Ayahs 8:47–48ربط آیات :
گزشتہ درس میں ان چھ باتوں کا ذکر ہوچکا ہے جو دشمن سے مقابلے کے وقت ملحوظ رکھنا ضروری ہیں۔ وہاں پر فرمایا تھا کہ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ میدان جہاد میں اترو تو پھر ثابت قدم رہو اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرو تا کہ تمہیں فلاح نصیب ہو ۔ پھر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی تلقین کی گئی کہ یہ ہر حالت میں ضروری ہے اس کے بعد فرمایا کہ اہل ایمان کو آپس میں جھگڑا نہیں کرنا چاہیے ورنہ وہ کمزور ہوجائیں گے اور ان کی ہوا اکھڑ جائیگی اور چھٹی بات یہ تھی کہ ہمیشہ صبر کا دامن تھامے رہو کیونکہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے اب ساتویں بات کا ذکر ان آیات میں آرہا ہے۔
فرمایا اگر ان اصولوں پر عمل پیرا رہو گے تو دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکو گے اور تمہیں غلبہ حاصل ہوگا۔ حضور ﷺ کے صحابہ ؓ میں یہ تمام خواص پائے جاتے تھے۔ ان میں جراء ت وبہادری اور ثابت قدمی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا جذبہ بےمثال تھا وہ لوگ میدانِ جنگ میں اللہ کا کثرت سے ذکر کرتے تھے ، یہی وجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہر میدان میں کامیابی عطا فرماتا تھا۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام ؓ نے تھوڑے سے عرصہ میں نہ صرف بہت سے ملک فتح کیے بلکہ وہاں کے باشندوں کے دلوں کو بھی فتح کرلیا ابتدائے اسلام کے زمانہ میں کفار ساری دنیا پر چھائے ہوئے تھے ، مگر اللہ نے حضور ﷺ کے صحابہ ؓ کی ایسی بےمثال نصرت فرمائی کہ رومی ، فارسی ، ترکی ، سسلی ، بربر ، مصری وغیرہ سب مغلوب ہو کر رہ گئے اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو دنیا کے کونے کونے میں راسخ کردیا۔ یہ مذکورہ اصولوں پر عمل کرنے کا نتیجہ تھا۔
اکڑ اور ریا کی ممانعت :
چھ باتوں کا ذکر گزشتہ درس میں ہوا تھا ، اب ساتوں بات یہ فرمائی کہ اے ایمان والو ! (آیت) ” ولا تکونوا کالذین خرجوا من دیارھم “ نہ ہو توم ان لوگوں کی طرح جو نکلے تھے اپنے گھروں سے (آیت) ” بطرا ورئآء الناس “ اکڑتے ہوئے اور لوگوں کو دکھانے کے لیے ۔ فرمایا اے اہل ایمان ! تم میں غرور وتکبر اور ریاکاری کی بجائے اخلاص اور عاجزی پائی جانی چاہیے۔ یہ مشرکین مکہ کا ذکر ہو رہا ہے کہ جب وہ بدر کے لیے نکلے تھے تو نہایت غرور وتکبر کے ساتھ اپنی طاقت پر اتراتے ہوئے وہ لوگوں کو اپنی شان و شوکت دکھا رہے تھے کہ ہم جلدی ہی مٹھی بھر مسلمانوں کو کچل کر رکھ دیں گے اور دنیا پر اپنی طاقت کا سکہ جما دین گے ابو جہل کے لشکر کے ساتھ باجے بج رہے تھے گانے والی عورتیں ہمراہ تھیں ان کا پروگرام یہ تھا کہ ہم بدر کے چشمے پر پہنچ کر خوشی کی مجلسیں منعقد کریں گے ، شرابیں پئیں گے اونٹ ذبح کر کے کھائیں گے اور اس طرح داد عیش دیں گے اللہ نے فرمایا ، تم ان کی مشابہت اختیار نہ کرنا بلکہ عجزو انکساری کا اظہار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے مدد کی درخواست کرنا اور جو بھی کام کرو خلوص نیت سے کرنا ، نہ اس میں اکڑ ہو اور نہ دکھاوا ہو ، یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہیں۔
کفار بڑی شان و شوکت کے ساتھ اور بڑے برے منصوبوں کے ساتھ میدان بدر میں پہنچے تھے مگر جب دونوں لشکروں کا آمنا سامنا ہوا تو نقشہ ہی بدل گیا اور کفار کی تمام حسرتیں ان کے دلوں میں ہی دم توڑ گئیں انہیں عیش ونشاط کی محفل جمانے کی بجائے موت کا پیالہ پینا پڑا اور خوشی کے گیت گانے کی بجائے توحہ اور ماتم کی مجلسیں برپا کرنا پڑی بڑے بڑے ائمۃ الکفر مارے گے مٹھی بھر مسلمان نہ صرف کفار پر غالب آئے بلکہ بہت سا مال غنیمت بھی ہاتھ آیا۔ اور جنگ بدر مسلمانوں کی کامیابی کا سنگ میل بن گیا۔ اللہ نے ایسی کامیابی عطا کی جو ہمیشہ کے لیے یاد رکھی جائے گی۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ اے مسلمانو ! کافروں کی طرح اکڑ اور ریا کاری کا اظہار نہ کرنا بلکہ خلوص اور عاجزی کو اختیار کرنا اسی میں تمہاری بہتری ہے حضور ﷺ نے اس موقع پر یہ دعا بھی سکھائی ” اللھم منزل الکتٰب ومجری السحاب وھازم الاحزاب اھزمھم “ اے کتاب کو اتارنے اور بادلوں کو چلانے والے اور کافروں کو شکست دینے والے ہمیں ان کے مقابلے میں فتح نصیب فرما کیونکہ ہم تیری کتاب کے پروگرام کو نافذ کرنا چاہتے ہیں اور تیرے دین کو دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں بہر حال اللہ نے اہل ایمان کو فرمایا کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ بن جانا جو غرور ونخوت کے ساتھ اور لوگوں کو دکھاوے کے لیے اپنے گھروں سے نکلے تھے۔
اللہ کے راستے میں رکاوٹ :
اللہ نے فرمایا ، تم ان لوگوں کی طرح بھی نہ ہونا (آیت) ” ویصدون عن سبیل اللہ “ جو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں یعنی لوگوں کو اسلام میں داخل نہیں ہونے دیتے ابو جہل اور دیگر اکابر مشرکین کا یہی مشن تھا وہ چاہتے تھے کہ لوگ توحید کو نہ مانے اور خدائے وحدہ لا شریک کی عبادت سیدست کش ہوجائیں اللہ کے راستے سے روکنے کا یہ مطلب ہے اللہ نے فرمایا (آیت) ” واللہ بما یعملون محیط “ اور جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ہر چیز کا احاطہ کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے تکبر غرور اور اکڑ کو توڑ کر رکھ دیا اور وہ ذلیل و خوار ہو کر رہ گئے ناکامی اور تباہی ان کا مقدر بن گئی اور جو لوگ بچ گئے ان کی اکثریت آگے چل کر حلقہ بگوش اسلام ہوگئی اور اس طرح کفر کا مکمل خاتمہ ہوگیا۔ فرمایا تمام اختیارات اللہ تعالیٰ کے پس ہیں ، وہی ہر چیز کو گھیرنے ولا ہے لہٰذا اللہ نے کفار کی تدبیر کو ناکام بنا کر انہیں مغلوب کردیا اگرچہ ظاہری حالات ان کے حق میں تھے۔
شیطان کی طرف سے حوصلہ افزائی :
