Ayah 8:1کوائف سورة :
اس سورة کا نام سورة الانفال ہے۔ جو کہ پہلی ہی آیت سے ماخوذ ہے انفال ، نفل کی جمع ہے اور اس کا معنی زائد چیز کا ہوتا ہے ۔ یہ سورة ہجرت کے بعد 2 ھ میں نازل ہوئی جب کہ غزوہ بدر واقع ہوا تھا ، اس سورة کی پچھتر آیات اور دس رکوع ہیں۔ یہ سورة 1631 الفاظ اور 6294 حروف پر مشتمل ہے۔ اس سے پہلے سورة اعراف اور سورة انعام مکی سورتیں تھیں البتہ سورة مائدہ ، نسائ ، آل عمران اور بقرہ مدنی تھیں ، اسی طرحی یہ سورة مبارکہ بھی مدنی ہے۔ اس کے بعد آنے والی سورة توبہ بھی مدنی ہے اور ان دونوں سورتوں کا مضمون آپس میں ملتا جلتا ہے ۔ سورة انفال ہجرت کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی جب کہ سورة توبہ آخری حصہ میں 9 ھ میں کے بعد نازل ہوئی ، سورة انفال میں غزوہ بدر کے واقعات کا ذکر ہے جب کہ سورة توبہ غزوہ تبوک کے واقعات پر مشتمل ہے ، تا ہم یہ دونوں صورتیں جہاد اور اس کے قوانین سے متعلق ہیں۔
سابقہ سورتوں کے مضامین :
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ابتدائی سورة بقرہ میں زیادہ تر روئے سخن یہود کی طرف تھا۔ چناچہ (آیت) یبی اسرائیل سے شروع ہو کر ڈیڑھ پارے تک یہودیوں کا تذکرہ۔ اللہ تعالیٰ نے اصلاحِ یہود کے پروگرام کے تحت یہودیوں کو ایمان لانے کی ترغیب دی ہے جیسا کہ پانچویں رکوع میں فرمایا (آیت) وامنوا بما انزلت مصدقا لما معکم ، اے بنی اسرائیل ! میری نازل کردہ اس چیز (قرآن) پر ایمان لے آو جو اس بات (تورات) کی تصدیق کرتی ہے جو تمہارے پاس ہے۔
اس کے بعد سورة آل عمران میں اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کو موضوع سخن بنایا ہے ، چناچہ ابتدائے سورة سے لے کر آیت نمبر 83 تک عیسائیت کا رد فرمایا ہے اور ان کی اصلاح کا پروگرام دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے کہ اگر عیسائی شرک کو چھوڑ کر ایمان قبول کرلیں تو ان کی اصلاح ہو جائیگی اور وہ فلاح کے حق دار بن جائیں گے ، پھر سورة نساء اور مائدہ دونوں میں خاص طور پر عرب کے لوگوں کو دعوت ایمان دی گئی ہے۔ ان سورتوں میں عربوں کی خرابیوں کا ذکر کر کے ان کی اصلاح کا پروگرام پیش کیا گیا ہے۔ عقیدے اور عمل دونوں قسم کی خرابیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور پھر کھانے پینے میں حلال و حرام اور معاشرتی طور پر نکاح طلاق کے متعلق صحیح راستے کی طرف راہنمائی کی گئی ہے۔
سورۃ انعام میں اللہ تعالیٰ نے ابتدائی میں مجوسیوں کا ذکر فرمایا ہے مجوسیوں کا پایہ تخت ایران تھا اور نزول قرآن کے زمانہ میں یہ لوگ تقریبا آدھی دنیا پر چھائے ہوئے تھے ، آگ کے یہ پجاری دو معبودوں کو مانتے ہیں ان کے نزدیک یزدان اور اہرمن دو علیحدہ علیحدۃ معبود ہیں ، جن میں سے ایک خیر کا اور دوسرا شر کا ، یا ایک نور کا اور دوسرا ظلمت کا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس باطل عقیدہ کا رد فرمایا ہے اور ان کی راہ راست کی طرف راہنمائی فرمائی ہے۔ اس کے بعد سورة اعراف میں اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کو مخاطب کیا ہے اور سب کے سامنے قرآن پاک کی دعوت پیش کی ہے۔ اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے شروع کر کے انبیاء (علیہم السلام) کی پوری تاریخ بیان فرمائی ہے ، مختلف انبیاء کی دعوت اور ان کی اقوام کے ردِ عمل کا ذکر کیا ہے اور پھر آخر میں حضور خاتم النبین ﷺ کی زبان سے صاف کہلوا دیا ہے ” (آیت) یایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا “ ائے بنی نوع انسان ! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں۔ آپ کی دعوت صرف یہودونصاری یا مجوسی اقوام کے لیے نہیں بلکہ پوری نوع انسانی کو اسلام کی دعوت دی گئی ہے اور انہیں دین حق کو قبول کرلینے کی ترغیب دی گئی ہے۔
عالمگیر دعوت :
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس دعوت عام میں سے سعادت مند روحیں تو ابتداء میں ہی ایمان قبول کرلیتی ہیں۔ اچھے اور سعادت مند لوگ دعوت کو سنتے ہیں۔ اس کو سمجھتے ہیں اور پھر اسے آسانی کے ساتھ قبول کرلیتے ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں اکثر ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ لوگوں کی اکثریت شیطان کے پھندے میں گرفتار ہوتی ہے ، اور وہ دعوت ایمان قبول نہیں کرتی اور اپنے دین پر اڑی رہتی ہے ، پھر آگے اس کی دو صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ ایک صورت تو یہ ہے کہ غلط کار لوگ اپنے راستے پر حسب معمول چلتے رہیں اور اہل حق سے کسی قسم کا تعرض نہ کریں۔ اور اس طرح اہل ایمان کو بھی اپنے راستے پر چلنے دیں۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اہل باطل نہ صرف اپنے غلط پروگرام پر قائم رہیں بلکہ رائے اہل ِ حق پر غالب آنے کی کوشش بھی کریں۔ دوسرے لفظوں میں وہ اہل ایمان کی دعوت کو نہ صرف ٹھکرا دیں بلکہ اسے مٹانے کے لیے اپنے تمام قویٰ بروئے کار لائیں۔ ان حالات میں اہل حق پر کیا فرض عائد ہوتا ہے ؟ کیا وہ باطل کی قوت سے ڈر کر بھاگ جائیں گے اور کفر کا راستہ چھوڑ دیں کہ وہ جو چاہیں کرتے رہیں ؟ دوسری صورت یہ ہے کہ راہ فرار اختیار نہ کریں بلکہ خاموش ہوجائیں اور گاندھی کی (اہنسا) یا سیتہ گرہ والا فلسفہ اختیار کرلیں جس کا مطلب یہ ہے کہ دشمن سے مار کھاتے رہیں اور اس کی زیادتیوں کا جواب تک نہ دیں حتی کہ وہ خود ہی تھک ہار کر بیٹھ جائے۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ جو لوگ باطل پروگرام کو غالب کرنا چاہتے ہیں اور ایمان کی دعوت کو روکنا چاہتے ہیں ، ان کا سرِ عام مقابلہ کیا جائے اور دین کی دعوت کو غالب کیا جائے یہی تیسری صورت صحیح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی کو بیان فرمایا ہے۔ اس کے اصول و ضوابط بیان فرمائے ہیں اور انہیں اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی کا نام جہاد ہے اور اسی کی اللہ تعالیٰ نے ترغیب دی ہے۔
جہاد کی اہمیت :
اس وقت صورت حال یہ ہے کہ اسلام کی دعوت پوری دنیا میں پہنچ چکی ہے۔ مگر لوگوں کی غالب اکثریت اپنے باطل پروگرام کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں بلکہ الٹا اسلام کو مٹانے پر کمر بستہ ہے ایسے حالات میں جہاد باللسان سے آگے برھ کر جہاد بالسیف ضروری ہوجاتا ہے مکی زندگی میں مسلمانوں کی کمزور حالت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کا حکم یہ تھا (آیت) ” کفوا ایدیکم واقیموا الصلوۃ ( النسائ) اپنے ہاتھوں کو روک رکھو اور نماد ادا کرو ، اس وقت تک ابھی جماعت قائم نہیں ہوسکی تھی۔ مقابلے کی طاقت نہیں تھی بلکہ بڑی تکالیف کا دور تھا لہذا حکم ہوا کہ ابھی تلوار اٹھانے کی اجازت نہیں ہے۔ پہلے تنظیم پیدا کرو ، جماعت بندی کرو ، اس کے بعد جہاد بالسیف کی اجازت ہوگی۔ اور پھر آخر وہ وقت بھی آگیا کہ مدینے میں جا کر مسلمان نے قوت جمع کرلی تو اللہ کا حکم آگیا۔ (آیت) ” اذن للذین یقٰتلون بانھم ظلموا “ (الحج) جن لوگوں پر ظلم کیا گیا ، انہیں اجازت دے دی گئی کہ وہ تلوار کے ذریعے دشمن کا مقابلہ کریں (آیت) ” وان اللہ علی نصرھم لقدیر “ (الحج) فرمایا اللہ تعالیٰ ان کی مدد کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ اسی طرح اس سورة مبارکہ اور اگلی سورة توبہ دونوں کا موضوع جہاد ہے ، اللہ نے اعلان فرما دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دشمنانِ دین کا مقابلہ تیر ، تلوار اور نیزے کے ساتھ کیا جائے اور دین حق کے خلاف ان کی تمام سازشیں ناکام بنا کر ان کی امیدیں خاک میں ملا دی جائیں۔
