Ayahs 8:9–14ربط آیات :
اس سورة کی ابتدائی آیت میں جماعتی نظم وضبط کے قانون کا ذکر کیا گیا تھا پھر کامل الایمان لوگوں کی پانچ صفات بیان ہوئیں فرمایا مال غنیمت کے ضمن میں لوگوں کا جھگڑنا اور حق جتلانا مناسب نہیں کیونکہ یہ مال تو اللہ تعالیٰ کا ہے ، اسی نے اپنی رحمت ومہربانی سے مسلمانوں کو فتح دلائی ، لہٰذا اللہ تعالیٰ جو حکم دیگا اللہ کا رسول اس کے مطابق مال غنیمت میں تصرف کرے گا اس پر کسی کو اعتراض کرنے کا حق نہیں ہے فرمایا یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا اللہ نے آپ کو گھر سے نکالا حالانکہ اہل ایمان کا ایک گروہ لڑائی کو ناپسند کرتا تھا مگر اللہ کی مصلحت میں اس موقع پر کفار کی شکست وریخت اور مسلمانوں کو غالب بنانا تھا اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے بعض واقعات کا تذکرہ فرمایا ہے جن میں اس نے اہل ایمان کی مدد فرمائی ان کے لیے ساز گار اساب پیدا فرمائے اور پھر انہیں غلبہ حاصل ہوا ۔
اللہ تعالیٰ سے فریاد :
ارشاد ہوتا ہے ( آیت) اذ تستغیثون ربکم اس بات کو اپنے سامنے رکھو جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کر رہے تھے تم میدان بدر میں بےسروسامانی کی حالت میں تھے نہ کوئی اسلحہ تھا نہ سازو سامان اور نہ افرادی قوت سورة آل عمران میں گزر چکا ہے کہ تمہاری حالت ایسی تھی ( آیت) ولقد نصرکم اللہ ببدروانتم اذلۃ اللہ تعالیٰ نے بدر کے مقام پر تمہاری مدد کی حالانکہ تم بہت ہی کمزور تھے اس وقت حضور ﷺ اپنے صحابہ سے فرما رہے تھے کہ کیا تمہارے لیے یہ بات کافی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ تین ہزار فرشتوں کے ساتھ تمہاری مددکرے گا نیز آپ نے یہ بھی تسلی دی کہ اگر تم نے صبر اور تقوی اختیار کیا تو فوری ضرورت پر اللہ تعالیٰ پانچ ہزار فرشتے بھیج دیگا تو یاں پر بھی اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ میدان بدر میں صحابہ کرام ؓ نے حضور ﷺ کے لیے جو چھپر بنا دیا تھا آپ اس میں ساری رات دعائیں مانگتے رہے ، اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتے رہے کہ اے پروردگار ! تو نے جو بدر کا وعدہ فرمایا ہے اسے پورا فرما۔ آپ نے یہاں تک اللہ کے حضور عرض کیا اللھم ان تھلک حذہ العصابۃ لن تعبد فی الارض اے اللہ اگر تو نے اس مٹھی بھر جماعت کو ہلاک کردیا تو روئے زمین پر تیری عبادت کرنے والا کوئی باقی نہیں رہے گا۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔
نزول ملائکہ :
اس دعا کے جواب میں فرمایا ( آیت) فاستجاب لکم اللہ تعالیٰ نے تمہاری فریاد کو شرفِ قبولیت بخشا ( آیت) انی ممدکم بالف من الملٰئکۃ مردفین میں تمہیں امداد بھیجوں گا ایک ہزار فرشتوں کی جو لگاتار آنے والے ہوں نزول ملائکہ کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے فرمایا ( آیت) وما جعلہ اللہ الا بشری نہیں بنایا اللہ تعالیٰ نے اس کو مگر خوشخبری یعنی اہل ایمان کے لیے فرشتوں کا نزول ان کی فتح کی خوشخبری تھی اور اس سے یہ بھی مقصود تھا ( آیت) ولتطمئن بی قلوبکم کہ اس کے ذریعے تمہارے ( مسلمانوں کے) دلوں کو اطمینان حاصل ہو فرشتوں کا براہ راست جنگ میں حصہ لینا مقصود نہیں تھا کیونکہ اللہ نے ان کو اتنی طاقت عطا فرمائی ہے کہ سارے کافروں کے لیے ایک ہی فرشتہ کافی تھا لڑائی کرنا تو مکلف انسانوں کا کام ہے نزول ملائکہ تو صرف مسلمانوں کے اطمینانِ قلب کے لیے تھا اللہ نے فرمایا ( آیت) وما النصر الا من عند اللہ اور نہیں ہے مدد مگر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ( آیت) ان اللہ عزیز حکیم بیشک اللہ تعالیٰ غالب بھی ہے اور حکمت والا بھی وہ اپنی حکمت کے مطابق جس طرح چاہتا ہے اس کے مطابق اسباب مہیا کرتا ہے چناچہ اس نے حسب وعدہ فرشتوں کو بھیجا جیسا کہ پہلے بیان ہوا فرشتوں کا کام اہل ایمان کے دلوں کو مطمئن کرنا تھا تا ہم اسی ضمن میں اکا دکا ایسے مواقع بھی پیش آئے جب فرشتوں نے کافروں پر ضرب بھی لگائی مقصد مسلمانوں کو یقین دلانا تھا کہ ان کی مدد کے لیے فرشتے موجود ہیں چناچہ ان کے حوصلہ بلند ہوگئے ، وہ کفار پر ٹوٹ پڑے اور آخر اللہ تعالیٰ نے فتح سے ہمکنار کیا۔
اونگھ کے ذریعے سکون :
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی امداد کے لیے ایک تو فرشتوں کو نازل کیا دوسری امداد اس طرح فرمائی ( آیت) اذیغشیکم الناس امنۃ منہ اس وقت کو بھی دھیان میں لائو جب اللہ تعالیٰ تم پر اونگھ ڈالتا تھا اپنی طرف سے امن دلانے کے لیے۔ حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ جس دن جنگ بدر برپا ہوئی اس رات کوئی صحابی ایسا نہ تھا جو سویا نہ ہو ، اللہ تعالیٰ نے سب پر نیند ڈال دی اور وہ خوب سوئے۔ صرف حضور ﷺ ساری رات بیدار رہ کر نماز پڑھتے رہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں مناجات اور دعائیں کرتے رہے تمام صحابہ ؓ پر نیند طاری کردینا اللہ تعالیٰ کی خاص حکمت اور مسلمانوں کی فتح کی نشانی تھا۔ جنگ کے دوران نیند کا آنا مبارک ہوتا ہے اس کے برخلاف اگر نماز کے دوران نیند آئے تو یہ منحوس ہوتا ہے کیونکہ ایسی صورت میں شیطان وسوسہ ڈالتا ہے حضرت مولانا شیخ الاسلام حسین احمد مدنی (رح) بخاری شریف کا درس دیا کرتے تھے۔ دوران درس اگر کسی ساتھ پر نیند کا غلبہ ہوتا تو فرماتے یہ شیطان کا کام ہے۔ اٹھو اور وضو کر کے آئو۔ البتہ جنگ کے دوران نیند آجائے تو انسان کی دہشت دور ہوجاتی ہے اور آدمی پھر سے تازہ دم ہوجاتا ہے طبی فلسفہ بھی یہی ہے چناچہ جنگ بدر کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ مہربانی کہ مسلمانوں پر نیند یا اونگھ ڈال دی جس سے وہ تازہ دم ہو کر بہتر طور پر جنگ کے قابل ہوگئے۔
بارانِ رحمت کا نزول :
اللہ تعالیٰ کا تیسرا نعام یہ ہوا ( آیت) وینزل علیکم من السماء ماء اللہ تعالیٰ نے تم پر آسمان سے پانی نازل کردیا جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ مسلمانوں کے میدانِ بدر میں پہنچنے سے پہلے کفار نشیبی اور پانی والے علاقے پر قبضہ کرچکے تھے اور مسلمانوں کے حصے میں ریتلا علاقہ آیا تھا جہاں پائوں دھنستے تھے اور سواری ٹھیک طور پر نہیں چل سکتی تھی اسی دوران بعض مجاہدین کو غسل کی ضرورت پڑگئی مگر پانی نہیں تھا اور ساتھ شیطان نے وسوسے بھی ڈالنے شروع کر دئیے مگر اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے بارانِ رحمت کا نزول ہوگیا جس کی وجہ سے مسلمانوں نے غسل کیا اور استعمال کے لیے پانی جمع بھی کرلیا۔ جانوروں کو پلایا اور مشکیزے بھر لیے۔ اس کے علاوہ بارش کی وجہ سے ریت جم کر سخت ہوگئی۔ اور سواریوں کو چلنے میں دقت نہ رہی۔ ریتلا حصہ سخت ہوگیا جسی وجہ سے مجاہدین کے پائوں بھی جمنے لگے۔ ادھر کافروں کے پاس نشیبی علاقہ تھا ، وہاں دلدل ہوگئی اور ان کے لیے نقل و حرکت میں مشکلات پیدا ہونے لگیں گویا بارش برسا کر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے آسانی اور کفار کے لیے مشکل پید فرما دی۔
