Ayah 9:122ربط آیات :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کی مذمت بیان فرمائی تھی کہ مدینہ اور اطراف میں رہنے والوں کے لیے یہ کسی طرح مناسب نہیں تھا کہ وہ جہاد سے گریز کرتے۔ انہیں چاہیے تھا کہ وہ جہاد کے سفر میں رسول خدا کے ساتھ رفاقت اختیار کرتے اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ اہل ایمان کو چاہیے تھا کہ وہ نبی کی جان کو اپنی جانوں پر ترجیح دیتے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اللہ کے راستے میں جو بھی تکلیف ، پریشانی یا مشقت برداشت کرنی پڑیگی ، اللہ تعالیٰ ہر ایسی بات کے بدلے میں نیکی لکھے گا۔ اور ا س کا بہتر سے بہتر اجر عطا فرمائے گا۔
تقسیم کار :
جب اللہ تعالیٰ نے جہاد سے پیچھے رہنے والوں کی بار بار مذمت بیان فرمائی تو بعض مسلمانوں کو خیال پیدا ہوا کہ ہر مسلمان کی ہر جہاد میں شرکت لازمی ہوگئی ہے اور اس سے کسی صورت میں بھی گریز نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اعلان ِ جہاد کے ساتھ ہی سب کے سب لوگ اس کے لیے نکل کھڑے ہوں خواہ باقی امور دنیا کو نظر انداز ہی کرنا پڑے۔ چونکہ یہ بات منشائے خداوندی کے مطابق نہیں تھی لہٰذا آج کی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے تقسیم کار کی تعلیم دی ہے کہ تمام لوگ صرف ایک ہی کام کی طرف متوجہ نہ ہو جائین بلکہ کچھ لوگ جہاد میں جائیں تو بعض دوسرے دیگر امور کا کام سنبھالیں تا کہ اجتماعی زندگی میں کسی قسم کا تعطل نہ پیدا ہوجائے۔
بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیت جہاد کے متعلق نہیں بلکہ اس کا تعلق دین کی تعلیم حاصل کرنے سے ہے۔ آیت کے ظاہری الفاظ بھی اس نظریہ کی تائید کرتے ہیں۔ اگر آیت کا یہ معنی لیا جائے تو مطلب ہوگا کہ تعلیم ِ دین کے حصول کے لیے سب کے سب لوگ ہی گھروں سے نہ نکل جائیں بلکہ ہر جماعت ، گروہ ، خاندان یا قبیلہ میں کچھ آدمی اس کام کی طرف توجہ دیں اور باقی لوگ اپنے اپنے کاروبار کی طرف متوجہ رہیں۔ کوئی زراعت یا ، تجارت کا کاروبار کرتا ہے۔ صنعت وحرفت میں مشغول ہے یا ملازمت اختیار کیے ہوئے ہے ، تو وہ اپنے اپنے مشاغل میں مصروف رہیں تا کہ بحیثیت مجموعی نظام زندگی کسی تعطل کا شکا نہ ہوجائے۔ اور جو لوگ تعلیم دین کی طرف متوجہ ہوں ، وہ علم حاصل کرنے کے بعد اپنے اپنے خاندان ، گروہ یا قبیلے میں واپس آکر باقی لوگوں کی دینی امور میں راہنمائی کریں تا کہ وہ بھی اچھائی اور برائی میں تمیز پیدا کر کے برائیوں سے بچ سکیں۔
فریضہ جہاد :
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ عام حالات میں جہاد فرض کفایہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں میں سے ایک جماعت کے لیے لازم ہے کہ وہ جہاد کے لیے ہر وقت مستعد رہے اور باقی لوگ اپنے اپنے کاروبار میں مصروف رہیں اس جہاد کا فریضہ سب کی طرف سے ادا ہوجائے گا۔
اور اگر پوری جاعت المسلمین میں سے کوئی شخص بھی جہاد کے لیے تیار نہ ہو تو پھر پوری کی پوری جماعت گنہگار ہوگی۔
البتہ خاص حالات میں جہاد فرض عین بن جاتا ہے۔ جب دشمن مسلمانوں کے علاقے میں حملہ آور ہوجائے تو فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ ایسی حالت میں ہر مسلمان مرد ، عورت ، بچے اور بوڑھے پر جہاد فرض عین ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں کوئی بھی پیچھے نہیں رہ سکتا بلکہ ہر ایک کو اپنی اپنی حیثیت کے مطابق جہاد میں حصہ لینا لازمی ہوجائے گا۔ نوجوان آگے محاذ پر دشمن کا مقابلہ کریں گے جب کہ بوڑھے لوگ سامان مہیا کرنے یا شہری نظام کو چلانے کے ذمہ دار ہوں گے ، اگر زخمیوں کی عیادت وغیرہ کے لیے یا خوراک بہم پہنچانے کے لیے عورتوں کی خدمات درکار ہوں گی تو وہ بھی اپنے حصے کا فریضہ انجام دیں گی۔ غرضیکہ ضرورت کے وقت ہر فرد پر جہاد فرض ہوجائے گا۔
فریضہ علم :
جس طرح جہاد کے دو حصے ہیں۔ اسی طرح حصول علم دین بھی دو حصوں میں منقسم ہے۔ عللم دین کا بعض حصہ فرض کفایہ اور بعض حصہ فرض عین ہے۔ فرض عین وہ حصہ ہے جو ہر مرد اور عورت کے لیے حاصل کرنا لازم ہے۔ حضور ﷺ کا بہیقی شریف میں فرمان موجود ہے (آیت) ” طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم “ یعنی ہر مسلمان مرد ، عورت پر علم کا حصول فرض ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں۔ اس میں عقیدے کی درستگی ، توحید کا جاننا ، شرک کا پہنچاننا ، رسالت پر ایمان ، قیامت پر ایمان وغیرہ شامل ہیں۔ یہ ایسی بنیادی چیزیں ہیں جن پر دین کی عمارت قائم ہوتی ہے۔ لہذا اس علم کا حاصل کرنا ہر عاقل بالغ کے لیے ضروری ہے۔ اور اس سے کوئی فرد بھی مستثنیٰ نہیں ہے فرضی عبادات کے متعلق علم حاصل کرنا بھی فرض عین ہے۔ نماز اور روزہ کے مسائل کا جاننا ، حج اور زکوٰۃ کی ادائیگی ، واجبات اور سنن کا علم وغیرہ فرض عین میں داخل ہے۔ اسی طرح حلال و حرام کی تمیز ، سود اور تجارت میں امتیاز کرنا ، حقوق العباد کا علم ہونا وغیرہ سب کے لیے ضروری ہے۔ جو شخص محض لا علمی کی بناء پر کسی فرض کی ادائیگی میں کوتاہی کریگا یا کوئی غلط کام کرے گا تو وہ مجرم ہوگا ۔
