9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 9:107–110

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہوں نے بنائی ہے مسجد ضرار ( ضرر پہنچانے کے لیے) اور کفر کرنے کے لیے اور ایمان والوں کے درمیان تفریق ڈالنے کے یے اور گھات لگانے کے لیے اس شخص کے واسطے جس نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ لڑائی کی ہے اس سے پہلے۔ اور البتہ یہ لوگ قسمیں اٹھائیں گے کہ ہم نے نہیں ارادہ کیا مگر نیکی کا۔ اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

آپ نہ کھڑے ہوں اس میں کبھی بھی۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے ہی دن سے تقوی پر رکھی گئی ہے ، وہ زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس میں کھڑے ہوں۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں پاک ہونے کو اور اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے طہارت حاصل کرنے والوں کو

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

بھلا وہ شخص کہ جن نے بنیاد رکھی ہے اپنی عمارت کی اللہ کے تقوی پر اور خوشنودی پر ، وہ بہتر ہے یا وہ جس نے بنیاد رکھی ہے اپنی عمارت کی ایک کھائی کے کنارے پر جو گرنے والی ہے ، پھر وہ اس کو لے کر گری جہنم کی آگ میں اور اللہ تعالیٰ نہیں راہمنائی کرتا ان لوگوں کی جو طلم کرنے والے ہیں

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

ہمیشہ رہیگی ان کی عمارت جو انہوں نے تعمیر کی گھی تردد اور کھٹکا ان کے دلوں میں مگر یہ ہے کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں ۔ اور اللہ تعالیٰ خوب جاننے والا ہے اور حکمت والا ہے

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان مومنوں کا حال ذکر کیا تھا جو کوتاہی اور سستی کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہو سکے۔ ان میں سے ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔ انہوں نے اعتراف گناہ کرکے اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں سے باندھ دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرما کی ان کی معافی کا اعلان کردیا۔ تین آدمیوں کے دوسرے گروہ پر کڑی آزمائش تھی لہٰذا ان کا معاملہ اللہ نے موخر کردیا ، یہاں پر بھی ان کا بیان بعد میں آئیگا۔ آب آج کی آیات میں بھی پکے مناقفین ہی کا ذکر ہو رہا ہے ، جن کے دل میں ایمان نہیں تھا ، اور وہ طرح طرح کی سازشیں کر کے اہل ایمان کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔ ایسے ہی منافقوں نے مدینہ میں ایک خاص سازش تیر کی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے ان آیات کے ذریعے اس کو ظاہر فرما دیا اور مسلمانوں کو اس کے نقصان سے بچا لیا۔ ابو عامر راہب : مدینہ کا ایک آدمی ابو عامر راہب بڑا معزز آدمی تھا ، پہلے اس نے یہودیت اختیار کی پھر عیسائی ہوا۔ بڑا عابد ، زاہد آدمی تھا ، موٹے کپڑے پہنچا تھا جب حضور ﷺ مدینہ تشریف لے آئے تو اس شخص نے اسلام قبول نہ کیا بلکہ عیسائیت پر اڑا رہا۔ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو دریافت کیا حضور ! آپ کیا چیز پیش کرتے ہیں آپ نے فرمایا میں ملت حفنیہ کو پیش کرتا ہوں۔ ابو عامر کہنے لگا کہ میں تو پہلے ہی اس ملت پر ہوں لہٰذا مجھے آپکا اتباع کرنے کی ضرورت نہیں ہے مگر حقیقیت یہ تھی کہ وہ شخص ملت ابراہیمی پر قطعا نہیں تھا بلکہ اس ملت کی بگڑی ہوئی شکل عیسائیت کا پیروکار تھا ، اس نے حضور ﷺ کے متعلق سخت قسم کے الفاظ استعمال کیے اور دعا کی کہ ہم میں سے جو آدمی جھوٹا ہے اللہ اسے غریب الوطنی اور بےکسی کی حالت میں ہلاک کرے۔ حضور ﷺ نے اس دعا پر آمین کہا۔ یہ شخص مشرکوں کے ساتھ مل کر اسلام اور اہل اسلام کی کھلی مخالفت کرتا تھا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جنگ احد کے موقع پر اس شخص نے دونوں لشکروں کے درمیان بہت سے گڑھے کھدوائے تھے۔ تا کہ مسلمانوں کو نقصان پہنچایا جاسکے۔ انہی گڑھوں میں سے ایک گڑھے میں خود حضور نبی کریم (علیہ السلام) بھی دوران جنگ گر گئے تھے اور آپ کو سخت چوٹیں آئی تھیں۔ بعد میں جنگ خندق کے موقع پر بھی اس نے مشرکین کی مدد کی اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا حتی کہ جنگ حنین تک یہ شخص مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیاں کرتا رہا۔ پھر جب یہ اپنے تمام منصوبوں میں ناکام ہوگیا ، مشرکوں کے خلاف مسلمانوں کا پلہ بھاری ہوتا چلا گیا تو یہ شخص بھاگ کر ملک شام چلا گیا۔ جاتے وقت کہ گیا کہ میں رومی بادشاہوں سے مک کر مسلمانوں کے خلاف ایک لشکر لے کر آئوں گا اور انہیں شکست فاش دوں گا۔ مسجد ضرار کی سازش : ابو عامر نے مدینہ کے منافقین سے ساز باز کر کے انہیں اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ بنی سالم کے محلہ میں مسجد قبا کے علاوہ ایک اور مسجد تعمیر کریں جسے منافقین تخریب کے لیے اڈے کے طور پر استعمال کرسکیں ابو عامر کا خیال تھا کہ وہ خود یا اس کا کوئی آدمی باہر سے آئے گا تو مسجد میں ہی ٹھہر کر پیغام رسانی کا کام کریگا۔ اور کسی کو اس قسم کی سازش کا علم نہیں ہو سکے گا۔ لوگ سمجھیں گے کہ کوئی مسافر ہے اور عبادت وریاجت کے لیے مسجد میں مقیم ہے۔ جب یہ مسجد تیار ہوگئی تو منافقین حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ موجودہ مسجد قبا ہم سے دور ہے۔ بارش ، تاریکی اور طوفان وغیرہ میں ہم وہاں نہیں پہنچ سکتے ، اس لیے ہم نے اپنے محلہ میں ایک اور مسجد تیار کی ہے ، آپ سے درخواست ہے کہ آپ وہاں چل کر نماز ادا کریں تا کہ ہمیں خیر و برکت حاصل ہو۔ چونکہ ان ایام میں حضور ﷺ غزوہ تبوک کی تیاری میں مصروف تھے لہٰذا آپ نے فرمایا کہ اس وقت تو میں فارغ نہیں ہوں تبوک سے واپسی پر انشاء اللہ تمہارے ہاں آئوں گا۔ مگر واپس مدینہ پہنچنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے منافقین کی اس سازش کو بےنقاب کردیا۔ اللہ نے آیات نازل فرما کر ظاہر کردیا کہ یہ نام نہاد مسجد اسلام کے خلاف سازشیں کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اس سے مقصود کفر کا فروغ اور مسلمانوں کے درمیان تفریق ڈالنا ہے۔ جب کچھ مسلمان مسجد قبا میں نہیں جاسکیں گے تو ان کا رابطہ مخلص مسلمانوں سے کٹ جائیگا اور وہ دین کی تعلیمات سے کماحقہ استفادہ نہیں کرسکیں گے اور اس طرح مسلمانوں کے درمیان تفریق پیدا ہونے کا احتمال ہوگا۔ مسجد قبا : یاد رہے کہ مسجد قبااسلام کی اولین مسجد ہے۔ جب حضور ﷺ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ آرہے تھے تو بنی سالم کے محلہ میں آپ نے چودہ دن تک قیام فرمایا تھا اور اسی دوران اس مسجد کی بنیاد رکھی تھی۔ احادیث میں اس مسجد کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص اخلاص کے ساتھ مسجد قبا میں ایک نماز ادا کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے ایک عمرے کا ثواب عطا کریگا۔ چناچہ حضور ﷺ خود ہفتے میں دو بار کبھی پیدل اور کبھی سوار اس مسجد میں تشریف لاتے اور نماز ادا کرتے۔ مسجد ضرار کی قباحت : ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” والذین اتخذوا مسجدا ضرارا “ وہ لوگ جنہوں نے بنائی ہے مسجد ضرار یعنی ضرر یا تکلیف پہنچانے کے لیے۔ حقیقت میں مسجد تو اللہ تعالیٰ کی عبادت و ریاضت اور اعتکاف کرنے کے لیے بنائی جاتی ہے مگر منافقین نے جو مسجد ایک سازش کے تحت تیار کی تھی اس سے مسلمانوں کو نقصان پہنچانا مقصود تھا۔ وکفرا اس مسجد کی آر میں وہ کفر کی ترویج کرنا چاہتے تھے اور اسلام کو مغلوب کرنا چاہتے تھے۔ اس کے علاوہ ایک مقصد یہ بھی تھا (آیت) ” وتفریا بین المومنین “ کہ مومنوں کے درمیان تفریق ڈال دی جائے۔ یہ مختلف گروہوں میں بٹ جائیں ، کچھ ایک مسجد میں جائیں ، کچھ دوسری میں اور اس طرح ان کا آپس میں رابطہ کٹ جائے اور یہ آسانی سے منافقین کی سازشوں کا شکار ہو سکیں۔ ابو عامر کی سکیم کے مطابق اس مسجد کو سازش کا اڈا بنانا مقصود تھا (آیت) ” وارصاد لمن حارب اللہ ورسولہ من قبل “ یعنی جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ پہلے ہی لرتا رہا ہے اس کے لیے یہ مسجد کمین گاہ کا کام دے سکے۔ وہ خود یا اس کے آلہ کار آدمی یہاں ٹھہر کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منصوبہ بنا سکیں۔ اس سے مراد ہی ابو عامر راہب ہے۔ جو شام کی طرف جاتے وقت یہ ساری سکیم بنا گیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس نظریے کے تحت تیار کی گئی مسجد مسجد کہلانے کی مستحق ہی نہیں بلکہ اس کے لیے تو کفر گڑھ کا نام زیادہ موزوں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ ابو عامر جس قدر دشمن اسلام تھا ، اس کا بیٹا حضرت حنظلہ اسی قدر پکا مسلمان تھا۔ یہ وہی حضرت حنظلہ ہیں جنہیں غسیل ملائکہ کا لقب حاصل ہوا ۔ جنگ احد کا موقع تھا۔ جب جنگ کا ہجوم زیادہ وہوا تو یہ صحابی رسول فورا گھر سے ہتھیار پہن کر نکلا ، جہاد میں شامل ہوا اور شہید ہوگیا۔ حضور نے فرمایا کہ میں نے زمین اور آسمان کے درمیان دیکھا ہے کہ فرشتے حضرت حنظلہ ؓ کو غسل دے رہے ہیں۔ بعد میں آپ کی بیوی نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہیں غسل کی حاجت تھی مگر جلدی میں بغیر غسل کیے ہی جنگ میں شریک ہوگئے اور شہادت پائی۔ بہرحال اس کے باپ دشمن دین ابو عامر کو اس کی اپنی بددعا لگی اور وہ دیارغیر میں بےکسی کی حالت میں مرا۔ جب غزوہ تبوک برپا تھا تو یہ شخص اس وقت ملک شام میں تھا اور وہیں غیرب الوطنی میں نہایت بےکسی کی حالت میں اسے موت آئی۔ فرمایا کہ منافقین نے مسجد تو غلط مقصد کے لیے بنائی ہے مگر (آیت) ” ولیحلفن ان اردنا الا الحسنی “ یہ قسمیں اٹھائیں گے کہ ہمارا مقصد تو محض بھلائی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بارش وغیرہ میں لوگوں تکلیف نہ ہو اور وہ آسانی سے یہیں نماز ادا کرلیا کریں۔ اللہ نے فرمایا (آیت) ” واللہ یشھدانھم لکذبون “ اللہ تعالیٰ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں۔ ان کی بات پر یقین نہیں کرنا۔ یہ زبان سے کچھ کہ رہے ہیں اور دل میں کچھ اور ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ، (آیت) ” لا تقم فیہ ابدا “ کہ آپ اس مسجد ضرار میں کبھی کھڑے نہ ہوں۔ یہ منافق لوگ آپ کو وہاں نماز پڑھنے کی دعوت دیتے ہیں۔ مگر وہاں جانا ہرگز آپ کے شایانِ شان نہیں ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے حکم دیا کہ اس مسجد کو جلا دیا جائے اور گرا دیا جائے۔ چناچہ صحابہ ؓ گئے اور اس حکم کی تعمیل کر ڈالی۔ تعمیر مساجد کا مقاصد : اس آیت سے متبادر ہوتا ہے کہ مساجد کی تعمیر اللہ تعالیٰ کی عبادت و ریاضت کے لیے ہو سکتی ہے۔ جو مسجد ریاکاری یا کسی غلط مقصد کے لیے تعمیر کی جائیگی وہ بظاہر تو مسجد ہی ہوگی مگر حقیقت میں کچھ اور ہی ہوگی۔ لاگت بازی ، ریاکاری اور محض چوہدراہٹ کے لیے تیار کی جانے والی مسجد کو مسجد ضرار کا نام ہی دیا جاسکتا ہے اور یہ حقیقت میں نقصان کا باعث ہوگی۔ اگر انصاف سے دیکھا جائے تو موجودہ زمانے میں بہت سی مسجدیں اسی حکم میں آتی ہیں۔ اسی طرح ہر چھوٹی بڑی مسجد میں نماز جمعہ کا اہتمام اسلام کی ترقی کے لیے نہیں بلکہ یہ اسلام کے زوال کی علامت ہے۔ نماز جمعہ کا اجتماع تو مسلمانوں کی اجتماعیت کا ذریعہ تھا مگر آج چپے چپے پر جمعہ کا ادائیگی نے مسلمانوں کی اجتماعیت کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ جمعہ کے اس قسم کے اجتماعات تعصب ، تنگ نظری اور غلط نظریات کے پھیلانے کا باعث بن رہے ہیں۔ اس سے تفریق بین المسلمین ہو رہی ہے۔ اپنے اپنے فرقے کی اشتہار بازی کے لیے مسجدوں کو اڈے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور دوسروں کو گالی گلوچ اور فتوے بازی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ دین کی خدمت نہیں بلکہ دین کے خلاف تخریف کاری ہے یہ بالکل ایسا ہے۔ جیسے منافقین نے مسجد ضرار بنا ڈالی تھی۔ مگر اللہ نے حضور ﷺ کو وہاں جانے سے روک دیا۔ اس مسجد کو منہدم کردیا گیا اور وہ جگہ کوڑا کرکٹ ڈالنے کے لیے استعمال ہونے لگی۔ مسجد علی التقوی : مسجد ضرار کے مقابلے میں اللہ نے حقیقی مسجد کی تعریف فرمائی (آیت) ” لمسجد اسس علی التقوی من اول یوم احق ان تقوم فیہ “ جو مسجد روز اول سے تقوی کی بنیاد پر تعمیر ہوئی ہے ، اس میں آپ کے کھڑے ہونے کا زیادہ حق ہے۔ مسجد تقوی سے مراد مسجد نبوی اور مسجد قبا دونوں ہیں اس لیے کہ دونوں کی بنیاد حضور ﷺ نے پہلے دن سے ہی تقوی پر رکھی تھی۔ پھر مسجد نبوی کی خصوصیت تو یہ ہے کہ وہاں پر اخلاص کے ساتھ ایک نماز ادا کرنے کا ثواب پچاس ہزار نمازوں کے برابر ہے۔ فرمایا آپ اس مسجد میں کھڑے ہوں (آیت) ” فیہ رجال یحبون ان یتطھروا “ وہ ان پر ایسے مرد ہیٰں جو پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں (آیت) ” واللہ یحب المطھرین “ اور اللہ تعالیٰ طہارت حاصل کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اللہ نے اہل محلہ کی تعریف بیان کی ہے کہ صفائی پسند لوگ ہیں ، لہذا اللہ تعالیٰ ان کو پسند کرتا ہے ، حضور ﷺ نے ان لوگوں سے دریافت کیا کہ تم کونسا عمل کرتے ہو ، جس کی وجہ سے اللہ نے تمہاری تعریف کی ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم طہارت کا بڑا خیال رکھتے ہیں۔ استنجا پاک کرنے کے لیے ہم پہلے ڈھیلے استعمال کرتے ہیں اور پھر پانی ۔ حضور نے فرمایا ، اس عمل کو قائم رکھنا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ عمل ہے۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ طہارت صرف ظاہری مراد نہیں بلکہ کفر ، شرک ، نفاق ، بدعقیدگی ، ترک جہاد وغیرہ سے باطنی طہارت بھی مراد ہے ، بہرحال فرمایا کہ مسجد قبا کی بنیاد روز اول سے تقوی پر رکھی گئی اور وہاں کے لوگ بھی طہارت پسند ہیں۔ آداب مسجد : فرمایا (آیت) ” افمن اسس بنیانہ علی تقوی من اللہ ورضوان خیر “ کیا وہ شخص بہتر ہے جس نے اپنی مسجد کی بنیاد خوفِ خدا اور اس کی خوشنودی پر رکھی (آیت) ” امن اسس بنیانہ علی شفا جرف ھار “ یا وہ شخص اچھا جس نے اپنی عمارت کی بنیاد کھائی کے کنارے پر رکھی جو گرنے والا ہے۔ ظاہر ہے کہ مسجدیں تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی رضا کے لیے تعمیر کی جاتی ہیں۔ البتہ آخری دور کے متعلق حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ” مساجد عامرۃ وھی خراب من الھدی “ ظاہری طور پر تو مسجدیں آباد ہوں گی۔ مگر ہدایت سے خالی ہوں گی۔ مساجد میں کفر وشرک کا چرچا ہوگا ، نعت خوانی اور غزل ہوگی ، فرقہ بندی کے حق میں تقرریں ہوں گی شرک اور بدعات کی باتیں ہوں گی ، قوالی ہوگی اور رسومات ادا ہوں گی۔ بعض اوقات تو ظاہری ادب بھی ملحوظ نہیں رکھا جائے گا۔ حتی کہ مسجدوں میں گپیں لگائی جائیں گی۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ دلوں سے خشوع اڑ جائے گا۔ ایک مسجد میں پانچ سو نمازی ہوں گے مگر خشوع سے سب خالی ہوں گے۔ حضور نے فرمایا مسجدیں جنت کے باغ ہیں ، وہاں جا کر لوگوں کو چرچگ لینا چاہیے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا حضور ! اس سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا مسجدوں میں بیٹھ کر اللہ کا ذکر کیا کرو ، یہ جنت کے پھل کھانے کے مترادف ہے۔ وہاں پر اعتکاف بیٹھو ، تلاوت قرآن کرو ، استغفار کرو ، دین کی تعلیم حاصل کرو۔ اس کے برخلاف فضول حرکات مت کرو۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ مسجد کی بنیاد اللہ کے تقوے اور اس کی رضا پر ہے۔ نیت کی خرابی : اس آیت کریمہ میں آمدہ لفظ شفا کا معنی کنارہ ہے جرف دریا یا ندی کے اس کنارے کو کہتے ہیں جو پانی کی وجہ سے کاٹا جا رہا ہو۔ یہ کنارہ اتنا کمزور ہوتا ہے کہ معمولی سے دبائو سے بھی گر پڑتا ہے ظاہر ہے کہ جو عمارت اس قدر کمزور جگہ پر بنائی جائیگی وہ یقینا گر جائے گی۔ تو فرمایا مسجد ضرار کی مثال ایسی عمارت کی ہے جو کمزور ترین کنارے پر بنائی گئی ہو جو گرنے والا ہو اور جس کے منہدم ہونے کا ہر وقت خطرہ لاحق ہو۔ فرمایا اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جب ایسی کچھ جگہ پر بنائی گئی عمارت گریگی (آیت) ” فانھار بہ فی نار جھنم “ پھر وہ بنانے والے کو بھی جہنم کی آگ میں لے گریگی تو فرمایا بھلا یہ مسجد اچھی ہے جس کی بنیاد تقوی اور خوشنودی الٰہی پر ہے یا وہ اچھی ہے جو گرنے کے قریب ہے اور وہ تعمیر کرنے والے کو بھی لے ڈوبے گی۔ ظاہر ہے کہ مسجد وہی بہتر ہے جو اللہ کی رضا کی خاطر تعمیر کی جائے اور خالص اللہ کی عبادت کے لیے استعمال ہو ، فرمایا (آیت) ” واللہ لا یھدی القوم الظلمین “ اور اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والے لوگوں کی راہنمائی نہیں کرتا ۔ منافق چونکہ بدنیت تھے انہوں نے مسجد کی تعمیر تخریب کاری کے لیے کی تھی ، فرمایا ایسے لوگ راہ راست پر کبھی نہیں آسکتے۔ ایسے بدنیت لوگوں کو اللہ سیدھی راہ نہیں دکھاتا۔ فرمایا (آیت) ” لا یزال بنیانھم الذی بنوریبۃ فی قلوبھم “ ان کی تعمیر کردہ عمارت ہمیشہ ان کے دلوں میں کھٹکی رہیگی۔ انہیں اس بات کا کھٹکا لگا رہے گا کہ ہم نے تو کچھ اور سکیم بنائی تھی مگر ہو کچھ اور گیا۔ وہ ہمیشہ اس تردد میں پڑے رہیں گے (آیت) ” الا ان تقطع قلوبھم “ مگر یہ کہ ان کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں یعنی وہ مرجائیں۔ گویا مرتے دم تک ان کے دل میں کھٹکا موجود رہیگا اور ان کی یہ مسجد نفاق کی علامت ہی رہے گی وہ اسلام اور اہل اسلام کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے ، اس کے لیے انہوں نے بڑی گہری سازش کی مگر اللہ نے ان کا سارا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ فرمایا۔ یاد رکھو ! (آیت) ” واللہ علیم حکیم “ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے ، مالک الملک اخلاص کو بھی جانتا ہے اور نفاق اور سازش بھی اس کے علم میں ہے۔ وہ ہر غلط منصوبے کو ناکام کرنے پر قادر ہے ، چناچہ اس نے منافقین کا یہ منصوبہ بھی ناکام بنایا اور اپنے نبی کو مسجد ضرار میں جانے سے منع کردیا۔ اللہ تعالیٰ حکیم ہے کہ اس کا ہر کام حکمت پر مبنی ہے۔
Ayah 9:111

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ نے خرید لی ہیں ایمان والوں کی جانیں اور ان کے مال کہ اس کے بدلے میں ان کے لیے جنت ہے۔ وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں ، پس وہ قتل کرتے ہیں (دشمنوں کو) اور خود بھی قتل ہوتے ہیں۔ یہ وعدہ ہے اس کا سچا تورات میں ، انجیل میں اور قرآن میں۔ اور کون زیادہ پورا کرنے والا ہے عہد کو اللہ تعالیٰ سے پس خوشی منائو اپنی اس بیع پر جو تم نے بیع کی ہے اس کے ساتھ ، اور یہی ہے بڑی کامیابی

ربط آیات : غزوہ تبوک سے گریز کرنے والے منافقیین کی اللہ نے مذمت بیان فرمائی پھر درمیان میں ان لوگوں کا ذکر کیا جو اللہ کے راستے میں اس کے دین کی بقا کی خاطر ہر قسم کی قربانی پیش کرتے ہی۔ ان میں سے پہلی جماعت کا ذکر تیرھویں رکوع کی ابتدائی آیت (آیت) ” والسبقون الاولون من المھجرین والانصار “ ۔۔ الآیہ میں ہوچکا ہے یہ مہاجرین اور انصار پر مشتمل پہلی مرکزی جماعت تھی۔ اب اس آیت میں اس سلسلہ کی دوسری جماعت کے لوگوں کا تذکرہ ہو رہا ہے جو پہلی جماعت کے اتباع میں اللہ کے راستے میں نیکی کی خاطر دشمن کے ساتھ نبرد آزما ہوتے ہیں تو آج کی آیت کریمہ میں اللہ نے جانی اور مالی قربانی پیش کرنے کی حکمت بیان فرمائی ہے اور پھر اگلی آیت میں اس جماعت کے اوصاف بیان ہوں گے۔ جان ومال کا سودا : مذکورہ دو جماعتوں میں سے پہلی جماعت جو اولین مہاجرین اور انصار پر مشتمل تھی ، وہ تو ختم ہوگئی۔ انہوں نے اپنے دور میں دین حق کے لیے بہترین خدمات انجام دیں۔ اللہ کی راہ میں ہر چیز کی بازی لگا دینے کا نمونہ چھوڑ گئے۔ پھر ان کے نقش قدم پر چلنے والے وہ لوگ ہیں جو اللہ کے راستے میں قتال کرتے ہیں ، تو سب سے پہلے اللہ نے بالفعل جہاد کی حکمت بیان فرمائی ہے (آیت) ” ان اللہ اشتری من المومنین انفسھم واموالھم “ بیشک اللہ تعالیٰ نے منومنوں سے ان کی جانیں اور مال خرید لیے ہیں (آیت) ” بان لھم الجنۃ “ اس کے بدلے میں کہ ان کے لیے جنت ہے ، گویا جنت مومنوں کی جان ومال کا معاوضہ ہے۔ جس خرید وفروخت کا یہاں ذکر ہوا ہے وہ حقیقی خرید وفروخت نہیں بلکہ مجاز کے پیرائے میں حقیقت کو سمجھایا گیا ہے۔ دراصل خریداری کی ضرورت کسی شخص کو اس چیز کی ہوتی ہے جس کی وہ ضرورت محسوس کرے مگر اس کے قبضے میں نہ ہو۔ یہاں پر مومنوں کے جان ومال کا خریدار اللہ ہے حالانکہ کائنات کی ہر شئے اس کی پیدا کردہ ہے ، اس کی حقیقی ملکیت میں ہے اور اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ تمام انسانوں کو جسم وجان اور مال اللہ ہی نے عطا کیا ہے ، البتہ ان کا عارضی قبضہ انسانوں کو دے دیا ہے کہ یہ تمہارا جسم ہے اور یہ تمہارا مال ہے۔ عارضی طور پر تم اس کے مالک ہو اور اپنی مرضی سے اسے تصرف میں لاسکتے ہو ، تا ہم میں جب چاہوں گا ان نعمتوں کو واپس لے لوں گا۔ تو ہر چیز کا حقیقی مالک اور قابض ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے عارضی مالک اور قابض سے ازراہ شفقت و مہربانی سودا کیا ہے کہ یہ جان اور مال جو تمہارے پاس ہے یہ مجھے دے دو اور اس کے بدلے میں مجھ سے دائمی جنت لے لو۔ نفع بخش اور غیر نفع بخش تجارت : منافقوں کی تجارت کے متعلق سورة بقرہ میں آتا ہے (آیت) ” فما ربحت تجارتھم “ ان کی تجارت نے انہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔ ان لوگون نے ہدایت کے بدلے میں گمراہی خریدی لہٰذا انہوں نے خسارے کا سودا کیا۔ جان ومال جیسی قیمتی پونجی کے بدلے کافروں نے کفر اور مشرکوں نے شرک خریدا۔ اللہ نے انسان کو عمر جیسی عظیم پونجی عطا کی تھی تا کہ اسے کسی اچھے کام میں صرف کرے اور اسے فائدہ ہو مگر اس کی حالت یہ ہے (1۔ مسلم ، ص 118 ، ج 1) (فیاض) ” یغدوا فبائع نفسہ فمعتقھا اوموبقھا “ انسان رات گزار کر جب صبح کرتا ہے تو اپنے نفس کو یا تو آزاد کرلیتا ہے یا ہلاک کرلیتا ہے۔ اگر اس نے اپنے نفس کو نیکی کی بات میں لگایا تو اسے خدا کی غضب اور جہنم کی آگ سے آزاد کرالیا اور اگر اسے کفر ، شرک ، نفاق اور برائی کے کام میں لگا دیا تو وہ ہلاک ہوگیا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے جان اور مال جو عارضی طور پر انسان کو خود ہی دیا ہے ، اس کے متعلق فرمایا کہ آئو اس کے متعلق میرے ساتھ سودا کرلو۔ یہ دونوں چیزیں اگرچہ میری ہی عطا کردہ ہیں ، پھر بھی انہیں میری راہ میں خرچ کر کے بہشت حاصل کرلو۔ یہ زندگی تو بہر حال ایک نہ ایک دن ختم ہونے والی ہے ، اس کے بعد دائمی راحت کا مقام حاصل کرلو ، یہی نفع بخش سودا ہے۔ فرمایا جان ومال کا سودا یہ ہے کہ جو سچے مومن ہیں وہ (آیت) ” یقاتلون فی سبیل اللہ “ اللہ کے راستے میں جان ومال سے جہاد کرتے ہیں (آیت) ” فیقتلون “ پس وہ دشمن کو قتل کرتے ہیں (آیت) ” ویقتلون “ اور خود بھی شہید ہوتے ہیں جب کوئی شخص جنگ کے لیے نکلتا ہے تو وہ اپنی جان کو ہتھیلی پر کھ کر نکلتا ہے ۔ وہ خوب جانتا ہے کہ وہ دشمن کو قتل بھی کرسکتا ہے اور خود بھی قتل ہو سکتا ہے ۔ اور مومن کے لیے تو دونوں صورتوں میں نفع ہی نفع ہے۔ اگر وہ دشمن کو مغلوب کر کے اسلام کا کلمہ بلند کرتا ہے تو غازی ہے اور اگر دین حق کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ پیش کردیتا ہے تو شہید ہے۔ اسے دونوں صورتوں میں نفع ہی نفع ہے۔ سورۃ صف میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کو تجارت کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔ اے ایمان والو ! (آیت) ” ھل ادلکم علی تجارۃ تنجیکم من عذاب الیم “ آئو میں تمہیں ایسی تجارت نہ بتائوں جو تمہیں عذاب الیم سے بچا لے اور وہ تجارت یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائو (آیت) ” وتجاھدون فی سبیل اللہ باموالکم وانفسکم “ اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ اس آیت کریمہ میں بھی اسی تجارت کی طراشارہ ہے کہ بیشک اللہ تعالیٰ نے مومنوں سے جنت کے عوض میں ان کی جانیں اور مال خرید لیے ہیں اور یہ کسی انسان کے لیے نہایت ہی نفع بخش سودا ہے۔ جہاد کی ضرورت : جہاد سے مقصود یہ ہے کہ جو لوگ دین اسلام کی مخالف کرتے ہیں اللہ کی کلمہ کو پست کرنا چاہتے اور کفر وشرک کے پروگرام کو غالب بنانا چاہتے ہیں ان کے خلاف جنگ کی جائے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کی اصطلاح میں ایسے لوگ درندہ صفت انسان ہوتے ہیں جن کا راستے سے ہٹانا ضروری ہوجاتا ہے۔ ایسے لوگوں کی مثال انسانی جسم میں پھوڑے کی ہے۔ اگر پھوڑے کے فاسد مادہ کو اپریشن کے ذریعے جسم سے علیحدہ نہ کردیا جائے تو خطرہ ہوتا ہے کہ جسم کے دوسرے حصے بھی اس سے متاثر ہو کر ضائع ہوجائیں گے۔ اس وجہ سے بعض اوقات کسی شخص کا ہاتھ پائوں یا ٹانگ کاٹنی پڑتی ہے تا کہ کسی ایک جگہ پر نکلنے والا پھوڑا یا کینسر جسم کے دوسرے حصہ کو بھی متاثر نہ کردے۔ یہی حال سوسائٹی میں کافر ، مشرک ، منافق اور دیگر بےدین کا ہے۔ جب تک سوسائٹی کو اس گندے عنصر سے پان نہیں کیا جائے گا۔ سوسائٹی کے مزید خراب ہونے کا خطرہ موجود رہے گا۔ یہ لوگ انسانی سوسائٹی میں پھوڑا ہیں جنہیں جہاد کے ذریعے کاٹ ڈالنا ہی سوسائٹی کے حق میں بہتر ہے۔ اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے جہاد کا حکم دیا ہے اور اس عظیم کام کے لیے جنت جیسی اعلی ، ارفع اور دائمی نعمت کی پیش کش کی ہے۔ عبداللہ بن رواحہ ؓ کا ایمان : حضرت عبد اللہ بن رواحہ ؓ انصار مدینہ میں جلیل القدر صحابی ہیں۔ ہجرت مدینہ سے پہلے مدینہ سے دو جماعتیں مکہ آئیں اور انہوں نے حضور ﷺ کے ہاتھ پر اسلام کی بیعت کی۔ پہلے سال تھوڑے لوگ تھے ، پھر دوسرے سال زیادہ تعداد میں لوگ آئے اور اسلام کی دولت سے مشرف ہوئے۔ یہ بیعت عقبہ کہلاتی ہے۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ بھی اس بیعت میں شامل تھے۔ جب وہ حضور کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے تو عرض کیا کہ حضرت ! اس بیعت کو آپ جس شرط کے ساتھ مشروط کریں گے ، ہم اسے پورا کریں گے انہوں نے خاص طور پر دریافت کیا کہ اس بیعت میں اللہ تعالیٰ کے لیے کیا شرط ہے اور خود آپ کے لیے کیا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا کہ رب تعالیٰ کے لیے شرط یہ ہے (آیت) ” ان تعبدوہ ولا تشرکوا بہ شیئا “ کہ تم صرف اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو۔ پھر فرمایا اس معاملہ میں میری شرط یہ ہے کہ جس طرح تم اپنی جان ومال کی حفاظت کرتے ہو۔ اسی طرح اگر میں ہجرت کر کے تمہارے پاس آجائوں تو میری بھی حفاظت کرنا۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ نے جواب دیا۔ حضرت ! ہمیں یہ دونوں شرائط منظور ہیں۔ ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور اپنی جان سے بڑھ کر آپ کی حفاظت کریں گے۔ پھر انہوں نے دریافت کی ، حضور ! جب ہم یہ شرائط پوری کردیں گے تو ہمیں کیا حاصل ہوگا حضور ﷺ نے فرمایا ، اللہ نے تمہارے ساتھ جنت کا وعدہ کیا ہے ، وہاں تمہیں دائمی سکون و راحت نصیب ہوگی۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ کہنے لگے ، ہمیں یہ بیع منظور ہے کہ اس سے بہتر کوئی بیع نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ عارضی اور فانی وجود اور مال کے بدلے اگر ہمیشہ کی کامیابی اور لازوال عزت حاصل ہوجائے تو اس سے بہتر کوئی سودا نہیں ہوسکتا۔ جہاد کی قسمیں : دین کی سربلندی کے لیے مختلف طریقوں سے جہاد کیا جاتا ہے جہاد کی ایک صورت بالفعل لڑائی ہے جس کے ذریعے معاشرے کے دشمنوں کو جسمانی پھوڑے کی طرح کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے۔ اور اس کی دوسری صورت جہاد بالمال ہے۔ اگر کوئی ذاتی طور پر لڑائی میں شریک ہونے سے معذور ہے تو مالی امداد کرسکتا ہے۔ جہاد ہی کی ایک قسم زبان کے ساتھ جہاد ہے۔ اگر کسی کے بیان ، تقریر یا تبلیغ کے ذریعے کوئی دوسرا شخص اسلام میں داخل ہوجاتا ہے ، کفر وشرک کی غلاظت سے نکل جاتا ہے تو یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور نبی کریم (علیہ السلام) نے حضرت علی ؓ کو جہاد کے یے روانہ کرتے وقت فرمایا ” لان یھدی اللہ بک رجلا واحدا خیرلک من الناس او مما طلع علیہ الشمس “ اگر تمہاری وجہ سے کسی ایک انسان کو بھی ہدایت نصیب ہوجائے تو یہ تمہارے لیے ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ شرخ اونٹوں سے بہتر ہے یعنی کسی شخص کو دائر اسلام میں داخل کرنا تمہارے لیے قیمتی سے قیمتی چیز سے بھی بہتر ہے۔ اسی لیے زبان اور قلم کے ساتھ تعلیم وتبلیغ کو بڑی اہمیت حاصل ہے اگر کوئی شخص اخلاص کے ساتھ کوئی کتاب یا مضمون لکھتا ہے جسے پڑھ کر لوگوں کا کفر ، شرک اور جہالت دور ہوتی ہے ، تو یہ بہت بڑا جہاد ہے۔ اللہ کا سچا وعدہ : فرمایا مجاہدین کو دو ہی صورتیں پیش آتی ہیں۔ یا تو وہ دشمن کو قتل کردیتے ہیں اور یا خود شہید ہوجاتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں اللہ نے ان کے لیے جنت کی بشارت دی ہے اور یہ کسی مخلوق کی بات نہیں بلکہ (آیت) ” وعدا علیہ حقا “ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ کہ وہ مال وجان کے بدلے جنت عطا کریگا ، بالکل برحق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال مہربانی سے اپنے ذمے لے لیا ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو ضرور جنت میں داخل کرے گا اور یہ وعدہ فی ” التورۃ “ اللہ کی عظیم کتاب تورات میں بھی ہے۔ موجودہ بائیبل کے پہلے پانچ بات تورات کا حصہ ہیں اور کل انتالیس صحائف میں سے آخری چار انجیلیں ہیں۔ کچھ انبیاء کے صحائف اور کچھ خطوط بھی ہیں۔ اگرچہ ان میں بہت کچھ ردوبدل ہوچکا ہے تا ہم تورات میں موجود ہے اے اسرائیل ! تم اپنے پورے مال وجان کے ساتھ خدا تعالیٰ سے محبت کرو اور اس کے ساتھ شرک نہ کرو اور اس کی وفاداری کرو۔ اس کے بدلے میں اللہ تمہیں جنت عطا فرمائیگا۔ فرمایا یہ وعدہ نہ صرف تورات میں ہے بلکہ ” والانجیل “ اللہ کی کتاب انجیل میں بھی ہے۔ تورات کا معنی قانون ہے جبکہ انجیل کا معنی بشارت ہے اس کتاب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی بعثت کی خوشخبری بھی عطا فرمائی ۔ فرمایا اللہ کا یہ وعدہ والقران “ قرآن پاک میں بھی موجود ہے قرآن کا معنی کثرت سے پڑھی جانے والی کتاب ہے ، چناچہ دنیا می سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب قرآن حکیم ہے۔ ان تمام آسمانی کتابوں میں اللہ کا یہ وعدہ موجود ہے کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ جنت کی ابدی نعمتیں عطا فرمائیگا۔ فرمایا (آیت) ” ومن اوفی بعھدہ من اللہ “ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر وعدے کو پورا کونے والا کون ہو سکتا ہے۔ سب سے سچا وعدہ تو اللہ ہی کا ہے۔ اس کا اعلان ہے (آیت) ” انہ لا یخلف المعیاد “ کہ وہ وعدہ کے خلاف کبھی نہیں کرتا۔ انسان تو وعدہ خلافی بھی کرجاتے ہیں مگر اللہ جل شانہ کا عدہ ہمیشہ سچا اور پکا ہوتا ہے ، لہٰذا اس کی طرف سے مجاہدین کے یے جنت کے وعدے میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اہل ایمان کے لیے بشارت : فرمایا ، اے ایمان والو ! (آیت) ” فاستبشروا ببیعکم الذی بایعتم بہ “ پس تم خوش ہو جائو اس سوداگری پر جو تم نے اللہ تعالیٰ سے کی ہے۔ تم نے مال وجان کے بدلے جنت خرید لی ہے ، یہ بڑا نفع مند سودا ہے ، لہٰذا اس پر خوشی منائو ، یہ کافروں کی تجارت نہیں ہے جس نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ سودا ہے جس میں نفع ہی نفع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ عمر پونجی کے طور پر دی ہے جو ہمیشہ گھٹتی رہتی ہے۔ اگر اس نے اس پونجی کے طور پر دی ہے جو ہمیشہ گھٹتی رہتی ہے۔ اگر اس نے اس پونجی سے فائدہ نہ اٹھایا تو ہمیشہ کے لیے ناکام ہوگیا۔ سعدی صاحب بھی تو فرماتے ہیں کہ انسان کی عمر برف کی ڈلی کی مانند ہے اور اوپر سے بھاروں کی سخت دھوپ بھی لگ رہی ہے۔ اگر اس عمر کو جلدی جلدی ٹھکانے لگا لیگا اس سے کوئی اچھی تجارت کرلے گا تو کامیاب ہوجائے گا۔ اور اسے کام میں نہ لایا تو یہ فرف کی ڈلی کی مانند خود بخود ضائع ہوجائے گی اور پھر انسان ناکام ہوجائے گا۔ فرمایا اس عارضی جان ومال کے ذریعے جنت کا سودا کرلینا (آیت) ” وذلک ھو الفوز العظیم “ اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔ سابقین اولین مہاجرین اور انصار کے متبعین سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ خد ا کی رضا کے لیے جان ومال کی قربانی پیش کریں گے آگے ان کی صفات بھی بیان کی گئی ہیں۔
Ayah 9:112

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:112 in the Quran reader

(اے ایمان والے) توبہ کرنے والے ہیں ، عبادت کرنے والے ہیں اللہ کی تعریفیں کرنے والے ، سیاحت کرنے والے ، رکوع کرنے والے ہیں ، سجدہ کرنے والے ہیں نیک بات کا حکم دینے والے ہیں اور بری بات سے منع کرنے والے ہیں اور اللہ کی باندھی ہوئی حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں اور آپ خوشخبری سنا دیں ایمان والوں کو

