Ayah 9:60ربط آیات :
اس سے پہلے جہاد میں عدم شرکت کی وجہ سے منافقین کی مذمت بیان ہوچکی ہے نیز یہ بھی واضح فرمادیا گیا ہے کہ منافقین جو مال اللہ کے نام پر خرچ کرتے ہیں وہ اس بنا پر قابل قبول نہیں کہ وہ توحید و رسالت اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے اور نہ اپنی خوشی خاطر سے یہ کام کرتے ہیں بلکہ ان کا انفاق بادل نخواستہ ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک شبہ کا ازالہ بھی کیا گیا کہ اگر منافقین اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنے ہی برے ہیں تو پھر پروردگار نے انہیں مال و دولت اور اولاد کی فروانی کیوں عطا کر رکھی ہے۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ دنیا کا مال ان کے حق میں بہتر نہیں ہے بلکہ یہ ان کے لیے باعث عذاب ہے جس کا وبال آخرت میں بہت زیادہ ہوگا۔ پھر اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ منافق لوگ جھوٹی قسمیں کھا کر تمہیں باور کرانا چاہتے ہیں کہ یہ تمہاری جماعت کے آدمی ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے وہ تو جہاد سے ڈرنے والے لوگ ہیں۔ اگر انہیں کوئی جائے پناہ ، غار یاسر چھپناے کی کوئی جگہ میسر آجائے تو دوڑ کر اس کی طرف چلے جائیں ، لہٰذا یہ لوگ جماعت المسلمین کے ممبر نہیں ہوسکتے پھر فرمایا کہ بعض لوگ پیغمبر خدا پر طعن کرتے تھے اور اگر صدقات یا غنیمت میں سے انہیں کچھ مل جاتا تو راضی ہوجاتے ورنہ ناراض رہتے ہیں حالانکہ ان کی سچائی کا تقاضا یہ تھا کہ جو کچھ اللہ کے رسول کے ہاتھوں مل جاتا اسے لے لیتے اور اگر نہ ملتا تو خاموش رہتے۔ اس ضمن میں وہ خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے کہتے کہ اگر نہیں ملا تو کوئی بات نہیں اگر اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق چاہیگا تو آئندہ دلا دے گا۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا جو کہ ان کی منافقت کی دلیل ہے۔
مسائل زکوٰۃ وصدقات :
لفظ صدقہ زکوٰۃ اور نفلی صدقات سب پر بولا جاتا ہے محتاجوں کو اللہ کی راہ میں دنیا دینے والے کے ایمان کی دلیل ہوتی ہے اسی لیے (آیت) ” والصدقۃ برھان “ بھی کہا گیا ہے ، تا ہم قرآن پاک کے اس مقام پر صدقہ سے مراد فرض صدقہ یعنی زکوٰۃ ہے۔ نفلی صدقات تو مسلمانوں کے علاوہ غیر مسلموں کو بھی دیے جاسکتے ہیں اور قرآن پاک میں اس کی تصریح موجود ہے۔ مگر واجبی صدقات یعنی زکوٰۃ ، نذرانہ اور صدقہ فطر صرف مسلمانوں کے حق ہیں۔ ان میں سے غیر مسلموں کو نہیں دیا جاسکتا اس سلسلہ میں حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے (1۔ مسلم ص 36 ، ج 1) (فیاض) ” توخذ من اغنیاء ھم وترد الی فقرآئھم “ یعنی زکوٰۃ کا مال اہل ایمان کے دولتمندوں سے لیا جاتا ہے اور انہی کے غربا میں تقسیم کیا جاتا ہے اگر زکوٰۃ کا مال کسی ہندو ، سکھ ، عیسائی ، دہریہ یا فاسد العقیدہ آدمی کو دیا جائے گا۔ تو زکوٰۃ ادا نہ ہوگی۔ زکوٰۃ کے مصارف آٹھ مصارف آج کی آیت کریمہ میں بیان کیے گئے ہیں اور یہ مدات اللہ تعالیٰ نے خود مقرر کی ہیں لہٰذا ان میں کمی بیشی نہیں ہو سکتی۔ حتی کہ پیغمبر خدا ﷺ کو بھی ان مصارف میں ردوبدل کرنے کا اختیار نہیں ایک حدیث میں آتا ہے کہا للہ نے صدقات کو کسی نبی یا غیر نبی کی مرضی سے تقسیم کرنے کا حکم نہیں دیا۔ چناچہ کوئی غنی آدمی ان مدات میں داخل نہیں اور نہ وہ زکوٰۃ لینے کا حقدار ہے۔ حضور ﷺ کا واضح فرمان ہے (آیت) ” لا تحل الصدقٰت لغنی ولا لذی مرۃ سوی “ ( مسند احمد ، نسائی ، ابو دائود ، ترمذی وغیرہ) صدقہ یعنی زکوٰۃ کسی غنی ( صاحب نصاب) یا جسمانی طور پر مضبوط آدمی کے لیے حلال نہیں ہے جو شخص خود صاحب مال ہے وہ تو ظاہر ہے کہ زکوٰۃ کا حقدار نہیں ، البتہ اگر کوئی غریب آدمی بھی جسمانی لحاظ سے تندرست و توانا ہے ، محنت کرسکتا ہے تو وہ بھی مستحق نہیں ہے۔ دو شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور زکوٰۃ کے مال سے حصہ طلب کیا۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ” ان شئتما اتیتکما ولا حظ فیھا لغنی ولا لقوی مکتسب “ اگر چاہو تو میں تم دونوں کو دے دوں مگر یاد رکھو ! کہ اس میں کسی غنی اور ایسے مضبوط آدمی کے لے حصہ نہیں ہے جو خود کمائی کرسکتا ہو۔ ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا سوال کرنا جائز نہیں مگر تین قسم کے آدمیوں کو اجازت ہے۔ پہلا آدمی وہ ہے ” تحمل حمالۃ “ کہ اس پر بوجھ پڑگیا ہے ، کسی کی ضمانت دے کر پھنس گیا ہے ، تو ایسی صورت میں اپنے بوجھ کو اتارنے کے لیے زکوٰۃ کا مال لے سکتا ہے ۔ دوسرا شخص وہ ہے جسے کوئی حادثہ پیش آگیا ہے جس کی وجہ سے اس کا مال ضائع ہوگیا ہے اور وہ محتاج ہوگیا ہے مثلا طوفان آگیا ہے یا زلزلہ آیا ہے یا کسی بیماری کی وجہ سے جانور ضائع ہوگئے یا باغات اور فصل تباہ ہوگئی ہے تو ایسے شخص کو بھی سوال کرنے کی اجازت ہے۔ فرمایا تیسرا شخص وہ ہے جسے فاقہ آگیا ہے۔ اس کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہیں۔ اگر اس کی قوم کے تین آدمی گواہی دیں کہ اس شخص کو واقعی فاقے آرہے ہیں تو اس کے لیے بھی سوال کرنا حلال ہے یہ ایک عام اصول ہے کہ کسی صاحب نصاب آدمی کو زکوٰۃ یا صدقے کا مال کھانا جائز نہیں۔ البتہ پانچ صورتیں ایسی ہیں جن میں زکوٰۃ وصدقات کا مال غنی آدمی کے لے بھی حلال ہے ۔ پہلا شخص وہ ہے جو زکوٰۃ کی وصولی پر متعین ہے۔ وہ کارکردگی کے معاوضے کے طور پر زکوٰۃ کے مال میں سے لے سکتا ہے۔ دوسرا شخص وہ ہے جو زکوٰۃ کا مال کسی مالک سے خرید لیتا ہے۔ کسی مستحق کو مال ملا اور اس نے آگے بیچ دیا تو اب خریدنے والا اس کو استعمال کرسکتا ہے۔ تیسرا آدمی وہ ہے جسے کوئی تاوان پڑگیا ہے ، اگرچہ وہ خود صاحب نصاب ہے مگر اس تاوان کی ادائیگی کے لیے زکوٰۃ کا مال لے سکتا ہے۔ چوتھا آدمی وہ ہے جو اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتا ہے اگرچہ وہ آسودہ حال ہے مگر جہاد میں نکلنے کی وجہ سے مال زکوٰۃ وصول کرسکتا ہے۔ پانچواں آدمی مسافر ہے جس کا توشہ راستے میں ختم ہوگیا یا کوئی نقصان ہوگیا ہے تو وہ بھی زکوٰۃ میں سے لے سکتا ہے۔ اگرچہ اس کے گھر میں کافی مال موجود ہے۔
