9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 9:32–33

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یُّطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰهِ بِاَفْوَاهِهِمْ وَ یَاْبَى اللّٰهُ اِلَّاۤ اَنْ یُّتِمَّ نُوْرَهٗ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 9:32 in the Quran reader

چاہتے ہیں یہ کہ بجھا دیں اللہ کے نور کو اپنے مونہوں ( کی پھونکوں) سے اور اللہ تعالیٰ انکار کرتے ہے مگر یہ کہ وہ پورا کریگا اپنے نور کو اگرچہ کافر ولوگ اس کو ناپسند کریں

هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّیْنِ كُلِّهٖ١ۙ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ Open ayah 9:33 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول کو ہدایت کی ساتھ اور دین حق کے ساتھ تا کہ غالب کردے اس دین کو تمام ادیان پر اور اگرچہ ناپسند کریں شرک کرنیوالے

ربطِ آیات : مشرکین سے براءت کے اعلان کے بعد جہاد کا حکم ہوا اور پھر اسی سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کا ذکر بھی فرمایا۔ ان کے خلاف بھی جہاد کا حکم ہوا ، کیونکہ وہ بھی صحیح معنوں میں اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو حرام نہیں سمجھتے اور نہ ہی دین حق کو قبول کرتے ہیں۔ فرمایا ان کے خلاف جنگ کرو یہاں تک کہ یہ مغلوب ہو کر جزیہ دینا قبول کرلیں پھر فرمایا کہ ان کے عقائد اس قدر فاسد ہیں کہ ان میں سے ایک گروہ (یہود) نے عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا کہا اور دوسرے گروہ ” نصاری “ نے مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بنا دیا۔ اہل کتاب نے تحریم وتحلیل کا اختیار بھی اپنے راہبوں کے سپر د کردیا اور اس طرح عملی طور پر انہیں اللہ کے سوارب بنا دیا ۔ حالانکہ ان سب کو یہ حکم دیا گیا کہ وہ صرف ایک خدا کی عبادت کریں کیونکہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تو غنی اور بےنیاز ہے ، اسے اولاد کی کیا ضرورت ہے ؟ اور اللہ تعالیٰ ان چیزوں سے مبرا ہے جن کو یہ خدا کے ساتھ شریک ٹھہراتے ہیں۔ پھونکوں سے یہ چراغ : اب آج کی آیت میں اللہ تعالٰٰ نے اہل کتاب کی ایک خرابی کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” یریدون ان یطفوا نور اللہ بافواھھم “ یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے مونہوں کی پھونکوں سے بجھا دیں ۔ یہ ایسے غلط کار لوگ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نور یعنی توحید ، اسلام اور دین کے پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ بعض دوسری آیات میں ایمان کو نور اور کفر کو ظلمت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بہرحال فرمایا کہ اہل کتاب ایسی ایسی منصوبہ بندی کرتے ہیں گویا کہ دین ِ حق کو اتنی آسانی سے ختم کردیں گے جیسے چراغ کو پھونک مار کر بجھا دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اللہ کا سچا دین آفتاب کی طرح چمک رہا ہے۔ اور اس کی طرف آسانی سے نظر بد نہیں اٹھائی جاسکتی ۔ ان کی ساری کوششیں رائیگان جائیں گی کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے (آیت) ” ویابی اللہ الا ان یتم نورہ ولو کرہ الکفرون “ اور اللہ تعالیٰ انکار کرتا ہے مگر یہ کہ وہ اپنے نور کو پورا کرے گا۔ اگرچہ کافر لوگ اس کا ناپسند کریں مشرکین نے تو اسلام کے ساتھ کھلے طور پر ٹکر لی ، جنگیں لڑیں اور اسے مٹانے کی کوشش کیں مگر انہیں منہ کی کھانی پڑی۔ البتہ اہل کتاب نے مختلف حیلوں بہانوں سے دین کو کمزور کرنے کی کوشش کی مگر وہ بھی ناکام رہے ان دونوں گروہوں نے اسلام کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کرنے اور لوگوں کو اس سے بیزار ر کرتے رہے اور جدید دور کے مشرک اور ہنود ، عیسائی اور یہودی سب نے ملک کر دین کی بنیاد پر حملہ کیا مگر اللہ کا وعدہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اس کو قائم رکھے گا۔ چناچہ اللہ نے ہمہ تن عامل اور صحیح الفکر جماعت کے ذریعے اپنے کو باقی ادیان پر غالب کیا اور اس چراغ کو بجھانے والی تمام پھونکیں خود بجھ گئیں۔ ہدایت کی ضرورت : دین اسلام کی حقانیت کے متعلق ارشادِ خداوندی ہے (آیت) ” ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی “ خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت دے کر بھیجا۔ ہدایت سے مراد راہنمائی کا سامان ہے جو اللہ نے اپنے رسول کے ذریعے اپنے بندوں کے پاس بھیجا سورة بقرہ میں (آیت) ” من البیٰت والھدی “ کے الفاظ آئے ہیں۔ بینات ان واضح باتوں کو کہتے ہیں جو آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہیں جیسے الہ تعالیٰ کی وحدانیت ، صبر شکر اور ایسے ہی موٹے موٹے اصول البتہ بعض چیزیں ایسے ہوتی ہیں جو تعلیم سے تعلق رکھتی ہیں اور وہ بغیر سیکھے سمجھ میں نہیں آتیں۔ چناچہ اللہ نے نبی (علیہ السلام) کی ایک صفت یہ بھی بیان فرمائی ہے (آیت) ” ویعلمھم الکتب والحکمۃ “ (البقرہ) کہ وہ ولوگوں کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتے ہیں تو ایسی باتیں جن کے لیے تعلیم کی ضرورت ہے ، وہ ہدایت میں آتی ہیں ۔ تو یہاں پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خدا کی ذات وہ ہے جس نے اپنے رسول کی ہدایت کے ساتھ مبعوث فرمایا۔ دین حق کا غلبہ : فرمایا ایک تو اپنے رسول کو ہدایت دے کر بھیجا اور دوسری چیز (آیت) ” ودین الحق “ دین حق بھی عطا کیا۔ اس سے مراد وہ دائمی اور ابدی اصول ہیں جو اس دین اسلام میں موجود ہیں۔ یہ اصول ہر دور اور ہر قوم کے لیے یکساں طور پر کارآمد ہیں اور ان کی افادیت میں کبھی کمی نہیں آتی۔ اسی دین کے متعلق فرمایا (آیت) ” وذلک دین القیمۃ “ (البینہ) اور یہی پکا اور سچا دین ہے اس کے اصول بالکل اٹل ہیں جو کبھی نہیں ٹوٹتے بلکہ ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔ تو اللہ نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دیں دے کر بھیجا ہے (آیت) ” لیظھرہ علی الدین کلہ “ تا کہ راستے تمام ادیان کے مقابلے میں غالب کر دے اللہ تعالیٰ کا یہ ارادہ اور مشیت ہے کہ اس کا بھیجا ہوا دین تمام ادیان پر سر بلند ہو۔ یہی وجہ ہے کہ مشرکین اور اہل کتاب کو کوشش کامیاب نہیں ہوتی۔ بہرحال آیت کا یہ حصہ اس سورة کے علاوہ سورة فتح اور سورة صف میں آیا ہے اور ہر مقام پر دین اسلام کے غلبے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے (آیت) ” ولو کرہ المشرکون “ اگرچہ یہ شرک کرنے والوں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔ سورة صف میں (آیت) ” ولو کرہ الکفرون “ کے الفاظ آتے ہیں چاہے یہ کافروں کو کتنا ہی ناپسند ہو۔ سورة نور میں خلافت راشدہ کا نظام سمجھایا گیا ہے اور صاف کہا گیا ہے کہ اگر اس نظام کے خلاف چلو گے تو ظالم بن جائو گے اور اگر اسے مضبوطی سے پکڑے رکھو گے تو ہدایت یافتہ ہو جائو گے۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ ہم اس دین حق کو تمام ادیان پر غالب کرنا چاہتے ہیں۔ غلبہ باعتبار دلیل : مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ غلبہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک سیاسی غلبہ اور دوسرا غلبہ باعتبار دلیل۔ یہاں پر غلبہ سے مراد دوسری قسم کا غلبہ ہے کہ دلیل وبرہان کی رو سے دین ِ اسلام کے مقابلے میں کوئی دوسرا دین نہیں ٹھہر سکتا۔ چناچہ تاریخ شاہد ہے کہ یہود ونصاریٰ اور مشرکین نے اب تک قرآن کے دلائل کو غلط ثابت کرنے کی بڑی بڑی کوششیں کی ہیں ، نبی (علیہ السلام) کے قول وفعل میں کیڑے نکالنے کی کوشش کی ہے مگر ہمیشہ منہ کی کھائی ہے جب بھی مسلمانوں کے ساتھ مناظرہ یا مباحثہ ہوا غیر مسلموں کو ذلیل و خوار ہی ہونا پڑا۔ انگریزی دور میں عیسائیوں اور ہندوئوں نے مل کر مسلمانوں کے خلاف بہت بڑا محاذ قائم کیا۔ شاہجہان پور میں مناظرے کا بندوبست کیا جس میں بڑے بڑے پادری اور ہندوسکالروں کو بلایا گیا بڑی دھواں دھار تقریریں ہوئیں۔ مگر جب حضرت مولانا محمد قاسم ناناتوی (رح) نے اسلام کی صداقت اور حقانیت پر مدلل تقریر فرمائی تو سب لا جواب ہوگئے۔ اس سیمنار کی تمام تقریریں ” مباحثہ شاہجہان پور “ کے نام سے مطبوعہ صورت میں موجود ہیں۔ بہرحال یہ دین اسلام کے غلبہ بااعتبار کی واضح مثال ہے۔ اسی طرح کا علمی معرکہ حاجی امداد صاحب کے دوست مولانا رحمت اللہ کیرانوی اور پادر فنڈر کے درمیان ہوا تھا۔ اس پادری کو انگریزوں نے خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف بدزبانی کے لیے بھیجا تھا بڑا عالم فاضل اور ذہین آدمی تھا مگر جب یہاں آکر مولانا کیرانوی (رح) سے واسطہ پڑا تو ملک ہی چھوڑ کر بھاگ گیا اور ترکی جا پہنچا۔ اس دوران مولانا رحمت اللہ بھی ہجرت کر کے مکہ چلے گئے تھے۔ حکومت ترکی کو آپ کی موجودگی کا علم ہوا تو آپ کو بلا بھیجا کہ اس پادری سے مقابلہ کرو۔ جب پادری کو پتہ چلا کہ مولانا یہاں بھی آرہے ہیں تو وہاں سے بھی بھاگ گھڑا ہوا پھر حضرت مولانا نے اظہار الحق کے نام سے ترکی اور اردو زبان میں کتاب شائع کی۔ یہ سو سال پہلے کی بات ہے اس زمانے میں اخبار لندن ٹائمز نے لکھا تھا کہ اگر یہ کتاب دنیا میں پڑھی گئی تو عیسائیت کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اس کتاب نے انگریزوں کو سخت پریشان کردیا یہ بھی دلائل کی رو سے دین حق کے غلبے کا ایک نمونہ ہے۔ اسلام کا سیاسی غلبہ : اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ دین کو صرف دلیل کے اعتبار سے ہی غلبہ حاصل ہے بلکہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسلام کا سیاسی غلبہ بھی چاہتا ہے۔ چناچہ دین حق کو سیاسی غلبہ بھی حاصل ہوا اگرچہ بعد میں مسلمانوں نے دینی کوتاہی کی وجہ سے اسے ضائع کردیا۔ مولانا عبید اللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ بعثت سے لیکر واقعہ صفین تک پچاس سال کے عرصہ میں مسلمانوں کو آدھی دنیا پر سیاسی غلبہ حاصل تھا اس زمانے میں قیصر و کسری کی دو بڑی طاقتیں تھیں مگر وہ دونوں اسلامی حکومت کے سامنے مغلوب ہوچکی تھیں۔ اس وقت بڑی بڑی جنگیں لڑی گئیں ۔ قادسیہ کے مقام پر کسری کے خلاف بہت بڑی جنگ ہوئی اور یرموک کے مقام پر رومیوں کے ساتھ تاریخی معرکہ پیش آیا جس میں مسلانوں کو فتح حاص ہوئی عیسائیوں کے بڑے بڑے گڑھ مصر اور شام فتح ہوگئے۔ روم والے عیسائی بھی بالکل کمزور ہوگئے۔ اس دوران عیسائی اور مسلمانوں کے مقابلے قرن ہا قرن تک ہوتے رہے ، تا ہم اب بھی دنیا میں سب سے زیادہ آبادی عیسائیوں کی ہے۔ قیصر وکسریٰ کی محکومیت : امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ ابتدائے اسلام کے زمانہ میں شرک کے دو بڑے گڑھ قیصر اور کسریٰ تھے۔ کسری تقریبان نصف دنیا پر چھایا ہوا تھا۔ اس زمانے میں ایران ، ترکستان ، زاولستان وغیرہ کسرٰی کے ما تحت تھے۔ اور ادھر قیصر کے ماتحت مصر ، حبشہ ، روم ، جرمنی اور دیگر علاقے تھے اللہ تعالیٰ نے عرب کے خطے سے اپنے آخری نبی کو مبعوث فرما کر ان دونوں بری طاقتوں کو مات دی۔ ہندوستان کے مشرک کسرٰی کے ماتحت تھے اور صابی لوگ رومی عیسائیوں کے باجگزار تھے۔ اسلام نے ان دونوں مراکز کا خاتمہ کیا اور اس طرح اسے سیاسی غلبہ بھی حاصل ہوگیا۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ صحیح بات یہ ہے کہ دین کا عمومی غلبہ حضور ﷺ کی حیات مبارکہ میں نہیں ہوا کیونکہ اس وقت تک صرف خطہ عرب پر مکمل تسلط حاصل ہوا تھا ، تا ہم بعد میں اللہ نے خلافت علی منہاج النبوۃ کے ذریعے مکمل فتح دلائی۔ خلافت راشدہ کا نظام نبوت کے ساتھ پیوستہ تھا اس لیے حضرت عثمان ؓ کے زمانہ تک مسلمانوں نے زبردست پیش قدمی کی اسلام کو پوری دنیا میں غلبہ حاصل ہوگیا اور باقی تمام ادیان مغلوب ہوگئے۔ مسلمانوں کا سیاسی تنزل : مسلمان اپنا غلبہ زیادہ دیر تک قائم نہ رکھ سکے ان میں بھی ملوکیت یا ڈکٹیڑ شپ عود کر آئی ، نظام خلافت ختم ہوگیا اور مسلمان قوم کا تنزل شروع ہوگیا۔ پہلے چھ سو سال تک مسلمانوں کو دنیا میں سیاسی غلبہ حاصل رہا۔ مگر اس کے بعد ان میں خرابیاں پیدا ہونی شروع ہوگئیں۔ اگرچہ خلافت تو ابتداء ہی میں ختم ہوگئی مگر بادشاہت کے تحت بھی اسلامی نظام چھ صدیوں تک چلتا رہا ، تا ہم گذشتہ آٹھ صدیوں سے مسلمان انحطاط کا شکا ہیں مسلمانوں میں مرکزیت اور امیر کی اطاعت کا جذبہ باقی نہ رہا۔ اس کی جگہ حرص وہوا نے لے لی۔ مسلمان اپنے مشن کو قائم نہ رکھ سکے اور غیروں کے محکوم بن کر رہ گے۔ آج بھی دنیا میں پچاس سے زیادہ اسلامی ریاستیں موجود ہیں مگر سیاسی لحاظ سے دوسروں کی دست نگر ہیں کیونکہ انہوں نے خلافت علی منہاج النبوۃ کا مشن فراموش کردیا ہے۔ اسلام کے خلاف سازشیں : تاریخ اسلام سے عیاں ہے کہ ملوکیت کی ابتداء یزید سے ہوئی اور یکے بعد دیگرے مسند اقتدار پر بادشاہ ہی آتے رہے۔ کوئی اچھا آدمی آگیا تو وقت اچھا گزر گیا ، ورنہ استبداد ہی کا دور دورہ رہا۔ مسلمانوں کی باہمی کش مکش سے اغیار نے فائدہ اٹھایا۔ پہلے تاتاریوں کا سیلاب آیا جس نے مسلمانوں کو زبردست نقصان پہنچایا۔ پھر عیسائیوں نے بڑے مظالم ڈھائے ، جب بھی موقع ملا اہل اسلام کو دبانے کی کوشش کی گزشتہ دوصدیوں میں تو ساری دنیا پر انگریزوں کو غلبہ حاصل رہا ہے انہوں نے تو مسلمانوں کی رہی سہی کسر بھی پوری کردی ہے مسلمان ریاستوں کو ٹکڑے ٹکرے کردیا ہے تا کہ یہ طاقت نہ پکڑ سکیں اور وہ ان پر آسانی سے حکومت کرتے رہیں۔ برطانیہ دو سو سال کی سازشوں کے بعد کمزور ہوگیا ، تو اس کی جگہ امریکہ نے لے لی ہے۔ یہ بھی پانچ صدیوں پہلے برطانیہ سے بھاگے ہوئے انگریز ہیں۔ انہوں نے امریکہ میں تسلط حاصل کرلیا۔ اب دنیا میں امریکہ بہت بڑی طاقت ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ ادھر الحادی قوت روس ہے۔ وہ بھی عیسائی تھے مگر اس کی جگہ اب کمیونزم نے لے لی ہے۔ امریکہ والے عیسائی مذہب کا نام لیتے ہیں اور روس والے مذہب کو تسلیم نہیں کرتے۔ دونوں آپس میں متصادم ہیں مگر دونوں غلط کار اور اسلام کے دشمن ہیں۔ جہاں اسلام کی بات آجاتی ہے ، وہاں یہ دونوں اکٹھے ہوجاتے ہیں اور سازشیں کرتے ہیں۔ دنیا کی چھوٹی طاقتیں ان کے ہتھکنڈوں سے سخت نالاں ہیں مگر ان کے سیاسی غلبہ کی وجہ سے مجبور ہیں۔ ملوکیت اور ڈکٹیڑشپ : بہر حال اللہ تعالیٰ نے دین حق کا جو پروگرام اہل اسلام کو دیا ہے اگر یہ اس پر عمل پیرا ہوں گے تو انہیں دنیا میں سیاسی غلبہ بھی حاصل ہوگا اور اگر اس نظام کو ہی ترک کردیا اور مسلمانوں کے فالتو سرمایہ کو صحیح جگہ پر صرف نہ کیا تو اجتماعی غلبہ کیسے حاصل ہو سکتا ہے ؟ اسلام کے سیاسی غلبے کو خود مسلمانوں نے نقصان پہنچایا ہے۔ اس میں نہ اللہ کا قصور ہے ، نہ اس کے رسول کا اور نہ نظام کا ہے مسلمانوں نے قرآن کے پروگرام کو چھوڑ دیا۔ خلافت علی منہاج النبوۃ سے منہ موڑ لیا اور ملوکیت کو اختیار کرلیا یا ڈکٹیڑشپ کو اپنا لیا حالانکہ یہ تو لعنت تھی ، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی کے ذریعے ختم کردیا تھا۔ اس غلط نظام کے حاملین قیصر وکسریٰ ختم ہوئے تو یہی چیز مسلمانوں نے پکڑ لی۔ خلافت راشدہ کے دور میں کسی سے ذرا بھی چوک ہوتی تو دوسرا مسلمان فورا اعتراض اٹھاتا اور معاملہ درست ہوجاتا۔ اگر ملوکیت کے دور میں کوئی آواز بلند کریگا تو فورا جیل میں ٹھونس دیا جائے گا حضرت عمر ؓ جیسے بارعب خلیفہ کے جسم پر بھی اگر زائد کپڑا نظر آتا ہے تو ایک معمولی بدو اٹھ کر اعتراض کردیتا ہے کہ سب مسلمانوں کی ایک ایک چادر غنیمت میں ملی تھی تم نے یہ دو چادر کی قمیص کہاں سے بنوائی ۔ امیر المومنین نے نہ اس کا برا منایا اور نہ معترض کو ڈانٹا بلکہ اعتراض کے جواب میں فورا اپنے بیٹے کو پیش کردیا جس نے وضاحت کی کہ اس نے اپنے حصے کی چادر اپنے باپ کو دیکر اس کا کرتہ بنوایا ہے مقصد یہ ہے کہ خلافت کا نظام تو اس نہج کا تھا مگر آج دنیا میں کیا ہو رہا ہے ۔ سرمایہ کہاں خرچ ہو رہا ہے ؟ قوم کی دولت سیاسی رشوت کے طور پر لٹائی جا رہی ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں کیونکہ اس حمام میں سبھی ننگے ہیں۔ ملوکیت یا ڈکٹیڑ شپ سے یہی توقع کی جاسکتی ہے جب تک خلافت کا نظام قائم نہیں ہوگا۔ دنیا میں نہ شروفساد مٹ سکتا ہے اور نہ دنیا کو امن و سکون حاصل ہو سکتا ہے۔ فرمایا ، خدا کی ذات وہ ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ اس کو سب دینوں کے مقابلے میں غالب کر دے۔ اگرچہ مشرک لوگ اس کی کو ناپسند ہی کیوں نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت تو یہی ہے کہ اسی کا دین دنیا میں غالب ہو مگر خود مسلمان ہی اپنی ذمہ داری پوری نہیں کریں گے تو دین کو غلبہ کیسے حاصل ہوگا۔
Ayahs 9:34–35

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ كَثِیْرًا مِّنَ الْاَحْبَارِ وَ الرُّهْبَانِ لَیَاْكُلُوْنَ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۙ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ Open ayah 9:34 in the Quran reader

اے ایمان والو ! بہت سے عالم اور درویش البتہ کھاتے ہیں لوگوں کا مال باطل طریقے سے اور روکتے ہیں اللہ کے راستے سے اور وہ لوگ جو جمع کرتے ہیں سونا اور چاندی اور نہیں خرچ کرتے اس کو اللہ کی راہ میں ، ان کو خوشخبری سنا دیں عذاب الیم کی

یَّوْمَ یُحْمٰى عَلَیْهَا فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ فَتُكْوٰى بِهَا جِبَاهُهُمْ وَ جُنُوْبُهُمْ وَ ظُهُوْرُهُمْ١ؕ هٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِاَنْفُسِكُمْ فَذُوْقُوْا مَا كُنْتُمْ تَكْنِزُوْنَ Open ayah 9:35 in the Quran reader

جس دن کہ گرم کیا جائے گا اس (سونے اور چاندی) کو جہنم کی آگ میں داغی جائیں گی ان کے ساتھ ان کی پیشانیاں کروٹیں اور پشتیں اور ( کہا جائے گا) کہ یہ وہ چیز ہے جس کو تم خزانہ کر کے رکھتے تھے اپنے نفسوں کو لیے پس چکھو اس کا مزا جو تم خزانہ کرتے تھے۔

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے ساتھ جہاد کا ذکر فرمایا تھا پھر اس جہاد کی وجوہات بھی بیان ہوئیں ۔ اہل کتاب کے عقائد باطلہ کا ذکر ہوا ، اور ان حیلہ سازیوں کی بات ہوئی جو وہ اسلام کو مٹانے کے لیے کرتے رہتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے تمام ادیان پر دین اسلام کے غلبے کا ذکر کیا۔ پہلے اہل کتاب کے عام لوگوں کی خرابیوں کا بیان ہوچکا ہے ، اب آج کے درس میں ان کے خواص یعنی عالموں اور درویشوں کی خرابیوں کا ذکر ہے۔ اس کے ساتھ حضور ﷺ کی امت کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ جو خرابیاں اہل کتاب میں تھیں وہ تم میں بھی پیدا ہوجائیں گی جس کے بڑے خطرناک نتائج ظاہر ہوں گے۔ اہل کتاب کی خرابیاں : یہود ونصاریٰ اہل کتاب تھے۔ یہ لوگ اللہ کے بنیوں کو جانتے اور اس کے پیغمبروں کو پہچانتے تھے ، مگر جب ان میں اغراضِ نفسانیہ پیدا ہوگئیں ، مال وجاہ کی محبت آگئی تو انہوں نے صحیح عقیدہ چھوڑ دیا۔ دین میں بگاڑ پیدا کرلیا اور اس میں طرح طرح کی بدعات نکال لیں افسوس کہ اہل اسلام کے علماء درویش ، پیر اور پیشوا بھی اسی بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ ترکِ دنیا : ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” یایھا الذین امنوا “ اے ایمان والو ! (آیت) ” ان کثیرا من الاحبار والرھبان “ بیشک بہت سے عالم اور درویش ۔ احبار ۔۔۔ کی جمع ہے جس کا معنی علم والا ہے ۔ یہودیوں میں اہل علم شخص کو جبرکہتے ہیں اور رہبان راہب کو کہتے ہیں جس کا معنی پیر ، عبادت گزار ، درویش یا گوشہ نشین ہے گرجوں میں رہنے والے ، تارک دنیا پادری راہب کہلاتے ہیں جو دنیا سے قطع تعلق کر کے اپنا تعلق صرف اللہ سے جوڑ لیتے ہیں۔ ان میں مرد بھی ہوتے ہیں اور عورتیں بھی جو زندگی بھر نکاح نہیں کرتے بلکہ اللہ اللہ کرتے رہتے ہیں۔ رہبانیت کا اصل دین سے کوئی تعالق نہیں ، یہ یہودیوں کی ایجاد کردہ بدعت ہے اس قسم کی خرابی مہاتما بدھ کے پیروگاروں میں بھی پائی جاتی ہے ، ترک دنیا کرنے والے لوگ بدھ بھکشو کہلاتے ہیں۔ پرانے ہندوئوں میں تارک دنیا سادھو کہلاتے ہیں۔ بدھ بھکشو کہلاتے ہیں۔ بدھ اس نظریہ کا حامی تھا کہ جو شخص دنیا میں آلودہ ہوجاتا ہے اس کو نجات نہیں حاصل ہو سکتی۔ مگر اللہ نے فرمایا ہے کہ ترک دنیا خلاف فطرت ہے۔ اس نظریہ کی رو سے جب مرد وزن مجرد رہنے لگے تو وہی خرابیاں پیدا ہوگئیں جو ہونا چاہیں تھیں۔ بدکاری کا سلسلہ چل نکلا انہوں نے رہبانیت اللہ کے لیے اختیار کی تھی مگر اس کو نباہ نہ سکے۔ حضور ﷺ نے تو صاف طور پر فرما دیا ہے ” لا رھبانیۃ فی الاسلام “ یعنی دین اسلام میں ترک دنیا کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دنیا کو اختیار کر کے اس کے حقوق ادا کرو۔ معاشرے میں رہ کر تکالیف برداشت کرو اور ان پر صبر کرو ، اسی میں تمہاری نجات ہے ترک دنیا کو پسند نہیں کیا گیا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ میری امت کی رہبانیت جہاد میں ہے۔ جو اللہ کے راستے میں گھر سے نکلتا ہے وہ راہب ہی ہوتا ہے جب کوئی شخص اللہ کی رضا کے لیے دشمن کو مغلوب کرنے کی غرض سے اور ملت اسلامیہ کی تقویت کے لیے جائدہ پیمائے حق ہوتا ہے تو اللہ کا مقبول بندہ بن جاتا ہے دنیا کو چھوڑ چھاڑ کر گوشہ نشینی اختیار کرنے والا اور کسی کے کام نہ آنے والا شخص اللہ کو ہرگز پسند نہیں۔ بدعات کی ایجاد : اللہ تعالیٰ نے یہودی علماء ومشائخ کی یہ خصلت بیان فرمائی ہے ۔ کہ اے ایمان والو ! اہل کتاب کے بہت سے عالم اور درویش ایسے ہیں ، (آیت) ” لیاکلون اموال الناس بالباطل “ جو لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں۔ مفسرین کرام نے اس قسم کے کل حرام کی بہت سی تفصیلات اپنی کتابوں میں درج کی ہیں۔ شاہ اسماعیل شہید (رح) اور سید احمد شہیدبریلوی (رح) نے اپنی کتاب صراط مستقیم میں تصوف اور سلوک کے ضمن میں ایسی بہت سے رسومات کا ذکر کیا ہے جو اہل بدعت ، روافض اور دیگر غلط کار پیروں اور مولویوں نے ایجاد کر رکھی ہیں۔ مولانا عبدالحق حقانی متوفی 1914 ء پنجاب کے رہنے والے تھے مگر دلی میں جا کر آباد ہوگئے۔ انہوں نے بھی اپنی تفسیر حقانی میں بہت سی بدعات کا ذکر کیا ہے۔ آپ نے عیسائیوں کا تعاقب بھی کیا ہے اسی طرح مولانا ابو الکلام آزاد نے ترجمان القرآن میں بدعات پر سیر حاصل بحث کی ہے حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) نے اصلاح الرسوم کے نام سے مستقل کتاب لکھی ہے جس میں اہل بدعت کی ایجاد کردہ بدعات سے خبردار کیا گیا ہ۔ اسی طرح بعض دیگر حضرات نے بھی بدعات کی تفصیلات بیان کی ہیں۔ اکل حرام کے طریقے : حرام خوری بہت بڑا جرم ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے بار بار منع فرمایا ہے۔ سورة بقرہ اور نساء میں واضح حکم موجود ہے (آیت) ” لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل “ ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت کھائو اور اس کی کئی ایک صورتیں ہیں۔ مثلا علماء اور مفتی بادشاہوں اور دیگر سرمایہ داروں کی خوشنودی کے لیے حلال پر حرام کا اور حرام پر حلال کا فتویٰ لگاتے ہیں اور پھر اس کے معاوضہ میں جو مال حاصل کرتے ہیں وہ اکل حرام کی مد میں آتا ہے اہل کتاب کے علماء کے اکل حرام کی ایک شکل سورة آل عمران میں بھی بیان ہوئی ہے یہودیوں نے یہ فلسفہ گھڑ رکھا تھا کہ وہ اہل علم ہیں لہٰذا ان کے لیے عرب کے ان پڑھ لوگوں کا مال کھانا جائز ہے۔ ظاہر ہے کہ عربوں میں تو کوئی ایک دو فیصدی پڑھے لکھے لوگ ہوتے تھے ، ورنہ ان کی غالب اکثریت جاہل ہی ہوتی تھی۔ ان کا سارا علم زبانی یاداشت پر ہوتا تھا۔ اور گذشتہ ڈیڑھ ہزار سال سے ہو اسی طریقے پر چلے آرہے تھے۔ یہودی چونکہ پڑھے لکھے اہل کتاب لوگ تھے ، اس لیے انہوں نے از خود یہ فلسفہ قائم کر رکھا تھا کہ ان کے لیے عرب کے امیوں کا مال حلال ہے۔ وہ کہتے تھے (آیت) ” لیس علینا فی الامین سبیل “ (آل عمران) امیوں کا مال جس طریقے سے بھی ہاتھ لگے کھا جائو۔ اللہ نے فرمایا یہ بڑی بیہودہ اور ظالمانہ بات ہے کہ کوئی شخص اپنے علم کی بنا پر جاہل کا مال ناحق طریقے سے کھا جائے اور پھر اسے حلال بھی سمجھے۔ یہودیوں کے عالم ، جج ، قاضی اور مجسٹریٹ بھی رشوت لے کر غلط فیصلے کرتے تھے قاتل کو رشوت لے کر بری کردیتے تھے اور حکومت کو پتہ بھی نہیں چلنے دیتے تھے ، عام لوگ بھی ان کی اس قبیح حرکت سے واقف نہ تھے اور وہ اندر ہی اندر حرام کا یہ کاروبار کرتے تھے اکل حرام کی یہ بی ایک صورت یہودیوں میں رائج تھی۔ تعویز گنڈے : یہودی علمائ ، تعویز گنڈون کے ذریعے بھی حرام خوری کرتے تھے۔ حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے تعویز دیتے تھے۔ جھاڑ پھونک کرتے تھے اور پھر اس پر معاوضہ وصول کرتے تھے۔ کام جائز ہے یا ناجائز ، انہیں اس سے کوئی غرض نہ ہوتی تھی جس نے فیس دے دی اسی کو تعویز لکھ دیا۔ آگے کسی کو فائدہ یا نقصان ، ان کی بلا سے۔ اس قسم کا کاروبار ہمارے ہاں بھی چلتا ہے۔ نقوش سلیمانی ، نافع الخلائق اور شیخ گوالیاری کی جواہر خمسہ کی کتابوں سے ہر قسم کے شرکیہ ، بدعتیہ ، جائز اور ناجائز قسم کے تعویز لکھے جاتے ہیں اور اچھی خاصی کمائی کی جاتی ہے حالانکہ کسی ثقہ بزرگ اور اہل اللہ نے کبھی غلط کام کے لیے تعویز نہیں دیا مگر آج کے نام نہاد عامل سو فیصدی ناجائز کام کے لیے بھی سب کچھ کر گزرتے ہیں۔ انہیں تو اپنی فیس سے غرض ہوتی ہے۔ مذہبی رسوم : بعض مذہبی رسوم بھی ایسی ہیں جو فیس کے بغیر ادا نہیں کی جاتیں ، مثلا نکاح پڑھانے کی اچھی خاصی فیس لی جاتی ہے بلکہ جنازہ پڑھانے کا بھی نذرانہ لیا جاتا ہے۔ یہ قباحت یہود ونصاریٰ میں تھی اب ہماری امت میں بھی سرایت کرچکی ہے۔ اس کے علاوہ مرنے والوں کے گناہ بخشوانے کے سلسلے میں بھی فیس کے مختلف ریٹ ہیں مقررہ فیس ادا کر کے اپنی کسی مردہ عزیز کی جان عذاب سے چھڑا لو صاحب تفسیر حقانی لکھتے ہیں کہ بوہرہ ار دائودی فرقے کے لوگوں میں یہ رسم بھی پائی جاتی ہے کہ ملاں جی مرنے والے کے کفن میں جبریل کے نام ایک رقعہ لکھ کر ڈال دیتے ہیں کہ یہ شخص ہمارا آدمی ہے ، اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ۔ ظاہر ہے کہ ایسے کام کے لیے اور اتنی بڑی سفارش کے لیے معاوضہ بھی اچھا خاصہ ہوگا۔ غرضیکہ اس قسم کی کتنی ہی باطل رسوم ہیں جن کے ذریعے لوگوں کا مال ناحق طریقے سے کھایا جاتا ہے۔ تبرکات کی زیارت : تبرکات کی زیارت بھی آمدنی کا اچھا خاصہ ذریعہ ہے ۔ مسجدوں میں یا زیارت گاہوں میں بزرگوں کے نام پر بعض تبرکات رکھے ہوئے ہیں۔ کسی بزرگ کی پگری ہے یا کسی کا جبہ ہے کہیں کسی بزرگ کی تسبیح لٹک رہی ہے ، کہیں ناخن کا ٹکڑا ہے۔ یہاں لاہور میں شاہی مسجد میں بھی بعض تبرکات موجود ہیں جن کی زیارت کرانے کی فیس وصول کی جاتی ہے۔ کشمیر میں موئے مبارک کے جھگڑے نے بڑا طول پکڑا تھا۔ قرآن و شریعت جاتا ہے تو جائے کچھ پروا نہین مگر ایک بال پر اتنا ہنگامہ کھڑا کردیا کہ کتنے آدمی مارے گئے۔ مشہور ہے کہ موئے مبارک ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں۔ اس کی چوری سے چونکہ آمدنی بند ہوگئی اس لیے اس کی بازیابی کے لیے حکومتی سطح پر سب کچھ کرنا پرا۔ یہ تمام حیلے بہانے ہیں جن کے زریعے لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھایا جاتا ہے۔ ایصال ثواب : ہمارے ہاں ایصال ثواب کے نام پر بھی لوگوں کا مال ہضم کیا جاتا ہے اس میں کوئی شک نہیٰں کہ ایصال ثواب ملت ابراہیمیہ کا مسلمہ اصول ہے مگر مرنے والے کو ثواب تو جبھی پہنچے گا جب حلال مال میں سے سنت کے مطابق خرچ کیا گیا ہو۔ ایسے مال کا صحیح مصرف غرباء مساکین کو کھلانا اور پہنانا ، طلباء کو کتابیں مہیا کرنا ، مساجد ومدرسہ کی تعمیر ، پانی کا انتظام اور دیگر ضروریات کی بہم رسائی وغیرہ ہے اگر دیگیں پکا کر غریبوں کی بجائے امیروں اور شتہ داروں کو کھلادیا جائے گا تو اس سے مرنے والوں کو کیا ثواب ہوگا۔ فوتیدگی کی تمام رسومات میں امراء بھی شریک ہوتے ہیں ، حالانکہ یہ غریبوں کا حق ہے تو ایسے میں ثواب کی امید رکھنا کہاں تک درست ہے ؟ ایصال ثواب کے لیے قرآنی خوانی کا ایک آسان طریقہ نکل آیا ہے حافظ صاحب کے پاس جائو کہ ہم نے مردے کو ایصال ثواب کے لیے قرآنی خوانی کرانی ہے۔ وہ کہیں گے کہ ہم نے کتنے قرآن پہلے ہی پڑھ رکھے ہیں جتنے ضرورت ہے لے جائو ، صرف اتنی فیس ادا کرو۔ ہم اتنے قرآن پاک کا ثواب تمہارے فوت شدہ کو ہبہ کیے دیتے ہیں۔ کہو تو اتنے نفل پڑھ دیں گے۔ یا اتنے روزے رکھ دیں گے ، ہماری فیس دے دو ۔ اور ثواب لے جائو۔ اس قسم کی دکانداریاں چل رہی ہیں۔ کہیں سوئم ہے اور کہیں چالیسواں ہے۔ دیگھیں پکیں گی ، برادری والے کھا جائیں گے اور ثواب مردے کے کھاتے میں ڈال دین گے جتنی زیادہ فیس دو گے مولوی صاحب اتنا لمبا ختم پڑھ کر مرنے والے کو بخش دیں گے۔ فوتگی کی رسوم : 1942 ء کا واقعہ ہے ، ہمارے ایک واقف کار لاہور میں محنت مزدوری کرتے تھے بیوی بیمار ہوگئی اور پھر فوت ہوگئی ، پیچھے ایک چھوٹا بچہ رہ گیا اس کی طرف سے بڑی پریشانی تھی کہ اس کی پرورش کیسے ہوگی۔ وہ صاحب اپنے سسرال کے ہاں رہتے تھے ، بیوی کے کفن دفن کا انتظام کیا۔ کچھ وہاں خرچہ ہوگیا اور باقی رسم سوئم پر اٹھ گیا۔ چوتے دن جب مزدوری کے لیے گھر سے نکلنے لگے تو ساس اور سسر نے روک لیا ، کہنے لگے آگے چہلم آرہا ہے اس کے لیے تین سو روپے کا انتظام کرو۔ اس بیچارے نے گھر کے برتن بیچ کر تین سو مہیا کیے تو ان کی جان چھوٹی وہ بیچارا بیوی سے محروم ہوا ، بچے کی فکر دامن گیر ہوئی اور اوپر سے رسومات نے کمر توڑ دی آخر یہ سب کچھ کیا ہے ؟ یہودی اور عیسائی بھی مذہبی رسومات کے نام پر لوگوں کا مال کھاتے تھے اور آج آنری امت کے علماء اور پیر بھی یہی کچھ کر رہے ہیں۔ ایصال ثواب کے لیے کھانا تیار ہوا ہے مگر امیر غریب سب کھا رہے حالانکہ یہ صرف غریب کا حق ہے اور امراء کے لیے مکروہ تحریمی کے درجے میں ہے۔ بھائی ! کسی مستحق کو کھلا دو ، کپڑا پہنا دو یا ضرورت کی دوسری چیزلے دو تو کچھ فائدہ بھی ہوگا۔ صاحب حیثیت لوگوں کو اعلی درجے کے کھانے کھلانے سے مردے کو کیا فائدہ ہوگا ؟ شریعت کا حکم یہ ہے کہ مردے کے کفن دفن کے بعد سب سے پہلے اس کا ترکہ تقسیم کرو۔ ہر ایک وارث کا حق متعین کرو۔ قبل از تقسیم میت کے مال میں سے ایصالِ ثواب جائز نہیں۔ خاص طور پر اگر اس مال میں چھوٹے بچوں کا حصہ بھی ہے۔ تو ایسے مال کا خرچ کرنا حرام ہے۔ سوئم ساتا یا چہلم ہو مشترکہ مال سے خرچ کرنا ثواب کی بجائے گناہ کا احتمال ہے ہاں اگر بالغ آدمی اپنے جائز مال میں سے خرچ کریگا تو ایصال ثواب ہوگا اس کا طریقہ یہ ہے کہ حلال کمائی سے اس نیت کے ساتھ صدقہ خیرات کرو کہ اللہ تعالیٰ اس کا ثواب مرنے والے کو عطا کرے تو درست ہے اس کے علاوہ باقی سب رسمیں ہیں اور محض مال کھانے کا ذریعہ ہیں۔ ایصال ثواب کی آڑ میں قبر پرستی ہو رہی ہے ، عرس منعقد ہوتے ہیں چرھاوے چڑھتے ہیں ، تقریب لغیر اللہ کے لیے نذریں مانی جا رہی ہیں یہ سب حرام خوری ہے۔ اہل کتاب بھی کرتے ہیں اور ہماری امت کے لوگ بھی کر رہے ہیں۔ اسی لیے حضور ﷺ نے اپنی امت کو خبردار کردیا کہ تم بھی ان کی طرح نہ ہوجانا۔ اللہ کے راستے سے روکنا : فرمایا ایک تو یہ لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں اور دوسرا (آیت) ” ویصدون عن سبیل اللہ “ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو آدمی غلط کام کریگا۔ باطل رسومات ادا کریگا اور ان کی طرف دعوت دیگا وہ دراصل صحیح راستے سے روک رہا ہے۔ جو کوئی شخص بدعت کی طرف بلا رہا ہے ، وہ اللہ کے راستے سے روک کر ہی باطل کی طرف دعوت دے رہا ہے۔ علماء سوء کا تو مقصد ہی یہ ہے کہ لوگ سیدھے راستے کو چھوڑ کر بدعات اور طاطل رسوم میں پھنسے رہیں اور ان کا پیٹ بھرتا رہے ان کو نذرانے آتے رہیں اور یہ کاروبار چلتا رہے۔ لوگ جہنم میں جاتے ہیں ، تو جائیں پیر صاحب کی نذرونیاز پہنچنی چاہیے۔ اسی لیے مفسرین کرام فرماتے ہیں جو آدمی غلط کام کر رہا ہے وہ اپنے عمل کے ذریعے لوگوں کو براہ راست سے روک رہا ہے۔ اہل ایمان کو بڑا محتاط رہنا چاہیے۔ کہ کوئی ایسا نہ ہونے پائے جو دین حق سے نفرت کا باعث بنے بہرحال باطل کی طرف دعوت دینا اور اس کی تشہیر کرنا اللہ کے راستے سے روکنا ہے۔ جمع مال و دولت : فرمایا (آیت) ” والذین یکنزون الذھب والفضۃ “ جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں (آیت) ” ولا ینفقونھا فی سبیل اللہ “ اور اسے اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے (آیت) ” فبشرھم بعذاب الیم “ ان کو عذاب الیم کی بشارت سنا دو ۔ جب سے دنیا قائم ہوئی ہے سونا چاندی انسانوں کی لیے مرغوب چیز رہا ہے۔ ہر شخص اسے اکٹھا کرنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ یہ دنیا میں کار آمد ہے۔ اگرچہ اس سے عاقبت خراب ہی ہوجائے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جس مال میں زکوٰۃ ادا نہ کی جائے وہ کنز کی تعریف میں آتا ہے۔ امام بیضاوی (رح) اور امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ صرف زکوٰۃ کی تخصیص نہیں ہے بلکہ مال میں جو بھی کسی کا حق بنتا ہے ، اگر وہ ادا نہیں کیا گیا ، تو وہ مال اس آیت کریمہ کی رو سے خزانہ تصور ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اپنے اقربا کو لازمی خرچہ ادا نہیں کرتا ، ایک آدمی بھوکا مر رہا ہے اور دولت مند اس کی حاجت براری نہیں کرتا ، ننگے کو کپڑا نہیں پہناتا تو اس کا مال کنز میں شمار ہو کر عذاب الیم کا باعث بنے گا۔ اسے طرح مال موجود ہونے کے باوجود صدقہ فطر ادا نہیں کرتا ، قربانی نہیں دیتا ، استطاعت ہے تو حج نہیں کرتا ، یتیم ، مسکین ، مسافر اور بیوہ کی مدد نہیں کرتا تو اس کا مال خزانہ متصور ہوگا اور وہ شخص اس آیت کی وعید میں آئے گا۔ بخیل کے لیے عذاب : اپنے مال کا حق ادا نہ کرنے والے بخیل کے متعلق فرمایا (آیت) ” یوم یحمی علیھا فی نار جھنم “ جس دن گرم کیا جائے گا اس سونے چاندی کو جہنم کی آگ میں (آیت) ” فتکوی بھا جباھھم وجنوبھم وظھورھم “ اور اس سے داغا جائے گا ان کی پیشانیوں کو اور پہلوں کو اور ان کی پشتوں کو ان کے ساتھ یہ سلوک میدان حشر میں ہوگا اور کب تک ہوتا رہیگا۔ اس کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ سورة آل عمران میں آتا ہے (آیت) ” سیطوقون ما بخلوا بہ “ جس مال میں بخل کیا ، حق ادا نہیں کیا اس کو گنجے سانپ کی شکل میں گلے میں طوق ڈال دیا جائے گا جو بخیل کو ڈسے گا اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہے گا۔ ” انا کنزک انا مالک “ میں تیرا خزانہ اور مال ہوں جسے تو نے دنیا میں جمع کر کے رکھا ، اب اس کا مزا چکھو۔ سونے چاندی کا حق ادا نہیں کیا تو اسے گرم کر کے جسم کو داغا جائیگا اور اگر جانوروں کا حق ادا نہیں کیا تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن مالک کو نیچے لٹایا جائے گا اور اس کے جانور اسے پائوں سے پامال کریں گے اور منہ سے کاٹیں گے اور سینگ ماریں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کردیگا ۔ بہرحال اس کی تفصیلات قرآن وسنت میں موجود ہیں۔ فرمایا (آیت) ” ھذا ما کنزتم لانفسکم “ اللہ فرمائے گا یہی وہ خزانہ ہے جو تم نے جمع کیا تھا کہ دنیا میں اس سے فائدہ اٹھائو گے تم نے حلال و حرام میں تمیز نہ کی ، بس مال جمع کرنے کی دھن میں لگے رہے (آیت) ” فذوقوا ما کنتم تکنزون “ اب اس کا مزا چکھو جو کچھ تم جمع کرتے رہے ، تم نے دنیا میں اس مال کا حق ادا نہ کیا ، آج یہی مال تمہارے لیے وبال جان بن گیا ہے۔
