Ayahs 9:38–39سابقہ مضامین کا خلاصہ :
سورۃ ہذا کی ابتدا مشرکین سے برات اور ان کے خلاف اعلان جنگ سے ہوئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مانعات جہاد کا ذکر کیا۔ کفر اور شرک کرنے والوں کی خرابیاں بیان فرمائیں جن کی وجہ سے ان کے خلاف جنگ ضروری ہوجاتی ہے۔ پھر ان کے ساتھ دوستانہ کرنے کی ممانعت فرمائی۔ اللہ نے اہل ایمان کو مستعد رہنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا خود بھی امتحان لے گا اور مجاہدین اور کمزوروں کو ممتاز کریگا۔ پھر اللہ نے ایمان والوں کو مختلف طریقوں سے دی جانے والی امداد کا ذکر کیا۔ مشرکین کو بیت اللہ شریف کے قریب آنے سے منع فرما دیا۔ اور حکم دیا کہ وہ اس سال کے بعد حج کے لیے نہیں آئیں گے۔
اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے ساتھ بھی جہاد کرنے کا حکم دیا اور اس کی دو وجوہات بیان فرمائی کہ وہ اللہ اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے ، نیز یہ کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی حرام کردہ اشیاء کو حرام نہیں سمجھتے اور نہ ہی دین حق کو قبول کرتے ہیں۔ فرمایا ایسے لوگوں کے خلاف جہاد ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ مغلوب ہو کر جزیہ ادا کرنے لگیں ، ایسی صورت میں ان ۔۔ حاصل ہو جائیگی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے عقائد باطلہ کا ذکر فرمایا کہ یہ لوگ شرک کی بدترین قسموں میں مبتلا ہیں۔ یہودیوں نے عزیز (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بنا یا اور عیسائیوں نے مسیح (علیہ السلام) کے بارے میں ابنیت کا عقیدہ اختیار کیا۔ یہ لوگ اسلام اور اہل اسلام کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کرنے تھے ، لہٰذا اللہ نے ان کی طرف سے مسلمانوں کو خبردار کیا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسلام کے عمومی غلبہ کا ذکر فرمایا۔ اس نے اپنے نبی (علیہ السلام) کو اس لیے مبعوث فرمایا تا کہ وہ اسلام کے سچے دین کو دیگر تمام ادیان پر غالب کر دے۔ پھر اہل کتاب کے خاص گروہ یعنی ان کے علماء اور درویشوں کا ذکر کیا کہ وہ لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتے ہیں مال کو جمع کرتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے فرمایا کسی چیز کو حلال یا حرام کرنا اللہ تعالٰٰ کی صفت ہے ، مگر اہل کتاب نے یہ اختیار اپنے علماء اور درویشوں کو سونپ رکھا ہے ، ان کے خلاف جہاد کرنے کی یہ بھی ایک وجہ ہے۔ فرمایا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام کو اسی طرح تبدیل کردیتے ہیں جس طرح مشرکین ، حرمت والے مہینوں میں تبدیلی کردیتے تھے۔ اللہ نے سال بھر میں چار مہینے رجب ، ذی قعدہ ، ذی الحجہ اور محرم کو حرمت والے مہینے قرار دیا ہے جن کے دوران لڑائی بھڑائی کو منع فرمایا ہے ، مگر مشرکوں کا حال یہ ہے جب وہ کسی حرمت والے مہینے میں جنگ کرنا چاہتے تو اس مہینے کو کسی دوسرے مہینے سے تبدیل کردیتے اور اپنی خواہش پوری کرلیتے۔ فرمایا کہ بھی کفر کی بات ہے اور تحلیل وتحریم کا اختیار غیر اللہ کو سونپ دینا بھی کفر ہے۔ بہرحال آج کی آیات سورة کے ابتدائی مضمون کے ساتھ مربوط ہیں آج کی آیات جنگ ہی کے ضمن میں غزوہ تبوک سے متعلق تمہیدی آیات ہیں ، آگے اس واقعہ کی تفصیل بیان ہوگی۔
غزوہ تبوک کا پس منظر :
8 ھ میں فتح مکہ کے بعد شوال میں غزوہ حنین پیش آیا اس کے بعد مسلمانوں نے طائف کا محاصرہ کیا اور پھر جب حضور ﷺ وہاں سے لوٹے تو 9 ھ میں غزوہ تبوک کے لیے اعلان فرمادیا۔ اس جنگ کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ رومیوں کے بادشاہ ہر قل کے خوشامدیوں نے یہ مشہور کردیا کہ عرب کا مدعی نبوت فوت ہوچکا ہے۔ ملک میں افراتفری پھیلی ہوئی ہے ، ملک میں قحط سالی کا دور دورہ ہے لہٰذا سر زمین عرب پر حملہ کرنے کا یہ بہترین موقع ہے اس زمانے میں مصر ، شام ، فلسطین ، حمص اور ایشائے کو چک کے اطراف میں رومیوں کا تسلط تھا۔ اور وہ سر زمین عرب پر بھی اپنا تسلط جمانا چاہتے تھے۔ یہ وہی ہرقل ہے جس کی طرف حضور ﷺ نے اسلام کا دعوت نامہ بھی بھیجا تھا مگر یہ اس کی بدبختی تھی کہ اپنی بادشاہت کے تحفظ کی خاطر اس نے ایمان قبول نہ کیا۔
طائف سے واپسی کے وقت مدینہ شریف کے جو حالات تھے ان کا پتہ مسلم شریف کی روایت سے چلتا ہے حضرت عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ اس وقت ہم پر کچھ دہشت طاری تھی کیونکہ رومیوں کی طرف سے جنگی تیاریوں کی مسلسل خبریں آ رہی تھیں۔ چناچہ ہر قل نے کباد نامی ایک شخص کی کمان میں چالیس ہزار کا ایک لشکر عرب پر حملہ کرنے کے لیے دے دیا۔ شام کے علاقے میں عربوں کے بعض قبائل مثلا لحم ، عاملہ ، عنان ، اور جذام وغیرہ آباد تھے جنہوں نے عیسائیت قبول کر رکھی تھی اور وہ رومیوں کے ماتحت تھے۔ ان میں غسان کے بادشاہ بڑے مشہور تھے شاہ ہرقل نے ان قبائل سے بھی امداد حاصل کی اور جنگی تیاریاں پورے زور شور سے کرنے لگا۔ چناچہ پیشتر اس کے کہ دشمن مدینہ پر حملہ کرتا ، حضور ﷺ نے طائف سے واپسی پر فورا اعلان کردیا کہ دشمن کے ساتھ اس کی سرحد پر جاکر جنگ لڑی جائے گی۔
جنگ کے لیے تیاری :
غزوہ تبوک سے پہلے جتنی بھی جنگیں لڑی گئیں ، حضور ﷺ کسی خاص مقام کی طرف کوچ کرنے کا صراحت کے ساتھ اعلان نہیں فرماتے تھے بلکہ صرف اس قدر بتاتے تھے کہ جہاد کے لیے جانا ہے ، تبوک کا معرکہ پہلا واقعہ ہے جب آپ (علیہ السلام) نے روانگی سے کئی ماہ پیشتر ہی تیاری کا حکم دے کر منزل مقصود کی وضاحت بھی فرما دی۔ آپ نے اطراف کے قبائل کی طرف بھی آدمی بھیج کر جنگ کی تیاری کا پیغام بھیجا جس کے جواب میں جنگ کی تیاری زور شور سے شروع ہوگئی۔ چونکہ قحط سالی کا زمانہ تھا ، لوگوں کی مالی حالت کمزور تھی اس لیے مجاہدین کے لیے مطلوبہ سواریاں بھی میسر نہیں آ رہی تھیں۔ روایت میں آتا ہے کہ چھ چھ یا دس دس آدمیوں کی حصے میں ایک ایک سواری آئی تھی۔ سامان جنگ اور خوردونوش کی بھی قلت تھی ، تا ہم نبی (علیہ السلام) نے اس جہاد کے لیے پختہ ارادہ فرما لیا۔
