8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 8:38–40

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader

(اے پیغمبر) آپ کہہ دیں ان لوگوں سے جنہوں نے کفر کیا ، اگر وہ باز آجائیں تو معاف کردیا جائے گا جو پہلے ہوچکا ہے اور اگر وہ پلٹ کر کریں گے ( وہی بات) پس تحقیق گزر چکا ہے دستور پہلے لوگوں کا

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader

اور (اے اہل ایمان) لڑو ان ( کفروشرک کرنے والوں) سے یہاں تک کہ نہ رہے فساد اور ہوجائے اطاعت سب کی سب اللہ کے لیے ۔ پھر اگر یہ باز آجائیں تو بیشک اللہ تعالیٰ جو کچھ وہ کام کرتے ہیں اسے دیکھتا ہے

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader

اور اگر وہ رو گردانی کریں تو جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ تمہارا آقا ہے۔ وہ بہترآقا ہے اور بہتر مددگار

ربطِ آیات : گزشتہ درس میں اس بات کا ذکر کیا گیا تھا کہ کافر لوگ اپنے مالوں کو اسلام کے راستے میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے خرچ کرتے ہیں اللہ نے فرمایا کہ ان کا خرچ کیا ہوا یہی مال ان کے لیے حسرت کا باعث بن جائے گا۔ یہ لوگ دنیا میں بھی اسلام کے ہاتھوں مغلوب ہوں گے اور آخرت میں ان کو جہنم میں جھونک دیا جائے گا۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ وہ خبیث کو طیب سے الگ کر دے گا اور پھر ہر ایک کو اپنے اپنے مرکز اور ٹھکانے تک پہنچا دے گا خبیث انسان ہو یا مال ہو یا ان کے عقائد سب کو ایک ڈھیر بنا کر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ معافی کی گنجائش : اسی سلسلہ کلام کو آگے بڑھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا ہے (آیت) ” قل للذین کفروا “ آپ ان کافروں سے کہہ دیں (آیت) ” ان ینتھوا اگر یہ کفر اور شرک سے باز آجائیں دین کے راستے میں رکاوٹ نہ ڈالیں اور فتنہ و فساد کو ترک کردیں (آیت) ” یغفرلھم ما قد سلف تو ان کی سابقہ غلطیاں معاف کردی جائیں گی۔ یہ لوگ پیغمبر اسلام اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ اگرچہ عداوت اور سرکشی کا سلوک کرتے رہے ہیں تا ہم اللہ تعالیٰ ایمان لانے کی بدولت ان کے سابقہ تمام گناہوں کو معاف فرما دے گا۔ حضور ﷺ کا بھی فرمان ہے ” الاسلام یھدم ما کان قبلہ “ سچے دل سے ایمان لانا سابقہ غلطیوں کو مٹا دیتا ہے اسی لیے فرمایا کہ اگر یہ کفار ومشرکین اب بھ باز آجائیں اسلام کی مخالفت ترک کر کے اسے قبول کرلیں تو ان سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔ سرشکی کا وبال : فرمایا (آیت) ” وان یعودا “ اگر یہ لوگ پلٹ کر اسی طرح لوگوں کو اسلام کے راستے سے روکیں گے ، جنگ وجدال کا بازار گرم کریں گے ، فساد فی الارض کے مرتکب ہوں گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا (آیت) ” فقد مضت سنت الاولین “ کہ پہلے لوگوں کا دستور گزر چکا ہے۔ یعنی اس سے قبل بھی جن لوگوں نے انبیاء کی تکذیب کی اور ان کے ساتھ عداوت رکھی وہ بالآخر ذلیل و خوار ہوئے ، اسی طرح یہ لوگ بھی اگر اپنی حرکات پر مصر رہے تو اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے بلکہ کسی نہ کسی سزا میں ضرور مبتلا ہو کر رہیں گے۔ یہی سنت اللہ اور یہی ایام اللہ ہے۔ اللہ نے نافرمان لوگوں کا قرآن پاک میں بار بار تذکرہ کر کے خبردار کیا ہے کہ جو کوئی ان کے راستے پر چلے گا ، خدائی دستور کے مطابق اس سے ویسا ہی سلوک کیا جائے گا۔ فسا کی بیخ کنی : آپ کو یاد ہوگا کہ جہاد کا پانچواں اصول یہ بیان کیا گیا تھا کہ اگر تم تقویٰ کی راہ اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے فیسلہ کن بات ظاہر کر دے گا ، تمہیں غلبہ نصیب ہوگا اور تمہارے تمام شکوک و شبہات رفع ہوجائیں گے اسی اصول کی جزیات کے طور پر ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وقاتلوھم حتی لا تکون فتنۃ “ کفار ومشرکین سے لڑتے رہو یہاں تک کہ کوئی فتنہ باقہ نہ رہے۔ فتنہ سے متعلق پیچھے تیسرے رکوع میں بھی گزر چکا ہے (آیت) ” واعلموا انما اموالکم واولادکم فتنۃ “ یعنی یاد رکھو ، تمارے مال اور تمہاری اولاد فتنہ ہیں۔ فتنہ کا لغوی معنی سونے کو کٹھالی میں ڈال کر پگھلانا ہے تا کہ اس کی میل کچیل صاف ہوجائے اور یہ چیز آزمائش کا باعث ہوتی ہے ، چناچہ انسان کا مال اور اس کی اولاد اس کے لیے آزمائش کا باعث ہوتے ہیں۔ انسان ان دو چیزوں کی وجہ سے کئی قسم کی برائیوں میں مبتلا ہوتا ہے۔ اولاد کی خاطر دھوکہ ، فریب اور چوری کا ارتکاب کرتا ہے اور مشتبہ اور حرام مال کے حصول سے بھی اجتناب نہیں کرتا۔ مال اس لحاظ سے آزمائش ہے کہ اسی کی وجہ سے انسان میں غرور وتکبر اور سرکشی آتی ہے ۔ البتہ الہ ایمان کے لیے حضور ﷺ کا فرمانِ مبارک ہے ” ونعم صاحب المسلم ھو لمن اعطی منہ المسکین والیتیم وابن السبیل “ مال مسلمان کے لیے اچھا صاحب ہے مگر اس کے لیے جو یتیم اور مسکین اور مسافر کا حق ادا کرتا ہے چونکہ اکثر لوگ مستحقین کا حق ادا نہیں کرتے لہٰذا وہ مال کے فتنہ میں مبتلا رہتے ہیں۔ فتنہ سے مراد شرک ہے : حضرت امام حسن بصری (رح) جلیل القدر تابعین میں سے ہیں۔ آپ 22 ھ؁ میں پیدا ہوئے اور 110 ھ؁ میں وفات پائی۔ آپ غلام اور لونڈی زادے تھے آپ نے ام المومنین ام سلمہ ؓ کا دودھ پیا۔ آپ بڑے عالم ، زاہد اور متقی تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو برا اعزاز بخشا ، حضرت انس ؓ فرمایا کرتے تھے کہ جب تمہارے درمیان حسن بصری موجود ہوں تو کسی دوسرے سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے ، انہی سے تمام مسائل دریافت کیا کرو۔ بزرگوں کے تمام سلاسل چشتیہ ، قادریہ وغیرہ کی انتہا حضرت حسن بصری پر ہوتی ہے اور یہ سلسلہ حضرت علی اور حضور ﷺ تک پہنچتا ہے۔ بہرحال حضرت حسن بصری (رح) اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ اس مقام پر فتنہ سے مراد شرک ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان اس طرح ہے کہ کفار ومشرکین سے جنگ جاری رکھو (آیت) ” حتی لا تکون فتنہ “ حتی کی شرک کا غلبہ باقی نہ رہے۔ جزیہ کا مسئلہ : یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کفار ومشرکین سے جزیہ قبول کر کے انہیں اسلامی حکومت کی پناہ میں رہنے کی اجازت دی جاسکتی ہے یا نہیں ؟ امام ابوحنیفہ اور امام احمد فرماتے ہیں کہ عرب کے کفار و مشرکین سے جزیہ قبول نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ یا تو ایمان قبول کرلیں یا وہ اسلام کا مرکز یعنی عرب کا خطہ چھوڑ جائیں۔ اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو پھر انہیں ختم کردیا جائے گا۔ کیونکہ مرکز دین میں دو دین اکٹھے نہیں چل سکتے۔ البتہ عجم کے غیر مسلموں سے جزیہ قبول کیا جاسکتا ہے حضور ﷺ نے بطور وصیت ارشاد فرمایا کہ میں یہود ونصاریٰ کو جزیرہ عرب سے نکال دوں گا۔ پھر آپ نے اپنی عمر کے آخری حصے میں فرمایا ” اخرجوا الیھود من جزیرہ العرب “ یعنی یہودیوں کو جزیرہ عرب سے نکال باہر کیا جائے حضرت عمر ؓ نے اس وصیت پر عمل کرتے ہوئے خیبر کے یہودیوں کو نکال دیا جو تیما اور فلسطین وغیرہ میں جا کر آباد ہوگئے اور اس طرح عرب کا خطہ ان سے پاک ہوگیا۔ بہرحال شرک کفر سے بھی بڑا فتنہ ہے کیونکہ (آیت) ” ان الشرک لظلم عظیم “ ( سورة لقمان) شرک سب سے برا ظلم ہے اور کافروں کے متعلق (آیت) ” والکفرون ھم الظلمون “ کفر کرنے والے ہی ظالم ہیں۔ کفر کا معنی اللہ کے دین اور شریعت کا انکار کرنا اور شرک سے مراد اللہ کی ذات ، صفات یا عبادت میں کسی دوسرے کو شریک کرنا ہے فرمایا یہ سب سے بڑا فتنہ ہے ، لہٰذا جنگ کرتے رہو یہاں تک کہ یہ باقی نہ رہے۔ فتنہ سے مراد بدامنی ہے : بعض دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس مقام پر فتنہ سے مراد فساد ، سرکشی ، بغاوت اور بدامنی ہے۔ لہٰذا جب تک دینا میں امن وامان قائم نہ ہوجائے اس وقت تک کفار ومشرکین سے برسرپیکار رہو اسلام کے راستے میں رکاوٹ بھی جھگڑا ، فساد اور بدامنی کا پیش خیمہ ہے ، لہٰذا آیت کریمہ کا یہ مطلب بھی ہے کہ اس وقت تک جہاد کرتے رہو جب تک تبلیغ دین کے راستے میں کوئی بھی رکاوٹ موجو دہو۔ جب دین کے راستے کی تمام رکاوٹیں دور ہوجائیں ، اسلام کی تبلیغ کا راستہ روکنے والا کوئی باقی نہ رہے تو اس وقت جہاد کو موقوف کرنے کی اجازت ہے امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ اخلال بالشرائع یعنی اللہ کے دین اور شریعت میں خلل ڈالنے کا نام فساد فی الارض ہے اگر کسی جگہ اللہ کے دین کی عملداری نہ ہو تو وہاں پر ایسے قانون کے نفاذ کے لیے جہاد ضروری ہوجاتا ہے جہاد ہی ایسا عمل ہے جو چوری ، ڈاکہ ، زنا ، قتل ، ناحق اور فتنہ و فساد کا قلع قمع کریگا ، لہٰذا جہاد ایک ضروری عمل ہے ، اگر قانون الہٰی کی خلاف ورزی اندرونِ ملک سے ہوتی ہے تو اسے تعزیر کے ذریعے درست کیا جائیگا۔ اور اگر قانونِ الٰہی کی مزاحمت بیرونِ ملک سے ہوت و پھر ایسی طاقتوں کے خلاف جہادِ فرض ہوتا ہے مقصد بہرحال یہی ہے کہ دنیا سے فتنہ فساد ، کفر شرک ، بغاوت وسرکشی کا دوردورہ ختم ہو کر اللہ کی زمین امن وامان کا گہوارہ بن جائے۔ دین کی سربلندی : فرمایا جہاد کی ایک غرض تو یہ ہے کہ زمین پر فتنہ باقی نہ رہے اور دوسری یہ کہ (آیت) ” ویکون الدین کلہ للہ “ اور اطاعت سب کی سب اللہ کے لیے ہوجائے۔ جب کسی قوم سوسائٹی یا ملک میں اللہ کے دین کے علاوہ کوئی دوسرا قانون نافذ ہوگا۔ تو یہ غیر اللہ کی اطاعت ہوگی اور اللہ تعالیٰ کی مکمل اطاعت نہیں ہوگی۔ اس وقت پاکستان میں انگریز کا قانون رائج ہے تو یہ انگریز کی اطاعت ہے اور اگر مارشل لاء کا ضابطہ ہے تو یہ بھی غیر اللہ کی اطاعت کے مترادف ہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اس وقت ہوگی جب مکمل طور پر اللہ کے دین کی حکمرانی ہوگی اور ملک میں شریعت مطہرہ کو بالادستی اور سربلندی حاصل ہوگی۔ جب تک یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا اس وقت تک جہاد کا حکم باقی ہے۔ سورۃ انفال اور توبہ میں صلح وجنگ سے متعلق کل تیراہ اصول اور کچھ ضمنی باتیں بیان کی گئی ہیں اور ان تمام کا مقصد اللہ کے دین کا غلبہ ہے ۔ آگے بتایا جائیگا کہ جہاد سے مراد ملک گیری نہیں ، نہ محض لونڈیاں اور مال و دولت حاصل کرنا ہے اور نہ کسی قوم کا محض خاتمہ مطلوب ہے بلکہ جہاد کا اصل مقصد یہ ہے کہ اللہ کا دین سربلند و غالب ہو اور اللہ کی بات ہی اونچی ہو۔ اس کے مقابلے میں شیطان اور غیر اللہ کی بات پست ہوجائے۔ اس لحاظ سے جہاد ایک عبادت بھی ہے اور جملہ پانچ عبادات نماز ، روزہ ، زکوۃ ، حج اور جہاد میں ایک ہے آگے مال غنیمت کی تقسیم کا مسئلہ بھی آئے گا مگر یہ بھی ضمنی بات ہے اصل چیز یہی ہے کہ اللہ کا دین سربلند ہوجائے اور اطاعت ساری کی ساری اللہ تعالیٰ کے لیے ہو۔ جب تک اہل اسلام جہاد پر عمل پیرا رہیں گے ، ان کو دنیا میں عزت وقار حاصل رہیگا ، جب جہاد کو ترک کردیں گے تو ذلیل و خوار ہو کر رہ جائیں گے۔ اچھی تعلیم وتربیت : تاریخ شاہد ہے کہ جب سے مسلمانوں پر تنزل کی فضا چھائی ہے ان کا دین رہا نہ اخلاق ، ان کی تربیت ہی ختم ہوگئی ہے حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جو شخص اپنے بچے کو مختلف مواقع پر انعامات دیتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو ادب کی ایک بات سکھلا دے یہ اس کے لیے ایک صاع اناج صدقہ کرنے سے بہتر ہے ، صدقہ کرنے سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے کیونکہ اس سے محتاجوں کی حاجت پوری ہوتی ہے۔ لیکن ادب کی ایک بات اس سے بھی بہتر ہے ۔ شرح السنۃ میں یہ حدیث موجود ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ والدین سے پوچھے گا کہ تم نے اپنی اولاد کی کیسی تربیت کی۔ اور اولاد سے پوچھے گا کہ تم نے اپنے والدین کی کہاں تک اطاعت کی۔ لہٰذا چھوٹی عمر یعنی چودہ سال تک بچے کی تربیت والدین پر لازم ہے ۔ پھر جب وہ بالغ ہوجائے اور سوسائٹی کا ممبر بن جائے تو خود ذمہ دار ہوجاتا ہے ، والدین کے علاوہ جماعت اور سوسائٹی پر بھی لازم ہے کہ وہ لوگوں کی اچھی تربیت کا انتظام کرے ۔ یہ ذمہ داری حکومت پر بھی عائد ہوتی ہے کہ نظام تعلیم ایسا ہو کہ جس میں بچے کی تعلیم وتربیت اسلامی اصولوں کے مطابق ہو۔ مگر یہاں تو زریعہ تعلیم ہی انگریزی ہے جو کہ شیطانی طریقہ ہے اور سکولوں اور کالجوں میں یہی رائج ہے اس سے اچھے معاشرے کی تشکیل کی کیا توقع کی جا ست کی ہے اس نظام تعلیم کے ذریعے تو نظام حکومت چلانے والے بیوروکریٹ ہی پیدا ہو گے حالانکہ اسلامی طرز حکومت کے لیے اسلامی طرز تعلیم وتربیت کی ضرورت ہے جس کو اپنانے کے لیے ہر حکومت گریزاں رہی ہے ہمارے سامنے اولیاء اللہ کی مثالیں موجود ہیں جن کی تربیت اچھے لوگوں نے اچھے طریقے سے کی لہٰذا وہ خود اخلاق کی بلندیوں تک پہنچے اور دوسروں کے لیے لائحہ عمل چھوڑ گئے بہرحال فرمایا کہ کفر وشرک سے لڑتے رہو یہاں تک کہ اطاعت پوری کی پوری اللہ تعالیٰ کے لیے ہوجائے۔ کارساز و مددگار : فرمایا (آیت) ” فان انتھوا اگر کافر ومشرک لوگ کفر وشرک سے باز آجائیں (آیت) ” فان اللہ بما یعلمون بصیر تو ان کے ہر کام اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہیں وہ جانتا ہے کہ کسی شخص میں کتنا خلوص اور کتنا نفاق ہے اور کفر وشرک سے باز آگیا ہے یا نہیں ؟ اللہ تعالیٰ اس کے اندرونی اور بیرونی حالات سے واقف ہے۔ فرمایا (آیت) ” وان تولوا “ اگر وہ اللہ کی بات سے روگردانی کریں گے (آیت) ” فاعلموا ان اللہ اموالکم “ تو جان لو کہ تمہارا کارساز اور آقا اللہ ہی ہے فرمایا خدا تعالیٰ کوئی معمولی کارساز نہیں بلکہ (آیت) ” نعم المولی “ وہ بہترین کارساز ہے (آیت) ” ونعم النصیر “ اور بہترین مدد گا رہے۔ اگر تم دین کی مدد کے لیے آگے بڑھو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کریگا یہ اس کا وعدہ ہے کہ اگر تم اللہ کے رسول کی تائید ، اقامت دین اور کفر وشرک کی بیخ کنی کے لیے کمر بستہ ہو جائو گے تو اللہ تعالیٰ کی مدد ضرور تمہارے شامل حال ہوگی۔
Ayah 8:41

