9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 9:12–15

وَ اِنْ نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَ طَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ فَقَاتِلُوْۤا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ١ۙ اِنَّهُمْ لَاۤ اَیْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَنْتَهُوْنَ Open ayah 9:12 in the Quran reader

اور اگر توڑ دیں یہ لوگ اپنی قسموں کو اپنے عہد کرنے کے بعد اور طعن کریں تمہارے دین میں ، بس لرو تم کفر کے سرداروں کے ساتھ ، بیشک نہیں ان کی قسمیں ، تا کہ یہ باز آجائیں

اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَّكَثُوْۤا اَیْمَانَهُمْ وَ هَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَ هُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ اَتَخْشَوْنَهُمْ١ۚ فَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:13 in the Quran reader

( اے اہل ایمان) کیوں نہیں تم لڑتے ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑا اور جنہوں نے قصد کیا ہے اللہ کے رسول کو نکالنے کا اور انہوں نے ابتدا کی ہے تمہارے ساتھ پہلی مرتبہ کیا تم ان سے ڈرتے ہو۔ پس اللہ تعالیٰ زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو ، اگر تم ایمان رکھتے ہو

قَاتِلُوْهُمْ یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَیْدِیْكُمْ وَ یُخْزِهِمْ وَ یَنْصُرْكُمْ عَلَیْهِمْ وَ یَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مُّؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 9:14 in the Quran reader

لڑو ان سے اللہ ان کو سزا دیگا تمہارے ہاتھوں سے اور رسوا کرے گا ان کو ، اور مدد کریگا تمہاری ان کے خلاف اور شفا دیگا ایمان والوں کے سینوں کو

وَ یُذْهِبْ غَیْظَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:15 in the Quran reader

اور لے جائیگا ان کے دلوں کے غصے کو اور توبہ قبول کریگا اللہ تعالیٰ جس کی چاہیے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے

ربطِ آیات : اس سورة کی ابتداء میں کفر اور شرک کرنے والوں سے بیزاری کا اعلان کیا گیا پھر اعلان جنگ کے لیے چار ماہ کی مہلت کا ذکر ہوا ، البتہ عہدوپیمان کی وفا اور اہل ایمان کے خلاف کسی کی مدد نہ کرنے والوں کے ساتھ معاہد کے کی مدت کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا۔ پھر فرمایا کہ جب مقررہ مدت گزر جائے ، تو کفار ومشرکین جہاں بھی ملیں ان کو گھیرو قتل کرو اور کی گھات میں بیٹھو یہاں تک کہ ہو تائب ہو کر نماز پڑھنے لگیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں فرمایا اگر وہ ایسا کرنے لگیں تو ان کا راستہ چھوڑ دو اور کوئی تعرض نہ کرو پھر فرمایا کہ یہ لوگ عہد و پیمان کے برے کچے ہیں ، اس لیے اللہ اور اس کے رسول کے نزدیک ان کے معاہدات کا کچھ اعتبار نہیں۔ البتہ جو لوگ ان میں سے تمہارے ساتھ مستقیم رہیں ، تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو۔ مگر مشرکین کا عام طور پر حال یہ ہے کہ اگر وہ تم پر قابو پالیں تو نہ قرابتداری کا لحاظ کریں اور نہ عہد و پیمان کا ان کی بات محض زبانی کلامی ہوگی ، ان کے دل اللہ کی وحدانیت کا انکار ہی کریں گے انہوں نے مادی مفاد کی خاطر آیات الہٰی کو پس پشت ڈال دیا ہے یہ تعدی کرنے والے لوگ ہیں اور اگر یہ تائب ہو کر نما ز پڑھنے لگیں اور زکوٰۃ ادا کرنے لگیں تو تمہارے دین بھائی بن جائیں گے اب ان کے ساتھ مخالفت کا سلسلہ ختم ہوجائے گا۔ آئمۃ الکفر سے جنگ : فرمایا (آیت) ” وان نکثوا ایمانھم من بعد عھدھم “ اور اگر انہوں نے اپنے عہدوپیمان کو توڑا عہد کرنے کے بعد ، مشرکین مکہ نے بھی حدیبیہ کے مقام پر ایک پختہ عہد کیا تھا مگر اس کو توڑ دیا جس کی وجہ سے انہیں ذلت اٹھانی پڑی اور وہ مغلوب ہوگئے۔ مدینے کے قبائل بنو قینقاع ، بنو قریظہ اور بنو نظیر نے بھی اہل ایمان کے ساتھ معاہدات کیے تھے مگر انہیں توڑ کر سخت سزا کے مستحق ٹھہرے۔ تو اللہ نے فرمایا اگر پختہ عہد کرنے کے بعد اسے توڑ دیں (آیت) ” وطعنوا فی دینکم “ اور تمہارے دین میں طعن کریں یعنی اسلام پر نکتہ چینی کریں۔ ا س پر اعتراض کریں جیسا کہ اکثر مشرکین اور اہل کتاب کرتے تھے۔ فرمایا ، ایسی صورت میں (آیت) ” فقاتلوا ائمۃ الکفر “ کفار کے لیڈروں ، پیشوائوں اور ان کے سرداروں کے ساتھ جنگ کرو کیونکہ (آیت) ” انھم لا ایمان لھم “ بیشک ان کی قسموں اور عہدوپیمان کا کچھ اعتبار نہیں۔ یہ بڑے غلط قسم کے لوگ ہیںٰ ان کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرو۔ ورنہ یہ اپنی قبیح حرکات سے باز نہیں آئیں گے ۔ تو فرمایا ان ناقضین عہد اور دین میں طعنہ ساز لوگوں کے بڑے بڑے چودھریوں کے ساتھ جنگ کرو (آیت) ” لعلھم ینتھون “ تا کہ یہ باز آجائیں ان کے خلاف کاروائی کا مقصد یہ ہے کہ یہ فتنہ مکمل طور پر ختم کیا جاسکے۔ اسلام کے خلاف محاذ آرائی : مشرکین مکہ کی اسلام کے خلاف فتنہ پردازی شروع سے لے کر آج تک جاری ہے عیسائی ، یہودی اور ہندو دین اسلام پر نکتہ چینی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ خاص طور پر یہودوں کی سازشوں کے متعلق تو تاریخ بھری پڑی ہے۔ عیسائیوں نے اسلام ، پیغمبر اسلام اور قرآن پاک کے خلاف بیشمار لڑیچر شائع کیا ہے ۔ دین پر طعن کرنے کے لیے ہزاروں اور لاکھوں کتابیں اور رسالے طبع کیے ہیں۔ ہنود کا حال بھی یہی ہے پشاور کے لیکھ رام نے پیغمبر اور قرآن پر اعتراضات میں کئی کتابیں لکھیں۔ دیانند سرسوتی نہایت متعصب ہندو تھا ، اس نے اپنی کتاب کے چودھویں باب میں قرآن پاک پر اعتراضات کیے تھے۔ مختلف سورتوں کی مختلف آیات پر ایسے بیہودہ اعتراجات کیے تھے جن سے معترض کی خباثت کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔ عیسائیوں کے بڑے بڑے پادریوں نے بھی دین اسلام کے خلاف کافی زہر افشانی کی ہے جن کی حیثیت محض اعتراض برائے اعتراض سے زیادہ کچھ نہیں۔ مدینہ پہنچ کر مسلمانوں نے یہود ونصاریٰ کو بہت سی رعایات دی تھیں مگر ان لوگوں نے ان احسانات کی کوئی قدر نہ کی بلکہ ہمیشہ تعصب کا ثبوت دیا۔ جب بھی موقع ملا انہوں نے اسلام کے خلاف زہر ہی اگلا۔ کبھی وحی الہٰی پر اعتراض کرتے ، کبھی جہاد کو اپنی طعن وتشنیع کا نشانہ بناتے اور کبھی پیغمبر اسلام کی تعدد ازواج کو تختہ مشق بناتے حالانکہ دین میں طعن کرنا بہت بری بات ہے۔ اگر کسی بات کی سمجھ نہیں آئی تو اسے سمجھنے کی کوشش کرو۔ اسلام کے تمام اصول فطرتِ انسانی کے عین مطابق ہیں۔ اگر ضرورت ہو تو اہل ایمان سے وضاحت طلب کرو ، ان کی عقلوں میں خرابی تو ہو سکتی ہے مگر اللہ کے نازل کردہ احکام غلط نہیں ہوسکتے۔ فرمایا یہ لوگ جان بوجھ کر دین کو مطعون کرتے ہیں لہٰذا جب تک ان کے بڑے بڑے پیشوائوں کے خلاف جہاد نہیں ہوگا۔ یہ لوگ بری حرکات سے باز نہیں آئیں گے۔ امیر شکیب ارسلان نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ جب تک اسلام دشمن طاقتوں کی کمان کے ساتھ کمان ، رائفل کے ساتھ رائفل اور بم کے ساتھ بم نہیں ٹکرائے گا ، یہ لوگ باز نہیں آئیں گے۔ اقتنع کل بدیارہ وامتنع جار عن ھضم جارہ اگر ان لوگوں کے خلاف مناسب کاروائی ہوگئی تو یہ اپنی سرحد پر ہی رک جائیں گے پھر کسی کو آگے بڑھنے کی ہمت نہیں ہوگی۔ سورة آل عمران میں بھی گزر چکا ہے (آیت) ” ولتسمعن من الذین اوتوالکتب من قبلکم ومن الذین اشرکوا اذی کثیرا “ اے ایمان والو ! تمہیں اہل کتاب اور مشرکوں کی طرف سے بڑی تکلیف وہ باتیں سننا پڑیں گی۔ اس کا علاج یہ ہے کہ صبر اور تقوی سے کام لینا اور ان جیسے باتیں زبان سے نہ نکلنا۔ البتہ ایسے ظالموں کے خلاف جہاد کرنا لازمی ہے ، اس کے بغیر یہ اپنی غلط حرکات سے باز نہیں آئیں گے۔ جہاد کی وجوہات : اگلی آیت میں اللہ نے جہاد کی وجوہات بیان فرمائی ہیں کہ جہاد کیوں نہ کیا جائے۔ چناچہ اہل ایمان کو خطاب ہے (آیت) ” الا تقاتلون قوما نکثوا ایمانھم “ تم ان لوگوں کے خلاف کیوں نہیں لڑتے جنہوں نے اپنی قسموں یعنی عہدوپیمان کو توڑا ہے معاہدہ کی خلاف ورزی کرنا لڑائی کا مستقل سبب ہے تو مشرکین کے ساتھ جہاد کی پہلی وجہ بدعہدی بیان فرمائی ۔ اور دوسری وجہ یہ بیان کی (آیت) ” وھموا باخراج الرسول “ انہوں نے نبی کو اس کے وطن سے نکالنے کا قصد کیا۔ اور یہی چیز حضور ﷺ کے ہجرت مدینہ کا سبب بنی کفار نے منصوبہ بنایا کہ حضور ﷺ کو قید کردیا جائے یا ملک بدر کردیا جائے یا پھر قتل کردیا جائے۔ اور بالآخر ارادہ قتل پر سب کا اتفاق ہوگیا۔ اس کے نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ کے بنی کو مکہ سے ہجرت کرنا پڑی۔ اسی چیز کے متعلق فرمایا کہ ان لوگوں نے حضور ﷺ کو مکہ سے نکالنے کا ارادہ کیا ، حالانکہ آپ مکہ چھوڑنے پر از کود راضی نہیں تھے بلکہ آپ کو بادل نخواسہ بیت اللہ شریف اور ۔۔ وحی الہٰی شہر کو چھوڑنا پڑا۔ یہ وہی مرکز ہدایت ہے جس کے متعلق سورة ال عمران میں موجود ہے (آیت) ” مبرکا وھدی للعلمین “ یہ بابرکت شہر بھی ہے اور دنیا بھی کے لیے مبنع رشد وہدایت بھی۔ بہرحال فرمایا کہ انہوں نے نبی کی خواہش کے خلاف اسے مکہ مکرمہ سے نکالا۔ اور تیسری وجہ یہ تھی (آیت) ” وھم بدء وکم اول مرۃ “ اور جنگ کی ابتداء بھی انہوں نے کی ہے مسلمان تو لڑائی کے ارادے سے نہیں نکلے تھے بلکہ خود کفار اسلحہ سے لیس لشکر لے کر میدان بدر میں پہنچے اور پھر مسلمانوں کو بھی چار وناچار ان کا مقابلہ کرنا پڑا ، وگرنہ مسلمانوں کے پاس نہ سامان جنگ تھا اور نہ ہی وافر افرادی قوت تو گویا جنگ میں پہل کفار کی طرف سے ہوئی۔ یہاں پر جنگ کی تین وجوہات عہد شکنی ، اخراج رسول اور جنگ میں پہل بیان کی گئی ہیں اور لڑائی لڑنے کے لیے تو ان میں سے کوئی ایک وجہ بھی کافی تھی ، یہاں تین جمع ہوگئیں ، تو فرمایا ان کے خلاف کیوں نہ فیصلہ کن جنگ کی جائے۔ اے اہل ایمان ! تم ان کی سرکوبی کے لیے کیوں آگے نہیں بڑھتے ؟ فرمایا (آیت) ” اتخشونھم “ کیا تم ان کافروں سے خوف کھاتے ہو ؟ فا اللہ احق ان تخشوہ “ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کا زیادہ حق ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔ (آیت) ” ان کنتم مومنین “ اگر تم ایمان والے ہو تمام اختیارات اللہ کے پاس ہیں وہی قادرمطلق ہے ، لہٰذا خوف بھی اسی کا ہونا چاہیے۔ کفار ومشرکین سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ مشرکین کی سزا یابی : فرمایا (آیت) ” قاتلوھم “ لڑو ان سے (آیت) ” یعذبھم اللہ بایدیکم “ انہیں اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں سے سزا دے گا۔ بدر کے میدان میں کافروں نے ابتداء کی تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے ہاتھوں ان کو شکست فاش دی۔ ان کے ستر سرکردہ کافر مارے گئے اور ستر ہی قیدی بنے۔ سابقہ امتوں میں سزا کے بعض دوسرے طریقے بھی تھے مثلا طوفان ، زلزہ ، تیز آندھی ، چیخ وغیرہ مگر اس آخری امت میں اللہ نے ایمان والوں کے ہاتھوں مکذبین کو سزا دی۔ فرمایا ایک تو انہیں تمہارے ہاتھوں سے سزا ملے گی اور دوسرا یہ کہ (آیت) ” ویخزھم “ اللہ تعالیٰ انہیں ذلیل ورسوا کرئے گا۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ (آیت) ” وینصرکم علیھم “ ان کے خلاف تمہاری مدد کرے گا۔ چناچہ میدان بدر میں اللہ نے واضح طور پر مسلمانوں کی مدد فرمائی ہے۔ دوسرے مقام پر آتا ہے (آیت) ” وانتم الاعلون ان کنتم مومنین “ اگر تم پکے سچے مومن ہو تو کفار پر تم ہی غالب آئو گے۔ اللہ کی مدد تمہارے شامل حال ہوگی۔ قادسیہ کی جنگ کے دوران ایک موقع ایسا آیا جب مسلمانوں میں کمزوری کے آثار پیدا ہوگئے اور لشکر اسلامی کو شکست کا خطرہ لاحق ہوگیا۔ سپہ سالار حضرت سعد ؓ نے مجاہدین کو جمع کر کے تاریخی خطاب کیا جو تاریخ کے اوراق میں آج بھی محفوط ہے۔ آپ نے فرمایا ، اے اہل ایمان ! ہمیں فلاں مورچے پر شکست کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ یقینا تم میں کوئی کامی پیدا ہوگئی ہے تمہاری نیت میں فرق آگیا ہے یا کہیں بزدلی کا مظاہرہ کیا ہے ، ہو سکتا ہے کہ تم میں کہیں خود غرضی آگئی ہو ، میں ت میں نصیحت کرتا ہوں کہ ایسی تمام خامیوں کو دور کر کے جذبہ جہاد کے ساتھ دشمن پر ٹوٹ پڑو۔ اس تقریر کا یہ اثر ہوا کہ مجاہدین سنبھل گئے۔ ان میں نیا جوش و خروش پیدا ہوگیا۔ مسلسل تین دن رات جنگ جاری رہی اور بالآخر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو فتح عطا کی۔ کفار ومشرکین کو مسلمانوں کے ہاتھوں سزا دینے کے کتنے ہی واقعات تاریخ میں بکھرے پڑے ہیں۔ دلوں کی شفا : فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارے ہاتھوں سے دشمن کو سز دیگا۔ ان کے خلاف تمہاری مدد کرے گا اور انہیں رسوا کرے گا۔ فرمایا اللہ کا چوتھا انعام یہ ہوگا (آیت) ” ویشف صدور قوم مومنین “ اہل ایمان کے دلوں کو شفا بخشے گا۔ جن مسلمانوں نے مشرکین کے ہاتھوں زبردست تکالیف برداشت کی ہیں اور ان کے دل دکھے ہوئے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کو ٹھنڈا کرے گا۔ انہیں تمام سابقہ تکالیف بھول جائیں گی (آیت) ” ویذھب غیظ قلوبھم “ اور ان کے دلوں کے غصے کی جلن کو دور فرما دیگا۔ مسلمان مطمئن ہوجائیں گے اور ادھر مشرکین اور کفار کے متعلق یہ ہے (آیت) ” ویتوب اللہ علی من یشائ “ کہ ان میں سے اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا توبہ قبول کرلے گا۔ جس میں صلاحیت اور استعداد ہوگی اسے اسلام کی آغوش میں دے دیگا۔ چناچہ بالآخر ابو سفیان ؓ اور عکرمہ ؓ جیسے مخالفین کی توبہ قبول ہوئی۔ عمر و ابن العاص ؓ جیسے آدمی جو حضور ﷺ کو ختم کرنے کے منصوبے بنایا کرتے تھے ، خود رحمت کے سایہ میں پہنچ گئے۔ تو فرمایا کہ جس کی چاہا اللہ تعالیٰ نے توبہ قبول فرما لی (آیت) ” واللہ علیم حکیم “ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا ہے۔ وہ ہر ایک کی نیت ، ارادے ، عزم ، محنت ، اور کاوش کو جانتا ہے ، وہ علیم کل ہے اور حکمت والا بھی ہے اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس میں ضرور کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے یہ علیحدہ بات ہے کہ ہماری ناقص عقلیں اس حکمت تک رسائی حاصل نہ کرسکیں مگر اللہ کا کوئی فعل حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔
Ayah 9:16