چونکہ اس جہاد پر روانگی کے ایام مسلمانوں پر تنگی کے دن تھے ، اس لیے اس غزوہ کو جیس ذات العسرۃ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے یعنی تنگی والا جہاد۔ اس جہاد کے لیے حضور ﷺ نے تیس ہزار مجاہدین کا لشکر تیار کیا۔ بعض مورخین نے چالیس ہزار اور اکسٹھ ہزار کا ذکر بھی کیا ہے تا ہم اس لشکر کی تعداد تیس ہزار سے کم نہ تھی۔
منافقین کا کردار :
اس واقعہ میں منافقین کی کمزوری اور ان کی رسوائی کا بیان بھی آیا ہے اس لیے اس غزورہ کا ایک نام غزوہ فاضحہ بھی ہے۔ چناچہ یہاں سے لے کر واقعہ کے آخر تک منافقین کا حال بھی ساتھ ساتھ چلتا ہے ۔ یہ لوگ حیلے بہانے سے جنگ سے گریز کرنے کے کوشش کرتے رہے آپ (علیہ السلام) نے ان سے تعرض نہیں کیا مگر تمام مخلص مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ جنگ میں ضرور شریک ہوں۔ اس جنگ میں پیچھے رہنے والوں میں صرف معذور آدمی تھے یا وہ تین توانا آدمی بھی تھے جو بلا عذر پیچھے رہ گئے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان اشخاص پر بڑی سختی آئی جس کا ذکر اسی سورة میں موجود ہے پھر ان لوگوں کی توبہ بری مشکل کے ساتھ قبول ہوئی۔ اس سورة کا نام توبہ اسی مناسبت کے ساتھ ہے۔ بہرحال اس موقع پر جو لوگ کمزوری دکھا رہے تھے یا تنگی کی وجہ سے گھبراتے تھے اللہ نے ان کو تنبیہ فرمائی ہے۔ کہ اگر تم اپنے نبی کے ساتھ جہاد میں شریک نہیں ہوگئے تو اللہ تعالیٰ اس کی مدد کا کوئی دوسرا ذریعہ پیدا فرما دیگا۔ اور تمہارا حشر بہت برا ہوگا۔ آگے اللہ نے منافقین کی صریح طور پر ملامت کی ہے اور ان کی فضیحت (ذلت) کی گئی ہے۔
مسلمانوں کی دل شکستگیـ:
الغرض ! غزوہ تبوک کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے تمہید اس طرح اٹھائی ہے (آیت) ” یایھا الذین امنوا ما لکم اذا قعل لکم انفروا فی سبیل اللہ “ اے ایمان والو ! تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تمہیں کہا جاتا ہے کہ اللہ کے راستے میں کوچ کرو۔ (آیت) ” اثاقلتم الی الارض “ تو تم زمین کی طرف بوجھل ہوئے جاتے ہو۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا غزوہ تبوک کے اعلان کے وقت حالت یہ تھی کہ مسلمان قحط سالی کا شکا ر تھے ، لمبا سفر درپیش تھا ، وسائل کی کمی تھی ، کھجور کی فصل بھی پک چکی تھی جس کی برداشت مطلوب تھی مگر مسلمانوں کے لیے روانگی کا اعلان ہوچکا تھا۔ دوسری طرف ایک بڑی ، مستقل اور منظم سلطنت کے ساتھ ٹکر تھی جس کی وجہ سے بعض ذہنوں میں شکستگی کی کیفیت پیدا ہو رہی تھی ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی کہ اے اہل ایمان ! ظاہری حالات کو دیکھتے ہوئے بد دل نہ ہوجائے بلکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت پر بھروسہ کرتے ہوئے جہاد کے لیے نکل کھڑے ہو۔ فتح مکہ کے بعد ہجرت تو منسوخ ہوگئی تھی کیونکہ خود مکہ معظمہ دارالاسلام بن چکا تھا۔ البتہ جہاد کے لیے ہمہ وقت مستعد رہنے کی ضرورت تھی۔ اس ضمن میں حضور ﷺ کا عام حکم تھا۔ ” اذا استطلبوا فانفروا “ یعنی جب بھی تم سے جہاد کا مطالبہ کیا جائے فورا چل پڑا اور کوئی پس وپیش نہ کرو۔ یہاں پر فرمایا کہ جہاد کے نام پر تم زمین کی طرف بوجھل ہوئے جاتے ہو جیسے کوئی شخص زیادہ بوجھ پڑجانے کی وجہ سے نیچے جھک رہا ہو۔ اس قسم کی مثال سورة اعراف میں بھی جو جود ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو صاحب کرامت بنایا تھا ، مگر وہ مادی مفاد ، شہوانی تصورات اور تعیش کی طرف جھک گیا۔ (آیت) ” ولٰکنہ اخلد الی الارض “ مگر وہ زمین کی طرف جھک گیا۔ گویا اس شخص نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں آنے کے لیے حقیر مفاد کو قبول کرلیا۔ اسی طرح یہاں بھی فرمایا ہے کہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم آرام طلبی ، خوشحالی اور تعیش کی خاطر جہاد کی مشقت سے منہ موڑ رہے ہو اور دنیا کا حقیر فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہو۔
دنیا طلبی یا آخرت طلبی :
فرمایا (آیت) ” ارضیتم بالحیوٰۃ الدنیا من الاخرۃ “ کیا تم راضی ہوچکے ہو دنیا کی زندگی پر آخرت کو چھوڑ کر ؟ ادھر دنیا کا چند روزہ حقیر سامان ہے اور ادھر آخرت کی دائمی اور پر بہار زندگی ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ الفاظ بتا رہے ہیں کہ ایک مومن اور مسلمان کے نزدیک اولیت آخرت کی زندگی کو حاصل ہے۔ جب کہ اس دنیا کے تمام تر مفادات درجہ دوائم میں آتے ہیں۔ جہاد کے ذریعے دنیاوی مفاد بھی حاصل ہوتے ہیں لیکن اصل مقصود آخرت کی کامیابی ہوتی ہے۔ مومن دنیا میں جو کام بھی کرتا ہے اس کی اصل غایت یہی ہونی چاہیے کہ کسی طرح دائمی سنور جائے۔ نماز کی مثال بھی ایسی ہی ہے اگرچہ اس کے ذریعے اس دنیا میں بھی پابندی وقت ، تنظیم ، ڈسپلن ، اجتماعیت اور انسانی ہمدردی جیسے مفاد حاصل ہوتے ہیں مگر اصل مطلوب اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی فلاح ہوتی ہے۔
فرمایا اگر تم دنیا کی زندگی پسند کرتے ہو (آیت) ” فما متاع الحیوٰۃ الدنیا فی الاخرۃ الا قلیل “ دنیا کی زندگی کا سامان آخرت کے مقابلے میں بالکل تھوڑا ہے۔ کوئی شخص سو سال کی عمر بھی پا لے اور دنیا کا کتنا بھی سازوسامان جمع کرے ، اس کی حیثیت بہرحال عارضی ہے۔ زندگی بھی فانی ہے اور مال بھی ختم ہوجانے والا ہے حضور ﷺ کا فرمان (1۔ ترمذی۔ ص 338) (فیاض) ہے ” اعمار امتی مابین سبعین وستین وقل مایجوز ذلٰک “ یعنی میری امت کی عمریں ساٹھ اور ستر سال کے درمیان ہیں اور بہت کم لوگ ہیں جو اس سے آگے جاتے ہیں۔ تو فرمایا تم اتنی حقیر زندگی کو آخرت کی دائمی زندگی پر ترجیح دیتے ہو۔ یادرکھو ! اس زندگی کو کوئی حیثیت نہیں۔