جہاد کی ضرورت :
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ جہاد میں اقدام اور دفاع دونوں فرض ہیں ، ضرورت کے وقت تمام جوانوں ، بچوں ، بوڑھوں اور عورتوں پر فرض ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق جہاد میں حصہ لیں۔ کفار پھورے کی مانند ہیں ، اگر ان کا آپریشن نہ کیا گیا تو یہ پوری انسانی سوسائٹی کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے ، لہٰذا ان کا قلع قمع ضروری ہے ، اللہ تعالیٰ کا حکم ہے (آیت) ” وقاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ ویکون الدین کلہ للہ “ (الانفال) خدا کی راہ میں ان سے لڑتے رہو ، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورے کا پورا اللہ کا ہوجائے۔ اس فتنہ سے مراد کفر اور شرک کا غلبہ اور فساد فی الارض ہے مقصد یہ ہے کہ دین اسلام کے راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ برداشت نہ کی جائے اور اسلام کو پوری دنیا میں پوری طرح غالب کردیا جائے ، چناچہ ابتدائے اسلام سے لیل کر واقعہ صفین تک اسلام کو پچاس سال تک مکمل غلبہ حاصل رہا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے باہمی اختلاف کی وجہ سے دین اسلام کی گاڑی رک گئی ، عالمی حرکت کمزوری ہوگئی۔ صفین تک مسلمان پیش قدمی ہی کرتے رہے۔ دنیا میں کوئی ایسی طاقت نہ تھی جو ان سے ٹکر لے سکتی ، لہٰذا اسلامی نظام مکمل طور پر قائم ہوگیا تھا اور یہی اللہ تعالیٰ کا منشا تھا۔ مگر بعد میں مسلمان اپنے عروج کو قائم نہ رکھ سکے۔ اور روبہ تنزل ہونے لگے۔
جہاد کی غائت :
اہل اسلام کا نظریہ جہاد کفار سے بالکل مختلف ہے ، ان کا مقصد فساد فی الارض ہوتا ہے جس کے ذریعہ وہ اغیار کی املاک پر قبضہ کرتے ہیں اور لوگوں کو ناحق قتل کرتے ہیں۔ مسلمانوں کا یہ مقصد ہرگز نہیں ہوتا۔ ان کے پیش نظر ایک ہی مقصد ہوتا ہے کہ کس طرح (آیت) ” کلمۃ اللہ ھی العلیا “ (التوبۃ) یعنی اللہ کی بات بلند ہوجائے۔ خدا کے دین کو غلبہ حاصل ہوجائے دنیا میں امن کا دور دورہ ہو اور دعوت ایمانیہ عام ہوجائے اس راستے میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے ذروۃ الاسلام الجہاد یعنی اسلام کی کوہان یا بلندی جہاد میں مضمر ہے ، جہاد کرنے سے فساد مٹتا ہے اور دنیا میں امن قائم ہوتا ہے۔ جب تک فتنہ کی سرکوبی نہ کی جائے دنیا میں امن قائم نہیں ہو سکتا ، مگر آج کی دنیا میں بالکل الٹ ہو رہا ہے۔ فتنہ و فساد برپا کرنے والے لوگوں کی عزت افزائی کی جاتی ہے تا کہ ان کے شر سے محفوظ رہ سکیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ خود فساد کی تائید کے مترادف ہے۔ اس کے نتیجہ یہی نکلے گا کہ فسادی لوگ پھلتے پھولتے رہیں گے اور کمزور پستے رہیں گے۔
قانون صلح وجنگ :
جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے۔ سورة انفال اور توبہ کا موضوع جہاد ہے۔ اور ان سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کا قانونِ صلح وجنگ بیان فرمایا ہے گزشتہ سورة اعراف میں ذکر تھا (آیت) ” ان ولی اللہ الذین نزل الکتب “ یعنی میرا کار ساز تو وہ اللہ تعالیٰ ہے جس نے کتاب نزل فرمائی ۔ گویا ہمارا پروگرام تو اس کتاب میں ہے اور ہمارا مرنا جینا اسی کے لیے ہے۔ اس راستے میں چلنے والوں کے متعلق فرمایا (آیت) ” وھو یتولی الصلحین “ اللہ تعالیٰ نیک لوگوں کی کارسازی فرماتا ہے جو لوگ اللہ کے دین کو غالب کرنے کے پروگرام پر عمل کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کا حامی وناصر ہوتا ہے ، چناچہ صالحین کی پہلی کارسازی تو یہ فرمائی کہ انہیں قرآن جیسی عظیم کتاب عطا فرما کر ان کی ہدایت کا سامان مہیا کیا ، پھر جہاد باللسان یعنی زبانی تبلیغ کی توفیق عطا فرمائی جو کہ دین کا نبی ادی اصول ہے۔ اس کیب عد جب جماعت تیار ہوگئی تو حضور ﷺ نے فرمایا قاتلوا الکفار والمشرکین بالسنتکم واموالک وانفسکم یعنی کافروں اور مشرکوں کے ساتھ اپنی زبانوں ، مال اور جانوں کے ذریعے جہاد کرو کسی کے شکوک و شبہات کو رفع کرنا زبان کا جہاد ہے یہ جہاد تو پہلے گزشتہ سورة میں بیان ہوچکا ہے کہ اللہ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا کہ اے دنیا جہان کے لوگو ! میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں یہ دعوت عام ہے اگر مان لو تو ٹھیک ہے ورنہ تمہارے ساتھ میدان جنگ میں مقابلہ کیا جائے گا۔ تو گویا گزشتہ سورة میں جہاد باللسان کا ذکر تھا تو اس سورة میں جہاد بالسیف کا قانون بیان کیا گیا ہے یہ پہلی سورة کے ساتھ ربط بھی ہوگیا۔
جماعتی نظم وضبط :
سورۃ انفال کی اس پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے جماعتی نظم وضبط اور اس کی اصلاح کا قانون بیان فرمایا ہے ظاہر ہے کہ کسی جماعت کے لیے اندرونی نظم وضبط نہایت ضروری ہے اسکے بغیر جماعت کود انتشار کا شکار ہو کر دشمن کا مقابلہ کرنے کی اہل نہیں ہوگی جس جماعت کے اپنے اندر اختلافات موجود ہوں وہ دوسروں کا مقابلہ ہرگز نہیں کرسکتی ، اسی لیے اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے جماعتی نظم پر زور دیا ہے سب سے پہلے فکر کی اصلاح کی ضرورت ہے چناچہ اس آیت کریمہ میں فکر کی پاکیزگی ، اتفاق و اتحاد اور نظم وضبط کا قانون بیان فرمایا ہے اور پھر اگلی آیت میں جماعت المسلمین کی پانچ صفات کا ذکر فرمایا ہے انہی صفات کی حامل جماعت آگے چل کر جہاد بالسیف کا فریضہ انجام دے گی۔
مال غنیمت :
جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے جہاد کا اصل مقصد تو غلبہ دین ہے جب دین کو غلبہ حاصل ہوگیا تو مقصد پورا ہوگیا۔ تا ہم اس مقصد کی تکمیل کے ساتھ ساتھ کچھ زائد چیزیں بھی حاصل ہوتی ہیں ، یعنی جب دشمن مغلوب ہوجاتا ہے تو اس کا مال بھی ہاتھ آتا ہے ، جسے مال غنیمت کہا جاتا ہے۔ سابقہ امتوں میں فاتح قوم کے لیے یہ مال حلال نہیں تھا لہذا اس قسم کا سارا مال اکٹھا کر کے ایک جگہ پر رک دیا جاتا تھا۔ آسمان سے آۃ گ نازل ہوتی جو اسے جلا کر خاک کردیتی۔ تاہم اس آخری امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت کو حلال قرار دیدیا ہے چناچہ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ مال غنیمت پہلی امتوں میں لم تحل لاحد من قبل کسی کے لیے حلال نہیں تھا۔ اللہ نے صرف آخری امت کے لیے حلال کیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی امتوں کے لوگ جسمانی طاقت میں بڑھے ہوئے تھے ، محنت مشقت کرسکتے تھے ، لہذا ان کے لیے مال غنیمت جائز نہیں تھا مگر اس امت کے کمزور لوگوں کو اللہ نے یہ رعائء بخشی ہے کہ وہ اس مال کو استعمال کرسکتے ہیں ،
