9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 9:94–96

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:94 in the Quran reader

(اے ایمان والو ! ) یہ ( منافق لوگ) بہانے کریں گے تمہارے سامنے جب تم واپس آئو گے ان کی طرف ( اے پیغمبر ! ) آپ کہہ دیں مت بہانے بنائو ہم ہرگز تمہاری تصدیق نہیں کریں گے۔ بیشک اللہ نے ہمیں بتلا دی ہیں تمہاری خبریں اور عنقریب اللہ تعالیٰ دیکھ لے گا تمہارے عمل کو اور اس کا رسول۔ پھر تم لوٹائے جائو گے عالم الغیب والشہادۃ کی طرف۔ پھر وہ ظاہر کر دیگا تمہارے سامنے وہ باتیں جو تم کیا کرتے تھے

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:95 in the Quran reader

یہ لوگ قسمیں کھائیں گے اللہ کے نام کی تمہارے سامنے جب تم پلٹ کر آئو گے ان کی طرف تا کہ تم ان سے در گزر رکرو۔ پس درگزر کرو ان سے ، بیشک یہ ناپاک لوگ ہیں اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ بدلہ ہوگا اس کا جو یہ کماتے تھے

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 9:96 in the Quran reader

قسمیں اٹھائیں گے تمہارے سامنے تا کہ تم راضی ہو جائو ان سے پس اگر تم راضی ہو جائو تو بیشک اللہ تعالیٰ نہیں راضی ہوتا ان لوگوں سے جو نافرمان ہیں