ترک جہاد پر غلامی :
اللہ نے فرمایا کہ یہ ت میں تنبیہ کی جا رہی ہے (آیت) ” الا تنفروا “ اگر تم اللہ کی راہ میں کوچ نہیں کرو گے ، جہاد کے لیے نکلو گے تو اس کا تنیجہ یہ ہوگا (آیت) ” یعذبکم عذابا الیما “ اللہ تعالٰٰ تمہیں دردناک عذاب میں مبتلا کریگا۔ مفسرین کرام کے بیان سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ جو قوم جہاد کو ترک کردیتی ہے ، وہ ذلت ورسوائی کا شکار ہوجاتی ہے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے بھی اپنے خطبے میں یہی فرمایا ، ترک جہاد کے نتیجے میں ایک سزا غلامی کی صورت میں آتی ہے اور غلامی سے بڑھ کر دنیا میں کوئی سزا نیں ۔ انگریز کی دو سو سالہ غلامی سے ہم بھی گزرے ہیں۔ آج بھی کئی ممالک کافروں کی غلامی میں ہیں ، کتنے ہی چینی ، روسی اور قبرصی مسلمان ہیں ، جو غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ یہ نتیجہ ہے دین سے اغماض برتنے ، قرآن پاک پس پشت ڈالنے اور جہاد سے منہ موڑنے کا ۔ جب بھی اس قسم کی غفلت آئے گی ، اس کا نتیجہ غلامی ہوگا۔ ڈاکٹر اقبال مرحوم نے کہا
غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
غلامی بڑی نعمت ہے ، انسان بےضمیر ہو کر رہ جاتے ۔ غلام کو کوئی غربت حاصل نہیں ہوتی ، نہ اس کی اپنی رائے ہوتی ہے اور نہ مشیت۔ اسے تو ہر وقت اپنے آقا کی خوشنودی مطلوب ہوتی ہے جس کی وجہ سے اس کا ضمیر مردہ ہوجاتا ہے۔
جن لوگوں نے انگریز کی غلامی کی ہے انیں کیسے کسیے ذلیل کام کرنا پڑے۔ انہوں نے اپنے مسلمان بھائیوں پر گولیاں چلائیں ، خانہ کعبہ ، پر چڑھائی کردی اور وہاں پر لوگوں کو ذبھ کیا۔ سات سو ترکوں کو مسجد حرام میں شہید کیا گیا۔ عراق اور مصر پر مسلمانوں سے حملہ کرایا گیا۔ انگریز کے غلام معمولی تنخواہ ، عہدہ یا خطاب کی خاطر ضمیر کے خالف گھٹیا ترین کا م کرنے پر مجبور ہوتے تھے ، کبھی مسلمانوں کے تصور میں بھی آسکتا تھے کہ وہ اس درجہ تک بھی گر جائیں تے ، تاتاریوں کے غلبے کے بعد دنیا بھر کے مسلمان پریشان ہوگئے کہ اب ان کی اجتماعیت کیسے قائم رہ سکیگی۔ ہماری نمازیں اور جمعے کیسے ادا ہوں گے ، چونکہ یہ مسلمانوں کے لیے تنزل کا پہلا واقعہ تھا۔ اس لیے وہ سخت پریشان ہوئے تھے مگر اس کے بعد مسلمان مسلسل انحطاط میں جا رہے ہیں اور اب ان میں احساس محرومی بھی باقی نہیں رہا۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ اگر جہاد کو چھوڑ دی گے تو اللہ جس قسم کی سزا چاہیگا۔ دیگا ، اور اس میں غلامی کی سزا بھی شامل ہے۔
قوم کی تبدیلی :
فرمایا کہ اللہ تمہیں سزا دیگا (آیت) ” ویستبدل قوما غیرکم “ اور تمہاری جگہ دوسرے لوگوں کو بدل دیگا۔ اگر تم دین کی خدمت سے منہ موڑو گے تو اللہ تعالیٰ یہ کام دوسرے لوگوں سے لے لیگا۔ ڈاکٹر اقبال مرحوم کہا کرتے تھے ، کیا ہوا جو پنجاب کے سیدوں نے دین کی خدمت نہ کی۔ اللہ نے ان کی بجائے یہاں کے سکھوں کو کھڑا کردیا “۔ دیکھ لیں مولان عبید اللہ سندھی (رح) اور مولانا احمد علی لاہوری (رح) کون لوگ تھے ان کا تعلق سکھ خاندانوں کے ساتھ تھا۔ اللہ نے ان سے وہ کام لیا جو دنیا میں کروڑوں سید نہ کرسکے ، تو فرمایا اگر تم نے اپنے مشن کو ترک کردیا تو اللہ تعالیٰ یہ کام دوسرے لوگوں سے لے لیگا اور تمہارے حصے میں ذلت کے سوا کچھ نہیں آئے گا۔ جب عربوں میں کمزوری آئی تو اللہ نے ان کی جگہ ترکوں کو کھڑا کردیا۔ یہ ترک بڑی مدت تک ایمان سے محروم رہے مگر حضور ﷺ نے فرمایا ” اترکوا الترک کما ترکو کم “ جب تک ترک خود تمہیں نہ چھیڑیں ان کو کچھ نہ کہنا۔ پھر ایسا وقت بھی آیا کہ اللہ نے دین کی خدمت کے لیے ترکوں کو منتخب کیا۔ جب عرب ملوکیت ، شہنشاہیت اور عیاشی میں پڑ کر کمزور ہوگئے تو اللہ نے ان کی بجائے ترکوں کو خدمت دین کی توفیق مرحمت فرمائی۔ پھر چشم فلک نے دیکھا کہ ایک دن میں چار لاکھ ترکوں نے اسلام قبول کیا۔ جو لوگ کبھی دین کے بدترین دشمن تھے ، وہی لوگ اس کے داعئی بن گئے۔
ترکوں کا عروج وزوال
ترکوں نے اسلام کی بر خدمت کی ہے۔ چار سو سال تک یورپی انگریزوں کا مقابلہ کرتے رہے اور اسلام کے جھنڈے کو سربلند رکھا۔ ان میں بعض کمزوریاں بھی تھیں ، اس کے باوجود انہوں نے عیسائی طاقتوں کا خوب مقابلہ کیا ، یہی وجہ ہے کہ انگریزوں نے ترکوں پر تسلط حاصل کرنے کے بعد انہیں بہت ذلیل کیا۔ بلکہ انہیں تہس نہس کر کے رکھ دیا بہرحال فرمایا کہ اگر تم اسلام کی خدمت میں کمزوری دکھائو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئیگا۔ چناچہ یرموک وغیرہ کی جنگوں میں یمنی لوگ کثیر تعداد میں شریک ہوئے اور انہوں نے دین کی خاطر بڑی بڑی خدمات کثیر تعداد میں شریک ہوئے اور انہوں نے دین کی خاطر بڑی بڑی خدمات انجام دیں۔ جب بھی ضرورت پڑتی ہے اللہ تعالیٰ اپنے دین کا کام دوسروں سے لے لیتا ہے۔ وہ تمہاری کمزوریوں کی وجہ سے تمہین منظر سے ہٹا دے گا (آیت) ” ولا تضروہ شیئا “ اور تم اللہ کا کچھ نہیں بگاڑ سکو گے۔
فرمایا یاد رکھو ! (آیت) ” واللہ علی کل شیء قدیر “ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے ولا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ ہے ابھی اور بھی تنبیہات چل رہی ہیں تا کہ مسلمانوں میں کمزوری نہ واقع ہوجائے چونکہ تبوک کا سفر بڑا لمبا سفر تھا ، راستے کی مشکلات پیش نظر تھیں ، سامان کی قلت تھی ، ایسے حالات میں مسلمانوں کی دل شکستگی قدرتی امر تھا ، اس لیے اللہ نے خبردار کردیا کہ کمزوری نہ دکھانا ، اس سے اللہ کا تو کچھ نہیں بگڑے گا۔ بلکہ تمہیں ہی الٹا نقصان ہوگا۔ پہلے دور کے مسلمانوں نے بری بےجگری کے ساتھ یہ منازل طے کی تھیں تو اللہ تعالیٰ نے انہیں نصیب فرمائی جب حضور ﷺ تبوک میں خیمہ زن ہوئے تو رومیوں پر دہشت طاری ہوگئی شاہ ہرقل کانپ اٹھا کہ جو لوگ ایک ہزار میل کا کٹھن سفر طے کر کے یہاں تک پہنچے ہیں۔ ان کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا یہ مسلمانوں کے غیر متزلزل ایمان کا نتیجہ تھا کہ رومیوں پر رعب طاری ہوگیا۔ بہرحال اللہ نے یہاں پر فرمایا ہے کہ کمزوری نہ دکھانا ورنہ ذلیل ہو جائو گے اور اپنی حیثیت کو گم کر دو گے ایسی صورت میں ہم دوسرے لوگوں کو تمہاری جگہ کھڑا کر کے ان سے کام لے لیں گے۔