زکوٰۃ کی تقسیم کا یہ بھی ایک مسلمہ اصول ہے کہ بنی ہاشم یہ مال حاصل نہیں کرسکتے۔ حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے ” ان الصدقۃ لا تحل لمحمد ولا لال محمد “ یعنی صدقات وزکوٰۃ کا مال نہ محمد ﷺ کے لیے حلال ہے اور نہ آپ کی آل کے لیے۔ فرمایا ” انما ھی اوساخ الناس “ یہ تو لوگوں کی میل کچیل ہوتی ہے ، لہٰذا یہ محمد اور آلِ محمد کے لیے جائز نہیں۔ اہل بیت میں یہ خاندان شمار ہوتے ہیں یعنی حضرت عباس ؓ کی اولاد ، حضرت علی رض ، حضرت جعفر رض ، حضرت عقیل ؓ اور حارث ابن نوفل کی اولاد ان کے لیے زکوٰۃ وصدقات کا مال حلال نہیں ہے۔
مسئلہ تملیکِ مال :
امام ابوحنیفہ (رح) ، امام مالک (رح) اور بعض دیگر علمائے احناف اور فقہاے کرام کہتے ہیں کہ اس آیت میں مستحقین کے نام سے پہلے جو حرف لام آیا ہے یعنی (آیت) ” للفقرآء والمسٰکین۔۔ الخ “ یہ متعلقہ مستحقین کی تملیک کے لیے ہے اور مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو مال زکوٰۃ وصدقات دیا جائے اسے اس مال کا مالک بنانا ضروری ہے ورنہ ادائیگی کا حق ادانہ ہوگا۔ تملیک کا معنی کسی چیز کا مالک بنا دینا اور حقیقی ملکیت اس وقت تک حاصل نہیں ہوتی جب تک کوئی چیز کسی کے قبضے میں نہ چلی جائے۔ لہٰذا زکوٰۃ کا مال نقدی کی صورت میں ہو یا جنس یا جانوروں کی صورت میں اس کا مستحق زکوٰۃ کے قبضے میں جانا ضروری ہے۔ اسی لیے فقہائے کرام نے اس سے یہ مسئلہ اخذ کیا ہے کہ زکوٰۃ وصدقات کا مال کسی میت کے کفن دفن کے لیے استعمال نہیں ہو سکتا کیونکہ مرنے والے کو اس کا مالک نہیں بنایا جاسکتا ، جو اسے اپنی مرضی کے مطابق خرچ یا استعمال کرنے پر قادر ہو۔ اسی طرح یہ مال نہ مسجد پر صرف ہو سکتا ہے ، نہ مدرسے کی عمارت پر ، نہ ہسپتال یا مسافر خانہ تعمیر کرنے پر اور نہ ہی دوسرے رفاعہ عامہ کے کام پر ، کہ ایسی صورت میں کسی مستحق زکوٰۃ کو اس مال کا مالک نہیں بنایا جاسکتا۔ لہٰذا تقسیم زکوٰۃ کے سلسلے میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے۔ یہ مسئلہ جمہور فقہا کے نزدیک مسلم ہے۔
نصاب وشرح زکوٰۃ :
اب سوال یہ ہے کہ کم از کم کتنے مال پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے اس کے لیے سنت بنوی سے یہ اصول وضع ہوتا ہے کہ کوئی مال جس قدر آسانی سے حاصل ہوتا ہے اس پر زکوٰۃ کی شرح زیادہ ہے ، اور جو مال جتنا محنت سے حاصل ہوتا ہے اس پر زکوٰۃ کی شرح کم ہے۔ باغات اور غلے کی پیداوار کا نصاب پانچ وسق ہے جو کہ تقریبا تیس من بنتا ہے۔ امام مالک رح ، امام شافعی رح ، امام احمد (رح) وغیرہ ہم کے نزدیک اس سے کم پیداوار زکوٰۃ نہیں ہے۔ تا ہم ابن عباس رض ، زید بن علی ؓ اور امام ابوحنیفہ (رح) کی رائے یہ ہے کہ پیداوار کی کمی بیشی کا کچھ لحاظ نہیں ، زکوٰۃ ہر حالت میں واجب ہے۔ یہ ایک اصولی بحث ہے اور فقہ کی کتب میں دیکھی جاسکتی ہے۔ بہرحال اگر پیداوار بغیر مشقت کے حاصل ہوتی ہے جیسے زمین بارانی ہے اور اس میں کنوئیں یا ٹیوب ویل سے پانی نہیں دیا جاتا تو شرح زکوٰۃ کل پیداوار کا دسواں حصہ ہوگا۔ اور اگر کھیتی یا باغ کے لیے پانی کا انتظام کاشتکار کو خود کرنا پڑتا ہے تو پیداوار کا بیسواں حصہ زکوٰۃ ہوگی۔ اگر کسی کی زمین میں کوئی کان ہے اور وہ ان سے وصول ہونے والے مال کے لیے کوئی محنت نہیں کرنا پڑتی تو ایسے مال پر پانچواں حصہ (خمس) زکوٰۃ ادا کی جائیگی۔
چاندی کا نصاب دو سو درہم یعنی سارھے باون تولے کے برابر ہے۔ جب اتنا مال موجود ہو تو اس پر چالیسواں حصہ زکوٰۃ فرض ہے۔ اسی طرح سونے کا نصاب بیس مثقال یعنی ساڑھے سات تولے ہے جب کسی کے پاس سونا اس مقدار کو پہنچ جائے تو چالیسواں حصہ زکوٰۃ ادا کریگا۔ سکہ رائج الوقت بھی جب چاندی کے نصاب کو پہنچ جائے یعنی ساڑھے باون تولے چاندی کے برابر اگر کسی کے پاس کرنسی نوٹ موجود ہیں تو اس پر اڑھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ فرض ہوجاتی ہے۔
چرنے والے جانوروں میں اگر کسی کے پاس پانچ اونٹ ہیں تو اسے سالانہ ایک بکری زکوٰۃ ادا کرنا ہوگی۔ دس اونٹ پر دو ، پندرہ پر تین اور بیس اونٹ پر چاربکریاں ادا کریگا۔ البتہ جب اونٹوں کی تعداد پچیس تک پہنچ جائے تو ایک اونٹ ادا کرنا ہوگا جسے ایک سال مکمل ہو کر دوسرا سال شروع ہوچکا ہو ، اسی طرح گائے بیل اور بھینس وغیرہ کا نصاب تیس ہے۔ جب ریوڑ اس تعداد کو پہنچ جائے تو ایک گائے یا بھینس ادا کرنا ہوگی۔ بھیڑ بکری کا نصاب چالیس ہے ہر چالیس میں ایک بھیڑ بکری ادا کی جائیگی۔
زکوٰۃ کے آٹھ مصارف :
گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ زکوٰۃ کی تقسیم کے سلسلہ میں منافقین اعتراض کرتے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان کردیے ہیں تا کہ آئندہ کسی کو اعتراض کی گنجائش نہ رہے گویا زکوٰۃ کی تقسیم کا کام اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے اور اپنے نبی کو بھی اختیار نہیں دیا کہ وہ مرضی سے تقسیم کردیں۔
فقر اور مساکین :
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” انما الصدقٰت للفقرآء والمسٰکین “ بیشک صدقات (زکوٰۃ) فقراء اور مساکین کے لیے ہے امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ فقیر وہ شخص ہے جو بالکل نادار ہو حتی کہ اس کے پاس ایک وقت کا کھانا بی نہ ہو۔ اور مسکین وہ ہے جس کے پاس تھوڑا بہت ہے مگر وہ اس کی جائز ضرورت کے لے ناکافی ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اس کی تعبیر الٹ کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ فقیر وہ ہے جس کی کم از کم ضروریات بھی پوری نہ ہوتی ہوں۔ اگرچہ اس کے پاس کچھ نہ کچھ ہے مگر اس کی گزر اوقات ٹھیک طریقے سے نہیں ہوتی۔ اور مسکین وہ ہے جس کے پاس بالکل کچھ نہ ہو یعنی اسے ایک وقت کا کھانا بھی میسر نہ ہو۔ سورة بلد میں آتا ہے (آیت) ” اومسکینا ذا متربۃ “ یعنی مسکین جو بالکل مٹی میں ملا ہوا ہو ، اس کے پاس کچھ نہ ہو بہرحال یہاں پر فرمایا کہ زکوٰۃ کے حقدار پہلے نمبر پر فقراء اور دوسرے نمبر پر مساکین ہیں۔ مال زکوٰۃ ان کو ادا کیا جائے گا۔
