7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 7:1–7

كِتٰبٌ اُنْزِلَ اِلَیْكَ فَلَا یَكُنْ فِیْ صَدْرِكَ حَرَجٌ مِّنْهُ لِتُنْذِرَ بِهٖ وَ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:2 in the Quran reader

یہ ایک کتاب ہے۔ اتاری گئی ہے آپ کی طرف ، پس نہ ہو آپ کے سینے میں تنگی اس سے تاکہ آپ ڈرائیں اس کی ساتھ اور نصیحت ہو یہ ایمان والوں کے لئے

اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ لَا تَتَّبِعُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:3 in the Quran reader

اے لوگو ! ) اتباع کرو اس کی جو اتاری گئی ہے تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی جانب سے اور نہ اتباع کرو اس کے سوا دور سے رفیقوں کی تم بہت کم نصیحت حاصل کرتے ہو

وَ كَمْ مِّنْ قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَا فَجَآءَهَا بَاْسُنَا بَیَاتًا اَوْ هُمْ قَآئِلُوْنَ Open ayah 7:4 in the Quran reader

اور بہت سی بستیاں جن کو ہم نے ہلاک کیا ، پس آیا ان کیپ اس ہمارا عذاب رات کے وقت یا وہ دوپہر کے وقت قیلولہ کر رہے تھے۔

فَمَا كَانَ دَعْوٰىهُمْ اِذْ جَآءَهُمْ بَاْسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:5 in the Quran reader

پس نہیں تھی ان کی پکار جب کہ آئی ان کے پاس ہماری گرفت مگر یہ کہ انہوں نے کہا ، بیشک تھے ہر ظلم کرنے والے

فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْهِمْ وَ لَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَۙ Open ayah 7:6 in the Quran reader

پس ہم ضرور پوچھیں گے ان لوگوں سے کہ جن ک طرف رسول بھیکجے گئے ہیں اور ہم ضرور سوال کریں گے رسولوں سے بھی

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْهِمْ بِعِلْمٍ وَّ مَا كُنَّا غَآئِبِیْنَ Open ayah 7:7 in the Quran reader