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 8:41 in the Quran reader

اور اچھے طریقے سے جان لو کہ بیشک تم نے جو حاصل کیا غنیمت میں ، پس بیشک اللہ تعالیٰ کی لیے ہے اس کا پانچواں حصہ اور اللہ کے رسول کے لیے ، اور اللہ کے رسول کے قربتدارون کے لیے اور یتیموں کے لیے اور مسکینوں کے لیے اور مسافروں کے لیے ، اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جس کو ہم نے اتارا اپنے بندے پر فیصلے کے دن ، جس دن کہ دوجماعتیں آپس میں ملیں ، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے

ربطِ آیات : گذشتہ درس میں جہاد کی غایت بیان کی گئی کہ اس سے مقصود فتنہ و فساد کو مٹانا ہے تا کہ اطاعت صرف اللہ تعالیٰ کی ہو اور زمین میں اس کے دین کو غلبہ حاصل ہو ، اگر اہل ایمان اس نیت اور ارادے کے ساتھ خدا تعالیٰ کی ذات پر بھروسہ کرتے ہوئے دشمن کا مقابلہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ ضرور ان کی مدد کرے گا اور انہیں کامیابی سے ہمکنار کرے گا کیونکہ (آیت) ” نعم المولیٰ “ اللہ تعالیٰ بہت ہی اچھا آقا (آیت) ” ونعم النصیر “ اور بہت ہی اچھا مدد کرنے والا ہے۔ انفال غنیمت اور فئے : جہاد کے ضمن میں غنیمت کا مسئلہ بھی پیدا ہوا ہے۔ اس سورة کی ابتدائی آیت (آیت) ” یسئلونک عن الانفال میں بھی مال غنیمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہاں پر صرف جماعتی نظم ونسق کے اعتبار سے یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ تقسیم غنیمت کے معاملہ میں اہل ایمان کو جھگڑا نہیں کرنا چاہیے ، یہ مال تو اللہ تعالیٰ کا ہے وہ اپنی حکمت کے مطابق جس طرح چاہے اس کا فیصلہ کرے ، جماعت المسلمین کو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل لازم ہے اب آج کے درس میں مال غنیمت کی تقسیم کا قانون بیان کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ قرآن پاک میں مال غنیمت کے متعلق تین الفاظ استعمال ہوئے ہیں اس سورة میں انفال اور غنیمت کے الفاظ ہیں جب کہ سورة حشر میں فے کا لفظ آیا ہے جو مال دشمن کے ساتھ جنگ کر کے حاصل کیا جائے وہ غنیمت کہلاتا ہے اور جو مال صلح وصفائی کے ساتھ کسی معاہدہ کے تحت حاصل ہو اسے فئے کہتے ہیں اور انفال کا اطلاق دونوں قسم کے اموال پر ہوتا ہے۔ سابقہ امتوں کے لیے مال غنیمت حلال نہیں تھا صحیح احادیث میں آتا ہے کہ اس قسم کے جمع شدہ مال کو ٹھکانے لگانے کا طریق کار یہ تھا کہ اسے کسی خاص مقام پر ڈھیر کردیا جاتا جسے غیبی آگ آکر جلا ڈالتی۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ ہماری امت میں ایسے مال کا حکم یہ ” ولما رای ضعفنا وعجزنا “ پھر جب اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور عاجزی کو دیکھا تو مال غنیمت کو ہمارے لیے حلال وطیب قرار دیدیا ، لہٰذا یہ آخر امت اس مال سے استفاد کرسکتی ہے البتہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تقسیم کا قانون بیان فرما دیا ہے مال فے چونکہ بغیر جنگ کے حاصل ہوتا ہے اس لیے اس میں مجاہدین کا حصہ نہیں ہوتا بلکہ وہ سارے کا سارا اجتماعی امور میں استعمال کیا جاتا ہے ایسے امور میں جہاد بھی شامل ہے ، غرباء و مساکین کی امداد بھی معاشرے کی مجموعی ذمہ داری ہے۔ اس کے علاوہ مساجد ومدارس کی تعمیر ہسپتال ، مسافر کا نے اور پانی کی بہم رسائی وغیر پر بھی یہ رقم خرچ کی جاسکتی ہے۔ مالِ غنیمت کا سخت حکم : مالِ غنیمت کی تقسیم کا قانون اس آیت میں بیان کیا گیا ہے یہ حکم بڑاسخت ہے اور اس میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے حضور ﷺ نے فرمایا کوئی شخص اپنی مرضی سے ایک سوئی یا جوتے کا تسمہ بھی نہیں لے سکتا ، یہ حرام ہے مال غنیمت میں خیانت کرنے کو چوری سے بھی سخت جرم قرار دیا گیا ہے ، مالِ غنیمت کی چوری کرنا جہنم کا نشانہ بننا ہے فرمایا کہ مال غنیمت کا ایک دھاگہ یا سوئی بھی کسی کے پاس ہو تو وہ لا کر رکھ دے ” فانہ عار وثنار یوم القیمۃ “ کیونکہ ایسی معمولی سی خیانت بھی شرم کی بات ہوگی اور اس کا بڑا وبال پڑے گا۔ حضور ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے ” شراک من النار وشراکان من النار “ مال غنیمت میں سے جوتے کا ایک تسمہ یا دو تسمے بھی اٹھائے ہیں تو وہ جہنم میں لے جائیں گے ایک موقع پر ایک شخص نے مال غنیمت میں سے کوئی معمولی سی چیز اٹھالی۔ اس کے بعد مال تقسیم ہوگیا۔ اس شخص کو بعد میں خیال آیا کہ اس سے غلطی سرزد ہوئی ہے چناچہ وہ چیز حضور ﷺ کی خدمت میں لے آیا۔ اس پر آپ نے فرمایا ج ، اب میں اس کا کیا کروں ، یہ تو جہنم کا مال ہے حضور ﷺ نے اونٹ کی اون کے ایک بال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس مال میں میرا تو اتنا بھی حق نہیں یعنی میرا ذاتی کوئی اختیار نہیں ، یہ مال اللہ عتالیٰ کے حکم کے مطابق تقسیم ہوتا ہے ، حضور ﷺ کا ایک غلام جہاد میں مارا گیا ، لوگوں نے حضور ﷺ کو خوشخبری دی کہ آپ کا غلام دشمن کے تیرے سے ہلاک ہوگیا آپ نے فرمایا کلا وہ شہید نہیں ہے بلکہ وہ تو جہنم میں پڑا ہے کیونکہ اس نے مال غنیمت سے ایک چادر چوری کرلی تھی۔ اب وہی چادر جہنم میں آگ کے شعلے بن کر اس کے جسم کے گرد لپٹ رہی ہے یہ سن کر لوگ بڑے خوفزدہ ہوئے اور اس کے بعد کسی شخص نے مال غنیمت میں سے کوئی چیز بلا اجازت وتقسیم حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ تقسیم مال سے پہلے کوئی چیز حاصل کرنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ وہ چیز امیر لشکر یا حاکم وقت کی اجازت سے حاصل کی جائے۔ مالِ غنیمت کے حصص : مال غنیمت کا مسئلہ سب سے پہلے جنگ بدر کے مواقع پر پیدا ہوا اور اللہ تعالیٰ نے اس کی تقسیم کا یہ قانون بیان فرمایا ۔ (آیت) ” واعلموا انما غنمتم من شئی “ خوب جان لو ! تمہیں جو چیز بھی غنیمت میں حاسل ہو ، اسلحہ ہو یا اشیائے خورد ونوش یا دیگر سامان (آیت) ” فان للہ خمسہ “ اس کا پانچواں حصہ اللہ تعالیٰ کی نیاز ہوگی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کل مال غنیمت کے پانچ حصے کیے جائیں گے جن میں سے چار حصے تو جہاد میں شریک ہونے والے غازیوں میں تقسیم ہوں گے اور پانچواں حصہ ان مدات پر خرچ کیا جائے گا جن کا ذکر اس آیت کریمہ میں کیا گیا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جن حصہ داروں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں اللہ تعالیٰ کا نام سر فہرست ہے مگر یہ محض تبرک کے طور پر ذکر کیا گیا ہے کیونکہ اللہ ہی ہر چیز کا حقیقی مالک ہے اور اسے کسی چیز کی ضرورت بھی نہیں بعض فرماتے ہیں کہ اللہ کے حصے سے مراد یہ ہے کیہ اسے نیکی کے کاموں پر صرف کیا جائے۔ اس حصہ مال کو خانہ کعبہ پر خرچ کیا جائے کہ وہ اللہ کا گھر ہے اور کا نہ کعبہ دور ہو تو دیگرمساجد پر خرچ کردیا جائے تا ہم زیادہ تر فقہاء کرام اس طرف گئے ہیں کہ فی الحقیقت اس مال میں اللہ کا حصہ نہیں ہے اور یہاں اس کا ذکر محض تبرک کے طور پر کیا گیا ہے۔ فرمایا اس خمس میں اللہ کا حصہ ہے (آیت) ” وللرسول “ اور اللہ کے رسول کا حصہ ہے ، رسول اللہ کا نائب ہے جو اس کے احکام مخلوق تک پہنچاتا ہے۔ لہٰذا ایک حصہ اس کے ذاتی مصارف کے لیے رکھا گیا ہے (آیت) ” ولذی القربی “ ایک حصہ رسول کے قرابتداروں کا ہے آپ کے قرابتداروں میں دو خاندان بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب مراد ہیں۔ یہ دونوں خاندان اسلام کے دور سے پہلے بھی آپ کے ساتھ متفق تھے اور اسلام آنے کے بعد بھی متفق رہے ، لہٰذا ان کا حصہ بھی مقرر کیا گیا ہے اگرچہ ان خاندانوں کے بعض لوگ ایمان نہ لائے مگر وہ آپ کی مدد کرتے تھے خمس میں حضور ﷺ کے قرابتداروں کا حصہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ ان کے لیے زکوٰۃ لینا جائز نہیں حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ” ان الصدقۃ لا تحل لمحمد ولا آل محمد “ یعنی زکوٰۃ خیرات نہ محمد ﷺ کے لیے حلال ہے اور نہ آپ کی آل کے لیے۔ اور آل میں یہی دو خاندان آتے ہیں۔ جو اہل بیت کہلاتے ہیں تاہم قرابت دارون کا حصہ اسی صورت میں روا ہوگا جب کہ وہ آپ کی مدد کرتے ہوں۔ اس کے بعد فرمایا ایک ایک حصہ (آیت) ” والیتٰمی والمکسین “ یعنی یتیموں اور مسکینوں کا ہے اور ایک حصہ (آیت) ” وابن السبیل “ یعنی مسافروں کا ہے۔ غرضیکہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کل مال غنیمت کے پانچویں حصہ کو ان حصہ داروں میں تقسیم کرنے کا حکم دیا ہے یعنی اللہ ، اس کا رسول ، رسول کے قرابتدار ، یتیم ، مسکین اور مسافر جیسا کہ پہلے عرض کیا ، اللہ کا نام تو محض تبرک کے لیے ہے ، البتہ اللہ کا رسول اپنے ذاتی مصارف کے لیے اس میں سے اپنا حصہ لے سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ خمس کے آگے پھر پانچ حصے ہوں گے اور مذکورہ مدات پر تقسیم کردیئے جائیں گے۔ خمس کے ساقط شدہ حصص : اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کا حصہ اور آپ کے قرابتداروں کا حصہ تو آپ کی زندگی تک تھا آپ کے وصال کے بعد ان حصوں کیا کیا جائیگا ؟ تو اس ضمن میں امام شافعی (رح) اور بعض دوسرے آئمہ فرماتے ہیں کہ ان حصوں کا مال بیت المال میں جمع کردیا جائے گا۔ جو عوام کی اجتماعی ضروریات پر صرف ہوگا ، تا ہم امام ابوحنیفہ (رح) کا موقف یہ ہے کہ حضور ﷺ کا حصہ آپ کی حیات تک ہی تھا ، آپ کے وصال کے بعد وہ ساقط ہوگیا ہے۔ اسی طرح آپ کے قرابتداروں کا حصہ بھی آپ کی معاونت کے ساتھ مشروط تھا۔ چونکہ آپ کے بعد یہ علت بھی ختم ہوگئی لہٰذا قرابتداروں کا حصہ بھی ساقط ہوگیا ، اور اب صرف تین مدات رہ گئیں یعنی یتیم ، مسکین اور مسافر البتہ بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب میں سے اگر کوئی آدمی یتیم ، مسکین اور مسافر کی مدات میں آئے گا تو وہ حقدار ٹھہرے گا اور مذکورہ تین مدات میں آئے گا۔ مجاہدین کے لیے طریق تقسیم : جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے کہ کل مال غنیمت کا خمس نکال کر باقی چار حصے جنگ میں شریک ہونے والے مجاہدین میں تقسیم ہوں گے اس کی واضح مثال خیبر کی ہے جہاں سے وصول ہونے والا مال پندرہ سو مجاہدین میں تقسیم کیا گیا۔ بہرحال مجاہدین میں تقسیم کا اصول یہ ہے کہ پیدل آدمی کو ایک حصہ اور گھوڑ سوار کو دو حصے ملیں گے۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور بعض باقی آئمہ کے مطابق گھوڑ سوار کے لیے تین حصوں کا ثبوت بھی موجود ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ عام قانون یہی ہے کہ کہ ایک حصہ پیدل کو اور دو حصے گھوڑ سوار کو دیئے جائیں گے ، تا ہم اگر حالات کی مناسبت سے حاکم وقت مناسب سمجھے تو سوار کو تین حصے بھی دے سکتا ہے اس میں جھگڑے کی کوئی بات نہیں ہے ، صرف حدیث کے مطلب کو سمجھنے کی بات ہے بعض لوگ امام صاحب کو بدنام کرتے ہیں کہ وہ حدیث پر عمل نہیں کرتے حالانکہ اصل چیز حدیث کے مفہوم کو سمجھنا ہے۔ امام صاحب صحیح حدیث کا مطلب اخذ کر کے اس کے مطابق فتوی دیتے ہیں بہرحال قانون یہی ہے۔ عورتوں بچوں اور غلاموں کا حصہ : بعض اوقات عورتیں بھی جہاد میں شریک ہوتی تھیں مگر حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے عورتوں کو غنیمت میں سے پورا حصہ نہیں دیا اسی طرح اگر بچہ یا غلام جنگ میں شریک ہوا ہے تو ان کا حق بھی تسلیم نہیں کیا۔ البتہ عورتوں ، بچوں اور غلاموں کی حوصلہ افزائی کے لیے کچھ نہ کچھ انہیں بھی دیے دیا جاتا۔ جو لوگ میدان جنگ میں کمک کے طور پر بعد میں آتے ہیں ، ان کا مسئلہ الگ ہے۔ اگر مجاہدین کی امداد کو آنے والے مال غنیمت کی تقسیم سے پہلے مجاہدین کے ساتھ آ ملیں تو ان کو بھی مال غنیمت میں سے حصہ ملیگا اگرچہ وہ جنگ میں شریک نہ ہوئے ہوں۔ خیبر کی لڑائی میں ایسا ہوا کہ جو لوگ تقسیم غنیمت سے پہلے پہنچ گئے حضور ﷺ نے ان کو حصہ دیا۔ اللہ اور فرشتوں پر ایمان : فرمایا مال غنیمت کی تقسیم کا اصول بیان کردیا گیا ہے ، اس کی پابندی کرو۔ (آیت) ” ان کنتم امنتم باللہ “ اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اس چیز پر ایمان رکھتے ہو (آیت) ” وما انزلنا علی عبدنا “ جو ہم نے اپنے بندے پر نازل فرمائی (آیت) ” یوم الفرقان “ فیصلے کے دن (آیت) ” یوم التقی الجمعن “ جس دن دو جماعتیں آپس میں ملیں یعنی مذبھیڑ ہوئی اور اس سے مراد جنگ بدر ہی کا دن ہے۔ اسی دن حق و باطل کا آمنا سامنا ہوا تھا اور وہی فیصلہ کن دن ثابت ہوا تو فرمایا اگر تم اللہ پر اور اس چیز پر ایمان لائے ہو جو اللہ نے اس دن نازل فرمائی ۔ ظاہر ہے کہ بدر کے دن اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو نازل فرما کر مسلمانوں کی مدد فرمائی تھی اس کا ذکر قرآن پاک کے مختلف مقامات پر آچکا ہے یعنی بدر کے دن اللہ نے ایک ہزار فرشتے نازل فرمائے ۔ پھر تین ہزار ار پانچ ہزار کا ذکر بھی آچکا ہے تو مطلب یہی ہوا کہ اگر تم اللہ تعالیٰ اور اس کے نازل کردہ فرشتوں پر ایمان رکھتے ہو توغنیمت کے احکام کی پابندی کرو۔ ظاہر ہے کہ اگر ایمان ہوگا تو انسان اللہ کے احکام پر عمل بھی کرے گا اور اگر ایمان ہی نہیں ہے تو عمل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ فرمایا (آیت) ” واللہ علی کل شیء قدیر “ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے وہ چاہے تو بےسروسامانی کی حالت میں اقلیت کو اکثریت پر غالب کر دے اور چاہے تو سامانِ ضرب وحرب سے لیس کثیر فوج کو شکست سے دوچار کر دے۔ یہ سب اس کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کے کرشمے ہیں۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
Ayahs 8:42–44

