Ayahs 8:61–64ربطِ آیات :
گذشتہ درس میں فرضیت جہاد کے ضمن میں اہل ایمان کو حکم دیا جا چکا ہے کہ دشمن کے مقابلے میں حسب استطاعت قوت فراہم کریں۔ اس سے مراد نہ صرف انفرادی قوت ہے بلکہ زمانے کی مناسبت سے جدید ترین اسلحہ ، ذرائع نقل وحمل اور بہترین ذرائع ابلاغ بھی ہیں۔ ظاہر ہے کہ دشمن اسلام بھی اپنے باطل پروگرام کی تکمیل کے لیے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائے گا ، لہٰذا ایمان والوں کا بھی فرض ہے ، خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں کہ بہترین صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہوئے دشمن کے مقابلے کے لیے ہر وقت مستعد رہیں جنگ کے سارے اہم اصول بیان کرنے کے بعد اللہ نے آخر میں قوت جمع کرنے کا اصول بیان فرمایا سارے اہم اصول بیان کرنے کے بعد اللہ نے آخر میں قوت جمع کرنے کا اصول بیان فرمایا تھا اور اب آج کے درس میں قانونِ صلح کا تذکرہ ہو رہا ہے۔
صلح پر آمادگی :
ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وان جنحوا للسلم “ اگر یہ لوگ ( کافر ، مشرک ، یہودونصاری) صلح کے لیے مائل ہوجائیں تو اپنے پیغمبر (علیہ السلام) (آیت) ” فاجنح لھا “ آپ بھی اس کے لیے مائل ہوجائیں۔ جنگ کوئی مقصود بالذات تو نہیں ہے کہ محض شغل کے طور پر بلاوجہ جنگ جاری رکھی جائے بلکہ اس سے مراد تو یہ ہے کہ فتنہ و فساد کا قلع قمع کر کے دنیا میں امن وامان کی فضا قائم کی جائے ، کفر وشرک کی باطل رسومات کا ختمہ ہو کر اللہ وحدہ لاشریک کی توحید کا ڈنکا بجے ، مظلوم کی اعانت ہو اور ظالم پر حدود جاری ہوں۔ لہٰذا فرمایا کہ جب حالات کا تقاضا ہو اور دشمن صلح پر آمادہ ہو تو آپ بھی ان کی طرف صلح کا ہاتھ بڑھائیں وہاں اگر وہ اپنی بات پر اڑے ہوئے ہیں اور جنگ کو جاری رکھنا چاہتے ہیں تو آپ بھی آخری فتح تک بہترین وسائل کے ساتھ ان کے خلاف برسرپیکار رہیں۔ بہر حال صلح وجنگ دونوں قسم کے قوانین بڑے اہم ہیں جن پر عملدرآمد ہی کامیابی و کامرانی کی ضمانت ہے۔
جس طرح حصول مقصد کے لیے بعض اوقات جنگ ناگزیر ہوتی ہے اسی طرح خاص مصلحت کے تحت بعض اوقات صلح بھی مفید ہوتی ہے۔ 6 ھ میں صلح حدیبیہ اس کی بہترین مثال ہے جب آپ چودہ سو صحابہ ؓ کے ہمراہ عمرہ کی نیت سے مکہ معظمہ آئے تو کفارنے حدیبیہ کے مقام پر ہی روک دیا تھا۔ صحابہ کرام ؓ چونکہ جنگ کے ارادے سے نہیں آئے تھے ، اس لیے ان کے پاس نہ تو وافر افرادی قوت تھی اور نہ ہی سامان ضرب وحرب ، مگر حالات کا تقاضا یہ تھا کہ جس مقصد کے لیے آئے ہیں اسے ہر حالت میں پورا کیا جائے۔ فریقین کی گفت و شنید کے نتیجہ میں حضور ﷺ نے نہایت کمزور شرائط پر صلح کی پیش کش کو قبول فرمایا ، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اشاعت اسلام کی رفتار ناقابلِ یقین حدتک تیز ہوگئی اور اس واقع کے بعد نازل ہونے والی سورة فتح میں اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کو فتح مبین سے تعبیر کیا ہے اس معاہدے کے بعد لوگ اسلام میں اس کثرت سے داخل ہونے لگے جیسے کسی حصار کا پھاٹک کھول دیا گیا ہو۔ یہ اس صلح کا بین فائدہ ہوا۔ بعض حضرات فتح مبین سے فتح مکہ مراد لیتے ہیں مگر یہ درست نہیں کیونکہ فتح مکہ تو اس واقعہ کے تقریبا ڈیڑھ سال بعد عمل میں آئی جب کہ سورة فتح صلح حدیبیہ کے معا بعد واپسی پر دوران سفر نازل ہوئی۔
بہرحال اللہ تعالیٰ نے صلح وجنگ کے جن قوانین کو سورة انفال اور سورة توبہ میں اجمالا بیان فرمایا ہے ، ان کی تفصیلات کتب احادیث میں موجود ہیں۔ تمام محدثین کرام نے اپنی اپنی جامعات میں سیر کے نام سے باب باندھے ہیں جن میں اس موضوع پر احادیث کو جمع کیا ہے۔ ان قوانین کی سب سے زیادہ تفصیل امام محمد (رح) کی السیر الصغیر اور السیر الکبیر میں بیان کی گئی ہے یہ تین جلدوں میں قوانینِ صلح وجنگ پر یہ بہترین کتاب ہے ۔
توکل بر خدا :
فرمایا اگر کفار ومشرکین صلح پر آمادہ ہوں تو آپ بھی صلح کے لیے تیار ہوجائیں اور اس کے ساتھ ساتھ (آیت) ” و توکل علیہ اللہ “ آپ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں۔ بعض اوقات صلح ، جنگ سے زیادہ مفید ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ مشن کو زیادہ کامیابی ہوتی ہے۔ اس کی بہترین مثال صلح حدیبیہ ہے جس کے متعلق محدثین ومحققین فرماتے ہیں کہ صلح کا یہ معاہدہ امت کے لیے بہترین نمونہ کی حیثیت رکھتا ہے معاہدات کے ذریعے اہل ایمان میں دین کا ذوق وشوق ، جذبہ ، تنظیم اور اجتماعیت پیدا ہوتی ہے ، قربانی کا مادہ جنم لیتا ہے جس کے نتیجے میں ایمان والوں کی فتح یقینی بنتی ہے۔ چناچہ سورة فتح میں صلح حدیبیہ اور اس میں حاصل ہونے والے فوائد کی تفصیلات بیان کردی گئیں۔ ا سی لیے فرمایا کہ جب مخالفین صلح پر آمادہ ہوں تو آپ بھی تیار ہوجائیں اور اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ کرتے ہوئے معاہدہ کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔
(آیت) ” انہ ھو السمیع العلیم “ بیشک اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے وہ مشرکین کے عزائم بد کو بھی جانتا ہے اور تمہارے خلوص سے بھی واقف ہے وہ ہر ایک کی طاقت اور کمزوری پر نگاہ رکھتا ہے لہٰذا ہر کام اسی کے بھروسے پر انجام دیں وہ اہل ایمان کو مایوس نہیں کریگا۔
مشرکین کی بدنیتی پر نصرت الہٰی :
فرمایا (آیت) ” وان یریدوا ان یخدعوک “ اگر مشرکین آپ سے دھوکہ دہی کا ارادہ کریں۔ ان کا مائل بہ صلح ہونا نیک نیتی کی بنیاد پر نہ ہو بلکہ مزید تیاری کے لیے وقت حاصل کرنا مقصود ہو اور اس طرح صلح کے ذریعے آپ کو دھوکہ دینا چاہیں تو فرمایا (آیت) ” فان حسبک اللہ “ بیشک اللہ تعالیٰ آپ کے لیے کفایت کرنے والا ہے آپ ان کی طرف سے چال بازی سے گھبرائیں نہیں بلکہ اللہ کے قانون کے مطابق مصلحت کے پیش نظر صلح کی پیش کش کو قبول کرلیں اور پھر اللہ پر مکمل بھروسہ رکھیں ، اللہ تعالیٰ آپ کو بےیارو مددگار نہیں چھوڑے گا۔ وہ خود ایسا انتظام فرما دے گا کہ مشرکین کا دھوکہ کامیاب نہیں ہو سکے گا۔
فرمایا (آیت) ” ھو الذی ایدک بنصرہ “ وہ وہی ذات ہے جس نے آپ کی تائید کی اپنی مدد کے ساتھ (آیت) ” وبالمومنین “ اور مومنوں کی ( مختصر سی) جماعت کے ساتھ۔ بدر کے میدان میں اللہ نے خوب مدد فرمائی آپ کے ساتھ تھوڑی سی جماعت تھی مگر اللہ نے اہل ایمان کو کامیاب بنایا اور مشرک مغلوب ہوگئے جس سے کفر کا زور ٹوٹ گیا۔ مسلمانوں کے دل میں اطمینان اور سکون پیدا ہوا۔ اللہ کی نصرت کا یقین کامل ہوگیا اور پھر مسلمان اللہ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے دین کا پیغام لے کر دنیا کے کونے کونے میں پہنچے ۔ اسی لیے فرمایا کہ جب آپ خلوص نیت سے اللہ کیک دین کے لیے نکلیں گے تو پھر اللہ تعالیٰ آپ کو بےیارومددگار نہیں چھوڑے گا بلکہ نصرت کے ساتھ اور مومنین کی جماعت کے ساتھ آپ کی تائید کریگا۔