پھر ہم بیان کریں گے۔ ان پر عمل کے ساتھ اور ہم غائب نہ تھے۔

حروف مقطعات اس سورة مبارکہ کی ابتداء حروف مقطعات المص ہ سے کی گئی ہے ان حروف کے معانی کے متعلق مفسرین نے مختلف تاویلات پیش کی ہیں تاہم یقین کے ساتھ ان کے معانی کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا تفسیر جلالین میں علامہ جلال الدین سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہ ان حروف کے متعلق اسی حد تک اعتقاد رکھنا چاہیے اللہ اعلم بمرادہ بذالک (امنا و صدفنا) ان کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ہم اسی پر ایمان لاتے ہیں اور اسی کی تصدیق کرتے ہیں لہٰذا ان حروف کے معانی و مطالب کے سلسلے میں یہی طریقہ اختیار کرنا زیادہ اسلم ہے تاکہ انسان گمراہی اور فتنے سے بچ سکے تاہم امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے اپنے ذوقی اور الہامی طریقے سے ان حروف کی تشریح اس طرح کی ہے کہ الف کا اشرہ کسی اسم یا حقیقت کی طرف ہوگا لہٰذا اسے ہم اللہ کی طرف منسوب کرسکتے ہیں لام کا اشارہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی طرف سمجھ سکتے ہیں اور م سے مراد حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہوسکتے ہیں گویا یہ پروگرام اللہ تعالیٰ کی طرف سے جبرائیل (علیہ السلام) کی وساطت سے حضرت محمد رسو اللہ ﷺ کے پاس نازل ہوا اب ص کا اشارہ یا تو صورت کی طرف ہوسکتا ہے یا صعود بمعتی بلندی کی طرف ، گویا اس کتاب میں وہ پروگرام پیش کیا گیا ہے جو انسان کو عالم بالا کی طرف لے جاتا ہے بہرحال بعض مفسرین نے اس قسم کی تشریح محض تفہیم کے لیی کی ہے تاکہ بعض کمزور اذہان میں فتور نہ آنے پائے ، وگرنہ اصلیت یہی ہے کہ ان حروف کی حقیقت کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔ نزول کتاب اور تسلی ارشاد ہوتا ہے کتب یہ ایک کتاب ہے انزل البیک جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے فلا یکن فی صدرک حرج منہ پس آپ کے سینے میں اس کی وجہ سے تنگی نہیں ہونی چاہیے ظاہر ہے کہ جب حضور نبی کریم (علیہ السلام) نے اسلام کی دعوت پیش کی تو لوگوں نے ضد اور عناد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کی مخالفت کی جس کی وجہ سے آپ کے دل میں گھٹن پیدا ہوتی تھی اور آپ کو تنگی محسوس ہوتی تھی آپ اکثر خیال فرماتے کہ لوگ ہماری دعوت کی طرف توجہ نہیں دیتے کیا یہ ہماری سات سن کر سمجھ بھی سکتے ہیں یا نہیں اور پھر اسے کس حد تک قبول کرتے ہیں عربوں کی طرسے حضور کو بڑی تکالیف پہنچیں آپ سوچتے رہتے تھے کہ گھر کے لوگ ہی نہیں مانتے ، باقی اقوام عالم کا کیا بنے گا اس طرح آپ کے قلب مبارک میں گھٹن پیدا ہوتی تھی لہٰذا اللہ تعالیٰ نے تسلی دی کہ آپ تنگی محسوس نہ کریں بلکہ آپ اپنا کام جاری رکھیں خدا تعالیٰ اس پروگرام کو ضرور کامیاب کرے گا اسی طرح کی تسلی سورة انشراح میں بھی ہے الم نشرح لک صدرک کیا ہم نے آپ کے سینہ مبارک کو کھول نہیں دیا ووضعنا عنک وزرک اور آپ کے بوجھ کو ہلکا نہیں کردیا ؟ بعض مفسرین تنگی سے شک اور ترددمراد لیتے ہیں یعنی یہ پروگرام جو اللہ نے نازل فرمایا ہے یہ بالکل برحق ہے اس کی کامیابی میں کسی قسم کا شک یا تردد نہیں ہونا چاہیے دوسرے مقام پر موجود ہے فلا تکونن من الممترین (الانعام) آپ شک نہ کریں یہ سو فیصدی قطعی اور برحق پروگرام ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ بنی نوع انسان کو ہدایت دینا چاہتا ہے۔ کتاب کی عرض و غایت فرمایا نزول کتاب کا مقصد یہ ہے لنتذربہ کہ آپ اس کے ذریعے کفر ، شرک اور معاصی کا ارتکاب کرنے والوں کو ڈرائیں جس قدر برائیوں کی کثرت ہے اسی قدر انذار کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہی پوری دنیا میں نظر دوڑا کر دیکھ لیں کل پانچ ارب کی آبادی میں سے ایک ارب لوگ بھی ایمان دار نہیں ہیں غالب اکثریت فسق و فجور ، غلط عقائد اور غلط اعمال کی پیرو کار ہے ہر نبی بشیر اور نذیر ہوتا ہے وہ ہر ایمان والے نیکو کار کو کامیابی کی بشارت سناتا ہے اور غلط کار کو اس کے برے انجام سے ڈراتا ہے