8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 8:27–29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:27 in the Quran reader

اے ایمان والو ! مت خیانت کرو اللہ تعالیٰ سے اور رسول سے اور مت خیانت کرو اپنی امانتوں سے اور تم جانتے ہو

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 8:28 in the Quran reader

اور جان لو کہ بیشک تمہارے مال اور اولاد میں آزمائش ہے اور بیشک اللہ کے پاس اجرِ عظیم ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 8:29 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو بنا دیگا وہ تمہارے لیے فیصلہ کن بات اور دور کردیگا تم سے تمہاری برائیاں اور معاف کر دیگا تمہارے گنا ہ اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے

ربط آیات : یہ سورة اور اگلی سورة توبہ دونوں جہاد کے سلسلے سے تعلق رکھتی ہیں ان سورتوں میں اللہ نے دشمن کے مقابلے میں کامیابی حاصل کرنے کے اصول بیان فرمائے ہیں سب سے پہلا اصول ثابت قدمی تھا کہ جب دشمن سے مڈبھیڑ ہوجائے تو پھر میدانِ جنگ سے بھاگنے کی کوشش نہ کرو بلکہ ثابت قدم رہو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قانون مقرر کردیا کہ دشمن اگر تعداد میں دگنے بھی ہوں تو ان کے خوف سے بھاگنے کی اجازت نہیں ہے جو شخص پیٹھ پھیر کر بھاگ جائے گا وہ اکبرالکبائر کا مرتکب ہو کر جہنم کا مستحق ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے جنگ کا دوسرا اصول یہ بیان فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو لازم پکڑو اور اس سے روگردانی نہ کرو اللہ تعالیٰ نے نافرمانی کرنے والوں کے متعلق فرمایا کہ یہ بےعقل اور ناسمجھ ہیں بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔ فرمایا یہود اور منافقین کی طرح نہ ہوجانا جو کہتے ہیں کہ ہم نے اللہ کے احکام سن لیے حالانکہ وہ نہیں سنتے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تیسرا اصول یہ بیان فرمایا کہ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو جب کہ وہ تمہیں ایسی چیز کی طرف بلاتا ہے جس میں تمہارے لیے ابدی زندگی ہے تعمیل حکم میں سستی نہ کرو ، ورنہ ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کے درمیان حائل ہوجائے تمہارے دل کی حالت کو بدل دے اور تم سے نیکی کی توفیق ہی سلب کرلی جائے اس کے علاوہ گزشتہ درس میں اللہ نے اپنے بعض احسانات بھی یاد دلائے اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے جنگ کا چوتھا اور پانچواں اصول بیان فرمایا ہے جس کا تعلق خیانت اور تقویٰ کے ساتھ ہے ۔ حقوق اللہ میں خیانت : ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” یایھا الذین امنوا “ اے ایمان والو (آیت) ” لاتخونوا اللہ والرسول “ اور مت خیانت کرو اللہ سے اور رسول سے (آیت) ” وتخونوا امنتکم “ اور مت خیانت کرو اپنی امانتوں میں اللہ تعالیٰ سے خیانت کرنے کا مفہوم بڑا وسیع ہے جنگ کی صورت میں جو مال غنیمت حاصل ہوتا ہے ، وہ اللہ اور اس کے رسول کا حق ہے اور اس میں خیانت قطعا روا نہیں۔ مالِ غنیمت کا مفصل قانون تو آگے اسی سورة میں آرہا ہے تا ہم اجمالی طور پر سورة کی ابتدائی آیت میں بھی فرمایا گیا ہے (آیت) ” قل الانفال للہ والرسول “ یعنی مال غنیمت تو اللہ تعالیٰ کا حق ہے جو اس کے حکم کے مطابق اس کا نبی تقسیم کریگا۔ مالِ غنیمت میں خیانت سے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے شراک من النار وشراکان من النار اگر مال غنیمت میں ایک تسمی یا دو تسمے بھی بغیر اجازت کے اٹھائے گا تو جہنم کا باعث ہوگا ایک غلام کو کسی نے تیر مار کر ہلاک کردیا لوگوں نے حضور ﷺ کی خدمت میں مبارکباد پیش کی کہ آپ کا غلام شہید ہوگیا ، آپ نے فرمایا خبردار ! اس شخص نے مال غنیمت میں سے ایک چادر چوری کی تھی جو جہنم کی آگ بن کر اس پر لپٹ گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بنی نوع انسان پر قائم ہونے والے تمام حقوق اور انسان نے اللہ تعالیٰ سے جو بھی عہدوپیمان کر رکھے ہیں اور اس کی الوہیت کا جو اقرار کیا ہے ، وہ سب امانت ہیں جو شخص ان میں سے کوئی ایک حق بھی ادا نہیں کریگا وہ خیانت کا مرتکب ہوگا ، اگر کوئی نماز ٹھیک طور پر ادا نہیں کرتا یا وضو اور غسل صحیح طریقے سے نہیں کرتا ، وہ خیانت کا مجرم ہوگا اسی طرح جو کوئی نبی کے احکام اور عہدوپیمان کی خلاف ورزی کرے گا تو وہ بھی خیانت کا مجرم سمجھا جائیگا تمام معاملات بھی اسی ضمن میں آتے ہیں دھوکہ بازی ، مکاری اور خیانت جہنم میں لے جانے کا باعث ہیں۔ حضرت ابو ابابہ ابن عبد المنذر ؓ کا واقعہ تفاسیر کی کتابوں میں مذکور ہے حضور ﷺ نے اللہ کے حکم سے بنو قریظہ پر چرھائی کی جو ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوگئے ، حضور ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے متعلق جو فیصلہ سعد بن معاذ کریگا وہ تمہیں قبول کرنا ہوگا۔ ابو لبابہ کا یہودیوں کے ساتھ تجارتی لین دین تھا اور وہ ایک دوسرے کے دوست تھے یہودیوں نے حضرت ابو لبابہ ؓ سے مشورہ لیا کہ کیا انہیں حضرت سعد بن معاذ کا فیصلہ قبول کرلینا چاہیے۔ اس پر حضرت ابو لبابہ ؓ نے گلے کی طرف اشارہ کیا اگرچہ انہوں نے منہ سے کوئی بات نہیں کی تھی تا ہم اس کا مطلب یہ تھا کہ سعد کا فیصلہ تمہیں مروا دیگا لہٰذا اس معاملہ میں محتاط رہو یہ اشارہ تو کر بیٹھے مگر بعد میں انہیں احساس ہوا کہ انہوں نے یہودیوں کے حق میں بات کر کے خیانت کا ارتکاب کیا ہے چناچہ انہوں نے سزا کے طور پر اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا اور قسم اٹھالی کہ جب تک اللہ کا رسول مجھے خود اپنے دست مبارک سے نہیں کھولے گا میں یہیں بندھا رہ کر جان دے دونگا اس دوران اللہ تعالیٰ سے اپنی غلطی کی معافی طلب کرتے رہے حتی کی چھ دن گزر گے اور آپ پر بیہوشی کے دورے پڑنے لگے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمائی تو حضور ﷺ نے خود اپنے دست مبارک سے ابولبابہ کی رسیاں کاٹ کر آزاد کیا ، بہرحال فرمایا کہ اے ایمان والو ! اللہ اور اس کے رسول سے خیانت نہ کرو۔ حقوق العباد میں خیانت : (آیت) ” ولاتخونوا امٰنٰتکم “ میں بندوں کے حقوق میں خیانت کا تذکروہ ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ” المستشار موتمن “ یعنی جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے ، لہٰذا کسی کو غلط مشورہ نہیں دینا چاہیے بلکہ اپنی صوابدید کے مطابق صحیح صحیح مشورہ دینا چاہیے اگر کوئی شخص جان بوجھ کر کسی کو غلط مشورہ دے گا تو وہ اس کے حق میں خیانت کا مرتکب ہوگا۔ حقوق العباد کے سلسلے میں خیانت کی مثالیں عام طور پر دیکھنے میں آتی رہتی ہیں ، شراکت دار آپس میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں مختلف انجمنیں بنتی ہیں اور پھر ان کے حصہ داران یا کارکنان خیانت کے ذریعے مال کھاتے ہیں مسجدوں اور مدرسوں کے فنڈ میں خیانت ہوتی ہے یہ سب معاملات کی خیانت ہے اور قطعی حرام ہے۔ بعض لوگ اپنے فرائض میں کوتاہی کر کے خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں اگر آٹھ گھنٹے کام کرنے کا معاہدہ ہے تو پانچ گھنٹے کام کر کے تین گھنٹے چوری کرلیے ، ڈیوٹی میں کمی کرنا خیانت ہے اور ایسی کمائی حرام ہے ووٹ جیسی قیمتی امانت کسی غیر مستحق کے سپرد کردینا بھی خیانت میں داخل ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ( آیت) ” ان تودو الامنہ الی اھلھا “ (النسائ) یعنی اپنی امانتیں ان لوگوں کے سپرد کرو جو اس کے اہل ہیں اگر کوئی شخص کسی عہدے پر متعین ہے اور وہ اپنے فرائض منصبی صحیح طور پر انجام نہیں دیتا تو وہ خیانت کا مجرم ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ منافق کی ایک نشانی یہ ہے کہ جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ خیانت کرتا ہے ، بہرحال اپنے اختیارات سے تجاوز کرنا ، احکام کی خلاف ورزی کرنا ، مالی مفاد کی خاطر غلط مشورہ دینا سب خیانت میں داخل ہیں جس سے اس آیت میں منع کیا گیا ہے ، فرمایا اللہ اور اس کے رسول اور آپس کے معاملات میں خیانت نہ کرو ( آیت) ” وانتم تعلمون “ اور تم اچھی طرح جانتے ہو کہ فلاح اسی میں ہے اگر کسی بھی معاملہ میں خیانت کے مرتکب ہو گے تو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا ، دنیا میں ذلیل ہو جائو گے اور آخرت میں عذاب کے مستحق ٹھہرو گے۔ مال اور اولاد کا فتنہ : فرمایا ، یاد رکھو ! خیانت اکثر مال اور اولاک کی محبت کی وجہ سے کی جاتی ہے اکثر لوگ اولاد کی خاطر مال کے حصول میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں جو کہ بہت بری بات ہے اس کی وجہ یہ بیان فرمائی ( آیت) ” واعلموا انما اموالکم اولادکم فتنۃ “ تمہارے مال اور اولاد خدا تعالیٰ کی جانب سے فتنہ کا باعث ہیں۔ ان چیزوں کے ذریعے ہیں ان چیزوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ تمہیں آزمانا چاہتا ہے سورة تغابن میں ہ یے (آیت) ” ان من ازواجکم اولادکم عدوا لکم “ تمہارے بیوی بچے تمہارے دشمن ہیں ان کی محبت میں مبتلا ہو کر اگر خدا اور رسول سے خیانت کرو گے تو جہنم میں جائو گے بیوی بچوں کے ساتھ نیکی کرنے کا حکم ہے مگر اللہ اور رسول کے ساتھ خیانت کرنے کی قطعا اجازت نہیں فرمایا اسی چند روزہ زندگی میں حقیر مال میں خیانت نہ کرو (آیت) ” وان اللہ عندہ اجر عظیم “ اجر عظیم تو اللہ کے پاس ہے اگر خدا تعالیٰ کی حدود کو قائم رکھو گے مال واولاد کے معاملہ میں خیامت نہیں کرو گا بلکہ اللہ کی حدود کو قائم کروگے تو ا س کے ہاں بہت بڑا اجر پائو گے بہرحال یہ کامیابی کا چوتھا اصول ہے کہ اللہ اور اس کے رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ آپس کے معاملات میں خیانت کا ارتکاب کرو۔ تقوی کی برکات : اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے صلح و جنگ یا زندگی کے دوسرے معاملات میں کامیابی کے لیے پانچواں اصول بیان فرمایا ہے (آیت) ” یایھا الذین امنوا “ اے ایمان والو ! (آیت) ” ان تتقوا اللہ یجعل لکم فرقانا “ اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو وہ تمہارے لیے فیصلہ کن بات بنا دیگا معرکہ بدر اس کی مثال ہے اس موقع پر اہل ایمان نے اللہ کی بارگاہ میں عاجزی ، اخلاص اور تقوی پیش کیا تو اللہ تعالیٰ نے فتح عظیم عطا فرمائی اور مسلمانوں کے حق میں ایسا فیصلہ کیا جو ہمیشہ کے لیے یاد گار بن گیا۔ اسی طرح جس میدان میں بھی تقوی اختیار کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں مشکلات سے نکالتا رہے گا اور تمہارے لیے کوئی اشتباہ نہیں رہنے دیگا۔ اور ہمیشہ تمہارے سامنے حق و باطل میں فیصلہ کن چیز رکھے گا تقوی سے عام فہم مراد خدا کا خوف ، کفر وشرک ، معاصی اور بدعات سے بچنا ، شریعت کا احترام کرنا ، حدود اللہ کا خیال رکھنا اور شبہات سے بچنا ہے ، حقوق اللہ اور حقوق العباد کا خیال رکھنا تقوی کا اہم جزو ہے ، لہٰذا اگر ان باتوں پر عمل پیرا رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہمیشہ فیصلہ کن معاملہ کرے گا۔ فرمایا تقوی اختیار کرنے کا نتیجہ تمہارے حق میں یہ ہوگا (آیت) ” ویکفی عنکم سیاتکم “ اللہ تعالیٰ تمہاری برائیوں کو مٹا دیگا ، تمہاری غلطیوں اور کوتاہیوں سے در گزر فرمائے گا ، نیز (آیت) ” ویغفرلکم تمہارے گناہ بخش دے گا ، غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے تقوی کے نتیجے میں تین انعامات کا ذکر فرمایا ہے ، پہلا انعام یہ ہے کہ تمہارے حق میں فیصلہ کن بات کرے گا دوسرا تمہاری برائیاں مٹا دے گا ۔ اور تیسرا یہ کہ تمہارے گناہ بھی معاف کر دیگا کیونکہ (آیت) ” واللہ ذوالفضل العظیم “ اللہ تعالیٰ بہت بڑے فضل والا ہے مگر اس کا فضل انہیں لوگوں کے شامل حال ہوگا جو صاحب ایمان اور صاحب تقویٰ ہو گے۔ کوئی فرد واحد ہو یا جماعت یا حکومت ، اگر تقوی کے اصول پر کار بند نہیں ہوں گے تو ہر معاملہ میں گڑبڑ ہی رہیگی ، کوئی فیصلہ کن بات سامنے نہیں آئیگی ، آج دنیا میں جھگڑے ، فساد ، بےاطمینانی ، معاشی بدحالی اور سیاسی ناپائیداری کا سبب یہی ہے کہ عام لوگ اور خود پردازانِ حکومت تقوی سے عاری ہوچکے ہیں اور مشکلات میں گرفتار ہیں۔
Ayahs 8:30–34

