10. Surah Yunus

يونسJonas · 109 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 10:57–58

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَتْكُمْ مَّوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوْرِ١ۙ۬ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 10:57 in the Quran reader

اے لوگو ! تحقیق آچکی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے پروردگار کی طرف سے اور شفا اس کیک لیے جو سینوں میں (روگ) ہے۔ اور ہدایت اور رحمت والوں کے لیے

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْا١ؕ هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 10:58 in the Quran reader

(اے پیغمبر) آپ کہہ دیں ، اللہ کے فضل اور اس کی رحمت کے ساتھ ، پس اس کے ساتھ چاہیے کہ وہ خوش ہوں ، یہ بہتر ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اکٹھا کرتے ہیں

ربط آیات اس سے پہلے توحید و رسالت کا ذکر اور قرآن پاک کی حقانیت وصداقت کا بیان ہوچکا ہے۔ دراصل اس سورة کا مرکزی مضمون دعوت الی القرآن ہے۔ اس بات کا ذکر سورة کی ابتدائی آیت میں ہوا۔ پھر دوسری بار قرآن حکیم کا تذکرہ مشرکین کے اس مطالبے کے جواب میں ہوا جس میں وہ قرآن کو تبدیل کردینے کی فرمائش کرتے تھے۔ اس کا جواب اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کی زبان سے یہ دلوایا کہ قرآن پاک کو تبدیل کرنے یا اس میں کسی قسم کی ترمیم کرنے کا اختیار میرے پاس نہیں ہے بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کا اختیار ہے جو اپنے حکمت اور مصلحت کے مطابق جب چاہے کسی حکم کو تبدیل کر دے یا منسوخ کردے۔ اب آج کے درس میں قرآن کریم کا ذکر تیسری مرتبہ آرہا ہے جس میں اس کی چار صفات بیان کی گی ہیں یعنی موعظت (نصیحت) بیمار دلوں کے لیے شفا ، ہدایت اور رحمت۔ (1) موعظت ارشا ہوتا ہے (آیت) ” یایھا الناس قد جاء تکم موعظۃ من ربکم “ اے لوگو ! تحقیق تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے نصیحت آچکی ہے۔ موعظت وعظ اور نصیحت پر عمل پیرا ہوگا ، وہ برائی سے بچ جائے گا۔ ا س طرح قرآن پاک ناشائشہ باتوں کی چھڑا دیتا ہے۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) وعظ ونصیحت کی تعریف میں لکھتے ہیں (1۔ الخیر الکثیر ، ص 76) قھر المدارک الظلمانیۃ بانوار المعارف القدسانیۃ وعظ انسان کے دل و دماغ سے تاریکی والے تمام مادوں کو دور کرکے اسے پاکیزہ انوار کے ساتھ منور کردیتا ہے۔ غرضیکہ قرآن کریم کی پہلی صفت یہ فرمائی کہ یہ موعظت ہے۔ تبلیغ دین کے لیے بھی فرمایا (آیت) ” ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ الحسنۃ “ اللہ کی طرف حکمت اور اچھی موعظت کے ساتھ دعوت دی۔ (2) شفا اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی دوسری صفت کے متعلق فرمایا (آیت) ” و شفاء لما فی الصدور “ یہ دلوں کی بیماریوں کے لیے بمنزلہ شفا کے ہے پہلی صفت موعظت کا تعلق انسان کے ظاہر سے تھا کہ وہ انسان کے ناجائز افعال کو جائز میں بدل دیتی ہے اور اب اس دوسری صفت شفاء کا تعلق باطن سے ہے۔ انسان کو باطنی بیماریوں سے پاک کرنا قرآن کا خاص موضوع ہے۔ چناچہ اللہ کی یہ مقدس کتاب کفر ، شرک ، نفاق حسد ، کینہ ، تکبر اور بدعقیدگی جیسی روحانی بیماریوں کو شفا بخشتی ہے۔ انسان کو روحانی بیماریوں سے غافل نہیں ہونا چاہیے ، کیونکہ یہ جسمانی بیماریوں سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتی ہیں۔ ان بیماریوں کا علاج قرآن پاک میں ہے۔ جو شخص قرآن پاک کے فرمودات پر عمل کریگا وہ اعتقادی اور اخلاقی بیماریوں سے محفوظ ہوجائے گا ، اسی لیے فرمایا کہ یہ ان بیماریوں کے لیے شفا ہے جو لوگوں کے دلوں میں جا گزیں ہوتی ہیں۔ یہاں پر ظاہری بیماریوں کا ذکر نہیں کیا گیا حالانکہ بالطبع ایسا ہی ہوجاتا ہے کہ قرآن پاک کی کوئی آیت پڑھ کر پھونک ما دی جائے تو اللہ تعالیٰ ظاہری بیماری سے بھی شفا عطا کردیتا ہے ، مگر یہ قرآن کا موضوع نہیں ہے بلکہ ایک زائد چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن پاک کی برکت سے ظاہر بیماریوں کو بھی دور کردیتا ہے۔ ابن ماجہ شریف کی روایت میں آتا ہے ” علیکم بالشفائین “ یعنی اپنے اوپر دوشفائوں کو لازم پکڑو۔ یعنی دو چیزیں باعث شفا ہیں ” العسل والقرآن “ ایک شہد اور دوسری قرآن۔ مکھی کے پیٹ سے نکلنے والی شہد کے متعلق سورة نحل میں ہے (آیت) ” فیہ شفاء للناس “ اس میں لوگوں کے لیے اللہ نے شطاء رکھی ہے قرآن پاک کے لیے شفا کا لفظ اس آیت میں بھی آیا ہے اور اس کے علاوہ سورة بنی اسرائیل اور سورة حم سجدہ میں بھی آتا ہے۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کی سعادت اس بات میں ہے کہ اس کا عقیدہ پاک ہو اور اس کا کمال اس میں ہے کہ اسے اعمال صالحہ حاصل ہوں۔ اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (آیت) ” ولکل درجٰت مماعملوا “ (الاحقاف) تمام درجات اعمال کی بدولت ہی نصیب ہوتے ہیں۔ اگر انسان کا عقیدہ پاک نہیں ہوگا تو نہ کوئی عمل مقبول ہوگا اور نہ اسے درجات نصیب ہوں گے۔ ایسا شخص شقی ہوگا ، سعادت مند نہیں ہوسکتا۔ تو گویا قرآن انسان کو ناشائشہ افعال سے روکتا ہے اور پاکیزہ عقائد کی تلقین کرتا ہے۔ فاسد اعتقادات کو دل سے نکال دو ، یہ روحانی بیماری ہے جس کے لیے قرآن پاک بمنزلہ شفا ہے۔ (3) ہدایت اللہ نے قرآن کی تیسری صفت (آیت) ” وھدی “ یعنی ہدایت کا ذکر کیا ہے باطنی بیماریوں کو دور کر کے ان کی جگہ سچے اعتقادات اور پاکیزہ اخلاق کو جگہ دینا ہدایت میں شامل ہے۔ اسی لیے بزرگان دین تخلیہ اور تجلیہ کا درس دیتے ہیں جس کا مطلب یہی ہے کہ انسان اپنے دل و دماغ سے گندی چیزوں کو نکال دے اور پاکیزہ چیزوں کو جمع کرلے۔ پاکیزہ عقائد میں اللہ تعالیٰ کی توحید ، ایمان ، اخلاص ، اللہ کی کتاب ، ملائکہ ، معاد ، جنت ، دوزخ اور اس کی صفات پر کامل یقین شامل ہیں اور یہی چیز ہدایت کے نام سے موسوم ہے۔ اسی ہدایت کے حصول کے لیے دعا کرتے ہیں (آیت) ” اھدنا الصراط المستقیم “ اے اللہ ! ہمارے لیے ہدایت کے راستے کھول دے اور پھر اللہ تعالیٰ بھی جواب میں اپنی پاک کتاب کو پیش کر کے فرماتا ہے (آیت) ” ھدی للمتقین “ یہ ہدایت پرہیزگاروں کے لیے ہے زندگی کے کسی موڑ پر بھی ہدایت کی ضرورت ہو ، قرآن پاک راہنمائی کرے گا۔ قرآن پاک میں تمام بڑے بڑے اصول بیان کردیے گئے ہیں جن کی روشنی میں پوری انسانی زندگی کے تمام مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔ (4) رحمت چوتھی صفت (آیت) ” ورحمۃ للمومنین ‘ ‘ کا ذکر کیا گیا ہے۔ جب انسان اپنے باطن کو تمام رذائل سے پاک کرلیتا ہے اور گندے عقیدوں کو چھوڑ دیتا ہے۔ کفر ، شرک اور نفاق کو چھوڑ کر اپنے اندر اعلی اخلاق کو جمع کرلیتا ہے۔ اسی طرح اپنے ظاہر کو تمام ناشائستہ افعال سے بچا لیتا ہے اور اعمال حسنہ کو اختیار کرلیتا ہے تو وہ ہدایت کے راستے پر چل نکلتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے شامل حال ہوجاتی ہے گویا موعظت ، شفا اور ہدایت کا نتیجہ رحمت کو صورت میں نکلتا ہے جب تک ان تین چیزوں پر گامز ن نہیں ہوتا وہ رحمت خداوندی تک نہیں پہنچ سکتا۔ امام رازی (رح) اور بعض دیگر مفسرین کرام اس آیت میں آمدہ چاروں صفات قرآنی کی تعبیر اس طرح بھی کرتے ہیں کہ موعظت سے مراد شریعت ہے۔ شفا کو طریقت کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے ، ہدایت کو حقیقت کے معانی میں لیا گیا ہے اور رحمت کو نبوت اور خلافت کو عنوان دیا گیا ہے اس کے بعد بزرگان دین کے چار طریقے نقشبندی ، سہروردی ، قادری اور چشتی ہیں۔ شاہ عبدالعزیز (رح) فرماتے ہیں کہ یہ چار طریقے ایسے ہیں ہیں جیسے ائمہ اربعہ کے چار مسلک۔ ان چاروں مسلکوں میں تھوڑا بہت اختلاف بھی ہے مگر مقصد سب کا ایک ہی ہے ، یہ چاروں برحق ہیں اور فروعات میں کلام کرتے ہیں۔ ان کے متوازی بزرگان دین کے یہ چار سلسلے انسان کے باطنی تزکیہ پر کلام کرتے ہیں۔ اگر خود مذہب والے یا مسلک والے کسی چیز کو بگا ڑ دیں تو اس سے مذہب کی حقانیت پر تو کر ئی حرف نہیں آتا۔ وہ تو بہرحال طریق کار ہے جو اس پر عمل کریگا۔ کامیاب ہوگا۔ بہرحال مقصد یہی ہے کہ انسان سے رذیل خصائل ختم ہو کر پاکیزہ اعمال واخلاق پیدا ہوجائیں۔ الغرض ! قرآن پاک ایک بہت بڑی حقیقت ہے ، اسی لیے ارشاد ہوا ہے کہ اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے نصیحت آچکی ہے۔ یہ بیمار دلوں کے لیے شفا ہے ۔ زندگی کے ہر موڑ پر راہنمائی کے لیے ہدایت ہے اور اہل ایمان کے لیے باعث رحمت ہے۔ فضل ورحمت خداوندی پھر فرمایا اے پیغمبر ! (آیت) ” قل بفضل اللہ وبرحمتہ “ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ کے فضل اور رحمت کے ساتھ (آیت) ” فبذلک فلیفرحوا “ پس اس کے ساتھ چاہیے کہ وہ خوش ہوجائیں۔ قرآن کریم اور ہدایت اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت ہے اور اچھا انسان وہی ہے جو فضل الٰہی کا طلب گار ہو۔ چناچہ حضور ﷺ نے دعا سکھائی ہے ” اللھم انی اسئلک من فضلک ورحمتک “ اے اللہ میں تیرے فضل اور تیری رحمت کا طالب ہوں ، یہ چیزیں قرآن پاک کی معرفت حاصل ہوتی ہیں اور جسے حاصل ہوجائیں اسے خوش ہونا چاہیے۔ فرمایا (آیت) ” ھو خیر مما یجمعون ‘ یہ بہتر ہے ان چیزوں سے جنہیں انسان زندگی بھر اکٹھا کرتے رہتے ہیں۔ نادان لوگ دنیا کے حقیر مال و دولت پر دندناتے پھرتے ہیں حالانکہ یہ چیزیں چند دن کے بعد ختم ہوجانے والی ہیں اور اس کے بعد طالبان دنیا سخت تکلیف میں مبتلا ہوں گے۔ مگر قرآن پاک اور ہدایت کی بدولت انسان کو ابدی راحت حاسل ہوجائے گی ، سو اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے کے ساتھ انسان کو خوش ہوجانا چاہیے ، قرآن کریم کے ساتھ خوش ہوجانا چاہیے اور پھر اس کی تعلیم حاصل کر کے نصیحت ، شفا ، ہدایت اور رحمت کا مصداق بننا چاہیے ہمارا نظریہ یہ ہونا چاہیے کہ ہم قرآن پاک سے محبت کریں۔ اس کی نصیحت پر عمل پیرا ہو کر اس کے بتلائے ہوئے طریقے سے تخلیہ اور تجلیہ حاصل کریں ہمارے باطن سے تمام بیماریاں دور ہوجائیں اور ہم میں شائستگی آجائے اسی لیے فرمایا کہ یہ بہتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ لوگ دنیا میں اکٹھا کرتے ہیں۔
Ayahs 10:59–60