جہادسازی : اللہ تعالیٰ نے منافقین کی بایں وجہ مذمت بیان فرمائی کہ نہ تو وہ خوشی خاطر سے جہاد میں شریک ہوتے ہیں اور نہ مال خرچ کرتے ہیں ، انہوں نے غزوہ تبوک پر جانے سے پہلے کچھ حیلے بہانے بنائے حالانکہ وہ یہ سفر اختیار کرنے کے لیے جسمانی اور مالی لحاظ سے مضبوط تھے۔ اب آج کی آیات میں اللہ نے منافقین کے ان حیلوں بہانوں کا تذکرہ کیا ہے جو وہ غزوہ سے واپسی پر مسلمانوں اور پیغمبر اسلام کے سامنے پیش کرنے والے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” یعتذرون الیکم اذا رجعتم الیھم “ یہ لوگ حیلے بنائیں گے اور عذر پیش کریں گے تمہارے سامنے جب تم لوٹ کر ان کے پاس آئو گے۔ اس آیت کا مصداق 9 ھ؁ میں پیش آنے والا غزوہ تبوک ہی ہے۔ گرمی کا موسم اور قحط کا زمانہ تھا جب کم از کم تیس ہزار افراد پر مش تمہ لشکر اسلام حضور نبی کریم (علیہ السلام) کی قیادت میں روانہ ہوا۔ دشمن سے مقابلہ کے لیے ایک ہزار میل کا سفر طے کیا اور راستے میں بڑی تکالیف برداشت کیں۔ بعض منافقوں نے تو روانہ ہوتے وقت ہی حیلے بہانے کر کے نبی (علیہ السلام) سے رخصت حاصل کرلی تھی اور بعض ایسے بھی تھے جو خود بخود ہی گھروں میں بیٹھے رہے اور حضور ﷺ کی طرف سے قبل از وقت اعلان کے باوجود جہاد کے سفر پر روانہ نہ ہوئے۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق اہل ایمان کو خبردار کیا گیا ہے کہ جب تم اس مہم سے واپس آئو گے تو یہ لوگ طرح طرح کے عذر پیش کریں گے۔ اور خود کو بےگناہ ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔ فرمایا جہاد سے واپسی پر جب یہ موقع آئے تو اے پیغمبر ! (آیت) ” قل لا تعتذروا “ آپ ان سے کہہ دیں کہ حیلے بہانے مت کرو ، (آیت) ” لن نومن لکم “ ہم ہرگز تمہاری تصدیق نہیں کریں گے ، ایمان کا لغوی معنی تصدیق کرنا ہوتا ہے مطلب یہ کہ ہم تمہاری بات کو سچا نہیں سمجھیں گے کیونکہ (آیت) ” قد نبانا اللہ من اخبارکم “ بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے حالات سے ہمیں آگاہ کردیا ہے۔ اللہ نے وحی کے ذریعے تمہارے جھوٹ کا پول کھول دیا ہے۔ تم نے اپنے ذہنوں میں جو کچھ حیلہ سازی کی ہے۔ اللہ نے ہمیں ہر چیز سے باخبر دکر دیا ہے (آیت) ” وسیری اللہ عملکم ورسولہ “ اور عنقریب اللہ تعالیٰ دیکھے گا۔ تمہارے تمام اعمال کو ار اس کا رسول بھی۔ اس مقام پر یہ اشکال پید ا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو ہر چیز کو ازل سے دیکھ رہا ہے اور ہر شے ابد تک اس کی نگاہ میں رہے گی تو عنقریب دیکھنے کا کیا مطلب ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ قرآن پاک میں جہاں بھی اس قسم کے الفاظ آتے ہیں ان سے ظاہر کرنا مراد ہوتا ہے تو مطلب یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ عنقریب تمہاری کرتوتوں کو ظاہر کر دیگا۔ چناچہ امام ابن کثیر (رح) اس حصہ آیت کا ترجمہ کرتے ہیں ۔ (آیت) ” یظھر اعمالکم للناس “ یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال لوگوں کے سامنے کھول دیگا اور انہیں پتہ چل جائے گا کہ منافقین جھوٹی حیلہ سازی کر رہے ہیں۔ جب خدا تعالیٰ ظاہر کر دے گا تو پھر اللہ کا رسول بھی جان لے گا۔ اللہ کے حضور پیشی : فرمایا اس دنیا میں تو اللہ تعالیٰ تمہارا پردہ فاش کر دے گا اور اس کے بعد اگلی منزل آئیگی (آیت) ” ثم تردون الی علم الغیب والشھادۃ “ پھر تم لوٹائے جائو گے اس ذات کی طرف جو عالم الغیب والشھادۃ ہے۔ مرنے کے بعد تمہیں اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہوگا جو ہر ظاہر اور باطلن کو جانتا ہے۔ سورة سبا میں آتا ہے (آیت) ” لا یعزب عنہ مثقال ذرۃ “ اللہ تعالیٰ سے ایک ذرے کے برابر بھی کوئی چیز غائب نہیں ، ہر چیز اس کی نگاہ میں ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز مخفی نہیں تو پھر اس کے غائب جاننے کا کیا مطلب ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ پر غیب اور شہادۃ کا اطلاق اضافی طور پر ہوتا ہے اور مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں مخلوق کے اعتبار سے حاضر یا غیب ہیں ، اللہ تعالیٰ ان سب کو جانتا ہے۔ مخلوق میں فرشتے جنات ، انبیاء اور عام انسان سبھی شامل ہیں۔ بعض چیزیں فرشتوں کا نگاہ میں ہیں یا جنوں کے سامنے ہیں مگر انسانوں سے مخفی ہیں اور بعض چیزیں ایسی ہیں جو انسانوں کے بھی سامنے ہیں۔ تو گویا پوری مخلوق کے اعتبار سے جو چیزیں حاضر ہیں یا غائب ہیں وہ سب اللہ کے علم میں ہیں۔ اور اس لحاظ سے وہ عالم الغیب والشہادۃ ہے۔ فرمایا تمہیں ہر ظاہر و باطن کو جاننے والے خداوند تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے (آیت) ” فینبکم بماکنتم تعلمون “ پھر وہ تمہیں بتلا دیگا جو کچھ تم کیا کرتے تھے ، تمہارے تمام اچھے اور برے اعمال ، تمہاری سازشیں اور نفاق تمہارے سامنے ظاہر کردیا جائے گا اور وہاں تم اپنی قبیح حرکتوں کا انکار نہیں کرسکو گے۔ تو بہر حال اللہ تعالیٰ نے یہ بات پہلے ہی سمجھا دی کہ تبوک سے واپسی پر منافق لوگ حیلے بہانے کریں گے اور اپنی مجبوری کا اظہار کریں گے اے پیغمبر ! آپ ان سے صاف صاف کہ دیں کہ ہم تمہاری باتوں کا یقین نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو یہاں بھی ظاہر کردیگا اور پھر قیامت کے دن تمہارا پورا ریکارڈ لا کر تمہارے سامنے کردیا جائے گا۔ درگزر کرنے کی خواہش : منافق لوگوں کے متعلق مزید فرمایا (آیت) ” سیحلفون باللہ لکم اذا انقلبتم الیھم “ جب تم غزوہ تبوک سے ان کی طرف واپس پلٹو گے تو یہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں اٹھائیں گے اور تمہیں اپنی مجبوری کا یقین دلانے کی کوشش کریں گے۔ (آیت) ” لتعرضوا عنھم “ تا کہ تم ان سے درگزر کرو۔ ظاہر ہے کہ جب کوئی اللہ تعالیٰ جیسی باعزت ذات کے نام کی قسم اٹھائیگا تو اس کی بات پر یقین لانا پڑے گا۔ منافقین کا یہی مقصد ہے کہ ان کے جھوٹے عذر کو تسلیم کرلیا جائے اور جہاد سے پیچھے رہ جانے کی وجہ سے انہیں مطعون نہ کیا جائے۔ اللہ نے فرمایا کہ قسمیں تو ان کی جھوٹی ہیں مگر پھر بھی (آیت) ” فاعرضوا عنھم “ آپ ان لوگوں سے در گزرہی کریں ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو اور کچھ تعرج نہ کرو کیونکہ (آیت) ” انھم رجس “ یہ ناپاک اور گندے لوگ ہیں ، ان سے اعراض ہی بہتر ہے۔ لفظ رجس ظاہری اور معنوی ہر دو گندگیوں پر بولا جاتا ہے۔ جیسے سورة حج میں ہے (آیت) ” فاجتنبوا الرجس من الاوثان “ آپ بتوں کی نجاست سے پرہیز کریں۔ یہ معنوی گندگی ہے۔ اسی طرح پیچھے گزر چکا ہے (آیت) ” انما المشرکون نجس “ یعنی مشرک لوگ ناپاک ہیں۔ یہاں بھی ظاہری نجاست مراد نہیں بلکہ شرکیہ عقیدے کی غلاظت مراد ہے رجس کی ظاہر گندگی کی مثال حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ والی روایت ہے حضور ﷺ نے استنجا پاک کرنے کے لیے تین ڈھیلے طلب فرمائے۔ ابن مسعود کو تین ڈھیلے تو نہ مل سکے۔ البتہ وہ دو پتھر اور ایک خشک گوبر کا ڈھیلا لے آئے جب حضوع (علیہ السلام) کی خدمت میں پیش کیے تو آپ نے دو پتھر لے لیے اور گوبر کو پھینک دیا اور فرمایا کہ یہ رجس یعنی ناپاک ہے اور ناپاک چیز سے استنجا پاک نہیں کیا جاسکتا۔ بہرحال منافقوں میں کفر ، شرک اور نفاق کی گندگی پائی جاتی ہے۔ ان کی روح ، دل اور دماغ ناپاک ہیں ، لہٰذا اللہ نے ان کو ناپاک فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو ظاہری اور باطنی نجاست سے دور رہنے کی تلقین ابتدائی وحی کے ذریعے ہی کردی تھی (آیت) ” والرجز فاھر “ (المدثر) آپ نجاست سے بچتے رہیں۔ باطنی نجاست کا نقصان : بعض نجاستیں ایسی ہیں جو ظاہری اور باطنی دونوں طرح کی ہو سکتی ہیں۔ مثلا کسی کے بدن یا کپڑے پر بول وبراز کی نجاست پڑگئی ہے۔ تو وہ ظاہری گندگی ہے۔ اس کے برخلاف اگر جسم اور لباس تو صاف ستھرا ہے خوشبوا بھی لگائی ہوئی ہے مگر وہ کپڑا حرام کی کمائی سے خریدا گیا ہے اس میں سود ، رشوت یا دھوکہ دہی کا پیسہ لگا ہوا ہے تو وہ لباس ناپاک ہی رہیگا خواہ اسے کتنا بھی دھویا جائے۔ اسی طرح اگر انسان کی خوراک حرام کی کمائی سے مہیا کی گئی ہے تو وہ جسم کتنا بھی صاف ستھرا ہو ، معنوی طور پر نجس ہی ہوگا۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر انسان طہارت اختیار کرے ، اپنے رب کے سامنے اخبارات یعنی عاجزی کا اظہار کرے ، سماحت کو اپنائے یعنی خسیس چیزوں سے بچتا رہے اور عدالت یعنی عدل و انصاف قائم کرے تو اس کا مزاج بالکل درست رہے گا۔ اور اگر طہارت کی بجائے نجاست اخبات کی بجائے تکبر ، سماحت کی بجائے بری باتوں کو اختیار کرے۔ اور عدالت کی بجائے ظلم وجور کو اپنائے تو ظاہر ہے کہ انسان کا مزاج فاسد ہوجائیگا اور معنوی طور پر وہ نجاست میں متلبس ہوجائے گا ۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ گائے بھینس کی خوراک گھاس ہے جب تک کہ وہ گھاس چرتی رہیں گی ان کا مزاج درست رہے گا ، اور اگر ( بالفرض) یہ گوشت کھانے لگ جائیں تو ان کا مزاج بگڑ جائے گا۔ اسی طرح درندوں کی خوراک گوشت ہے اگر وہ گھاس کھانے لگیں تو ان کا مزاج درست نہیں رہے گا ، انسان کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ جب تک وہ حلال اور طیب اشیاء استعمال کرتا رہیگا۔ اس کا مزاج درست رہیگا اور اسے باطنی طہارت حاصل رہے گی اور اگر اس کی خوراک مال حرام بن جائے تو مزاج فاسد ہوجائے گا۔ اور ایسا شخص معنوی نجاست میں ملوث ہوجائے گا۔ نفاق بھی ایک نجاست ہے ، کفر ، شرک اور بت پرستی کی طرح یہ بھی ایک گندگی ہے جب کہ اسلام نے ظاہری اور باطنی دونوں قسم کی نجاستوں سے پاک رہنے کا حکم دیا ہے۔ یاد رہے کہ عقیدے اور اخلاق کی نجاست ظاہری نجاست سے زیادہ قبیح ہے ، اسی لیے ہر قسم کی گندگی سے پاک رہنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ غرضیکہ منافقوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ گندے لوگ ہیں ، ان کا عقیدہ اور فکر پلید ہے ، آپ ان کو چھوڑ دیں (آیت) ” وماوھم جھنم “ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ ان کی روحانی بیماری کا علاج وہیں ہوگا۔ اور یہ ان کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوگی بلکہ (آیت) ” جزاء بماکانوا یکسبون “ یہ بدلہ ہوگا اس کا جو یہ کماتے رہے۔ ان کی کذب بیانی ، باطل عقیدہ ، فاسد فکر ، سازشی ذہن اور حقیقت سے انکار انہیں جہنم میں لے جانے کا باعث ہوں گے ، اس وقت آپ ان سے درگزرہی کریں۔ خوشنودی کی تلاش منافقین کے متعلق مزید فرمایا (آیت) ” یحلفون لکم لترضوا عنھم “ یہ تمہارے سامنے قسمیں اٹھائیں گے تا کہ تم ان سے خوش ہو جائو قسمیں اٹھا کر اپنی مجبوری اور معذوری کا اظہار کریں گے کہ فلاں وجہ سے وہ جہاد میں شریک نہ ہو سکے ، ان کا مقصد یہ ہے کہ مسلمان انہیں برا نہ سمجھیں۔ اللہ نے فرمایا (آیت) ” فان ترضوا عنھم “ اے اہل ایمان ! اگر تم منافقین کی خواہش کے مطابق ان سے راضی بھی ہو جائو (آیت) ” فان اللہ لا یرضی عن القوم الفٰسقین ‘ ‘ مگر اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ضمنا یہ بات بھی سمجھا دی ہے کہ محض انسانوں کو خوش کرلینا کچھ مفید نہیں ، اس سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ اصل خوشنودی تو اللہ تعالیٰ کی مطلوب ہونی چاہیے۔ اگر اللہ تعالیٰ راضی نہ ہو تو ساری مخلوق کی خوشنودی بھی کسی کام نہ آئیگی ، فرمایا ، یہ گندے اور نافرمان لوگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے فاسقوں سے راضی نہیں ہوتا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے شدید الفاظ میں منافقین کی مذمت بیان فرمائی ہے۔ اس سے جماعت المسلمین کی طہارت بھی مقصود ہے اور ان کو تنبیہ بھی مطلوب ہے کہ کفر ، شرک ، نفاق اور عقیدے کا فساد انسان کو تباہی کی طرف لے جائے گا اور بالآخر جہنم میں پہنچا کر چھوڑے گا۔ لہذا اہل ایمان کو نجس لوگوں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ایمان اور توحید کی بات پر راضی ہوتا ہے ، وہ اطاعت کرنے پر خوش ہوتا ہے اس کے برخلاف نفاق اور بداخلاقی سے خوش نہیں ہوتا بلکہ ناراض ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کی نیکی کی توفیق بھی عطا کرتا ہے مگر وہ اس عطا کردہ استعداد کو ضائع کردیتے ہیں۔ تو ایسے لوگوں کے ساتھ اللہ راضی نہیں ہوتا ، لہٰذا اپنی استعداد کو درست طور پر استعمال کرنا چاہیے اور منافقوں نافرمانوں ، جھوٹے اور ناپاک لوگوں سے درگزر ہی کرنا چاہیے۔
Ayahs 9:97–99

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

دیہات کے رہنے والے گنوار بہت زیادہ شدید ہیں کفر اور نفاق میں اور زیادہ لائق ہیں وہ کہ نہ جانیں وہ حدود جو اللہ نے نازل کیے ہیں اپنے رسول پر۔ اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