فرمایا اللہ نے تم پر آسمان سے پانی نازل فرمایا ( آیت) لیطھرکم بہ تا کہ تمہیں اس کے ذریعے پاک کر دے تم نے وضو اور غسل کیا ، طہارت حاصل کرلی۔ نیز اس سے یہ بھی مقصود تھا ( آیت) ویذھب عنکم رجزا الشیطٰن تا کہ اس کے ذریعے تم سے شیطان کے وسوسے کو دور کر دے بارش کے نزول سے پہلے شیطان دلوں میں وسوسہ اندازی کر رہا تھا کہ دیکھو تم اپنے آپ کو حق پرست کہتے ہو مگر تمہاری حالت یہ ہے کہ نہ تو تمہارے پاس اچھی جگہ ہے جس پر قدم جم سکے اور نہ تمہارے پاس پانی ہے جس سے تم اپنی ضروریات پوری کرسکو۔ چناچہ جب بارش ہوگئی تو اس قسم کے شیطانی وسوسے دور ہوگئے اور مسلمانوں کے دل مطمئن ہوگئے۔ اسی لیے فرمایا کہ بارش کا نزول شیطان کے وساوس کو دور کرنے کے لیے بھی تھا اور اس لیے بھی ( آیت) ولیربط علی قلوبکم اور تا کہ تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے۔ ( آیت) ویثبت بہ الاقدام اور تا کہ تمہارے قدموں کو مضبوط کر دے : ظاہری طور پر تو قدم اس لیے جم گئے کہ ریت جم گئی اور طاطنی طور پر فرشتوں کو نازل فرما کر مسلمانوں کے دلوں کو مطمئن کردیا۔ قدم جمانے کے یہ دونوں مطلب ہیں۔
فرشتوں کی کارگزاری :
اس کے بعد اللہ نے نزول ملائکہ کی کیفیت کو بیان فرمایا ہے۔ ( آیت) اذ یوحی ربک الی الملٓئکۃ انی معکم اس وقت کو بھی یاد کرو جب تمہارے پروردگار نے فرشتوں کو وحی بھیجی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں فثبتوا الذین امنوا پس تم ایمان والوں کو ثابت قدم رکھو۔ ان کو تسکین دلائو ، ان کے دلوں میں ایسے خیالات ڈالو جس سے وہ مطمئن ہوجائیں اور میں یہ کروں گا ( آیت) سالقی فی قلوب الذین کفروا الرعب کافروں کے دلوں میں رعب ڈال دونگا اور وہ مسلمانوں سے خوفزدہ ہوجائیں گے۔ پھر تم یہ کام کرو ( آیت) فاضربوا فوق الاعناق تم ان کی گردنوں پر مارو ( آیت) واضربوا منھم کل بنان اور ان کے ہر ہر پور پر ضرب لگائو۔
یہاں پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ کافروں کی گردنوں اور ان کے پورپور پر مانے کا حکم اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو دیا یا مجاہدین کو جیسا کہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے ، لڑائی کرنا فرشتوں کا کام نہیں تھا یہ تو مادی اسباب میں مجاہدین کو ہی انجام دینا تھا اور جب اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں اسباب مہیا کردیے تو انہوں نے یہ کام بخوبی انجام بھی دیا ، تا ہم اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی طرف سے صرب لگانے کے اکا دکا کا واقعات بھی صحابہ کو دکھا دیئے۔ اس طرح کافروں کے دلوں میں رعب بھی طاری ہوگیا اور مسلمانوں کو فرشتوں کی تائید بھی حاصل ہوگئی اور بالآخر اللہ تعالیٰ نے فتح سے ہمکنار کیا۔
مخالفین کے لیے سزا :
فرمایا ( آیت) ذلک بانھم شاقوا اللہ ورسولہ یہ اس لیے ہوا کہ کافروں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ( آیت) ومن یشاقق اللہ ورسولہ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے ( آیت) فان اللہ شدید العقاب تو اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔
تیرہ سالہ مکی زندگی میں اہل ایمان نے کفار کے ہاتھوں سخت تکالیف برداشت کیں مگر جب ہجرت کر کے مسلمان مدینہ پہنچ گئے ، کفار کی ایذا رسانیوں سے چھٹکارا حاصل ہوا۔ اور انہوں نے اپنی ریاست قائم کرلی تو ڈیڑھ سال کے قلیل عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی اس قدر حوصلہ افزائی فرمائی کہ کفار مکہ کو شکست فاش دیدی ابھی کچھ دن پہلے ابو جہل نے کعبہ شریف کی چھت پر کھڑے ہو کر اپنے تجارتی قافلے کی حفاظت کے نام پر لوگوں کو نکالا تھا۔ وہ بڑی شان و شوکت کے ساتھ مکہ سے روانہ ہوئے تھے وافر سازوسامان تھا۔ شراب کے مٹکے اور ناچنے گانے والی عورتیں حوصلہ افزائی کے لیے ہمراہ تھیں مگر اللہ نے شکست فاش سے دوچار کیا۔ کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی تھی ، اہل ایمان کو طرح طرح کی تکالیف پہنچائی تھیں۔ حتی کہ ان کے ہجرت کر جانے کے بعد بھی ان کے خلاف منصوبے بناتے رہتے تھے۔ تو فرمایا کفار کے اس جرم کی پاداش میں اللہ تعالیٰ کی سزا بھی بڑی سخت آئی۔ ستر کفار مارے گئے اور ستر قیدی بنا لیے گئے۔ یہ تو دنیا کی سزا تھی اور آخرت کی دائمی سزا اس کے علاوہ ہے۔
اللہ نے فرمایا ( آیت) ذلکم فذوقوہ یہ سزا تم نے دیکھ لی ہے اس کا مزا چکھو۔ حضور ﷺ نے بھی قلیب بدر پر کھڑے ہو کر واصل بہ جہنم ہونے والے کافروں سے خطاب فرمایا تھا آپ نے نام لے کر کہا تھا اے فلاں ! اے فلاں ! اللہ نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا ، وہ تو پورا ہوگیا اب تم بتائو کہ اللہ نے تمہارے ساتھ تمہیں ذلیل کرنے کا جو وعدہ کیا تھا اس کو تم نے سچا پایا یا نہیں ؟ اسی لیے فرمایا کہ اس عذاب کا مزا چکھو۔ ( آیت) وان للکٰفرین عذاب النار اور بیشک کافروں کے لیے جہنم کی سزا بھی باقی ہے جس کا خاتمہ کفر پر ہوگا وہ اس دائمی سزا میں بھی ضرورمبتلا ہوگا۔ دنیا میں سزا کے طور پر سازوسامان گیا۔ آدمی مارے گئے ، ذلیل و خوار ہوئے ، کفر کا زور ٹوٹ گیا اور وہ مرعوب ہوگئے۔ اس کے برخلاف اللہ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی ، وہ بےسروسامانی کی حالت میں تھے ، خدا کی رحمت کے سوا کوئی سہارا نہ تھا مگر اللہ نے انہیں فتح مبین عطا کی جس سے مسلمانوں کا رعب ساری دنیا میں طاری ہوگیا۔
Ayahs 8:15–19ربط آیات :
گزشتہ آیات میں میدانِ بدر میں مسلمانوں کی بےسروسامانی کی حالت میں کامیابی کا ذکر تھا۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے جس قسم کے اسباب پیدا کیے اور اپنی طرف سے جو خاص مہربانی فرمائی ، اس کا بیان ہوا۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے دشمنوں کے ساتھ مقابلہ کرنے سے متعلق بعض قوانینِ صلح وجنگ بیان فرمائے ہیں دنیا میں فتنہ و فساد کی بیخ کنی اور اعلائے کلمۃ الحق کے لیے بعض اوقات جہاد بالسیف ضروری ہوجاتا ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے جنگ میں پیش آنے والے بعض مسائل کے متعلق احکام نازل فرمائے ہیں۔ اسی طرح بعض اوقات جنگ کو ترک کر کے مصالحت کا راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے مصالحت کا قانون بھی دیا ہے اگر اہل ایمان ان قوانین کی پانندی کریں گے تو دنیا اور آخرت میں سرخروئی پائیں گے ، ورنہ ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔
جنگ کے دوران ثابت قدمی :
