9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 9:1–2

بَرَآءَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَؕ Open ayah 9:1 in the Quran reader

یہ براءت ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے ان لوگوں کی طرف جن کے ساتھ تم نے معاہدہ کیا مشرکین میں سے

فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ اعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ مُخْزِی الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:2 in the Quran reader

پس (ان سے کہ دو ) چلو پھرو زمین میں چار ماہ ( کی مدت) تک اور جان لو کہ بیشک تم نہیں عاجز کرسکتے اللہ تعالیٰ کو اور بیشک اللہ تعالیٰ رسوا کرنے والا ہے کفر کرنے والوں کو

سورة توبہ مدنی ہے اور یہ ایک سو انتیس آیات اور اس میں سولہ رکوع ہیں سورۃ کے مختلف نام : اس سورة مبارکہ کا عام فہم نام سورة توبہ ہے وجہ تسمیہ یہ ہے کہ بعض صحابہ ؓ سے غزوہ تبوک میں عدم شمولیت کی کوتاہی ہوگئی تھی۔ اس پر اللہ کے رسول نے ان کے ساتھ مقاطعہ کا حکم دیدیا ، بالآکر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی توبہ قبول فرمائی جس کا ذکر اس سورة میں موجود ہے ، لہٰذا اس سورة مبارکہ کو سورة توبہ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اس سورة کا دوسرا نام سورة برات ہے کیونکہ اس میں مشرکین اور کفار سے برات یعنی بیزاری کا اظہار کیا گیا ہے اور انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ چار ماہ کی مدت میں یا تو اسلام قبول کرلیں یا پھر ملک چھوڑ جائیں۔ اس سورة کو سورة فاضحہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ مشرکوں اور کافروں کو رسوا کرنے والی سورة ہے اس کا حال بھبی سورة میں مذکور ہے یہ سورة منکلہ ہے یعنی یہ مکذبین اور منکرین کو سزا دینے والی سورة ہے۔ اسی کا نام سورة العذاب بھی ہے کہ اس میں کفار ومنافقین کی سزا کا ذکر ہے اس سورة کو مقشقہ بھی کہتے ہیں کہ یہ منافقوں کے نفاق کو کھولنے والی سورة ہے۔ سورۃ سے پہلے بسم اللہ : قرآن پاک کی کل ایک سو چودہ سورتوں میں سورة توبہ واحد سورة ہے جس کی ابتداء میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی جاتی حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان ؓ سے دریافت کیا کہ آپ جامع القرآن ہیں۔ آپ نے سورة انفال اور سورة توبہ کو آپس میں جوڑ دیا ہے اور درمیان میں بسم اللہ نہیں لکھی۔ اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس کے جواب میں حضرت عثمان ؓ نے فرمایا کہ انہوں نے اس مقام پر حضور ﷺ کو بسم اللہ پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔ لہٰذا میں نے یہاں پر بسم اللہ نہیں لکھی۔ تلاوتِ قرآن پاک درمیان جب حضور ﷺ بسم اللہ تلاوت فرماتے تھے تو پتہ چلتا تھا کہ یہ دو سورتوں کے درمیان فرق کرنے کے لیے ہے اور اب نئی سورة شروع ہو رہی ہے۔ چونکہ آۃ پ نے اس موقع پر بسم اللہ نہیں پڑھی لہٰذا یہ کبھی امکان ہے کہ سورة انفال اور توبہ ایک ہی سورة ہو کیونکہ ان دونوں کے مضامین میں بھی مماثلت پائی جاتی ہے ۔ اس سے امام ابوحنیفہ (رح) کا وہ مسئلہ بھی حل ہوجاتا ہے جس میں وہ فرماتے ہیں کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم جزو قرآن تو ہے مگر ہر سورة کا جزو نہیں۔ بعض ائمہ اسے ہر سورة کا جزو بھی مانتے ہیں اس ضمن میں حضرت علی ؓ سے بھی ایک بات منقول ہے جب ان سے دریافت کیا گیا کہ سورة توبہ سے پہلے بسم اللہ کیوں نہیں لکھی گئی تو فرمایا ، بسم اللہ تو امن کے لیے ہوتی ہے جب کہ اس سورة مبارکہ میں اعلان جنگ ہو رہا ہے اس لیے یہاں بسم اللہ نہیں لکھی۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ بسم اللہ نہ لکھنے کے بارے میں یہ حکمت کی بات ہے نہ کہ اس کی علت ۔ جمع قرآن : قرآن پاک کی موجودہ ترتیب وشکل حضرت عثمان ؓ کی جمع کردہ ہے آپ سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے جمع قرآن کا فریضہ ادا کیا مگر اس ترتیب میں کچھ فرق تھا۔ اس کے علاوہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی ترتیب بھی قدرے مختلف تھی۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے زمانے میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعوے کیا جو کہ یمامہ کا رہنے والا تھا۔ حضرت صدیق اکبر ؓ نے اس کے خلاف جہاد کیا جس میں بارہ سو کے قریب حفاظ اور قاری حضرات شہید ہوگئے اس پر خطرہ لاحق ہوا کہ قرآن حکیم کہیں ضائع ہی نہ ہوجائے ، لہٰذا اس کو کتابی صورت میں جمع کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ اگرچہ قرآن پاک کے مختلف حصے مختلف جگہوں پر تحریری صورت میں موجود تھے ، تا ہم وہ یکجا نہیں تھے ، اس لیے ان کو ایک جگہ اکٹھا کرنا مناسب سمجھا گیا۔ چناچہ قرآن پاک یکجا ہو کر ایک مصحف بن گیا۔ حضرت عثمان ؓ کے زمانہ میں اختلافات بڑھ گئے حضرت حذیفہ ؓ نے محسوس کیا کہ لوگ قرآۃ ن کی تلاوت اور اس کی ترتیب میں بہت گڑبڑ کر رہے ہیں تو انہوں نے حضرت عثمان ؓ سے عرض کیا ” ادرک الامۃ “ حضرت امت کا علاج کرلیں پیشتر اس کے کہ یہ بھی اہل انجیل کی بن جائیں ان کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح اللہ کی کتاب انجیل کئی حصوں میں منقسم ہوگئی ہے اسی طرح قرآن پاک بھی کہیں مفترق حصوں میں نہ بٹ جائے لہٰذا اس کی حفاظت کا مناصب انتظام کرلیا جائے۔ چناچہ حضرت عثمان ؓ نے موجودہ ترتیب کے ساتھ قرآن پاک کو ایک جگہ جمع فرما دیا۔ پھر اس کے ساتھ نسخے تحریر کروائے اور ایک ایک نسخہ ہر صوبہ کی جامع مسجد میں رکھوا دیا اور حکم دیا کہ جس نے قرآن پاک نقل کرنا ہو۔ اس نسخہ سے نقل کرے اور اس کے خلاف کوئی نسخہ تیار نہ کیا جائے پھر آپ نے اس مصحف کے علاوہ باقی سارے نسخے تلف کروا دیے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اگرچہ نزول قرآن کی ترتیب بالکل مختلف ہے تا ہم موجودہ نسخہ قرآن منشاء الہٰی اور لوح محفوظ کی ترتیب کے عین مطابق ہے۔ سورتوں کی ترتیب : حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے حضرت عثمان ؓ سے یہ بھی سوال کیا تھا کہ سورة انفال چھوٹی سورة ہے جس کی آیات ایک سو سے بھی کم ہیں تو آپ نے اسے سبع طوال ( سات لمبی سورتوں ) کے درمیان کیسے لکھ دیا اور سورة توبہ جس کی آیات سو سے زیادہ ہیں اس کو آپ نے انفال کے بعد لائے ہیں ۔ حضرت عثمان ؓ نے جواب دیا کہ میں نے آیات اور سورتوں کی ترتیب حضور ﷺ کے فرمان کے مطابق رکھی ہے جب قرآن پاک کی کوئی آیت نازل ہوتی تو حضور ﷺ فرماتے کہ اس کو فلاں جگہ فلاں آیت سے پہلے یا بعد میں لکھ لو چناچہ صحابہ کرام ؓ ایسا ہی کرتے۔ سورة انفال 2 ھ؁ میں جنگ بدر کے بعد نازل ہوئی چناچہ اس سورة میں ان جنگ کا حال مذکور ہے۔ برخلاف اس کے سورة توبہ فتھ کے بعد مدنی زندگی کے آخری حصہ میں 9 ھ؁ میں نازل ہوئی اور اس میں غزوہ تبوک کا حال بیان کیا گیا ہے ۔ حضرت عثمان ؓ فرماتے ہیں کہ باقی سورتوں کی ترتیب کے متعلق تو ہم نے سن رکھا تھا کہ انہیں فلاں فلاں جگہ پر رکھ دو مگر سورة توبہ کے متعلق ہم نے حضور سے کچھ نہیں سنا تھا اور نہ ہی ہم نے از کود دریافت کیا تھا ، چونکہ اس سورة مبارکہ کا مضمون سورة انفال کے ساتھ ملتا تھا اور اس کی ابتداء میں ہم نے حضور ﷺ سے بسم اللہ بھی نہیں سنی تھی لہٰذا اس سورة کو سورة انفال کے ساتھ جوڑ دیا اور درمیان میں بسم اللہ بھی نہ لکھی۔ اس سے مفسرین اور محدثین کرام یہ بھی اخذ کرتے ہیں کہ ترتیب قرآن کا معاملہ توقیفی ہے اس میں اجتہاد سے کام نہیں لیا گیا ، بلکہ اللہ تعالیٰ کی منشاء کے مطابق حضور ﷺ کی بتائی ہوئی ترتیب ہے جس طرح صحابی ؓ نے حضور ﷺ سے سنا ویسے ہی آیت کو اس کے مقام پر رکھ دیا۔ البتہ سورة توبہ کے معاملہ میں اجتہاد کو ضرور دخل حاصل ہے۔ یہ سورة حضور ﷺ کی زندگی کے آخری حصہ میں نازل ہوئی۔ چونکہ اس کا مضمون پہلی سورة انفال کے ساتھ ملتا جلتا ہے اس لیے یہ پہلی سورة کا تتمہ بھی ہے۔ البتہ پہلی سورة چھوتی ہے جب کہ دوسری بڑی۔ بہرحال حضرت عثمان ؓ نے اس سورة کے متعلق غور وفکر کرنے کے بعد اس کو یہاں رکھ دیا اور اس سے پہلے بسم اللہ بھی نہ لکھی۔ چناچہ اب قانون یہی ہے کہ جو شخص سورة انفال اور سورة توبہ کو تسلسل کے ساتھ پڑھے وہ ان کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ پڑھے البتہ اگر کوئی اسی سورة سے تلاوت کی ابتداء کرتا ہے تو بسم اللہ پڑھ کر شروع کرے۔ کوائف اور موضوع : یہ سورة مدنی زندگی میں نازل ہوئی ، اس کی 129 آئتیں اور 16 رکوع ہیں۔ یہ سورة 2467 کلمات اور 000 ، 10 حروف پر مشتمل ہے۔ اس سے پہلی سورة انفال اور اس سورة کا موضوع اسلام کا قانونِ صلح و جنگ ہے ان سورتوں میں بارہ تیرہ اہم اصول اور ان کے تابع احکام بیان کیے گئے ہیں جن پر مسلمانوں کو عمل پیرا ہونا ضروری ہے۔ اس سورة کی ابتدائی آیات میں کفار ومشرکین کے خلاف اعلانِ جنگ ہے اور آگے اس کی مزید تشریح ہے اس میں اسلام کے سیاسی نظام کا بھی ذکر ہے اور خاص طور پر مرکز اسلام کے بیرونی ممالک سے تعلقات کی نوعیت کا بیان ہے دوسرے لفظوں میں سورة ہذا اسلام کی فارن پالیسی کے خدوخال کو بھی واضح کرتی ہے اس میں جزیہ کا مسئلہ بھی بیان ہوا ہے۔ جہاد کے سلسلے میں اس سورة میں غزوہ حنین اور غزوہ احد کا ذکر ہے اور غزوہ تبوک سے متعلق قدرے تفصیلات موجود ہیں اس دوران منافقین نے اپنے منافقت کا اظہار مختلف طریقوں سے کیا جہاد سے گریز کیا اور مسلمانوں کے مقابلے میں مسجد ضرار تعمیر کی جس کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے چناچہ اس سورة میں منافقین کو دی گئی رعایات کو ختم کیا گیا ہے اور ان کی رسوائی کا تذکرہ ہے۔ اعلان ِ بیزاری : سورۃ کی ابتداء ان الفاظ سے ہوتی ہے (آیت) ” برآئۃ من اللہ ورسولہ شروع میں ھذہ کا لفظ محذوف ہے اور مکمل معنی یہ ہے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے بیزاری کا اعلان ہے (آیت) ” الی الذین عھدتم من المشرکین “ مشرکوں میں سے ان لوگوں کی طرف جن سے تم نے معاہدہ کر رکھا ہے آگے تفصیلات آ رہی ہیں کہ معاہدات کی خلاف ورزی کس طرح سے ہوتی رہی ، لہٰذا ان کے خلاف جنگ کا اعلان کردیا گیا اور ان کے متعلق حکم ہوا کہ ان کو کہ دو (آیت) ” فسیحوا فی الارض اربعۃ اشھر “ پس چل پھر لو زمین میں چار ماہ تک چونکہ کفار ومشرکین معاہدات کی باربار خلاف ورزی کرتے تھے اور ایسے معاہدات عملی طور پر بےمعنی ہو کر رہ گئے تھے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کو سوچ بچار کرنے کے لیے چار ماہ کی مہلت دے دو ۔ اس دوران یا تو وہ اسلام قبول کرکے قرآن کے پروگرام کو تسلیم کرلیں یا پھر اپے دین پر قائم رہتے ہوئے اسلام کی سیاسی برتری کو تسلیم کرلیں اور مسلمانوں کے ملک میں ذمی کے طور پر گزر اوقات کریں۔ اگر چار ماہ کے اندر اندر دونوں میں سے کوئی بات تسلیم نہیں کرتے تو پھر ان کے خلاف جنگ کی حالت قائم ہوجائے گی۔ اور مزید مہلت نہیں دی جائیگی۔ قرآن پاک میں چار ماہ کی مدت کا تذکرہ بعض دوسرے معاملات میں بھی ملتا ہے مثلا ایلاء کے مسئلہ میں فرمایا (آیت) ” للذین یولون من نسائھم تربص اربعۃ اشھر “ ( البقرہ) جو لوگ اپنی بیویوں کے پاس نہ جانے کی قسم اٹھاتے ہیں۔ وہ چار ماہ تک انتظار کریں پھر اس لت میں تا تو کفارہ ادا کرکے رجوع ہو سکتا ہے یا پھر اس مدت کے بعد طلاق واقع ہوجائے گی مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چار ماہ کا عرصہ اس لیے مقرر کیا ہے تا کہ کوئی شخص اس دوران میں مناسب غور وفکر کے بعد کسی فیصلہ پر پہنچ سکے۔ یہاں بھی کفار ومشرکین اور منافقین کے لیے چار ماہ کی مدت مقرر کی گئی ہے آگے معاہدات کی بعض دوسری صورتیں بھی بیان ہور ہی ہیں۔ مثلا یہ کہ جن لوگوں کے ساتھ لمبی مدت کے معاہدات ہیں وہ اگر معاہدات کی پابندی کرتے ہیں خلاف ورزی نہیں کرتے تو ایسے معاہدات کو پورا کیا جائے گا۔ مگر جن لوگوں نے معاہدے کی پابندی نہ کی ، وہ شکست کھا گئے جس کی بہترین مثال فتح مکہ ہے یہودی قبائل بنی قینقاع ، بنی نضیر اور بنی قریظہ نے معاہدات کی خلاف ورزی کی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ جلا وطن ہوئے ان کی جائیدادوں پر قبضہ کرلیا گیا اور جو زیادہ شر پسند تھے ان کے بالغ مردوں کو قتل کردیا گیا اور ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا گیا۔ فرمایا چار ماہ تک چلوپھرو ، یہ تمہاے لیے سوچ وبچار کرنے کی مہلت ہے (آیت) ” واعلموا انکم غیر معجزی اللہ “ اور خوب اچھی طرح جان لو کہ تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے ، وہ قادر مطلق ہے اس کے سامنے تمہارا کوئی دائو پیچ نہیں چل سکتا بلکہ (آیت) ” وان اللہ مخز ی الکفرین “ اللہ تعالیٰ یقینا کافروں کو رسوا کرنے والا ہے جو لوگ معاند ہیں کفر پر اصرار کرتے ہیں ، زمین میں فتنہ و فساد پھیلاتے ہیں۔ کفر وشرک کے پروگرام کو غالب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کو ذلیل و خوار کر کے چھوڑے گا۔ یہ مشرکین سے بیزاری کا اظہار ہوگیا۔ آگے آیت نمبر 15 تک مشرکین اور کفار کے خلاف واضح طور پر اعلانِ جنگ اور اس کی تشریح آ رہی ہے ،
Ayahs 9:3–4

