Ayahs 10:18–20ربط آیات۔
اس سورة کی ابتدائی آیات میں قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کا بیان تھا ، مشرک لوگ اس قرآن کو ماننے کے لیے اس لیے تیار نہ تھے کہ اس میں ان کے عقائد کی تردید تھے کہتے تھے اس میں ہمارے معبودوں کی توہین کی گئی ہے ، لہٰذا آپ کوئی دوسرا قرآن لے آئیں یا اسی میں ہماری مرضی کے مطابق ترمیم کردیں تو ہم ماننے کے لیے تیار ہیں اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان سے کہلوایا کہ کتاب اللہ میں تغیر وتبدل کرنا میرے اختیار میں نہیں میں تو صرف وحی الٰہی کی پیروی کرتا ہوں۔ اگر میں اس میں تبدیلی کی کوشش کروں تو بڑے دن کے عذاب میں پھنس جائوں گا۔ ہاں ! اگر اللہ تعالیٰ خود کسی حکم کو اٹھادے اور اس کی جگہ کوئی دوسرا حکم جاری کر دے تو یہ اس کی مرضی ہے کہ وہ کسی مصلحت کی خاطر ایسا کر دے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام کی صداقت کو بیان فرمایا اور آپ (علیہ السلام) سے یہ اعلان کروایا کہ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو خدا پر جھوٹ بولتا ہے۔ اسی طرح فرمایا کہ جو خدا کے سچے رسول اور اس کی سچی کتاب کو نہیں مانتے ان سے بڑھ کر بھی کوئی ظالم نہیں۔ فرمایا اہل کتاب نے اللہ کی کتاب میں تحریف کی تو وہ لعنتی اور مغضوب علیہ ٹھہرے ، ان پر اللہ نے عذاب نازل فرمایا ، رسالت کی حقانیت کے بعد اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے پھر توحید کا مسئلہ سمجھایا ہے اور شرک کی مذمت فرمائی ہے یہ مضامین اس سورة میں یکے بعد دیگرے آرہے ہیں ، کہیں قرآن کی صداقت ہے تو کہیں توحید اور شرک کا بیان ہے اور کہیں قیامت کا ذکر ہو رہا ہے یہ سارے مضامین آپس میں مربوط ہیں اور سورة کے آخر تک چلے گئے ہیں۔
توحید اور شرک۔
اس سے پہلے توحید کے عقلی دلائل کے طور پر ارض وسما کی تخلیق ، چاند اور سورج کی گردش اور رات دن کے اختلافت کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ نے براہ راست مشرکین کا ذکر کیا ہے اور ان کے افعال قبیحہ کو بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ویعبدون من دون اللہ مالا یضرھم ولا ینفعھم “ اور مشرک لوگ پرستش کرتے ہیں اللہ کے ورے ان چیزوں کی جو نہ انکو نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ فائدہ دے سکتی ہیں (آیت) ” من دون اللہ ‘ کا معنی اللہ کے سوا بھی ہوتا ہے اور اللہ کے ورے بھی۔ شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) کا ترجمہ ، قرآن کا سب سے پہلا بہترین اردو ترجمہ ہے جس میں آپ نے دون کا معنی نیچے یا ورے کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ بڑا معبود تو اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے ہیں مگر اس کے نیچے جھوٹے معبود بھی بنا رکھے ہیں جن کے متعلق ان کا دعوی تھا کہ یہ بھی اللہ ہی کے مقرر کردہ ہیں۔ جب دون کا معنی سوا کرتے ہیں تو اس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ مشرک اللہ کے علاوہ اس کا مدمقابل مان کر کسی دوسرے خدا کی پوجا کرتے ہیں جیسا کہ مجوسی اور ثنوی فرقے والے مانتے ہیں۔ ایک نیکی کا خدا ہے اور دوسرا برائی کا۔ ایک روشنی کا خدا ہے اور دوسرا تاریکی کا ہے۔ ایک کو یزداں کا نام دیتے ہیں اور دوسرے کو اہرمن کا۔ مگر مشرکوں کا عقیدہ مختلف ہے وہ واجب الوجود اور خالق تو اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے ہیں مگر کہتے ہیں کہ اس نے اپنے ختیارات دوسروں کو بھی دے رکھے ہیں اور وہ بھی لوگوں کی حاجتیں پوری کرتے ہیں اور بگڑی بناتے ہیں۔ یہی مشرک ہے۔
اللہ تعالیٰ ہی ہر چیز کا خالق ہے۔ اس نے فرشتوں کو انسانوں کی پیدائش سے کروڑوں اربوں سال پہلے پیدا کیا۔ پھر جنات پیدا کیے اور اس کے بعد انسان اور ہر جسم یا وجود رکھنے والی چیز تخلیق کی ، اسی لیے قرآن پاک نے فرمایا (آیت) ” اللہ خالق کل شیء (الزمر) ہر چیز کا پیدا کرنے والا اللہ ہی ہے۔ چناچہ معدودے چند دہریوں کو چھوڑ کر تمام کافر اور مشرک بھی خالق خدا تعالیٰ ہی کو مانتے ہیں۔ مشرک عرب کے ہوں یا ہندوستان کے وہ یہی کہیں گے کہ پیدا کرنے والا بھگوان یا ایشور ہے۔ فارسی میں خدا کہتے ہیں اور یہ لفظ اللہ کا ترجمہ ہے یعنی ایسی ذات جس کا وجود ذاتی ہے۔ کسی کا دیا ہوا نہیں۔ اللہ کے علاوہ ہر چیز کا وجود عطائی ہے ، ذاتی نہیں۔ مقصد یہ کہ خدا تعالیٰ کی ذات کو تو سارے ہی مانتے ہیں مگر توحید اور شریعت کا انکار کر کے کافر اور مشرک بن جاتے ہیں۔ گویا جو لوگ اللہ کو مانتے ہوئے کسی دوسرے کو بھی کسی حیثیت میں اس کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں۔ وہی مشرک ہیں۔
انتہائی تعظیم۔
شرک زیادہ تر عبادت میں ہوتا ہے ، جس طرح اللہ کی عبادت کی جاتی ہے اسی طرح دوسروں کی بھی کی جاتی ہے۔ امام بیضاوی (رح) عبادت کی تشریح ” اقصی غایۃ ، تعظیم “ کرتے ہیں یعنی کسی کی حد درجہ تعظیم کرنا عبادت کہلاتا ہے جب کوئی شخص اللہ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کی انتہائی تعظیم اس اعتقاد کے ساتھ کرتا ہے کہ یہ شخص نفع یا نقصان پہنچا سکتا ہے۔ یہ سب کچھ جانتا ہے اور بگڑی بنانے پر قادر ہے ، تو ایسا شخص مشرک بن جائے گا۔ کیونکہ واجب الوجود ، خالق علیم کل اور مختار کل اللہ تعالیٰ کی صفات مختصہ ہیں۔ ذرے ذرے کو جاننے والا صرف اللہ ہے۔ نہ جبرائیل ہے نہ کوئی رسول اور نبی ان صفات میں جو بھی کسی مخلوق کو شریک کریگا۔ اس کے مشرک بننے میں کوئی شبہ نہیں رہ جاتا۔
تعظیم کبھی زبان سے ہوتی ہے کبھی جسم سے اور کبھی مال سے جسم کی تعظیم رکوع ، سجود ، یا دست بستہ کھڑا ہونا ہے۔ زبان کی تعظیم یہ ہے کہ کسی کی حمدوثنا کے ترانے گائے جائیں ، مال کی تعظیم یہ ہے کہ کسی کے نام کی نذرونیاز دی جائے۔ یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہیں اور ” ایاک نعبد “ میں عقیدہ کار فرما ہے پھر یہ تعظیم اس نظریہ کے ساھ کی جائے کہ ایسا کرنے سے ہمیں فائدہ ہوگا اگر نہ کی تو نقصان ہوجائے گا۔ یا یہ نظریہ بھی ہوتا ہے کہ فلاں ، مستی کی تعظیم کی جائے گی تو وہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارش کر دے گا یا ہمیں تقرب دلا دے گا یا ہماری مشکل حل کرا دے گا ، یہ تمام نظریات باطل ہیں اور شرک میں داخل ہیں۔ یہ سارے معاملات صرف اللہ کی ذات کے ساتھ ہی روا ہیں۔
قبروں کی تعظیم۔