فرمایا اس بات کو دھیان میں لائو (آیت) ” واذ زین لھم الشیطٰن اعمالھم “ جب شیطان نے کفار کے اعمال کو ان کے لیے خوشنما بنا دیا بنی کنانہ جیسا وسیع قبیلہ قریش کے خلاف تھا اور قریش ہمیشہ اس قبیلے کی طرف سے خائف رہتے تھے۔ جنگ بدر کے موقع پر قریش کو خطرہ پیدا ہوگیا کہ بنی کنانہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر ہمیں نقصان نہ پہنچائیں ان کے اس خدشہ کو دور کرنے کے لیے شیطان بنی کنانہ کے سردار سراقہ ابن مالک کی شکل میں ابو جہل کے پاس آیا اور اس کو حوصلہ دیا کہ وہ قریش کی مخالفت نہیں کریں گے لہٰذا وہ ان کی طرف سے بےفکر رہیں ، یہی نہیں بلکہ ان کی بوقت ضرورت مدد کا وعدہ بھی کیا ، ابو جہل اسے سراقہ سمجھ کر مطمئن ہوگیا کہ بنی کنانہ کی طرف سے خطرہ ٹل گیا ہے مگر عین جنگ کے وقت جب سراقہ کا ہاتھ ابو جہل کے ہاتھ میں تھا تو سراقہ یعنی شیطان نے پیچھے ہٹنا چاہا ابو جہل نے کہا اب کیا بات ہے کیوں بھاگتے ہو ؟ تو شیطان کہنے لگا کہ میں کچھ دیکھ رہا ہوں تم نہیں دیکھتے اور مجھے اپنی جان کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے کہ کہیں ہلاک ہی نہ کردیا جائوں دراصل شیطان حضرت جبرائیل اور میکائل کو مسلمانوں کی حمایت میں دیکھ رہا تھا لہٰذا اس نے وہاں سے بھاگنے کی کوشش کی چناچہ وہ کفار کے دلوں میں وسوسہ اندازی چھوڑ کر میدانِ جنگ سے پیچھے ہٹ گیا۔
شیطان کی چالبازی :
غرضیکہ شیطان نے کفار کے اعمال کو ان کی نظروں میں مزین کر کے دکھایا (آیت) ” وقال لا غالب لکم الیوم من الناس “ آج کے دن تم پر کوئی غالب نہیں آئے گا ، بلکہ تمہی غالب ہو گے (آیت) ” وانی جار لکم “ اور میں تمہارا حمایتی ہوں چونکہ وہ سراقہ کی شکل میں مشتکل ہو کر آیا تھا۔ اس لیے ابو جہل نے اسے اپنا حمایتی ہی سمجھا مگر (آیت) ” فلما تراء ت الفٗتٰن “ جب اس نے دونوں گروہوں کو آمنے سامنے دیکھا۔ جب دونوں لشکر جنگ کے لیے میدان میں اتر آئے (آیت) ” نکص علی عقبیہ “ تو شیطان الٹے پائوں پھر گیا (آیت) ” وقال انی بری منکم “ اور کہنے لگا میں تم سے بیزار ہوں کیونکہ (آیت) ” انی اری مالا ترون “ میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے۔ (آیت) ” انی اخاف اللہ “ میں اللہ سے ڈرتا ہوں مفسرین فرماتے ہیں کہ شیطان اللہ سے نہیں ڈر رہا تھا ، یہ اس کا جھوٹ محض ہے اگر اسے اللہ کا ڈر ہوتا تو وہ فورا تائب ہوجاتا مگر ایسا نہیں ہے کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اسے قیامت تک مہلت ملی ہوئی ہے تا ہم اسے خوف یہ تھا کہ کہیں قیامت ہی برپا نہ ہوجائے اور وہ ہلاک ہوجائے ۔
دوسری بات یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شیطان نے اپنے خوف کے متعلق جھوٹ بولا ہو ، کیونکہ جھوٹ بولنا اس کا کام ہے وہ ہمیشہ انسانوں کو دھوکا دیتا ہے سورة نساء میں موجود ہے (آیت) ” یعدھم ویمنیھم وما یعدھم الشیطٰن الا غرورا “ شیطان لوگوں کو وعدے دلاتا ہے اور امیدیں دلاتا ہے اور شیطان جو کچھ وعدے دیتا ہے وہ دھوکہ ہی دھوکہ ہے ۔ سورة حشر میں ہے (آیت) ” کمثل الشیطٰن اذ قال للانسان اکفر “ جیسا کہ شیطان انسان کو کفر پر آمادہ کرتا ہے (آیت) ” فلما کفر “ پھر جب وہ کفر کرنے لگتا ہے (آیت) ” قال انی برء ی منک “ تو شیطان کہتا ہے میں تم سے بیزار ہوں (آیت) ” انی اخاف اللہ رب العلمین “ مجھے تو اللہ تعالیٰ کا خوف آرہا ہے ۔ سورة ابراہیم میں اس طرح ہے کہ جب قیامت کے دن شیطان کے پیروکار اسے گھیر لیں گے تو وہ کہے گا (آیت) ” ان اللہ وعدکم وعد الحق “ کہ اللہ نے تم سے سچا وعدہ لیا تھا (آیت) ” ووعدتکم فاختلفتکم “ اور میں تمہیں جھوٹے وعدے دلاتا رہا ، میں تم پر غلبہ تو نہیں رکھتا تھا صرف برائی کی طرف دعوت دیتا تھا ، تم نے انبیاء کی دعوت کو قبول نہ کہا مگر میری دعوت کو مان کر کفر وشرک اور معصیت میں مبتلا ہوئے (آیت) ” فلا تلومونی ولومو انفسکم “ لہٰذا آج مجھے ملامت نہ کرو بلکہ خود اپنے آپکو ملامت کرو کہ تم نے خدا تعالیٰ کے سچے وعدے کو چھوڑ کر میرے جھوٹے وعدے پر اعتبار کیا ، لہٰذا اب خدا تعالیٰ کے عذاب کا مزا چکھو۔ اللہ نے فرمایا (آیت) ” واللہ شدید العقاب “ اللہ تعالیٰ سخت گرفت کرنے والا ہے اس کی گرفت سے کوئی بچ نہیں سکتا ، لہٰذا آج اپنے اعمال کی سزا بھگتنا ہوگی۔
افشائے راز :
مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ شیطان سراقہ بن مالک کی شکل میں آکر کفار کی حوصلہ افزائی کرتا رہا۔ اس نے درالندوہ میں حضور ﷺ کے قتل کے منصوبے کے وقت بھی ایسا ہی کیا تھا کہ کمزور تجویزوں کو رد کرتا رہا اور جب آپ کے قتل کا منصوبہ پیش ہوا تو اس سے اتفاق کر گیا ، اس موقع پر بھی اس نے شیخ نجدی کی صورت میں کفار کو دھوکا دیا تھا۔ اور جنگ بدر کے موقع پر سراقہ بن مالک کی صورت میں آکر پھر دھوکا دیا۔ اور ادھر حقیقت تھی کہ اصل سراقہ کو اس بات کا علم تک نہ تھا۔ جنگ ختم ہونے کے بعد جب اس واقعہ کی مشہوری ہوئی اور بات سراقہ بن مالک تک پہنچی تو اس نے صاف کہہ دیا کہ میں تو بدر کے میدان میں گیا ہی نہیں اور نہ میں نے ابو جہل سے کوئی بات کی اور نہ اس کے ہاتھ میں ہاتھ دیا ہے اس پر یہ بات واضح ہوئی کہ مقام بدر پر سراقہ نہیں بلکہ شیطان نے کفار کو دھوکا دیا تھا۔
بہر حال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ شیطان مشرکین کے ساتھ دھوکہ کر رہا تھا جس نے انہیں ہلاکت کے گڑھے میں اتار دیا اور انہیں شکست فاش سے دوچار ہونا پڑا۔ اللہ نے فرمایا کہ اے ایمان والو ! تم کافروں کی مشابہت اختیار نہ کرنا یعنی نہ تو غرور تکبر کی بات کرنا اور نہ ہی کوئی دکھاوے والی بات کرنا اگر ایسا کرو گے تو تم بھی شیطان کے دھوکے میں آجائو گے۔ شیطان کے یہی ہتھیار ہوتے ہیں جو وہ انسانوں پر آزمانتا ہے اور جو اس نے مشرکین مکہ پر بھی آزمائے ابتداء میں وہ جھوٹے وعدے کرتا ہے لوگوں کو دھوکے میں ڈالتا ہے اور بعد میں بیزاری کا اظہار کردیتا ہے نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان ۔۔ ہو کر جہنم کے گڑھے میں جا گرتا ہے بہر حال اللہ نے ساتوں اصول یہ بیان فرمایا کہ جنگ کے دوران عاجزی اور انکساری اختیار کرول اللہ تعالیٰ سے نصرت کی دعائیں کرو اور دکھاوا نہ کرو۔ اگر ان باتوں پر عمل کرو گے تو اللہ تعالیٰ دشمن پر غلبہ عطا کریگا۔
Ayahs 8:49–54مدینے کے منافق :
