بھی برحق ہے۔
اللہ تعالیٰ کے احکام کا تعلق عقیدے سے ہے یا عمل سے جہاں تک عقیدے کا تعلق ہے ، اللہ تعالیٰ نے ان احکام کو نہایت ہی وضاحت کے ساھ بیان کردیا ہے۔ عقائد میں سب سے پہلی چیز اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی توحید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مسئلہ کی وضاحت کرتے وقت اس کا کوئی گوشہ تشنہ نہیں چھوڑا ہے ، بلکہ اس کے ہر ہر پہلو پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی پہچان اور ایمان اور عقائد سے متعلقہ ہزاروں دلائل بیان ہوئے ہیں۔ توحید کا مسئلہ نہایت واضح طریقے سے بیان کر کے شرک کا رد فرمایا گیا ہے ، کفر وشرک کرنے والوں کے عقائد باطلہ کا پورا پورا محاسبہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح ملائکہ اور کتب سماویہ پر ایمان ، قیامت پر ایمان اور خیر وشر من جانب اللہ ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات بھی خصوصی تذکرہ ہے۔ ان تمام چیزوں کا تعلق ایمانیات سے ہے۔
جہاں تک اعمال کی بات ہے ، ان کا تعلق یا تو انسان کے ظاہر سے ہے یا باطن سے۔ ظاہر سے متعلقہ احکام کی تشریح و تفسیر کے ارشادات میں ہے جن کی مزید وضاحت فقہائے کرام اور مجتہدین نے کی ہے۔ علم فقہ دراصل ان احکام کی توضیح ہے جن کا تعلق انسان کے ظاہر سے ہے یعنی ان اعمال وافعال کی تشریح ہے جو انسان کو انجام دینے چاہیں یا جن سے انسان کو بچنا چاہیے۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فقہ کی یہی تعریف بیان کی ہے ” معرفہ النفس مالھا وما علیھا “ انسانی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے مفید اور مضر چیزوں کی پہچان کا نام فقہ ہے۔
انسان کے باطن سے تعلق رکھنے والی چیزوں میں اصلاح نیت اور اصلاح اخلاق سرفہرست ہیں۔ باطنی قوی ، ہیات نفسانیہ اور ملکات کی درستگی بھی اسی ضمن میں آتی ہے۔ ان چیزوں کی تفصیل آئمہ مجتہدین اور بزرگان دین نے پیش کی ہے۔ انہوں نے انسان کی باطنی اصلاح کے لیے تمام پہلوئوں کا احاطہ کیا ہے۔ اس سلسلے میں خواجہ معین الدین اجمیری (رح) کے ملفوظات ، شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) کی بلند پایہ تصنیافات اور خواجہ شہاب الدین سہروردی (رح) کی کتاب عوارف المعارف خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ خواجہ نظام الدین اولیاء نے یہ کتاب اپنے استاد سے سبقا سبقا اور حرفا حرفا پڑھی۔ سابقہ بزرگوں کی تالیفات میں سے رسالہ کشادیہ اور کتاب علمہ بلند پایہ کتب ہیں متقدمین میں حضرت علی ہجویری (رح) کی کشف المحجوب ہے جس کے متعلق ڈاکٹر اقبال مرحوم کا دعوی ہے کہ جب کسی کو مرشد کامل کی سرپرستی حاصل نہ ہو۔ اس کو یہ کتاب فائدہ دیتی رہے گی ، اس کتاب میں حقائق ، معارف ، توحید اور انسانی اصلاح کے جملہ نظارئر بیان کیے گئے ہیں۔ اصلاح باطن کی یہ تمام چیزیں بھی اللہ کی کتاب سے ماخوز ہیں۔ بعض کا ذکر صراحتا آگیا ہے اور بعض ضمنا مذکور ہیں۔ بعض کی تشریح اللہ کے نبی کی زبان سے ہوئی ہے اور بعض کو فقہاء اور مجتہدین نے اجتہاد واستنباط سے واضح کیا ہے چناچہ یہ قول امام ابوحنیفہ (رح) کی طرف منسوب ہے۔
جمیع العلم فی القراؤ لکن
تقاصر عنہ افھام الرجال
قرآن پاک میں تمام علوم موجود ہیں مگر لوگوں کے فہم ان تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ بہرحال تفصیل الکتاب کا مطلب یہی ہے کہ قرآن پاک میں تمام مطلوبہ احکام کی تفصیل موجود ہے۔
شک سے پاک کلام
فرمایا یہ تفصیل الکتاب ہے (آیت) ” لا ریب فیہ “ اس میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ اس کو آپ سورة بقرہ کی پہلی آیت سے جوڑ لیں۔ وہاں بھی یہی ہے (آیت) ” الٓمٓ ذلک الکتب لا ریب فیہ “ یہ پوری کتاب شک وشبہ سے پاک ہے شک کرنے والوں کے اپنے دماغ ٹیڑھے ہیں ان کی عقلیں ناقص ہیں ورنہ وہ اللہ کی کتاب میں شک نہ کرتے اور اس بات میں بھی کوئی شبہ نہیں (آیت) ” من رب العلمین “ کہ یہ تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے آئی ہے غرضیکہ یہ قرآن حکیم کی حقانیت کا ذکر ہوگیا۔ لو گ اعتراج کرتے تھے کہ یہ من گھڑت ہے مگر اللہ نے واضح کردیا کہ یہ رب العلمین کی نازل کردہ ہے جو اس نے اپنے اکمل ترین بندے پر جبریل کی معرفت بھیجی۔ یہ نوع انسان کی اصلاح اور فلاح کا عظیم پروگرام ہے۔
مثال لانے کا چیلنج
اب آگے قرآن کریم کی صداقت اور حقانیت کے متعلق مشرکین کے ساتھ بحث ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ام یقولون افترہ “ کیا مشرکین یہ بات کہتے ہیں کہ اللہ کا نبی اس کتاب کو خود گھڑ کر لایا ہے۔ اگر بفرض محال ایسی بات ہے تو اے پیغمبر ! (آیت) ” قل فاتوا بسورۃ مثلہ “ آپ ان سے کہہ دیں کہ اس قرآن جیسی ایک سورة ہی بنا کر لائو۔ اور یہ چیلنج صرف تم تک محدود نہیں بلکہ (آیت) ” وادعو من استطعتم من دون اللہ “ حسب استطاعت اللہ کے سوا جسے چاہتے ہو اپنی مدد کے لیے بلا لو۔ تم سارے کے سارے مل کر ہی اس جیسی ایک سورة بنا لائو اگر اس کو انسانی کلام سمجھتے ہو تو پھر تم بھی تو انسان ہو ایسا کلام بنا کر دکھائو۔ تمہارے حکما ، فصحائ ، بلغاء اور دانشور پورا زور لگا لیں ، تمہارے شاعر اپنے فن کو مکمل طور پر بروئے کار لے آئیں مگر وہ اس خدائی کلام کی مثال پیش نہیں کرسکتے۔ یہاں ایک سورة کی بات کی گئی ہے ، دوسری جگہ ہے (آیت) ” فاتوا بعشر سور مثلہ “ (ھود) اس جیسی دس سورتیں لے آئو۔ اور یہاں آخری بات فرمائی کہ صرف ایک سورة ہی لے آئو۔ فرمایا ، تم سارے کے سارے مل کر ایک سورة ہی لے آئو اور پھر اس کا قرآن کے ساتھ مقابلہ کرلو ، تمہیں پتہ چل جائے گا کہ قرآن پاک کسی کا کلام نہیں بلکہ رحمان کا نازل کردہ ہے۔
