9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 9:43–48

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 9:43 in the Quran reader

اللہ درگزر کرے آپ سے ، آپ نے کیوں رخصت دی ان کو یہاں تک کہ واضح ہوجاتے آپ کے لیے وہ لوگ جو سچ کہنے والے ہیں اور جان لیتے آپ جھوٹوں کو

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:44 in the Quran reader

نہیں رخصت طلب کرتے آپ سے وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر کہ وہ جہاد کریں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے متقیوں کو

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ Open ayah 9:45 in the Quran reader

بیشک اللہ پر اور قیامت کے دن پر ، اور شک میں پڑے ہوئے ہٰں ان کے دل اور وہ اپنے شک میں ہی متردد ہیں

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:46 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ ارادہ کرتے نکلنے کا جہاد کے لیے تو ضرور تیار کرتے اس کے لیے سامان لیکن اللہ نے ناپسند کیا ہے ان کے اٹھنے کو۔ پس ان کو کسل مند کردیا اور ان سے کہا گیا کہ بیٹھ جائو تم بیٹھنے والوں کیساتھ

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اگر یہ نکلتے تمہارے درمیان تو نہ زیادہ کرتے تمہارے لیے مگر خرابی اور دوڑاتے تمہارے درمیان گھوڑے اور اونٹ تلاش کرتے ہیں یہ تمہارے لیے فتنہ اور تمہارے درمیان ایسے لوگ بھی ہیں جو ان کی بات کو سنتے ہیں اور خوب جانتا ہے ظلم کرنے والوں کو

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

بیشک ( منافقین نے) تلاش کیا فتنہ اس سے پہلے بھی اور الٹ دیا انہوں نے معاملات کو آپ کے سامنے یہاں تک کہ حق آگیا اور اللہ کا حکم غالب ہوگیا اور یہ لوگ ناپسند کرنے والے ہیں