ہمارے ہاں بعض قبروں کی خاص تعظیم کی جاتی ہے۔ چھٹی صدی کے مفسر قرآن امام رازی (رح) عظیم آدمی ہوئے ہیں۔ تفسیر کے علاوہ انہوں نے علم الاخلاق پر کتابیں لکھی ہیں۔ منطق میں ماہر تھے ، آپ فرماتے ہیں کہ مشرک لوگ بتوں ، ٹھاکروں ، درختوں اور ستاروں کی تعظیم کرتے ہیں ، ان کے نام کی نذرونیاز دیتے ہیں مگر ہمارے زمانے کے بعض مسلمان قبروں کے ساتھ بھی یہی سلوک کرتے ہیں۔ اس سے مقصود یہ ہوتا کہ صاحب قبر اللہ کی بارگاہ میں ہماری سفارش کر دے گا۔ داتا صاحب کی قبر پر نذرونیاز اور چادر پوشی تعظیم کی وجہ سے ہی ہوتی ہے۔ ہمارے ملک میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں ایسے مزار ہیں جن کے سامنے سجدے ہوتے ہیں ، لوگ دست بستہ کھڑے ہو کر ان سے حاجات طلب کرتے ہیں یا حاجت براری کے لیے سفارش چاہتے ہیں۔ اس انتہائی تعظیم کی خاطر عرق گلاب سے قبر کو غسل دیا جاتا ہے ، پھول ڈالے جاتے ہیں ، ہزاروں چادریں نذر ہوتی ہیں اور قبروں پر نذر ونیاز کا لامتناہی سلسلہ تو ہمیشہ جاری رہتا ہے اگر یہ سب کچھ صاحب قبر کو نافع اور ضار سمجھ کر کیا جائے تو واضح شرک ہے اور اگر اسے نافع اور ضار نہ سمجھا جائے تو اس کو شرک تو نہیں کہہ سکتے مگر اس عمل کے بدعت ، مکروہ اور حرام ہونے میں کوئی شک نہیں۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) تفسیر بیان القرآن میں لکھتے ہیں کہ اگر کسی شخص کی وہ تعظیم مراد نہ ہو جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے ، تو قبر کے سامنے سجدہ کرنا کفر تو نہیں ہوگا مگر شریعت مطہرہ میں حرام ضرور ہے کیونکہ سجدہ عبادت کا ہو یا تعظیمی ، یہ صرف خدا تعالیٰ کے ساتھ مخصوص ہے۔ پہلی امتوں میں غیر اللہ کے لیے سجدہ تعظیمی روا تھا۔ مگر سجدہ عبادت کسی امت میں بھی جائز نہیں رہا۔ تا ہم ہماری امت کے لیے ہر قسم کا سجدہ حرام ہے ، خواہ وہ عبادت کا ہو یا تعظیم کے لیے ، بلکہ سجدہ کے یے تو واضح حکم یہ ہے (آیت) ” لا تسجدوا للشمس ولا للقمر واسجدوا للہ الذین خلقھن (حم سجدہ) سورج ، چاند یا کسی مخلوق کے سامنے سجدہ نہ کرو ، بلکہ سجدہ صرف اس ذات کے لیے جو ان سب کا خالق ہے۔
غیر اللہ کی نذرونیاز۔
غیر اللہ کی نذرونیاز دے کر بھی شرک کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ سورة انعام میں پرانے مشرکوں کا ذکر آتا ہے جو اپنی پیداوار میں سے ایک حصہ اپنے معبودوں کے نام کا نکالتے تھے۔ ہمارے ہاں گیارہویں کا عقیدہ بھی ایسا ہی ہے۔ اگر کوئی شخص اس لیے گیارھویں دے دیتا ہے کہ اس کے بغیر گھر سے خیروبرکت اٹھ جائیگی تو یہ فعلی شرک ہے۔ جو شخص کوئی چیز نبی ، ولی یا قبر والے کے نام نامزد کرے اور پھر اس کی قبر پر چڑھائے تو یہ نیاز میں شرک ہے۔ اور اگر اللہ کے نام پر کسی فوت شدہ کے ایصال ثواب کے لیے کوئی چیز دیتا ہے تو یہ جائز ہے ، اس میں کسی کا اختلاف نہیں ، گیارہویں شریف کے بعض دلدادہ یہ تاویل کرتے ہیں کہ ہم تو ایصال ثواب کے لیے دیتے ہیں بھئی ! اگر ایسا ہے تو پھر گیارہوں کا نام کیوں لیتے ہو ؟ پھر گیارہ تاریخ کیوں مقرر کرتے ہو ؟ کتاب وسنت میں ایصال ثواب کے لیے تاریخ کے تقرر کا کوئی حکم ہے ؟ کسی جمعرات ، تیسرے ، ساتویں یا چالیسویں کی کوئی اہمیت ہے ، شریعت نے ایسی چیزوں کا کہاں حکم دیا ہے ؟ اسی چیز کو تو بدعت کہا جاتا ہے۔ اگر ثواب ہی پہنچانا مقصود ہے تو جب چاہو صدقہ خیرات کرو ، کون روکتا ہے ؟
اس میں ایک اور قباحت بھی ہے۔ ختم گیارہوں کا ہو یا تیسرے کا یا چالیسویں کا ، سب لوگ کھاتے ہیں ، حالانکہ اگر ایصال ثواب مقصود ہے تو پھر یہ غربا اور مساکین کا حق ہے۔ مالدار اور برادری والے کھا گئے تو ثواب کیسے ہوگا ؟ یتیموں اور مسکینوں کو کھلا کر اس کا ثواب پہنچائو تو کچھ بات بھی بنے۔ اگر گیارہویں سے شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) کا تقرب مقصود ہے تو اس کا شرک ہونے میں کوئی شبہ نہیں۔ اسی طرح اگر داتا دربار پر بکرا اس مقصد کے یے دیا گیا کہ داتا صاحب ہماری سفارش کردیں گے ، ہماری مراد پوری کردیں گے یا کرا دیں گے یا خدا تعالیٰ کا قرب دلا دیں گے تو ہر صورت میں شرک کا ارتکاب ہے۔ یہی غایت درجہ کی تعظیم ہے ، یہی عبادت ہے۔
قبر پرستی۔
ہمارے ہاں وسیع پیمانے پر قبر پرستی ہو رہی ہے۔ قبر کے سامنے دست بستہ کھڑا ہونا ، اس کے سامنے رکوع یا سجود کرنا ، اس قبر والے سے دعا مانگنا یا کرانا ، قبر کو چومنا یا ہاتھ لگانا سب ایسی چیزیں ہیں جو قبروں کی حد درجہ تعظیم میں آتی ہیں۔ قبر کو اس نیت سے ہاتھ لگانا یا ہاتھ لگا کر منہ پر ملنا کہ صاحب قبر خوش ہو کر ہماری بگڑی بنا دیگا۔ واضح شرک ہے۔ یہ کام تو پیغمبر اسلام کی قبر کے ساتھ بھی روا نہیں ۔ ذرا فاصلے پر ادب سے کھڑے ہو کر ، نظریں نیچی کر کے خاموشی کے ساتھ صلوٰۃ وسلام پڑھو ، حضور ﷺ کی قبر کے ساتھ کوئی ایسا معاملہ نہ کرو جو خود آپ کی تعلیمات کے خلاف ہو۔ آپ نے تو آخری وقت میں یہ دعا کی تھی ” اللھم لا تجعل قبری وثنا یعبد “ اے اللہ میری قبر کو بت نہ بنانا کہ اس کی پوجا ہونے لگے۔ یہود و نصاریٰ نے اپنے انبیاء اور بزرگوں کے ساتھی یہی معاملہ کیا جس کا ذکر حضور ﷺ نے مرض الموت میں کیا ” لعنۃ اللہ علی الیھود والنصاری اتخذوا قبورا انبیائھم مساجد “ یہودیوں اور نصرانیوں پر خدا تعالیٰ کی لعنت ہو جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا۔ قبروں پر گنبد گھڑے گئے۔ ان پر چادریں چڑھائیں اور پھر ان کی تعظیم کے لیے لوگوں کو خاص تاریخ پر جمع کیا۔ یہ چیز حرام ، ناجائز اور اسراف میں داخل ہے۔ تمام بزرگان دین اس سے منع کرتے آئے ہیں۔
کسی قبر والے سے سوال کرنا تو انتہائی درجے کی گراوٹ ہے اور اللہ کے ساتھ شرک ہے۔ کسی کو نفع یا نقصان پہنچانا تو صرف اللہ کے ساتھ خاص ہے اور تمام مخلوق اللہ ہی کی محتاج ہے۔ سورة الرحمن میں موجود ہے۔ (آیت) ” یسئلہ من فی السموت والارض “ آسمان و زمین کی ساری مخلوق اللہ تعالیٰ ہی سے مانگتی ہے کوئی اپنی زبان سے مانگ رہا ہے اور کوئی چیز اپنی حالت سے طلب کر رہی ہے۔ مانگنے والے سارے ہیں اور دینے والی صرف ایک ذات خداوندی ہے۔ وہی سب کی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ باقی تمام ملاحہ ، انبیاء اور عام انسان وحیوان اسی کے محتاج ہیں بوستان سعدی صاحب کی بڑی نصیحت آموز کتاب ہے ، آپ اس میں فرماتے ہیں ؎
دل اندر صمد باید اے دوست بست
کہ عاجز تر انداز صنم ہر کہ مست
دل کو صمد کے اندر ہی لگانا چاہیے اے دوست ! کیونکہ باقی سب چیز تو بت سے بھی عاجز ہے۔ نفع نقصان کا اختیار مخلوق میں سے کسی کے پاس نہیں ہے۔
مسئلہ شفاعت۔
