Ayahs 9:71–72ربط آیات :
سورۃ انفال اور سورة توبہ کا مرکزی مضمون اسلام کا قانون صلح وجنگ ہے ان میں جہاد کی ضرورت اور فرضیت اور اس کے فوائد کا تذکرہ ہے اور ساتھ ساتھ جہاد کو ترک کرنے کا وبال اور خسارہ بھی بیان کیا گیا ہے ترک جہاد کی وجہ سے قوم پر ادبار اور زوال آتا ہے ، اللہ نے ان سب چیزوں کو بالوضاحت بیان کیا ہے۔ گذشتہ آیات میں اللہ نے جہاد سے پیچھے رہنے والے منافقین کی مذمت بیان فرمائی ہے اور پھر ان کے اوصاف قبیحہ کا ذکر بھی فرمایا ان اوصاف کی وجہ سے منافقین کے انجام کا ذکر بھی کیا۔ گزشتہ درس میں یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ منافق مرد اور عورتیں ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں ان کے اخلاق ، عادات اور خصائل ایک جیسے ہیں ، وہ ہمیشہ برائی کا حکم دیتے ہیں اور نیکی کے کام سے منع کرتے ہیں اس کے علاوہ وہ انتہائی درجے کے کنجوس ہیں اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اپنے ہاتھ روک لیتے ہیں۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو فراموش کردیا ہے تو خدا نے بھی انہیں اپنی رحمت سے دور کردیا ہے۔ نیز فرمایا کہ کافروں اور منافقوں کو اللہ تعالیٰ جہنم میں داخل کریگا۔ اللہ نے منافقین کو سابقہ اقوم کے حالات سے عبرت بھی دلائی کہ انہوں نے نافرمانی کی تو وہ سخت سزا میں مبتلا ہوئے اگر یہ لوگ بھی حق کو قبول نہیں کریں گے اور قبیح حرکات سے باز نہیں آئیں گے تو ان کا حشر بھی سابقہ اقوام سے مختلف نہیں ہوگا۔
بات یہاں سے چلی تھی کہ منافقین جہاد سے گریز کرتے تھے اور اللہ کی راہ میں اپنا مال بخوشی خرچ نہیں کرتے تھے۔ تو ان کے مقابلے میں اب اللہ تعالیٰ نے مومنوں اور ان کے اوصاف جمیلہ کا ذکر کیا ہے ان کی خصوصیات ، ان کے کام اور پھر ان کا انجام بھی بیان فرمایا ہے قرآن پاک کا یہ اسلوب بیان ہے کہ جہاں ترہیب کی بات کرتا ہے وہاں ترغیب کا ذکر بھی ہوتا ہے چناچہ منافقین کے تذکرے کے بعد اب مومن مردوں اور عورتوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ منافق مردوں اور عورتوں کی طرح مومن مرد و زن بھی ایک دوسرے سے مشابہت رکھتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ منافقین کا تشابہ فی الاخلاق برائی میں ہوتا ہے جب کہ مومنوں کا تشابہ نیکی کے کاموں میں ہوتا ہے۔
مردوزن کی معاشرتی حیثیت :
صنف نازک انسانیت کا نصف ہے۔ انسانی گاری مردوزن ہی کے دو پہیوں پر چلتی ہے۔ اللہ نے ابتداء سے ہی (آیت) ” خلق منھا زوجھا “ فرما کر اس کی حکمت ظاہر فرما دی۔ انسانیت کے لیے جتنا مرد ضروری ہے اتنا ہی عورت بھی ضروری ہے دونوں انسانی تمدن کے بنیادی عنصر ہیں۔ ان دونوں میں سے اگر ایک صنف نہ ہو تو دنیا کا نظام ہی نہیں چل سکتا۔ لہٰذا ہر ایک کو اپنی حیثیت کو سمجھنا چاہیے۔ اللہ نے یہ سارے حقائق سورة نساء میں بیان فرما دیے ہیں۔ مرد اور عورت انسانی سوسائٹی کے اہم ترین ارکان ہیں ، البتہ عورت کے مقابلے میں مرد کو اللہ نے فوقیت بخشی ہے۔ اور ہر ایک کے حقوق وفرائض اور ہر ایک کا دائرہ کار مقرر کیا ہے جس طرح مرد مکلف ہیں۔ اسی طرح عورتیں بھی مکلف ہیں اور جس طرح مرد کو عبادات کی ضرورت ہے اور اس کے نتیجے میں نجات کی ضرورت ہے اسی طرح عورت کو بھی ان چیزوں کی ضرورت ہے۔ البتہ ان دونوں کے درمیان تفریق صنف کی وجہ سے ہے۔ اللہ نے مردوں کو عورتوں پر فوقیت دیکر کچھ مزید فرائض بھی ان کے سپر د کیے ہیں ، تا ہم شریعت کی نظر میں دونوں یکساں مخاطب ہیں۔
مردوزن کا دائرہ کار :
امام شاہ ولی اللہ (رح) اپنی معرکۃ الآراء کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں فرماتے ہیں کہ اجتماعی نظام کی ذمہ داری اللہ نے مردوں پر ڈالی ہے۔ مسلمانوں کے امیر کے لیے شرط ہے کہ مسلمان ، عاقل ، بالغ اور مرد ہو ، عورت مسلمانوں کی امیر نہیں ہو سکتی۔ عورت کا کام پچھلی صف میں کھڑا ہونا ہے (آیت) ” اخروا النساء من حیث اخرھن اللہ “ عورتوں کو پیچھے رکھو جہاں اللہ نے ان کا مقام مقرر کیا ہے۔ جب بھی عورتوں کو پہلی صف میں لانے کی کوشش کروگے ، انتشار ہی پیدا ہوگا۔ انگریز عورت کو آگے لائے تو دنیا نے تمام خرابیوں کا مشاہدہ کرلیا۔ اگر ہر دفتر ، محکمے اور ادارے میں عورت کام کریگی تو بگار ہی پیدا ہوگا۔ یہ تو بیسویں صدی ختم ہو رہی ہے گذشتہ صدی کے ایک انگریز مورخ اور فلسفی نے کہا تھا کہ لعنت ہو ہمارے اس قانون پر جو انگریزوں نے وضع کیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ یورپ کی پنتالیس کروڑ کی آبادی میں سے یقین کے ساتھ پنتالیس حلال کے آدمی بھی نہیں نکالے جاسکتے۔ عورتوں اور مردوں کو خلط ملط کرنے کا یہی نتیجہ نکلے گا۔ یہ اسلام ہی ہے جس نے ہر چیز کو اپنے اپنے مقام پر رکھا ہے۔ عورت کے فرائض ہیں مگر اپنے دائرہ کار میں رہ کر۔ اگر عورت مردوں کی صف میں کھری ہوگی تو لازما خرابی پیدا ہوگی۔ جہاد جیسا عظیم فرض بھی اصلا مردوں پر فرض ہے ، عورت اس کے لیے مکلف نہیں۔ ہاں عورت مجاہدین کی معاون بن سکتی ہے ان کی خدمت پر مامور ہو سکتی ہے ۔ اگر تلوار لے کر اگلے مورچے پر مردوں کے شانہ بشانہ جانے کی کوشش کریگی۔ تو اس کا یہ عمل خلافِ فطرت اور خرابی کا باعث ہوگا۔
اسی طرح اجتماعی امور میں عورت مقتدی تو بن سکتی ہے مگر امام بن کر نماز نہیں پڑھا سکتی۔ اگر عورت امام بنے گی تو نہ اس کے اپنی نماز ہوگی اور نہ کسی مقتدی کی۔ عام نمازوں کے علاوہ عورت جمعہ اور عیدین کی نماز بھی نہیں پڑھا سکتی ، کیونکہ یہ خالصتا مردوں کی ذمہ داری ہے۔ امام شعرانی (رح) نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ارشاد وتبلیغ کی بنیادی ذمہ داری بھی اللہ نے مردوں پر ڈالی ہے۔ عورتوں کا مردوں کو تبلیغ کرنا خلاف فطرت بات ہے اس سے امریکہ ، روس اور یورپ کا تمدن تو زندہ ہو سکتا ہے۔ اسلام کا تمدن زندہ نہیں ہوگا۔ عورتیں صرف وہ کام کریں جو ان کی ذمہ داری میں ہیں۔ ڈاکٹر اقبال مرحوم نے بھی کہا ہے کہ گھر میں رہ کر گھر کی آبادی کے ضمن میں عورت کو بڑی اہمیت حاصل ہے اولاد کی تربیت عورت کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ ہر مسلمان کی پہلی یونیورسٹی اس کا گھر ہوتا ہے جہاں سے بنیادی تعلیم حاصل کرتا ہے۔