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ جو مال دشمن کے ساتھ جنگ کر کے حاصل کیا جائے وہ مال غنیمت کہلاتا ہے اور جو مال کسی معاہدہ صلح کے تحت حاصل ہوجائے اسے فے کہتے ہیں ، مالِ غنیمت کا حکم تو سورة انفال میں آرہا ہے کہ یہ مال کن مدات پر خرچ ہو سکتا ہے۔ البتہ مال فے کا حکم سورة حشر میں بیان ہوا ہے اس قسم کا مال جس میں باغ بھی تھے۔ بنی قینقاع اور بنی نضیر کے ساتھ معاہدہ صلح کے تحت مسلمانوں کو حاصل ہوا تھا۔ بعض اوقات اس قسم کے معاہدات کے تحت مسلمانوں کو بھی مال خرچ کرنا پڑتا تھا۔ بہرحال اس سورة مبارکہ میں انفال سے بات شروع کی گئی ہے۔
شان نزول :
اس آیت کا تعلق واقعہ غزوہ بدر کے ساتھ ہے۔ صحیح روایت میں آتا ہے کہ حضرت سعد ابن ابی وقاص ر نے ایک دشمن کے ساتھ مقابلہ مٰں اسے قتل کردیا اور اس کی تلوار پر بھی قبضہ کرلیا۔ پھر حضور ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ میں نے ایک بڑے جری کافر کو مارا ہے اور اس کی تلوار بھی چھین لی ہے ، مہربانی کر کے یہ تلوار مجھے ہی عنایت کردی جائے ، جیسا کہ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے حضور ﷺ نے فرمایا ، بھائی یہ مال غنیمت کی چیز ہے اور اسے دینے کا اختیار نہ مجھے ہے نہ تمہیں۔ اس کا حق نہ میرے لیے ہے اور نہ تیرے لیے۔ اس پر حضرت سعد ؓ افسردہ خاطر ہوگئے اور خیال کیا کہ شاید یہ تلوار کسی ایسے شخص کے حصے میں آجائے جو کارکردگی میں میرے برابر نہ ہو۔ اگر ایسا ہوا تو یہ میرے لیے باعث افسوس ہوگا چناچہ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما کر وضاحت فرمادی کہ مال غنیمت پر کس کا حق ہے۔ دوسری بات یہ بھی ہوئی کہ نوجوان مجاہدین اور معمر غازیان میں کچھ اختلاف رائے پیدا ہوگیا ، نوجوان مجاہد مال غنیمت اپنا حق سمجھتے تھے کیونکہ انہوں نے بہادری کے زیادہ جوہر دکھائے تھے۔ دوسری طرف معمر مگر تجربہ کار غازیان تھے جو نوجوانوں کی پشت پر تھے اور انہیں حرب وضرب کے گر بتلاتے تھے ، وہ مال غنیمت کے لیے اپنا حق جتلاتے تھے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
مال غنیمت کے حقیقی مالک :
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” یسئلونک عن الانفال “ اے پیغمبر آپ سے مال غنیمت کے متعلق سوال کرتے ہیں۔ (آیت) ” قل الانفال للہ والرسول “ آپ کہہ دیجئے کہ مال غنیمت بنیادی طور پر نہ کسی بوڑھے کا حق ہے نہ جوان کا بلکہ اللہ اور اس کے رسول کا حق ہے اگر اللہ تعالیٰ کی تجلی نازل نہ ہوتی تو مسلمانوں کو کیونکر غلبہ حاصل ہو سکتا تھا ؟ آگے آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طریقے سے مسلمانوں کی مدد کی تو انہیں فتح حاصل ہوئی ، لہٰذا اس مال کا مالک یقینا اللہ تعالیٰ ہے اور پھر اس کے بعد اس کا رسول ہے جو حکم الہٰی کے تحت اس مال کو تقسیم کریگا۔ دوسرے معنوں میں یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس مال کے مالک افراد نہیں بلکہ اس کی مالک اسلامی حکومت ہے اور یہ پورا مال state property ریاست کا مال ہے جس پر بذات خود کوئی مسلمان قبضہ نہیں کرسکتا۔ لہٰذا مسلمانوں کو آپس میں جھگڑا نہیں کرنا چاہیے اور اس معاملہ کو اللہ تعالیٰ کی منشاء پر چھوڑ دینا چاہیے یاد رہے کہ یہاں پر حکومت سے مراد موجودہ زمانے کی حکومت نہیں ہے جو اپنی مرضی سے انعام واکرام کی بارش ناچنے گانے والوں پر کرنے لگے اور اشاعتِ دین کے لیے ایک پیسہ بھی خرچ نہ کرے بلکہ یہاں پر اسلامی حکومت سے مراد وہ خلافت ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور خلفائے راشدین کی صورت میں قائم کی فرمایا یہی اسلامی حکومت مال غنیمت کے متعلق فیصلہ کرنے کی مجاز ہے۔
صلح جوئی :
فرمایا اس معاملہ میں عام مسلمانوں کا فرض یہ ہے (آیت) ” فاتقو اللہ “ کہ اللہ سے ڈر جائو اور کوئی ایسی ویسی بات نہ کرو کیونکہ مال غنیمت پر تمہارا ذاتی طور پر کوئی حق نہیں ہے پھر جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضور ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے تفویض کردہ اختیار کی رو سے وہ تلوار حضرت سعد ؓ ہی کو عطا فرما دی اور ساتھ یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اب اللہ نے تقسیم غنیمت کا قانون نازل فرما دیا ہے حقیقی مالک وہی ہے ، رسول اس کا نائب ہے ، لہٰذا اس نے اب یہ تلوار تمہیں ہی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تمہارے ذمے یہ ہے (آیت) ” واصلحوا ذات بینکم “ آپس کے درمیان حالات کی اصلاح کرو تا کہ کسی قسم کا جھگڑا نہ ہو۔ جب مسلمانوں کا آپس میں تنازعہ ہوگا تو دشمن کو دخیل ہونے کا موقع ملے گا۔ آپس کے جھگڑوں کی وجہ سے افراد ، جماعتیں اور ملک تباہ ہوجاتے ہیں ، لہٰذا آپس میں تنازعہ کو صلح جوئی کے ذریعے طے کرلیا کرو۔ دیکھو ! عراق ایران جنگ میں دونوں متحارب فریق مسلمان ہیں ، ان کے درمیان جھگرے کی وجہ سے کتنی جانیں تلف ہو رہی ہیں اور دو مسلمان ریاستوں کا کتنا زبردست نقصا ہو رہا ہے مگر حالات کی درستی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی پچاس سے زیادہ مسلمانوں کی اجتماعی زلت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے جو قوم اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح نہیں کر اسکتی وہ سورة انفال ، اعراف اور توبہ میں مذکور برے برے امور کیسے انجام دی سکتی ہے۔ یہ مسلمانوں کی باہمی عداوت کا نتیجہ ہے کہ غیر مسلم اقوام اس سے فائدہ اٹھا رہی ہیں انہوں نے دونوں ملکوں کو اسلحے کی منڈی بنا رکھا ہے جہاں ان کا اصلح دھڑا دھڑ فروخت ہو رہا ہے ، اور مسلمان افرادی اور مالح لحاظ سے کمزور ہو رہے ہیں ۔ اسی لیے اللہ نے یہاں پر فرمایا ہے کہ آپس میں صلح جوئی قائم کرو۔ سورة حجرات میں بھی فرمایا کہ اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں الجھ پڑیں (آیت) ” فاصلحوا بینھما “ تو ان کی آپس میں صلح کرادو اور ان میں جو جماعت آمادہ بر بغاوت ہو اس پر دبائو ڈال کر صلح پر آمادہ کرو کہ مسلمانوں ی بربادی کی بنیادی وجہ ان کی آپس کی لڑائی بھڑائی ہے۔
اسلامی نظام حکومت :