امام ابوبکر جصاص (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت قرآن حکیم کا معجزہ ہے چودہ سو سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر اس چیلنج کو کسی نے قبول نہیں کیا۔ جن لوگوں نے اس کی مثال پیش کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے منہ کی کھائی مسیلمہ کذاب نے کچھ کلام پیش کیا تو لوگوں نے اس کے منہ پر تھوکا اور کہا کہ تمارا کلام فحش اور بکواس محض ہے جب کہ محمد کا پش کردہ کلام علوم ومعارف ، وقائق وحقائق اور فصاحت وبلاغت سے لبریز ہے۔ لہٰذا قرآن کا مقابلہ کہاں کیا جاسکتا ہے۔ یہ تو ہر لحاظ سے معجز ہے فرمایا (آیت) ” ان کنتم صدقین “ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو اس چیلنج کو قبول کرو اور اس کی تین آیتوں والی چھوٹی سے چھوٹی سورة کی مثال ہی لا کر دکھائو۔ سورة بنی اسرائیل میں بھی چیلنج موجود ہے کہ اگر سارے انسان اور سارے جن مل کر بھی قرآن کی مثال لانا چاہیں (آیت) ” لا یاتون بمثلہ “ تو اس کی مثال نہیں لاسکتے۔ مقصد یہ ہے کہ انسانی کلام کا مقابلہ تو دوسرے انسانی کلام کے ساتھ ہوسکتا ہے۔ کتنا بڑاشاعر اور ادیب ہو ، مفکر اور دانشور ہو ، اس کے کلام کو جانچا جاسکتا ہے اور مصنفین مختلف تخلیقات کی درجہ بندی کرسکتے ہیں مگر جہاں مقابلہ اللہ کے کلام اور مخلوق کے کلام کے درمیان ہو۔ وہاں کون فیصلہ کریگا ؟ اللہ کا کلام تو تمام انسانی علوم سے اعلیٰ وارفع ہے۔
بلاوجہ تکذیب
فرمایا ، حقیقت یہ ہے (آیت) ” بل کذبوا بمالم یحیطوا بعلمہ “ کہ مشرکین نے ایسی چیز کو جھٹلایا ہے جس کے علم کا انہیں احاطہ ہی نہیں۔ حق بت یہ ہے کہ کسی بات میں خامی اور کمزوری کی نشاندہی وہ کرسکتا ہے جس کو اس پر مکمل عبور حاصل ہو۔ مگر اللہ کے کلام پر تو کسی کا احاطہ ہی نہیں۔ لہٰذا بغیر مکمل ادارک حاصل کیے کون اس کی تکذیب کرسکتا ہے۔ لہٰذا اس کلام کو جھٹلانا تو نہایت ہی بےعقلی کی بات ہے۔ فرمایا ایک تو انہوں نے اس کلام کا مکمل احاطہ نہیں کیا اور دوسری بات یہ ہے (آیت) ” ولما یاتھم تاویلہ “ کہ ابھی تک اس کی حقیقت مال اور انجام بھی ان کے سامنے نہیں آیا۔ تاویل سے مراد وہ حقائق ہیں جن کو اللہ نے قرآن میں بیان کیا اور جن کا ظاہر ہونا ابھی باقی ہے۔ مثلا فرشتوں اور جنات کا وجود ، وقوع قیامت ، حساب کتاب کی منزل ، اور پھر جزا اور سزا کا فیصلہ وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جن کا دعوی تو قرآن نے کیا ہے مگر ان کا ظہور مستقبل میں ہونے والا ہے۔ فرمایا جب ان چیزوں کی آزمائش کا ابھی وقت ہی نہیں تو انہوں نے پہلے ہی ان کو کیسے جھٹلانا شروع کردیا ہے ، یہ تو قبل از مرگ واویلے والی بات ہے۔
فرمایا ، اے پیغمبر آخر الزمان ! مکذبین کی یہ تکذیب کوئی نئی بات نہیں ہے (آیت) ” کذلک کذب الذین من قبلھم “ ان سے پہلے لوگوں نے بھی اللہ کے احکام کو اسی طرح جھٹلایا۔ سابقہ کافرو مشرک بھی واضح حقیقتوں کا انکار کرتے تھے مگر دیکھ لو کہ کیا وہ کامیاب ہوگئے فرعون ، شداد ، نمرود ، قوم عاد وثمود ، قوم لوط اور دیگر بڑی بڑی تہذیب والوں نے اس بات کو جھٹلایا تو ان کا کیا حشرہوا۔ دنیا میں بھی ذلیل ہوئے اور آخرت کی ابدی ذلت تو بہرحال ان کے مقدر میں ہے۔ سورة شعراء میں اللہ نے تمام مکذب قوموں کا نقشہ کھینچا ہے اور پھر آخر میں فرمایا ہے (آیت) ” فانظر کیف کان عاقبۃ الظلمین “ دیکھو ! ظلم کرنے والوں کا کیسا برا انجام ہوا۔
ایماندار اور کافر
اب یہ ہے کہ (آیت) ” ومنھم من یومن بہ “ ان میں سے بعض ایمان لاتے ہیں۔ جن کی استعداد اور صلاحیت اچھی ہوتی ہے وہ ایمان لا کر فائدہ اٹھالیتے ہیں۔ قرآن پاک کی تعلیمات سے مستفید ہوتے ہیں (آیت) ” ومنھم من لا یومن بہ “ اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو قرآن پاک پر ایمان نہیں لاتے۔ وہ اپنی ضد پر قائم رہتے ہوئے اس کی تکذیب کرتے ہیں۔ اس پر اعتراض کر کے لوگوں کو شک وشبہ میں ڈالتے ہیں یہ ان کی سوء استعداد اور بدبختی ہے ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا کہ یہ فسادی لوگ ہیں (آیت) ” وربک اعلم بالمفسدین “ اور آپ کا پروردگار ان فساد کرنے والوں کو خوب جانتا ہے جو لوگ قرآن پاک کو من گھڑت بتاتے ہیں ، فرمایا ، اللہ ایسے شرائع الہیہ میں خلل ڈالتے ہیں وہ من مرضی کرنا چاہتے ہیں۔ فرمایا ، اللہ ایسے شرارتی لوگوں کو خوب واقف ہے اور وہ انہیں ان کے مال (انجام) تک پہنچائے گا۔
Ayahs 10:41–45ربط آیات
ابتداء میں قرآن کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا ، پھر درمیان میں توحید کا مسئلہ بیان ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل دیے اور شرک کا رد فرمایا۔ اس کے بعد پھر قرآن کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا ، پھر درمیان میں توحید کا مسئلہ بیان ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل دیے اور شرک کا رد فرمایا۔ اس کے بعد پھر قرآن کی حقانیت کا تذکرہ آیا ، اس کا منزل من اللہ ہونا اور غلطی سے مبرا ہونا بیان کیا گیا۔ پھر تکذیب کرنے والوں کی مذمت ہوئی۔ اب آج کے درس میں اور اگلی آیات میں مسئلہ رسالت اور قیامت کو اکٹھا بیان کیا گیا ہے ۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ مکی سورتوں میں بنیادی عقائد ، ایمانیات اور اخلاقیات ہی کو مختلف طریقوں سے بیان کیا گیا ہے۔ ان سورتوں میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت ، اس کی ذات وصفات اور ایمان کی جملہ جزئیات کا ذکر آتا ہے۔ عقائد باطلہ اور رسومات باطلہ کی جگہ جگہ تردید آتی ہے۔
تکذیب رسالت