عاملین زکوٰۃ :
تیسرے نمبر پر فرمایا (آیت) ” والعملین علیھا “ یعنی وہ لوگ جو نظام زکوٰۃ اور اس کی تحصیل کا کام کرتے ہیں۔ زکوٰۃ موقع پر وصول کرنے والے یا اس کے لیے دیگر انتظام کرنے والے ملازمین وغیرہ اس مال سے معاوضہ وصول کرنے کے حقدار ہیں بشرطیکہ وہ بنو ہاشم کے خاندان سے نہ ہوں۔
مئولفۃ القلوب :
فرمایا (آیت) ” والمولفۃ قلوبھم “ چوتھے نمبر پر مستحقین زکوٰۃ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو الفت دلائی جاتی ہے۔ بعض لوگ اسلام تو لے آئے ہیں مگر جن کے دلوں کو الفت دلائی جاتی ہے۔ بعض لوگ اسلام تو لے آئے ہیں مگر مالی لحاظ سے کمزور ہیں۔ ایسے لوگوں کی تالیف قلوب کے لیے بھی زکوٰۃ سے دیا جاسکتا ہے تا کہ کوئی دوسرے مذہب والا اسے لالچ دیکر اپنی طرف مائل نہ کرسکے۔ حضور ﷺ کے زمانہ مبارک میں اس مد سے ان لوگوں کو دے دیا جاتا تھا ، جن کے اسلام لانے کی توقع ہوتی تھی۔ بعد میں جب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو قوت عطا فرما دی۔ تو پھر ایسے لوگوں کو نہیں دیا جاتا تھا۔ البتہ جو شخص اسلام لا چکا ہے اور کمزور ہے اس کی حوصلہ افزائی کے لیے مال زکوٰۃ میں دیا جاتا رہا ہے۔
آزادی غلاماں :
زکوٰۃ کا پانچواں مصرف (آیت) ” وفی الرقاب “ گردنوں کو چھڑانا ہے۔ یعنی غلاموں کو آزاد کرانے کے لیے بعض مکاتب غلام ہوتے تھے کہ اتنا مال کما کر دے دو تو تم آزاد ہو۔ ایسے غلاموں کی مدد بھی مال زکوٰۃ سے کی جاسکتی ہے تا کہ وہ مقررہ رقم ادا کر کے آزادی کی نعمت سے بہرو ورہو سکیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ اس مد سے مستقل غلاموں کو بھی خرید کر آزاد کیا جاسکتا ہے۔ یا اگر کوئی قیدی ہوں تو ان کا فدیہ ادا کر کے انہیں رہائی دلائی جاسکتی ہے۔ یہ سب گردن چھڑانے کی مد میں شامل ہیں۔
مقروض :
فرمایا (آیت) ” والغارمین “ مقروض لوگوں کے لیے یا تاوان بھرنے والوں کو بھی یہ مال دیا جاسکتا ہے کسی شخص پر کسی وجہ سے تاوان پڑگیا ہے یا کوئی شخص کسی حادثے کا شکا ر ہوگیا ہے ، یا کسی کی ضمانت دے کر پھنس گیا ہے تو ایسے لوگوں کی امداد بھی زکوٰۃ کے مال سے کی جاسکتی ہے۔ مثال کے طور پر ایک آدمی کے پاس دس ہزار روپے موجود ہیں مگر اس نے گیارہ ہزار وروپیہ قرض دیان ہے تو اس کے قرض کی بیباقی کے لیے اس کی مدد کی جاسکتی ہے مگر شرط یہ ہے کہ قرض کسی جائز مقصد کے لیے لیا گیا ہو اور پھر اس کی ادائیگی کی طاقت نہ رکھتا ہو۔ اگر فضول رسم و رواج کی ادائیگی یا کسی حرام کام جوا وغیرہ کے لیے قرضہ لیا ہے تو ایسے شخص کی امداد نہیں کی جائیگی۔ یہ زکوٰۃ کی چھٹی مدا ہے۔
فی سبیل اللہ :
زکوٰۃ کی ساتویں مد کے متعلق فرمایا (آیت) ” وفی سبیل اللہ اور اللہ کے راستے میں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس مد میں تین قسم کے لوگ آتے ہیں ایک تو وہ غازی ہیں جو اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے نکلتے ہیں۔ اگر وہ محتاج ہیں تو انہیں مال زکوٰۃ میں سے دے دو ۔ دوسری قسم کا وہ آدمی ہے جو حج کے لیے نکلا مگر راستے میں کوئی حادثہ پیش آگیا ، چوری ہوگئی یا کسی اور طریقے سے مال ضائع ہوگیا اور اس کا خرچہ ختم ہوگیا ہے۔ ایسے شخص کو منقطع الحاج کہتے ہیں یہ بھی زکوٰۃکا مال لے سکتا ہے۔ تیسرے نمبر پر دینی تعلیم حاصل کرنے والے طلباء ہیں جو حصول تعلیم کی وجہ سے کوئی کاروبار نہیں کرسکتے۔ یہ لوگ (آیت) ” الذین احصروا فی سبیل اللہ “ کے تحت غازیوں میں ہی شمار ہو کر زکوٰۃ کے مستحق شمارہوتے ہیں۔
مسافر :
زکوٰۃ کے مستحقین میں سے آٹھواں نمبر (آیت) ” وابن السبیل “ یعنی مسافروں کا ہے۔ کوئی ایسا مسافر جس کا سفر خرچ ختم ہوگیا ہے اگرچہ گھر میں اس کا کافی مال موجود ہے مگر اس سے یہ نہیں کہا جائیگاتو اپنے گھر سے مال منگوا لے بلکہ وہ مال زکوٰۃ کا مستحق ہے لہٰذا اس کی مدد کی جائیگی۔
اللہ تعالیٰ نے زکوۃ کے یہ آٹھ مصارف بیان فرمائے ہیں کہ مال زکوٰۃ ان مدات پر صرف ہو سکتا ہے ، اس کے علاوہ کسی دوسری جگہ زکوٰۃ کی رقم خرچ نہیں کی جاسکتی۔
فرمایا (آیت) ” فریضۃ من اللہ “ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کیا گیا ہے یہ کسی انسان کا وضع کردہ نظام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ، حکمت اور مصلحت کے تحت یہ تقسیم کردی ہے۔ ان مدات میں کسی کو دخل اندازی کی اجازت نہیں حتی کہ اللہ کا نبی بھی اپنی مرضی سے زکوٰۃ تقسیم نہیں کرسکتا۔ بلکہ اس کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کے اس قانون کی پابندی لازمی ہے۔ فرمایا (آیت) ” واللہ علیم حکیم “ اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔ وہ ہر ظاہر و باطن سے واقف ہے۔ وہ ہر ایک کا غنا ، استحقاق ، غربت وغیرہ کو جانتا ہے۔ اور وہ جو بھی فیصلہ کرتا ہے اس میں حکمت پوشیدہ ہوتی ہے خواہ انسانوں کو اس کی سمجھ آئے یا نہ آئے حکیم خدا تعالیٰ کی صفت ہے لہٰذا اس کی حکمت کے تحت دیے گئے احکام کو تسلیم کرنا ہی عین سعادت ہے۔ خدائی احکام میں اپنی عقل کو دخل نہیں کرنا چاہیے۔
Ayahs 9:61–66ربطِ آیات :
پہلے جہاد کی فرضیت اور اس کی ترغیب کا بیان تھا۔ پھر مانعاتِ جہاد کا ذکر اور جہاد و قتال سے متعلق بہت ضروری احکام صادر ہوئے پھر منافقین کی بدکرداری کا ذکر ہوا۔ ان کا پیچھے رہ جانا ، حیلے بہانے بنانا ، طعن وتشنیع کرنا ، خود غرضی اور مفاد پرستی میں مبتلا ہونا ، یہ سب اللہ نے بیان فرمایا مفاد پرستی ہی کے ضمن میں ایک یہ بات بھی تھی کہ منافقین صدقات کے بارے میں اعتراض کرتے تھے ، اگر انہیں کچھ مل جاتا تو خوش ہوجاتے ورنہ اللہ کے رسول کی تقسیم پر اعتراض کرتے۔ اللہ نے ان کے ایسے اعتراجات کو جواب بھی دیا اور پھر زکوٰۃ وصدقات کے مصارف بھی بیان کیے کہ یہ مال فلاں فلاں مدات پر خرچ ہو سکتا ہے اور فلاں فلان لوگ اس کے حقدار ہیں۔ اس سے واضح ہوگیا کہ اعتراض کرنے والے منافق جو خود صاحب مال تھے ، وہ زکوٰۃ وصدقات کے حقدار نہیں ہو سکتے تھے۔ آگے بھی اللہ تعالیٰ نے منافقین کی بہت سی بری خصلتوں کا ذکر کر کے ان کی مذمت بیان کی ہے۔