آگے فرمایا (آیت) ” واطیعو اللہ ورسولہ “ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اگر مسلمان اس اصول کو اپنا لیتے تو دنیا میں ذلیل وخو اور نہ ہوتے مگر افسوس کا مقام ہے کہ آج مسلمانوں میں سے کوئی امریکہ کا غلام ہے اور کوئی روس کا حامی ہے ، کوئی سرمایہ داری کی لعنت میں گرفتار ہے اور کوئی اشتراکیت پر چل رہا ہے ، کہیں ملوکیت ہے اور کہیں ڈکٹیئڑشپ ہمارے ملک بھی یہی حال ہے اوپر مارشل لاء کی حکومت ہے اور نیچے مجلس سوریٰ قائم کر رکھی ہے بھلا ایسی شوریٰ کا کیا فائدہ جو مارشل لاء کے ماتحت ہو صحیح اسلامی شوری تو بااختیار ہوتی ہے اللہ کا ارشاد ہے (آیت) ” وامرھم شوری بینھم “ (الشوری) مسلمانوں کے تمام کام تو باہمی مشورہ سے طے پاتے ہیں اور شوریٰ کے رکن اہل اور صائب الرائے لوگ ہوتے ہیں اور خلیفہ ان کے مشورے پر عمل کرنے کا پابند ہوتا ہے بلکہ خود نبی بھی شوریٰ کا پابند ہوتا ہے۔ اللہ کا اپنے نبی کو حکم ہے (آیت) ” وشاورھم فی الامر “ (آل عمران) اور معاملات میں ان سے مشورہ کریں (آیت) ” فاذا عزمت فتوکل علی اللہ “ پھر جب کوئی فیصلہ کرلیں تو اللہ پر بھروسہ کر کے اس پر عمل درآمد کردیں مقصد یہ ہے کہ شوریٰ کا مشورہ واجب ہے۔ اور اگر شوری کو کوئی اختیار ہی نہ ہو تو وہ کیا مشورہ دیگی اور اس پر کیا عمل درآمد ہوگا۔ اختیار تو سارا مارشل لاء کے ہاتھ میں ہے۔ محض اسلام کا نام استعمال کرنے کا کیا فائدہ ؟ اب تین قوانین یک وقت چل رہے ہیں۔ ایک مارشل لاء کا ضابطہ ہے ، دوسرا انگریزی قانون ہے اور تیسری شرعی عدالتیں ہیں۔ مگر انگریزی قانون اسلامی فیصلے کو منسوخ کردیتا ہے کیا فائدہ ہوا ؟ اگر اللہ اور رسول کی اطاعت اختیار کی جاتی تو ملک میں ایک ہی اسلامی قانون نافذ ہوتا جو صدر ضیاء پر بھی اسی طرح لاگو ہوتا جیسا ایک عام آدمی پر۔ ملٹری اور پولیس بھی اسی قانون کے ماتحت ہوتی مگر ایسا نہیں ہے جس کی وجہ سے ہمیں کسی معاملے میں کامیابی حاصل نہیں ہو رہی ہے جب تک اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت نہیں ہوگی معاملات درست نہیں ہو سکتے۔
فرمایا اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو۔ (آیت) ” ان کنتم مئومنین “ اگر تم ایمان والے ہو۔ اگر ایمان کا دعوی رکھتے ہو تو پھر اپنی خواہشات کو ترک کر کے اللہ تعالیٰ کی مرضیات پر چلنا ہوگا ۔ ایسے کام کرنے ہوں گے جن سے اللہ راضی ہو اور جو اس کے رسول کو پسند ہوں اللہ تعالیٰ نے یہ مرکزی نکتہ بیان کردیا ہے اس کے بعد جماعت کی خصوصیات بیان کی جائیں گی کہ فلاح پانے والی جماعت کن اوصاف کی حامل ہونی چاہیے ، اگلی آیت میں اللہ نے مومنوں کی پانچ صفات بیان فرمائی ہیں۔
Ayahs 8:2–4ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے جماعتی نظم وضبط کو برقرار رکھنے کے لیے باہمی اختلافات ختم کر کے آپس میں صلح جوئی کی پالیسی اختیار کرنے کی تلقین کی تھی ، اللہ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ مال غنیمت پر کسی مجاہد یا غاذی کا براہ راست کوئی حق نہیں۔ یہ اللہ کی ملکیت ہے جس اس کا رسول ہدایت الٰہی کے مطابق تصرف میں لاتا ہے اور اس کو تقسیم کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے مرکزی بات یہ فرمائی کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو لازم پکڑو۔ فرمایا ، اگر ان میں سے کسی معاملہ میں بھی مسلمانوں کی طرف سے کمزوری واقع ہوگی تو دشمن راہ پا کر غلبہ حاصل کرلے گا ، لہٰذا مذکورہ ہدایات پر سختی سے کاربند ہو جائو۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے اوصاف بیان فرمائے ہیں جن کی وجہ سے انہیں دینا اور آخرت میں فلاح نصیب ہوگی۔
مومنین کی صفات :
1۔ خوف خدا
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” انما المومنون الذین اذا ذکر اللہ وجلت قلوبھم “ بیشک ایمان والے حقیقت میں وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں۔ اہل ایمان کی یہ پہلی صفت ہے کہ خدا کے ذکر سے ان کے دلوں میں خوف پیدا ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خالق ومالک ہے ، وہ بڑی عظمت اور بزرگی والا ہے۔ اگر ہم سے کوئی غلطی سرزد ہوگئی تو وہ پکڑ لے گا یہی ایمان کی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے متعلق بھی فرمایا ہے (آیت) ” یدعوننا رغبا ورھبا وکانوا لنا خشعین “ (الانبیائ) وہ ہمیں پکارتے ہیں اس رغبت اور امید کے ساتھ کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں انعام واکرام حاصل ہو۔ اور ہم سے ڈرتے بھی ہیں کہ کہیں گرفت نہ ہوجائے۔ دراصل ایمان خوف اور امید کے درمیان ہی ہے۔ اگر کسی آدمی پر اس قدر خوف طاری ہوجائے کہ وہ خدا تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہی ہوجائے تو ییہ کفر کی نشانی ہے۔ اسی طرح کوئی شخص اتنا پر امید ہوجائے کہ خدا تعالیٰ کا خوف ہی دل سے جاتا رہے یہ بھی نافرمانی اور کفر کی علامت ہے۔ لہٰذا انسان کے دل میں اس کی رحمت امید اور اس کے عذاب کا خوف دونوں چیزیں موجود ہونی چاہیں۔ بہر حال مومنوں کی پہلی صفت یہ فرمائی کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر ہوتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری کسی کوتاہی سے ناراض نہ ہوجائے۔ اہل ایمان کو یہ فکر ہمیشہ دامن گیر رہتی ہے۔
2۔ ایمان میں اضافہ
فرمایا اہل ایمان کی دوسری صفت یہ ہے (آیت) ” واذا تلیت علیھم ایتہ “ جب ان پر اللہ تعالیٰ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں (آیت) ” زادتھم ایمانا “ تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یعنی ان کے ایمان میں قوت پیدا ہوجاتی ہے۔ ایمان میں زیادتی کے متعلق محدثین اور فقہائے کرام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے بعض حضرات فرماتے ہیں کہ حالات کے مطابق ایمان میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے مگر امام ابوحنیفہ اور بعض دوسرے فقہا و محدثین فرماتے ہیں کہا یمان تو تصدیق قلبی کا نام ہے جو شخص پورے یقین کے ساتھ اللہ کی وحدانیت ، اس کے بنیاء کی رسالت اور قیامت پر ایمان لاتا ہے۔ اس میں کمی بیشی نہیں ہوتی ، البتہ حالات کے لحاظ سے ایمان کی کیفیت میں فرق ہو سکتا ہے بعض آدمیوں کا ایمان قوی ہونا ہے اور بعض کا ضعیف ظاہر ہے کہ جب کوئی شخص تصدیق قلبی کے بعد پورے طریقے سے خدا تعالیٰ کی اطاعت بھی کرتا ہے تو اس کے ایمان کی کیفیت انبیاء کے ایمان کی سی اعلی درجے کی ہوگی۔ برخلاف اس کے جو شخص تصدیق تو کرتا ہے مگر معاصی میں بھی آلودہ ہوتا ہے ، اس کے ایمان کی حالت کامل الایمان لوگوں جیسی تو نہیں ہو سکتی۔ مطلب یہ کہ ایمان میں تصدیق کے اعتبار سے تو کمی بیشی نہیں ہوتی کیونکہ نبی اور کامل الایمان آدمی بھی انہی چیزوں کی تصدیق کرتا ہے جن کی تصدیق ایک عام آدمی کرتا ہے۔ البتہ کیفیت کے اعتبار سے ایک نبی کا ایمان ایک عام امتی کے ایمان سے بدرجہا بہتر ہوتا ہے بلکہ ان میں آسمان و زمین کا فرق ہوتا ہے۔ لہٰذا کوئی شخص یہ دعوی نہیں کرسکتا کہ انبیاء اور عام آدمیوں کا ایمان برابر ہوتا ہے بہرحال یہ مومنین کی دوسری صفت بیان فرمائی گئی ہے کہ جب وہ آیات الٰہی سنتے ہیں تو ان کے ایمان میں تازگی اور قوت پیدا ہوجاتی ہے جسے ایمان میں زیادتی پر محمول کیا گیا ہے۔