کفار ومشرکین انبیاء کی نبوت و رسالت سے متعلق طرح طرح کے شبہات پیدا کرتے تھے اور رسالت کی تکذیب کرتے تھے۔ تو یہاں پر اللہ تعالیٰ نے ایسے مکذبین کے متعلق فرمایا (آیت) ” وان کذبوک “ اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں تو آپ اس سے گھبرائیں نہیں کیونکہ تکذیب کا سلسلہ شروع سے آرہا ہے۔ کفار ومشرکین نے ہمیشہ توحید ، رسالت ، وحی الٰہی اور وقوع قیامت کو جھٹلایا۔ تکذیب رسالت کے ضمن میں مشرک کہتے تھے کہ تم تو ہمارے جیسے انسان ہو ، ہم تجھے نبی کیسے مان لیں ؟ تمہاری ظاہری حالت بھی اچھی کوئی نہیں ہے۔ مالی پوزیشن بھی بہتر نہیں ، تمہارے پاس مال و دولت نہیں ، نوکر چاکر نہیں ، کوئی کوٹھی ، بنگلہ اور باغات نہیں۔ آخر کس بات پر تمہیں رسول مان لیں۔ دراصل مشرکین ہمیشہ باطل زعم میں مبتلا رہے ہیں کہ نبی اور رسول وہ شخص ہوسکتا ہے جو اچھا خاصا پیتا ، صاحب جائیداد ، امیر کبیر ، اعلی حیثیت اور بڑے خاندان سے تعلق رکھتا ہو کہتے تھے کہ اگر نبی ہوتا تو مکہ اور طائف جیسی دو عظیم بستیوں میں سے کوئی بڑا سردار ہوتا۔ کیا اللہ کے پاس نبوت کے لیے ابو طالب کا یتیم بھتیجا ہی رہ گیا تھا ؟ اسی بنا پر وہ لوگ حضور خاتم النبین کی رسالت کا انکار کرتے تھے۔
فرمایا ، اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں تو اے پیغمبر ! فقل آپ ان سے کہہ دیں ” لی عملی “ میرے لیے میرا عمل ہے یعنی میں اپنے عمل کا ذمہ دار ہوں۔ میرے عمل کے بارے میں تم سے باز پرس نہیں ہوگی۔ (آیت) ” ولکم عملکم “ اور تمہارے لیے تمہارا عمل ہے۔ فرمایا ، یاد رکھو ! (آیت) ” انتم بریئون مما اعمل “ تم ان کاموں سے بیزار ہو ، جو میں انجام دیتا ہوں (آیت) ” وما انا بری مما تعملون “ اور میں ان کاموں سے بیزار ہوں جو تم انجام دیتے ہو۔ ہر ایک کو اپنے اپنے عمل کی ذمہ داری اٹھانا ہوگی۔ میں اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہوں۔ اگر میں نے کوئی غلطی کی یا افتراء باندھا تو اس کی جواب دہی میں کروں گا اور تم اس کے ذمہ دار نہیں ہو گے لیکن یاد رکھو ! اگر تم نے حق وصداقت کی تکذیب کی توحید و رسالت کو جھٹلایا ، معاد کا انکار کیا ، تو اس کا بھگتان تم کو کرنا ہوگا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جب حق ظاہر ہوجاتا ہے تو اس کے مخالفین اس پر طرح طرح کے اعتراضات کیا کرتے ہیں اور اس کو جھٹلانے کی کوشش کرتے ہیں یہ بات ہمیشہ سے چلی آرہی ہے ، لہٰذا طعن وتشنیع کرنے والوں سے زیادہ الجھنا نہیں چاہیے۔ تکذیب کرنا باطل پرستوں کا ہمیشہ سے شعار رہا ہے اسی لیے فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ تم اپنے عمل کے ذمہ دار ہو اور میں اپنے عمل کا سب کو اپنے اپنے اعمال کا جلد ہی حساب چکانا پڑے گا۔
ظاہری اور باطنی سماعت
اللہ نے مکذبین کی ایک خصلت یہ بھی بیان فرمائی ہے (آیت) ” ومنھم من یستمعون الیک “ ان میں سے بعض ایسے لوگ ہیں جو آپ کی طرف کان رکھتے ہیں یعنی آپ کی بات سنتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ظاہری کان تو آپ کی طرف کرتے ہیں مگر ان کے دل کے کان متوجہ نہیں ہوتے جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا سننا نہ سننا برابر ہے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا ، اے پیغمبر ! (آیت) ” فانت تسمع الصم “ کیا آپ ان بہروں کو سنائیں گے جن کے دل کے کان بند ہیں (آیت) ” ولو کانوا لا یعقلون “ اور اگرچہ وہ عقل بھی نہیں رکھتے۔ ایسے لوگوں کو سنانے کا فائدہ کیا اور یہ لوگ آپ کی نصیحت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ سورة انفال میں بھی گزر چکا ہے (آیت) ” صم بکم عمی فھم لا یعقلون “ وہ بہرے گونگے اندھے ہیں وہ عقل سے صحیح فائدہ ہی نہیں اٹھاتے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل جیسی عظیم نعمت عطا کی ہے جسے صحیح طور پر استعمال کرنے کی ضرورت ہے مگر یہ لوگ ایسا کرنے سے قاصر ہیں غرضیکہ اللہ نے فرمایا کہ مکذبین کی حالت یہ ہے کہ وہ آپ کی بات دل سے سنتے ہی نہیں تو آپ ان کو زبردستی کیسے سنا سکیں گے۔
دل کے اندھے
سماعت کے بعد بصارت کا ذکر فرمایا (آیت) ” ومنھم من ینظر الیک “ اور ان میں سے بعض وہ ہیں جو آپ کی طرف نگاہ رکھتے ہیں یعنی بظاہر آپ کی طرف دیکھتے ہیں مگر وہ دل کے اندھے ہیں۔ (آیت) ” افانت تھدی العمی ولو کانوا لا یبصرون “ کیا آپ اندھوں کو راہ دکھائیں گے اگرچہ وہ نہ دیکھتے ہوں۔ جو لوگ دل کے بہرے اور اندھے ہیں وہ آپ کی بات کو نہ سن سکتے ہیں ، نہ دیکھ سکتے ہیں اور نہ اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ دل کے اندھاپن کے بارے میں سورة حج میں موجود (آیت) ” فانھا لا تعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور “ یاد رکھو ! اکثر ظاہری آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں ، بلکہ سینوں میں پڑی ہوئی دل کی آنکھیں بند ہوتی ہیں ، جس کی وجہ سے ان کے دل میں اچھی بات جمتی ہی نہیں۔ جو شخص بصیرت سے محروم ہو ، وہ کسی اچھی چیز سے مستفید نہیں ہو سکتا۔ تو معلوم ہوا کہ خالی سننا اور خالی دیکھنا مفید نہٰں جب تک انسان کے قلب کے کان اور آنکھیں کھلی نہ ہوں۔ جب تک کسی نیکی کی طلب اور شوق نہ ہو ، اچھی سے اچھی بات بھی اثر نہیں رکھتی اسی لیے فرمایا کہ ظاہری سننا اور دیکھنا اس وقت تک فائدہ نہیں دے سکتا جب تک دل متوجہ نہ ہو۔
مستشرقین کی ریشہ دوانیاں
اس زمانہ کے مستشرقین پر یہ بات بالکل صادق آتی ہے۔ یہودی ، عیسائی اور ہندو اہل قلم سیرت پاک پر قلم اٹھاتے ہیں بڑی بڑی اسلام کتابوں کے دیباچے لکھتے اور ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ متعصب نہیں ہیں بلکہ اپنے اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے بھی اسلام اصولوں کے معترف ہیں۔ مگر یہ ان کی محض چالاکی ہے۔ ان کے کان بہرے اور دل کی آنکھیں اندھی ہیں ، لہٰذا وہ حق کو دل سے قبول نہیں کرتے بلکہ اسلام کی حمائت کی آر میں اس پر شب خون مارتے ہیں۔ بظاہر کسی تصنیف کا دیباچہ پڑھیں تو یہ لوگ بڑے منصف مزاج نظر آئیں گے مگر اس کتاب کے اندار اسلام ، قرآن اور پیغمبر اسلام پر رکیک حملے پائیں گے۔ روسیوں کا حال بھی یہی ہے۔ بظاہر وہ قرآن پاک کی عزت کرتے ہیں مگر اسلام کو رجعت پسندانہ مذہب قرارد یتے ہیں اور پیغمبر اسلام کے متعلق کہتے ہیں کہ آپ اس زمانے کے نبی تھے ان کی تعلیمات اس زمانے کی ضروریات پوری نہیں کرسکتیں۔ یہودیوں اور عیسائیوں کا بھی یہی حال ہے ۔ ظاہر میں وہ سنتے اور دیکھتے بھی ہیں ، مگر اندر تعصب اور خباثت بھری ہوئی ہے۔