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تُتْرَكُوْا وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ لَمْ یَتَّخِذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لَا رَسُوْلِهٖ وَ لَا الْمُؤْمِنِیْنَ وَلِیْجَةً١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 9:16 in the Quran reader

کیا تم گمان کرتے ہو ( اے اہل ایمان) کہ تم کو چھوڑ دیا جائے گا حالانکہ ابھی اللہ نے نہیں ظاہر کیا ان لوگوں کو جنہوں نے جہاد کیا تم میں سے اور جنہوں نے نہیں بنایا اللہ ، اس کے رسول اور مومنوں کے سوا کسی کو دلی دوست اور اللہ تعالیٰ خبر رکھتا ہے اس چیز کی جو تم کرتے ہو

ربطِ آیات : گذشتہ آیات میں ان اسباب کا ذکر ہوچکا ہے جن کی وجہ سے کفار ومشرکین کے ساتھ جہاد کرنا ضروری ہے وہاں پر تین اسباب بیان فرمائے ہیں ، یعنی ان کی عہد شکنی اخراج رسول اور جنگ میں ابتداء بعض وجوہات کا ذکر اس سے پچھلی آیات میں بھی ہوچکا ہے مثلا یہ کہ اگر وہ اہل ایمان پر غالب آجائیں تو پھر نہ قرابتداری کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ عہدوپیمان کی پاسداری ، بلکہ وہ ایمان والوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اللہ نے ان کی ایک خصلت یہ بھی بیان فرمائی کہ وہ دین پر نکتہ چینی کرتے ہیں دین کے اصولوں پر فضول اعتراضات کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ کی ذات ، اس کے رسول اور دین کی باتوں پر طعن اور عیب جوئی کرتے ہیں تا کہ لوگ دین اسلام سے متنفر ہوجائیں۔ اللہ نے فرمایا کہ ان پیشوایان کفر کے خلاف جنگ لڑو۔ ورنہ یہ اپنی قبیح حرکات سے باز نہیں آئیں گے ، پھر فرمایا اے ایمان والوں تم ایسے لوگوں سے کیوں نہیں لڑتے جو عہد و پیمان کو توڑتے ہیں جنہوں نے اللہ کے رسول کو اس کے وطن سے نکالا اور جنہوں نے جنگ میں پہل کی اور شرک کو پھیلانے کی کوشش کی۔ آزمائش بذریعہ جہاد : اب آج کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کا ایک اور سبب بیان فرمایا ہے۔ یہ ایمان والوں سے خطاب ہے اور اس میں ان کی آزمائش کا ذکر کیا گیا ہے (آیت) ” ام حسبتم ان تترکوا “ کیا تم گمان کرتے ہو کہ تمہیں یونہی چھوڑ دیا جائے گا ، نہیں بلکہ تمہارے ایمان کی آزمائش ہوگی سورة العنکبوت میں اس موضوع کو یوں بیان کیا گیا (آیت) ” احسب الناس ان یترکوا ان یقولوا امنا وھم لا یفتنون “ کیا لوگ گمان کرتے ہیں کہ وہ محض اس لیے چھوڑ دیے جائیں گے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں ، اور وہ آزمائے نہیں جائیں گے ؟ فرمایا یہ ان کا باطل گمان ہے ہم نے پہلے بھی ان کی آزمائش کی ہے اور اب بھی کریں گے۔ آزمائش کے مختلف طریقے ہیں جن میں سے ایک طریقہ جنگ بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو کفار ومشرکین کے مقابلے کے لیے میدان جہاد میں بھی لا کھڑا کرتا ہے تا کہ ان کے ایمان کی پختگی کی آزمائش کر کسے جس کے نیتیجے میں مخلص مومنوں اور منافقوں کے درمیان حد فاصل قائم ہوجائے اور ایمان والے مخلص لوگ نکھر کر سامنے آجائیں حضور ﷺ کا فرمان ہے (1۔ ابن کثیر ، ص 404 ، ج 2۔ وقرطبی ، ص 218 ، ج 11) (فیاض) (آیت) ” یبتلی رجل علی قدر دینہ “ جس قدر کسی شخص کا دین ہوتا ہے ، اسی کے مطابق اس کی آزمائش بھی ہوتی ہے ، اس آزمائش کی تفصیل اللہ تعالیٰ نے سورة بقرہ میں بیان فرمائی ہے۔ (آیت) ” ولنبلونکم بشیء من الخوف “ ۔۔ الایۃ ہم تمہیں خوف ، بھوک ، مال وجان کی کمی اور پھلوں کی قلت کے سبب آزمائیں گے مگر خوشخبری ہے ان لوگوں کے لیے جو ہر مصیبت میں صبر کا دامن تھامے رکھتے ہیں اس وقت ہر صاحب مال کی آزمائش ہو رہی ہے کہ وہ جہاد اور دوسرے امور خیر میں کس قدر مال صرف کرتا ہے ۔ وہ عیاشی ، فحاشی اور رسم و رواج پر خرچ کرتا ہے یا دین کی تبلیغ و اشاعت پر ، اگر آپ آج کی دنیا میں مال کے اخراجات پر تحقیق کریں گے تو معلوم ہوگا کہ خود اہل ایمان نیکی کے کاموں پر ایک قلیل مقدار خرچ کر رہے ہیں جب کہ کھیل تماشے ، فحاشی ، بلڈنگ بازی اور فضول رسم و رواج پر کثیر مقدار خرچ کی جا رہی ہے۔ جہاد کی مختلف صورتیں : آگے آرہا ہے (آیت) ” وجاھدو باموالکم وانفسکم فی سبیل اللہ “ اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرو۔ گویا جہاد میں جان اور مال دونوں چیزیں کھپانہ پڑتی ہیں۔ اس معاملے میں معذور لوگوں کو بھی معاف نہیں کیا گیا۔ اگر کوئی شخص جسمانی طور پر جہاد بالسیف میں شامل نہیں ہوتا اور وہ صاحب مال ہے تو مالی جہاد کرسکتا ہے۔ اور اگر وہ مال بھی خرچ کرنے کے قابل نہیں ہے تو اس کے لیے جہاد باللسان کا حکم ہے کہ وہ اپنی زبان سے (آیت) ” نصحوا للہ ورسولہ “ اللہ اور اس کے رسول کے حق میں کلمہ خیر ہی کہ دیں ، دین کے حق میں خیر خواہی کی بات کریں تا کہ اہل ایمان کے حوصلے بلند ہوں۔ اس کے برخلاف اگر دین کے خلاف پراپیگنڈا کرنے لگیں تو جرم کے مرتکب ہونے۔ عام طور پر جہاد بالسف دو اقسام سے خالی نہیں ہوتا ہے یعنی یا تو دشمن سے بچائو کے لیے دفاعی Defensive جہاد ہوتا ہے یا دشمن پر آگے بڑھ کر وار کیا جاتا ہے جسے اقدامی Offensive جہاد کہا جاتا ہے۔ سرسید نے یہاں پر غلطی کھائی ہے۔ اس کا نظریہ یہ ہے کہ مسلمان اپنی مدافعت میں تو لڑائی کرسکتے ہیں مگر انہیں اقدامی جہاد کرنے کی اجازت نہیں ، امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ جارحانہ اور مدافعانہ دونوں قسم کے جہاد فرض ہیں۔ اگر کفار اہل ایمان پر حملہ آور ہوں تو اپنا بچائو کرنے کے لیے تلوار اٹھانے میں تو کوئی شک نہیں۔ اور اگر ظلم کی بیخ کنی کے لیے جارحانہ جہاد بھی کرنا پڑے ، ظالم کے ظلم کو رفع کرنے اور مظلوم کی امداد کے لیے آگے بڑھ کر بھی حملہ کرنا پڑے تو یہ بالکل جائز ہے جب حضرت ابو بکرصدیق ؓ نے خلافت کا بار اٹھایا تو آپ نے اپنے پہلے تاریخی خطبہ میں فرمایا تھا (1۔ جمع الوسائل شرح الشمائل ص 222 ، ج 2) (فیاض) ” ما ترک قوم جھادا فی سبیل اللہ الاذل “ تو قوم جہاد کو ترک کردیتی ہے وہ ذلیل و خوار ہو کر رہ جاتی ہے ۔ چناچہ اب مسلمان صدیوں سے ذلت کا شکار ہیں۔ اہل ایمان اپنے مشن کو بھول چکے ہیں ، نئی پود کی تربیت گاہوں سکولوں اور کالجوں میں شیطان کا عمل دخل ہے جس نے لوگوں کو عیاش اور آرام طلب بنا دیا ہے جس کی وجہ وہ جہاد جیسے فریضہ سے غافل ہوچکے ہیں لہٰذا ذلت کا شکا ہیں عزت تو قرآنی پروگرام پر عملدرآمد سے ہی حاصل ہو سکتی ہے عیش و عشرت اور آرام طلبی کے ذریعے ذلت کو دور نہیں کیا جاسکتا مسلمان صدیوں تک عزت ووقار کے ساتھ دنیا میں قائم رہے پھر انگریز نے ایسی ایسی تدابیر اختیار کیں جن کے ذریعے مسلمانوں سے جذبہ جہاد کو ختم کیا گیا ، نام نہاد دین کے ٹھیکیداروں سے جہاد کے خلاف فتوے دلائے گئے۔ جہاد کے خلاف پراپیگنڈا کے لیے جھوٹے لوگوں کو کھڑا کیا گیا تا کہ لوگ اپنے مشن کو بالکل فراموش کردیں۔ بہر حال جہاد کی مختلف قسمیں ہیں اور ہر مسلمان اپنی حیثیت کے مطابق اس کار خیر میں حصہ لینے کا پابند ہے اگر اس میں کوتاہی کریگا تو عنداللہ ماخوذ ہوگا۔ جہاد بطور عبادت : اللہ نے فرمایا کہ اے اہل ایمان ! جہاد کے زریعے تمہاری آزمائش ہوگی۔ جہاد کے ذریعے آزمائش ہوگی جہاد ہی کے ذریعے اللہ تعالیٰ منافقوں اور مومنوں میں تمیز پیدا کریگا آگے اسی سورة میں منافقین کا حال بری تفصیل کے ساتھ آرہا ہے یہ لوگ ہمیشہ جہاد سے گریز کرتے تھے اور جھوٹے حیلے بہانوں سے جنگ میں شامل نہیں ہوتے تھے ، حالانکہ نماز اور روزہ کی طرح جہاد بھی ایک عبادت ہے اب ہمارا ماحول ہی بدل چکا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ دین صرف نماز روزے تک ہی محدود ہے حالانکہ جہاد پانچویں عبادت ہے ، اور اس کا درجہ بہت بلند ہے ” زروۃ الاسلام الجھاد “ اسلام کے کوہان کی بلندی جہاد میں ہے یعنی عزت جہاد کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے جہاد کے ذریعے ہی اسلامی نظام قائم کیا جاسکتا ہے شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علی اپنی تصنیف حجۃ اللہ البالغہ (1۔ حجۃ البالغہ ص 127) (فیاض) میں لکھتے ہیں کہ بعثت انبیاء کے مقاصد میں یہ داخل ہے ” رفع التظالم من بین الناس “ یعنی ظلم کو مٹانا انبیاء کے مشن میں داخل ہے جس کے لیے جہاد ناگزیر ہے جب تک لیڈران کفر کی سرکوبی نہیں کی جائیگی وہ ظلم سے باز نہیں آئیں گے۔ فرمایا اے ایمان والو ! کیا تم گمان کرتے ہو کہ تمہیں چھوڑ دیا جائے گا۔ (آیت) ” ولما یعلم اللہ الذین جٰھدوا منکم “ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ابھی تک نہیں جانا ان لوگوں کو جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا ، تفسیر جلالین والے فرماتے ہیں کہ یہاں پر علم کے معنی علم ظہور ہے کیونکہ محض علم تو اللہ تعالیٰ کو ازل سے ابد تک ہے وہ علیم کل ہے اور ذرے ذرے کو جانتا ہے لہٰذا یہاں (آیت) ” لما یعلم اللہ “ کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابھی تک ظاہر نہیں کیا تا کہ لوگوں کو پتہ چل جائے کہ جہاد میں حصہ لینے والے کون لوگ ہیں اور اس سے پیچھے رہ جانے والے کون ہیں ، جیسا کہ پہلے عرض کیا جہاد سے مراد اس کے سارے شعبے ہیں یعنی جہاد بالسیف ، جہاد بالمال اور جہاد باللسان ہے اسی طرح تبلیغ دین بھی جہاد ہی کا ایک شعبہ ہے دین کی سربلندی اور لوگوں کے شکوک و شبہات دور کرنے کے لیے تصنیف و تالیف بھی اتنی ہی ضروری ہے جتنا یہ حکم ہے (آیت) ” قاتلوا فی سبیل اللہ اودفعوا “ (ال عمران) کہ اللہ کے راستے میں اقدامی جہاد کرو یا دفاعی جہاد ، دونوں فرض ہیں اور موقع کی مناسبت سے کوئی ایک طریقہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔ مسلمانوں میں امداد باہمی : اگرچہ اللہ تعالیٰ نے تمام اہل ایمان کا جہاد کا بار بار حکم دیا ہے مگر آج کی دنیا میں مسلمان اپنے مظلوم مسلمان بھائیوں کی مدد کرنے سے قاصر ہیں۔ دنیا کی بڑی طاقتوں نے اسلامی ریاستوں کو اپنی ریاست کے جال میں اس قدر جکڑ رکھا ہے کہ مسلمان بےبس ہوچکے ہیں افغانستان میں تباہی آئی ، برما میں مسلمانوں کا قتل عام ہوا مگر کوئی ان کی مدد کو نہ پہنچ سکا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ مشرق میں ایک مسلمان کو تکلیف پہنچتی تو مغرب والے تڑپ اٹھتے ، مگر اب یہ جذبہ ہی ختم ہوچکا ہے گذشتہ جنگ عظیم تک مسلمانوں میں امداد باہمی کا احساس موجود تھا چناچہ شکیب ارسلان اپنی کتاب حاضر العالم الاسلامی میں لکھتے ہیں کہ 1911 ئ؁ میں جب طرابلس میں مسلمان اٹلی والوں کے ساتھ برسرپیکار تھے تو میں نے اپنے مورچے کے قریب عجیب و غریب شکل و صورت کے کچھ نوجوان دیکھے جن کی تعداد پچاس کے قریب تھی میں نے پوچھا تم کون لوگ ہو اور یہاں کیسے آئے ہو تو کہنے لگے ہم افغانستان کے باشندے ہیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیے آئے ہیں مگر اب اسی صدع کے آخری حصے میں یہ جذبہ بالکل ختم ہوچکا ہے امریکہ ، برطانیہ اور روس نے ایسا جال پھیلا رکھا ہے کہ کوئی مسلمان دوسرے مسلمان کی مدد نہیں کرسکتا۔ برما میں لاکھوں مسلمان شہید ہوئے قبرص میں چالیس ہزار ترک مسلمان مارے گئے ، اس وقت لبنان کے واقعات ہمارے سامنے ہیں ، ہندوستان کے مسلمانوں پر آئے دن مظالم توڑے جاتے ہیں مگر کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکتا۔ زبانی کلامی سب کچھ ہوتا ہے ، اجلاس ہوتے ہیں ، تجویزیں پیش ہوتی ہیں مگر اصلیت اپنی جگہ قائم ہے جس میں سرمو فرق نہیں آتا مسلمان جہاں بھی مغلوب ہیں ظلم کی چکی میں پستے چلے جا رہے ہیں۔ دوستی اور رازداری : فرمایا اللہ نے ابھی تک ان لوگوں کو ظاہر نہیں کیا جنہوں نے تم میں سے جہاد کیا اور دوسری بات یہ کہ (آیت) ” ولم یتخذوا من دون اللہ ولا رسولہ ولا المومنین ولیجۃ “ اور نہیں بنایا جنہوں نے اللہ اس کے رسول اور مومنوں کے علاوہ ولی دوست ، ولیجہ کا معنی دوست ار رازدان ہوتا ہے مطلب یہ ہے کہ سچا پکا مسلمان کسی غیر مسلم کو اپنا ولی دوست نہیں بنا سکتا کیونکہ دوستی کے ذریعے راز کے افشا کا خطرہ ہوتا ہے۔ اور اگر ایسا ہوجائے تو قومی لحاظ سے نہایت خطرناک ہو سکتا ہے۔ سورة مائدہ میں ہے۔ اے ایمان والو ! (آیت) ” لا تتخذوا الیھود والنصری اولیائ “ یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست مت بنائو۔ دوسری جگہ (آیت) ” بطانۃ “ کا لفظ آتا ہے ، ا س کا معنی بھی دوست اور رازدان ہوتا ہے مگر آج حالت یہ ہے کہ تمام مسلمان ممالک کے راز امریکہ اور فرانس کے یہود ونصاری کی معلوم ہوتے ہیں ایک صحابی نے غلطی کی تھی جب مسلمان مکہ پر حملہ کی تیاری کر رہے تھے تو اس نے کفار کو ایک خط لکھ کر یہ راز افشاء کرنے کی کوشش کی خط پکڑا گیا اور اس ضمن میں سورة ممتحنہ نازل ہوئی۔ جس میں مسلمانوں کو سخت تنبیہ کی گئی کہ آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ کرنا۔ اے ایمان والو (آیت) ” لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیائ “ میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بنائو ، اور نہ سارے معاملات خراب ہوجائیں گے آپ دیکھ لیں سعودی عرب کے سارے راز امریکہ کو معلوم ہیں۔ دولت ہے ، اسلحہ مگر دینی کے اصولوں پر عمل نہیں۔ اگر اللہ کے احکام پر عمل ہوتا تو آج دنیا میں مسلمان ذلیل و خوار نہ ہوتے۔ فرمایا ، جنہوں نے اللہ ، اس کے رسول اور مومنوں کے سوا کسی کو دلی دوست نہیں بنایا۔ اللہ نے ان کو بھی ابھی ظاہر نہیں کیا۔ ان کا معاملہ بھی واضح ہوگا کہ ان کی دوستی مومنوں کے ساتھ ہے یا یہودیوں ، عیسائیوں اور ہندوئوں کے ساتھ ہے حالانکہ کوئی کافر کسی مسلمان کا دوست نہیں ہو سکتا مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ ان کو نہ اپنا دلی دوست بنائیں اور نہ ان پر اپنے راز ظاہر کریں۔ ان کے ساتھ اخلاق کا مظاہرہ تو کیا جاسکتا ہے مگر راز دان دوست نہیں بنایا جاسکتا۔ تو فرمایا ابھی تک اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو ظاہر نہیں کیا تو جہاد کی مشروعیت کی ایک وجہ یہ بھی ہوئی کہ اللہ تعالیٰ آزمائش کریگا اور ظاہر کرے گا کہ کون مخلص ہے اور کون منافع کون آگے بڑھتا ہے اور کون پیچھے ہٹتا ہے شاہ عبدالقادر ولیجہ کا معنی بھیدی یعنی راز دان کرتے ہیں جو کسی کے اندرونی رازوں کو جانتا ہو۔ بہرحال فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ضرور آزمائیگا۔ ( آیت) ” وللہ خبیر بما تعملون “ اللہ تعالیٰ خبر رکھنے والا ہے جو کچھ تم کرتے ہو مطلب یہ کہ تمہارا اخلاص یا نفاق ، اچھائی یا برائی ، جہاد کا شوق یا خوف سب کچھ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے تمہارے اعمال اس کی نگاہ میں ہیں وہ تمہیں آزمائے بغیر نہیں چھوڑے گا۔
Ayahs 9:17–22