وَ اَذَانٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَى النَّاسِ یَوْمَ الْحَجِّ الْاَكْبَرِ اَنَّ اللّٰهَ بَرِیْٓءٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ١ۙ۬ وَ رَسُوْلُهٗ١ؕ فَاِنْ تُبْتُمْ فَهُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّكُمْ غَیْرُ مُعْجِزِی اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:3 in the Quran reader

اور اعلان ہے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے عام لوگوں کی طرف بڑے حج کے دن ( اعلان یہ ہے) کہ بیشک اللہ تعالیٰ بیزار ہے شرک کرنے والوں سے اور اس کا رسول بھی ( بیزار ہے) پس اگر تم توبہ کرلو پس وہ تمہارے لیے بہتر ہے اور اگر تم روگردانی کرو تو جان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کرسکتے اور خبر سنا دو ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا دردناک عذاب کی

اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ ثُمَّ لَمْ یَنْقُصُوْكُمْ شَیْئًا وَّ لَمْ یُظَاهِرُوْا عَلَیْكُمْ اَحَدًا فَاَتِمُّوْۤا اِلَیْهِمْ عَهْدَهُمْ اِلٰى مُدَّتِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:4 in the Quran reader

مگر وہ لوگ جن سے تم نے معاہدہ کیا ہے مشرکین میں سے پھر انہوں نے کمی نہیں کی تمہارے ساتھ کسی چیز کی اور نہ مدد کی انہوں نے تمہارے خلاف کسی کی ، پس پورا کرو ان کے ساتھ ان کا عہد ان کی مدت تک ، بیشک اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے تقویٰ اختیار کرنے والوں کو