اور دیہاتیوں میں سے بعض وہ ہیں جو بناتے ہیں اس چیز کو جو خرچ کرتے ہیں تاوان ، اور انتظار کرتے ہیں تمہارے متعلق گردشوں کا ، انہیں کے اوپر سے گردش ۔۔۔ اور اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 9:99 in the Quran reader

اور دیہاتیوں سے بعض وہ ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور قیامت کے دن پر اور بناتے ہیں اس چیز کو جس کو وہ خرچ کرتے ہیں اللہ کے نزدیک قربت کا ذریعہ اور رسول اللہ کی دعا لینے کا ذریعہ۔ سنو ! بیشک وہ قربت ہے ان کے لیے۔ عنقریب اللہ تعالیٰ ان کو داخل کریگا اپنی رحمت میں ، بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشش کرنے والا اور مہربان ہے

ربط آیات : جہاد سے پیچھے رہنے والے منافقین ، ان کے کوائف اور ان کے انجام کا بیان ہوا ہے۔ غزوہ تبوک پر روانہ ہونے سے پہلے اور وہاں سے واپس آنے کے بعد منافقین نے جو حیلے بہانے بنائے اور اہل ایمان کو اپنی وفاداری کا یقین دلانے کی کوشش کی ، اللہ نے اس کا ذکر کیا کہ دیکھیں یہ لوگ آپ کے سامنے جھوٹی قسمیں کھائیں گے تا کہ تم ان سے راضی ہو جائو۔ اللہ نے فرمایا کہ اگر تم ان سے راضی بھی ہو جائو تو اللہ ان سے راضی نہیں ہوگا۔ نزولِ قرآن کے زمانہ میں جس طرح شہروں میں منافق لوگ رہتے تھے اسی طرح وہ دیہات میں بھی آباد تھے۔ مدینہ شہر کے منافقوں کا ذکر مختلف انداز سے ہوچکا ہے اور آگے بھی آرہا ہے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے بعض دیہاتی منافقین کے قبیح کارنامے بیان کر کے ان کی مذمت بیان فرمائی ہے۔ البتہ سارے لوگ ایک سے نہیں ہوتے دیہات میں جہاں نفاق و کفر میں شدیدتر ولوگ رہتے تھے وہاں اچھے اور مخلص مسلمان بھی تھے اللہ نے ان کی تعریف کی ہے اور ان کا انجام بھی بیان فرمایا ہے۔ اعراب کے معانی : ابتداء میں دیہاتی منافقین کا ذکر ہوتا ہے (آیت) ” الاعراب “ یہ لفظ دیہات میں رہنے والے گنوار یا اجڈ قسم کے لوگوں پر بولا جاتا ہے۔ اعراب سم جمع ہے اور اس کا مفرد عربی آتا ہے۔ یہ لفظ عرب میں رہنے والے یعرب ابن قحطان اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد کے افراد پر استعمال ہوتا ہے۔ یہ لوگ العرب بھی کہلاتے ہیں تو عربی تعریف کا لفظ ہے یعنی ملک عرب کا رہنے والا ، عربی زبان بولنے والا شائشہ اور مہذب آدمی اس کے علاوہ اعرابی میں الف داخل ہونے سے تحقیر کا پہلو بھی نکلتا ہے اور اس سے مراد ایسا شخص ہوتا ہے جو دیہات یا بادیہ کا رہنے والا ہو اور شہروں ماحول اور تہذیب و تمدن سے دور ہو اس کی جمع اعراب اور اعاریب بھی آتی ہے اور عربی کی جمع بھی اعراب آتی ہے۔ تا ہم یہاں پر یہ لفظ اعرابی کی جمع کے طور پر آیا ہے جس کا معنی دیہاتی ، گنوار یا اجڈ آدمی ہوتا ہے۔ شہری اور دیہاتی میں امتیاز : ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” الاعراب اشد کفرا ونفاقا “ دیہاتی یا گنوار زیادہ سخت ہیں کفر اور نفاق میں شہریوں کی نسبت ، وجہ یہ ہے کہ شہری لوگوں کی نسبتا اچھا ماحول میسر آجاتا ہے ، ان کو اچھی مجلس اور اس کے نتیجے میں تہذیب وشائستگی حاصل ہوتی ہے۔ برخلاف اس کے دیہات میں اچھی سوسائٹی اور علم وعرفان کی مجالس نصیب نہیں ہوتیں جس کی وجہ سے وہاں کے لوگ پس ماندہ اور تہذیب و تمدن سے عاری رہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس ماحول میں جتنی جہالت زیادہ ہوگی اتنا ہی وہاں کے لوگوں میں گنوار پن ہوگا ، اسی لیے حضور ﷺ نے دیہات کی زندگی کو پسند نہیں فرمایا۔ ابو دائود اور ترمزی شریف کی روایت میں حضور ﷺ کی حدیث ہے ” من سکن البادیۃ جفا “ یعنی دیہات میں رہنے والا آدمی اجذ اور غیر مہذب ہوگا۔ نیز فرمایا ” من اتبع الصید لھی “ جو شخص شکارکا پیچھا کرے گا وہ غفلت میں پڑجائیگا شکار کے تعاقب میں اکثر لوگ فرائض سے غافل ہوجاتے ہیں ” ومن اتی سلطانا افتتن “ جو بادشاہ کے پاس جائے گا وہ فتنے میں ڈالا جائے گا۔ جو بادشاہ کے دروازے پر جائے گا ، وہ ضرور بادشاہ کے کہنے پر غلط فتوی دیگا اور آخر کا کہیں نہ کہیں پھنس کر رہیگا۔ بہرحال حضور ﷺ کے ان تین فرا میں میں سے ایک یہ ہے کہ جو دیہات میں سکونت اختیار کریگا۔ وہ قدرتی طور پر سخت مزاج ، اکھڑ اور اجڈ ہوگا کیونکہ وہ تہذیب و تمدن کی زندگی سے دور ہوگا۔ شہر والوں کو تو پھر بھی کبھی نہ کبھی اچھی مجلس ، وعظ ونصیحت حاصل کرنے کا موقع مل جاتا ہے مگر دیہاتی عام طور پر محروم رہتے ہیں لہٰذا وہ زیادہ سنگدل ہوتے ہیں۔ تجربے سے بھی ثابت ہے کہ دیہاتی لوگ عموما چودھراہٹ کے چکر میں پڑے رہتے ہیں ، آپس میں لڑائی جھگڑا ، مخالفت ، ضد ، عناد ان کا معمول ہوتا ہے ، اسی لیے فرمایا کہ یہ کفر ونفاق میں بھی بہت سخت ہیں۔ حدود اللہ کی پاسداری : اللہ تعالیٰ نے دیہاتی منافقین کے متعلق مزید فرمایا ہے (آیت) ” واجدر الا یعلموا حدود ما انزل اللہ علی رسولہ “ اور یہ زیادہ لائق ہیں اس بات کے کہ نہ جانیں وہ حدود جنہیں اللہ نے اپنے رسول پر نازل فرمایا ہے۔ ظاہر ہے کہ علم کی مجالس سے دور رہنے والے لوگ جاہل ہی ہوں گے لہٰذا انہیں حدود اللہ کا کیا علم ہو سکتا ہے۔ وہ تو نہیں جان سکتے کہ اللہ نے اپنے نبی پر کون سے احکام نازل فرمائے ہیں۔ چونکہ انہیں یہ چیز حاصل نہیں اس لیے بہتر ہے کہ وہ ان کو نہ ہی جانیں۔ فرمایا (آیت) ” واللہ علیم حکیم “ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے خدا تعالیٰ کا علم تمام انسانی طبقات پر محیط ہے ، وہ ہر ایک کی استعداد کو جانتا ہے شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ اعراب کی طبیعت میں نافرمانی ، خود غرضی اور جہالت شدید تر ہوتی ہے ، لہٰذا للہ تعالیٰ کی حکمت بھی یہ ہوتی ہے کہ وہ ان سے مشکل کام نہیں لیتا اور درجے بھی بلند نہیں کرتا ایسے لوگوں سے واجبی سی باتیں ہی مطلوب ہوتی ہیں۔ ان میں زیادہ گہری باتیں جاننے کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ لہٰذا فرمایا کہ ان کے لیے حدود اللہ سے لاعلمی ہی زیادہ بہتر ہے۔ اچھی سوسائٹی کا برکات : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھی سوسائٹی خدا تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے جو شہری لوگوں کو حاصل ہوتا ہے اچھے لوگوں کی مجلس سے انسان کی اخلاقی تربیت ہوتی ہے ، اس کے علم ، تقوی اور سمجھ میں اضافہ ہوتا ہے اور انسان مہذب بنتا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ موجودہ دور میں اچھی سوسائٹی کا حصول بہت مشکل ہوگیا۔ یہ اچھی سوسائٹی کا اثر ہوتا ہے کہ سنگدل انسان بھی تہذیب یافتہ بن جاتے ہیں ، ان کے علم وعرفان میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کی کایا پلٹ جاتی ہے۔ مارماڈیوک پکتھال انگریز تھا ، وہ جاسوسی کے لیے جرمنی سے آیا ، وہاں اسے اچھی سوسائٹی حاصل ہوگی ، اس وقت کے شیخ الاسلام کی مجلس میں سات سال تک بیٹھنے کا موقع ملا تو کایا پلٹ گئی اور مسلمان ہوگیا۔ اس نے قرآن پاک کا انگریزی میں نہایت اچھا ترجمہ کیا ہے۔ گویا سوسائٹی کے اثر سے عقائد بدل جاتے ہیں۔ برائی دور ہو کر نیکی شامل حال ہوجاتی ہے۔ چناچہ انبیاء علیھم السلا کے ذکر میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی یہ دعا بھی ملتی ہے (آیت) ” وادخلنی برحمتک فی عبادک الصلحین “ اے مولا کریم ! اپنی مہربانی سے اپنے نیک بندوں میں شامل فرما۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ میں نیک لوگوں سے محبت رکھتا ہوں۔ اگرچہ میں خود نیک نہیں ہوں مگر خدا تعالیٰ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ مجھے بھی نیکی نصیب کر دے۔ نیک لوگوں سے محبت رکھتا اچھی سوسائٹی کی علامت ہے۔ اگر یہ چیز نہیں ہوگی تو معاشرے میں انتشار پیدا ہوگا ، بداخلاقی ، بد تہذیبی ، عریانی اور فحاشی کا دور دورہ ہوگا جس معاشرے میں یہ چیزیں پائی جائیں گی اس معاشرے کے لوگ کفر اور نفاق میں شدید تر ہوں گے۔ گردش ایام کی خواہش : فرمایا (آیت) ” ومن الاعراب من یتخذ ما ینفق مغرما “ اور بعض دیہاتی گنوار ایسے ہیں کہ جو چیز خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں جہاد یا کسی دوسرے نیکی کے کام میں مال خرچ کرنا پڑے تو انہیں سخت ناگوار گزرتا ہے اور وہ اسے ڈنڈا یا چٹی سمجھتے ہیں۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ آخری دور میں ایسا زمانہ بھی آئے گا جب لوگ زکوٰۃ کو تاوان سمجھنے لگیں گے اور اس کی ادائیگی سے گریز کریں گے۔ حالانکہ یہ فرض ہے اور فرض کی ادائیگی سے خوش ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی توفیق بخشی ہے پھر فرمایا بعض دیہاتی ایسے بھی ہیں (آیت) ” ویتربص بکم الدوائر “ جو مسلمانوں کے بارے میں گردشوں کا انتظار کرتے ہیں وہ انتظار کر رہے ہیں کہ کب مسلمانوں پر زوال آتا ہے اور یہ نیست ونابود ہوتے ہیں۔ مگر اللہ نے فرمایا (آیت) ” علیم دائرۃ السوئ “ بری گردش انہیں پر پڑیگی اور مسلمان انشاء اللہ مامون ہی رہیں گے کیونکہ یہ قاعدہ ہے ” من حفر بئرا لاخیہ فقد وقع بہ “ جو اپنے کسی بھائی کے لیے گڑھا کھودتا ہے وہ خود ہی اس میں گرتا ہے۔ نیز یہ بھی کہ ” من ضحک ضحک “ جو کسی کی ہنسی اڑاتا ہے اس کی بھی ہنسی اڑائی جاتی ہے۔ یہ قانون قدرت ہے کہ ادلے کا بدلہ مل کر رہتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ مسلمانوں کے متعلق منافق لوگ بری امیدیں لگائے بیٹھے ہیں مگر فی الواقع زوال انہیں کو آئے گا (آیت) ” واللہ سمیع علیم “ اللہ تعالیٰ ہر بات کو سنتا ہے اور ہر چیز کو جاتنا ہے۔ عزت ، ذلت ، کامیابی اور ناکامی سب خداوند تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے وہ سچے ایمان والوں کی عزت افزائی کریگا اور منافقوں کو ذلیل و خوار کردیگا۔ قرب الہٰی : جس طرح فرقے اور جماعت میں سب لوگ یکسان نہیں ہوتے اسی طرح دیہات کے سارے لوگ بھی گنوار ہی نہیں ہوتے بلکہ وہاں پر بعض لوگ تہذبی یافتہ ، عقلمند اور مخلص مسلمان بھی ہوتے ہیں۔ سورة آل عمران میں گزرچکا ہے (آیت) ” لیسوا سوائ “ یعنی سب کے سب برابر نہیں ہوتے۔ یہاں بھی ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ومن الاعراب “ اور دیہاتیوں میں سے بعض ایسے بھی ہیں (آیت) ” من یومن باللہ والیوم الاخر “ جو اللہ اور قیامت کے دن پر صحیح ایمان رکھتے ہیں۔ (آیت) ” ویتخذ ما ینفق قربٰت عند اللہ “ اور جس چیز کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ اسے قربت الٰہی کا ذریعہ سمجھت ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میرے عائد کردہ فرائض کو ادا کرنے والے کو زیادہ سے زیادہ قرب الٰہی حاصل ہوتا ہے۔ اور جو لوگ اخلاص کے ساتھ نفلی عبادت بجا لاتے ہیں ، میرے محبت اس طرح ان کے شامل حال ہوجاتی ہے کہ ان کے اعضاء جوارح بھی میری مرضی کے تابع ہوجاتے ہیں یعنی ان کے ہاتھ ، پائوں آنکھیں اور کان وغیرہ میری رضا کے خلاف نہیں چلتے۔ نبی کی دعائیں : فرمایا کہ اہل ایمان لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کو ایک تو تقرب الٰہی کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور دوسرے ” وصلوٰت الرسول “ اپنے اس عمل کو اللہ کے رسول کی دعائوں کا ذریعہ بھی جانتے ہیں۔ چناچہ جو شخص زکوٰۃ یا صدقات کا مال حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کرتا آپ اس کے لیے دعا کرتے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب ابی ادنی زکوٰۃ لے کر حضور کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا ” اللھم صل علی ابی اوفی “ اے اللہ ! ابی اوفی کے خاندان پر رحمت کاملہ نازل فرما۔ تو فرمایا بعض دیہاتی مخلص اور سچے مسلمان ہیں ، وہ اللہ کی وحدانیت اور قیامت کے دن پر یقین رکھتے ہیں اور جو مال خرچ کرتے ہیں اسے تقرب الٰہی اور نبی کی دعائوں کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ فرمایا ، الا سنو ! (آیت) ” انھم قربۃ لھم “ بیشک یہ چیز ان کے لیے تقرب الٰہی کا ذریعہ ہے کیونکہ جو شخص عقیدے کی درستگی اور سچے دل کے ساتھ ایمان لاتا ہے ، اسے اللہ کا قرب حاصل ہوگا اور اللہ کا رسول بھی اس کے لیے دعا کریگا۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” سیدخلھم اللہ فی رحمتہ “ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کریگا۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی خاص رحمت فرمائے گا اور نیکی کرنے والے لوگوں سے اگر کوئی چھوٹی موٹی غلطی سرزد بھی ہوجائے گی تو فرمایا (آیت) ” ان اللہ غفور رحیم “ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ بخشش کرنے والا اور از خدا مہربان ہے۔ اللہ تعالیٰ چھوٹی موٹی غلطیوں کو ویسے ہی درگزر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنا قرب نصیب کرے گا بہرحال دیہاتی منافقوں کی اللہ نے مذمت بیان فرمائی اور خوش نصیب مخلص مومنوں کی تعریف بھی کی ہے۔
Ayahs 9:100–101