متاخرین کے لیے لائحہ عمل :
مولانا اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ قوانین صلح کے سلسلے میں حضور ﷺ کے زمانہ مبارک اور بعد کے زمانہ میں فرق ہے نبی کو تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے خصوصہ تائید حاصل ہوتی ہے ، اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے عصمت کا گارنٹی ملتی ہے مگر آپ کے بعد عامۃ المسلمین کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ گردوپیش کا بغور جائزہ لینے کے بعد صلح کا معاہدہ کریں حضور ﷺ کے اپنے زمانے کی مثال ایک جنگ کے دروان ملتی ہے حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ قبیلہ جہینہ کے ساتھ جنگ کے دوران جب مسلمانوں نے ظہر کی نماز ادا کی تو مشرکین نے محسوس کیا کہ ایسی حالت میں ان پر یکبارگی حملہ کر کے ان پر غلبہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ چناچہ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا ، کہنے لگے (آیت) ” ستاتیھم صلوۃ احب الیھم من الاولاد “ آگے ایک ایسی نماز (عصر) آرہی ہے جو مسلمانوں کو اپنی اولاد سے بھی زیادہ محبوب ہے ، لہٰذا اس موقع پر حملہ کر کے ان کو ختم کردیا جائے گا۔ چونکہ اس وقت اللہ تعالیٰ اور اس کے بنی کے درمیان رابطہ بذریعہ وحی موجود تھا ، اس لیے اللہ کی طرف سے مشرکین کے اس منصوبے کی اطلاع پا کر حضور ﷺ نے نماز عصر کے لیے مجاہدین ی دوصفیں بنائیں۔ چونکہ دشمن اس وقت قبلہ رخ تھا اس لیے نماز میں کھڑے مشرکین سامنے نظر آرہے تھے۔ حضور ﷺ نے عصر کی نماز شروع کی۔ جب آپ رکوع گئے تو مجاہدین کی دونوں صفوں نے رکوع کیا ، البتہ جب سجدہ میں گئے تو اگلی صف والوں نے آپ کے ساتھ سجدہ کیا۔ جب کہ دوسری صف دشمن کے سامنے کھڑے رہے۔ پھر جب اگلی صف والے۔۔ سجدہ مکمل کر کے کھڑے ہوگئے تو پچھلی صف والوں نے الگ سجدہ مکمل کرلیا اور دوسری رکعت میں شامل ہوگئے۔ پھر دونوں صفوں کے مجاہدین نے صفیں بدل لیں۔ پہلی صف والے دوسری صف میں اور دوسری صف کھڑے رہے۔ پہلی رکعت کی طرح جب پہلی صف والے سجدے سے اٹھ کھڑے ہوئے تو دوسری صف والوں نے الگ سجدہ کرلیا۔ پھر دونوں جماعتوں نے بیک وقت تشہد پڑھا اور پھر حضور ﷺ کے ساتھ سب نے اکٹھا سلام پھیرا۔
یہ تو حضور ﷺ کے زمانہ کی بات تھی۔ اب متاخرین کے لیے دو چیزوں کا حکم ہے ایک تو یہ ہے کہ مسلمان اپنے گردوپیش کا بغور جائزہ لے کر صلح کے لیے ہاتھ بڑھائیں اور دوسری بات یہ کہ اجتماعی نظم وضبط کو قائم رکھیں مسلمان دشمن سے دھوکہ اسی وقت کھائیں گے جب ان کی اجتماعیت کمزور ہو جائیگی۔ دشمن بھی ایسے موقع کی تلاش میں رہتا ہے۔ جب مسلمانوں کے اندر غدر پیدا ہو کر ان کی جمیعۃ کو کمزور کردیتے ہیں تو پھر دشمن کو بھی حملہ آور ہونے کا موقع مل جاتا ہے لہٰذا متاخرین کے لیے ضروری ہے کہ وہ جماعت المسلمین میں اتفاق و اتحاد کی فضا کو قائم رکھیں مگر افسوس کا مقام ہے کہ آج مسلمانوں میں اسی چیز کا فقدان ہے حضور ﷺ کے زمانہ مبارک کے مسلمان تو صادق القول والفعل تھے اور بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے بھی ہر وقت تیار رہتے تھے مگر آج ملک غداروں سے پر ہے جو معمولی سے مفاد کے لیے ایمان جیسی دولت کو بھی قربان کرنے پر تیار ہوجاتے ہیں ، ملکی اور ملکی نقصان تو ان کے نزدیک بہت معمولی چیز ہے یہی وجہ ہے کہ کمی نہیں مگر اندر کی منافقت نے ان کو تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا ہے اسی لیے فرمایا کہ اب اگر دشمن کے ساتھ صلح کا معاہدہ مطلوب ہو تو گردوبیش کے حالات کا مطالعہ کرو ، نیز اپنی صفوں میں اتفاق و اتحاد پیدا کرو اور پھر کوئی فیصلہ کرو۔
الفت بین المسلمین :
فرمایا ، ایک تو اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی اپنی نصرت کے ساتھ تائید فرمائی اور دوسرا انعام یہ دیا۔ (آیت) ” والف بین قلوبھم “ ان کے دلوں میں الفت ڈال دی۔ اسلام لانے سے قبل اوس اور خزرج کے قبائل ایک سو بیس سال تک خاندانی جنگ لڑتے رہے مگر جب اسلام کی دولت سے مالامال ہوئے تو ان کی دشمنی دوستی میں بدل گئی اور یہ آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔ عرب کے بعض دوسرے قبائل مثلا قریش اور کنانہ کی دیرینہ دشمنی تھی اور وہ ایک دوسرے کے خلاف ہمیشہ برسرپیکار رہتے تھے مگر اسلام کی بدولت یہ بھی یک جان و قالب بن گئے۔ اسی چیز کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ ان کے دلوں میں الفت دی۔
فرمایا الفت بین المسلمین اتنی قمیتی متاع ہے کہ (آیت) ” لو انفقت ما فی الارض جمیعا “ اگر آپ روئے زمین کے تمام خزانے بھی خرچ کر ڈالتے (آیت) ” ما الفت بین قلوبھم “ تو ان کے دلوں میں محبت والفت جاگزیں نہ کرسکتے (آیت) ” ولکن اللہ الف بینھم “ بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص مہربانی سے ان کے درمیان جذبہ الفت کو بیدار کای۔ جب وہ لوگ توحید میں راسخ ہوئے ، رسالت پر ایمان لائے تو پھر نبی کی برکت سے ساری جماعت ایک مشت بن گئی ہر شخص دوسرے کے نفع نقصان کو اپنا نفع نقصان سمجھنے لگا ، ان کی عداوت محبت میں بدل گئی ، اللہ نے ان کے درمیان اتفاق و اتحاد کی فضا پیدا کردی۔ اسی بات کو اللہ نے سورة آل عمران میں اسی طرح بیان فرمایا ہے (آیت) ” وکنتم علی شفاحفرۃ من النار فانقذکم منھا “ تم تو جہنم کے گڑھے کے کنارے پر کھڑے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ایمان کی بدولت ت میں اس گڑھے سے بچا لیا۔
اساس اتحاد کلمہ توحید ہے :
آج بھی اللہ تعالیٰ کا قانون وہی ہے۔ اہل ایمان کا اجتماع کلمہ توحید پر ہی ہو سکتا ہے اگر اس بنیاد پر قائم رہیں گے تو اللہ تعالیٰ اتفاق و اتحاد پیدا کرے گا اور اگر یہی بنیاد کمزور ہوگئی تو پھر مسلمانوں کو بھی تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا ، لاہور میں جمعیت علماء اسلام کی کانفرنس ہوئی جس میں بنگال سے آنے والے ایک عالم نے قسم اٹھا کر کہا تھا کہ مغربی پاکستان کے رہنے والو ! (تمہارے اور ہمارے درمیان کلمہ توحید کے علاوہ کوئی چیز مشترک نہیں ۔ ہماری بودوباش ، زبان ، رہن سہن ، کھانا پینا اور پہننا بالکل مختلف ہے۔ ہماری زبان اور بودوباش ہندوئوں کے ساتھ ملتی ہے۔ اگر تم نے کلمہ جیسی قدر مشترک کو چھوڑ دیا تو پھر تمہارے اور ہمارے درمیان اتحاد کی کونسی بات رہ جائے گی ؟ اور آخر وہی ہوا ، جب کلمے کی اساس کمزور ہوئی۔ ذاتی مفاد غالب آگیا ، مغربی پاکستانیوں کے ہاتھوں تیس لاکھ مشرقی پاکستانی مارے گئے اور اسلام کے نام پر بننے والا ملک دولخت ہوگیا۔ دین کا نظریہ تو یہ ہے کہ (آیت) ” انما المومنون اخوۃ “ (الجرات) سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں خواہ کوئی مشرق میں رہتا ہے یا مغرب میں کالا ہے یا گورا ، کوئی زبان بولتا ہے ، کوئی لباس پہنتا ہے ، کوئی خوراک کھاتا ہے ، ہاں اگر کلمہ پڑھتا ہے تو بھائی ہے اللہ نے فرمایا کہ جب تم میں کلمہ توحید بطور قدر مشترک ہوگیا تو تمہارے درمیان الفت ڈال دی (آیت) ” انہ عزیز حکیم “ اللہ تعالیٰ کمال قدرت کا مالک ہے اور حکمت والا ہے ، اس کا ہر کام اس کی کمال قدرت کا نمونہ اور اس کی حکمت کا شاہکار ہوتا ہے۔