اعلان بیزاری : آج کا درس سورة ہذا کی ابتدائی آیت (آیت) ” براء ۃ من اللہ ۔۔ الایۃ “ کی تشریح ہے گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ سورة توبہ 9 ھ؁ میں غزوہ تبوک کے بعد نازل ہوئی۔ اس سے پہلے 8 ھ؁ میں مکہ فتح ہوچکا ہے اس سال حضور ﷺ کے سامنے حج بیت اللہ میں کوئی رکاوٹ نہ تھی ، آپ کے مقرر کردہ گورنر عتاب بن اسید ؓ مکہ میں موجود تھے ، یہ شہر دارالاسلام بن چکا تھا خانہ کعبہ بتوں سے پاک کیا جا چکا تھا مگر ایک قباحت ابھی تک باقی تھی اور وہ یہ تھی کہ مشرکین عرب پر بیت اللہ شریف کا حج کرنے پر ابھی تک پابندی عائد نہیں ہوئی تھی۔ انہوں نے شرکیہ رسوم جاری کر کے ملت ابراہیمی کو بگاڑ دیا تھا اور دین کی اس بگڑی ہوئی شکل کو ہی دین ابراہیمی سمجھے بیٹھے تھے۔ حضور ﷺ کے متبعین اصلی مسلمانوں کو صابی یعنی بےدین کہتے تھے۔ ان حالات میں 9 ھ؁ میں خود حضور نبی کریم (علیہ السلام) نے حج کے لیے جانا پسند نہ فرمایا۔ اس میں بھی اللہ تعالیٰ کی خاص مصلحت تھی کہ شرک کی خباثت کے دوران حضور ﷺ کا وہاں جانا منظور نہ تھا۔ چناچہ اس سال آپ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی سرکردگی میں حج وفد مکہ مکرمہ روانہ کیا۔ اس دوران سورة ہذا نازل ہوئی تو حضور ﷺ نے اس کی 32 ، 37 یا 40 آیات حضرت علی ؓ کو دے کر مکہ معظمہ بھیجا تا کہ ان کا اعلانِ عام حج کے موقع پر مختلف اجتماعات میں کیا جاسکے۔ حضرت علی ؓ بطور مامور : اس سفر کے لیے حضور ﷺ نے خود اپنی عضباء نامی اونٹنی سواری کے لی مہیا کی چناچہ جب حضرت علی ؓ کی اونٹنی پر سوار حضر ت ابوبکر ؓ کے پاس پہنچے تو موخرا لذکر نے سمجھا کہ شاید انہیں امارت حج سے برخاست کردیا گیا ، انہوں نے حضرت علی ؓ سے دریافت کیا امیر او مامور یعنی آپ امیر بن کر آئے ہیں یا بطور مامور حضرت علی ؓ نے کہا میں مامور ہی ہوں اور آپ کی سرکردگی میں ہی حج ادا کروں گا۔ مفسرین نے اس مقام پر یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ مطلوبہ اعلان تو امیر حج حضرت ابوبکر صدیق ؓ بھی کرسکتے تھے ، اس کے باوجود حضرت علی ؓ کو خاص طور سے ان کے پیچھے بھیجنے کا کیا مقصد تھا ؟ اس ضمن میں امام رازی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ عربوں کے قبائلی نظام میں یہ دستور تھا کہ جب کسی معاہدہ کو منسوخ کرنا ہوتا تھا یا کسی دوسرے قبیلے کے ساتھ مقاطعہ مطلوب ہوتا تو سردار قبیلہ یا اس کا کوئی عزیز یہ کام انجام دیتا ۔ حضرت علی ؓ حضور ﷺ کے بھائی اور داماد تھے ، اس لیے آپ نے مذکورہ دستور کے تحت حضرت علی ؓ کو بھیجا تا کہ لوگوں کو پوری طرح یقین آجائے بعض فرماتے ہیں کہ حضرت علی ؓ کو پیچھے بھیجنے سے یہ مقصود تھا کہ آپ حضرت صدیق ؓ کے معاون بن جائیں اور تمام مومن بھی خوش ہوجائیں ۔ امام رازی رحمۃ اللہ نے یہ نکتہ بھی بیان کیا ہے کہ حضرت علی ؓ کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی ماتحتی میں بھیجنے سے یہ بھی مراد تھی کہ حضرت صدیق رج کی امارت مسلم ہوجائے اور بعد میں کوئی جھگڑا کھرا نہ ہو۔ چناچہ فی الواقع ایسا ہوا ، حضور ﷺ کے وصال کے بعد جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو حضرت علی ؓ نے آپ کی خلافت کو تسلیم کیا اور آپ کی سرکردگی میں امور حکومت میں آپ کے ممدو معاون بنے۔ رافضیوں نے خلافت کا جھگرا بلا وجہ پیدا کیا ہے ان کا یہ دعویٰ باطل ہے کہ خلافت کے حقدار حضرت علی ؓ تھے اور یہ کہ ان سے خلافت چھین لی گئی حقیقت یہ ہے کہ اس امر کا فیصلہ حضور ﷺ نے اپنی حین حیات ہی میں حضرت علی ؓ کو حضرت صدیق ؓ کا مامور بنا کردیا تھا۔ اعلان کا متن : الغرض ! حضور ﷺ کی ہدایت کے مطابق بیزاری کا اعلان ایام حج میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت علی ؓ اور دیگر صحابہ ؓ نے ہر اجتماع کے مقام پر کیا۔ مکہ کی گلیوں ، عرفات ، مزدلفہ اور خاص طور پر میدانِ منی میں جہاں حجاج تین دن قیام کرتے ہیں ، برے اہتمام سے اعلان کیا گیا حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق اعلان براءت میں یہ چار اعلان شامل تھے ۔ (1) پہلا اعلان یہ تھا (آیت) ” ان لا یطوفن بالبیت عریان “ یعنی آئندہ کسی شخص کو برہنہ طواف کی اجازت نہیں ہوگی۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ مادر زاد ننگے بھی طواف کرتے تھے۔ وہ اس باطل زعم میں مبتلا ہوچکے تھے کہ اپنے جس لباس میں وہ گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں ، اس لباس کے ساتھ اللہ کے پاک گھر کا طواف سود ادب ہے۔ لہٰذا یا تو وہ متولیان ِ کعبہ قریش سے کپڑے مستعار لے کر ان کے ساتھ طواف کرتے تھے اور اگر ان کو کپڑے میسر نہیں آتے تھے تو پھر برہنہ طواف کو ترجیح دیتے تھے جب مشرکین سے اس قبیح فعل کی وجہ پوچھی جاتی تو کہتے (آیت) ” واللہ امرنا بھا “ (الاعراف) اللہ نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ حالانکہ اللہ نے فرمایا (آیت) ” قل ان اللہ لا یامر بالفحشآئ “ ( الاعراف) اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں کہ اللہ تعالیٰ ایسی بےحیائی کی باتوں کا حکم نہیں دیتا یہ تو عقلا بھی محال ہے ۔ (2) حجِ اکبر کے دن دوسرا اعلان یہ تھا (آیت) ” انما المشرکون نجس فلا یقربوا المسجد الحرام بعد عامھم ھذا “ (التوبہ) مشرک لوگ ناپاک ہیں لہٰذا اس سال کی بعد انہیں مسجد حرام کے قریب آنے یعنی حج کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ (3) حضور ﷺ کے فرمان کے مطابق تیسرا اعلان یہ تھا (آیت) ” لا یدخل الجنۃ الا مومن “ مومن کے سوا جنت میں کوئی شخص داخل نہیں ہو سکے گا۔ لہٰذا ہر شخص کو اپنے ایمان کی فکر کرنے چاہیے کہ اس کا خاتمہ ایمان پر ہوجائے ، ورنہ جنت میں داخلہ نہیں مل سکے گا۔ (4) چوتھا اعلان یہ تھا کہ جس قوم کے ساتھ معاہدہ ہوچکا ہے (آیت) ” فسیحوا فی الارض اربعۃ اشھر “ ان کے لیے چار ماہ کی مہلت ہے اس دوران وہ سوچ وبچا ر کر کے ایمان قبول کرلیں یا ملک چھوڑ جائیں ، ونہ ان کے خلاف جنگ ناگزیر ہوجائے گی اس اعلان کی تشریح آگے پندرہ آیات تک چلی گئی ہے۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایسا اعلان کیوں کیا گیا۔ اذان کا لغوی معنی اعلان ہوتا ہے البتہ یہ لفط اب شرعی اصطلاح بن چکا ہے مخصوص اوقات میں مخصوص الفاظ کے ساتھ نماز کے لیے اعلان کو اذا ن کہا جاتا ہے یہ لفظ عربی ادب میں اس طرح استعمال ہوا ہے اذنتنا ببینھا اسماء رب ثاو یمل منہ الثوء اسماء نے اپنی جدائی کا اعلان کردیا بہت سے ٹھہرنے والے ، دلگیر ہوجاتا ہے اس سے قیام مگر اس کے ٹھہرنے سے دلیگیر نہیں ہوئی۔ حج اکبر کا دن : الغرض ! ارشادِ خداوندی ہے (آیت) ” واذن من اللہ ورسولہ “ یہ اعلان ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے (آیت) ” الی الناس “ عام لوگوں کی طرف لوگوں سے مراد عرب کے مشرکین ، مختلف قبائل اور وہ عامۃ الناس ہیں جو حج کے موقع پر جمع ہوجاتے ہیں۔ فرمایا یہ اعلان (آیت) ” یوم الحج الاکبر “ حج اکبر کے دن ہے حج اکبر سے کونسا دن مراد ہے ؟ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا حج اکبر سے مراد یوم النحر یعنی زی الحجہ کی دسویں تاریخ ہے جس دن حاجی منیٰ میں قربانی کرتے ہیں ، طواف زیارت بھی اسی دن ہوتا ہے اس سے پہلے نویں تاریخ کو عرفات کا وقوف بھی مکمل ہوجاتا ہے تو گویا دسویں تاریخ کو حج کا ارکان مکمل ہوجاتے ہیں ، اس لیے اس دن کو حج اکبر کا دن کہا گیا ہے اس سلسلہ میں ایک روایت حضرت علی ؓ سے بھی منقول ہے کہ جب اسلامی دارالخلافہ منتقل ہوگیا تو آپ دسویں ذی الحجہ کو سفید رنگ کے خچر پر سوار نماز عید کے لیے جہاز کے میدانِ میں نکلے کیونکہ صحابہ کرام ؓ کھلی جگہ پر نماز عید ادا کیا کرتے تھے اس دوران ایک شخص نے حضرت علی ؓ کے خچر کا لگام پکڑ کر کہا ، امیر المومنین ! مجھے بتائیں کہ حج اکبر کا دن کونسا ہے ، تو آپ نے فرمایا کہ وہ دن آج ہی کا دن ہے ، لگام چھوڑ دو ۔ یاد رہے کہ حج اکبر کے مقابلے میں حج اصغر کا لفظ بولا جاتا ہے اور حج اصغر عمرے کو کہتے ہیں عمرہ سال بھر ما سوائے ایام حج کسی وقت بھی ہو سکتا ہے مگر حج اکبر اس کے مخصوص ایام میں ہی کیا جاسکتا ہے اور یہ ایام ذی الحجہ کی آٹھویں تا تیرھویں تاریخ ہیں عوام الناس میں مشہور ہے کہ حج اکبر وہ ہوتا ہے جب 9 ذی الحجہ یعنی عرفہ کا دن جمعہ کو آئے جیسا کہ 1983 ئ؁ میں آیا تھا جمعہ تو ویسے ہی مبارک دن ہے اور ذی الحجہ کی نویں تاریخ بھی اسی دن آجائے تو یہ مزید خوشی کی بات ہوگی کہ دو عیدیں اکھٹی ہوگئیں۔ تا ہم حج اکبر سے مراد حج ہے جب کہ عرفات میں وقوف کیا جاتا ہے بعض چیزیں غلط العام ہوجاتی ہیں جن کی وکئی حیثیت نہیں ہوتی۔ مثلا یہ کہ جس نے عقیقہ نہ کیا ہو اس کی قربانی قبول نہیں ہوتی۔ یا جس نے پہلے ماں باپ کی طرف سے قربانی نہ کہ ہو اس کی قربانی نہیں ہوتی اس رقم کے مسئلے خود ساختہ ہوتے ہیں ، ان میں حج اکبر کا غلط مفہوم بھی شامل ہے ۔ مشرکین سے اظہار بیزاری : فرمایا حج اکبر کے دن یہ اعلان عام ہے (آیت) ” ان اللہ بریء من المشرکین “ بیشک اللہ تعالیٰ شرک کرنیوالوں سے بیزار ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ مشرکین کی فکر اور سوچ غلط ہے ، ان کا عقیدہ باطل ہے اور ان کا پروگرام غلط ہے ، اس لیے اللہ ورسولہ اور ان کا رسول ان سے بیزار ہیں۔ چناچہ کلمہ طیبہ میں یہی چیز پائی جاتی ہے (آیت) ” تبرات من الکفر والشرک “ میں کفر ، شرک اور ہر باطل دین سے بیزار ہوں۔ اسلمت وامنت میں فرمانبردار ہوگیا اور ایمان قبول کرلیا ’ ’ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ بہر حال یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف سے مشرکین سے بیزاری کا اعلان تھا۔ فرمایا اس اعلان کے بعد (آیت) ” فان تبتم “ اگر تم کفر اور شرک سے توبہ کرلو ، ہر باطل دین کو ٹھکرا دو (آیت) ” فھو خیرلکم “ تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اس سے اللہ بھی راضی ہوگا اور اس کا رسول بھی (آیت) ” وان تولیتم “ اور اگر تم نے روگردانی کی ، کفر شرک سے باز نہ آئے تو (آیت) ” فاعلموا انکم غیر معجزی اللہ “ تو یاد رکھو ! تم اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے ، چناچہ جب مشرکین یہ اعلان سنتے تھے تو کہتے تھے یہ جنگ کی دھمکی ہے ، جب وقت آئے گا دیکھا جائے گا بعض اس اعلان کا مذاق اڑتے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں خبردار کرو یا کہ خدا تعالیٰ قادر مطلق ہے ، تم اسے عاجز نہیں کرسکتے۔ اگر اس اعلان کی خلاف ورزی کروگے تو اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ وعید بھی سنائی (آیت) ” وبشر الذین کفروا بعذاب الیم “ اے پیغمبر ! آپ ان کافروں کو دردناک عذاب کی خبر بھی سنا دیں خوشخبری تو تحکم کے طور پر کہا گیا ہے یہ دراصل اطلاع ہے کہ اگر یہ لوگ کفر شرک لے کر ہی اللہ کے دربار میں پہنچے تو پھر عذاب الیم کے بغیر ان کے حق میں کیا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ معاہدے کے پابند مشرکین : فرمایا سارے کے سارے مشرک عہد شکن نہیں ، بعض وفا کرنے والے بھی ہوتے ہیں ، ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” الا الذین عٰھدتم من المشرکین “ ان لوگوں کو عذاب الیم کی خبر سے مستثنیٰ کردیں کہ جن مشرکین کے ساتھ تم نے عہد کیا (آیت) ” ثم لم ینقصوکم شیئا “ پھر انہوں نے اس کی کچھ خلاف ورزی نہیں کی۔ تاریخ میں بنو ضمرہ وغیر کا ذکر ملتا ہے کہ معاہدہ کرنے کے بعد۔ انہوں نے خلاف ورزی نہیں کی تھی۔ برخلاف اس کے مکہ والوں نے بد عہدی کی تو اس کا نتیجہ ان کے خلاف فتح مکہ کی صورت میں نکلا تو فرمایا کہ جن لوگوں نے معاہدے میں کچھ کمی نہیں کی یعنی معاہدے کو نہیں توڑا (آیت) ” ولم یظاھروا علیکم احدا اور انہوں نے تمہارے خلاف کسی دوسرے قبیلے کی مدد بھی نہیں کی اس زمانے میں قبائل کے اس قسم کے معاہدات اکثر ہوتے رہتے تھے۔ جیسے بنو بکر قریش کے حلیف تھے اور انہوں نے بنو بکر کی مدد بھی کی اسی طرح بنو خزاعہ حضور ﷺ کے حلیف اور ایک دوسرے کی مدد کے پابند تھے بہر حال فرمایا کہ جن قبائل نے آپ کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو نبھایا ہے اور آپ کے خلاف کسی دوسرے کی مدد بھی نہیں کی (آیت) ” فاتموا الیھم عھدھم الی مدتھم “ تو ایسے معاہدات کو ان کی میعاد مکمل ہونے تک پورا کرو۔ ایسے معاہدہ کے لیے جو بھی مدت مقرر کی گئی ، چھ ماہ یا سال دو سال ، اس کو پورا کرو ، وہ معاہدہ قائم سمجھا جائے گا باقی لوگوں کو غور وفکر کے لیے چار ماہ کی مہلت دیدو کہ اس دوران میں وہ اپنا فیصلہ کرلیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرنا ہے یا جلاوطنی فرمایا (آیت) ” ان اللہ یحب المتقین “ بیشک اللہ تعالیٰ متقیوں کو پسند کرتا ہے جو لوگ تقوی کی راہ اختیار کرتے ہیں عہد کی پاسداری کرتے ہٰں ، ان کے ساتھ کوئی تعرض نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے۔
Ayahs 9:5–6

فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ وَ خُذُوْهُمْ وَ احْصُرُوْهُمْ وَ اقْعُدُوْا لَهُمْ كُلَّ مَرْصَدٍ١ۚ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَخَلُّوْا سَبِیْلَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:5 in the Quran reader