گذشتہ آیات میں کافروں کے ساتھ جنگ کرنے کے اصول بتلائے گئے تھے ، پھر ان کی سازشوں اور نافرمانیوں اور ان کو دی جانے والی سزا کا ذکر فرمایا کہ دنیا میں ان کی ذلت و خواری ہوئی اور آخرت میں وہ دائمی سزا کے مستحق ہوں گے اب اسی ضمن میں منافقوں کے کردار کا ذکر بھی ہو رہا ہے ہجرت کے بعد جب حضور ﷺ مدینہ منورہ پہنچے تو وہاں پر تین قسم کے لوگ تھے ایک قسم تو وہ صحابہ کرام تھے جو آپ پر ایمان لا کر مسلمانوں کی جماعت میں شامل ہوگئے دوسری قسم کے لوگ وہ تھے جو غیر جانبدار تھے ، وہ نہ مخالف کرتے تھے اور نہ موافقت البتہ تیسری قسم کے لوگ وہ تھے جو ظاہر میں تو ایمان لے آئے مگر ان کے دل کفر پر اڑے رہے ان میں زیادہ تر یہودی اور بعض دوسرے لوگ بھی تھے یہ منافقین کہلائے کہ بظاہر کلمہ بھی پڑھا ، ظاہری طور پر ارکانِ اسلام بھی ادا کرتے تھے مگر درپردہ دین کے دشمن تھے اور اس کے خلاف ریشہ دوانیاں کرتے تھے بدر کے موقع پر حضور ﷺ 313 تا 319 صحابہ ؓ کی ایک قلیل جماعت کے ساتھ مدینے سے نکلے یہ تو اللہ تعالیٰ کی حکمت تھی کہ اس نے دونوں گروہوں کو اتفاقی طور پر بدر کے مقام پر اکٹھا کردیا مسلمان بےسروسامانی کی حالت میں تھے جب کہ کفار ایک ہزار کی تعداد میں اسلحہ سے مکمل طور پر لیس تھے۔ جب منافقین مدینہ کو اس معرکے کا علم ہوا تو انہوں نے مسلمانوں پر طعن کیا کہ دیکھو مسلمانوں کی تعداد بالکل قلیل ہے اور ان کے پاس اسلحہ بھی نہیں ہے مگر یہ طاقتور اور مسلح جماعت سے ٹکر لے رہے ہیں۔ دراصل ان کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے کہ ان کو اللہ تعالیٰ کی مدد آئیگی ، اور یہ اتنی طاقتور جماعت پر غالب آجائیں گے آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے اسی طعن کا جواب دیا ہے اور ان کی مذمت بیان فرمائی ہے۔
منافقین کا طعن :
(آیت) ” اذ یقول المٰفقون والذین فی قلوبھم مرض “ اس بات کو دھیان میں لائو جب منافقین اور دل کے روگی لوگوں نے کہا (آیت) ” غرھولاء دینھم “ ان مسلمانوں کو ان کے دین نے دھوکے میں ڈال دیا ہے کہ ہم صداقت پر ہیں اور اللہ تعالیٰ ضرور اپنی نصرت سے ہمیں غالب کریگا۔ یہ وہی منافق تھے جنہوں نے بظاہر تو اسلام قبول کرلیا تھا مگر ان کے دلوں پر ابھی تک تالے پڑے ہوئے تھے۔ فرمایا منافقین کا یہ طعن بےسمجھی ، نادانی اور غلطی پر مبنی ہے اہل ایمان کو ان کے دین نے ہرگز دھوکہ نہیں دیا ، بلکہ وہ اللہ کے بھروسے پر اعلائے کلمۃ الحق کے لیے میدانِ جاد میں اترے ہیں اور ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے (آیت) ” ومن یتوکل علی اللہ “ اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریگا (آیت) ” فان اللہ عزیز حکیم “ تو اللہ تعالیٰ کمال قدرت کا مالک اور حکمت والا ہے وہ چاہے تو اپنی قدرت تامہ سے مٹھی بھر جماعت کو کثیر تعداد پر غالب کر دے جو شخص اللہ پر توکل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اسے مایوس نہیں کرتا بلکہ اس کی مدد فرماتا ہے۔
سزا بوقت موت :
آگے منافقین اور مشرکین کی اس حالت کا ذکر فرمایا ہے جو بوقت موت ان پر طاری ہوتی ہے فرمایا (آیت) ” ولو ترٰی “ اور اگر تو دیکھے اے مخاطب ! (آیت) ” اذ یتوفی الذین کفروا الملٰئکۃ “ جب کہ فرشتے کافروں کو موت دیتے ہیں یعنی ان کی روح قبض کرتے ہیں اللہ نے موت کا منظر بیان فرمایا کہ اس وقت فرشتے (آیت) ” یضربون وجوھم وادبارھم “ ان کے چہروں اور پشتوں پر مارتے ہیں اور کہتے ہیں (آیت) ” وذوقوا عذاب الحریق “ اب جلانے والا عذاب چکھو۔ فرمایا اگر موت کی اس حالت کو دیکھ لیا جائے تو کوئی شخص کفر ، شرک اور نفاق میں مبتلا نہ ہو۔ چہروں اور پشتوں پر مارنا بڑی ہی ذلت ناک سزا ہے جس کا ذکر قرآن پاک میں بعض دوسرے مقامات پر بھی آیا ہے اس وقت اللہ کے فرشتے کہتے ہیں کہ اے شخص ! تیرے پاس اللہ کے رسول آئے اس کی کتابیں آئیں ، اللہ نے ہدایت کے سارے سامان مہیا کر کے تجھے سمجھانے کی کوشش کی مگر تم اس وقت کہاں تھے اب تمہارے ساتھ یہی سلوک کیا جائے گا۔
فرمایا (آیت) ” ذالک بما قدمت ایدیکم “ یہ وہی کچھ ہے جو تمہارے ہاتھوں نے آگے بھیجا یعنی یہ سزا تمہارے اپنے ہی اعمالِ بد کا نتیجہ ہے جس کا تم انکار کیا کرتے تھے ، اور بدر کے میدان میں مشرکین اور کافرین کا یہی حال ہوا ، فرمایا یاد رکھو ! (آیت) ” وان اللہ لیس بظلام للعبید “ اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ ذرہ بھر بھی ظلم نہیں کرتا ، اس کی رحمت تو بڑی وسیع ہے مگر یہ خود انسان ہیں جو اپنے کرتوتوں کی وجہ سے اس کی رحمت سے حصہ نہیں پاتے۔ حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے (آیت) ” انما اعمالکم احصیھا علکیم “ یہ تمہارے اعمال ہیں جنہیں ہم نے شمار کر رکھا ہے لوگ غلط کام کر کے بھول جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ تو نہیں بھولتا خدا کے فرشتے انسانوں کے تمام اعمال کو اپنے رجسٹروں میں درج کر رہے ہیں ، تمام حرکات و سکنات ہر شخص کے نامہ اعمال میں بھی درج ہیں سب سے بڑھ کر یہ کہ خدا تعالیٰ کے علم میں بھی محفوظ ہیں۔ اور پھر قیامت کے دن یہ منظر بھی دیکھنے میں آئے گا۔ (آیت) ” وکل انسان الزمنہ طئرہ فی عنقہ “ (بنی اسرائیل) ہر انسان کا اعمال نامہ (بوقت مرگ) اس کے گلے میں لٹکا دیا جائیگا (اور پھر قیامت کو اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا) (آیت) ” ووجدوا ما عملوا حاضرا “ (الکہف) اور وہ اپنا ہر عمل اس میں پا لیں گے وہ ایسا دفتر ہوگا کہ انسان کہے گا (آیت) ” مال ھذا الکٰب لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصھا “ (الکہف) یہ کیسی کتاب ہے کہ چھوٹی بڑی کوئی بھی چیز احاطہ کیے بغیر نہیں چھوڑتی۔ انسان حیرت زدہ ہوجائیں گے کہ ان کے ہر عمل کا ریکارڈ موجود ہے بہرحال یہ تو آگے کی منزل ہے ، موت کے وقت ہی انسان کو اپنے کیے کا علم ہوجائیگا اور جب فرشتے اس کے چہرے اور پشت پر ماریں گے تو ساتھ کہا جائیگا کہ یہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے ، وگرنہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ہرگز ظلم نہیں کرتا۔
کفار اور آل فرعون میں مماثلت :
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کافروں کے باطل نظریات اور پروگرام کا آل فرعون کے ساتھ نقابل فرمایا ہے فرمایا موجودہ زمانے کے کفارومشرکین کے عادات وخصائل (آیت) ” کداب ال فرعون والذین من قبلھم “ آل فرعون اور ان سے پہلے لوگوں کی عادات وخصائل کی طرح ہیں۔ وہ لوگ بھی ضدی ، عنادی ، ہٹ دھرم ، مخالفین انبیاء اور کمزوروں پر ظلم کرنے والے تھے اور یہ بھی ایسے ہی ہیں۔ قوم فرعون اور ان سے پہلے لوگوں نے (آیت) ” کفروا بایٰت اللہ “ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کا انکار کیا۔ خدا تعالیٰ کے احکام اور دلائل کو تسلیم نہ کیا ، جس کا نتیجہ یہ ہوا (آیت) ” فاخذھم اللہ بذنوبھم “ اللہ نے ان کو گناہوں کے بدلے میں پکڑلیا خدا تعالیٰ کی گرفت آئی (آیت) ” ان اللہ قوی شدید العقاب “ بیشک اللہ تعالیٰ زبردست قوت والا اور سخت عذاب دینے والا ہے جس طرح پہلے لوگ خدا کی گرفت میں آکر عذاب کے مستحق ٹھہرے اسی طرح آج کے منکرین بھی اس عذاب میں مبتلا ہو کر رہیں گے فرمایا (آیت) ” ذلک بان اللہ لم یک مغیرا نعمہ انعمھا علی قوم “ یہ اس لیے کہ بیشک اللہ تعالیٰ کسی قوم کو عطا کردہ نعمت کو تبدیل نہیں کرتا یعنی اللہ تعالیٰ کسی نعمت کو واپس نہیں لیتا۔ (آیت) ” حتی یغیروا ما بانفسھم “ یہاں تک کہ وہ خود تبدیل نہ کریں جو کچھ ان کے نفسوں میں ہے مطلب یہ کہ اللہ کی طرف سے کسی نعمت کی واپسی خود انسانوں کے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے جب کوئی قوم اللہ کی طرف سے انعام واکرام پا کر بھی ناشکری کرتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ ایسی نعمت کو اٹھالینے پر بھی قادر ہے۔ فرمایا (آیت) ” وان اللہ سمیع علیم “ اللہ تعالیٰ انسانوں کی ہر بات کو سنتا ہے اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے حتی کہ وہ لوگوں کے دلوں کی بات ، نیت اور ارادے کو بھی جانتا ہے اور پھر اسی کے مطابق جزا دیتا ہے۔