منافقین کی ایذارسانی :
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ومنھم الذین یوذون النبی “ ان منافقوں میں سے بعض ایسے ہیں جو اللہ کے نبی کو ایذاء پہنچاتے ہیں (آیت) ” ویقولون ھو اذن “ اور کہتے ہیں کہ وہ کان ہیں یعنی کان کے کچھے ہیں۔ وہ ہر ایک کی بات سن لیتے ہیں لہٰذا ہم جو بات کریں وہ مان لیں گے۔ گویا اس طرح وہ بدگوئی کرکے اللہ کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ مطلب یہ کہ جہاد میں عدم شرکت کے متعلق ہم جو بھی حیلہ سازی کریں گے ، اور اللہ کے رسول کو یقین دلانے کی کوشش کریں گے ، وہ ہماری بات پر یقین کرلیں گے۔ چناچہ غزوہ تبوک کے موقع پر منافقین نے بہت سی باتیں کیں اور بڑی حیلہ سازی کی مگر اللہ کے رسول نے ان سے درگزر کیا ، ان کے حیلے بہانے کو قبول کرتے ہوئے ان کے خلاف کوئی کاروائی نہ کی۔ جب مسلمان تبوک کی طرف روانہ ہو رہے تھے تو منافقین اس قسم کی طعنہ زنی کرتے تھے کہ دیکھو جی ! یہ رومی سلطنت کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے جا رہے ہیں انہوں نے رومیوں کو بھی عرب ہی سمجھ لیا ہے۔ اس قسم کی باتیں آگے آرہی ہیں اور بعض لوگ پیغمبر خدا ﷺ کے خلاف غلط قسم کا پراپیگنڈا کرتے تھے۔ تو اللہ نے فرمایا کہ ان میں سے بعض وہ ہیں جو اللہ کے نبی کو اذیت پہنچاتے ہیں ، یعنی یہ کہ آپ انصاف نہیں کرتے اور ہمیں ہمارا حق نہیں دیتے۔ اللہ کے نبی کو اذیت پہنچانا تو کفر کی بات ہے۔ نبی کو ناراض کرنا اللہ کو ناراض کرنا ہے۔ اس قسم کی باتیں کافر اور منافق لوگ ہی کرسکتے ہیں اس چیز کو اللہ نے سورة احزاب میں بھی بیان فرمایا ہے اللہ اور رسول کے خلاف اذیت ناک بیہودہ باتیں کرنے والا شدید لعنت کا مستحق بنتا ہے۔ اور اگر کوئی شخص بےگناہ مسلمانوں کے خلاف بھی ایسی بات کریگا تو مجرم بنے گا اور خدا تعالیٰ کے ہاں ملعون ٹھہرے گا۔ بہرحال فرمایا کہ منافقین میں سے بعض ایسے ہیں جو اللہ کے نبی کو تکلیف پہنچاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم جو کچھ اول فول کہ دیں گے وہ ہماری بات مان جائیں گے کیونکہ وہ کان کے کچے ہیں۔
حضور ﷺ کا خلق عظیم :
اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، اے پیغمبر ! قل آپ کہہ دیجئے (آیت) ” اذن خیر لکم “ بیشک آپ کہہ دیجئے کہ وہ کان ہیں مگر تمہاری بہتر کے لیے ، آپ کے اخلاق کا تقاضا ہے کہ وہ تم میں سے ہر ایک کی بات سن لیتے ہیں اس میں تمہاری بہتری ہے حضور ﷺ تو اخلاق کی بلند ترین منزل پر تھے اللہ تعالیٰ نے اس بات کی گواہی دی ہے (آیت) ” وانک لعلیٰ خلق عظیم “ ( القلم) یعنی آپ خلق عظیم کے مالک ہیں۔ پھر آپ (علیہ السلام) کا اپناارشاد مبارک بھی ہے ” بعثت لاتمم مکارم الاخلاق “ یعنی اللہ نے مجھے مکارمِ اخلاق کی تکمیل کے لیے مبعوث فرمایا ہے حضور ﷺ تو اس اخلاق حسنہ کے تقاضا کے تحت منافقین کی الٹی سیدھی باتیں اور فضول حیلے بہانے سن لیتے تھے مگر یہ لوگ سمجھتے تھے کہ آپ کو کسی چیز کا لم ہیں نہیں بلکہ بالکل سادہ طبع ہیں ، جو کوئی حیلہ بہانہ پیش کرتا ہے اسے قبول کرلیتے ہیں۔ فرمایا یہ کان ہیں مگر تمہاری بہتری کے لیے اور وہ اللہ کا نبی (آیت) ” یومن باللہ “ اللہ پر یقین رکھتا ہے (آیت) ” ویومن للمومنین “ اور وہ ایمان والوں کی تصدیق کرتا ہے۔ یہاں پر ایمان لغوی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ ایمان کا لغوی معنی تصدیق کرنا ہی ہوتا ہے ۔ شریعت کی خاص خاص باتوں کی تصدیق کو ایمان کہا جاتا ہے مومن جو بات کرتے ہیں اللہ کا نبی اس کی تصدیق کرتا ہے یعنی اس کو سچ سمجھتا ہے۔
فرمایا اللہ کا نبی خود اللہ پر ایمان رکھتا ہے ، اور دوسرے مومنوں کی تصدیق کرتا ہے (آیت) ” ورحمۃ للذین امنوا منکم “ اور اللہ کا نبی مہربان ہے ان لوگوں کے لیے جو تم میں سے ایمان لائے کیونکہ اللہ کا فرمان ہے (آیت) ” واخفض جناحک للمومنین “ اپنے شفقت کے بازو ایمان والوں کے لیے پست کرلیں یعنی ان سے شفقت اور مہربانی کے ساتھ پیش آئیں۔ اسی سورة کے آخر میں آپ کو (آیت) ” بالمومنین رء وف رحیم “ یہ بھی کہا گیا ہے ، یعنی آپ اہل ایمان کے لیے نہایت شفقت والے اور مہربان ہیں ۔ گویا حضور ﷺ انہی صفات جمیلہ کی بنا پر ہر ایک کی بات سن لیتے تھے مگر بدباطن منافقین سمجھتے تھے کہ وہ آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔
فرمایا یاد رکھو ! (آیت) ” والذین یوذون رسول اللہ “ جو اللہ کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں (آیت) ” لھم عذاب الیم “ وہ دردناک عذاب کے مستحق ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچ نہیں سکیں گے انہوں نے اللہ کے رسول کو ذہنی طور پر اذیت پہنچائی ہے اور آپ کو پریشان کیا ہے ، اس لیے وہ سخت سزا کے حقدار ہیں حضور ﷺ کا مہربان اور سلیم الطبع ہونا تو یقینی بات ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مجرم لوگ سزا سے بچ جائیں گے۔ نہیں ، بلکہ انہیں دردناک عذاب کا مزا چکھنا ہوگا۔
خوشنودی کی تلاش :
