9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 9:25–27

لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ فِیْ مَوَاطِنَ كَثِیْرَةٍ١ۙ وَّ یَوْمَ حُنَیْنٍ١ۙ اِذْ اَعْجَبَتْكُمْ كَثْرَتُكُمْ فَلَمْ تُغْنِ عَنْكُمْ شَیْئًا وَّ ضَاقَتْ عَلَیْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّیْتُمْ مُّدْبِرِیْنَۚ Open ayah 9:25 in the Quran reader

البتہ تحقیق اللہ نے مدد کی تمہاری بہت سی جگہوں میں اور (خاص طور پر) حنین کی لڑائی کے دن جب کہ تم کو تمہاری کثرت نے تعجب میں ڈالا پس نہ کفایت کی اس کثرت نے تم سے کچھ بھی اور تنگ ہوگئی تم پر زمین باوجود کشادہ ہونے کے ، پھر تم پھرے پشت پھیرتے ہوئے

ثُمَّ اَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلٰى رَسُوْلِهٖ وَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اَنْزَلَ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا وَ عَذَّبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ ذٰلِكَ جَزَآءُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:26 in the Quran reader

پھر اللہ نے نازل کی اپنی طرف سے تسلی اپنے رسول پر اور ایمان والوں پر اللہ اور اتارا ایسا لشکر جس کو تم نے دیکھا نہیں اور سزا دی اللہ نے کفر کرنے والوں کو ، اور یہی بدلہ ہے کفر کرنے والوں کا

ثُمَّ یَتُوْبُ اللّٰهُ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:27 in the Quran reader

پھر اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرتا ہے اس کے بعد جس پر چاہے اور اللہ تعالیٰ بخشش کرنے والا مہربان ہے

ربط آیات : گذشتہ آیات میں جہاد کا ذکر تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو متنبہ کیا کہ اگر ان کے عزیز و اقارب ایمان کے مقابلے میں کفر کو پسند کرتے ہیں۔ تو انہیں اپنا رفیق اور دوست نہ بنائو ، ایسا کرنے والا ظالم ٹھہرے گا ، پھر فرمایا اگر تمہارے ابائو اجداد ، اولاد ، بھائی ، خاندان ، مال اور تجارت اور مکانات تمہیں اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور جہاد سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر اللہ کی طرف سے کسی افتاد کے منتظر رہو۔ اور یہ چیز اس وقت تک دور نہیں ہوگی جب تک تم دین کی طرف واپس نہیں آجائو گے۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی کثرت اور قلت تعداد کے پیش نظر فتح وشکست کا ذکر فرمایا ہے جب حضور ﷺ نے مشرکین کے خلاف اعلانِ جنگ کیا تو بعض مسلمانوں کو خیال پیدا ہوا کہ کفار کی تعداد بہت زیادہ ہے ، ہو سکتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے خیالات کی تردید فرمائی ہے اور اہل ایمان کی تلقین کی ہے کہ وہ اپنی قوم ، خاندان ، قبیلے ، مال دولت یا کثرت تعداد کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھیں۔ اگر وہ مادی اسباب پر توکل کریں گے تو نقصان اٹھائیں گے ، چناچہ اس سلسلہ میں واقعہ حنین کا ذکر بھی اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ نصرتِ الہٰی : ارشاد ہوتا ہے ( آیت) ” لقد نصرکم اللہ فی مواطن کثیرۃ “ البتہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے تمہاری مدد کی ہے بہت سی جگہوں میں مفسرین کرام اس کی تفصیل میں فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ اور آپ کے قریبی زمانہ میں اللہ تعالیٰ نے کم وبیش اسی مواقع پر مسلمانوں کی نصرت فرامائی۔ اور انہیں جہاد میں کامیابی عطا کی ۔ ان میں سب سے مشہور واقعہ غزوہ بدر کا ہے۔ اور اب ان آیات میں حنین کی لڑائی کا ذکر فرمایا ہے۔ فرمایا اللہ نے بہت سے مواقع پر تمہاری مدد فرمائی اور ( آیت) ” ویوم حنین “ حنین کے دن والی لڑائی میں حنین ایک وادی کا نام ہے جو مکہ سے کچھ میل کے فاصلے پر طائف کی طرف واقعد ہے فرمایا اس دن واقعہ یوں ہوا ( آیت) ” اذاعجبتکم کثرتکم “ جت کہ تمہاری کثرت تعداد نے تمہیں تعجب میں ڈال دیا ( آیت) ” فلم تغن عنکم شیئا “ مگر تمہیں کچھ فائدہ نہ دیا ( آیت) ” وضاقت علیکم الارض بما رحبت “ اور کشادہ ہونے کے باوجود تم پر زمین تنگ ہوگئی ( آیت) ” ثم ولیتم مدبرین “ پھر تم پشت پھیر کر پلٹ گئے۔ کثرت تعداد کے باوجود تمہیں دشمن کے ہاتھوں نقصان اٹھانا پڑا۔ پھر اللہ نے اپنی خصوصی نصرت فرمائی اور تمہیں دوبارہ غلبہ نصیب ہوا۔ دشمن کا جنگی منصوبہ : 8 ھ؁ میں جب مکہ فتح ہوگیا اور قریش مغلوب ہوگئے تو قبیلہ ثقیف اور ہوازن نے مسلمانوں کے خلاف فیصلہ کن جنگ لڑنے کا مشورہ کیا۔ ان قبائل میں بعض برے متعصب لوگ تھے جن میں درید ابن صمہ پیش پیش تھا۔ یہ معمر شخص تھا اور شاعر بھی تھا ، جنگی چالوں سے واقف تھا ، لہٰذا اس نے مشورہ دیا کہ عرب کے بعض دوسرے قبائل کو ساتھ ملا کر مسلمانوں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ورنہ سارے عرب پر ان کا تسلط قائم ہوجائیگا۔ چناچہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ انہوں نے چار ہزار کی تعداد میں بہترین لڑاکا لشکر تیار کیا جو جدید ترین اسلحہ سے لیس تھا۔ میدان میں لڑنے والوں کے علاوہ ان کے ساتھ عورتیں اور بچے بھی کثیر تعداد میں موجود تھے۔ چناچہ انہوں نے پوری تیاری کے ساتھ مسلمانوں کو نیست ونابود کرنے کا منصوبہ بنایا۔ مسلمانوں کی تیاری : مکہ فتح کرنے کے بعد حضور ﷺ اپنے صحابہ ؓ کے ہمراہ ابھی وہیں قیام پذیر تھے کہ قبیلہ ثقیف اور ہوازن کی طرف سے جنگی تیاری کی خبر ملی۔ آپ کے ساتھ کامل الایمان دس ہزار کی جماعت تھی جس کا ذکر تورات میں بھی دس ہزار قدسیوں کے نام سے موجود ہے کہ حضور ﷺ نے اس معاملہ میں ساتھیوں سے مشورہ کرنے کے بعد جنگ کی تیاری شروع کردی۔ مدینے سے آنے والے دس ہزار صحابہ کے علاوہ دو ہزار کی تعداد میں مکہ والے بھی اس لشکر میں شامل ہوگئے جو تازہ تازہ مسلمان ہوئے تھے اس کے علاوہ آپ نے صفوان بن امیہ جو ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا ، اس سے بھی اسلحہ کی امداد طلب کی ، پہلے تو اس نے پس وپیش کیا مگر آخر کار مسلمانوں کو اسلحہ مہیا کیا۔ بعد میں اللہ تعالیٰ نے صفوان کو توفیق عطا کی اور وہ بھی مسلمان ہوگیا۔ تا ہم فقہا اور محدثین اس واقعہ سے یہ مسئلہ نکالتے ہیں کہ بوقت ضرورت مشرکین سے مدد لینا بھی جائز ہے جیسا کہ صفوان سے اسلحہ لیا گیا۔ بہرحال حضور ﷺ نے غزوہ حنین کے لیے بارہ ہزار کا لشکر تیار کیا۔ معرکہ حنین : حنین کے میدان میں ایک طرف مسلمانوں کے بارہ ہزار مجاہد تھے جب کہ دوسری طرف مشرکین کے چار ہزار سپاہی اپنی کثرت تعداد دیکھ کر بعض مسلمانوں کو خیال پیدا ہوا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں تعداد کی قلت کے باوجود فتح سے ہمکنار کرتا رہا ہے مگر اب تو ہماری تعداد دشمن سے ویسے ہی تین گنا ہے ، لہٰذا ہماری کامیابی یقینی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی کیونکہ فتح وشکست کا دارومدار قلت و کثرت پر نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت کا مرہون منت ہوتا ہے۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اسی واقعہ کو یاد دلایا ہے۔ کہ جس کثرت تعداد نے تمہیں تعجب میں ڈالا وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی ۔ اور واقعہ بھی ایسا ہی ہوا کہ کہ ابتدائے جنگ میں مسلمانوں کا پلہ بھاری تھا۔ انہوں نے راستے فتح پر محمول کیا اور مجاہدین کی اکثریت مال غنیمت جمع کرنے میں مصروف ہوگئی۔ ادھر دشمن نے اپنے بعض تیر انداز تنگ دروں میں بٹھائے ہوئے تھے اور یہ لوگ اسلام لشکر کی گھات میں تھے ۔ چناچہ جب مجاہدین ایک تنگ پہاڑی درے سے گزر رہے تھے تو دشمن کے تیر اندازوں نے ان پر تیروں کی بارش کردی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں افراتفری پیدا ہوگئی اور جس طرف کسی کو موقع ملا بھاگ کھڑا ہوا ۔ پہلے طلقا علیحدہ ہوئے اور پھر عام مسلمان بھی تتر بتر ہر گئے حتی کہ حضور کے ساتھ تھوڑے سے آدمی باقی رہ گئے۔ بعض روایات کے مطابق نو آدمی حضور ﷺ کے ساتھ تھے جن میں حضرت ابوبکر ؓ ، عمر ؓ ، علی ؓ اور عباس ؓ وغیرہ کا ذکر آتا ہے ۔ تا ہم بعض روایات میں سو آدمیوں کا ذکر بھی آتا ہے۔ جب مسلمان لشکر میں اس قدر انتشار پیدا ہوگیا تو حضور ﷺ نے حضرت عباس ؓ سے فرمایا کہ ان کو آواز دو کہ مہاجرین کہاں ہیں ، انصار کدھر گئے اور شجرہ کے نیچے بیعت کرنے والے کدھر گئے۔ یہ آواز سن کر مسلمانوں کے حواس ٹھکانے آئے اور وہ پھر حضور ﷺ کے گرد جمع ہوگئے۔ دوبارہ معرکہ برپا ہوا ، جنگ کا پانسہ پلٹ گیا اور مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی۔ مال غنیمت کی تقسیم : اس غزوہ میں مسلمانوں کے ہاتھ بہت سا مال غنیمت آیا ، جس میں چھ ہزار غلام لونڈیاں ، چوبیس ہزار اونٹ ، چالیس ہزار بھیڑ بکریاں اور چار ہزار اونس چاندی تھی۔ حضور ﷺ نے مال غنیمت کی تقسیم میں قدرے توقف کیا کہ شاید متحارب مشرکین اسلام قبول کرلیں مگر جب ان کی طرف سے فوری طور پر کوئی پیش کش نہ ہوئی تو آپ (علیہ السلام) نے یہ سارا مال مجاہدین میں تقسیم فرما دیا حتی کہ غلام اور لونڈیاں بھی تقسیم ہوگئیں۔ اس کے بعد جنگ میں حصہ لینے والے مشرکین نے اسلام قبول کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ پھر ان کا ایک وفد حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اپنی غلطی کا اعتراف اور اسلام قبول کرنے کا اقرار کیا۔ حضور ﷺ نے دریافت کیا کہ اب تم اپنا مال واپس لینا چاہتے ہو یا اپنی عورتیں اور بچے ، انہوں نے عورتوں اور بچوں کو مال پر ترجیح دی کہ ہمیں ہمارے عیزیز و اقارب واپس کردیے جائیں حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس جس کے پاس لونڈی غلام پہنچے ہیں وہ خود انہیں آزاد کر دے اور اگر وہ بخوشی ایسا کرنے پر آمادہ نہیں تو ہمارا اس کے ساتھ وعدہ ہے کہ کسی دوسرے موقع پر انہیں لونڈی غلام دے دیے جائیں گے۔ بہرحال لونڈیاں اور غلام سارے کے سارے آزاد کردیے گئے اور مال صحابہ میں تقسیم ہوگیا یہ مال زیادہ تر ان لوگوں کو دیا گیا جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے کیونکہ ان کی تالیفِ قبلی مقصود تھی۔ نزول سکینہ : بہر حال اللہ تعالیٰ نے حنین کا واقعہ ذکر فرمایا ہے کہ تمہاری کثرت تعداد نے تمہیں کچھ فائدہ نہ دیا اور تم پشت پھیر کر بھاگ گئے۔ ( آیت) ” ثم انزل اللہ سکینۃ “ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے خاص تسکین نازل فرمائی جس سے مسلمانوں کو یقین ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ ضرور انہیں فتح سے ہمکنار کرے گا۔ اور یہ خاص تسلی ( آیت) ” علی رسولہ وعلی المومنین “ اللہ کے رسول پر بھی نازل ہوئیں اور ایمان داروں پر بھی اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ( آیت) ” وانزل جنودا لم تروھا “ ایسا لشکر نازل فرمایا جسے تم نے نہیں دیکھا۔ بدر کے موقع پر بھی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کا لشکر نازل فرمایا تھا تا کہ ایمان والوں کے دل کو تسلی ہو یہاں پر کہ ہم نے لشکر کا نزول فرمایا ( آیت) ” وعذب الذین کفروا “ اور کافروں کو سزا دی ، ان کے بہت سے آدمی مارے گئے ، عورتیں اور بچے لونڈی غلام بنے اور بہت سا مال بھی دینا پڑا۔ فرمایا ( آیت) ” وذالک جزآء الکفرین “ کفر کرنے والوں کی یہی سزا ہوتی ہے۔ فرمایا ( آیت) ” ثم یتوب اللہ من بعد ذلک علی من یشائ “ پھر اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرماتا ہے جس کی چاہے جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف جنگ لڑی اور مغلوب ہوگئے۔ ان کی توبہ اللہ نے قبول فرمائی اور ان میں سے اکثر اسلام لے آئے حنین کی جنگ کے بعد مسلمانوں کی ایسی دھاک بیٹھی کہ پورے عرب میں مسلمانوں کے سامنے سر اٹھانے والا کوئی باقی نہ رہا۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت سے ہوا ، وگرنہ کثرت تعداد کے باوجود مسلمان سخت مصیبت میں گرفتار ہوگئے تھے۔ لہٰذا تعداد اور اسلحہ پر بھروسہ کر نیکی بجائے اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ بارہ ہزار کے لیے خوشخبری : بارہ ہزار کے لشکر کے لیے حضور نبی کریم (علیہ السلام) نے خاص خوشخبری سنائی ہے۔ فرمایا ( آیت) ” لن یغلب من قلۃ اثنا عشر الاف “ یعنی بارہ ہزار افراد کا لشکر قلت تعداد کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوگا بشرطیکہ وہ منظم ہو۔ اگر ایسے لشکر والے ایماندار ہوں گے ، اللہ پر بھروسہ رکھیں گے ، صحیح اصولوں پر قائم ہوں گے تو کبھی مغلوب نہیں ہوں گے۔ البتہ بزدل ، غیر منظم اور غیر متیقن لوگوں کی صورت میں ایسا نہیں ہوگا۔ قرونِ اولیٰ کے لوگ قرآن ِ حکیم اور حضور ﷺ کے بتائے ہوئے اصولوں پر کاربند تھے مگر حنین میں ذرا سی غلطی ہوئی ، تنظیم میں فرق آیا تو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ بہر حال جو لوگ بےغرض اور دین کی تڑپ رکھتے ہوں اور ان کی تعداد بارہ ہزار ہوگی وہ کبھی مغلوب نہیں ہوں گے حضور ﷺ نے یہ خوشخبری بھی سنا دی۔ آج کے درس سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ کامیابی کا انحصار کثرت تعداد پر نہیں ہوتا بلکہ پوری دلجمعی خدا پر یقین اور اپنے مقصد کے ساتھ لگن پر ہوتا ہے۔ چناچہ جنگ حنین میں اللہ تعالیٰ نے خصوصی مدد فرمائی ، پھر غلطی کرنے والوں کی توبہ بھی قبول کی کہ مشرکین کی اکثریت مسلمان ہوگئی ، تا ہم انہیں شکست کھا کر ذلیل و خوار ہونا پڑا۔ ان کے بچے اور عورتیں غلام اور لونڈیاں بنے ، کثیر مقدار میں مال بھی ہاتھ سے گیا ، بھیڑ بکریاں ، اونٹ ، غلہ ، چاندی غرضیکہ سارا مال مسلمانوں کو غنیمت کے طور پر ہاتھ آیا۔ پھر لونڈی غلاموں کو آزاد بھی کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے بعد میں انہیں ایمان کی دولت بھی نصیب ہوگئی فرمایا ( آیت) ” واللہ غفور رحیم “ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ بخشش کرنے والے ار مہربان ہے۔ اس نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور انہیں معاف کردیا۔
Ayah 9:28