جب گزر جائیں مہینے حرمت کے ، پس قتل کرو مشرکوں کو جہاں بھی تم ان کو پائو اور پکڑو ان کو ، اور گھیرو ان کو ، اور بیٹھو ان کے لیے ہر گھات مٰں پس اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں ، تو چھوڑ دو ان کا راستہ بیشک اللہ تعالیٰ بخشش کرنے والا اور مہربان ہے

وَ اِنْ اَحَدٌ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ اسْتَجَارَكَ فَاَجِرْهُ حَتّٰى یَسْمَعَ كَلٰمَ اللّٰهِ ثُمَّ اَبْلِغْهُ مَاْمَنَهٗ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 9:6 in the Quran reader

اور اگر مشرکوں میں سے کوئی شخص پناہ مانگے آپ سے ، پس آپ پناہ دیں اس کو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے ، پھر پہنچا دیں اس کو اس کی امن کی جگہ تک ، اس لیے کہ بیشک یہ لوگ ایسے ہیں جو علم نہیں رکھتے

ربطِ آیات : پہلے درس میں مشرکین سے بیزاری کا اعلان تھا۔ پھر معاہدات کی خلاف ورزی کرنیوالوں کے لیے چار ماہ کی مدت فرمائی کہ اگر وہ اس عرصہ میں کفر وشرک کو چھوڑ کر ایمان قبول کرلیں تو ٹھیک ہے ، ورنہ وہ ملک بدر ہوجائیں چار ماہ کی مدت میں اگر نہ وہ ایمان لائیں اور نہ ملک چھوڑیں تو پھر ان کے خلاف جہاد ہوگا۔ البتہ جو لوگ معاہدے کی پابندی کر رہے ہیں ان کے متعلق فرمایا کہ مقررہ مدت تک ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی جائے اور انہیں سوچ وبچار کا موقع دیا جائے۔ حرمت والے مہینے : ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” فاذا انسلخٰ الاشھر الحرم “ جب حرمت والے مہینے گزر جائیں یہاں پر حرمت والے مہینوں سے مراد یہی چار ماہ ہیں جن کی کفار ومشرکین کو مہلت دی گئی کہ وہ اس دوران سوچ سمجھ کر کو وئی فیسلہ کرلیں ان حرمت والے مہینوں سے وہ حرام مہینے نہیں ہیں جن کا ذکر آگے اسی سورة میں آرہا ہے کہ جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا فرمایا ہے اس کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ (آیت) ” منھا اربعۃ حرم “ جن میں سے چار مہینے حرام ہیں ، ملت ابراہیمی میں ان چار مہینوں کے دوران لڑائی ممنوع ہے۔ ان مہینوں کی تشریح حضور ﷺ کے ارشادات مبارکہ میں موجود ہے ان میں سے تین مہینے تو اکھٹے ہیں یعنی ذی قعدہ ، ذی الحجہ اور محرم اور چوتھا رجب ہے۔ ان کا حکم آگے آرہا ہے تا ہم اس مقام پر چار ماہ سے وہ مدت مراد ہے جو کسی کافرو مشرک کو سوچ بچار کے لے دی گئی ہو۔ تا ہم ان حرمت والے مہینوں کا حکم بھی یہی ہے کہ اہل ایمان خود لڑائی کی ابتدا نہ کریں اور اگر مشرکین چھیڑ خانی کریں تو پھر ان کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ چونکہ یہ اعلان 9 ھ؁ میں دس ذی الحجہ کو کیا گیا ، لہذا چار ماہ کی یہ مدت دس ربیع الثانی کو ختم ہوجائے گی اور پھر مسلمان کفار ومشرکین کے خلاف کاروائی کرنے کے مجاز ہوں گے۔ بعد از مہلت : فرمایا جب یہ مہلت ختم ہوجائے (آیت) ” فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموھم “ پھر قتل کرو مشرکین کو جہاں بھی انہیں پائو مقررہ مدت گزرنے کے بعد ان سے جنگ کرنے کی اجازت ہے (آیت) ” وخذوھم “ اور پکڑو ان کو یعنی قیدی بنا لو ، اس کی بھی اجازت ہے (آیت) ” واحصروھم “ اور گھیرو ان کو یہ کفار کسی قلعے میں ہوں یا وادی میں ان کا ناطقہ بند کر دو ، اگر کسی شہر میں ہیں تو اس کا گھیرائو کرلو (آیت) ” واقعدوالھم کل مرصد “ ان کے لیے ہر گھات میں بیٹھو وہ کسی رصدگاہ میں ہوں یا کمین گاہ یا انتظار گاہ میں ، ان کی تاک میں بیٹھو اور جونہی اپنے ٹھکانے سے نکلیں انہیں دبوچ لو۔ مطلب یہ کہ چار ماہ کی مدت گزرنے کے بعدا نہیں ہر طرف سے گھر لو اور ہر صورت میں ان کو کیفر کردار تک پہنچائو۔ یاد رہے کہ اس آیت کریمہ میں جس لڑائی کی تلقین کی جا رہی ہے اس سے کوئی دنیاوی مفاد مقصود نہیں ، نہ تو محض اقتدار کی خواہش ہے او نہ ہی ہوس ملک گیری اس جنگ کا واحد مقصد اللہ کے دین کو غالب بنانا ہے اسلام میں جہاد کے متعلق سورة بقرہ ، آل عمران ، مائدہ ، انفال اور خود اس سورة میں بھی وضاحت کردی گئی ہے کہ اس سے مقصود اعلائے کلمۃ الحق ہے ، نہ کہ مال و دولت کا حصول یا محض انسانی قتل جہاد کا مطلب یہ ہے کہ زمین میں فتنہ و فساد کو ختم کیا جائے تا کہ شعائر دین کی تعمیل میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ توبہ کا دروازہ : فرمایا (آیت) ” فان تابوا “ اگر وہ توبہ کرلیں ، کفر وشرک سے باز آجائیں دین کے راستے میں رکاوٹ نہ بنیں ، اپنا عقیدہ اور عمل درست کرلیں ، تمام باطل عقائد سے قطع تعلق کر کے اللہ کی وحدانیت پر ایمان لے آۃ ئیں تو پھر سمجھا جائے گا کہ یہ بھی تمہاری جماعت کے آدمی ہیں پھر ان کو بھی وہ تمام حقوق حاصل ہوجائیں گے جو تمہیں حاصل ہیں اور ان پر وہی ذمہ داریاں عائد ہوں گی جو تم پر عائد ہیں توبہ میں یہ تمام باتیں آجائیں گی۔ نماز اور زکوٰۃ : فرمایا توبہ کرنے کے بعد اگر یہ دو مزید باتوں کا اہتمام کرلیں ۔ پہلی بات یہ ہے (آیت) ” واقامو الصلوۃ “ نماز کو قائم کریں اور دوسری یہ (آیت) ” واتوا الزکوۃ “ اور زکوۃ ادا کرنے لگیں مسلمان اور غیر مسلم میں فرق کرنے والی یہ دو بری علامتیں ہیں۔ ایمان تو باطنی چیز ہے جو قبلی تصدیق کے ساتھ تعلق رکھتی ہے کلمہ پڑھ لینے سے تو بظاہر معلوم نہیں ہوتا کہ یہ شخص واقعی اسلام میں داخل ہوگیا ہے ، جب تک ظاہری طور پر جماعت المسلمین کے ساتھ مل کر نماز ادا نہیں کرتا اور اگر اللہ نے صاحب نصاب بنایا ہے تو پھر زکوٰۃ ادا نہیں کرتا۔ حدیث شریف میں حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں کفار کے ساتھ جنگ جاری رکھوں (آیت) ” حتی یقولوا لا الہ الا اللہ “ یہاں تک کہ وہ کلمہ توحید اپنی زبان سے ادا کریں۔ کلمہ پڑھنے کے بعد دو باتوں کو اولیت حاصل ہے اور وہ ہیں نماز اور زکوٰۃ جن کا ذکر اس آیت کریمہ میں بھی کردیا گیا جس طرح نماز اور روزہ اور زکوٰۃ جن کا ذکر اس آیت کریمہ میں بھی کردیا گیا۔ جس طرح نماز اور روزہ انسان کا بدنی حق ہے ۔ اسی طرح (آیت) ” ان الزکوۃ حق المال “ زکوٰۃ کسی انسان کے لے مالی حق ہے اور حج مرکب حق ہے کہ اس میں مال ، جان اور زبان تینوں کو برئوے کا رلایا جاتا ہے۔ بہرحال اس آیت میں صرف نماز اور زکوٰۃ کا ذکر ہے ، روزہ اور حج کا ذکر اس جگہ نہیں کیا گیا۔ نماز کے فوائد : نماز ایک ایسی عبادت ہے جس کے ذریعے تعلق باللہ درست ہوتا ہے۔ نماز کا اجر وثواب آخرت میں تو اللہ تعالیٰ نے بےحدوبیشمار رکھا ہے ، اسی کے ذریعے نجات حاصل ہوگی ، بہشت بریں اور اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہوگا۔ درجات کی بلندی نصیب ہوگی ، تا ہم دنیا میں بھی نماز کے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ نماز کے ذریعے طہارت و پاکیزگی حاصل ہوتی ہے جو ملت ابراہیمی کا اہم اصول ہے نماز کے فوائد میں وقت کی پابندی ، وقت کی قدروقیمت ، باہمی اخوت و محبت اور مساوات کا درس ملتا ہے ، یہ نماز ہی کی صف بندی ہے جس میں امیر و غریب ، آقا اور غلام ، اعلی اور ادنیٰ سب کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوجاتے ہیں اس میں کالے اور گورے کی تمیز اٹھ جاتی ہے خاندانی برتری ختم ہوجاتی ہے اور تمام مسلمان ایک ہی سطح پر آجاتے ہیں مسلمانوں میں محض رنگ ونسل کی بناء پر کوئی ذلیل و حقیر نہیں۔ ذلت و حقارت گناہ اور معصیت سے پیدا ہوتی ہے بزرگانِ دین فرماتے ہیں (آیت) ” من یعص اللہ فھو السفلی “ کمینہ وہ ہے جو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے اللہ کے ہاں عزت ووقار کا معیار صرف تقوی ہے یہ سب سبق نماز کے ذریعے حاصل ہوتے ہیں نماز کے ذریعے مسلمانوں کی اجتماعیت کا قیام بہت بڑی بات ہے اہل ایمان دن میں پانچ مرتبہ مسجد میں اکٹھے ہو کر ایک دوسرے سے واقف حال ہوتے ہیں پھر جمعہ اور عیدین کے اجتماعات میں تو پورے گائوں محلہ یا شہر کے لوگ اکٹھے ہو کر اپنی اجتماعیت کا اظہار کرتے ہیں۔ آج بھی غیر مسلم اقوام مسلمانوں کو باجماعت نماز پڑھتا دیکھ کر اس اجتماعیت پر رشک کرتی ہیں۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ اہم اجتماعیت سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ اسے رواجی چیز سمجھ کر ادا کرتے رہتے ہیں۔ بہرحال نماز ایک ایسی عبادت ہے جس کے ذریعے تعلق باللہ قائم ہوتا ہے۔ زکوٰۃ کے فوائد : اور زکوٰۃ ایسی عبادت ہے جس کے ذریعے بندوں کے ساتھ تعلق درست ہوتا ہے امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ کی ادائیگی سے دو بڑے فوائد حاصل ہوتے ہیں ایک تو انسان کے اندر سے بخل کا مادہ ختم ہوتا ہے اور دوسرا مخلوق خدا کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ بیدار ہوتا ہے کیونکہ زکوٰۃ کا بنیادی اصول یہ ہے (1۔ مسلم ص 36 ، ج 1) (فیاض) (آیت) ” توخذ من اغنیائھم وترد الی فقرآئھم “ یعنی دولت امت کے امراء سے لیکر غربا کی طرف لوٹائی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی سورة مبارکہ میں آٹھ مدات کا ذکر کیا ہے جہاں زکوۃ کا مال صرف ہو سکتا ہے زکوٰۃ حق المال ہے ، یہ ٹیکس نہیں کیونکہ ٹیکس تو جائز بھی ہوتے ہیں اور ناجائز بھی ، لیکن زکوٰۃ ایک عبادت ہے جو صاحب مال اہل ایمان پر فرض ہے۔ اور پھر اس کی ادائیگی کے لیے نیت کا ہونا بھی ضروری ہے جس طرح دیگرعبادات نماز ، روزہ ، حج وغیرہ نیت کے بغیر ادا نہیں ہوتیں ، اسی طرح زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے نیت کرنا ضروری ہے۔ بنکوں کی طرف سے کھاتہ داروں سے جبری زکوٰۃ کاٹ لینے میں یہی قباحت ہے کہ وہاں صاحب مال کی نیت کو دخل نہیں ہوتا ، اگر زکوٰۃ کی رقم جبری ہی کاٹنا ضروری ہو تو پھر ہر کھاتے دار کو اطلاع دینی چاہیے کہ اس کے کھاتے میں اتنی رقم موجود ہے جس سے اس قدر رقم بطور زکوٰۃ واجب الادا ہے اس طرح صاحب مال زکوٰۃ کی نیت کر کے بنک کو کٹوتی کی اجازت دے ، زکوٰۃ آرڈی ننس میں یہ خرابی ہے اور اس سقم کو دور کرنا چاہیے ورنہ معاملات درست نہیں ہوں گے۔ فرمایا اگر یہ لوگ کفر وشرک کو ترک کر کے ایمان قبول کرلیں اور پھر اس کے ثبوت میں نماز ادا کرنے لگیں اور زکوٰۃ دینے لگیں (آیت) ” فخلوا سبیلھم “ تو پھر ان کا راستہ چھوڑ دو ، یعنی اگر محاصرہ میں ہیں تو محاصرہ اٹھا لو اگر جنگ کا ارادہ ہے تو اسے ترک کر دو اور ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کرو۔ کیونکہ اگر انہوں نے سچے دل سے توبہ کرلیے ہے تو (آیت) ” ان اللہ غفور رحیم “ اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے۔ وہ ان کی سابقہ غلطیوں کو معاف فرما دیگا کیونکہ اب وہ صراط مستقیم کے مسافر بن چکے ہیں اور اصل مقصد حاصل ہوگیا ہے ، لہٰذا اب لڑائی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ پناہ طلبی : اب اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے حسن سلوک کی تلقین ہے اللہ نے فرمایا ہے کہ چار ماہ کی مہلت کے بعد بھی (آیت) ” وان احد من المشرکین استجارک “ اگر کوئی مشرک آپ سے پناہ مانگے (آیت) ” فاجرہ “ تو آپ اسے پناہ دے دیں ۔ اس کے خلاف کاروائی بند کر کے اسے ایک موقع فراہم کریں (آیت) ” حتی یسمع کلم اللہ یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی مشرک اس شرط پر مہلت طلب کرتا ہے کہ اسے اللہ کا کلام اور اس کے احکام سنائے جائیں اور سمجھائے جائیں تا کہ وہ غور وفکر کے کسی نتیجہ پر پہنچ سکے تو فرمایا اسے موقع دیں یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سنے اسے قرآن سنائیں ، اسلامی تعلیمات سے آگاہ کریں ان کے فوائد بتلائیں اور اس کے بعد بھی جلد بازی نہ کریں بلکہ اسے سوچنے سمجھنے کے لیے مزید موقع دیں۔ پھر اگر وہ اپنی امن کی جگہ یعنی اپنے علاقے میں جانا چاہتا ہے (آیت) ” ثم ابلغہ ما منہ “ تو اسے جائے امن تک خود پہنچا دیں۔ اس کے ساتھ ہمدردی اور مہربانی کا سلوک کریں تا کہ وہ ایمان کی حقانیت سے متاثر ہو کر خود بخود ایمان لے آئے۔ تاہم یہ ان مشرکوں کے لیے ہے جو دین کو سننا اور سمجھنا چاہتے ہوں۔ فرمایا (آیت) ” ذلک “ یہ مہلت اس لیے دی گئی ہے (آیت) ” بانھم قوم لا یعلمون “ یہ جاہل لوگ ہیں سوچنے سمجھنے سے عاری ہیں۔ ان کو اتنا موقع ملنا چاہیے کہ یہ خوب غور وفکر کر کے کسی نتیجہ پر پہنچ سکیں جب ان کو پورا پورا موقع دے دیا جائے تو پھر دین کو قبول کرنا ان پر موقوف ہے موقع فراہم کرنے سے پہلے اور مناسب مہلت دیے بغیر ایسے کفار ومشرکین کے خلاف کاروائی کرنا درست نہیں کیونکہ عین ممکن ہے کہ وہ مناسب موقع ملنے پر ٹھنڈے دل سے غور کریں اور دین کو قبول کرلیں۔ لہٰذا ان کو یہ رعایت ملنی چاہیے۔ فرمایا جو عنادی اور ضدی لوگ اس رعایت کے بعد بھی ایمان قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوں اور نہ مسلمانوں کی ماتحتی میں رہنا قبول کریں۔ بلکہ اسلام کے خلاف ریشہ دوانیاں کریں تو ایسے لوگوں کے خلاف طاقت کا استعمال ناگزیر ہوجاتا ہے پھر ان کے لیے دو ہی راستے ہیں کہ یا تو ملک بدر ہوجائیں یا انہیں قتل کردیا جائے۔
Ayahs 9:7–11

كَیْفَ یَكُوْنُ لِلْمُشْرِكِیْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عِنْدَ رَسُوْلِهٖۤ اِلَّا الَّذِیْنَ عٰهَدْتُّمْ عِنْدَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ١ۚ فَمَا اسْتَقَامُوْا لَكُمْ فَاسْتَقِیْمُوْا لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:7 in the Quran reader

کس طرح ہو سکتا ہے مشرکوں کے لیے عہد اللہ کے نزدیک اور اس کے رسول کے نزدیک مگر وہ لوگ جن سے تم نے معاہدہ کیا ہے مسجد حرام کے پاس۔ پس جب تک وہ سیدھے رہیں تمہارے لیے تو تم بھی سیدھے رہو ان کے لیے بیشک اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے تقویٰ اختیار کرنے والوں کو