فرمایا (آیت) ” یحلفون باللہ لکم “ یہ منافق لوگ اللہ کی قسمیں اٹھاتے ہیں تمہارے سامنے بات بات پر قسم اٹھانا ان کی عادت ہے۔ سورة منافقین میں ہے کہ منافق لوگ قسمیں اٹھا کر اللہ کے رسول کو اپنی وفاداری کا یقین دلاتے ہیں ۔ مگر اللہ نے فرمایا (آیت) ” ان المنفقین لکذبون “ یہ جھوٹے ہیں ، ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ، جب کوئی مومن اللہ کے نام کی قسم اٹھائے گا۔ تو وہ قابل تسلیم ہوگی کیونکہ مومن اللہ تعالیٰ کی حد درجہ تعظیم کرتا ہے مگر منافق کو نہ اللہ تعالیٰ سے کوئی تعلق ہے اور نہ ایمان والوں سے ، لہٰذا وہ جھوٹی قسمیں کھائے جائے ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ایک شخص کو اپنی آنکھوں سے چوری کرتے ہوئے دیکھا اور فرمایا ، اللہ کے بندے تم نے چوری کیوں کی ہے ؟ تو وہ شخص اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر کہنے لگا۔ کہ میں نے تو چوری نہیں کی۔ اس پر عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اللہ کے نام کی تعظیم کرتے ہوئے تماری قسم پر اعتبار کرتا ہوں اور اپنی آنکھوں کو جھٹلاتا ہوں جنہوں نے تجھے چوری کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
قسم کا مسئلہ بھی اللہ تعالیٰ نے سورة بقرہ میں ب یان فرمایا ہے (آیت) ” ولا تجعلوا اللہ عرضۃ لایمانکم “ اللہ کے پاک نام کو اپنی قسموں کا نشانہ نہ بنائو۔ ہر نیک بات کے انکار کرنے میں قسمیں اٹھاتے ہو۔ اگر مجبورا کہیں قسم اٹھانی بھی پڑے تو صرف اللہ کے نام کی یا اس کی صفت کی قسم اٹھائو ، کسی دوسری چیز کی قسم مت اٹھائو۔ قسم کا مسئلہ بڑا سخت ہے اس کی وجہ سے بھی انسان شرک میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ فرمایا یہ قسمیں اٹھاتے ہیں اللہ کے نام کی (آیت) ” لیرضوکم “ تا کہ تمہیں خوش کردیں۔ مومن سمجھنے لگیں کہ یہ ہمارے ہی آدمی ہیں۔ فرمایا ان کا نظریہ بالکل باطل ہے ، تمہاری رضا مطلوب نہیں بلکہ (آیت) ” واللہ ورسولہ احق ان یرضوہ “ اللہ اور اس کا رسول زیادہ حقدار ہیں کہ ان کو راضی کرتے (آیت) ” ان کانوا مومنین “ اگر ان میں سے ایمان ہے تو انہیں اللہ اور اس کے رسول کو راضی کرنا چاہیے خواہ دوسرا کوئی راضی ہو یا نہ ہو۔ سب سے پہلے اللہ کی رضا مطلوب ہے اور ا س کے بعد اس کے رسول کی خوشنودی چاہیے جو اللہ کا نائب اور اس کی مرضیات کو دنیا میں پورا کرنے والا ہے مگر ان منافقوں کی حالت یہ ہے کہ خدا کو تو ناراض کر رہے ہیں اور تمہیں راضی کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو ناراض کرے گا اور مخلوق کو راضی کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اسی مخلوق کے ہاتھوں اسے ذلیل ورسوا کرے گا۔
مخالف رسول کے لیے وعید :
فرمایا (آیت) ” الم یعلموا “ کیا ان کو علم نہیں کیا یہ اس حقیقت سے ناواقف ہیں (آیت) ” انہ من یحاد د اللہ ورسولہ “ کہ جو کوئی مخالفت یا مقابلہ کرے گا اللہ اور اس کے رسول کا (آیت) ” فان لہ نار جھنم “ اس شخص کے لیے دوزخ کی آگ تیار ہے (آیت) ” خالدا فیھا “ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب بھی ہوگا اور اس کی لعنت بھی برسیگی فرمایا ، کیا یہ بات ان پر واضح نہیں ہوئی ؟ جماعت کے لوگوں کو تو راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کو ناراض کر رہے ہی۔ یہ تو جہنم کے مستحق ہیں (آیت) ” ذلک الخزی العظیم “ اور یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔ اس سے بڑھ کر کیا ذلت ہو سکتی ہے کہ انسان راحت کی ہر چیز سے محروم ہو کر ہمیشہ کے لیے سزا میں مبتلا ہوجائے۔ اور سزا بھی ایسی سخت کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
پردہ فاشی کا خوف :
آگے اللہ تعالیٰ نے منافقین کی ذہنی کیفیت کو بھی بیان فرمایا ہے منافق جانتے ہیں کہ ان کی بےایمانی کی باتوں کو وقتا فوقتا ظاہر کردیا جاتا ہے ، وحی کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بنی کو آگاہ کردیتا ہے اور پھر اللہ کا نبی ان کا حال عام لوگوں میں بیان کردیتا ہے۔ منافقین ہمیشہ اس خوف میں مبتلا رہتے تھے کہ کہیں ہمارا راز وحی الٰہی کے ذریعے فاش نہ ہوجائے اسی بنا پر سال میں ایک دو مرتبہ یہ لوگ رسوا بھی ہوتے تھے مگر یہ باز نہیں آتے تھے حالانکہ ایک عام انسان جب رسوا ہوجاتا ہے تو اسے بدکرداری سے باز آجانا چاہیے مگر یہ لوگ باربار ذلیل ہونے کے باوجود اپنی قبیح حرکات سے باز نہیں آتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اسی کیفیت کو بیان فرمایا ہے (آیت) ” یحذرالمنفقون ان تنزل علیھم سورة “ منافق لوگ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ان پر کوئی سورة اتاری جائے (آیت) ” تنبئھم بمافی قلوبھم “ جو بتلا دے ان کو جو کچھ ان کے دلوں میں ہے۔ یعنی خدا تعالیٰ ان کے رازوں کو افشا کردے۔ منافقین ہمیشہ اس بات سے خائف رہتے ہیں مگر سازشوں سے پھر بھی باز نہیں آتے۔
فرمایا (آیت) ” قل استھزء وا “ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کے ٹھٹا کرلو۔ (آیت) ” ان اللہ مخرج ما تحذرون “ بیشک اللہ تعالیٰ نکالنے والا ہے اس چیز کو جس سے تم ڈرتے ہو۔ مشرک اور منافق کمزور مسلمانوں کو ٹھٹا کیا کرتے تھے کہ دیکھو ! نہ ان کے پاس لباس ہے ، نہ مکان اور نہ سواری اور یہ بہشت کے مالک بنے پھر رہے ہیں۔ مکی سورتوں میں ایسا ہی حال مشرکوں کا بیان ہوچکا ہے اور اب منافقین کا بھی ہو رہا ہے۔ منافق کہتے تھے کہ ملک روم فتح کرنے جا رہے ہیں حالانکہ کھانے کو کچھ ملتا نہیں۔ نہ فوجی تنظیم ہے اور نہ اسلحہ سواری مفقود ہے۔ ایک ہز اور میل کا سفر درپیش ہے ار یہ روم کے محلات کے خواب دیکھ رہے ہیں اس قسم کا مذاق کرتے تھے جس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ اب تو ٹھٹھا کرلو مگر اللہ تعالیٰ تمہارے رازوں کا پردہ ضرور فاش کرکے چھوڑے گا ، چنانہ یہ باتیں بھی اللہ نے ظاہر فرمادیں۔ اس کے علاوہ غزوہ تبوک کے راستہ میں انہوں نے جو سازش کی ، اللہ نے اسے بھی بذریعہ وحی ظاہر فرما دیا۔ اور وہ تمام سازشی ذلیل و خوار ہوئے۔
منافقین کا عذر لنگ :