کفایت الہٰی :
فرمایا (آیت) ” یایھا النبی حسبک اللہ “ اے نبی ! آپ کے لیے اللہ ہی کافی ہے (آیت) ” ومن اتبعک من المومنین “ اور ان لوگوں کے لیے بھی کافی ہے جو مومنوں میں سے آپ کے متبع ہوئے۔ اگر آپ خدا کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے کافروں کے ساتھ صلح کریں گے تو ان کی بری نیت اور ارادے کے باوجود اللہ ان کو ناکام بنائے گا اور اہل ایمان کے لیے اللہ کفایت کرے گا۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اے بنی ! حقیقت میں آپ کے لیے اللہ ہی کافی ہے اور ظاہری طور پر مسلمانوں کی یہ مختصر جماعت بھی آپ کے لیے کافی ہے جو جہاد کے لیے ہمیشہ مستعد رہتی ہے اگرچہ بعض مواقع مثلا احد ، خندق ، تبوک وغیرہ میں قدرے کمزوری بھی ظاہر ہوئی اور نقصان اٹھانا پڑا۔ مگر ی حدیبیہ ، فتح مکہ اور خیبر وغیرہ میں نمایاں کامیابی بھی ہوئی تو فرمایا آپ قانونِ الہٰی کے مطابق صلح کے لیے پیش رفت کریں اللہ تعالیٰ آپ کی کفایت کرے گا۔
Ayahs 8:65–66ربطِ آیات :
صلح اور جنگ کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ان باتوں کا ذکر کیا جن التزام دوران جنگ ضروری ہے پھر طاقت فراہم کرنے کا اصول بیان فرمایا نیز فرمایا دشمن کے مقابلے میں رائج الوقت ہر قسم کا اسلحہ جمع کرو ، افرادی قوت پیدا کرو تا کہ دشمن کو مغلوب کیا جاسکے اس کے ساتھ ساتھ اللہ نے صلح کا قانون بھی بتلا دیا کہ اگر دشمن صلح پر آمادہ ہو تو آپ بھی اس میں ہچکچاہٹ محسوس نہ کریں آپ اس بات کی فکر نہ کریں کہ دشمن صلح کی آڑ میں آپ کو زک پہنچائیگا ، بلکہ اللہ کی ذات پر بھروسہ کر کے اس کام کو انجام دیں ، اللہ تعالیٰ دشمنوں سے بچائو کا سامانِ پیدا کردیگا۔ جب آپ صحیح اصول کے مطابق کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ کفایت کریگا۔ اس سے پہلے جنگ بدر میں بھی اللہ نے اپنی خاص تائید کے ساتھ مدد فرمائی ہے اور وہ آئندہ بھی ایسا ہی کرے گا۔ فرمایا یہی مومن ہیں جو پہلے ایک دوسرے کے بدتریں دشمن تھے ، اللہ نے ان کے درمیان ایمان کی بدولت الفت ڈال دی اور ان کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا۔ اس مقصد کے لیے اگر آپ روئے زمین کے خزانے بھی صرف کردیتے تو ان کے درمیان محبت پیدا نہ کرسکتے۔ یہ تو محض اللہ تعالیٰ کا فضل ، اس کی مہربانی اور دین کی صداقت کی برکت ہے کہ جانی دشمن ایک دوسرے کے محافظ بن گئے ہیں۔
جہاد کی ترغیب :
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کے متعلق ترغیب کا اصول بیان فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” یایھا النبی حرض المومنینی علی القتال “ اے بنی ﷺ آپ برانگیختہ کریں ، شوق دلائیں۔ ترغیب دلائیں ایمان والوں کو دشمن کے ساتھ جنگ کرنے کی جہاد پر ابھارنے کے لیے مختلف طریقے اختیار کرنے پڑتے ہیں۔ مثلا جہاد کا اجر وثواب بیان کیا جائے ، اس سے حاصل ہونے والے فوائد کا ذکر ہو۔ لوگوں کی انفرادی اور اجتماعی عزت ووقار کی طرف توجہ دلائی جائے۔ غرضیکہ تمام دینی اور دنیاوی فوائد کے پیش نظر اہل ایمان کو جہاد کے لیے تیار کیا جائے۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں خلیفۃ المسلمین کے جو پانچ محکمے ضروری ہیں ، ان میں امیر لشکر کا محکمہ بھی ہے لشکر کا سربراہ بڑا مضبوط ، باہمت اور جرات والا آدمی ہونا چاہیے۔ اس میں ایسی صلاحیت پائی جائے کہ وہ مجاہدین کو تدبیر جنگ پر متفق کر سکیک۔ بزدل اور کمینہ نہ ہو اور نہ ہی فاسق وفاجر ہو۔ وہ اردگرد کی اقوام کی ذہنیت سے واقف ہوتا کہ اس کے مطابق جنگی حکمت عملی تیا ر کرسکے ، جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال جانتا ہو۔ یہ سب باتیں مسلمانوں کو جہاد کی ترغیب دینے کے ضمن میں آتی ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سے فرمایا ہے کہ مومنین کو جہاد کی ترغیب دلانے کا انتظام کریں ۔
مومن اور کافر کی عدوی نسبت :
اسلام کے ابتدائی دور میں مومن اور کافر کی عدوی نسبت کے متعلق اللہ نے فرمایا (آیت) ” ان یکن منکم عشرون صبرون “ اگر تم میں بیس آدمی صبر والے یعنی ثابت قدم ہوں گے (آیت) ” یغلبوا مائتین “ تو وہ دو سو آدمیوں پر غالب آئیں گے (آیت) ” وان یکن منکم مائۃ اور اگر تم میں ایک سو آدمی ہوں گے (آیت) ” یغلبوا الفا من الذین کفروا “ تو وہ کفار میں سے ایک ہزار آدمی پر غالب آئیں گے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے مومن اور کافر کے درمیان ایک اور دس کی نسبت بیان فرمائی کہ ثابت قدمی اختیار کرنے والا ایک مومن دس کافروں پر بھاری ہوگا۔ اس طرح اہل ایمان کو ترغیب اور تسلی دی گئی ہے کہ دشمن کی کثرت تعداد سے نہ گبھرائیں ۔ اللہ تعالیٰ تمہیں دس گنا زیادہ کفار پر بھی فتح عطا فرمائے گا۔ مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ اسلام کے ابتدائی دور میں اہل ایمان پر بڑا بوجھ تھا اور انہیںٰ اپنے سے دس گنا بڑے لشکر کے ساتھ بھی ٹکرا جانے کا حکم تھا۔ یہ سابقین الاولین لوگ تھے جن کی اللہ نے تعریف بیان فرمائی ہے چناچہ ابتدائی دور میں ایسا ہی ہوا ، مسلمانوں نے نہ صرف دس گنا بڑی فوج کے ساتھ مقابلہ کیا بلکہ اس سے زیادہ تعداد کے سامنے بھی ڈٹ گئے اور اللہ کی نصرت سے کامیابی حاصل کی ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک موقع پر حضور ﷺ نے صحابہ ؓ کو مردم شماری کرنے کا حکم دیا تعمیل حکم کی گئی تو پتہ چلا کہ جنگ کے قابل مردوں کی تعداد چھ اور سات سو کے درمیان ہے جب کہ عورتوں اور بچوں کو ملا کر مسلمانوں کی کل تعداد پندرہ یا سولہ سو تھی۔ مسلمان اس زمانے میں بڑے خوش ہوئے کہ قابل جنگ مسلمانوں کی تعداد اچھی خاصی ہوگئی لہٰذا انہیں اب کوئی گھبراہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ یہاں سے مردم شماری کا قانون بھی ملتا ہے کہ اسلام میں یہ بھی جائز بلکہ مستحسن ہے۔ بہرحال ذکر کرنے کے مقصد یہ ہے کہ ابتدائی زمانے میں اہل ایمان اپنی قلیل تعداد کو بھی بہت کچھ سمجھتے تھے یہی وجہ تھی کہ وہ پہاڑ جتنے مضبوط دشمن کے ساتھ بھی ٹکرا جاتے تھے۔
نظریات کا اختلاف :