نعمت کی تبدیلی :
دوسری بات یہ ہے کہ جب تک انسان میں حق وصداقت کا جذبہ موجو نہ ہو ، خدا تعالیٰ ہدایت بھی نصیب نہیں کرتا اپنے آپ میں تبدیلی کا جذبہ موجود ہو۔ معاصی کو ترک کرنے اور خدا تعالیٰ پر ایمان لانے کی تڑپ موجود ہو تو اللہ تعالیٰ ہدایت کے راستے بھی کھول دیتا ہے اسی طرح جب تک انسان کا اندرونی نظام فاسد نہیں ہوتا ، اس سے کوئی نعمت چھینی نہیں جاتی۔ جب اعتقاد بگڑتا ہے تو نعمت بھی چھن جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ راحت کی بجائے تکلیف میں ڈال دیتا ہے ، سورة ابراہیم میں اللہ کا فرمان ہے (آیت) ” الم تر الی الذین بدلوا نعمت اللہ کفرا واحلوا قومھم دارالبوار “ کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے خدا کے انعام کو ناشکری میں بدل دیا اور اپنی قوم کو تباہی کے گھر میں اتارا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ نے اہل مکہ کو حضور خاتم النبین ﷺ جیسی عظیم نعمت عطا کی مگر انہوں نے قدر نہ کی بلکہ ناشکری کی اور مع قوم جہنم رسید ہوگئے۔ یہاں پر بھی اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ مکہ والوں نے اس نعمت کی ناقدری کی اور حضور ﷺ کو ہجرت پر مجبور کردیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جلدہی خدا کی گرفت آئی اور انہیں تباہ کر کے رکھ دیا جب مکہ والوں کی نیت بدل گئی تو اللہ تعالیٰ کی گرفت بھی آگئی۔
گنہگاروں کی ہلاکت :
آگے پھر وہی آیت مکرر آئی ہے (آیت) ” کداب ال فرعون والذین من قبلھم “ ان کی عادت قوم فرعون اور ان سے پہلے لوگوں کی عادات جیسی ہے (آیت) ” کذبوا بایت ربھم “ انہوں نے اپنے رب کی آیتوں کو جھٹلایا جس کا نتیجہ یہ ہوا (آیت) ” فاھلکنٰھم بذنوبھم “ ہم نے ان کو ان کے گناہوں کے بدلے ہلاک کردیا (آیت) ” واغرقنا ال فرعون “ اور آل فرعون کو ہم نے پانی میں ڈبو دیا۔
امام رازی (رح) نے اس مقام پر یہ نکتہ اٹھایا ہے کہ حصہ آیت (آیت) ” کداب ال فرعون والذین من قبلھم “ کو دوبارہ لانے سے کیا مقصود ہے ؟ آپ فرماتے ہیں کہ دراصل دوسرا جملہ پہلے جملے کی تفصیل ہے پہلے جملہ میں یہ تھا کہ جو آدمی کفر شرک یا معصیت کا ارتکاب کریگا وہ پکڑا جائے گا اور دوسرے جملہ میں یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو ہم نے پانی میں ڈبو کر ہلاک کردیا۔ چناچہ آل فرعون کو اللہ نے بحرہ قلزم میں غرق کردیا۔ باقی نافرمان اقوام میں سے بھی کسی پر پتھروں کی بارش کی ، کسی کو زمین میں دھنسا دیا ، کسی پر زلزلہ اور کسی کو چیخ نے آلیا۔ اسی طرح مکہ والوں کو اللہ نے بدر کے مقام پر گرفت میں لے لیے۔
کفر اور تکذیب :
دونوں جگہ پر اس آیت میں یہ فرق بھی ہے کہ پہلی آیت میں کفر کا ذکر ہے کہ آلِ فرعون اور دوسرے لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے احکامات ، نشانات اور دلائل کا انکار کیا جب کہ دوسرے مقام پر کذبوا ہے یعنی انہوں نے اپنے دلائل کو جھٹلادیا۔ پہلی آیت میں (آیت) ” کفرو بایٰت اللہ “ ہے انہوں نے معبود برحق اللہ کی آیات کا انکار کردیا اور دوسری آیت میں (آیت) ” کذبوا بایت ربھم اپنے پروردگار کی آیتوں کی تکذیب کی یعنی جس پروردگار نے انہیں ہزاروں ، لاکھوں نعمتیں عطا کیں ، اس رب کے دلائل (و احکام) کو جھٹلایا اور ان نعمتوں کا شکر ادا نہ کیا تو فرمایا پہلی آیت میں انکار کیا تو ان پر گرفت آگئی اور جب دوسری آیت میں تصدیق کی بجائے تکذیب ، شکر کی بجائے ناشکری کی اللہ کے احسانات کی ناقدری کی تو ان پر ہلاکت آگئی اور وہ نیست ونابود ہو کر رہ گئے۔
اہل ایمان کے لیے تسلی :
اس کے بعد اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل بھروسہ رکھو ، خدا تمہارے دشمنوں کو خود سنبھال لے گا جب فرعون جیسے سرکش اللہ کی گرفت سے نہ بچ سکے تو مشرکین مکہ کی تو حیثیت ہی کچھ نہیں ، یہ کیسے بچ سکیں گے ، دوسرے مقام پر ہے کہ ان کو تو ہم نے پہلوں کا عشر عشیر بھی نہیں دیا ، پھر یہ کس بات پر اترا رہے ہیں۔ آل فرعون کو پانی میں ڈبو دیا (آیت) ” وکل کانوا ظل میں “ وہ سب کے سب ظالم لوگ تھے ، ظلم کا حشر برا ہوتا ہے ان کو مہلت تو ملتی رہتی ہے مگر جب وہ مدت پوری ہوجاتی ہے تو اللہ کا عذاب اچانک آجاتا ہے مکہ والون کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ، انہوں نے مسلمانوں پر بڑے برے ظلم کیے اور آخر کار وہ اپنے اعمال کی پاداش میں پکڑے گئے اور ذلیل و خوار ہو کر میدان ِ بدر سے لوٹے۔
Ayahs 8:55–58ربطِ آیات :
اللہ تعالٰٰ نے جہاد سے متعلق سات اہم اصول بیان کردیے ہیں۔ منافقوں کا حال بھی بیان ہوا ہے کہ جب مسلمان بدر کی طرف روانہ ہوئے تو منافق کہنے لگے کہ مسلمانوں کو ان کے دین نے دھوکہ میں ڈال رکھا ہے۔ اللہ نے فرمایا یہ دھوکہ نہیں بلکہ اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ ہے جو کوئی اللہ کی ذات پر بھروسہ کریگا تو اللہ تعالیٰ اسے غلبہ نصیب فرمائے گا پھر اللہ نے منافقوں اور مشرکوں کی عادت کو آلِ فرعون کی عادت سے تشبیہ دی جنہوں نے کفر پر اصرار کیا اور دین حق کی مخالفت کی ، وہ اپنے گناہوں کے بدلے میں پکڑے گئے اور اللہ نے انہیں ذلیل و خوار کیا ۔ جو لوگ اللہ کی نعمتوں کی ناقدری کرتے ہیں ، وہ ان کو چھوڑتا نہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو اس دنیا میں بھی سزاد یتا ہے اور آخرت کی سزا تو ان کے لیے بہر حال ہے اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کے مخالفین یہودیوں کا ذکر کیا ہے جو بار بار عہد کو توڑتے تھے ، مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے تھے ، پھر اللہ نے انہیں سزا بھی خوب دی۔