فرمایا (آیت) ” ولئن سالتھم “ اگر آپ ان سے پوچھیں کہ تم نے ایسی بات کیوں کی جس کی وجہ سے لوگوں میں بدگمانی پیدا ہوتی ہے (آیت) ” لیقولن انما کنا نخوض ونلعب “ تو کہتے ہیں کہ ہم تو صرف بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ ہمارا مقصود تو صرف دوران سفر تفریح وطبع تھا ، کسی کی برائی مقصود نہ تھی۔ ایسی بات چیت کرتے کراتے سفر آسانی سے طے ہوجاتا ہے۔ انہوں نے بدگوئی کا یہ بہانہ تلاش کیا مگر اللہ نے فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں (آیت) ” ابا للہ وایتہ ورسولہ کنتم تستھزون “ کیا تم اللہ ، اس کے (احکام) اور اس کے رسول کے ساتھ ہنسی مذاق کرتے تھے۔ تمہیں ٹھٹھا کرنے کے لیے کوئی دوسری چیز میسر نہ آئی۔ تم نے جہاد فی سبیل اللہ کو ہی موضوع سخن بنا لیا اور اس مالک الملک کے حکم کے ساتھ استہزاء کیا جس نے قرآن پاک نازل فرمایا۔ پھر تم نے اللہ کے رسول کے ساتھ ٹھٹھا کہا جو یہ سب کچھ اس کے حکم کے مطابق انجام دے رہا ہے۔
فرمایا (آیت) ” لا تعتذروا “ حیلے بہانے مت بنائو۔ (آیت) ” قد کفرتم بعد ایمانکم “ تم نے اظہار ایمان کے بعد کفر کا ارتکاب کیا ہے مفسرین محدثین اور فقہاء فرماتے ہیں کہ جو کوئی اللہ کے کسی حکم یا اس کے رسول کے ساتھ تمسخر کریگا وہ کافر ہوجائیگا خواہ اس نے ایسی بات سنجیدگی سے کی ہو یا محض دل لگی سے۔ زبان سے کلمہ پڑھا ہے مگر ٹھٹھا کر کے کفر کر بیٹھے ہو ، توبہ استغفارکرو اور اللہ سے معافی مانگو۔ اللہ نے منافقین کو یہ وعید بھی سنائی ہے (آیت) ” ان نعف عن طائفۃ منکم “ اگر ہم ان میں سے ایک گروہ کو معاف کردیں گے (آیت) ” نعذب طائفۃ “ تو یقینا ایک گروہ کو سزا بھی دینگے۔ معافی کی کئی صورتیں ہو سکتی ہیں مثلا یہ کہ اللہ تعالیٰ توبہ کی توفیق عطا کر دے۔ چناچہ بعض منافقین حضور ﷺ کے زمانے کے بعد سچے دل سے تائب ہو کر اسلام میں مکمل طور پر داخل ہوگئے ، اللہ نے ان سے درگزر فرمایا۔ اور جس گروہ نے معافی نہیں مانگی ، ان کے دل کفر پر اڑے رہے۔ منافقت ان کے جسم وجان میں رچی بسی رہی وہ لازما سزا کے مستحق ہیں ، فرمایا ایسے لوگ ہماری سز اسے بچ نہیں سکیں گے وجہ ظاہر ہے (آیت) ” بانھم کانوا مجرمین “ وہ مجرم ہی رہے ، وہ سچے دل سے ایمان نہ لائے لہٰذا وہ سزا کے مستحق ٹھہرے۔
یہاں اللہ نے منافقین کے وہ حالات بیان فرمائے ہیں جو غزوہ تبوک کے ضمن میں ظاہر ہوئے۔ آگے منافقین کے بعض دیگر قبیح اوصاف بھی بیان کیے گئے ہیں۔
Ayahs 9:67–70ربط آیات :
اللہ تعالیٰ نے جہاد کے سلسلے میں منافقین کی مذمت بیان فرمائی اور ان کی خود غرضی ، بزدلی ، مفاد پرستی اور ان کے برے انجام کا ذکر فرمایا۔ پھر اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں کا حال بیان کیا کہ ان کے اس عمل کا نتیجہ خطرناک صورت میں ظاہر ہوگا۔ فرمایا یہ لوگ دنیا میں سب کے سامنے ذلیل ورسوا ہوں گے اور آخرت کی سب سے بری نامرادی تو ان کے لیے لازمی ہے اب آج کے درس میں اللہ نے منافقین کے بعض اوصاف بیان کیے ہیں کہ یہ لوگ کس قسم کے اخلاق کے حامل ہوتے ہیں۔ پھر عبرت کے لیے پہلے لوگوں کا حال بھی بیان فرمایا ہے اور ان لوگوں کے انجام سے باخبر کر کے بات سمجھائی ہے کہ اگر تم بھی ان کے نقش قدم پر چلو گے تو تمہارا انجام بھی پہلے لوگوں سے مختلف نہیں ہوگا۔
قرآنی اصطلاحات :
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ان المنفقین والمنفقت “ بیشک منافق مرد اور منافق عورتیں ۔ منافق کی جمع منافقین ہے اور منافقہ کی جمع منافقات ہے اللہ نے مرد وزن منافقوں کے لیے جمع کا صیغہ استعمال فرمایا ہے یعنی آگے جس بات کا ذکر آرہا ہے وہ تمام مردو زن منافقوں پر یکساں لاگو ہوتی ہے قرآن پاک میں بہت سی اصطلاحات بیان ہوئی ہیں جن میں ایک منافق بھی ہے۔ مثلا قرآنی اصطلاح میں کافر اس شخص کو کہا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے سارے یا کسی ایک حکم کا انکار کر دے جس طرح ایمان لانے کے لیے تمام اجزائے ایمان کی تصدیق ضروری ہے اور کسی ایک جزو کی کوتاہی ایمان سے خارج کردینے کے لیے کافی ہے اسی طرح کسی ایک جزو کا انکار بھی کافر ہوجانے کے لیے کافی ہے اور اس کے لیے تمام اجزائے ایمان کا انکار ضروری نہیں۔ ایمان دار بننے کے لیے خدا تعالیٰ کی ذات صفات ، اس کی وحدانیت اس کے ملائکہ ، کتب سماویہ ، تمام رسل ، قیامت کے دن اور تقدیر خیر وشر پر یقین ضروری ہے اسی طرح امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ ان اجزائے ایمان میں سے کسی ایک کا انکار بھی کافر بننے کے لیے کافی ہے۔
قرآنی اصطلاح میں مشرک اس شخص کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ذات کو مانتے ہوئے اس کی عبادت یا صفت مختصہ میں کسی دوسری ہستی کو شیرک بناتا ہے۔ مشریک خداوند تعالیٰ کا منکر تو نہیں ہوتا مگر وہ شرک کا ارتکاب کر کے کافر ہی کی طرح ہوجاتا ہے۔ اسی طرح زندیق یا ملحد بھی اصطلاح کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اور یہ الفاظ ایسے شخص پر بولے جاتے ہیں جو آیات الٰہی اور نصوص کا ایسا مطلب بیان کرتا ہے جو اللہ اور اس کے رسول کی مراد نہیں ہوتا۔ یہ شخص بھی کافر سے ملتا جلتا ہے۔ اس کے علاوہ مرتد کا لفظ بھی اصطلاح کے طور پر ایسے شخص کے لیے بولا جاتا ہے۔ جو عاقل ، بالغ ہے ، اسلام میں داخل ہے اور پھر اسلام چھوڑ کر دہریہ ہوجاتا ہے یا کوئی دوسرا دین اختیار کرلیتا ہے۔ مثلا یہودی ، عیسائی ، ہندو وغیرہ ہوجاتا ہے۔
اسی طرح منافق بھی ایک اصطلاح ہے اور منافق دو قسم کے ہوتے ہیں یعنی اعتقادی اور عملی۔ اعتقادی منافق حضور ﷺ کے زمانہ میں تھے جو ظاہری طور پر کلمہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہوجاتے ، نماز پڑھتے اور دیگر اسلامی امور بھی بجا لاتے مگر دل سے نہ تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی تصدیق کرتے اور نہ حضور ﷺ کی رسالت کو تسلیم کرتے وہ قرآن پاک کو آسمانی کتاب بھی نہ سمجھتے تھے اکثر جہاد سے گریز کرتے اور کبھی مجبورا شریک بھی ہوجاتے۔ اعتقادی منافقون کے دل میں ہمیشہ کفر بھرا ہوتا ہے اور یہ ابدی جہنمی ہوتے ہیں۔ مدینے کے منافقوں میں عبداللہ بن ابی کا نام سہر فہرست ہے ، یہودیوں میں سے اور بھی بہت سے لوگ منافق تھے۔ منافقوں کی دوسری قسم عملی منافق ہے جس کو اخلاقی منافق بھی کہا جاتا ہے ایسے لوگوں کے دل میں تو ایمان موجود ہوتا ہے اور زبان سے اس کا اقرار بھی کرتے ہیں مگر عملی طور پر اس کی تصدیق نہیں کر پاتے ، گویا ایک چیز کو مانتے ہوئے بھی اس پر عمل کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ یہاں پر قرآن پاک میں جن منافقین کا ذکر باربار آیا ہے ، ان سے مراد اعتقادی منافق ہیں اور یہ کافروں سے بھی بدتر ہوتے ہیں۔