علم دین کا دوسرا حصہ اسلام کی جزئیات Det:ils پر مشتمل ہے اور فرضِ کفایہ میں آتا ہے اس میں شریعت کے تفصیلی مسائل آتے ہیں۔ نماز روزہ ، حج اور زکوٰۃ وغیرہ کے تفصیلی مسائل ، نکاح ، طلاق ، وراثت ، صلح وجنگ وغیرہ ایسے مسائلہ ہیں جن پر عبور حاسل کرنا ہر شخص کے لیے ضروری نہیں بلکہ قوم میں سے بعض لوگ بھی اگر تفصیلی علم دین حاصل کرلیں گے اور بوقت ضرورت دوسرے لوگوں کی راہنمائی کرتے رہیں گے تو یہ فرض ادا ہوجائے گا۔ اور اگر کسی حلقے میں کوئی بھی شخص یہ تفصیلی علم حاصل نہ کرے تو سب کی سب گنہگار ہوں گے ، وجہ یہ ہے کہ بوقت ضرورت ایک عام آدمی کس سے مسئلہ دریافت کریگا ؟ اللہ کا حکم تو یہ ہے کہ (آیت) ” فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون “ اگر تمہیں کسی چیز کا علم نہیں ہے تو علم رکھنے والوں سے پوچھ لو۔ اور اگر پوری بستی میں کوئی شخص بھی ایسا نہیں ہوگا جو لوگوں کی راہنمائی کرسکے ، ان کو حق و باطل اور حرام و حلال سے آگاہ کرسکے ، ان کے نکاح طلاق اور وراثت کے مسائل حل کرے ، ان کو زکوٰۃ اور حج کی تفصیلات بتا سکے تو پھر اس لا علمی کا وبال سب پر پڑے گا۔ یہ ایسا ہی فرضِ کفایہ ہے جیسے میت کی تجہیز وتکفین اور اس کا جنازہ وغیرہ اگر یہ کام بعض مسلمان انجام دے لیں گے تو سب کی طرف سے فرض ادا ہوجائیگا اور اگر کوئی شخص بھی انجام نہیں دے گا تو سب گنہگار ہوں گے۔
علم دین کا حصول :
یہاں پر چونکہ علم دین کی بات ہو رہی ہے تو مطلب یہ ہے کہ کسی شہر یا بستی کے سارے کے سارے لوگ ہی علم حاصل کرنے کے لیے تو نہیں جاسکتے۔ بلکہ نظام زندگی کو چلانے کے لیے کسی کو مزدوری کرنا ہے کسی کو کھیتی باڑی کا کام انجام دینا ہے ، کوئی تاجر ہے ، کوئی صنعت کار ہے سب کو اپنااپنا کام انجام دینا ہے ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ ایک دوسرے آدمی کے ساتھ شراکتی کاروبار کرتے تھے چناچہ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے ” کنا نتناوب “ ہم دونوں نوبت بنوبت یعنی باری باری حضور کی خدمت میں آتے تھے ، فرماتے ہیں کہ ایک دن میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور میرا شریک کار بکریوں کو سنبھالتا ، ان کو پانی پلاتا اور کھیتی باڑی پر توجہ دیتا۔ میں دن بھر حضور ﷺ کی مجلس میں جو کچھ سنتا وہ اپنے ساتھی کو جا کر بتا دیتا۔ پھر اگلے دن میں کام کاج کی نگرانی کرتا اور میرا ساتھی دن بھر حضور کی خدمت میں حاضر رہتا ، جو آیت نازل ہوتی یا نبی (علیہ السلام) کی طرف سے حکم جاری ہوتا تو وہ مجھے آکر بتا دیتا۔ اس طرح ہم نے باری مقرر کر رکھی تھی کیونکہ اگر دونوں علم حاصل کرنے کے لیے چلے جاتے تو کاروبار کرنا ممکن نہیں رہتا تھا۔
اس آیت کریمہ میں اسی بات کو بیان کیا گیا ہے (آیت) ” وما کان المومنون لینفروا کافۃ “ اور اہل ایمان کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ سارے کے سارے نکل جائیں ۔ کیونکہ اس طرح تو پورا نظام زندگی ٹھپ ہو کر رہ جائے گا۔ اسی لیے فرمایا (آیت) ” فلو لا نفر من کل فقرۃ منھم طائفۃ “ پس کیوں کوچ نہیں کیا ہر فرقے یا جماعت میں سے ایک گروہ نے ہر بستی ، خاندان یا قبیلہ سے کچھ آدمی حصول علم کے لیے یا جہاد کے لیے چلے جاتے اور باقی لوگ زندگی کے بقیہ امور انجام دیتے۔ جہاد کے ایک موقع پر حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس گھر میں دو آدمی ہیں ان میں سے ایک جہاد کے لیے چلا جائے اور دوسرا سارے گھر کا کام سنبھال لے اسی طرح ہر گھر یا بستی یا خاندان میں کچھ لوگ حصول علم کے لیے جائیں اور باقی دنیا کے کام انجام دیتے رہیں۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا (آیت) ” لیفقھوا فی الدین “ تا کہ دین کا علم حاصل کرنے والے لوگ دین میں سمجھ پیدا کریں (آیت) ” ولینذروا قومھم اذا رجعوا الیھم “ تا کہ جب وہ اپنی قوم کی طرف واپس لوٹیں تو ان کو ڈرائیں۔ اپنے علم کی روشنی میں انہیں نیکی اور بدی کی تمیز کرائیں۔ اور ہر برے عمل کے تنائج سے آگاہ کریں جس سے وہ ڈر جائیں اور برائی کو چھوڑ کی نیکی کی طرف راغب ہوجائیں ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا (آیت) ” لعلھم یحذرون “ کہ وہ لوگ دنیا وآخرت کی ناکامی اور سزا سے بچ جائیں گے۔ جب دین کی تعلیم عام ہوگی ، لوگوں کو اچھے کام کی طرف رغبت ہوگی اور برے کام سے نفرت پیدا ہو اجائیگی تو وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچ جائیں گے۔
علم کا حصول کوئی معمولی کام نہیں ہے بلکہ اس کے لیے دور دراز کا سفر اختیار کرنا پڑتا ہے اور سخت محنت کرنی پڑتی ہے امام بخاری (رح) (1۔ بخاری ، ص 16 ، ج 1) (فیاض) فرماتے ہیں ” انما العلم بالتعلم “ یعنی علم سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے ۔ یہ یونہی گھر بیٹھے بٹھائے نہیں مل جاتا بلکہ استاد کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرنا پڑتا ہے۔ علم کے حصول کے لیے محدثین کرام نے بڑی بڑی تکالیف اٹھائیں ۔ امام بخاری رح ، امام محمدرح ، مصنف عبدالرزاق (رح) وغیرہم کے حالات پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے حصول علم کے یے سفر طے کیے۔ راستے کی صعوبتیں برداشت کیں ، بھوکے اور پیاسے رہے۔ اس کام کے لیے عمر کا قیمتی حصہ صرف کیا ، تو تب جا کر دین میں سمجھ پیدا ہوئی ، اصل علم دین کا علم ہے۔ جو دنیا اور آخرت دونوں جگہ فوز و فلاح کا ضامن ہے۔ جہاں دین کو موخر کر کے دنیا اور پیٹ کو مقدم کیا جاتا ہے۔ وہاں ذلت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
علم فقہ :