Ayah 9:40ربطِ آیات :
اس رکوع کی پہلی آیت میں جہاد کے لیے ترغیب اور تنبیہ ہے اور اس کے بعد بھی تنبیہات ہیں۔ یہ غزوہ تبوک کا ذکر ہے۔ جو 9 ھ میں پیش آیا فتح مکہ اور حنین کی لڑائی کے بعد حضور ﷺ نے تبوک پر چڑھائی کرنے کا فیصلہ کیا قحط سالی کا زمانہ تھا ، سخت گرمی اور ایک ہزار میل کا فاصلہ طے کر کے جانا تھا۔ سامان سفر بھی قلیل تھا اور مجاہدین کے لیے سواریاں بھی کم تھیں ۔ حتی کہ دس دس آدمیوں کے حصے میں ایک ایک اونٹ ہوتا تھا۔ اس جہاد میں عام لوگوں کو شمولیت کی دعوت دی گئے اور معذوروں کے سوا کسی کو پیچھے رہنے کی اجازت نہ تھی۔ تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اپنے نبی کی آواز پر فورا نکل کھڑے ہوں اگر ایسا نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ تو پہلے بھی اپنے نبی کی مدد کرتا رہا ہے۔ اور اب بھی کرے گا۔ مگر یہ چیز تمہارے لیے باعث ِ شقاوت ہوگی۔ اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو کھرا کر دے گا اور تم اس سعادت سے محروم رہ جائو گے۔
نصرت الہٰی کی مثال :
جہاد کی دو قسمیں ہیں یعنی فرض عین اور فرض کفایہ۔ عام حالات میں جب کہ دشمن کے مقابلے کے لیے مجاہدین کافی تعداد میں موجود ہوں تو باقی لوگوں کا جہاد میں شریک ہونا ضروری نہیں ہوتا ، صرف مجاہدین کی شمولیت باقیوں کو بھی کفایت کر جاتی ہے۔ البتہ جب دشمن ہجوم کر جائے اور محض مجاہدین سے دفاع ممکن نہ ہو تو پھر عام مسلمانوں مپر جہاد فرض عین ہو جات ہے ایسے حالات میں اگر ایک عاقل ، بالغ مسلمان پیچھے رہ جائے توہ وہ گنہگار ہوتا ہے ۔ غزوہ تبوک کے لیے بھی عام لام بندی کا اعلان کیا گیا تھا ، تو اس آیت میں جہاد سے جی چرانے والوں کو سخت تنبیہ کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (آیت) ” الا تنصروہ “ اے مسلمانو ! اگر تم اللہ کے رسول کی مدد نہیں کرو گے ، اس موقع پر جانی اور مالی پیش نہیں کرو گے تو اللہ تعالیٰ کو بھی تمہاری کچھ پروا نہیں۔ اس واسطے کہ (آیت) ” فقد نصرہ اللہ “ بیشک اللہ تعالیٰ نے اس کی پہلے بھی مدد کی تھی (آیت) ” اذاخرجہ الذین کفروا “ جب کہ نکال دیا تھا آپ کو کافروں نے یہ ہجرت کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے جب مسلمان بلحاظ دلیل مشرکین مکہ پر غالب آرہے تھے اور وہ لوگ تبلیغ دین کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے سے عاجز آ چکے تھے تو قصی ابن کلاب کے مکان دارالندوہ میں جمع ہوئے تا کہ اسلام کے راستے میں بند باندھنے کا کوئی حتمی پروگرام طے کرسکیں ۔ چناچہ بڑے غور وخوض کے بعد یہ فیصلہ ہوا کہ ہر قبیلے کا ایک ایک نوجوان رات کو بنی (علیہ السلام) کے مکان کا محاصرہ کرلے اور جس وقت آپ گھر سے باہر نکلیں ، سب لوگ بیک بارگی حملہ کر کے آپ کا کام تمام کردیں ان کی سکیم یہ تھی کہ جب اس قتل میں تمام قبائل ملوث ہوں گے تو آپ کا خاندان قصاص کا مطالبہ نہیں کرسکے گا اور اس کی بجائے مشترکہ طور پر دیت ادا کریں گے۔ اس پروگرام کے تحت رات کو منتخب آدمیوں نے مکان کا محاصرہ کرلیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس منصوبے کی خبر دیدی اور ساتھ ہی ہجرت کی اجازت بھی مرحمت فرمادی۔ چناچہ آپ (علیہ السلام) رات کے وقت اٹھے ، حضرت علی ؓ کو اپنے بستر پر لٹایا اور حکم دیا کہ صبح تمام لوگوں کی امانتیں واپس کردیں اور پھر مناسب وقت پر مدینہ طیبہ آجائیں۔ آپ گھر سے باہرنکلے ، شاہت الوجوہ کہتے ہوئے اور مٹی کی مٹھی محاصرے پر موجود لوگوں کی طرف پھینکے ہوئے چل دیے۔ آپ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے گھر پہنچے اور ان کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ سے پندرہ سولہ کیلو میٹر دور غار ثور میں جا ٹھہرے۔
غار ثور میں قیام :
غار ثور جبل ثور کے آخری سرے پر ہے ، راستہ دشوار گزار ہے۔ یہ غار پہاڑ کی چوٹی پر ہے۔ غار میں داخلے کا راستہ اتنا تنگ ہے کہ آدمی بیٹھ کر بھی داخل نہیں ہو سکتا بلکہ لیٹ کر داخلہ ممکن ہوتا ہے۔ غار میں پہنچ کر پہلے حضرت صدیق اکبر ؓ اندر داخل ہوئے۔ غار کو صاف کیا اس کے سوراخوں کو بند کیا۔ صرف ایک سوراخ رہ گیا جسے بند کرنے کے لیے کچھ نہ ملا۔ حضور ﷺ غار کے اندر تشریف لائے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے زانوں پر سر رکھ کر محو ِ استراحت ہوگئے۔ حضرت صدیق اکبررض نے آخری سوراخ کو بند کرنے کے لیے اپنا پائوں اس کے آگے رکھ دیا۔ تھوڑی دیر بعد کسی سانپ وغیرہ نے حضرت صدیق اکبر ؓ کے پائوں کو کاٹ لیا۔ آپ کو بڑی تکلیف ہوئی مگر آپ اپنے مقام سے سرمو بھی ادھر ادھر نہ ہوئے کہ کہیں حضور ﷺ کے آرام میں خلل واقعہ نہ ہو۔ جب نبی (علیہ السلام) بیدار ہوئے تو آپ کو علم ہوا کہ حضرت صدیق اکبر ؓ کو یہ تکلیف پہنچی ہے۔ آپ نے اپنا لعاب دہن حضرت صدیق ؓ کے پائوں پر لگایا تو تکلیف فورا رفع ہوگئی۔ زہر کا اثر زائل ہوگیا اور اللہ نے آپ کو شفاء عطا فرمائی۔
مشرکین کی ناکافی :