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ Open ayah 8:30 in the Quran reader

اور ( اس وقت کو یاد کرو) جب کہ مخفی تدبیر کر رہے تھے آپ کے متعلق کافر لوگ تا کہ آپ کو قید کرلیں یا قتل کردیں یا آپ کو (ملک سے) باہر نکال دیں۔ اور وہ بھی مخفی تدبیر کرتے تھے اور اللہ بھی مخفی تدبیر کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر مخفی تدبیر کرنے والا ہے

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:31 in the Quran reader

اور جب ان پر پڑھی جاتی ہیں ہماری آئیتیں تو کہتے ہیں ، ہم نے سن لیا ہے اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسا کلام کہ دیں ، نہیں ہے یہ مگر قصے کہانیاں پہلے لوگوں کی

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 8:32 in the Quran reader

اور وہ بات بھی قابل توجہ ہے جب کہا انہوں نے اے اللہ ! اگر یہ بات حق ہے تیری طرف سے تو پھر برسا دے ہم پر پتھر آسمان کی طرف سے یا لے آ ہمارے پاس کوئی دردناک عذاب

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 8:33 in the Quran reader

اور نہیں ہے اللہ تعالیٰ کہ سزا دے ان کو جب کہ آپل ان میں موجود ہیں اور نہیں ہے اللہ تعالیٰ ان کو سزا دینے والا جب کہ وہ بخشش مانگتے رہیں گے

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:34 in the Quran reader

اور کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا نہ دے جب کہ وہ روکتے ہیں مسجدِ حرام سے اور نہیں ہیں یہ متولی اس کے درحقیقت نہیں ہیں اس کے متولی مگر وہ جو متقی ہیں لیکن ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو نہیں جانتے