(آیت) ” لیتفقھو فی الدین “ میں تفقہ سے مراد فہم ، فقاہت اور سمجھ ہے اور فقہ سے مراد وہ اسلامی قانون ہے جسے آئمہ مجتہدین نے قرآن وحدیث سے اخذ کر کے عام امت پر سب سے زیادہ احسان امام ابوحنیفہ (رح) کا ہے جنہوں نے قرآن وسنت سے ریسرچ کر کے اس علم کو مرتب کیا۔ باقی رہی یہ بات کہ بحیثیت انسان ہر شخص سے غلطی بھی ہو سکتی ہے ، کوئی بھی شخص غلطی سے پاک نہیں۔ اس بنا پر فقہ میں بھی بعض غلطیاں ہو سکتی ہیں مگر ان محدود غلطیوں کی وجہ سے ساری فقہ کو نفرت کا نشانہ بنانہ درست نہیں ۔ حضور ﷺ نے فقاہت کی تعریف فرمائی ہے ” من یرد اللہ بہ خیرا یفقھہ فی الدین “ جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین میں سمجھ اور فقاہت عطا کرتا ہے (1۔ بخاری ، ص 16 ، ج 1) (فیاض) دین کی تعلیم کو ہمیشہ اولیت حاصل ہے جب کی دنیا کے علوم وفنون کو ثانوی حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کا علم محض اسباب معاش پر مبنی ہے جب کہ آخرت کی کامیابی کا انحصار علم دین پر ہے۔ اگر دین کا علم صحیح نہیں ہوگا تو گمراہی پیدا ہوگی ، فرقے پیدا ہوں گے ، لوگ گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔
بہر حال فقہ ایک قابل تعریف چیز ہے جسے فقہائے کرام نے قرآن وسنت سے اخذ کر کے پیش کیا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک فقہ کی تعریف یہ ہے ” معرفۃ النفس مالھا وماعلیھا “ یعنی انسانی نفس کے لیے ان چیزوں کی پہچان جو اس کے حق میں مفید یا مضر ہیں۔ ترمذی شریف میں حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ منافق آدمی میں دو باتیں کبھی نہیں پائی جاتیں ” حسن خلق ولا فقہ فی الدین “ ایک چیز خوش اخلاقی ہے جو منافق میں نہیں ملتی ، وہ ہمیشہ گالی گلوچ ، غیبت ، بد زبانی ، ایذارسانی وغیرہ پر آمادہ رہتا ہے۔ اور دوسری چیز تفقہ فی الدین ہے منافق کو دین کی سمجھ بھی حاصل نہیں ہوتی۔ دین کی سمجھ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے اور یہ اس شخص کو حاصل ہوتی ہے جس سے اللہ تعالیٰ بہتری کا ارادہ فرماتا ہے۔
محنت کی ضرورت :
دین کے اصول اور فروغ کو جاننے کے لیے بڑی محنت کی ضرورت ہے۔ امام ابو یوسف (رح) کا مقولہ ہے ” العلم لا یعطیک بعضہ حتی تعطیہ کلک “ جب تک تو علم کے لیے اپنا سب کچھ وقف نہیں کردیگا۔ اس ووت تک علم اپنا بعض حصہ بھی تمہیں نہیں دے گا۔ علم کے حصول کے لیے مال ، وقت ، توانائی خرچ کرنا پڑتی ہے سلف صالحین نے اس کام پر عمریں صرف کردیں۔ محض اخبارات اور رسائل پڑھ کر کوئی شخص مجتہد نہیں بن سکتا اور نہ ریسرچ کے نام پر کفر کو اسلام اور اسلام کو کفر کا نام دے سکتا ہے ، صحیح کو غلط اور غلط کو صحیح قرار دینا علم نہیں بلکہ حماقت ہے ، یہ تو بےدینی اور نفاق کی علامت ہے۔ ایسا کرنا غیر اقوام کی تقلید کا نتیجہ ہے ، اسے علم نہیں کہ سکتے۔ علم کے لیے تو بڑی محنت کرنی پڑتی ہے سلف مفسرین اور محدثین باعمل لوگ تھے۔ انہوں نے دین کے لیے بڑی بڑی قربانیاں پیش کیں ، کتابیں لکھیں اور لوگوں کو تعلیم دی اور اس طرح دین کے پودے کی آبیاری کی۔ انگریزی نظام تعلیم میں نہ تو استاد کا احترام ہے اور نہ شاگرد کو اپنے فرائض کا علم ہے ، یہاں تو لڑکے اور لڑکیوں کے در میان اور استادوں اور شاگردوں کے درمیان معاشقے چلتے ہیں۔ گپیں لگائی جاتی ہیں ، عریانی کا دور دورہ ہوتا ہے ، یہاں ادب واحترام کا لحاظ کہاں ہوتا ہے ؟ اس کے برخلاف دینی علم کے اساتذہ اور طلباء میں ہر درجے کا ادب واحترام اور شفقت و محبت دیکھنے میں آتا ہے حضرت مولانا احمد علی لاہوری (رح) نے جمعیۃ العمائے ہند کی میٹنگ میں حضرت مولانا شیخ الاسلام سید حسین احمد مدنی (رح) کی موجودگی میں فرمایا تھا کہ میرے گھٹنوں میں دردہوتا تھا مگر میں شیخ کے سامنے بیٹھ کر چار چار گھنٹے تک گھٹنا تبدیل نہ کرتا کہ یہ خلاف ادب تھا۔ یہ تو ہمارے دور کے بزرگوں کا حال ہے۔ ان میں جس قدر ادب تھا ویسا ہی انہوں نے فیض بھی جاری کیا۔
علم دین کا فقدان :
یہ زمانہ انحطاط کا زمانہ جا رہا ہے جس میں علم دین کی طرف رغبت ہی باقی نہیں رہی۔ جب تک صحیح علم نہیں ہوگا لوگوں کی مشکلات کا حل کیسے پیش کیا جاسکے گا۔ 1940 ء میں سیالکوٹ کی طرف پیدل سفر کرتے ہوئے ظہر کی نماز کے لیے ایک گائوں کی مسجد میں پہنچے تو پتہ چلا امام صاحب نہیں ہیں۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اس علاقے کے سات گائوں کا ایک ہی امام ہے جو ہفتہ میں ایک دن ہر گائوں میں جاتا ہے اور ایک آدھ نما ز پڑھا دیتا ہے۔ البتہ نکاح ، جنازہ ، ختم وغیرہ کے لیے ضرورت ہو تو مولوی صاحب کو بلا لیا جاتا ہے انحطاط کی انتہا ہے کہ بستیوں کی بستیاں علم دین سے خالی ہیں۔ لوگ دنیا کی طرف راغب ہیں ، تفقہ فی الدین کون حاصل کریگا ؟ پنچاب کے آسودہ حال زمینداروں ، تاجروں ، صنعتکاروں اور وکلا کو دیکھ لیں۔ آج کون ہے جو اپنی اولاد کو تعلیم دین کے لیے وقف کرتا ہے سب دنیاوی تعلیم کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ یہ تو پس ماندہ علاقوں کے غریب غربا لوگ مدرسوں میں آتے ہیں۔ ان میں کچھ مفاد پرست اور خود غرض ہوتے ہیں ، تا ہم اللہ انہی میں سے بعض کو توفیق عطا کرتا ہے اور کسی حد تک تعلیمی ضروریات پوری ہوتی ہیں ورنہ عام طور پر یہ میدان خالی نظر آتا ہے۔
Ayah 9:123ربط آیات :