کفار کی بزدلی اور اہل ایمان کی جرات کی وجہ اللہ نے یہ بیان فرمائی (آیت) ” بانھم قوم لا یفقھون “ کہ کافر لوگ سمجھ نہیں رکھتے اللہ نے ان کی انفرادی قوت ، اسلحہ یا جنگجو یا نہ پایسی کی تردید نہیں فرمائی بلکہ ان کے نظریات کی کمزوری کا ذکر کیا ہے مسلمان ایک واضح نظریہ رکھتے ہیں ان کے پاس ایمان کی دولت ہے ، انہیں بصیرت حاصل ہے ، اس لیے وہ جانتے ہیں کہ اگر انہیں کفار کے مقابلے میں شکست بھی ہوگئی تو کوئی بات نہیں کیونکہ اللہ کے ہاں تو انہیں لازما کامیابی حاصل ہوگی۔ اس کے برخلاف کفار کے پاس کوئی نظریہ نہیں ، وہ جو کچھ کرتے ہیں اندھا دھند کرتے جاتے ہیں ان کے پاس کوئی اعلی وارفع مقصد نہیں ہوتا دوسری جنگ عظیم کے دوران ایک جاپانی نے جہاز کی چمنی میں کود کر اتحادیوں کا جہاز تباہ کردیا تھا۔ یہ بہت بڑی قربانی ہے مگر نگاہ دور رس نہیں یہ تو ایک جنگی حربہ ہے جو استعمال ہوگیا۔ مگر اس کا دائمی اثر کیا ہوا ؟ ادھر صاحب بصیرت ایمان والوں کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص کجھوریں کھاتا ہوا حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عرض کیا ، حضور ! اگر میں جہاد میں شریک ہو کر مارا جائوں تو کیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا ، تم ہمیشہ کے لیے کامیاب ہو جائو گے اس شخص نے اس وقت کھجوریں کھانا چھوڑ دیا تلوار کی میان توڑ دی اور جہاد میں شریک ہونے کے لیے چل پڑا۔ کہنے لگا۔ اتنی عمر گھوم پھر کر فضول گنوا دی۔ یہ بصیرت کی بات تھی جو اس کے ذہن میں آگئی اور یکدم اس کی کایا پلٹ گئی مقصد یہ کہ کافر کی طاقت اندھا دھند استعمال ہوتی ہے وہ تو قیامت اور مابعد کی زندگی پر یقین ہی نہیں رکھتے اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا تصور رکھتے ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ یہ لوگ سمجھ نہیں رکھتے۔
اہل ایمان کا یقین :
معرکہ مصر کے دوران ایک قلعہ کا محاصرہ جاری تھا مگر وہ قلعہ سر ہونے میں نہ آتا تھا۔ حضرت زبیر بن عوام ؓ کہنے لگے میں اپنی قربانی پیش کرتا ہوں ساتھیوں سے کہا کہ مجھے ٹوکرے میں ڈال کر کسی طرح قلعے کے اندر اتار دو اور تم باہر دروازہ کھلنے کے انتظار میں رہو۔ چناچہ ایسا ہی کیا گیا۔ آپ کو ٹوکرے میں ڈال کر کسی طرح قلعے اندر پھینک دیا گیا۔ آپ نے اندر جاتے ہی تلوار چلانا شروع کردی۔ ابھی اندھیرا تھا ، کافر سمجھے کہ مسلمانوں کی فوج قلعے میں داخل ہوگئی ہے ۔ لہٰذا ان میں افراتفری پھیل گئی حضرت زبیر ؓ لڑتے لڑاتے قلعے کے دروازے تک پہنچ گئے اور پھر نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے دروازہ کھول دیا لشکر اسلام باہر منتظر کھڑا تھا فورا اندر داخل ہوگیا اور اس طرح یہ قلعہ فتح ہوگیا حضرت زبیربن عوام ؓ کا یہ اقدام پوری بصیرت کے ساتھ تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ اس معرکہ میں اگر ان کی جان بھی چلی جائیگی تو یہ بھی کامیابی ہے اور آخرت میں تو بہرحال کامیابی حاصل ہوگی۔ یرموک کے محاذ پر بھی کفار لاکھوں کی تعداد میں تھے جب کہ مسلمان چند ہزار تھے مگر وہاں ایمان کی بصریت کی وجہ سے کامیابی حاصل ہوئی اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ کے وعدوں اور آخرت پر یقین ہے لہٰذا وہ دشمن کے مقابلے کے لیے بےخوف وخطر کود پڑتے ہیں۔ اور جان کی بازی لگا کر کامیابی حاصل کرلیتے ہیں ۔
حکم میں تخفیف :
اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمانوں کی قلت تعداد کے پیش نظر اللہ نے اپنے سے دس گنا طاقتور دشمن کے ساتھ ٹکرا جانے کا حکم دیا تھا پھر جب اسلام کو ترقی حاصل ہوگئی۔ اہل ایمان کی تعداد میں اضافہ ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے اس حکم میں تخفیف کردی۔ فرمایا (آیت) ” الئٰن خفف اللہ عنکم “ اب اللہ نے تم سے تخفیف کردی ہے (آیت) ” وعلم ان فیکم ضعفا “ وہ جانتا ہے کہ تمہارے اندر کمزوری ہے ، قدرے سستی اور ضعف ہے۔ لہٰذا دشمن سے ٹکر لینے کا اب قانون یہ ہے (آیت) ” فان یکن منکم مائۃ صابرۃ یغلبوا مائتین “ اگر تم میں ایک سو آدمی ثابت قدم ہوں گے تو وہ دو سو آدمیوں پر غالب آئیں گے (آیت) ” وان یکن منکم الف یغلبوا الفین باذن اللہ “ اور اگر اہل ایمان ایک ہزار کی تعداد میں ہوں تے تو وہ دو ہزار پر غالب آئیں گے ، اللہ کے حکم سے۔ اللہ تعالیٰ ان کا حامی وناصر ہوگا کہ وہ اپنے سے دوگنی تعداد پر بھی کامیابی حاصل کریں گے۔ مقصد یہ ہے کہ پہلے اپنے سے دس گناہ طاقت کے ساتھ مقابلے کا حکم تھا۔ اب تخفیف کر کے دو گناہ کردیا گیا کہ اتنی عدوی نسبت کی صورت میں تمہیں لازما مقابلہ کرنا ہوگا۔ ورنہ قابل مواخذہ ٹھہرو گے۔
صابرین کا درجہ :
اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی حوصلہ افزائی بھی فرمائی (آیت) ” واللہ مع الصابرین “ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے جب تم ثابت قدمی کرتے ہوئے اور صبر کا دامن تھامے ہوئے اپنے سے دگنی طاقت کے خلاف بھی ڈٹ جائو گے تو یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہوگا ، جس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری کامیابی یقینی ہے صبر ملت ابراہیمی اور ہمارے دین کا بہت بڑا اصول ہے جس طرح توحید ، ذکر ، شکر ، نماز ، تعظیم شعائر اللہ بڑے بڑے اصول ہیں ، اسی طرح صبر بھی ان میں سے ایک ہے اور یہ بہت بڑی حقیقت ہے قرآن پاک میں جگہ جگہ صبر کی تلقین کی گئی ہے جنہوں نے مصائب پر مصائب برداشت کر کے اعلائے کلمۃ الحق کا فریضہ انجام دیا ، ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرسے یہ خوشخبری ہے (آیت) ” انما یوفی الصبرون اجرھم بغیر حساب “ (الزمر) کہ وہ صبر کرنے والوں کو بےحساب اجر عطا فرمائے گا۔
Ayahs 8:67–69ربطِ آیات :
گذشتہ آیات میں جہاد کی ترغیب کا ذکر تھا اسلام کے ابتدائی زمانہ میں اہل ایمان کی تعداد بالکل قلیل تھی اور دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اس وقت اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو اپنے سے دس گنا طاقتور دشمن کے ساتھ مقابلہ کرنے کا حکم دیا۔ پھر جب مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ، تو اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم میں تخفیف کردی اور فرمایا کہ تم اپنے سے دگنے دشمن کی ساتھ بھی ٹکرا جائو اور ان کے مقابلہ سے بھاگنے کی اجازت نہیں ہاں اگر دشمن اس سے زیادہ تعداد مثلا تین چار گنا زیادہ ہو تو پھر مقابلے سے اعراض کرنے پر کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔ اللہ نے دشمن سے مقابلے کے لیے یہ نسبت مقرر فرما دی۔
غزوہ بدر کے مسائل :
(1) غنیمت :
