Ayahs 9:113–116ربط آیات :
گذشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ نے مجاہدین کا ذکر فرمایا تھا کہ وہ اللہ کے راستے میں قتال کرتے ہیں پھر یا تو دشمن کو قتل کرتے ہیں یا خود شہید ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ان لوگوں کے ساتھ وعدہ ہے کہ انہیں بہشت میں مراتب عالیہ نصیب ہوں گے۔ پھر اللہ نے اہل ایمان مجاہدین کے اوصاف بھی بیان فرمائے کہ وہ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں سے توبہ کرتے رہتے ہیں اور ہر وقت خدا تعالیٰ کی عبادت میں منہمک رہتے ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کرتے ہیں اور علم و عبادت کے لیے سیاحت کرتے ہیں ، بےتعلق رہتے ہیں یا روزہ رکھتے ہیں۔ فرمایا وہ رکوع اور سجود کرتے رہتے ہیں یعنی انہیں نماز سے خاص شخف ہے وہ اہل ایمان نیکی کا حکم کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ان کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ کی باندھی ہوئی حدوں کی حفاظت کرتے ہیں ایسے مومنوں کے لیے یقینا بشارت ہے۔
مشرکین کے لیے استغفار کا مسئلہ :
اب آج کی آیات میں حدود اللہ ہی سے متعلق ایک یہ مسئلہ بھی بیان فرمایا گیا ہے کہ (آیت) ” ما کان للنبی والذین امنوا ان یستغفروا للمشرکین ولو کانوا اولی قربی “ اللہ کے نبی اور اہل ایمان کے لیے یہ لائق نہیں ہے کہ وہ شرک کرنے والوں کے لیے بخشش کی دعا مانگیں اگرچہ وہ ان کے قرابتدار ہی کیوں نہ ہوں۔ گویا یہ چیز بھی اللہ کی مقر ر کردہ حدود میں شامل ہے کہ کسی مشرک کے لیے استغفار کرنا جائز نہیں۔
مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے چچا عبدمناف جن کنیت ابو طالب تھی اور وہ حضرت علی کے والد تھے۔ جب ان کا آخری وقت آیا تو حضور ﷺ اپنے چچا کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں دعوت دی کہ تم اپنی زبان سے ” لا الہ الا اللہ “ کہ دو تا کہ قیامت کے دن میں تمہارے حق میں گواہی دے سکوں۔ اس وقت ابو طالب کے پاس ابوجہل اور عبداللہ ابن امیہ جیسے اکابر مشرکین بھی موجود تھے۔ ابو جہل نے ابو طالب سے مخاطب ہو کر کہا ، کیا تو آخری وقت میں اپنے آبائو و اجداد کا دین چھوڑدے گا ، صحیح حدیث میں آتا ہے کہ اس پر ابو طالب نے کلمہ پڑھنے سے انکار کردیا اور کہا کہ میں تو اپنے باپ عبدالمطلب کے دین پر ہوں۔ اگرچہ کسی ایک حدیث میں اس بات کی تصریح نہیں ہے ، تا ہم مختلف احادیث کو جمع کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ابو طالب کا انکار سن کر حضور ﷺ وہاں سے تشریف لے گئے۔ پھر تھوڑی دیر بعد حضرت علی ؓ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ” ان عمک شیخ الضال قدمات “ یعنی آپ کے چچا بوڑھے گمراہ فوت ہوگئے ہیں۔ جب آپ (علیہ السلام) کو ابو طالب کی فوتگی کی خبر ملی تو حضرت علی ؓ سے فرمایا ، جائو جا کر اسے زمین میں داب دو ۔ کسی سے گفتگونہ کرنا اور دفن کرنے کے بعد میرے پاس آجانا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خود حضور ﷺ ابو طالب کے کفن دفن میں شریک نہیں ہوئے۔ پھر جب باپ کو دفن کرنے کے بعد حضرت علی ؓ حضور ﷺ کی خدمت میں حاجر ہوئے تو آپ نے حضرت علی ؓ کے حق میں دعا فرمائی۔ ابو طالب چونکہ حضور نبی کریم کا پرورش کنندہ تھا ، اس نے آپ پر احسانات کیے تھے ، اس لیے آپ کو اس کے ایمان نہ لانے کا بڑا صدمہ ہوا ، تا ہم فرمایا کہ میں تمہارے لیے بخشش کی دعا کرتا رہوں گا۔ جب تک کہ مجھے روک نہ دیا جائے مگر اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی (آیت) ” انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشاء “ (القصص) بیشک آپ ہدایت نہیں دے سکتے جس کو چاہیں بلکہ اللہ جس کو چاہے ہدایت دیتا ہے۔ اس طرح گویا آپ (علیہ السلام) کو ابو طالب کے حق میں دعا کرنے سے روک دیا گیا ، لہٰذا آپ نے اس کے لیے دعائے مغفرت نہ فرمائی۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھا دی ہے کہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا مانگنا حرام ہے ، چاہیے باپ ہو یا بیٹا ، بھائی ہو یا کوئی دوسرا عزیز ہو۔ کافر اور مشرک جب تک دنیا میں موجود رہے اس کے لیے ہدایت کی دعا مانگنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اسے ایمان کی توفیق بخش کر اسے مغفرت کا اہل بنا دے مگر مرنے کے بعد ان کے لیے بخشش کی دعا مانگنا جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرما دیا ہے اور مشرکوں کے متعلق قطعی فیصلہ کردیا (آیت) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر ما دون ذلک لمن یشاء “ (النسائ) اللہ تعالیٰ مشرک کو ہرگز نہیں بخشے گا اور اس کے علاوہ جس کو چاہیے معاف کر دے ۔ مغفرت کی دعا صرف ایمان والوں کے لیے روا ہے ، چناچہ ملت ابراہیمی کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ ” الدعاء لاموات المومنین “ بخشش کی دعا مرنے والے مومنوں کے لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی غلطیوں کو معاف فرمائے اور ان کو جنت الفردوس اور اعلیٰ مرتبہ عطا فرمائے۔ اور دوسری مسلمہ بات یہ ہے کہ صدقہ خیرات کر کے مومن کو ایصالِ ثواب کرنے سے مرنے والے کو اس کا فائدہ پہنچتا ہے تا ہم مشرک کے لیے دعائے مغفرت ہرگز جائز نہیں۔