اس سورة میں زیادہ تر قتال فی سبیل اللہ کا ذکر ہے ، اور اس سلسلے میں منافقین کی بہت سی مذمت بیان کی گئی ہے کیونکہ و ہ جہاد سے پیچھے رہتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان اہل ایمان کو تنبیہ کی گئی ہے جو محض سستی کی وجہ سے غزوہ تبوک میں شریک نہیں ہوسکے۔ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے جہاد اور حصول علم کی فرضیت کا زکر بھی کیا۔ عام حالات میں یہ دونوں چیزیں فرض کفایہ ہوتی ہیں۔ اگر مسلمانوں میں مجاہدین کی ایک ایسی جماعت موجود ہو جو جہاد کے لیے ہر وقت مستعد ہو تو باقی مسلمانوں کی طرف سے بھی یہ فریضہ اد اہو جائے گا ، اور اگر کوئی بھی مسلمان جہاد کے لیے تیار نہ ہو تو پھر سارے کے سارے مسلمان گنہگار ہوں گے۔ حصول علم بھی اسی طرح فرض کفایہ ہے اگر ان میں سے کچھ لوگ حصول علم دین کی طرف متوجہ ہوجائیں تو یہ فریضہ سب کی طرف سے ادا ہوجائے گا اور اگر کوئی بھی علم دین حاصل نہ کرے اور لوگ امور دین سے بےبہرہ ہی رہیں پھر تو سب گنہگار ہونگے مقصد یہ ہے کہ دنیا کا نظام بھی قائم رہے اور جہاد اور علم کے تقاضے بھی پورے ہوتے رہیں۔ جہاد اور تعلیم بعض اوقات فرض عین بھی بن جاتا ہیں۔ جب دشمن حملہ آور ہو تو ضرورت کے مطابق ہر مسلمان عورت مرد ، چھوٹے ، بڑے کو اپنی اپنی حیثیت اور استعداد کے مطابق جہاد میں حصہ لینا ضروری ہوجاتا ہے۔ اسی طرح علم کے بھی دو حصے ہیں۔ ایک فرض عین اور دوسرا فرض کفایہ ، انسان کے بنیادی عقائد اور اس کے ذمہ فرائض کا جاننا فرض عین ہے۔ جب کہ شریعت کی جزئیات کا علم فرض کفایہ میں داخل ہے۔
جہاد کی مختلف صورتیں :
جہاد کی مختلف صورتیں ہیں جن میں علم کا حصول اور پھر اس کی تبلیغ بھی شامل ہے۔ تبلیغ زبان کے ذریعے بھی ہوتی ہے اور کتب کی اشاعت کے ذریعے بھی۔ اس کے علاوہ مال کے ذریعے بھی جہاد ہوتا ہے۔ اور سب سے اہم صورت جہاد میں بنفس نفیس شرکت ہے۔ جہاد کبھی دفاعی شکل میں ہوتا ہے اور کبھی اقدامی شکل میں۔ جب دشمن ہجوم کر جائے تو پھر ملکی دفاع کے لیے ہر چھوٹا بڑا فرض ادا کرتا ہے۔ جہاد کی یہ دونوں صورتیں روا ہیں اور اہل اسلام کے لیے ضروری ہیں۔ اگر اہل ایمان جہاد سے غفلت برتیں گے تو ملت پر زوال آئے گا اور قوم ترقی کی بجائے تنزل میں چلی جائے گی۔
مسلمان اور فریضہ جہاد :
جب تک مسلمانوں میں جذبہ جہاد زندہ رہا ان کو ترقی نصیب ہوتی رہی ، مگر جب یہ جذبہ کمزور ہونا شروع ہوگیا تو ملت انحطاط کا شکا ہوگئی۔ اس وقت دنیا بھر میں مسلمانوں کا کوئی مرکز نہیں۔ دنیا میں پچاس کے قریب اسلامی ریاستیں ہیں مگر مرکزیت نہ ہونے کی وجہ سے باہمی ربط مفقود ہے اس کے برخلاف عیسائیوں ، یہودیوں اور دہریوں کے مضبوط مراکز موجود ہیں جو منظم طریقے سے مسلمانوں کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان ریاستیں اتنی کمزور ہوچکی ہیں کہ وہ کسی بڑی طاقت کے خلاف نبردآزما نہیں ہو سکتیں جہاد کی اہمیت کے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد ہے (1۔ مسلم ، ص 141 ، ج 2) (فیاض) ” من مات ولم یغز ولم یحدث بہ نفسہ مات علی شعبۃ من النفاق “ جو شخص اس حالت میں مرگیا کہ نہ تو اس نے بالفعل جہاد کیا اور نہ اس کے بارے میں اپنے دل میں کوئی بات سوچی تو ایسا شخص نفاق کے شعبے پر مرا۔ ایک مقام پر ایسے شخص کے متعلق آتا ہے ” مات میتۃ الجاھلیۃ “ یعنی ایسا شخص جاہلیت کی موت مرا۔ کسی نہ کسی شکل میں ہر مسلمان پر جہاد کی تیاری کرنا فرض ہے۔ جس دن مکہ فتح ہوگیا ، فرمایا آج ہجرت تو ختم ہوگئی۔ البتہ جہاد اور اس کی نیت کا سلسلہ نزول مسیح تک جاری رہیگا۔ اگر کسی کو موقع نہیں مل سکا کہ وہ جہاد میں شریک ہو تو کم از کم اس کی نیت یہ ہونی چاہیے کہ جب بھی موقع ملا وہ بلا چون وچرا جہاد میں حصہ لے گا۔
مرکزیت اسلام :
جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ مسلمانوں کی مرکزیت نہ ہونے کی وجہ سے دنیا میں ان کی حالت بہت کمزور ہے۔ ایک امیدپیدا ہوئی تھی کہ پاکستان پوری دنیا کے لیے مرکز اسلام بن جاتا مگر افسوس کہ اب تک مسند اقتدار پر آنے والے سربراہاں میں سے کسی نے بھی اس کام کو اولیت نہیں دی۔ اسلام کا نام تو ہر آنے والے نے لیا کیونکہ پاکستا نے کے پچانویں فیصد باشندے نسلی طور پر مسلمان ہیں اور اسلام کے دعویدار ہیں۔ تقسیم ملکی کی وجہ سے مسلمان اس خطہ میں اکٹھے بھی ہوگئے ہیں۔ چناچہ حکمران اسلام کا نام لینے اس لیے مجبور ہیں کہ عوام کی غاب اکثریت اسلام کیک خلاف ایک لفظ تک سننا گورا نہیں کرتی۔ مگر حاکمان وقت نے نفاذ اسلام کی ذمہ داری آج تک پوری نہیں کی۔ اب ہمارے افکار بھی مستعار ہیں ، سیاست مغلوب ہے ، کوئی اشتراکیت جیسے لعنتی نظام سے متاثر ہے اور کوئی امریکی اور برطانوی سرمایہ داری نظام کا گرویدہ ہے۔ یہ نظام بھی ملعن ہے کیونکہ اس نظام میں صرف دولت اکٹھی کی جاتی ہے ، نہ تو ذرائع آمدنی کی حلت و حرمت کا خیال رکھا جاتا ہے اور نہ اخراجات پر کوئی پابندی ہوتی ہے ، یہی وجہ ہے کہ فلم انڈسٹری ، کھیلوں کے فروغ اور عمارت کی تعمیر پر بےدریغ روپیہ صرف کیا جاتا ہے۔ فرعون نے بڑے بڑے مینار تعمیر کر کے سرمایہ داری کا اظہار کیا تھا اور آج ہم بڑے بڑے سیکرٹیریٹ ، قصر صدارت اور اسمبلی حالوں پر کروڑوں روپے خرچ کر کے عوام کی غربت کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ اس نظام کو تو اللہ نے اپنے آخری نبی کے ذریعے ختم کیا تھا ، مگر آج وہی نظام سرمایہ داری پھر عودکر آیا ہے۔
اسلامی نظام معیشت :