ارشاد ہوتا ہے ( آیت) یایھا الذین امنوا اے ایمان والو ( آیت) اذا لقیتم الذین کفروا زحفا جب میدانِ جنگ میں تمہاری کافروں کے ساتھ ٹکر ہو ، یعنی جب دو نظریات آپس میں متصادم ہوں اور کفار اپنا باطل پروگرام ترک کرنے پر تیار نہ ہوں بلکہ الٹا اسلام کو مغلوب کرنا چاہیں تو لا محالہ ان سے جنگ ہوگی۔ یہ بات سورة کی ابتداء میں بھی بیان ہوچکی ہے کہ کفار اسلام کے راستے کو ہر صورت میں روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کی آخری خواہش یہی ہے کہ کس طرح کفر کو غالب بنایا جائے ، تو ایسی صورت میں جنگ ناگزیر ہوگی اور اہل ایمان اس سے دامن نہیں بچا سکیں گے جب جنگ لازمی ہوگئی تو پھر اس کے اصول و ضوابط بھی ضروری ہیں اور یہی چیز اللہ نے یہاں بیان فرمائی ہے۔
زحف کا لفظی معنی گھسٹ کر چلنا ہے چھوٹے بچے کے لیے رمعف الصبی بولا جاتا ہے کہ وہ پائوں پر نہیں چل سکتا اور گھسٹ کر چلتا ہے اس سے مراد لشکر کا اکٹھا ہونا ہے جب بہت بڑا لشکر مل کر چلتا ہے تو بھیڑ کی وجہ سے وہ آہستہ آہستہ حرکت کرتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے گھسٹ کر چل رہا ہے ۔ بہرحال مطلب یہ ہے کہ جب میدان جنگ میں تمہاری دشمن کے ساتھ مڈبھیڑ ہو ( آیت) فلا تولوھم الادبار تو تم ان کی طرف پشتیں پھیر کر مت بھاگو بلکہ دشمن کے مقابلہ میں ثابت قدم رہو اور کمزوری نہ دکھائو۔
بعض خواہشات کی ممانعت :
حدیث شریف میں آتا ہے حضور ﷺ نے فرمایا لا تتمنوا لقاء العدو یعنی دشمن کے ساتھ ٹکر لینے کی تمنا کرو بل سلوا اللہ العافیۃ بلہ اللہ تعالیٰ سے خیروعافیت کا سوال کیا کرو۔ فرمایا ( آیت) واذا لقیتم جب دشمن سے آمنا سامنا ہو ہی جائے ( آیت) فاعلموا ان الجنۃ تحت ظلال السیوف تو جان لو کہ جنت تلواروں کے سایہ میں ہے جب تم پر جنگ ٹھونس دی جائے تو پھر ڈٹ کر مقابلہ کرو اور پیٹھ نہ دکھائو۔ محدثین اور فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ بیماریوں کے متعلق بھی یہی اصول ہے کوئی مومن بیماری کی خواہش نہ کرے اور اگر بیماری لاحق ہوجائے تو پھر صبر کرے ، بیماری کو برداشت کرے اور جزع فزع نہ کرے ، اللہ تعالیٰ اسی میں اجر عطافرمائے گا۔ بہرحال فرمایا کہ جنگ کی خواہش نہیں کرنی چاہیے تا ہم اگر مسلط ہوجائے تو پھر پائے استقلال میں لغزش نہیں آنی چاہیے۔
مقابلہ کے لیے معیار کا تقرر :
اسلام کے ابتدائی زمانے میں کفار سے مقابلے کے لیے مسلمانون کو کڑی آزمائش سے گزرنا پڑتا تھا۔ ان کے لیے حکم تھا کہ دشمن کی تعداد تم سے خواہ دس گنا بھی زیادہ ہو ، تم نے پیٹھ نہیں دکھانی بلکہ ڈٹ کر مقابلہ کرنا ۔ پھر اللہ نے تخفیف فرما دی اور اس طرح حد بندی کردی کہ اگر دشمن تم سے دگنی تعداد میں ہوں تو ان کا مقابلہ کرنا ضروری ہے اور اگر اس سے زیادہ یعنی چار گنا یا دس گنا ہوں تو پھر جنگ سے کنارہ کشی اختیار کی جاسکتی ہے۔ یہ مضمون آگے اسی سورة میں آرہا ہے کہ اب اللہ نے تم پر تخفیف کردی ہے۔ اگر تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے ہوں تو وہ دو سو کافروں پر غالب آئیں گے اور ایک ہزار صابر مجاہدین دوہزار کفار کے لیے کافی ہون گے۔ تو فرمایا جب کفار سے ٹکر ہوجائے تو پھر ثابت قدم رہو ، کیونکہ یہ بت بڑا اصول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة بقرہ میں حضرت دائود (علیہ السلام) کے ساتھیوں کا ذکر فرمایا ہے۔ انہوں نے بھی خدا تعالیٰ سے یہی دعا کی تھی ( آیت) ربنا افرغ علینا صبرا وثبت اقدامنا اے اللہ ! ہمیں صبر عطا کر اور ہمارے قدموں کو دشمن کے مقابلے میں مضبوط کر دے ( آیت) وانصرنا علی القوم الکٰفرین اور ہمیں کفار پر نصرت عطا فرما غرضیکہ ثابت قدمی جنگ کا پہلا قانون ہے۔
اسلامی فلسفہ جنگ :
آگے اللہ نے جنگ کا اسلامی فلسفہ بھی بیان فرمایا ہے اہل ایمان کے لیے جنگ مقصود بالذات نہیں ہے اغیار کی جنگ سے مراد ملک گیری ، مال و دولت کا حصول یا لوگوں کو غلام بنانا ہوتا ہے ، برخلاف اس کے مسلمانوں کا جنگ سے مقصود اقامتِ دین ہوتا ہے اس کا واحد مقصد ( آیت) کلمۃ اللہ حی العلیا یعنی اللہ تعالیٰ کی بات کو بلند کرنا ہوتا ہے کا کافر بےعقل ہیں جو عصبیت کی وجہ سے جنگ کرتے ہیں برخلاف اس کے اہل ایمان صاحب عقل ہیں ، جنگ سے ان کا واحد مقصد غلبہ دین ہوتا ہے۔
پسپائی کی سزا :
حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ دشمن کے ساتھ جنگ کے دوران بھاگ کھڑے ہونا اکبرالکبائر یعنی بڑے گناہوں میں سے ہے آج کے درس مٰں اللہ تعالیٰ نے پسپا ہونے والوں کے لیے سزا کا ذکر بھی کیا ہے فرمایا ( آیت) ومن یولھم یومیئذ دبرہ جو آدمی لڑائی کے دن کافروں کی طرف سے پیٹھ پھیر کر بھاگے گا ( آیت) فقد باء بغضب من اللہ بیشک وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹا ، اللہ تعالیٰ بھاگنے والوں پر ناراض ہوگا اور ایسے لوگ یہود کی طرح مغضوب علیہ ٹھہریں گے اس کا نتیجہ یہ ہوگا ( آیت) وماوھم جھنم ایسے شخص کا ٹھکانا جہنم ہوگا ( آیت) وبئس المصیر اور جہنم لوٹ کر جانے کی بہت بڑی جگہ ہے۔ لہٰذا میدانِ جنگ سے پیٹھ نہیں پھیرنی چاہیے ورنہ آدمی جہنم میں پہنچ جائے گا۔
استثنائی صورتیں :
البتہ لڑائی سے بھاگنے کے لیے دو صورتوں میں استثناء بھی ہے پہلی صورت یہ فرمائی ( آیت) الا متحرفا القتال کہ کوئی شخص اس لیے بھاگ آیا ہے تا کہ لڑائی میں پینترا بدل سکے اور دشمن کو جھانسہ دے کر دوبارہ حملہ آور ہو حضور کا فرمان ہے کہ لڑائی دائو پیچ کا نام ہے لہٰذا دائو پیچ کے طور پر پیچھے ہٹ آنے والے پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ اور دوسرا استثناء اس صورت میں ہے ( آیت) اومتحیرا الیٰ فئۃ یا وہ اپنے گروہ کے پاس ٹھکانہ پ کرنے والا ہو عربی میں حیز مکان کو کہتے ہیں یعنی جس مقام پر اس کے باقی ساتھی ہیٰں ان کے پاس پہنچ جائے تا کہ ان کے ساتھ مل کر کوئی بہتر جنگی حکمت عملی اختیار کرسکے تو ایسی صورت میں بھی گنہگار نہیں ہوگا ترمذی شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کا بیان ہے کہ حضور ﷺ نے ایک دستہ دشمن کے مقابلے کے لیے روانہ کیا ۔ لشکر کو وہاں کی صورت حال کے پیش نظر پسپائی اختیار کرنا پڑی تا ہم انہیں سخت پریشانی ہوئی کہ کہیں وہ اللہ کے ہاں اس کوتاہی پر سزا کے مستحق نہ ٹھہریں واپس آکر انہوں نے صورت حال حضور ﷺ کے گوش گزار کی اور ساتھ اپنی مذکورہ پریشانی کا بھی ذکر کیا آپ نے فرمایا ، فکر نہ کرو ( آیت) انتم العکارون وانا فئتکم تم پیچھے بدل آنے والے ہو اور میں تمہارا گروہ ہوں تمہیں واپس لوٹ آنے پر کچھ ملامت نہیں تم جہنم میں جانے والے نہیں ہو بلکہ اپنے گروہ کے پاس پہنچ جانے والے ہوتا کہ بہتر تدبیر نکالی جاسکے تو فرمایا ان دوصورتوں کے علاوہ اگر کوئی مسلمان جنگ سے بھاگ آئے گا تو وہ خدا کے غضب کا نشانہ بنے گا اور اس کا ٹھکانہ جہنم میں ہوگا۔ اصل قانون یہی ہے اور باقی ساری ضمنی باتیں ہیں جو نمبروار آتی رہیں گی۔ بہر حال دشمن کے مقابلے میں ثابت قدر ہنا بہت عظیم قانون ہے۔