ادھر جب صبح ہوئی تو محاصرین نے حضور ﷺ کو اپنے مکان میں نہ پایا حضرت علی موجود تھے۔ ان سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں معلوم نہیں کہ حضور ﷺ کہاں تشریف لے گئے ہیں مشرکین نے جب اپنا منصوبہ ناکام ہوتے دیکھا تو فیصلہ کیا کہ حضور ﷺ کو تلاش کیا جائے اور جو شخص آپ کو زندہ یا شہادت کی حالت میں لائے گا ایک سو اونٹ انعام کا حقدار ہوگا۔ انعام کے لالچ میں بہت سے لوگ تلاش کے لیے بھاگ گھڑے ہوئے۔ انہوں نے ماہر کھوجی کی خدمات بھی حاصل کیں جو انہیں پائوں کے نشانات کے ساتھ ساتھ جبلِ ثور کے دامن تک لے گیا۔ پھر اوپر چڑھائی شروع ہوئی حتی کہ مشرکین غار ثور کے منہ تک پہنچ گئے۔ اب یہاں اس نصرت الہٰی کی طرف اشارہ ہے جو اس مشکل مرحلے پر حضور ﷺ کو میسر آئی۔ طبرانی اور بعض دوسری کتب احادیث میں یہ روایت موجود ہے کہ جب حضور ﷺ اور حضرت صدیق اکبر ؓ غار کے اندر چلے گئے تو غار کے تنگ منہ مکڑی نے جالا تن دیا اور وہاں دھانے کے قریب ہی جنگلی کبوتروں نے گھونسلہ تیار کیا اور انڈے دے دیے۔ جب یہ صورت حال دیکھی تو مشرکین نے کھوجی کی بات پر اعتبار نہ کیا ، کہنے لگے یہ جالا تو محمد کی پیدائش سے بھی پہلے کا معلوم ہوتا ہے ، وہ اس غار کے اندر کدھر سے جاسکتے ہیں ؟
صدیق اکبر ؓ کی پریشانی :
غار کے اندر سے حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے مشرکین کے پائوں دیکھے تو آپ کو سخت پریشانی لا حق ہوئی۔ کیونکہ وہ غار کے دہانے تک پہنچ چکے تھے۔ یہاں پر یہ بات توجہ طلب ہے کہ حضرت صدیق ؓ کی پریشانی اپنی ذات کے لیے نہ تھی بلکہ آپ کو فکر حضور ﷺ کی ذات مبارکہ کی تھی کہ دشمن آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچادیں۔ انہوں نے حضور سے عرض کیا کہ اگر یہ لوگ پائوں کی طرف جھک کر اندر دیکھیں تو ہمیں پا لیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” ما ظنک یا ابا بکر باثنین اللہ ثالثھما “ اے ابوبکر رض ! تمہارا ان دو اشخاص کے بارے میں کیا خیا ہے جن کے ساتھ تیسرا اللہ ہے۔ حضور ﷺ کا مقصد یہ تھا کہ جب اللہ تعالیٰ ہم دونوں کا مددگار ہے تو ہمیں کیا ڈر ہو سکتا ہے ؟ ہم اسی کے حکم سے مکہ مکرمہ سے نکلے ہیں۔ اب وہی ہمیں دشمن سے بچائے گا۔
یہاں پر یہی بات بیان کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی مدد فرمائی (آیت) ” ثانی اثنین “ وہ دو میں سے دوسرے تھے۔ حضور ﷺ اور ابوبکر صدیق ؓ جب کہ وہ دونوں غار کے اندر تھے۔ اسی لیے حضرت صدیق ؓ کو یار غار اور مخلص ساتھی کہا جاتا ہے کہ وہ اتنے کٹھن وقت میں بھی آپ کے ساتھ رہے بہرحال اس سخت خطرے کے وقت حضرت صدیق اکبر ؓ کو حضور ﷺ ہی کی فکر دامن گیر تھی۔ یہ دونوں حضرات صرف اسی مقام پر اکٹھے نہیں ہوئے بلکہ ہر موقع اور محل پر یہ دونوں ساتھی اکٹھے نظر آتے ہیں زمانہ امن ہو یا جنگ اور سفر ہو یا حضر حضور ﷺ جہاں بھی جاتے حضرت صدیق ؓ آپ کے ہمرکاب ہوتے۔ حضرت صدیق ؓ نے جو کارہائے نمایاں انجام دیے وہ آپ ہی کا حسہ تھے۔
اب غار کے اندر کی کیفیت بتائی جا رہی ہے کہ جب وہ دونوں ساتھی غار کے اندر تھے (آیت) ” اذیقول لصاحبہ “ جب وہ اللہ کا برگزیدہ رسول اپنے ساتھی سے کہ رہا تھا۔ صاحب سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی صاحبیت کے منکرین کے خلاف علمائے حق کفر کا فتویٰ لگاتے ہیں کیونکہ یہ نص قرآنی کا انکار ہے علم کلام والے کہتے ہیں کہ کسی بھی صحابی کا منکر فاسق ہوتا ہے۔ بدعتی ، گنہگار اور مجرم ہوتا ہے۔ مگر صدیق کی صحابیت کا انکار کرنے والا کافر ہے۔ بہرحال صدیق اکبر ؓ کی پریشانی کو دیکھ کر اللہ کے برگزیدہ رسول نے فرمایا لا تحزن “ آپ غم نہ کھائیں ، فکر نہ کریں۔ مفسرین یہ ان پر یہ نکتہ بھی بیان کرتے ہیں کہ یہاں پر لفظ غم بتلا رہا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو اپنی جان کی فکر نہیں تھی بلکہ آپ حضور ﷺ کی ذات کے متعلق فکر مند تھے۔
اللہ تعالیٰ کی معیت :
فرمایا غم نہ کر (آیت) ” ان اللہ معنا “ بیشک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے یہاں پر جمع کا صیغہ استعمال ہوا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم دونوں کے ساتھ ہے۔ اور جس کے ساتھ اللہ ہو ، وہ یا تو نبی ہوگا۔ اور یا ولی تو ان دونوں حضرات میں ایک اللہ کا برگزیدہ ترین نبی ہے اور دوسرا برگزیدہ ترین ولی ہے۔ فرمایا اے صدیق رض ! تم غم نہ کھائو اللہ ہم دونوں کے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ اللہ ہوجائے اس کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں آتا ہے کہ جب آپ اپنی قوم بنی اسرائیل کو لے کر نکل کھڑے ہوئے تو آگے بحرقلزم تھا اور پیچھے فرعون کے لشکر تھے۔ اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا (آیت) ” کلا ان معی ربی “ (الشعرا) خبردار ! بیشک میرا رب میرے ساتھ ہے ، وہی راہنمائی کرے گا۔ مقصد یہ کہ وہاں واحد کا صیغہ ہے۔ کہ اس وقت اللہ کے برگزیدہ بندے صرف موسیٰ (علیہ السلام) تھے۔ اور یہ ان دو ہیں اور جمع کا صیغہ ہے کیونکہ دونوں برگزیدہ تھے۔
مکڑی کا جالا :
اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی حفاظت کا کیا ذریعہ بنایا ؟ غار کے منہ پر مکڑی نے جالاتن دیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے ایک کمزور ترین چیز کو حفاظت کا بہترین ذریعہ بنادیا۔ اللہ تعالیٰ نے سورة عنکبوت میں فرمایا (آیت) ” ان اوھن البیوت لبیت العنکبوت “ یعنی ہر قسم کے کیڑے مکوڑوں کے گھروں میں کمزور ترین گھر مکڑی کا ہوتا ہے اللہ نے شرک کو مکڑی کے جالے سے تشبیہ دی ہے کہ شرکیہ عقیدہ اتنا کمزور ہے مشرکین کا محض وہم ہے کہ اللہ کے سوا کوئی دوسرا بھی مدد کرسکتا ہے یا کوئی حاجت پوری کرسکتا ہے۔ مگر اس مقام پر اللہ نے مکڑی کے جالے سے مضبوط ترین قلعے کا کام لیا۔ اور ایسی تدبیر کی کہ مشرکین کے وہم و گمان میں نہ آسکتا تھا کہ حضور ﷺ اس غار میں بھی داخل ہو سکتے ہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے اہل ایمان ! اگر تم اپنے نبی کی مدد نہیں کرو گے ، اس کے ساتھ جہاد کے لیے نہیں نکلو گے ، تو کوئی بات نہیں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے بنی کی ہمیشہ مدد کی ہے اور وہ آئندہ بھی کرتا رہے گا۔ جہاد سے پیچھے رہ کر اللہ نے نبی کا تو کچھ نقصان نہیں ہوگا ، بلکہ اس میں تمہارا ہی گھاٹا ہے کہ تم بہت بڑی سعادت سے محروم ہو جائو گئے۔