ربط آیات : یہ غزوہ تبوک ہی کا سلسلہ جاری ہے۔ پہلے اللہ تعالیٰ نے جہاد کی ترغیب دی اور پھر اہل ایمان کو خبردار کیا کہ وہ اس معامالہ میں سستی نہ دکھائیں بلکہ ہر حالت میں جہاد میں شریک ہوں۔ پھر جہاد کی حکمت بھی بیان فرمائی کہ اس سے مقصود اللہ کے کلمے کی بلندی ہے ایمان والوں کو اسی وجہ سے عزت نصیب ہوتی ہے۔ اگر ایمان والے آگے نہیں بڑھیں گے تو اللہ تعالیٰ دین کا کام کسی اور جماعت سے لے لیگا اور یہ چیز پیچھے رہ جانے والوں کے لیے تذلیل کا باعث ہوگی۔ پھر اللہ نے منافقین کا حال بیان کیا کہ جہاں انہیں کوئی مفاد نظر آتا ہے وہاں حضور ﷺ کے ساتھ چل نکلتے ہیں اور جہاں کوئی مشقت طلب کام ہوتا ہے وہاں جانے سے گریز کرتے ہیں غزوہ تبوک کا سفر چونکہ بہت لمبا تھا ، گرمی کا موسم اور قحط سالی کا زمانہ تھا اس لیے منافقیھن نے اس سفر سے حتی الامکان گریز کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت بیان فرمائی ہے ا اور یہ سلسلہ سورة کے آخر تک چلا گیا ہے۔ رخصت میں جلدی : گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ منافقین نے کئی حیلے بہانے بنائے کہنے لگے اگر سامان قریب ہوتا اور سفر درمیانہ ہوتا تو ہم ضرور جہاد میں شامل ہوتے بعض نے کئی قسم کی مجبوریاں ظاہر کیں اور غزوہ تبوک میں شریک ہونے سے معذرت کرلی۔ اس پر حضور ﷺ نے ان کے عذر قبول کرتے ہوئے ان سے درگزر فرمایا۔ اگرچہ آپ نے یہ کوئی غلط کام نہیں کیا تھا مگر یہ پسندیدہ بھی نہیں تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے نہایت ہی لطیف پیرائے میں حضور ﷺ کو تنبیہ فرمائی ہے۔ (آیت) ” عفا اللہ عنک “ اللہ تعالیٰ آپ کو معاف فرمائے (آیت) ” لم اذنت لھم “ آپ نے ان کو کیوں رخصت دی کہ انہیں عدم شمولیت کا بہار مل گیا۔ آپ ان کو رخصت نہ دیتے (آیت) ” حتی یتبین لک الذین صدقوا “ یہاں تک کہ ظاہر ہوجائے آپ کے لیے وہ لوگ جنہوں نے سچ کہا (آیت) ” و تعلم الکذبین “ اور آپ جھوٹوں کو بھی جان جاتے۔ مقصد یہ ہے کہ آپ کو منافقین کو رخصت دینے میں جلدی نہیں کرنا چاہیے۔ اگر آپ ذرا خاموش رہتے تو اللہ تعالیٰ آپ کو سچے اور جھوٹے کی پہچان کرادیتا۔ منافقین تو کسی حالت میں بھی جہاد میں شریک ہونے پر آمادہ نہیں تھے ، مگر آپ کی طرف سے اجازت ان کی عدم شرکت کا معقول بہانہ بن گیا۔ اللہ تعالیٰ ان کے عزائم اور باطنی کیفیات کو جانتا ہے ، یہ لوگ کسی حیلے کی تلاش میں تھے جو انہیں میسر آگیا اور انہوں نے اپنے آپ کو کسی حد تک الزام سے بری کرلیا۔ مومنین کا شیوہ : فرمایا یہ تو منافقوں کی حالت ہے کہ حیلے بہانے سے جہاد سے گریز کرتے ہیں مگر مومنوں کا حال یہ ہے۔ (آیت) ” لا یستاذنک الذین یومنون باللہ والیوم الاخر “ کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں وہ آپ سے ہرگز رخصت طلب نہیں کرتے جن لوگوں کے دلوں میں نور ایمان راسخ ہوچکا ہے وہ کیسے برداشت کرسکتے ہیں کہ اللہ کا رسول تو سفر کی صعوبتیں برداشت کرے اور وہ پیچھے بیٹھے رہیں۔ فرمایا وہ نہیں رخصت طلب کرتے (آیت) ” ان یجاھدوا باموالھم وانفسھم “ اس بات سے کہ وہ جہاد کریں اپنے مالوں کے ساتھ اور اپنی جانوں کے ساتھ مقصد یہ ہے کہ اہل ایمان اپنے مالوں اور جانوں کی قربانی کے لیے ہمہ وقت مستعد رہتے ہیں۔ سورة کے آخر میں آرہا ہے (آیت) ” ولا یرغبوا بانفسھم عن نفسہ “ وہ لوگ اپنی جان کو نبی کی جان پر ترجیح نہیں دیتے۔ جب اللہ کا رسول خود مشقت برداشت کر رہا ہے تو مومن کیسے سکون پکڑ سکتے ہیں ؟ فرمایا (آیت) ” واللہ علیم بالمتقین “ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کن لوگوں کے دل میں خوفِ خدا ہے اور کن کے دلوں میں کفر ، شرک اور نفاق بھرا ہوا ہے۔ غزوہ تبوک کے جو حالات تاریخ اور حدیث کی کتابوں میں ملتے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان نہایت ہی کٹھن حالات میں سخت تکالیف کو برداشت کر کے حضور ﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک ہوئے۔ پھر جو لوگ کسی وجہ سے قافلے سے پیچھے رہ گئے وہ بھی نہایت ہی نامساعد حالات میں مجاہدین سے جا ملے۔ حضرت ابوذر غفاری ؓ کا اونٹ دورانِ سفر چللنے سے معذور ہوگیا۔ انہوں نے اونٹ کو وہیں چھوڑا اور سامان سفر اپنی گردن پر اٹھا کر چل دیے۔ منزلوں پر منزلیں طے کرتے ہوئے قافلے سے جا ملے جب حضور ﷺ نے ان کو دور سے آتا ہوا دیکھا تو فرمایا کہ ابو ذر ؓ دنیا میں بھی یگانہ ہے اور یہ آخرت میں بھی یگانہ ہوگا۔ ابو خثیمہ ؓ صحابی نے رات بھر مزدوری کی اور ایک صاع کھجوریں لا کر حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کردیں اور عرض کیا کہ میری طرف سے جہاد کے لیے مقبول فرما لیں۔ منافقین نے فورا طعن کیا کہ یہ شخص لہو لگا کر شہیدوں میں نام لکھوانا چاہتا ہے۔ بھلا اتنے بڑے معرکے کے لیے ایک صاع کجھوروں کی کیا حیثیت ہے۔ بھلا اتنے بڑے معرکے کے لیے ایک صاع کھجوروں کی کیا حیثیت ہے ؟ ادھر عبدالرحمن بن عوف ہیں جنہوں نے اس جنگ کے لیے چار ہز اور درہم یا دنیار حضور کی خدمت میں پیش کیے منافقوں نے یہاں بھی اپنی خباثت کا اظہار کیا۔ کہنے لگے کہ اتنی بڑی رقم دکھلاوے کے لیے دے رہا ہے۔ اسی ابو خثیمہ ؓ کے متعلق آتا ہے کہ وہ بھی قافلے سے پیچھے رہ گیا اور پھر اکیلا ہی پیچھے پیچھے چل پڑا۔ جب قافلے کے قریب پہنچا تو حضور ﷺ نے دور سے گردوغبار اٹھتا ہوا دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں القا کردیا کہ یہ ابو خثیمہ ؓ ہے۔ چناچہ جب وہ قافلے میں پہنچ گیا تو مجاہدین نے دیکھا کہ وہ واقعی ابو خثیمہ ؓ ہی تھا۔ آگے تین دوسرے آدمیوں کا ذکر بھی آرہا ہے جو اگرچہ پکے سچے مسلمان تھے مگر کسی طرح غزوہ تبوک میں شامل نہ ہو سکے۔ انہوں نے کوئی جھوٹا حیلہ بنانے کی بجائے اپنی غلطی کا اعتراف کرلیا اور پھر ان پر بڑی سخت آزمائش آئی ۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ مومنوں کا شیوہ یہ ہے کہ وہ اپنے مال اور جان کے ساتھ جہاد کرتے ہیں اور اس معاملہ میں اللہ کے رسول سے رخصت طلب نہیں کرتے انہیں اللہ کے راستے میں جو بھی تکلیف پہنچے اسے بخوشی برداشت کرتے ہیں۔ منافقین کا طرز عمل : اس کے برخلاف منافقین کا طرز عمل یہ ہے (آیت) ” انما یستاذنک الذین لا یومنون باللہ والیوم الاخر “ کہ آپ سے رخصت وہ لوگ مانگتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے ان کا ایمان لانا محض زبانی کلامی ہوتا ہے۔ (آیت) ” وارتابت قلوبھم “ اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” فھم فی ریبھم یترددون “ اور وہ اسی شک میں ہی بھٹک رہیے ہیں۔ انہیں اللہ اور اس کے رسول کی بات پر یقین ہیں نہیں آتا اور وہ ہر چیز کو شک کی نظر سے ہی دیکھتے ہیں۔ ان کے اسی تردد کے متعلق سورة نساء میں آتا ہے (آیت) ” لا الی ھولاء ولا الی ھولائ “ نہ وہ ادھر کے ہوتے ہیں اور نہ ادھر کے بلکہ درمیان میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگ جہاد سے گریز کے لیے بہانے تلاش کرتے ہیں۔ اور پھر اللہ کے رسول سے رخصت طلب کرتے ہیں۔ فرمایا یہ تو جہاد میں شرکت کا ارادہ ہی نہیں رکھتے تھے (آیت) ” ولو ارادوا الخروج “ اگر یہ جہاد میں جانے کا ارادہ رکھتے (آیت) ” لا عدوا لہ عدۃ “ تو سامان تیار کرلیتے۔ مقصد یہ ہے کہ حضور ﷺ نے روانگی سے کئی ماہ پہلے تیاری کا حکم دے دیا تھا۔ اگر یہ لوگ صدق دل سے جہاد میں حصہ لینا چاہتے تو سفر کی تیاری کرتے ، سواری کا انتظام کرتے ، ہتھیار لیتے ، خوراک کا بندوبست کرتے ، مگر یہ تو جانا ہی نہیں چاہتے تھے اور جھوٹے حیلے بہانوں کی تلاش میں تھے۔ مشیت الہٰی : فرمایا ادھر مشیت الٰہی یہ تھی (آیت) ” ولکن کرہ اللہ انبعاثھم “ کہ اللہ تعالیٰ نے بھی ان کے اٹھنے یعنی سفر پر روانگی کو ناپسند کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کے باطنی عزائم سے بخوبی واقف تھا کہ یہ لوگ دل سے تو جانا نہیں چاہتے (آیت) ” فثبطھم “ پس اللہ نے ان کو کسل مند بنا دیا ان پر سستی طاری کردی کہ وہ جہاد میں شریک ہونے کی ہمت ہی نہ پاتے تھے۔ اللہ نے ان کو کم بہت بنا دیا اور فرمایا (آیت) ” وقیل اقعدوا مع القٰعدین “ کہ تم بیٹھنے والوں کے ساتھ ہی بیٹھے رہو۔ تم جیسے بزدل آدمیوں کی ضرورت نہیں ہے۔ ظاہر ہے کہ پیچھے رہ جانے والے کمزور ، ضعیف ، معذور ، نابینا ، عورتیں اور بچے تھے ، تو فرمایا تم بھی ان کے ساتھ گھروں میں بیٹھے رہو۔ تمہارا جنگ میں جانا سود مند ثابت نہیں ہوگا۔ کیونکہ (آیت) ” لو خرجوا فیکم “ اگر یہ لوگ آپ کے ساتھ جہاد کے لیے نکلتے (آیت) ” مازادوکم الا خبالا “ تو نہ زیادہ کرتے تمہارے لیے مگر خرابی مقصد یہ کہ اگر یہ بادل نخواستہ آپ کے ساتھ چل بھی پڑتے تو آپ کے لیے مشکلات میں اضافہ کا باعث بنتے لہٰذا ان کا نہ جانا ہی بہتر تھا۔ منافقین کی لگائی بجھائی : اور اس کے ساتھ ساتھ (آیت) ” ولا اوضعوا خللکم “ دوڑاتے تمہارے درمیان گھوڑے اور اونٹ۔ ایضاع گھوڑے اور اونٹ کو تیز دوڑانے کو کہتے ہیں مگر محاورہ کے طور پر اس سے یہ مراد لی جاتی ہے کہ ادھر کی باتیں ادھر اور ادھر کی ادھر کی جائیں جس سے فتنہ و فساد کا بازار گرم ہو۔ یہ لفظ غیبت اور چغل خوری پر بھی محمول کیا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اگر یہ لوگ تمہارے ساتھ جہاد کے لیے چلے جاتے تو ایک تو خرابی میں اضافہ کرتے اور دوسرے ایک دوسرے کے ساتھ لگائی بجھائی کی باتیں کر کے دشمن ، کینہ اور نفرت پیدا کرتے اور اس طرح لشکر اسلام کو فائدے کی بجائے نقصان کا احتمال ہوتا ۔ امرئوالقیس زمانہ جاہلیت کا بڑا مشہور شاعر ہوا ہے اس نے اپنے ایک عمدہ شعر میں ایضاع کا لفظ استعمال کیا ہے کہتا ہے ارانا موضعین لا مرغیب ونسحر بالطعام وباشراب ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہم بڑی تیزی سے امر غیب کی طرف جا رہے ہیں اور حالت یہ ہے کہ صبح شام کھانے پینے کے ساتھ بہلایا جا رہا ہے شاعر نے بڑی پتے کی بات کی ہے کہ ہم نامعلوم منزل کی طرف تیزی کے ساتھ سفر کر رہے ہیں مگر معلوم نہیں کہ آگے ہمارے ساتھ کیا سلوک ہونے والا ہے۔ ہم اس غائبانہ منزل کی فکر کی بجائے خوردونوش میں ہی محو ہیں بہرحال یہاں ایضاع کو تیز دوڑنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے اور یہاں پر اوضعو کا لغوی معنی تو تیز دوڑنا ہی ہے۔ اگر منافق لوگ تمہارے ساتھ نکلتے تو تمہارے درمیان گھوڑے اور اونٹ تیزی سے دوڑاتے یعنی غیبت اور چغل خوری کے زریعے تمہارے درمیان لگائی بجھائی کرتے اور اس طرح اختلافات پیدا کر کے تمہارے لیے نقصان کا باعث بنتے لہٰذا ان کا نہ جانا ہی بہتر ہے۔ منافقین کی فتنہ پردازی : منافقین کی ایک خصلت یہ بھی بیان فرمائی (آیت) ” یبغونکم الفتنۃ “ کہ یہ تمہارے لیے فتنہ تلاش کرتے ہیں فتنہ و فساد برپا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ فرمایا اور ادھر تمہاری حالت یہ ہے (آیت) ” وفیکم سمعون لھم “ تمہارے درمیان کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو ان کی باتوں کو سنتے ہیں یعنی ان کی لگائی بجھائی سے متاثر ہوجاتے ہیں ظاہر ہے کہ اگر سچے مومن مناقین کی چال میں آجائیں گے تو اس سے فتنہ ہی برپا ہوگا۔ فرمایا (آیت) ” واللہ علیم بالظلمین “ خدا تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کس کی نیت خراب ہے اور کون اہل ایمان میں فساد کا موجب بن سکتا ہے۔ فرمایا (آیت) ” لقدابتغوا الفتنۃ من قبل “ ان منافقین نے پہلے بھی فتنہ تلاش کیا۔ جب سے حضور ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تھے ، یہ لوگ ہمیشہ سازشوں میں مصروف رہے اور فتنہ و فساد کی آگ بھڑکاتے رہے۔ کبھی یہودیوں کے ساتھ مل کر اہل ایمان کے خلاف سازش کی اور کبھی مشرکین مکہ کو مسلمانوں کے خلاف مدد دی غرضیکہ یہ لوگ ہر موقع پر مسلمانوں کے خلاف مصروف عمل رہے۔ اب بھی اگر یہ جہاد کے لیے نکل کھڑے ہوتے تو کوئی نہ کوئی فتنہ ہی کھڑا کرتے ، لہٰذا اچھا ہوا کہ یہ آپ کے ساتھ رفیق ِ سفر نہیں ہوئے۔ فرمایا ان کی ہمیشہ سے یہ عادت رہی ہے (آیت) ” وقلبوا لک الامور “ انہوں نے پہلے بھی آپ کے سامنے معاملات کو الٹا کر کے ہی پیش کیا منافقین نے ایسا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جب مسلمانوں کے معاملات کو الٹ پلٹ کر کے پیش نہ کیا ہو۔ کبھی سازش کی ، کبھی غلط پراپیگنڈا کیا اور کبھی افواہ سازی کے ذریعے مسلمانوں کے مفاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی مگر اللہ نے ان کی ایک نہیں چلنے دی اور یہ ہمیشہ ناکام ونامراد ہی ہوتے رہے ہیں۔ لہٰذا غزوہ تبوک کے لیے ان کا نہ جانا ہی مسلمانوں کے حق میں بہتر تھا۔ دین حق کا غلبہ : فرمایا منافقین اپنی ہر سازش میں ناکام ہوئے (آیت) ” حتی جآء الحق “ یہاں تک کہ حق آگیا۔ یہودی اور منافق سب ذلیل و خوار ہوئے اور اسلام کے بول بالا ہوگیا۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کے بارے میں آتا ہے کہ ہجرت کے بعد ابتدائی دور میں وہ شخص ہر موقع محل پر مسلمانوں کی بدگوئی کرتا اور ان کی حوصلہ شکنی کرنے کی کوشش کرتا پھر جب بدر کے میدان میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح مبین عطا فرمائی تو کہنے لگا معلوم ہوتا ہے کہ اب معاملہ آہی گیا ہے اور اب اسلام کے آگے بند نہیں بندھا جاسکتا۔ چناچہ اس نے ظاہری طور پر کلمہ بھر پڑھ لیا مگر دل میں کفر ہی رہا۔ فرمایا منافقین سازشیں ہی کرتے رہے۔ یہاں تک کہ حق آگیا ” وظہرامر اللہ “ اور اللہ کا حکم غالب آگیا۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ تھا کہ وہ دین حق کو غالب بنا کر چھوڑے گا ، لہٰذا وہ وقت آگیا اور اللہ نے اپنے دین کو غالب کردیا۔ (آیت) ” وھم کرھون “ اور یہ لوگ اس غلبے کو ناپسند کرتے والے ہیں۔ منافقین تو نہیں چاہتے تھے کہ دین حق تمام ادیان پر غالب آجائے مگر مشیت ایزدی یہی تھی ، لہٰذا اس نے اپنا وعدہ پورا کردیا اور منافقین بےنیل مرام ہو کر رہ گئے۔ منافقین کی مذمت بیان ہو رہی ہے اور سلسلہ آگے دور تک چلا جائے گا۔ بعض منافقین کا شخصی طور پر بھی ذکر ہوگا اور بحیثیت مجموعی بھی ان کی خباثتوں کو واضح کیا جائے گا۔ درمیان میں اس سلسلہ سے تعلق رکھنے والے بعض دیگر مسائل بھی آئیں گے۔
Ayahs 9:49–54