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلَا یَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهِمْ هٰذَا١ۚ وَ اِنْ خِفْتُمْ عَیْلَةً فَسَوْفَ یُغْنِیْكُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۤ اِنْ شَآءَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:28 in the Quran reader

اے ایمان والو ! بیشک مشرک ناپاک ہیں ، نہ آئیں قریب مسجد حرام کے اس سال کے بعد۔ اور اگر تم خوف کھائو محتاجی اور فقر کا تو عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں غنی کر دے گا اپنے فضل سے اگر چاہے بیشک اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے۔

ربط آیات : سورۃ کی پہلی آیت میں براءت کا اعلان تھا ، پھر جہاد کا اعلان ہوا۔ پھر ان اسباب کا ذکر ہوا جن کی وجہ سے جہاد ترک ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کی قباحت اور برائی بھی بیان فرمائی اور اہل ایمان کو ان کے ساتھ دوستی کرنے سے منع کردیا گیا۔ اور صرف خدا کی ذات پر بھروسہ کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ پھر اللہ نے اہل ایمان کو یاد دلایا کہ اس نے ہمیشہ اپنے مخلص بندوں کی مدد کی ہے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو مسجد حرام کے قریب آنے سے منع فرمایا ہے اور ساتھ اس کی وجہ بھی بیان فرمائی ہے۔ مسجد حرام میں بےدخلی : 8 ھ میں مکہ فتح ہوا اور اس سے اگلے سال 9 ھ میں حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی امارت میں مدینہ منورہ سے مسلمانوں کا یک حج وفد حج کے لیے بھیجا۔ اسی دوران سورة توبہ کی آیات متعلقہ برا ت نازل ہوئیں تو آپ نے یہ آیات حضرت علی ؓ کو دیکر مکہ مکرمہ بھیجا تا کہ وہ حضرت صدیق ؓ کے ساتھ مل کر حج کے موقع پر مشرکین سے بیزاری اور ان کے خلاف اعلانِ جنگ کردیں۔ ان احکامات مٰں ایک حکم یہ بھی تھا کہ آئندہ کوئی مشرک بیت اللہ شریف کا حج اور طواف نہیں کرسکے گا۔ اعلانِ عام کیا گیا ( آیت) ” لا حجن بعد العام مشرکون “ یعنی مشرک لوگ اس سال کے بعد حج کے لیے نہیں آئیں گے ( آیت) ” ولا یطوفون بالبیت عریان “ اور بیت اللہ شریف کا ننگا طواف بھی نہیں کریں گے۔ ارشاد ہوتا ہے ( آیت) ” یایھا الزین امنوا “ اے ایمان والو ! ( آیت) ” انما المشرکون نجس “ بیشک شرک کرنے والے ناپاک ہیں ( آیت) ” فلایقربوا المسجد الحرام بعد عامھم ھذا “ لہٰذا اس سال کے بعد وہ مسجد حرام کے قریب نہ آئیں ، گویا 9 ھ؁ کے بعد مشرکین کو حرم شریف سے بالک بےدخل کردیا گیا۔ چناچہ اگلے سال جب 10 ھ؁ میں حضور ﷺ خود حجۃ الوداع کے لیے تشریف لائے تو اس سال کوئی مشرک حج کرنے کے لیے نہیں آیا۔ مشرکین کی نجاست : امام بکر جصاص (رح) تفسیر احکام القرآن میں لکھتے ہیں کہ نجاست دو قسم کی ہوتی ہے۔ اس کی پہلی قسم نجاست عین ہے اور اس میں ظاہری طور پر ناپاک چیزیں شامل ہیں جیسے بوس وبراز ، خنزیر ، دم مسفوح وغیرہ۔ اور نجاست کی دوسری قسم حکمی ہے۔ گناہ کو بھی نجاست سے تعبیر کیا گیا ہے۔ خاص طور پر اللہ تعالیٰ نے بتوں کو گندگی کا نام دیا ہے ۔ سورة حج میں ہے ( آیت) ” فاجتنبو الرجس من الاوثان “ بت پرستی کی نجاست سے بچو۔ تو گویا مشرکوں کی نجاست حکمی یا معنوی نجاست ہے اور اسی نجاست اور گندگی کی وجہ سے انہیں مسجد حرام سے روک دیا گیا۔ بعض لوگ جن میں ظاہر یہ اور امامیہ بھی شامل ہیں ، مشرکوں کو اسی طرح جسمانی طور پر ناپاک سمجھتے ہیں جس طرح کوئی بھی گندی چیز گوبر ، خون ، بول وبراز وغیرہ ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کی اسی ظاہری نجاست کی وجہ سے اللہ نے انہیں مسجد حرام سے بےدخل کیا ہے تا ہم جمہور فقہا ومحدثین فرماتے ہیں کہ مشرکین کا ظاہری جسم ناپاک نہیں ہے بلکہ ان میں معنوی ناپاکی پائی جاتی ہے اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد طائف کے مشرکین کا ایک وفد حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ان کے ٹھہرانے کے لیے مسجد نبوی کے صحن میں خیمے لگوا دیے۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا ، ” قوم انجاس “ حضور ! یہ تو ناپاک لوگ ہیں اور آپ نے انہیں مسجد میں خیمہ زن کردیا ہے حالانکہ مساجد کے متعلق حکم یہ ہے کہ ” ان تطیب وتنظف “ انہیں پاک صاف رکھا جائے۔ مسجدوں میں کسی قسم کی گندگی نہیں ہونا چاہیے۔ مگر مسجد نبوی میں مشرکین کی نجاست کو داخل کردیا ۔ حضور ﷺ نے فرمایا (1۔ طحاوی ، ص 10 ، ج 1) (فیاض) ” انما انجاسھم علی انفسھم لیست انجاسھم علی ابدانھم “ (طحاوی ، ابوداود) یعنی ان کے جسم ناپاک نہیں ہیں بلکہ ان کی گندگی ان کے نفسوں میں ہے اور ان کے عقیدے اور اعمال گندے ہیں۔ اسی طرح صلح حدیبیہ کے موقع پر جب ابو سفیان مدینے گئے تو وہ اس وقت تک مشرک تھے مگر انہیں مسجد نبوی میں داخل ہونے پر کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ مشرکین کی نجاست سے مراد ان کی ظاہری نجاست نہیں بلکہ معنوی گندگی مراد ہے۔ ظاہری اور باطنی نجاست : جیسا کہ پہلے عرض کیا ، ظاہری نجاست کا مطلب گوبر ، خون ، بول براز ہے جب کہ مشرکین ان کے دل میں بھرے ہوے شرک کی وجہ سے نجس ہیں۔ اسی سورة میں منافقوں کے لیے بھی رجس یعنی گندگی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ حضور ﷺ قضائے حاجت کے لیے باہر تشریف لے گئے ، حضرت عبدا للہ بن مسعود ؓ بھی ہمراہ تھے۔ آپ نے فرمایا۔ مجھے استنجا پاک کرنے کے لیے پتھر تلاش کر دو تلاش کرنے پر صرف دو پتھر مل سکے۔ چونکہ استنجا کے لیے تین ڈھیلوں کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے حضرت ابن مسعود ؓ نے دو پتھر اور ایک ٹکڑا خشک گوبر کا دے دیا۔ حضور ﷺ نے پتھر تو لے لیے مگر گوبر پھینک دیا اور فرمایا ( آیت) ” انھا رجس “ یعنی یہ گوبر ناپاک ہے اس سے استنجا پاک نہیں کیا جاسکتا۔ بہر حال مشرکین کی نجاست سے مرادان کی ظاہری پلیدی نہیں بلکہ قلب وروح کی نجاست ہے ، ان کے اعمال اور اخلاق گندے اور نیت گندی ہے۔ لہٰذا وہ اس قابل نہیں کہ مسجد حرام کے قریب آسکیں۔ عام مساجد کا حکم : اب سوا یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت کے ذریعے مشرکین کو صرف مسجد حرام سے بےدخل کیا گیا ہے یا عام مسجدوں کا بھی یہی حکم ہے کہ مشرک ان میں داخل نہ ہو سکیں۔ اس مسئلہ میں آئمہ کرام کا اختلاف ہے۔ امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ تمام مساجد مسجد حرام کے حکم میں داخل ہیں جب کوئی مشرک مسجد حرام میں داخل نہیں ہو سکتا تو وہ کسی بھی مسجد میں جانے کا اہل نہیں۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حکم صرف مسجد حرام کے لیے ہے اور دیگر مساجد میں مشرکوں کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں۔ البتہ اما ابوحنیفہ (رح) کا موقف یہ ہے کہ وہ مشرکین کے مسجد الحرام میں داخل نہ ہونے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ کسی بھی حالت میں وہاں نہیں جاسکتے بلکہ اس آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ مشرک لوگ حج ، طواف یا دیگر عبادات کے لیے وہاں داخل نہیں ہو سکتے ، البتہ اگر کوئی دیگر ضرورت ہو تو وہاں جاسکتے ہیں۔ مثلا مسجد کی دیکھ بھال یا تمیر ومرمت کے لیے ضرورت ہو یا قاضی مقدمہ کی سماعت مسجد میں کر رہا ہو تو مشرک کے داخلے پر پابندی نہیں ہے۔ اس کا جواب اسی وفدِ طائف کے واقعہ میں موجود ہے کہ آپ نے وفد کو مسجد میں ٹھہرایا تھا اور اسلام لانے سے پہلے ابو سفیان کے داخلے پر بھی کوئی پابندی نہ تھی۔ بہرحال مشرکین پر پابندی اسی صورت میں ہے کہ وہ عبادت کے لے آنا چاہیں یا مسجد پر غلبہ حاصل کرنا چاہیں اور یہی حکم عام مساجد کے لیے بھی ہے اب رہی یہ بات کہ کون سے مشرک مسجد کے قریب نہیں آسکتے تو ان میں یہود ونصاریٰ ، مجوسی ، ہندو ، سکھ ، جاپانی ، چینی اور ویٹ نامی تمام کے تمام مشرک شامل ہیں ، کوئی بھی عبادت کے لیے مسجد میں داخل نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ ناپاک ہیں ان کے عقائد اور اعمال گندے ہیں اور ان کے قلوب واذہان نجس ہیں۔ اور یہ ایسی نجاست ہے جو توبہ کے بغیر دور نہیں ہو سکتی۔ اگر کوئی شخص عقائد کی نجاست لے کر اس دنیا سے چلا گیا تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجس ہی رہے گا ایسے لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ( آیت) ” ولا یزکیھم ولھم عذاب الیم “ (البقرہ) اللہ تعالیٰ انہیں کبھی پاک نہیں کریگا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا وہ ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ اسی لیے فرمایا اے ایمان والو ! مشرک لوگ ناپاک ہیں یہ اس سال کے بعد مسجد حرام کے قریب نہ آئیں۔ چناچہ 9 ھ کے بعد کوئی مشرک حج وعمرہ کے لیے مسجد حرام میں نہیں آیا۔ یہ حکم صرف مسجد حرام کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے حرم کے لیے ہے جس میں منیٰ ، مزدلفہ اور عرفات بھی شامل ہیں۔ چونکہ حج کے ارکان انہی مقامات پر ادا ہوتے ہیں لہٰذا ان کی بےدخلی کا حکم ان تمام مقامات کے لیے ہے۔ مسلمانوں کی اقتصادی حالت : آگے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے دلوں میں پیدا ہونے والے اس خدشہ کا ذکر کیا ہے جو مشرکین سے مذکورہ مقاطعہ کی وجہ سے پیدا ہوا جب مشرکین عرب کا داخلہ مسجد حرام یعنی مکہ مکرمہ میں بند کردیا گیا تو بعض مسلمانوں کو خیال پیدا ہوا کہ مشرکین کی تجارتی سرگرمیوں کی وجہ سے ہمیں ضروریاتِ زندگی میسر آتی رہتی تھیں۔ اگر ان کا آنا بالکل بند ہوگیا تو کہیں ہم اقتصادی طور پر مفلوج نہ ہوجائیں اس کے علاوہ مشرکین ضد میں آکر مزید نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے۔ اس طرح ایک طرف تو ضروریاتِ زندگی خوراک ، لباس وغیرہ کی قلت پیدا ہو سکتی ہے اور دوسری طرف بحیثیت مجموعی اقتصادی بدحالی کا شکا ر پید ا ہو سکتی ہے اور دوسری طرف بحیثیت مجموعی اقتصادی بدحالی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اسی خدشہ کو دور فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وان خفتم عیلۃ “ اگر تمہیں محتاجی اور فقر کا خطرہ ہو تو یاد رکھو ! فسوف یغنیکم اللہ “ عنقریب اللہ تعالیٰ تمہیں غنی کر دے گا (آیت) ” من فضلہ “ اپنے فضل سے ان شاء اگر وہ چاہے۔ مقصد یہ ہے کہ تمہاری ضروریات اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں ، وہ تمہاری ضرورت اپنے فضل سے پورا کریگا ، اس سلسلے میں تمہیں کوئی فکر نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ اس کا حکم بلا چوں وچرا تسلیم کرلینا چاہیے۔ اسی پر مکمل بھروسہ رکھنا چاہیے۔ وہ تمہیں بےیارو مددگار نہیں چھوڑے گا۔ اور پھر ایسا ہی ہوا۔ مشرکین اہل ایمان کو کوئی کزند نہ پہنچاسکے۔ بلکہ مسلمانوں کو قریبی زمانہ میں بےپناہ مال و دولت حاصل ہوا۔ بہت سے ملک ان کے تسلط میں آئے ، زمین ، مکانات اور باغات میسر آئے۔ انہیں کوئی خطرہ باقی نہ رہا ، مسلمان تھوڑے ہی عرصہ میں غنی ہوگئے۔ اور اس طرح اللہ نے اپنا وعدہ پورا فرما دیا۔ قرآن پر عمل کرنے کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ایسے اسباب پیدا کیے کہ ان کا تمام احتیاج دور ہوگیا اور خوشحالی آگئی فرمایا (آیت) ” ان اللہ علیم حکیم “ اللہ تعالیٰ کمال حکمت کا مالک ہے۔ اس کی حکمت سے کوئی کام خالی نہیں۔ وہ علیم کل بھی ہے۔ سب باتیں اس کے علم میں ہیں۔ اس نے دین کو غلبہ دیا اور سچے دین کو قائم کرنے کا حکم دیا۔ اگر اہل ایمان اسے سچائی کے ساتھ قبول کریں گے تو اللہ تعالیٰ آسانی فرمائے گا۔ انسان کا علم ناقص ہے جو اللہ تعالیٰ کی ہر حکمت کو سمجھنے سے قاصر ہے لہٰذا انسان کا فرض یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی بلا چون وچرا تعمیل کرے۔
Ayah 9:29

قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ لَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ لَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حَتّٰى یُعْطُوا الْجِزْیَةَ عَنْ یَّدٍ وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ۠ Open ayah 9:29 in the Quran reader

لڑو ان لوگوں سے جو نہیں ایمان لائے اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور نہیں حرام ٹھہراتے اس چیز کو جسے اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے اور نہیں قبول کرتے سچے دین کو ان لوگوں میں سے جن کو کتاب دی گئی ہے ( لڑو ان سے) یہاں تک کہ وہ جزیہ دیں اپنے ہاتھ سے اور وہ دبنے والے ہوں

ربطِ آیات : کذشتہ دروس میں مشرکوں کے ساتھ جہاد کا ذکر تھا ، ان کا کام تو تمام ہوگیا۔ عرب کا خطہ تو حضور ﷺ کے زمانہ مبارک میں ہی شرک اور کفر سے پاک ہوگیا تھا۔ مشرکین کی اکثریت نے اسلام قبول کرلیا اور جو باقی رہ گئے ان میں مقابلے کی سکت نہ تھی فتح مکہ کے بعد قبیلہ ثقیف ، ہوازن اور بنی بکر والے جو حنین کے مقام پر مسلمانوں کے بالمقابل آئے تھے ، وہ سب آخر میں مسلمان ہوگئے۔ البتہ جعلی نبوت کا مسئلہ ابھی باقی تھا۔ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کا فتنہ سر اٹھا رہا تھا اور دوسری اسود عنسی کی جماعت اسلام کے متوازی پروگرام جاری کرنا چاہتی تھی ان کا قلع قمع بھی ہوگیا۔ اب یہود ونصاریٰ باقی رہ گئے جو عرب کے مختلف خطوں میں آباد تھے ، خاص طور پر مدینے کے اطراف اور خیبر یہودیوں کے گڑھ تھے۔ یہ لوگ ہمیشہ اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف رہتے تھے ، اور دین کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے ان اہل کتاب کے متعلق احکام نازل فرمائے ہیں۔ اہل کتاب کے خلاف جہاد : اہل کتاب بھی مشرکین کی طرح اسلام کی اشاعت کے راستے میں رکاوٹ بن رہے تھے ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کے خلاف بھی جہاد کا حکم دیا۔ البتہ اگر یہ لوگ اسلام دشمنی ترک کر کے مسلمانوں کے ماتحت رہنا قبول کرلیں ، اسلامی قانون کی بالادستی تسلیم کرلیں اور شریف شہری بن کر گزر اوقات کرنے پر رضا مند ہوں تو پھر وہ سالانہ جزیہ ادا کر کے مسلمانوں کے زیر تسلط رہ سکتے ہیں۔ اس صورت میں انہیں مذہبی آزادی بھی حاصل ہوگی اور ان کی جان ، مال اور عزت بھی محفوظ ہوگی۔ اور اگر وہ یہ شرط قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوں تو پھر ان کے لیے واحد راستہ یہی ہے کہ ملک بدر ہوجائیں یا پھر جنگ کے لیے تیار ہوجائیں۔ ایمان باللہ : ارشاد خدا وندی ہے (آیت) ” قاتلوا الذین لا یومنون باللہ “ ان لوگوں سے لڑائی کرو جو اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیں لاتے۔ اہل کتاب کا دعویٰ تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں مگر ان کا یہ ادھور ایمان معتبر نہیں ہے مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت معاذ بن جنل ؓ کو یمن کا گورنر بنا کر روانہ کیا تو فرمایا کہ تم ایسے لوگوں کے پاس جا رہے ہو جو اہل کتاب ہیں سب سے پہلے انہیں توحید و رسالت کے اقرار کی دعوت دینا۔ اگر اس دعوت کو مان لیں۔ وہاں پر الفاظ آتے ہیں ” فاذا عرفوا اللہ “ جب وہ اللہ تعالیٰ کو پہچان لیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل کتاب کی معرفت الہٰی درست نہیں ہے حضرت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کی اصلاح میں یہ لوگ حجاب سوئِ معرفت کا شکا ر ہیں۔ مشرک لوگ بھی کسی نہ کسی طور خدا کو مانتے ہیں مگر ان کی پہچان بھی صحیح نہیں۔ جب تک خدا تعالیٰ کی صحیح پہچان اور معرفت نہیں ہوگی۔ اس کی ذات اور صفات کا صحیح تصور نہیں ہوگا ، ان کا ایمان مکمل نہیں ہو سکتا۔ ایمان کی تکمیل اس وقت ہوگی جب انبیاء علیھم السلام کی تعلیم کے مطابق اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کا تصور قائم ہوجائیگا۔ خدا تعالیٰ کی صفات بندوں میں ثابت کرنا اور بندوں کی صفات خدا تعالیٰ میں ماننا دونوں باتیں غلط ہیں اور یہی حجاب سوء معرفت ہے۔ بیٹا ہونا بندوں کی صفت ہے اور اگر یہی صفت خدا تعالیٰ میں مانے گا تو مشرک ہوجائے گا۔ اس کا ایمان باللہ کہاں درست رہا ؟ اسی لیے فرمایا اگر اللہ کی ذات وصفات کا صحیح تصور نہیں ہے تو ایمان بھی نہیں ہے اپنی زبان سے تو اہل کتاب سمیت تمام مذاہب کے پیروکار ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں مگر قرآن ان کی ایمان کی نفی کرتا ہے کیونکہ ان کی پہچان صحیح نہیں ہے۔ اور انہی لوگوں سے جنگ کا حکم ہو رہا ہے۔ قیامت پر ایمان : فرمایا ان سے لڑو جو نہ تو اللہ پر صحیح ایمان رکھتے ہیٰں (آیت) ” ولا بالیوم الاخر “ اور نہ قیامت کے دن پر قیامت کے دن کا تصور تو جبھی درست ہوگا جب ایمان باللہ درست ہوگا۔ جب توحید کے ضمن میں ہی معلوم ہوگیا کہ ان کی پہچان صحیح نہیں ہے۔ یہ لوگ انبیت کے عقیدے کے قائل ہیں اور بعض دیگر باتیں بھی خدا کی طرف غلط طور پر منسوب کرتے ہیں تو ان کا قیامت کا تصور بھی درست نہیں ہے ۔ یہودی ہوں یا نصرانی رسول آخرالزماں کو تو وہ مانتے ہی نہیں آپ کی رسالت کو تسلیم نہیں کرتے لہٰذا وہ اس لحاظ سے کافر ہیں۔ غرضیکہ جو نہ تو اللہ کی وحدانیت کا صحیح تصور رکھتے ہیں اور نہ حضور ﷺ کی رسالت کے قائل ہیں ، ان کا قیامت پر ایمان کیسے درست ہو سکتا ہے ؟ اسی لیے فرمایا کہ وہ قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے۔ حلت و حرمت میں امتیاز : (آیت) ” ولا یحرمون ما حرم اللہ ورسولہ “ اور نہ وہ اس چیز کو حرام ٹھہراتے ہیں جس کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام قرار دیا ہے حرام و حلال میں امتیاز بھی ایمان کی شرط ہے۔ صحیح حدیث شریف میں آتا ہے کہ صحیح مسلمان اس وقت ہوگا جب اللہ کی حرام کردہ چیز کو حرام سمجھے اور حلال کردہ چیز کو حلال سمجھے۔ ایک صحابی ؓ نے عرض کیا حضور ! احللت ما احل اللہ و حرمت ما حرم اللہ کہ اگر میں اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ اشیا کو حلال اور حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھوں ، نماز ادا کروں اور باقی فرائض انجام دوں تو کیا مجھے نجات ملے گی ، تو حضور ﷺ نے فرمایا ، ہاں تجھے نجات ملے گی مطلب یہ ہے کہ حلال اور حرام میں فرق کرنا بھی ایمان کا جزو ہے۔ اس کے برخلاف عیسائی ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی حرام کردہ شراب کو حلال جانتے ہیں۔ خنزیر کو حلال سمجھ کر کھاجاتے ہیں تو ان کا ایمان کیسے قائم رہ سکتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے بعض اشیاء کی حرمت کا حکم قرآن پاک میں صریحا ہے (آیت) ” انما حرم علیکم المیتۃ والدم ولحم الخنزیر وما اھل بی لغیر اللہ “ مردار ، خون خنزیر کا گوشت اور نذر لغیر اللہ قطعی حرام ہیں۔ اللہ کے رسول نے بھی اس کی وضاحت فرما دی ہے اس کے باوجود جو شخص ان میں سے کسی چیز کو حلال سمجھتا ہے وہ مومن کیسے ہو سکتا ہے ؟ اسی طرح اگر کوئی زنا کو حلال سمجھے ، قتل ناحق کو حلال خیال کرے تو وہ ایماندار نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کے حلت و حرمت میں دخل اندازی کی ہے۔ حقیقت میں حلت و حرمت کا قطعی حکم اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتا ہے ، البتہ اللہ کا نبی اس حکم کو ظاہر کرنے والا ہوتا ہے ، شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اگر اللہ کا نبی کہ دے کہ فلاں چیز حرام ہے تو یہ اس بات کی قطعی دلیل ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے واقعی اس چیز کو حرام قرار دیا ہے۔ نبی وحی الہٰی کا متبع ہونا ہے۔ وہ اپنی طرف سے کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں ٹھہراتا بلکہ اللہ کا حکم پہنچاتا ہے۔ دراصل تحلیل وتحریم اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور نبی اس کا بیان کرنے والا ہوتا ہے جس کے متعلق نبی کہ دی کہ یہ حرام ہے ، وہ واقعی حرام ہوتی ہے اس میں کوئی شبہ نہیں ہوتا۔ دین حق کی اطاعت : فرمایا اہل کتاب کا نہ تو ایمان باللہ درست ہے ، نہ ان کا قیامت پر صحیح یقین ہے ، نہ حلال و حرام میں تمیز ہے (آیت) ” ولا یدینون دین الحق “ اور نہ وہ دین حق کی اطاعت کرتے ہیں جو دین حق کو تسلیم نہیں کرتا اس کے خلاف بھی جہاد کیا جائے گا۔ پہلے بھی گزر چکا ہے کہ ائمہ کفر سچے دین کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ اس کی مخالفت کرتے ہیں تو ان کے خلاف جہاد لازم ہوجائے گا۔ یہود ونصاریٰ بھی اسی بیماری میں مبتلا تھے لہٰذا ان کے خلاف بھی جنگ کرنے کا حکم دے دیا گیا۔ دنیا کے دیگر بہت سے مذاہب کا بھی یہی حال ہے ، روسی بھی اللہ کے دین کو پسند نہیں کرتے بلکہ اسے رجعت پسندانہ دین کہتے ہیں ، چینی ہوں یا جاپانی ، امریکی ہوں یا جرمن کوئی بھی حق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں لہٰذا ان کے ساتھ مسلمانوں کا دوستانہ نہیں ہو سکتا ، اگر مسلمان ان کی طرف ہاتھ بڑھائیں گے تو نقصان اٹھائیں گے۔ لہٰذا ان کے ساتھ جب بھی ہوگی جنگ ہی ہوگی۔ غیر مسلم بحیثیت زمی : آگے اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ وہ کون لوگ ہیں جو اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے ، اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ اشیاء کو حرام نہیں سمجھتے اور دین حق کو قبول نہیں کرتے فرمایا (آیت) ” من الذین اوتوا الکتٰب “ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہیں کتاب عطا کی گئی۔ اور ظاہر ہے کہ کتاب کے حاملین یہی دو فرقے یہود و نصاریٰ ہیں یہودی اپنے آپ کو تورات کی طرف منسوب کرتے ہیں اور نصاری انجیل کی طرف ، مگر دونوں نے اپنی اپنی کتابوں کو اس حد تک تبدیل کردیا ہے کہ وہ برائے نام ہو کر رہ گئی ہیں۔ ان لوگوں کو نہ خدا تعالیٰ کی صحیح پہچان ہے اور نہ انبیاء پر صحیح ایمان ہے۔ ان کے ساتھ جنگ ناگزیر ہے تا کہ یہ لوگ دین حق کی اشاعت میں رکاوٹ نہ بن سکیں۔ البتہ ان کے واسطے امان کی ایک ہی صورت ہے (آیت) ” حتی یعطوا الجزیۃ عن ید “ کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دینے لگیں۔ یعنی اسلامی قانون کی بالادستی تسلیم کر کے مسلمانوں کی ماتحتی میں رہنا قبول کرلیں۔ اور مقررہ رقم بطور ٹیکس ہر سال ادا کریں۔ اس طرح وہ ذمی کہلائیں گے اور انہیں اسلامی حکومت کی طرسے اخلاقی ، مادی اور مذہبی تحفظ حاصل ہوجائے گا۔ کافر دو قسم کے ہوتے ہیں۔ حربی کافر وہ ہیں جو مسلمانوں کے ساتھ جنگ کی حالت میں ہوں اور دوسرے ذمی ہیں جو مسلمانوں کی حفاظت میں ہوتے ہیں اگرچہ وہ اپنے دین پر قائم رہتے ہیں ان دونوں قسم کے کافروں کے متعلق سورة ممتحنہ اور بعض دوسری سورتوں میں الگ الگ حکم آیا ہے۔ ذمیوں کو مکمل حقوق حاصل ہوتے ہیں اور ان کی جان ، مال اور عزت دیگر مسلمانوں کی طرح محفوط ہوتی ہے۔ اسی لیے حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جب کوئی کافر بحیثیت ذمی مسلمانوں کی پنا ہ میں آجائے تو وہ شخص مامون ہوگیا جو کوئی ذمی کو قتل کریگا اسے جنت کی خوشبو تک بھی نہیں آئے گی ، یہ اتنا بڑا جرم ہے۔ ذمی کے جرم میں آئمہ کرام کا اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ ذمی کے قاتل سے قصاص لیا جائے گا یعنی اسے قتل کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔ حدیث شریف میں آتا ہے (آیت) ” لا یقتل مومنا بکافر “ یعنی کسی کافر کے قصاص میں مومن کو قتل نہیں کیا جائگا۔ آپ اس سے حربی کافر مراد لیتے ہیں۔ یعنی اگر حربی کافر کو قتل کردیا جائے تو اس کے بدلے میں مومن سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ البتہ اگر ذمی کافر کو مارا جائے گا تو اس کا اسی طرح قصاص لیا جائے گا۔ جس طرح کسی مومن کے قتل کا لیا جاتا ہے۔ کیونکہ جس طرح ایمان لانے کے بعد کسی مومن کا مال ، جان اور آبروا محفوظ ہوجاتی ہے اسی طرح ماتحتی میں آنے والے ذمی کو بھی امان حاصل ہوتی ہے۔ بہرحال فرمایا کہ اہل کتاب میں سے اگر جزیہ دینا قبول کرلیں تو پھر ان کے خلاف جنگ نہ کی جائے۔ جزیہ کے خلاف پراپیگنڈا : اسلام کے قانون جزیہ پر غیر مسلم اقوام نے بڑے اعتراضات کیے ہیں انگریز ، یہودیوں اور ہندوئوں نے اس مسئلہ کو بہت اچھالا ہے جس طرح مسئلہ تعدد ازواج غیر مسلم اقوام کا تختہ مشق بنا تھا ، اسی طرح یہ مسئلہ بھی بنا ہے ۔ مگر یہ اعتراض برائے اعتراض ہے۔ تعدد ازواج کے متعلق تو یہود ، ہنود اور نصاریٰ نے بڑی گندی باتیں لکھی ہیں۔ یہاں راجپال ہندو نے ” رنگیلا رسول “ نامی کتاب لکھ کر مسلمانوں کی غیرت کو چیلنج کیا تھا۔ اس میں تعدد ازواج کے مسئلہ پر سخت ہرزہ سرائی کی گئی تھی۔ حتی کہ حضور ﷺ کی ذات پر بھی حملے کیے گئے ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ غازی علم الدین شہید (رح) نے راجپا ل کو جن ہم واصل کردیا۔ عیسائی اور یہودی معترضین کا حال یہ ہے کہ یہ لوگ سو عورتوں سے زنا کرنے والے شخص پر تو اعتراض نہیں کرتے مگر دو بیویوں سے نکاح کرنے والا گردن زدنی بن جاتا ہے۔ یہ متعصب اور خبیث لوگ ہیں جو مسلمانوں کے اٹل قوانین پر بلا وجہ اعتراض کرتے ہیں۔ جزیہ بطور ٹیکس : آج کل تمام حکومتوں کا نظام ٹیکسوں پر چلتا ہے۔ بعض ممالک میں توکل آمدنی کا دوتہائی ٹیکسوں میں چلا جات ہے۔ اس کے برخلاف جزیہ ایک معمولی سا ٹیکس ہے جو ذمی لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کے بدلے میں وصول کیا جاتا ہے۔ جزیہ کہ شرح خلفائے راشدین کے زمانہ میں ہی مقرر ہوگئی تھی۔ یہ ٹیکس ہر خود روزی کمانے والے آسودہ حال شخص سے اڑتالیس درہم سالانہ متوسط آدمی سے چوبیس درہم اور غریب آدمی سے بارہ درہم سالانہ ہے۔ اور پھر اس میں استثناء بھی ہے۔ اگر کوئی ذمی آدمی فوجی خدمات انجام دے رہا ہے تو اس سے جزیہ ساقط ہوجاتا ہے۔ اس طرح معذور آدمی ، بچے ، عورتیں ، پادری ، گوشہ نشین آدمی بھی جزیہ سے مستثنا ہیں۔ یہ تو عام شرح ہے۔ البتہ اگر صلح کے کسی خصوصی معاہدہ کے تحت کوئی دوسری شرح مقرر کرلی جائے تو وہ بھی درست ہے جیسے حضور ﷺ نے نجران کے عیسائیوں کے ساتھ معاہدہ کیا تھا وہ لوگ حضور کے ساتھ مناظرہ کرنے کے لیے آئے تھے مگر جب مجبور ہر گئے تو صلح کرلی اور کچھ کپڑے اور کچھ نقدی بطور جزیہ دینا قبول کر کے اپنے علاقے میں واپس چلے گئے۔ بہرحال یہ ایک معمولی ٹیکس ہے جو غیر مسلم ذمیوں پر عائد کیا جاتا ہے۔ حالانکہ خود مسلمان اس سے زیادہ زکوٰۃ ادا کرتے ہیں۔ بنو تغلب کے عیسائیوں نے جزیہ کی بجائے زکوٰۃ کی دگنی شرح کے برابر رقم ادا کرنے کی پیش کش کردی۔ حضور ﷺ نے اسے منظور فرما لیا۔ کہا تم جزیہ کی بجائے جو چاہو نام دے دو ۔ ہمیں کوئی اعتراض نہیں حضرت عمر ؓ نے بھی ایسا ہی کیا۔ زکوٰۃ تو چالیسوں حصہ تھا ، اب انہیں بیسواں حصہ دینا پڑا۔ چونکہ وہ لوگ جزیہ کے نام سے بدکتے تھے اس لیے انہوں نے زیادہ ٹیکس دینا منظور کرلیا۔ اہل کتاب کو اس میں بھی سہولت تھی ان کے دین کے مطابق ان کی زکوٰۃ چوتھا حصہ ہوتی تھی مگر انہوں نے بیسواں حصہ ٹیکس ادا کیا اور مامون ہوگئے۔ جزیہ کا دائرہ کار : یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جزیہ صرف اہل کتاب ہیں سے واجب الادا ہوتا ہے یا دیگر کفار سے بھی لیا جاتا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ جزیہ صرف کتابیوں سے لیا جاتا ہے عرب کے مشرکوں کے متعلق حکم یہ ہے کہ وہ دین اسلام قبول کرلیں ، ملک بدر ہوجائیں یا ان کے خلاف جہاد کیا جائے گا۔ ان سے جزیہ قبول کر کے خطہ عرب میں کوئی دوسرا دین باقی نہیں رکھا جاسکتا۔ یہود ونصاری سے جزیہ لینے کی جو اجازت دی گئی تھی ، وہ ایک خاص وقت تک تھی کیونکہ مسلمان ان کی کسی بھی وقت ملک بدر کرسکتے تھے چناچہ حضرت عمر ؓ کے دور خلافت میں پورے عرب کو یہود ونصاری سے پاک کردیا گیا۔ البتہ عربوں کے علاوہ عجمیوں سے جزیہ وصول کر کے انہیں اسلامی حکومت میں پناہ دی جاسکتی ہے۔ مجوسیوں کے متعلق بھی یہی حکم ہے۔ حضرت عمر ؓ کو اس معاملہ میں تردد تھا تو حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے حضور ﷺ کی حدیث پیش کی کہ مجوسیوں کے ساتھ بھی ویسا ہی معاملہ کرو جیسا اہل کتاب کے ساتھ۔ البتہ نہ تم مجوسیوں کی عورتوں سے نکاح کرسکتے ہو اور نہ ان کا ذبیحہ کھا سکتے ہو۔ ان معاملات میں ان کا حکم مشرکوں جیسا ہے ۔ بہرحال عجم کے ہنود ، یہود ، سکھ ، مجوسی ، کوئی بھی ہوں انہیں جزیہ کے بدلے امان دی جاسکتی ہے۔ اہل کتاب کی تذلیل : فرمایا ان سے جنگ جاری رکھوجب تک وہ جزیہ دینا قبول نہ کرلیں ” وھم صٰغرون “ اور جب تک وہ ذلیل اور محکوم نہ ہوجائیں فقہائے کرام فرماتے ہیں عن ید سے مراد یہی ہے کہ ذمی لوگ خود حاضر ہو کر جزیہ جمع کرائیں کسی دوسرے آدمی کے ہاتھ بھیجنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ ان کی ذلت کی نشانی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ ہر ذمی کے لیے کوئی ظاہر نشانی مقرر کر دینی چاہیے جس کے ذریعے وہ دور سے ہی پہنچانا جائے کہ یہ ذمی آدمی ہے تا ہم اس آیت کے مطابق ان کا خود اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کرنا ہی ان کے لیے کافی تذلیل کا باعث ہے آگے اہل کتبا کے عقائد باطلہ اور ان کی خرابیوں کا ذکر آرہا ہے۔ اگرچہ عقیدے کے لحاظ سے یہ بھی مشرکوں جیسے ہی ہیں مگر انہیں کچھ رعایات حاصل ہیں۔
Ayahs 9:30–31