مادرت ، درس نختیں باتو داد
انسان کو پہلا سبق ماں ہی سکھاتی ہے اور جو کچھ سکھاتی ہے وہ ساری عمر یاد رہتا ہے ۔ اگر کلمہ پڑھائے گی ، قرآن وحدیث کا درس دیگی تو وہ یاد رہے گا اور اگر گالی گلوچ اور گانے سکھائے گی تو بچہ وہی کچھ سیکھے گا۔ جو کچھ پڑھائے گی بچے کے ذہن پر اس کا نقش باقی رہے گا۔
مومن مردوزن کے خواص :
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” والمومنون والمومنٰت “ مومن مرد اور مومن عورتیں (آیت) ” بعضھم اولیاء بعض “ بعض بعض کے رفیق ہیں۔ یہ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں اور اخلاق و عادات میں آپس میں مشابہت رکھتے ہیں۔ جس طرح کافر کافر کا ، منافق منافق کا اور بےدین بےدین کا رفیق ہوتا ہے۔ اسی طرح مومن مومن کا رفیق ہوتا ہے کسی مومن کا دوست اور سرپرست کوئی کافر نہیں ہو سکتا تو فرمایا مومن مرد اور مومن عورتیں اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے آپس میں مشابہت رکھتے ہیں اور ان میں بعض امور یہ ہیں کہ (آیت) ” یامرون بالمعروف “ ان سب کی اچھی خصلت یہ ہے کہ وہ نیکی کی تلقین کرتے ہیں (آیت) ” وینھون عن المنکر “ اور برائی کے کام سے منع کرتے ہیں مومن مرد اور عورتوں کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ اچھی بات کرتے ہیں۔ جو کوئی برائی کی تلقین کرے گا وہ منافق بن گیا یا منافقہ یا پھر مشرک اور مشرکہ بن گئے۔ لہٰذا مومن مرد اور عورتیں ایمان کی دعوت دیتے ہیں یا تبلیغ اور جہاد کی طرف بلاتے ہیں۔ اس کے علاوہ مومنین اور مومنات فرائض کی تلقین کرتے اور شریعت مطہرہ سے ثابت اچھائی کی باتوں کا حکم کرتے ہیں ۔ اور جو چیزیں عقل اور شریعت کے نزدیک بری ہیں مثلا شرک ، بدعت ، نفاق ، ظلم وغیرہ ، ان سے روکتے ہیں۔ بداخلاقی ، دھاندلی فتنہ و فساد ، جھوٹ ، فریب اور فراڈ سے منع کرتے ہیں۔
حصول علم کا فریضہ :
تبلیغ کا کام اصلا مرد کے ذمہ ہے ، تا ہم عورتیں بھی اپنے ماحول میں اسی وقت تبلیغ دین کا فریضہ انجام دے سکیں گی جب ان کے پاس معقول علم ہوگا اور ا گر عورتوں کو تعلیم ہی نہیں دی گئی تو وہ اچھائی کی تلقین کیسے کریں گی۔ اسی لیے تعلیم کو انسان کے بنیادی حقوق میں شمار کیا گیا ہے ” طلب العلم فریضہ علی کل مسلم “ علم کا حصول ہر مسلمان کا فرض ہے اس کے ساتھ مسلمۃ کا لفط بھی لگاتے ہیں مگر اس کی ضرورت نہیں۔ بنیادی تعلیم کا حصول دونوں پر فرض ہے اور بنیادی تعلیم وہ ہے جس سے انسان اپنا عقیدہ درست کرسکے ، حقوق و فرائض کو پہچان سکے اور پھر اس کے مطابق عمل کرسکے۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس وقت دنیا کی اکثر آبادی اعراف میں ہے ، چھوٹے طبقات کسان ، مزدور وغیرہ تک دین کی بات نہیں پہنچی۔ ان کی تعلیم کا حکومت کوئی انتظام نہیں کرتی حالانکہ ہر شخص کے لیے تعلیم جبری ہونی چاہیے اور پھر اس میں دینی تعلیم کو مقدم رکھا جائے تا کہ ہر شخص اپنے فرائض کو پہچان کر ان پر عمل پیرا ہو سکے۔
اس وقت دنیا میں برائی کی ابتداء عورت سے ہوتی ہے یہ تو مردوں کا کام ہے کہ عورتوں کی صحیح تربیت کریں اور ان کو ایسی تعلیم دیں کہ برائی کا قلع قمع ہو سکے مگر اس کے برخلاف یہ مرد ہی ہیں جو عورت کو خود گھسیٹ کر برائی کے راستے پر لے جاتے ہیں کھیل تماشہ ہو یا سیر و تفریح کا موقع عورتوں کو مرد ہی ساتھ لے جاتے ہیں۔ اگر مرد عورتوں کو صحیح راستے پر لانا چاہیں تو یہ عین ممکن ہے اور اگر مرد ہی بےدین ہون ، ہر وقت عیاشی اور فحاشی کی باتیں کریں تو عورت بھی ویسی ہی ہوگی۔ اچھائی کی تلقین کرنے کے لیے پہلے اچھائی سے واقفیت ضروری ہے اور یہ اچھی تعلیم سے ہوتی ہے لہٰذا حصولِ تعلیم مرد اور عورت دونوں کے فرائض میں داخل ہے۔
مسلمانوں کی زبوں حالی :
فرمایا مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔ یہ نیکی کا حکم کرتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں مگر اس زمانے میں معاملہ بالکل الٹ ہوچکا ہے۔ اب مسلمان آپس میں مشابہ ہونے کی بجائے دوسری اقوام سے اس قدر مشابہ ہیں کہ مسلم اور کافر میں امتیاز ہیں نہیں ہو سکتا۔ کون کسی سوسائٹی کا ممبر ہے کچھ پتہ نہیں چلتا۔ اب تو تشابہ فی الاخلاق عیسائیوں اور کافروں کے ساتھ ہو رہا ہے بلکہ مسلمان ان سے بھی گئے گزرے ہیں کیونکہ وہ اپنے اصول ہی ترک کرچکے ہیں ۔ اب تو نیکی کی بجائے برائی کی تلقین میں مسلمان پیش پیش ہیں۔ کھیل تماشہ ، سود خور ، برائی اور بدکاری ، شرک اور بدعات ، رسومات باطلہ اور لغویات مسلمانوں کے پسندیدہ مشاغل ہیں اور انہیں کے حق میں پراپیگنڈا کر رہے ہیں ، آج ہر برائی کا اشتہار مسلمان دے رہا ہے۔ اس معاملے میں تو مسلمان یہودیوں اور عیسائیوں کو بھی مات کر گئے ہیں جب تک مسلمانوں میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی صفت موجود رہے گی ہم زندہ رہیں گے ، ہماری قوم زندہ رہیگی ۔ چند افراد کی بات نہیں۔ جب تک غالب اکثریت نیکی کی طرف رجوع نہیں کریگی ، اسلامی انقلاب برپا نہیں ہوسکتا۔ اجتماعی نظام کی تبدیلی افراد کا نہیں ، جماعتوں کا کام ہوتا ہے اور یہ اسی صور ت میں ممکن ہے کہ قوم کی ساٹھ فیصدی آبادی امر مال معروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ سنبھال لے اگر ایسا ہوجائے گا تو باقی چالیس فیصدی خود بخود مغلوب ہو کر درست ہوجائیں گے۔ اور اگر اکثریت برائی کی طرف راغب رہیگی تو پھر اصلاح احوال کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔
صلوٰۃ وزکوٰۃ :
فرمایا مومنوں کے دو کام تو یہ ہیں کہ نیکی کا حکم کرتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں ، نماز ایک ایسی عبادت ہے جس سے تعلق باللہ درست ہوتا ہے۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ نماز کی مثال ایسی ہے کہ اگر کسی مالک کا بھاگا ہوا۔ غلام واپس آکر آپنے مالک کے حضور پیش ہو کر معافی مانگ لے گا تو مالک کا غصہ ٹھنڈا ہوجاتا ہے اسی طرح جب کوئی بندہ اپنے پروردگار کے سامنے دست بستہ نماز میں کھڑا ہوجاتا ہے تو مالک حقیقی کا غصہ فرو ہوجاتا ہے۔ اور جب کوئی شخص اللہ کے حضور حاضر نہیں ہوتا ، اس کی عبادت نہیں کرتا بلکہ اغیار کی اطاعت کا دم بھرتا ہے تو خدا تعالیٰ ناراض ہوجاتا ہے تو نماز کو ترک کرنا خدا تعالیٰ کے غضب کو دعوت دینا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ مومن نماز کو برپا کرتے ہیں۔ نماز کا قیام گھر سے لے کر حکومتی سطح تک سب کا فریضہ ہے۔ جب حکمران خود نماز پڑھنے لگیں گے اور عوام میں نظام صلوٰۃ رائج کریں گے تو سارا نظام درست ہوجائے گا۔ فرمایا (1۔ الترغیب والترھیب ، ص 195 ، ج ، 1 بحولہ مسند بزار) (فیاض) لا حظ فی الاسلام لمن لا صلوٰۃ لہ “ جس کا نماز میں حصہ نہیں اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ۔ فرمایا نماز ادا کرنے کے علاوہ مومن مردوں اور عورتوں کا یہ کام بھی (آیت) ” ویوتون الزکوٰۃ “ وہ زکوٰۃ بھی ادا کرتے ہیں۔ زکوٰۃ سے دو فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ سے انسان سے بخل دور ہوتا ہے اور دوسری طرف مجبور اور محتاج انسانوں کی ضرورت پوری ہوتی ہے اللہ نے اس میں یہ دوہری مصلحت رکھی ہے۔
اللہ اور سول کی اطاعت :
اب اہل ایمان کی پانچویں صفت یہ بیان فرمائی ہے (آیت) ” ویطیعون اللہ ورسولہ “ وہ اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرتے ہیں ایک مومن کا مطمع نظر یہ ہوتا ہے کہ کسی وقت خدا اور رسول کے احکام کی خلاف ورزی نہ ہوجائے۔ مومن آدمی اور عورت خدا اور رسول کی اطاعت کے لیے ہمیشہ کمر بستہ رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ضمن میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بہترین مثال پیش کی ہے۔ سورة بقرہ میں موجود ہے (آیت) ” اذ قال لہ ربہ اسلم “ جب ان کے پروردگار نے ان سے فرمایا۔ فرمانبردار بن جائو تو آپ نے فورا کہا (آیت) ” قال اسلمت لرب العلمین “ میں پروردگار عالم کی اطاعت وفرمانبرداری کے لیے ہر وقت تیار ہوں میں اس کے ہر ارشاد کی تعمیل کے لیے حاضر ہوں۔ ” لبیک اللھم لبیک “ کا بھی یہی معنی ہے کہ مولا کریم میں تیرا ہر حکم بسر وچشم تسلیم کرنے کے لیے حاضر ہوں ۔ ایسے مومن مردوں اور مومن عورتوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” اولئک سیرحمھم “ اللہ یہی وہ خوش نصیب لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ یقینا رحم فرمائے گا (آیت) ” ان اللہ عزیز حکیم “ بیشک اللہ تعالیٰ کمال قدرت کا مالک اور حکمت والا ہے وہ اپنی حکمت کے مطابق مومنین کو ضرور انعامات سے نوازے گا۔
مومنوں کے لیے انعامات :
فرمایا یاد رکھو ! (آیت) ” وعد اللہ المومنین والمومنٰت جنٰت تجری من تھ تھا الانھر خلدین فیھا “ اللہ تعالیٰ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے ایسے باغوں کا وعدہ کیا ہے جن کے سامنے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہنے والے ہون گے۔ اس کے علاوہ (آیت) ” ومسکن طیبۃ فی جنت عدن “ ان کو نہایت صاف ستھری اور پاکیزہ رہائش گاہیں نصیب ہوں گی رہائشوں کے باغات میں ۔ باغات تو بغیر رہائشی سہولتوں کے کھلے عام بھی ہوتے ہیں مگر جنتیوں کو ایسے باغات حاصل ہوں گے جن میں رہائش کے لیے کوٹھیاں اور بنگلے ہوں گے۔ یہاں اختصار کے ساتھ انہیں چیزوں کا ذکر کیا ہے ، البتہ دوسرے مقام پر عمدہ لباس ، لذیز ترین ماکولات ومشروبات اور دیگر نعمتوں کا بھی ذکر ہے۔ خاص طور پر بیویوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” ولھم فیھا ازواج مطھرۃ “ ان کے لیے اخلاق و عادات اور شکل و صورت کے اعتبار سے نہایت پاکیزہ بیویاں ہوں گی۔ وہ شخص کتنا سعادت مند ہوگا ، جس کو پاکیزہ بیوی ، پاکیزہ مکان اور پاکیزہ کھانا پینا نصیب ہوگا۔
رضائے الٰہی :
بہشت میں ان مادی نعمتوں کے علاوہ ایسی روحانی نعمتیں بھی نصیب ہوں گی جو سکون ، راحت ، فرحت اور روحانی مسرت کا باعث ہوں گی۔
وہ کیا ہے ؟ (آیت) ” ورضوان من اللہ اکبر “ وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ہوگی جو سب سے بڑی نعمت ہے ، مادی نعمتیں عطا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ جنتیوں سے فرمائے گا ، کیا میں تمہیں کچھ مزید عطاکروں ؟ لوگ تعجب سے کہیں گے کے اے مولا کریم ! تو نے ہمیں وہ نعمتیں دی ہیں جو کسی کو نہیں دی ہوں گی اب اور کون سے نعمت باقی ہے۔ اللہ فرمائے گا (آیت) ” احل علیکم رضوانی فلا اسخط علیکم بعدہ ابدا “ میں تمہیں اپنی خوشنودی اور رجا کی نعمت عطا کرتا ہوں اور یہ نعمت تم سے کبھی نہیں چھینی جائیگی۔ میں تم سے آئندہ کبھی ناراض نہیں ہوں گا۔ چناچہ اہل ایمان کو جتنی خوشی اس بات سے ہوگی کسی اور چیز سے نہیں ہوگی۔ اور پھر دوسری بات یہ کہ (آیت) ” الذین احسنوا الحسنی “ جنہوں نے دنیا میں اچھے کام کیے ان کو اچھائی کا اچھا بدلہ ملے گا (آیت) ” وزیادۃ “ اور کچھ مزید حاصل ہوگا۔ اور وہ اللہ کا دیدار ہوگا۔ یہ روحانی نعمتوں کا بلند ترین مرتبہ ہوگا۔ اس سے زیادہ خوشی والی کوئی چیز نہیں ہوگی۔ اس مقام پر صرف رضوان کا ذکر ہے جب کہ دوسرے مقام پر دیدار کا ذکر بھی آتا ہے لہٰذا جب بھی کوئی مومن نیک کام کرے تو اس کی خواہش یہ ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہوجائے۔