میثاق مدینہ :
جس زمانے میں حضور ﷺ نے مکہ سے مدینہ کو ہجرت کی اس وقت مدینہ کے اردگرد یہودوں کی بستیاں تھیں ، یہ لوگ تجارت پیشہ اور زراعت پیشہ تھے۔ ان کے بڑے بڑے باغ تھے صاحب علم سمجھے جاتے تھے ، سودی کاروبار بھی کرتے تھے اور اس طرح انہیں اس علاقے میں علمی اور معاشی برتری حاصل تھی۔ ان کے بڑے قبیلے بنی قینقاع بنی نضیر اور بنی قریظہ تھے۔ مدینے پہنچ کر حضور ﷺ نے اردگرد کا جائزہ لیا تو اس سر زمین میں اسلام کے پودے کی پرورش کے لیے حالات کو قدرے سازگار پایا۔ تا ہم آپ نے مدینہ اور اس کے اطراف کے تمام قبائل سے ایک معاہدہ کیا جو میثاق مدینہ کے نام سے مشہور ہے اس معاہدہ میں سارے یہودی اور دیگر قبائل بھی شامل تھے۔ معاہدہ یہ تھا کہ تمام قبائل اور خاندان اپنے دین اور مذہب پر قائم رہیں گے اور کسی کو دین تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا جائیگا۔ اگر کوئی طاقت باہر سے مدینہ پر حملہ آور ہوگی تو معاہدے میں شریک تمام لوگ مدینہ کا مشترکہ دفاع کریں گے اس معاہدہ پر مدینے کے مشہور یہودی کعب بن اشرف ، بنی قینقاع ، بنی نظیر اور بنی قریظہ نے بھی دستخط کیے۔ تاج ہم یہودی عام طور پر عہد کی خلاف ورزی کرتے رہتے تھے۔ ایک دفعہ انہوں نے مشرکین مکہ کو ہتھیار فراہم کیے۔ جب پوچھا گیا تو عذر لنگ یہ پیش کیا کہ ان کو معاہدہ یاد ہی نہیں تھا۔ یہ لوگ مکہ والوں کے ساتھ بھی ساز باز رکھتے تھے۔ اور دوسرے قبائل کو آپس میں لڑانے کی منصوبہ بندی بھی کرتے رہتے تھے۔ مسلمانوں کے خلاف سازشیں اور ریشہ دوانیاں ان کا معمول بن چکا تھا۔ اللہ نے ان کا حال بیان فرما کر ان کو سخت سزا دینے کا حکم دیا ہے۔
بدترین جاندار :
اللہ تعالیٰ نے شرپسند یہودیوں کی مثال بدترین جانداروں کے ساتھ دی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ان شرا الدواب عند اللہ الذین کفروا “ زمین پر چلنے والوں میں بدترین جاندار وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ہے۔ دواب ، دابہ کی جمع ہے جس کا معنی زمین پر چلنے پھرنے والا جاندار ہوتا ہے۔ زمین پر لاکھوں جاندار ہیں جس میں انسانوں کے علاوہ درندے کیرے مکوڑے ہیں جن کی مختلف قسمیں اور مختلف صورتیں ہیں۔ ہر ایک کی الگ الگ بولی ، رنگ اور سامان حیات ہے ، انسان بھی انہی میں سے ایک جاندار ہے مگر ان سب جانداروں میں سے بدترین جاندار وہ انسان ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا انکار کرتا ہے ، نبی کی مخالفت پر کمر بستہ ہے۔ توحید کو مٹا کر کفر کے پروگرام کو غالب کرنا چاہتا ہے ایسے لوگ اللہ کی بدترین مخلوق ہیں۔ سورة بینہ میں ایسے لوگوں کو (آیت) ” شرالبریۃ “ یعنی مخلوق کا بدترین حصہ کہا گیا ہے اور اہل ایمان کو (آیت) ” خیر البریہ “ یعنی مخلوق خدا کا بہترین حصہ قرار دیا گیا ہے۔
شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (رح) نے تفسیر عزیزی میں یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ کافر لوگ عام جانوروں اور کیڑے مکوڑوں سے بھی کیوں بدترین فرماتے ہیں کہ دنیا کا ہر جاندار اپنے مقصد حیات کو پورا کرتا ہے ۔ اپنے مالک کو پہچانتا اور اس کے حکم کی تعمیل کرتا ہے اپنے مالک اور مربی کی خواہش کو اپنی خواہش پر مقدم رکھتا ہے حتی کہ بیل ، گھوڑے ، گدھے اور بھینس بھی اپنے مالک کی بات ستنے ہیں اور اس کی خدمت بجا لاتے ہیں مگر یہ کافر اور مشرک انسان ہیں جو اپنے مالک کے حکم کے مقابلے میں اپنی خواہش کو مقدم رکھتے ہیں ، لہٰذا یہ لوگ پوری مخلوق میں سے بدترین حصہ ہیں۔ سورة اعراف میں ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا ہے (آیت) ” کالانعام بل ھم اضل (رح) “ کہ وہ جانوروں کی مانند ہیںٰ بلکہ ان سے بھی بدترین ہیں ، جانور تو اپنا مقصد ِ حیات پورا کرتے ہیں مگر یہ اتنا بھی نہیں کرتے ، لہٰذا یہ جانوروں سے بھی گئے گزرے ہیں۔ ان میں کافر ، مشرک اور یہودی سب آجاتے ہیں۔ تاہم اس مقام پر یہودیوں کی خاص طور پر مذمت بیان کی گئی ہے فرمایا (آیت) ” فھم لا یومنون “ یہی لوگ ہیں جو ایمان سے خالی ہیں۔
عہد شکن لوگ :
فرمایا یہ وہ لوگ ہیں (آیت) ” الذین عٰھدت منھم “ کہ آپ نے ان کے ساتھ معاہدہ کیا ہے (آیت) ” ثم ینفقون عھدھم فی کل مرۃ “ پھر وہ ہر بار اپنے معاہدہ کو توڑ دیتے ہیں ، اس پر پورا نہیں اترتے (آیت) ” وھم لاینفقون “ اور وہ ذرا بھی خوف نہیں کھاتے ، معاہدہ کی پابندی تو بہرحال ضروری ہے سورة بنی اسرائیل میں ہے (آیت) ” وافوا بالعھد ان العھد کان مسئولا “ اپنے عہد کو پورا کرو کیونکہ عہد و پیمان کے متعلق باز پورس ہوگی۔ عہد کی خلاف ورزی کرنا اور غداری کرنا منافقوں کی علامت ہے جماعتی اور حکومتی نظام کو درست رکھنے کے لیے معاہدہ کی پابندی ضروری ہے اسلام میں اس کا بڑا مرتبہ ہے جو مسلمان ہے وہ تو عہد کو پورا کرے گا۔ البتہ غیر اقوام کا حال مختلف ہے ، پہلی جنگ عظیم میں First Great war میں چار کروڑ سے زیادہ انسان مارے گئے۔ ترکوں اور جرمنوں کے خلاف انگریزوں نے یہ بڑی زبردست جنگ لڑی ، اس جنگ میں جب انگریزوں کے وزیر جنگ war minister لائڈ جارج سے کہا گیا کہ آپ نے معاہدہ کیا تھا ، اب اس کو پورا کیوں نہیں کرتے ، تو کہنے لگا عہدوپیمان پورا کرنے کے لیے نہیں کیے جاتے۔ یہ تو محض وقت گزاری کے لیے ہوتے ہیں۔ انگریزوں جیسی قوم کا نظریہ حیات یہ ہے۔ اسلام میں اس کو غداری کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے اگر کوئی معاہدہ فریق اپنے معاہدہ کو برقرار نہیں رکھنا چاہتا تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ دوسرے فریق کو صاف صاف بتا دیا جائے کہ یہ معاہدہ قائم نہیں رہ سکتا تا کہ دوسرا فریق اپنا مناسب انتظام کرے۔ خود معاہدے پر عمل نہ کرنا اور دوسرے کو دھوکہ میں رکھنا نہایت ہی ناپسندیدہ فعل ہے جو عہد کیا ہے اس کو بہرحال پورا کرنا چاہیے یا علی الاعلان توڑ دینا چاہیے۔
عہد شکنی کی سزا :