ربط ِ آیات : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے فلاں کے پانچ اصول بیان فرمائے ہیں ، پانچواں اصول خوفِ خدا یعنی تقوی کا راستہ اختیار کرنا اور اسی کی ذات پر بھروسہ رکھنا ہے ، اگر اہل ایمان اس اصول پر کاربند رہیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے لیے ہر چیز کو فیصلہ کن بنا دیگا اور یہ چیز ان کے باطن کے لحاظ سے نور بصیرت ہوگی ، ان کے دلوں میں احسان کی حالت راسخ ہوجائے گی ، حق و باطل کے درمیان امتیاز پیدا ہوگا اور خارجی دنیا میں ہر قسم کے شکوک و شبہات دفع ہوجائیں گے یہی تقوے کا نتیجہ ہے اور یہی مدار فلاح ہے ان کے لیے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل ہوگی جس کی بین مثال غزوہ بد ہے ، اس جنگ میں کامیابی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ضروری اسباب پیدا فرمائے جن کا اشارہ گزشتہ آیا ت میں ہوچکا ہے ، اس مشکل موقع پر اہل ایمان نے بےمثال تقوی اور توکل پیش کیا تھا نہایت بےسروسامانی کی حالت میں بھی انہوں نے اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ رکھا ، تقوی کے راستہ کو مضبوطی سے تھامے رکھا ، تو اللہ تعالیٰ نے فتح مبین سے سرفراز فرمایا۔ اسلام کے پورے کی نشونما کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے بنی اور اہل ایمان کی جن جن ذرائع سے مدد فرمائی ان کا ذکر آرہا ہے ، چناچہ آج کے درس میں ہجرت کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے اس میں مشرکین کی ہٹ دھرمی اور تعصب کا ذکر بھی ہے اور اہل ایمان کی کامیابی کا بھی۔ حضور ﷺ کے خلاف مشورہ : ارشاد ہوتا ہے وہ بات اپنے سامنے رکھو (آیت) ” واذیمکربک الذین کفروا “ جب کہ کافر لوگ آپ کے متعلق مخفی تدبیر کر رہے تھے عربی زبان میں مکر کا معنی مخفی تدبیر ہوتا ہے اگرچہ اس سے دائو پیچ ہی مراد ہوتا ہے تا ہم لفظی معنی تدبیر ہی ہے اردو میں مکر سے مراد دھوکہ اور فریب ہوتا ہے جس کا اطلاق عربی مکر پر نہیں ہوتا عربی کا مکر کا اطلاق انسانوں پر بھی ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی چناچہ اکثر مقامات پر قرآن پاک میں آتا ہے (آیت) ” ومکروا ومکر اللہ “ انہوں نے بھی مخفی تدبیر کی اور اللہ نے بھی مخفی تدبیر کی (آیت) ” واللہ خیر المٰکرین “ اور اللہ تعالیٰ بہترین مخفی تدبیر کرنے والا ہے یہی مضمون اس آیت میں آگے بھی آرہا ہے۔ اس آیت کریمہ میں حضور ﷺ کی ہجرت کے پس منظر کی طرف اشارہ ہے کہ کفار مکہ نے آپ کے خلاف مختلف تجاویز پر مشورہ کیا اور پھر ایک فیصلہ پر اتفاق کرلیا۔ مکہ میں حضور ﷺ کے آبائو اجداد میں سے قصی ابن کلاب کا ایک مکان تھا ، جسے اہم مشوری کے لیے اسمبلی ہال کی حیثیت حاصل تھی۔ لہٰذا اسے دارالندوہ یعنی مشورے کا گھر کہا جاتا تھا جب اسلام کی روشنی پھیلنے لگی اور اکا دکا لوگ حلقہ بکوش اسلام ہونے لگے تو مکہ کے مشرکوں کو اپنی سیادت کی فکر لاحق ہوئی انہوں نے سوچا کہ اگر مسلمان تعداد میں بڑتھتے رہے تو ایک دن ایسا آئے گا جب وہ مکہ کے قدیم باشندوں پر غالب آجائیں گے چناچہ وہ اسلام کے اس نرو وناز کی پودے کو ابتداء ہی میں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے تیار ہوگئے انہوں نے عام مسلمانوں خصوصا ضعفا پر بڑے مظالم ڈھائے بعض کو قتل بھی کیا ، مگر اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے بالآخر کسی فیصلہ کے لیے بڑے برے کفار ومشرکین ابوجہل ، عتبہ ، شیبہ اور ابو الاسود وغیرہ اسی دارالندوہ میں مشورہ کے لیے اکھٹے ہوئے تا کہ حضور ﷺ کی ذات کے متعلق کوئی آخری فیصلہ کرسکیں۔ قید کی تجویز : جب اس مسئلہ پر بحث شروع ہوئی تو ابوالبختری نے رائے دی کہ حضور کے پائوں میں بیڑیاں ڈال کر انہیں کسی کوٹھڑی میں قید کردیا جائے نہ یہ باہر نکل سکیں گے اور نہ اسلام کی آبیاری ہوگی۔ امام سہلی اور دیگر سیرت نگار اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں کہ جب یہ لوگ دارالندوہ میں جمع تھے تو ایک اجنبی شخص نے آکر دروازے پر دستک دی۔ پوچھنے پر اس نے اپنا تعارف شیخ نجدی کے طور پر کرایا اور کہا کہ میں بھی تمہارے مشورے میں شریک ہونا چاہتا ہوں ، شائد کوئی اچھی رائے پیش کرسکوں ، چناچہ اس نووارد کو بھی مشورے میں شامل کرلیا گیا یہ شخص دراصل ابلیس لعین تھا اور اسلام دشمنی میں اپنا رول ادا کرنا چاہتا تھا چناچہ جب ابو البختری نے حضور ﷺ کو قید کردینے کی تجویز پیش کی تو اس نے اور بعض دوسرے مشیروں نے اس تجویز سے اتفاق نہ کیا اور کہا کہ قید کی صورت میں آپ کے ساتھی آپ کو رہا کرانے کی کوشش کریں گے اور اس طرح یہ خطرہ سر پر منڈلاتا رہے گا۔ اس مقام پر اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب کافر لوگ آپ کے متعلق مخفی تدبیر کر رہے تھے (آیت) ” لیثبتوک “ تا کہ آپ کو قید میں ڈال دیں۔ جلا وطنی : جب مذکورہ تجویز پر اتفاق رائے نہ ہوسکا تو ابو الاسود نے مشورہ دیا کہ پیغمبر اسلام (علیہ السلام) کو جلا وطن کردینا چاہیے باہر جو مرضی کرتے پھریں ، کم از کم ہم تو روز روز کی سردردی سے محفوظ ہوجائیں گے۔ اس پر شیخ نجدی اور بعض دوسرے مشیروں نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ زبان کے بڑے میٹھے ہیں ، یہ جہاں بھی جائیں گے لوگ ان کے گرد جمع ہوجائیں گے اور پھر ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے جب وہ طاقت جمع کر کے تم پر حملہ آور ہوجائیں ، لہٰذا بہتر ہے کہ ان کو اس قسم کا موقع ہی نہ دیا جائے جو ہمارے لیے کسی آئندہ زمانے میں بھی خطرے کا باعث ہو لہذا یہ تجویز بھی ناکام ہوگئی (آیت) ” اویخرجوک “ میں اسی تجویز کی طرف اشارہ ہے۔ قتل کا منصوبہ : اس کے بعد ابو جہل نے آپ کے قتل کا منصوبہ پیش کیا تجویز یہ تھی کہ ہر قبیلے سے ایک ایک نوجوان کا انتخاب کیا جائے جو اعلیٰ درجے کی تلوارون سے مسلح ہوں اور پھر ایک مقررہ وقت پر حضور ﷺ پر حملہ آور ہو کر آپ کا کام تمام کردیں اس کا ٰخیال تھا کہ چونکہ اس قتل میں تمام قبائل شامل ہوں گے اس لیے حضور ﷺ کے خاندان والے کسی ایک سے قصاص کا مطالبہ بھی نہیں کرسکیں گے ، البتہ ہم سب مل کر انہیں دیت ادا کردیں گے۔ ابلیس نے اس رائے کی حمایت کی ، چناچہ اس کام کے لیے تاریخ مقرر کردی گئی کہ فلاں رات کو فلاں فلاں نوجوان مسلح ہو کر آپ کے مکان کا محاصرہ کرلیں گے اور جونہی آپ باہر نکلیں گے آپ کو ختم کر دیاجائیگا۔ (آیت) ” او یقتلوک کا یہی مطلب ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی تدبیر : اسی واقع کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (آیت) ” ویمکرون “ ادھر کفار مخفی تدبیر کر رہے تھے اور ادھر (آیت) ” ویمکرو اللہ “ اللہ تعالیٰ مخفی تدبیر کر رہا تھا (آیت) ” واللہ خیر المکرین “ اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ سب سے بہت تدبیر کرنے والا ہے اس کے سامنے کسی دوسرے کی تدبیر نہیں چل سکتی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق بھی یہی الفاظ استعمال کیے ہیں۔ آپ کے دشمن بھی آپ کے خلاف مخفی تدبیر کر رہے تھے وہ آپ کو سولی پر لٹکانا چاہتے تھے مگر ادھر اللہ کی مخفی تدبیر بھی کام کر رہی تھی۔ وہاں بھی یہی الفاظ ہیں (آیت) ” ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر المکرین “۔ بہر حال کفار نے اپنی خفیہ تدبیر کے مطابق رات کو حضور ﷺ کے مکان کا محاصرہ کرلیا۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس منصوبے سے بذریعہ وحی آگاہ کردیا اور آپ کو راتوں رات وہاں سے نکل جانے کا حکم دیدیا حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ کو اپنے بستر پر لٹا دیا اور فرمایا کہ صبح یہ امانتیں لوگوں تک پہنچا دینا کیونکہ میں تو جا رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ بھی حکم دیا کہ مٹی کی ایک مٹھی لے کر محاصرے پر موجود آدمیوں کے سروں پر پھینک دیں۔ آپ نے ایسا ہی کیا اور سورة یسٰین کی آیت (آیت) ” وجعلنا من بین ایدیھم سدا ومن خلفھم سدا فاغشینھم فھم لا یبصروان “ کی تلاوت کرتے ہوئے ان کے سامنے سے گزر گئے مگر انہیں خبر تک نہ ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے آگے پیچھے پردے ڈال دیے ، ان پر غنودگی طاری ہوگئی اور وہ آپ کو دیکھ ہی نہ سکے۔ جب صبح ہوئی تو حضرت علی ؓ کو حضور ﷺ کے بستر پر پایا پوچھا آپ کے صاحب کدھر گئے حضرت علی ؓ نے کہا مجھے کیا پتہ ہے ، کافروں نے بڑی سختی سے پوچھنے کی کوشش کی مگر انہیں کچھ پتہ نہ چلا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ غارِ ثور میں قیام : حضور ﷺ اپنے گھر سے روانہ ہو کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے گھر پہنچے ان کو ساتھ لیا اور مکہ سے پندرہ کلو میٹر دور غارثور میں راتوں رات پہنچ گئے۔ صبح کے وقت جب کفار کو آپ کی روانگی کا علم ہوا تو انہوں نے مختلف راستوں پر آدمی دوڑا دیئے تا کہ آپ کو روکا جاسکے۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت سے حضور ﷺ تین دن تک غارثور میں مقیم رہے اور پھر ایک غیر معروف راستے پر مدینہ طیبہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ ابن ہشام اور دیگر مورخین نے اس راستے کی بھی نشاندہی کی ہے جس پر حضور ﷺ نے مدینہ طیبہ کا سفر اختیار کیا یہ سب اللہ کی مخفی تدبیر تھی ، بدر کے مقام پر مشرکین مکہ نے مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے ختم کردینے کا منصوبہ بنایا تھا ، مگر اللہ نے وہاں بھی اپنی مخفی تدبیر کے ذریعے ان کے منصوبے کو خاک میں ملا دیا اور انہیں شکست فاش سے دوچار کیا۔ آیات قرآنی کا انکار : آگے اللہ تعالیٰ نے کفار کی ایک اور خصلت کا ذکر فرمایا ہے (آیت) ” واذا تتلی علیھم ایتنا “ جب ان کے سامنے ہماری آیتیں پڑھی جاتی ہیں۔ قرآن پاک کی تلاوت ہوتی ہے تو تعصب اور عناد کی بناء پر کہتے ہیں۔ (آیت) ” قالوا قد سمعنا “ کہ ہم نے سن لیا ہے اور ساتھ یہ بھی کہتے ہیں (آیت) ” لو نشاء لقلنا مثل ھذا “ اگر ہم چاہیں تو اس جیسا کلام ہم بھی پیش کرسکتے ہیں ۔ نضر بن حارث کے متعلق مشہور ہے کہ وہ ایران میں کافی عرصہ تک رہ چکا تھا اور وہاں کے رستم واسفند یار کے قصے خوب جانتا تھا۔ جب حضور ﷺ لوگوں کے سامنے پرانی قوموں سے متعلق قرآنی آۃ یات پیش کرتے تو نضر کہتا کہ محمد تمہیں عاد وثمود کے قصے سناتا ہے ، آئو میں تمہیں اس سے بہتر کہانیاں سناتا ہوں۔ چناچہ یہ شخص ایرانیوں کے پرانے قصے کہانیاں لوگوں کو سنایا کرتا تھا تا ہم مشرکین کی اکثریت ایسی تھی جو قرآن پاک کی کسی بھی آیت کی مثال لانے سے عاجز تھی ، لہٰذا وہ آیات الہٰی کو سننے کے بعد یوں کہ دیتے (آیت) ” ان ھذا الا اساطیر الاولین یہ تو بس پرانے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ اساطیر اسطورہ کی جمع ہے جو کہ یونانی زبان کا لفظ ہے اور عربی میں بھی استعمال ہوتا ہے اس کا معنی کہانی Story ہوتا ہے۔ کفار کی بدعا : مشرکین اپنے عقائد باطلہ پر بڑے راسخ تھے ، اپنی خود ساختہ چند رسوم کو دین ابراہیمی سے تعبیر کرتے تھے اور اپنے آپ کو حق پر سمجھتے تھے ، وہ الٹا مسلمانوں کو صابی کہتے تھے کہ انہوں نے آبائو اجداد کے دین کو خراب کردیا ہے ، اکثر انبیاء کے متعلق ان کی امتیں ایسا ہی گمان رکھتی تھیں ، حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے بھی آپ کو یہی کہا تھا (آیت) ” یشعیب اصلوٰتک تامرک ان نترک ما یعبد ابائونا “ (سورۃ ہود) اے شعیب کیا تمہاری نماز تمہیں یہی سکھاتی ہے کہ ہم اپنے آبائو اجداد کے معبودوں کو چھوڑ دیں اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے کفار مکہ کے اس واقعہ کی طرف توجہ دلائی ہے جب وہ بدر کی طرف نکلے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے بدعا کی تھی۔ (آیت) ” واذقالوا الھم “ جب انہوں نے کہا اے اللہ ! (آیت) ” ان کان ھذا ھو الحق من عندک “ اگر محمد کا دین تیرے نزدیک برحق ہے تو ہم تو اسے نہیں مانتے ، (آیت) ” فامطر علینا حجارۃ من السماء “ تو پھر ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے (آیت) ” اوئتنا بعذاب الیم “ یا ہمیں دردناک عذاب میں مبتلا کر دے گویا کہ وہ لوگ اپنے عقیدے پر اتنے پکے تھے کہ خود اپنے لیے بدعا کر رہے تھے ، بعض دیگر انبیاء کی قوموں کا بھی یہی حال تھا فرعون اور ہامان نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو (آیت) ” ساحر کذاب “ کہا مشرکین نے حضور کا معجزہ دیکھ کر کہہ دیا (آیت) ” سحر مستمر “ کہ یہ چلتا ہوا جادو ہے۔ سزا کا خدائی قانون فرمایا کہ مشرک تو اپنی زبان سے سزا کا مطالبہ کر رہے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کا قانون محض کسی کے طلب کرنے پر عذاب بھیج دینا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ دو وجوہات کی بنا پر عذاب کو ٹالتا رہتا ہے اور جب یہ وجوہات باقی نہیں رہتیں تو عذاب آجاتا ہے چناچہ فرمایا کہ عذاب سے بچے رہنے کی پہلی وجہ یہ ہے (آیت) ” وما کان اللہ لیعذبھم وانت فیھم “ یعنی اے پیغمبر جب تک آپ ان کافروں کے درمیان موجود ہیں اللہ تعالیٰ ان کو عذاب میں مبتلا نہیں کریگا۔ یہ نبی کی برکت ہوتی ہے کہ اس کی موجودگی میں عذاب الٰہی نازل نہیں ہوتا۔ پہلی قوموں میں بھی ایسا ہی ہوا ہے ، جب نبی کو قوم سے الگ کیا گیا تو پھر ان پر عذاب آیا۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا (آیت) ” ولما جاء امرنا نجیناھودا والذین امنوا معہ “ (سورۃ ہود) جب حکم آگیا تو ہم نے ہود (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھ ایمان لانے والوں کو بچا لیا اور نافرمانوں کو سخت عذاب میں مبتلا کردیا۔ حضور خاتم النبین ﷺ نے مکی زندگی میں بڑی تکالیف برداشت کیں مگر جب تک آپ وہاں مقیم رہے کفار پر کوئی عذاب نہیں آیا۔ پھر جب آپ وہاں سے ہجرت کر کے مدینہ طیبہ چلے گئے تو صرف ڈیڑھ سال کے عرصہ میں انہیں بدر کے مقام پر ایسی سزا دی جس مٰن ان کے ستر سرکردہ لیڈر مارے گئے اور اتنے ہی قیدی بنا لیے گئے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک بھی ہے کہ میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے میری امت کو خصوصیت عطا کی ہے کہ ان پر کوئی ایسا اجتماعی عذاب نہیں آئے گا جس میں پوری امت ہلاک ہوجائے ، تاہم جزوی طور پر چھوٹی موٹی سزائیں آسکتی ہیں۔ سابقہ انبیاء کی قوموں کو مجموعی عذاب میں بھی مبتلا کیا گیا۔ چناچہ قوم عاد کی تباہی کے متعلق آتا ہے کہ ان پر سات رات اور آٹھ دن تک مسلسل تیز ہوا چلتی رہی اور وہ لوگ اس طرح ہلاک ہوئے پڑے تھے جیسے کھجور کے بڑے بڑے تنے ہوں فرمایا (آیت) ” فھل ترٰی لھم من باقیۃ “ (الحاقہ) ان میں سے ایک بھی باقی نہ بچا بلکہ پوری قوم تباہ ہوگئی۔ قوم ثمود کا ابورغال مسجد حرام میں ٹھہرا ہوا تھا ، جب اس قوم پر عذاب آیا ساری قوم اپنے مقام پر ہلاک ہوگئی اور یہ حرم میں ہو نیکی وجہ سے بچ گیا۔ پھر جب یہ حرم سے نکل کی طائف کی طرف جا رہا تھا تو اس پر بھی وہی عذاب آیا جو باقی قوم پر آیا تھا اور یہ شخص راستے میں ہی ہلاک ہوگیا۔ اسی لیے حضور ﷺ نے فرمایا کہ پہلی پوری کی پوری قوموں پر عذاب نازل ہوا مگر میری امت پر اللہ تعالیٰ اس طرح کا مجموعی عذاب نازل نہیں کرے گا۔ فرمایا نافرمان قوموں پر عذاب کے ٹلتے رہنے کی دوسری وجہ یہ ہے (آیت) ” وما کان اللہ معذبھم وھم یستغفرون “ اللہ تعالیٰ اس وقت تک ان کو سزا نہیں دے گا جب تک وہ معافی مانگتے رہیں گے مشرک لوگ اپنے تمام تر شرک کے باوجود اپنی زبان سے غفرانک کہتے تھے یعنی اے اللہ ! ہمیں معاف فرما دے تو اللہ نے فرمایا کہ جب تک یہ استغفار کرتے رہیں گے انہیں سزا نہیں دی جائیگی البتہ جب استغفار ترک کردیں گے تو سزا کے مستحق ٹھہریں گے۔ فرمایا (آیت) ” ومالھم الا یعذبھم اللہ “ اللہ تعالیٰ ان کو سزا کیوں نہ دے (آیت) ” وھم یصدون عن المسجد الحرام “ حالانکہ وہ مسجد حرام سے روکتے ہیں حضور ﷺ اور اہل ایمان کو حرم شریف میں نماز پڑھنے سے روکتے ہیں۔ اس کے بعد 6 ھ؁ میں جب حضور ﷺ کے ہمراہ عمرہ کی نیت سے آئے تو مشرکین نے آپ کو راستے ہی میں روک دیا اور مسجد حرام میں عمرہ نہیں ادا کرنے دیا۔ اس کے متعلق فرمایا کہ جب ان کے عناد کا یہ عالم ہے کہ اللہ کے گھر میں اس کی عبادت سے روکتے ہیں تو پھر ان پر عذاب آنے میں کون سی چیز مانع ہو سکتی ہے ؟ تولیت مساجد کا قانون : فرمایا یہ مسجد حرام سے روکتے ہیں (آیت) ” وما کانوا اولیائہ “ حالانکہ یہ لوگ مسجد حرام کے حقیقی متولی نہیں ہیں۔ یہ تو مسلط ہیں جنہوں نے اللہ کے گھر پر زبردستی قبضہ کر رکھا ہے فرمایا (آیت) ” ان اولیائہ الا المتقون “ درحقیقت مسجد حرام کے متولی تو متقی لوگ ہیں جن میں حضور ﷺ حضرت ابوبکر صدیق رض ، عمر فاروق رض ، اور ان کے دیگر ساتھی ہیں مسجد حرام کے متولی فاسق ، فاجر اور مشرک کیسے ہو سکتے ہیں ؟ اس آیت سے عام مساجد کی تولیت کا مسئلہ بھی حل ہوجاتا ہے۔ کسی بھی عبادت خانے کا متولی ہو سکتا ہے جو متقی ہو۔ مگر آج اکثر مساجد میں فاسق لوگ مسلط ہیں۔ نہ تو وہ خود نماز ہوتے ہیں اور نہ ہی تولیت کے اہل۔ مساجد کی انجمنیں اکثر ایسے ہی ممبران پر مشتمل ہوتی ہیں ، ہر کوئی زبردستی متولی بننے کی کوشش کرتا ہے جس کا نتیجہ فتنہ فساد کی صورت میں ہی نکلتا ہے اور تولیت کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے ۔ بہرحال فرمایا کہ یہ لوگ مسجد حرام سے روکتے ہیں ، یہ لوگ تولیت ِ مسجد کا حق نہیں رکھتے بلکہ (آیت) ” ولکن اکثرھم لا یعلمون “ ان میں سے اکثر بےعلم اور ناسمجھ ہیں۔ یہ لوگ محض اولاد ابراہیم (علیہ السلام) کے استحقاق کی بناء پر مسجد حرام کے متولی بنے بیٹھے ہیں حالانکہ اس کے صحیح حقدار وہ ہیں جو اصل دین ِ ابراہیم پر قائم ہیں۔ احترام مساجد : آج کل اکثر لوگ مساجد کا احترام نہیں کرتے ، دنیا کی باتیں اور شوروغل ہوتا ہے ۔ گمشدگی کے اعلانات ہوتے ہیں۔ تجارتی بھائو بیان کیے جاتے ہیں۔ حالانکہ حضور ﷺ نے فرمایا (1۔ قرطبی ص 282 ، ج 12) (فیاض) جو شخص گمشدگی کا اعلان کرتا ہے اس کے لیے بدعا کرو کہ خدا تمہاری چیز نہ لوٹائے ۔ اسی طرح جو تجارت کے لیے اعلان کرتا ہے ، اس کے لیے کہو کہ خدا تیری تجارت میں نفع نہ دے۔ چھوٹے بچوں کو مسجد میں آنے سے اسی لیے روکا گیا ہے کہ ان کی وجہ سے مسجد کا احترام پامال ہوتا ہے پاگلوں کے متعلق بھی یہی حکم ہے مسجد میں حدود جاری کرنے سے بھی منع فرمایا گیا ہے کیونکہ اس سے مسجدوں کا احترام باقی نہیں رہتا بہرحال مسجد حرام اور دیگر تمام مساجد کا احترام از حد ضروری ہے۔
Ayahs 8:35–37