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ عُزَیْرُ اِ۟بْنُ اللّٰهِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَى الْمَسِیْحُ ابْنُ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكَ قَوْلُهُمْ بِاَفْوَاهِهِمْ١ۚ یُضَاهِئُوْنَ قَوْلَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ١٘ۚ اَنّٰى یُؤْفَكُوْنَ Open ayah 9:30 in the Quran reader

اور کہا یہودیوں نے عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور کہا نصاری نے مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ باتیں ہیں ان کے اپنے مونہوں کی مشابہت کرتے ہیں ان لوگوں کی بات کے ساتھ جنہوں نے کفر کیا اس سے پہلے ۔ اللہ انہیں تباہ کرے ، کدھر پھیرے جا رہے ہیں

اِتَّخَذُوْۤا اَحْبَارَهُمْ وَ رُهْبَانَهُمْ اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ الْمَسِیْحَ ابْنَ مَرْیَمَ١ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوْۤا اِلٰهًا وَّاحِدًا١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ سُبْحٰنَهٗ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:31 in the Quran reader

بنا لیا ہے انہوں نے اپنے عالموں اور درویشوں کو رب اللہ کے سوا ، اور مسیح ابن مریم کو حالانکہ ان کو نہیں حکم دیا گیا مگر اس بات کا کہ عبادت کریں ایک ہی خدا کی۔ نہیں اس کے سوا کوئی الٰہ پاک ہے اس کی ذات ان چیزوں سے جن کو یہ ان کے ساتھ شریک بناتے ہیں