Ayahs 9:36–37

اِنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ مِنْهَاۤ اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ١ؕ ذٰلِكَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ١ۙ۬ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْهِنَّ اَنْفُسَكُمْ وَ قَاتِلُوا الْمُشْرِكِیْنَ كَآفَّةً كَمَا یُقَاتِلُوْنَكُمْ كَآفَّةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:36 in the Quran reader

بیشک گنتی مہینوں کی اللہ کے نزدیک بارہ مہینے ہے اللہ کی کتاب میں جس دن سے کہ پیدا کیا ہے اس نے آسمانوں اور زمین کو ، اور ان (مہینوں) میں سے چار (مہینے) حرمت والے ہیں یہ دین ہے مضبوط ، پس نہ ظلم کرو ان (مہینوں) میں اپنی جانوں پر اور لڑو شرک کرنے والوں سے پورے کے پورے جیسا کہ وہ تمہارے ساتھ لڑتے ہیں پورے کے پورے۔ اور جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ متقیوں کے ساتھ ہے

اِنَّمَا النَّسِیْٓءُ زِیَادَةٌ فِی الْكُفْرِ یُضَلُّ بِهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُحِلُّوْنَهٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوْنَهٗ عَامًا لِّیُوَاطِئُوْا عِدَّةَ مَا حَرَّمَ اللّٰهُ فَیُحِلُّوْا مَا حَرَّمَ اللّٰهُ١ؕ زُیِّنَ لَهُمْ سُوْٓءُ اَعْمَالِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 9:37 in the Quran reader

بیشک مہینے کو پیچھے ہٹا دینا زیادتی ہے کفر میں گمراہ کیے جاتے ہیں اس کے ساتھ وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا۔ حلال ٹھہراتے ہیں اس کو ایک سال اور حرام ٹھہراتے ہیں اس کو ایک سال تا کہ پوری کرلیں گنتی اس کی جس کا اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے پھر حلال کرلیے ہیںٰ جس کو اللہ نے حرام بنایا ہے مزین کیے گیے ہیں ان کے برے اعمال اور اللہ تعالیٰ نہیں راہنمائی کرتا ان لوگوں کی جو کفر کرنے والے ہیں

ربط آیات : پہلی آیات میں اہل کتاب کے ساتھ جہاد کا ذکر تھا۔ اللہ نے کافروں اور مشرکوں کے ساتھ جہاد کرنے کے بعد اہل کتاب کے ساتھ جہاد کا حکم دیا۔ نیز فرمایا کہ اگر وہ مغلوبھ ہو کر جزیہ دینا قبول کرلیں تو ان کو امن حاصل ہوگا۔ اللہ نے ان کے عقائد فاسدہ کا ذکر بھی کیا کہ یہودی عزیر (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا مانتے ہیں جب کہ نصاریٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کو ابن اللہ کہتے ہیں پھر اللہ نے فرمایا کہ کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہرانا اللہ تعالیٰ کی صفت ہے مگر اہل کتاب کی بدنصیبی کہ انہوں نے یہ صفت اپنے عالموں اور درویشوں کے لیے ثابت کی۔ اہل کتاب کی ایک خرابی یہ بھی بیان فرمائی کہ وہ دین حق کو مٹانے کے یے مختلف قسم کے حیلے کرتے ہیں ، گویا اس چراغ کو پھونکوں سے بجانا چاہتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہے کہ اس دین کو مکمل کرے چاہے کافرلوگ اسے کتنا ہی ناپسند کیوں نہ کریں۔ اس کے بعد اللہ نے دین اسلام کے غلبے کا ذکر کیا کہ اس نے اپنے آخر ی نبی کو اس مقصد کے لیے مبعوث فرمایا تا کہ دین حق کو تمام ادیان پر غالب بنا دے۔ یہ غلبہ دلیل اور برہان کے لحاظ سے بھی ہے اور سیاسی قوت کے لحاظ سے بھی اس کے بعد اہل کتاب کے علماء اور درویشوں کے متعلق فرمایا کہ وہ لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں اکثر لوگ مال جمع کرتے ہیں مگر اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ قیامت کو ان کو جمع شدہ سونا چاندی دوزخ کی آگ میں تپایا جائیگا۔ اور اس سے ان کی پیشانیوں ، کروٹوں اور پشتوں کو داغا جائیگا اور کہا جائے گا کہ یہ ہے تمہارا خزانہ جسے تم نے دنیا میں جمع کیا اور اس کے حقوق ادانہ کیے۔ دوسری آیت میں بخل کرنے والوں کے متعلق فرمایا کہ ان کے مال گنجے سانپ کی شکل میں متشکل کر کے ان کے گلے میں ڈال دیے جائیں گے اور وہ پکار پکار کرلیں گے کہ میں تیرا مال ہوں میں تیرا خزانہ ہوں جسے جمع کرتا تھا مگر اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا تھا۔ آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے چار حرمت والے مہینوں کا ذکر کیا ہے اور مشرکین کی اس قبیح حرکت کا ذکر کیا ہے جس کے زریعے وہ حرمت والے مہینوں کو دوسرے مہینوں سے از خود تبدیل کرلیتے ہیں۔ جیسا کہ کذشتہ درس میں گزر چکا ہے۔ اہل کتاب مختلف اشیاء کی حلت و حرمت میں دخل اندازی کرتے تھے جب کہ مشرکین اللہ کے مقرر کردہ حرمت والے مہینوں میں اولا بدلی کرلیتے تھے۔ حدیث شریف میں آتا ہے ” الحلال ما احل اللہ “ حلال وہ ہے جو اللہ نے حلال قرار دیا ہے ” الحرام ما حرم اللہ “ اور حرام وہ ہے جسے اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ کوئی انسان از خود کسی چیز پر حلت و حرمت کا حکم لگانے یا اسے تبدیل کرنے کا مجاز نہیں۔ حضرت نعمان بن نوفل ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ کی خدمت اقدس میں عرض کیا ، حضور ! اگر میں توحید و رسالت پر ایمان رکھتا ہوں اور اللہ کی حلال کردہ اشیاء کو حلال اور حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھتا ہوں تو کیا مجھے نجات مل جائے گی۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ہاں ، تو نجات کا حقدار ہوجائیگا ، مقصد یہ کہ حلت و حرمت کا مکمل اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ، جو کوئی بہ صفت غیر اللہ میں نہیں گا۔ وہ مشرک ہوگا اور مجرم بنے گا۔ یہاں پر مختلف مہینوں کی حلت و حرمت کے متعلق ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ان عدۃ الشھود عند اللہ اثنا عشر شھرا فی کتٰب اللہ “ بیشک اللہ کے ہاں اور اس کے حکم کے مطابق مہینوں کی گنتی بارہ مہینے ہے اور یہ کوئی نیا حکم نہیں بلکہ اس دن سے یہی کیلنڈر مقرر ہے (آیت) ” یوم خلق السموت والارض “ جس دن سے اللہ تعالٰٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب سے اللہ تعالٰٰ نے نظام شمسی قائم کیا ہے۔ سال بھر کے مہینوں کی تعداد بارہ مقرر کی ہے۔ اور پھر ان بارہ مہینوں میں (آیت) ” منھا اربعۃ حرم “ چار مہینے حرمت والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان چاروں مہینوں کو ادب والے مہینے قرار دے کر ان کے دورانِ جنگ وجدال کو منع فرمایا ہے۔ چناچہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دور سے لے کر انکی ملت کا یہ اہم اصول رہا ہے کہ ان حرمت والے مہینوں میں ہر ایک کو امن وامان حاصل ہوگا۔ اور کوئی ایک دوسرے کے خلاف تعرض نہیں کریگا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں یہ اصول ڈیڑھ ہزار سال تک قائم رہا۔ ان مہینوں کی حرمت کو برقرار رکھا جاتا رہا مگر حضور ﷺ کی بعثت سے چار یا ساڑھے چار سو سال پہلے ان مہینوں کی حرمت میں گڑ بڑ واقع ہونی شروع ہوگئی اور لوگ ان میں تغیر وتبدل کرنے لگے۔ تمام اقوام اور اہل مذاہب سال بھر کے بارہ مہینے تسلیم کرتے ہیں اور نظام اس وقت سے قائم ہے جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کر کے نظام شمسی قائم کیا ہے۔ کیلنڈروں دنوں ، ہفتوں ، مہینوں ، اور پھر سالوں کی ذریعہ بنتا ہے۔ البتہ یہ حساب دو طریقے سے دنیا پر رائج ہے ایک تقویم شمسی حساب کے ساتھ ہے جب کہ دوسری قمری حساب ہے ان دونوں میں سے کون سا حساب آسان ہے ؟ آپ دیکھتے ہیں کہ کہ قمری تقویم فطری ہے۔ کوئی حامل آدمی اگر کسی جنگل یا سمندر کی سطح پر بھی ہے جہاں اس کے پاس مہینہ کی تکمیل معلوم کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں تو وہ ہر نئے چاند کے طلوع پر معلوم کرلے گا کہ پچھلا مہینہ ختم ہو کر نیا مہینہ شروع ہوگیا ہے برخلاف اس کے محض سورج کو دیکھ کر کوئی شخص از خود اندازہ نہیں لگا سکتا کہ مہینہ کب شروع ہوا اور کب ختم ہوا ، تاوقتیکہ مہینے کی ابتدا اور اختتام کا کوئی ذریعہ اس کے پاس نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ قمری تقویم زیادہ آسان اور فطرت کے مطابق ہے۔ حرمت والے مہینیے : فرمایا اللہ کے نزدیک سال بھر میں مہینوں کی تعداد بارہ ہے ۔ ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں کہ ان کا ادب واحترام کیا جاتا ہے۔ اور ان میں لڑائی جھگڑا نہیں کیا جاتا ہے ان چار مہینوں کے نام قرآن پاک میں تو نہیں ہیں البتہ ان کی تشریح حدیث شریف میں موجود ہے۔ ان چار میں سے تین مہینے تو اکٹھے آتے ہیں۔ یعنی ذی قعدہ ، ذی الحجہ اور محرم اور چوتھا مہینہ رجب ہے جو جمادی الآخر اور شعبان کے درمیان آتا ہے۔ ان چار مٰں سے حج کا موسم بھی اول الذکر تین مہینوں میں پڑتا ہے ، چونکہ زمانہ جاہلیت میں بھی یہ مہینے محترم سمجھے جاتے تھے اس لیے اس دوران لوگوں کی آمدورفت عام ہوتی تھی۔ کوئی مسافر خطرہ محسوس نہیں کرتا تھا۔ تجارتی اور عام قافلے بلا خوف وخطر سفر کرتے تھے اور اس طرح حج کا سفر بھی بخیرو خوبی انجام پاتا تھا۔ فرمایا (آیت) ” ذلک الدین القیم “ یہی مضبوط دین ہے۔ ملت ابراہیمی کا یہ اٹل اصول ہے کہ حرمت والے مہینوں میں کسی سے چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی۔ فرمایا (آیت) ” فلا تظلموا فیھن انفسکم “ پس ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔ جان پر طلم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کر کے ، اس کے حکم کو توڑ کر گناہ میں ملوث نہ ہو جائو۔ دراصل معصیت میں گرفتار ہو کر عذاب کا مستحق بننا خود اپنے آپ پر ظلم کرنے کے مترادف ہے۔ اور اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی جان پر ظلم کرتا ہے ، اس کو جسمانی ، ذہنی یا مالی نقصان پہنچاتا ہے تو وہ بھی دراصل اس کی اپنی جان پر ظلم ہوتا ہے کیونکہ اسے بالآخر اس ظلم کا بدلہ چکانا ہوگا۔ تخصیص کی وجہ : مفسرین کرام نے یہاں پر یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ طلم تو مطلقا حرام ہے۔ پھر یہاں پر ان چار مہنیوں کی تخصیص کی کیا وجہ ہے کہ ان مہینوں میں طلم نہ کیا جائے۔ فرماتے ہیں کہ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے گناہ کرنا کسی وقت اور کسی مقام پر بھی حرام ہے مگر حرم شریف میں اس کا ارتکاب زیادہ سنگین اور ڈبل سزا کا موجب ہے۔ اسی طرح عام گلی ، بازار میں گناہ کرنے سے مسجد میں گناہ کرنا زیادہ سنگین جرم ہے۔ اس کی ایک مثال سورة بقرہ میں یوں آتی ہے (آیت) ” الحج اشھر معلومٰت “ حج کے مہینے معلوم ہیں (آیت) ” فمن فرض فیھن الحج فلا رفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج “ پس جو کوئی ان مہینوں میں حج کا احرام باندھ لے پھر وہ نہ کوئی شہوانی بات کرے ، نہ گناہ کا ارتکاب کرے اور نہ جھگڑا فساد کرے۔ یہاں بھی یہی بات ہے کہ جھگڑا فساد اور معصیت تو ہر وقت حرام ہے ، پھر احرام کی حالت میں اسی کی تخصیص اس لیے کہ گئی ہے کہ ان ایام میں گناہ کی سنگینی بڑھ جاتی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا ، حضور ! بڑا گناہ کونسا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ برا گناہ یہ ہے کہ تم اللہ کے ساتھ شریک بنائو۔ حالانکہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ عرض کیا اس کے بعد بڑا گناہ کونسا ہے۔ آپ نے فرمایا ” ان تزنی حلیلۃ جارک “ کہ تو اپنے پڑوسی کے گھر پر ڈاکہ ڈالا جائے تو اس کی سنگینی میں کئی گنا اضافہ ہوجاتا ہے کیونکہ پڑوسی کا ایک دوسرے پر بڑا حق ہوتا ہے اگر ایک پڑوسی دوسرے کی غیر حاضری سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کی عزت کی حفاظت کی بجائے اسے برباد کرتا ہے تو عام حالات کی نسبت اس کے جرم کو نوعت بڑھ جاتی ہے بہرحال اللہ نے فرمایا کہ حرمت والے مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔ قمری تقویم کی تقدیم : امام رازی (رح) فرماتے ہیں ، چونکہ حرمت والے مہینوں کا تعلق قمری تقویم سے ہے اس لیے یہاں سے یہ بات اخذ کی جاسکتی ہے کہ حساب کتاب میں قمری تقویم کو اولیت دینی چاہیے۔ اگر شمسی حساب سے بھی کیلنڈر بنانا ضروری ہو تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں تاہم اولیت قمری کیلنڈر کو ہی حاصل ہونی چاہییے۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ مسلمانوں کے تمام احکام شرعیہ کا مدار قمری مہینوں پر ہے۔ مثلا زکوٰۃ روزے حج اور عدت وغیرہ قمری مہینوں کے حساب سے ہی پورے کیے جاتے ہیں لہٰذا قمری تقویم کو بالکل ترک کرکے شمسی تقویم پر انحصار کرنا مکروہ تحریمی میں داخل ہے۔ ایسا کرنے والے مسلمان گنہگار ہوں گے۔ انگریزی کیلنڈر کے علاوہ ہندوئوں کا بکرمی سنہ ، پارسیوں کا فصلی سنہ اور رومیوں کا اپنا کیلنڈر بھی چلتا ہے۔ تا ہم اولیت قمری تقویم کو حاصل ہے اور یہی فطری تقویم ہے۔ ادلے کا بدلہ : ادلے کا بدلہ : فرمایا یہ چار مہینے حرمت والے ہیں۔ ان میں لڑائی بالکل حرام ہے اور اگر مشرکین ان مہینوں کا احترام نہ کریں (آیت) ” وقاتلوا المشرکین کافۃ “ تو پھر مشرکوں کے ساتھ پوری قوت کے ساتھ ٹکرا جائو (آیت) ” کما یقاتلونکم کافۃ “ جس طرح وہ تمہارے ساتھ پوری طرح جنگ میں ملوث ہوجاتے ہیں اگر وہ آمادہ بر لڑائی ہوں تو پھر مسلمانوں کو بھی اجازت ہے کہ وہ پوری قوت کے ساتھ جنگ کریں۔ سورة بقرہ میں ہے (آیت) ” الشھر الحرام بالشھر الحرام والحرمت قصاص “ حرمت والا مہینہ حرمت والے مہینے کے مقابل ہے اور تمام حرمتوں کا بدلہ ہے (آیت) ” فمن اعتدی علیکم فاعتدوا علیہ بمثل ما اعتدای علیکم “ پس جو کوئی تم پر زیادتی کرے تم بھی اس کے مطابق زیادتی کرو مقصد یہ ہے کہ حرمت والے مہینوں کا تقدس اسی وقت تک قائم ہے جب تک مشرک بھی ان کا احترام کرتے ہیں اور اگر وہ اس پابندی کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو پھر ان کی سرکوبی کرنے کے لیے تم سے بھی لڑائی نہ کرنے کی قید اٹھ جائے گی فرمایا (آیت) ” واعلموا ان اللہ مع المتقین “ اور خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی اور نصرت متقیوں کے ساتھ ہے جو اللہ کے حکم کا جس قدر احترام کرے گا ، اسی درجے میں اسے اللہ تعالیٰ کی تائید حاصل ہوگی۔ حرام مہینوں کا تبادلہ : حرمت والے مہینوں کا تقدس واحترام بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس خرابی کا ذکر فرمایا جو وہ اس سلسلے میں کرتے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” انما النسیء زیادۃ فی الفکر “ بیشک مہینے کو پیچھے ہٹا دینا کفر میں زیادتی ہے۔ نسی ، نسیٰ موخر کرنے کو کہتے ہیں کسی چیز کا آگے پیچھے کردینا۔ یہاں پر نسی سے مراد حرمت والے مہینوں کو آگے پیچھے کردینا ہے۔ (آیت) ” یضل بہ الذین کفروا “ کافر لوگ اسی نسی کے ذریعے گمراہ کیے گئے یعنی اللہ کے مقرر کردہ حرمت والے مہینوں میں اولا بدلی کرکے کافر لوگ گمراہ ہوچکے ہیں۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد تقریبا ڈیڑھ ہزار سال تک تو حرمت والے مہینوں کا پوری طرح احترام کیا جاتا رہا مگر اس کے بعد مشرکین نے گڑبڑ کرنی شروع کردی ، اگر وہ کسی حرمت والے مہینے میں جنگ کرنا چاہتے تو حج کے موقع پر متعلقہ قبیلے کے سردار اعلان کردیتے کہ اس سال حرمت کا فلاں مہینہ فلاں مہینے کے ساتھ بدل جائیگا۔ اس طرح وہ اصل محترم مہینے کی حرمت کو پامال کر کے اسی میں لڑائی لڑتے اور اس حرمت کو کسی دوسرے مہینے پر موخر کردیتے اللہ نے فرمایا کہ ایسا کرنا ان کے کفر میں اضافہ کا باعث ہے ، کافر تو پہلے ہی ہیں۔ اب ان کے کفر میں مزید اضافہ ہوگیا۔ فرمایا (آیت) ” یحلونہ عاما یحرمونہ عاما “ اسی نسی کے ذریعے وہ ایک ہی مہینہ کو کسی سال حلال ٹھہر لیتے ہیں اور کسی سال حرام قرار دیے لیے ہیں۔ حلت و حرمت کا اختیار تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے مگر انہوں نے اس کو از خود اپنے ہاتھ میں لے لیا ۔ یہ بالکل ایسا ہی کام ہے جیسا یہود ونصاریٰ نے حلت و حرمت کا اختیار اپنے عالموں اور درویشوں کو تفویض کر رکھا تھا (آیت) ” لیواطع عدۃ ما حرم اللہ “ تا کہ اس گنتی کو پورا کرلیں جس کو اللہ نے حرام کیا ہے (آیت) ” فیحلوا ما حرم اللہ “ پس وہ حلال کرلیتے ہیں اس چیز کو جسے اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے اللہ نے رجب ، ذی قعدہ ، ذی الحجہ اور محرم کے مہینوں کو حرام قرار دے دیا اور ان مہینوں کی حرمت کو گول کر گئے۔ فرمایا یہ بات کفر میں زیادتی کا موجب ہے۔ شمسی اور قمری تقویم میں مطابقت : حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) نے اس مقام پر یہ حقیقت بیان کی ہے کہ قمری سال شمسی سال سے دس دن چھوٹا ہوتا ہے اور اس طرح تین سال میں ایک پورے ماہ کا فرق پڑجاتا ہے ۔ دونوں تقویموں میں اس فرق کو پورا کرنے کے لیے بعض لوگ ہر تین قمری سالوں کے بعد قمری تقویم میں ایک ماہ کا اضافہ کرلیتے ہیں تا کہ شمسی اور قمری سال برابر رہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہر تین قمری سال بعد ایک ماہ لیپ le:p کا بڑا دیا جاتا ہے تو شاہ صاحب نے یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ کیا ایسا کرنا نسی کی زد میں تو نہیں آتا جسے اللہ تعالیٰ نے کفر میں زیادتی قرار دیا ہے۔ امام رازی (رح) اور بعض مفسرین ایسا کرنے کو بھی نسی میں داخل کرتے ہیں حالانکہ حق با ت یہ ہے کہ ایسا کرنا محض حساب کتاب کی تکمیل ہے اور اس میں کسی مہینے کی حلت و حرمت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ، لہٰذا اس قسم کا اہتمام کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اس انتظام کو کبیہ کہتے ہیں اور یہ قدیم یونانیوں اور ایرانیوں کے ہاں بھی رائج تھا۔ لہٰذا عام مفسرین کے نزدیک یہ نسی میں داخل نہیں۔ برے اعمال کی تزئین : فرمایا (آیت) ” زین لھم سواء اعمالھم “ ان کے برے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیے گئے ہیں۔ وہ غلط کام کر رہے ہیں مگر سمجھتے ہیں کہ نیکی کا کام کر رہے ہیں انہوں نے ملت ابراہیمی کو بگاڑ دیا۔ حلال کو حرام اور حرام کو حلال ٹھہرالیا۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کی ، اس کی منشاء کے خلاف کام کیا ، مگر اسی زعم میں مبتلا ہیں کہ انہوں نے کوئی غلطی نہیں کی بلکہ چار حرمت والے مہینوں کی بجائے چار دوسرے مہینے مقرر کر کے انہوں نے گنتی پوری کردی ہے اور اس طرح اللہ کے احکام کی تعمیل بھی کردی ہے۔ سورة انعام میں بھی ہے (آیت) ” وزین لھم الشیطٰن ما کانوا یعملون “ وہ جو کچھ الٹا سیدھا کام کرتے تھے شیطان اس کو مزین کر کے دکھاتا تھا اور وہ سمجھتے تھے کہ ہم بہت اچھا اور نیکی کا کام کر رہے ہیں۔ آج بھی بزرگوں کی تعظیم کے نام پر شیطان کتنے ہیں شرکیہ کام لوگوں سے کرواتا ہے۔ قبروں پر سجدے ہور ہے ہیں ، مرادیں ، مانگی جا رہی ہیں ، چادریں چڑھتی ہیں ، قبروں کو غسل دیا جاتا ہے۔ ، یہ سب بزرگوں کی تعظیم کے نام پر شیطان کرواتا ہے اور لوگ اسے ثواب دارین سمجھ کر رہے ہیں۔ اسی چیز کے متعلق فرمایا کہ ان کے اعمال ان کے لیے مزین کردیے گئے ہیں اور وہ انہی میں مگن ہیں اور نہیں جانتے کہ کتنے بڑے جرم کے مرتکب ہو رہے ہیں (آیت) ” واللہ لا یھدی القوم الکفرین “ کافر لوگوں کو اللہ تعالیٰ ہدایت نصیب نہیں کرتا جو کفر میں بڑھ جاتے ہیں ان کی واپسی کے دروازے بند ہوجاتے ہیں اور پھر وہ زندگی بھر کفر کے اندھیروں میں ہی بھٹکتے رہتے ہیں۔ پھر ان کی ہدایت کی طرف واپسی کا کوئی امکان نہیں رہتا ایسے لوگوں کے متعلق سورة نساء میں اللہ کا فرمان ہے (آیت) ” نولہ ما تولی ونصلہ جھنم “ پھر جدھر کوئی جانا چاہتا ہے ہم اسی طرف اس کو پھیر دیتے ہیں ، ادھر ہی جانے کی توفیق دے دیتے ہیں اور اسے ہم جہنم میں پہنچا دیتے ہیں (آیت) ” وساء ت مصیرا “ اور یہ بہت ہی بڑا ٹھکانہ ہے اگر کفر وشرک میں مبتلا کوئی شخص توبہ نہیں کرتا ، حق وصداقت کو قبول نہیں کرنا چاہتا ، گمراہی میں پرا ہوا ہے ، تو ایسا شخص اپنے برے اعمال کو اچھا سمجھ رہا ہے اللہ تعالیٰ ایسے کافروں کی ہرگز راہنمائی نہیں کرتا اور نہ ہی ان کو ہدایت نصیب ہوتی ہے ، وہ گندگی میں ہیں پڑے رہتے ہیں۔