خود فریبی
مشرکوں کا حال بھی ایسا ہی ہے۔ وہ بھی دل کے بہرے اور اندھے ہیں اور اسی لیے حقیقت سے محروم ہیں۔ ان کے دل کے کان اور دل کی آنکھیں بند ہیں ، اس لیے ان کو کوئی چیز فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ فرمایا (آیت) ” ان اللہ لا یظلم الناس شیئا “ بیشک اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کرتا (آیت) ” ولکن الناس انفسھم یظلمون “ بلکہ لوگ خود اپنے آپ پر ظلم کے مرتکب ہوتے ہیں۔ وہ خود ایسے اسباب مہیا کرتے ہیں جن کی بنا پر جہنم کے مستحق بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا (آیت) ” ذلک بما قدمت یدئک وان اللہ لیس بظلام للعبید “ (الحج) یہ تو تیری اپنی کمائی ہے جو تیرے ہاتھوں نے کی وگرنہ اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں پر کبھی زیادتی نہیں کرتا ، وہ تو نہایت ہی شفیق اور مہربان ہیں۔ مگر یہ خود انسان ہیں جو اپنی کارگردگی کی وجہ سے جہنم کا ایندھن بنتے ہیں جو فکر اور عقیدہ تم نے اپنایا اور جو اعمال فاسدہ انجام دیے ، یہ انہی کا ثمرہ ہے۔ اسے بھگتو۔ فرمایا (آیت) ” فاصبروا اولا تصبروا سواء علیکم “ (الطور) تم صبر کرو یا نہ کرو۔ اب تمہارے لیے برابر ہے۔ تمہیں اپنے کیے کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ تم نے قرآن اور پیغمبر اسلام کی تکذیب کی آج کے دن کو جھٹلایا ، شرائع الٰہیہ کا انکار کیا ، خدائی قانون کی پروا نہ کی ، اب یہ تمام چیزیں جمع ہو کر تمہارے لیے عذاب کا مبنی بنیں گی۔
عرصہ زندگی
فرمایا آج تو تم دندناتے پھرتے ہو ، قرآن اور رسالت کی تکذیب کرتے ہو اور اسی زندگی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے ہو ، مگر یاد رکھو ! (آیت) ” ویوم یحشرھم “ جس دن ہم کو اکٹھا کریں گے۔ دوبارہ زندہ کر کے اپنے سامنے حاضر کریں گے اس دن انہیں احساس ہوگا۔ (آیت) ” کان لم یلبثوا الا ساعۃ من النھار “ کہ ہم تو دنیا میں ایک گھڑی بھی ٹھہرے۔ ہماری دنیاوی زندگی تو نہایت ہی قلیل تھی۔ دنیا کی پوری پچاس ، ساٹھ یا سو سالہ زندگی ایسی محسوس ہوگی جیسے کوئی شخص گھنٹہ دو گھنٹے خوش گپیوں میں گزار دیتا ہے۔ دوسری جگہ ضحی کا لفظ آتا ہے یعنی دنیا کی زندگی کی طوالت اس قدر معلوم ہوگی جیسے کوئی شخص دوپہر کے وقوت تھوڑا سا آرام کرلیتا ہے یا جیسے پچھلے پہر کا تھوڑا سا وقت ہوتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آخرت کے دردناک عذاب کے پیش نظر زندگی بھر کا عیش و آرام نہایت حقیر نظر آئے گا۔
خدا کے حضور بےبسی
پھر دوسری بات اللہ نے یہ فرمائی (آیت) ” یتعارفون بینھم “ مکذبین ایک دوسرے کو پچانیں گے لیکن کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکے گا۔ کوئی کسی کے کام نہیں آئے گا (آیت) ” بعضھم لبعض عدو الا المتقین “ (الزخرف) وہ سب ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے البتہ متقی لوگ کسی کے کام آسکیں گے۔ وہ خدا کی بارگاہ میں سفارش کریں گے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ مومن اپنے بھائیوں کو جہنم سے چھڑانے کے لیے خدا کی بارگاہ میں التجا کریں گے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے زمانے کے یہودیوں کا ذکر قرآن پاک میں آتا ہے کہ جب وہ خدا کے حکم کے مطابق ہفتہ کے دن مچھلی کے شکار سے بازنہ آئے تو اللہ نے ان کو بندروں اور خنزیروں کی شکلوں میں متشکل کردیا۔ اگرچہ ان کی شکلیں تبدیل ہوچکی تھیں ، وہ بول نہیں سکتے تھے مگر اپنے عزیز و اقارب کو پہچانتے تھے اور حرکات و سکنات سے مدد کے لیے پکارتے تھے ، مگر کوئی ان کی مدد نہ کرسکا۔ قیامت کا حال بھی ایسا ہے۔ مجرمین اپنے عزیزوں کو پہچانیں گے ، ا ن سے تعارف ہوگا مگر چونکہ وہ دنیا میں کفر وشرک کا ارتکاب کرتے رہے ، ظلم و زیادتی کو اپنائے رکھا ، بداخلاقی اور بدکرداری کا مظاہر کرتے رہے۔ لہٰذا یہ تعارف کچھ مفید نہیں ہوگا۔ اور انہیں اپنے کیے کی سزا مل کر رہے گی۔
انکارِ معاد
فرمایا (آیت) ” قد خسر الذین کذبوا بلقاء اللہ “ بیشک خسارے میں پڑے وہ لوگ جنہوں ن اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا۔ گویا تکذیب رسالت کے ساتھ تکذیب معاد کا ذکر بھی آگیا۔ انہوں نے قیامت کو برحق تسلیم نہ کیا اور محاسبے کے عمل پر یقین نہ کیا ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ محاسبے کے وقت ہر آدمی خود جواب دیگا اور درمیان میں کوئی ترجمان نہیں ہوگا۔ (آیت) ” یوم تاتی کل نفس تجادل عن نفسھا “ (النحل) ہر نفس کو اپنا جواب خود دینا ہوگا ، وہاں پر کوئی وکیل میسر نہیں آئے گا جو کسی مجرم کی طرف سے جواب دعوی داخل کردے۔ اس وقت ہر شخص کے دائیں بائیں اور آگے پیچھے وہی کچھ ہوگا جو اس نے اس دنیا میں کمایا ۔ فرمایا (آیت) ” وما کانوا مھتدین “ یہ لوگ ہدایت یافتہ نہیں تھے۔ اس دنیا میں وہ گمراہی میں پڑے رہے ، کج روی اختیار کی ، آیات الٰہی کی تکذیب کی ، معاد کا انکار کیا ، تو آج سخت خسارے میں ہوں گے اور ابدی عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے۔
Ayahs 10:46–53ربط آیات