غزوہ بدر اسلام میں پہلا بڑا جنگی معرکہ تھا۔ اس کے نیتجے میں مسلمانوں کے سامنے بعض مسائل پہلی دفعہ آئے جن کا حل اللہ تعالیٰ کی طرف سے مطلوب تھا۔ ان میں دو بڑے مسائل تھے ، ایک مال غنیمت کا مسئلہ اور دوسرا جنگی قیدیوں کا مسئلہ تھا۔ غنیمت کا مسئلہ جنگ کے فورا بعد پیا ہوا جس کا اجمالی ذکر سورة ہذا کی ابتدائی آیت میں ہوچکا ہے مجاہدین کے مختلف گروہوں نے مال غنیمت پر اپنا حق جتلایا ۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس کا بنیادی قانون نازل فرمایا ا اور پھر آگے چل کر اس کی تقسیم کا اصول بھی تفصیل کے ساتھ بیان فرمادیا۔ یہ بات پہلے دروس میں بھی ذکر کی جا چکی ہے کہ سابقہ امتوں کے لیے مال غنیمت حلال نہیں تھا۔ قرآن پاک میں موسیٰ (علیہ السلام) اور دائود (علیہ السلام) وغیرہ کے جہاد کا ذکر موجود ہے مگر جب جنگ کے نتیجے میں ان کے پاس مال غنیمت جمع ہوتا تھا تو اسے ایک خاص مقام پر رکھ دیا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آگ نازل ہوتی تھی جو اس مال کو جلا کر راکھ دیتی ہے اگر اللہ کے راستے میں کیا گیا جہاد بارگاہ رب العزت میں مقبول ہوتا تھا تو مال غنیمت جل جاتا تھا اور اگر اس مال کو آگ نہ جلاتی تو سمجھ لیا جاتا ہے کہ جہاد میں کوئی خرابی رہ گئی ہے ، لہٰذا اس کی اسلاح کی جاتی۔ حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے کہ مجھ سے پہلے کسی امت کے لیے مال غنیمت حلال نہیں تھا ، پھر اللہ نے ہماری کمزوری کے پیش نظر اس کو ہمارے لیے مباح قرار دے دیا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ اللہ نے آپ کے لیے اور آپ کی امت کے لیے مال غنیمت کو حلال قراردیا ہے بہرحال غزوہ بدر میں یہ پہلا مسئلہ پیش آیا تھا ، جس کا اللہ نے حل نازل فرمایا جو گذشتہ دورس میں بیان ہوچکا ہے۔
(2) جنگی قیدی :
اس جنگ کے سلسلے میں جو دوسرا مسئلہ پیش آتا وہ جنگی قیدیوں کا تھا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ جنگ بدر میں کفار کے ستر سرکردہ آدمی مارے گئے اور تقریبا اتنے ہی قیدی بنا لیے گئے۔ جب یہ مسئلہ پیدا ہوا تو اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو آزمانا چاہا۔ چناچہ جبرائیل (علیہ السلام) نے حضور کی خدمت میں آکر کہا کہ اس معاملہ میں آپ اپنے ساتھیوں کو اختیار دے دیں کہ وہ چاہیں تو ان قیدیوں کو قتل کردیں یا ان سے فدیہ لے کر آزاد کردیں جبرائیل (علیہ السلام) نے واضح کردیا تھا کہ اگر مسلمان فدیہ لینا پسند کریں تو اس کے ساتھ شرط یہ ہوگئی کہ آئندہ معرکہ میں اتنی ہی تعداد میں مسلمان بنی شہید ہوں گے۔ غرضیکہ حضور ﷺ نے صحابہ کرام کو دو مٰن سے کوئی ایک صورت اختیار کر نیکی دعوت دیدی حضرت ابو بکرصدیق ؓ اور صحابہ ؓ کی غالب اکثریت نے یہ رائے ظاہر کی کہ قیدیوں میں سے اکثر ہمارے رشتہ دار ہینی امید ہے کہ یہ لوگ ضرور ایمان لے آئیں گے لہٰذا ان کو قتل کرنے کے بجائے ان سے فدیہ وصول کر کے چھوڑ دیا جائے۔ اس طرح مسلمانوں کی مالی حالت بھی بہتر ہوجائے گی۔ تا ہم حضرت عمر رض ، عبداللہ بن رواحہ رض ، سعد بن معاذ رضی ، اور بعض دیگر صحابہ کا موقف یہ تھا کہ ان لوگوں نے ہم پر برے ظلم کیے ہیں۔ اب اللہ نے ان پر ہمیں تسلط عطا کیا ہے تو ان ختم کردینا ہی بہتر ہے تا کہ ان کا ذور ٹوٹ جائے اور مسلمانوں کا رعب و دبدبہ اطراف عرب میں پھیل جائے۔ ان حضرات نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ کسی موزون وادی میں بہت سی لکڑیاں اکٹھی کر کے ان قیدیوں کو زندہ جلا دیا جائے۔ بہرحال صحابہ ؓ کی غالب اکثریت فدیہ کے حق میں تھی اور خود حضور ﷺ کا جھکائو بھی اسی طرف تھا۔
عتاب اور درگزر :
بالآخر کثرت رائے کی بنیاد پر بھی فیصلہ فدیہ لینے کے حق میں ہوگیا۔ چونکہ یہ فیصلہ منشائے ایزدی سے مطابقت نہیں رکھتا تھا۔ اس لیے ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے عتاب نازل ہوا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ما کان لنبی ان یکون لہ اسری “ نبی کے لیے یہ مناسب نہیں ہے کہ اس کے قیدی ہوں (آیت) ” حتی یثخن فی الارض “ یہاں تک کہ وہ زمین میں خونریزی کرے۔ اثخان کا معنی قوت کے ساتھ خونریزی کرنا ہوتا ہے اور مطلب یہی ہے کہ کفار کو قیدی بنانے کی بجائے ان کو قتل کردینا بہتر تھا۔ ان آیات کے نزول پر خود حضور ﷺ ، حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور دوسرے صحابہ بھی پریشان ہوئے کہ انہوں نے غیر بہتر صورت اختیار کی ہے تا ہم ایسا ہونا چونکہ اللہ کی حکمت میں پہلے لکھا جا چکا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس لغزش سے درگزر فرمایا۔
محدثین اور فقہاء کرام بیان کرتے ہیں کہ یہ عتاب حضور ﷺ اور صحابہ کرام کی طرف غیر بہتر صورت کی جاتی تو مذکورہ عتاب نہ آتا اس قسم کے واقعات میں حضور ﷺ کا واقعہ معراج بھی ہے جب آپ کے سامنے دودھ اور شراب کے دو پیالے پیش کیے گئے اور کوئی ایک پیالہ نوش کرنے کا اختیار دیا گیا۔ اس موقع پر حضور ﷺ نے بہتر صورت اختیار کرتے ہوئے دودھ کا پیالہ پسند فرمایا۔ ادھر اللہ کی طرف سے حکم ہوا کہ اگر آپ شراب کا پیالہ پسند فرماتے تو آپ کی امت گمراہ ہوتی۔ اسی طرح قرآن پاک میں امہات المومنین ؓ کے متعلق بھی ذکر موجود ہے کہ اللہ کے حکم سے حضور ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات کو اختیار دے دیا کہ وہ چاہیں تو آپ کے نکاح میں رہیں اور اگر چاہیں تو علیحدگی اختیار کر لین اس موقت پر بھی امہات المومنین ؓ نے حضور ﷺ سے علیحدگی پسند نہیں کی کیونکہ یہ غیر بہتر بات تھی۔ انہوں نے اللہ کی منشاء کے مطابق حضور ﷺ کے نکاح میں رہنا قبول کیا اور یہی بہتر بات تھی۔
غزوہ بدر کے واقعہ میں قیدیوں کے متعلق اگر بہتر صورت اختیار کرلی جاتی تو اچھا تھا ان کو قتل کردینا ہی بہتر تھا تا کہ کفار کا زور ٹوٹ جاتا اور مسلمانوں کی دھاک بیٹھ جاتی مگر بعض مسلمانوں نے مال کے حصول کی خاطر فدیہ لینے کو قبول کیا اور اس وجہ سے اللہ کا عتاب آیا۔ تا ہم بعد میں اللہ تعالیٰ نے اس غیر اولیٰ چیز کو اختیار کرنے کی معافی دے دی۔ البتہ فدیہ لینے کا نتیجہ یہ ضرور نکلا کہ غزوہ احد میں مسلمانوں کے ستر جلیل القدر صحابہ ؓ نے جام شہادت نوش فرمایا ، جن میں حضرت حمزہ ؓ اور عمیررض بھی شامل تھے اگر اس بات کا اشارہ پہلے کیا جا چکا تھا مگر صحابہ کرام ؓ نے اس میں بھی بہتری ہی سمجھی کہ شہداء کے درجات آخرت میں بہت بلند ہوجائیں گے لہٰذا یہ بھی نفع کا سودا ہی ہے بہرحال اللہ تعالیٰ کے نزدیک قیدیوں کا قتل کیا جانا ہی اولیٰ تھا۔
دنیا یا آخرت :