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:100 in the Quran reader

اور سبقت کرنے والے سب پہلے مہاجرین اور انصار میں سے اور وہ لوگ جنہوں نے ان کا اتباع کیا نیکی کے ساتھ۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ اور تیار کیے ہیں اللہ نے ان کے لیے باغات ، جاری ہیں جن کے سامنے نہریں ، ہمیشہ رہنے والے ہوں گے ان میں ، یہ ہے کامیابی بڑی

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ Open ayah 9:101 in the Quran reader

اور بعض تمہارے اردگرد دیہاتوں کے رہنے والے لوگ منافق ہیں اور بعض اہل مدینہ میں سے جو اڑے ہوئے ہیں نفاق پر ، آپ ان کو نہیں جانتے ، ہم ان کو جانتے ہیں۔ ہم ان کو سزا دیں گے دو بار۔ پھر لوٹائے جائیں گے وہ بڑے عذاب کی طرف

ربط آیات : غزوہ تبوک کے سلسلے میں منافقین کی مذمت بیان ہو رہی ہے۔ گذشتہ درس میں شہری منافقوں کے ساتھ ساتھ دیہاتی منافقوں کی بھی خدمت بیان ہوئی اور فرمایا کہ دیہات میں بعض مخلص مومن بھی رہتے ہیں جن کی اللہ نے تعریف بیان کی اور ان کے انعامات کا ذکر کیا۔ اب آج کی پہلی آیت اپنا الگ مضمون رکھتی ہے اور اس کے بعد پھر منافقین کی مذمت کا سلسلہ شروع ہو جات ہے۔ اس درمیانی آیت میں اللہ تعالیٰ نے نیکی میں سبقت کرنے والے مخلص مہاجرین اور انصار کا ذکر کیا ہے اور باقیوں کے لیے انہیں بطور نمونہ پیش کیا ہے حاصل مقصد یہ ہے کہ اللہ کے راستے میں دین کی اقامت کے لیے اس جماعت کو مرکزیت حاصل ہے۔ باقی لوگ ان کے پیروگار ہیں۔ اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اللہ سے راضی ہوچکے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ نے انعامات کا وعدہ کیا ہے۔ اس آیت کے بعد دس مزید آیات چھوڑ کر ایک اور آیت ہے جس کے متعلق مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ یہ دونوں آیتیں آپس میں مربوط ہیں اس آیت میں بھی مخلص مومنوں کی تعریف بیان کی گئی ہے اور اس آیت میں بھی اس قسم کا مضمون ہے ان آیات میں یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ جہاد کے لیے دو قسم کی جماعتیں کار گر ہو سکتی ہیں۔ پہلی جماعت وہ ہے جو اس آیت میں بیان ہوئی ہے۔ اور اسے مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اور دوسری جماعت وہ ہے جس کے اوصاف اگلی آیت میں بیان ہوئے ہیں ۔ یہ دونوں قسم کی جماعتیں مل کر جہاد کا فریضہ احسن طریقے سے انجام دے سکتی ہیں۔ ان دونوں آیات کے درمیان منافقین ہی کا تذکرہ کر کے مسلمانوں کو ان سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ منافقین وہ لوگ ہیں جو نہ تو حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے ہیں۔ نہ اللہ کے رسول کی اور نہ ہی مسلمانوں کی مرکزی جماعت کی ایسے منافقین اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں رہتے ہیں لہٰذا ان سے خبردار رہنا چاہیے اوتر ان کے جھانسے میں نہیں آنا چاہیے۔ اولین سابقین (1) مہاجرین یہاں اس آیت میں مرکزی جماعت المسلمین کے متعلق ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” والسبقون الاولون من المھجرین “ سب سے پہلے سبقت کرنے والے جو مہاجرین میں سے ہیں ، اور مہاجرین وہ ہیں جنہوں نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کے لیے ہجرت کی۔ یہ حضور ﷺ کی قوم کے لوگ قریش تھے اور بعض دوسری اقوام میں سے بھی تھے۔ کچھ آزاد لوگ تھے اور کچھ غلام ان میں مرد بھی تھے اور عورتیں بھی ، یہ اولین مہاجرین شمار ہوتے ہیں۔ مکی زندگی میں نبوت کے تیرہ سال حضور ﷺ اور آپ کے ساتھیوں نے بہت تکالیف اٹھائیں۔ مسلمانوں کے لیے یہ پریشان کن زمانہ تھا۔ چونکہ مشرکین کے ظلم وستم کی وجہ سے مسلمانوں کا وہاں رہنا دشوار ہوگیا تھا ، اس لیے آپ نے ایک جماعت کو حبشہ کی طرف ہجرت کرن جانے کا مشورہ دیا کیونکہ وہاں کا بادشاہ نجاشی منصف مزاج تھا اور امید تھی کہ وہاں اہل ایمان کو خدائے وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئیگی۔ چناچہ پہلے ایک جماعت حبشہ پہنچی اور پھر دوسری جماعت بھی گئی۔ باقی ماندہ لوگ مکہ ہی میں قریش کی تکالیف برداشت کرتے رہے یہاں تک کہ مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کر جانے کا حکم آگیا۔ مدینہ طیبہ کو اللہ نے مرکز اسلام قرار دیا اور حضور ﷺ اور بہت سے صحابہ مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ اہل ایمان میں سے یہ اولین مہاجرین ہیں اور یہی مرکزی جماعت ہے۔ (2) انصار مرکزی جماعت میں مہاجرین کے علاوہ ” والانصار “ انصار مدینہ بھی شامل ہیں ۔ یہ بھی اسلام میں داخل ہونے والے اولین لوگوں میں سے ہیں۔ ان میں بھی آگے دو گروہ ہیں۔ حضور ﷺ کی ہجرت مدینہ سے تقریبا ڈیڑھ سال قبل سات آدمیون کی ایک جماعت موسم حج میں مدینہ سے مکہ آئی اور آپ (علیہ السلام) کے دست مبارک پر بیعت کی۔ اگلے سال پھر موسم حج میں ستر آدمیوں کی جماعت مدینے سے آئی جنہوں نے نہ صرف اسلام قبول کیا بلکہ نبی (علیہ السلام) کو مدینہ تشریف لانے کی دعوت بھی دی اور یقین دلایا کہ مدینہ طیبہ میں مسلمانوں کو ہر طرح کا آرام و آسائش مہیا کیا جائیگا اور دین اسلام کی تبلیغ میں وہاں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ یہ ستر آدمی نقبا کہلاتے ہیں۔ حضور ﷺ نے ان انصار دمدینہ کی دعوت کو قبول فرمایا اور خود ہجرت کرنے سے پہلے بعض مسلمانوں کو مدینہ روانہ کیا جن میں مصعب بن عمیر ؓ بھی شامل تھے جو جنگ احد میں شہید ہوئے۔ یہ لوگ مدینہ پہنچ کر اسلام کی تبلیغ کرتے رہے تا آنکہ خود حضور ﷺ بھی ہجرت کر کے مدینہ طیبہ آگئے اس آیت کریمہ میں انہی مہاجرین اور انصار کو سب سے پہلے سبقت کرنے والے کہا گیا ہے۔ اولین دور : مہاجرین اور انصار کا اولین دور کب تک شمار ہوتا ہے اس میں مفسرین کرام کا اختلاف ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ فتح مکہ تک جو لوگ اسلام میں داخل ہوگئے ، خواہ وہ مہاجر تھے یا انصار ، سب اولین سبقت کرنے والے ہیں ، کیونکہ فتح مکہ کے بعد ہجرت ختم ہوگئی تھی۔ بعض دوسرے مفسرین صلح حدیبیہ تک کے دور کو اولین دور شمار کرتے ہیں اور بعض دیگر کا خیال ہے کہ اولین سابقین وہ لوگ ہیں۔ جنہوں نے حضور ﷺ کے پیچھے دونوں قبلوں یعنی بیت المقدس اور بیت اللہ شریف کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھیں۔ ظاہر ہے کہ مدینہ پہنچ کر بھی نبی (علیہ السلام) سترہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف ہی منہ کر کے نماز ادا کرتے رہے ، لہٰذا یہ اولین دور ہجرت سے سترہ ماہ بعد تک کا شمار ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں بعض دیگر اقوال بھی ملتے ہیں ، تاہم شاہ عبدالقادر محدث دہلوی رح ، اور امام بیضاوی (رح) کی تحقیق یہ ہے کہ جو لوگ بدر کی لڑائی تک ایمان لا چکے تھے ، وہ اولین جماعت المسلمین شمار ہوتے ہیں کیونکہ جنگ بدر نے کفر کا زور توڑ دیا تھا اور اسلام کے قیام کی توقع پیدا ہوگئی تھی۔ بہرحال یہ مختلف اقوال ہیں جن کے مطابق اولین جماعت کی تشکیل ہوتی ہے۔ ان میں مہاجرین بھی شامل ہیں جنہوں نے کفار کی اذیتیں برداشت کیں اور پھر گھر بار چھوڑنا پڑا۔ اور اس جماعت میں وہ انصار مدینہ بھی شامل ہیں جنہوں نے مہاجرین کی امداد میں اپنی ہر چیز پیش کردی۔ دوسرا دور : فرمایا پہلا دور تو مہاجرین اور انصار کا ہے اور دوسر دور (آیت) ” والذین اتبعوھم باحسان “ ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اولین جماعت کی نیکی کے ساتھ اتباع کی۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ دوسرے دور کے لوگوں میں وہ صحابہ کرام شامل ہیں جنہوں نے اولین جماعت کی پیروں کی۔ البتہ بعض دوسرے فرماتے ہیں کہ ان سے مراد تابعین ہیں جنہوں نے صحابہ کرام ؓ کی پیروی کی ، ان کے نمونے پر چلے اور نیکی میں ان کی اتباع کی۔ وہ سب کے سب اس دوسرے دور کی جماعت میں داخل ہیں۔ (آیت) ” رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ “ یہ لوگ اللہ سے راضی ہوگئے اور اللہ ان سے راضی ہوا۔ معلوم ہوا کہ مہاجرین اور انصار کی یہ مرکزی جماعت ہے جنہیں اللہ تعالیٰ کی رضا کا سرٹیفیکیٹ دیا گیا اور باقیوں کو ان کے پیچھے چلنے کا حکم ہے کہ وہ نیکی میں اولین جماعت کا اتباع کریں چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس جماعت کے ساتھ اپنی رضا کی تصدیق کردی ہے ، لہٰذا جو لوگ ان کے متعلق بدگمانی کریں گے جیسے بدعتی اور رافضی وغیرہ وہ گمراہ تصور ہوں گے یا منافق سمجھے جائیں گے۔ ایسے لوگ دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتے ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر ؓ کے مکمل ادوار اور پھر حضرت عثمان ؓ کی خلافت کے ابتدائی چھ سال پوری امت مسلمہ کے لیے معیار ہیں۔ چھ سال کے بعد پھر امت میں اختلافات پیدا ہوگئے ، بعض لوگوں نے حضرت عثمان ؓ پر اعتراضات کیے اور جھگڑے شروع ہوگئے۔ اگرچہ خلافت راشدہ کا دور حضرت علی ؓ کے زمانہ تک کا ہے مگر مرکزی حیثیت خود حضور ﷺ کے دور کے بعد حضرت صدیق رض ، حضرت فاروق ؓ اور حضرت عثمان ؓ کے ابتدائی چھ سالوں کو حاصل ہے۔ اس دور میں تمام مسلمان متفق تھے ، کوئی فرقہ بندی نہیں تھی ، لہذا یہی دور قیامت تک کے لیے نمونہ ہے۔ جس کے مطابق کام کرنا کامیابی کی ضمانت ہے۔ یہی اسلام کی مرکزی کمیٹی ہے ، انہی کے فیصلے باقی لوگوں کے لیے قابل تقلید ہیں۔ بہرحال یہ مہاجرین اور انصار کا گروہ ہے ، ان کے بعد آنے والے ان کے نقش قدم پر چلیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی خدمات کو قبول فرما کر اپنی خوشنودی کا اعلان فرمایا ہے۔ مخلوق کی رضا خالق پر : اللہ تعالیٰ کی اپنی مخلوق پر رضا کا معاملہ تو سمجھ میں آتا ہے کہ اس نے اپنے بندوں کی خدمات کو قبول فرمایا ، دین کے لیے ان کی سعی بار آور ہوئی اور پھر اللہ نے ان کو اجر وثواب بھی عطا کیا۔ البتہ بندوں کا اپنے مالک سے راضی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے دین کے راستے ، اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور قرآن کے پروگرام کو غالب کرنے کے لیے ، نیز خدا اور رسول کی محبت میں جتنی بھی تکالیف اٹھائیں ان کو اپنے لیے راحت جانا ، گویا وہ اللہ تعالیٰ سے ہر حالت میں راضی ہوگئے۔ چناچہ جنگ احد کے واقعہ میں اس خاتون کا ذکر ملتا ہے جس کا خاوند ، باپ ، بھائی اور بیٹے شہید ہوگئے تھے۔ جب اسے ان کی شہادت کی خبر سنائی گئی تو کہنے لگی مجھے یہ بتائو کہ حضور ﷺ کا کیا حال ہے ؟ پھر جب اسے بتایا گیا کہ نبی (علیہ السلام) بخیرو عافیت ہیں تو صحیح روایت کے مطابق اس کے منہ سے یہ الفاظ نکلے ” کل مصیبۃ بعدک ۔۔ “ یعنی اگر حضور ﷺ کی ذات مبارک صحیح سلامت ہے تو پھر ہمارے لیے ہر مصیبت اور تکلیف ہیچ ہے ، ہمیں کسی تکلیف کی کوئی پروا ہ نہیں۔ ” رضوا عنھم “ کا یہی مطلب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہر رضا پر راضی ہوگئے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جگہ جگہ ان کے لیے اپنی خوشنودی کا اظہار فرمایا ہے۔ ؓ کا جملہ صحابہ کرام ؓ کے لیے مخصوص ہے یعنی اللہ ان سے راضی ہوگیا۔ صحابہ کے علاوہ امت کے باقی صالحین کے لیے (رح) کے لفظ استعمال کرنے چاہیں۔ صحابہ کرام ؓ جن کے متعلق اللہ نے اپنی رضا کا اعلان کردیا ہے ان پر نکتہ چینی کرنا یا انہیں تنقیص کا نشانہ بنانا گمراہی کا باعث ہے حتی کہ اگر ان کے آپس کے جھگڑے تنازعے کو کوئی شخص اچھا سمجھے گا۔ تو وہ بھی گمراہی سے نہیں بچ سکے گا ، رافضی خارجی وغیرہ اسی مرکزی جماعت سے بغض رکھنے کی وجہ سے گمراہی ہوئے صحابہ کا اتباع کرنا چاہیے اور تعریف ہی کرنی چاہیے کیونکہ اللہ ان سے راضی ہوگیا اور وہ اللہ سے راضی ہوگئے۔ ایسے لوگوں کے متعلق اللہ نے فرمایا (آیت) ” واعدلھم جنت تجری تحتھا الانھر “ اللہ تعالیٰ نے انکے لیے بہشت تیار کر رکھے ہیں جن کے سامنے نہریں بہتی ہیں (آیت) ” خلدین فیھا ابدا “ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گی (آیت) ” ذلک الفوز العظیم “ یہ بہت بڑی کامیابی ہے اس سے بڑی کامیابی کوئی نہیں ہو سکتی۔ یہ اللہ تعالیٰ نے مرکزی جماعت کا ذکر کیا ہے۔ پھر دوسری جماعت کا ذکر دس آیات کے بعد آئے گا اور درمیان میں منافقین کا مزید حال بیان کر کے ان سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ بعض شہری اور دیہاتی پکے منافق : ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وممن خولکم من الاعراب منفقون “ اور تمہارے گردوپیش دیہاتیوں میں سے بعض منافق ہیں (آیت) ” ومن اھل المدینۃ “ اور اہل مدینہ میں بھی بعض منافق موجود ہیں (آیت) ” مردوا علی النفاق “ جو نفاق پر اڑے ہوئے ہیں۔ فرمایا اے پیغمبر ! (آیت) ” لا تعلمھم “ آپ ان کو نہیں جانتے (آیت) ” نحن نعلمھم “ بلکہ ہم انہیں جانتے ہیں۔ سورة قتال میں یہ بھی آتا ہے کہ آپ ان کے چہرے کے نشانات اور بات کرنے سے پہچان لیں گے ، مگر بعض ایسے گہرے منافق بھی ہیں جو ان نشانیوں سے بھی نہیں پہچانے جاتے ، لہٰذا آپ ان کو نہیں جانتے۔ جب تک کہ وحی الٰہی کے ذریعے ان کو ظاہر نہ کردیا جائے۔ یہاں سے حضور ﷺ کے علم غیب کی نفی بھی ہوتی ہے کہ اللہ نے فرما دیا ہے کہ آپ بعض دیہاتی اور شہری منافقوں کو نہیں جانتے ، بلکہ صرف ہم ہی انہیں جانتے ہیں۔ منافقین کے لیے سزا : فرمایا (آیت) ” سنعذبھم مرتین “ عنقریب ہم ان منافقوں کو دوبارہ سزا دیں گے۔ بعض فرماتے ہیں مرتین کا مطلب صرف دو دفعہ نہیں بلکہ اس سے بار بار مراد ہے اس کی مثال سورة ملک میں (آیت) ” ثم ارجع البصر کر تین “ میں ہے۔ یہاں پر نشانات قدرت کی طرف باربار نگاہ کرنے کے لیے کہا گیا ہے تو مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ منافقین کو ان کے نفاق اور دوسری بداعمالیوں کی بدولت باربار سزا دے گا۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ منافقین کو ایک سزا نفاق کی وجہ سے ملے گی اور دوسری ان کی بداعمالیوں کی وجہ سے ، یا پھر یہ بھی کہ سکتے ہیں کہ انہیں ایک سزا اس دنیا میں ذلت ورسوائی کی صورت میں ملے گی اور دوسری سزا عالم برزخ میں۔ اس دنیا میں بھی منافقین کو بڑے بڑے حوادث پیش آئیں گے روایات میں آتا ہے کہ بعض کے جسموں پر ایسے مہلک پھوڑے نکلے کہ انہی کی وجہ سے مرگئے۔ یہ ایسے پھوڑے تھے جو سینے پر نکلتے تھے تو ان کی جلن پشت پر محسوس ہوتی تھی۔ بعض اندھے ہوگئے اور بعض دیگر مصائب میں مبتلا ہوئے۔ اور پھر مرنے کے بعد برزخی زندگی میں ان کے لیے دوسری سزا شروع ہوجائے گی جن میں قبر کا عذاب قابل ذکر ہے۔ فرمایا (آیت) ” ثم یردون الیٰ عذاب عظیم “ پھر لوٹائے جائیں گے بڑے عذاب کی طرف۔ اس دنیا اور برزخ کے بعد تیسرا عذاب آخرت کا ہوگا اور یہ سب سے بڑا اور ہمیشہ رہنے والا ہوگا جس میں یہ منافقین مبتلا ہوں گے۔ اسی لیے ایسی جماعت سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ ان کے مزید حالات بھی آگے بیان ہو رہے ہیں۔ پھر دس آیات کے بعد مومنین کی دوسری جماعت کا ذکر ہوگا۔ یہ وہی جماعت ہے جو جہاد کے ذریعے اللہ کا دین بلند کرنا چاہتی ہے۔ اللہ نے ان کے اوصاف اور ان کے انعامات کا ذکر فرمایا ہے۔
Ayahs 9:102–106

وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:102 in the Quran reader

اور بعض دوسرے لوگ ہیں جنہوں نے اقرار کیا ہے اپنے گناہوں کا۔ انہوں نے ملایا ہے نیک عمل اور کچھ دوسرا برا۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کرے گا ، بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشش کرنے والا اور نہایت ہی مہربان ہے

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:103 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ) آپ لے لیں ان کے مالوں میں سے صدقہ ، پاک کردیں ان کو اور تزکیہ کریں ان کا اس (صدقے) کے ساتھ اور دعا کریں ان کے لیے بیشک آپ کی دعا ان کے لیے باعث تسکین ہوگی۔ اور اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 9:104 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں ہوا کہ بیشک اللہ تعالیٰ ہی توبہ قبول کرتا ہے اپنے بندوں سے اور قبول کرتا ہے صدقات ، بیشک اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا اور مہربانی کرنے والا ہے

وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 9:105 in the Quran reader

اور ( اے پیغمبر ! ) آپ کہہ دیجئے (اے لوگو) عمل کرو ! پس عنقریب اللہ تعالیٰ دیکھ لے گا تمہارے اعمال کو اور اس کا رسول بھی اور مومن بھی۔ اور تم لوٹائے جائو گے اس ذات کی طرف جو عالم الغیب والشہادۃ ہے۔ پس وہ بتلا دے گا تم کو جو کام تم کیا کرتے تھے

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:106 in the Quran reader

اور بعضے لوگ وہ ہیں جو موخر کیے گئے ہیں اللہ کے حکم سے پھر یا تو اللہ ان کو سزا دے گا یا ان کی توبہ قبول کریگا۔ اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور حکمت والا ہے