مَا كَانَ لِلْمُشْرِكِیْنَ اَنْ یَّعْمُرُوْا مَسٰجِدَ اللّٰهِ شٰهِدِیْنَ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ بِالْكُفْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ۖۚ وَ فِی النَّارِ هُمْ خٰلِدُوْنَ Open ayah 9:17 in the Quran reader

نہیں ہے لائق شرک کرنے والوں کے کہ وہ آباد کریں اللہ کی مسجدوں کو اس حال میں کہ وہ اپنے نفسوں پر کفر کی گواہی دینے والے ہوں یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال ضائع ہوچکے ہیں اور وہ دوزخ کی آگ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں

اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰهَ فَعَسٰۤى اُولٰٓئِكَ اَنْ یَّكُوْنُوْا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 9:18 in the Quran reader

بیشک آباد کرتا ہے اللہ کی مسجدوں کو وہ آدمی جو ایمان لایا اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور جس نے نماز قائم کی اور زکوٰۃ دی اور نہیں ڈرا وہ سوائے اللہ کے کسی سے پس امید ہے کہ یہی لوگ ہوں گے ہدایت پانے والے

اَجَعَلْتُمْ سِقَایَةَ الْحَآجِّ وَ عِمَارَةَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ كَمَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ جٰهَدَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ لَا یَسْتَوٗنَ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَۘ Open ayah 9:19 in the Quran reader

کیا ٹھہرایا ہے تم نے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کی تعمیر کرنا اس شٰخص کی طرح جو ایمان لایا اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور جہاد کیا اللہ کے راستے میں نہیں برابر یہ اللہ کے نزدیک اور اللہ نہیں راہنمائی کرتا ان لوگوں کی جو ظلم کرنے والے ہیں

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ۙ اَعْظَمُ دَرَجَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 9:20 in the Quran reader

وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کے راستے میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے یہ لوگ برے ہیں درجے میں اللہ کے نزدیک اور یہی لوگ ہیں فائز المرام ہونے والے

یُبَشِّرُهُمْ رَبُّهُمْ بِرَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ رِضْوَانٍ وَّ جَنّٰتٍ لَّهُمْ فِیْهَا نَعِیْمٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:21 in the Quran reader

بشار دیتا ہے ان کو ان کا رب اپنی رحمت سے اور خوشنودی سے اور ان کے لیے ایسے باغات ہیں جن کے اندر دائمی نعمتیں ہوں گی