قُلْ اَرَءَیْتُمْ مَّاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ لَكُمْ مِّنْ رِّزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِّنْهُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا١ؕ قُلْ آٰللّٰهُ اَذِنَ لَكُمْ اَمْ عَلَى اللّٰهِ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 10:59 in the Quran reader

(اے پیغمبر) آپ کہہ دیجئے ( اے لوگو ! ) بتلائو جو اللہ نے نے نازل کیا ہے تمہارے لیے رزق ، پس ٹھہرایا ہے تم نے اس میں سے ( کچھ حصہ) حرام اور (کچھ حصہ) حلال۔ آپ کہہ دیجئے کیا اللہ نے حکم دیا ہے تم کو یا تم اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 10:60 in the Quran reader

اور کیا گمان ہے ان لوگوں کا جو افتراء کرتے ہیں اللہ پر جھوٹ قیامت کے دن۔ بیشک اللہ تعالیٰ فضل کرنے والا ہے لوگوں پر ، لیکن اکثر ان میں سے شکر ادا نہیں کرتے

ربط آیات گذشتہ درس میں قرآن کی چار صفات بیان ہوئیں۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ اس کی طرف سے نصیحت ہے ، دلوں کی بیماریوں کے لیے شفا ہے۔ انسانوں کے لیے ذریعہ ہدایت اور اس ہدایت پر عمل کرنے والوں کے لیے رحمت ہے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے شرک کا رد فرمایا ہے اور وہ اس طرح کہ جب اللہ تعالیٰ نے قرآں کریم کو منبع رشد وہدایت بنایا ہے تو پھر لوگوں کا فرض ہے کہ وہ حلت وحرم کے مسائل میں قرآن ہی کو سند پکڑیں اور اس سلسلے میں کسی دوسری طرف رجوع نہ کریں اور نہ ہی اپنی ذہنی اختراع کے مطابق کسی چیز پر حلال و حرام ہونے کا فتویٰ لگائیں ، مشرکوں کا اپنی مرضی سے کسی چیز پر حلت و حرمت کا حکم لگانا دراصل اللہ تعالیٰ کے اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لینے کے مترادف ہے اور یہی شرک ہے جس کی اللہ نے تردید فرمائی ہے۔ نزول رزق ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” قل ارء یتم ما انزل اللہ لکم من رزق “ اے پیغمبر ! مجھے بتلائو جو کچھ اللہ نے تمہارے لیے روزی نازل کی ہے۔ یہاں پر روزی کے لیے انزل کا لفظ استعمال کیا گیا ہے حالانکہ روزی نازل نہیں ہوتی بلکہ زمین سے پیدا ہوتی ہے تا ہم اس پر اتانے کے لفظ اس لے آیا ہے کہ زمین سے پیدا ہونے والی تمام چیزوں کا تعلق پانی سے ہے جو آسمان سے نازل ہوتا ہے۔ گذشتہ آیات میں گزر چکا ہے (آیت) ” کماء انزلنہ من السماء فاختلط بہ نبات الارض “ کہ اللہ نے آسمانوں سے پانی نازل فرمایا۔ پھر اس کے ساتھ زمین کے نباتات مل گئے تو زمین سے روئیدگی پیدا ہوئی جو انسانوں اور جانوروں کی خوراک بنی۔ تو اس لحاظ سے روزی کو آسمانوں سے نازل کرنے پر محمول کیا گیا ہے۔ سورة الزمر میں جانوروں کے لیے بھی انزل کا لفظ استعمال ہوا ہے (آیت) ” وانزلنا لکم من الانعام ثمنیۃ ازواج “ اللہ نے تمہارے لیے آٹھ قسم کے جوڑے نازل کیے ہیں یعنی پیدا فرمائے ہیں ان میں اونٹ ، گائے بھینس اور بھیڑ بکری ہر دونر اور مادہ لوگوں کی غذا کے کام آتے ہیں اور ان کا دودھ بھی استعمال کیا جاتا ہے اسی طرح رزق کے متعلق بھی بیان فرمایا ہے کہ ہم نے راستے تمہارے لیے نازل کیا۔ سورۃ الذاریات میں آتا ہے (آیت) ” وفی السماء رزقکم وما توعدون “ آسمان میں تمہاری روزی اور وہ چیز ہے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔ زندگی اور موت کا حکم بھی آسمانوں ہی سے نازل ہوتا ہے ۔ اور اس کے مطابق تمام جانداروں کو روزی میسر آتی ہے۔ حدیث شریف میں یہ بھی آتا ہے کہ جب عبد مومن فوت ہوجاتا ہے تو آسمان کے دروازے بند ہوجاتے ہیں ۔ جہاں سے اس کی روزی کا حکم نازل ہوتا تھا اور وہ دروازے بند ہوجاتے ہیں جن سے نیک آدمی کے اعمال صالحہ عالم بالا کی طرف جاتے تھے۔ مرد مومن پر بھی زمین روتی ہے اور آسمان بھی کہ جس شخص کے لیے خیر کے حکم جاری ہوتے تھے وہ چل بسا غرضیکہ روزی اتارنے میں یہ حقیقت بھی پائی جاتی ہے۔ یاد رہے کہ روزی کا اطلاق صرف خوراک پر نہیں ہوتا بلکہ عربی زبان میں رزق کا لفظ وسیع معنوں میں استعمال ہوتا ہے مثلا ” رزق اولاد “ فلاں آدمی کو اولا دی گئے ، ” رزق مالا “ فلاں کو مال دیا گیا یا ” رزق طعاما “ یعنی فلاں کو کھانا دیا گیا۔ غرضیکہ رزق میں کھانے پینے کے علاوہ لباس ، مکان سواری اور تمام ضروریات زندگی شامل ہے۔ تاہم عام طور پر اس کا اطلاق کھانے پینے کی اشیاء پر ہوتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان سے مشرکین کو کہلوایا ہے کہ ذرا بتلائو تو سہی ، اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے جو رزق نازل کیا ہے ، تم نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے ؟ خود ساختہ حلت وحرمت فرمایا ، اللہ نے تو تمہارے لیے روزی نازل فرمائی (آیت) ” فجعلتم منہ حراما وحللا “ پھر تم نے اپنی مرضی سے اس میں سے کچھ حصہ حرام ٹھہرا لیا اور کچھ کو حلال کرلیا ، فرمایا اللہ نے تو پاکیزہ روزی عطا کی تھی مگر تم نے از خود کیوں بعض چیزوں کو حرام کرلیا۔ سورة انعام میں تفصیل موجود ہے کہ مشرک لوگ حلال چیزوں کو کس طرح حرام کرلیتے تھے۔ بعض مادہ جانور جب حاملہ ہوجاتے تو مشرک کہتے کہ پیدا ہونے والا بچہ ہمارے مردوں کے لیے حلال ہے جب کہ عورتوں کے لیے حرام ہے ، کہتے تھے (آیت) ” ما فی بطون ھذہ الانعام کالصۃ لذکورنا و محرم علی ازواجنا “ اور اگر بچہ مردہ پیدا ہوتا (آیت) ” فھم فیہ شرکائ “ تو اس میں مرد وزن سب شامل ہو کر کھاتے ۔ اسی طرح کھیت کی پیداوار کا کچھ حصہ بتوں کے نام پر نامزد کردیتے تھے اور کہتے تھے کہ اس کو کوئی نہیں کھا سکتا۔ مشرک لوگ بحیرہ سائبہ نامی بعض جانوروں کو بھی بعض معبودوں کے نام پر کھلا چھوڑ دیتے اور کہتے کہ نہ تو اس پر سواری کی جاسکتی ہے ورنہ اس کا گوشت کھایا جاسکتا ہے وہ اس کا دودھ بھی حرام کرلیتے تھے تو فرمایا ، اللہ نے تمہارے لیے پاک روزی کا بندوبست کیا مگر تم نے از خود کچھ حصہ کو حرام اور کچھ کو حلال ٹھہرالیا ۔ نعمت کی ناشکری حدیث میں آتا ہے کہ ایک صحابی مالک ابن نضلہ ؓ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان کا لباس بالکل پھٹا پرانا تھا۔ حضور ﷺ نے دریافت کیا ، کیا تمہارے پاس مال ہے ؟ عرض کیا ، ہر قسم کا مال موجود ہے جن میں اونٹ ، بھیڑ بکریاں ، گھوڑے ، اور غلام شامل ہیں آپ نے فرمایا ، جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں اتنی نعمت عطا کی ہے تو اس کا اثر تمہاری ذات پر دکھائی دینا چاہیے۔ کم از کم لباس تو صاف ستھرا پہنا کرو۔ یہ حدیث مسند احمد میں ہے۔ اور امام ابن کثیر (رح) نے بھی اسے نقل کیا ہے بہرحال حضور ﷺ نے اس شخص سے فرمایا کہ اللہ نے تمہیں مال دیا ہے تو اسے اپنے آپ پر بھی خرچ کرو اور اس کے باقی حقوق بھی ادا کرو ، اللہ تعالیٰ نے بخل کو سخت ناپسند کیا ہے۔ حضور ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ دیکھو ! اللہ تعالیٰ تمہارے لیے صحیح سلامت جانور پیدا کرتا ہے ، پھر تم استرا لے کر اس کا تھوڑا سا کان کاٹ ڈالتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ بحیرہ بن گیا ہے اور اب یہ فلاں معبود کی نیاز ہے ، لہٰذا اب اس سواری نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح کسی جانور کی کھال کو تھوڑا سا چیز دیا تو اسے سواری کے لیے حرام قرار دے دیا۔ حضور نے فرمایا ، یاد رکھو ! اللہ کا بازو تم سے زیادہ طاقتور ہے اور اس کا استرا تمہارے استرے سے زیادہ قوی ہے۔ وہ تم سے پوچھے گا کہ تمہارے فائدے کے لیے جانور تو میں نے پیدا کیے ہیں مگر تم نے انہیں معبودانِ باطلہ کی نیاز بنا کر خود اپنے اوپر کیوں حرام کرلیا ہے۔ حلت و حرمت کا اختیار مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خالق ، مالک ، مربی اور مختار ہے اس نے انسانوں کی روزی کے لیے سب چیزیں پیدا کی ہیں مگر تمہیں حلال و حرام قراردینے کا اختیار کیسے مل گیا ؟ سورة نخل میں فرمایا (آیت) ” ولا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ھذا حلل وھذا حرام “ محض مشرکانہ نظریات کے مطابق اپنی زبانوں سے کسی چیز کو حلال یا حرام مت بنائو۔ کسی چیز پر حلت و حرمت کا حکم لگانا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ اس کام کی اتھارٹی اسے حاصل ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ” الحلال ما احل اللہ “ حلال وہ ہے جسے اللہ نے حلال قرار دیا (آیت) ” والحرام ما حرم اللہ “ اور حرام وہ ہے جسے اللہ نے حرام کیا اور اس کا بیان خدا تعالیٰ کی شریعت میں ہے۔ کوئی شخص اپنی مرضی سے کسی چیز کو حلال یہ حرام نہیں بنا سکتا۔ جو ایسا کریگا وہ شرک کا مرتکب ہوگا۔ کیونکہ حلت و حرمت کی صفت ذات خداوندی کے ساتھ مختص ہے۔ عدی ؓ بن حاتم طائی کا واقعہ حدیث میں آتا ہے۔ حاتم خود توعیسائی مذہب پر ہی مرا مگر اس کا بیٹا عدی اور ایک بیٹی ایمان لائے۔ جب عدی ؓ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تو سورة توبہ کی آیت (آیت) ” اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ “ کا ذکر ہوا ۔ کہ یہودیوں اور عیسائیوں نے اپنے علماء اور مشائخ کو اللہ کے سوا رب بنا لیا ہے اس پر عدی ؓ کہنے لگے کہ ہم تو اپنے پیروں اور مولویوں کی عبادت نہیں کرتے تھے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کیا تم پادریوں کی حلال کردہ چیز کو حلال اور حرام کردہ چیز کو حرام تسلیم نہیں کرتے کہنے لگا ، ایسا تو ہم سمجھتے ہیں تو حضور ﷺ نے فرمایا ” فذلک اربابا من دون اللہ “ پس یہی اللہ کے سوا رب بنانے والی بات ہے۔ یہاں سجدہ ، رکوع وغیرہ مراد نہیں بلکہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کو حلت و حرمت کا اختیار دینا اس کے ساتھ شریک بنانے کے مترادف ہے۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ تحریم ایک تکوین نافذ کا نام ہے عالم بالا سے حکم نافذ ہوتا ہے کہ فلاں کام کرو گے تو مواخذہ ہوگا اور فلاں کام پر باز پرس نہیں ہوگی۔ تکوین نافذ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے جسے کوئی دوسری ذات استعمال نہیں کرسکتی ، لہٰذا حلت و حرمت کا حکم لگانا بھی صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ جو کوئی اس میں مداخلت کرے گا ، وہ شرک کا مرتکب ہوگا۔ ہاں جب حلت و حرمت کو نبی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے تو یہ اس بات کی قطعی علامت ہوتی ہے کہ یہ چیز اللہ تعالیٰ نے حلال یا حرام قرار دی ہے۔ یہی بات جب کسی مجتہد کے نام پر منسوب کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مجتہد نے فلاں دلیل یا قرینے سے اسے شریعت سے معلوم کر کے بتایا ہے ، وگرنہ وہ خود حلت و حرمت کا حکم لگانے کے مجاز نہیں ہوتے ، یہ صرف خدا تعالیٰ کا کام ہے دلی والوں نے بی بی کی صحنک بنا رکھی ہے۔ یہ حضرت فاطمہ ؓ کی نیاز مشہور ہے جسے صرف عورتیں کھا سکتی ہیں۔ مردوں کے لیے حرام قرار دے دیدی گئی ہے عورتوں میں سے دو خصمی عورت بھی یہ نیاز کھانے کی مجاز نہیں سمجھی جاتی۔ اسی طرح امام صادق (رح) کے نام کے کو نڈے بھرے جاتے ہیں۔ اس نیاز کا حلوہ کھلی جگہ پر کھانا منع ہے بلکہ صرف چھت کے نیچے ہی کھایا جاتا ہے۔ لوگوں نے اپنی طرف سے شریعت بنا رکھی ہے۔ یہی تو تحلیل وتحریم میں شرک ہے ، بھائی ! جب اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو منبع علم ، نصیحت اور ہدایت دینے والی کتاب بنا کر بھیجا ہے تو حلت و حرمت کا قانون بھی اسی کتاب سے دریافت کرو۔ خود اپنی مرضی سے روزی کے بعض حصے حلال اور بعض حرام نہ بنائو۔ اللہ پر افتراء فرمایا ، اے پیغمبر ! (آیت) ” قل “ آپ کہہ دیجئے (آیت) ” اللہ ازن لکم “ کیا تمہیں اللہ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے (آیت) ” ام علی اللہ تفترون “ یا تم اللہ پر افتراء باندھتے ہو۔ خدا تعالیٰ نے تو ایسا کوئی حکم نہیں دیا کہ فلاں چیز صرف چھت تلے ہی کھائی جاسکتی ہے یا فلان چیز کو صرف عورتیں ہی کھائیں۔ جو کوئی ایسا کرے تا وہ خدا پر جھوٹ باندھے گا کیونکہ خدا نے تو ایسا کوئی حکم نہیں دیا۔ شرک کی ہر بات افتراء علی اللہ ہے اور پیچھے گزر چکا ہے (آیت) ” سبحنہ وتعالیٰ عما یشرکون “ اللہ تعالیٰ تمام شرکیہ باتوں سے پاک ہے۔ جو بات اللہ تعالیٰ نے نہیں کہی ، وہ اس کی طرف منسوب کرنا اس پر افتراء باندھنا ہے۔ ایسے کام کے لیے مشرکین کے پاس کو کوئی دلیل نہیں ہوتی بلکہ وہ محض اپنے ملک ، علاقے یا گائوں کے رسم و رواج کے پیچھے چلتے ہوئے ایسا کرتے ہیں۔ (آیت) ” وماظن الذین یفتررون علی اللہ الکذب یوم القیمۃ “ اور کیا گمان ہے ان لوگوں کا جو اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں قیامت والے دن۔ یعنی قیامت کے دن ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا ؟ کیا یہ اللہ کی گرفت سے بچ جائیں گے ؟ مشرکین اور حلت و حرمت کا حکم لگانے والے اللہ کی پکڑ سے کبھی نہیں بچ سکتے۔ قیامت کے دن یہ لوگ مجرموں کے کٹہرے میں گھڑے ہوں گے اور سزا کے مستحق ٹھہریں گے ۔ فرمایا یاد رکھو ! (آیت) ” ان اللہ لذو فضل علی الناس “ اللہ تعالیٰ تو لوگوں پر فضل کرنے والا ہے۔ اس نے پیدا کیا ، عقل و شعور سے نوازا۔ انبیاء بھیجے ، کتب نازل فرمائیں توبہ کا دروازہ کھلا رکھا مگر (آیت) ” ولکن اکثرھم لا یشکرون “ مگر اکثر لوگ اس کا شکر ادا نہیں کرتے ان کا کیا خیال ہے کہ قیامت کے دن ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔
Ayahs 10:61–66