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:42 in the Quran reader

اور جس وقت تھے تم ادھر والے کنارے پر اور وہ (کافر) پرلے کنارے پر تھے اور قافلہ نیچے کی طرف اتر گیا تھا تم سے ۔ اور اگر تم آپس میں وعدہ کرتے تو خلاف کرتے وعدے میں ، لیکن تا کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کرے اس بات کا جو طے شدہ ہے تا کہ ہلاک ہو جو ہلاک ہوتا ہے کھلی دلیل کے بعد اور زندہ رہے جو زندہ رہتا ہے کھلی دلیل کے بعد اور بیشک اللہ تعالیٰ سننے والا ، جاننے والا ہے

اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 8:43 in the Quran reader

جب وہ دکھاتا تھا تمہیں ان لوگوں کو آپ کے خواب میں تھوڑے کر کے ۔ اور اگر دکھاتا تمہیں وہ زیادہ تو تم کمزور ہوجاتے اور جھگڑا کرتے معاملہ میں ، لیکن اللہ نے بچا لیا ، بیشک وہ سینوں کے رازوں کو جاننے والا ہے

وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 8:44 in the Quran reader

اور جب کہ دکھاتا تھا تم کو وہ تمہاری آنکھوں میں تھوڑے جب کہ تم نے ٹکر لی اور تمہیں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا ان کی آنکھوں میں تا کہ فیصلہ کرے اللہ تعالیٰ اس بات کا جو طے شدہ ہے ، اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں تمام معاملات