مشرک کا معلوم ہونا یا تو وحی الٰہی سے ہوگا یا پھر مشرک وہ ہوگا۔ جوا علانیہ طور پر کفر وشرک کے کام کرتا ہو اور اسی پر اسے موت آئی ہو ، مرنے سے پہلے اس نے معافی بھی نہیں مانگی تو ظاہری قرینہ یہی ہے کہ ایسا شخص مشرت ہے ایسے ہی لوگوں کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ اللہ کے نبی اور مومنوں کے لیے لائق نہیں کہ وہ کسی مشرک کے حق میں بخشش کی دعا کریں ، خواہ وہ ان کے قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں (آیت) ” من بعد ما تبین لھم انھم اصحب الجحیم “ بعد اس کے کہ ان پر واضح ہوچکا ہو کہ یہ لوگ جہنم والے ہیں۔ مطلب یہ کہ جب قرائن سے واضح ہوجائے کہ فلاں شخص شرک کا ارتکاب کر رہا ہے اور وہ بغیر معافی مانگے مر جائے تو اس کے لیے بخشش کی دعا کرنا حرام ہوگا۔
با پ کے لیے ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا :
اس فیصلہ کہ کسی مشرک کے لیے دعائے مغفرت کی اجازت نہیں ذہن فورا حضرت ابرہیم (علیہ السلام) کی طرف جاتا ہے کہ انہوں نے بھی تو اپنے مشرک باپ کے لیے بخشش کی دعا کی تھی بلکہ بعض روایا ت میں یہ بھی آتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس عمل کی بنا پر بعض مسلمان بھی اپنے مشرک قرابتداروں کے لیے دعائے مغفرت کرتے تھے۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کو بتوں کی پرستش سے روکنے کی ہر چند کوشش کی ، اسے سمجھایا کہ تم ان بتوں کی پوجا کیوں کرتے ہو جو نہ سنتے ہیں ، نہ دیکھتے ہیں اور نہ تمہیں کچھ فائدہ پہنچاتے ہیں۔ اس کے جواب میں باپ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دھکے دیکر گھر سے نکال دیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ، اچھا تم تو میری بات نہیں مانتے مگر (آیت) ” ساستغفر لک ربی انہ کان بی حفیا (مریم) میں تمہارے لیے اپنے پروردگار سے بخشش کی دعا کروں گا کیونکہ میرا پروردگار میرے ساتھ بڑا ہی مہربان ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنے باپ کے حق میں دعا اسی وعدے کے مطابق تھی جس کو اللہ نے بیان فرمایا ہے (آیت) ” وما کان استغفار ابرھیم لابیہ الا عن موعدۃ وعدھا ایاہ “ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنے باپ کے لیے دعا مغفرت ایک وعدے کی بناء پر تھی۔ (آیت) ” فلما تبین لہ انہ عدو للہ تبرا منہ “ مگر جب انہیں واضح ہوگیا کہ ان کا باپ دشمن خدا ہے تو آپ اس سے بیزار ہوگئے یا استغفار کرنے سے بری ہوئگے۔ پھر اس کے بعد باپ کے لیے دعا نہیں کی۔ بہر حال اگر منہ کا مرجع ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ کی طرف ہو تو معنی ہوگا کہ آپ اپنے باپ سے بیزار ہوگئے ، اور اگر منہ کا مرجع استغفار کی طرف ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ابراہیم (علیہ السلام) اپنے باپ کے حق میں دعا کرنے سے رک گئے۔
آگے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم کی تعریف بیان کی ہے کہ انہوں نے باپ کے حق میں دعا کرنے کا عہد اپنی نرم دلی اور رقیق القلبی کی بناء پر کیا تھا (آیت) ” ان ابراہیم لاواہ حلیم “ بیشک ابراہیم (علیہ السلام) نرم دل اوعر تحمل والے تھے۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھا دی ہے کہ یہ بات حدود اللہ میں سے ہے کہ کسی مشرک کے لیے دعائے مغفرت جائز نہیں ہو خواہ وہ کسی کا باپ ہو ، بیٹا ، بھائی ہو یا کوئی دوسرا عزیز ہو۔
حضور کے والدین :
حضور ﷺ کے چچا ابو طالب کا حال تو معلوم ہے مگر آپ کے والدین کے متعلق روایات مختلف ہیں۔ امام سیوطی (رح) نے ایک مستقل رسالہ اس موضوع پر لکھا ہے اور بعض دوسرے اصحاب نے بھی کتابیں لکھی ہیں جن میں ثابت کیا گیا کہ آپ (علیہ السلام) کے والدین ایمان والے اور ناجی تھے۔ لیکن بعض دوسرے مفسرین اور محدثین نے بعض روایات سے ثابت کیا ہے کہ وہ شرک میں ملوث تھے جیسا کہ اس زمانے کے عام لوگ تھے۔ یہ دونوں کی متضاد باتیں پائی جاتی ہیں۔ تاہم حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) کا فتوی یہ ہے ” السکوت اولیٰ “ یعنی اس معاملہ میں خاموشی ہی بہتر ہے۔ شیخ الاسلام بھی اس مقام پر حاشیے میں لکھتے ہیں کہ حضور ﷺ کے والدین کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ بعض نے انہیں مومن اور ناجی ثابت کرنے کے لیے رسائل لکھے ہیں اور بعض شراح حدیث نے محدثانہ اور متکلمانہ مباحث کیے ہیں مگر احتیاط اور سلامت روی کا طریقہ یہی ہے کہ اس مسئلہ میں زبان بند رکھی جائے اور ایسے نازک مسئلہ میں غور کرنے سے اجتناب کیا جائے ، کیونکہ حقیقتِ حال تو خدا تعالیٰ ہی جانتا ہے اور وہی تمام مسائل کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ کرنے والا ہے جب بھی کوئی حضور ﷺ کے والدین کے بارے میں کوئی سوال کرے تو خاموش رہنا بہتر ہے۔ کیونکہ ان کے متعلق کوئی بات قطعی طور پر ثابت نہیں ہے۔ طبقات ابن سعد میں ہے کہ حضور کے والد نے چوبیس سال کی عمر میں وفات پائی اور آپ کی والدہ نے بھی کوئی زیادہ عمر نہیں پائی۔ یہ فترت کا زمانہ تھا ، لہذا ان کے متعلق کوئی حتمی رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ بہرحال علمائے دیوبند کا مسلک میں نے عرض کردیا بلکہ اس مسئلہ کا ذکر کرنا بھی تجاوز میں داخل ہے۔