نزول کے اعتبار سے سورة توبہ قرآن کی سب سے آخری سورة ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے تمام ضروری باتیں بیان فرمادیں۔ جماعت کی تطہیر کی خاطر یہ مسئلہ خاص طور پر بیان کیا گیا ہے کہ منافقوں کی سازشوں سے خبردارر رہتے ہوئے انہیں اپنی جماعت کا فر نہیں سمجھنا چاہیے۔ اگر انہیں قریب کرو گے ، اپنا ہم راز بنائو گے تو نقصان اٹھائو گے۔ اس سوۃ کا ایک نام سورة فاضحہ اسی وجہ سے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں منافقین کا پردہ چاک کر کے انہیں خوب رسوا کیا ہے۔
منافقین کے اوصاف :
اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں منافقین کے بعض اوصاف بیان فرمائے ہیں ارشاد ہوتا ہے۔ (آیت) ” المنفقون والمنفقت بعضھم من بعض “ منافق مرد اور منافق عورتیں بعض بعض سے ہیں یعنی ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں۔ یہ تشابہ فی الاخلاق ہے یعنی ایک دوسرے کے ساتھ پوری پوری مشابہت رکھتے ہیں۔ سب کے اخلاق ایک جیسے ہیں۔ جو کام مرد کرتے ہیں وہی عورتیں کرتی ہیں گویا ایک دوسرے کے ہم جنس ہیں۔ اس قسم کی مشابہت کے متعلق خود حضور ﷺ نے بعض آدمیوں کی نسبت فرمایا ” انا منہ وھو منی “ یعنی میں اس سے ہوں اور وہ مجھ سے ہے۔ اس قسم کے الفاظ حضرت جعفر رض ، حضرت علی رض ، امام حسین رض ، اور بعض دیگر صحابہ ؓ کے حق میں آتے ہیں۔ حضور ﷺ نے اشعریوں کے متعلق بھی فرمایا کہ وہ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ، یعنی جو صفت میرے اندر پائی جاتی ہے وہی ان میں بھی موجود ہے۔ اس طرح یہاں منافقین کے بارے میں فرمایا ہے کہ مردوزن بعض ان کے بعض سے ہیں یعنی یہ سب اخلاق میں ایک جیسے ہیں اور ایک چال چلتے ہیں۔
فرمایا ان کی صفت یہ ہے (آیت) ” یامروان بالمنکر “ بری بات کی تلقین کرتے ہیں (آیت) ” وینھون عن المعروف “ اور اچھی بات سے منع کرتے ہیں۔ ان کی دلچشپی اور پراپیگنڈا بری بات کے لیے ہوتی ہے۔ یہ ہمیشہ لہو ولعب ، کھیل تماشے فحاشی اور جھوٹی بات کی تلقین کرتے ہیں اور لوگوں کو نیک کام سے روکتے بھی رہتے ہیں مثلا اسلام اور اہل اسلام کے خلاف ایسا پراپیگنڈا کرتے ہیں کہ لوگ دین ِحق کو قبول نہ کریں۔ اس کے برخلاف شیطانی کام کی طرف راغب کریں گے جو کہ بہت ہی بری خصلت ہے۔
اللہ نے منافقین کی تیسری صفت یہ بیان فرمائی (آیت) ” ویقبضون ایدیھم نسوا اللہ فنسیھم “ وہ اپنے ہاتھوں کو سیکڑتے ہیں یعنی بخل سے کام لیتے ہیں انہوں نے اللہ کو فراموش کردیا ہے۔ پس اللہ نے انہیں اپنی رحمت سے محروم کردیا ہے ، یعنی جہاں مال خرچ کرتے کا موقع آتا ہے ، جہاد کی تیاری ہوتی ہے یا زکوٰۃ وصدقات کی ادائیگی کا موقعہ ہوتا ہے تو ہاتھ روک لیتے ہیں۔ مخل کو بدترین بیماری کہا گیا ہے حضور ﷺ کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا گیا کہ اس میں ایسی ایسی خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ مگر وہ بخیل ہے آپ نے فرمایا ” ای داء ادواء من البخل “ یعنی بخل سے بڑھ کر کون سی بیماری ہو سکتی ہے ؟ جو شخص بخیل ہے وہ کسی تعریف کے قابل نہیں ، ترمذی شریف میں ہے کہ بخیل آدمی اللہ سے دور ، مخلوق سے دور اور جنت سے دور ہوتا ہے اور ایسا شخص جہنم سے قریب ہوتا ہے۔ فرمایا (آیت) ” ان المنفقین ھم الفسقون “ منافق لوگ ہی نافرمان ہیں۔ فاسق بھی قرآنی اصطلاح ہے اور اس سے وہ شخص مراد ہے جو ایمان لانے کے باوجود اچھی بات پر عمل نہیں کرتا بلکہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے اور جو شخص مانتا بھی نہیں اور نافرمانی بھی کرتا ہے وہ کافر بھی ہے اور فاسق بھی۔ گویا فاسق کا لفظ عام ہے۔
منافقوں کے لیے سزا :
فرمایا (آیت) ” وعداللہ المنفقین والمنفقت والکفار نار جھنم خلدین فیھا “ اللہ نے وعدہ کیا ہے منافق مردوں ، منافق عورتوں اور کافروں سے جہنم کی آگ کا جس میں ہمیشہ رہیں گے۔ جس طرح کافر ، خدا ، رسول ، کتب سماویہ اور آخرت کے منکر ہیں اسی طرح منافق بھی منکر ہیں اللہ نے ان سے دوزخ کا وعدہ کیا ہے۔ فرمایا (آیت) ” ھی حسبھم “ جہنم میں پہنچنا ہی ان کے لیے کافی ہے ، یہ ان کے لیے بہت بڑی سزا ہے اور اس کے علاوہ (آیت) ” ولعنھم اللہ “ اللہ نے ان پر پھٹکار بھی کی ہے لعنت کا معنی بھی اللہ کی رحمت سے دوری ہے۔ (آیت) ” ولھم عذاب مقیم “ اور ان کے لیے دائمی عذاب ہوگا۔ وہ اس دوزخ اور پھٹکار سے نجات حاسل نہیں کرسکیں گے۔
سابقہ اقوام سے مشابہت :؎
فرمایا ان کی مثال ایسی ہے (آیت) ” کالذین من قبلکم “ جیسا کہ تم سے پہلے لوگ گزرے ہیں۔ وہ بھی ان کی طرح مغرور تھے (آیت) ” کانوا اشد منکم قوۃ “ وہ طاقت میں تم سے زیادہ تھے۔ مکہ والوں کا غرور توڑنے کے لیے بھی اللہ نے انہیں یہی فرمایا تھا (آیت) ” ما بلغوا معشار ما اتینھم “ تمہیں پہلے لوگوں کا عشر عشیر بھی نہیں ملا۔ جو جسمانی قوت اور مال و دولت اللہ نے آشوری ، کلدانی ، بابلی ، ایجنٹا ، الورا اور گندھارا تہذیب کے لوگوں کی دی ، تمہیں تو اس کا دسواح حصہ بھی نہیں ملا۔ اب منافقوں کی بھی یہی بات سمجھائی جا رہی ہے کہ تم سے پہلے لوگ تم سے طاقت میں زیادہ تھے (آیت) ” و اکثر اموالا واولادا اور مال و دولت اور اولاد میں بھی زیادہ تھے (آیت) ” فاستمتعوا بخلاقھم “ پس انہوں نے اپنے حصہ کا فائدہ اٹھایا۔ ان کے لیے اللہ نے اس دنیا میں جتنا حصہ مقرر کیا تھا وہ اس سے مستفید ہوئے مگر آخرت کا خیا ل نہ کیا بلکہ غفلت میں پڑے رہے ، خدا تعالیٰ کو فراموش کردیا۔ اللہ نے فرمایا (آیت) ” فاستمتعتم بخلاقکم “ پس تم بھی اپنے حصے کا فائدہ حاصل کرلو (آیت) ” کما استمتع الذین من قبلکم بخلاقھم “ جیسا کہ ان لوگوں نے اپنے حصے کا فائدہ اٹھایا جو تم سے پہلے تھے۔ (آیت) ” وخضتم کالذین خاضوا “ اور تم بھی باطل باتوں میں گھس گئے جیسا کہ وہ لوگ گھسے تھے ، یعنی جس طرح وہ کھیل کود ، لہو ولعب ، کفر وشرک ، بدعات ، رسوم باطلہ اور حق کی مخالفت میں مصروف تھے اسی طرح تم بھی انہیں امور میں محو ہو ۔