نزول قرآن کے زمانے میں دو بنیادی نظامہائے معیشت رائج تھے اس وقت قیصر و کسری کی دو سپر طاقتوں میں سے کسریٰ ایشا اور یورپ کے کچھ حصے پر مسلط تھا جب کی قیصر کی ماتحتی میں یورپ کا اکثر حصہ اور مشرق وسطی کے علاقے تھے۔ اس زمانے میں نظام معیشت بھی دو طرح کے تھے ایک امریکہ اور برطانیہ جیسا نظام سرمایہ داری تھا جس کے ذریعے ہر جائز اور ناجائز ذرائع سے دولت اکٹھی کر کے اسے من مانے طریقے پر خرچ کیا جاتا تھا۔ دوسری طرف اشتراکیت کا نظام تھا جس میں خدا کا سرے سے انکار ہی کردیا گیا تھا۔ آج بھی دین کا تمسخر اڑایا جاتا ہے اور اسے افیون سے تعبیر کیا جاتا ہے اس نظام میں شخصی ملکیت کو ختم کر کے تمام ذرائع پیداوار حکومت کی تحویل میں لے لیے جاتے ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت میں یہ بات تھی کی ان دو نظاموں کو نبی عربی کے ذریعے ختم کردیا جائے۔ شاہ صاحب کی اصطلاح میں اباحیت یعنی حلال و حرام کا امتیاز دونوں نظاموں میں نہیں ہے ، یہ صرف اسلامی نظام معیشت ہے جو حلال و حرام کی تمیز سکھاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا صحیح تصور پیش کرتا ہے ، انبیاء علیم السلام کی تعلیم کو واضح کرتا ہے۔ اشتراکیت کے برخلاف اسلام نے ذاتی ملکیت کو ختم نہیں کیا کیونکہ یہ فطرت کے خلاف ہے ، اسلام نے حق ملکیت کو تسلیم کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ تفاوت درجات کو بھی مانا ہے۔ اسلام میں کسی مسلمان یا غیر مسلم کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں رکھا جاسکتا۔ اسلام کا یہ زریں اصول ہے کہ ہر شخص کو مکان ، لباس ، خوراک ، صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولتیں ملنی چاہیں مگر یہ سب کچھ اسی وقت ممکن ہے۔ جب مسلمانوں کو دنیا میں کہیں اجتماعیت حاصل ہو۔ جب مسلمانوں کو اپنے وسائل پر مکمل کنٹرول نہ ہو اور انہیں استعمال کرنے کے استعداد نہ ہو ، اسلامی فلاح نظام کیسے قائم کیا جاسکتا ہے ؟ آج تو حالت یہ ہے کہ ہمارے تمام کے لیے سی کی میں بن رہی ہیں تو کہیں فلم انڈسٹری کو ترقی دی جا رہی ہے سیروسیاحت کی وزارتیں بنتی ہیں اور پھر ان پر کروڑوں روپے کے پلان غیر ملکی ماہرین تیار کرتے ہیں۔ اس انحاط کی وجہ یہ ہے کہ عرب وعجم میں کہیں بھی مسلمانوں کو مرکزیت حاصل نہیں۔ برسراقتدار لوگوں کو اپنے اقتدار کی فکر رہتی ہے کہ وہ قائم رہنا چاہیے نام نہاد جمہوریت کے نام پر ہو یا مارشل لاء کے ذریعے سے اسلام کا نام لینے سے اقتدار ملتا ہو یا سوشلزم کا پرچار کرنے سے۔ اسلام بہرحال ایسے تمام باطل نظاموں کے خلاف ہے۔
جہاد کی طبعی تربیت :
درحقیقت ملت حنفیہ کا مرکز خانہ کعبہ تھا مگر وہاں پر مشرکوں کے غلبے کی وجہ سے حضور ﷺ کو ہجرت کرنا پڑی اور اس دوران اللہ نے اپنے نبی کے شہر مدینہ طیبہ کو مرکزی حیثیت دیدی۔ تمام احکام اسی مرکز سے جاری ہونے لگے۔ چناچہ جہاد کے متعلق جو حکم جاری ہوا وہ یہ تھا (آیت) ” یایھا الذین امنوا قاتلو الذین یلونکم من الکفار “ اے ایمان والو ! کفار میں سے ان لوگوں کی ساتھ جنگ کرو جو تمہارے نزدیک ہیں۔ اس آیت میں اللہ نے جہاد کا طبعی اصول بتایا ہے کہ دین کے غلبے کے لیے جنگ اپنے گھر سے شروع کرو جب تک تمہارے اپنے ملک کے لوگ ایمان نہیں لے آئیں گے یا مغلوب نہیں ہوجائیں گے اس وقت تک تمہارا پروگرام بیرون ملک کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اگر قریب والوں کو چھوڑ کر دور والوں سے مقابلہ کردیا جائیگا تو یہ ایک غیر طبعی فعل ہوگا۔ چناچہ حضور ﷺ نے سب سے پہلے اپنے خاندان اور ملک کے لوگوں یعنی قریش مکہ سے جہاد کا آغاز کیا 2 ھ میں انہیں بدر کے مقام پر شکت دی۔ 3 ھ میں احد کے میدان میں اگرچہ مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑا مگر قریش بھی اس سے کوئی سیاسی مفاد حاصل نہ کرسکے۔ اس کے بعد مسلمانوں کو پے درپے کامیابیاں حاصل ہوئیں اور بالآخر 8 ھ میں مکہ فتح ہوگیا۔ پھر اگلے سال یعنی 9 ھ میں حرم مکہ کو مکمل طور پر مشرکین سے پاک کردینے کا اعلان کردیا گیا ، مدینے کے اطراف میں یہودیوں اور عیسائیوں نے بڑی سازشیں کیں اور اسلام کو زک پہنچانے کی کوشش کی ، اہل اسلام نے ان کے خلاف بھی جہاد کیا ، پھر دیگر قبائل عرب کو شکست دی اور اس طرح پورا خطہ عرب کفر اور شرک سے پاک ہوگیا۔ جب قریب والوں سے معاملہ صاف ہوگیا تو پھر 9 ھ میں ہی آپ نے بیرون ملک رومی سلطنت کی طرف توجہ کی اور غزوہ تبوک کے لیے تشریف لے گئے جس کے تفصیلی حالات پہلے بیان ہوچکے ہیں غرضیکہ جہاد کی ابتداء اپنے قریب والوں سے کر کے اس کا دائرہ بتدریج وسیع کیا گیا اور پھر حضور ﷺ کے بعد خلفائے راشدین نے اس مشن کو جاری رکھا۔
جہاد بالنفس :
صاحب تفسیر حقانی نے امام ابن عربی (رح) کے حوالے سے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ اگر انصاف سے دیکھا جائے تو انسان سے قریب ترین اس کا اپنا نفس ہے لہٰذا اس آیت کی رو سے سب سے پہلے اپنے نفس کے خلاف جہاد کرنا چاہیے۔ ” عدوک الذی بین جنبیک نفسک “ یعنی تمہارا دشمن تو تمہارے پہلو میں بیٹھاس ہے۔ یہ تمہارا نفس امارہ ہے سب سے پہلے اس کے خلاف جہاد کرو۔ ترمذی شریف کی روایت م (1۔ ترمذی ، ص 252) (فیاض) میں آتا ہے ” المجاھد من جاھد نفسہ “ یعنی مجاہد وہ ہے جس نے اپنے نفس کے ساتھ جہاد کیا۔ اگر تم نے اپنے نفس کو کنٹرول کرلیا تو تم شائستہ انسان بن جائو گے ، اور اگر تمہارا نفس ہی تمہارے بس میں نہیں تو پھر وہ کسی قانون کا پابند ہوگا۔ وہ تو بدمعاشی ، فحاشی ، ظلم ، زیادتی اور برائی پر ہی مائل ہوگا ، ایسا نفس انصاف کو قائم نہیں رکھ سکتا ، لہٰذا پہلے اپنے نفس کو ٹھیک کرو ، جو تمہارے لیے قریب ترین ہے ، پھر اس کے بعد دوسروں سے جہاد کرو۔
کفار کے ساتھ سختی :