بدر میں امداد غیبی :
اب اللہ نے بدر کے میدان میں مسلمانوں کی فتح کی حقیقت کو اس طرح بیان فرمایا ہے ( آیت) فلم تقتلوھم اے مسلمانوں ! جنگ بدر امداد غیبی میں جو کفار کثیر تعداد میں قتل ہوئے ان کو تم نے قتل نہیں کیا تھا ( آیت) ولٰکن اللہ قتلھم بلکہ انہیں اللہ نے قتل کیا تھا کفار کی شکست اللہ تعالیٰ کی امدادِ غیبی کی بناء پر ہوئی تھی اس نے ایسے اسباب پیدا فرمائے جس کی وجہ سے تمہیں فتح حاصل ہوگئی وگرنہ ( آیت) وانتم اذلۃ ( آلِ عمران) تم تو بہت ہی کمزور تھے ، نہ تمہارے پاس جنگی ہتھیار ، نہ سواریاں اور نہ افرادی قوت برخلاف اس کے دشمن کے پاس سب کچھ تھا اور پھر انہیں پیچھے سے کمک پہنچنے کی امید بھی تھی مگر اس کے باوجود مسلمانوں کی فتح امداد غیبی کی مرہونِ منت تھی۔
مٹھی بھر سنگریزے :
امام رازی لکھتے ہیں کہ جب بدر کی لڑائی زوروں پر تھی تو جبرائیل (علیہ السلام) نے آکر حضور ﷺ سے فرمایا کہ ایک مٹھی بھر سنگریزے لے کر دشمن کی طرف پھینکیں ، چناچہ طبرانی کی روایت میں آتا ہے کہ آپ نے صحابہ ؓ سے سنگریزے اٹھانے کو فرمایا۔ انہوں نے دیے تو حضور ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے کفار کی طرف پھینک دیے اور زبان سے فرمایا شاھت الوجوہ یعنی کفار کے چہرے ذلیل و خوار ہوجائیں خدا کی قدرت وہ سنگریزے ہر کافر کی آنکھ میں پڑے وہ پریشان ہو کر آنکھیں ملنے لگے تو ادھر مسلمانوں نے فیصلہ کن حملہ کر کے کفار کی کمر توڑ دی۔ بہرحال یہ اللہ تعالیٰ کی خاص امداد تھی کہ مٹھی بھر کنکروں نے سارے کافروں کو پریشان کردیا۔ اسی واقعہ کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہاں یاد دلایا ہے ( آیت) وما رمیت اذ رمیت اے پیغمبر ! جو مٹھی بھر سنگریزے پھینکے تھے وہ دراصل آپ نے نہیں پھینکے تھے۔ ( آیت) ولکن اللہ رمی بلکہ وہ تو اللہ نے معجزانہ طور پر پھینکے تھے جس کی وجہ سے کفار کا زور ٹوٹ گیا اور وہ مغلوب ہوگئے اور اس کاروائی سے اللہ تعالیٰ کا یہ بھی مقصود تھا ( آیت) ولیبلی المومنین منہ بلاء حسنا تا کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو اپنی طرف سے آزمائے بہت اچھی طرح آزمانا اللہ تعالیٰ کو اہل ایمان کی ثابت قدمی کی آزمائش بھی کرنا تھی ( آیت) ان اللہ سمیع علیم بیشک اللہ تعالیٰ ہر بات کو سننے والا اور ہر چیز کو جاننے والا ہے مسلمانوں کی ساری محنت ، کوشش اور کاوش اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔
کفار کی کمزوری :
فرمایا ( آیت) ذلکم یہ بات تو ہوچکی جس کو تم دیکھ چکے ہو ( آیت) وان اللہ موھن کید الکفرین بیشک اللہ تعالیٰ کافروں کی تدبیر کو کمزور کرنے والا ہے۔ وہ پورے سازوسامان اور افرادی قوت کے ساتھ بدر کے میدان میں اترے تھے اور مسلمانوں کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کردینا چاہتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے تمام منصوبوں کو خاک میں ملا دیا مطلب یہ ہے کہ کافروں کی شکست اللہ تعالیٰ کی حکمت کے مطابق ہوئی اس میں مسلمان اپنا کوئی کمال نہ سمجھیں۔ پہلے گزر چکا ہے کہ کس طرح مسلمان اللہ رب العزت سے فریاد کرتے تھے ، پھر اللہ نے ان کی دعا کو شرف ِ قبولیت بخشا اللہ نے بشارت سنائی فرشتے نازل فرمائے دلوں کو تسکین بخشی شدید خطرے کے دوران نیند طاری کر کے دلوں کو سکون بخشا ، عین موقع پر بارانِ رحمت کا نزول فرما کر مسلمانوں کے حق میں مادی اسباب پیدا کیے اور شیطان کے وسوسوں کو دور کیا اور اس طرح مسلمانوں کو فتح کے تمام اسباب مہیا کیے پھر آخر میں حضور ﷺ کے ہاتھوں سے مٹی پھینکوا کر کافروں کو پریشان کردیا اور اس طریقے سے اہل ایمان کی فتح کے لیے راستہ ہموار کیا۔ تو فرمایا اللہ تعالیٰ کافروں کی تدبیر کی سست کمزور اور ناکام کرنے والا ہے۔
فیصلے کی گھڑی :
یہاں تک تو مسلمانوں پر احسانات جتلا کر انہیں قانونِ خداوندی کی پانبدی کا حکم دیا گیا ہے اب آگے روئے سخن کفار کی طرف ہوتا ہے ارشاد ہوتا ہے ( آیت) ان تستفتحوا اے کفار کا گروہ ! اگر تم فیصلہ چاہتے ہو مکی زندگی میں مشرکین اہل ایمان سے کہا کرتے تھے کہ تم کس کامیابی کی امید لگائے بیٹھے ہو ؟ ( آیت) متی ھذا الفتح ان کنتم صدقین (السجدہ) اگر تم سچے ہو تو بتائو تمہارے رب کا فیصلہ کب آئے گا ؟ اسی سوال کے جواب میں اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر تم فیصلہ طلب کرتے ہو ( آیت) فقد جآء کم الفتح : تو وہ فیصلہ آگیا ہے اللہ تعالیٰ نے تمہاری بربادی اور مسلمانوں کی کامیابی کا فیصلہ دے دیا ہے ( آیت) وان تنتھوا فھو خیرلکم اگر تم اب بھی کفر ، شرک سے باز آجائو ، توبہ کرکے دین حق کو قبول کرلو تو تمہارے لیے یہی بہتر ہے ( آیت) وان تعدوا اور اگر تم اپنے باطل عقیدہ پر ہی پلٹ کر آئو گے ( آیت) تعد تو ہم بھی پلٹ کر تمہارے ساتھ ایسا ہی سلوک کریں گے تمہیں ذلیل و خوار کریں گے اور مسلمانوں کو غالب کریں گے کیونکہ وہ صراط مستقیم پر ہیں۔ فرمایا یاد رکھو ! ( آیت) ولن تغنی عنکم فئتکم شیئا تمہارا جتھ ، گروہ اور پارٹی تمہارے کسی کام نہ آئے گا ( آیت) ولو کثرت اگرچہ وہ کتنی ہی کثیر تعداد میں کیوں نہ ہو۔
واضح بات یہ ہے ( آیت) وان اللہ مع المومنین کہ بیشک اللہ تعالیٰ ایمان والوں کے ساتھ ہے اس کا وعدہ ہے کہ میری تائید ونصرت تمہارے ساتھ ہے ( آیت) ان کنتم مومنین اگر تم سچے پکے ایماندار ہو یہ وعدہ اللہ تعالیٰ نے بدر کے موقع پر پورافرما دیا اور کافروں کی سازوسامان اور اسلحہ سے لیس کثیر تعداد کو مسلمانوں کی بےسروسامان اور قلیل تعداد کے سامنے ذلیل و خوار کر کے رکھ دیا۔
یہ بات اچھی طرح نوٹ کر لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے مدد کا وعدہ ایمان کے ساتھ مشروط فرمادیا ہے اگر ایمان کمزور ہے تو پھر اللہ کی ۔۔ زیادہ امید نہیں رکھنی چاہیے آج لوگ پاکستان کا جشن آزادی تو منا رہے ہیں ڈھول ڈھکے اور باجے گاجے ہو رہے ہیں ناچ گانے کا انتظام ہے فوجی پریڈ بھی ہو رہی ہے مادی ترقی کے بھی بلند بانگ دعوے لیے جا رہے ہیں مگر یہ تو بتائو کہ اس ملک خداداد میں دین کے غلبہ کے لیے کام کیا ہے ؟ چاہیے تو یہ تھا کہ یہاں اسلامی قانون نافذ ہوتا ، فتنہ فساد بند ہوتا ہر آدمی کی عزت اور مال محفوظ ہوتا ، اعلی وادنی کا تفاوت مٹتا مگر یہاں تو وہی جھگڑے فساد ، پارٹی بازی ، جہالت ، فرقہ بندی اور بداخلاقی کا دور دورہ ہے آپ نے ایمان کے تقاضے پورے نہیں کیے تائید خداوندی کیے حاصل ہوگی ؟ تمہاری مشکلات کا مداوا کیسے ممکن ہے اور تمہیں سکون کی زندگی کیسے نصیب ہو سکتی ہے ؟ پہلے ایمان کے تقاضے پورے کرو پھر دیکھو اللہ تعالیٰ اپنی نصرت کے وعدے کس طرح پورے کرتا ہے تم نے تو زوال کے اسباب اکھٹے کر رکھے ہیں ان سے ترقی کی امید کیسے لگائے بیٹھوہو۔ اللہ تعالیٰ بیشک مومنوں کے ساتھ ہے ، پہلے مومن بن کے دکھائو۔