3۔ توکل علی اللہ :
فرمایا اہل ایمان کی تیسری صفت یہ ہے (آیت) ” وعلی ربھم یتوکلون “ وہ اپنے رب پر مکمل بھروسہ رکھتے ہیں۔ ان کا اعتماد اسباب کی بجائے اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہوتا ہے وہ جانتے ہیں کہ آیت ” لا الہ الا ھو فاتخذہ وکیلا (المزمل) اس کے سوا کوئی معبود نہیں لہٰذا کارساز بھی اسی کو پکڑو کہ اس کے سوا کارساز بھی کوئی نہیں۔ ایمان والے یہ بھی جانتے ہیں کہ کوئی سبب موثر بالذات نہیں ہے جب تک اللہ تعالیٰ کی مشیت نہ ہو۔ اللہ چاہے تو کوئی کام بنا دے اور چاہے تو کوئی کام بگاڑ دے۔ اسی لیے اہل ایمان صرف خدا تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ سرمایہ دار کو اپنے سرمایہ پر بھروسہ ہوتا ہے ، ایک تنو مند شخص کو قوت بازو پر بھروسہ ہوتا ہے ہر مادہ پرست اپنے مادہ پر توکل کرتا ہے مگر ایمان والے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ قرآن پاک میں انبیاء کا یہ بیان موجود ہے (آیت) ” وما لنا الا نتوکل علی اللہ وقد ھدنا سبلنا “ (ابراہیم) ہم خدا تعالیٰ کی ذات پر کیوں نہ بھروسہ کریں حالانکہ اسی نے ہمیں سیدھا راستہ بھی دکھایا ہے۔ اور اس پر چلنے کی توفیق بھی وہی دیتا ہے۔ تمام اسباب کا مہیا کرنے والا اور تمام چیزوں پر کنٹرول کرنے والا وہی ہے ، لہٰذا بھروسہ بھی اسی کی ذات پر ہونا چاہیے نہ کہ ان عارضی اور فانی اسباب پر کامل الایمان لوگوں کی یہ تیسری صفت ہوگئی۔
4۔ اقامت صلوٰۃ
فرمایا چوتھی صفت یہ ہے (آیت) ” الذین یقیمون الصلوۃ “ کہ وہ لوگ نماز کو قائم کرتے ہیں ، یہ بھی ایک اہم ترین کام ہے۔ مئوطا امام مالک (رح) (1۔ موطا امام مالک ص 5 (فیاض) میں حضرت عمر ؓ کا وہ سرکلر موجود ہے جو آپ نے تمام صوبوں کے حکام کو بھیجا تھا اور جس میں لکھا تھا ان من اھم امورکم عندی الصلوۃ یعنی میرے نزدیک تمہارے کاموں میں سب سے اہم کام نماز ہے۔ اس پر خود بھی کاربند رہو اور دوسروں سے بھی پابندی کرائو۔ مطلب یہ کہ نماز کوئی پرائیوٹ چیز نہیں ہے کہ جس نے چاہا اس کو ادا کرلیا اور جس نے چاہا چھوڑ دیا۔ اصل بات یہ ہے کہ جس نے نماز کی حفاظت کی وہ دین کی باقی باتوں کا بھی محافظ ہوگا اور جس نے نماز کو ضائع کردیا وہ باقی امور کو بہت زیادہ ضائع کرنے والا ثابت ہوگا۔ دراصل اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق درست رکھنے کے لیے نماز بہترین ذریعہ ہے جب کسی شخص کا تعلق باللہ درست ہوگا تو وہ مخلوق کے ساتھ تعلق کو بھی درست کرے گا اور وہ حقوق العباد کا بھی پابند ہوگا۔ برخلاف اس کے جس کا تعلق باللہ ٹھیک نہیں ہے اس کا معاملہ مخلوق کے ساتھ بھی درست نہیں ہوگا ، لہٰذا اہل ایمان کے لیے نماز کی پابندی بڑی ضروری ہے۔ یہ ان کی چوتھی صفت ہے کہ وہ نماز کو ضائع نہیں کرتے۔
نماز باجماعت کے متعلق امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ جنگ میں اگر تین آدمی بھی موجود ہو تو وہ نماز باجماعت ادا کریں ورنہ ان پر شیطان چھا جائیگا۔ البتہ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ نماز جمعہ کے لیے چالیس آدمیوں کا اکٹھا ہونا ضروری ہے ، لیکن امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ تین آدمی بھی کافی ہیں نماز اجتماعیت کا ذریعہ ہے۔ اس میں وقت کی پابندی ، طہارت ، مساوات اور بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی کا درس ملتا ہے اور سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق استوار ہوتا ہے۔ نماز میں خدا تعالیٰ کے حضور مناجات ہوتی ہے۔ اس میں تلاوتِ قرن بھی ضروری ہے جس کے ذریعے فلاں کا پروگرا م میسر آتا ہے۔ لہٰذا کامل الایمان لوگوں کی چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ نماز کو قائم کرتے ہیں اور اسے ضائع نہیں ہونے دیتے۔
5۔ انفاق فی سبیل اللہ
اللہ تعالیٰ نے مومنین کی پانچویں صفت یہ بیان فرمائی ہے (آیت) ” ومما رزقنھم ینفقون “ جو روزی ہم نے انہیں دی ہے وہ اس میں سے خرچ کرتے ہیں اگر صاحب نصاب ہیں تو سب سے پہلے زکوٰۃ ادا کرتے ہیں جو کہ فرض ہے۔ البتہ زکوۃ کے علاوہ بھی مال کے حقوق ہیں حضور ﷺ کا ارشاد ہے ان فی المال حقا سوی الزکوٰۃ یعنی زکوٰۃ کے علاوہ مالی عبادات میں حج اور عمرہ بھی ہے اس کے علاوہ قربانی اور صدقہ فطر واجبات میں سے ہیں۔ اگر کسی صاحب مال آدمی کا کوئی عزیز رشتہ دار نادار ہو تو اس کی اعانت بھی واجب ہوجاتی ہے امام خصاف نے کتاب النفقات میں لکھا ہے کہ حنفی قانون کے مطابق صاحب ثروت کے لیے اپنے نادار رشتہ دار کا خرچہ واجب ہوتا ہے اللہ تعالیٰ بعض کو بعض پر مالی لحاظ سے فضیلت عطا کرتا ہے تو یہ مال ان کے لیے آزمائش ہوتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ دیکھتا ہے کہ اس کے عطا کردہ مال میں سے غرباء مساکین اور دیگر مستحقین کا حق ادا کیا گیا ہے یا نہیں اللہ نے فرمایا (آیت) ” وات ذا القربی حقہ والمسکین وابن السبیل “ اگر اللہ نے مال دیا ہے تو قرابت داروں ، مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرو (آیت) ” ولا تبذر تبذیرا “ (بنی اسرائیل) اور فضول خرچی نہ کرو۔ اس کو کھیل تماشے میں صرف نہ کرو۔ رسوماتِ باطلہ اور حرام کاموں میں دولت خرچ کرنے کا حکم نہیں ہے نھی عن اضاعۃ المال حضور ﷺ نے مال کے ضیاع سے منع فرمایا ہے سرمایہ دارنہ نظام معیشت میں یہی قباحت ہے۔ کہ مال کمانے والا سمجھتا ہے کہ خرچ کرنا بھی بلا شرکت غیر اسی کا حق ہے لہٰذا وہ جس طرح خرچ کرے حالانکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے کمائی کے لیے حلال ذرائع کی شرط عائد کی ہے اسی طرح خرچ کرنے کے لیے بھی جائز امور کا حکم دیا ہے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے آپ کو یہی کہا تھا (آیت) ” اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد ابائونا او ان نفعل فی اموالنا ما نشوا “ (ہود) کیا تمہاری نماز تمہیں یہی حکم دیتی ہے کہ ہم ان کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے آبائو اجداد کرتے آئے ہیں یا یہ کہ ہم اپنے مالوں میں اپنی مرضی سے تصرف نہ کریں مگر اللہ نے فرمایا کہ کامل الایمان وہ لوگ ہیں جو ہمارے عطا کردہ مالوں میں سے ہماری مرضی کے مطابق خرچ کرتے ہیں ان اخراجات کی مدات عرض کردی گئی ہیں یہ پانچویں صفت ہوگئی۔
حقیقی مومن :