ربطِ آیات : گذشتہ آیات میں اہل کتاب کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ وہ جزیہ ادا کر کے ذمی بن جائیں۔ اگر وہ اس طرح مسلمانوں کی ماتحتی قبول کرلیں تو ان کو امن حاصل ہوجائے گا اہل کتاب کے ساتھ لڑائی کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ یہ لوگ اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں لاتے اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ اشیاء کو حرام نہیں سمجھتے اور دین حق کو قبول نہیں کرتے۔ تو فرمایا یہ لوگ خود اپنے ہاتھوں سے جزیہ ادا کر کے ذلت قبول کریں۔ یہاں پر اشارتا یہ بات نکل آئی کہ ان کا ایمان حقیقت میں نہ اللہ تعالیٰ پر ہے اور نہ قیامت کے دن پر اور نہ ہی یہ دین حق کو قبول کرتے ہیں۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے گندے عقیدے کو بیان فرمایا ہے یہ لوگ اسی باطل عقیدے کی اشاعت میں سر گرم رہتے ہیں اور دین حق کے پروگرام کی مخالفت کرتے ہیں ، اس لیے ان کے خلاف جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔ عقیدہ انبیت : اہل کتاب کے غلط عقیدے کی متعلق فرمایا (آیت) ” وقالت الیھود عزیر ن ابن اللہ وقالت النصری المسیح ابن اللہ “ اور یہودیوں نے کہا کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور کہا نصاری نے مسیح اللہ کا بیٹا ہے العیاذ باللہ تورات میں آپ کا نام عزرا Ezr: ذکر کیا گیا ہے ، آپ یہودیوں کیب بہت بڑے عالم اور بزرگ ہوئے ہیں ان کا نام سورة بقرہ میں بھی آچکا ہے جب بخت نصر نے اسرائیلوں پر حملہ کر کے ان کے ملک کو تباہ وبربات کردیا تو یہ لوگ ایک صدی تک اس ظالم بادشاہ کی غلامی میں زندگی بسر کرتے رہے۔ بنی اسرائیلیوں کے تمام آثار مٹا دیے گئے اور ان کے عبادت خانے اور کتابیں بھی ضائع کردی گئیں۔ پھر عزیر (علیہ السلام) کا اس اجڑی ہوئی بستی پر سے گزر ہوا تو تعجب کیا کہ اللہ تعالیٰ اس مردہ بستی کو کیسے دوبارہ زندہ کر دے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں سو سال تک کے لیے موت دے دی۔ پھر اٹھا کر پوچھا تم کتنی دیریہاں پر ٹھرے ، کہنے لگے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ ، فرمایا بلکہ تم سو سال تک یہاں ٹھہرے ہو۔ پھر جب بنی اسرائیل کو غلامی سے آزادی ملی تو عزیر (علیہ السلام) نے اپنی یاداشت کی بناء پر تورات کو دوبارہ جمع کیا جب یہ کتاب دوبارہ اپنی قوم کو دی تو ان کو یقین ہوگیا کہ تورات کی دوبارہ ترتیب جیسا عظیم کام خدا کا بیٹا ہی کرسکتا ہے ، یہ اور کسی کے بس کا روگ نہیں۔ اس طرح قوم نے آپ کو ابن اللہ (خدا کا بیٹا) کا خطاب دیا یہ بات ذہن نشین رہے کہ عزیر (علیہ السلام) کے متعلق ابنیت کا عقیدہ سارے کے سارے یہودیوں کا نہیں تھا بلکہ یہودیوں کا ایک گروہ یا فرقہ تھا جس نے یہ باطل اور شرکیہ عقیدہ وضع کیا۔ اسی طرح نصاری نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہ دیا کیونکہ آپ بغیر باپ کے پیدا ہوئے اللہ کا بیٹا ہونا دوصورتوں میں ہو سکتا ہے ایک صورت تو یہ ہے کہ حقیقی بیٹا تصور کیا جائے اور دوسری یہ کہ (آیت) ” قالوا اتخذ اللہ ولدا “ (البقرہ) خدا تعالیٰ نے بیٹا بنا لیا ہے۔ یعنی حقیقی بیٹا نہیں بلکہ لے پالک یا منہ بولا بیٹا ہے۔ اور پھر اس سے یہ تاثر بھی ابھرتا ہے کہ جیسے خود خدا نے بیٹا بنا لیا ہے ، وہ خدا تعالیٰ کو نہایت لاڈلا اور پیارا ہوگا۔ پھر خدا تعالیٰ اس کو اختیار بھی دے گا اور وہ حاجت روائی اور مشکل کشائی بھی کرے گا۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ حقیقیی بیٹے کا تصور تو نہایت ہی جاہل لوگ رکھتے تھے۔ یہ ویسا ہی تصور ہے جیسا کہ پتھروں کو پوجنے والے ان میں الوہیت مانتے ہیں یہ تصور تو بعد میں آیا ، البتہ ابتدائی نظریہ یہ تھا کہ یہ لوگ نہایت ہی مقرب الی اللہ ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو اختیارات دے رکھتے ہیں اور یہ لوگوں کے کام کرتے ہیں اسی طرح مسیح (علیہ السلام) کے متعلق بھی شروع میں یہ عقیدہ تھا کہ وہ اللہ کا پیارا ہے مگر بعد میں لوگوں نے اسے بیٹا بنا دیا۔ عزیر (علیہ السلام) کو بھی یہودیوں نے خدا کا بیٹا کہ دیا جیسا کہ قرآن پاک نے یہاں بیان کیا ہے۔ حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) کے ایک مرید حاجی امیر شاہ خان مرحوم بڑے نیک آدمی تھے۔ انہوں نے شاہ اسحاق (رح) کو دیکھا تھا۔ آپ نے اپنی کتاب امیرا لروایات میں بعض بزرگوں کے متعلق کچھ مستند مشاہدات بیان کیے جسے مولانا اشرف علی تھانوی (رح) نے مرتب کیا۔ ان کا بیان ہے کہ وہ سیاحت کے سلسلے میں شام و فلسطین کے علاقہ میں گئے ، اور وہاں پر بعض یہودیوں کو دیکھا جو اپنے آپ کو عزیری کہلاتے تھے ، ان کا عقیدہ تھا کہ عزیر (علیہ السلام) خدا کے بیٹے ہیں۔ اگرچہ عام یہودی ابنیت کے قائل نہیں ہیں تا ہم ایک محدود فرقہ ضرور یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ عزیر (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے تھے۔ یہ لوگ شدید غلطی پر ہیں۔ حجاب سوء معرفت : امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ حجاب سوئے معرفت دو وجہ سے واقع ہوتا ہے ، اس سے مراد خدا تعالیٰ کے بارے میں انسان کی غلط پہنچان ہے۔ انسان یا تو شرک کی وجہ سے اس حجاب کا شکار ہوتا ہے یا عقیدہ تشبیہ کی وجہ سے ، شرک یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی کوئی صفت مختصہ کسی مخلوق میں مانی جائے۔ مثلا خدا تعالیٰ علیم کل ہے ، مشکل کشا ہے۔ حاجت روا اور خالق ہے اور اگر کسی غیر اللہ میں بھی یہی صفات مانی جائیں تو یہ شرک کا ارتکاب ہوگا۔ اور تشبیہ یہ ہے کہ انسان کی صفت خدا تعالیٰ میں مانی جائے۔ مثلا اولاد ہونا انسان کی صفت ہے۔ اگر یہی صفت رب تعالیٰ میں مانی جائے۔ اس کی اولاد ثابت کی جائے تو ایسا کرنے والا عقیدہ تشبیہ میں مبتلا ہو کر گمراہ ہوگیا۔ خدا تعالیٰ اولاد سے بالکل مبرا اور منزہ ہے۔ نہ اس کی حقیقی اولاد ہے اور نہ اس نے مخلوق میں سے کسی کو اولاد بنایا ہے۔ وہ تو غنی ہے۔ (آیت) ” لم یلد ولم یولد “ ہے نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے۔ بعض لوگ فرشتوں کو خدا تعالیٰ کی بیٹیاں مانتے ہیں۔ یہ باطل تصور قدیم مصر ، یونان ، بابل اور روما میں بھی پایا جاتا تھا۔ ہندوستان میں ملائکہ کو دیویاں کہتے ہیں جس کا معنی بیٹیاں ہی ہے۔ بہرحال انسان کی صفت خدا میں ماننے والے عقیدہ تشبیہ میں مبتلا ہوئے اور یہی دو چیزیں معرفت الہٰی میں بگاڑ کا باعث بنیں جسے شاہ صاحب حجابِ سوء معرفت کا نام دیتے ہیں۔ مختار کل اللہ ہے : مخلوق میں سے کسی کو خدا کا بیٹا ماننا یا اس کے حق میں اللہ تعالٰٰ کی طرف سے اختیار تفویض کرنا دونوں باطل عقائد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوق میں سے کسی کو اختیار نہیں دیا۔ حاجت روائی اور مشکل کشائی اللہ کا کام ہے۔ تدبیر کرنا بھی خدا کی صفت ہے لہٰذا ہر چیز کی تدبیر بھی وہ خود ہی کرتا ہے۔ اس دنیا میں بادشاہ ، گورنر یا کوئی حاکم اپنے کسی ماتحت کو اختیارات دے دیتا ہے مگر خدا تعالیٰ کے ہاں ایسا کوئی قانون نہیں۔ تمام اختیارات اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ وہاں تو ملائ کی مقربین بھی بےبس ہیں (آیت) ” ماکان لھم الخیرۃ “ ان کو بھی کوئی اختیار نہیں (آیت) ” یفعلون ما یومرون “ وہ تو خدا تعالیٰ کے حکم کے تابع ہیں اور اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ نصاری کے غلط عقائد کی انتہاء یہ ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو جب الہٰ کہا تو آپ کی والدہ مریم علیھا السلام کو مادر خدا کہ دیا۔ یہ سب عقیدہ تشبیہ کا شاخسانہ ہے اور شاہ صاحب کی اصطلاح میں حجاب سوء معرفت ہے۔ کفار سے مشابہت : اللہ نے فرمایا (آیت) ” ذلک قولھم بافواھھم “ یہ برے اعتقاد ان کے مونہوں کی باتیں ہیں (آیت) ” یضاھون قول الذین کفروا من قبل “ یہ ان لوگوں کی بات کے ساتھ مشابہت ہے جنہوں نے کفر کیا اس سے پہلے مطلب یہ کہ اہل کتاب کا یہ عقیدہ پرانے کافروں کے عقیدے کے ساتھ ملتا جلتا ہے۔ پہلے ادوار میں بڑی بڑی قدیم تہذیبیں گزری ہیں۔ ان میں مصری ، بابلی ، اشوری ، ایجنٹا اور ایلوارر تہذیبیں مشہور ہیں۔ ٹیکسلا میں تین ہزار سالہ پرانی گندھارا تہذیب دریافت ہوئی ہے ٹیکسلا کا پرانا شہر کسی حکومت کا دارالخلافہ تھا جو چار میل کے رقبہ میں پھیلا ہوا تھا سندھ میں منجودھاڑو کی پانچ ہزار سالہ پرانی تہذیب کے کھنڈرات پائے جاتے ہیں۔ ان تمام تہذیبوں کے لوگ مشرک تھے۔ ان کے عقائد بھی وہی تھے ، جو نزول قرآن کے زمانے کے یہودیوں اور عیسائیوں کے تھے۔ اسی لیے فرمایا کہ پرانے کافر اور اہل کتاب بدعقیدگی میں قدر مشترک رکھتے ہیں (آیت) ” قٰتلھم اللہ “ اللہ تعالیٰ انہیں تباہ وبرباد کرے (آیت) ” انی یوفکون “ یہ کدھر پھیرے جا رہے ہیں۔ نور ہدایت ایمان اور توحید کے آنے کے بعد بھی یہ ایسی ایسی شرکیہ اور کفریہ باتوں میں ملوث ہیں۔ خدا ان کو ہلاک کرے ، یہ راہ حق سے دور ہٹائے جا رہے ہیں۔ اللہ کے سوا رب : فرمایا اہل کتاب کی ایک خرابی تو یہ ہے کہ یہ عقیدہ تشبیہ میں مبتلا ہوگئے ہیں اور دوسری یہ کہ (آیت) ” اتخذوا احبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ “ انہوں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے علاوہ رب بنا لیا۔ (آیت) ” والمسیح ابن مریم “ اور مسیح ابن مریم کو بھی کبھی انہیٰں الٰہ کہا اور کبھی ابن الٰہ کہ دیا۔ ان میں خدائی اختیارات کو تسلیم کیا اور اس طرح اللہ کے علاوہ دوسروں کو رب بنا لیا ، غیر اللہ کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے گلے اور انہی کی حلال و حرام کردہ اشیاء کو خدائی فیصلہ ماننے لگے۔ حاتم طائی بڑا مشہور آدمی گزرا ہے۔ اس کی سخاوت دنیا بھر میں مشہور تھی ، عیسائی مذہب رکھتا تھا۔ اس کے بیٹے عدی اور بیٹی نے حضور ﷺ کا زمانہ پایا ہے ابتداء میں اسلام کے خلاف تھا اور جنگ میں حصہ بھی لیا مگر آخر میں اللہ نے ہدایت عطا فرمائی اور خود چل کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ترمذی شریف اور مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ جب عدی دربارِنبوی میں حاضر ہوا تو اس کے گلے میں سونے کا صلیب لٹک رہا تھا آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ” الق عند ھذا الوثن “ اس بت کو اپنی گردن سے اتار پھینکو۔ عدی نے وہ صلیب فورا اتار پھینکی۔ صنم اس بت کو کہتے ہیں جو کسی شکل و صورت پر بنایا گیا ہو۔ اور وثن ان گھڑے بت کو کہتے ہیں بہرحال آپ نے وہ صلیب گلے سے اتروا دی اور یہی آیت پڑھی (آیت) ” اتخذوا احبارھم۔۔ الایۃ “ یعنی یہود ونصاری نے اپنے عالموں اور درویشوں کو رب بنا لیا ہے۔ اس پر عدی نے عرض کیا ، حضور ! ہم تو ان کی عبادت نہیں کرتے اور نہ ان کو رب بناتے ہیں۔ آپ نے فرمایا ، کیا تم ان عالموں اور پیروں کے حلال کردہ کو حلال اور حرام کردہ کو حرام نہیں سمجھتے ؟ کہا ایسا تو ہے۔ فرمایا یہی رب بنانا ہے۔ محض سجدہ اور عبادت کرنے سے کوئی رب نہیں بنتا بلکہ اگر غیر اللہ میں تحلیل وتحریم کا اختیار مانلیا جائے تو یہ بھی رب بنانے کے مترادف ہے کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہرانے کا کلی اختیار رب تعالیٰ کے پاس ہے۔ اگر ایسا کوئی فعل نبی کی طرف منسوب کیا جائے تو ا س کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ چیز قطعی طور پر حلال یا حرام ہے اور نبی اس حلت و حرمت کو ظاہر کرنے والا ہے۔ کسی عالم یا درویش کے اختیار میں حلت و حرمت قطعا نہیں ہے۔ مستند قول : شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) لکھتے ہیں کہ عالم کا قول عوام کے لیے سند کی حیثیت رکھتا ہے بشرطیکہ وہ شرع سے سمجھ کر کہا گیا ہو اور اگر وہ قول قرآن وسنت کی بجائے خود اپنی طرف سے بنا کر کہا جائے تو وہ سند نہیں ہوگا۔ یہودیوں میں یہی بیماری تھی کہ وہ اپنی طرف سے حکم لگا کر راستے خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کردیتے تھے۔ انہوں نے خنزیر کو از خود حلال قرار دیا۔ پھر ان پڑھ لوگوں کے ناحق مال کھانے کو جائز قرار دیا ۔ کہتے تھے (آیت) ” لیس علینا فی الامین سبیل “ (آل عمران) ہمارے لیے امیوں کا مال کھانا جائز ہے۔ علماء سو اور پیرانِ سوء ہمیشہ ایسی ہی بات کرتے ہیں وہ بھی ناجائز طریقے سے لوگوں کا مال کھاتے ہیں اور یہی علماء اور پیروں کو رب بنانا ہے۔ ایک صاحب بتلا رہے تھے کہ ایک پیر صاحب دارھی کو خضاب لگاتے تھے۔ ان کی گردن میں پھوڑا نکل آیا۔ حکیم صاحب نے مشورہ دیا کہ خضاب لگانا چھوڑ دیں کہنے لگے یہ تو بڑے پیر صاحب کا حکم ہے کہ خضاب لگا ای کرو۔ لہٰذا نما ، روزہ اور باقی فرائض تو چھوٹ سکتے ہیں مگر خضاب نہیں چھوٹے گا یہی رب بتانے والی بات ہے اور یہی شرک ہے۔ بڑے پیر صاحب کی ایسی بات جو رسول کے حکم کے خلاف ہے اور پھر اس کی وجہ سے بیماری بھی لاحق ہوگئی ہے ، اس کو ترک نہیں کرسکتے۔ علمائے سوء اور پیرانِ سوء کا یہی کام ہے۔ دین کو بگاڑنے والے : حضرت عبداللہ بن مبارک (رح) مشہور تابعی ہیں۔ آپ امام ابوحنیفہ (رح) کے شاگرد اور امام بخاری (رح) کے استاد تھے۔ برے فقیہ ، محدث ، غازی ، مجاہد اور مجتہد تھے آپ کہ یہ مصرعہ مشہور ہے۔ ” وھل افسد الدین الا ا لملوک و احبار سوء ورھبانھا “ یعنی دین کو بگاڑنے والے یا تو بادشاہ ہیں جو اپنی طاقت اور مال و دولت کے بل بوتے پر دین کو اپنی مرضی کا بناتے ہیں۔ یا پھر برے عالم اور برے درویش ہیں جنہوں نے دین میں بگاڑ پیدا کیا ہے اگر بادشاہ بگڑیں گے تو مسلمانوں کی معیشت تباہ ہوگی۔ اگر عالم بگریں گے تو دین تباہ ہوگا اور اگر پیر صاحبان بگڑ جائیں گے تو اخلاق تباہ ہوجائے گا اگر یہ تینوں طبقے بگڑ جائیں تو پھر قوم تنزل کی گہرائیوں میں جا گریگی۔ چناچہ یہ بگاڑ ہماری امت میں بھی آچکا ہے مسلمانوں کے اکثر فتنے ان تینوں گروہوں کے پیدا کردہ ہیں۔ حضرت مجدد الف ثانی (رح) فرماتے ہیں کہ علمائے سو ، دین کے چور ہیں بلکہ ڈاکوئوں سے بھی بڑھ کر مضر ہیں کیونکہ لوگ انہیں نیک اور بزرگ سمجھتے ہیں مگر یہ دین کی بجائے اپنی بات چلاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی شریعت بنا رکھی ہے حالانکہ حقیقت یہ ہے (آیت) ” وما امروا الا لیعبدوا الھا واحدا “ کہ انہیں تو صرف یہ حکم دیا گیا ہے کہ صرف ایک معبود کی عبادت کریں ، عبادت کے لائق سوائے ایک الہٰ کے اور کوئی نہیں مگر لوگوں نے علماء اور دریشوں کو رب بنا لیا ہے۔ اب حرام حلال کے فتوے یہ لگا رہے ہیں۔ فرمایا ” لا الہ الا ھو “ اس کے سوا کوئی الہٰ نہیں ۔ اس کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ۔ کوئی قادر مطلق اور علیم کل نہیں۔ حاضر وناظر اور مختار مطلق صر فاللہ کی ذات ہے۔ مافوق الاسباب کوئی مشکل کشائی نہیں کرسکتا ، مگر صرف اللہ۔ اس کے سوا کوئی خالق اور مدبر نہیں۔ انہوں نے علماء اور درویشوں کو حلال و حرام کے اختیارات دے دیے۔ اور عزیر (علیہ السلام) اور مسیح (علیہ السلام) کو خدا کو بیٹا بنا دیا۔ ان کی عقلوں پر حجاب سوء معرفت پڑگیا ہے اور یہ تباہ ہوگئے ہیں۔ فرمایا ” سبحنہ “ اللہ تعالیٰ کی ذات تو پاک ہے (آیت) ” عما یشرکون “ ان چیزوں سے جن کو یہ خدا کے ساتھ شریک بناتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ وحدہ لا شریک ہے نہ کوئی اس کا ذات میں شریک ہے نہ صفات میں ، نہ عبادت میں ، نہ علم میں ، نہ قدرت میں ار نہ ارادے میں مشرک لوگ خدا کے باغی اور مجرم ہوتے ہیں اور شرک ناقابل معافی جرم ہے۔ اگر کوئی شخص زندگی میں توبہ نہیں کرسکا تو پھر اس کی بخشش کی کوئی صورت باقی نہیں رہ جاتی۔