ہمارے بزرگوں میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (رح) فرمایا کرتے تھے کہ لوگ لمبی چوڑی دعائیں مانگتے ہیں مگر میں یہ مختصر دعا مانگتا ہوں ” اللھم انی اسئلک رضاک والجنۃ واعوذ بک من سنحطک والنار “ اے اللہ ! میں تجھ سے تیری رضا اور جنت کا سوال کرتا ہوں اور تیری ناراضگی اور جن ہم سے پناہ مانگتا ہوں ۔ جب خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل ہوگئی تو سب کچھ حاصل ہوگیا۔ اگر خدا رضی نہیں ہوگا تو کچھ نہیں ملے گا۔ یہ بہت بڑی دعا ہے جس کو ایک مومن طلب کرتا ہے ۔ فرمایا (آیت) ” ذلک ھو الفوز العظیم “ یہ بہت بڑی کامیابی ہے کہ اللہ کی رضا حاصل ہوجائے۔ اللہ نے منافقوں کا انجام بھی بیان فرمادیا اور مومنوں کے نیک اعمال اور ان کے لیے انعامات کا تذکرہ بھی کردیا ہے۔ تا ہم منافقین کی مذمت کا بیان ابھی جاری ہے۔
Ayahs 9:73–74ربط آیات :
اس سورة کا موضوع ہی جہاد ہے لہٰذا اس کا تذکرہ ہو رہا ہے ، پہلے مشرکین اور کافرین کے ساتھ جہاد کا حکم دیا گیا اور اہل کتاب کے ساتھ بھی یہی سلوک کرنے کا حکم ہوا۔ چونکہ جہاد سے گریز کرنے والے زیادہ تر منافقین ہی تھے اس لیے اللہ نے ان کی مذمت بیان فرمائی ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ منافقین کے برے اوصاف کا تذکرہ اور پھر ان کے برے انجام کا بیان بھی ہوچکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے اوصافِ جمیلہ اور ان کو حاصل ہونے والے انعامات کا ذکر بھی گذشتہ درس میں کردیا ہے۔
خطاب کی نوعیت :
آج کی آیات بھی سابقہ سلسلہ مضمون کے ساتھ مربوط ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے (آیت) ” یایھا النبی “ اے نبی ع ! یہ خطاب تو حضور ﷺ کو ہے مگر حکم عام ہے قرآن پاک کے اکثر مقامات پر اس قسم کا خطاب پایا جاتا ہے جس میں روئے سخن تو حضور نبی کریم ﷺ کی طرف ہوتا ہے مگر بات پوری امت کو سمجھائی جاتی ہے۔ گویا حکم جو اللہ کے نبی کو دیا جارہا ہے ، وہ حکم پوری امت کے لیے واجب التعمیل ہے ، مثلا سورة کوثر میں ہے (آیت) ” فصل لربک وانحر “ اپنے رب کے لیے نماز پڑھو۔ اور قربانی کرو۔ یہ خطاب تو نبی (علیہ السلام) سے ہے مگر ساری جماعت المسلمین اس حکم کی مکلف ہے۔ بعض مقامات پر اللہ نے اپنے پیغمبر کو خصوصی خطاب فرمایا ہے اور وہ حکم صرف آپ ہی کے لیے ہے۔ تا ہم خطاب زیر درس مخصوصہ میں سے نہیں بلکہ عام حکم ہے۔
چار گروہوں سے جہاد :
ارشاد ہوتا ہے ، اے پیغمبر ! (آیت) ” جاھد الکفار والمنفقین “ آپ جہاد کریں کافروں اور منافقوں کے ساتھ۔ جہاد کا معنی ہے ” استفراغ الجھد ظاہرا و باطنا “ یعنی باطل کو مٹانے اور حق کو قائم کرنے کے لیے ظاہر ی اور باطنی پوری طاقت کھپا دینے کا نام جہاد ہے کفار کے ساتھ جہاد کا تفصیلی ذکر تو پہلے ہوچکا ہے ، تاہم منافقین سے جہاد کے متعلق اس آیت کی تفسیر میں حضرت علی ؓ سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ایک تلوار کافروں کے خلاف اٹھائی جائے ، دوسری منافقوں کے خلاف ، تیسری اہل کتاب کے خلاف اور چوتھی باغیوں کے خلاف اسی سورة میں پہلے گزر چکا ہے کہ اہل کتاب کے ساتھ اس وقت تک جنگ کریں جب تک کہ وہ مغلوب ہو کر جزیہ دینے پر آمادہ نہ ہوجائیں۔ باغیوں کے لیے بھی حکم یہ ہے کہ ان کے خلاف بھی جہاد کیا جائے کیونکہ وہ صحیح نظام کو درہم برہم کر کے افراتفری کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ سورة حجرات میں واضح حکم موجود ہے (آیت) ” فقاتلوا التی تبغی حتی تفیء الی امر اللہ “ باغیوں سے اس وقت تک جنگ کریں جب تک وہ لوٹ کر اللہ تعالیٰ کی طرف نہ آجائیں غرضیکہ کافر ، منافق ، اہل کتاب اور باغی یہ چار گروہ ہیں جن کے خلاف جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
منافقین کی ساتھ جہاد :
حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ اس آیت کی تشریح میں فرماتے ہیں کہ کفار کے ساتھ جہاد کے لیے تیر ، تلوار اور جدید ترین اسلحہ استعمال کرنے کا حکم ہے۔ جب کہ منافقوں کے ساتھ جہاد باللسان کی اجازت دی گئی ہے۔ بعض مواقع پر جب کسی منافق کا نفاق ظاہر ہوجاتا تو صحابہ کرام ؓ عرض کرتے کہ حضور ﷺ اس شخص نے سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے ، آپ اجازت دیں تو اس کا سرقلم کردیا جائے مگر حضور ﷺ نے کبھی بھی منافق کو قتل کرنے کا حکم نہیں دیا۔ ایک موقع پر نبی (علیہ السلام) نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اگر کسی منافق کو قتل کیا گیا تو لوگ کہیں گے ” ان محمدا یقتل اصحابہ “ کہ محمد ﷺ اپنے ساتھیوں کو بھی قتل کردیتے ہیں اور اس قسم کا پراپیگنڈا اسلام کے راستے میں رکاوٹ بن سکتا ہے ، لوگ کہیں گے کہ محمد نبی نہیں بلکہ ملوک ہیں جو ایسا کام کرتے ہیں کہ اپنے مخالفین کو راستے سے ہٹا دیتے ہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ منافق اگر قتل کا مستحق بھی ہو تب بھی اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ اگرچہ اس کے دل میں کفر بھرا ہوا ہے۔ البتہ ان کے متعلق فرمایا (آیت) ” واغلظ علیھم “ ان پر زبان سے سختی کریں۔ ا ن کے عیوب کو ظاہر کر کے انہیں رسوا کریں اور ان پر حدودجاری کریں ، ان کے خلاف یہی جہاد ہے۔ بالکل یہی آیت سورة تحریم میں بھی موجود ہے اور مفسرین کرام نے وہاں بھی اس سے جہاد باللسان ہی مراد لیا ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ منافقین کے ساتھ جہاد کرنے کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ انہیں جماعت سے الگ کردیا جائے عام سیاسی پارٹیوں کا بھی یہی دستور ہے کہ جب کوئی پارٹی منشور کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے پارٹی سے نکال باہر کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اسلام بھی منافقوں کو جماعت سے خارج کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اسی طرح اسلام بھی منافقوں کو جماعت سے خارج کرنے کا حکم دیتا ہے۔ ایسا کرنے سے یا تو وہ غلطی کا احساس کرکے تائب ہوجائیں گے اور دوبارہ جماعت میں شامل ہو سکیں گے اور یا پھر کافروں کے ساتھ اتحاد کرلیں گے۔ ایسی صورت میں ان کے خلاف جہاد بالسیف جائز ہوگا۔ کیونکہ وہ کھلم کھلا کفر کی حمایت میں چلے جائیں گے منافق اور مشکوک قسم کے لوگ ہمیشہ جماعت کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اہل حق کے خلاف سازشیں کرتے ہیں۔ لہٰذا ان کے خلاف سخت کاروائی ضروری ہے تا کہ ان کی حیثیت کھل کر سامنے آجائے۔ پھر ان کے آخری انجام کے متعلق فرمایا کہ اگر وہ نفاق سے باز نہ آئے (آیت) ” وماوٰھم جھنم “ ان کا ٹھکانہ جہنم میں ہے (آیت) ” وبئس المصیر “ جو کہ بہت برا ٹھکانہ ہے ۔
جہاد کے ذرائع :
درحقیقت جہاد مختلف ذرائع سے ہوتا ہے جن میں سے ایک ذریعہ مادی طاقت یعنی اسلحہ کا استعمال ہے۔ پرانے زمانے میں تیر ، تلوار اور نیزہ وغیرہ سے لڑائی ہوتی تھی۔ مگر اب آلات حرب بہت ترقی کرچکے ہیں۔ اب بندوق ، رائفل ، توپ ، راکٹ ، ہوائی جہاز ، بم اور میزائل وغیرہ جنگ میں استعمال ہوتے ہیں۔ اب جدیدہتھیاروں میں مہارت حاصل کیے بغیر جنگ کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ آج کے جدید ترین ہتھیار اور سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت سب کچھ جہادبالسیف میں شامل ہیں کیونکہ ان کے بغیر دشمن کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ ایک موقع پر خود حضور ﷺ نے بھی تیر اندازی فرمائی ہے اور اس کی تعریف کی ہے۔ اس زمانے میں تیر موثر ترین آلہ حرب ہوا کرتا ہے۔ گھوڑے بھی میدان ِ جنگ میں بہت کام آتے تھے لہٰذا انہیں جنگی نقطہ نظر سے خاص طور پر پالا جاتا تھا اب گھوڑوں کے قائم مقام ٹینک اور بکتر بند گاڑیاں آگئی ہیں جو جنگ میں بڑی کار آمد ثابت ہوتی ہیں۔
جہاد کا دوسرا ذریعہ مال ہے :
مجاہدین کے لیے اسلحہ ، نقل وحمل ، ان کی خوراک اور طبی امداد کے لیے مال کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا اسے بھی بڑی اہمیت حاصل ہے۔ جہاد کے لیے تیسری لازمی چیز جان ہے۔ قرآن میں جگہ جگہ موجود ہے (آیت) ” جاھدوا باموالکم وانفسکم “ یعنی اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد میں حصہ لو۔ جب تک اسلحہ استعمال کرنے میں نفوس نہیں ہوں گے ، لڑائی کیسے لڑی جائے گی ؟ پھر چوتھا ذریعہ جہاد باللسان ہے۔ مسند احمد کی حدیث میں آتا ہے ” جاھدوا الکفار والمشرکین باموالکم والسنتکم وانفسکم “ یعنی اللہ کے راستے میں جہاد کرو اپنے مالوں ، زبانوں اور جانوں کے ساتھ ، تبلیغ دین زبان کا جہاد ہے۔ کسی مشرک یا کافر کو دین کی دعوت دینا ، کسی کا شک شبہ دور کرنا ، تعلیم دینا ، اور اس تک اللہ اور رسول کا پیغام پہنچانا زبانی جہاد میں داخل ہے۔ اور جہاد کا پانچواں ذریعہ قلم ہے۔ قرآن وسنت میں قلم کی بڑی اہمیت بیان کی گئی ہے۔ سورة قلم میں اللہ نے اس کی قسم کھائی ہے (آیت) ” القلم وما یسطرون “ سورة علق میں فرمایا (آیت) ” الذی علمہ بالقلم “ رب تعالیٰ کی وہ ذات ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے ” یوزن مداد العلماء بدم الشھدا یوم القیمۃ “ یعنی علمائے حق کے قلم کی سیاہی کو قیامت کے دن شہیدوں کے خون کے برابر تولا جائے گا۔ تو گویا ایسی تحریرلکھنا ، اس کو شائع کرنا جس سے اسلام کو تقویت حاصل ہوتی ہو جہاد بالقلم ہی تو ہے۔
ذرائع جہاد کا غلط استعمال :
جہاد کے تمام ذرائع کو بڑی اہمیت حاصل ہے مگر اب مسلمانوں کے ہاں ان سب میں فتور پیدا ہوچکا ہے۔ اسلحہ غلط طریقے سے استعمال ہو رہا ہے اور مال تو بالکل ہی غلط راستوں پر خرچ ہو رہا ہے لوگوں کی اپنی جانیں آرام طلب ہوچکی ہیں اور نیکی کے کام میں زیادہ تر استعمال نہیں ہوتیں بلکہ اس کا رجحان برائی کی طرف ہوتا ہے زبان ہے تو وہ غلط راستوں پر چل رہی ہے۔ بنیادی چیزوں کی تبلیغ کی بجائے فتوی بازی پر صرف ہو رہی ہے۔ باقی رہا قلم تو اس کے کارنامے رسائل اور اخبارات میں دیکھ لیں۔ ہر طرف فحاشی اور عریانی پھیلائی جا رہی ہے نیکی کی تلقین کی بجائے قلم کا استعمال لوگوں کے اخلاق بگاڑنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ان تمام چیزوں میں فتور آچکا ہے جس کی وجہ سے مسلمان تنزل کی طرف جا رہے ہیں۔
منافقین کی جھوٹی قسمیں :
فرمایا منافقوں کی یہ خصلت بھی دیکھو (آیت) ” یحلفون باللہ ماقالوا “ اللہ کی قسمیں اٹھاتے ہیں کہ انہوں نے ایسا نہیں کہا۔ اس حصہ آیت کا پس منظر یہ ہے کہ جب حضور ﷺ نے جہاد سے پیچھے رہ جانے والے منافقین کی مذمت بیان فرمائی تو ان میں سے بعض نے کہا کہ جہاد سے پیچھے رہ جانے والے تو ہمارے اچھے لوگ ہیں ، حضور نے خواہ مخواہ ان کی مذمت بیان فرمائی ہے اور اگر آپ کی بات ٹھیک ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم گدھوں سے بھی زیادہ برے ہیں۔ کسی مسلمان نے یہ بات سن کر حضور ﷺ سے شکایت کی۔ جب حضور ﷺ نے اس منافق کو بلا کر اس قبیح حرکت کے متعلق پوچھا تو وہ صاف انکار کر گیا اور قسم اٹھالی کہ میں نے ایسی بات نہیں کی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ وحی نازل فرمائی کہ یہ جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم نے یہ بات نہیں کی۔ فرمایا ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں۔ نیز یہ کہ (آیت) ” واللہ یشھد ان المنفقین لکذبون “ (المنافقون) اللہ تعالیٰ گواہی دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں ، حضور ﷺ کے زمانے میں کئی مواقع پر منافقوں نے جھوٹی قسمیں کھا کر اپنے آپ کو بری کرنا ے کی کوشش کی۔ یہاں بھی اللہ نے فرمایا کہ وہ قسمیں اٹھاتے ہیں کہ انہوں نے یہ بات نہیں کہ (آیت) ” ولقد قالو کلمۃ الکفر “ حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ بولا ہے (آیت) ” وکفروا بعد اسلامھم “ اور اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے ہیں۔ گویا ایک غلط بات کہ کر اس سے انکار کفر کے برابر ہے۔