وَ مَا تَكُوْنُ فِیْ شَاْنٍ وَّ مَا تَتْلُوْا مِنْهُ مِنْ قُرْاٰنٍ وَّ لَا تَعْمَلُوْنَ مِنْ عَمَلٍ اِلَّا كُنَّا عَلَیْكُمْ شُهُوْدًا اِذْ تُفِیْضُوْنَ فِیْهِ١ؕ وَ مَا یَعْزُبُ عَنْ رَّبِّكَ مِنْ مِّثْقَالِ ذَرَّةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصْغَرَ مِنْ ذٰلِكَ وَ لَاۤ اَكْبَرَ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 10:61 in the Quran reader

اور نہیں ہوتے آپ کسی حال میں اور نہیں پڑھتے آپ اس حال میں قرآن اور نہیں عمل کرتے آپ کوئی عمل مگر ہم ہوتے ہیں اس کام میں۔ اور نہیں غائب تیرے رب سے مقدار ایک ذرے کے زمین میں اور نہ آسمان میں ، نہ اس سے کوئی چھوٹی چیز اور نہ بڑی مگر وہ کتاب مبین میں ہے

اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۚۖ Open ayah 10:62 in the Quran reader

آگاہ رہو ! بیشک اللہ تعالیٰ کے دوست نہیں خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے

الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَؕ Open ayah 10:63 in the Quran reader

وہ جو ایمان لائے اور تقوی اختیار کرتے رہے

لَهُمُ الْبُشْرٰى فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ؕ لَا تَبْدِیْلَ لِكَلِمٰتِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُؕ Open ayah 10:64 in the Quran reader

ان کے لیے بشارت ہے دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں۔ نہیں ہے تبدیلی اللہ کے کلمات میں یہ بڑی کامیابی ہے

وَ لَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّ الْعِزَّةَ لِلّٰهِ جَمِیْعًا١ؕ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 10:65 in the Quran reader

اور نہ غم میں ڈالے آپ کو ان کی بات بیشک عزت اللہ کے لیے ہے سب اور وہی سننے والا اور جاننے والا ہے

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ شُرَكَآءَ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 10:66 in the Quran reader

آگاہ رہو ! بیشک اللہ تعالیٰ کے یے ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور جو پیروی کرتے ہیں ان لوگوں کی جو پکارتے ہیں اللہ کے سوا دوسرے شریکوں کو ، نہیں پیروی کرتے وہ مگر گمان کی ، اور نہیں وہ مگر اٹکل دوڑاتے