توحید کے بیان کے بعد قرآن پاک کی حقانیت اور صداقت کا ذکر ہوا۔ پھر اللہ نے نبوت و رسالت کے مکذبین کا رد کیا ، ان کے شکوک و شبہات کو دور کیا اور ساتھ قیامت کا ذکر بھی کیا ، فرمایا ، آج یہ لوگ بڑے اعتراض کرتے ہیں مگر جب قیامت کے دن اکٹھے کیے جائیں گے تو خیال کریں گے کہ دنیا میں گھڑی بھر ٹھہرے پھر آگے عذاب کا لا محدود سلسلہ نظر آئے گا تو اس کے مقابلے میں اس دنیا اور برزخ کی زندگی کو نہایت مختصر عرصہ سمجھیں گے۔ وہاں ایک دوسرے کو پہچانیں گے۔ فرمایا جنہوں نے اللہ کی ملاقات یعنی قیامت کے دن کی تکذیب کی وہ ابدی عذاب میں مبتلا ہو کر بڑے خسارے میں رہیں گے۔ اب آج کے درس میں بھی قیامت اور عذاب آخرت کا ذکر مختلف انداز سے کیا گیا ہے۔
بعض مواعید کا اظہار
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واما نرینک بعض الذی نعدھم “ اور جب ہم دکھادیں گے آپ کو وہ چیزیں جن کا ہم ان سے وعدہ کرتے ہیں ، یعنی نافرمانوں کی گرفت اور عذاب سے متعلق بعض حصوں کا اظہار ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ ان میں سے بعض حقائق حضور ﷺ کی حیات مبارکہ میں ہی ظاہر ہوجائیں۔ چناچہ مشرکین مکہ اور عرب کے دوسرے سرغنوں کا غرور وتکبر اللہ نے آپ کی زندگی میں بدر کے مقام پر توڑ کر رکھ دیا ، فرمایا تم کس شان و شوکت کے ساتھ مٹھی بھر مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے ناپید کرنے کے لیے آئے تھے مگر اللہ نے تمہیں ایسی ذلت ناک شکست سے دوچار کیا ، جو تمہارے وہم و گمان میں بھی نہ تھی ، فرمایا ایک صورت یہ بھی ہے۔
(آیت) ” اونتوفینک “ یا ہم آپ کو اس دنیا سے اٹھالیں اور اس کے بعد اللہ کے وہ وعدے پورے ہوں جن سے ان مکذبین کو ڈرایا جاتا ہے چناچہ شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نے اکثر باتوں کو حضور کے بعد خلفائے راشدین کے دور میں پورا کیا ، قیصر و کسری کی شکست اور دنیا کی باقی طاقتوں پرا سلام کا اجتماعی غلبہ خلفائے راشدین کے زمانے میں ہی مکمل ہوا۔ یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے ۔
خدا کے ہاں حاضری
اللہ نے اپنے نبی کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ مجرمین کی سزا ہم آپ کو آپ کی حیات مبارکہ میں دکھا دیں یا آپ کے بعد ظاہر کریں ہر صورت میں (آیت) ” فالینا مرجعھم “ ان سب کو ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ آخری بات یہی ہے کہ دنیا کی معاملات کوئی بھی ڈھنگ اختیار کریں ، بالآخر ہر اچھے برے کو ہماری ہی عدالت میں پیش ہونا ہے۔ اگر اس دنیا میں کوئی چیز ظاہر نہ ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ منکرین اور مکذبین ہماری سزا سے بچ جائیں گے بلکہ انہیں ہماری پیشی سے مفر نہیں ہوگا (آیت) ” ثم اللہ شہید علی ما یفعلون “ پھر اللہ تعالیٰ اس چیز پر گواہ ہوگا۔ جو کچھ یہ کرتے رہے۔ خدا تعالیٰ ان کی ہر حرکت کو جانتا ہے اور وہ ملاقات کے وقت سب کچھ ظاہر کر دے گا۔ بہرحال اس جملے میں مجرمین کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ یہ نہ خیال کریں کہ وہ اپنی قبیح حرکات کی سزا سے بچ جائیں گے ، بلکہ انہیں لازما اپنے کیے کا بدلہ چھکنا ہوگا۔
ہر امت کے لیے رسول
آگے اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے منکرین پر ایک اور انداز سے زجر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولکل امۃ رسول “ ہر امت قوم اور گروہ کے لیے رسول مبعوث کیا جاتا ہے۔ اسی اصول کے تحت اللہ تعالیٰ نے آخری امت کے لیے حضور خاتم النبین ﷺ کو بھیجا فرمایا (آیت) ” فاذا جاء رسولھم “ جب کسی قوم کے پاس رسول آجاتا ہے تو وہ اپنی قوم کو اپنی زبان میں حسن وقبیح سے آگاہ کرنا ہے نیکی اور بدی کی تمیز سکھاتا ہے۔ حلال و حرام کے احکام بتاتا ہے اور پھر جب قوم اپنے رسول کی باتوں کو ٹھکرا دیتی ہے (آیت) ” قضی بینھم بالقسط “ تو ان کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا جاتا ہے (آیت) ” وھم لا یظلمون “ اور ان پر کسی قسم کی زیادتی نہیں کی جاتی بلکہ ان کو ان کے کردہ اعمال ہی کی سزاد ی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں اتمام حجت کے طور پر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے (آیت) ” وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ “ (ابراہیم) ہم نے ہر نبی کو اس کی قوم کی زبان میں بھیجا تا کہ وہ اپنی قوم کو اچھی طرح سمجھا دے اور پھر ان کے لیے کوئی عذر باقی نہ رہے اگر نبی کسی غیر زبان میں آتا تو قوم اعتراض کرسکتی تھی کہ وہ نبی کی بات پوری طرح سمجھ نہیں سکے تھے اس لیے اس کے اتباع سے محروم رہے ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس اعتراض کو پہلے رفع فرما دیا۔ اور ہر نبی کو اس کی قومی زبان دے کر مبعوث فرمایا ، پھر دوسرا اصول اللہ نے یہ بھی بیان فرمایا ہے (آیت) ” وما کنا معذبین حتی ببعث رسولا “ (بنی اسرائیل) ہم کسی قوم کو سزا میں مبتلا نہیں کرتے جب تک وہاں رسول نہ بھیج دیں ، جو قوم کے لیے انذار وتبشیر کا فریضہ انجام دیتا ہے اس کے بعد بھی اگر قوم تکذیب کی مرتکب ہوتی ہے تو پھر وہ عذاب کی حقدار بن جاتی ہے۔
اللہ کا عذاب مختلف طریقوں سے آتا ہے کبھی اللہ اس دنیا میں خود مومنوں کے ہاتھوں سے مجرموں کو سزا دے دیتا ہے جیسا کہ سورة توبہ میں گزر چکا ہے کہ خدا تعالیٰ تو اس بات پر قادر ہے کہ مجرمین کو خارجی طور پر سزا دے ، یا (آیت) ” یعذبھم اللہ بایدیکم ‘ ‘ یا خود مومنوں کے ہاتھوں سے انہیں سزا میں مبتلا کردے ، وہ اپنی حکمت کے مطابق ہر بات کا فیصلہ کرتا ہے۔ تو فرمایا جب کسی قوم کے پاس رسول آجاتا ہے اور وہ فریضہ تبلیغ ادا کردیتا ہے تو پھر ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ ہر شخص کو اس کے عمل کے مطابق بدلہ دیا جاتا ہے۔ نہ کسی کے اجر میں کمی کی جاتی ہے اور نہ کسی کے ناکردہ گناہوں کا بوجھ اس پر ڈالا جاتا ہے۔ بلکہ اللہ کی عدالت میں عدل و انصاف کی بالا دستی ہوتی ہے۔