ربط آیات : گذشتہ آیات میں اللہ نے غزوہ تبوک اور جہاد فی سبیل اللہ کا زکر فرمایا اور جہاد سے گریز کرنے والے منافقین کی شدید مذمت بیان فرمائی ۔ منافقین کی کوتاہیوں غلطیوں اور سازشوں کا حال بیان فرمایا۔ پھر دیہاتی منافقوں اور دیہاتی مومنوں کا تذکرہ کیا اللہ نے جہاد کے لیے مرکزی جماعت کا ذکر بھی کیا جو کہ پوری امت کے لیے معیار ہے اور جس کے نقش قدم پر چلنا ضروری ہے۔ یہ پہلی جماعت کا ذکر تھا۔ اس سلسلے کی دوسری جماعت کا ذکر آگے آئیگا۔ اللہ نے منافقین کا بیان جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ شہر کی طرح دیہات میں بھی منافقین موجود ہیں جو نفاق پر ڈٹے ہوئے ہیں ایسے لوگوں کا حال آپ نہیں جانتے بلکہ اللہ نے فرمایا کہ ہم جانتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ لوگ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ہم انہیں دنیا اور برزخ میں دو مرتبہ سزا دیں گے اور آخرت کا تیسرا عذاب تو بڑا دردناک ہے۔ اللہ نے ایسے موذی لوگوں سے بچنے کی تلقین کی اور ان کی دوستی سے منع فرمادیا۔ اب آج کے درس میں دو گروہ کا ذکر ہو رہا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ایماندار ہیں مگر ان سے کوتاہی اور غلطی سرزد ہوئی ہے۔ سب سے بڑی غلطی یہ تھی وہ غزوہ تبوک میں شریک نہ ہو سکے حالانکہ یہ اللہ کا حکم تھا اور اللہ کے نبی نے اس کے لیے قبل از وقت اعلان فرما دیا تھا۔ آج ایسے خطاکاروں کا حال بیان ہو رہا ہے۔ مخلص مگر خطا کار مسلمان : ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واخرون اعترفوا بذنوبھم “ اور بعض دوسرے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اقرار کیا ہے۔ پہلے خالص منافقوں کا ذکر ہو رہا تھا۔ جو جہاد میں شریک بھی نہ ہوئے اور جھوٹے حیلے بہانے بنا کر بچ رہے۔ اور اب دوسرا گروہ ان مخلص مسلمانوں کا ہے جو اپنی کوتاہی اور سستی کی وجہ سے جہاد میں شریک نہ ہو سکے اور انہوں نے کوئی حیلہ بہانہ بھی نہیں بنایا بلکہ اپنی غلطی کا صاف صاف اقرار کرلیا کہ ان سے یہ کو تائی ہوئی ہے اب اس جماعت کے پھر دو گروہ ہیں جن میں سے ایک کا تذکرہ ہورہا ہے اور دوسری جماعت کا حال آگے آئیگا۔ تو بہرحال یہ پہلی جماعت المسلمین جو غزوہ تبوک میں شامل نہیں ہوسکی اس میں ابو لبابہ ؓ بن عبدالمنذر ، اور اس کے ساتھی شامل ہیں جن کی تعدادپانچ ، چھ ، سات یا نو بتائی جاتی ہے۔ یہ زیادہ سے زیادہ دس آدمی تھے تا ہم سات کی تعداد زیادہ مشہور ہے حضور ﷺ ان لوگوں کی جہاد میں عدم شرکت کی وجہ سے ناراض تھے اور یہ لوگ اپنی کوتاہی پر خود ہی نادم تھے۔ جب نبی (علیہ السلام) کی واپسی کی خبر آئی تو ان لوگوں نے آپ کے واپس پہنچنے سے پہلے ہی سزا کے طور پر اپنے آپ کو مسجد کے ستونوں کے ساتھ باندھ دیا۔ ان کا خیال تھا کہ جب حضور ﷺ واپس پہنچ کر انہیں اس حال میں دیکھیں گے تو معاف فرما کر انہیں کھلوا دیں گے۔ ابو لبابہ ؓ نے قسم اٹھائی کہ جب تک اللہ کا رسول انہیں نہیں کھولے گا ، وہ از خود آزاد نہیں ہونگے ، خواہ یہیں ہلاک ہوجائیں۔ چناچہ ان لوگوں کو نماز کی ادائیگی کے لیے ستونوں سے کھول دیا جاتا اور نماز ادا کرنے کے بعد پھر باندھ دیا جاتا۔ یہ لوگ انصار مدینہ کے معززین میں سے تھے۔ جب حضور ﷺ واپس تشریف لائے اور ان لوگوں کو اس حال میں دیکھا تو فرمایا ، بخدا میں از خود ان کو نہیں کھولوں گا۔ جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم نہ آجائے۔ اس کے بعد اللہ نے مہربانی فرما کر یہ آیت نازل فرمائی اس میں ان کی توبہ کی قبولیت کا اشارہ موجود تھا لہٰذا آپ (علیہ السلام) نے انہیں اپنے دست مبارک سے آزاد کردیا۔ اعتراف جرم اور معافی : فرمایا کہ بعض ایسے لوگ تھے جنہوں نے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور جرم یہ تھا (آیت) ” خلطوا عملا صالحا واخر سیئا “ کہ انہوں نے نیک اور برے اعمال کو ملا دیا۔ وہ نمازیں پڑھتے تھے ، روزے رکھتے تھے ، زکوٰۃ وصدقات ادا کرتے تھے اور نیکی کے دوسرے کام بھی انجام دیتے تھے ، مگر جہاد سے پیچھے رہ کر انہوں نے ان اچھے کاموں میں برائی کو بھی داخل کردیا۔ تا ہم اللہ تعالیٰ نے ان پر مہربانی فرمائی اور فرمایا (آیت) ” عسی اللہ ان یتوب علیھم “ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول کر لیگا کیونکہ (آیت) ” ان اللہ غفور رحیم “ اللہ تعالیٰ بہت بخشش کرنے والا اور از حد مہربان ہے اس سے یہ اشارہ مل گیا کہ اپنی کوتاہی کے اقرار کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا ہے چناچہ اللہ تعالیٰ کے نبی نے انہیں اپنے ہاتھ سے کھول کر آزاد کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو لوگ اچھے اور برے دونوں طرح کے کام کرتے ہیں ان کے متعلق بارگاہ رب العزت سے یہی امید ہو سکتی ہے کہ وہ ان کے اچھے اعمال کو قبول فرما لے گا اور برے اعمال کو معاف کر دے گا۔ اس آیت کی تفسیر میں بخاری شریف میں حضور ﷺ کی حدیث موجود ہے آپ نے فرمایا ” اتانی اللیلۃ اتیان “ یعنی رات کو خواب میں میرے پاس دو آنے والے آئے۔ یہ اللہ کے فرشتے تھے ، انہوں نے مجھے خواب سے بیدار کیا اور اپنے ساتھ لے چلے۔ ہم ایک شہر میں پہنچے جس کی تعمیر میں ایک اینٹ سونے کی اور ایک اینٹ چاندی کی استعمال کی گئی تھی۔ وہاں ہم نے بعض لوگ دیکھے جن کا آدھا جسم نہایت خوبصورت اور آدھا حصہ بالکل بدصورت تھا۔ میرے ساتھ والے فرشتوں نے ان لوگوں کو کہا کہ اس نہر میں غوطہ لگائو۔ جب وہ نہا کر واپس آئے تو ان کی بدصورتی دور ہوچکی تھی اور سارا جسم خوبصورت بن چکا تھا۔ ان دو شخصوں نے حضور ﷺ کو بتایا کہ یہ جنت عدن ہے ۔ اور آپ کا مقام یہیں ہے۔ فرشتوں نے یہ بھی بتایا کہ جن لوگوں کو نہر میں غسل دیا گیا ہے یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا میں نیک وبد دونوں قسم کے کام انجام دیے۔ ان کے نیک کاموں کا اثر یہ ہوا کہ ان کے آدھے جسم نہایت خوبصورت اور توانا ہوگئے اور برے اعمال کی وجہ سے باقی آدھے جسم قبیح صورت ہوئے۔ اب اللہ نے انہیں معاف کردیا اور نہر میں نہانے کے بعد وہ پاک ہوگئے ہیں۔ یہ اسی آیت کی تفسیر ہے جس سے یہ اخذ ہوتا ہے کہ نیکی اور برائی دونوں قسم کے اعمال انجام دینے والوں کو اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی وقت معاف فرما دیگا۔ صدقات کی قبولیت : جب ابو لبابہ ؓ اور ان کے ساتھیوں کو معافی مل گئی تو انہوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ ہمارے مالوں کی وجہ سے ہم پر ابتلا آئی ہے ، ہم اس میں سے کچھ حصہ صدقہ کرنا چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ مجھے اس کا حکم نہیں دیا گیا۔ تم اپنے مال اپنے پاس ہی رکھو۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” خذ من اموالھم صدقۃ “ ّآپ ان کے مالوں میں سے لے لیں۔ مولانا شیخ الہند (رح) اس سے زکوٰۃ مراد لیتے ہیں کہ ان لوگوں سے زکوٰۃ وصول کرنے کا حکم ہوا تھا ، تاہم دیگر مفسرین اسے عام صدقات پر محمول کرتے ہیں۔ گویا ہر قسم کا صدقہ واجبی ، نفلی وغیرہ وصول کرنے کی اجازت دے گی گئی تھی۔ صدقہ کو صدقہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ ایماندار کی صداقت کی نشانی ہوتا ہے۔ بہرحال فرمایا کہ ان سے صدقہ لے لیں (آیت) ” تطھرھم وتزکیھم بھا “ تا کہ اس صدقہ کے ذریعے آپ ان کو پاک کردیں اور ان کا تزکیہ کردیں۔ یعنی ظاہری طور پر بھی ان کی تطہیر ہوجائے اور ان کا باطن بھی پاک ہوجائے۔ دوسرے لفظوں میں ان کا جسم بھی پاک ہوجائے اور مال بھی پاک ہوجائے۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا (آیت) ” وصل علیھم “ آپ ان کے لیے دعا بھی کریں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ گناہوں کی معافی تو پہلے ہی ہوچکی تھی جب پہلی آیت میں (آیت) ” ال اللہ غفوررحیم “ آگیا۔ تا ہم صدقہ دینے کی وجہ سے جو کدورت وغیرہ کے اثرات باقی تھے وہ بھی اللہ نے معاف کردیے۔ حدیث شریف میں آتا ہے (آیت) ” ان الصدقۃ لتدفع غضب الرب وتدفع میتۃ السوئ “ یعنی صدقہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور بری موت کو مٹاتا ہے توبہ کرنے سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور صدقہ کرنے سے رہی سہی کدورت اور میل بھی صاف ہوجاتی ہے۔ اس لیے اللہ نے فرمایا کہ آپ ان سے صدقہ قبول کرلیں تا کہ ان کی ظاہری اور باطنی طہارت ہوجائے۔ فرمایا آپ ان کے لیے دعا بھی کریں ، کیونکہ (آیت) ” ان صلوتک سکن لھم “ آپ کی دعا ان کے لی باعث تسکین ہوگی۔ ویسے بھی جو شخص زکوٰۃ کا مال حضور کی خدمت میں پیش کرتا ، آپ اس کے لیے دعا فرماتے ۔ بہرحال حضور ﷺ کی دعا تو ہر شخص کے لیے ہے اور جس کے حق میں ہوگی ، اس کے لیے تسکین کا باعث ہوگی۔ (آیت) ” واللہ سمیع علیم “ اور اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ فرمایا (آیت) ” الم یعلموا ان اللہ ھو یقبل التوبۃ عن عبادہ “ کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ (آیت) ” ویاخذ الصدقت “ اور ان سے صدقات بھی قبول کرتا ہے (آیت) ” وان اللہ ھو التواب الرحیم “ بیشک اللہ ہی توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔ اعمال کا محاسبہ : اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ، اے پیغمبر ! (آیت) ” وقل اعملوا “ آپ ان سے کہ دیں کہ عمل کرو (آیت) ” فسیری اللہ عملکم “ پس عنقریب اللہ تمہارے عمل کو دیکھ لے گا یعنی ا س کو ظاہر کر دے گا ، اور پھر ورسولہ اس کے رسول کو بھی تمہارے اعمال کا علم ہوجائے گا ، اس سے امید پیدا ہوگی کہ تم آئندہ ایسی غلطی نہیں کروگے۔ پھر اس کا علم (آیت) ” والمومنون “ عام مومنوں کو بھی ہوجائے گا کہ تم نے سچے دل سے توبہ کی جو اللہ نے قبول فرمالی ہے اور آئندہ کے لیے تم محتاط ہو جائو گے۔ فرمایا اس بات کا آخری نتیجہ یہ ہوگا۔ (آیت) ” وستردون الی علم الغیب والشھادۃ “ تم عنقریب اس ذات کی طرف لوٹائے جائو گے جو علیم کل ہے۔ غائب اور حاضر کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں۔ تم سب اسی کے دربار میں پیش ہوگے (آیت) ” فینبئکم بما کنتم تعلمون “ پھر وہ تمہارے کردہ تمام اعمال تمہارے سامنے رکھ دے گا اور بتا دے گا کہ تم دنیا میں یہ کچھ کرتے رہے ہو۔ حدیث شریف میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی آتا ہے (آیت) ” انما ھی اعمالکم احصیھا لکم “ اے ابن آدم ! یہ ہیں تمہارے اعمال جن کو میں نے شمار کر رکھا ہے۔ اگر یہ اعمال اچھے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو اور اگر یہ برے ہیں تو اپنے آپ کو ملامت کرو۔ یہ تمہارے ہی ہاتھوں کی کمائی ہے۔ بہرحال یہ اس گروہ کا حال بیان ہوا ہے جو مسلمان تھے مگر ان سے کو تائی ہی سرزد ہوئی۔ دوسرا گروہ : ان سات یا دس آدمیوں کی جماعت کے علاوہ تین آدمیوں کا ایک دوسرا گروہ بھی تھا۔ ان کی غلطی بھی یہی تھی کہ محض سستی کی وجہ سے غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے ، وگرنہ ان کے ایمان میں کوئی شک نہیں تھا۔ پہلے گروہ کو تو اللہ نے معافی دیدی مگر اس دوسرے گروہ کے متعلق فرمایا (آیت) ” واخرون مرجون لامر اللہ “ کچھ اور لوگ بھی ہیں جن کو اللہ کے حکم سے موخر کیا گیا۔ یہ بھی عظیم المرتبت لوگ تھے۔ ان کے نام کعب ابن مالک رض ، ہلال ابن امیہ ؓ اور مرارہ ابن ربیع ؓ تھے۔ جب لشکر اسلام تبوک کی طرف روانہ ہوگیا تو یہ بھی آج کل کرتے رہے۔ کعب ؓ کہتے تھے میرے پاس دوسواریاں ہیں میں جلدہی قافلے سے جا ملوں گا۔ اسی سوچ بچار میں ایک ماہ گزر گیا اور حضور ﷺ کی واپسی کی خبریں آنے لگیں۔ اس پر یہ لوگ سخت پریشان ہوئے اور سزا کے طور پر انے آپ کو ستونوں سے باندھ لیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق فیصلہ موخر کردیا حتی کی یہ پچاس روز تک اس مصیبت میں مبتلا رہے انہوں نے سخت ذہنی تکلیف اٹھائی۔ تمام مسلمانوں نے ان کا بائیکاٹ کردیا حتی کی بیویاں بھی علیحدہ ہوگئیَ ان کے متعلق فرمایا (آیت) ” امام یعذبھم واما یتوب علیھم “ اللہ تعالیٰ یا تو ان کو سزا دیگا یا پھر ان کی توبہ قبول فرمائے گا۔ آخر پچاس روز کے بعد اللہ نے ان کی توبہ قبول کرلی۔ یہاں پر اس گروہ کا اشارۃ ذکر آیا ہے۔