امام بیضاوی (رح) فرماتے کہ کالذی موصولہ مفرد ہے اور یہ خوض کی طرف جا رہا ہے یعنی جس طریقے سے پہلے لوگ فضولیات میں گھس گئے تھے اسی طرح تم بھی گھس گئے ہو۔ اور بعض فرماتے ہیں کہ کالذی لفظوں میں مفرد ہے مگر معنوں میں جمع ہے اور اس کاروئے سخن ان لوگوں ، قوموں اور گرہوں کی طرف ہے جو باطل میں گھسے تھے مفرد کے بطور جمع استعمال ہونے کی مثال اس عربی شعر میں بھی ملتی ہے
ان الذی حانت بقلج دمائھم
ھم القوم کل القوم یا ام خالد
وہ قوم جن کے خون فلج کے مقام پر گرے ہیں ، وہ بڑے کامل درجے کے لوگ تھے اے ام خالد ! بہرحال یہ لفظ مفرد ہونے کے باوجود جمع کو مطلب بھی دیتا ہے۔
اعمال کا ضیاع :
فرمایا (آیت) ” اولئک حبطت اعمالھم فی الدنیا والاخرۃ “ یہی لوگ ہیں جن کے اعمال ضائع ہوگئے اس دنیا میں اور آخرت میں بھی دنیا میں جس چیز کو حاصل کرنے کے لیے انہوں نے منافقت کا راستہ اختیار کیا ، وحی الٰہی کے ظاہر کردینے کی وجہ سے وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے ار ان کی ساری کارگزاری ضائع ہوگی۔ اور آخرت میں بھی کفر اور نفاق انہیں کوئی فائدہ نہیں دے گا۔ ان کو نجات نصیب نہیں ہوگی بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائیں گے۔ فرمایا (آیت) ” واولئک ھم الخسرون “ اور یہی لوگ ہیں زیاں کار یعنی نقصان اٹھانے والے۔ اگر یہ اپنے سے پہلے لوگوں کے حالات پر غور کرتے تو اس سے عبرت پکڑتے اور خدا تعالیٰ کو فراموش نہ کرتے مگر انہوں نے نفاق اختیار کر کے کچھ فائدہ حاصل نہ کیا۔
سابقہ اقوام کے حالات :
اب آگے اللہ تعالیٰ نے بعض پہلی قوموں کا ذکر کیا ہے جن کے واقعات سے منافقین نے کچھ عبرت حاصل نہ کی۔ ا رشاد ہوتا ہے (آیت) ” الم یاتھم نبا الذین من قبلھم “ کیا ان تک ان لوگوں کی خبری نہیں پہنچی جو ان سے پہلے گزرے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے پہلی قوموں کو ان کی نافرمانی کی وجہ سے ہلاکت میں ڈال کر ہمارے لیے عبرت کا سامان پیدا کردیا ہے اور یہ ہم پر اللہ تعالیٰ کی بڑی مہربانی ہے وگرنہ وہ ہمیں بھی ہلاکت میں ڈال کر آئندہ آنے والے لوگوں کے لیے ہمیں بھی باعث عبرت بنانے پر قادر ہے۔ اسی لیے فرمایا ، کیا ان لوگوں کے پاس پہلی قوموں کی خبر نہیں پہنچی اور قومیں کون سی تھیں ؟ فرمایا (آیت) ” قوم نوح “ سب سے پہلے نوح (علیہ السلام) کی قوم کا حال دیکھئے۔ انہوں نے نافرمانی کی تو اللہ نے پوری قوم کو پانی میں غرق کردیا۔ اور حضرت نوح (علیہ السلام) کے ہمراہ کشتی میں صرف وہی لوگ بچے جو صاحب ایمان تھے۔ (آیت) ” وعاد وثمود “ قوم عاد اور ثمود کے انجام پر بھی غور کرلیں۔ اللہ تعالیٰ نے کسی پر سخت آندھی بھیج کر ہلاک کیا اور کسی قوم کو زلزلے نے آپکڑا اور چیخ نازل ہوئی۔ ان کے جگر پھٹ گئے ، ہر چیز تہ وبالا ہوگئی اور پوری کی پوری قومیں ہلاک ہوگئیں۔ پھر فرمایا (آیت) ” وقوم ابراہیم “ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر بھی نظر کریں۔ انہوں نے اللہ کے خلیل کے ساتھ سخت ، بدسلوکی کی اور انہیں ہلاک کرنے کی کوشش کی۔ آپ کو ہجرت پر مجبور کیا گیا۔ مگر کیا وہ ظالم بادشاہ صحیح سلامت رہا ؟ تاریخی کتابوں میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر ایک مچھر کو مسلط کردیا جو اس کے ناک میں گھس گیا۔ اللہ نے ایسی سزا میں مبتلا کیا کہ مچھر کی تکلیف سے بچنے کے لیے سر پر جوتے مروانے پڑتے ان کی قوم کا حال بھی ایسا ہی ہوا۔ اگرچہ قوم ابراہیم کا تفصیلی ذکر نہیں ملتا تا ہم تباہ شدہ قوموں کی فہرست میں اس قوم کا نام بھی موجود ہے۔
فرمایا (آیت) ” واصحب مدین “ اور مدین والوں کا حال بھی ایسا ہی ہوا۔ یہ تاجر پیشہ لوگ تھے مگر ناپ تول میں کمی بیشی کرتے تھے ، اللہ کے نبی نے سمجھانے کی بڑی کوشش کی مگر ان پر کچھ اثر نہ ہوا۔ آخر اللہ نے آسمان سے آگ برسا کر اس قوم کو ہلاک کیا۔ (آیت) ” والمئوتفکت “ اور الٹی بستی والوں کے حال سے بھی عبرت حاصل کرو۔ یہ قوم لوط ہے جو اردن کے رہنے والے تھے۔ اس زمانے میں چار سے چھ لاکھ نفوس پر مشتمل یہ قوم آباد تھی۔ لوط (علیہ السلام) سالہاسال تک تبلیغ کرتے رہے مگر اپنی بیٹیوں کے علاوہ بیوی نے بھی ایمان قبول نہ کیا۔ اس قوم کا حال قرآن میں موجود ہے کہ اس بستی کو الٹ کر پٹخ دیا گیا اور اوپر سے پتھر بھی برسائے گئے۔ ہر پتھر نشان زدہ تھا اور اس پر ہلاک ہونے والے کا نام لکھا ہوا تھا۔ یہ لوگ الٹے کام کرتے تھے تو اللہ نے سزا میں ان کی بستی کو الٹ دیا اور وہ ہلاک کردیے گئے۔ فرمایا کیا ان قوموں کا حال منافقوں کے پاس نہیں پہنچا کہ یہ اس سے عبرت حاصل کرتے۔
مقام عبرت :
فرمایا (آیت) ” اتتھم رسلھم بالبینت “ ان کے پاس ان کے رسول واضح نشانیاں لے کر آئے ، اللہ کی طرف سے معجزات لائے اور اللہ کے احکام ان تک پہنچائے مگر انہوں نے ایک نہ سنی اور آخر کار ہلاک ہوئے فرمایا (آیت) ” فما کان اللہ لیظلمھم “ اللہ نے انہیں ہلاک کر کے ان پر کوئی زیادتی نہیں کی (آیت) ” ولکن کانوا انفسھم یظلمون “ بلکہ وہ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرتے تھے۔ انہوں نے ایسے باطل اعتقادات اختیار کیے اور ایسے برے افعال انجام دیے کہ وہ عذاب الٰہی کے مستحق ہوئے۔
بہرحال پہلی قوموں کا حال بیان کر کے منافقوں کو عبرت دلائی گئی ہے اور جس طرح یہ واقعات منافقوں کے لیے باعث عبرت ہیں اسی طرح ہمارے لیے بھی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے پہلی قوموں کے حالات ہماری عبرت کے لیے بیان فرمائے ہیں اگر ہم بھی غفلت میں پڑے رہیں گے اور عبرت نہیں پکڑیں گے تو کچھ عجب نہیں کہ ہمارے ساتھ بھی وہی سلوک ہو جو پہلے لوگوں کے ساتھ ہوا۔