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 8:35 in the Quran reader

اور نہیں ہیں ان (مشرکینِ مکہ) کی نمازیں بیت اللہ شریف کے پاس مگر سیٹیاں بجانا اور تالیاں پیٹنا ( فرمایا اللہ تعالیٰ نے) پس چھکو سزا اس کے بدلے جو کچھ تم کفر کرتے تھے

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ Open ayah 8:36 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ، وہ خرچ کرتے ہیں اپنے مالوں کو تا کہ روکیں اللہ کے راستے سے پس وہ خرچ کریں گے ، پھر ہوں گے ( وہ مال) ان پر حسرت کا باعث ، پھر یہ (بالآخر) مغلوب ہوں گے ، اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ان کو جہنم کی طرف اکٹھا کیا جائیگا

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 8:37 in the Quran reader

تا کہ اللہ تعالیٰ جدا کر دے خبیث کو پاک سے اور رکھے خبیث کے بعض کو بعض پر ، پس اکٹھا کریگا اس سب کو پس کر دے گا اس کو جہنم میں ، یہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے

ربط آیات : گزشتہ درس میں حضور ﷺ کے واقعہ ہجرت کی طرف اشارہ تھا جب کہ کفار مکہ آپ کو قتل کرنے کے درپے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی مخفی تدبیر کا ناکام بنا دیا ، اور حضور ﷺ کی حفاظت کے لیے ایسی مخفی تدبیر بنائی کہ آپ ان کی آنکھوں میں مٹی ڈالتے ہوئے ان کے درمیان سے نکل گئے۔ گزشتہ درس ہی میں اللہ نے مشرکین کے تعصب اور عناد کا ذکر بھی فرمایا اور یہ بھی کہ یہ لوگ فوری سزا کے مستحق ہیں مگر ان کی سزا دو وجہ سے رکی ہوئی ایک وجہ یہ ہے کہ اللہ کا پیغمبر ان کے درمیان موجود ہے ، اور جب تک کسی بھی قوم کا پیغمبر ان میں موجود ہوتا ہے ، وہ قوم سزا سے بچی رہتی ہے اور پھر جب پیغمبر علیحدہ ہوجاتا ہے تو قوم سزا میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ اللہ نے مشرکین سے سزا کے ٹلے رہنے کی دوسری وجہ یہ بیان فرمائی کہ جب تک وہ معافی مانگتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نازل نہیں کریگا۔ معافی کا قانون یہ ہے کہ انسان اپنی زبان کے ساتھ استغفار کرتا رہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اگر کافر بھی ایسا کریں گے تو ان کو بھی فوری سزا نہیں ملتی۔ اللہ نے مزید فرمایا کہ مشرکین مکہ خانہ کعبہ کے بزور متولی بنے ہوئے ہیں حالانکہ حقیقت میں بیت اللہ کے متولی وہ ہونے چاہیں جو متقی اور پرہیزگار ہوں ۔ مشرکین مکہ تو کفر اور شرک میں مبتلا ہیں ، لہٰذا وہ بیت اللہ شریف کے متولی کیسے ہو سکتے ہیں ؟ اتقا کا پہلا درجہ یہ ہے کہ انسان کفر ، شرک اور بدعقیدگی سے محفوظ رہے۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ کبیرہ معاصی سے بچے اور تیسرا درجہ اتقاء کا یہ ہے ، کہ انسان مکروہ ، مشکوک اور مشتبہات سے بھی بچتا رہے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا (آیت) ” ان اولیائہ الا المتقون خانہ کعبہ کے متولی تو وہ ہو سکتے ہیں جو متقی ہوں۔ عام مساجد کا بھی یہی حکم ہے۔ ان کے متولین بھی متقی لوگ ہونے چاہیں مگر آجکل اکثر مساجد کے منتظمین فاسق ، فاجر ، بےنماز اور شرائع الہیہ سے بےنیاز لوگ ہی ملتے ہیں۔ وجہ ظاہر ہے کہ اب لوگوں میں جذبہ خدمت کی بجائے ذاتی مفاد پیش نظر ہے۔ مشرکین کی عبادت : اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی عبادت کا ذکر فرمایا ہے (آیت) ” وما کان صلاتھم عند البیت الا مکاء وتصدیہ “ نہیں ہے ان کی نماز بیت اللہ شریف کے پاس مگر سیٹیاں بجانا اور تالیاں پیٹنا مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ مشرکین مکہ نے عبادت کے کئی خود ساختہ طریقے ایجاد کر رکھے تھے جو بذات خود آداب مسجد کے خلاف تھے۔ مثلا ان کے دل میں شیطان نے یہ بات ڈال دی تھی کہ جن کپڑوں میں ہم گناہ کرتے ہیں ان کپڑوں کے ساتھ ہم بیت اللہ جیسے پاک مقام کا طواف کیسے کرسکتے ہیں ؟ چناچہ جن لوگوں کو قریش مکہ اپنے کپرے عاریۃ دے دیتے تھے ، وہ ان کپڑوں کے ساتھ طواف کرلیتے تھے اور باقی حاجیوں کی غالب اکثریت اپنے کپڑوں میں طواف کرنے کی بجاے بالکل برہنہ طواف کرنے کو ترجیع دیتی تھی ، چناچہ مرد دن کے وقت بیت اللہ کا طواف کرتے اور عورتیں رات کے وقت وہ بدبخت اس شنیع فعل کو خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کر کے کہتے تھے کہ ہم اس کے حکم سے ایسا کرتے ہیں حالانکہ گزشتہ سورة اعراف میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان گزر چکا ہے (آیت) ” ان اللہ لا یامر بالفحشآئ “ یعنی اللہ تعالیٰ تو اس بےحیائی کا حکم نہیں دیتا ایسے عمل کو اللہ تعالیٰ یا شریعت کی طرف منسوب کرنا تو بہت بڑی زیادتی کی بات ہے۔ آداب مساجد : مفسرین کرام یہ بھی فرماتے ہیں کہ جب خود حضور ﷺ یا آپ کا کوئی صحابی بیت اللہ شریف کے پاس نماز کے لیے کھڑا ہوتا تو مشرک لوگ دخل اندازی کے لیے سیٹیاں بجانا شروع کردیتے تھے جو کہ نہایت ہی بےادبی اور گستاخی کی بات تھی مسجدوں کے اداب کے متعلق سورة نور میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے (آیت) ” فی بیوت اذن اللہ ان ترفع ویذکر فیھا اسمہ “ اللہ تعالیٰ نے تو مساجد کو بلند رکھنے اور ان میں اس کا ذکر کرنے کا حکم دیا ہے مگر یہ لوگ وہاں سیٹیاں بجاتے اور تالیاں پیٹتے ہیں کہ اللہ کے بندوں کو وہاں پر عبادت سے روک سکیں جب بیت اللہ شریف کی عمارت حضرات ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) کے ہاتھوں تکمیل کو پہنچی تو اللہ نے اپنے دونوں انبیاء سے وعدہ لیا (آیت) ” ان طھرا بیتی للطائفین والعکفین والرکع السجود “ ( البقرہ) کہ وہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں ، اعتکاف کرنے والوں اور رکوع سجود کرنے والوں کے لیے پاک صاف رکھیں گے۔ اس حکم میں ظاہری طہارت بھی آتی ہے کہ اللہ کا گھر ظاہری نجاست سے بالکل پاک صاف ہو اور باطنی طہارت بھی کہ وہاں پر کفر ، شرک ، بےادبی اور گستاخی کو کوئی بات نہ ہو۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اپنے گھر میں بھی جو جگہ نماز کے لیے متعین کی جائے وہ بھی مسجد کا حکم رکھتی ہے اور اس کو بھی پاک صاف رکھنا ضروری ہے۔ صحاح ستہ میں یہ حدیث موجود ہے کہ ایک شخص نے مسجد کے صحن میں پیشاب کردیا ، حضور ﷺ کے صحابہ اسے مارنے کے لیے دوڑے مگر آپ نے اس پر زیادتی کرنے سے منع فرمایا پھر اس شخص کو اپنے پاس بلا کر بات سمجھائی کہ اللہ کے گھر اس لیے نہیں ہوتے کہ یہاں گندگی پھینکی جائے ، یہ مقام تو اللہ کی عبادت ، نماز اور ذکر کے لیے ہوتے ہیں ، آپ نے بڑی نرمی سے سمجھایا ، پھر مسجد کو صاف کرایا غرضیکہ مسجد میں تالیاں بجانا ، سیٹیاں مارنا ، لڑائی جھگڑا کرنا ، سامان بیچنا اور گمشدگی کا اعلان کرنا بھی خلاف ادب ہے حتی کہ مسجد میں ہتھیار برہنہ کرنے اور حدود جاری کرنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ مسجد کا ادب اور خاص طور پر بیت اللہ شریف کا ادب ہمیشہ ملحوظ خاطر رہنا چاہیے۔ سیٹیاں اور تالیاں : اللہ نے فرمایا کہ مشرکین کی نماز یہ ہے کہ بیت اللہ کے نزدیک سیٹیاں اور تالیاں بجائی جائیں حضرت سعد ابن جبیر ؓ فرماتے ہیں کہ تصدیہ سے مراد وہ آواز ہے جو ہاتھ مارنے سے پیدا ہوتی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے تالیاں بجانے سے منع فرمایا ہے اور صد کا معنی روکنا بھی ہوتا ہے۔ 6 ھ؁ میں مشرکین مکہ نے عمرہ کے لیے آنے والے مسلمانوں کو مکہ سے باہر ہی روک دیا تھا اور شہر میں داخل نہیں ہونے دیا تھا۔ اسی طرح مکاد کا معنی منہ میں انگلی ڈال کر آواز نکالنا یا بنی بنائی سیٹی بجانا ہے مکاء اس پرندے کو بھی کہتے ہیں جو سیٹی کی سی آواز نکالتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرکین نے اسباب تو ایسے جمع کر رکھے ہیں کہ یہ فوری سزا کے مستحق ہیں مگر دو وجوہات سے ان پر عذاب رکا ہوا ہے جب تک حضور ﷺ مکہ میں موجود رہے اور جب تک مشرکین استغفار کرتے رہے ان کی سزا رکی رہی پھر جب حضور ﷺ ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لے گئے تو صرف ڈیڑھ سال کے عرصہ میں اللہ تعالیٰ نے بدر کے مقام پر ان پر عذاب نازل فرمایا۔ اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے انہیں ذلیل و خوار کیا۔ کفار کے ستر سرکردہ آدمی قتل ہوئے اور اتنے ہی قیدی بنا لیے گئے جنہیں فدیہ لے کر چھوڑا گیا اللہ نے فرمایا (آیت) ” فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون “ اب سزا کا مزا چکھو جو کہ تمہارے کفر کا بدلہ ہے۔ اللہ کے راستے میں رکاوٹ : جب کفار مکہ کو بدر کے میدان میں شکست فاش ہوئی تو ان میں غیظ وغضب کی آگ مزید بھڑک اٹھی۔ ابو سفیان پچاس ہزار دینار مالیت کا سامان تجارت لے کر آیا تھا مشرکوں نے کہا کہ اس قافلے کی حفاظت کے نام پر ہم پر وبال آیا ہے لہٰذا انہوں نے عہد کیا کہ یہ سارا مال مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاری میں صرف کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ بھی وہ اسلام کو مغلوب کرنے کے لیے مال خرچ کرتے رہتے تھے ، اسی ضمن میں یہاں فرمایا ہے (آیت) ” ان الذین کفروا ینفقون اموالھم لیصدوا عن سبیل اللہ “ یعنی کافر لوگ اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے اپنے مال خرچ کرتے رہتے ہیں ان کے پیش نظر غریبوں کی ہمدردی یارفاہِ عامہ کا کوئی کام نہیں ہوتا بلکہ یہ لوگ اس لیے کثیر مال خرچ کرتے ہیں تا کہ اسلام کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جا سکین اور یہ آگے نہ بڑھ سکے۔ چناچہ تاریخ کی کتابوں میں موجود ہے کہ عرب کا ایک بہت بڑا شاعر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتا تھا مگر کفار اسے محض اس لیے آپ کے پاس جانے سے روکتے تھے کہ اگر اس نے اسلام کے مشن سے متاثر ہو کر کوئی قصیدہ کہ دیا تو سارا عرب اسلام کی طرف مائل ہوجائے گا چناچہ مشرکوں نے سو اونٹ اناج کے عوض شاعر کو حضور ﷺ کے پاس جانے سے روک دیا۔ یہود کا بھی یہی حال ہے۔ نصاری آج کروڑون روپے اسلام دشمنی پر خرچ کر رہے ہیں تا کہ دین کا راستہ روکا جاسکے۔ کہیں تعلیم کے نام پر روپیہ صرف ہو رہا ہے ، کہیں ہسپتال قائم کردیے ہیں اور کہیں کثیر تعداد لڑیچرپڑھے لکھے لوگوں تک مفت پہنچایا جا رہا ہے ، یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اسلام کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے غیر مسلم افراد ، پارٹیاں اور حکومتیں بےدریغ روپیہ خرچ کر رہی ہیںٰ بڑے بڑے تبلیغی مراکز قائم ہیں جہاں سے افریقہ جیسے پس ماندہ ممالک میں تبلیغی مشن بھیجے جاتے ہیں اس کے برخلاف مسلمانوں میں یہ جذبہ مفقود ہوتا جا رہا ہے پہلے زمانہ میں ہر مسلمان اپنے اندر جذبہ ایمان رکھتا تھا اور اسے دوسروں تک پہنچانے کی سعی کرتا تھا ، انڈونیشیا ، جاوا اور سماٹرا وغیرہ میں اسلام مسلمان تاجروں کی بدولت پھیلا۔ وہ تجارت کے ساتھ ساتھ تبلیغ کا کام بھی کرتے تھے۔ مگر اب یہ ذمہ داری حکومتوں پر ڈال دی گئی ہے اور ان کی کارکردگی نہ ہونے کے برابر ہے حکومتوں کا حل تو یہ ہے کہ وہ اسلامی ممالک میں ارتداد کو بھی نہیں روک سکیں جب پاکستان معرض وجود میں آیا تھا تو اس وقت یہاں کتنے عیسائی تھے اور اب اس تعداد میں کتنے گنا اضافہ ہوچکا ہے کسی نے آج تک اس طرف توجہ نہیں دی۔ کسی نے ارتداد کو روکنے کی کوشش نہیں کی ، یہ تبلیغ دین کا کام کیا کریں گے میں نے عرض کیا کہ کافر لوگ لوگوں کو اسلام سے روکنے کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ چناچہ شکیب ارسلان نے اپنی کتاب حاضر العالم الاسلامی میں لکھا ہے کہ یورپ کی عیسائی مشنریوں نے اسلام کے خلاف چھ لاکھ کتابیں شائع کر کے تقسیم کی ہیں تا کہ کسی طرح قرآن پاک کا پروگرام آگے نہ بڑھنے پائے۔ اور حضور ﷺ کی ذات مبارکہ لوگوں کے سامنے مشتبہ حالت میں آئے۔ ذرا غور فرمائیں کہ مسلمان حکومتیں اور عوام اس ضمن میں کتنی کوشش کر رہے ہیں اور کتنا مال صرف کر رہے ہیں ؟ بحیثیت مجموعی مسلمانوں کی کاوش ایک دو فیصدی سے زیادہ نہیں ہے حالانکہ دین کی تعلیم اور تبلیغ اتنی عام ہونی چاہیے جس سے قرآنی پروگرام دنیا کے چپہ چپہ میں متعارف ہوجائے۔ اسلام کا تبلیغی مشن : تیسری صدی کے حالات کے مطابق جو جنگی قیدی مسلمانوں کے ہاتھ آتے تھے انہیں اختیار دیا جاتا تھا کہ وہ چاہیں تو مسلمانوں کی حفاظت اور امداد کے ساتھ رہیں اور چاہیں تو واپس چلے جائیں چناچہ جب لوگ مسلمانوں کے ساتھ رہنا پسند کرتے تھے تو اہل ایمان کو بڑی خوشی ہوتی تھی برخلاف اس کے جو لو گ اپنے دین پر پلٹ جانا چاہتے ان پر مسلمانوں کو برا دکھ ہوتا تھا مگر آج حالت یہ ہوچکی ہے کہ جب کوئی مسلمان اسلام چھوڑ کر مرتد ہوجاتا ہے تو کسی مسلمان کے کان پر جون تک نہیں رینگتی ارتداد کے اسباب کا جائزہ لینا اور پھر اس کا سد باب کرنا تمام مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے مگر حکومتیں یہ ذمہ داری پوری کرنے سے قاصر ہیں مسلمانوں میں بیماروں کے علاج اور محتاجوں کے لیے ہمدردی کا جذبہ ختم ہوچکا ہے یہی وجہ ہے کہ بیماری اور غربت سے تنگ آگ لوگ عیسائیت اختیار کرلیتے ہیں مسلمانوں کے پاس وسائل موجود ہیں مگر یہ انہیں بروئے کار نہیں لاتے۔ تبلیغ دین کے لیے مسلمانوں کی مساعی ایک دو فیصدی سے زیادہ نہیں ہے تبلیغی جماعتیں اپنے طور پر حت المقدور تبلیغ کا کام کر رہی ہیں ، حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی (رح) نے میوات جیسے پس ماندہ علاقے میں پچیس سال تک تبلیغ دین کا کام کیا اور اس جذبہ کو دنیا میں پھیلانے کی سعی کی ۔ آپ انتہائی درجے کے خدا پرست انسان اور بڑا بلند جذبہ رکھتے والے تھے۔ ان کی کوششوں اور دعائوں کا نتیجہ ہے کہ تبلیغی مشن کامیابی کی منازل طے کر رہا ہے ان کے فرزند ارجمند مولانا محمد یوسف صاحب نے بھی اس کام کے لیے زندگی وقت کردی۔ ان بزرگوں کی محنت اور کوشش کا نتیجہ ہے کہ یہ مشن مفید کام انجام دے رہا ہے ، ورنہ حکومتی سطح پر یہ کام نہ ہونے کے برابر ہے عام لوگ جو تبلیغی مشن پر روانہ ہوتے ہیں انہیں دوسرون کی نسبت اپنی اصلاح کی زیادہ فکر کرنی چاہیے اسلام میں ذاتی اصلاح اور پھر اصلاحِ عالم دونوں چیزیں ضروری ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ پوری دنیا کے لوگ اسلام کے پرچم تلے جمع ہو کر جہنم کی آگ سے بچ جائیں یہ اسلام کا عالمی پروگرام ہے۔ کفار کی حتمی ناکامی : بہر حال اللہ تعالیٰ نے کفار کی مذمت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ اسلام کا راستہ روکنے کے لیے اپنے مال خرچ کرتے ہیں (آیت) ” فسینفقونھا “ پھر وہ خرچ کریں گے (آیت) ” ثم تکون علیھم حسرۃ “ پھر وہ ان کے لیے حسرت کا باعث ہوگا اور بالآخر وہ حق کے مقابلے میں ذلیل و خوار ہو کر رہ جائیں گے یہ تو ہو سکتا ہے کہ ایسے لوگوں کو اس دنیا میں چند روزہ مہلت مل جائے اور یہاں انہیں جلدی سزا نہ ملے مگر اللہ کی مصلحت یہی ہے کہ (آیت) ” ثم یغلبون “ آخر کار وہ مغلوب ہو کر رہیں گے۔ فرمایا (آیت) ” والذین کفروا “ جن لوگوں نے کفر کیا (آیت) ” الی جھنم یحشرون “ وہ سب جہنم کی طرف اکٹھے کیے جائیں گے جہاں انہیں اپنے کیے کا کا بھگتان کرنا ہوگا۔ پاک وناپاک میں امتیاز : فرمایا یہ سب کچھ اس لیے ہوگا (آیت) ” لیمیز اللہ الخبیث من الظیب “ تا کہ اللہ تعالیٰ ناپاک کو پاک سے ممتاز کردے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دودھ اور پانی کا پانی کر دیگا۔ سب کے اچھے اور برے اعمال سامنے آجائیں گے اور پھر اللہ تعالیٰ اپنے پاک لوگوں کو ان کے مرکز خطیرۃ القدس میں اور ناپاک لوگوں کو ان کے مرکز جہنم میں پہنچائے گا۔ نیک اعمال کے اثرات جنت میں ظاہر ہوں گے اور برے اعمال کے نتائج کا ظہور جہنم میں ہوگا۔ اسی لیے فرمایا تا کہ اللہ تعالیٰ خبیث کو طیب سے ممتاز کر دے اور ساتھ یہ بھی ہوگا ۔ (آیت) ” ویجعل الخبیث بعضہ علی بعض “ اور اللہ تعالیٰ ڈال دے گا بعض خبائث کو بعض پر یعنی انسانوں کے تمام برے اعمال کو ایک دوسرے پر ڈال دے گا (آیت) ” فیرکمہ جمعیا “ پھر ان سب کو ڈھیر بنا دے گا ، اکٹھا کر دیگا۔ (آیت) ” فیجلہ فی جھنم “ اور کردیگا ان کو جہنم میں ، مطلب یہ ہے کہ آخر کار وہ وقت بھی آجائے گا جب اللہ تعالیٰ تمام کفار ان کے معبودانِ باطلہ ، ان کے اعمال سیئہ اور ان کے اموال کو جہنم رسید کر دیگا۔ فرمایا (آیت) ” اولئک ھم الخسرون “ حقیقت میں نقصان اٹھانے والے یہی لوگ ہیں یہ خود کفر کے پروگرام پر چل رہے ہیں اور اسی کو دنیا میں رائج کرنا چاہتے ہیں یہ چاہتیں ہیں کہ اسلام کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں تا کہ یہ آگے نہ بڑھ سکے۔ یہ کامیابی کا پانچواں اصول تھا کہ ” اے ایمان والو ! اگر تقوی کی راہ اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے فیصلہ کن بات رکھے گا ، اس کی بعض ذیلی باتیں بھی آج کے درس میں بیان ہوگئی ہیں۔ جب مسلمان ان مسلمہ اصولوں پر قائم تھے تو انہیں دنیا میں بھی کامیابی حاصل ہوئی جس کی اولین مثال میدان بدر کی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے غلبہ اسلام کے لیے اسباب پیدا فرما دیے اور کفار و مشرکین ذلیل و خوار ہوئے۔