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 9:22 in the Quran reader

یہ ہمیشہ رہنے والے ہوں گے ان میں بیشک اللہ تعالیٰ کے پاس اجرِ عظیم ہے

ربط ِ آیات گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کے مشروع ہونے کی وجوہات بیان فرمائی تھیں ان میں سے بعض وجوہات وہ تھیں جو مشرکین کی طرف سے پیدا ہوئیں مثلا دین میں طعن کرنا اور اسے مٹانے کی کوشش کرنا ، عہدوپیمان کو توڑنا ، نبی کو اس کے گھر سے نکالنا اور جنگ میں پہل کرنا وغیرہ ، پھر اللہ تعالیٰ نے جہاد کا ایک سبب یہ بھی بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا امتحان لینا چاہتا ہے اور وہ اس بات کو ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ کون ہے جو جہاد میں بخوشی حصہ لیتا ہے اور کون ہے جو پیچھے رہتا ہے۔ مشرکین اور مساجد سورۃ ہذا کی ابتداء میں مشرکین کے ساتھ بیزاری اور جنگ کا اعلان کیا گیا تھا ( آیت) ” براء ۃ من اللہ ورسولہ “ جب یہ اعلان ہوا تو مشرکین مکہ کہنے لگے کہ ہمارے خلاف بلاوجہ اعلان جنگ کیا گیا ہے حالانکہ ہم بھی تو نیک کام کرتے ہیں۔ ہم بیت اللہ شریک کے متولی ہیں۔ اس کی تعمیر اور ظاہری آبادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں اور پھر موسم حج میں حاجیوں کی خدمت کرتے ہیں خاص طور پر جزیرہ عرب کی سخت گرم آب وہوا میں ان کے لیے پانی کا انتظام کرتے ہیں ، لہٰذا ہمارے خلاف اعلان بیزاری درست نہیں ہے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہاں ارشاد فرمایا ہے ( آیت) ” ما کان للمشرکین ان یعمروا مسٰجد اللہ “ ان مشرکوں کے لائق نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کو آباد کریں۔ آگے اسی سورة میں آرہا ہے ( آیت) ” انما المشرکون نجس ‘ بیشک مشرک لوگ نجس ہیں ظاہر ہے کہ جو خود شرک کی وجہ سے نجس ہوگا وہ اللہ کی مسجدوں کو کیا آباد کرے گا ، لہٰذا اللہ نے مشرکین کی طرف سے مساجد کی آبادی کا دعویٰ تسلیم نہیں کیا ، خاص طور پر اس وجہ سے کہ ( آیت) ” شھدین علی انفسھم بالکفر “ وہ خود اپنے نفسوں پر کفر کی گواہی دینے والے ہیں۔ یعنی جب وہ خود علانیہ طور پر کفر اور شرک کی باتیں کرتے ہیں ، اور شرک نجاست ہے تو پھر ان کی طرف سے اللہ کے پاک گھروں کی خدکمت کا کوئی دعوی قابل قبول نہیں رہتا۔ فرمایا ان لوگوں کی حالت یہ ہے کہ کفر اور شرک کے ارتکاب کی وجہ سے ( آیت) ” اولئک حبطت اعمالھم “ ان کے تمام اعمال ضائع ہوچکے ہیں ، ان کی کسی نیکی کا کچھ فائدہ نہیں۔ ( آیت) ” وفی النار ھم خلدون “ جس کا بالآخر نتیجہ یہ ہے کہ وہ دوزخ میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ مساجد کی حقیقت آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ( آیت) ” انما یعمر مسجد اللہ “ حقیقت میں مسجدوں کا آباد کرنے والا وہ شخص ہے جس میں یہ صفات پائی جائیں یعنی ( آیت) ” من امن باللہ “ جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان رکھتا ہے ( آیت) ” والیوم الاخر “ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ( آیت) ” واقام الصلوٰۃ “ اور نماز ادا کرتا ہے ( آیت) ” واتی الزکوٰۃ “ اور زکوٰۃ دیتا ہے ۔ ( آیت) ” ولم یخش الا اللہ “ اور اللہ کے سوا کسی سے خوف نہیں کھاتا۔ دراصل مسجدوں کی آبادی اس کی تعمیر اور زیب وزینت ہی سے نہیں ہوتی بلکہ مساجد کی حقیقی آبادی ان میں اللہ کی عبادت کرنے سے ہوتی ہے ، قرآن ِ پاک کی درس و تدریس اور اللہ کے ذکر کرنے سے ہوتی ہے حضور ﷺ نے قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی بیان فرمائی کہ لوگ مسجدوں کی ظاہری ٹیب ٹاپ بہت کریں گے۔ فرمایا ( 1۔ ابودائود۔۔ ) ” لتخرفن کما زخرفت الیھود والنصری “ جس طرح یہود ونصاری اپنے عبادت خانوں کی ظاہری آرائش کرتے تھے ، اسی طرح تم بھی کرو گے ، مگر وہ ہدایت سے کالی ہوں گی ، یعنی جس مقصد ( اللہ کی عبادت اور ذکر) کے لیے بنائی گئی ہیں ، اس مقصد سے خالی ہوں گی۔ ایک شخص نے نادانی کی وجہ سے مسجد کے صحن میں پیشاب کردیا۔ حضور ﷺ نے اسے قریب بلا کر بات سمجھائی کہ دیکھو بائی ! مساجد اس لیے نہیں تعمیر کی جاتیں کہ ان میں گندگی پھیلائی جائے بلکہ اللہ کے گھروں کا مقصد نماز کی ادائیگی اور ذکر الہٰی ہے سورة نور میں اللہ نے فرمایا ہے ( آیت) ” فی بیوت اذن اللہ ان ترفع ویذکرو فیھا اسمہ “ اللہ تعالیٰ نے اپنے گھروں کو بلند رکھنے اور ان میں اس اکا ذکر کرنے کا حکم دیا ہے۔ ابو دائود شریف کی روایت میں آتا ہے حضور ﷺ نے حکم دیا کہ مسجدوں کو پاک صاف رکھا جائے غرضیکہ مساجد کی حقیقی آبادی تلاوت قرآن ، اللہ کے ذکر ، نماز کی ادائیگی اور ان میں درس و تدریس وغیر ہ سے ہوتی ہے مگر مشرک لوگ ان چیزوں سے محروم ہیں۔ مشرکوں کا حال تو یہ تھا کہ انہوں نے خانہ کعبہ کے اردگرد بت رکھے ہوئے تھے۔ بت تو سراسر نجاست ہیں۔ بھلا ان رکھنے والے مساجد کو کیا آباد کریں گے ؟ اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ مساجد کو آباد کرنا مشرکوں کے لائق نہیں بلکہ ان کو آباد کرنا اہل ایمان کا کام ہے ، جو نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کرتے ہیں اور صرف اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں۔ فرمایا ( آیت) ” فعسی اولئک ان یکونوا من المھتدین “ امید ہے کہ ایسے ہی لوگ ہدایت پانے والے ہوں گے۔ مساجد کی تولیت گذشتہ سورة میں مساجد کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان گزر چکا ہے کہ کافر اور مشرک کسی مسجد کے متولی نہیں ہو سکتے ( آیت) ” ان اولیائوہ الا المتقون “ یعنی خانہ کعبہ کے متولی تو پرہیزگار لوگ ہی ہو سکتے ہیں تقوی کی پہلی منزل یہ ہے کہ انسان کفر ، شرک اور معاصی سے بچ جائے۔ جو ان جرائم کا مرتکب ہو ، وہ مسجد حرام کا متولی کیسے ہو سکتا ہے ؟ جہاں بھی مسجد کے متولی بےدین لوگ ہوں گے وہاں فتنہ و فساد ہی ہوتا رہے گا متولی خود بےنماز ہوتے ہیں۔ محض دھڑے بندی میں آکر مسجد تو بنا دیتے ہیں اور خود متولی بھی بن جاتے ہیں مگر ایسی مسجدیں حقیقی آبادی سے محروم ہوتی ہیں۔ مسجد کا متولی وہ شخص ہونا چاہیے۔ جو مقدین ، ایماندار ، عبادت گزار اور نمازی ہو۔ جو مال کی طہارت اور پاکیزگی کا قائل ہو اور جس کے دل میں خدا کا خوف ہو۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ شرک اور کفر کرنے والوں کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ مسجدوں کو آباد کریں ، وہ تو ان کی بربادی کا سامان ہی کرسکتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جن مساجد میں اللہ کی وحدانیت کی بجائے شرک کی تبلیغ ہو ، اور سنت کی بجائے بدعات کو رواج دیا جائے۔ وہ مسجدیں کیسے آباد ہوں گی ؟ نیکی ایمان پر موقوف ہے : غزوہ بدر میں حضرت عباس ؓ نے مشرکوں کی طرف سے حصہ لیا تھا آپ جنگی قیدی کی حیثیت سے مدینے پہنچے تو حضرت علی ؓ نے انہیں ملامت کی کہ آپ نے بھی مشرکوں کا ساتھ دیا۔ اس پر حضرت عباس ؓ نے جواب دیا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم سے پہلے ایمان لائے اور پہلے ہجرت کی مگر ہم بھی تو نیکی کے کام کرتے تھے۔ ہم حاجیوں کی خدمت کیا کرتے تھے ، ان کو پانی پلاتے تھے ، خان کہ کعبہ کی دیکھ بھال کرتے تھے ، اس میں حاجیوں کی ضروریات کا سامان کرتے تھے ، روشنی کا انتظام کرتے تھے ، خانہ کعبہ کا غلاف مہیا کرتے تھے ، مسجد حرام کی صفائی کا بندوبست کرتے تھے۔ لہٰذا ہم بھی نیکی میں پیچھے نہیں رہتے تھے۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا ( آیت) ” اجعلتم سقایۃ الحاج “ کیا تم نے ٹھہرایا ہے حاجیوں کو پانی پلانا ، ( آیت) ” وعمارۃ المسجد الحرام “ اور مسجد حرام کی ظاہری دیکھ بھال کو اس شخص کی طرح ( آیت) ” کمن امن باللہ والیوم الاخر وجھد فی سبیل اللہ “ جو ایمان لایا اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور جس نے جہاد کیا اللہ کے راستے میں فرمایا ایک قدیم الایمان شخص ایسے شخص کی طرح کیسے ہو سکتا ہے جس کی نیکی محض مسجد حرام کی ظاہری ٹیپ ٹاپ تک محدود ہے فرمایا ( آیت) ” لا یستون عند اللہ “ یہ دونوں شخص اللہ کے ہاں ایک جیسے نہیں ہو سکتے۔ مطلب یہ ہے جس نے ایمان قبول نہیں کیا۔ اس کی کوئی نیکی بھی اللہ کے ہاں مقبول نہیں ہے۔ اگر ایمان ہے تو نیک کام بھی مفید ہوگا مگر ہجرت اور جہاد کے برابر نہیں ہو سکتا۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ مسجد کی دیکھ بھال کرتا ہے اس کی ضروریات پوری کرتا ہے اور وہ عبادت گزار بھی ہے تو اس کے حق میں گواہی دو کہ یہ ایماندار آدمی ہے۔ اس کے برخلاف کفر اور شرک کرنے والوں کے متعلق فرمایا ( آیت) ” حبطت اعمالھم “ ان کے تمام اعمال ضائع ہوگئے ، کیونن کہ نیکی کی بنیاد ایمان پر ہے۔ اگر ایمان ہی نہیں ہے تو کوئی نیک عمل مفید نہیں ہوگا۔ سورة نساء میں موجود ہے ( آیت) ” ومن یعمل من الصلحت من ذکر اوانثی وھو مومن “ مرد وزن میں سے نیکی کا جو بھی کام کرے بشرطیکہ وہ ایماندار ہو تو یہی لوگ جنت می داخل کیے جائیں گے۔ نیکی کے لیے ایمان شرط ہے ، ورنہ خالی خولی مساجد کی خدمت کچھ فائدہ نہیں دے گی۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص محض مسجد کی عمارت کھڑی کردیتا ہے اور اس کے اصلی مقصد کو پورا نہیں کرتا تو وہ قابل تحسین نہیں ہے جب تک قرآن کے پروگرام پر عمل نہ ہو ، مساجد میں درس و تدریس کا کام نہ ہو۔ اللہ کی عبادت اور اس کا ذکر نہ ہو ، اس وقت تک مسجد کا ڈھانچہ کسی کام نہیں آئے گا۔ تو فرمایا کیا تم نے ٹھہرایا ہے حاجیوں کو پانی پلانا اور مسجد حرام کی تعمیر کرنا اس شخص کی طرح جو اللہ اور قیامت پر ایمان لایا اور اللہ کے راستے میں جہاد کیا۔ ایسا نہیں ہو سکتا۔ ( آیت) ” واللہ لا یھدی القوم الظلمین “ یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ ظالم قوم کی راہنمائی نہیں کرتا ، کفر اور شرک سب سے بڑا ظلم ہے اور ان کے مرتکب لوگ کبھی ہدایت نہیں پا سکتے۔ اجر عظیم کے مستحقین : آگے اللہ نے مساجد کو حقیقی معنوں میں آباد کرنے والوں کی تعریف کی ہے ارشاد ہوتا ہے ( آیت) ” الذین امنوا “ جو لوگ ایمان لائے کہ نیکی کا مدار ایما پر ہے ، عقیدے کی اصلاح کی فکر کو پاک کیا۔ ( آیت) ” وھاجروا “ اور جن لوگوں نے ہجرت کی ، گھر بار مکان ، زمین اور کاروبار کو خیر باد کہا۔ نیز اللہ کے دین کی خاطر ( آیت) ” وجھدوا فی سبیل اللہ “ اللہ کے راستے میں جہاد کیا ( آیت) ” باموالھم وانفسھم “ اپنے مالوں اور جانوں کے ذریعے فرمایا ایسے لوگ ( آیت) ” اعظم درجۃ عند اللہ “ اللہ کے ہاں بڑے بڑے درجے والے ہیں۔ ( آیت) ” واولئک ھم الفائزون “ یہی لوگ فائز المرام ہیں یعنی وہ اپنی مراد تک پہنچنے والے ہیں۔ ان کو انتہائی بلندی نصیب ہوگی۔ قرآنی پروگرام میں یہی اسباب اولیت رکھتے ہیں ان کے علاوہ باقی باتیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔ فرمایا ( آیت) ” یبشرھم ربھم برحمۃ منہ ورضوان “ فائز المرام لوگوں کو ان کا رب اپنی رحمت اور خوشنودی کی بشارت دیتا ہے ۔ ( آیت) ” وجنت لھم فیھا نعیم مقیم “ ایسے لوگوں کے لیے باغات کی بشارت بھی ہے جن میں دائمی نعمتیں میسر ہوں گی۔ گویا یہاں اللہ تعالیٰ نے تین اعمال کے نتیجہ میں تین انعامات کا ذکر فرمایا ہے۔ ایمان کے بدلے میں اللہ تعالیٰ کی رحمت شامل حال ہوگئی جہاد کے بدلے میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی حاصل ہوگی اور ہجرت کے عوض میں بہشت میں مقام نصیب ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بشارت سنائی ہے۔ فرمایا یہ خوش قسمت لوگ ( آیت) ” خلدین فیھا ابدا “ ان بہشتوں میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور وہاں سے نکالے جانے کا کوئی خطرہ نہیں ہوگا اور نہ ہی عطا کی گئی کوئی نعمت چھینی جائے گی۔ فرمایا ( آیت) ” ان اللہ عندہ اجرعظیم “ بیشک اللہ کے ہاں بت بڑا اجر ہے جو وہ اہل ایمان اور اس کے احکام کی تعمیل کرنے والوں کو عطا کریگا۔
Ayahs 9:23–24