Ayahs 8:20–23ربط آیات :
اس سے پہلے اہل ایمان سے اس طرح خطاب تھا کہ جب تم جنگ میں کافروں سے ٹکر لو تو پشت نہ پھیرو بلکہ ثابت قدم رہنے کی کوشش کرو۔ اگرچہ دشمن کی تعداد تم سے دگنی ہی کیوں نہ ہو۔ ان حالات میں استقلال اور ثبات سے کام لو ، ہر کام من جانب اللہ ہوتا ہے فتح ونصرت اس کے ہاتھ میں ہے تمہارا کام صرف یہ ہے کہ دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہو۔ اللہ تعالیٰ نے جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کا یہ پہلا اصول بیان فرمایا ہے اس کے بعد بھی جہاد کے سلسلے میں بڑے بڑے اصول بیان ہو رہے ہیں جن کی پابندی اہل ایمان پا لازم ہے اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ اگر ان اصولوں پر کاربند رہو گے تو اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت اور مہربانی شامل رہیگی اور تمہیں عزت حاصل ہوگی۔
ثابت قدمی ہی کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ عام اصول کے برخلاف صرف دو صورتوں میں میدان جنگ سے بھاگنے کی اجازت ہے پہلی صورت یہ ہے کہ کوئی دائو پیچ کے طور پر جنگ میں پینترا بدلنے کی خاطر پیچھے ہٹ آئے یا دوسری صورت یہ ہے کہ اپنے گروہ کے ساتھ شامل ہونے کے لیے پلٹ آئے تا کہ اپنی جماعت کے ساتھ مل کر نئی حکمت عملی کے ساتھ دشمن پر حملہ آور ہو سکے۔ ان دوصورتوں کے علاوہ جو کوئی میدانِ جنگ میں پیٹھ دکھا کر بھاگے گا وہ سخت گناہگار ہوگا ، بلکہ ایسا شخص اکبر الکبائر کا مرتکب ہوگا اس کے علاوہ غزوہ بدر کے سلسلے میں اللہ نے بعض ضمنی باتیں بھی بیان فرمائی ہیں اور پھر کافروں کی طرف بھی روئے سخن کیا ہے فرمایا تم فتح چاہتے تھے تو لو فتح تو ہوگئی مسلمانوں نے تمہیں میدانِ بدر میں شکست فاش دی ہے تمہارے ستر سرکردہ ساتھی مارے گئے اور ستر ہی قیدی بنا لیے گئے۔ اگر تم اب بھی اسلام دشمنی سے باز آجائو ، کفر اور شرک سے توبہ کرلو تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیں گے اور اگر تم اس کے بعد بھی جنگ پر آمادہ رہے تو یاد رکھو پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسا سلوک ہی ہوتا رہے گا جیسا جنگ بدر میں تمہارے ساتھ ہوا۔
اللہ اور رسول کی اطاعت :
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے جنگ کا دوسرا اصول بیان فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے ( آیت) یایھا الذین امنوا اے ایمان والو ! اگر تم صلح وجنگ کے سلسلے میں کامیابی کے طلبگار ہو تو اس کے لیے اصول یہ ہے ( آیت) اطیعو اللہ ورسولہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو۔ ان کے علاوہ مخلوق میں سے کسی اور کی فرمانبرداری مت کرو کیونکہ ہر شخص کی خواہش الگ الگ ہوتی ہے مگر اہل ایمان کے سامنے صرف ایک بلند مقصد ہے کہ ہر حالت میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہو اور ہمیشہ یہی اصول مدنظر رہنا چاہیے۔ فرمایا ( آیت) ولا تولوا عنہ اس اصول سے روگردانی نہ کرو۔ ( آیت) وانتم تسمعون اور تم سنتے ہو تمہیں اچھی طرح علم ہے کہ ہدایت اسی اصول میں ہے اور اسی کے ذریعے نجات حاصل ہو سکتی ہے دشمن پر غلبہ حاصل کرنے کے لیے بھی اسی اصول کو بروئے کار لانا پڑے گا یاد رہے کہ اطاعت درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی ہے رسول چونکہ اللہ تعالیٰ کا نائب ہے اور تبلیغ رسالت کا فریضہ اللہ نے اس کے ذمے لگایا ہے لہٰذا اس کی اطاعت بھی مطلق فرض ہے کیونکہ وہ اللہ کا منشاء پورا کرتا ہے اور باقی لوگوں کے لیے اطاعت الہی کا نمونہ ہوتا ہے فرمایا تم سنتے ہو کہ خدا تعالیٰ کی اطاعت فرض ہے تو پھر تم اس سے روگردانی مت کرو۔
سماعت سے معذوری :
فرمایا ( آیت) ولا تکونوا کالذین قالوا سمعنا ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے کہا کہ ہم نے سن لیا ( آیت) وھم لا یسمعون حالانکہ وہ نہیں سنتے اس میں اہل کتاب یہود ونصاری کا رد آگیا ، وہ بھی کہتے تھے سمعنا یعنی ہم نے سن لیا حالانکہ وہ نہیں سنتے تھے منافق لوگ بھی زبان سے کہتے تھے کہ ہم نے سن لیا اور تسلیم کرلیا مگر حقیقت میں نہ سنتے ہیں اور نہ مانتے ہیں اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کی مثال سورة جمعہ میں بیان فرمائی ہے ( آیت) مثل الذین حملوا التورٰۃثم لم یحملوھا کمثل الحمار یحمل اسفارا فرمایا یہودوں نے ذوق وشوق کے ساتھ کتاب کا مطالبہ کیا تھا۔ پھر جب انہیں تورات عطا کی گئی تو وہ اپنی بےعملی کی وجہ سے کتاب کا حق ادا نہ کرسکے۔ اللہ نے فرمایا ان لوگوں کی مثال اس گدھے کی ہے جس پر کتابوں کا گٹھا لاد دیا گیا ہو۔ جس طرح گدھا کتابوں کا بوجھ اٹھانے کے باوجود ان سے مستفید نہیں ہو سکتا۔ اس طرح حاملین تورات اس کتاب سے اعراض کی وجہ سے اس سے بےبہرے ہیں گویا ان کا تورات کا پڑھنا اور سننا نہ سننے کے برابر ہے تو اللہ نے یہاں پر اہل ایمان کو خطاب کر کے فرمایا کہ تم اہل کتاب یہود اور منافقین کی طرح نہ بن جانا جو اللہ کی بات کو سنی ان سنی کردیتے ہیں معاملہ صلح کا ہو یا جنگ کا ، موقع خوشی کا ہو یا غمی کا مسئلہ سیاسی ہو یا معاشی ہر حالت میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت مقدم رہنی چاہیے کیونکہ فلاح کا دارومدار اسی پر ہے
بدترین جانور :
اس کے بعد اللہ کی بات کو صحیح معنوں میں نہ سننے والوں کی مذمت بیان کی گئی ہے یعنی وہ لوگ جو اللہ کے احکام کو سننے کے باوجوداپنے عقیدہ کو درست کرتے ہیں اور نہ ان احکام پر عمل کرتے ہیں بلکہ اپنی بات پر ہی اڑے رہتے ہیں فرمایا ( آیت) ان شرالدوآب عند اللہ الصم البکم الذین لا یعقلون زمین پر چلنے والے بدترین جانور وہ ہیں جو بہرے اور گونگے ہیں اور عقل سے کام نہیں لیتے۔ دواب ، دابہ کی جمع ہے جو زمین پر چلنے والے ہر چھوٹے بڑے جانور پر بولا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل جیسا قیمتی جوہر عطا کیا ہے جو عام جانداروں کو حاصل نہیں اسی عقل کی وجہ سے انسان قانون کا پانند یعنی مکلف بنتا ہے عقل ہی انسان کو قابل مواخذہ بناتی ہے ورنہ کوئی پاگل شخص مکلف نہیں ہے تو فرمایا کہ صاحب عقل ہو کر جو انسان عقل سے صحیح کام نہیں لیتے وہ اللہ کے نزیک مویشیوں ، درندوں ، پرندوں اور کیڑے مکوڑوں سے بھی بدتر ہیں کیونکہ کیڑے مکورے عقل سے معذوری کی بنا پر غیر مکلف ہیں مگر انسان عقل رکھتے ہوئے بھی اس سے مستفید نہیں ہوتا اور اپنی ذمہ داری محسوس نہیں کرتا لہٰذا وہ جانوروں سے بھی بدتر ہے۔