منصوبے کی ناکامی :
فرمایا (آیت) ” وھموا بمالم ینالوا “ انہوں نے ایسی چیز کا ارادہ کیا جسے پا نہیں سکے۔ اس جملے کی شان نزول کے متعلق مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے موقع پر حضور ﷺ اپنے دو صحابہ عمار بن یاسر ؓ اور حذیفہ ؓ کے ہمراہ قافلے سے الگ جا رہے تھے۔ راستے میں ایک تنگ ساتھیوں کے ساتھ اس تنگ درے میں داخل ہوں تو آپ کا کام تمام کردیا جائے رات کا وقت تھا وہ لوگ منہ لپیٹ کر ایک ناکے پر بیٹھ گئے کہ جب آپ ادھر آئیں گے تو آپ پر پتھروں کی بارش کردی جائیگی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی اس منصوبے کی خبر دیدی۔ آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا کہ اس قسم کے لوگ جہاں ملیں ان کو پکڑ لو چناچہ حضرت حذیفہ ؓ نے ان کو پالیا ، ان کے اونٹوں کو بھی مارا اور انہیں بھی بھاگنے پر مجبور کردیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا اس واقعہ کا تذکرہ کرنے کی ضرورت نہیں۔ ان میں سے بارہ آدمی ابدی جہنمی ہیں ، تین آدمیوں کو معذرت قرار دیا اور آٹھ کے متعلق فرمایا کہ ان کے جسموں میں ایسے پھوڑے نکلیں گے کہ اگر وہ سینے میں ظاہر ہوں تو ان کی جان پشت تک محسوس ہوگی ، اور اگر پشت پر نکلیں تو سینے تک جلن محسوس ہوگی اس واقعہ کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ انہوں نے ایک کام کا ارادہ کیا مگر وہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچا سکے۔
اس آیت کریمہ میں مذکور واقعہ کا پس منظر سورة منافقون میں بھی بیان کیا گیا ہے کسی جہاد کے موقع پر ایک انصاری اور ایک مہاجر آپس میں الجھ پڑے جھگڑے نے طول کھینچا اور انصاری کہنے لگا کہ واپس جا کر ہم ان ذلیل لوگوں کو مدینے سے نکال باہر کریں گے۔ یہ ممکن نہ تھا ، وہ شخص خود ہی ذلیل ہوا۔ اس کا اپنا بیٹا پکا سچا مسلمان تھا۔ اور باپ کی مخالفت کرتا تھا۔ یہ اس کے لیے بڑی اذیت ناک بات تھی۔ پھر یہ بھی کہ منافق لوگ عبداللہ ابن ابی کو اپنا سردار بنانا چاہتے تھے مگر حضور ﷺ اور اہل ایمان کی موجودگی میں وہ اپنے منصوبے کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچا سکے۔ بہرحال اس آیت کے مصداق یہ واقعات بھی ہو سکتے ہیں کہ منافقین اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔
فرمایا (آیت) ” وما نقموا الا ان اغنھم اللہ “ اور نہیں عیب پایا انہوں نے مگر یہ کہ اللہ نے اہل ایمان کو غنی کردیا۔ منافق تو ایمان والوں کو پھولتا پھلتا نہیں دیکھ سکتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے انہیں مالدار کردیا۔ یہ غریب لوگ تھے ، اسلام کی بدولت انہیں خیروبرکت عطا کی اور مال بھی دیا۔ مختلف لڑائیوں میں بہت سا مال غنیمت بھی ہاتھ آیا۔ اسی کے متعلق فرمایا کہ اللہ نے انہیں غنی کردیا (آیت) ” ورسولہ من فضلہ “ اللہ کے رسول نے بھی انہیں غنی کردیا اپنے فضل سے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں فضل سے مراد مال غنیمت ہے کہ حضور نے بڑی مقدار میں مال غنیمت مسلمانوں میں تقسیم کیا۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کی تجارت میں بھی بڑی ترقی ہوئی۔ انہوں نے بڑا نفع کمایا اور مالدار بن گئے۔
آخری موقع :
فرمایا منافقین کی ان تمام تر حرکات کے باوجود (آیت) ” فان یتوبوا یک خیرا لھم “ اگر یہ توبہ کرلیں تو ان کے لیے بہتر ہوگا۔ اب بھی سنبھل جائیں اور نفاق کو ترک کر کے صحیح ایمان قبول کرلیں تو ان کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ اللہ تعالیٰ سابقہ کوتاہیاں معاف فرما دیگا۔ (آیت) ” وان یتولوا “ اور اگر روگردانی کریں گے (آیت) ” یعذبھم اللہ عذابا الیما “ تو اللہ تعالیٰ نے انہیں دردناک عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اور وہ عذاب ایسا ہوگا (آیت) ” فی الدنیا والاخرۃ “ جو اس دنیا میں بھی ملے گا اور آخرت میں تو بہر ھال ہے ہی چناچہ لوگوں نے دیکھا کہ منافقین اس دنیا میں ہی اپنی کرتوتوں کی وجہ سے باربار ذلیل و خوار ہوئے اور اپنی کسی سکیم میں کامیاب نہ ہو سکے۔ فرمایا آخرت کا عذاب تو دائمی ہے اگر مرتے وقت نفاق ہی ساتھ لے کر گئے تو کفار کی طرح یہ بھی ابدی جہنمی ہوں گے (آیت) ” ومالھم فی الارض من ولی ولانصیر “ ان کے لیے زمین میں کوئی حمائتی اور مدد گار نہیں ہوگا۔ اب تو یہ لوگ دشمنانِ اسلام کے ساتھ مل کر سازشیں کرتے ہیں ، کبھی کسی فریق کی کی طرف داری کرتے ہیں اور کبھی کسی کی مگر بالآخر ایسی صورت حال پیدا ہونے والی ہے جب ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا۔ اگر یہ نفاق کو ترک نہیں کریں گے تو ان کا یہی حال ہوگا ، لہٰذا بہتر ہے کہ اب بھی توبہ کرلیں اور اسلام میں پورے کے پورے داخل ہوجائیں۔
Ayahs 9:75–78ربط آیات :