اتمام حجت :
آگے اللہ تعالیٰ نے ایک اور بات بیان فرمائی ہے (آیت) ” وما کان اللہ لیضل قوما بعد اذ ھدٰھم “ اللہ تعالیٰ کسی کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ نہیں کرتا۔ (آیت) ” حتی یبین لھم ما یتقون “ جب تک کہ ان کو ان چیزوں سے آگاہ نہ کردے جن سے انہیں بچنا چاہیے۔ پھر جب وہ لوگ غلطی پر اصرار کرتے ہیں تو قوم گمراہ ہوجاتی ہے اور اللہ تعالیٰ بھی ان کو گمراہ قرار دے دیتا ہے۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ انا نبی اور شریعت بھیجے بغیر اور تمام باتوں کی وضاحت کیے بغیر ان پر گمراہی کی مہر لگا دے۔ فرمایا (آیت) ” ان اللہ بکل شیء علیم “ بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی اور اس کا احسان ہے کہ وہ کفر ، شرک ، بدعت اور معاصی وغیرہ سب کو بیان کردیتا ہے تا کہ لوگ ان قبیح چیزوں سے بچ جائیں۔ پھر جب وہ جاننے کے باوجود ان سے باز نہیں آتے تو گمراہی میں جا پڑتے ہیں اور اللہ بھی ان کی گمراہی کی تصدیق کردیتا ہے۔ غرضیکہ اتمام حجت کیے بغیر اللہ تعالیٰ کسی قوم پر گمراہی کی چھاپ نہیں لگاتا۔
ہر ملک ملک خدا است :
فرمایا یہ بھی سن لو ، (آیت) ” ان اللہ لو ملک السموٰت والارض “ بیشک آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے (آیت) ” یحییٰ ویمیت “ موت وحیات کا مالک بھی وہی ہے۔ اہل ایمان کا خدا کے منکرین سے جہاد کسی ذاتی غرض کے لیے نہیں ہوتا ، نہ وہ اپنی ملوکیت قائم کرنا چاہتے ہیں بلکہ مسلمان تو اللہ کے دین کی سربلندی ، اس کے کلمہ کی سربلندی اور دنیا میں اس کے منشاء کو جاری کرنے کے لیے جان ومال کی قربانی پیش کردیتا ہے۔ جب لوگ خالص اللہ کی رضا سے دست کش ہوجائیں گے تو پھر دنیا میں ملوکیت اور امپریلزم کا دور دورہ ہوگا ، شہنشاہیت قائم ہوگی ڈکٹیڑ شپ آئیگی ، دنیا عدل و انصاف سے محروم ہو جائیگی اور بالآخر اس کا نتیجہ تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ مسلمان ہمیشہ اللہ کے دین اور بنی نوع انسان کی بھلائی کے یلے تگ ودو کرتا ہے۔ یاد رکھو ! آسمان و زمین کی بادشاہی صرف اللہ کی ہے۔ وہی ہر چیز کا حقیقی مالک ہے حتی کی موت وحیات بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے لہٰذا ہمیشہ اسی کی بات کو بلند کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
حمایت ونصرت خداوندی :
فرمایا ، یادرکھو ! اگر خدا تعالیٰ کی نافرمانی کروگے ، اکڑ دکھائو گے ، کفر اور شرک کا راستہ پکڑو گے ، بدعات اور معاصی کو اپنائو گے ، خدا تعالٰٰ کے احکام کی خلاف ورزی کرو گے ( آیت) ” وما لکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر “ تو اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی حمائتی ہے اور نہ مددگار۔ جب اس حامی وناصر خدا تعالیٰ ہی کی نافرمانی کرنے لگو گے تو پھر تمہیں اس کے غضب سے کون بچا سکے گا۔ ہر مشکل وقت میں اللہ تعالیٰ کی مہربانی ، شفقت اور ملوفیت ہی تمہارے کام آسکتی ہے۔ اور وہ جبھی حاصل ہوگی جب تم صحیح راستے پر گامزن ہو جائو گے۔ اگر ادھر ادھر غلط راستے اختیار کرو گے ، قرآن پاک کے پروگرام کی بجائے باطل نظام کو اختیار کروگے ، کفر ، شرک ، بدعات اور معاصی کا ارتکاب کرو گے۔ قرآنی تعلیم کے خلاف عمل کرو گے تو تمہیں اللہ تعالیٰ کی حمایت اور نصرت حاصل نہیں ہو سکتی۔ خدا کی حمایت تو اس وقت حاسل ہوگی جب قرآن کے نظام کو رائج کرنے کی کوشش کرو گے ، یاد رکھو ! اللہ کے دین کی مخالفت کرو گے تو خدا کے ہاں سے تمہیں بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ تمہارا کوئی ولی ، سرپرست ، حمائتی یا دوست نہیں ہوگا۔
Ayahs 9:117–119ربط آیات :
گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے دوگروہوں کا ذکر فرمایا تھا۔ پہلا گروہ مہاجرین اور انصار کی مرکزی جماعت ہے جو سب سے پہلے ایمان لائے اور دوسرا گروہ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے پہلے گروہ کی اتباع کی ، اللہ تعالیٰ نے ان کے مال اور جانیں جنت کے بدلے میں خرید لیے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں۔ کبھی دشمن کو قتل کرتے ہیں اور کبھی خود جام شہادت نوش کرتے ہیں۔ پھر اللہ نے ان کی صفات بھی بیان فرمائیں۔ ا ن میں سے ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ اللہ کی حدود کی حفاظت کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قیام حدود ہی کے سلسلے میں مشرکین کے لیے دعائے مغفرت کرنے سے منع فرما دیا چاہے وہ کسی کے قرابت دار ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) کی اپنے مشرک باپ کے لیے دعائے مغفرت کی یہ وجہ بیان کی کہ وہ ایک وعدے کی بنا پر تھی جو ابراہیم (علیہ السلام) نے کیا تھا ، مگر جب انہیں معلوم ہوگیا کہ ان کا باپ اللہ کا صریح دشمن ہے تو انہوں نے بیزاری کا اعلان کردیا اور پھر کبھی باپ کے لیے دعا نہیں کی کیونکہ اس کی موت شرک کی حالت میں ہی واقع ہوئی۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے یہ قانون بھی بتلا دیا کہ خدا تعالٰٰ کسی قوم کو گمراہ نہیں ٹھہراتا جب تک وہ تمام باتیں ظاہر نہ کر دے جن سے بچنا ضروری ہے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے پیغمبر اسلام اور آپ کے متبعین مہاجرین وانصار کی خوبیاں بیان فرمائی ہیں اور ساتھ ساتھ ان سے سرزد ہونے والی معمولی کوتاہیوں کی معافی کا اعلان بھی کیا ہے۔
مخلفین تبوک :
جنگ تبوک میں شامل نہ ہونے والے منافقین کا حال تو بیان ہوچکا ہے کہ ان میں سے بعض نے روانگی سے پہلے جھوٹے حیلے بہانے کر کے حضور ﷺ سے رخصت لے لی اور بعض نے واپس آنے کے بعد عذر پیش کر کے معافی حاصل کرلی ان کے علاوہ بعض مخلص مسلمان بھی تھے جو اپنی کوتاہی کی وجہ سے شریک جہاد نہ ہوئے ، تا ہم انہوں نے صاف صاف اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا۔ ان میں سے سات آدمیوں کا ذکر گذشتہ آیات میں ہوچکا ہے جن میں ابولبابہ رض ، عبدالمنذر ؓ بھی شامل تھا۔ انہوں نے اپنے آپ کو مسجد بنوی کے ستونوں کے ساتھ باندھ لیا تھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی تو ان کو حضور ﷺ نے اپنے دست مبارک سے آزاد کردیا ایسے ہی مخلص مسلمانوں میں سے تین آدمیوں کا ایک دوسرا گروہ تھا جو غزوہ تبوک میں شریک نہ ہوا۔ یہ لوگ بھی مخلص تھے مگر ان پر سستی غالب آگئی انہوں نے بھی جھوتے حیلے بہانے کی بجائے اپنی غلطی کا واضح اعتراف کیا۔ حضور ﷺ نے ان کا قضیہ موخر کردیا کہ اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہوگا۔ اس کے مطابق عمل کیا جائیگا۔ چناچہ ان تین آدمیوں کو اللہ تعالیٰ نے بڑی کڑی آزمائش میں ڈالا اور پھر پچاس روز کے بعد ان کی توبہ قبول فرمائی۔ آج کی آیات میں انہی لوگوں کا تذکروہ کیا گیا ہے۔
نبی کی ذات :
اس توبہ میں خود حضور ﷺ اور تین محفلیں کعب بن مالک ؓ مرارہ بن ربیع ؓ اور ہلال بن امیہ کا ذکر آتا ہے اس ضمن میں حضور ﷺ کی ذات بابرکات کو اس لیے شامل کیا گیا ہے کہ آپ نے اسی کے قریب منافقوں کو جنگ تبوک میں شریک نہ ہونے کی اجازت دیدی تھی۔ انہوں نے جھوٹے حیلے بہانے بنائے مگر حضور ﷺ نے ان پر شفقت کرتے ہوئے انہیں رخصت دی۔ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا پہلا حکم بھی گزر چکا ہے جس میں آپ کو تنبیہ فرمائی گئی ( آیت) ” عفا اللہ عنک لم اذنت لھم “ اللہ آپ کو معاف کرے آپ نے کیوں ان کو رخصت دی ؟ آپ ان کو اجازت نہ دیتے تو ان کا نفاق کھل کر سامنے آجاتا کیونکہ یہ جہاد میں شریک ہونے والے ہرگز نہ تھے ، اب انہیں آپ کی طرف سے اجازت کا بہانہ ہاتھ آگیا ہے اور یہ اسے جواز کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ( آیت) ” لقد تاب اللہ علی النبی “ اللہ نے مہربانی کے ساتھ رجوع فرمایا اپنے نبی پر۔ تاب کا لفظی معنی رجوع کرنا ہوتا ہے اور اس لفظ کا اطلاق اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی ہوتا ہے اور بندوں پر بھی جب یہ اللہ کی طرف منسوب ہوتا ہے تو اس کا معنی ہوتا ہے کہ اللہ نے مہربانی کے ساتھ رجوع فرمایا ، اور جب اس کا اطلاق بندوں پر کیا جاتا ہے تو مطلب ہوتا ہے کہ بندے نے اپنی غلطی کا اعتراف کر کے راستے ترک کردیا ہے اور اب اللہ کی طرف رجوع کرلیا ہے۔ چناچہ گذشتہ آیت میں ایمان والوں کی سب سے پہلی صفت ( آیت) ” التائبون “ بیان کی گئی ہے کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کرنیوالے ہوتے ہیں۔
مہاجرین اور انصار :
تو فرمایا اللہ تعالیٰ نے مہربانی کے ساتھ رجوع فرمایا اپنے نبی پر ( آیت) ” والمھجرین والانصار “ اور مہاجرین اور انصار پر بھی اللہ نے مہربانی فرمائی۔ مہاجرین سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے مشرکین کی ایذاء رسانیوں سے تنگ آکر مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔ ان میں زیادہ تر قریش خاندان کے لوگ اور بعض دوسرے قبائل کے لوگ تھے جو دوسرے مقامات سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ میں آگئے۔ اور انصار مدینہ طیبہ کے رہنے والے وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلام قبول کیا اور پھر دین کی خاطر ہر قسم کی جانی اور مالی قربانی پیش کی اور مہاجرین کی ہر طرح دل جوئی ، ہمدردی اور مدد کی۔ انہی مہاجرین اور انصار کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ وہ لوگ تھے ( آیت) ” الذین اتبعوہ فی ساعۃ العسرۃ “ جنہوں نے تنگی کی گھڑی میں نبی کا اتباع کیا۔ تنگی کی گھڑی سے غزوہ تبوک مراد ہے کیونکہ غزوہ تبوک کا ایک نام ذات العسرۃ یعنی تنگی کے زمانے کا جہاد بھی ہے۔ اس کو تنگی کا زمانہ اس لیے کہا گیا ہے کہ گرمی کا زمانہ تھا کجھوروں کا فصل پک چکا تھا اگرچہ قحط کے زمانے کی وجہ سے فصل کی حالت اچھی نہ تھی۔ مجاہدین کے لیے خوراک اور دوسرا سامان بالکل قلیل تھا۔ سواریوں کی حالت یہ تھی کہ دس دس آدمیوں کے لیے ایک ایک سواری میسر آئی تھی ، راستہ بڑا کھٹن اور دور دراز کا تھا۔ ایک مہینہ جانے کے یے اور ایک مہینہ آنے کے لیے درکار تھا۔ پھر رستے میں خوراک کا ذخیرہ ختم ہوگیا اور ایسا وقت بھی آیا جب دو دو آدمیوں کے حصے ایک ایک کھجور آتی تھی۔ جب یہ بھی ختم ہوگئیں تو مجاہدین کھجور کی گھٹلیاں چوس کر اگر تھوڑا بہت پانی مل جاتا تو پی کر گزارہ کرتے۔ پھر پانی بھی بالکل ختم ہوگیا اور ایسا وقت بھی آیا کہ اونٹ ذبح کیا اور اس کی اوجھڑی کے الائش شدہ پانی سے اپنی زبان کو تر کیا۔ ان تمام تکالیف کے علاوہ ایک منظم طاقت کے ساتھ مقابلہ تھا جس کی باقاعدہ فوج دو تین لاکھ تھی۔ اور ادھر مسلمان مجاہدین کی تعداد مختلف روایات کے مطابق تیس ہزار سے لیکر ستر ہزار کے درمیان تھی۔ انہی حالات کی بنا پر راستے تنگی کی گھڑی کہا گیا ہے۔
فرمایا وہ مہاجرین اور انصار جنہوں نے تنگی کی گھڑی میں اپنے نبی کا ساتھ دیا ( آیت) ” من بعد ما کاد یزیغ قلوب فریق منھم “ بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ان میں سے بعض آدمیوں کے دل کج ہوجاتے بعض لوگوں کے دلوں میں یہ خیال پیدا ہو چلا تھا کہ یہ تو بڑا کھٹن سفر ہے ، لہٰذا اس سے بچنا ہی چاہیے مگر اللہ نے ان کے دلوں کو سہارا دیا۔ جنگ احد کے موقع پر بھی ایسا ہی ہوا تھا جب بنی سلمہ اور بنی حارثہ کے لوگوں نے بزدلی کا ارادہ کیا مگر اللہ تعالیٰ نے انہیں سہارا دیدیا۔ بہرحال فرمایا کہ اتنی سختی کا زمانہ تھا کہ قریب تھا کہ بعض کے دل پھرجاتے اور وہ غزوہ سے رہ جاتے مگر ( آیت) ” ثم تاب علیھم “ پھر اللہ نے اپنی مہربانی کے ساتھ رجوع فرمایا اور ان کی کوتاہیوں کو دور کیا۔ ( آیت) ” انہ بھم رء وف رحیم “ بیشک اوہ ان کے ساتھ شفقت کرنے والا اور مہربان ہے۔
تین مخلصین کی آزمائش :
عام مسلمانوں کی بات تو ہوگئی کہ جن سے چھوٹی موٹی لغزش ہوگئی تھی ، اللہ تعالیٰ نے سب کو معاف کردیا۔ اس سے پہلے ان سات آدمیوں کی معافی کا ذکر بھی ہوچکا ہے جو محض سستی کی وجہ سے غزوہ تبوک میں شریک نہ وہ سکے اور انہوں نے حیلے بہانے بنانے کی بجائے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں کے ساتھ ستونوں کے ساتھ باندھ دیا تھا اب ان تین مخلص مسلمانوں کا ذکر ہورہا ہے جنہیں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے سخت ابتلاء سے گزرنا پڑا یہ تین آدمی کعب بن مالک رض ، مرارہ بن ربیع رض ، اور ہلال بن امیہ ؓ تھے۔ اپنی کاہلی کی وجہ سے شریک جہاد نہ ہوئے۔ پھر جب حضور ﷺ واپس تشریف لائے تو ان لوگوں نے اپنی غلطی کا صاف صاف اقرار کیا۔ ان میں سے مرارہ ؓ اور ہلال ؓ بدری صحابی ہیں جب کہ کعب ؓ معرکہ بدر کے سوا ہر جہاد میں شریک ہوتے رہے۔ ہجرت سے پہلے مکہ جا کر ایمان لائے اور حضور ﷺ کو مدینہ کی طرف ہجرت کی دعوت بھی دی۔ جب یہ لوگ حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو آپ نے کعب بن مالک ؓ سے فرمایا کہ تمہارے پاس تو سواری بھی موجود تھی۔ پھر تم جہاد میں کیوں شریک نہ ہوئے ؟ عرض کیا ، حضور ! میرے پاس ایک چھوڑ دوسواریاں تھیں مگر مجھ پر سستی غالب آئی اور یہ میری غلطی ہے ، میرا کوئی عذر نہیں ابتدا میں تو میں نے خیال کیا کہ کوئی بات نہیں لشکر روانہ ہوگیا تو تیزرفتار سواری پر چل کر ان سے جا ملوں گا۔ اس طرح آجکل کرتا رہا حتی کہ آپ کی واپسی کی خبریں آنے لگیں۔ بہت متفکر ہوا مگر دل میں پختہ ارادہ کرلیا کہ ساری بات سچ سچ کہ دوں گا۔ کوئی حیلہ بہانہ نہیں کروں گا۔ یہ سارا واقعہ کب بن مالک ؓ نے خود اپنی زبان میں بیان کیا ہے صحاح ستہ کی تمام کتابوں میں موجود ہے۔ بہرحال آپ نے کعب ؓ کی بات سن کر انہیں فارغ کردیا اور فرمایا کہ تمہارے بارے میں اللہ تعالیٰ کا جو فیصلہ ہوگا۔ اس کے مطابق عمل کیا جائے گا۔
اس کے بعد حضور ﷺ نے ان تین آدمیون کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا اور حکم دے دیا کہ کوئی شخص ان سے سلام کلام یا لین دین نہ کرے ان میں سے دو آدمی تو ضعیف تھے وہ گھروں میں بیٹھ گئے۔ البتہ کعب ؓ مسجد میں نماز کے لیے آتے رہے۔ کسی سے سلام کرتے تو کوئی جواب نہ دیتا۔ راستے چلتے کوئی کلام کرنے کو تیار نہ تھا جب اس مقاطعہ کو چالیس دن گزر گئے تو حضور نے حکم دیا کہ ان تینوں کی بیویوں سے بھی کہ دو کہ ان سے الگ ہوجائیں۔ ان کی اس حالت کا اشارہ قرآن پاک میں موجود ہے۔ ان کو اس قدر پریشانی لاحق ہوئی کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ار بعض دیگر اکابر صحابہ بھی پریشان ہوگئے۔ حضرت کعب ؓ خود فرماتے ہیں کہ اگر اسی مقاطعہ کے دوران میری موت واقع ہوجاتی تو کوئی مسلمان میرا جنازہ تک نہ پڑھتا بلکہ مجھے کافر ہی سمجھتے۔
مقاطہ کا شرعی حکم :