فرمایا مشرک لوگ ایک تو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہیں اور دوسری بات یہ کہتے ہیں (آیت) ” ویقولون ھولاء شفعائونا عنداللہ “ کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں ہم جن کی عبادت کرتے ہیں ، نذرونیاز دیتے ہیں ا اور ان کی حد درجہ تعظیم کرتے ہیں یہ ہمیں خدا کے ہاں چھڑا لیں گے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ سفارش دو قسم کی ہے ، ایک سفارش وہ ہے جو اللہ کی اجازت سے فرشتے ، انبیائ ، شہدا ، اور کامل الایمان صلحاء لوگ کریں گے۔ اور یہ سفارش اس شخص کے حق میں قبول ہوگی۔ جس کا عقیدہ درست ہوگا اور جس کے حق میں خدا تعالیٰ راضی ہوگا۔ سفارش کی دوسری قسم جبری سفارش ہے جس کے مشرکین قائل ہیں۔ امام رازی (رح) اس کو جبری اور قہری سفارش سے موسوم کرتے ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ مشرک لوگ خدا تعالیٰ کی ذات کو دنیا کے بادشاہوں پر قیاس کر کے ایسی سفارش کے قائل ہیں۔ کہتے ہیں کہ بعض اوقات کسی جابر سے جابر بادشاہ کو بھی اپنے کسی وزیر یا مقرب کی سفارش ماننا پڑتی ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس کی بات نہ مانی تو اس کے اقتدار کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اسی طرح مشرک لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمارے معبود خدا کی مرضی کے خلاف بھی سفارش کرکے ہمیں چھڑا لیں گے۔ عیسائیوں کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ان کے گناہوں کا کفارہ بن کر انہیں چھڑا لیں گے۔ یہودی کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) دوزخ کے دروازے پر کھڑے ہوں گے اور کسی ختنہ شدہ اسرائیلی کو جہنم میں نہیں گرنے دیں گے۔ یہی جبری سفارش ہے ، جو اس سفارش کا قائل ہے ، وہ شرک کا مرتکب ہے۔ آج کا مسلمان بھی یہی کہتا ہے کہ ہمیں کچھ پروا نہیں ہمیں ہمارے پیر صاحب ہر صورت میں بچا لیں گے۔ اللہ نے ایسی سفارش کی تردید کی ہے اور ان لوگوں کا رد فرمایا ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاں یہ ہمارے سفارشی ہیں اور ہم کچھ بھی کرتے پھریں۔ یہ ہمیں بچا لیں گے۔
فرمایا (آیت) ” قل “ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجیے (آیت) ” اتنبئون اللہ بما لا یعلم فی السموت ولا فی الارض “ کیا تم اللہ کو ایسی چیز بتلاتے ہو جس کو وہ آسمان و زمین میں نہیں جانتا۔ اگر اس کا کوئی سفارشی ہوتا تو وہ ضرور اللہ کے علم میں ہوتا ، مطلب یہ ہے کہ درحقیقت ایسا کوئی سفارشی تو موجود نہیں ہے مگر تم اسے خدا کے علم میں لا رہے ہو کہ فلاں فلاں ہمارا سفارشی موجود ہے ، معلوم ہوا کہ ایسا کوئی سفارشی کائنات میں موجود نہیں جو کوئی بات اللہ تعالیٰ سے جبرا منوا لے۔ بلکہ (آیت) ” سبحنہ “ اس کی ذات تو پاک ہے (آیت) ” وتعٰلی “ اور بلند ہے (آیت) ” عما یشرکون “ ایسی چیزوں سے جن کو یہ خدا کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں۔
شرک کی ابتدا۔
فرمایا ، یاد رکھو ! (آیت) ” وما کان الناس الا امۃ واحدۃ “ ساے کے سارے لوگ ایک ہی امت پر تھے سب لوگ عقیدہ توحید اور قیامت کے برحق ہونے پر متفق تھے۔ (آیت) ” فاختلفوا “ پھر بعد میں انہوں نے اختلاف کیا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت نوح (علیہ السلام) سے کچھ عرصہ پہلے تک لوگ عقیدہ توحید پر قائم تھے اس دوران حضرت شیث (علیہ السلام) اور ادریس (علیہ السلام) بھی گزرے ہیں لیکن لوگوں میں کوئی اختلاف نہیں تھا۔ پھر نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں شرک کا سلسلہ شروع ہوا اور پھر ان مشرکین کو سزا بھی ملی اور وہ سب کے سب طوفان میں غرق ہوگئے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ڈارون کا نظریہ ارتقاء باطل ہے۔ اس نظریے کے مطابق پہلے سب لوگ بندر تھے جو ترقی کرتے کرتے انسان بن گئے۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق پہلے لوگ کفر اور شرک پر تھے۔ آثار کو پوجتے جب عقل میں پختگی آئی ، شعور پیدا ہوا ، تمدن نے ترقی کی تو عقیدہ توحید پیدا ہوگیا۔ یہ بالکل باطل اور کفریہ عقیدہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ پہلے سب لوگ عقیدہ حق پر متفق تھے ، پھر بعد میں اختلافات پیدا ہوئے اور وہ شرک کی طرف مائل ہوگئے۔ اس دنیا پر اولین انسان حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور آپ بالاتفاق خدا کے نبی ہیں آپ بلاشبہ عقیدہ توحید پر تھے ، لہٰذا یہ کہنا کہ پہلے لوگ مشرک تھے پھر بعد میں موحد ہوئے ، قطعا غلط ہے۔ شرک کی ابتداء حضرت نو ح (علیہ السلام) سے کچھ عرصہ پہلے ہوئی۔ یہی بات درست ہے۔
فرمایا ، پھر لوگوں نے اختلاف کیا (آیت) ” ولو لا کلمۃ سبقت من ربک “ اور اگر نہ ہوتی ایک بات جو تیرے رب کی طرف سے پہلے ہوچکی ہے (آیت) ” لقضی بینھم فیما فیہ یختلفون “ تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا جن باتوں میں وہ اختلاف کرتے ہیں یعنی ان کو فورا سزا دے دی جاتی ، مگر یہ بات پہلے بیان ہوچکی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے قانون امہال و تدریج کے مطابق سرکشوں کو بعض اوقات مہلت دیتا رہتا ہے اگر وہ اس دنیا میں بچ بھی جائیں تو اس کا مسلمہ قانون یہی ہے کہ قیامت کے دن ان کے درمیان ضرور فیصلہ کردیا جائے گا اور پھر وہ اپنے اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے۔ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے (آیت) ” قد تبین الرشد من الغی “ ہدایت اور گمراہی کو واضح کردیا ہے۔ مگر جو لوگ حق کو چھور کر گمراہی میں پھنس گئے ہیں۔ ظلم وزیاتی کے مرتکب ہوئے ہیں ، ان کا قطعی فیصلہ قیامت کے دن لازما ہوجائے گا۔
معجزات کی فرمائش۔