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

اور بعض ان منافقین میں سے وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ آپ مجھے رخصت دے دیں اور مجھے فتنے میں نہ ڈالیں۔ سنو ! فتنے میں تو یہ گرے ہوئے ہیں اور بیشک جہنم البتہ گھیرنے والی ہے کافروں کو

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

اگر پہنچے آپ کو کوئی بھلائی تو ان کو ناگوار گزرتی ہے اور اگر پہنچے آپ کو کوئی مصیبت تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنا معاملہ اس سے پہلے سنبھال لیا تھا۔ اور پھرتے ہیں وہ اس حال میں کہ وہ خوشیاں منانے والے ہوتے ہیں

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

( اے پیغمبر ! ) آپ کہہ دیجئے۔ ہرگز نہیں پہنچتی ہمیں مگر وہی چیز جو اللہ نے لکھ دی ہے ہمارے لیے وہی ہمارا کارساز ہے اور اللہ ہی پر چاہیے کہ ایمان والے لوگ بھروسہ رکھیں

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

( اے پیغمبر ! ) آپ کہہ دیجئے کہ تم نہیں انتظار کرتے ہمارے بارے میں مگر دو نیکیوں میں سے ایک کا اور ہم انتظار کرتے ہیں تمہارے بارے میں کہ پہنچائے تم کو اللہ تعالیٰ سزا اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں سے پس انتظار کرو ، بیشک ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنیوالے ہی

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ) آپ کہہ دیجئے ( اے منافقین) تم خرچ کرو خوشی سے یا ناخوشی سے ، ہرگز نہیں قبول کیا جائے گا تم سے بیشک تم ایسے لوگ ہو جو نافرمانی کرنیوالے ہو

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

اور نہیں روکا ان کے خرچ کو قبول کرنے سے مگر اس بات نے کہ بیشک انہوں نے کفر کیا ہے اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ اور نہیں ادا کرتے وہ نماز کو مگر اس حال میں کہ وہ سست ہوتے ہیں۔ اور نہیں خرچ کرتے مگر اس حال میں کہ وہ ناپسند کرنے والے ہوتے ہیں