فرمایا جن لوگوں میں یہ پانچ صفات پائی جائیں گی (آیت) ” اولئک ھم المومنون حقا “ یہ سچے مومن ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا نام لیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں کہ اور جب آیات الٰہی کی تلاوت کی جاتی ہے تو ان کے ایمان تازہ ہوجاتے ہیں اور وہ لوگ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات پر توکل رکھتے ہیں معاملہ تجارت ہو یا زراعت صلح ہو یا جنگ معیشت ہو یا معاشرت ، وہ لوگ کام انجام دے کر نتیجہ ہمشہ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں وہ لوگ نماز کو قائم کرتے ہیں اور اللہ کے دیے ہوئے مال میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے ہیں یہی کامل الایمان لوگ ہیں اور ان صفات کی حامل جماعت سے ہی اسلامی نظام قائم کرنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ وہی دنیا میں امن وامان قائم کرسکتے ہیں اور انہیں کی سرکردگی میں انصاف کا بول بالا ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” انتم الاعلون ان کنتم مومنین “ (آل عمران) اگر تم پکے سچے مومن ہو گے تو دنیا میں بالا دستی تمہیں حاصل ہوگی اور جب تمہارے ایمان میں خرابی آ جائیگی ، تعلق باللہ خراب ہوجائیگا تو دنیا میں ذلیل و خوار ہو کر رہ جائو گے۔ عیش پرست اور آرام طلب ہو جائو گے یا حریص اور غلام بن جائو گے نیکی رخصت ہو جائیگی اور خدا تعالیٰ کی ناراضگی تمہارے شامل حال ہوجائے گی۔
مومنوں کے لیے انعامات :
1۔ درجات :
آخر میں اللہ تعالیٰ نے کامل الایمان لوگوں کے لیے انعامات کا ذکر فرمایا ہے (آیت) ” لھم درجٰت عند ربھم “ ایسے لوگوں کے لیے ان کے رب کے ہاں درجات ہیں۔ سورة احقاف میں (آیت) ” ولکل درجٰت مماعملوا “ ہر آدمی کے لیے اس کے اعمال کے مطابق درجے ہوں گے درجات میں تفاوت اعمال کا نتیجہ ہوگا ایمان جنت کے دروازے کی چابی ہے ایمان ہوگا تو جنت کا دروازہ کھل جائے گا مگر وہاں پر درجات عمل کے اعتبار سے حاصل ہوں گے ، حضور ﷺ کا اور شاد مبارک ہے جنت کے سو درجے ہیں اور ہر درجہ ایک دوسرے سے اتنا بلند ہے جتنا آسمان زمین سے غرضیکہ اہل ایمان کے لیے اپنی اپنی حیثیت ، خلوص اور کارگزاری کے مطابق اللہ تعالیٰ کے ہاں درجات ہوں گے مغفرت :
فرمایا مومنین کے لیے دوسرا انعام ومغفرۃ اللہ تعالیٰ کی بخشش ہوگی دنیا میں جو کوتاہی ، لغزش یا خطا ہوگئی تھی اس کی معافی مل جائے گی یہ بھی بہت بڑا انعام ہے ، اسی لیے اللہ نے حضرت آدم اور حوا (علیہما السلام) کی زبان سے کہلوایا کہ مولا کریم ہم نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا (آیت) ” وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخٰسرین “ (اعراف) اگر تو ہماری غلطیوں کو معاف نہیں کرے گا اور ہم پر رحم نہیں فرمائے گا تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجائیں گے دنیا میں انسانوں سے بہت سی کوتاہیاں سرزد ہوں گی۔ مگر کامل الایمان لوگوں کو معافی مل جائیگی۔
3۔ باعزت روزی
فرمایا تیسرا انعام یہ ہے (آیت) ” ورزق کریم “ اہل ایمان کو باعزت روزی نصیب ہوگی۔ رزق کریم آخرت میں تو یقینا میسر ہوگا اور اس کا کوئی اندازہ ہی نہیں کرسکتا کہ یہ کتنا بڑا انعام ہوگا مگر اس دنیا میں بھی اطاعت کے ساتھ رزق حلال نصیب ہوجائے تو اس سے بلند کوئی روزی نہیں جو کچھ معصیت کے ساتھ ملتا ہے وہ باعزت رزق نہیں بلکہ ذلت کی روزی ہے ظاہر ہے کہ جو شخص ایمان کو اختیار کریگا حلال ذرائع معاش اختیار کریگا اسے حلال روزی نصیب ہوگی اور وہ صحیح معنوں میں اس کا حقدار ہو گا
یہاں پر عزت کا لفظ بتلا رہا ہے کہ گداگری چونکہ عزت کی روزی نہیں ہے لہٰذا یہ انسانیت کی تذلیل ہے الخبز بالکرامۃ یعنی عزت کی روزی ہر آدمی کو ملنی چاہیے۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ بیشتر لوگ خود ذلیل روزی کے لیے کوشاں رہتے ہیں ۔ فلم انڈسٹری اور گانا بجانا وغیر عزت کی روزی نہیں بلکہ تعیش ہے عزت کی روزی وہ ہے جس میں انسان کے لیے تسکین اور بہتری ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان اس دنیا میں حلال ذرائع سے روزی اختیار کرے تا کہ اسے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی رزق کریم میسر آسکے۔ لفظ کریم میں یہ راز پوشیدہ ہے کہ وہ کونسا راستہ ہے جسے اختیار کر کے مسلمانوں کو باعزت روزی نصیب ہو سکتی ہے اور ان کی اقتصادی حالت بہتر ہو سکتی ہے ہم تو انگریز ، امریکہ روس اور دہریوں کے نظام معیشت پر چل رہے ہیں اللہ کا عطا کردہ وہ پروگرام ہماری سمجھ میں نہیں آتا جو رزق کریم کا ذریہ بن سکے اس ایک لفظ سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ اسلامی نظام معیشت کے علاوہ تمام نظام باطل ہیں ، کسی میں حلال روزی نہیں ہے ہر صاحب ایمان اپنے ایمان کی وجہ سے صاحب عزت ہے مال و دولت عزت نہیں بلکہ نفاق ہے لوگ برے آدمی کے شر سے بچنے کے لیے اسے سلال کرتے ہیں ، حالانکہ حقیقی عزت کے قابل وہ شخص ہے جسے ایمان کی دولت حاصل ہے۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ اس کے کامل الایمان بندوں کا تیسرا انعام یہ ہے کہ انہیں باعزت روزی نصیب ہوتی ہے۔ وہ دنیا میں بھی رزق حلال سے مستفید ہوتے ہیں اور آخرت میں تو بہت بڑے انعامات کے حقدار ہوں گے
گداگری حرام ہے :
امام شاوہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں (1۔ حجۃ اللہ البالغہ ص 42۔ ج 1 (فیاض) کہ گداگری چونکہ عزت کی روزی نہیں ہے ، اس لیے ہمارے دین میں یہ حرام ہے۔ یہ بھی چوری اور ڈاکے کی طرح مضر پیشہ ہے مگر ہماری حکومت اس پر قابو پانے سے قاصر ہے انسداد گداگری کے آرڈنینس تجویز ہوتے ہیں مگر نافذ العمل نہیں ہو پاتے نظام زکوٰۃ کے نفاذ سے گداگری کے انسداد کی امید پیدا ہوئی تھی مگر اس مذموم پیشے پر قابو نہیں پایا جاسکا یورپ کے اکثر ممالک میں بیکاری الاونس ملتا ہے جس کی وجہ سے وہاں گداگری نہیں ہے یہ کام تو مسلمانوں کا ورثہ تھا جسے دوسروں نے اپنا لیا ہے مگر ہم اس لعنت سے چھٹکارا حاصل نہیں کرسکتے اس کا خاتمہ قرآنی پروگرام سے ہی ممکن ہے ورنہ ذلت سے جان نہیں چھوٹ سکتی۔
Ayahs 8:5–8ربط آیات :
اس سورة کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی جماعت کے نظم وضبط کا قانون بیان فرمایا۔ پھر کامل الایمان لوگوں کی پانچ صفات کا ذکر کیا اور آخر میں ان انعامات کا ذکر کیا جو ان کو ملنے والے ہیں۔ یہ تین انعامات درجات کی بلندی ، گناہوں کی معافی اور باعزت روزی ہیں آج کا درس بھی اسی آیت کے ساتھ مربوط ہے کہ یہ انعامات اسی طرح ۔۔ یقینی ہیں جس طرح اے پیغمبر ! آپ کو آپ کے پروردگار نے مدینے سے نکال کر فتح سے ہمکنار کیا یعنی جنگِ بدر میں کامیابی عطا فرمائی۔
” کما “ بطور تشبیہ