كَیْفَ وَ اِنْ یَّظْهَرُوْا عَلَیْكُمْ لَا یَرْقُبُوْا فِیْكُمْ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ یُرْضُوْنَكُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ تَاْبٰى قُلُوْبُهُمْ١ۚ وَ اَكْثَرُهُمْ فٰسِقُوْنَۚ Open ayah 9:8 in the Quran reader

کسی طرح ( ان کے خلاف لڑائی نہیں ہوگی) حالانکہ اگر یہ غالب آجائیں تو نہیں لحاظ کرتے تمہارے اندر قرابت کا اور نہ عہدوپیمان کا۔ یہ تمہیں راضی کرتے ہیں اپنے مونہوں کی بات سے اور ان کے دل انکار کرتے ہیں اور اکثر ان میں نافرمان ہیں

اِشْتَرَوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا فَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ سَآءَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:9 in the Quran reader

خریدی ہے انہوں نے اللہ کی آیتوں کے بدلے تھوڑی قیمت پس روکا ہے انہوں نے اس کے راستے سے بیشک بری ہے وہ بات جو یہ لوگ کرتے ہیں

لَا یَرْقُبُوْنَ فِیْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُعْتَدُوْنَ Open ayah 9:10 in the Quran reader

نہیں لحاظ کرتے کسی مومن میں قرابت کا اور نہ عہد و پیمان کا ، اور یہی لوگ ہیں تعدی کرنے والے

فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 9:11 in the Quran reader

پس اگر یہ توبہ کر جائیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ لینے لگیں تو یہ تمہارے بھائی ہیں دین میں ، اور ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں آیتیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں

ربط آیات : اس سورة کی ابتداء میں پہلے کفار ومشرکین سے برائت کا اعلان ہوا ، پھر انہیں سوچ وبچار کرنے کے لیے چار ماہ کی مہلت دیے جانے کا ذکر ہوا کہ یہ مدت گزرنے کے بعد حالت جنگ قائم ہو جائیگی بشرطیکہ کفار ومشرکین نے ایمان نہ قبول کرلیا ہو یا وہ ملک سے چلے نہ گئے ہوں پھر یہ بیان ہوا کہ اس مہلت کے باوجود اگر کوئی غیر مسلم دین اسلام کے متعلق آگاہی حاصل کرنا چاہے ، قرآنی پروگرام کو سننے پر آمادہ ہوا وہ اہل ایمان سے اس مقصد کے لیے پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دے دی جائے بلکہ اسلام کی وضاحت کرنے کے بعد اسے مزید مہلت دی جائے اور اسے اس کی جائے امن تک پہنچا دیا جائے تا کہ وہ ہر قسم کے دبائو سے آزاد ہو کر کوئی فیصلہ کرسکے ، فرمایا ، یہ بےعلم لوگ ہیں ، انہیں اس قدر رعایت دینی چاہیے اور اگر اس کے بعد بھی وہ دین حق کو اختیار نہیں کرتے تو ان کا شمار معاند کافروں میں ہوگا اور ان کے ساتھ جنگ سے متعلق وہی سلوک کیا جائے گا جو اس قسم کے کافروں سے کیا جاتا ہے اب آج کے درس میں جنگ کی حکمت بیان کی گئی ہے کہ کفار ومشرکین کے خلاف جنگ کیوں ضروری ہے۔ معاہدات پر استقامت : ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” کیف یکون للمشرکین عھد عند اللہ وعند رسولہ “ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نزدیک مشرکین سے عہدوپیمان کیسے ہو سکتا ہے مطلب یہ کہ جو لوگ عہد و پیمان پر قائم نہیں رہتے اور اسے بار بار توڑتے ہیں ، اللہ اور رسول کے ہاں ان کے عہد کی کوئی وقعت نہیں ان کے معاہدے کا کچھ اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔ مشرکین نے حدیبیہ کے مقام پر حضور ﷺ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا مگر ڈیڑھ سال کے عرصہ میں ہی اسے توڑ دیا ان کے علاوہ بعض دوسرے کفار اور اہل کتاب نے بھی معاہدات کی خلاف ورزی کی ، اسی لیے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک عہد شکن لوگوں کے معاہدات کی کوئی حیثیت نہیں۔ فرمایا ، ہاں ! (آیت) ” الا الذین عھدتم عند المسجد الحرام “ البتہ وہ لوگ جنہوں نے مسجد حرام کے پاس تم سے معاہدہ کیا۔ (آیت) ” فما استقاموا لکم “ پس جب تک وہ اس معاملہ میں تمہارے ساتھ سیدھے رہیں (آیت) ” فاستقیموا لھم “ تو تم بھی ان کے لیے سیدھا رہو۔ معاہدہ حدیبیہ میں ایک شق یہ بھی تھی کہ جو قبائل چاہیں مشرکین مکہ کے ساتھ شریک رہیں اور جو چاہیں مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوجائیں۔ اس معاہدہ کی رو سے بعض قبائل نے اپنے عہد کو پورا نہ کیا جب کہ بعض قبائل بنو کنانہ ، بنو ضمرہ اور خزاعہ وغیرہ حضور ﷺ کی ساتھ کیے گئے عہدوپیمان پر قائم رہے۔ اسی لیے فرمایا کہ جو لوگ عہد پر قائم رہیں تم بھی ان کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو اور معاہدے کی پاسداری کرو۔ ایسے لوگوں سے کسی قسم کا تعرض نہیں کرتا۔ (آیت) ” ان اللہ یحب المتقین “ بیشک اللہ تعالیٰ احتیاط کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ تقوی کا معنی بچنا اور احتیاط کرنا ہوتا ہے اور یہاں مطلب یہ ہے کہ معاہدات کو توڑنے سے جو شخص احتیاط کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کو پسند فرماتا ہے اور جو لوگ عہد کی پابندی نہیں کرتے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ایسے معاہدات ناقابل اعتبار ہیں لہٰذا ایسے عہد شکن لوگوں کے خلاف اعلانِ جنگ کیوں نہ کیا جائے ؟ مخالفین کی منافقت : جنگ کرنے کے ایک وجہ تو یہ بیان فرمائی کہ لوگ معاہدات کو پورا نہیں کرتے اور دوسری وجہ یہ (آیت) ” کیف وان یظھروا علیکم “ کہ اگر یہ لوگ تم پر غالب آجائیں (آیت) ” لا یرقبوا فیکم الا ولا زمۃ “ یہ نہیں لحاظ کرتے تم میں قرابت کا اور نہ عہد پیمان کا اللہ نے معاندین کی یہ قبیح خصلت بیان فرمائی ہے کہ اگر وہ کسی وقت مسلمانوں پر غالب آجاتے ہیں تو پھر وہ من مانی اذیت پہنچانے میں رشتہ داری کا خیال بھی نہیں کرتے جو لوگ ایمان لے آئے تھے وہ اسی معاشرے کے افراد تھے۔ ان کے مخالفین ان کے رشتہ دارہی تھے ، کسی کا باپ کسی کا بیٹا ، کسی کا چچا اور کسی کا بھائی ، کسی کا ماموں اور کسی کا بھتیجا ، مگر جب کوئی مسلمان ان کی نگرانی یا حفاظت میں چلا جاتا تھا تو پھر وہ اپنی قرابتداری کی پروا کیے بغیر اس پر ظلم وستم کرتے تھے اسی لیے سورة شوریٰ میں فرمایا گیا ہے (آیت) ” قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی “ اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں میں اس پر تم سے کوئی معاوضہ تو طلب نہیں کرتا۔ سوائے اس کے کہ میں تمہارا قرابتدار ہوں اور اسی کی محبت چاہتا ہوں لوگ رشتہ داری کا لحاظ کرتے ہیں مگر تم اتنا بھی نہیں کرتے اسی لیے فرمایا کہ یہ لوگ نہ قرابت داری کا پاس کراتے ہیں اور نہ عہد و پیمان کے ساتھ وفا کرتے ہیں (آیت) ” یرضونکم بافواہھم “ وقت گزاری کے لیے تمہیں زبانی کلامی راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں یا کسی کو تمہارے خلاف مدد نہیں دیے گے ان کی زبان پر تو اس قسم چاپلوسی ہوتی ہے۔ (آیت) ” وتابی قلوبھم “ مگر ان کے دل انکاری ہوتے ہیں۔ ان کے دل کفر اور شرک سے بھرے ہوئے اور اسلام کے خلاف نفرت سے پر ہوتے ہیں فرمایا ان کی حالت یہ ہے (آیت) ” واکثرھم فسقون “ ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔ یہاں پر فسق کا خصوصی معنی بدعہدی ہے اور مطلب یہ ہے کہ ان کے قول وفعل کا تضاد ان کی بدعہدی کا ثبوت پیش کرتا ہے یہ لوگ ہر موقع پر انسانیت سوز اور اخلاق کے خلاف کاروائی کرتے ہیں ، تو ایسے لوگوں کے خلاف کیوں نہ جہاد کیا جائے۔ دنیاوی مفاد پرستی : فرمایا ایسے لوگوں کی ایک خصلت یہ بھی ہے (آیت) ” اشتروا بایت اللہ ثمنا قلیلا “ کہ انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے میں دنیا کا معمولی مفاد حاصل کیا ہے کہیں مالی مفاد مطلوب ہے اور کہیں جاہ ، اقتدار اور چودھراہٹ کی خواہش ہے اگر اس حقیر دنیاوی مفاد کی بجائے آخرت کی فکر کرتے تو کامیاب ہوجاتے مگر انہوں نے حقیر چیز کو پسند کیا ہے اور اس طرح اللہ کے راستے سے خود بھی بھٹک گئے ہیں (آیت) ” فصدوا عن سبیلہ “ دوسروں کو بھی اس راستہ سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں ان میں دونوں قسم کے جراثیم پائے جاتے ہیں دنیا کے مفاد کی خاطر خود بھی کفر وشرک میں مبتلا ہیں ، اللہ کی آیتوں کے بدلے دنیا کا حقیر مال حاصل کرتے ہیں اور جو شخص ایمان کی طرف مائل ہوتا ہے اس کے راستے کا بھی پتھر بن جاتے ہیں۔ فرمایا (آیت) ” انھم سآء ما کانوا یعملون “ بہت ہی بری بات ہے یہ لوگ کر رہے ہیں ایسے لوگوں کے خلاف کیوں نہ اعلان جنگ کیا جائے ؟ پھر فرمایا ان کی حالت یہ ہے (آیت) ” لا یرقبون فی مومن الا ولا ذمۃ “ کسی مومن کے معاملہ میں ذرا بھی لحاظ نہیں کرتے۔ نہ قرابت داری کا اور نہ عہد کا جب بھی موقع ملتا ہے ، رشتہ داری کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اور اپنے کیے ہوئے عہد و پیمان کے خلاف کرتے ہیں ، عربوں میں عزیز و اقارب ، خاندان اور قبیلہ کا بڑا لحاظ ہوتا ہے مگر جب ان لوگوں کے پاس اہل ایمان کا معاملہ ہوتا تھا۔ تو پھر ہر قسم کے عہد و پیمان کو بلائے طاق رکھ کر مخالفت پر اتر آتے تھے۔ فرمایا (آیت) ” واولئک ھم المعتدون “ یہی تعدی کرنے والے لوگ ہیں ، پھر ان کے خلاف جنگ کیوں نہ لڑی جائے ؟ دینی بھائی : فرمایا (آیت) ” فان تابوا “ اگر یہ لوگ توبہ کر جائیں کیونکہ جنگ کا مقصد کسی کو نیست ونابود کرنا یا مال چھیننا نہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ لوگ کفر وشرک سے باز آجائیں باطل عقائد کو ترک کر کے توحید و رسالت کا کلمہ پڑھ لیں اور اس کے ساتھ ساتھ (آیت) ” واقاموا الصلوۃ “ نما ز کو قائم کریں (آیت) ” واتوالزکوٰۃ “ اور زکوٰۃ ادار کرنے لگیں (آیت) ” فاخوانکم فی الدین “ تو یہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ ان کے گزشتہ قصور معاف کردیے جائیں اور اب ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی جائے کیونکہ اب یہ تمہارے دین بھائی بن چکے ہیں ، یہ آیت پہلے بھی گزر چکی ہے وہاں تھا اگر یہ توبہ کرلیں ، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دینے لگیں (آیت) ” فخلوا سبیلھم تو ان کا راستہ چھوڑ دو ۔ اب ان کی گرفت نہ کرو۔ اور اس آیت میں ہے (آیت) ” فاخوانکم فی الدین “ کہ یہ تمہارے دینی بھائی ہیں جب کوئی شخص تمہارا دینی بھائی بن جاتا ہے تو پھر اسے وہی حقوق حاصل ہوجاتے ہیں جو تمہیں حاصل ہیں اور اس پر بھی وہ تمام ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں جو تم پر عائد ہوتی ہیں۔ گویا توحید و رسالت پر ایمان لانے کے بعد نماز اور زکوۃ کے ذریعے اخوت دنیہ ثابت ہوجاتی ہے ظاہر ہے کہ جو شخص کلمہ پڑھنے کے باوجود نماز کا پانبد نہیں اور زکوٰۃ ادا کرنے سے گریز کرتا ہے اس کے ساتھ اخوت دینیہ قائم نہیں ہو سکتی۔ آج کل کے دینی بھائی محض زبانی کلامی ہیں وگرنہ ان میں اخوت کی لازمی علامات مفقود ہیں۔ لہٰذا ایسے لوگ دینی بھائی کہلانے کے حقدار نہیں ہیں فرمایا (آیت) ” ونفصل الاٰیت لقوم یعلمون “ ہم اپنے احکام وشرائع ان لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتے ہیں جو صاحب علم ہیں ، ہماری نشانیوں میں غور وفکر کرتے ہیں اور اس کے بعد صحیح راستے پر گامزن ہوجاتے ہیں برخلاف اس کے جو شخص غور وفکر کی صلاحیت سے محروم ہے ، وہ ہماری آیات سے کچھ فائدہ حاصل نہیں کرسکتا۔ ظاہری حالت پر فیصلہ : شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کا یہ مطلب ہے کہ جس شخص نے ظاہری طور پر کلمہ زبان سے ادا کرلیا ہے اور نماز وزکوٰۃ کی ظاہری نشانیوں پر بھی عمل پیرا ہے تو اس کے ایمان کا اور اپنی جماعت کا فرد ہونے پر یقین کیا جائیگا ، باقی رہا اس کے باطن کا معاملہ تو حدیث شریف میں آتا ہے (آیت) ” وامرھم الی اللہ “ ان کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہے وہ بہرحال دینی بھائی سمجھے جائیں گے اور ان کی دو ظاہری علامات ہی کفرو ایمان کے درمیان فارقہ سمجھی جائیں گی اور جو شخص نماز نہیں پڑھتا اور زکوٰۃ ادا نہیں کرتا وہ جماعت المسلمین کا ممبر نہیں سمجھا جائے گا گویا ان دو عبادات کا ترک کرنا بہت بڑا جرم ہے حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ جو شخص توبہ کر کے اسلامی برادری میں شامل ہوجاتا ہے ، اس سے تعرض کرنے اور اس کا راستہ روکنے کی اجازت نہیں ہے تارکِ نماز کے لیے وعید : اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو شخص کلمہ توحید و رسالت پڑھنے کے باوجود نماز نہ پڑھے اور زکوٰۃ ادا نہ کرے ، مسلمانوں کو اس کا راستہ روکنے کا حق حاصل ہے چناچہ ائمہ ثلاثہ امام احمد ، شافعی ، اور مالک کے نزدیک اسلامی حکومت پر لازم ہے کہ وہ تارک صلوٰۃ کو قتل کر دے تا وقتیکہ وہ توبہ نہ کرے۔ امام احمد (رح) کے نزدیک قتل کا حکم اس کے ارتداد کی وجہ سے ہے جو شخص کلمہ تو پڑھتا ہے مگر نماز ادا نہیں کرتا اسے توبہ کرنے کے لیے کہا جائیگا اور اگر وہ توبہ بھی نہیں کرتا تو مرتد ہے جس کی سزا قتل ہے البتہ امام شافعی (رح) اور مالک (رح) فرماتے ہیں کہ تارک نماز کے لیے موت کی سزا حدا وتعزیرا یعنی حد اور تعزیر کی رو سے ہے جب کہ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک تارک صلوٰۃ کی سزا یہ ہے کہ اسے خوب زدوکوب کیا جائے اور قید میں رکھا جائے یہاں تک کہ وہ یا تو توبہ کر کے چھٹکارا حاصل کرلے اور یا پھر قید ہی کی حالت میں مر جائے۔ بہرحال یہ تعزیر کوئی فرد یا جماعت نہیں دے سکتی بلکہ ایسی سزا دینا حکومت وقت کا کام ہے فقہ کی چھوٹی سے چھوٹی ابتدائی کتاب میں بھی یہ مسئلہ مذکور ہے کہ تارک صوم صلوٰۃ کے بارے میں اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ ایسے شخص کو اتنی مار ماری جائے کہ وہ زخمی ہوجائے ، پھر اسے جیل میں ڈال دیا جائے اور جب تک وہ توبہ نہ کرے ، وہاں سے نہ نکالا جائے۔ مانعین زکوٰۃ کے متعلق بھی ایسا ہی حکم ہے حضرت ابوبکر ؓ نے اپنے زمانے میں ا ن کے خلاف باقاعدہ جہاد کیا تھا وہ لوگ کہتے تھے کہ ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں ، نماز بھی پڑھتے ہیں مگر زکوۃ نہیں دیں گے حضرت صدیق اکبر ؓ نے فرمایا کہ جو شخص نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کریگا میں اس کے خلاف جہاد کروں گا ، کیونکہ دونوں یکساں عبادت ہیں فرق صرف یہ ہے کہ نماز بدنی عبادت ہے اور زکوٰۃ مالی عبادت مگر ان کا منکر باغی ہے۔