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْۤا اٰبَآءَكُمْ وَ اِخْوَانَكُمْ اَوْلِیَآءَ اِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْاِیْمَانِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّهُمْ مِّنْكُمْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 9:23 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نہ بنائو اپنے باپوں اور بھائیوں کو اپنا رفیق اگر وہ پسند کرتے ہیں کفر کو ایمان کے مقابلے میں اور جو ان سے دوستی کریگا۔ پس یہی لوگ ہیں ظلم کرنے والے

قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَ اَبْنَآؤُكُمْ وَ اِخْوَانُكُمْ وَ اَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِیْرَتُكُمْ وَ اَمْوَالُ اِ۟قْتَرَفْتُمُوْهَا وَ تِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَ مَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَاۤ اَحَبَّ اِلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ جِهَادٍ فِیْ سَبِیْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى یَاْتِیَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:24 in the Quran reader

( اے پیغمبر) آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہار بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے خاندان اور مال جو تم نے کمائے ہیں اور تجارت جس کے ماند پڑجانے سے تم ڈرتے ہو ، اور تمہارے پسندیدہ مکانات ، زیادہ پسندیدہ ہیں تمہارے نزدیک اللہ سے ، اس کے رسول سے اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے ، تو پھر انتظار کرو تم یہاں تک کہ لائے اللہ تعالیٰ اپنا حکم ، اور اللہ تعالیٰ نہیں راہنمائی کرتا اس قوم کی جو نافرمانی کرنے والی ہے