مفسرین اور محدثین کرام بیان کرتے ہیں کہ اس واقعہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ کسی کا مقاطعہ کرنا جائز ہے ، البتہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ کسی آدمی سے تین دن سے زیادہ رنجش رکھنا جائز نہیں بلکہ حرام ہے اگر ایسا کریگا تو آدمی گناہگار ہوگا۔ البتہ اس مسئلہ میں مقاطعہ پچاس دن تک جاری رہا مفسرین کرام اس کی توجہیہ یہ کرتے ہیں ، کہ کسی دنیاوی معاملہ میں تو مقاطعہ یا بائیکاٹ تین دن سے زیادہ روا نہیں ، لیکن دینی معاملہ میں مقاطعہ کی کوئی حد نہیں ، یہ ان تو یہ بائیکاٹ صرف پچاس دن تک جاری رہا ، مگر ضرورت کے مطابق یہ سال ، دو سال بلکہ ساری عمر کے لیے بھی بڑھایا جاسکتا ہے لہٰذا دینی معاملہ میں تین دن والی حدیث کا اطلاق نہیں ہوتا۔
توبہ کی قبولیت :
بہرحال جب اسی حالت میں پچاس دن گزر گئے اور ان لوگوں کی حالت میں پچاس دن گزر گئے اور ان لوگوں کی حالت بہت خراب ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ” وعلی الثلثۃ الذین خلفوا “ پھر ان تین شخصوں پر بھی اللہ تعالیٰ نے مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی جو پیچھے رہ گئے تھے اور جن کا عذر قبول نہیں کیا گیا تھا۔ (آیت) ” حتی اذا ضاقت علیھم الارض بما رحبت “ یہاں تک کہ کشادگی کے باوجود جب ان پر زمین تنگ ہوگئی۔ کعب ؓ فرماتے ہیں کہ میری حالت واقعہ اس آیت کے مصداق تھی۔ میرے دل میں سخت گھٹن تھی ، مجھے زمین تنگ نظر آرہی تھی اور میں سخت پریشانی کے عالم میں تھا (آیت) ” وضاقت علیھم انفسھم “ اور خود ان کی جانیں بھی ان سے تنگ ہوگئیں۔ انہیں خود اپنی ذات پر بھی تنگی محسوس ہونے لگی۔ (آیت) ” وظنوا ان لا ملجا من اللہ الا الیہ “ اور انہوں نے یقین کرلیا کہ خدا تعالیٰ کے سوا ان کے لیے کہیں کوئی جائے پناہ نہیں۔ ثم تاب علیھم لیتوبوا “ پھر اللہ نے ان پر مہربانی کے ساتھ رجوع فرمایا تا کہ یہ لوگ بھی اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں سے تائب ہوجائیں۔ اور آئندہ ایسی غلطی نہ کریں۔ (آیت) ” ان اللہ ھو التواب الرحیمن “ بیشک اللہ تعالیٰ وہی ہے مہربانی کے ساتھ رجوع کرنے والا اور نہایت مہربان اس نے ان لغزش کرنے والوں پر بھی اپنی مہربانی فرمائی اور انہیں معاف کردیا۔
سچائی کی برکت :
اب اگلی آیت میں تمام لوگوں کو اس اصول کی طرف دعوت دی جا رہی ہے جس پر قائم رہ کر یہ تین آدمی کامیاب ہوئے۔ یہ سچائی کا اصول ہے ان لوگوں نے کوئی حیلہ بہانہ نہ بنایا اور نہ کوئی عذر پیش کیا بلکہ سچائی کو اختیار کرتے ہوئے اپنی غلطی کا اعتراف کیا تو اسی اصول کے متعلق ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” یایھا الذین امنوا اتقو اللہ “ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے رہو ، خدا تعالیٰ کی گرفت اور اس کی سزا بری سخت ہے ، ہمیشہ سچ بولو (آیت) ” وکونوا مع الصدقین “ اور سچے لوگوں کے ساتھ رہو دیکھو ! ان تین آدمیوں نے سچائی کا راستہ اختیار کیا تو بالآخر کامیاب ہوئے ، اللہ تعالیٰ نے ان کی غلطی معاف فرمادی۔ اسی طرح اگر تم بھی سچائی پر قائم رہو گے ، سچے لوگوں کا ساتھ دو گے تو تمہیں بھی فلاح نصیب ہوگی۔ لہٰذا ہمیشہ صادق القول والفعل بننے کی کوشش کرو۔
حضرت کعب بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں نے دل میں ارادہ کیا کہ میں ہمیشہ سچائی ہی کو اختیار کروں گا کیونکہ اس ابتلاء سے مجھے میری سچ گوئی نے ہی بچایا ہے۔ چناچہ عام اہل ایمان کو بھی اللہ تعالیٰ نے سچائی اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ ” الصدق ینجی والکذب یھلک “ سچائی کے ذریعے انسان نجات حاصل کرتا ہے اور جھوٹ کے زریعے ہلاک ہوتا ہے جھوٹ بول کر وقتی طور پر تو منافقین بچ گئے۔ مگر آخر کار تباہ وبرباد ہوئے ، اور سچے لوگوں نے اگرچہ وقتی طور پر تکلیف اٹھائی مگر بالاخر وہی کامیاب ہوئے۔
Ayahs 9:120–121ربط آیات :
سابقہ سورة انفال اور یہ سورة توبہ دونوں جہاد کے احکام پر مشتمل ہیں 9 ھ میں جو غزوہ تبوک یش آیا تھا ، اس کی بھی کافی تفصیلات بیان ہوچکی ہیں۔ اس ضمن میں اللہ کے نبی اور ایمانداروں کی محنت ، لگن اور جانفشانی کا ذکر ہوا ہے اور دوسری طرف منافقین کی بزدلی ، چال بازی اور سازشوں کی نشاندہی بھی ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ تیسری اہم چیز ان مخلص مسلمانوں کو تنبیہ ہے۔ جو غزوہ تبوک میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ اللہ نے ان کے دو گروہوں کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلا گروہ سات آدمیوں کا تھا ، جنہوں نے اپنی غلطی کا اعتراف کر کے سزا کے طور پر اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں کے ساتھ باندھ لیا۔ اللہ نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور انہیں معاف کردیا۔ دوسرے گروہ میں تین عظیم المرتبت آدمی تھے۔ یہ بھی نہایت مخلص مسلمان تھے۔ مگر اپنی سستی کی وجہ سے جہاد سے پیچھے رہ گئے۔ ان کا معاملہ اللہ نے موخر کردیا اللہ تعالیٰ نے ان کو سخت ابتلا میں ڈالا ، سارے مسلمانوں نے ان کا مکمل بائیکاٹ کردیا جو کہ متواتر پچاس روز تک جاری رہا حتی کہ وہ خود اپنے آپ سے تنگ آگئے۔ پھر اللہ نے آیتیں نازل فرما کر ان کی توبہ کی قبولیت کا اعلان بھی فرمایا۔ پھر انہوں نے وہ مال بھی اللہ کی راہ میں صدقہ کردیا جو ان کے لیے جہاد میں عدم شرکت کا باعث بنا تھا۔