اللہ نے فدیہ کی ناپسندیدگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” تریدون عرض الدینا “ اے اہل ایمان ! تم دنیا کا سامان چاہتے ہو کیونکہ تم نے فدیہ کو قبول کیا ہے (آیت) ” واللہ یرید الاخرۃ “ جب کہ اللہ تعالیٰ آخرت کو پسند کرتا ہے تا کہ اس میں تمہارے درجات بلند ہوں اور تمہیں بہتری حاصل ہو۔ (آیت) ” واللہ عزیز حکیم “ اللہ تعالیٰ کمال قدرت کا مالک اور حکمت سے خالی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے عتاب کے ذکر کرتے ہوئے حضور ﷺ نے ایک درخت کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ خدا کا عتاب یہاں تک آگیا تھا اگر یہ عذاب نازل ہوجاتا تو حضرت عمر ؓ حضرت عبد اللہ بن رواحہ رض ، حضرت سعد بن معاذرض اور چند دیگر صحابہ کے علاوہ اس سے کوئی نہ بچتا اللہ تعالیٰ نے یہاں تک کردیا تھا مگر پھر درگزر فرما کر اس عذاب کو ہٹا دیا۔ فرمایا (آیت) ” لولا کتٰب من اللہ سبق لمسکم فیما اخذتم عذاب عظیم “ اگر نہ ہوتی اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک بات لکھی ہوئی جو پہلے ہوچکی ہے تو ضرور پہنچتا تم کو اس چیز میں جو تم نے لیا ہے عذاب۔ یعنی اگر خدا کے علم اور نوشتے میں یہ بات نہ ہوتی تو قیدیوں کو قتل کرنا ہی بہتر تھا مگر مسلمانوں نے اپنی غیر بہتر بات کو اختیار کیا جو اللہ کے علم میں لکھی ہوئی تھی کہ رہائی پانے والے قیدیوں کی اکثریت بعد میں اسلام لے آئے گی اس کا اشارہ اگلی آیت میں بھی موجود ہے اور دوسری لکھی ہوئی بات یہ تھی کہ فدیہ لینے کی اجازت بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں طے شدہ بات تھی کہ وہ بھی اس آخری امت کو حاصل ہوگی۔ سورة قتال میں بھی موجود ہے (آیت) ” فاما منا بعد واما فداء “ کہ قیدیوں کو یا ان پر احسان کرتے ہوئے چھوڑ دیں یا فدیہ قبول کرلیں۔ اسی طرح قیدیوں کا تبادلہ بھی ہو سکتا ہے اور ان کو غلام بھی بنایا جاسکتا ہے اسلام میں یہ چاروں صورتیں روا ہیں۔ بہر حال اللہ نے فرمایا کہ جنگی قیدیوں کے فدیہ کے عوض رہا کردینے میں بھی اللہ کے ہاں یہ لکھی ہوئی مصلحت موجود تھی ، لہٰذا اللہ نے غیر بہتر صورت اختیار کرنے پر درگزر فرمایا۔ اگر اللہ کی مصلحت میں ایسا نہ ہوتا تو اس کی طرف سے سخت گرفت آجاتی۔
غنیمت پاکیزہ ترین مال ہے :
الغرض ! اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت کو حلال قرار دیکر فرمایا (آیت) ” فکلوا مما غنمتم حلٰلا طیبا “ پس کھائو اس میں سے جو تمہیں غنیمت دیا گیا یہ تمہارے لیے حلال اور پاکیزہ ہے یہ پہلی امتوں کے لیے حرام تھا۔ مگر تمہارے لیے پاک ہے بلکہ تمام مالوں میں سب سے پاک مال یہی ہے طبرانی شریف کی روایت میں آتا ہے حضور ﷺ نے فرمایا ” جعلت رزقی تحت ظل رمحی “ اللہ نے میری روزی نیزے کے نیچے رکھی ہے۔ محدثین کرام پاکیز ہ روزی کے متعلق بحث کرتے ہیں کہ پہلے نمبر پر پاکیزہ ترین روزی مال غنیمت ہے اس کے بعد دوسرا نمبر تجارت کے مال کا ہے ایسی تجارت جو صحیح طریقے سے کی جائے۔ پھر تیسرا نمبر کاشتکاری کا ہے کہ اس میں اللہ کی ذات پر توکل کیا جاتا ہے اس کے بعد عام کسب حلال چوتھے نمبر پر آتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے مال غنیمت کے پانچ حصے کرو۔ ان میں سے چار حصے جہاد میں حصہ لینے والے غازیوں میں تقسیم کر دو اور پانچویں حصہ میں نبی ( اگر موجود ہے) اس کے قرابتدار ( نبی کی موجودگی میں ) یتیم ، مسکین اور مسافر شامل ہیں اگر نبی موجود نہیں تو پھر صرف تین مدات رہ اجائیگی ۔ یعنی یتیم ، مسکین اور مسافر۔
فرمایا (آیت) ” واتقو اللہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ یہ بات ہمیشہ پیش نظر رہے کہ کوئی کام اس کی منشاء کے خلاف نہ ہوجائے۔ اس موقع پر مطلب یہ ہے کہ مال غنیمت کی تقسیم میں اللہ تعالیٰ کے عائد کردہ قانون کی پوری پوری پاسداری کرو اور کسی کے حق میں کمی بیشی نہ کرو ، ورنہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے والی بات ہے ایسے موقع پر اگر غیر اولیٰ بات اختیار کرلی گئی تو اللہ تعالیٰ کا عتاب آئیگا۔ اسی لیے فرمایا کہ ہر وقت خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہو کہ اس کی نافرمانی نہ ہوجائے اور اگر تم اللہ سے ڈرتے رہو گے تو یاد رکھو (آیت) ” ان اللہ غفور رحیم “ وہ بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے خوفِ خدا ہوگا تو وہ چھوٹی موٹی غلطیوں کو معاف کرتا رہے گا غفور مبالغہ کا صیغہ ہے اور اس کا معنی بہت زیادہ معاف کرنے والا ہے اور رحیم یعنی بہت زیادہ مہربان ہے ۔ وہ دیکھتا ہے کہ کسی دل میں اطاعت کا جذبہ موجود ہے یا نہیں اور یہ بھی کہ کوئی شخص دغابازی تو نہیں کر رہا جو شخص نیت اور عمل میں اخلاص رکھتا ہے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ نہایت بخشش کرنے والا اور از حد مہربان ہے۔
Ayahs 8:70–73جنگی قیدیوں کا مسئلہ :
مالِ غنیمت اور غزوہ بدر کے جنگی قیدیوں کا حال گذشتہ درس میں بھی بیان ہوچکا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ہر قیدی کا فدیہ چار سو دینار مقرر ہوا۔ قیدیوں کے رشتہ داروں نے انہیں چھڑانے کی کوشش کی جس قیدی کا فدیہ وصول ہوجاتا اسے چھوڑ دیا جاتا بعض قیدیوں کے رشتہ دار فدیہ دینے کی پوزیشن میں نہیں تھے ان میں سے جو پڑھے لکھے تھے ان کو کہا گیا کہ وہ اتنے اتنے آدمیوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دیں تو یہی ان کا فدیہ ہوگا۔ چناچہ بعض قیدی اس شرط پر بھی رہا کیے گے تا ہم قیدیوں کی اکثریت نے فدیہ ادا کر کے رہائی حاصل کی۔ حضور ﷺ کے چچا عباس ؓ بھی جنگی قیدیوں میں شامل تھے۔ اگرچہ وہ دل سے مسلمانوں کے خلاف جنگ میں شریک نہیں ہونا چاہتے تھے مگر ابوجہل کے مجبور کرنے پر کفار کے لشکر میں شریک ہو کر قیدی بنے۔ قیدیوں میں حضرت علی ؓ کے بھائی عقیل ؓ اور حضرت عباس ؓ کے دوسرے بھتیجے حارث ؓ ابن نوفل بھی شامل تھے۔
حضرت عباس ؓ مالدار آدمی تھے۔ حضور ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اپنے علاوہ دونوں بھتیجوں کا فدیہ بھی تم ہی ادا کرو۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو فدیہ کے لیے کوئی مال نہیں لہٰذا میں مجبور ہوں۔ اس دوران میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو بذریعہ وحی اطلا (علیہ السلام) دی کہ مکہ سے چلتے وقت حضرت عباس ؓ نے اپنی بیوی ام فضل ؓ کو کچھ مال دیا تھا جو زمین میں دبا دیا گیا۔ آپ کی وصیت یہ تھی کہ ہو سکتا ہے کوئی حادثہ پیش آجائے تو اس صورت میں یہ مال میرے بچوں کے کام آئیگا۔ اس واقعہ کا علم حضرت عباس ؓ اور ان کی بیوی کے سوا کی کو نہ تھا۔ جب حضور ﷺ نے اس مال کا راز حضرت عباس ؓ پر منکشف کردیا تو آپ نے اسی وقت کھلے دل سے مسلمان ہونے کا اقرار کرلیا۔ کہنے لگے ، آپ واقعہ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ اس راز کو میرے اور میری بیوی کے سوا کوئی تیسرا شخص نہیں جانتا تھا ، مگر آپ نے اس کی پوری پوری خبر دیدی۔
بہتر اجر کا وعدہ :