فرمایا کافروں کے ساتھ جہاد کا اثر یہ ہونا چاہیے (آیت) ” ولیجدوا فیکم غلظۃ “ کہ وہ تمہارے اندر سختی پائیں۔ جب دشمن کے ساتھ مڈبھیڑ ہوجائے تو پھر ان کے ساتھ نرمی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا بلکہ ان کے ساتھ ایسا سلوک کرو کہ وہ تم میں واضح طور پر سختی کو محسوس کریں۔ سورة فتح میں موجود ہے (آیت) ” محمد رسول اللہ والذین معہ اشدآء علی الکفار رحماء بینھم “ محمد رسول اللہ اور آپ کے ساتھی کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں رحمدل ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ شفقت ومہربانی سے پیش آتے ہیں۔ دوسرے مقام پر فرمایا (آیت) ” اذلۃ علی المومنیناعدۃ علی الکفرین “ (المائدۃ) مومنوں کے لیے بڑی نرم اور کافروں کے لیے سخت ہیں اسی سورة میں پیچھے گزر چکا ہے (آیت) ” یایھا النبی جاھد الکفار والمنفقین واغلظ علیھم “ اے نبی (علیہ السلام) ! کفار اور منافقین کے ساتھ جہاد کریں اور ان پر سختی کریں۔ کفار کے ساتھ مادی سختی اور منافقین کے ساتھ زبانی سختی کا حکم ہے۔ ایک حدیث میں حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے ” انا نبی الرحمۃ نبی الملحمۃ “ میں رحمت والا نبی ہوں اور میں جنگ ولا نبی ہوں۔ آپ نے یہ بھی فرمایا ” انا ضحوک القتال “ میں ہنس مکھ بھی ہوں لیکن لڑنے والا بھی ہوں۔ الغرض ! اللہ نے فرمایا کہ ایمان والوں میں سختی بھی ہونا چاہیے جسے کفار محسوس کریں۔
ارشاد باری تعالیٰ تو یہ ہے مگر آج ہم مسلمانوں کی حالت دیکھ رہے ہیں کہ یہ یہود ونصاریٰ اور کفار ومشرکین کے ساتھ نرمی اختیار کرتے ہیں مگر آپس میں ایک دوسرے کے حق میں بڑے سخت اور تند خو ہیں۔ اب تو سارا معاملہ ہی الٹ ہوچکا ہے۔ اگر آپس میں کوئی اختلاف بھی پیدا ہوجائے تو اسے احسن طریقے سے طے کرلینا چاہیے نہ کہ ایک دوسرے کے جانی دشمن بن جائیں۔ آپ کی دشمنی انفرادی طور پر پائی جاتی ہے اور حکومتی سطح پر بھی دو مسلمان ملک ایران اور عراق کئی سالوں سے ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ ہزاروں جانیں ، اسلح اور جہاز تباہ ہوچکے ہیں جو بحیثیت مجموعی عالم اسلام کی کمزوری کا باعث بن رہے ہیں مگر دونوں فریق اپنی اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں اور ساری دنیا کے مسلمان مل کر بھی ان کا تصفیہ نہیں کر اسکے۔ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ کا واضح حکم موجود ہے کہ اگر دو مسلمان طاقتوں کے درمیان جنگ ہوجائے تو ان کے درمیان صلح کرا دو اور اگر ان میں سے کوئی فریق زیادتی کرتا ہے تو اس کے خلاف کاروائی کرو (آیت) ” حتی تفی الی امر اللہ “ (الحجرات) یہاں تک کہ وہ اللہ کی بات کی طرف لوٹ آئے۔ مگر یہاں کیا ہو رہا ہے میٹنگیں ہوتی ہیں ، مشورے ہوتے ہیں ، کمیٹیاں بنتی ہیں مگر نتیجہ کچھ نہیں نکلتا ناکامی کی وجہ یہ ہے کہ قرآنی پروگرام پر عمل نہیں ہورہا ہے۔ جب تک اس پروگرام پر عمل نہیں ہوگا۔ اصلاح احوال ممکن نہیں۔
بہر حال اللہ تعالیٰ نے کافروں کے ساتھ سختی کرنے کا حکم دیا ہے ان کے ساتھ ایسا سلوک ہونا چاہیے جس سے وہ سمجھ جائیں کہ مسلمان بڑے سخت ہیں اور ان کے خلاف ہماری کوئی سازش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اور پھر یہ بھی خیال رہے کہ یہ سختی کسی ذاتی غرض کے لیے نہیں بلکہ خالص اللہ کی رضا کے لیے ہو۔ تمہارے دل میں کوئی توسیع پسندانہ عزم یا ہوس ملک گیری نہیں ہونی چاہیے ، نہ ہی کسی سے مال چھیننا یا کسی کو ذلیل کرنا مقصود ہو۔ حضور ﷺ نے مجاہدین کو یہ دعا سکھائی تھی۔ ” اللھم ھازم الاحزاب ومنزل الکتب ومجری السحاب اھزمھم وانصرناعلیھم “ اے لشکروں کو شکست دینے ، کتاب کو نازل کرنے اور بادلوں کو چلانے والے خدا ، کافروں کو شکست دے اور ہمیں ان پر غلبہ عطا کر۔ ہم تو تیری نازل کردہ کتاب کے پروگرام کو جاری کرنا چاہتے ہیں۔ جب کہ یہ لوگ تیرے دین کو مٹانا چاہتے ہیں ، لہٰذا ان کے خلاف ہماری مدد فرما ہماری اس میں کوئی ذاتی غرض نہیں ہے۔
متقین کے لیے بشارت :
فرمایا یاد رکھو ! (آیت) ” واعلموا ان اللہ مع المتقین “ بیشک اللہ تعالیٰ کی رفاقت ، معیت ، توجہ اور مہربانی متقیوں کے ساتھ ہے۔ اور متقی وہ شخص ہے جو سب سے پہلے اپنے آپ کو کفر ، شرک اور نفاق سے پاک کریگا۔ پھر شکوک و شبہات کو دور کریگا ، اللہ کی مہربانی اسی صورت میں اس کے شامل حال ہو سکتی ہے۔ اور اللہ کی مدد بھی جبھی ہوگیا جب کوئی شخص قرآن کے پروگرام کو صحیح طور پر چلائیگا۔ منافقوں کی طرح ظاہر و باطن میں تضاد کا حامل شخص نصرت الٰہی کا مستحق نہیں ہوگا۔ جس کے اپنے قول وفعل میں تضاد ہو ، وہ نہ تو اللہ کے احکام کو اس کے بندوں پر نافذ کرسکتا ہے اور نہ اللہ کی رحمت اور اس کی امداد کا مستحق بنتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں جہاد شروع کرنے کے لیے ترجیحات کا تعین فرمایا ہے کہ پہلے قریب والوں کو صاف کرو اور پھر قدم بقدم آگے بڑھتے جائو۔ تمہارے اندر واضح طور پر سختی ہونی چاہیے جسے دشمن محسوس کرے نیز تقوی کی راہ اختیار کرو کیونکہ خدا کی معیت متقیوں کو ہی حاصل ہوسکتی ہے۔
Ayahs 9:124–127ربط آیات :
سورۃ توبہ میں زیادہ تر جہاد اور قتال کے متعلقات کا ذکر ہے منافقین کا ذکر بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ یہ لوگ جہاد میں عدم شرکت کے لیے حیلے بہانے بناتے تھے ، لہٰذا للہ تعالیٰ نے ان کی مذمت بیان فرمائی ہے۔ اسی سورة میں ضمنا بعض دوسرے مسائل بھی آگے ہیں۔ اب آخر میں بھی منافقین ہی کی قباحتوں کا ذکر ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ اہل ایمان ان کی سازشوں سے خبردار رہیں کیونکہ یہ خطرناک گروہ ہے اور ان کی سرگرمیاں مسلمانوں کے حق میں سخت مضر ہیں۔
دین کے چار دشمن :ـ