رسول اللہ ﷺ کی عدم رفاقت :
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کو تنبیہ فرمائی ہے اور اس میں شرکت والوں کے یلے اجروثواب کا تذکرہ کیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ماکان لاھل المدینۃ ومن حولھم من الاعراب “ نہیں لائق تھا اہل مدینہ اور اطراف کے رہنے والے دیہاتیوں کے لیے (آیت) ” ان یتخلفوا عن رسول اللہ “ کہ وہ پیچھے رہتے اللہ کے رسول سے ۔ یہ غزوہ تبوک ہی کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ کے نبی نے روانگی سے دو تین ماہ پہلے عام اعلان فرما دیا تھا اور تیاری کا حکم دیا تھا ، اور پھر حضور ﷺ بنفس نفیس جہاد میں شریک ہو کر صعوبتیں برداشت کر رہے تھے تو مدینہ اور اطراف کے لوگوں کے لیے ہرگز مناسب نہیں تھا کہ وہ پیغمبر خدا کے ساتھ شامل ہو کر اللہ کی راہ میں جہاد نہ کرتے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے جہاد سے گریز کرنے پر تنبیہ فرمائی ہے کہ انہوں نے پیچھے رہ کر کوئی اچھا کام نہیں کیا بلکہ مخلص مسلمانوں کے شایان شان ہی نہیں تھا کہ وہ جہاد میں شریک نہ ہوتے۔
لائق ترجیح ذات :
فرمایا نہ تو پیچھے رہنا ان کے مناسب حال تھا (آیت) ” ولا یرغبوا بانفسھم عن نفسہ “ اور نہ یہ بات ان کے لیے مناسب تھی کہ وہ اپنی جانوں کو رسول اللہ کی ذات پر ترجیح دیتے مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ تو جہاد میں شریک ہو کر سفر اور جنگ کی تکلیفیں اٹھا رہے ہیں۔ بھوک اور پیاس کو برداشت کر رہے ہیں مگر مدینہ اور اطراف کے بعض لوگ گھروں میں آرام و سکون کے ساتھ بیٹھے ہیں ، کیا وہ لوگ حضور ﷺ کی ذات مبارکہ پر قابل ترجیح ہیں۔ اہل ایمان کا شیوہ تو یہ ہے کہ وہ اپنی جان اللہ کے نبی کی جان پر نثار کردیں اور ان کی راحت کو ملحوظ رکھیں مگر یہاں الٹ ہوگیا ہے یہ لوگ گھروں میں آرام کر رہے ہیں اور حضور ﷺ مصائب پر مصائب برداشت کر رہے ہیں۔ کہ انہیں اس پر سخت ندامت ہوئی ، ان کا باغ تھا ، فصل پکنے کو تیار تھا۔ حسین جمیل بیوی نے وہاں پانی کا چھڑکا ئو کیا تا کہ ابو خثیمہ وہاں آرام کریں۔ جب وہ باغ میں پہنچے تو آرام و سکون کی جگہ کو دیکھ کر انہیں یکدم خیال آیا کہ میں یہاں سائے میں اپنی بیوی کے ہمراہ بیٹھا ہوں مگر اللہ کا رسول دھوپ اور گرمی کی تکالیف برداشت کر رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ یہ سوچ کر مجھ پر بجلی سی گری ، میں نے سب کچھ وہیں چھوڑا ، سواری لی اور تنہا ہی حضور ﷺ کے پیچھے چل پڑا۔ قافلہ بہت دورجا چکا تھا۔ راستے میں ایک جگہ پڑائو تھا تو میں بھی قریب پہنچ گیا۔ ادھر جب حضور ﷺ نے دور دے گرد و غبار اڑتا دیکھا تو اپنے نور بصیرت سے فرمایا کہ آنے والا ابو خثیمہ ہونا چاہیے اور حقیقت میں ایسا ہی تھا۔
کعب بن مالک ؓ کا پہلے ذکر ہوچکا ہے ، وہ بھی پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھے۔ جب قافلہ روانہ ہوگیا تو وہ خیال کرتے رہے کہ آج چلا جائوں گا ، کل روانہ ہو جائوں گا ، اسی طرح پندرہ بیس دن گزر گئے اور وہ روانہ نہ ہوئے پھر انہیں ندامت ہوئی اور انہوں نے واپسی پر حضور کے سامنے ساری بات سچ سچ کہہ دی جس پر اللہ نے انہیں سخت ابتلاء میں ڈالا اور پچاس دن کے بعد ان کی توبہ قبول ہوئی۔ مطلب یہ کہ ان کے لیے یہ بالکل مناسب نہیں تھا کہ حضور تو سفر پر روانہ ہوں اور یہ گھر میں آرام سے بیٹھے رہیں۔
حضرت خبیب ؓ کا واقعہ طبقات ابن سعد میں تفصیل کے ساتھ مذکور ہے۔ جب مشرکین آپ کو سولی پر لٹکا رہے تھے تو انہوں نے کہا ، اے خبیب ! اس وقت تو تم ضرور دل میں خیال کرتے ہو گے ، کاش کہ اس وقت تمہاری جگہ محمد ﷺ ہوتے اور تمہاری جان بچ جاتی حضرت خبیب ؓ نے جواب دیا ، ظالمو ! خوب سن لو ! اگر میری سو جانیں بھی ہوں اور وہ ایک ایک کر کے اللہ کی راہ میں قربان ہوجائیں تو مجھے کبھی یہ بھی گوارا نہیں ہوگا کہ میرے آقا کے پائوں میں کانٹا بھی چبھ جائے ، تم کسی خیا ل میں ہو ؟ وجہ ظاہر ہے کہ وہ لوگ نبی کی جان کو اپنی جان پر ترجیح دیتے تھے۔ اسی طرح حضرت ابودجانہ ؓ کا احد والا واقعہ بھی طبری میں موجود ہے۔ جب دشمن کی طرف سے تیروں کی بارش ہو رہی تھی تو انہوں نے اللہ کے نبی کے سامنے اپنی پشت کو ڈھال بنا رکھا تھا۔ ان کی پشت پر چوراسی تیر لگے۔ اتنی تکلیف اٹھائی مگر یہ نہ پسند کیا کہ اللہ کے نبی کو کوئی تکلیف پہنچے۔ تو مومن کی شان تو یہ ہے کہ وہ نبی کی ذات کو اپنی ذات پر ترجیح دے نہ کہ اپنی جان کو نبی کی جان پر ترجیح دے۔
جہاد کا اجروثواب :