ربطِ آیات : گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے جہاد کے ضمن میں حاصل ہونے والے مال غنیمت کے حصص کا تذکرہ فرمایا کل مال کے پانچ حصے کیے جائیں گے جن میں سے چار حصے تو غازیوں میں تقسیم ہو جائینگے اور پانچواں حصہ یعنی خمس پھر آگے پانچ حصوں میں تقسیم ہوگا ، پھر ان میں سے ایک ایک حصہ (1) حضور ﷺ (2) آپ کے قرابت داروں (3) یتیموں (4) مسکینوں (5) مسافروں تقسیم کردیا جائیگا۔ حضور ﷺ کے وصال کے بعد آپ کا اور آپ کے مددگار قرابت داروں کا حصہ عملا ختم ہوگیا اب خمس کا مال صرف تین قسم کے مستحقین میں ہی قابل تقسیم ہے حضور ﷺ کے قرابت دار وہ ہیں جن کا تعلق بنو ہاشم اور بنو عبدالمطلب سے ہے آپ کے بعد ان کا علیحدہ حصہ تو ختم ہوگیا البتہ ان میں سے کوئی یتیم ، مسکین اور مسافر کی فہرست میں آتا ہے تو اس مال سے لینے کا حقدار ہوگا۔ فرمایا اگر تم اللہ اور فرشتوں پر یقین رکھتے ہو جو تمہاری مدد کی لے میدان بدر میں نازل ہوئے تو پھر مال غنیمت کے قانون پر پابندی ضروری ہے اور جب قوانین الہیہ کی پانندی کرو گے تو خود قانون والا تمہاری مد د اور نصرت فرمائیگا وہ ہر چیز پر قادر ہے اس کے اختیار اور تصرف سے کوئی چیز باہر نہیں۔ مقام بدر کا نقشہ : اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے جنگ والے دن مقام بدر کا نقشہ پیش کیا اور ان اسباب اور انعامات کا ذکر کیا ہے جو اس نے اہل ایمان کے حق میں مہیا فرمائے۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” اذ انتم بالعدوۃ الدنیا وھم بالعدوۃ القصوی “ اہل ایمان کو میدان جنگ کا نقشہ یاد دلایا جا رہا ہے کہ جب تم میدانِ کے اس کنارے پر تھے اور دشمن پر لے کنارے پر تھا (آیت) ” عدوۃ “ کنارے کو کہتے ہیں اور عدوۃ الدنیا سے مراد قریب والا کنارہ یعنی میدانِ جنگ کا وہ حصہ جو مدینہ شریف سے قریب ہے اور اسی مقام پر اسلامی لشکر نے پڑائو ڈالا تھا۔ عدوۃ القصویٰ کا معنی دور والا کنارہ ہے اور میدان کا یہ حصہ جس پر مشرکین قابض تھے نسبتا مدینہ سے بھع دور تھا اور مکہ معظمہ کا تو فاصلہ بہت زیادہ تھا۔ اس زمانے میں اونٹوں کی سواری کے سفر کے لحاظ سے بدر کا مقام مدینہ سے چار منزل پر اور مکہ سے آٹھ منزل پر ہے مقام بدر قدرے اونچی جگہ پر ہے جب کہ اس سے پرلا حصہ جو کہ ساحل سمندر کی طرف واقع ہے نسبتا نشیبی علاقہ ہے چونکہ اس میدان میں مشرکین پہلے پہنچے تھے۔ اس لیے انہوں نے نشیبی علاقہ کو پسند کیا کیونکہ وہاں پانی بھی تھا اور زمین بھی سخت تھی۔ اس کے برخلاف مسلمانوں نے جس حصہ میدان میں پڑائو کیا وہ نسبتا بلندی پر اور ریتلا علاقہ تھا جس میں سواری کے پائوں دھنس جاتے تھے اور نقل وحمل میں مشکلات پیش آتی تھیں۔ اس صورت حال کی بنا پر مسلمانوں میں قدرے تشویش بھی پائی جاتی تھی ، تا ہم اللہ نے اس موقع پر اپنا احسان فرمایا کہ جنگ کی رات کو بارش نازل فرما دی جس سے ریتلا علاقہ پختہ ہوگیا۔ مجاہدین کو پانی بھی میسر آگیا اور وہ تازہ دم ہوگئے۔ ادھر مشرکین کے حصہ میں بارش کی وجہ سے دلدل پیدا ہوگئی جس کی وجہ سے انہیں نقل وحمل میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی انعام فرمایا کہ ایک ہزار فرشتوں کا نزول فرمایا ، جنہوں نے اہل ایمان کے دلوں کو مضبوط کیا ، مسلمانوں پر تسکین نازل فرمائی اور ان کی پریشان خیالی کو دور کیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے راتوں رات ایسے اساب مہیا فرما دیے جو ایل ایمان کے حق میں تھے چناچہ اگلی صبح جب کفار مکہ کے ساتھ مقابلہ ہوا ، تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم فتح عطا کی ، کافروں کے بڑے بڑے سردار جنگ میں کام آئے اور ان کے ستر آدمی قیدی بھی بنے۔ اس آیت کریمہ میں للہ نے اپنے انہی احسانات کی طرف توجہ دلائی ہے یاد رہے کہ مقام بدر قدیم زمانے کے کسی شخص کے نام پر مشہور ہے اب وہاں بسوں کا اڈا ہے مسافروں کی سہولت کے لیے اشیائے خورد نوش میسر ہیں میدان کے سامنے پہاڑ ہیں ، معلوم ہوتا ہے کہ ان پہاڑوں میں تانبا پایا جاتا ہے جب ہوا ان پہاڑوں سے ٹکراتی ہے تو ایسی آواز پیدا ہوتی ہے جیسے کس چیز کے تانبے کے ساتھ ٹکرانے سے پیدا ہوتی ہے۔ بدر پر اتفاق اجتماع : فرمایا تم میدان کے ایک کنارے پر تھے اور کافر دوسرے کنارے پر (آیت) ” والرکب اسفل منکم “ اور اس دوران قافلہ نیچے اتر گیا تھا یعنی ساحل سمندر کی طرف چلا گیا تھا۔ اسی سورة کے درس سوئم میں جنگ بدر کا پش منظر اور اس تجارتی قافلے کا ذکر ہوچکا ہے جو جنگ بدر کی وجہ بنا ۔ قریش مکہ کا ایک تجارتی قافلہ شام سے واپس آرہا تھا۔ مسلمانوں نے اس کو پکڑنے کی کوشش کی۔ سردار قافلہ ابو سفیان کو مسلمانوں کے منصوبے کا علم ہوگیا۔ چناچہ اس نے ایک تیز رفتار سوار مکہ بھیج کر امداد طلب کرلی اس طرح مسلمانوں کا لشکر تجارتی قافلے کے تعاقب میں نکلا جب کہ لشکر کفار قافلے کو بچانے کے ارادے سے نکلا تھا مگر اللہ تعالیٰ کی حکمت میں ایسا ہی تھا کہ دونوں لشکر بدر کے مقام پر اتفاقا اکٹھے ہوگئے۔ ابتداء میں جنگ کا اور ادہ کسی فریق کا بھی نہ تھا مسلمان تو اس ارادے سے بالکل نہ نکلے تھے یہی وجہ ہے کہ ان کے پاس نہ تو عام ساز و سامان تھا اور نہ ہی آلات ضرب وحرب البتہ مشرکین ہر قسم کے حالات سے نبرد آزما ہونے کے لیے پوری تیاری سے نکلے مگر جب پتہ چلا کہ قافلہ ساحل سمندر کی طرف سے بچ کر نکل گیا ہے تو ان کے بعض لوگون نے رائے دی کہ اب واپس چلے جانا چاہیے۔ مگر ابو جہل جو اپنی طاقت پر مغرور تھا کہنے لگا کہ اب مٹھی بھر مسلمانوں کا کا تمہ ہی کر کے جائیں گے بہرحال ان حالات میں مسلمانوں اور کفار کے لشکر بدر کے مقام پر محض اتفاق سے آمنے سامنے ہوگئے اور جنگ کی نوبت آگئے اب یہاں پر اللہ تعالیٰ کی تدبیر نے کار فرمائی کہ اور جیسا کہ گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے ، ایسے اسباب پیدا کردیے جو اہل ایمان کی فتح مبین پر منتہج ہوئے۔ جنگ کے لیے خدائی حکمت : اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر سے متعلق اپنی حکمت بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے (آیت) ” ولو تواعدتم لاختلفتم فی المیعد “ اگر تم آپس میں وعدہ کرتے تو اس وعدے کی خلاف ورزی کرتے مقصد یہ کہ مدینہ سے چلتے وقت اگر تم جنگ کے ارادے سے نکلتے تو تم میں سے بعض لوگ اس کی مخالفت کرتے کیونکہ بظاہر مسلمانوں کی تعداد بھی کم تھی اور ان کے پاس جنگی سامان بھی نہیں تھا اور پھر یہ بھی کہ اگر جنگ میں حصہ لینے کا وعدہ کر بھی لیتے تو کفار کی کثرت تعداد کو دیکھ کر وعدے کا خلاف بھی ہو سکتا تھا ، لہٰذا اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ تھی کہ تمہیں جنگ کے ارادے سے نہ نکالے بلکہ محض تجارتی قافلے کے تعاقب کے لیے آمادہ کرے چناچہ ایسا ہی ہوا ، لوگ قافلے کے تعاقب کے لیے نکلے مگر اللہ نے انہیں بدر کے میدان میں لا کھڑا کیا۔ اور ادھر کفار قافلے کو بچانے کی نیت سے آئے مگر وہ بھی بدر میں پہنچ گئے۔ اس اتفاق سے اللہ تعالیٰ کہ مراد یہ تھی (آیت) ” لیقضی اللہ امرا کان مفعولا “ تا کہ اللہ تعالیٰ اس چیز کا فیصلہ کر دے جو طے ہوچکی تھی۔ اور اللہ تعالیٰ کی حکمت میں یہ بات ابتداء ہی میں طے ہوچکی تھی کہ اہل ایمان اور کفار کو آمنے سامنے کھڑا کر کے مسلمانوں کو غالب اور کفار کو مغلوب کرنا ہے اس فیصلے سے اللہ تعالیٰ کی مراد یہ بھی تھی (آیت) ” لیھلک من ھلک عن بینۃ “ تا کہ وہ شخص ہلاک ہوجائے جو ہلاک ہوتا ہے واضح دلیل کے بعد (آیت) ” ویحیٰ من حی عن بینۃ “ اور وہ شخص زندہ ہوجائے جو زندہ ہوتا ہے واضح دلیل کے بعد مطلب یہ کہ جنگ کے اسباب اللہ نے اس لیے پیدا فرمائے کہ کفار اچھی طرح دیکھ لیں کہ پورے سازوسامان کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انہیں کیسی شکست دی اور مسلمان بھی دیکھ لیں کہ بےسروسامانی کی حالت میں فتح سے ہمکنار کرنے والی ذات وہی وحدہ لا شریک ہے ۔ فرمایا (آیت) ” وان اللہ لسمیع علیم “ اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے اللہ تعالیٰ ہر ایک کی بات کو سنتا ہے اور ہر ایک کی نیت اور ارادے سے بھی واقف ہے۔ اللہ تعالیٰ مشرکین کے غرور وتکبر وار سامانِ ضرب وحرب پر بھروسے کو بھی جانتا ہے اور مسلمانوں کے خلوص ، ایمان ، ان کی بےسروسامانی اور دعائوں کو بھی جانتا ہے اس نے جنگ بدر میں جو فیصلہ کیا وہ فریقین کے ایمان اور خلوص نیت کی بنا پر کیا۔ قلت و کثرت کی حکمت : اللہ تعالیٰ نے ایک حکمت تو فریقین کے میدانِ جنگ میں پہنچ جانے کی یہ بیان فرمائی اور دوسری حکمت دونوں لشکروں کی قلت و کثرت کی اس طرح بیان فرمائی ہے۔ (آیت) ” اذ یریکھم اللہ فی منامک قلیلا “ جب کہ اللہ تعالیٰ نے خواب میں آپ کو کافروں کی تعداد کم کر کے دکھائی جنگ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خواب میں مدمقابل کفار کی تعداد کم کر کے دکھائی تھی حالانکہ وہ مسلمانوں کی تعداد سے تین گناہ زیادہ تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اس کی حکمت یہ تھی (آیت) ” ولو ارئکھم کثیرا “ کہ اگر اللہ تعالیٰ کافروں کی تعداد زیادہ دکھاتا تو تم میں بزدلی پیدا ہوجاتی (آیت) ” ولتنازعتم فی الامر “ اور تم اس معاملہ میں جھگرا کرتے ایسی صورت میں تمہیں لازما اپنی کمزوری کا احساس پیدا ہوتا جس کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان نزاع پیدا ہوجاتا جو مزید کمزوری کا باعث بنتا اور اللہ تعالیٰ کی یہ بات منظور نہیں تھی (آیت) ” ولکن اللہ سلم “ بلکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں بچا لیا۔ اس نے خواب میں کفار کی تعداد کم دکھا کر تمہیں بزدلی جھگڑے اور پھر شکست سے بچا لیا۔ (آیت) ” انہ علیم بذات الصدور “ وہ دلوں کے رازوں کو جاننے والا ہے وہ مسلمانوں کے نیک ارادوں کفار کے غرور وتکبر کو جانتا تھا۔ اس لیے اس نے مسلمانوں کے نیک ارادوں کفار کے غرور وتکبر کو جانتا تھا اس لیے اس نے مسلمانوں کو غالب کرنے کے لیے یہ حکمت عملی اختیار کی کہ خواب میں کافروں کی تعداد کو کم کر کے دکھایا۔ خواب پیغمبر کی صداقت : بعض لوگ اس بات پر اعتراض کرتے ہیں کہ اللہ کے نبی کو خواب میں کفار کی تعداد کم دکھائی گئی جو کہ واقعہ کے خلاف ہے اور پیغمبر کا خواب ہمیشہ سچا ہوتا ہے مگر یہاں پر خلاف واقعہ بات کیوں ہوئی ؟ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ نبی کا خواب بلا شبہ سچا ہوتا ہے اور یہاں جو کفار کی تعداد کم دکھائی گئی ، وہ بھی حقیقت پر مبنی تھی کیونکہ میدانِ بدر میں مسلمانوں کے خلاف صف آراء ہونے والوں میں سے اکثر بعد میں مشرف بہ اسلام ہوئے اور فی الحقیقت کافروں کی تعداد کم ہی تھی۔ اسی طرح اہل ایمان کو اگر زیادہ دکھایا گیا تو وہ بات بھی حقیقت سے خالی نہیں تھی کیونکہ اس وقت مسلمانوں کی تعداد کم تھی مگر اسکے بعد قریبی زمانہ میں ان کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی۔ اور وہ ایک عظیم طاقت بن کر ابھرے ، لہذا نبی (علیہ السلام) کا خواب خلاف واقعہ نہیں بلکہ مبنی بر حقیقت تھا۔ میدان جنگ میں قلت و کثرت : خواب کی بات تو ہوچکی ، اب میدان جنگ میں دونوں لشکروں کی قلت و کثرت کی حکمت اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمائی ہے (آیت) ” واذ یریکموھم اذالتقیتم فی اعینکم قلیلا “ اور جب کہ ٹکرا جانے کے دن یعنی میدان ِ جنگ میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں دشمن کی تعداد کو کم کر کے دکھاتا تھا (آیت) ” ویقللکم فی اعینھم “ اور تمہیں کم کر کے دکھاتا تھا۔ ان کی نظروں میں گویا میدانِ جنگ میں صورتحال یہ تھی کہ مسلمان کافروں کو تعداد میں کم نظر آرہے تھے اور کافر مسلمانوں کو کم دکھائی دیتے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں فریق ایک دوسرے کو کم پا کر لڑائی پر تیار ہوگئے۔ ہر فریق یہی سمجھنے لگا کہ ان کی تعداد زیادہ ہے اور وہی غالب آئے گا ، اس طرح گویا اللہ تعالیٰ نے دونوں لشکروں کو لڑائی پر آمادہ کیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ ایک موقع پر میں نے اپنے ساتھی مجاہد سے کہا کہ میرے خیال میں دشمن کی تعداد ستر کے قریب ہوگی ، وہ کہنے لگا ، نہیں سو کے قریب ہوں گے مقصد یہ کہ کفار اتنے تھوڑے نظر آرہے تھے حالانکہ حقیقت میں ان کی تعداد تقریبا ایک ہزار افراد کی تھی اس میں اللہ تعالیٰ کی یہ حکمت کا ر فرما تھی کہ کوئی فریق جنگ سے راہ فرار اختیار نہ کرے اور آج حق و باطل کا فیصلہ ہو ہی جائے۔ طے شدہ امر : آگے اسی بات وضاحت فرمائی کہ اللہ کی اس حکمت سے یہ مقصود تھا (آیت) ” لیقضی اللہ امرا کان مفعولا “ تا کہ اللہ تعالیٰ طے شدہ بات کا فیصلہ کر دے ، اور اللہ کے نزدیک طے شدہ امر یہی تھا کہ مسلمانوں کو کفار پر فتح مبین عطا کی جائے۔ چناچہ اللہ تعالٰٰ نے جنگ سے قبل اور مڈبھیڑ کے وقت ایسے اسباب مہیا فرما دیئے ، جن کی بناء پر مسلمانوں کی بےسروسامان قلیل تعداد کافروں کی اسلحہ سے لیس کثیر تعداد پر غالب آگئی۔ اللہ نے بڑے بڑے ائمۃ الکفر کو اس مقام پر ختم کرنا تھا اور دنیا میں مسلمانوں کی دھاگ بٹھانا تھی ، لہٰذا اس نے اپنی حکمت کے مطابق مقررہ کام کو انجا دے دیا۔ فرمایا (آیت) ” والی اللہ ترجع الامور “ اور تمام کام اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں اس کی مشیت ، ارادے اور حکمت کے بغیر کوئی کچھ نہیں کرسکتا اسی نے اہل ایمان کے حق میں اساب پیدا فرمائے اور ان کی مدد اور نصرت فرمائی۔ ان احسانات کو یدا کرانے کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان ! جنگ بدر میں فتح کو تم اپنا کمال نہ سمجھو اور نہ اسے اپنے فنِ ضرب وحرب کا مرہون منت سمجھو ، بلکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے ہوا کیونکہ کوئی کام اس کی مشیت کے بغیر انجام نہیں پا سکتا فرمایا مال غنیمت کی تقسیم کا قانون بھی اسی مالک الملک کا نازل کردہ ہے جس نے کمال مہربانی سے تمہیں بدر کے مقام پر فتح سے ہمکنار کیا اور مال غنیمت بھی تمہارے مقدر میں کردیا۔ لہٰذا اب اس کی تقسیم بھی اسی کے حکم کے مطابق کرو اور آپس میں مت جھگڑو۔ قانونِ خداوندی کی اطاعت میں ہی تمہاری بہتری اور کامیابی ہے۔
Ayahs 8:45–46