بہرحال حضرت عباس ؓ اور بعض دوسرے قیدیوں نے ایک تو مالی مجبوری ظاہر کی اور دوسرا اپنے مسلمان ہونے کا اقرار بھی کیا۔ اس کے ساتھ یہ بھی التماس کیا کہ ان سے فدیہ نہ لیا جائے ، اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا (آیت) ” یایھا النبی قل لمن فی ایدیکم من الاسری “ اے نبی (علیہ السلام) جو قیدی آپ کے ہاتھوں میں اس وقت موجود ہیں ، ان سے کہ دیں (آیت) ” ون یعلم اللہ فی قلوبکم خیرا “ اگر اللہ کے علم میں تمہارے دلوں کی بہتری ہوگی (آیت) ” یوتکم خیرا مما اخذ منکم “ تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے بہتر عطا کرے گا جو تم سے فدیہ لیا گیا ہے گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ جنگی قیدیوں کے متعلق دورائیں تھیں کہ یا تو انہیں قتل کردیا جائے اور یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے۔ پھر دوسرے رائے کو تسلیم کیا گیا اور قیدیوں کی ناگواری کے باوجود کی وصولی اللہ کی حکمت میں لکھی جا چکی تھی لہٰذا اس پر عملدرآمد ہوگیا۔ اب اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو کہ تم واقعہ مسلمان ہوچکے ہو تو پھر کوئی فکر نہ کرو ، اگر یہ بات اللہ کے علم میں بھی ہوگی تو وہ تمہیں اس فدیہ سے بہتر آجر عطا کریگا۔ (آیت) ” ویغفرلکم “ اور مشرکین کے ساتھ شامل ہونے کی جو غلطی تم سے سرزد ہوئی ہے اللہ تعالیٰ اس کو بھی معاف فرما دے گا۔ فرمایا (آیت) ” واللہ غفوررحیم “ اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور نہایت مہربان ہے۔
خیانت کی سزا :
آگے اس کا دوسرا پہلو بھی آتا ہے یعنی اگر تم اپنے دعوے میں سچے نہیں ہو اور محض رہائی کے لیے اسلام کا دعوی کر رہے ہو تو یہ تمہارے حق میں بہتر نہیں ہوگا۔ فرمایا (آیت) ” وان یریدوا خیانتک “ اور اگر یہ لوگ آپ سے خیانت کا ارادہ کریں گے ، یعنی غلط بیانی کریں گے (آیت) ” فقدخانوا اللہ من قبل “ تو اس سے پہلے وہ اللہ کی خیانت بھی کرچکے ہیں۔ انہوں کفار ومشرکین کا ساتھ دیا تو اللہ نے ان کو یہ سزا دی (آیت) ” فامکن منھم “ اللہ تعالیٰ نے ان پر قابو دے دیا یعنی مسلمانوں کا تسلط جما دیا اور وہ قیدی بن کر آگئے تو ان کی ایک خیانت تو یہ ہے کہ وہ مشرکین کی طرف سے لڑائی میں شریک ہوئے اور دوسری خیانت یہ ہے کہ حضور ﷺ کے خاندان بنی ہاشم نے یہ طے کر رکھا تھا کہ وہ حضور ﷺ کا ہمیشہ ساتھ دیں گے مگر وہ اس عہد کی خلاف ورزی کر کے بھی خیانت کے مرتکب ہوئے۔ اس عہد میں ابو لہب شامل نہیں تھا کیونکہ وہ شروع سے ہی ابو جہل کی پارٹی میں شامل تھا ، تاہم خاندان کے باقی لوگ اس معاہدے میں شریک تھے ، چناچہ ابو طالب اگرچہ آپ پر ایمان نہیں لایا مگر اس نے شعب ابی طالب میں تین سالہ نظر بندی کے دوران حضور ﷺ کا پورا پورا ساتھ دیا۔ آپ کے خاندان کے بعض دوسرے لوگ بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ بہرحال فرمایا کہ انہوں نے پہلے بھی خیانت کی اور اب پھر خیانت کی ہے لہٰذا یہ معافی کے قابل نہیں ہیں آپ ان سے کہ دیں کہ انہیں فدیہ دے کر ہی رہائی حاصل کرنا ہوگی۔
اللہ تعالیٰ نے ان کی ساتھ یہ وعدہ بھی کای تھا کہ اگر ان کے دل دین اسلام کے لیے مخلص ثابت ہوں گے توا للہ تعالیٰ انہیں بہت زیادہ مال و دولت عطا کرے گا جس کے روبرو اس فدریہ کی کچھ حیثیت نہیں ہوگی۔ چناچہ جو لوگوں کو بعد میں ایمان کی دولت نصیب ہوئی ، ان کے لیے اللہ نے مال و دولت کی فراوانی بھی کردی۔ ایک موقع پر باہر سے بہت سا مال آیا تو حضور ﷺ نے حضر ت عباس ؓ سے فرمایا ، یہاں سے جنتا مال اٹھا سکتے ہو اٹھا کرلے جائو۔ آپ نے بہت سا مال باندھ لیا مگر اسے خود بخود اٹھا نہیں سکتے تھے۔ اس سلسلہ میں دوسروں سے مدد کی درخواست کی مگر آپ نے فرمایا ، نہیں جتنا خود اٹھا سکتے ہو اتنا ہی لے جائو ، زیادہ نہیں۔ چناچہ حضرت عباس ؓ نے کچھ کم کر کے باقی سامان اٹھایا اور لے گئے۔ یہی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ نے چھ سو سال تک بنو عباس کو حکومت اور سلطنت بھی عطا فرمائی بہرحال اللہ نے قیدیوں سے فرمایا کہ اگر تم میں خلوص پایا گیا تو اللہ تعالیٰ تمہیں زیادہ دے گا اور اگر تمہارے دل صاف نہ ہوئے تو تم زیر تسلط تو آہی گئے ہو اگر آئندہ بھی خیانت کرو گے تو پکڑے جائو گے (آیت) ” واللہ علیم حکیم “ اللہ تعالیٰ تمہاری نیت اور ارادے تک کو جانتا ہے اور حکمت والا ہے اور اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔
مہاجرین اور انصار کی مواخات :
مہاجرین اور انصار اسلام کے ابتدائی اور مرکزی گروہ ہیں ان کی وجہ سے دنیا میں اسلام کو عروج حاصل ہوا انہوں نے بیشمار قربانیاں دی تھیں ۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر ان کی تعریف بیان فرمائی ہے (آیت) ” ان الذین امنوا وھاجروا “ بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی ایمان تو بنیادی حقیقت ہے اور بعض اوقات ہجرت بھی ضروری ہوجاتی ہے ان لوگوں نے مکہ میں بڑی تکالیف برداشت کیں اور بالآکر ہجرت پر مجبور ہوئے۔ اس سے پہلے کچھ لوگ حبشہ کی طرف بھی ہجرت کر گئے تھے اس کے بعد مدینہ کی طرف ہجرت کرنا پڑی جس کے لیے ان کو ہر چیز قربان کرنا پڑی۔ تو فرمایا جو لوگ ایمان لائے اور ہجرت کی (آیت) ” وجھدوا باموالھم وانفسھم فی سبیل اللہ “ اور انہوں نے اپنے مالوں اور جانوروں کے ساتھ جہاد کیا اللہ کی راہ میں اور اس سلسلہ میں ذرا بھی تامل نہیں کیا۔ ان کے علاوہ مدینے کے وہ انصار بھی ہیں (آیت) ” والذین او وا ونصروا “ جنہوں نے مہاجرین کو ٹھکانہ مہیا کیا اور انکی مدد کی جب مہاجرین ہجرت کر کے مدینہ طیبہ پہنچے تو انصار مدینہ نے ان کی طرف ہر طرح کا دست تعاون بڑھایا ان کو اپنے مکانات اور باغات میں جگہ فراہم کی ، کاروبار میں شریک کیا۔ حتی کہ حضور ﷺ نے ایک ایک انصاری اور ایک ایاک مہاجر کو آپس میں بھائی بھائی بنا دیا مواخات کا یہ سلسلہ اتنا گہرا تھا کہ اگر یاک بھائی فوت ہوگیا تو دوسرا اس کا وارث بن سورة حشر میں اللہ نے انصار کی اس طرح تعریف بیان فرمائی ہے (آیت) ” والذین تبوئو الدار والایمان “ جن لوگوں نے مہاجرین کو اپنے گھروں میں اور ایمان کو اپنے دلوں میں جگہ دی مدینے پہنچنے پر ان مہاجرین کے پاس کچھ نہیں تھا مگر اللہ نے فرمایا (آیت) ” للفقرآء المھٰجرین الذین اخرجوا من دیارھم واموالھم “ (الحشر) مگر انصار نے انہیں اپنے گھر پیش کردیے بعض ان میں سے بڑے دولت مند تھے مگر مہاجر ہو کر آئے تو بالک قلاش تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں انصار کی معرفت ٹھکانا عطا کیا۔ عبدالرحمن بن عوف جیسے بڑے بڑے تاجر بھی تھے جو تہی دست ہوچکے تھے۔ آپ نے لوگون سے کہا کہ مجھے بازار کا راستہ بتائو۔ میں محنت کر کے اپنی روزی تلاش کروں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے کاروبار میں اتنی برکت ڈالی ، ان کو اتنا مالدار کیا کہ تیس ہزار غلام رزق حلال سے خرید کر اللہ کی راہ میں آزاد کیے اللہ نے آپ کو باغات ، مکان اور زمین بھی دی اور پھر آپ نے دل کھول کر مستحقین کی اعانت فرمائی حالانکہ آپ خود ایک دن مسکین بن کر مدینے میں داخل ہوئے تھے۔