فرمایا (آیت) ” ویقولون “ اور یہ لوگ کہتے ہیں (آیت) ” لولا انزل علیہ ایۃ من ربہ “ آپ پر آپ کے رب کی طرف سے کوئی نشانی یا معجزہ کیوں نہیں نازل ہوتا۔ مشرک کہتے تھے پہلے پیغمبر عصا ، ید بیضا ، احیائے موتی اور پتھر سے اونٹنی نکالنے والے معجزات لے کر آئے مگر آخری پیغمبر پر ایسی کوئی نشانی کیوں نہیں نازل ہوئی ؟ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” فقل “ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے (آیت) ” انما الغیب للہ ‘ ‘ غیب کی بات تو اللہ ہی جانتا ہے۔ یہ تو اسی کے علم میں ہے کہ کون سی نشانی کب ظاہر ہوگی۔ کسی نبی کے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ کوئی معجزہ اپنی مرضی سے پیش کرسکے کیونکہ خدا تعالیٰ کا یہ اٹل قانون ہے (آیت) ” وما کان لرسول ان یاتی بایۃ الا باذن اللہ “ (الرعد) کوئی رسول اپنی مرضی سے کوئی معجزہ پیش نہیں کرسکتا مگر جب اللہ چاہیے گویا نبی کا معجزہ اور ولی کی کرامت اللہ کا فعل ہوتا ہے۔ یہ چیز کسی بندے کے اختیار میں نہیں ہے بلکہ اسے صرف اعزاز حاصل ہوتا ہے۔ معجزہ طلب کرنا عنادی لوگوں کا کام ہے ، وگرنہ حقیقت یہ ہے ہ جتنے معجزات حضور ﷺ کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے ہیں ، اتنے کسی دوسرے نبی سے ظاہر نہیں ہوئے۔ آپ کا سب سے بڑا معجزہ قرآن پاک ہے۔ یہ ایسی بےمثال کتاب ہے جس کا مقابلہ کرنے سے ساری انسانیت عاجز ہے۔ یہ ایک دائمی معجزہ ہے۔ ایمان لانے والے لوگ معجزے طلب نہیں کرتے بلکہ وہ صداقت اور حقانیت کو فورا پہچان جاتے ہیں ایسے مطالبات تو عنادی لوگ کرتے ہیں۔ مکہ کے مشرکین مطالب کرتے تھے کہ مکہ کی پہاڑیاں سونے کے بن جائیں۔ یہاں دریا بہنے لگیں اور کھیتی باڑی ہونے لگے۔ وہ یہ بھی کہتے تھے کہ آپ سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ جائیں اور وہاں سے ہمارے سامنے کتاب لے کر آئیں تو پھر ہم ایمان لائیں گے کبھی کہتے اگر آپ سچے ہیں تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے یا جس قیامت سے ہمیں ڈراتا ہے اس کو برپا کر دے۔ مگر ہر فرمائش کو پورا کرنا اللہ تعالیٰ کی مصلھت کے خلاف ہے وہ جب چاہتا ہے اپنی مصلحت کے مطابق کوئی نشانی ظاہر کردیتا ہے۔ مکہ والوں نے چاند کا معجزہ طلب کردیا تو اللہ کے حکم سے حضور ﷺ نے چاند کی طرف اشارہ کیا تو وہ دو ٹکڑے ہو کر ایک ٹکڑا پہاڑ کی اس طرف نظر آیا اور دوسرا دوسری طرف تھا۔ ابو جہل چونکہ عنادی تھا ، وہ اتنا بڑا معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہ لایا کہنے لگا (آیت) ” سحر مستمر “ (القمر) یہ تو چلتا ہوا جادو ہے۔ پہلے لوگ بھی جادو کرتے تھے ، آج محمد نے بھی جادو کردیا (العیاذ باللہ) ۔
فرمایا اگر تم نشانیاں دیکھنے پر ہی بضد ہو (آیت) ” فانتطروا “ تو انتظار کرو (آیت) ” انی معکم من المنتظرین “ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔ دیکھیں کب نشانی آتی ہے اور تمہارے کفر اور شرک کا کیا نتیجہ نکلتا ہے۔ پھر جان لیان کہ کس کے حصے میں ہدایت ہے اور کون لوگ گمراہی پر مرتا ہے ؟ کس کو ترقی ملتی ہے اور کون تنزل میں جاتا ہے ؟ تم بھی انتظار کرو میں بھی خدا کے حکم کا انتظار کرتا ہوں۔
Ayahs 10:21–23ربط آیات
پہلے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حقانیت اور صداقت کو بیان کیا پھر توحید کے عقلی اور نقلی دلائل کا ذکر کیا اور سابقہ اقوام کی نافرمانیوں کا اشارۃ حال بیان کیا ، پھر قرآن کے اٹل ، دائمی ، ناقابل تحریف و ترمیم ہونے کا ذکر کیا۔ رسالت کی صداقت کے ضمن میں حضور ﷺ کی پاکیزہ زندگی کو بطور دلیل پیش کیا۔ پھر معجزات طلب کرنے والے منکرین کے جواب میں فرمایا کہ یہ لوگ محض ضد اور عناد کی وجہ سے نشانیاں طلب کرتے ہیں وگرنہ نشانیاں تو اللہ نے بیشمار ظاہر فرما دی ہیں۔ اس سلسلہ میں حضور ﷺ سے کہلوایا کہ کوئی نشانی پیش کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے بلکہ اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق جب اللہ چاہتا ہے کوئی نشانی ظاہر کردیتا ہے۔ فرمایا میرے اور تمہارے درمیان حتمی فیصلہ کے لیے تم بھی انتظار کرو اور میں بھی اللہ کے حکم کا منتظر ہوں۔
پھر اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی تردید فرمائی کہ یہ لوگ اللہ کے ورے دوسروں کی عبادت کرتے ہیں ، ان کو نافع اور ضار سمجھتے ہیں حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی صفت مختصہ ہے اور اس کے سوا کوئی نافع اور ضار نہیں ہے۔ فرمایا ان کی عبادت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں جو اللہ کے ہاں سفارش کر کے ہمیں بچا لیں گے۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ سب جھوٹے ہیں۔ کائنات میں کوئی ایسی ہستی نہیں جو جبری سفارش کر کے اللہ سے کوئی بات منوا لے۔ یہی تو شرک ہے جب کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ ان چیزوں سے پاک ہے جن کو یہ خدا کا شریک ٹھہراتے ہیں۔
تکلیف کے بعد راحت
دیر وزہ درس کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی دوحالتوں یعنی تکلیف اور راحت کا ذکر کیا ہے اور انسان کی ایک عام روش کا تذکرہ کیا ہے کہ انسان دونوں حالتوں میں اپنی صحیح حیثیت کو برقرار نہیں رکھ سکتے بلکہ افراط وتفریط کا شکار ہوجاتے ہیں۔ البتہ بہت خاص لوگ ہوتے ہیں جو اپنی اصلیت پر قائم رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے شکوے کے طور پر فرمایا ہے (آیت) ” واذا اقنا الناس رحمۃ من بعد ضراء مستھم “ جب ہم لوگوں کو اپنی رحمت اور مہربانی کا مزہ چکھاتے ہیں بعد اس کے کہ ان کو تکلیف پہنچی۔ اللہ نے بعض لوگوں کا ذکر کیا ہے کہ کبھی وہ تکلیف میں مبتلا ہوجاتے ہیں ، قحط پڑگیا ، بیماری پھیل گئی ، مال وجان کا نقصان ہوگیا ، زلزلہ یا طوفان آگیا یا کوئی دیگر حادثہ پیش آگیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مہربانی اور تکلیف کو رفع کردیا۔ بیماری کی جگہ صحت آگئی ، قحط دور ہو کر خوشحالی کا دور دورہ آگیا ، تجارت میں نفع ہوگیا ، باعزت مکان مل گیا ، باعزت عہدہ حاصل ہوگیا ، تنگی کی جگہ فراوانی آگئی ، مال و دولت میں اضافہ ہوگیا ، جانوروں کے لیے چارہ اور پانی عام ہوگیا ، یہ ساری چیزیں اللہ کی رحمت میں شامل ہیں تو فرمایا کہ جب تکلیف کے بعد راحت آجاتی ہے ، اللہ مہربانی فرماتا ہے (آیت) ” اذا لھم مکر فی ایتنا “ تو اچانک وہ لوگ ہماری آیتوں کے احکام کو ٹالنے کے لیے حیلے بہانے بنانے شروع کردیتے ہیں۔
مشرکین کی حیلہ سازی
گذشتہ درس میں مشرکین کی حیلہ سازی کا ذکر ہوچکا ہے کہ جب انہیں حضور ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے کے لیے کہا جاتا ہے تو کہتے ہیں (آیت) ” لولا انزل علیہ ایۃ من ربہ “ آپ پر ہماری مرضی کی کوئی نشانی کیوں نہیں نازل ہوتی ، حالانکہ تکوینی طور پر انسان کے گردوپیش ہزاروں نشانیاں بکھری پڑی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی کھلی دلیل ہیں۔ خود قرآن پاک سے بڑی نشانی کون سی ہو سکتی ہے ؟ پھر پیغمبر (علیہ السلام) کی ذات مبارک بہت بڑی نشانی ہے ، آپ کا چہرہ اقدس نشانی ہے حتی کہ آواز پیغمبر معجزاست یعنی حضور ﷺ کی آواز مبارک بھی ایک معجزہ ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات مبارکہ میں بیشمار معجزات ظاہر فرمائے ۔ صحیح احادیث میں ایسے معجزات کی تعداد تین ہزار آتی ہے مگر آپ (علیہ السلام) نے اپنی زبان مبارک سے فرمایا کہ میرا سب سے بڑا معجزہ وحی الٰہی یعنی قرآن پاک ہے جو اللہ نے مجھے عطا کیا۔ تو فرمایا کہ معجزات کی فرمائش یہ لوگ محض احکام کو ٹالنے کے لیے حیلے کے طور پر کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہدایت کو قبول ہی نہیں کرنا چاہتے ، نہ اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرنا چاہتے ہیں اور نبی آخرالزمان کی رسالت کو ماننا چاہتے ہیں۔ خاص طور پر قرآن کریم کے پروگرام سے تو یہ لوگ بدکتے ہیں ، لہٰذا ہماری آیتوں کو ٹالنے کے لیے حیلہ سازی کرتے ہیں۔
اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا (آیت) ” قل “ (اے پیغمبر) آپ کہہ دیجئے (آیت) ” اللہ اسرع مکرا “ اللہ تو بہت جلدی تدبیر کرنے والا ہے عربی زبان میں مکر کا لفظی معنی مخفی تدبیر ہوتا ہے۔ اس لفاظ کو اردو اور پنجابی کے مکر پر محمول نہیں کرنا چاہیے جس کا معنی دھوکا اور فریب ہوتا ہے۔ یہ لفظ قرآن پاک میں پوشیدہ تدبیر کے معنوں میں متعدد مقامات پر استعمال ہوا ہے ، جیسے (آیت) ” ومکروا ومکر اللہ “ انہوں نے بھی مخفی تدبیر کی اور اللہ نے بھی پوشیدہ چال چلی ، یہودیوں نے چاہا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو دنیا سے معدوم کردیں مگر اللہ تعالیٰ کی تدبیر کامیاب ہوئی (آیت) ” واللہ خیر المکرین “ اور اللہ تعالیٰ بہترین مخفی تدبیر کرنے والا ہے۔
تو فرمایا کہ اگر یہ لوگ اللہ کی آیتوں کو ٹالنے کے لے مخفی تدبیر کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ تو بہت جلد مخفی تدبیر کرنے والا ہے۔ اللہ نے مزید واضح کیا کہ ہمارا نظام یہ ہے کہ (آیت) ” ان رسلنا یکتبون ما تمکرون “ جو کچھ یہ لوگ حیلہ سازی کرتے ہیں ہمارے فرشے اس کو لکھ لیتے ہیں اور وہ فرشتوں کے دفتر میں محفوظ ہوجاتی ہے اللہ تعالیٰ تو بذات خود علیم کل ہے۔ وہ ہر چیز کو ذاتی طور پر جانتا ہے اس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں ، تا ہم فرشتوں کے ذریعے لکھ رکھنے کا اس نے ایک نظام قائم کررکھا ہے تا کہ قیامت کے دن ہر شخص کے سامنے پیش کردیا جائے جس کو دیکھ کر وہ انکار نہ کرسکے۔ اس طرح گویا اللہ نے انسان کی ناشکر گزاری کا ذکر فرمایا کہ تنگی کے بعد جب انہیں راحت پہنچتی ہے تو پھر وہ شکر گزاری کرنے کے بجائے ہماری آیات کو ٹالنے کے لیے حیلے بہانے شروع کردیتے ہیں۔ اس کی ایک زندہ مثال مشرکین مکہ کی ہے۔ جب ان کے علاقے میں قحط پڑگیا تو ان کے ایک وفد نے مدینہ طیبہ پہنچ کر حضور ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ان کے لیے خوشحالی کی دعا کریں۔ آپ نے دعا فرمائی ، اللہ تعالیٰ نے قحط کو دور کردیا مگر وہ لوگ پھر بھی ایمان نہ لائے۔ اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے اس کی آیات سے انکار کے لیے حیلے بنانے لگے۔ اللہ نے ایسے ہی لوگوں کا شکوہ بیان کیا ہے۔
بحر وبر کا سفر
اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے بحروبر کے سفر کے تناظر میں لوگوں کے شرکیہ ذہن کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ھوالذی یسیرکم فی البر والبحر “ اللہ تعالیٰ کی وہی ذات ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے۔ اب تو سائنسی دور ہے جس میں وسائل نقل وحمل بہت ترقی کرچکے ہیں ہر ملک میں ریلوں اور سڑکوں کے جال ہیں جن پر ریل گاڑیاں اور بسیں اور کاریں چوبیس گھنٹے رواں دواں نظر آتی ہیں۔ ان کے علاوہ فضائی سفر کی بہترین اور تیز ترین سہولتیں میسر ہیں مگر پرانے زمانے میں دور دراز علاقوں کا سفر ایک کٹھن کام تھا۔ خاص طور پر جنگلوں اور صحرائوں کا سفر تو خطرات سے بھر پور ہوتا تھا۔ اور ان سب سے بڑھ کر سمندری سفر تھا جس کا زیادہ تر انحصار ہوائوں کے رخ پر ہوتا تھا۔ ناساز گار موسم اور مخالف ہوائیں سمندری طوفان کا سبب بن جائیں اور اس طرح بحری سفر خطرناک ترین سفر کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔ آج سے آٹھ سو سال پہلے ابن بطوطہ کا سفر نامہ پڑھیں۔ اس شخص نے متواتر ستائیس برس سفر میں گزارے ۔ اندلس کا رہنے والا تھا آغاز شباب میں دنیا کا سفر شروع کیا اور پڑھاپے میں واپس اپنے وطن پہنچا۔ یہ دنیا کا طویل ترین سفر تھا جس کے متعلق اس نے بڑے بڑے واقعات اور سفر کی صعوبتوں کا ذکر کیا ہے۔ خراسان ، حجاز ، دمشق وغیرہ گیا ، تمام جزائر پھرے اور بارہ سال تک اس برصغیر میں بھی پھرتا رہا۔ مقصد یہ ہے کہ پرانے زمانے میں بحرو بر کا سفر بہت مشکل کام تھا۔
سمندری سفر اور طوفان
یہاں پر اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر سمندری سفر کا ذکر کیا ہے اور ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” حتی اذا کنتم فی الفلک “ فرمایا جب تم کشتی یا بحری جہاز میں سوار ہوتے ہو (آیت) ” وجرین بھم بریح طیبۃ “ اور وہ کشتیاں یا جہاز خوشگوار ہوا کے ساتھ چلتی ہیں (آیت) ” وفرحوا بھا “ اور وہ اس سے خوش ہوجاتے ہیں۔ پھر اچان کہ کیا ہوتا ہے (آیت) ” جاء تھا ریح عاصف “ تند یا مخالف ہوا چلتی ہے اور جہاز اور کشتیاں ہچکولے کھانے لگتے ہیں۔ (آیت) ” وجاء ھم الموج من کل مکان “ اور ہر طرف سے پانی کی موجیں آکر گھیر لیتی ہیں۔ (آیت) ” وظنوا انھم احیط بھم “ اور مسافروں کو یقین ہوجاتا ہے کہ اب وہ گھیر لیے گئے ہیں ، اور ان کے جہاز کے بچ نکلنے کی کوئی امیدباقی نہیں رہی۔ تو ایسی حالت میں کیا کرتے ہیں (آیت) ” دعوا اللہ مخلصین لہ الدین “ گڑ گڑا کر اللہ ہی کو پکارتے ہیں اور اپنی اطاعت کو اس کے ساتھ خاص کرتے ہیں صرف اسی ایک خدا کے نام کی دہائی دیتے ہوئے اقرار کرتے ہیں (آیت) ” لئن انجیتنا من ھذہ “ اگر تو ہمیں اس طوفان سے نجات دے دے۔ ہماری کشتی کو پار لگا کر ہمیں مصیبت سے بچا لے (آیت) ” لنکونن من الشکرین “ تو ہم تیرا شکر ادا کرنے والے بن جائیں گے۔
سمندری طوفان اور جہازوں کی غرقابی کے لیے کئی واقعات مشاہدے میں آتے رہتے ہیں۔ پندرہ سولہ سال پہلے بحری جہاز دارا کو حادثہ پیش آیا تھا۔ اس جہاز میں بارہ سو آدمی سوار تھے۔ جہاز اپنے سفر پر رواں دواں تھا۔ جہاز میں عیش و عشرت کے سارے سامان مہیا تھے ، شراب کا دور چل رہا تھا ، ڈانس ہو رہا تھا ، کھانے پینے کی فروانی تھی۔ اچانک رات کے تین بجے جہاز کا انجن دھماکے سے پھٹ گیا۔ موسم بھی خراب تھا ، باہر بارش ہو رہی تھی ان حالات میں جہاز پر جو قیامت برپا ہوئی ، اس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا بارہ سو کی نفری میں سے صرف ڈیڑھ دو سو مسافر بچائے جاسکے باقی جہاز سمیت سمندر میں ڈوب گئے۔ بچ رہنے والے لوگ جس طرح اس حالت کو بیان کرتے تھے اس سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔
دو سال پہلے فیصل آباد کے ایک آدمی نے اپنے ساتھ پیش آمدہ واقعہ سنایا۔ وہ شخص اٹلی سے امریکہ جانے والے مال بردار جہاز پر بطور مزدور سفر کر رہا تھا۔ اس جہاز پر پچھتر ہزار ٹن لوہا لدا ہوا تھا۔ اچانک چہاز طوفان میں گھر گیا۔ انگریز عملہ نے سوچا کہ اب بچنا مشکل ہے۔ انہوں نے شراب پی کر خود ہی سمندر میں چھلانت لگا دی ، ہم دو مسلمانوں کے علاوہ کچھ دوسرے غیر مسلم بھی تھے۔ ہم کسی طرح جہاز سے کشتی اتار کر اس میں بیٹھنے میں کامیاب ہوگئے۔ پھر اللہ نے مہربانی فرمائی اور ہمیں اس طوفان زدہ علاقے سے نکال باہر کیا۔ جہاز تو ڈوب گیا اور ہم کشتی میں سوار سمندری لہروں کے ہچکولے کھاتے ہوئے کہیں دور نکل گئے۔ اتنے میں امدادی ٹی میں پہنچیں اور انہوں نے ہمیں زندہ نکال لیا اور ہمیں سپین کے ساحل پر جا پھینکا۔ ہم پر بیہوشی طاری تھی ، کئی ہفتے تک ہسپتال میں رہنے کے بعد ہمارے حواس درست ہوئے غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر سمندری سفر کا ذکر کر کے اس سفر کی مشکلات کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔
امام ابن تیمیہ (رح) اور بعض مصنفین نے عکرمہ ؓ ابن ابوجہل کے اسلام لانے کا واقعہ نقل کیا ہے جس کا تعلق بھی بحری سفر کے ساتھ ہے۔ 8 ھ میں جب مکہ فتح ہوا تو عکرمہ ؓ وہاں سے بھاگ گیا۔ آگے چل کر کشتی میں سوار ہوگیا یہ کشتی کوئی تیس میل کے قریب گئی ہوگی کہ طوفان میں گھر گئی۔ کشتی کے مسافر لات اور عزی نامی بتوں کی دہائی دینے لگے ، مگر ملاحوں نے بتایا کہ اس مشکل موقع پر لات ، عزی وغیرہ کام نہیں آئیں گے بلکہ یہ صرف خدا تعالیٰ کو پکارنے کا موقع ہے ، اگر اس کی مشیت میں ہوگا تو وہ بچا لے گا۔ یہ سن کر عکرمہ ؓ کے دل پر سخت چوٹ لگی ۔ دل میں سوچا کہ اسی خدا کو نہ مان کر تو ہم بھاگے ہیں اور اب اسی کو پکاریں۔ اس کی کایا پلٹ گئی اور اسے سمجھ آگئی کہ جس خدا کو سمندری طوفان میں پکارنا ہے اس کو خشکی پر کیوں نہ پکاریں۔ چناچہ اس نے دل میں عہد کیا کہ اگر اس طوفان سے بچ گیا تو واپس جا کر محمد ﷺ کے ہاتھ میں ہاتھ دے دوں گا۔
ادھر عکرمہ ؓ کی بیوی ام حکیم ؓ پہلے ہی اسلام قبول کرچکی تھی۔ جب عکرمہ ؓ بھاگ گیا ، تو ام حکیم ؓ نے حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اس کا خاوند تو بھاگ گیا ہے۔ اگر اب بھی وہ آکر تائب ہوجائے تو کیا اسے معافی مل سکتی ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا ، ہاں معافی مل سکتی ہے۔ ام حکیم نے نشانی طلب کی تو حضور ﷺ نے اپنی دستار مبارک عطا کردی۔ چناچہ ام حکیم ؓ وہ نشانی لے کر عکرمہ ؓ کی تلاش میں سمندر کی طرف جا نکلی جب عکرمہ ؓ طوفان سے بچ کر ساحل پر پہنچا تو اس کی بیوی وہاں موجود تھی۔ اس نے کہا ، تم کہاں ٹھوکریں کھا رہے ہو ؟ چلو ! حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنے کیے پر پیشمان ہو جائو اور دین حق قبول کرلو۔ چناچہ جب حضور ﷺ نے عکرمہ کو دیکھا تو اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا ” مرحبابالرکب المھاجر “ سوار ہو کر آنے واے مہاجر کو خوش آمدید۔ گویا آپ نے عکرمہ ؓ کے بھاگنے اور واپس آنے کو ہجرت سے تعبیر فرمایا۔ اس طرح عکرمہ ؓ ایمان لے آیا۔ جس کا سبب سمندری طوفان بنا۔
نجات کے بعد بغاوت
تو فرمایا انسان کا حال یہ ہے کہ جب مصیبت میں پھنس جاتا ہے تو خلوص کے ساتھ دعا کرتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ اگر خدا نے مصیبت کو دور کردیا تو اس کا شکریہ ادا کروں گا۔ (آیت) ” فلما انجٰھم “ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے کہ جب ہم انہیں نجات دے دیتے ہیں اس مصیبت سے (آیت) ” اذا ھم یبغون فی الارض بغیر الحق “ تو اچانک وہ زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ تکلیف رفع ہوگئی تو پھر وہی شرک ، وہی نذر لغیر اللہ ، وہی بدعات اور وہی نافرمانیاں شروع کردیتے ہیں۔ یہ سب ناشکری کی باتیں ہیں ۔ انسانوں کا فرض تھا کہ وہ تکلیف میں خدا تعالیٰ کے سامنے گڑگڑاتے ، اسی سے مشکل کشائی کے طالب ہوتے اور پھر جب مصیبت راحت میں بدل جاتی تو مالک الملک کا شکر بجا لاتے اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں پر یہی شکوہ بیان کیا ہے کہ جب ہم مصیبت سے نجات دے دیتے ہیں تو یہ پھر سرکشی اختیار کرلیتے ہیں۔
سرکشی کا وبال
ارشاد باری تعالیٰ ہے (آیت) ” یایھا الناس انما بغیکم علی انفسکم “ اے لوگو ! تمہاری سرکشی تمہارے اپنے نفسوں کے خلاف پڑتی ہے۔ ایک حدیث میں آتا ” البغی والخداع ونقص العھد علی صاحبہ “ یعنی شرکشی ، دھوکا اور نقص عہد اسی کے خلاف واقع ہوتا ہے جو اس کا ارتکاب کرتا ہے نیز یہ بھی آتا ہے ” ولا یحیق المکر السیء الا باھلہ “ یعنی بری تدبیر خود کرنے والے کا احاطہ کرتی ہے اور اسی کو گھیر لیتی ہے۔ حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی موجود ہے ” من حفر بئرا لا خیہ وقع فیہ “ جو کوئی شخص اپنے بھائی کے لے گڑھا کھودتا ہے ، وہ خود ہی اس میں گرتا ہے۔ فارسی والے بھی کہتے ہیں ” چاہ کن راچاہ درپیش “ ایک دوسری روایت میں یوں آتا ہے ” المکر والخدیعۃ والخیانۃ فی النار “ یعنی چال بازی ، دھوکا اور خیانت جہنم میں لے جانے کا باعث ہوگی۔
غرضیکہ اللہ نے فرمایا کہ اے لوگو ! تمہاری سرکشی اور شرارت تہارے اپنے نفسوں کے خلاف ہے ” متاع الحیوۃ الدنیا “ یہ دنیا کی زندگی کا تھوڑا سا فائدہ ہے اٹھا لو ، تھوڑا عرصہ عیش و راحت میں گزار لو (آیت) ” ثم الینا مرجعکم “ پھر تم سب کا ہماری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے۔ (آیت) ” فننبکم بما کنتم تعلمون “ پھر ہم تمہیں جتلادیں گے جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔ ہر چیز تمہارے سامنے رکھ دی جائے گی اور تم اپنی کارکردگی خود ملاحظہ کرسکو گے۔ تمہیں پتہ چل جائے گا کہ تم نے آگے کیا بھیجا تھا اور پھر تمہیں اس کا بھگتان بھی کرنا پڑے گا۔
بہر حال اللہ نے انسان کی ناشکرگزاری کا گلہ کیا ہے کہ دیکھو ! جب تکلیف آتی ہے تو عاجزی کرتا ہے اور جب راحت آتی ہے تو یکدم سرکشی اور بغاوت پر اتر آتا ہے ، کفر ، شرک اور نافرمانی کا مرتکب ہوتا ہے۔ اللہ نے فرمایا یہ سب کچھ خود تمہارے ہی خلاف جائے گا۔ جب تم خود اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے اور پھر اس کا بدلہ چکانا ہوگا۔
Ayahs 10:24–27انسانی زندگی کی مثال