آگے عہد شکن لوگوں کی سزا کے متعلق فرمایا (آیت) ” فاما تثفقتنھم فی الحرب “ پس اگر آپ قابو پالیں ان پر دوران جنگ (آیت) ” فشردبھم من خلفھم “ تو ان پر ایسی کاری ضرب لگائیں کہ ان کے پیچھے آنے والوں کو بھی بگا دیں۔ اگر لڑائی میں حصہ لینے والوں کو شکست فاش دے دی جائے تو ان کی حمایت میں آنے والوں کے حوصلہ ویسے ہی پست ہوجاتے ہیں اور وہ شکست خوردہ لشکر کی امداد پر آمادہ نہیں ہوتے اسی لیے فرمایا کہ عہد شکنی کرنے والے غداروں کو ایسی عبرتناک سزا دیں کہ ان کی کمک کے طور پر آنے والے بھی تتر بتر ہوجائیں تشرید کا معنی بکھر جانا یا تتربتر ہوجانا ہے فرمایا ان کو ایسی مار ماریں (آیت) ” لعلھم یذکرون “ تا کہ وہ نصیحت پکڑیں اور جان جائئیں کہ انہیں باطل کی حمایت نہیں کرنی چاہیے ، چناچہ یہودیوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا گیا۔ وہ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے اور حجت بازی کرتے تھے۔ چناچہ یہودیوں کے دو قبیلے جلا وطن کردیے گئے۔ ان کی زمینوں اور دیگر جائداد پر قبضہ کرلیا گیا۔ بنی قینقاع اور بنی نظیر کے ساتھ تو یہ سلوک ہوا تیسرا بڑا قبیلہ بنی قریظہ زیادہ خبیث تھا اس نے غزوہ احزاب میں بھی سازش کی تھی اور جنگ احد میں بھی وہ مشرکین کے ساتھ مل گئے تھے۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انہیں سخت ترین سزا دینے کا حکم دیا۔ چناچہ ان کے بالغ بردوں کو قتل کردیا گیا۔ عورتوں اور بچوں کو لونڈی غلام بنا لیا گیا۔ معاہدہ شکن اور خوف خدا سے عاری لوگ ایسی ہی عبرت ناک سزا کے مستحق ہوتے ہیں۔
معاہدے کی منسوخی :
فرمایا کہ معاہدہ ہوجانے کے بعد اگر کوئی فریق اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس معاہدے کو منسوخ کیا جاسکتا ہے۔ (آیت) ” واما تخافن من قوم خیانۃ “ اگر آپ کو کسی معاہد قوم کی طرف سے معاہدے میں خیانت کا ڈر ہو (آیت) ” فانبذ الیھم علی سوائ “ پس پھینک دیں ان کی طرف برابر سرابر ، یعنی معاہدے کی منسوخی کا اعلان کردیں اور پھر ان کے خلاف جو کارروائی مناسب سمجھیں کر گزریں۔ ظاہر ہے کہ جب تک کوئی معاہدہ کا رآمد ہو اس کی خلاف ورزی کرنا اہل ایمان کا شیوہ نہیں اور پوری دیانتدارنہ کوشش کے باوجود جب معاہدہ کی پاسداری نہ کی جارہی ہو تو پھر اس کو توڑدینا ہی بہتر ہے تا کہ فریقین اپنی اپنی صوابدید کے مطابق آئندہ کے لیے لائحہ عمل تیار کرسکیں حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ جب معاہدہ کرلو تو اس کو نبھائو (آیت) ” ولا تغدروا “ اور غداری نہ کرو اور اگر نہیں نبھا سکتے تو اس کو منسوخ کردو۔
امیر معاویہ ؓ نے رومیوں کے ساتھ معاہدہ کر رکھا تھا ابھی معاہدہ ختم ہونے میں چند دن باقی تھے کہ آپ نے فوجوں کو سرحد کی طرف کوچ کرنے کا حکم دے دیا۔ ان کے خیال کے مطابق اپنی سرحدوں کے اندر رہ کر فوجی نقل وحمل کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ اس پر حضور ﷺ کے صحابہ عمر و ابن عیینہ ؓ کو اس کارروائی کا پتہ چلا تو وہ سواری کو دوڑاتے ہوئے امیر معاویہ ؓ کے پاس پہنچے اور نعرہ مارتے ہوئے کہا ” وفاء ولا غدر “ یعنی عہد کی وفا ہونی چاہیے اور خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے ، انہوں نے حضور ﷺ کی حدیث پیش کی کہ اگر کسی قوم کے ساتھ معاہدہ کیا ہے تو اس کے اختتام تک تک اس کی وفاکرو اور زیادتی نہ کرو۔ فوجوں کی نقل و حرکت روک دو جب معاہدے کی تاریخ گزر جائے تو پھر جو چاہے کرو یہ احتیاط کی بات تھی جو مسلمانوں کا شعار ہے ورنہ اپنی سرحدوں پر فوجوں کو منتقل کرنا معاہدے کی خلاف ورزی نہ تھا۔
بہرحال فرمایا کہ اگر معاہدے میں خیانت کا خطرہ ہو تو معاہدے کو توڑ دو کیونکہ (آیت) ” ان اللہ لا یحب الخائنین “ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں یعنی معاہدہ شکن لوگوں کو پسند نہیں کرتا ترمذی شریف کی روایت میں بھی آتا ہے ” لا تخن من خانک “ جو تیرے ساتھ خیانت کرتا ہے تو اس کے ساتھ بھی خیانت نہ کرو۔ تم مومن ہو ، اپنے اصول پر قائم رہو ، عہد و پیمان کی پابندی کرو اور غدار نہ بنو۔
Ayahs 8:59–60کفار کی خام خیالی :
گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کا یہ حکم بیان ہوا تھا کہ سازشی یہودیوں کو ایسی عبرتناک سزا دو کہ ان کے پیچھے آنے والوں کو بھی اس سے عبرت ہو۔ مسلمانوں کو یہ بھی حکم دیا گیا تھا کہ وہ عہد و پیمان کی خلاف ورزی نہ کریں۔ اس سے مسلمانوں کے دلوں میں یہ خدشہ پید ہو سکتا تھا کہ ہماری اس سادہ لوحی سے کافر لوگ یہ نہ سمجھ لیں کہ وہ ہمیں دھوکہ دینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ دیانتداری اور اصول کی پابندی مسلمانوں کا شعار ہے اور اسی پر مدار فلاح ہے اور اگر کافرلوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اہل ایمان کو دھوکہ دینے میں کامیاب ہوجائیں تو یہ ان کی خام خیالی ہے اللہ نے خبردار کیا (آیت) ” ولا یحسبن الذین کفروا سبقوا “ اور نہ گمان کریں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا کہ وہ سبقت کر جائیں گے یعنی وہ مسلمانوں کو اپنی چالاکی اور ہوشیاری سے کمزور کر کے کہیں بھاگ جائیں گے۔ فرمایا وہ ایسا گمان نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ کمال قدرت کا مالک ہے وہ کافروں کی کوئی تدبیر نہیں چلنے دیگا۔ اور وہ مغلبو ہو کر رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی مدد مسلمانوں کے شامل حال ہے لہٰذا (آیت) ” انھم لا یعجزون “ کفار اہل ایمان کو عاجز نہیں کرسکتے کہ انہیں دھوکہ دیکر کہیں بھاگ جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کر گرفت سے نہیں بچ سکتے۔
مکمل جنگی تیاری :
فرمایا اصول کی پانبدی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مسلمان اپنی جگہ تیاری نہ کریں بلکہ ان آیات میں تیاری کا اہم اصول بیان کیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” واعدوا لھم ما استطعتم “ اور تیاری کرو ان (دشمنوں ) کے مقابلے میں جس قدر ہو سکے (آیت) ” من قوۃ “ طاقت سے مسلمانوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ تم محض ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہ بیٹھے رہو بلکہ دشمن کے خلاف مکمل جنگی تیاری کرو۔ اسلحہ جمع کرو ۔ چھاونیاں قائم کرو۔ مجاہدین کی تربیت کا انتظام کرو۔ اور ہر وقت مستعد رہو۔ قوت کا لفظ بڑا وسیع مفہوم رکھتا ہے۔
حضور ﷺ نے منبر پر چڑھ کر فرمایا ” الا ان القوۃ رمی “ خبردار ! طاقت تیر میں ہے اس زمانے میں تیر کا ہتھیار بڑا کارگر تھا۔ جو دشمن کو دور سے ہی نشانہ بنا سکتا تھا لہٰذا حضور ﷺ نے اس کی بڑی اہمیت بیان فرمائی۔ چناچہ حضور ﷺ نے خود بھی تیر کمان رکھا۔ تلوار اور نیزہ بھی استعمال کیا۔ آپ نے جنگی مقاصد کے لیے اونٹ ، گھوڑے ، خچر بھی استعمال کئے۔ آپ نے تیر اندازی کی ترغیب دی فرمایا خود بھی سیکھو اور دوسروں کو سکھائو۔ اور پھر اس کی مشق بھی جاری رکھو تا کہ بوقت ضرورت کام آسکے۔