آج کا درس لفظ کما سے شروع ہو رہا ہے جس کا معنی ” جس طرح “ ہے مفسرین کرام نے اس کی بہت سے توجیہات کی ہیں۔ بعض فرماتے ہیں کہ یہاں پر یہ لفظ تشبیہ کے طور پر آیا ہے۔ یاد کرو کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جنگ بدر کے لیے بےسروسامانی کی حالت میں نکالا تھا پھر فتح سے ہمکنار کیا ، جس طرح یہ بات برحق ہے ، اسی طرح مال غنیمت کی تقسیم بھی اللہ کے حکم کے مطابق آپ کے ذمے حق ہے پہلے درس میں بیان ہوچکا ہے کہ غزوہ بدر میں حاصل ہونے والے مال غنیمت کی تقسیم کی متعلق بعض مسلمانوں میں اختلاف رائے پیدا ہوگیا تھا۔ نوجوان مجاہد اس پر اپنا حق جتاتے تھے اور عمر رسیدہ غازیاں اپنا حق فائق سمجھتے تھے اور پھر دونوں فریق اپنی اپنی مرضی کی تقسیم چاہتے تھے ، پھر اللہ نے یہ فیصلہ نازل کیا کہ مال غنیمت پر کسی کا حق نہیں ہے بلکہ یہ تو اللہ کا حق ہے جس نے اسباب پیدا فرما کر تمہیں فتح دلائی اور مال دیا ، اب اس مال کی تقسیم بھی اللہ ہی کا حق ہے جو اپنے نبی کی معرفت اسے حق کے ساتھ تقسیم کر دیگا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے جنگ بدر کے لیے روانگی کے وقت سے تشبیہ دی ہے کہ جب تمہیں مدینہ طیبہ سے اس مہم پر تمہارے گھروں سے نکالا تو اس وقت بھی اہل ایمان کے دو گروہ بن گئے تھے جن میں سے ایک گروہ بےسروسامانی کی حالت میں جنگ کو ناپسند کرتا تھا مگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو اس بےسروسامانی کی حالت مٰبن ہی دشمن پر غالب کرتا ہے ، چناچہ اللہ نے اپنا وعدہ پورا کردیا ، مسلمانوں کو فتح عطا کی اور مال غنیمت بھی دلایا۔ اسی طرح اللہ نے فرمایا کہ مال غنیمت کے معاملہ میں امض کما امرک اللہ جس طرح اللہ نے آپ کو حکم دیا ہے اس کے مطابق چل پڑیں اور تقسیم کردیں اس میں کسی فریق کی پسند یا ناپسند کا خیال نہ کریں اس طرح گویا گھر سے نکلنے کو مال غنیمت کے ساتھ تشبیہ ہوگئی۔
” کما “ بطور علت :
بعض فرماتے ہیں کہ یہاں پر کما بطور سبب یا علت کے آیا ہے ۔ اور وہ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ مال غنیمت کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ کا فیصلہ اور حکم ہی جاری ہونا بہتر اور اس کی حکمت کے مطابق ہے کیونکہ آپ کو گھر سے نکالنا ہی مال غنیمت کے حصول کا ذریعہ بنا۔ جب مسلمان مدینہ طیبہ سے نکلے تھے تو اس وقت تو جنگ کے ارادے سے نہیں نکلے تھے بلکہ بعد میں حالات کے تقاضے کے مطابق اہل ایمان کو کفار کے بالمقابل صف آراء ہونا پڑا۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے اسباب پیدا فرمائے ۔ آپ کو میدانِ جنگ میں لا کھڑا کیا اور پھر مال غنیمت بھی دیا تو اب تقسیم بھی اسی کے حکم کے مطابق کریں اور ولوگوں کی ذاتی آراء کی پروا نہ کریں کیونکہ تمہارا گھروں سے نکالنا ہی تو مال غنیمت کا سبب بنا حالانکہ تم میں سے ایک گروہ لڑائی پر آمادہ ہی نہیں تھا۔
غزوہ بدر کا پس منظر :
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” کما اخرجک ربک من بیتک بالحق “ جس طرح نکالا آپ کے پروردگار نے آپ کو آپ کے گھر سے حق کے ساتھ یہاں پر مفسرین نے بہت سی باتیں بیان کی ہیں ، مگر واضح بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اہل ایمان کو گھروں سے نکالنا ، دشمنوں سے ٹکرانا اور پھر فتح دلانا اس کی تدبیر اور مصلحت کے مطابق تھا اس واقعہ کے پس منظر یہ ہے کہ مکی زندگی میں حضور ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کفار کے ہاتھوں بڑی تکالیف اٹھاتے تھے چونکہ اس وقت ابھی تک تنظیم نہیں تھی اس لیے جہاد کا حکم بھی نہیں تھا اور اللہ کا حکم یہی تھا کہ اپنے ہاتھوں کو روکے رکھو پھر جب مدنی زندگی میں آکر مسلمانوں نے قوت جمع کرلی تو اللہ تعالیٰ نے جہاد کی اجازت دے دی پھر نہ صرف اپنا دفاع کرنے کا حکم ہوا بلکہ آگے بڑھ کر دشمن پر کاری ضرب لگانے کی بھی اجازت مل گئی غزوہ بدر کا واقعہ 17 رمضان المبارک 2 ھ بمطابق مارچ 624 ئ میں پیش آیا اس واقعے سے پہلے بھی کفار کے ساتھ چند ایک معمولی جھڑپیں ہوچکی تھیں جن میں سے امام بخاری نے ذات العشیرہ کے غزوہ کا ذکر بھی کیا ہے مگر سب سے پہلے بڑا معرکہ بدر میں ہی پیش آیا۔
اہل اسلام کی مدینہ میں ہجرت کے بعد بھی مشرکین مکہ کی اسلام دشمنی میں کمی نہ آئی تھی بلکہ وہ مسلمانوں کو زک پہنچانے کے لیے ہمیشہ موقی کی تلاش میں رہتے تھے۔ اس سے پہلے جب کچھ مسلمان حبشہ کی طرف ہجرت کر گئے تو اس موقع پر بھی کفار نے آپنے آدمی شاہ حبشہ کے پاس بھیج کر اسے بدظن کرنے کی کوشش کی تھی ، تحفے تحائف بھی بھیجے مگر ان کی دال نہ گلی اسی طرح وہ اہل مدینہ کو بھی ہراساں کرتے رہتے تھے کہ تم نے مسلمانوں کو پناہ دی ہے لہٰذا ہم مسلمانوں کے ساتھ تمہیں بھی نیست ونابود کردیں گے۔ کفار مکہ نے یہودیوں کے ساتھ مل کر بھی مسلمانوں کے خلاف کئی ایک سازشیں کیں مگر کامیاب نہ ہو سکے بہر حال مشرکین اہل ِ اسلام کو مدینہ میں سکون وچین کی زندگی نہیں بسر کرنے دیتے تھے بلکہ ہر وقت ڈراتے دھمکاتے رہتے تھے۔
مشرکین کا تجارتی قافلہ :
ان حالات میں مسلمان بھی اپنے دفاع اور کفار پر ضرب لگانے کے منصوبے بناتے رہتے تھے مکہ کے تاجر پیشہ لوگوں کا معمول تھا کہ وہ سردی کے موسم میں یمن جیسے گرم علاقے کی طرف تجارت کے لیے جاتے تھے اور گرمیوں میں شام و فلسطین جیسے سرد علاقوں کا سفر اختیار کرتے تھے اس دوران مشرکین مکہ نے پچاس ہزار دینار کے تجارتی سامان کے ساتھ اپنا ایک قافلہ شام کی طرف روانہ کیا یہ قافلہ ڈیڑھ سو اونٹوں پر مشتمل تھا جس نگرانی کے لیے ابو سفیان اور عمرو ابن العاص کی نگرانی میں چالیس آدمی ہمراہ تھے قافلہ روانہ کرتے وقت مشرکین نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ اس قافلے کا سارا منافع مسلمانوں کے خلاف تیاری پر خرچ کیا جائے گا۔ جب یہ قافلہ شام سے واپس مکہ کی طرف آرہا تھا تو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اس کی خبر حضور ﷺ کو دی دی۔ آپ نے مدینے کے مسلمانوں کو جمع کیا اور اس خبر سے باخبر کیا اور یہ بھی بتایا کہ اس قافلے کا سارا منافع تمہارے خلاف استعمال ہونے والا ہے ، لہٰذا یہ طے پایا کہ اس قافلے کا تعاقب کیا جائے اور پیشتر اس کے کہ یہ مکہ پہنچ کر ہمارے خلاف استعمال ہو ، اسے راستے ہی میں پکڑ لیا جائے ، چونکہ اس موقع پر کفار کے ساتھ کسی جنگ کا پروگرام نہیں تھا لہٰذا مسلمان سامانِ حرب کے بغیر ہی قافلے کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے ، اس مہم میں سب کا شریک ہونا بھی ضروری نہیں تھا لہٰذا جتنے آدمی بھی جاسکے روانہ ہوگئے ، اس کے لیے زور نہ دیا گیا۔
ادھر قافلے والے بھی چوکنا تھے۔ انہوں نے بھی جاسوس چھوڑ رکھے تھے۔ ان کو اطلاع مل گئی کہ مسلمان ان کے قافلہ پر حملہ آور ہونے والے ہیں چناچہ ابو سفیان نے ایک تیز رفتار اونٹنی سوار مدد کے لیے مکہ بھیجا اس نے عربوں کے دستور کے مطابق اونٹنی کے ناک کان کاٹ دیئے ، کجاوہ الٹا رکھ دیا اور اپنے کپرے آگے پیچھے سے پھاڑ دیئے وہ لوگ سخت خطرے کے وقت ایسے ہی کیا کرتے تھے۔ چناچہ ابو سفیان کا قاصد جب اس حال مکہ پہنچا تو وہاں ہلچل مچ گئی ابو جہل نے خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اعلان کیا کہ مسلمان تمہارے تجارتی قافلے کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں لہٰذا اس کی مدد کے لیے تیار ہو جائو۔ اس طرح مسلمانوں سے مقابلے اور قافلے کی مدد کے لیے مکہ میں زور وشور سے تیاری شروع ہوگئی
عاتکہ کا خواب :