شاہ عبدالعزیز دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ دین اسلام کے چار دشمن ہیں جن میں سے دو ظاہری اور دو باطنی ہیں۔ باطنی دشمنوں میں نفس اور شیطان ہیں ، جو انسان کو ہمیشہ برائی پر آمادہ کرتے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں سے مقابلے کا طریقہ بھی بتایا ہے۔ اور بیرونی دشمنوں میں کافر اور منافق ہیں۔ کافر لوگ تو کھلے عام دین اسلام کا مقابلہ کرتے ہیں ، لہٰذا مسلمان بھی ان سے بچنے کی تدابیر کرتے ہیں۔ بلکہ جوابی حملہ کے لیے بھی سرگرم رہتے ہیں۔ البتہ منافقوں کا گروہ سخت خطرناک ہے کیونکہ یہ لوگ علی الاعلان اسلام کے مقابلے پر نہیں آتے بلکہ خفیہ سازشیں کر کے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آخری دور کی سورة توبہ کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے دیگر سورتوں میں بھی منافقین کا حال تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے اور ان کی ریشہ دوانیوں سے خبردار کر کے اپنا دفاع کرنے کی تلقین کی ہے۔
اعتقادی منافقوں کا نفاق تو آسانی سے معلوم نہیں ہوتا کیونکہ ان کی تمام سرگرمیاں درپردہ ہوتی ہیں۔ البتہ جب اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے ان کا پردہ چاک کردیتا تو عام مسلمان بھی ان کی حرکات سے آگاہ ہوجاتے ۔ اب چونکہ سلسلہ وحی ختم نبوت کے ساتھ بھی بند ہوچکا ہے لہٰذا اب ان کے نفاق کا اظہار مشکل ہوگیا ہے۔ اس کے برخلاف عملی منافق ہر دور میں رہے ہیں اور قیامت تک موجود رہیں گے اگرچہ یہ لوگ ایمان کا دعوی کرتے ہیں مگر ان کے خصائل منافقوں جیسے ہوتے ہیں۔ یہ اپنے آپ کو ایماندار کہتے ہیں مگر ایمان سے خالی ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی جماعت کو منافقوں سے پاک رکھیں۔
ایمان میں اضافہ :
آج کے درس میں بھی اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی بعض بری خصلتوں کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واذا ما انزلت سورة “ جب قرآن پاک کی کوئی سورة نازل ہوتی ہے (آیت) ” فمنھم من یقول “ تو ان میں سے بعض منافقین کہتے ہیں (آیت) ” ایکم زادتہ ھزہ ایمانا “ تم میں سے کون ہے جس کا ایمان اس نازل ہونے والی سورة نے زیادہ کیا ہے ؟ یہ بات وہ تمسخر ، طعن اور طنز کے طور پر کرتے ہیں۔ سورة انفال کی ابتداء میں گزر چکا ہے کہ مومن لوگ وہ ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں (آیت) ” واذا تلیت علیھم ایتہ زادتھم ایمانا “ اور جب ان کے سامنے آیات الٰہی کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کے ایمان بڑھ جاتے ہیں۔ مگر منافقوں کا حال یہ ہے کہ کوئی نئی آیت یا سورة سن کر ایک دوسرے سے کن انکھیوں سے باتیں کرتے ہوئے استہزا کہتے ہیں کہ بھلا اس سورة سے کس کا ایمان بڑھا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا (آیت) ” فاما الذین امنوا فزادتھم ایمانا “ جو لوگ حقیقت میں ایمان رکھتے ہیں ، ان کا ایمان واقعہ بڑھ جاتا ہے (آیت) ” وھم یستبشرون “ اور وہ خوش ہوتے ہیں کہ الہ تعالیٰ نے ان کے فائدے کے لیے کوئی نئی سورة نازل فرمائی ہے۔ نئی سورة میں ایسے احکام ہوں گے جن پر عملدرآمد کرنے سے اہل ایمان کو دنیا وآخرت میں فائدہ حاصل ہوگا ، یا ایسے احکام ہوں گے جن میں بعض قبیح چیزوں سے بچنے کی تلقین ہوگی۔ بہرحال ایمان والے لوگوں کے دلوں میں جذبہ عمل بیدار ہوگا اور وہ نئی سورة پر عمل کر کے مزید فوائد حاصل کرنے کی وجہ سے خوش ہوجائیں گے۔ شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ اگر اہل ایمان کے دلون میں پہلے سے کوئی کھٹکا ہوتا ہے اور وہ نئی سورة کے نازل ہونے سے دور ہوجاتا ہے تو یہ چیز بھی مسلمانوں کے لیے خوشی کا باعث بنتی ہے۔
نجاست میں اضافہ :
اللہ نے فرمایا نئی سورة کے نزول پر منافقوں کی حالت یہ ہوتی ہے (آیت) ” واما الذین فی قلوبھم مرض “ بہرحال جن لوگوں کے دلوں میں نفاق کا مرض ہوتا ہے۔ کفر ، شرک ، الحاد اور شک کی طرح نفاق بھی روحانی بیماری ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے زخم میں پیپ پڑجائے۔ جب خون پیپ میں تبدیل ہونا شروع ہوجائے تو انسانی جسم تازہ خون سے محروم ہو کر ہلاک ہوجاتا ہے۔ اسی طرح نفاق ایک مرض ہے جس سے انسان کی روح خراب ہوجاتی ہے۔ لہٰذا جن کے دلوں میں نفاق کی غلاظت ہے تو نئی سورة (آیت) ” فزادتھم رجسا الی رجسھم “ ان کی گندگی میں اضافہ کردیتی ہے ان کی پہلی گندگی کے ساتھ۔ ان کے دلوں میں پہلے ہی غلاظت ہوتی ہے تو نئی سورة اس میں مزید اضافہ کردیتی ہے (آیت) ” وماتوا وھم کفرون “ اور کفر ہی کی حالت میں ان کی موت واقع ہوتی ہے۔
بہرحال ہر سورة ایک طرف اہل ایمان کے لیے علم ، ایمان اور ہدایت میں اضافہ کا باعث بنتی ہے تو دوسری طرف منافقوں کے نفاق کی غلاظت میں اضافہ کرتی ہے سورة حم السجدۃ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے (آیت) ” قل ھو للذین امنوا ھدی وشفائ “ قرآن پاک اہل ایمان کے لیے ہدایت اور شفا ہے (آیت) ” والذین لا یومنون فی اذانھم وقر وھو علیھم عمی “ اور جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بہرہ پن ہوتا ہے اور قرآن ان کے اندھا پن میں اضافہ کرتا ہے۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جب تک انسان میں نفاق کی گندگی موجود ہوتی ہے ، وہ قرآن پاک اور پیغمبر کی ذات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ جب تک گندگی دور نہ ہو قرآنی آیات فائدہ نہیں پہنچاتیں ، اسی لیے بزرگان دین فرماتے ہیں کہ پہلے تخلیہ اور تنقیہ ضروری ہے۔ انسانی ذہن کفر ، شرک ، الحاد ، نفاق اور شک سے پاک ہوگا ، ا س کی گندگی دور ہوگی تو اس میں نیکی ، توحید اور ایمان کی بات سما سکے گی۔ اطبا بھی یہی کہتے ہیں کہ جب تک انسانی جسم میں گندے مواد موجود ہوتے ہیں ، اچھی سے اچھی غذا بھی مفید ثابت نہیں ہوتی۔ جوں جوں غذا استعمال کریگا۔ جسم میں گندگی میں اضافہ ہوتا چلا جائیگا۔ جب گندے مادے خارج ہو کر جسم صاف ہوجائے تو پھر اچھی غذا بھی مفید ہوتا چلا جائیگا۔ جب گندے مادے خارج ہو کر جسم صاف ہوجائے تو پھر اچھی غذا بھی مفید ثابت ہوگی۔ اسی طرح انسانی روح کے لیے قرآن وسنت صالح غذا ہے مگر یہ اسی وقت مفید ثابت ہوگی جب انسان کا دل و دماغ نفاق کے گندے مادے سے پاک ہوجائے گا۔ بہرحال اللہ نے نفاق کو گندگی سے تعبیر کیا ہے۔ اسی سورة میں پیچھے گزر چکا ہے (آیت) ” فاعرضوا عنھم انھم رجس “ یہ منافق گندے لوگ ہیں ، آپ ان سے درگزر کریں۔ کامیابی کا مدار تو اعتقاد اور فکر کی پاکیزگی پر ہے اگر دل پاک نہیں تو پورا انسان ناپاک ہے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ نئی سورة منافقین کی غلاظت میں اضافہ کا باعث بنتی ہے اور وہ کفر کی حالت میں ہی مرجاتے ہیں۔
منافقین کی آزمائش :
فرمایا (آیت) ” اولا یرون انھم یفتنون فی کل عام مرۃ او مرتین “ کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ سال میں ایک یا دو دفعہ ا ن منافقوں کو فتنے میں ڈالا جاتا ہے۔ کبھی جہاد میں شرکت پر ان کی آزمائش ہوتی تو کبھی مال خرچ کرنے کے موقع پر کبھی کوئی حادثہ پیش آجاتا ہے ، کوئی افتاد پڑجاتی ہے تو منافقین کی آزمائش ہوجاتی ہے اور ان کا نفاق ظاہر ہوجاتا ہے۔ حقیقت میں یہ چیزیں تازیانہ ہوتی ہیں۔ اللہ نے قرآن پاک میں فرمایا کہ تازیانے پہنچتے رہتے ہیں۔ اگر آدمی کی فطرت صحیح ہو تو برے کام سے باز آجاتا ہے اور توبہ کرلیتا ہے۔ اور اگر باز نہیں آتا تو اپنی صلاحیت کو ضائع کر بیٹھتا ہے اور بالآخر ناکام ہوجاتا ہے۔ آزمائش انسان کے لیے تنبیہ ہوتی ہے کہ اب بھی سنبھل جائو۔ ان منافقوں کو سال میں ایک دو بار ضرور تنبیہ بھی ہوتی ہے مگر یہ ایسے بد وضع لوگ ہیں کہ اپنی قبیح حرکتوں سے باز نہیں آتے۔ (آیت) ” ثم لا یتوبون “ یعنی توبہ کر کے اسلام کے خلاف سازشوں سے باز نہیں آتے۔ (آیت) ” ولا ھم یذکرون “ اور نہ ہی ہو تازیانے سے نصیحت پکڑتے ہیں۔ جب آزمائش آئے تو انسان کو عبرت حاصل کرنی چاہیے مگر ان لوگوں پر کچھ اثر نہیں ہوتا۔
مجلس سے فرار :
فرمایا منافقوں کی ایک قباحت یہ بھی ہے (آیت) ” واذا ما انزلت سورة نظر بعضھم الی بعض “ جب کوئی نئی سورة نازل ہوتی ہے تو نبی کی مجلس میں موجو منافقین ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں (آیت) ” ھل یرکم من احد “ کیا تمہیں کوئی دیکھ رہا ہے ؟ ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مجلس میں موجود مخلص مسلمانوں میں سے اگر انہیں کوئی دیکھ رہا ہے تو بادل نخواسہ بیٹھے رہتے ہیں اور اگر سمجھتے ہیں کہ مسلمان ان کی طرف متوجہ نہیں ہیں (آیت) ” ثم انصرفوا “ تو کھسک جاتے ہیں۔ یہ ان کی بدبختی کی علامت ہے کہ اتنی اچھی اور پاکیزہ مجلس سے فرار کی راہ تلاش کرتے ہیں۔
فرمایا حقیقت یہ ہے (آیت) ” صرف اللہ قلوبھم “ اللہ نے ان کے دلوں کو پھیر دیا ہے۔ انہیں اس قابل نہیں سمجھا گیا کہ نبی کی پاک محفل میں بیٹھ کر فیض حاصل کرسکیں۔ اس کا معنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں کو ایمان سے پھیر دیا ہے ، ان کے دلوں میں نفاق کی شدت اس قدر ہے کہ وہ کبھی توحید ، نیکی اور ایمان کی طرف نہیں آسکتے بلکہ وہ برائی کی طرف ہی جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ جب انسان برائی پر اصرار کرتا ہے تو اللہ اس کی نیکی کی صلاحیت ہی ختم کردیتا ہے پچھلی سورة میں گزر چکا ہے (آیت) ” واعلموا ان اللہ یحول بین المرء وقبلہ “ (الانفال) یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور پھر اس کی نیکی کرنے کی توفیق ہی سلب کرلی جاتی ہے۔ لہٰذا انسان کو توبہ کرنے اور پھر نیکی پر عمل درآمد کرنے میں تاخیر نہیں کرنا چاہیے۔ تو فرمایا کہ اللہ نے ان کے دلوں کو پھیر دیا ہے کیونکہ ان کے دلوں میں نفاق بھرا ہوا ہے۔ یہ مخلص مسلمانوں کا تمسخر اڑاتے ہیں اور پھر مجلس میں بیٹھ کر بھی فائدہ نہیں اٹھاتے ، لہٰذا اللہ نے انہیں نیکی ، ایمان اور اپنے نبی کی مجلس سے ہی پھیر دیا ہے۔
بے سمجھ لوگ :
فرمایا ان کی یہ بےنصیبی اس وجہ سے ہے (آیت) ” بانھم قوم لا یفقھون “ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھتے ہی نہیں۔ جو شخص اپنے فائدے اور انجام کو نہ پہچان سکے۔ اس سے زیادہ بےسمجھ کون ہوگا اسی لے تو اللہ تعالیٰ نے کافرون کو جانوروں سے بھی بدتر قرار دیا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ منافق آدمی کو دین کی سمجھ نہیں ہوتی ، وہ رسم و رواج میں ہی پھنسا رہتا ہے۔ منافق کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ اس کا اخلاق اچھا نہیں ہوتا اور دین میں سمجھ نہیں ہوتی۔ جس شخص کا اخلاق اچھا ہے ، دین کی باریک باتوں کو سمجھ کر ان پر عمل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کی مہربانی اس کے ضرور شامل حال ہوگی۔
بہر حال اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی قباحتیں بھی بیان کردیں تاکہ اہل ایمان ان کی سازشوں سے خبردار رہیں اور ان پر اعتماد نہ کریں۔ یہ گروہ اسلام کے حق میں سخت مضر ہے ، لہٰذا مسلمانوں کو ہوشیار رہنا چاہیے کہ ان کے فریب میں آکر کہیں دین میں نقصان نہ کر بیٹھیں۔