امام ابوبکر جصاص نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ والد پر لازم ہے کہ وہ اپنی اولاد کو تین چیزوں کی تعلیم دے یعنی کتاب اللہ کی تعلیم ، تیراکی اور تیر اندازی ، شاہ اسماعیل شہید (رح) شدید گرمی میں بھی مشق کے لیے برہنہ پا چلتے تھے اور دریائے جمنا میں تیراکی کی مشق کیا کرتے تھے تا کہ ضرورت کے وقت اس سے فائدہ اٹھایا جاسکے۔ ان میں احیائے اسلام کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا ان کی تحریک خود مسلمانوں کی غداری کی وجہ سے عملا ناکام ہوگئی مگر اس کے اثرات ہمیشہ باقی رہیں گے۔ انہوں نے جہاد میں عملی حصہ لے کر بتا دیا کہ جذبہ اور اطاعت ایسی ہوتی ہے اور دشمن سے مقابلہ اس طرح کیا جاتا ہے اگلی سورة میں بڑے بڑے مضامین آرہے ہیں فرمایا ہے (آیت) ” فقاتلوا ائمۃ الکفر “ کفار کے بڑے بڑے سرداروں اور لیڈروں سے لڑو۔ ان کو تہ تیغ کرو۔ جب تک پوری قوت کے اتھ ان کے ساتھ نہیں ٹکرائو گے یہ اپنی سازشوں سے باز نہیں آئیں گے۔ فرمایا اس کام کے لیے اپنے اندر قوت پیدا کرو۔ سائنسدان پیدا کرو اور سامانِ ضرب وحرب اکٹھا کرو تا کہ تم اپنا دفاع کرسکو اور کفار ومشرکین کو کیفر کردار تک پہنچا سکو۔
امام ابوبکر جصاص (رح) فرماتے ہیں کہ حدیث میں جو تیر اندازی کا ذکر کیا گیا ہے اس سے مراد محض تیر اندازی نہیں بلکہ وقت کے جدید ترین ہتھیاروں کا استعمال ہے۔ حضور ﷺ کے زمانہ مبارک میں تیر اندازی ہی جنگ کے لیے بہترین ہتھیار سمجھا جاتا تھا ، مگر آج اس سے ہر قسم کی بندوق ، توپ ، ٹینک اور بکتر بند گاریاں ، فضا سے فضا اور زمین سے فضا میں مار کرنیوالے میزائل جنگی کشتیاں اور تباہ کن بحری جہاز ، ہوائی جہاز ، راکٹ اور آبدوزیں ہیں۔ مقصد تو یہ ہے کہ دشمن کا صفایا کیا جائے اور ہر وہ ہتھیار استعمال کیا جائے جو ضروری ہو ، ظاہر ہے کہ جب دشمن کے پاس جدید قسم کے ہتھیار موجود ہوں گے تو مسلمان صرف تیر اور تلوار پر ہی تکیہ لگا کر نہیں بیٹھ سکتے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ دشمن کے مقابلے کے لیے اگر ناخن بھی کام دے سکتا تو بیشک ناخنوں کو بڑھا لو ، حالانکہ عام حالات میں ناخن کاٹنے کا حکم ہے تو مقصد یہ کہ دشمن کے خلاف تیاری کے لیے تمام آلات حرب اور تمام وسائل بروئے کار لانا لازمی ہے (آیت) ” من قوۃ “ میں یہ سب شامل ہے۔
مالی جہاد کی ضرورت :
مولانا عبید اللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ مالی جہاد ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے ، دشمن کے مقابلے کے لیے وسیع مالی ذرائع کی ضرورت یہ توپ کے ایک چھوٹے سے گولے کے لیے تین ہزار روپے کی ضرورت ہے جب کہ بڑا گولہ سات ہزار روپے میں بنتا ہے ایک ٹینک لاکھوں روپے میں بنتا ہے اور بمباری کرنے والا ہوئی جہاز تو کروڑوں میں آتا ہے۔ جنگی تیاری کے لیے بڑے وسیع سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے جو مسلمان فراہم کرنے کے ذمہ دار ہیں۔
دیگر عبارات کی طرح جہاد بھی ایک عبادت ہے اور ظاہر ہے کی عبادت ہر مرد وزن پر فرض ہوتی ہے اور کوئی بھی اس سے مثتنیٰ نہیں ہوتا۔ جہاد ہر عاقل ، بالغ اور صحت مند مسلمان پر بلا معاوضہ فرض ہے۔ جہاد عام حالات میں فرض کفایہ ہوتا ہے یعنی مسلمانوں کی جماعت میں سے کچھ آدمی اس میں شریک ہوجائیں تو فرض ادا ہوجاتا ہے لہٰذا عام حالات میں مجاہدین کی ایک جماعت ہمیشہ مستعد رہتی ہے البتہ جب نفیر عام کا وقت آتا ہے تو جہاد فرضِ عین ہوجاتا ہے۔۔ جب قوم کو ضرورت ہو تو پھر کوئی فرد واحد بھی پیچھے نہیں رہ سکتا صرف نابینا ، لنگڑا بیمار اور بہت بوڑھا عملی جہاد سے متثنیٰ ہیں ان کے لیے بھی شرط ہے (آیت) ” اذا نصحوا للہ والرسول “ جب کہ وہ اللہ اور رسول کے حق میں خیر خواہ ہوں۔ کوئی غلط پروپیگنڈا نہ کریں۔ بلکہ اپنی مجلسوں میں اچھی بات کریں جس سے دوسرے مسلمانوں کی حوصلہ افزائی ہو اور اسلام کو تقویت پہنچے۔
مسلمانوں کی غفلت :
امام ابوبکر جصاص (رح) چوتھی صدی کے مفسر قرآن ہیں۔ آپ نے اپنی تفسیر میں مسلمانوں کی کمزوری کا کئی مقامات پر ذکر کیا ہے اور اس زمانے میں دیکھ رہے تھے کہ مسلمان عیاشی میں پڑگئے ہیں اور ملکی سرحدین کمزور ہورہی ہیں ، یہ تو اس زمانے کی بات ہے جو مسلمان اس واقت پھسلنا شروع ہوئے تھے ، وہ آج کہاں تک پہنچ چکے ہیں اور مسلسل ضعف کی طرف جا رہے ہیں اللہ تعالیٰ کا کلام برحق ہے نبی کا فر مان سچ ہے دین سچا ہے ، اس کے اصول درست ہیں مگر کمی ہے تو صرف عمل کی آج مسلمان دنیا بھر میں اپنی بےعملی کی وجہ سے ذلت کا شکار ہیں عمل کرنے کے لیے جان اور مال کو خرچ کرنا پڑتا ہے ، بڑے سرمائے کی ضرورت ہوتی ہے مگر آج مسلمان عیش و آرام میں پڑئے ہوئے ہیں کھیل تماشے میں مصروف ہیں۔ مسلمان بھی اہل یورپ کے پیچھے لگ کر اپنے مشن کو بھول چکے ہیں۔ تبلیغ دین ، تصنیف و تالیف اور جہاد فرض ہے نئی پود کی تربیت انہی چیزوں سے ہوتی ہے اگر تعلیم وتربیت ہی ختم ہوجائے تو فرائض کی ادائیگی کیسے ہو سکے گی۔ لہٰذا ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اپنے اپنے حلقہ اثر میں اپنی اپنی اہلیت اور صلاحیت کے مطابق اپنے مسلمان بھائیوں کے لیے خیر خواہی کا ثبوت مہیا کرے۔ یہ جہالت کا نتیجہ ہے کہ آج کسی کو نکاح طلاق کی مبادیات سے بھی واقفیت نہیں اور پھر افسوس کی بات یہ ہے کہ لوگ سیکھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے عام دیکھنے میں آتا ہے کہ اگر طلاق کی نوبت آجائے تو ایسی تحریر کریں گے جس سے کئی پیچیدگیاں پیدا ہوجائیں۔ حلال و حرام کا مسئلہ بھی ایسا ہی ہے حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنا دیا جاتا ہے یہ سب باتیں ایک عام مسلمان کے سیکھنے کی ہیں مگر اس طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔
وسائل سے استفادہ :