عذاب کی فرمائش
مشرکین کی بدنصیبی دیکھو کہ جب انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا جاتا ہے (آیت) ” ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین “ کہتے ہیں کہ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو بتائو کہ عذاب آجانے کا وعدہ کب پورا ہوگا۔ کہتے تھے ہم تمہاری دہمکیوں کی پروا نہیں کرتے لہٰذا جس عذاب سے ڈراتے ہو اس کو لے آئو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دو طریقوں سے دیا ہے۔ پہلی بات یہ فرمائی (آیت) ” قل لا املک لنفسی ضرا ولا نفعا “ اے پیغمبر ! آپ ان کے سوال کا جواب یہ دیں کہ میں اپنے نفس کے لیے کسی نقصان اور نفع کا مالک نہیں ہوں۔ تم اپنے لیے عذاب کا مطالبہ کر رہے ہو مگر عذاب لانا میرے اختیار میں نہیں ہے بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت اور حکمت کے مطابق اپنے وقت پر آتا ہے میں تو اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے یا نقصان کو دور کرنے پر بھی قادر نہیں ہوں چہ جائیکہ تم پر عذاب لے آئوں ” الا ما شآء اللہ “ بجز اللہ کے حکم کے ۔۔ اگر اللہ تعالیٰ کسی قوم یا فرد کو سزا دینا چاہیے تو وہ مختار کل ہے اپنی مشیت کے طور ایسا کرنے پر قادر ہے وہ جب اور جس طرح چاہے سزا دے۔ ا نسانوں کو تو اس کی سزا کی نوعیت کا بھی علم نہیں ہوتا۔ یہ تمہاری ہٹ دھرمی ہے جو سزا کا مطالبہ کرتے ہو۔
ایک مقررہ وقت
عذاب لانے کے سلسلے میں اللہ نے دوسری بات یہ فرمائی (آیت) ” لکل امۃ اجل “ ہر قوم کی سزا کے لیے ایک وقت معین ہے (آیت) ” اذا جاء اجلھم فلا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون “ جب ان کا مقررہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی بھر بھی نہ وہ پیچھے ہوتے ہیں اور نہ آگے۔ عین وقت پر ان کا کام ہوجاتا ہے۔ نافرمانوں کی گرفت سیلاب اور طوفان کی طرح اچانک آتی ہے اور وہ پکڑے جاتے ہیں۔ انسان کی انفرادی موت اور قیامت کی مجموعی موت بھی اچانک ہی آئیگی۔ سورة اعراف میں ہے (آیت) ” لاتاتیکم الا بغتۃ “ یہ تمہارے پاس اچانک ہی آئے گی کسی کو معلوم نہیں کہ موت کس وقت آجائے ۔ لہٰذا ہر صاحب عقل و شعور کو خبردار کردیا گیا ہے کہ وہ اس اچانک موت کے لیے ابھی سے فکر کرلے بہرحال مشرکین کے جواب میں پہلی بات یہ فرمائی کہ میرا اختیار نہیں ہے عذاب لانا اللہ کے اختیار میں ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ ہر چیز کے لیے ایک وقت مقرر ہے جب وہ وقت آجاتا ہے تو آگے پیچھے نہیں ہوتا بلکہ عین وقت پر وہ بات ہوجاتی ہے۔
عذاب کی اچانک آمد
اللہ نے یہ بھی فرمایا ، اے پیغمبر ! (آیت) ” قل ارء یتم ان اتٰکم عذابہ بیاتا اونھارا “ آپ کہہ دیں اگر آجائے اللہ کا عذاب رات کو یا دن کے وقت (آیت) ” ماذا یستعجل منہ المجرمون “ تو مجرم لوگ اس عذاب میں سے کس چیز کے بارے میں جلدی کرتے ہیں ، کیا عذاب کوئی اچھی چیز ہے جسے طلب کر رہے ہیں عذاب تو بہرحال عذاب ہے یہ جس وقت بھی آئے گا پھر چھوڑے گا نہیں۔
اس آیت کریمہ میں رات کے لیے لیل کی بجائے بیات کا لفظ استعمال کیا گیا ہے بیات کے دو معنی آتے ہیں یعنی رات گزارنا اور دشن پر شب کون مارنا ، جس طرح دشمن کو سزادینے کے لیے رات کے آخری حصے میں شب خون مارا جاتا ہے ، اسی طرح یہ آیت بھی دہمکی آمیز ہے کہ رات کے وقت ان پر اچانک عذاب آجائے تو وہ اس میں سے کیا چیز پسند کرتے ہیں ؟
فرمایا (آیت) ” اثم اذا ماوقع امنتم بہ “ کیا تم اس وقت ایمان لائو گے جب وہ عذاب واقع ہوجائے گا۔ اگر تمہارا ارادہ یہی ہے کہ عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ایمان لائو گے ، تو اس وقت ایمان کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا اور کہا جائیگا۔ (آیت) ” الئن “ کیا اب ایمان لاتے ہو ؟ (آیت) ” وقد کنتم بہ تستعجلون “ حالانکہ اس وقت تو کہتے تھے کہ عذاب جلدی کیوں نہیں آتا۔ جب عذاب نازل ہونا شروع ہوگیا تو بعض کو اس پر یقین آگیا اور وہ ایمان لے آئے مگر اس وقت کا ایمان لانا کچھ مفید نہیں ہوتا ، اسی سورة میں آگے فرعون کا حال بیان ہورہا ہے کہ جب فرعون غرق ہونے لگا تو کہنے لگا کہ اب میں ایمان لایا مگر اللہ کا حکم ہوا (آیت) ” الئن وقد عصیت قبل وکنت من المفسدین “ فرمایا اب کلمہ پڑھ رہے ہو ، تمہاری ساری عمر تو غنڈہ گردی میں گزری۔ اس وقت کا ایمان لانا مقبول نہیں ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان (1۔ ترمذی ، ص 500) بھی ہے ” توبہ العبد مالم یغرغر “ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول ہوتی ہے جب تک غر غرہ طاری نہ ہوجائے جب اللہ کے فرشتے آجاتے ہیں ، جان نکلنے لگتی ہے اور غیب کا پردہ اٹھ جاتا ہے تو اس وقت توبہ قبول نہیں ہوتی۔
ٹھیک ٹھیک بدلہ
فرمایا (آیت) ” ثم قیل للذین ظلموا “ پھر ظلم کرنے والوں سے کہا جائے گا (آیت) ” ذوقوا عذاب الخلد “ اب ہمیشگی کا عذاب چکھو۔ تم کفر ، شرک اور تکذیب کرتے تھے اور جب تک عذاب ظاہر نہ ہوا تم نے ایمان قبول نہ کیا ، لہٰذا اب تمہیں ہمیشہ کے لیے عذاب کا مزا چکھنا ہے ، یہ ٹل نہیں سکتا۔ اور یادر کھو (آیت) ” ھل تجزون الا بما کنتم تکسبون “ تم کو نہیں بدلہ دیا جائے گا مگر اس چیز کا جو تم کماتے تھے یہ عذاب تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہے۔ حدیث شریف میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں۔ انما ھی اعمالکم نحصیھاعلیکم “ یہ تمہارے ہی اعمال ہیں جنہیں میں نے شمار کر رکھا ہے۔ آج تمہیں ان کا ٹھیک ٹھیک بدلہ دیا جائے گا۔