جہاد کی فرضیت اور پھر جہاد سے گریز کرنے والے منافقین کی مذمت بیان کی گئی۔ پھر منافقین کے خصائل اور ان کے انجام کا ذکر ہوا۔ اس کے بعد اہل ایمان کے اوصاف جمیلہ اور ان کی کامیابی کا بیان ہوا۔ اللہ نے کافروں کے ساتھ تلوار سے اور منافقوں کے ساتھ زبان کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا ۔ فرمایا ان کے عیوب کو ظاہر کیا جائے اور زبانی طور پر ڈانٹ ڈپٹ اور سختی کی جائے تا کہ یہ لوگ جماعت المسلمین سے الگ ہوجائیں یا تائب ہو کر سچے مسلمان بن جائیں۔ اگر منافقین کافروں کے ساتھ رل مل جائیں گے تو پھر کافروں کی طرح ان کے خلاف بھی جہاد بالسیف جائز ہوجائیگا گذشتہ آیات میں بھی بعض خاص منافقوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ اب یہاں بھی بعض خاص منافقوں کی بات ہو رہی ہے اور اس ضمن میں بعض اصولی باتیں بھی سمجھائی گئی ہیں۔
شانِ نزول :
مفسرین کرام (1۔ ابن کثیر ص 374 ، ج 2) بیان کرتے ہیں کہ انصار میں ایک شخص (2۔ یہ ثعلبہ بدری صحابی نہیں ہ۔ ملاحظہ ہو روح المانی ص 143 ، بلکہ ثعلبہ کئی آدمیوں کا نام ہے۔ ملاحظہ ہو الاصابہ ص 199 ج 1) (فیاض) ثعلبہ ابن حاطب تھا ، اس نے حضور ﷺ کی خدمت میں عرض کیا کہ حضور ! فقر کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا رہتا ہوں ، آپ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے غنی کر دے حضور ﷺ نے فرمایا کہ عام اصول یہ ہے ” ما قل وکفی خیر ممما کثر والھی “ جو تھوڑی چیز کفایت کر جائے وہ اس زیادہ سے بہتر ہے جو انسان کو غفلت میں ڈال دے۔ آپ نے اس شخص کو سمجھایا کہ مال و دولت میں فراوانی طلب نہ کرو کیونکہ انسان مال کے حقوق ادا نہ کر کے غفلت میں مبتلا ہوجاتے ہیں مگر ثعلبہ نے وعدہ کیا کہ میں مال کے سارے حقوق ادا کروں گا۔ صدقہ خیرات کیا کروں گا ، لہٰذا آپ ضرور میرے لیے خوشحالی کی دعا فرمائیں۔ حضور ﷺ نے اپنی مثال پیش کی کہ دیکھو ! میں خودقناعت پسند ہوں ، دولت کی خواہش نہیں کرتا ، لہٰذا تم بھی اس کی طالب نہ کرو مگر اس شخص نے اصرار ہی کیا۔ حضور ﷺ نے اس کے حق میں دعا فرمائی جو رب العزت کی بارگاہ میں قبول ہوئی اور تھوڑے ہی عرصہ میں ثعلبہ کے پاس بھڑ بکریوں کے کئی ریوڑ ہر گئے۔ پھر یہ شخص اپنے وعدے پر قائم نہ رہا اور اللہ نے اسے سخت ذلیل کیا۔ آج کی آیات کا مصداق یہی شخص ہے۔
انفاق سے اعراض :
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ومنھم من عھد اللہ “ ان منافقین میں سے بعض لوگو ایسے ہیں جنہوں نے اللہ کے ساتھ عہد کیا ہے (آیت) ” لئن اتنا من فضلہ لنصدقن “ اگر اللہ دے گا ہمیں اپنے فضل سے تو ہم ضرور صدقہ خیرات کریں گے (آیت) ” ولنکونن من الصلحین “ اور نیکی کرنے والوں میں سے ہوں گے۔ جب ثعلبہ کی بھیڑ بکریوں میں بہت اضافہ ہوگیا تو اس کا شہر میں رہنا مشکل ہوگیا اور وہ شہر چھوڑ کر گائوں میں چا بسا ، جوں جوں اس کا مال بڑھتا گیا اور اس کی مصروفیت میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ پہلے رات کی نمازیں چھوٹیں اور دن کے وقت مسجد میں آتا رہا۔ پھر وہ بھی جاتی رہیں اور صرف جمعہ رہ گیا اور پھر رفتہ رفتہ جمعی کی شرکت بھی ختم ہوگئی۔ جب زکوٰۃ کی ادائیگی کا وقت آیا تو حضور ﷺ نے اس کے پاس آۃ دمی بھیجے۔ ثعلبہ کی نیت خراب ہوچکی تھی اور وہ بخوشی زکوۃ ۃ ادا کرنے کے لیے تیار نہ تھا ، کہنے لگا ” ما اری الزکوٰۃ الا الجزیۃ “ زکوٰۃ نہیں مجھے تو جزیہ معلوم ہوتا ہے جو زبردستی وصول کیا جا رہا ہے اس پر ( شروع میں چالیس میں ایک پھر ایکسواکیس میں دو پھر دو سو ایک میں تین پھر چار سو میں چا ر اور پھر) ہر سو بھیڑ بکریوں میں سے ایک بھیڑ بکری زکوٰۃ نکلتی تھی مگر اس شخص نے انکار کردیا واپس آکر جب وصول کنند گان زکوٰۃ نے یہ واقعات حضور ﷺ کے گوش گزار کئے تو آپ نے تین دفعہ فرمایا ” ویحک یا ثعلبۃ “ اے ثعلبہ ! تجھ پر افسوس ہے کبھی تیری تنگی کی یہ حالت تھی کہ فراخی رزق کے لیے اصرار کر کے دعا کرائی تھی اور جب اللہ تعالیٰ نے تجھے مال و دولت عطا کیا ہے تو تو اس مال میں سے اللہ کی راہ میں دینے سے انکار کر گیا ہے پھر جب اس شخص کو حضور ﷺ کی ناراضگی کا علم ہوا تو زکوۃ کا مال لے کر خود حضور کی خدمت میں حاضر ہوا مگر آپ نے اس کا مال لینے سے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ خدا تعالیٰ نے تمہاری زکوٰۃ وصول کرنے سے منع فرما دیا ہے۔ یہ سن کر اسے بڑی شرمندگی ہوئی بڑا واویلا کیا حتی کہ اپنے سر پر مٹی ڈالی مگر حقیقت یہ ہے کہ منافق ہی تھا ، یہ سب کچھ اس نے دکھاوے کے لیے کیا تھا اور سچے دل سے ایمان نہیں لایا تھا۔
جب حضور نبی کریم (علیہ السلام) اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو یہ شخص پھر زکوٰۃ کا مال لے کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے پاس آیا مگر انہوں نے بھی یہ مال لینے سے انکار کردیا۔ فرمایا جب حضور ﷺ نے تجھ سے مال قبول نہیں کیا تو میں بھی نہیں کرسکتا۔ اس کے بعد حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانے میں اس نے پھر زکوٰۃ ادا کرنے کی کوشش کی مگر انہوں نے بھی اس کا مال قبول نہ کیا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ شخص حضرت عثمان ؓ کے زمانہ خلافت میں مرگیا ، اس نے توبہ نہیں کی اور نہ ہی اس سے زکوٰۃ وصول کی گئی و اس دنیا سے ناکام ونامراد ہی گیا۔
اس آیت کریمہ میں جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ثعلبہ واحد شخص نہیں جو اپنے نفاق اور عدم ادائیگی زکوٰۃ کی وجہ سے ناکام ہوا بلکہ اس قسم کے اور لوگ بھی تھے۔ اسی لیے فرمایا کہ بعض ان میں سے وہ ہیں کہ جنہوں نے عہد کیا کہ اگر اللہ انہیں اپنے فضل سے دے گا تو وہ صدقہ خیرات کریں گے اور نیکو کاروں میں ہوں گے مگر ہوا یہ کہ (آیت) ” فلما اتھم من فضلہ “ جب اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کیا (آیت) ” بخلوا بہ “ تو اس سے بخل کر گئے اور فرائض کی ادائیگی سے بھی انکار کردیا۔ (آیت) ” وتولوا وھم معرضون “ اور وہ پھرگئے اس حال میں کہ روگردانی کرنے والے ہیں۔ انہوں نے سچے دل سے ایمان لانے سے اعراض کیا اور مال کے حقوق ادا کرنے میں بخل کیا۔
نفاق کی پختگی :