دوستی کا معیار :
انصار مدینہ کو انصار اس لیے کہتے ہیں کہ وہ اللہ کے دین اور مسلمانوں کے مددگار بنے ان کی اس ایثار وقربانی کا ذکر اللہ نے کیا ہے (آیت) ” اولئک بعضھم اولیاء بعض “ ان میں سے بعض لوگ بعض دوسروں کے رفیق ہیں یعنی مہاجرین اور انصار ایک دوسرے کے حقیقی دوست ہیں (آیت) ” والذین امنوا ولم یھاجروا “ اور وہ لوگ جو ایمان لائے مگر ہجرت نہ کی بلکہ اپنے وطن میں ہی قیام پذیر رہے ان پر کافرروں کا غلبہ تھا اور وہ ہجرت کرنے پر قادر نہیں تھے ان کے متعلق فرمایا (آیت) ” مالکم من ولا یتھم من شئی حتی یھاجروا “ ان کے ساتھ تمہاری کچھ دوستی نہیں جب تک کہ وہ ہجرت کر کے نہ آجائیں چونکہ ایسے حالات میں ہجرت فرض عین ہوجاتی ہے ۔ لہٰذا دریار غیر میں رہنے والوں سے اس وقت تک پکی دوستی نہیں ہو سکتی جب تک وہ ہجرت نہ کر جائیں اور دشمن کے غلبے سے آزاد نہ ہوجائیں۔
غیر مہاجرین کی امداد :
فرمایا ان سے دوستی تو نہیں ہو ست کی البتہ (آیت) ” وان استنصرو کم فی الدین “ اگر وہ تم سے دین کے سلسلہ میں مدد کے طلب گار ہوں (آیت) ” فعلیکم النصر “ تو ان کی ضرور مدد کرو ، کیونکہ وہ مومن ہیں مگر مجبوری کی وجہ سے ہجرت نہیں کرسکتے (آیت) ” الا علی قوم بینکم وبینھم میثاق “ اگر وہ کسی ایسی قوم کے خلاف مدد چاہین جس کے ساتھ تمہارا عہدوپیمان ہوچکا ہو تو پھر ان کی مدد نہیں کی جاسکتی۔ کیونکہ معاہدے کی پاسداری مطلوبہ مدد سے زیادہ ضروری ہے ، خواہ معاہد قوم کافر ہی کیوں نہ ہو۔ اس سے یہ اصول بھی واضح ہوتا ہے کہ کسی قوم یا فرد کی طرف سے سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے اس کی مرکز سے وابستگی ضروری ہے۔ اگر مرکز سے وابستگی نہیں ہے تو معاہد قوم کے خلاف مدد نہیں کی جاسکی۔ اگر کسی ایسی قوم کے خلاف مدد طلب کی جائے جس کے ساتھ مسلمانوں کا کوئی معاہدہ نہ ہو تو پھر گھرے ہوئے مسلمانوں کی مدد کی جاسکتی ہے اگر کوئی جماعت غیر معاہد کافروں کے ملک میں رہتی ہے اور وہ دوسرے مسلمانوں سے مدد طلب کرتی ہے تو ان کی مدد لازم ہوجاتی ہے اگر ایسا نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ و فساد برپا ہوگا ، بےچینی اور بدامنی پھیل جائے گی جس سے ملی نقصان ہوگا لہٰذا ایسے مسلمانوں کی مدد ضروری ہے۔
آج کی دنیا کے سیاسی حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ کوئی مسلمان ملک غیر مسلم ممالک میں گھرے ہوئے مسلمانوں کی کوئی مدد نہیں کرسکتے۔ دشمن قوتوں نے اسلامی طاقتوں کو اس قدر الجھا رکھا ہے کہ وہ بےدست وپا ہو کر رہ گئے ہیں۔ فرمایا (آیت) ” واللہ بما تعملون بصیر “ تم جو کچھ بھی کرتے ہو اللہ کی نگاہ میں ہے تمہارے کوئی فعل اس کی نظر سے اوجھل نہیں ، لہٰذا تم جو کام بھی کرو اللہ کے قانون اور اس کی رضا کے مطابق انجام دو ۔ فرمایا جس طرح مومن آپس میں رفیق اور بھائی بھائی ہیں اسی طرح (آیت) ” والذین کفروا بعضھم اولیاء بعض “ کافر لوگ بھی ایک دوسرے کے دوست رفیق اور ساتھی ہیں۔ وہ بھی ایک دوسرے کے ساتھی ممدومعاون بنتے ہیں ، کیونکہ ” الکفر ملۃ واحدۃ “ تمام کافر ایک قوم کے افراد ہیں اور اسلام کے مقابلے میں سب اکٹھے ہیں اس کے برخلاف مسلمانوں میں ایمان میں ایمان کا رشتہ ہے اور اسی وجہ سے وہ ایک دوسرے کے بھائی بھائی اور مددگار ہیں۔
مسلمانوں کی بےبسی :
فرمایا (آیت) ” الا تفعلوہ “ اگر تم اپنے بھائیوں کی مدد نہیں کرو گے (آیت) ” تکن فتنۃ فی الارض “ تو زمین میں فتنہ برپا رہے گا۔ اس سے بڑا فتنہ کیا ہو سکتا ہے کہ سرزمین پر کفار کا غلبہ ہو ، مسلمانوں کے خلاف سازشیں ہوتی ہوں دنیا میں بدامنی کی وجہ یہی ہے کہ جہاں جہان بھی مسلمانوں کی مدد کی ضرورت ہے ، ان تک مدد نہیں پہنچتی۔ اردگرد کے تمام مسلمان بےبس ہیں اور اپنے بھائیوں کی مدد نہیں کرسکتے۔ دنیا میٰن مسلمانوں کی مرکزیت ہی ختم ہوچکی ہے وہ مدد کیسے کرسکتے ہیں اگر کوئی ملک انفرادی طور پر مدد کی کوشش کرتا بھی ہے تو کافر قومیں اسے ناکام بنا دیتی ہیں۔ فلسطین ، فلپائن ، قبرص ، کشمیر اور ہندوستان کے مسلمانوں کی حالت زار آپ کے سامنے ہے۔ عیسائی ہمیشہ بےبس مسلمانوں پر ظلم وستم کرتے ہیں مگر پچاس سے زیادہ مسلمان ریاستیں کسی کی مدد کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ امریکہ اور روس نے ان کے درمیان نفاق کا ایسا بیج بو رکاھ ہے کہ وہ انہیں اپنے ملک سے وابستہ رکھتے ہیں مگر دوسرے مسلمانوں کی مدد میں آڑلے آتے ہیں۔ افغانستان میں دس لاکھ سے زیادہ مسلمان مارے جا چکے ہیں مگر ہم نے ان کی کیا امداد کی ہے ؟ وہاں سے آنے والے مہاجرین کو پناہ دینے کے لیے چندہ جمع کیا ہے ، یہاں آنے والوں کی تو دیکھ بھال ہو رہی ہے مگر جو ہاں مر رہے ہیں ان کی کیا مدد کی ہے ؟ ایک طرف امریکہ ہے اور دوسری طرف روس ہے مسلمانوں کو آپس میں لڑایا جا رہا ہے مگر باقی مسلمان تماشا دیکھ رہے ہیں اسی طرح برما میں لاکھو مسلمان ضائع ہوچکے ہیں ، وہ دنیائے اسلام کی طرف ایڑیاں اٹھا اٹھا کر دیکھتے ہیں مگر ان کی مدد کو کوئی نہیں پہنچتا ، اسے اہل اسلام کی بےبسی کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے ؟
اللہ نے فرمایا ، اگر مظلوم بھائیوں کی مدد نہیں کرو گے تو دنیا میں فتنہ برپا ہوگیا (آیت) ” و فساد کبیر “ اور بہت بڑا فساد قائم ہوگا۔ آج ہم دیکھ رہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے میں امن کا دوردورہ نہیں۔ ہر جگہ فتنہ و فساد کا بازار گرم ہے کہیں سیاسی افراتفری ہے اور کہیں معاشرتی اور معاشی بدامنی ہے کمزور فرد ہو یا قوم وہ ظالم کے ہاتھوں پس رہا ہے اور کوئی دوسرا فرد یا قوم اس کی مدد کے لیے آگے نہیں آتا۔ مسلمانوں میں خاص طور پر مرکزیت کے فقدان کی وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کا جذبہ ختم ہوچکا ہے اگر کوئی کوشش بھی کرتا ہے تو کامیاب نہیں ہوتا مگر اللہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان بھائی کسی دوسرے ملک میں مقہور ہے اور وہ ہجرت بھی نہیں کرسکتا تو اس کی مدد کرو اسے ظلم سے نجات دلائو یا دارالامن میں لے آئو۔ یہ مسلمانوں کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
بہرحال اللہ تعالیٰ نے غنیمت کا مسئلہ بھی سمجھا دیا ۔ پھر مہاجرین اور انصار کی فضیلت بھی بیان فرما دی اور اسلام کی مرکزیت کی اہمیت کو بھی اجاگر کردیا۔ پھر آگے سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے وراثت کا اصول بھی بیان فرما دیا ہے۔