آگے اللہ نے مجرمین کے تمسخر آمیز لہجے کا ذکر فرمایا ، اے پیغمبر ! (آیت) ” ویستبئونک احق ھو “ یہ لوگ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا عذاب کا آنا واقعی برحق ہے۔ اللہ نے جواب میں فرمایا ، اے پیغمبر ! (آیت) ” قل ای وربی انہ لحق “ آپ کہہ دیں ، ہاں ! میرے رب کی قسم یہ عذاب برحق ہے اور واقعہ ہو کر رہے گا۔ مجرموں کو ضرور سزا ملیگی ، قیامت برپا ہوگی اور وہ بچ نہیں سکیں گے۔ فرمایا ، یہ نہ سمجھنا کہ ہم اللہ کی کسی سکیم کو ناکان بنا کر بچ جائیں گے۔ (آیت) ” وما انتم بمعجزین “ تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں بنا سکتے یعنی اس کی تدبیر کو ناکام نہیں بنا سکتے ، تمہیں توحید ، رسالت اور معاد کے انکار کی سزا ضرور ملے گی۔
Ayahs 10:54–56ربط آیات
پہلے اللہ تعالیٰ نے شرک کرنے والوں کی تردید فرمائی پھر رسالت کے منکرین اور قیامت کے محاسبے کا ذکر کیا ، عذاب کو جلدی طلب کرنے والے کفار ومشرکین کے متعلق فرمایا کہ جب سزا آجائیگی تو اس وقت ان کا ایمان لانا قابل قبول نہ ہوگا اور وہ سزا سے بچ نہیں سکیں گے بعض مشرکین پوچھتے تھے کہ کیا قیامت واقعی برحق ہے اور سزا وجزا کا مرحلہ آنے والا ہے ؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ تاکید کے ساتھ کہہ دیں ہاں قیامت برپا ہونے والی ہے اور تم اللہ کی کسی تدبیر کو عاجز نہیں کرسکتے۔ سورة سبا میں آتا ہے کہ کافر لوگ کہتے ہیں کہ قیامت نہیں آئے گی مگر اللہ نے فرمایا (آیت) ” قل بلی وربی لتاتینکم “ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے کیوں نہیں۔ میرے رب کی قسم قیامت ضرور آئے گی۔ سورة تغابن میں فرمایا (آیت) ” زعم الذین کفروا ان لن یبعثوا “ کافر لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے جواب میں فرمایا (آیت) ” قل بلی وربی لتبعثن ثم لتنبون بما عملتم وذلک علی اللہ یسیر “ آپ کہہ دیں ، کیوں نہیں۔ میرے رب کی قسم تم مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جائو گے۔ تمہیں تمہارے تمام اعمال سے آگاہ کردیا جائیگا اور یہ بات اللہ تعالیٰ کے لیے بالکل آسان ہے وہ لوگوں کو دوبارہ زندہ بھی کرے گا اور ان سے حساب بھی لے گا۔
ظلم کا فدیہ
اللہ نے فرمایا کہ اب تو لوگ اکٹر دکھاتے ہیں۔ غرور وتکبر کا اظہار کرتے ہیں ، توحید ، رسالت اور معاد کا انکار کرتے ہیں مگر جب قیامت برپا ہوگی تو ایسے لوگوں کے لیے کوئی جائے امان نہیں ہوگی اور یہ اپنی جان کے بدلے میں بڑے سے بڑا معاوضہ دے کر بھی گلو خلاصی نہیں کرا سکیں گے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ولوان لکل نفس ظلمت “ اگر ہر ظالم نفس کے لیے وہ سب کچھ ہو (آیت) ” مافی الارض “ جو کہ زمین میں اس وقت موجود ہے اور وہ یہ سب کچھ ادا کر کے بھی جان بچانا چاہیں گے تو فرمایا (آیت) ” لافتدت بہ “ تو اس سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ دوسرے مقام پر آتا ہے (آیت) ” ما تقبل منہ “ یعنی اس سے قبول نہیں کیا جائے گا ظلم بڑا وسیع المعانی لفظ ہے۔ سب سے بڑا ظلم تو کفر اور شرک ہے سورة بقرہ میں ہے (آیت) ” والکفرون ھم الظلمون “ کفر کرنے والے لوگ بڑے ظالم ہیں۔ شرک کے متعلق سورة لقمان میں (آیت) ” ان الشرک لظلم عظیم “ یاد رکھو ! شرک بہت عظیم ظلم ہے۔ امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ کفر اور شرک بہت بڑے ظلم ہیں اس کے بعد اعمال میں ظلم ہوتا ہے۔ کسی کے ساتھ زیادگی کرنا ، کسی کی جان ومال پر ہاتھ ڈالنا ، بےآبرو کرنا ، فرائض کو ترک کرنا ، مار پیٹ غرضیکہ چھوٹی سے چھوٹی لغزش اور بڑے سے بڑے گناہ پر ظلم کا اطلاق ہوتا ہے تا ہم اس مقام پر ظلم سے مراد کفر اور شرک کا ارتکاب ہے۔ جو لوگ اللہ کی توحید ، رسول کی رسالت ، معاد اور حشر نشر کا انکار کرتے ہیں۔ وہ ظالموں کی فہرست میں آتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا جس کسی نے بھی ظلم کیا ہو وہ اگر زمین بھی کی چیزیں بھی فدیہ میں دے کر اپنی جان عذاب الٰہی سے چھڑانا چاہے گا تو ایسا نہیں کرسکے گا۔ اول تو یہ ممکن ہی نہیں کہ پوری زمین کا مال و دولت ، اس کے دفینے اور خزینے کسی ایک شخص کی ملکیت میں آجائیں۔ اور اگر بفرض محال اگر ایسا ہو بھی جائے اور وہ شخص یہ سب کچھ اپنی جان کے بدلے قربان کرنا چاہے تو اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ مطلب یہ کہ ہر شخص کو اس دنیا میں کردہ اعمال کا خمیازہ بہرحال بھگتنا ہوگا ، اور اس سے بچ نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی ، سورة مائدہ میں ہے (آیت) ” لو ان لھم ما فی الارض جمیعا و مثلہ معہ “ یعنی زمین بھرے سے ڈبل مال بھی ان کے پاس ہو (آیت) ” ما تقبل منھم “ پھر بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ دنیا میں کسی جرم سے بچ نکلنے کے کئی راستے ہیں۔ کہیں سفارش ہے ، کہیں رشوت ہے ، کہیں طاقت کے بل پر جیلیں توڑ دی جاتی ہیں مگر خدا تعالیٰ کی عدالت میں ایسا کوئی حربہ کار گر نہیں ہوگا ظلم کرنے والے ضرور پکڑے جائیں گے اور مبتلائے عذاب ہوں گے اگر لوگ اس دائمی عذاب سے بچنا چاہتے ہیں ، تو انہیں چاہیے کہ اسی دنیا میں ایمان لے آئیں۔ ظلم وتعدی سے توبہ کرلیں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد پر کاربند ہوجائیں ، اس طرح وہ آخرت کے عذاب سے بچ سکتے ہیں۔
بعد از وقت ندامت
فرمایا اللہ کے دربار میں ظلم کرنے والوں کی حالت یہ ہوگی (آیت) ” واسروا الندمۃ لما راوالعذاب “ جب عذاب کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے تو پھر اپنی ندامت کو چھپانے کی کوشش کریں گے اس دنیا میں تو بڑے طمطراق سے رہتے تھے اور ظلم و زیادتی کرتے وقت کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے مگر حشر کے میدان میں جب مجرموں کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے تو پھر اپنے نوکر چاکروں ، ملازموں ، ماتحتوں واقف کاروں اور گھر والوں سے شرمسار ہوں گے کہ وہاں تو ہم ان پر حکومت کرتے تھے مگر آج انہی کے سامنے ذلیل ہو رہے ہیں۔ اس وقت وہ اپنے دل میں نادم ہوں گے اور اس ندامت کو چھپانے کی کوشش کریں گے مگر مفسرین فرماتے ہیں کہ جب اللہ کا عذاب شروع ہوجاتا ہے تو پھر ندامت کو چھپانے کا موقع بھی نہیں ملتا ، سب کچھ ظاہر ہوجاتا ہے اس وقت پھر لوگ چیخ و پکار بھی کریں گے مگر کوئی شنوائی نہیں ہوگی۔
امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ عربی زبان میں اسر کا لفظ دو متضاد معنوں میں استعمال ہوتا ہے اس لفظ کا معنی چھپانا بھی ہے اور ظاہر کرنا بھی تو اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ جب مجرم لوگوں کے سامنے فرد جرم رکھ دی جائے گی تو اس وقت بڑا واویلا کریں گے اپنے کئے پر پچھتائیں گے اور اپنی ندامت کا کھلے عام اظہار کریں گے کہ ہم نے دنیا میں بہت برا کیا مگر وہاں چھٹکارے کے کوئی صورت نہیں ہوگی۔ غرضیکہ ندامت کو چھپانایا ظاہر کرنا ان کے کسی کام نہ آئے گا۔ اگر اس دنیا میں توبہ کرلیتے تو معافی مل جاتی مستقبل روشن ہوجاتا مگر قیامت کے دن صدق دل سے معافی بھی کارآمد نہیں ہوگی۔ مسند احمد کی روایت میں آتا ہے ” التوبۃ الندم “ ندامت توبہ ہی ہے۔ مگر توبہ کا تعلق اس دنیا سے ہے۔ وہاں اخلاص کے ساتھ کی ہوئی توبہ بھی قبول نہیں ہوگی ، کیونکہ توبہ کا وقت گزر چکا ہوگا۔
حق کا فیصلہ
فرمایا جب عذاب کو دیکھیں گے تو ندامت کو چھپائیں گے یا ظاہر کریں گے (آیت) ” وقضی بینھم بالقسط “ اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا (آیت) ” وھم لا یظلمون “ اور ان کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں کی جائیگی۔ ہر ایک کو اپنے اپنے عمل کا بدلہ ضرور ملے گا۔ نہ کسی کا عمل دوسرے پر ڈال جائیگا اور نہ کسی کو ناکردہ گناہ میں پکڑا جائے گا۔ اللہ کی بارگاہ میں بالکل حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ ہوگا۔
عارضی اور حقیقی ملکیت
فرمایا (آیت) ” الا ان للہ ما فی السموت والارض “ سنو ! جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ، سب کا سب اللہ کا ہے۔ ہر چیز اس کی پیدا کردہ ہے اور وہی اس کا مالک ہے۔ تاہم اس نے اپنی رحمت سے بعض چیزوں کو عارضی طور پر بندوں کی ملکیت میں دیدیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ان چیزوں کے استعمال کے لیے اپنا حق ملکیت استعمال کرسکیں ۔ انہیں حلال حرام اور جائز ناجائز سے مطلع کردیا گیا ہے اور خبردار کردیا گیا کہ تم ان چیزوں کے حقیقی مالک نہیں ہو بلکہ حقیقی مالک خداوند تعالیٰ ہے جس کے احکا م کے مطابق تم نے تصرف کرنا ہے۔ جیسا کہ غلاموں کے بارے میں حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ تمہارے خادم ہیں۔ اللہ نے کسی وجہ سے انہیں تمہارے سپرد کیا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ تم ان کے حقیقی مالک ہو ار ان کے معبود بن گئے ہو ، غرضیکہ دنیا کی ہر چیز کا خالق اور مالک تو اللہ رب العزت ہی ہے مگر اس نے انسانوں کو عارضی مالک بنایا ہے۔ اگر بندے اللہ کے وضع کردہ اصول و ضوابط کے مطابق کام کریں گے تو ٹھیک رہیںٰ گے ورنہ اللہ کے باغی بن جائیں گے اور پھر آخرت میں انہیں اپنے اعمال کی سخت جو ابداہی کرنا ہوگی۔ جب ہر چیز خدا تعالیٰ کی ملکیت ہے تو عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس کی وحدانیت کو تسلیم کیا جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنایاجائے۔
فرمایا (آیت) ” الا ان وعداللہ حق “ خوب سن لو ، اللہ تعالیٰ کا وعدہ بالکل برحق ہے۔ قیامت ضرور برپا ہوگی اور انسانوں سے باز پرس بھی لازمی ہوگی۔ اور پھر ہر ایک کے اعمال کا ٹھیک ٹھیک بدلہ بھی دیا جائے گا۔ لہٰذا لوگوں کا فرض ہے کہ وہ برائی سے بچیں (آیت) ” ولکن اکثرھم لا یعلمون “ مگر لوگوں کی اکثریت بےسمجھ ہے۔ انہیں اس بات کا شور ہی نہیں کہ جب مالک الملک خدا تعالیٰ ہے تو پھر غیروں کی پرستش کیسی ؟ ان سے حاجت روائی اور مشکل کشائی کا کیا معنی ؟ مگر لوگ شیطان کے بہکاوے میں آکر کفر ، شرک اور معاصی کا ارتکاب کرنے لگتے ہیں۔
زندگی اور موت
فرمایا یادرکھو ! کہ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت یہ بھی ہے (آیت) ” ھو یحییٰ ویمیت “ زندگی بھی وہی عطا کرتا ہے ، کوئی حکیم ، ڈاکٹر ، سائنس دان کسی کو زندگی عطا نہیں کرسکتا وہ الحی یعنی حیات کا مالک ہے جس کو جتنی چاہے زندگی عطا کردے اور موت بھی اسی کے اختیار میں ہے جب چاہتا ہے کسی کو موت سے ہم کنار کردیتا ہے۔ یہ بات تمام انسان تسلیم کرتے ہیں کہ موت کے اسباب اللہ تعالیٰ ہی پیدا کرتا ہے جس کی وجہ سے موت واقع ہوجاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ دراصل موت بھی اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اور زندگی بھی وہی دیتا ہے۔
بعض لوگ موت اور زندگی کو دو مختلف ذاتوں کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ہندو مشرکین کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جن کے عقیدے کے مطابق برہما جی پیدا کرتے ہیں اور وشنو جی موت دیتے ہیں۔ یونانی اور بعض دوسرے مشرک بھی اس قسم کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ پیدا کرنے والا ، تھامنے والا اور مارنے والا مختلف معبود ہیں ، حالانکہ اللہ نے فرمایا (آیت) ” ھو الحی القیوم “ (البقر) زندگی عطا کرنے والا بھی ہے ۔ مارنے والا بھی وہی ہے اور ہر چیز کو قائم کرنے والا بھی وہی ہے۔
فرمایا (آیت) ” والیہ ترجعون “ تم سب کو اسی طرلوٹ کر جانا ہے۔ سب اسی خدا کے سامنے پیش ہو گے اور اپنے اپنے اعمال کے مطابق جواب دہی کرو گے۔ اگر یہ بات تمہاری سمجھ میں آجائے تو پھر کفر اور شرک کی بجائے اللہ تعالیٰ کی خالص توحید آجائے گی۔ تمہارا عقیدہ درست ہوجائے گا اور پھر تم قیامت کے دن سرخرو ہو جائو گے۔