جد ابن قیس : اللہ تعالیٰ نے جہاد میں نفیر عام کا حکم دینے کے بعد منافقین کی مذمت بیان فرمائی ہے اور ان کے حیلے بہانوں کا رد کیا ہے۔ اسی سلسلہ میں بعض نمایاں منافقوں کا حال خصوصی طور پر بیان کیا ہے ۔ بنی (1۔ ابن کثیر ص 387 ، ج 2) (فیاض) سلمہ قبیلے کا سردار جد ابن قیس بظاہر کلمہ گو تھا مگر اس کے دل میں کفر تھا یہ وہی شخص ہے جو حدیبیہ کے موقع پر موجود تھا جب حضور ﷺ درخت کے نیچے صحابہ کرام سے بیعت رضوان لے رہے تھے تو یہ شخص اپنے گم شدہ اونٹ کی تلاش میں پھر رہا تھا۔ کسی شخص نے اس سے کہا کہ حضور ﷺ لوگوں سے بیعت لے رہے ہیں ، تم بھی ان میں شامل ہو جائو تو کہنے لگا ، میرا اونٹ ہی مجھے مل جائے تو اچھا ہے بیعت کرنے سے کیا فائدہ ہوگا ؟ غرضیکہ یہ شخص اعتقادی منافق تھا ، اور اس نے اس موقع پر بھی بیعت نہیں کی تھی۔ نبی کریم (علیہ السلام) نے فرمایا تھا کہ حدیبیہ کے مقام پر بیعت کرنے والوں میں سے کوئی بھی دوزخ میں نہیں جائیگا مگر ایک سرخ اونٹ والا اور یہ وہی جد ابن قیس تھا جو پکا منافق تھا۔ جہاد سے فرار کا بہانہ : جب غزوہ تبوک کے لیے تیاری کا اعلان ہوا تو یہ شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا کہ میں ایک فریفتہ مزاج آدمی ہوں بلکہ ایک روایت میں آتا ہے کہ خود حضور ﷺ نے جد بن قیس سے پوچھا تھا ” ھل لک فی جھاد بنی الاصغر “ کیا تو چاہتا ہے کہ بنی اصغر ( رومیوں ) کے ساتھ جہاد کیا جائے۔ تو اس نے جواب میں کہا تھا کہ میں ایک فریفتہ مزاج آدمی ہوں ، رومیوں کی عورتیں بڑی گوری چٹی اور خوبصورت ہیں ، دل خوامخواہ ان کی طرف مائل ہوتا ہے ، وہ لباس بھی نیم عریاں پہنتی ہیں ، اس لیے مجھے خطرہ ہے کہ میں ان کے دام فریب میں گرفتار ہو کر وہیں کا ہو کر رہ جائوں گا۔ لہٰذا بہتر ہے کہ آپ مجھے اس جہاد میں شرکت سے رخصت دے دیں۔ آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اس منافق کے اس عذرلنگ کی مذمت بیان فرمائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ومن ھم من یقول ائذن لی ولا تفتنی “ ان منافقین میں سے بعض وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ مجھے رخصت دے دیں اور مجھے فتنے میں نہ ڈالیں۔ اگر میں رومیوں کے علاقہ میں گیا تو عورتوں کے عشق میں مبتلا ہو کر رہ جائوں گا۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” الا فی الفتنۃ سقطوا “ فتنہ میں تو یہ منافق خود ہی پڑے ہوئے ہیں۔ یہ کون سے نئے فتنے کی بات کرتے ہیں ؟ ان کے لیے سب سے بڑا فتنہ تو یہ ہے کہ یہ لوگ جہاد سے گریز کر رہے ہیں اور اس کے لیے جھوٹے بہانے بنا رہے ہیں۔ فرمایا اس سے بڑا فتنہ کیا ہو سکتا ہے کہ حق وصداقت کا ساتھ نہ دیا جائے اور جہاد سے گریز کیا جائے۔ معرفت الٰہی کا ذائقہ : اہل تحقیق کہتے ہیں کہ انسان کے حق میں سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ وہ حق کو پہچان لے ۔ حضرت مالک بن دینار (رح) تابعین کے قریبی زمانے کے بزرگ ہیں ان کا ایک مشہور مقولہ ہے جیسے علامہ اصفہانی (رح) نے حلیۃ الاولیام میں بھی نقل کیا ہے۔ آپ فرماتے ہیں افسوس ! دنیا سے اکثر لوگ چلے گئے مگر انہوں نے لذیذ ترین چیز کا ذائقہ نہیں چکھا ، پوچھا وہ لذیذ ترین چیز کون سے ہے تو فرمایا وہ اللہ کی معرفت ہے اسی لیے محققین کے نزیدک انسان کے لیے سب سے بڑی نعمت معرفت الٰہی ہے جب وہ اس حق کو پہچان لے تو اس کے مطابق سعی کرے اور اس کے لیے اپنے مال اور جان تک کو قربان کرنے میں دریخ نہ کرے۔ انسان کے حق میں یہی سعادت ہے اور یہی اس کے اخلاق کی تکمیل ہے۔ اس کے بغیر اخلاقی لحاظ سے انسان کی کوئی قدرومنزلت نہیں۔ اس چیز سے گریز کرنے والا انسان منافق ہوتا ہے اور جہاد سے جی چراتا ہے اگر کہیں چلا بھی جائے تو بادل نخواستہ کیونکہ اس کے نظریات ہی فاسد ہوتے ہیں۔ تو فرمایا کہ بعض لوگ جھوٹے بہانے بناتے ہیں کہ جہاد میں جا کر عورتوں کے فتنے میں مبتلا ہوجائیں گے ایسے لوگ بدنیت ہیں اور ان کا یہ بہانہ ہی ظاہر کر رہا ہے کہ وہ اس سے کہیں بڑے فتنے میں پہلے ہی مبتلا ہوچکے ہیں۔ فرمایا ، یاد رکھو ! (آیت) ” وان جھنم لمحیطۃ بالکفرین “ بیشک جہنم کافروں کا احاطہ کرنے والی ہے۔ جو جھوٹے بہانے بناتے ہیں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہی اس نہیں سمیٹ لیگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں کے نظریات درست نہیں ہیں ، ان کی فکر غلط ہے یہ نہ تو حق کو پہچانتے ہیں ، نہ اس کی خاطر قربانی کے لیے تیار ہوتے ہیں اور نہ ہی حق کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ منافقین کی بدباطنی : اس کی بجائے (آیت) ” ان تصبک حسنۃ تسئوھم “ اگر تمہیں کوئی خوبی پہنچے تو ان کو ناگوار گزرتی یہ ، کہیں فتح حاصل ہوجائے ۔ مال مل جائے ، کوئی کامیابی حاصل ہوجائے تو منافقین کے لیے بڑی تکلیف دہ ہوتی ہے ، ان کو بری لگتی ہے۔ (آیت) ” وان تصبک مصیبۃ “ اور اگر آپ کو کوئی تکلیف پہنچ جائے کوئی نقصان ہوجائے یا شکست ہوجائے (آیت) ” یقولوا قد اخذنا امرنا من قبل “ تو منافق کہتے ہیں ہم نے تو پہلے ہی اپنا معاملہ سنبھال لیا تھا۔ ہم نے اچھا کیا جو مسلمانوں کے ساتھ شریک نہ ہوئے ورنہ ہم بھی ان کے ساتھ مصیبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں ان کے فاسد نظریات کی یہی دلیل ہے کہ ہر اچھے کام میں تو مسلمانوں کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں اور جہاں کوئی تکلیف پہنچے ، وہاں علیحدگی اختیار کرلیتے ہیں۔ فرمایا ایسے صورت میں (آیت) ” ویتولوا وھم فرحون “ وہ اس حال میں پھرتے ہیں کہ وہ خوشیاں منانے والے ہوتے ہیں۔ یعنی مسلمانوں کی تکلیف پر انہیں خوشی حاصل ہوتی ہے۔ اللہ نے فرمایا (آیت) ” قل “ اے پیغمبر ! آپ ان لوگوں سے کہہ دیں (آیت) ” لن یصیبنا الا ما کتب اللہ لنا “ ہمیں کوئی چیز نہیں پہنچتی مگر وہی جو اللہ نے ہمارے مقدر میں لکھ دی ہے۔ تکلیف یا راحت ، شکست یا فتح سب اللہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ ہم اس کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہیں اس کے حکم کے بغیر ہمیں کوئی چیز نہیں پہنچ سکتی (آیت) ” ھو مولنا “ وہی ہمارا کارساز ہے (آیت) ” وعلی اللہ فلتوکل المومنون “ اور چاہیے کہ اہل ایمان صرف اسی پر اعتماد رکھیں۔ صدمے اور مصیبت کے اثرات کو کم کرنے کے لیے یہ بہت بڑا ہتھیار ہے۔ جو کوئی جس قدر خدا کی ذات پر متوکل ہوگا وہ تکلیف سے اسی قدر کم متاثر ہوگا ۔ مومن جب اللہ کو ہی اپنا کارساز بنا لیتا ہے تو پھر بڑی سے بڑی تکلیف بھی محسوس نہیں ہوتی اسی لیے یہاں پر یہی سبق دیا گیا ہے کہ تکلیف کے وقت آپ یہ فرمادیں کہ ہمیں تو وہی کچھ پہنچے گا جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے مقدر میں کردیا۔ لہٰذا ہم کسی مصیبت کی وجہ سے بددل نہیں ہوتے۔ دو میں سے ایک نیکی : فرمایا (آیت) ” قل “ اے پیغمبر ! آپ ان کو یہ بھی فرما دیں (آیت) ” ھل تربصون بنا الا احدی الحسنین “ تم نہیں انتظار کرتے ہمارے بارے میں مگر دو نیکیوں میں سے ایک۔ ہمارے لیے فتح یا شکست اور راحت یا تکلیف ہر بات میں نیکی ہے۔ اگر فتح ہوگئی اور ازندہ رہے تو مال بھی مل گیا اور غازی بھی بنے۔ اس کے برخلاف اگر شکست ہوگئی اور مارے گئے تو بھی شہادت نصیب ہوگئی۔ دنیا میں ناکامی بھی ہمارے لیے آخرت میں دائمی راحت کا باعث ہوگی ، لہٰذا جو بھی صورت حا ہو۔ ہمیں دو میں سے ایک نیکی تو بہرحال ہوجاتی ہے۔ اے منافقین ! تم ہماری شکست کے انتظار میں ہو مگر ہمارے لیے یہ بھی بھلائی ہے کیونکہ کہ اس طرح ہمارے لیے آخرت کی کامیابی ہوجاتی ہے۔ تو جس چیز کو تم ہمارے حق میں تکلیف دے سمجھ رہے ہو۔ ہمیں اس سے کوئی خطرہ نہیں کیونکہ ہمارے لیے اس میں بھی بھلائی ہے۔ عذاب کا انتظار : فرمایا ، تم ہمارے بارے میں نہیں انتظار کرتے مگر دو خوبیوں میں سے ایک خوبی کا (آیت) ” ونحن نتربص بکم ان یصیبکم اللہ بعذاب من عندہ “ اور ہم بھی تمہارے بارے میں منتظر ہیں کہ دو چیزوں میں سے ایک ضرور ہوگی۔ پہلی بات یہ ہے کہ اللہ کی طرف سے تمہیں سزا دی جائیگی۔ اللہ تعالیٰ تم پر کوئی افتاد ڈال دیگا اور تم براہ راست اس کی گرفت میں آجائو گے (آیت) ” اوبایدنا “ یا ہمارے ہاتھوں سے اللہ تمہیں سزا میں مبتلا کر دیگا۔ تمہاری ذلت ورسوائی خود ہمارے ہاتھوں سے بھی واقع ہو سکتی ہے آگے اسی سورة میں آرہا ہے (آیت) ” یایھا النبی جاھد الکفار والمنفقین واغلظ علیھم “ اے بنی ع ! ان کافروں اور منافقوں کے ساتھ جہاد کریں اور ان پر سختی کریں ، منافقوں کے ساتھ زبانی طور پر سختی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان کی خرابیوں کو لوگوں کے سامنے ظاہر کر کے انہیں ذلیل و خوار کیا جائے۔ اس معاملے میں ان کے ساتھ رعایت نہ کہ جائے۔ فرمایا (آیت) ” فتربصوا “ تم بھی انتظار کرو (آیت) ” انا معکم متربصون “ ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والے ہیں۔ پھر دیکھیں گے کہ کیا صورت پیش آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ یا تو خود تمہیں سزا دیگا یا پھر ہمارے ہاتھوں سے تمہیں تکلیف پہنچے گی ، تم مغلوب ہو جائو گے اور سخت رسوا ہو گے۔ مال کی عدم قبولیت : بعض منافقین جہاد میں ذاتی شمولیت سے معذوری کا اظہار کر کے مالی تعاون کی پیش کش کرتے تھے جد ابن قیس بھی انہی میں سے تھا جس نے عملی طور پر جہاد میں شامل ہونے سے معذرت کرلی ، مگر جہاد کے لیے کچھ مال کی پیش کش کی ، اللہ نے اسے قبول نہ فرمایا اور ارشاد ہوا ، (آیت) ” قل “ اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیجئے (آیت) ” انفقوا طوعا او کرھا “ تم خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے (آیت) ” لن یتقبل منکم انکم کنتم قوما فسقین “ تم سے یہ مال ہرگز قبول نہیں کیا جائیگا۔ بیشک تم ایسے لوگ ہو جو نافرمانی کرنیوالے ہو چونکہ تمہارے نظریات ہیں فاسد ہیں اور انفاق فی سبیل اللہ اس وقت مقبول ہوگا۔ جب فکر صحیح ہوگی جہاد مال اور جان دونوں زرائع سے لازمی ہے۔ اگر ذاتی طور پر عدم شرکت سے جان بچانا چاہتے ہیں تو پھر ان کا مال بھی قابل قبول نہیں ہے۔ یہ لوگ ظاہری طور پر کلمہ گو ہیں مگر ان کے دلوں میں ابھی تک کفر راسخ ہے فرمایا جہاد تو بڑی اعلی ، ارفع اور پاک چیز ہے۔ جس کے لیے ناپاک مال قبول نہیں کیا جاسکتا۔ پھر آگے عدم قبولیت کی وجہ بھی بیان فرمائی (آیت) ” وما منعھم ان تقبل منھم نفقتھم “ ان کے خرچ کی قبولت میں کوئی چیز مانع نہیں (آیت) ” الا انھم کفروا باللہ “ مگر یہ کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا انکار کردیا۔ (آیت) ” وبرسولہ “ اور اللہ کے رسول کی رسالت کو تسلیم نہ کیا۔ اور جب تک کوئی توحید و رسالت کو صحیح معنوں میں تسلیم نہ کرے وہ اسلام کے دائرے میں داخل نہیں ہو سکتا ، تو ایسے شخص کی طرف سے مال کیسے قبول کیا جاسکتا ہے ؟ دین اسلام تو انسانیت کا بلند ترین شرف ہے۔ اگر انسان حق کو پہنچان کر اس کے لیے سعی نہیں کرتا اور نہ جان پیش کرتا ہے تو اس کا مال بھی قبول نہیں کیا جاسکتا۔ مال کی قبولیت کے لیے ایمان کا ہونا شرط ہے جسے قرآن پاک میں بار بار واضح کیا گیا ہے (آیت) ” ان الذین امنوا وعملوا الصلحت “ کے الفاظ کئی سورتوں میں آئے ہیں۔ سورة کہف میں ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال انجام دیے ان کے لیے جنت الفردوس میں مہمانی ہوگی۔ سورة بروج میں ہے کہ ایسے لوگوں کے لیے باغات ہوں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے اسی طرح سورة بینہ میں ایمان لانے والوں اور اعمال صالحہ انجام دینے والوں کے متعلق فرمایا کہ وہ بہترین مخلوق ہیں۔ سورة نساء میں ہے (آیت) ” ومن یعمل من الصلحت من ذکر او انثی وھو مئومن “ مرد وزن میں سے جو بھی کوئی نیکی کا کام کرے بشرطیکہ وہ ایماندار ہو تو ایسے لوگ بہشت میں داخل ہوں گے ، مقصد یہ ہے کہ اگر کوئی شخص بڑی دولت خرچ کر کے رفاہ عامہ کا بڑے سے بڑا کام کرتا ہے لیکن ایمان سے خالی ہے تو اس کی کوئی چیز بارگاہ رب العزت میں قبول نہیں ہوگی۔ ہر نیکی کے لیے ایمان شرط اولین ہے۔ چونکہ منافق لوگ یہ شرط پوری نہیں کرتے ، وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے رسول کی رسالت پر دل سے ایمان نہیں رکھتے لہٰذا ان کی طرف سے کتنا بڑا مال بھی ہو۔ قابل قبول نہیں ہوگا۔ نماز میں سستی : دائرہ اسلام میں داخل ہونے کے بعد اولین عبادت جو کسی مسلمان کے لیے ضروری ہوجاتی ہے ، وہ نماز ہے اسی کے ذریعے تعلق باللہ قائم ہوتا ہے ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کی اصلطلاح (1۔ حجۃ اللہ البالغہ ، ص 73) (فیاض) میں نما ز ” اھم العبادات المقربۃ “ یعنی اللہ کا قرب دلانے والی عبادتوں میں سے سب سے اہم عبادت نماز ہے۔ تو یہاں پر اس اہم عبادت کی متعلق منافقین کے کردار کو واضھ کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اخراجات کی عدم قبولیت کی وجوہات کے متعلق فرمایا ہے کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا انکار کرتے ہیں اور دوسری بات یہ کہ (آیت) ” ولا یاتون الصلوۃ الا وھم کسالیٰ “ اور یہ لوگ نماز ادا نہیں کرتے مگر اس حال میں کہ وہ سستی دکھانے والے ہوتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو شخص دل سے ایمان ہی نہیں لایا اسے نماز کے ساتھ کیا رغبت ہو سکتی ہے۔ چونکہ اس نے ظاہری طور پر اسلام قبول کرلیا ہے ، لہٰذا اسے چار وناچار نماز بھی ادا کرنا ہوگی جسے وہ بادل نخواستہ ادا کرنے پر مجبور ہے اور اس میں اکثر سستی کا اظہار کرتے ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق سورة ماعون میں بھی وعید موجود ہے (آیت) ” فویل للمصلین الذین ھم عن صلاتھم ساھون “ ایسے نمازیوں کے لیے خرابی ہے جو نماز سے غافل رہتے ہیں یعنی جو نماز کی ادائیگی میں سستی دکھاتے ہیں سستی کا مطلب یہی ہے کہ جب اسے خدا تعالیٰ کی معرفت ہی حاصل نہیں ہوئی وہ نماز کیا ادا کرے گا ، وہ تو لوگوں کو دکھانے کے لیے وقت بےوقت چار ٹکریں مارلے گا۔ چناچہ نماز میں سستی کو منافقوں کی علامت شمار کیا گیا ہے۔ ایمان والوں کو تو نماز سے راحت ہوتی ہے وہ تو مستعدی دکھاتے ہیں۔ تکالیف بھی برداشت کرتے ہیں ، رات کے اندھیروں میں ٹھوکریں بھی کھاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا ” بشر المشائین فی الظلم بنور تام یوم القیمۃ “ ان کو قیامت والے دن نور تام کی بشارت دے دو ۔ ان کے لیے اللہ کے ہاں بڑا صلہ ملنے والا ہے۔ تو فرمایا کہ منافقوں کے مال کی عدم قبولیت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ نماز میں سستی دکھاتے ہیں۔ بادل نخواستہ خرچ : عدم قبولیت کی تیسری وجہ یہ بیان فرمائی (آیت) ” ولا ینفقون الا وھم کرھون “ اور وہ نہیں خرچ کرتے مگر بادل نخواستہ ، ان کا دل نہیں چاہتا مگر مجبورا یا دکھاوے کے طور پر کچھ نہ کچھ خرچ کرتے ہیں۔ وہ اس اعتراض سے بھی بچنا چاہتے ہیں کہ فلاں آدمی نہ خود جہاد میں شریک ہوا ہے اور نہ مالی معاونت کی ہے۔ منافقوں کی یہ صفت بھی بیان کی گئی ہے کہ وہ زکوٰۃ کو تاوان سمجھتے ہیں اور صدقہ خیرات کو بوجھ خیال کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف اگر کوئی رسم و رواج یا بدعت کا کام ہو تو بڑا دل کھول کر خرچ کرتے ہیں۔ لہو ولعب کی بات ہو تو خرچ کرنے میں بڑے مستعد ہوتے ہیں۔ ان حالات میں ان کی طرف سے دیا ہوا مال کیسے قبول کیا جاسکتا ہے ؟ اس کے بعد منافقوں کی حیثیت کے بارے میں ذکر ہوگا۔ اس دنیا میں منافقوں کی آسودگی کو دیکھ کر بعض آدمیوں کو دھوکہ ہوتا ہے کہ اگر منافق اتنے ہیں برے ہیں تو انہیں اس دنیا میں اتناسازوسامان اور عیش و آرام کیوں میسر ہے۔ اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اسی بات کی وضاحت فرمائی ہے۔
Ayahs 9:55–59