سکینۃ کا نزول :
فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس مشکل موقع پر بھی اپنے نبی کی مدد فرمائی (آیت) ” فانزل اللہ سکینتہ علیہ “ اور اس پر اپنی تسکین نازل فرمائی ، آپ کا ساتھ بہت غمگین ہو رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی تسلی کا نزول فرمایا (آیت) ” وایدہ بجنود لم تروھا “ اور اس کی مدد ایسے لشکر سے کی جس کو تم نہیں دیکھ سکے۔ اللہ تعالیٰ نے بدر اور حنین کے مواقع پر بھی اپنے فرستے نازل فرما کر مدد فرمائی تھی اور اس موقع پر بھی اللہ نے فرشتے اتار کر مشرکین کے خیالات ہی پلٹ دیے اور وہ سوچ بھی نہ سکے کہ حضور ﷺ اور آپ کے ساتھی اس غار کے اندر بھی ہو سکتے ہیں۔ اللہ کے فرشتوں نے جبل ثور پر اتر کر یہ ساری تدبیر کردی فرشتوں کی تائید کا یہی مطلب ہے۔
کلمہ توحید کی بلندی :
خلاصہ کلام یہ ہے (آیت) ” وجعل کلمۃ الذین کفروا السفلی “ اللہ نے کافروں کی بات کو پست کردیا (آیت) ” وکلمۃ اللہ حی العلیا “ اور اللہ کا کلمہ ہی بلند ہے۔ یہ کلمہ توحید اور ایمان ہے جسے اللہ نے غالب کردیا۔ اس شدید ترین موقع پر اپنے بنی اور صدیق کی مدد کی۔ دشمن پیچھے لگے ہوئے تھے مگر اللہ نے ان کی تمام تدابیر ناکام کردیں کیونکہ اللہ کی مشیت ہی ہمیشہ غالب آتی ہے ، لہٰذا تمہارا جہاد میں شامل نہ ہونا تمہارے ہی حق میں برا ہوگا۔
(آیت) ” واللہ عزیز حکیم “ خدا تعالیٰ کمال قدرت کا مالک ہے اور حکیم ہے۔ وہ اپنی حکمت سے دوسرے مواقع پر بھی اپنے نبی اور دین کی مدد کرسکتا ہے مگر تم سعادت سے محروم ہو جائو گے اسی لیے فرمایا کہ اللہ کے بنی کی مدد کرو۔ اس کے ساتھ جہاد میں شریک ہو جائو۔ دین کو غالب کرنے کے لیے پوری جانفشانی کے ساتھ مصروفِ عمل ہو جائو تا کہ دین ِ حق کو غلبہ حاصل ہوجائے۔ جب اسلام غالب آجائے گا تو پھر جماعت المسلمین صحیح نظام قائم کرنے کے قابل ہوجائے گی۔
Ayahs 9:41–42ربط آیات :
جہاد کے سلسلہ میں غزوہ تبوک کا ذکر ہو رہا ہے۔ ابتدائی آیات میں جہاد کی ترغیب دی گئی تھی اور پھر جہاد میں شریک نہ ہونے والوں کو تنبیہ کی گئی ایمان والوں کو خبردار کیا گیا کہ اگر وہ اللہ اور اس کے رسول کی مدد نہیں کریں گے یعنی آپ کے ساتھ جہاد میں شامل نہیں ہوں گے تو یہ نہ سمجھیں کہ جہاد محض انہیں پر موقوف ہے بلکہ اللہ تعالیٰ تمہارے بغیر بھی اپنے نبی کی مدد کرنے پر قادر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یاد دلایا کہ اس نے ہجرت کے مشکل ترین موقع پر بھی مدد فرمائی تھی۔ جب مشرکین نے حضور ﷺ کے قتل مصمم ارادہ کرلیا اور مسلح نوجوانوں نے رات کے وقت آپ کے مکان کا محاصرہ کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال حکمت کے ساتھ آپ کو وہاں سے نکال کر غار ثور میں پہنچا دیا تھا۔ جہاں آپ نے تین دن قیام فرمایا اور پھر آگے مدینہ طیبہ کے لیے روانہ ہو ئگے۔ اسی غار کے قیام کے متعلق گذشتہ درس میں یہ بیان گزر چکا ہے (آیت) ” ثانی اثنین اذھما فی الغار “ وہ دو میں سے دوسرے تھے ، کہ آپ نے اپنے ساتھی کو تسلی دی تھی کہ غم نہ کھائیں ، اللہ ہمارے ساتھ ہے حضور ﷺ نے اپنے یار حضرت صدیق اکبر ؓ سے یہ بھی فرمایا تھا ” انت صاحبی فی الغار وصاحبی فی الحوض “ اے ابوبکر صدیق ؓ ! جس طرح آپ غار ثور میں میرے رفیق ہیں اسی طرح حوض کوثر پر بھی میرے ساتھی ہوں گے ۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری شمولیت کے بغیر بھی اپنے نبی کی مدد کرسکتا ہے ، تا ہم جہاد میں تمہاری عدم شرکت خود تمہارے ہی لیے وبال جان بن جائیگی۔
فریضہ جہاد :
اب آج کی آیات میں تمام اہل ایمان کو جہاد میں شمولیت کی دعوت دی جا رہی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” انفروا خفافا وثقالا “ کوچ کرو ہلکے ہو یا بوجھل ، ہر حالت میں نکل کھڑے ہو (آیت) ” وجاھدوا باموالکم وانفسکم فی سبیل اللہ “ اور مال وجان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ فرمایا (آیت) ” ذلکم خیر لکم ان کنتم تعلمون “ یہ بات تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو یونی کچھ سمجھ رکھتے ہو۔ جہاد ایک عبادت ہے اور یہ دوصورتوں میں ادا ہوتی ہے۔ جہاد کبھی فرض عین ہوتا ہے اور اس میں مرد ، عورت ، بچے ، بوڑھے ، تندرست بیمار سب کے سب ماخوذ ہوتے ہیں مثلا غزوہ خندق کے موقع پر دشمن نے مدینہ پر زبردست چڑھائی کردی تھی ، ایسے حالات میں ہر کس وناکس پر دفاع فرض عین ہوتا ہے اور اس سے کوئی فرد واحد بھی مستثنیٰ نہیں ہوتا ایسے موقع پر جو کوئی سستی دکھاتا ہے وہ سخت مجرم ہوتا ہے اور اس کا وبال پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ البتہ عام حالات میں جہاد کا فریضہ بطور فرض کفایہ ادا کیا جاتا ہے۔ یہ ایسا فرض ہوتا ہے کہ قوم کے بعض لوگ ادا کرلیں تو سب کی طرف سے ادا ہوجاتا ہے اور اگر کوئی بھی یہ فریضہ ادا نہ کرے تو سب کے سب گنہگار ہوتے ہیں۔ مثلا مردو کا کفن دفن ، جنازہ ، حدود اللہ کا قیام ، دین کی تعلیم وغیرہ فرائض کفایہ ہیں اور بعض کی ادائیگی سے یہ فرائض سب کے طرف سے ادا سمجھا جائے گا۔