ربط آیات یہ بھی دراصل توحید کے اثبات اور مشرکین کے رد کا بیان ہے۔ اس سے پہلے اللہ نے قرآن کریم کے اوصاف بیان کیے قرآن پاک کے پروگرام کے علاوہ اپنے گمان محض اور ناقص عقل سے حلت و حرمت کے حکم لگانے کی مذمت بیان فرمائی۔ ایسے لوگوں کی سزا کے متعلق اللہ نے اشارۃ فرمایا کہ یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ قیامت والے دن ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا ؟ اب آج کے درس میں اللہ نے اپنے اوصاف بیان فرمائے ہیں اور اپنے پیغمبر (علیہ السلام) کی تعریف بیان کی ہے آپ کے پیروکاروں کا بھی ضمنا ذکر کیا گیا ہے۔ نظر خداوندی ارشاد باری تعالیٰ ہے (آیت) ” وما تکون فی شان “ اور نہیں ہوتے آپ کسی حال میں (آیت) ” وما تتلوا منہ من قران ‘ ‘ اور آپ نہیں پڑھتے اس حال میں قرآن پاک (آیت) ” ولا تعملون من عمل “ اور نہیں انجام دیتے کوئی عمل (آیت) ” الا کنا علیکم شھودا اذ تفیضون فیہ “ مگر یہ کہ ہم آپ کے پاس موجود ہوتے ہیں جب آپ کسی کام میں مصرف ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی تعریف میں فرمایا ہے کہ آپ جس حالت میں بھی ہوں ، قرآن پاک کی تلاوت کر کے لوگوں کو اس کی طرف دعوت دے رہے ہوں یا کوئی دوسرا نیکی کا کام کر رہے ہوں نماز پڑھ رہے ہوں یا غرباء و مساکین کی اعانت کر رہے ہوں ، ہم ہر حالت میں حاضر ہوتے ہیں اور آپ کے کاموں کو دیکھتے ہیں۔ تبلیغ دین کے ذریعے لوگوں کی راہنمائی کر رہے ہوں یا خود اپنی وفاداری اور عجز و انکساری اللہ رب العزت کی بارگاہ میں پیش کر رہے ہوں ، ہم کسی حال میں بھی آپ سے جدا نہیں ہوتے بلکہ آپ کا ہر کام ہماری نگاہ میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ تو حاضر وناظر ہے اور وہ ہر شخص کے اعمال کو دیکھ رہا ہے کہ کوئی شخص کس قسم کا کام ، کس نیت اور ارادے سے کر رہا ہے۔ اچھا کام کر رہا ہے یا برائی کی طرف راغب ہے ، خلوص کے ساتھ انجام دے رہا ہے یا اس پر ریاکاری کا غلبہ ہے۔ وہ یہ بھی دیکھتا ہے کہ لوگ توحید پر کاربند ہیں یا شرک میں ملوث ہوچکے ہیں۔ انبیاء (علیہ السلام) کی دعوت کو قبول کر رہے ہیں یا ان کی اور ان کی لائی ہوئی کتابوں کی تکذیب کر رہے ہیں۔ شرائع الٰہی پر عمل پیرا ہیں یا حیلے بہانے سے اس کے احکام کو ٹال رہے ہیں۔ فرمایا جب یہ سب کچھ واضح ہے تو پھر انسان کے لیے کسی طور پر مناسب نہیں کہ وہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کے سامنے اپنی حاجات پیش کرے اور مشکل کشائی کے لیے اغیار کے سامنے دست سوال دراز کرے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ آیت کی ابتداء میں صیغہ واحد مخاطب استعمال ہوا ہے (آیت) ” (تکون) “ جب کہ آگے (آیت) ” تعملون “ میں صیغہ جمع مخاطب آیا ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ دونوں صیغوں میں حضور کی ذات مبارک ہی مراد ہے تا ہم بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جمع مخاطب کا صیغہ استعمال کر کے حضور ﷺ کے ساتھ آپ کی امت کے لوگوں کو بھی شامل کرلیا ہے کہ تم سب لوگ جو بھی کام کرتے ہو وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہوتے ہیں۔ علم خداوندی آگے اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے انداز میں اس طرح بیان فرمایا (آیت) ” وما یعذب عن ربک من مثقال ذرۃ فی الارض ولا فی السمائ “ اور نہیں غائب ہوتی آپ کے پروردگار سے ذرہ کے برابر بھی کوئی چیز زمین میں ہو یا آسمان میں۔ ذرہ چیونٹی کو بھی کہا جاتا ہے ، اور ان باریک حباب کو بھی جو روشندان سے آنیوالی دھوپ میں نظر آتے ہیں مطلب یہی ہے کہ کائنات کی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی رب العزت سے مخفی نہیں ہے بلکہ سب کچھ اس کے علم میں ہے ، یہاں پر زمین کا ذکر آسمان سے پہلے کیا گیا ہے ، حالانکہ اکثر مقامات پر آسمان کا تذکرہ پہلے آتا ہے زمین کا ذکر اس لیے پہلے کیا گیا ہے کہ اللہ نے پہلے ارضی حالات بھی بیان فرمائے ہیں۔ بہرحال آسمان کو زمین پر فوقیت حاصل ہے۔ تو فرمایا کہ اللہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ یہ اس کی صفت کمال ہے۔ توحید کو جھٹلانے والے ، قیامت کا انکار کرنے والے ، نبوت و رسالت میں شک کرنے والے سب اللہ کی نگاہ میں ہیں۔ اللہ ان سب کے حال کو جانتا ہے ، پھر وہ خدا تعالیٰ کی گرفت سے کیسے بچ سکتے ہیں ؟ زمین وآسمان کی چیزوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا (آیت) ” ولا اصغر من ذلک ولا اکبر الا فی کتب مبین “ اور نہ اس سے کوئی چھوٹی چیز ہے اور نہ بڑی مگر وہ کتاب مبین میں موجود ہے پہلے فرمایا کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اور کوئی چیز اس سے غائب نہیں۔ اب فرمایا کہ ہر چھوٹی بڑی چیز کا اندراج کتاب مبین یعنی لوح محفوظ میں موجود ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو چیز اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے اس کا نمونہ لوح محفوظ میں بھی درج ہے۔ بہرحال پوری آیت کریمہ کا لب لباب یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں اور بندوں کا کوئی کردار اس کی نظروں سے اوجھل نہیں اور وہ اس علم کے مطابق سزا اور جزا کا فیصلہ کریگا۔ اولیاء اللہ کے مناقب آگے اللہ تعالیٰ نے توحید و رسالت کو ماننے والوں کی تعریف بیان فرمائی ہے (آیت) ” الا ان اولیاء اللہ لا خوف علیھم ولا ھم یحزنون “ بیشک اللہ تعالیٰ کے دوستوں پر نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ خوف مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کی بنا پر ہوتا ہے۔ جب کہ غم کا تعلق ماضی کے واقعات سے ہوتا ہے۔ قیامت کے دن ساری مخلوق شدت کی تلخی میں مبتلا ہوگی۔ انہیں حساب کتاب اور اس کے نتیجے می آخری فیصلے پر سخت تشویش اور خوف ہوگا کہ پتہ نہیں ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا۔ مگر جو اللہ کے دوست ہیں ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا اور وہ اپنے مستقبل کے متعلق پر امید ہون گے۔ اللہ کے ایسے بندوں نے اس زندگی کے لمحات بھی خدا تعالیٰ کی یاد اور اس کے احکام کی تعمیل میں گزارے ہوں گے ، اس لیے سابقہ زندگی پر بھی انہیں کوئی حسرت یا غم نہیں ہوگا۔ ایسے لوگوں کو قیامت کے سخت ترین دن میں بھی امن حاصل ہوگا جو ان کی کامیابی کی دلیل ہوگا۔ آگے وضاحت فرمائی کہ اولیاء اللہ کون لوگ ہیں (آیت) ” الذین امنوا “ وہ جو ایمان لائے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ، اس کی صفات ، ملائکہ ، انبیاء قیامت کو برحق جانا (آیت) ” وکانوا یتقون “ اور انہیں نے اس دنیا میں تقوی کی راہ اختیار کی ، برائی سے بچتے رہے اور نیکی کو اختیار کرتے رہے۔ اللہ کے دوست ایسے ہی لوگ ہیں۔ سورة بقرہ میں فرمایا (آیت) ” اللہ ولی الذین امنوا ‘ اہل ایمان کا ولی ، کارساز اور دوست اللہ ہی ہے چناچہ اس تعریف کے مطابق ہر صاحب ایمان آدمی اللہ کا ولی ہے تا ہم اصلاحا ولی اس شخص کو کہا جاتا ہے جس میں اعلی درجے کی صفات پائی جائیں۔ یعنی وہ صرف ایماندار ہو بلکہ اعلیٰ اخلاق وکردار کا حامل بھی ہو۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ سو پچاس روپے کا مالک بھی مالدار ہی ہوتا ہے مگر اس کو عام طور پر مالدار نہیں سمجھا جاتا بلکہ اصطلاح میں مالدار وہ شخص ہوتا ہے جو لاکھ دو لاکھ روپے کا مالک ہو۔ اسی طرح اہل ایمان اللہ کا ولی ہے مگر اصطلاحا ولی وہ ہے جس کا مرتبہ بہت بلند ہے۔ ایک حدیث میں اس طرح آتا ہے ” لیس علی اھل لا الہ الا اللہ وحشۃ “ یعنی کلمہ طیبہ پر ایمان رکھنے والوں پر قیامت کے دن وحشت طاری نہیں ہوگی ، وہ قبروں سے مٹی جھٹکتے ہوئے اٹھیں گے ، قیامت کی شدید ترین تلخیوں میں بھی کسی نہ کسی درجے میں سکون حاصل ہوگا۔ بہرحال فرمایا کہ اللہ کے ولی وہ ہیں جو ایمان کی تمام جزئیات پر قائم رہے اور تقوی کی راہ اختیار کی یعنی حدود شرع کا احترام کرتے ہوئے کفر ، شرک ، نفاق ، تمام معاصی سے بچتے رہے۔ ولایت کا غلط تصور عام لوگوں کے ہاں ولی کا غلط تصور پایا جاتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ولی وہ ہوسکتا ہے جس کے ہاتھ پر کرامات ظاہر ہوں حالانکہ شیخ شہاب الدین سہروردی (رح) کتاب المریدین میں لکھتے ہیں کہ اللہ کے ولی کا معیار کرامت نہیں بلکہ ایمان اور اتباع سنت ہے۔ اگر کوئی آدمی ہوا میں اڑتا ہوا نظر آئے لیکن سنت کے خلاف کرتا ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ کا ولی نہیں بلکہ شیطان کا ساتھی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہر نانگا۔ بھنگ پینے والا ، سوٹے لگانے والا ، بےنماز اور طہارت سے بےنیاز ولی ہوتا ہے یا کرامت دکھانے والا ولی اللہ ہوتا ہے بھائی ایسی بات نہیں ہے۔ بزرگان دین تو کہتے ہیں کہ جو شخص کرامت دکھانے کی کوشش کرے ، سمجھو کہ اس کو حیض آگیا ہے یعنی ناپاک ہوگیا ہے۔ اس میں غرور وتکبر کا مادہ سرایت کر گیا ہے جس کی وجہ سے وہ کرامت ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے اور غرور ایسی چیز ہے جو انسان کی فکر کو ناپاک بنا دیتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کرامت ظاہر کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے ، وہ جب چاہتا ہے کسی ولی کے ہاتھ پر ظاہر کردیتا ہے۔ اس میں ولی کا کچھ اختیار نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کی خواہش ہوتی ہے۔ ولی کا کام تو ایمان لانا اور نیکی کرنا ہوتا ہے۔ وہ کتاب اللہ اور سنت رسول کا متبع ہوتا ہے۔ ولایت کی یہی نشانی ہے۔ مرنے کے بعد قبرکا بڑی یا پختہ ہونا ، اس پر گنبد بنانا اور نقش ونگار بنانا ، اس پر عرس منانا ، ڈھول بجانا یا روشنی کرنا ولایت کی علامت ہرگز نہیں ، اللہ کا ولی وہ ہوگا جو روحانی بیماریوں سے پاک ہوگا ، اللہ کی اطاعت اور مخلوق کی خدمت کرنے والا ہوگا۔ ولی کی پہچان حضرت مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں کہ ولایت کے اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسے اچھے لوگوں کی مجلس نصیب ہو۔ ایسی مجلس سے اللہ کی محبت ، عقیدے کی پاکیزگی ، دنیا کی ناپائیداری اور آخرت کی فکر پیدا ہوتی ہے۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں ، کہ ان کے استاد مکرم کی مجلس میں اگر کوئی شخص ہزار مرتبہ بھی آتا تھا تو ہر مرتبہ اپنے آپ کو حقیر تر ہی سمجھتا تھا۔ یہ اس مجلس کا اثر ہوتا تھا کہ ہر وقت اپنی کوتاہیوں پر نظر ہوتی تھی ، اس لیے وہ اپنے آپ کو مخلوق کا حقیر ترین انسان سمجھتا تھا۔ حضرت پانی پتی (رح) فرماتے ہیں کہ ولایت کا دوسرا سبب یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ اللہ کے ولی کون ہیں تو آپ نے فرمایا ” اذا رائو ، ذکر اللہ “ کہ اللہ کے ولی وہ ہیں کہ انہیں دیکھ کر اللہ یاد آجائے۔ مطلب یہ ہے کہ جن کو دیکھ کر دنیا کا مال و دولت بلڈنگز ، کارخانے ، جاہ واقتدار اور ٹھاٹ باٹ یاد آئے وہ اللہ کے ولی نہیں ہو سکتے۔ اللہ کے ولی تو وہ ہیں جو غرور تکبر سے پاک ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا قول ہے ” لا تری نفسک خیرا من احد “ اپنے آپ کو کسی سے اچھا نہ سمجھے۔ اپنے آپ کو سب سے کمتر سمجھے۔ حضرت مجدد الف ثانی (رح) فرماتے ہیں کہ کوئی شخص عارف یا کامل نہیں ہو سکتا جب تک اپنے آپ کو انگریز کافر سے بھی کم تر نہ سمجھے۔ شیخ سعدی (رح) کے زمانے سے لے کر حالات پڑھ لیں ، انگریز بڑے سنگدل واقع ہوئے ہیں۔ انگریز برطانوی ہوں یا امریکی ، یورپی ہوں یا روسی یہ انسانیت کے دشمن ہیں۔ ا ن کے ہاتھ میں پراپیگنڈا کی مشین ہے وہ غلط طور پر استعمال کرتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح بنا کر پیش کیا جا رہے ہے۔ لوگوں پر بےانتہا مظالم ڈھاتے ہیں۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) اپنی انکساری کو اس طرح بیان کرتے ہیں زمن دارد سگ نصرانیاں عار کہ اواست بےگناہ ومن گنہگار مجھ سے تو عیسائیوں کا کتا بھی شرم رکھتا ہے کہ وہ بےگناہ ہے اور میں گنہگار ہوں۔ حضرت مولانا امداد اللہ مہاجر مکی (رح) فرماتے ہیں کہ حقیقت میں انسان سے جب تکبر ختم ہوجاتا ہے تو ولایت آجاتی ہے ، نیکی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب غرور نہ ہو کیونکہ غرور کی وجہ سے لوگ حکم خداوندی کے سامنے اکڑتے ہیں اور سنت کے اتباع سے اعراض کرتے ہیں۔ سلف صالحین کا اسوہ ہمارے سامنے ہے انہوں نے عجزوانکساری کی بدولت ہی اعلی مراتب پائے۔ اولیاء اللہ کے لیے بشارت فرمایا اللہ کی ولی وہ ہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقوی کی راہ اختیار کی۔ (آیت) ” لھم البشری فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرہ “ ان کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی۔ اس دنیا میں جب ان کی موت کا وقت قریب آتا ہے تو اللہ کے فرشتے ان کو بشارت سناتے ہیں اور ان پر استقامت نازل ہوتی ہے۔ معاملہ تو استقامت سے بنتا ہے شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) فرماتے ہیں ” اطلبوا الاستقامۃ فنا لاستقامۃ فوق الکرامۃ “ دین پر استقامت طلب کرو کیونکہ استقامت کرامت سے بھی اعلی چیز ہے جب انسان میں استقامت آتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی دستگیری فرماتے ہے اور نیکی کی مزید توفیق عطا کرتا ہے۔ تو فرمایا ان کو دنیا اور آخرت میں بشارت ہوگی ، اللہ کے وعدے سچے ہیں (آیت) ” لا تبدیل لکمٰت اللہ “ اللہ کے کلمات میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ، وہ ضرور پورے ہو کر رہتے ہیں۔ فرمایا جسے استقامت حاصل ہوگئی اسے دنیا اور آخرت کی بشارت مل لگی (آیت) ” ذلک ھو الفوز العظیم “ اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ ایسا شخص اللہ کی رحمت کے مقام میں پہنچ گیا اولیاء اللہ کا یہی مقام ہے۔ پیغمبر اسلام کے لیے تسلی آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر اور دیگر اہل ایمان کو تسلی دی ہے (آیت) ” ولا یحزنک قولھم “ ان کافرون ، مشرکون اور نافرمانوں کی بات آپ کو غم میں نہ ڈالے کیونکہ (آیت) ” ان العزۃ للہ جمیعا “ عزت تو ساری کی ساری اللہ کے لیے ہے آپ بددل نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ ضرور آپ کا مشن غالب بنائے گا اور آپ کو عزت دے گا۔ کافروں اور مشرکوں کا مشن بالآخر مغلوب ہو کر رہے گا۔ وہ ذلیل و خوار ہوں گے اور آپ کامیاب وکامران ، لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس مال و دولت ، جاہ واقتدار آجائے تو وہ عزت والے بن جائیں گے۔ نہیں بلکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ کے ہاتھ میں ہے ، وہ جسے چاہے اور جب چاہے عطا کر دے ، یہ تو اس کے اختیار میں ہے ، لہٰذا آپ پریشان نہ ہو (آیت) ” ھو السمیع العلیم “ اللہ تعالیٰ ہر بات کو سنتا ہے اور ہر چیز اس کی نگاہ میں ہے اور وہ اپنی حکمت کے مطابق ہر چیز کا فیصلہ کرے گا۔ گمان کی پیروی فرمایا (آیت) ” الا ان للہ من فی السموت ومن فی الارض “ سنو ! بیشک اللہ کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے لہٰذا اسی کی طرف رجوع کرنا چاہیے اور اسی کی وحدانیت کو تسلیم کرنا چاہیے اسی سے ہدایت طلب کرنی چاہیے۔ اسی کی کتاب سے پروگرام اخذ کر کے اس پر عمل کرنا چاہیے اور اسی کے نبی کا بسر وچشم اتباع کرنا چاہیے۔ جب آسمان و زمین کی ہر چیز کا خالق ومالک اللہ ہے اور ہر چیز اسی کے تصرف میں ہے تو فرمایا (آیت) ” وما یتبع الذین یدعون من دون اللہ شرکائ “ جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کو شریک بناتے ہیں اور ان کو پکارتے ہیں۔ ان سے حاجت روائی اور مشکل کشائی کی امید رکھتے ہیں سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اختیار دے رکھا ہے کہ وہ لوگوں کی مشکلات سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اختیار دے رکھا ہے کہ وہ لوگوں کی مشکلات دور کریں تو فرمایا کہ جو لوگ پکارتے ہیں اللہ کے سوا دوسروں کو شریک (آیت) ” ان یتبعون الا الظن “ وہ نہیں اتباع کرتے مگر گمنا کا۔ واقع میں تو خدا تعالیٰ وحدہ لا شریک لہ ہے مگر انہوں نے اپنے گمان سے خدا کے شریک بنا رکھے ہیں ۔ ان لوگوں کو شیطان نے بہکا دیا ہے ، اور انہوں نے اپنے معبود بنا رکھے ہیں۔ کوئی قبروں سے مدد مانگ رہا ہے اور کوئی شمس وقمر سے ، کوئی ملائکہ کو پکار رہا ہے تو کوئی جنات سے حاجت طلب کر رہا ہے۔ کوئی زندوں سے حاجت براری کر رہا ہے اور کوئی مردوں سے۔ یہ سب شیطان کا بہکاو ا اور محض گمان کی پیروی ہے حقیقت یہ ہے کہ خالق ، مالک ، متصرف فی الامور ، مربی ، نافع ، ضار ، علیم کل اور قادر مطلق تو خدا تعالیٰ ہے۔ زندگی اور موت ، عروج وزوال اور بیماری اور تندرستی تو اللہ کے ہاتھ میں ہے تو پھر یہ دوسروں کو کیوں شریک بنائے بیٹھے ہیں۔ انہیں تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ہی فدا ہونا چاہیے۔ شرک و بدعت کے تمام طریقے گمان کی پیروی ہے ، اور پہلے اسی سورة میں گزر چکا ہے (آیت) ” ان الظن لا یغنی من الحق شیئا “ حق کے مقابلے میں گمان کچھ مفید نہیں ہوسکتا ، عقیدہ اٹل ہونا چاہیے ، اور اس میں وہم و گمان کو کوئی دخل نہیں ہونا چاہیے۔ مشرک لوگ محض گمان کے پیچھے چلتے ہیں ، ان کے عقیدے کی بنیاد سنی سنائی باتیں اور رسم و رواج ہوتے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ فلان نے قبر پر چڑھاوا چڑھایا تو اس کی فلان مشکل حل ہوگئی ، لہٰذا ہمیں بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔ فرمایا (آیت) ” وان ھم الا یخرصون “ نہیں ہیں یہ لوگ مگر اٹکل دوڑاتے محض اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں وگرنہ حقیقت کچھ نہیں۔ یہ شرک کرنے والوں کا رد ہوگیا۔ نبی آخر الزمان کی صفات بیان ہوئیں۔ ا ولیا اللہ کے فضائل ذکر کئے گئے اور شرک کی برائی بیان کر کے اس کی تردید فرمائی گئی۔
Ayahs 10:67–70

هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ Open ayah 10:67 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کی ذات وہی ہے جس نے بنائی تمہارے واسطے رات تا کہ تم اس میں آرام پکڑو اور دن کو روشن۔ بیشک اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو (کان رکھ کر) سنتے ہیں

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰهُ وَلَدًا سُبْحٰنَهٗ١ؕ هُوَ الْغَنِیُّ١ؕ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اِنْ عِنْدَكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍۭ بِهٰذَا١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 10:68 in the Quran reader

کہا ان لوگوں نے کہ بنا لیا ہے اللہ تعالیٰ نے بیٹا۔ پاک ہے اس کی ذات ، وہ بےنیاز ہے اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں۔ نہیں ہے تمہارے پاس کوئی سند اس بات کی کیا کہتے ہو تم اللہ پر وہ بات جو تم نہیں جانتے

قُلْ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 10:69 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ) آپ کہہ دیجئے کہ بیشک وہ لوگ جو افترا باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹ وہ فلاح نہیں پائیں گے

مَتَاعٌ فِی الدُّنْیَا ثُمَّ اِلَیْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ نُذِیْقُهُمُ الْعَذَابَ الشَّدِیْدَ بِمَا كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ۠ Open ayah 10:70 in the Quran reader

تھوڑا سا فائدہ ہے دنیا کی زندگی میں پھر ہماری طرف ہی ان سب کو لوٹ کر آنا ہے۔ پھر ہم چکھائیں گے ان کو سخت عذاب اس وجہ سے کہ وہ کفر کیا کرتے تھے