حضورع کی چار پھوپھیاں تھیں ان میں سے حضرت صفیہ ؓ تو بالیقین ایمان لے آئیں مگر دو کفر کی حالت میں ہی مریں عاتکہ کے متعلق دونوں قسم کی روایات ہیں مگر زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ بھی ایمان لے آئی تھیں جن دنوں مکہ میں مسلمانوں کے خلاف غم وغصہ کی آگ بھڑک رہی تھی ، عاتکہ نے خواب دیکھا کہ ایک فرشتہ آسمان سے اترا ہے اس نے پہاڑ سے ایک پتھر لے کر اس طریقے سے مارا ہے کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور مکہ کے ہر گھر میں ایک ایک ٹکڑا گرا ہے اس نے یہ خواب اپنے بھائی عباس ؓ کے سامنے بیان کیا جنہوں نے آگے دوسروں کو بتایا تو اس خواب کا عام چرچا ہوگیا اس پر ابو جہل کو بڑا غصہ آیا کہنے لگا پہلے اس خاندان کے مرد نبوت کا دعوی کرتے تھے اب عورتیں بھی مدعی بن رہی ہیں یہ سب فضول ہے کسی وہم میں مبتلا نہ ہو مسلمانوں کے خلاف نکل کھڑے ہو اس طرح اس نے اپنے آدمیوں کو زبردستی ساتھ ملا لیا۔
اسلامی لشکر کی روانگی :
ادھر اللہ کا نبی 313 یا 319 کی جمعیت کے ساتھ تجارتی قافلے کے تعاقب میں نکلا جب وادی ذفران میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے حضور ﷺ کو حالات سے باخبر کردیا ۔ قافلے والوں کو مسلمانوں کی تیاری کی خبر پہنچ چکی تھی ، انہوں نے معروف راستہ چھوڑ کر ساحل سمندر کا راستہ اختیار کرلیا جو کہ اگرچہ قدرے دراز تھا مگر نسبتا محفوظ تھا۔ ادھر ابو جہل بھی مشرکین مکہ کے لشکر کے ساتھ نکلا اس کا مقصد تو تجارتی قافلے کی حفاظت تھا مگر جب وہ بدر کے مقام پر پہنچے تو مسلمانوں کی جماعت وادی زفران میں پہنچ چکی تھی جب مسلمانوں کو خبر ملی کہ قافلہ ساحل سمندر کی طرف ہوگیا ہے اور ابو جہل مکہ سے کمک لے کر چل نکلا ہے تو حضور ﷺ نے اس مقام پر صحابہ کرام ؓ سے آئندہ پروگرام کے لیے مشورہ فرمایا اور ساتھ ہی اہل اسلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر دے دی کہ دو باتوں میں سے ایک ضرور تمہیں حاصل ہوگی یا تو قافلہ تمہارے ہاتھ آئے گا یا تمہیں میدانِ جنگ میں فتح حاصل ہوگی اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمررض تو حضور ﷺ کے ہر حکم پر لبیک کہنے کو تیار تھے مگر انصار صحابہ کرام ؓ کی رائے کچھ مختلف تھی وہ جنگ کے ارادے سے تو نکلے نہیں تھے آدمی بھی تھوڑے تھے اور اسلحہ بھی ہمراہ نہ تھا ، لہٰذا ان کی رائے یہ تھی جنگ کا خطرہ مول نہ لیا جائے اور اس کی بجائے تجارتی قافلے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کی جائے کیونکہ اس کی حفاظت کے لیے چالیس آدمی تھے جنہیں آسانی کے ساتھ مغلوب کیا جاسکتا ہے۔
مشورہ اور حتمی فیصلہ :
بہرحال جب حضور ﷺ نے صحابہ ؓ سے مشورہ طلب کیا تو بعض نے تصدیق کی اور بعض خاموش رہے آپ باربار فرماتے تھے کہ اس معاملہ میں مشورہ دو اسی موقع پر حضرت مقداد بن عمرو ؓ جو مہاجرین میں سے تھے کھڑے ہوئے اور عرض کیا ، حضور ﷺ ! آپ جس طرح حکم دیں گے ہم کر گزریں گے آپ کے ایک اشارے پر ہم خشکی اور سمندر میں ہر جگہ جانے کو تیار ہیں اور ہر مشکل سے مشکل مقام میں گھس جائیں گے ہم حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھیوں کی طرح آپ سے یہ نہیں کہیں گے (آیت) ” فاذھب انت وربک فقاتلا انا ھھنا قٰعدون “ (المائدہ) یعنی تم اور تمہارا خدا جا کر لڑو۔ ہم تو یہیں بیٹھیں گے ہم تو اپنی جان پر کھیل جائیں گے آپ نے اس پیش کش کی ستائش فرمائی۔ اس کے بعد پھر فرمایا ، لوگو ! مشورہ دو آپ کا روائے سخن انصارِ مدینہ کی طرف تھا ، اس پر حضرت سعد بن معاذ ؓ اور بعض دوسرے صحابہ ؓ نے تقاریر کیں اور عرض کیا ، حضور ﷺ ! ہم آپ کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کریں گے آپ کے اشارے پر ہم عدن ابین تک جانے کو تیار ہیں جو کہ مکہ سے بہت دور ہے حضور ﷺ انصارِ مدینہ کی طرف سے بھی مطمئن ہوگئے اور اس پر خوشی کا اظہار کیا۔ اور فرمایا سیروا علی برکۃ اللہ چلو اللہ کی برکت سے یعنی بدر کی طرف چلو جہاں ابو جہل اپنے لشکر کے ساتھ پہنچ چکا تھا اسی سورة میں ساری تفصیلات آ رہی ہیں کہ مشرکین نے بدر کے مقام پر پہنچ کر اچھی جگہ پر پہلے ہی قبضہ کرلیا تھا ، تا ہم بڑے گھمسان کا معرکہ ہوا اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو نصرت عطا کی ، پوری دنیا میں مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی اور اس طرح اہل ایمان کا غلبہ شروع ہوگیا۔
یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اسی واقعہ کو بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا اس کی تدبیر اور مشیت میں کافروں کو مغلوب کرنا تھا حالانکہ (آیت) وان فریقا من المومنین لکرھون اہل ایمان میں سے ایک گروہ اس کو ناپسند کرتا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ بےسروسامانی کی حالت میں جنگ کیسے کرسکیں گے بعض کہتے تھے کہ جنگ کی بجائے قافلے کا تعاقب کرنا چاہیے (آیت) یجادلونک فی الحق وہ حق بات میں آپ سے جھگرا کرتے ہیں (آیت) بعد ما تبین اس کے بعد کہ بات واضح ہوچکی ہے (آیت) کانما یساقون الی الموت گویا کہ وہ چلائے جا رہے اس موت کی طرف (آیت) وھم ینظرون اور وہ دیکھ رہے ہیں مطلب یہ کہ ان پر یہ بات واضح کردی گئی تھے کہ دونوں میں سے ایک فائدہ ضرور تم کو حاصل ہوگا یا تو قافلہ ہاتھ آئے گا یا جنگ میں فتح ہوگی اس کے باوجود انہیں میدان جنگ کی طرف جاتے ہوئے موت نظر آرہی تھی۔
اللہ کا وعدہ :
فرمایا (آیت) واذ یعدکم اللہ اس وقت کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ وعدہ کیا تھا (آیت) احدی الطائفتین انھا لکم کہ دو گروہوں میں سے ایک ضرور تمہارا ہے یعنی تجارتی مال ملے گا یا فتح حاصل ہوگی ۔ فرمایا اس کے باوجود ( آیت) وتودون ان غیر ذات الشوکۃ تکون لکم تم پسند کرتے تھے کہ ایسی چیز حاسل ہو جس میں کانٹا نہ لگے۔ یعنی تمہیں قافلے کا مال مل جائے اور جنگ کی مشقت نہ برداشت کرنی پڑے ( آیت) ویرید اللہ ان یحق الحق بکلمٰتہ اور اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ اپنے کلمات یعنی ارشادات کے ساتھ حق کو ثابت کر دے ( آیت) ویقطع دابر الکفرین اور کافروں کی جڑ کاٹ کے رکھ دے۔
حق و باطل کا فیصلہ :
یہ اس لیے ( آیت) لیحق الحق ویبطل الباطل تا کہ ثابت کر دے حق کو یعنی ایمان اور توحید کا غلبہ ہوجائے اور کفر اور شرک کا باطل عقیدہ مغلوب ہوجائے اللہ تعالیٰ اسے ذلیل و خوار کر دے۔ ( آیت) ولو کرہ المجرمون اگرچہ یہ بات مجرموں اور گنہگاروں کو ناگوار ہی گزرے مگر اللہ کہ مشیت میں یہی ہے کہ کفر وشرک کا قلع قمع ہو اور اسلام کا بول بالا ہو اس کے بعد بدر میں پیش آنے والے جستہ جستہ واقعات کا ذکر اور فتح اسلام کا بیان آئے گا اللہ تعالیٰ نے وہ اصول بھی بیان کردیے ہیں جو جنگ کی صورت میں قابل عمل ہوتے ہیں اس دوران اللہ تعالیٰ نے جس طریقے سے اہل ایمان کی مدد فرمائی اس کا ذکر بھی آئے گا۔