امام ابوبکر جصاص (رح) اپنی تفسیر میں نقل کرتے ہیں کہ آپ دس دفعہ قسم اٹھا کر کہتے تھے کہ اے لوگو ! سن لو ، جہاد فرض ہے جب ان سے مدد طلب کی جائے تو مدد کریں اور جب انہیں ساتھ چلنے کو کہا جائے تو ان کا جانا ضروری ہوجاتا ہے۔ اگر کسی شخص کی جہاد میں ضرورت نہیں ہے تو بیشک گھر میں بیٹھا رہے اور اگر ضرورت ہے تو پھر اس کو لازما جانا ہوگا ، آگے اسی سورة میں آرہا ہے کہ جو آدمی بیمار ہے ، معذور ہے تو وہ مستثنیٰ ہوگا مگر اس شرط کے ساتھ (آیت) ” اذا نصحوا للہ ورسولہ “ جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے حق میں خیر خواہی کرنے والے ہوں اگر جہاد میں بالفعل شریک نہیں ہو سکتا تو زبان سے ہی خیر خواہی کی بات کردے ، اہل ایمان کے حق میں پراپیگنڈا ہی کر دے جس سے مسلمانون کی حوصلہ افزائی اور دشمنوں کی حوصلہ شکنی ہو۔
شرائط بیعت :
جیسا کہ پہلے عرض کیا اس مقام پر غزوہ تبوک کا ذکر ہو رہا ہے۔ اس موقع پر نضیر عام کا حکم ہوا اور حضور ﷺ نے تمام مسلمانوں کو جہاد میں شرکت کا حکم دیا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک صحابی بشیر ابن الخصاصیہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ، حضور ! آپ کس چیز پر بیعت لیتے ہیں فرمایا سب سے پہلی بات یہ ہے ” ان تشھد ان الا الہ الا اللہ وانی عبدہ ورسولہ “ کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اس کا بندہ اور رسول ہوں ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ تمہیں دن میں پانچ نمازیں ادا کرنا ہوں گی ، رمضان کے روزے رکھنا ہوں گے سال ہے مال ہے تو ہر سال زکوٰۃ دینا ہوگی اور اگر استطاعت ہے تو بیت اللہ کا حج کرنا ہوگا۔ نیز اپنے مال وجان کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ہوگا۔ حضور ﷺ نے فرمایا ، میں ان چھ باتوں پر بیعت لیتا ہوں۔ اس پر بشیر کہنے لگا ، حضور عقیدہ تو درست رکھوں گا ، نماز اور روزے بھی ادا کروں گا۔ مگر میرے پاس وافر مال نہیں ہے اس لیے نہ تو میں زکوٰۃ ادا کرسکوں گا اور نہ حج کے لیے جا سکوں گا۔ اس کے علاوہ میں کمزور دل آدمی ہوں لہٰذا جہاد میں بھی شریک نہیں ہوگا اس پر حضور ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک بیعت سے پیچھے ہٹا لیا اور فرمایا اے بشیر ! ” لا جھاد ولا صدقۃ فیما تدخل الجنۃ “ اگر تم جہاد میں شامل نہیں ہو گے اور صدقہ نہیں دو گے تو جنت میں کیسے داخل ہو گے یہ سن کر بشیر نے تمام ارکان پورا کرنے کا وعدہ کر کے بیعت کے لیے ہاتھ بڑھا دیا۔
ارکان اسلام اور جہاد :
فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ عقیدے کی اصلاح کے بعد پانچ عبادات ہیں۔ ان میں سے نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰۃ فرض عین ہیں اور پانچویں عبادت جہاد ہے جو کبھی فرض عین ہوتی ہے اور کبھی فرض کفایہ فرض عین کا حکم یہ ہے کہ اگر استطاعت موجود ہو تو وہ ہر حالت میں فرض ہوتی ہے ۔ مثلا نماز اور روزہ ہر عاقل ، بالغ اور تندرست آدمی پر فرض ہے۔ اگر کسی وقت کوئی عذر ہے تو یہ عذر رفع ہونے پر نماز یا روزہ کی قضا دینا ہوگی۔ اسی طرح زکوٰۃ اور حج ہے اگر مال موجود ہے اور نصاب کو پہنچ گیا ہے تو سال میں ایک دفعہ زکوٰۃ ادا کرنا لازمی ہوگا یہ کسی صورت میں بھی ٹل نہیں سکتی۔ اگر سفر خرچ موجود ہے اور آدمی سفر کے قابل ہے تو اسے حج بھی لازما کرنا پڑیگا۔ حضور نے فرمایا جو استطاعت کے باوجود حج نہیں کرتا۔ وہ ہماری طرف سے یہودی ہو کر مرے یا نصرانی۔ ہمیں کچھ سروکار نہیں۔ حج فرض عین ہے۔ یہ بھی کسی عذر کی وجہ سے مئوخر تو کیا جاسکتا ہے مگر ساقط نہیں ہو سکتا۔ باقی رہا جہاد ، تو جیسا کہ پہلے عرض کیا اس کی دو حالتیں ہیں۔ ایک فرض عین ہے جب کہ نفیر عام ہو تو جہاد کسی چھوٹے ، بڑے ، مرد ، عورت ، بچے ، بوڑھے کو معاف نہیں بلکہ سب کو حصہ لینا پڑے گا۔ البتہ اگر عام لام بندی کی ضرورت نہیں بلکہ مجاہدین دفاع کے لیے کافی تعداد میں موجود ہیں ، تو یہ فرض کفایہ ہوگا اور دفاعی یا اقدامی جنگ لڑنے والے سپاہی ساری قوم کی کفایت کریں گے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ارکانِ اسلام والی حدیث میں ” بنی الاسلام علی خمس “ کا ذکر ہے یعنی اسلام کے ارکان کی تعداد پانچ ہے۔ اس میں عقیدہ توحید و رسالت کے بعد چار عبادات یعنی نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰۃ کا ذکر ہے۔ تاہم دوسری حدیث میں جہاد کو بھی عبادات میں شامل کیا گیا اور یہ پانچویں فرض عبادت ہے۔
جہاد بطور عبادت :
جب سے جہاد کی ذمہ داری عام مسلمانوں کی بجائے صرف فوج پر ڈالی گئی ہے ، اس وقت سے جذبہ جہاد مفقود ہو کر رہ گیا ہے۔ فوج کے افسر اور سپاہی تنخواہ اور مراعات کے بدلے میں اپنی ڈیوٹی انجام دیتے ہیں وہ جہاد کو ایک عبادت سمجھ کر نہیں کرتے۔ جہاد کا تعلق ہر مومن کے ایمان کے ساتھ ہے جو اسے نماز اور روزہ کی طرح فرض سمجھ کر بجا لانے کا پانبد ہے نہ کہ محض تنخواہ وصول کرنے کے لیے۔ اگر کوئی مسلمان نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰۃ جیسی عبادات کی ادائیگی کے لیے کوئی معاوضہ وصول نہیں کرتا ، تو پانچویں عبادت جہاد کے لیے کیسے تنخواہ وصول کرسکتا ہے۔ بوقت ضرورت ہر تندرست مومن جہاد میں شریک ہونے کا پابند ہے تا ہم اس کی یہ شرکت اس کی اہلیت کے مطابق ہوگی۔ اگر وہ محاذ پر جا کر لڑ سکتا ہے تو وہاں جائے گا اور ا گر اس قابل نہیں ہے تو مجاہدین کو اسلحہ پہنچانے کا کام کریگا۔ ان کے لیے خوراک کا انتظام کریگا۔ زخمیوں کی دیکھ بھال اور علاج معالجے کا کام کریگایا اندرون ملک شہری دفاع کے امور انجام دیگا۔ بہرحال اپنی حیثیت کے مطابق کوئی بھی مسلمان جہاد جیسی عبادات سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ موجودہ دور میں محاذ جنگ پر لڑنے والی فوج کے لیے خصوصی تربیت کی ضرورت ہے جو ملک کے ہر باشندے کو تو نہیں دی جاسکتی۔ تا ہم ضرورت کے مطابق شہری دفاع کی تربیت ہر شخص کے لیے لازمی ہونا چاہیے۔ اور دورانِ جنگ جو شخص جہاں بھی کوئی فرض ادا کرسکتا ہے ، اسے شامل ہونا چاہیے کیونکہ اس وقت جہاد فرض عین ہوجاتا ہے اور ہر شخص کو بقدر استطاعت حصہ لینا اپنے فرض کی ادائیگی کرنا ہے۔ اگر وہ کوتاہی کرے گا تو عند اللہ ماخوذ ہوگا۔ اسی لیے فرمایا کہ جہاد کے لیے کوچ کرو ، تم ہلکے ہو یا بوجھل مطلب یہ ہے کہ جو بھی ڈیوٹی انجام دے سکتے ہو۔ اس کے لیے نکل کھڑے ہو ۔