اس بخل کا کیا نتیجہ نکلا ؟ (آیت) ” فاعقبھم نفاقا فی قلوبھم “ پس اللہ نے پیچھے رکھ دیا نفاق کا اثر ان کے دلوں میں یعنی ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا۔ اعقب کی ضمیر جب فعل بخل کی طرف لوٹتی ہے تو اس کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اس بخل نے ان کے نفاق کو پختہ کردیا (آیت) ” الی یوم یلقونہ “ اس دن تک جب وہ اللہ سے ملیں گے یعنی مرتے دم تک ان کے دلوں میں نفاق سزا کے طور پر راسخ ہوگیا۔ معلوم ہوا کہ جس کو اللہ تعالیٰ اپنا فضل عطا ر کرتا ہے ، پھر وہ ناشکری کرتا ہے یا بخل کرتا ہے ، حقوق ادا نہیں کرتا ، فرائض پورے نہیں کرتا تو خطر ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے دل میں تغیر پیدا کر دے۔ دوسرے مقام پر آتا ہے (آیت) ” کلا بل ران علی قلوبھم ما کانوا یکسبون “ (المطففین) ان کی بری کمائی یعنی گناہوں کی وجہ سے ان کے دل زنگ آلود ہوجاتے ہیں دل سیاہ ہوجاتے ہیں اور سخت ہوجاتے ہیں جو انتہائی قساوت قلبی کی علامت ہے اللہ نے بنی اسرائی کی مثالیں بیان کی ہیں کہ ان کے دل معکوس ہوگئے۔ اور ایسے سخت ہوگئے کہ ان میں رقت پیدا ہی نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے وہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں۔ انبیاء کو ایذا پہنچاتے ہیں اور طرح طرح کی بداعمالیاں کرتے ہیں اور پھر غضب الہٰی کے مستحق بنتے ہیں ، خدا تعالیٰ کی طرسے ان جر لعنت بھی برستی ہے۔ یہ تمام نتائج روگردانی ، بد عملی اور وعدہ خلافی کے ہیں۔ انہوں نے اللہ سے وعدہ کیا کہ اگر مال ملے گا تو صدقہ کریں گے مگر جب آسودگی آگئی تو اس وعدے کو بھول گئے اور مرتے دم تک نفاق میں مبتلا رہے۔
وعدہ خلافی اور جھوٹ :
حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ منافق کی علامت یہ ہے ” اذا وعدا خلف “ کہ جب وہ وعدہ کرتا ہے تو خلاف کرتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ ان کے دلوں میں نفاق اس وجہ سے راسخ ہوگیا (آیت) ” بما اخلفوا اللہ ما وعدوہ “ کہ انہوں نے اللہ سے وعدہ کیا اور پھر اس کی خلاف ورزی کی۔ اللہ تعالیٰ کا واضح ارشاد ہے (آیت) ” ان العھد کان مسئولا “ قیامت کے دن وعدے کے متعلق باز پرس ہوگی۔ سورة مائدہ میں بھی گزر چکا ہے (آیت) ” اوفوا بالعقود “ اے ایمان والو ! اپنے عہد کو پورا کیا کرو کہ یہ بڑی اہم بات ہے۔ اگر وعدہ خلافی کرو گے تو دل میں نفاق بیٹھ جائے گا اور اس کا نتیجہ خطرناک نکلے گا۔
فرمایا ان کے دلوں میں نفاق کی پختگی ایک تو وعدہ خلافی کی وجہ سے ہوئی اور اس کی دوسری وجہ یہ ہے (آیت) ” وبما کانوا یکذبون “ کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔ ظاہر ہے کہ جو وعدہ خلافی کرتا ہے وہ جھوٹ بھی بولتا ہے زبان سے کچھ کہتا ہے اور دل میں کچھ اور ہوتا ہے۔ جھوٹ بولنا بھی منافق کی علامت ہے حضور نے منافق کے متعلق فرمایا ” اذا حدث کذب “ جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے ، جب وعدہ کرتا ہے تو خلاف کرتا ہے اور جب جھگڑا ہوجائے تو گالی گلوچ پر اتر آتا ہے۔ حضور نے منافق کی نشانیاں بیان فرمائیں۔
یہاں پر اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کو بیان فرمایا ہے جن کی وجہ سے منافقین کو سزا ملی۔ ان کے دلوں میں نفاق اس لیے راسخ ہوا کہ انہوں نے وعدہ خلافی کی اور بخل کیا۔ اور بخل بدترین روحانی بیماری ہے۔ حضور نے فرمایا ” ای داء ادواء من البخل “ بخل سے بڑی بیماری کونسی ہے بخیل آدمی نہ اپنے اوپر خرچ کرتا ہے اور نہ دوسروں کا حق ادا کرتا ہے گذشتہ آیات میں منافقین کی یہ صفت بھی بیان ہوچکی ہے۔ کہ (آیت) ” یقبضون ایدیھم “ وہ اپنے ہاتھوں کو سیکڑتے ہیں۔ بہر حال یہاں فرمایا کہ انہوں نے وعدے کا خلاف کیا اور دوسری بات یہ کہ جھوٹ بولا جس کی وجہ سے ان کے دلوں میں نفاق پختہ ہوگیا۔
خدا تعالیٰ عالم الغیب ہے :
اللہ تعالیٰ نے منافقین کو تنبیہ بھی فرمائی یہ (آیت) ” الم یعلموا ان اللہ یعلم سرھم ونجوھم “ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں ہوا کہ بیشک اللہ تعالیٰ ان کے رازوں کو جانتا ہے۔ ان کا کوئی بھید اللہ سے پوشیدہ نہیں۔ اور وہ اللہ تعالیٰ ان کی پوشیدہ سرگرمیوں کو بھی جانتا ہے (آیت) ” وان اللہ علام الغیوب “ اور بیشک اللہ تعالیٰ تمام غیبوں کا جاننے والا ہے عالم الغیب ہونا اللہ تعالیٰ کی صفت مختسہ ہے۔ اس میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہے۔ سورة مائدہ کے آخر میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان سے ان کی امت کے متعلق سوال کریں گے کہ کیا تم نے لوگون سے کہا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو ، تو عیسیٰ (علیہ السلام) جواب دیں گے ، اے مولا کریم ! تیری ذات پاک ہے ، میں ایسی بات کیسے کرسکتا ہوں جس کا مجھے حق نہیں پہنچتا۔ اگر میں نے کوئی ایسی بات دنیا میں کی ہے تو تو اسے جانتا ہے کیونکہ (آیت) ” انک انت علام الغیوب “ تو ہی تمام غیبوں کا جاننے والا ہے بہرحال منافقوں کے ارادے ، عزائم ، خفیہ اجلاس ، مشورے اور بھیدسب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ منافقوں کو یہ بات اچھی طرح جان لینی چاہیے۔
یہاں پر اللہ تعالیٰ نے بخیل منافقوں کی مذمت بیان فرمائی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو کوئی بھی بخل کریگا یا وعدہ خلافی کرے گا تو اس کا نتیجہ وہی ہوگا جو منافقوں کا ہوا۔ دل میں کدورت پیدا ہوگی۔ نفاق برھے گا اور پھر وہ پختہ ہوجائے گا یہاں تک کہ مرتے دم تک اس سے چھٹکارا حاصل نہیں ہو سکے گا۔ یہ انسان کی ناکامی کی دلیل ہے آگے منافقین کی مزید خرابیوں کا ذکر آرہا ہے مسلمانوں کی جماعت کو اس سے عبرت حاصل کرنی چاہیے اور منافقوں سے ہوشیار رہنا چاہیے۔