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 8:45 in the Quran reader

اے ایمان والو ! جب تمہاری ٹکر ہو ( کسی دشمن کے) گروہ سے ، پس ثابت قدم رہو اور ذکر کرو اللہ کا کثرت سے تا کہ تم فلاح پا جائو

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ Open ayah 8:46 in the Quran reader

اور فرمانبرداری کرو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ، پس کمزور ہو جائو گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو ، بیشک اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے

ربط آیات : اس سورة کی ابتداء سے قانونِ صلح وجنگ بیان ہو رہا ہے اور اب تک پانچ اصول بیان ہوچکے ہیں ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے خطاب کر کے فرمایا کہ جب کفار سے تمہاری مڈبھیڑ ہوجائے (آیت ) ” فلا تولوھم الادبار “ تو پشت پھیر کر مت بھاگو پھر دوسری بات یہ فرمائی کہ ایمان والوں ! (آیت ) ” اطیعوا اللہ ورسولہ “ یعنی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور دیدہ دانستہ روگردانی نہ کرو۔ اللہ نے تیسرا اصول یہ فرمایا کہ اللہ اور رسول کی بات کو قبول کرو جب وہ تہ میں بلائیں ، اسی میں تمہاری حیات ہے پھر چوتھا اصول یہ بیان فرمایا کہ اے اہل ایمان ! نہ تو اللہ سے خیانت کرو اور نہ رسول سے اور نہ ہی اپنی امانتوں میں خیانت کے مرتکب ہو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے پانچواں اصول یہ فرمایا کہ اے ایمان والوں ! تقوی اختیار کرو اگر ایسا کرو گے تو تمہارے سامنے ہر وقت فیصلہ کن بات رہیگی ، اس کے تحت آگے بہت سی باتیں بیان ہوئیں۔ اب آج کے درس میں چھٹا اصول ثابت قدمی کا بیان ہو رہا ہے اور پھر اس کے تحت مزید سات باتیں اس رکوع میں بیان ہوئی ہیں جن پر عمل کرنا کامیابی کی دلیل ہے ان سات باتوں میں سے چھ باتیں آج کے درس میں آرہی ہیں اور ساتوں بات اگلے درس میں آئے گی۔ ثابت قدمی : ارشاد ہوتا ہے (آیت ) ” یایھا الذین امنوا اذا لقیتم فئۃ فاثبتوا “ اے ایمان والو ! جب تمہاری دشمن گروہ کے ساتھ ٹکر ہو تو ثابت قدم رہو۔ جب بھی کافروں یا مشرکوں سے آمنا سامنا ہو تو سب سے پہلی بات یہ ہے کہ ثابت قدم رہو ، ڈھیلے نہ پڑو ، سستی نہ دکھائو بلکہ جرات اور بہادری سے دشمن کا مقابلہ کرو ۔ اس کے نتیجے میں تمہیں فلاح نصیب ہوگی حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اے لوگو ! عام حالات میں ” سل اللہ العافیۃ “ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے عافیت اور سلامتی مانگتے رہو کہ اس سے بری کوئی نعمت نہیں جو کسی کو نصیب ہو ، لہٰذا اپنے ایمان مال ، جان اور اولاد کی سلامتی طلب کیا کرو ، اللہ تعالیٰ سے آزمائش کی خواہش نہ کرو۔ البتہ لقیتم العدو جب دشمن سے ٹکر ہوجائے ” واعلموا ان الجنۃ تحت ظلال السیوف “ تو پھر جان لو کہ جنت تلواروں کے سایے کے نیچے ہے دشمن کے مقابلہ میں بزدلی نہ دکھائو بلکہ ثابت قدمی سے مقابلہ کرو کیونکہ جہاد تمہیں جنت کا حقدار بنا دے گا۔ خاموشی بہتر ہے : فرمایا دشمن کے ساتھ مقابلہ کرتے وقت شور شر مت کرو بلکہ خاموشی کے ساتھ اللہ کا ذکر کرو۔ مصنف عبدالرزاق کی روایت میں دو الفاظ آتے ہیں ایک یہ کہ دشمن کے ساتھ ٹکر کی خواہش نہ کرو بلکہ سلامتی مانگو اور اگر آمنا سامنا ہوجائے تو پھر ثابت قدم رہو ، طبرانی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تین مواقع پر خاموشی کو پسند کرتا ہے پہلا موقع وہ ہے جب قرآن پاک کی تلاوت ہو رہی ہو تو خاموشی اختیار کرو۔ مسند احمد کی رویایت میں بھی آتا ہے ” لا یجھر بعضکم علی بعض “ ایک دوسرے کے سامنے قرآن پاک بلند آواز سے نہ پڑھو۔ تو فرمایا ایک تو تلاوت کے وقت خاموشی اختیار کرو اور دوسرے عند الزحف لڑائی کے وقت بھی خاموش رہو اور تیسرے جنازے کے موقع پر خاموشی سے چلو ، شور وشرابا نہ کرو ، اگر ذکر بھی کرو تو پست آواز سے ہونا چاہیے نعرے لگانا پسندیدہ فعل نہیں ہے شور شرابا کرنا دوسرے لوگوں کا کام ہے ہمارا یہ دستور نہیں ہے۔ بہر حال یہاں پر پہلا اصول ثابت قدمی کا بیان فرمایا کہ دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہو ، اگر موت آگئی تو جنت حاصل ہو جائیگی اور اللہ تعالیٰ بلند درجات عطا فرمائیں گے سب سے پہلے اصول میں یہ بتایا گیا تھا اگر دشمن تم سے دگنی تعداد میں ہو تب بھی مقابلے سے نہ گھبرائو اور نہ پشت پھیر کر بھاگو ایسی حالت میں بھاگنے والا سخت گنہگار ہوگا اور جہنم میں جائیگا وہاں پر اللہ نے اہل ایمان کو تسلی دی کہ مقابلے میں کمزوری نہ دکھائو ، اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے وہ تمہاری تھوڑی جماعت کو بڑی جماعت پر غالب کرسکتا ہے ، لہٰذا دل جمعی کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرو اور اللہ پر مکمل بھروسہ رکھو۔ ذکر الٰہی کی کثرت : آج کے درس میں جہاد کے سلسلے میں پہلی بات یہ تھی کہ ثابت قدم رہو اور دوسری یہ کہ (آیت) “ واذکروا اللہ کثیرا “ اللہ کا کثرت سے ذکر کرو (آیت) “ لعلکم تفلحون “ تا کہ تم فلاح پا جائو ، کامیاب ہو جائو۔ اللہ کی یاد جس قدر خلوص کے ساتھ ہوگی ، دل اسی قدر مضبوط ہوگا ، پھر یہ ہے کہ ظاہری جسم کی مضبوطی دل کی مضبوطی پر موقوف ہے دل مضبوط ہے تو جسم مضبوط ہے اطمینان قلب کا نسخہ سورة رعد میں یہی بیان فرمایا ہے (آیت) ” الذین امنوا وتطمئن قلوبھم بذکر اللہ الا بذکر اللہ تطمئن القلوب “ اہل ایمان کے دل ذکر الٰہی سے ہی چین اور سکون پکڑتے ہیں حدیث قدسی میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ میرا کامل بندہ وہ ہے جو مجھے اس وقت بھی یاد کرتا ہے جب وہ اپنے دشمن کے ساتھ ٹکر لے رہا ہوتا ہے۔ ذکر الٰہی ایک ایسی عبادت ہے جس کی کوئی تحدید نہیں۔ نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ تو محدود ہے مگر ذکر کے لیے کوئی تحدید نہیں اس کے متعلق یہی حکم ہے کہ کثرت سے اللہ کو یاد کرو۔ ذکر کی عام صورت لسانی یعنی زبانی ذکر ہے انسان تلاوت کرتا ہے تسبیح ، تحمید یا استغفار کرتا ہے ، درود شریف پڑھتا ہے یہ سب زبانی ذکر ہے ، تا ہم ذکر بھی اللہ کے مقرر کردہ قواعد کے مطابق ہی ہونا چاہیے ، عام قانون یہ ہے ” خیر الذکر الخفی وخیر الرزق ما یکفی “ بہترین ذکر وہ ہے جو آہستہ ہو اور بہترین رزق وہ ہے جو کفایت کر جائے اگر رزق زیادہ ہو مگر غفلت میں ڈالتا ہے تو وہ بہتر نہیں ہے۔ بہرحال یہ دو باتیں ہوگئیں ایک ثابت قدمی اور دوسری اللہ کا ذکر۔ اللہ اور رسول کی اطاعت : تیسرے اور چوتھے نمبر پر فرمایا (آیت) ” واطیعوا اللہ ورسولہ “ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرو اور اس کے رسول کی بھی اس کا ذکر پہلے سورة کے ابتدائی حصہ میں بھی ہوچکا ہے اور اب پھر تاکید کی جا رہی ہے خدا اور اس کے رسول کے ارشادات ، فرامین اور احکام ہر اہل ایمان کے لیے قابل اتباع ہیں۔ سورة حشر میں ہے (آیت) ” ما اتکم الرسول مخذوہ وما نھکم عنہ فانتھوا “ یعنی جو بات اللہ کا رسول کہہ دے اس پر عمل کرو اور جس چیز سے منع کرے اس سے رک جائو۔ سورة نور میں ہے (آیت) ” وان تطیعوہ تھتدوا وما علی الرسول الا البلٰغ المبین “ اگر اللہ کے رسول کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جائو گے اور رسول کے ذمے تو احکام الٰہی کو پہنچا دینا ہے یہاں پر اللہ اور رسول کی اطاعت کا ذکر ہے اور سورة نساء میں (آیت) ” اولی الامر منکم “ بھی آیا ہے یعنی اللہ اور اس کے رسول کے بعد حاکم وقت یا امیر لشکر کی اطاعت بھی کرو۔ البتہ امیر کی اطاعت اللہ اور رسول کی اطاعت کے تابع ہے اگر امیر معروف بات کا حکم دیگا تو اس کی اطاعت ہوگی ورنہ نہیں ، غلط بات کا حکم دے تو فریاما ” فلا سمع ولا طاعہ “ نہ اس کی بات سنی جائے گی اور نہ مانی جائیگی۔ جائز کام میں ہر حالت میں فرمانبرداری ہوگی خواہ کتنے ہی ناخوشگوار کیوں نہ ہوں اگر اطاعت ہوگی تو تنظیم بھی ہوگا جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے تنظیم بہت بڑا اصول ہے اور تنظیم اللہ ، رسول اور امیر کی اطاعت سے پیدا ہوتی ہے۔ جھگڑے کی ممانعت : آج کے درس کا پانچواں اصول یہ بیان فرمایا (آیت) ” ولاتنازعوا “ آپس میں جھگڑا تنازعہ نہ کرو اتفاق و اتحاد قائم کرو کیونکہ اتحاد کامیابی کا ذریعہ ہے ، البتہ اتفاق و اتحاد انہی اصولوں پر ہوگا جو پہلے بیان ہوچکے ہیں کسی غلط بات پر اتحاد کا کچھ مطلب نہیں کفار کا ساتھ اتھاد کیسے ہو سکتا ہے وہاں تو معاملہ بالکل صاف (آیت) ” لا اعبدما تعبدون “ میں ان کی عبادت نہیں کرسکتا جن کی تم کرتے ہو ان کا تو نقطہ نگاہ ہی الگ ہے ، آپس کے تنازعہ کے متعلق قرآن پاک میں یہ اصول بھی موجود ہے (آیت) ” فان تنازعتم فی شئی فردوہ الی اللہ والرسول “ (النسائ) ایسے تنازعہ کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو ۔ ان کے فیصلے کے سامنے سر تسلیم خم کر دو ۔ اور باہمی جھگڑے کو ختم کر دو ۔ فرمایا اگر جھگڑا کرو گے (آیت) ” فتفشلوا “ تو بزدل بن جائو گے ، کمزور ہو جائو گے (آیت) ” وتذھب ریحکم “ اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی۔ اس میں یہ اشارہ ہے کہ تمہاری سلطنت ختم ہو جائیگی یعنی (آیت) ” تذھب دولتکم “ حکومت چلی جائیگی اور تم اغیار سے مغلوب ہو جائو گے ۔ تاریخ شاہد ہے کہ اسلامی سلطنتیں محض آپ کے جھگڑے کی وجہ سے ضائع ہوئیں۔ سپین اور کابل کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں۔ فلسطنیوں کے ساتھ کیا ہوا جب اختلافات پیدا ہوئے تو ہوا اکھڑ گئی۔ پھر کسی قوم نے سپین پر قبضہ کرلیا اور کوئی قوم برصغیر پر مسلط ہوگئی۔ حضرت امام شاہ ولی اللہ (رح) نے اپنے دور میں چار مسلمان بادشاہوں کو خطوط لکھے تھے جو آپ کے ” سیاسی مکتوبات “ میں موجود ہیں آپ نے لکھا تھا کہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ تم آپس میں لڑتے جھگڑتے ہو جب کہ انگریز اوپر چھا رہا ہے انہوں نے اس نصیحت سے کچھ اثر نہ لیاجس کا نتیجہ ہوا کہ برصغیر پاک وہند کو دو سو سال تک انگریز کی غلامی میں جانا پڑا۔ ایران اور عراق کی باہمی لڑائی آپس کے جھگڑے کی وجہ سے ہے۔ اس کا فائدہ اغیار کو پہنچتا جو پہلے تو اسلحہ فروخت کرتے رہتے ہیں اور پھر جب متحارب ملک بالکل کمزور ہوجاتے ہیں تو ان پر قابض ہوجاتے ہیں امریکہ ، روس ، یہودی اور اشتراکی ممالک اسی دائو میں رہتے ہیں کہ کوئی موقع ملے تو وہ بزور قبضہ کرلیں۔ تو فرمایا آپس میں جھگڑا نہ کرو رنہ تم کمزور ہو جائو گے ، تمہاری ہوا کھڑ جائیگی اور تم غلام بن کر رہ جائو گے۔ یہ پانچواں اصول ہوگیا۔ صبر کا دامن : چھٹی بات یہ فرمائی (آیت) ” واصبروا “ صبر کا دامن تھام لو ۔ جہاد بڑا مشکل کا م ہے یہ سفر تمام سفروں سے مشکل ہے کیونکہ اس سفر میں مال اور جان کی بازی لگانا پڑتی ہے۔ جہاد کا مقصد صبر کے ذریعے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے صبر ہمارے دین اور ملت ابراہیمیہ کا اہم اصول ہے اللہ کا ذکر ، اسکی واحدانیت کو ماننا ، تعلق باللہ کا قیام ، نماز کی ادائیگی ، شعائر اللہ کی تعظیم اور صبر ہماری ملت کے اہم ترین اصول ہیں ۔ عبادت و ریاضت اور مشکلات میں صبر کرنا ، تکالیف کو برداشت کرنا بہت بڑا اصول ہے۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کے صحابہ میں یہ تمام صفات پائی جاتی تھیں حضور ﷺ کی بعثت سے لے کر پچاس سال تک مسلمان آدھی دنیا پر چھا چکے تھے حتی کہ مسلمانوں سے ٹکر لینے والی کوئی طاقت باقی نہیں رہ گئی تھی یہ صبر اور دیگر اہم اصولوں کا نتیجہ تھا۔ فرمایا اگر صبر کرو گے ، تو یاد رکھو ! (آیت) ” ان اللہ مع الصبرین “ اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اس کی تائید و نصرت ہمیشہ صابرین کے ساتھ ہوتی ہے بہرحال فرمایا کہ دین کے بتلائے ہوئے ان اصولوں پر کاربند ہوگئے تو کامیابی تمہارے قدم چومے گی اور اگر آپس کے جھگڑے تنازعے کا شکار بن گئے تو نتیجہ ناکامی کی صورت میں نکلے گا یہ چھ اصول بیان ہوگئے ساتواں اصول جو نیت اور اخلاص سے متعلق ہے اگلی دو آیتوں میں بیان ہوگا۔