انسان کی قدروقیمت اطاعت وفرمانبرداری کے ساتھ ہی ہے فکر اور عقیدے کی درستگی ہی انسان کے شایان ِ شان ہے اگر کسی شخص کی فکر اخلاق اور عمل درست نہیں ہے تو ایسا شخص اللہ کے ہاں کچھ قدروقیمت نہیں رکھتا۔ ایسی ہی حالت کے متعلق سورة التین میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ( آیت) ثم رددنٰہ اسفل سٰفلین پھر ہم نے ایسے شخص کو نیچے سے بھی نیچے گرا دیا جب اسنے ایمان کی دولت کو قبول نہ کیا نیکی کا راستہ اختیار نہ کا ، خدا تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ پھیرلیا تو وہ کیرے مکوڑوں کتے بلی سانپ اور بچھو سے بھی ذلیل ہوگیا انسان ایمان اور نیکی کی وجہ سے مرتبہ عروج تک پہنچتا ہے اگر اس میں یہ چیز مفقود ہے تو پھر زمین پرچلنے پھرنے والے جانور اس سے بہتر ہیں ایسے لوگوں کے متعلق سورة اعراف میں فرمایا ہے ( آیت) اولئک کالانعام بل ھم اضل کہ وہ مویشیوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے مویشی تو پھر بھی اپنا مقصد حیات پورا کرتے ہیں اور اپنے مالک کی اطاعت بجا لاتے ہیں مگر حضرت انسان اپنے مقصد حیات سے اعراض کرتے ہوئے اپنے مالک کی فرمانبرداری کو اپنے آپ پر لازم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا سورة بینہ میں ہے کہ اہل کتاب اور مشرکین میں سے جنہوں نے کفر کیا وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے ( آیت) اولئک ھم شر البریہ ایسے لوگ انسانوں کا بدترین حصہ ہیں فرمایا اس قسم کے اللہ کے نافرمان لوگ لا یعقلون کچھ عقل نہیں رکھتے یعنی اللہ کی عظیم نعمت عقل سے کام ہی نہیں لیتے۔
قرآن پاک سے اعراض :
حاملین ِ قرآن پر بھی یہی بات صادق آتی ہے جو لوگ قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ اسے سمجھ کر اس پر عمل بھی کریں جو لوگ اس کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ضروری نہیں سمجھتے وہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں اسی لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین جاندار وہ لوگ ہیں جو بہرے کہ حق بات کو سنتے ہی نہیں اور گونگے ہیں کہ حق بات کہتے ہی نہیں دنیا کی اول فول تمام لغویات برے غور سے سنتے ہیں مگر حق کو سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے خدا کا کلام اور اس کا قانون سننے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ ا سی طرح ہر قسم کی لغویات تو بولتے رہتے ہیں مگر حق کی حمایت میں ان کی زبان سے ایک لفظ ادا نہیں ہوتا جب بولیں گے الٹا ہی بولیں گے یہاں پر بہرے کا ذکر پہلے کیا ہے اور گونگے کا بعد میں وجہ یہ ہے کہ کسی چیز کا سننا ، بولنے سے زیادہ ضروری ہے جب تک کوئی انسان کوئی چیز سنے گا نہیں وہ بول نہیں سکے گا۔ انسانی علم کا زیادہ تر حصہ سماعت پر موقوف ہے اس لیے سمع کی زیادہ اہمیت کہ وجہ سے اسے بولنے پر مقدم رکھا گیا ہے سورة بقرہ میں فرمایا ( آیت) صم بکم عمی وہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں اور اندھے بھی ہیں اس سے مراد ظاہری آنکھیں نہیں بلکہ دل کی آنکھوں سے محروم ہونا ہے ایسے لوگ حق و باطل کی بصیرت سے عاری ہوتے ہیں یہ لو نہ تو حق بات کو سنتے ہیں نہ اس پر عمل کرتے ہیں نہ نیکی کی طرف لوٹتے ہیں نہ دل کی آنکھوں سے اسے چانچتے ہیں اور نہ حق کی حمایت میں بولتے ہیں اس لیے فرمایا کہ بہرے گونگے اور اندھے ہیں تاہم اس مقام پر صرف بہرے اور گونگے ہونے کا ذکر ہے کہ وہ عقل سے کام نہیں لیتے۔
فرمایا ( آیت) ولو علم اللہ فیھم خیرا اور اگر اللہ تعالیٰ ان میں بہتری کی کوئی چیز دیکھتا ( آیت) لاسمعھم تو ان کو حق بات ضرور سنوا دیتا اور اس پر عقل وفہم کے ذریعے غور کرتے اور اس کو سمجھ کر اس پر عمل پیرا ہوجاتے مگر اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ایسے لوگ اس صلاحیت سے ہی محروم ہیں لہٰذا ان کو سننے کی توفیق ہیں نہیں دیتا۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے ” کل مولود یولد علی فطرۃ الاسلام “ یعنی ہر نومولود فطرتِ اسلام پر ہی پیدا ہوتا ہے مگر بعد میں اس کا ماحوا اسے بگار دیتا ہے اور وہ حق کی بجائے باطل کو قبول کرلیتا ہے سورة روم میں بھی موجود ہے ( آیت) ” فاقم وجھک للدین حنیفا “ اس دین حنیف پر جم جائو جس کو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے مقرر کردیا ( آیت) ” فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیھا “ خدا تعالیٰ کی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے اس فطرت سے مراد خدا تعالیٰ کی توحید ہے یہی خدا کا دین ہے اور اسی توحید کو اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں داخل کیا ہے اگر کسی شخص کو پیدا ہوتے ہی اس کی حالت پر چھوڑ دیا جائے ۔ اور مشرکین اس کے دل میں مشرکانہ خیالات نہ ڈالیں تو کبھی شرک نہیں کرے گا کیونکہ وہ فطرتِ الٰہی یعنی توحید پر پیدا ہوا ہے۔
فرمایا گیا اللہ ان میں بہتری کو کوئی چیز جانتا تو انہیں ضرور سنوا دیتا مگر وہ صلاحیت سے عاری ہیں۔ ( آیت) ولو اسمعھم اور اگر انہیں اسی حالت میں سنواتا لتولوا تو وہ منہ پھیر جاتے ( آیت) وھم معرضون اور وہ اعراض کرنے والے ہوتے وہ حق بات کا بالکل انکار کردیتے لہٰذا ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ ان کو سنوارنے کے لیے بھی تیار نہیں۔
Ayahs 8:24–26ربطِ آیات :
اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت پروگرام اور اسے قائم کرنے کے لیے اس سورة میں بہت سے اصول بیان کیے گئے ہیں جن پر انسانوں کی کامیابی کا دارومدار ہے اللہ نے پہلا اصول جنگ میں ثابت قدمی کو قراردیا اور حکم دیا کہ دشمن سے مقابلے کے وقت میدانِ جنگ سے راہ فرار اختیار نہیں کرنا ، پھر دوسرا اصول اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا کہ انسانی زندگی سے متعلق کوئی بھی معاملہ ہو ، خواہ صلح وجنگ کا مسئلہ ہی کیوں نہ درپیش ہو ، ہر حالت میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت لازمی ہے فرمایا تم ان اہل کتاب اور منافقین کی طرح نہ ہوجانا جو زبان سے تو کہتے ہیں کہ ہم نے حکم الہٰی سن لیا ، مگر درحقیقت وہ سنتے ہی نہیں کیونکہ سن کر بھی سنی ان سنی کردیتے ہیں جس کی وجہ سے احکام الہٰی کو سمجھنے اور ان پر عمل کر نیکی نوبت ہی نہیں آتی پھر فرمایا کہ ایسے لوگ بدترین جانور ہیں جو بہرے گونگے ہیں اور عقل سے کام ہی نہیں لیتے اب تک یہ دو اصول بیان ہوئے ہیں۔
ابدی زندگی :