پہلے اللہ نے معاد کا ذکر کیا۔ پھر انسانوں کی غفلت ، ناشکری ، کفر ، شرک ، بغاوت اور شرارت کا تذکرہ وہوا۔ فرمایا انسانوں کی بغاوت انہیں کے نفسوں پر پڑیگی ، اس تھوڑی سی زندگی سے فائدہ اٹھالو ، بالاآخر تمہیں خدا تعالیٰ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے جو تمہارے اعمال تمہارے سامنے رکھ دے گا۔ اب آج کی آیات میں اللہ نے انسانی غفلت ہی کے سلسلے میں ایک مثال بیان فرمائی ہے اور نیکی اور بدی کرنے والوں کے انجام کا ذکر کیا ہے۔ چناچہ انسانی زندگی کی مثال اس طرح بیان فرمائی ہے (آیت) ” انما مثل الحیوۃ الدنیا “ بیشک دنیا کی زندگی مثال ایسی ہے (آیت) ” کما انزلنہ من السمائ “ جیسے پانی ہو جسے ہم نے آسمان سے اتارا (آیت) ” فاختلط بہ نبات الارض “ پھر مل گیا اس کی وجہ سے سبزہ زمین کا جب اللہ نے بارش نازل فرمائی تو سبزیوں ، پھلوں ، کھیتوں اور درختوں میں روئیدگی آئی۔ انہوں نے نئے نئے پتے اور نئی نئی شاخیں نکالیں اور اس طرح اس پانی کے سبب نباتات آپس میں مل گئے۔ پانی کی عدم موجودگی میں کھیتیاں گنجان نہیں تھیں بلکہ پوردے علیحدہ علیحدہ نظر آتے تھے اللہ نے پانی کے سبب ان کو گنجان کردیا اور اس طرح وہ آپس میں مل گئے زمین کے پودے اور درخت آپس میں مل گئے اور درختوں کے پتے اور شاخیں آپس میں مل گئیں اور وہ گھنے نظر آنے لگے۔ نبات الارض کے آپس میں خلط ملط ہونے کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ زمین میں روئیدگی کے جو مواد پائے جاتے تھے وہ پانی کے ساتھ مل گئے اور سبزیاں ، گھاس ، اناج اور پھل پیدا ہوئے (آیت) ” مما یا کل الناس والانعام “ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب اناج پیدا ہوتا ہے تو اس کے دانے تو انسان کھالیتے ہیں اور بھوسا ، چھلکا وغیرہ مویشیوں کی خوراک بن جاتا ہے گندم ، مکی ، چاول ، باجرہ ، جو وغیرہ سب کا یہی حال ل ہے کہ یہ تمام اناج بیک وقت انسانوں اور جانوروں کے کام آتا ہے۔
فرمایا (آیت) ” حتی اذا اخذت الارض زخرفھا “ حتی کیہ جب زمین اپنی پوری روزنق پکڑ لیتی ہے (آیت) ” وزینت “ اور مزین ہوجاتی ہے دل کو بھلی معلوم ہونے لگتی ہے ظاہر ہے کہ جب کھیتی ، سبزی ، پھل وغیرہ پکنے کے قریب ہوتے ہیں تو زمین اپنے پھل کی وجہ سے خوب پر رونق ہوتی ہے رنگ برنگے پھولوں اور پھلوں سے زمین مزین ہوجاتی ہے ، باغات کی ہریاول اور بھینی بھینی خوشبو اس کے حسن میں اضافہ کردیتی ہے (آیت) ” وظن اھلھا انھم قدرون علیھا “ اور اس کے مالک گمان کرتے ہیں کہ اب وہ اس کے پھل ، پھول اور اناج سے مکمل استفادہ حاصل کرنے پر قادر ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اب ہماری فصل پک چکی ہے اور اب ہم پر خوشحالی آنے والی ہے تو پھر کیا ہوتا ہے (آیت) ” اتھا امرنا لیلا اونھارا “ اچانک ان کے پاس ہمارا حکم آپہنچتا ہے رات کے وقت یا دن کے وقت (آیت) ” فجعلنھا حصیدا “ پس ہم اسے کٹی ہوئی فصل کی طرح کردیتے ہیں۔ وہ پکی پکائی فصل اس طرح ہوجاتی ہے (آیت) ” کان لم تغن بالامس “ گویا کہ وہ یہاں تھی نہیں۔ ایسی تباہی آتی ہے کہ نہ کوئی پودا بچتا ہے۔ نہ پھل اور نہ پھول۔ پوری کی پوری فصل تباہ وبرباد ہوجاتی ہے ، طوفان بادوباراں ہو یا سیلاب ، بجلی ہو یا اولے ، نباتات کو اس طرح ویران کردیتے ہیں جیسے مدت ہوئی فصل کٹ چکی ہے اور اب زمین بالکل خالی پڑی ہے۔
اس مثال کو اللہ تعالیٰ نے انسانی زندگی پر منطبق کر کے فرمایا ہے ، کہ دیکھو ! انسان پیدا ہوتا ہے ، جوان ہوتا ہے حتی کہ اس کے تمام قوی اپنے پورے عروج پر ہوتے ہیں تو اچانک موت وارد ہو کر اس کا کام تمام کردیتی ہے اور وہ شخص اپنے قوی سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) نے اس مثال کی نہایت لطیف پیرائے میں انسانی زندگی کے ساتھ مطابقت کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ جس طرح بادلوں سے پانی نازل ہو کر زمین پر چشمے ، دریا ، نہریں ، کنویں اور سمندر وجود میں آتے ہیں اسی طرح روح انسانی بھی عالم بالا سے آتی ہے اور خاکی جسم کے ساتھ مل کر قوت پکڑتی ہے ، روح اور جسم کے ملاپ نے انسان معرض وجود میں آتا ہے اور پھر یہ انسان بڑے بڑے کام انجام دیتا ہے۔ آدمی تعلیم مکمل کرلیتا ہے ، ہنر میں پختہ ہوجاتا ہے ، کاروبار اور صنعت وحرفت میں مہارت حاصل کر لتا ہے ، سائنس دان اور انجینئربن جاتا ہے ، اعلی عہدے پر جائز ہوجاتا ہے تو پھر وہ اور اس کے متعلقین اس کی استعداد پر بھروسا کرنے لگتے ہیں کہ اب ہم کامیابی کے قریب پہنچ گئے اور ہمارے دن پھرنے والے ہیں ، خوشحالی آنے والی ہے جس کے نتیجہ میں عیش و آرام کی زندگی ملنے والی ہے تو اچانک اس شخص کو موت آجاتی ہے اور سارا بنا بنایا کھیل یکدم ختم ہوجاتا ہے۔
قدرتی آفات
دنیا میں قدرتی آفات منجملہ قحط ، طوفان ، ٹڈی دل ، زلزلے وغیرہ مشاہدہ میں آتے رہتے ہیں جن کی وجہ سے فصلیں اور انسانی جائیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ سورة القلم میں باغ والوں کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ ان کی فصل پک چکی تھی اور وہ غربا اور مساکین کو ٹالنے کی خاطر علی الصبح فصل کاٹ لینا چاہتے تھے۔ مگر جب وہ منہ اندھیرے پہنچے تو باغ کا نام ونشان تک نہ تھا۔ پہلے تو سمجھے کہ راستہ بھول گئے ہیں مگر بالآخر وہ جان گئے (آیت) ” مل نحن محرومون “ کہ وہ باغ اور اس کے پھل سے محروم ہوچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے راتوں رات اس کو تباہ وبرباد کردیا تھا۔ دنیا کے مختلف خطوں میں زلزلے بھی آتے رہتے ہیں۔ حضور ﷺ نے اسے قیامت کی نشانیوں میں سے فرمایا ہے۔ ترکی کا زلزلہ بڑا مشہور ہے۔ چند سال قبل ہمارے ملک کے بالائی علاقوں میں زلزلے نے تباہی مچا دی تھی۔ جاپان میں 1923 ء میں زبردست زلزلہ آیا تھا جس میں تین لاکھ جانیں ضائع ہوگئیں۔ زمین میں ایک ایک ہزار میل لمبی داڑیں پڑگئی تھیں۔ 1935 ء کا کوئٹہ کا زلزلہ ہماری زندگی میں آیا جس میں پچیس ہزار آدمی موقع پر ہی ہلاک ہوگئے اور مجموعی طور پر اس زلزلہ سے ڈیڑھ لاکھ افراد متاثر ہوئے۔ زلزلے اللہ کی طرف سے تنبیہ کے طور پر آتے ہیں کہ اے لوگو ! اب بھی نیکی کی طرف آجائو ، ورنہ خدا تعالیٰ تو تمہیں آن واحد میں ملیا میٹ کرنے پر قادر ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب اس قسم کی افتاد پڑجائے ، سورج یا چاند کو گرہن لگ جائے تو توبہ استغفار کیا کرو ، نماز پڑھو اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو ، مگر اللہ تعالیٰ سے غفلت کا یہ حال ہے کہ گرہن کے وقت گڑگڑانے کی بجائے اس کی تصویریں اتاریں جاتی ہیں اور انہیں مشتہر کیا جاتا ہے۔