ربط آیات : گذشتہ دوروس میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کی حکمت بیان فرمائی اور مجاہدین کا ذکر فرمایا کہ اللہ نے ان کے مال اور جانیں جنت کے عوض میں خرید لی ہیں۔ یہ ایمان والے لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں ، کبھی دشمنوں کو قتل کرتے ہیں اور کبھی خود شہید ہوجاتے ہیں۔ فرمایا اہل ایمان کو خوش ہونا چاہیے کہ اللہ نے ان کی حقیر جانوں اور مال کے بدلے میں انہیں ابدی اور لازوال نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ یہ بڑی کامیابی ہے جس کے مقدر میں ہوجائے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی سات صفات بیان فرمائی ہیں۔ (1) توبہ کرنے والے : مومن مجاہدین کی پہلی صفت یہ بنیان فرمائی ہے (آیت) ” التائبون “ کہ وہ توبہ کرنے والے ہیں۔ توبہ سے مراد کفر ، شرک ، معاصی اور دیگر خطائوں سے توبہ ہے۔ اہل ایمان توحید کو اختیار کر کے کفر اور شرک سے تو پہلے ہی تائب ہوچکے ہیں ، البتہ روزمرہ زندگی میں جو گناہ اور کوتاہیاں سرزد ہوتی رہتی ہیں ، ان سے بھی توبہ کرتے رہتے ہیں۔ ابن ماجہ شریف کی روایت میں آتا ہے (1۔ ابن ماجہ ، ص 313 ، ) (فیاض) ” التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ “ گناہ سے توبہ کرنے والا انسان ایسا ہے گویا کہ اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں ، اس کو ایسی معافی مل جاتی ہے کہ وہ سابقہ خطائوں سے پاک ہوجاتا ہے جہاں تک توبہ کے معنی کا تعلق ہے تو بعض احادیث میں آتا ہے ” التوبۃ الندم “ یعنی توبہ سے مراد نادم اور پریشان ہونا ہے ۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ توبہ یہ ہے کہ انسان اپنے گناہوں پر نادم بھی ہو اور اس کے دل میں سوزش بھی پیدا ہو کہ یہ انسان اپنے گناہوں پر نادم بھی ہو اور اس کے دل میں سوزش بھی پیدا ہو کہ یہ کوتاہی اس سے کیوں سرزد ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اس بات کا دل سے پختہ ارادہ بھی کرے کہ آئندہ ایسا غلط کام نہیں کرے گا۔ چھوٹی موٹی غلطی ہر انسان سے ہوتی رہتی ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے ” کل خطاء ون وخیر الخطائین التوابون “ تم سب کے سب خطا کار ہو مگر بہترین خطا کار وہ ہے جو توبہ کرلیتا ہے ، جو شخص ہر وقت معافی مانگتا رہتا ہے ، اللہ تعالیٰ کو وہ بندہ بہت پسند ہے۔ بہر حال ایمان والوں کی یہ پہلی صفت ہے کہ وہ اکڑ نہیں دکھاتے بلکہ غلطیوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگتے رہتے ہیں۔ (2) عبادت گزار : فرمایا ، مومنوں کی دوسری صفت یہ ہے (آیت) ” العبدون “ کہ وہ اللہ کی عبادت کرنے والے ہیں۔ یہ کمال صفت ہے جو اہل ایمان میں پائی جاتی ہے عبادت میں ہر طرح کی قولی ، فعلی ، بدنی اور قلبی عبادت شامل ہے ہم نماز میں ہمیشہ اسی بات کا اقرار کرتے ہیں (آیت) ” التحیات للہ والصلوٰت والطیبت “ یعنی تمام قولی ، فعلی ، بدنی اور مال عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ ایمان والوں کی دوسری صفت عابدون یعنی عبادت گزار ہے۔ (3) تعریف کرنیوالے : اللہ نے مومنوں کی تیسری صفت یہ بیان فرمائی (آیت) ” الحمدون “ وہ اللہ کی تعریفیں کرتے ہیں۔ حضور ﷺ کی امت کا نام ہی حمادون ہے یعنی اللہ کی حمد وثنا کرنے والے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جو آدمی کھاتا پیتا ہے یا کوئی اور کام کرتا ہے تو کہتا ہے ” الحمد للہ “ تو اللہ تعالیٰ اس پر راضی ہوتا ہے۔ اسی طرح پانی پیا تو اللہ کی تعریف کی ، لباس پہنا تو تعریف بیان کی ، کوئی انعام ملا یا کوئی مصیبت ٹلی تو اللہ کی تعریف کی ، غرضیکہ ایمان والوں کا یہ خاصہ ہے کہ وہ ہر موقع پر اللہ تعالیٰ کی ثنا بیان کرتے ہیں ، اس لیے ان کا نام الحمدون ہے۔ سورة یونس میں اہل جنت کے متعلق آتا ہے (آیت) ” واخر دعوٰھم ان الحمد للہ رب العلمین “ کہ ان کا آخری قول یہ ہوگا کہ سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔ ہر کام کی ابتداء اور انتہاء پر خدا تعالیٰ کی تعریف کرنا سنت ہے۔ شمائل ترمذی میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کسی مجلس میں نہیں بیٹھتے تھے اور کسی مجلس کو ختم نہیں کرتے تھے مگر اللہ کے نام پر اور اللہ کے ذکر کے ساتھ۔ سورة انعام میں بعض لوگوں کا ذکر آتا ہے جن کے برے اعمال کو شیطان آراستہ کر کے دکھاتا تھا۔ پھر جب انہوں نے اللہ کی نصیحت کو فراموش کرد یا تو ان پر انعامات کے دروازے کھول دیے گئے اور وہ خوش ہوگئے۔ پھر اللہ نے ان کو اچانک پکڑ لیا ، وہاں آتا ہے (آیت) ” فقط دابر القوم الذین ظلموا “ پس ان ظالم لوگوں کی جڑ کاٹ دی گئی (آیت) ” والحمد للہ رب العلمین “ اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے بہرحال فرمایا کہ یہ وہ مومن لوگ ہیں جو ہر موقع پر اللہ کی تعریف بیان کرتے ہیں۔ اسی لیے اللہ نے انہیں ” الحٰمدون “ کا لقب دیا ہے۔ (4) سیاحت کرنیوالے : اہل ایمان مجاہدین کی اللہ نے چوتھی صفت (آیت) ” السائحون “ بیان فرماکئی ہے مفسرین کرام نے اس کی تفسیر مختلف طریقوں سے کی ہے۔ حضرت عکرمہ (رح) اور حضرت عطا (رح) ” السائحون “ کا ترجمہ علم حاصل کرنے والے طلباء کرتے ہی۔ اس کا لغوی معنی تو سیر و سیاحت کرنے والے ہیں مگر طلب علم کے لیے بھی چونکہ دور دراز کا سفر اختیار کرنا پڑتا ہے ، اس لیے مذکورہ اصحاب نے ا س کا ترجمہ طالبعلم کیا ہے۔ محدثین کرام نے بھی طلب حدیث کے لیے بڑے بڑے سفر کیے جب پتہ چلتا کہ فلاں ملک یا فلاں شہر میں کوئی حدیث رسول پڑھاتا ہے یا کسی کے پاس کوئی حدیث ہے تو وہ ہزاروں میل کا سفر طے کر کے بھی وہاں پہنچتے ۔ بعض روایات کے لیے چار چار ، دس دس اور چالیس چالیس ہزار میل کے سفر کا ذکر ملتا ہے۔ یہ اس زمانے کا ذکر ہے جب سواری کے لیے گھوڑا ، گدھا یا اونٹ ہوتا تھا اور بسا اوقات پید ہی سفر کرنا پڑتا تھا۔ بعض اوقات عبرت حاسل کرنے کے لیے بھی سیاحت کرنی پڑتی ہے جیسے سورة مومن میں ارشاد ربانی ہے (آیت) ” افلم یسیروا فی الارض فینظروا کیف کان عاقبۃ الذین من قبلھم “ کیا وہ زمین میں نہیں چلے پھرے تا کہ دیکھتے کہ پہلے لوگوں کا کیا انجام ہوا۔ وہ سابقہ اقوام کی تباہی کے نشانات دیکھ کر ہی عبرت حاصل کرتے۔ سفر جہاد کے لیے بھی ہوتا ہے اور حج وعمرہ کے لیے بھی ، تجارت کی غرض سے بھی دور دراز کا سفر اختیار کرنا پڑتا ہے جس کے ذریعے رزق حلال کی تلاش ہوتی ہے۔ تو بہرحال اس میں ہر نیک کا م کے لیے سیاحت کرنے والے لوگ آجاتے ہیں اہل ایمان کی یہ چوتھی صفت ہے کہ وہ طلب حق کے لیے سفر کرتے ہیں۔ ایک اور حدیچ میں ” سائحون “ سے روزہ دار مراد لیے گئے ہیں۔ اس کا معنی بےتعلق بھی آتا ہے ، چونکہ روزے دار آدمی کھانے پینے اور مباشرت سے کچھ وقت کے لیے بےتعلق ہوجات ہے ، اس لیے اس لفظ کا اطلاق اس پر بھی ہوتا ہے ایک روایت میں آتا ہے ” سیاحۃ امتی الجھاد فی سبیل اللہ “ یعنی میری امت کی سیاحت اللہ کے راستے میں جہاد ہے یہ الفاظ بھی آتے ہیں ” سیاحۃ امتی الصیام “ میری امت کی سیاحت روزہ ہے۔ سیاحت میں یہ سب چیزیں آجاتی ہیں اور ان صفات کے حاملین کی اللہ نے تعریف فرمائی ہے۔ (5) رکوع و سجود کرنے والے : فرمایا پانچویں صفت ” الراکعون السٰجدون “ ہے یعنی مومن لوگ رکوع و سجود کرتے ہیں۔ رکوع و سجود نماز کے اہم ارکان ہیں لہٰذا اس سے نماز مرا د لی جاتی ہے ، تو گویا نماز ہونا بھی اہل ایمان کی ایک صفت ہے ار نماز کی فضیلت کے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد ہے ” الصلوٰۃ نور المومن “ یعنی نماز مومن کا نور ہے۔ ” الصلوٰ ۃ عماد الدین “ بھی فرمایا یعنی نماز دین کا ستون ہے۔ آپ نے فرمایا (1۔ مسلم ، ص 191 ، ج 1) (فیاض) ” اقرب ما یکون العبد من ربہ وھو ساجد “ سجدے کی حالت میں بندہ اپنے رب سے قریب ترین ہوتا ہے۔ اور پھر رکوع کی حالت یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنی پشت پر ذمہ داری کا بوجھ محسوس کرتا ہے۔ ان دونوں حالتوں یعنی رکوع و سجود سے نہایت عاجزی اور انکساری کا اظہار ہوتا ہے اور یہی چیز اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسند ہے۔ اسی لیے اللہ نے اپنے بندوں کی تعریف میں فرمایا کہ وہ رکوع اور سجود کرنے والے ہیں۔ (6) اوامر ونواہی کے پابند : اللہ نے چھٹی صفت یہ بیان فرمائی ہے (آیت) ” الامرون بالمعروف والناھون عن المنکر “ مومن آدمی نیک بات کا حکم کرتے ہیں اور بری بات سے منع کرتے ہیں۔ جب اور جہاں بھی انہیں موقع ملتا ہے۔ وہ نیکی کی خوبیاں اور برائی کی خرابیاں بیان کرتے ہیں۔ نماز ، روزہ ، زکوٰۃ ، حج ، حسنِ سلوک ، دیانتداری ، پابندی عہد ، ذکر ، شکر ، توکل ، تبلیغ ، جہاد اور تعلیم وغیرہ کی تلقین کرتے ہیں۔ اور ہر برائی ، معصیت ، کفر ، شرک ، بدعت ، ظلم ، زیادتی ، فسق ، قطع رحمی ، بددیانتی ، وعدہ خلافی ، جھوٹ وغیرہ سے حسب استطاعت منع کرتے ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ برائی کو طاقوت سے روکو ، اگر اسکی ہمت نہیں پاتے تو زبان سے روکو ، اور یہ بھی نہیں کرسکتے تو دل سے تو برا جانو کہ یہ ایمان کا ادنی ترین درجہ ہے ” لیس ورآء ذلک حبۃ خردل من الایمان “ اس کے بعد توائی کے دانے کے برابر بھی ایمان باقی نہیں رہتا۔ لہٰذا برائی سے روکنا مومن کی صفت ہے۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ آجکل اس کا الٹ ہوچکا ہے۔ اب تو مومن ہی برائی کے داعی بنے ہوئے ہیں ان کا اپنا طرز عمل یہ ہے کہ اپنے قول ، فعل ، عمل ، طرز سیاست ، کاروبار ، لین دین سے لوگوں کی نیکی کی طرف راغب کرنے کے بجائے انہیں نیکی سے روک رہے ہیں۔ کبھی وہ وقت تھا کہ مسلمان کا اخلاق ، طرز عمل اور حسن ِ سلوک دیکھ کر غیر مسلم ایمان لے آتے تھے مگر آج مسلمانوں کے رویہ کے پیش نظر لوگ اسلام سے دور ہوتے جا رہیے ہیں۔ اللہ کے کچھ قلیل بندے آج بھی ہیں جو نیکی کا دامن تھامے ہوئے ہیں مگر اکثریت خود برائی میں ملوث ہوچکی ہے۔ ا ب برائی کو کون روکے گا۔ تو فرمایا مومن کی چھٹی صفت یہ ہے کہ وہ نیکی کا حکم کرتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں۔ (7) محافظت برحدود شرع : فرمایا ساتویں صفت یہ ہے (آیت) ” والحفظون لحدود اللہ “ مومن لوگ اللہ کی حدوں کی حفاظت کرنے والے ہیں اہل ایمان کی یہ جامع صفت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہر مقررہ حد کی حفاظت کرتے ہیں اور ان میں سے کسی کو توڑتے نہیں۔ اسی چیز کو تقویٰ بھی کہتے ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) تقوی کی تعریف اس طرح کرتے ہیں۔ ” تقویٰ محافظت برحدود شرع است “ یعنی شریعت کی قائم کی ہوئی حدوں کی حفاظت کرنا ہی تقویٰ ہے۔ حدود کسی بھی معاملہ میں ہوں ان کی پابندی ضروری ہے۔ مسئلہ حرام حلال کا ہو یا جائز ناجائز کا ، شرک ، کفر ، بدعت یا برائی کا معاملہ ہو ، صلح وجنگ ، سیاسیات یا معاشیات کی کوئی بات ہو ، کتاب وسنت میں جو حدود مقرر ہیں ان کو قائم رکھنا ایمان والوں کی صفت ہے۔ حدود کا پاسبان متقی ہوگا اور ان کو توڑنے والا کافر ، فاسق یا ظالم ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” ومن یتعدحدود اللہ فقد ظلم نفسہ “ (طلاق) جس نے اللہ کی حدود کو توڑا اس نے اپنے آپ پر ظلم کیا ، کہیں فرمایا وہ جہنم میں جائے گا۔ بہر حال مومنوں کی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ کی مقرر کردہ حدوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ غرضیکہ ان صفات کے حاملین مومنوں سے توقع کی جاسکتی ہے کہ اللہ کے دین کے قیام وبقا کے لیے جہاد میں حصہ لیں گے۔ فرمایا (آیت) ” وبشر المومنین “ اے ایمان والوں کو بشارت سنا دیں کہ اللہ کے ہاں وہ کامیاب اور فائز المرام ہوں گے۔