پہلے اہل ایمان کو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دیا گیا تھا اب تیسرے اصول کے طور پر فرمایا گیا ہے ( آیت) ” یایھا الذین امنوا “ اے ایمان والو ! ( آیت) استجیبوا للہ واللرسول اذا دعاکم “ اللہ اور رسول کا حکم مانو جب وہ تمہیں بلائیں اور بلانے کی غرض یہ ہے ( آیت) ” لما یحییکم “ اس چیز کے لیے بلائیں جس میں تمہاری زندگی ہے چونکہ اس سورة مبارکہ کا مرکزی موضوع جہاد اور اس کے اصول و ضوابط ہٰن اس لیے بادی النظر میں یہاں پر بلانے سے مراد جہاد کی طرف ہی بلانا ہے اور جہاد ایک ایسا فعل ہے جس میں اتلافِ جان عین ممکن ہے بلکہ ایک سچا مجاہد جب میدان ِ جہاد میں اترتا ہے تو اپنی جان کو ہتھیلی پر رکھ کر نکلتا ہے اور اس جان کو جان آفرین کے سپرد کردیان ہی اپنی آخری تمنا سمجھتا ہے ، بظاہر تو یہ موت کو خود دعوت دیتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کا زارشاد ہے کہ یہی وہ جذبہ شہادت ہے جو تمہیں ابدی زندگی بخشتا ہے دنیا کی زندگی تو چند روزہ ہے کتنی بھی لمبی عمرپا لے ، بالآکر اسے یہاں سے رخصت ہونا ہے مگر جس زندگی کی طرف اللہ اور اس کا رسول بلا رہا ہے وہ ایسی زندگی ہے جو کبھی ختم نہ ہوگی۔ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ جو شخص راہ حق میں شہادت کا درجہ پا لیتا ہے ، اسے کمال حاصل ہوجاتا ہے اسے نہ صرف ذاتی کمال اور دائمہ زندگی حاصل ہوجاتی ہے بلکہ اس کی قربانی کی بدولت اس کی جماعت اور اس کے مشن کو بھی زندگی نصیب ہوتی ہے اس زندگی کا تعلق مجموعی طور پر سب کے ساتھ ہے اللہ تعالیٰ مجاہدین کے خون کو رائیگاں نہیں جانے دیتا اگر وقتی طور پر اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے شکست بھی ہوجائے پھر بھی جماعت اور ملت میں اس شہادت کے اثرات ظاہر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ انہیں شہداء کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ( آیت) ” ولا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات بل احیاء ولکن لا تشعرون “ (البقرہ) اللہ کی راہ میں قتل ہونے والوں کو مردہ مت کہو ، بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تم کو شعور نہیں ہے کہ انہیں کس قسم کی پر راحت اور باعزت زندگی نصیب ہے عالم ِ برزخ اور عالم آخرت میں تم ان کے بلند وبالا درجات کا اندازہ نہیں کرسکتے۔ اللہ نے شہداء کی تعریف میں یہ بھی فرمایا ہے ( آیت) ” ولا تھسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا “ اللہ کی راہ میں جامِ شہادت نوش کرنے والوں کو مردہ خیال بھی نہ کرو ، بلکہ انہیں تو اعلیٰ درجے کی دائمی زندگی حاصل ہے چناچہ یہاں پر یہی فرمایا گیا ہے کہ اے اہل ایمان ! اللہ اور رسول کی آواز پر لبیک کہو ، جو تمہیں حقیقی اور ابدی زندگی کی طرف بلا رہا ہے۔
نبی کی دعوت اور نماز :
یہاں پر اطاعت رسول کے ضمن میں ایک اور مسئلہ بھی آتا ہے ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضرت ابی ابن کعب نماز پڑھ رہے تھے اتنے میں حضور ﷺ نے ان کا نام لے کر بلایا انہوں نے جلدی جلدی نمازادا کی اور حاضر خدمت ہوگئے آپ نے دریافت کیا کہ آنے میں دیر کیوں ہوئی ، تو عرض کیا ، حضور ! میں نماز میں مصروف تھا ، اس لیے تاخیر ہوگئی آپ نے فرمایا ، کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ حکم قرآن پاک میں نہیں پڑھا ( آیت) ” یایھا الذین امنوا استجیبوا للہ وللرسول اذا دعاکم “ اے ایمان والوں اللہ اور رسول کا حکم مانو جب وہ تمہیں بلائیں مقصد یہ کہ جب حضور ﷺ نے تمہیں آواز دی تھی تو نماز چھوڑ کر فورا حاضر ہوجانا چاہیے تھا ، اس آیت میں اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی لیے قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) اور علامہ بیضاوی (رح) اپنی اپنی تفاسیر میں لکھتے ہیں کہ جب اللہ کا رسول کسی مومن کو بلائے تو اسے فورا نبی کے پاس حاضر ہوجانا چاہیے اور نبی کی دعوت کو نماز پر ترجیح دینی چاہیے اب سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص تعمیلِ حکم نبوی میں نماز درمیان میں چھوڑ دیتا ہے تو کیا ادا شدہ حصہ نماز باطل ہوجائے گا ؟ مفسرین اور فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ ایسے شخص کی نماز باطل نہیں ہوئی کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اللہ کا رسول کسی ایسی چیز کی طرف بلا رہا ہے جو نماز سے بھی ضروری ہے کیونکہ نماز تو بعض دوسری وجوہات کی بناء پر بھی قطع کی جاسکتی ہے جیسے کہیں آگ لگ جانے کا خطرہ ہو ، کوئی موذی جانور حملہ کر دے کوئی اندھا آدمی کنوئیں میں گر رہا ہو ، کسی کی جان جا رہی ہو ، مال کا ضیاع ہوتا ہو وغیرہ وغیرہ ، ایسی صورت میں نماز کا ادا شدہ حصہ باطل ہوجائے گا مگر رسول اللہ کا حکم ، ایک ایسی چیز ہے کہ اس کی تعمیل میں نماز باطل نہیں ہوگی نبی کی بات سن کر ایسا آدمی پھر وہیں سے نماز شروع کرسکتا ہے جہاں سے توڑی تھی ، بہر حال یہ نبی کے حکم کی تعمیل کا قانون ہے خواہ کوئی آدمی نماز ہی کیوں نہ پڑھ رہا ہو باقی یہ بات کہ قطع نماز کتنے نقصان پر ہے تو فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر کسی مومن کا ایک درہم یعنی چار آنے کا نقصان بھی ہو رہا ہو تو نماز توڑ کر اس نقصان کو بچا لینا چاہیے چہ جائیکہ کوئی بڑا نقصان متوقع ہو اس طرح نماز تو ٹوٹ جائے گی مگر نبی کی آواز پر حاضر ہونے سے نماز میں بھی خلل واقع نہیں ہوگا۔
دلوں کی تبدیلی :
فرمایا ( آیت) ” واعلموا ان اللہ یحول بین المرء وقلبہ وانہ الیہ تحشرون “ جان لو کہ اللہ تعالیٰ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوجاتا ہے اور جان لو کہ بیشک تم سب اسی کی طرف اکٹھے کیے جائو گے ۔ اگر اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی تعمیل میں سستی دکھائو گے تو ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اور تمہارے دل کے درمیان آڑے آجائے اور تم سے تعمیل حکم کی توفیق ہی سلب کرلے اور پھر تم نیکی سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جائو۔ ظاہر ہے کہ انسان کا دل تو اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہے جب وہ دیکھتا ہے کہ کوئی شخص اس کے حکم پر آمادہ تعمیل نہیں ہوتا تو وہ اس دل کو پلٹ بھی سکتا ہے دل کا معاملہ بڑا نازک ہے انسان کے ارادے کا مرکز یہی دل ہے اور اس کے ذریعے انسان نیکی یا برائی کی طرف جاتا ہے اسی لیے حضور ﷺ دعائیں سکھایا کرتے تھے (1۔ ترمذی ص 507 ، یا مقلب القلوب تبت قلبی علی دینک اے دلوں کے پھیرنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم فرما۔ آپ نے یہ دعا (2۔ حصن حصین ص 473) (فیاض) بھی سکھلائی یا مقلب القلوب صرف قلوبنا علی طاعتک اے دلوں کے پھیرنے والے مولا کریم ! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے ، کہیں یہ الٹ ہی نہ جائیں جس طرح اہل کتاب کے دل نافرمانیوں کی وجہ سے معکوس ہوگئے اس طرح ہمارے دلوں سے بھی نیکی کی توفیق سلب نہ ہوجائے۔ اسی لیے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول کے حکم کی تعمیل میں غفلت نہ کرو ایسا نہ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دل کے درمیان حائل نہ ہو کر اس کی کیفیت ہی بدل دے اور پھر تم ہمیشہ کے لیے تعمیل حکم سے محروم ہو جائو۔
پوری قوم سے مواخذہ :
ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے ایک اور تنبیہ بھی کی ہے (آیت) ” واتقوا فتنۃ لا تصیبن الذین ظلموا منکم خاصۃ اس فتنے سے بچ جائو جو خاص طور پر صرف ظالموں کو ہی نہیں پہنچے گا بلکہ اس میں پوری کی پوری قوم ملوث ہوجائے گی۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ دین میں خرابی نہ پیدا کرو ، شرکیہ رسوم اور بدعات کو رواج نہ دو کیونکہ اس کا وبال صرف بدعت کرنے والوں پر ہی نہیں بلکہ پوری ملت پر پڑے گا اسی طرح جب دنیا میں کھلے عام برائی کا ارتکاب ہوتا ہے اور پھر لو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ بھی انجام نہیں دیتے تو پھر پوری قوم اور جماعت مبتلائے سزا ہوجاتی ہے اور اس میں نیک وبد کا کوئی امتیاز باقی نہیں رہتا قتل ناحق ، زنا ، شراب نوشی ، شرک اور بدعات ایسی بیماریاں ہیں جن کی سزا پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتی ہے اسی لیے فرمایا کہ اس فتنہ سے بچ جائو جو نہ صرف برائی کے مرتکبین کے لیے بلکہ پوری قوم کے لیے وبال جان بن سکتا ہے۔
ریاست کا فتنہ :
مفسر قرآن مولانا عبید اللہ سندھی فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں جن فتنوں سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے ان میں ریاست کا فتنہ بھی شامل ہے جب تک مسلمان جہاد کرتے رہے ، جماعت درست رہی مگر جب جہاد کو ترک کردیا تو ریاست کا فتنہ پیدا ہوگیا حضرت عثمان ؓ کے زمانے میں شروع ہونے والا فتنہ آج تک قائم ودائم ہے کہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ جب تک مسلمان عامل بالجہاد رہے ریاست کا نظم ونسق ٹھیک طور سے کام کرتا رہا مگر جونہی جاد کا جذبہ کمزور پڑگیا تو اس کی جگہ حرص و لالچ نے لے لی ہر فرد اور پارٹی دوسری پر غالب آنے کی کوشش میں مصروف ہوگئی اور اس طرح آپس میں قتال شروع ہوگیا جس کی وجہ سے دیگر بیشمار برائیاں قوم میں درآئیں پہلے تو مذہبی فرقے وجود میں آئے اور پھر سیاسی پارٹیاں بن گئیں اور آپس میں سر پھٹول ہونے لگا اس کی مثال خود اپنے ملک میں دیکھ ۔
قطع نماز کتنے نقصان پر ہے تو فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر کسی مومن کا ایک درہم یعنی چار آنے کا نقصان بھی ہو رہا ہو تو نماز توڑ کر اس نقصان کو لیں کہ کیا ہو رہا ہے ہر جماعت اقتدار کی بھوکی نظر آتی ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے ہر جائز وناجائز حربے استعمال کرنا اپنا حق سمجھتی ہے جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ ساری قوم مشکلات ومصائب کی چکی میں پس رہی ہے نہ سیاسی طور پر سکون ہے نہ معاشی حالت اچھی ہے معاشرہ فتنہ و فساد کا گہوراہ بن چکا ہے قوم روبہ تنزل ہے اور اس سزا میں صرف فتنہ پرداز ہی شامل نہیں بلکہ پوری قوم دینی معاشرتی اور معاشی لحاظ سے دیوالیہ بن چکی ہے ۔ فرمایا (آیت) ” واعلموا ان اللہ شدید العقاب “ خوب اچھی طرح سمجھ لو کہ جب کوئی قوم اس قسم کے فتنہ میں مبتلا ہوجاتی ہے تو پھر اللہ کی گرفت بھی آجاتی ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ سخت گرفت کرنے والا ہے۔
اہل ایمان پر انعامات :
آگے اللہ تعالیٰ نے ابتدائی دور کے مسلمانوں کو اپنے احسانات یاد دلاتے ہوئے فرمایا (آیت) ” واذکروا اذ انتم قلیل “ اس وقت کو یاد کرو جب تم بالکل قلیل تعداد میں تھے اور حالت یہ تھی (آیت) ” مستضعفون فی الارض “ تم زمین میں کمزور خیال کیے جاتے تھے ت میں مشرکین کی طرف سے طرح طرح کی ایذائیں پہنچ رہی تھیں تیرہ سالہ مکی دور میں وہ کون سے مصائب ہیں جو اہل ایمان نے برداشت نہیں کیے۔ (آیت) ” تخافون ان یتخطفکم الناس “ تم ہر وقت اسی خوف میں مبتلا رہتے تھے کہ لوگ تمہیں اچانک اچک لے جائیں گے۔ ہر وقت دشمن کا خطرہ سر پر منڈلاتا رہتا تھا۔ اللہ نے فرمایا ان حالات میں (آیت) ” فاوٰئکم “ ت میں ٹھکانا دیا مدنی زندگی میں مرکزیت عطا کی ، اس مقام کو مرکز اسلام اور مرکز اہل ایمان بنایا تمہارے سروں سے خوف کو اتارا (آیت) ” وایدکم بنصرہ “ اللہ نے اپنی نصرت کے ساتھ تمہاری تائدی فرمائی تم اللہ کی رضا کا پروگرام لے کر اٹھے تو اللہ نے تمہاری مدد فرمائی (آیت) ” ورزقکم من الطیبٰت “ اور تمہیں پاک چیزوں کی روزی عطا کی اس میں مال غنیمت بھی شامل ہے اور جس کے متعلق امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اور بعض دوسرے اصحاب فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ مال تمہارے لیے حلال وطیب قرار دے دیا تا کہ اسے استعمال کرسکو اس کے علاوہ حلال و پاکیزہ روزی کے دیگر بہت سے وسائل بھی مہیا فرما کر تم پر احسان فرمایا۔
شکر خداوندی :
فرمایا ان تمام احسانات کا نتیجہ یہ ہونا چاہیے (آیت) ” لعلکم تشکرون “ کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکر اداکرو اس نے تمہیں امن والا خط ارضی عطا فرمایا اس میں حکومت دی حلال اور پاکیزہ چیزیں عطا فرمائیں لہٰذا تمہارا فرض تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتے اور اس کی ادائیگی حقوق ادا کرنے سے ہوتی ہے اللہ نے حکومت دی ہے تو اس کے شکرانے کے طور پر ملک میں امن وامان قائم کرو انصاف مہیا کرو عوام کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرو اور ان کے لیے پاک روزی کا بندوبست کرو اس کے علاوہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرو لوگوں کو برائیوں سے روکو ، نیکی کی تلقین کرو عقیدے اور نسل کی اصلاح کرو اس مالک الملک کا شکریہ ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے اسلام کے ابتدائی زمانہ سے لے کر قریباچھ سو سال تک مسلمان اپنے اصولوں پر قائم رہے اپنے اوپر عائد فرائض کی بجا آوری سے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتے رہے تو اللہ تعالیٰ ان پر انعام واکرام کی بارش کرتا رہا۔ پھر جب خود مسلمان ان اصولوں سے ہٹ گئے اللہ کے دین کی بلندی اور (آیت) ” کلمۃ اللہ حی العلیا “ کی بجائے خود پرستی اور کنبہ پروری شروع ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے بھی اپنی رحمت کا ہاتھ اٹھا لیا ، آج دنیا میں پچاس اسلامی ریاستیں ہیں مگر ایک بھی ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ معیار پر پوری اترے ، ناشکری کا نتیجہ ہمیشہ ذلت کی صورت میں نکلتا ہے آج مسلمانوں کے پاس نہ تعلیم ہے نہ فن ہے ہر معاملہ میں دوسروں کے محتاج ہیں اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا ہے تجارت میں بےایمانی ہے کسی کی جان ومال اور عزت محفوظ نہیں سارا نظام ہی بگڑا ہوا ہے یہ ناشکری کا نتیجہ ہے اسی لیے فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے نعمت دی ہے تو اس کا شکر بھی ادا کرو ناقدری کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آجائو گے اس کی گرفت بڑی سخت ہے وہ مجرموں کو معاف نہیں کرتا۔