ربط آیات پہلے قرآن کریم کا ذکر تھا۔ پھر حضور ﷺ کے متعلق فرمایا کہ آپ جس حالت میں بھی قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں اور جو بھی کام کرتے ہیں ، ہم ہر حالت میں حاضر ہوتے ہیں اور ہر کام کو دیکھتے ہیں۔ فرمایا خدا تعالیٰ سے ایک ذرہ بھر چیز بھی غائب نہیں ہے خواہ وہ آسمان کی بلندیوں میں ہو یا زمین کی گہرائیوں میں ہر چیز اللہ کے علم میں ہے اور لوح محفوظ میں بھی درج ہے۔ پھر فرمایا یاد رکھو ! اللہ کے دوستوں کو نہ خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ، ولی اللہ وہ ہوتے ہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقوی کا راستہ اختیار کیا۔ ان کے لیے دنیا میں بھی بشارت ہے اور آخرت میں بھی۔ اللہ کے وعدے برحق ہیں۔ ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ یہ سب سے بڑی کامیابی ہے۔ فرمایا آپ مشرکوں کی باتوں سے غمگین نہ ہوں ، کیونکہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی اختیار میں ہے۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کی ہر چیز اللہ ہی کی ملکیت ہے اور جو لوگ معبودان باطلہ کو پکارتے ہیں ، یہ محض گمان کے پیچھے چلتے ہیں اور اٹکل دوڑاتے ہیں ، ان کے پاس کوئی دلیل نہیں ہے۔ اس کے بعد اگلی آیات میں بھی خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے دلائل ہی بیان کیے جا رہے ہیں۔ رات اور دن بطور دلیل ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ھو الذی جعل لکم الیل لتسکنوا فیہ “ خدا کی ذات وہی رحیم وکریم ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی۔ تا کہ تم اس پر آرام پکڑو (آیت) ” والنھار مبصرا “ اور دن کو روشن بنایا تا کہ تم اس میں دیکھ سکو اور کام کرسکو۔ دراصل یہ انسانوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے عقلی دلیل بیان کی ہے کہ اگر تم رات اور دن کے تغیر وتبدل میں غور کرو تو تمہیں اللہ کی وحدانیت آسانی سے سمجھ میں آجائے۔ رات اور دن خود بخود آگے پیچھے نہیں آتے بلکہ یہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ نظام کا ایک حصہ ہیں اور اسی نظام کے مطابق آتے جاتے ہیں۔ سورة فرقان میں ہے (آیت) ” وھو الذی جعل الیل والنھار خلفۃ “ اللہ تعالیٰ کی وہی ذات ہے جو رات اور دن کو آگے پیچھے لاتی ہے۔ رات اور دن اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ رات کی نشانی دھیمی ہے اور دن کی روشن ہے۔ ان دونوں کے ساتھ انسان کے مفادات وابستہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے آرام اور سکون کو رات کے ساتھ وابستہ کردیا ہے۔ رات کے فائدے نیند عام طور پر رات کے وقت آتی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے جس کی وجہ سے انسانوں کو سکون حاصل ہوتا ہے سورة نبا میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (آیت) ” وجعلنا نومکم سباتا “ ہم نے نیند کو تمہارے لیے آرام کا ذریعہ بنادیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رات کی ساخت ہی ایسی رکھی ہے کہ اس میں ہر چیز صامت ہوجاتی ہے۔ انسان جانور ، پرندے ، کیڑے مکوڑے وغیرہ حتی کہ درختوں پر بھی ایک قسم کا سکوت طاری ہوجاتا ہے ۔ کچھ وقت تک کام کرنے کے بعد ہر جاندار کو آرام کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر فرمایا (آیت) ” خلق الانسان ضعیفا “ انسان کو کمزور پیدا کیا گیا ہے۔ اللہ کا یہ بھی ارشاد ہے (آیت) ” لقد خلقنا الانسان فی کبد “ (البلد) ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔ ابتداء سے لے کر انتہاء تک مہد سے لیکر لحد تک کوئی انسان مشقت سے خالی نہیں۔ یہ مشقت معاش کے لیے بھی ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے بھی یہ مشقت کمال حاسل کرنے کے لیے بھی کی جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے بھی۔ بہرحال انسان جو بھی کام کرتا ہے اس کی وجہ سے اس کی جسمانی قوتیں کمزور ہوجاتی ہیں ، انسان ذہنی یا جسمانی طور پر تھک جاتا ہے۔ اس کمزوری کو دور کرنے اور قوی انسانی کو بحال کرنے کے لیے نیند کو پیدا فرمایا ہے تا کہ لوگ کام کاج کے بعد کچھ دیر کے لیے سو کر آرام کرلیں اور پھر صبح تازہ دم اٹھ کر اگلے دن کے کام اور عبادت میں مصروف ہوجائیں۔ گویا رات کی آمد اور پھر اس میں نیند کا آنا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ سکون کی ضرورت حضرت عبداللہ ابن عمرو ابن عاص ؓ کے متعلق حضور ﷺ نے سنا کہ وہ ساری رات عبادت کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ایسا مت کرو کیونکہ ایسا کرنے سے تم کمزور ہو جائو گے ، تمہاری آنکھیں اندر دھنس جائیں گی اور پھر فرائض سے بھی رہ جائو گے ، ہمیشہ اتنا عمل کرو جسے برداشت کرسکو اور جس سے تمہارے قوی بحال رہیں۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے پاس ایک عورت تھی حولا بنت تویت حضور ﷺ کے دریافت کرنے پر آپ کو بتایا گیا کہ یہ فلاں خاندان کی عورت ہے اور ساری رات عبادت میں گزار دیتی ہے۔ آپ ناراض ہوگئے اور فرمایا ” اکفلوا من الاعمال ما تستطیعون “ اتنے اعمال انجام دو جتنی طاقت ہو۔ طاقت سے زیادہ کام کرنا جسم کی حق تلفی ہے۔ جس طرح تمہارے بیوی بچوں کا تم پر حق ہے اسی طرح تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے۔ اور حق کی ادائیگی کے متعلق حکم ہے ” وات کل ذی حق حقہ “ ہر حقدار کو اس کا حق ادا کرو۔ تب جا کر بات بنے گی۔ یک طرفہ بہ جانا خلاف فطرت ہے ۔ تو اللہ تعالیٰ کا یہ کمال قدرت ہے کہ اس نے رات کو بنایا تا کہ نیند کے ذریعے سکون پکڑو۔ سورة روم میں اللہ تعالیٰ نے نکاح کو بھی سکون کا ذریعہ قرار دیا ہے ، فرمایا یہ اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہیں میں سے تمہارے لیے جوڑا پیدا فرمایا (آیت) ” لتسکنوا الیھا “ تا کہ تم اس کی طرف سکون پکڑو بہرحال نیند انسان کا بنیادی حق ہے جو اسے وقفے وقفے سے میسر آنی چاہیے۔ اگر نیند میں خلل واقع ہوجائے تو خشکی طاری ہو کر بیماری لاحق ہوجاتی ہیں۔ اگر دوچار دن نیند نہ آئے تو انسان کا دماغ فیل ہوجاتا ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے دن اور رات کو انسانی زندگی میں توازن کا ذریعہ بنایا ہے کہ دن کو کام کرو اور رات کو آرام کرو۔ جو لوگ اس فطرت کیخلاف کام کرتے ہیں انہیں سکون حاصل نہیں ہوتا ، اگر رات بھر کھیل تماشے میں مصروف رہا ، سینما دیکھا یا ٹیلی ویژن کے سامنے بیٹھا رہا تو اس کے جسمانی قوی کمزور پڑجائیں گے اور وہ اپنے معمول کے کام انجام نہیں دے سکے گا لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انسان کی بہتری کے یے دن اور رات کا یہ نظام قائم کیا ہے۔ آج کل کے مشینی دور میں بعض کام بعض لوگوں کور ات کے وقت بھی انجام دینے پڑتے ہیں ۔ مثلا ریل گاڑی ، ہوائی جہاز ، بحری جہاز ، یا پبلک ٹرانسپورٹ کی سروس ہے جو چوبیس گھنٹے کام کرتی ہے اب بعض کارخانے بھی تین تین شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔ ایسے میں جو لوگ رات کی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں۔ انہیں دن کے وقت آرام کی ضرورت ہوتی ہے ، لہٰذا یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حسب ضرورت دن کے وقت بھی آرام کیا جاسکتا ہے ، تا ہم عام طور پر فرمایا کہ رات کو آرام کے لیے بنایا گیا ہے اور دن کو کام کاج کے لیے۔ تعلیم وتربیت کا کام ہو ، معاش کا یا عبادت کا ، اللہ نے نیند کو آرام کا ذریعہ بھنایا ہے اور دن کو معاش کا۔ سورة نبا میں موجود ہے (آیت) ” وجعلنا الیل لباسا وجعلنا النھار معاشا “ یہاں پر دن کے متعلق فرمایا کہ ہم نے دن کو روشن بنایا جس میں دیکھ کر کام کاج کیا جاتا ہے ” مبصرا مضیئا “ کے الفاظ بھی آتے ہیں۔ نشانات قدرت فرمایا (آیت) ” ان فی ذلک لایت لقوم یسمعون “ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو کان رکھتے ہیں ، اللہ تعالیٰ نے اندھیرے اور اجالے کا سلسلہ قائم کیا۔ اسی طریقہ سے خیروشر کا سلسلہ بنایا۔ ایمان وکفر کو پیدا فرما کر یہ بات سمجھا دی ہے کہ حقیقی چیزوں کو اختیار کرو۔ شرک ، کفر اور شکوک واوہام سب اندھیرے ہیں ، اللہ نے ان سب کا پردہ چاک کیا ہے اور قرآن پاک کو روشن آفتاب فرمایا ہے کہ اس کی روشنی میں زندگی کے تمام امور انجام دو ۔ فرمایا ، دن اور رات کا تغیر وتبدل ان لوگوں کے لیے نشانات قدرت ہیں جو سنتے ہیں اور پھر ان چیزوں پر غور کرتے ہیں۔ کسی چیز کی پہلی منزل سننا ہوتی ہے۔ جو سنے گا نہیں وہ غور کیا کریگا اور اس کو کیسے سمجھے گا ؟ لہٰذا ایسا شخص دوسری منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ تیسری منزل کسی چیز کو یاد کرنا ہوتا ہے اور چوتھی منزل اس پر عمل پیرا ہونا ہے۔ اس کے بعد آخری منزل یہ ہے کہ جو کچھ خود اخذ کر کے اس پر عمل کیا ہے اسے دوسروں تک بھی پہنچائے تو یہاں پر (آیت) ” یسمعون “ کے لفظ سے پہلی منزل کی طرف اشارہ ہے کیونکہ سارا معاملہ اسی سے آگے چلے گا۔ عقیدہ ابن اللہ فرمایا ، ان ظالم لوگوں کا حال دیکھو (آیت) ” قالوا اتخذ اللہ ولدا “ کہتے ہیں کہ اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے پرانے مشرکین بھی اسی طرح ولدیت کا عقیدہ رکھتے تھے۔ یہودی عزیر (علیہ السلام) کو ابن اللہ کہتے ہیں اور عیسائی عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہتے ہیں۔ یہ واضح شرک ہے۔ بیٹا دو قسم سے ہو سکتا ہے یعنی حقیقی اور متبنی۔ چونکہ خدا تعالیٰ کی ذات میں کوئی جنس نہیں اور اس کیو کئی بیوی نہیں ہے لہٰذا خدا کا حقیقی بیٹا ہونا تو محال ہے باقی رہا متبنی یعنی منہ بولا بیٹا ، توا س کے متعلق بعض لوگ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیارات دے کر کسی کو بیٹا بنا لیا ہے اور یہ عقیدہ بھی خلاف منشائے الٰہی اور بدترین ہے۔ انسان کو اولاد کی خواہش کئی اعتبار سے ہوتی ہے چونکہ انسان فانی ہے اس لیے اس کی یہ فطری خواہش ہوتی ہے کہ مرنے کے بعد اس کا کوئی قائم مقام اور جانشین ہو اور وہ بیٹا ہی ہوتا ہے۔ یا بیٹے کی خواہش ا س لیے ہوتی ہے کہ مرنے کے بعد وہ جائداد کا وارث ہوگا۔ بعض اوقات انسان یہ خیال کرتے ہیں کہ جب میں بوڑھا ہو جائوں گا تو بیٹا میرے کام کام میں ہاتھ بٹائے گا یا بڑھاپے میں میری خدمت کرے گا۔ یہ ساری باتیں ذات خداوندی پر محال ہیں لہذا فرمایا ” سبحنہ “ اللہ تعالیٰ ان تمام ضروریات سے پاک ہے اور نہ اسے کسی جانشین کی ضرورت ہے۔ لہٰذا اسے بیٹے کی ضرورت بھی نہیں ہے وہ ہر قسم کی کمزوری ، عیب اور نقص سے پاک ہے۔ اسے کسی چیز کی ضرورت نہیں بلکہ وہ ہر چیز کا خالق اور مالک ہے اسی لیے فرمایا (آیت) ” ھو الغنی “ وہ بےنیاز ہے (آیت) ” لہ ما فی السموت وما فی الارض “ آسمان و زمین کی ہر چیز اسی کی ہے اور اسی کے تصرف میں ہے لہٰذا اس کو بیٹا بنانے کی کیا ضرورت ہے۔ سورة مریم میں آتا ہے کہ ابن اللہ کا عقیدہ اتنا گندا ہے کہ آسمان پھٹ جائے اور زمین شق ہوجائے ، اس بات سے (آیت) ” ان دعواللرحمن ولدا “ وہ رحمان کے لیے اولاد کا عقیدہ ثابت کریں۔ فرمایا (آیت) ” ان عندکم من سلطن بھذا “ کیا تمہارے پاس اس بات کی کوئی سند یا دلیل ہے کہ اللہ نے مسیح (علیہ السلام) یا عزیر (علیہ السلام) کو بیٹا بنا لیا ہے یا جیسا کہ عرب کے مشرکین کہتے تھے کہ خدا نے فرشتوں کو بیٹیاں بنا لیا ہے ؟ فرمایا (آیت) ” اتقولون علی اللہ مالا تعلمون “ تم خدا تعالیٰ پر ایسی چیز بولتے ہو جس کو خود نہیں جانتے۔ خدا تعالیٰ نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا۔ یہ تمہارا محض جھوٹ اور اللہ پر افتراء ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نہ کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ کسی کو اختیار دیا ہے۔ وہ قادر مطلق اور علیم کل ہے۔ فرمایا اے پیغمبر ! ’ قل ‘ آپ کہہ دیں (آیت) ” ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لا یفلحون “ بیشک جو لوگ اللہ پر افتراء باندھتے ہیں جھوٹ ، وہ کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔ خدا کا بیٹا ماننے والے یا کوئی دوسرا شرکیہ عقیدہ رکھنے والے خدا کی طرف غلط بات منسوب کرتے ہیں۔ یہ لوگ چند روزہ زندگی میں تو شور شر کرلیں گے ، مال و دولت اور جاہ اقتدار حاصل کرلیں گے مگر جب یہ جہاں تبدیل ہوگا تو پھر ہوش آئے گا۔ اس وقت وہ دائمہ فلاح نہیں پا سکیں گے۔ خدا کے حضور پیشی فرمایا (آیت) ” متا (علیہ السلام) فی الدنیا “ یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے۔ جتنی دیر اجازت ہے اس کو استعمال کرلو۔ یہ اس دنیا کی زندگی تک ہی محدود ہے اور اس کے بعد سارا معاملہ بدل جائے گا۔ سورة بقرہ میں جہاں آدم (علیہ السلام) کو جنت سے زمین پر اتارنے کا ذکر ہے وہاں بھی فرمایا (آیت) ” ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین “ تمہارے لیے زمین میں ٹھکانہ ہوگا اور ایک مقررہ مدت تک اس سے مستفید ہونا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق انسانوں کو جس قدر اختیار دے رکھا ہے ، اس کو چند روزہ زندگی میں استعمال کرلو۔ (آیت) ” ثم الینا مرجعھم “ پھر ان سب کا ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے۔ تمام نیک وبد انسان خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوں گے اور ہر انسان کو اپنے اعمال کی جواب دہی کرنا ہوگی۔ ہر شخص اللہ کے حضور اکیلا حاضر ہوگا اور اس کی بجائے اس کا کوئی نمائندہ یا وکیل پیش نہیں ہو سکے گا اسے ہر بات کا جواب خود دینا ہوگا۔ فرمایا (آیت) ” ثم نذیقھم العذاب الشدید “ پھر ہم انہیں سخت عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ (آیت) ” بما کانوا یکفرون “ اس وجہ سے کہ وہ کفر کیا کرتے تھے۔ جن لوگوں نے خدا تعالیٰ کے لیے بیٹے کا عقیدہ وضع کیا یا خدا تعالیٰ کی ذات یا صفات میں کسی کو شریک بنایا۔ نبی کی رسالت کا انکار کیا ، وحی الٰہی کو برحق نہ جانا یا جزائے عمل کی تکذیب کی فرمایا وہ سب سخت سزا کے مستحق ہوں گے۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ چند دن مزے اڑا لو ، تم عنقریب اپنے انجام کو پہنچنے والے ہو۔ کفر وشرک اللہ تعالیٰ کی صریح بغاوت ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے باغیوں اور نافرمانوں کو سخت سزا میں مبتلا کرے گا۔