ہر حالت میں جہاد :
بعض فرماتے ہیں کہ ہلکے اور بوجھل کا مطلب یہ ہے۔ پیدل یا سوار فقیر یا غنی ، جوان یا بوڑھے ، غرضیکہ نفیر عام کے موقع پر کسی کا کوئی عذر مسموع نہیں ہوگا ، ہر حالت میں جہاد کے لیے نکلنا پڑے گا۔ شاہ ولی اللہ (رح) خفاف اور ثقال کے متعلق فرماتے ہیں کہ تمہارے پاس سامان تھوڑا ہے یا زیادہ ، تم بہرحال میدانِ جہاد میں کود پڑو۔ غزوہ بدر میں مسلمانوں کے پاس کتنا سامان تھا ؟ جب معمولی اسلحہ اور معمولی سامان کے ساتھ اللہ کے راستے میں نکل آئے تو اللہ نے فتح سے ہمکنار کیا۔ فرمایا مال اور جان دونوں چیزوں کے ذریعے جہاد میں حصہ لو۔ جس کے پاس دونوں چیزیں ہیں وہ دونوں بروئے کار لائے۔ جو خود شریک نہیں ہو سکتا ، معذور ہے ، وہ مال دے اور جس کے پاس مال نہیں وہ اپنی جان پیش کرے اور اگر دونوں چیزوں سے معذور ہے۔ تو نصیحت کی بات ہی کر دے۔ مجاہدین کی حوصلہ افزائی اور دشمن کی حوصلہ شکنی کی بات کر دے تو اس کے لیے جہاد ہے فرمایا ہر صورت میں جہاد میں شامل ہونا ہی تمہارے لیے بہتر ہے۔ کیونکہ اگر اس میں سستی دکھائو گے تو پھر ذلت کا منہ دیکھنا پڑیگا۔ پہلے گزر چکا ہے کہ اگر ضعف دکھائو گے تو پھر اللہ کے حکم کے منتظر رہو۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک بھی ہے کہ اگر جہاد سے منہ موڑو گے کمزوری کا اظہار کرو گے ” یسلط اللہ علیکم الذلۃ “ (1۔ جمع الوسائل شرح الشمائل ، ص 222 ج 2) (فیضاض) تو اللہ تعالیٰ تم پر ذلت کو مسلط کر دیگا۔ پھر تمہارا دین بھی ذلیل ہوگا ، غلام بن جائو گے جو کسی قوم کے لیے بدترین سزا ہے۔
منافقین کی حیلہ سازی :
اب آگے اللہ تعالیٰ نے منافقین کا حال بیان فرمایا ہے اور یہ آگے دور تک چلا جائے گا۔ جیسا کہ اگلے رکوع میں آرہا ہے۔ غزوہ تبوک کے موقع پر بعض منافقین حیلے بہانے سے پیچھے رہ گئے اور پھر حضور ﷺ کی واپسی پر عذر پیش کیے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورة میں ایسے منافقین کی قلعی کھول کر ان کو رسوا کیا ہے ، ان کے جھوٹ کو ظاہر کیا ہے اور آئندہ کے لیے خبردار کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ چال بالکل پسند نہیں۔ غزوہ تبوک کے لیے حضور ﷺ نے روانگی سے کئی ماہ پیشتر بیاری کا حکم دے دیا تھا۔ کیونکہ مدینہ سے بارہ منزل دور تقریبا ایک ہزار میل کا سفر طے کرنا تھا۔ مگر منافقین یون کہنے لگے (آیت) ” لو کان عرضا قریبا “ اگر سامان ہوتا قریب کا یعنی اس سفر میں وافر مال غنیمت ملنے کی توقع ہوتی ” وسفرا قاصدا “ اور سفر درمیانہ یعنی ہلکا ہوتا ” لا تبعوک “ تو ضرور آپ کے پیچھے جاتے یعنی شریک جہاد ہوتے۔ جیسا کہ خیبر کے موقع پر منافق کہتے تھے۔ (آیت) ” ذرونا نتبعکم “ الفتح) ہمیں بھی اپنے ساتھ جانے دیں۔ مگر اللہ نے فرمایا (آیت) ” قل لن تتبعوا ( الفتح) تم بالک ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے۔ منافقین جانتے تھے کہ خیبر میں بہت سے مال غنیمت ملے گا اور سفر بھی قریب تھا ، اس لیے اس معرکہ میں شامل ہونا چاہتے تھے۔ مگر نبی (علیہ السلام) نے اعلان فرما دیا کہ خیبر کے لیے وہ شخص جائیگا جو حدیبیہ میں شریک ہوا تھا ، لہٰذا منافقین وہاں نہ جاسکے۔ اور ادھر تبوک کے سفر کے لیے حالات ناساز گار اور سفر دراز تھا ، ادھرجانے کے لیے بہانے بناتے تھے۔
فتح تبوک :
فرمایا ، منافقین کہتے ہیں کہ اگر سفر ہلکا ہوتا اور سامان قریب ہوتا تو ہم بھی غزوہ تبوک میں شریک ہوجاتے ، مگر اللہ نے فرمایا (آیت) ” ولکن بعدت علیھم السقۃ “ کہ ان پر مسافت بعید ہوگئی ہے۔ ہزار میل کا فاصلہ اور گرمی کا موسم تھا ، قحط سالی کا زمانہ تھا ، راشن ، سامان سفر اور سواریاں بھی کم تھیں ، پانی کی قلت تھی ، راستے میں بیحد تکا لیف اٹھانا پڑیں۔ لشکر اسلام تبوک میں ایک ماہ تک قیام پذیر رہا مگر دشمن کو سامنا کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دہشت طاری کردی اور وہ پسپائی پر مجبور ہوگئے۔ علاقے بھر کی طاقتوں نے وفادری قبول کرلی۔ آپ نے ان سے جزیہ کا معاہدہ کیا ، نیز انہوں نے یہ بھی عہد کیا کہ آئندہ کے لیے وہ مسلمانوں کا ساتھ دیں گے اور رومیوں کی طرفداری نہیں کریں گے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو فتح عطا فرمائی اور وہ کامیاب وکامران واپس لوٹے ، یہ اتنا کٹھن سفر تھا کہ آج بھی جب واقعات پڑھتے ہیں تو ہل ایمان کی جانفشانی اور عظیم قربانی پر حیرت ہوتی ہے۔
منافقین کی اظہار معذوری :
فرمایا منافقین کا حال یہ ہے (آیت) ” وسیحلفون باللہ “ یہ اللہ کے نام کی قسمیں اٹھاتے ہیں (آیت) ” لواستطعنا لخرجنا معکم “ اگر ہم طاقت ، رکھتے تو ضرور تمہارے ساتھ نکلتے۔ ہم کوئی حیلہ بہانہ نہ کرتے کہ ہمیں فلاں مجبوری ہے فرمایا (آیت) ” یھلکون انفسھم “ جھوٹے بہانے بنا کر خود اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں۔ ایسے بہانے اللہ تعالیٰ کے ہاں نہیں چل سکتے صحیح حیلہ تو مسموع ہو سکتا ہے مگر جھوٹے بہانے تراش کر یہ خود ہی اپنے آپ کو تباہ کر رہے ہیں۔ چاہتے ہیں کہ کسی طرح لوگوں کے سامنے ذلیل ہونے سے بچ جائیں مگر آخرت کی رسوائی اور ہلاکت کی کچھ پرواہ نہیں کرتے۔
فرمایا (آیت) ” واللہ یعلم انھم لکذبون “ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں۔ جہاد سے جی چراتے ہیں اور اب جھوٹے بہانے بنا رہے ہیں۔ منافقین کی مذمت کا سلسلہ آگے دور تک جار ہا یہ۔ اللہ نے ان کے حالات بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمائے ہیں۔