ربط آیات : پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کو افضل الاعمال سے تعبیر کیا ، ایمان لانا ، ہجرت کرنا اور جہاد کرنا اللہ کے نزدیک بہت بڑا کارنامہ ہے ، اللہ تعالیٰ نے مومنین ، مہاجرین اور مجاہدین کے لیے اپنی رحمت ، خوشنودی اور جنت کی بشارت سنائی اور فرمایا کہ اللہ کے ہاں ان لوگوں کے لیے اجر عظیم ہے ، چونکہ یہ جہاد کا موضوع چل رہا ہے تو اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کے بلند مرتبت ہونے کا ذکر کیا ہے ابتدائی دور کے مسلمانوں کے اکثر اعزہ و اقارب کے آمنے سامنے آنے کا احتمال پیدا ہوگیا۔ قرابت داری ایک ایسی چیز ہے جو جہاد کے راستے میں رکاوٹ بن سکتی تھی ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے آج کے درس میں قربتداری کے مقابلہ میں ایمان کی حقیقت کو واضح فرمایا ہے اور اہل ایمان کو متنبہ کیا ہے کہ یہ رشتہ داری مانع جہاد نہیں ہونی چاہیے بلکہ یہ تعلقات اسی صورت میں قائم رہ سکتے ہیں جب کہ دونوں طرف ایمان موجود ہو۔ لہٰذا ایک مومن رشتہ داری کے مقابلے میں ایمان کو مقدم رکھے گا اور ضرورت پڑنے پر عزیز ترین قرابتدار کے ساتھ ٹکرا جانے سے بھی دریخ نہیں کریگا۔ کفر کا مقابلہ ایمان : ارشاد ہوتا ہے ( آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا ابآکم واخوانکم اولیاء “ اے ایمان والو ! اپنے باپوں اور بھائیوں کو اپنا رفیق نہ بنائ ( آیت) ” ان استحبوا الکفر علی الایمان “ اگر وہ کفر کو پسند کرتے ہیںٰ ایمان کے مقابلہ میں مطلب یہ کہ کافر باپ اور کافر بھائی کے ساتھ تمہاری دلی دوستی اور ہمدردی نہیں ہو سکتی کیونکہ تمہارے ادیان مختلف ہیں ، تم اللہ کے دین کی بلندی چاہیے ہو اور وہ کفر کے پروگرام کو غالب بنانا چاہتے ہیں اور یہ ایسا بنیادی اختلاف ہے جس پر سمجھوتہ نہیں کا جاسکتا۔ اس سلسلہ میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی امت محمدیہ کے لیے مشعل راہ ہے ۔ سورة ممتحنہ میں ہے ( آیت) ” قد کانت لکم اسوۃ حسنۃ فی ابراھیم والذین معہ “ ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کو راہ راست پر لانے کی بہت کوشش کی مگر وہ کفر اور شرک سے باز نہ آیا ( آیت) ” فلما تبین لہ انہ عدو للہ تبرا منہ “ (التوبہ) جب آپ پر واضح ہوگیا کہ آپ کا باپ اللہ کا دشمن ہے تو آپ نے اس سے اعلان برات کردیا۔ باپ اور بیٹے کا قریب ترین رشتہ ہونے کے باوجود جب ایمان کا رشتہ قائم نہ رہ سکا تو آپ نے قطع تعلق کرلیا۔ سورة الزخرف میں یہ بھی آتا ہے کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور پوری قوم سے کہ دیا ( آیت) ” اننی براء مما تعبدون “ میں تمہارے معبودان باطلہ سے قطعی بیزار ہوں ۔ میرے اور تمہارے درمیان عداوت اور دشمنی کی دیوار حائل ہے ( آیت) ” وبدا بیننا وبینکم العداوۃ والبغجاء ابدا حتی تومنوا باللہ وحدہ “ ( الممتحنۃ) جب تک اللہ وحدہ لا شریک پر ایمان نہیں لائے گے یہ دیوار نہیں ہٹ سکتی۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ نے یہی بات بیان فرمائی کہ ایمان کے مقابلے میں باپ بیٹے جیسا قریب تیرین رشتہ بھی کچھ مفید نہیں ہوگا۔ اگر باپ کفر کے پروگرام کو پسند کرتا ہے تو بیٹا اس کے ستھ دلی دوستانہ نہیں کرسکتا۔ والدین کی اطاعت کے متعلق سورة لقمان میں ہے کہ اگر والدین شرک کی طرف مائل کرنا چاہیں ( آیت) ” فلا تطعھما وصاحبھما فی الدنیا معرافا “ تو ان کا کہا نہ مانو البتہ دنیا میں ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئو۔ فرمایا ( آیت) ” ومن یتولھم منکم فاولئک ھم الظلمون ‘ ‘ تم میں سے جو کوئی ان کے ساتھ دوستی کرے گا تو یہی ظالم لوگ ہیں اگر کوئی مومن اپنے کافر بھائی کے ساتھ دوستانہ کرتا ہے تو اللہ کے ہاں ظالم تصور ہوگا۔ قرابت داری : آگے اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کا ذکر کیا ہے جن کی محبت کی وجہ سے اکثر لوگ جہاد سے گریز کرتے ہیں ان میں سے پہلی چیز قرابت داری ہے ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغمبر ! آپ کہ دیں ( آیت) ” ان کان ابائوکم وابنائوکم واخوانکم وازواجکم وعشیرتکم “ اگر تمہارے باپ ، بیٹے ، بھائی ، بیویاں اور خاندان یہی وہ قریب ترین رشتہ داریاں ہیں جن کے ساتھ انسان کو محبت ہوتی ہے اور انہی کی وجہ سے لوگ ایمان ، جہاد اور ہجرت سے رک جاتے ہیں فرمایا اگر تم ان عزیز و اقارب کو ایمان پر ترجیح دو گے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ کی جانب سے تم پر ذلت مسلط ہو جائیگی انہی کی وجہ سے اکثر لوگ آخرت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ براداری اور خاندان کے رسم و رواج پر ضرور عمل کرتے ہیں کہ کیونکہ ایسا نہیٰں کریں گے تو براداری میں بیٹھنے کے قابل نہیں رہیں گے۔ اس لیے برادری کی خاطر کئی قسم کی برائیاں اور بدعات اختیار کرنا پڑتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں پر ان قرابت داروں کا نام لے کر فرمایا ہے کہ اگر تمہیں یہ عزیز اللہ ، اس کے رسول اور جہاد فی سبیل اللہ سے زیادہ محبوب ہیں تو پھر اللہ کی طرف سے فیصلے کا انتظار کرو۔ مال اور تجارت : جہاد سے روکنے والی دوسری چیز کے متعلق فرمایا ( آیت) ” واموال اقترفتموھا “ اور وہ مال جو تم کماتے ہو۔ انسان کا مال بھی اس کے لیے آزمائش کا باعث ہوتا ہے اس کی وجہ سے انسان آخرت اور دین کی باتوں سے محروم ہوجاتے ہیں۔ مال کی محبت میں انسان حلال و حرام کی تمیز بھی چھوڑدیتے ہیں۔ نہ مال کے حصول میں جائز وناجائز کا خیال رکھا جاتا ہے اور نہ ہی خرچ کرنے کے معاملہ میں ، لہٰذا وہ مال و دولت کو ایمان پر ترجیح دیتے ہیں۔ مال کے علاوہ فرمایا ( آیت) ” وتجارۃ تخشون کسادھا “ اور وہ تجارت بھی تمہارے لیے مانع جہاد ہے جس کے مندے سے تم خوفزدہ رہتے ہو کہ کہیں نقصان نہ ہوجائے ، کاروبار میں گھاٹا نہ پڑجائے ، کاروبار کو برقرار رکھنے کے لیے تم بڑی محنت کرتے ہو۔ لہٰذا یہ بھی تمہیں بڑا عزیز ہے ، فرمایا کہیں تجارت بھی تمہیں جہاد ، ہجرت اور آخرت سے غافل نہ کردے۔ اگر تم نے اللہ ، اس کے رسول اور جہاد کی نسبت تجارت کو زیادہ محبوب رکھا تو پھر اللہ کی طرف سے اپنے متعلق کسی فیصلے کا انتظار کرو۔ سورة بقرہ میں ہے ( آیت) ” الشیطن یعدکم الفقر “ شیطان تمہیں غربت سے ڈراتا ہے کہ اگر کاروبار کی طرف توجہ نہ دی تو مارے جائو گے ، بھوکوں مرو گئے ، لہٰذا وہ آخرت کے فکر کی بجائے کاروبار کی زیادہ فکر کرتے ہیں اور یہی چیز ہے جو انسان کی ہلاکت کی طرف لے جاتی ہے۔ پسندیدہ مکانات : فرمایا مانعات جہاد میں تیسری چیز ( آیت) ” ومسٰکن ترضونھا “ وہ مکانات ہیں جن کو تم پسند کرتے ہو۔ لوگوں کو اپنے مکانات اور کوٹھیوں سے بڑی محبت ہوتی ہے انہیں بڑی محنت سے تعمیر کیا جاتا ہے اور آرام و آسائش کی تمام ضروریات مہیا کی جاتی ہیں عرب لوگ محاورے کے طور پر کہتے ہیں ” لذۃ الدار ھبرا “ مکان کی ایک دفعہ تعمیر زمانہ بھر لطف اندوزی کا باعث ہوتی ہے اگر رہائش گاہ اچھی نہ ہو تو طبیعت میں گھٹن رہتی ہے اچھے مکان کی سعادت مندی کی نشانی کہا گیا ہے۔ چناچہ مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ کسی شخص کے سعادت مند ہونے کے لیے تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے یعنی اچھا مکان ، اچھی بیوی ، اچھی سواری ان تینوں چیزوں میں سے کوئی بھی کم تر ہو تو انسان کی زندگی پر سکون نہیں ہوتی مکانات کی تعمیر و آرائش قدم زمانے سے محبوب رہی ہے عاد اور ثمود کی قومیں بھی بڑے عالیشان مکان بناتی تھیں اور ان میں نقش ونگار بناتی تھیں تا کہ آرام و سکون کی زندگی بسر کرسکیں ۔ سورة شعراء میں ہے ( آیت) ” وتتخذون مصانع لعلکم تخلدون “ ان کے مکانات ایسی ایسی کاریگری کے شاہکار ہوتے تھے گویا کہ انہوں ہمیشہ ان میں رہنا ہے مگر آج ان مکانات کے کھنڈرات کے سوا کچھ نہیں ملتا ، اسی لیے فرمایا کہ تمہارے خوبصورت مکان اور کوٹھیاں اور پھر ان کے ساتھ تمہاری محبت جہاد کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ یہ تیسری چیز ہوگئی۔ دنیا بمقابلہ دین : فرمایا اے پیغمبر ! آپ ان سے کہ دیں کہ اگر رشتہ داری ، مال وتجارت خوبصورت مکانات ( آیت) ” احب الیکم من اللہ ورسولہ وجھاد فی سبیلہ “ تمہیں زیادہ محبوب ہیں اللہ اور اس کے رسول سے ، اور اس کے راستے میں جہاد کرنے سے یعنی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے رسول کی رسالت پر ایمان لانے اور ان کے حکم کی تعمیل کرنے کی نسبت دنیا کی چیزیں زیادہ پسند ہیں۔ اور تم ان چیزوں کو جہاد فی سبیل اللہ پر ترجیح دیتے ہو۔ حالانکہ جہاد کے ذریعے عزت اور کامیابی نصیب ہوتی ہے جماعت مضبوط ہوتی ہے ، دین کو تقویت ملتی ہے عدل و انصاف قائم ہوتا ہے ، ظلم وجور کا قلع قمع ہوتا ہے۔ جہاد کو اسلام کی کوہان کی بلندی سے تعبیر کیا گیا ہے تو فرمایا کہ اگر دنیا کی یہ چیزیں ت میں اللہ ، اس کے رسول اور جہاد سے زیادہ پیاری ہیں۔ ( آیت) ” فتربصوا حتی یاتی اللہ بامرہ “ تو پھر انتظار کرو۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا کوئی حکم لے آئے اور ظاہر ہے کہ اگر دنیا کو دین پر ترجیح دی گئی تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا کا حکم ہی آسکتا ہے۔ ترک جہاد کا وبال : ابو دائود شریف اور مسند احمد کی روایت میں حضور ﷺ کا فرمان ہے ( آیت) ” اذا تبایعتم بالعینۃ “ اگر تم نے خرید وفروخت کو ہی مقصد حیات بنا لیا اور چوبیس گھنٹے اسی میں منہک رہے۔ ( آیت) ” ورضیتم بالزرع “ اور کھیتی باڑی کے کام میں ہی مصروف رہے ( آیت) ” واخذتم باذناب البقر “ اور گائے بیل کو پالنے میں لگے رہے ، اس کی دیکھ بھال اور دودھ پینے میں وقت ضائع کردیا وترکتم الجھاد فی سبیل اللہ اور اللہ کے راستے میں جہاد کو ترک کردیا تو یاد رکھو ! ( آیت) ” فتربصوا ان یسلط اللہ علیکم ذلا “ پھر اس بات کے منتظر رہو کہ اللہ تعالیٰ تم پر ذلت کو مسلط کر دے۔ اور پھر ( آیت) ” لا ینزع حتی ترجعوا الی دینکم “ اور پھر اسے اٹھائے گا نہیں جب تک کہ تم اپنے دین کی طرف واپس نہیں پلٹ آئو گے مقصد یہ کہ جو قوم جہاد کو ترک کردیتی ہے اس پر ذلت مسلط ہوجاتی ہے اور وہ محکوم ہوجاتی ہے ، پہلے مسلمان تاتاری کافروں کے محکوم ہوئے اور آج مسلمانوں کی اکثریت انگریزوں کی محکوم ہے یہ قومی سزا ہے جو مسلمانوں کو مل رہی ہے انہوں نے برادری ، مال و دولت اور محلات کو اپنی مقصود حیات بنا رکھا ہے ۔ نہ ایمان ہے ، نہ رسول کی محبت اور نہ جذبہ جہاد۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ غلامی کی ذلت میں مبتلا ہیں۔ ذلت کئی قسم سے آسکتی ہے مثلا سلطنت چھن جائے ، نیکی کی توفیق سلب ہوجائے قوم عیاشی اور فحاشی میں لگ جائے دشمن کا خوف ہر وقت مسلط رہے یا انساں اخلاقی طور پر دیوالیہ بن جائیں ، یہ سب ذلت کی نشانیاں ہیں جو ترک جہاد کی وجہ سے آتی ہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ اگر دنیا کو دین پر ترجیح دو گے تو اللہ کی طرف سے سزا کے منتظر رہو جو کہ کسی بھی وقت آسکتی ہے۔ فرمایا ، یاد رکھو ! واللہ لا یھدی القوم الفیسقین “ اللہ تعالیٰ نافرمانوں کی راہنمائی نہیں کرتا۔ فسق کا معنی اطاعت سے باہر نکل جانا ، نافرمانی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی ان کی کرتا ہے جو فسق وفجور سے بچتے ہیں ، کفر اور شرک کو چھوڑ کر ہدایت کے طالب ہوتے ہیں جب تک تڑپ موجود نہ ہو ، ہدایت میسر نہیں آتی۔ اکثر انسان فسق ، ظلم شرک اور کفر میں مبتلا ہوتے ہیں ، اس لیے ہدایت سے محروم رہتے ہیں نہ برائی سے توبہ کرتے ہیں اور نہ اسے ترک کرتے ہیں اور نہ ہی صحیح راستہ معلوم کرنے کی سعی کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کی لے لیے اللہ کا قانون یہی ہے کہ انہیں حق کی طرف راہنمائی نصیب نہیں ہوتی۔