دنیائے اسلام اس وقت قدرتی وسائل سے مالا مال ہے صرف اس سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے اقتصادی لحاظ سے دنیا میں تیل کو بہت اہمیت حاصل ہے امن کی حالت میں بھی اس کے بغیر گزارہ نہیں مگر جنگ کی حالت میں تو تیل ایک موثر ہتھیار ہے مسلمانوں کے پاس یہ چیز وافر مقدار میں موجود ہے دیگر مع دنیات کی بھی کمی نہیں مگر اس کے باوجود ان کو دنیا میں عزت ووقار حاصل نہیں وجہ یہ ہے کہ مسلمان اللہ کے عطا کردہ وسائل سے استفادہ نہیں حاصل کر پاتے۔ ان میں صلاحیت موجود ہے مگر محنت اور قربانی کا جذبہ مفقود ہے عرب ممالک پچاس ساٹھ سال سے تیل پیدا کر رہیں مگر اس کے لیے ماہرین ابھی تک امریکہ اور جرمنی سے آتے ہیں۔ آج تک اپنے انجینئر پیدا نہیں کرسکے ، کہیں نقص پڑجائے تو اسے درست نہیں کرسکتے۔ اس کے لیے بھی ماہرین درآمد کرنا پڑتے ہیں۔ خود تعلیم حاصل کریں۔ تجربات کریں اور کم از کم اپنے کام میں تو خود کفیل ہوجائیں اور بیرونی ماہرین کو ادا کی جانے والی بڑی بڑی رق میں بچا سکیں یہ پستی کی نشانی ہے آرام طلب ہوگئے ہیں اور محنت سے جی چراتے ہیں حالانکہ محنت اور جذبے کے بغیر کوئی چیز حاصل نہیں ہو سکتی۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ جس قدر ہو سکے اپنے اندر قوت پیدا کرو ، وسائل کو بروئے کا ر لائو ، اسلحہ تیار کرو۔ مجاہدین کی بہترین تربیت کرو تا کہ تم دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکو۔
مسلمانوں نے اپنے ابتدائی دور میں خوب محنت کی۔ ان میں قربانی کا جذبہ اور غلبہ دین کی تڑپ تھی۔ جس کے اثرات سات سو سال تک دنیا میں موجود رہے اور اسلام کی عالمگیر حیثیت دنیا میں قائم رہی ، تمام دنیا پر اہل اسلام کی سیاست چلتی تھی مگر جب انحطاط شروع ہوا تو تمام وسائل موجود ہونے کے باوجود مسلمان دنیا میں تیسرے درجے کے باشندے بن گئے ہیں دنیا میں ان کی کوئی قدرومنزلت نہیں۔ اس زمانے میں بھی اہل ایمان میں بڑے بڑے قابل دماغ ہیں با صلاحت نوجوان موجود ہیں مگر حکومت اور قومی اداروں کی طرف سے حوصلہ افزائی نہیں ہوتی۔ لائق نوجوان کسی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں مگر ان سے استفادہ حاصل نہیں کیا جا رہا ، یہی بدقسمتی ہے۔
مسلمانوں کے جنگی معرکے :
فرمایا دشمن کے مقابلہ میں حسب اسطاعت تیاری کرو قوت کے ساتھ (آیت) ” ومن رباط الخیل “ اور باندھے ہوئے گھوڑوں کے ساتھ ، یہاں پر اللہ نے جنگی مقصد کے لیے گھوڑوں کا خاص طور پر ذکر کیا ہے گھوڑا بڑا بابرکت جانور ہے اور اس کی یہ برکت قیامت تک موجود ررہیگی۔ اگرچہ آجکل گھوڑوں کی جگہ چیپوں اور ٹینکوں نے لے لی مگر پھر بھی دنیا میں ایسے ایسے پہاڑی مقامات ہیں جہاں گھوڑے اور خچر ہی کام دے سکتے ہیں۔ فرمایا جنگی تیاری کا مقصد یہ ہے (آیت) ” ترھبون بہ عدو اللہ وعدوکم “ کہ اس کے ذریعے تم اللہ اور اپنے دشمنوں کو خوفزدہ کرسکو۔ جنگی تیاری جاری رکھو گے تو دشمن کو آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی جراء ت نہیں ہوگی اور اگر تم آرام طلب بن گئے ، جہاد کے لیے سامان کرنا چھوڑ دیا تو دشمن مسلط ہوجائے گا اور پھر تم غلام بن جائو گے اسی لیے فرمایا کہ اپنی تیاری جاری رکھو تا کہ دشمن تم سے ڈرتا رہے (آیت) ” واخرین من دونھم “ اور ان کے علاوہ کچھ دوسرے لوگوں کو بھی خوف زدہ کرسکو یعنی قریش مکہ اور مشرکین عرب وغیرہ (آیت) ” لا تعلمونھم “ کہ جن کو تم نہیں جانتے (آیت) ” اللہ یعلمھم “ بلکہ اللہ انہیں خوب جانتا ہے۔
مولانا سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ ان سے رومی اور ایرانی لوگ مراد ہیں۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو اسلام اور اہل اسلام کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں مسلمان ان سے غافل ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ اللہ نے یاد دلایا کہ تمہارے دشمن صرف عرب کے لوگ ہیں نہیں بلکہ تمہیں دنیا کی بڑی بڑی طاقتوں سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ لہٰذا اس کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دو ۔ سورة قتال میں بھی ذکر ہے کہ آج جو لوگ پیچھے ہٹ رہے ہیں کل ان کو بڑی بڑی جنگوں کے لیے دعوت دی جائیگی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور اس کی اعانت ونصرت سے مسلمانوں نے بڑی بڑی جنگیں لڑیں اور ان میں فتح حاصل کی۔ اس وقت مسلمانوں میں کمال درجے کی اطاعت اور جذبہ پایاجاتا تھا۔ مصر کی فتح کے حالات پڑھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے قادسیہ کے معرکے میں مسلمانوں نے کتنی عظیم قربانیاں پیش کیں۔ ایرانی جنگیں کیسے لڑیں۔ صوبہ خراساں اور پھر بربرتک مسلمان بڑھتے چلے گئے یہ سب جذبہ ایمان اور جنگی تیاری کی وجہ سے تھا۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ اب یہ دونوں چیزیں مفقود ہیں۔
جہاد ذریعہ حیات ہے :
حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ عام صدقہ و خیرات کا اجر دس گنا ہے جب کہ جہاد کے لیے خرچ کیے گئے پیشے کے اجر کے ابتداء سات سو گنا سے شروع ہوتی ہے اور پھر بغیر تحدید کے بڑھتی چلی جاتی ہے ایک شخص نے جہاد کے لیے ایک اونٹنی حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کی۔ آپ نے فرمایا ، تمہیں قیامت کے دن سات سو اونٹنیاں بمعہ پالان ملیں گی یعنی پورے سازوسامان کے ساتھ لدی ہوئی ہوں گی۔ حضور ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے ” ذروۃ سنامہ الجھاد “ یعنی اسلام کے کوہان کی بلندی جہاد ہے ۔ جہاد کرو گے تو عزت حاصل ہوگی ، دشمن مغلوب ہوگا۔ بدمعاشی کا قلع قمع ہوگا اور دنیا امن وامان کا گہوراہ بن جائیگی۔ حدود قائم ہونگی اور اسلام کو سربلندی حاصل ہوگی۔ اگر جہاد کو ترک کر دو گے تو پستی کی گہرائیوں میں گر جائو گے۔ اگر حدود اللہ نافذ نہیں کروگے تو دشمن ریشہ دوانیاں کریں گے پھر تم کہیں غلام بن جائو گے اور کہیں مغلوب ہو جائو گے حضور ﷺ کا فرمان ہے جو قوم جہاد ترک کردیتی ہے وہ ذلیل و خوار ہو کر رہ جاتی ہے اس کو عزت نصیب نہیں ہو سکتی جب تک اپنے دین کی طرف لوٹ کر نہیں آئو گے ، عزت ووقار حاصل نہیں ہوگا فرمایا ” حتی ترجعوا الی دینکم “ یہاں تک کہ تم اپنے دین کی طرف لوٹ آئو اگلی سورة میں اس ضمن میں بہت سی باتیں آئیں گی۔
مالی جہاد کا اخیر :
فرمایا (آیت) ” وما تنفقوا من شیء فی سبیل اللہ “ تم اللہ کے راستے میں یعنی جہاد کی مد میں جو کچھ بھی خرچ کرو گے (آیت) ” یوف الیکم “ تمہیں اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ جہاد کے لیے ایک کا بدلہ سات سو گنا سے شروع ہوتا ہے تم اتنے عظیم اجر کے مستحق ہو جائو گے۔ (آیت) ” وانتم لا تظلمون “ اور تم پر کسی قسم کی زیادتی نہیں کی جائیگی۔ تمہارا کوئی عمل اور کوئی نیکی رائیگاں نہیں جائیگی ہر چیز اللہ کے ریکارڈ میں موجود ہے اور وقت آنے پر اس کی قدردانی ہوگی اور اس کا پورا پورا اجر دیا جائے گا کسی کی نیکی ضائع کر کے اس پر زیادتی نہیں کی جائیگی۔