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

پس نہ تعجب میں ڈالیں آپ کو ان ( منافقین) کے مال اور ان کی اولادیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان کو سزا دے ان ( مالوں اور اولادوں) کے ساتھ دنیا کی زندگی میں اور نکلیں ان کی جانیں اس حال میں کہ وہ کفر کرنے والے ہوں

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

اور یہ (منافق لوگ) قسمیں اٹھاتے ہیں اللہ کے نام کی کہ بیشک یہ تم میں سے ہیں حالانکہ یہ تم میں سے نہیں ہیں ، مگر یہ تو ڈرنے والے لوگ ہیں

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

اگر پاتے یہ کوئی پناہ گاہ یا کوئی غار یا کوئی سر چھپانے کی جگہ تو ضرور اس طرف چلے جاتے اور یہ بڑی تیزی سے رسیاں تڑاتے ہوئے ادھر جاتے اور ان (منافقین) میں سے بعض وہ ہیں جو آپ پر طعن کرتے ہیں :

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو صدقات کے بارے میں آپ پر طعن کرتے ہیں ، پس اگر ان کو صدقات میں سے کچھ دیدیا جائے تو راضی ہوجاتے ہیں اور اگر ان کو نہ دیا جائے اس سے تو یہ ناراض ہوجاتے ہیں

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ راضی ہوتے اس بات پر جو اللہ نے ان کو دی اور اللہ کے رسول نے اور کہتے یہ کہ کافی ہے ہمارے لیے اللہ تعالیٰ ، دیگا ہمیں اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اور اس کار سول بھی بیشک ہم اللہ کی طرف رغبت رکھنے والے ہیں