فرمایا (آیت) ” ذلک “ جہاد میں شرکت کا بہت بڑا فائدہ یہ ہے (آیت) ” بانھم لا یصیبھم ظما ولا نصب ولا مخمصۃ فی سبیل اللہ “ کہ مجاہدین کو اللہ کے راستے میں جو بھی پیاس ، تھکاوٹ اور بھوک پہنچے (آیت) ” ولا یطون موطئا “ اور جس روندنے کی جگہ کو بھی وہ روندیں (آیت) ” یغظ الکفار “ جس سے کافر غصہ میں آئیں (آیت) ” ولا ینالون من عدو نیلا “ اور جو کچھ بھی وہ دشمن سے پائیں (آیت) ” الا کتب لھم بہ عمل صالح “ تو ان چیزوں کے بدلے میں ان کے لیے نیک عمل لکھا جائیگا یہاں پر اللہ تعالیٰ نے بعض ایسی چیزوں کا ذکر کیا ہے جو ایک مجاہد کو عام طور پر پیش آتی ہیں۔ مثلا سب سے پہلے بھوک پیاس اور تھکاوٹ کا ذکر ہے۔ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ غزوہ تبوک کے ضمن میں اسلامی لشکر کو کسی قدر بھوک اور پیاس برداشت کرنا پڑی ، خوراک کا ذخیرہ ختم ہوگیا اور پھر دو دو مجاہدین کو ایک ایک کھجور پر گزارا کرنا پڑا۔ جب پانی بالکل ختم ہوگیا تو اونٹ کی اوجھڑی کے الائش شدہ پانی سے حلق کو تر کرتے رہے۔ اس سفر میں سواریوں کی کمی کی وجہ سے اکثر صحابہ کو یہ سفر پیدل طے کرنا پڑا جس کی وجہ سے تھکاوٹ کا ہوجانا بھی فطری تھا۔
کسی جگہ کو پائوں سے روندنے کا مطلب یہ ہے کہ دور دراز کا سفرکر کے دشمن کے علاقہ میں جانا ہوتا ہے۔ (آیت) ” موطئا “ اگر ظرف کے طور پر استعمال ہو تو معنی ہوگا روندنے کی جگہ اور اگر یہ مصدر سمجھا جائے تو مطلب روندنا ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ محاذ جنگ پر پہنچنے کے لیے راستے کی جتنی بھی تکالیف برداشت کریں گے جو کفار کو غصہ دلائیں ، ظاہر ہے جب کسی دوسرے ملک کی زمین کو پائوں سے روندا جائے گا تو وہ ضرور غضبناک ہوگا اور اسے غصہ آئے گا ، لہٰذا دشمن کی طرف سے غصے کا اظہار اور اس سے حاصل ہونے والی ہر چیز خواہ وہ مال کی صورت میں ہو یا اسلحہ کی صورت میں ، خوراک کا ذخیرہ ہو ایا مویشی ہوں۔ جزیہ ہو یا پھر دشمن کے لوگ قیدی بنا لیے جائیں ، جو کچھ بھی حاصل ہو ، فرمایا ان تمام چیزوں کے بدلے یعنی مجاہدین اسلام کے ہر ہر عمل کے بدلے اللہ تعالیٰ ان کے نامہ اعمال میں نیک عمل لکھ لیتا ہے۔ ایک حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ اللہ کے راستے کے گھوڑے کی لید ، پیشاب اور اس کا اچھلنا کودنا بھی نیکیوں میں درج ہوجاتا ہے اور قیامت کے دن ان تمام چیزوں کا اجر عظیم حاصل ہوگا کیونکہ (آیت) ” ان اللہ لا یضیع اجر المحسنین “ اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا بلکہ انہیں ہر نیک عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جاتا ہے۔
مال خرچ کرنیکا اجر :
یہ تو اللہ نے ذاتی محنت و کاوش کا اجر وثواب بیان فرمایا اب آگے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی فضیلت بیان ہو رہی ہے (آیت) ” ولا ینفقون نفقۃ صغیرۃ ولا کبیرۃ “ یہ مجاہدین جو بھی خرچ کریں گے تھوڑا یا زیادہ۔ اللہ کے راستے میں حسب حیثیت خرچ کرنے کی بےشمارمثالیں موجود ہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رض ، حضرت عثمان ؓ اور حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ صاحب مال صحابہ میں سے تھے۔ انہوں نے ہر ضرورت کے موقع پر دل کھول کر خرچ کیا۔ صدیق اکبررض نے اس غزوہ کے موقع پر گھر کا سارا اثاثہ لا کر پیش کردیا۔ دریافت کرنے پر بتایا کہ گھر میں صرف اللہ اور اس کے رسول کا نام چھوڑ آیا ہوں۔ حضرت عمررض نے نصف مال لا کر پیش کردیا۔ حضرت عثمان ؓ نے اس قدر خرچ کیا کہ حضور ﷺ نے فرمایا ، اگر آج کے بعد عثمان ؓ کوئی نیکی بھی نہ کرے تو کامیابی کے لیے اس کا یہی عمل کافی ہے۔
اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کا عام قانون یہ ہے کہ ایک روپیہ کرچ کرنے کے بدلے میں اللہ تعالیٰ دس گنا ثواب عطا کرتا ہے مگر جہاد کے سلسلے میں انفاق فی سبیل اللہ کا کم از کم اجر سات سو گنا ہوتا ہے۔ اس سے زیادہ جتنا عطا کر دے اس کی کوئی حد نہیں۔ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص نے ایک اونٹنی بمع کجاوہ اور پالان جہاد کے لیے حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کی۔ آپ نے فرمایا ، بہت اچھا ، اللہ تمہین اس کے بدلے میں قیامت کے دن اسی طرح کی کسی کسائی سات سو اونٹنیاں دے گا۔
فرمایا وہ جو بھی کم یا زیادہ خرچ کریں (آیت) ” ولا یقطعون وادیا “ اور جہاد کے لیے کوئی بھی وادی یا میدان طے کریں (آیت) ” الا کتب لھم “ تو ان کے لیے لکھ دیا جاتا ہے (آیت) ” لیزیھم اللہ احسن ما کانوا یعملون “ تا کہ اللہ ان کو بہتر بدلہ دے ان کاموں کا جو وہ انجام دیتے رہے۔ ظاہر ہے کہ ہر کام سے مراد نیکی کے کام ہیں کیونکہ برائی کے کام پر تو اچھا بدلہ نہیں ملتا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ بعض کام حسن ہوتے ہیں اور بعض احسن ، مگر جزائے عمل ہمیشہ احسن ہوتی ہے خواہ نیکی کا عمل معمولی نوعیت کا ہو یا اعلی درجے کا۔ اللہ تعالیٰ اچھے کام کے لیے بہتر سے بہتر اجر عطا فرماتا ہے۔
بہرحال ان آیات میں جہاد کی فضیلت اور اس سے ہونے والے نفع کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اللہ کے راستے میں نکلنے والے مجاہدین کا ہر ہر فعل اور ان کے راستے میں آنے والی ہر ہر مشکل کے بدلے میں اللہ تعالیٰ بہترین اجر عطا کریگا۔ اسی طرح جہاد کے لیے خرچ کرنے کا اجر ، خواہ تھوڑا خرچ کیا گیا ہو یا زیادہ ، ہمیشہ بہترین ہی ہوگا۔