تباہی رات کے وقت بھی آسکتی ہے اور دن کے وقت بھی کوئٹہ اور بدرتہ کے زلزے رات کے وقت ہی آتے تھے۔ بدرتہ کی بارہ ہزار کی آبادی میں سے ایک فرد بھی زندہ نہیں بچا تھا۔ یہ تو ابھی بیش سال پرانی بات ہے جب یہ ساحلی شہر پورے کا پورا ملیا میٹ ہوگیا تھا۔ اللہ تعالیٰ اپنا فضل وکرم فرمائے اور ہمیں اپنی گرفت سے بچائے ورنہ ہمارے اعمال تو زلزلوں کے قابل ہی ہیں۔ اللہ نے رات اور دن کا ذکر کرکے انسانوں کی غفلت کی طرف اشارہ کیا ہے ہو سکتا ہے کہ لوگ دن کے وقت کاروبار میں مصروف ہوں تو اچانک افتاد آن پڑے یا رات کو آرام کر رہے ہوں تو اٹھنا نصیب نہ ہو فرمایا (آیت) ” کذلک نفصل الایت لقوم یتفکرون “ ہم اسی طرح تفصیل کے ساتھ نشانیاں بیان کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں۔ جو اللہ کی نشانیاں دیکھ کر سمجھ جائیں گے۔ توبہ کریں گے اور مستقبل کی تیاری کریں گے ، اپنی سابقہ کوتاہیوں کی تلافی کریں گے وہ بچ جائیں گے۔
دالسلام کی طرف دعوت
فرمایا ، یادرکھو ! (آیت) ” واللہ یدعوا الی دارالسلم “ بیشک اللہ تعالیٰ سلامتی کے گھر یعنی جنت کی طرف بلاتا ہے۔ (آیت) ” ویھدی من یشاء الی صراط مستقیم “ اور صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ جسے چاہتا ہے ایک اثر میں اس طرح آتا ہے کہ طلوع شمس کے وقت اس کے دونوں کناروں پر اللہ کے فرشتے آواز دیتے ہیں کہ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ تمہیں دارالسلام کی طرف بلا رہا ہے ۔ اس طرف جانے کی کوشش کرو۔ فرماتے ہیں کہ اس آواز کو انسانوں اور جنات کے سوا ساری مخلوق سنتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان پردہ ڈال رکھا ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ ہر شخص کو جنت کی دعوت دیتا ہے کہ میری توحید پر ایمان لا کر اعمال صالحہ بجا لائو تو تمہیں دارالسلام حاصل ہوجائے گا جہاں ہر قسم کا امن وامان حاصل ہوگا۔ باقی رہی ہدایت کی بات تو یہ اس شخص کو حاصل ہوگی جو اس کا خواہشمند ہوگا۔ اعراض کرنے والے کو ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی۔
اصحاب الجنۃ
فرمایا ، یاد رکھو ! (آیت) ” للذین احسنوا الحسنی وزیادۃ “ جن لوگوں نے بھلائی کی ان کو بھلائی کا بدلہ بھلائی ہی ملے گا اور کچھ زیادہ بھی ۔ زیادتی کے متعلق حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب جنتی جنت میں چلے جائیں گے ، انہیں تمام نعمتیں میسر آجائیں گی تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اے جنتیو ! کیا میں ت میں کچھ مزید دوں ؟ وہ حیران ہو کر عرض کریں گے۔ پروردگار ! تو نے مہربانی فرمائی ، ہمیں جنت میں پہنچا دیا۔ ہمارے چہرے روشن کیے اور تمام نعمتوں سے نوازا ، اب مزید کیا ہو سکتا ہے ؟ اس پر اللہ تعالیٰ اپنا حجاب اٹھا کر اپنی تجلیات سے دیدار نصیب فرمائیں گے۔ یہی زیادتی ہے جس کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ فرمایا جنت والے لوگ ایسے ہوں گے (آیت) ” ولا یرھق وجوھھم قترہ ولاذلۃ “ ان کے چہروں پر نہ سیاہی گریگی اور نہ ذلت وہ ہشاش بشاش ہونگے اور اپنیء رب کی تسبیحات بیان کرنے والے ہونگے فرمایا (آیت) ” اولئک اصحب الجنۃ “ یہی اہل جنت لوگ ہیں جو دارالسلام میں پہنچیں گے (آیت) ” ھم فیھا خلدون “ اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ گویا نیکی والے لوگوں کے لیے یہ دائمی نعمتیں ہوں گی۔ ان کو وہ ان سے نکلنے کا یا نعمتوں کے ضائع ہونے یا ختم ہوجانے کا کوئی خوف و خطرہ نہیں ہوگا۔
اصحاب النار
اب تصویر کا دوسرا رخ ہے (آیت) ” والذین کسبوا السیات “ اور جن لوگوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا (آیت) ” جزاء سیئۃ بمثلھا “ تو برائی کا بدلہ بھی برائی میں ہوگا۔ برائی کا انجام اچھا نہیں ہوسکتا ایسے لوگوں کی حالت کے متعلق فرمایا (آیت) ” وترھقھم ذلۃ “ ان کے چہروں پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی۔ ان کی سخت رسوائی ہوگی۔ سورة عبس میں آتا ہے (آیت) ” ووجوہ یومئذ علیھا غبرۃ وترھقھا قترۃ “ اس دن کتنے مونہوں پر گردوغبار پڑی ہوگی اور کتنے چہروں پر سیاہی چڑھی ہوگی۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” مالھم من اللہ من عاصم “ خدا کے سمانے ان کو بچانے والا کوئی نہیں ہوگا۔ ان کے چہروں کی سیاہی کا یہ حال ہوگا۔ (آیت) ” کانما اغشیت وجوھھم قطعا من اللیل مظلما “ جیسے کہ انہیں تاریک رات کے ٹکڑے پہنا دیے گئے ہوں جس طرح انتہائی تاریک رات میں کچھ سمجھائی نہیں دیتا۔ اسی طرح ان لوگوں کے چہرے سخت سیاہ ہوں گے اور یہ اس وجہ سے ہوگا کہ انہوں نے ایمان قبول نہ کیا اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان نہ لائے۔ فرمایا (آیت) ” اولئک اصحب النار “ یہی لوگ دوزخ والے ہیں (آیت) ” ھم فیھا خلدون “ اس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور وہاں سے نکلنے کی کوئی تدبیر نہ بن پڑے گی۔
معرفت الٰہی
ظاہر ہے کہ سیاہی کفر ، شرک اور معاصی کے نتیجے میں آتی ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرلیتا ہے ، اس کی وحدانیت کو مان لیتا ہے ، اس کو ایمان کی روشنی نصیب ہوگی اور اس پر کبھی تاریکی نہیں چھائے گی ، امام رازی (رح) اور حضرت شبلی (رح) اللہ تعالیٰ کی معرفت کو اس طرح سمجھاتے ہیں۔
کل بیت انت ساکنہ
غیر محتاج الی السرج
یعنی جس گھر میں تو بستا ہے ، اس میں چراغ کی ضرورت نہیں ہے جس دل میں اللہ تعالیٰ کی معرفت کا نور ہوگا۔ سیاہی اس کے نزدیک نہیں آسکتی وہ ہمیشہ روشن رہیگا۔ مالک ابن دینار (رح) بھی فرماتے ہیں (1۔ حلیۃ الاولیاء ، ص 358 ، ج 2) کہ دنیا کے اکثر لوگ اس دنیا سے چلے گئے ہیں مگر انہوں نے لذیذ چیز کا مزا نہیں چکھا ، پوچھا گیا ، حضرت ! وہ لذیذ چیز کون سے ہے ؟ فرمایا وہ اللہ کی پہچان ہے جس کو معرف الٰہی حاصل ہوگئی ۔ اس کی وحدانیت کا عقیدہ دل میں راسخ ہوگیا۔ وہاں تاریکی نہیں چھائیگی۔ آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ لوگ اپنے اپنے دلائل لائیں گے مگر
ووجھک المامول حجتنا
یوم یاتی الناس بالحجج
ہمارے نزدیک تو تیرا پرامید چہرہ ہی دلیل ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ جس دل میں خدا تعالیٰ کی صحیح معرفت ہوگی ، نور ایمان ہوگا ، وہ چہرے سیاہ نہیں ہوں گے ، بلکہ وہ کامیاب وکامران ہوں گے۔ البتہ سیاہ چہرے والے نامراد ہوں گے ” اعاذنا اللہ منھا و جمیع المسلمین “ اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمام مسلمانوں کو اس ذلت سے محفوظ رکھے۔