ربط آیات : اللہ تعالیٰ نے منافقین کا رد فرمایا کہ وہ جہاد میں شریک ہونے سے گریز کرتے ہیں اور اس کے لیے حیلے بہانے بناتے ہیں اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ منافقین جو مال خرچ کرتے ہیں وہ اس لیے قبول نہیں ہوتا کہ ان میں توحید و رسالت کے متعلق کفر پایا جاتا ہے اور وہ نماز بھی صحیح طریقے سے ادا نہیں کرتے۔ نیز یہ کہ ان کی طرف سے خرچ بادل نخواستہ ہوتا ہے اور وہ اس معاملہ میں دل سے راضی نہیں ہوتے۔ بعض منافقین عذرلنگ پیش کرتے تھے اور اس بنا پر جہاد میں شمولیت سے رخصت چاہتے تھے کہ شوریدہ مزاج ہونے کی وجہ سے انہیں فتنے میں پڑجانے کا احتمال تھا البتہ انہوں نے مالی تعاون کی پیش کش کی جسے اللہ نے مسترد کردیا کیونکہ وہ لوگ ایمان سے خالی ہیں اور صحیح عقیدت کے ساتھ خرچ نہیں کرتے۔ مال واولاد معیار نیکی نہیں : اب آج کے درس میں عام ذہنوں میں آنے والی ایک بات کا جواب دیا گیا ہے ۔ بعض اوقات ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کافر او منافق اللہ کے نزدیک واقعی برے ہیں تو انکو اس دنیا میں مال و دولت اور آرام و راحت کیوں میسر آتا ہے۔ مدینے کے منافقوں میں بھی بڑے بڑے دولت مند اور صاحب اولاد لوگ تھے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے مختلف مقامات پر واضح فرمایا ہے کہ کسی انسان کے لیے دنیا میں اچھا ہونے کا یہ معیار ہرگز نہیں کہ اس کے پاس مال و دولت ، جاہ واقتدار ہو یا اولاد ہو بلکہ یہ چیزیں تو اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق اچھوں بروں سب کو ملتی ہیں (آیت) ” کلا نمد ھولاء وھولائ “ نافرمانوں ، ناہنجاروں ، باغیوں اور سرکشوں کو بھی اللہ بہت کچھ دیتا ہے۔ اس دنیا کی زندگی میں کافروں ، منافقون اور فاسقوں کو بھی ملتا ہے۔ اور بعض اوقات اہل ایمان عسرت میں بھی مبتلا ہوجاتے ہیں۔ تو اللہ نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ کے نزدیک اچھائی کا معیار عیش و عشرت کی فراوانی نہیں بلکہ نیکی کا حقیقی معیار ایمان ، عبادت پاکیزگی ، اخلاق اور اعمال صالحہ ہیں اگرچہ کوئی انسان مالی لحاظ سے کتنا ہی کمزور کیوں نہ واقع ہوا ہو۔ اس لیے فرمایا (آیت) ” فتلا تعجبک اموالھم ولا اولادھم “ ان کے مال اور اولاد آپ کو تعجب میں نہ ڈالیں کہ اللہ تعالیٰ نے منافقین کو یہ چیزیں اتنی کثرت سے دی ہیں۔ ان کو نعمتیں ملنے کی حکمت یہ ہے (آیت) ” انما یرید اللہ لیعذبھم بھا فی الحیوٰۃ الدنیا “ بیشک اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان کو سزا دے دنیا کی زندگی میں (آیت) ” وتزھق انفسھم وھم کفرون “ اور ان کی جانیں اس حالت میں نکلیں کہ وہ کافر ہوں۔ اور آگے چل کر بڑی سزا کے مستحق ٹھہریں۔ غرضیکہ حضور ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ ان منافقوں کی ظاہری شان و شوکت کو دیکھ کر ملال نہ کریں بلکہ یہی چیز ان کے لیے دنیا وآخرت میں سز ا کا موجب بننے والی ہے۔ سزا کی مختلف صورتیں : مال واولاد کی وجہ سے سزائوں کے متعلق مفسرین کرام کئی تعبیریں کرتے ہیں۔ خواجہ حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ مال میں سے اللہ کی مقرر کردہ زکوٰۃ ادا کرنے سے منافقوں کو بری دلی تکلیف ہوتی اور یہ ان کے لیے ایک قسم کی سزا ہی ہے۔ اسی طرح بعض منافقین کی اولاد ان کی مرضی کے خلاف ایمان لا چکی تھی اور یہ بات ان کے لیے سخت اذیت کا باعث تھی لہٰذا یہ چیز بھی ان کے لیے ذہنہ سزا کا درجہ رکھتی ہے حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ منافقین کو زیادہ مال اس لیے دیتا ہے تا کہ انہیں آخرت میں سزا بھی زیادہ ملے۔ ظاہر ہے کہ کفر وشرک کے ساتھ جس قدر مال میں فروانی ہوگی ، عذاب بھی اسی قدر زیادہ ہوگا۔ لہٰذا مال اور اولاد منافقین کے حق میں بہتر نہیں کیونکہ یہ تو اللہ کی جانب سے انہیں سزا مل رہی ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کسی سزائے موت پانے والے مجرم کو پھانسی کے تختہ پر لٹکانے سے پہلے عمدہ سے عمدہ غذا دی جائے۔ اسی طرح چونکہ یہ لوگ بھی مرنے کے بعد سخت سزا میں مبتلا ہونے والے ہیں اس لیے انہیں دنیا میں اچھی سے اچھی نعمتیں دی جاتی ہیں۔ اگر کسی بیمار آدمی کو نہایت مفقوی غذا بھی دی جائے تو اسے فائدے کی بجائے نقصان ہی ہوتا ہے کیونکہ اس میں اخلاط فاسدہ پائے جاتے ہیں ایسے ہی کسی منافق آدمی کے لیے دنیاوی نعمتیں بیماری میں اچھی غذا کے مترادف ہیں۔ اس دنیا کا عیش و عشرت ان کے لیے آخرت میں مزید مصیبتیں لانے کا باعث ہوگا۔ منافقوں کے لیے سزا کی یہ بھی ایک صورت ہے کہ انہیں مال کی محبت تو بہت زیادہ ہوتی ہے مگر اطمینان قلب نصیب نہیں ہوتا جس کی وجہ سے انہیں ہر وقت فکر لگی رہتی ہے اور یہ اندر ہی اندر کھلتے رہتے ہیں عام طور پر دیکھنے میں آتا ہے کہ کوئی شخص جس قدر زیادہ دولت مند ہو وہ اسی قدر زیادہ متفکر ہوتا ہے۔ سرمایہ دار پاکستانی ہو یا امریکی یا یورپی فکر مندی سب کی مشترک سز ا ہے ، مال و دولت کے ضیاع یا جاہ واقتدار سے محرومی ان کے لیے ہمیشہ سوہان روح بنی رہتی ہے۔ مومن اور کفار میں فرق : مالدار مومن اور مالدار کافر میں بنیادی فرق ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو مال و دولت سے نوازے گا تو وہ اسے ایسی جگہ خرچ کرے گا جو اس کے دین کی تقویت کا باعث بنے اور اس سے اسے روحانی خوشی حاصل ہوگی۔ اسی طرح اگر اللہ نے اولاد دی ہے تو مومن آدمی اس کی بہتر تربیت کر کے اسے دین کا معاون بنائے گا اور اس طرح نہ صرف اس دنیا میں آرام و سکون کی زندگی بسر کرے گا بلکہ یہ مال والاد اس کے لیے آخرت کا ذخیرہ بھی بن جائیں گے۔ اس کے برخلاف اگر مشرک ، کافر یا منافق کے پاس مال ہے تو اسے مرتے دم تک اس کی حفاظت کی فکر لاحق رہتی ہے۔ اور اسے توبہ بھی نصیب نہیں ہوتی۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ زندگی بھر انسان ” مالی مالی “ (میرا مال میرا مال) کہتا رہتا ہے مگر اسے کچھ نفع نہیں پہنچتا اور وہ مال کی فکر میں ہی دنیا سے چلا جاتا ہے۔ حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ کسی نافرمان آدمی کی دنیاوی نعمت کو دیکھ کر دھوکہ نہ کھانا کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے استدراج ہے ، اس کی دی ہوئی مہلت ہے ، ایسا شخص عنقریب اللہ کی گرفت میں آجائے گا۔ شاہ عبدالقادر بھی فرماتے ہیں کہ اس بات پر تعجب نہ کر کہ اللہ نے بےدین آدمی کو نعمت کیوں دی ہے یہ تو اس کے حق میں وبال ہے۔ ایسا شخص مرتے دم تک اپنے مال واولاد کی فکر میں مبتلا رہتا ہے۔ دعویٰ ایمان : فرمایا (آیت) ” ویحلفون باللہ انھم لمنکم “ یہ منافقین اللہ کی قسمیں اٹھا کر کہتے ہیں کہ وہ تم میں سے ہیں یعنی ایماندار ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا ہے (آیت) ” وما ھم منکم “ کہ یہ لوگ تم میں سے نہیں ہیں ان کا دعویٰ جھوٹا ہے (آیت) ” ولٰکنھم قوم یفرقون “ بلکہ یہ تو ڈرنے فوالے لوگ ہیں۔ جہاد کا نام سن کر ڈر جاتے ہیں ، ساتھ چلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے مگر ایماندار ہونے کی قسمیں کھاتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ چھوٹے ہیں اور اتنے خوفزدہ ہیں کہ (آیت) ” لو یجدون ملجا “ اگر یہ کوئی پناہ گاہ پاتے (آیت) ” او مغرت “ یا کوئی غار پاتے (آیت) ” اومدخلا “ یا انہی سر چھپانے کی کوئی جگہ مل جاتی (آیت) ” لو لوا الیہ “ تو ضرور اس طرف چلے جاتے ۔ اور اتنی تیزی سے جاتے (آیت) ” وھم یجمحون “ جیسے کوئی جانوررسیاں تڑا کر بھاگتے ہیں۔ مطلب یہ کہ منافق لوگ دعویٰ ایمان میں جھوٹے ہیں ، لہٰذا اگر انہیں کہیں ذرا بھی پناہ مل جائے تو یہ لوگ فورا اسلام کے دائرہ سے بھاگ کھڑے ہوں۔ یہ ڈرنے والے لوگ ہیں ، نہ یہ تم میں سے ہیں اور نہ یہ جہاد میں شریک ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو منافقین کے حال سے مطلع فرما دیا۔ خوشی اور نا خوشی کا معیار : اللہ نے منافقوں کی یہ خصلت بھی بیان فرمائی ہے (آیت) ” ومنھم من یلمزک فی الصدقت “ ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو صدقات کے بارے میں آپ پر طعن کرتے ہیں۔ (آیت) ” فان اعطوامنھا رضوا “ اگر آپ انہیں اس میں سے کچھ دے دیں تو خوش ہوجاتے ہیں (آیت) ” وان لم یعطوا منھا “ اور اگر آپ اس میں سے کچھ نہ دیں (آیت) ” اذا ھم یسخطون “ تو یہ لوگ ناراض ہوجاتے ہیں معلوم ہوا کہ ان کے دین کا مدار مفاد پرستی پر ہے۔ ایسے لوگ محض مفاد کی خاطر دین قبول کرتے ہیں۔ اصل ایمان تو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور آخرت کی فلاح کے لیے اختیار کیا جاتا ہے ، اس میں ذاتی مفاد کو قربان کرنا پڑتا ہے اور اجتماعی مفاد کو اولیت دی جاتی ہے مگر منافقین ذاتی اغراض کو پیش نظر رکھتے ہیں اور یہی ان کا اول وآخر ہوتا ہے لہٰذا یہ لوگ مسلمانوں کی جماعت میں شامل نہیں ہو سکتے فرمایا ان لوگوں کی حالت یہ ہے (آیت) ” ولوانھم رضوا ما اتھم اللہ ورسولہ “ اگر یہ اس چیز پر راضی ہوجاتے جو اللہ اور اس کے رسول نے انہیں مال غنیمت یا صدقات میں سے دیا ہے ، تو یہ بات ان کے حق میں بہتر ہوتی۔ مال غنیمت کی تقسیم کا اصول سورة انفال میں بیان ہوچکا ہے۔ اسی طرح صدقات کی تقسیم کا قانون بھی اگلی آیت میں آرہا ہے ۔ تو فرمایا کہ ان قوانین کے مطابق اگر یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کی تقسیم پر خوش ہوجاتے ہیں اور اپنے ذاتی مفاد کو پیش نظر نہ رکھتے تو یہ چیز ان کے لیے دنیا وآخرت میں بہتر ثابت ہوتی مگر انہوں نے ناجائز مطالبات کر کے اپنے دونوں مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ (آیت) ” وقالو ا “ اور کہتے (آیت) ” حسبنا اللہ “ ہمارے لیے اللہ کافی ہے ، اس کی ذات اور اس کی کفالت ووکالت پر بھروسہ رکھتے اور اس کی تقسیم کو بسر وچشم تسلیم کرتے۔ اگر انہیں وقتی طور پر کچھ کم حصہ ملا ہے تو یوں کہتے (آیت) ” سیئوتنا اللہ من فضلہ “ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل سے ضرور دیگا۔ (آیت) ” ورسولہ “ اور وہ اپنے رسول کے ہاتھ سے ہمیں دلائے گا۔ اب نہیں ملا تو کوئی بات نہیں ، آئندہ مل جائے گا ، آگے بھی کئی مواقع آنے والے ہیں۔ مگر ان لوگوں نے صبر کا دامن چھوڑ دیا اور ذاتی مفاد کی خاطر اللہ اور اس کے رسول سے ناراض ہو کر بیٹھ گئے کہ ہمیں نظر انداز کیا گیا ہے یا یہ کہ تقسیم درست نہیں ہوئی ، وغیرہ وغیرہ ، ایک شخص نے مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں یہ جملہ بھی کہ دیا کہ یہ تو ایسی تقسیم ہے جس کے ساتھ اللہ کے رسول نے انصاف کا ارادہ نہیں کیا۔ اس پر حضور ﷺ کو بڑی کوفت ہوئی اور فرمایا ، اگر میں انصاف نہیں کروں گا تو دنیا میں اور کون انصاف کرئے گا ، اللہ تعالیٰ اور آسمانوں کے فرشتے تو مجھے امین جانتے ہیں اور تم مجھے خائن سمجھ رہے ہو۔ پھر آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ، اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) پر رحم فرمائے کہ ان کو اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی مگر انہوں نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ لہٰذا میں بھی اس بات پر صبر کروں گا اور انتقام نہیں لوں گا۔ بہرحال فرمایا کہ اگر یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کے عطا کردہ پر راضی ہوتے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مزید عطا کرتا۔ اور یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا اگر یہ یوں بھی کہتے (آیت) ” انا الی اللہ راغمون “ بیشک ہم اللہ کی طرف رغبت والے ہیں یعنی ہمارا رجحان ، تو جہ اور اعتماد صرف اللہ کی ذات پر ہے۔ وہ جس طرح چاہے گا اپنی مشیت کے مطابق دے گا اور دلائے گا۔ مگر انہوں نے ایسا نہ کیا بلکہ اللہ کے نبی پر طعن کیا اور اس طرح ہمیشہ کے لیے محروم ہوگئے۔ تو فرمایا کہ ان کا مال و دولت آپ کو تعجب میں نہ ڈالے۔ یہ چیزیں ان کے حق میں اچھی نہیں ہیں۔ ان کی پوزیشن بہت گندی ہے اور یہ تمہاری جماعت کے آدمی نہیں ہیں یہ ہزار قسمیں کھائیں کہ وہ ایمان لا چکے ہیں مگر یہ اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں۔