اہل ایمان کے لیے تو فرمایا ان لھم قدم صدق عند ربھم (سورۃ یونس) ان کے رب کے پاس ان کے لیے سچائی کا قدم ہے اور فلاح و کامیابی ان کے مقدر میں ہے مگر اکثر لوگ چونکہ گمراہ ہیں اور شیطانی کاموں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اس لیے ان کا انذاز بھی ضروری ہے انذاز کی اسی صورت کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر انذاز کو مقدم رکھا ہے کہ آپ اس قرآن کے ذریعے لوگوں کو ڈرائیں اور نزول کتاب کی دوسری غرض یہ ہے کہ وذکری للمومنین یہ کتاب اہل ایمان کے لیے نصیحت بن جائے گویا اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کے دو مقصد بیان فرمائے ہیں ایک نافرمانوں کو ڈرانا اور دوسرا اطاعت گزاروں کے لیے باعث نصیحت ہونا۔ اتباع کتاب فرمایا اتبعو ما انزل الیکم من ربکم اے انسانو ! اتباع کرو اس چیز کی جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف نازل کی گئی ہے رب تعالیٰ کی طرف سے اس کی ربوبیت عامہ کے تقاضے کے تحت تمہاری فلاح و کامیابی کے لیے جو ہدایت ، دین ، شریعت ، قانون اور دستور نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو ، دوسرے مقام پر فرمایا واعتصمو بحبل اللہ جمیعاً (آل عمران) یعنی اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو یہ اللہ کا دیا ہوا پروگرام ہے اس کے علاوہ کسی ملت ، قوم یا ملک کا قانون ہو وہ باطل ہے روس ، امریکہ ، برطانیہ ، فرانس ، جرمنی اور چین کے دساتیر سب غلط ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نازل کردہ قانون پر چلنے کا حکم دیا ہے حضور ﷺ نے اسے حبل اللہ المتین قرار دیا ہے کہ یہ اللہ کی مضبوط رسی ہے جو اللہ نے عالم بالا سے زمین پر لٹکائی ہے جو اس کو پکڑ لے گا وہ نجات پا جائے گا۔ ولاتتبعوا من دونہ اولیاء … اور نہ اتباع کرو اس کے سوا دو سے رفیقوں کی یعنی جو شخص کتاب اللہ کے ماسوا کسی دوسری چیز سے رہنمائی حاصل کرے گا وہ گمراہ ہوجائے گا اور جو اس کتاب کے مقابلے میں اکڑ دکھائے گا خدا تعالیٰ اس کی گردن توڑ دے گا آج کل ڈیمو کریسی کا پروگرام ہو یا اشراکیت کا یا سرمایہ داری کا سب کے سب باطل ہیں شہنشاہیت اور ملوکیت کے پروگرام بھی غلط ہیں فرمایا ان کا اتباع مت کرو ، یہ تمہیں گمراہی کی طرف لے جائیں گے۔ اصحاب اعراف اصحاب اعراف کا ذکر اس سورة کے پانچویں رکوع میں آتا ہے حضرت مولانا امام شاہ ولی محدث دہلوی (رح) اور مولانا عبید اللہ سندھی (رح) نے اعراف پر تھوڑا سا کلام کیا ہے فرماتے ہیں کہ جو لوگ قرآن پاک کو براہ راست سمجھ کر اس پروگرام پر عمل پیرا ہوتے ہیں اور پھر اس کو آگے لیجاتے ہیں وہ مومن ہیں اور سابقین ہیں جو لوگ اس پروگرام کو براہ راست تو نہیں سمجھ سکتے تاہم کسی ہادی ، رہنما یا پیشوا کے واسطے سے سمجھ کر اس پر عمل کرتے ہیں وہ اصحاب یمین کہلاتے ہیں اور جو شخص اس پروگرام کو پاکر اس کا انکار کردیتا ہے وہ کافروں میں شمار ہوتا ہے فرمایا اس کے علاوہ جتنے گروہ بھی ہیں وہ سب اصحاب اعراف ہیں۔ قرآن سے غفلت اسلام کے ابتدائی دور میں ہدایت کا مرکز مکہ اور مدینہ تھا اس کے بعد حضرت علی ؓ عراق تشریف لے گئے خلافت راشدہ کے بعد مرکز اسلام شام بنا وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ (بغداد) بخارا اور خراسان کو اسلام کی مرکزیت حاصل ہوئی قاہرہ بھی دین کا مرکز ہوا اور پھر ہندوستان میں دہلی کو بھی یہ شرف حاصل ہوا مگر اب دنیا میں اس پروگرام کو اگے بڑھانے والے لوگ بالکل کمزور ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے دین اسلام کی تبلیغ نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے اور یہ قرآن پاک سے غفلت کا نتیجہ ہے مولانا عبید اللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ قرآن پاک سے غفلت پوری نبی نوع انسان کے لیے تباہ کن ہے یہی وجہ ہے کہ آج دنیا کے ہر خطے کے لوگ طرح طرح کے مصائب اور پریشانیوں میں مبتلا ہیں۔ حضرت مولانا شیخ الہند (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے قوم کی تباہی دو چیزوں میں دیکھی ہے ایک قرآن سے دوری اور دوسری فرقہ بندی ، آپ دونوں چیزوں کے سخت خلاف تھے قرآن کو پس پشت ڈال دینا اور اس سے کوئی رہنمائی نہ حاصل کرنا بڑی بدقسمتی کی بات ہے اس زمانے میں اکثر و بیشتر مسلمانوں کا تعلق قرآن پاک سے محض رسمی عزت و احترام تک رہ گیا ہے اس کو ریشمی غلاف میں لپیٹ کر اونچی جگہ پر رکھا جاتا ہے اس کی طرف پشت نہیں کی جاتی یا ایصال ثواب کے لیے اس کی تلاوت کرلی جاتی ہے مگر اس کو سمجھنا اور پھر اس پر عمل کرنا مفقود ہوتا جارہا ہے اسی طرح فرقہ بندی کی وباء عام ہوچکی ہے چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے کے خلاف تکفیر کے فتوے ، نعرہ بازی اور بغض وعناد نے قوم کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے اسی طرح ملوکیت بھی اسلام کے راستے میں رکاوٹ بنتی رہی ہے بنی امیہ اور بنی عباس کے دور میں پھلنے بھولنے والی ملوکیت نے اسلام کے پودے کو پنپنے نہیں دیا درمیان میں عمربن عبدالعزیز (رح) ، صلاح الدین ایوبی (رح) ، محمود غزنوی (رح) ، ناصر الدین (رح) اور عالمگیر (رح) جیسے اچھے لوگ بھی پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے اس پودے کی آبیاری کی مگر ان کے علاوہ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے اکثر و بیشتر صاحبان اقتدار جاہ و مال اور عیش و عشرت میں مبتلا رہے ہیں صفین سے پہلے تک تو اسلام کے ساتھ وابستگی رہی ہے مگر اس کے بعد اس پروگرام کو ترک کردیا گیا البتہ اس پروگرام کی حقانیت کی وجہ سے پہلے بھی فرداً فرداً صاحب درد لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں آج بھی ہیں اور آئندہ بھی پیدا ہوتے رہیں گے مگر مسلمانوں میں اجتماعیت کا تصور ختم ہوچکا ہے اس وقت دنیا کی پچاس مسلمان ریاستوں میں سے کوئی بھی اپنے پائوں پر قائم نہیں ہے ہر طرف ذلت اور مردتی چھائی ہوتی ہے شام ، لبنان اور افغانستان کی حالت زار دیکھ لیں۔ ایران اور عراق کی طرف نظر دوڑائیں فلسطینیوں کی جلاوطنی اور ہندوستان کے مسلمانوں کی زبوں حالی ہمارے سامنے ہے کبھی وہ زمانہ تھا کہ دنیا کے کسی ایک خطے میں مسلمان کی جان ضائع ہوتی تھی تو پورا عالم اسلام تڑپ اٹھتا تھا مگر آج کوئی کسی کا پرسان حال نہیں دشمنان دین مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ تو رہے ہیں مگر باقی مسلمان خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں خواجہ نظام الدین اولیاء (رح) فرماتے ہیں کہ مشرق میں کسی مسلمان کے پائوں میں کانٹا چبھے اور مغرب میں دوسرا مسلمان تڑپ نہ اٹھے تو وہ سچا مسلمان نہیں۔ بہرحال فرمایا اتبع کرو اس چیز کی جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے تمہارے پروردگار کی جانب سے اور نہ اتباع کرو اس کے سوا دوسرے کارسازوں کا ، مگر ان واضح احکام کے باوجود ۃ لیلاً ما تذکرون بہت کم لوگ نصیحت حاصل کرتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دن بدن قرآن سے دوری ہوتی جارہی ہے مولانا عبیداللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ دوسرے کارسازوں سے وہ نام نہاد محقیقین بھی مراد ہیں جو کلام پاک کے غلط معانی اور غلط تاویلیں کرکے لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں چناچہ مرزا قادیانی نے یہی کام کیا سرسید اور پرویز بھی یہی کام کرتے رہے ہیں آج ضرورت اس امر کی تھی کہ قرآن پاک کا حقیقی پروگرام دوسری قوموں کے سامنے پیش کرکے انہیں اس طرف راغب کیا جائے مگر افسوس کا مقام ہے کہ مسلمان کہلانے والے خود مسلمانوں کو اس حقیقت سے دور لے جا رہے ہیں۔ بعض قوموں کی ہلاکت ارشاد ہوتا ہے وکم من قریۃ اھلکنھا دنیا میں کتنی بستیاں ہیں جن کے رہنے والوں کو ہم نے ہلاک کردیا انہوں نے نبیوں کی زبان پر اعتماد نہ کیا اور ما انزل الیک کا اتباع نہ کیا بلکہ اپنی من مانی کرتے رہے اور شیطان کے پیچھے چلتے رہے فجاء ھا باسنا بیاتا پھر ہماری سزا ان کے پاس ایسی حالت میں آئی کہ وہ سو رہے تھے اور اچانک ان پر عذاب مسلط ہوگیا اوھم قائلون یا ان کی ہلاکت اس وقت ہوئی جب کہ وہ دوپہر کے وقت آرام کر رہے تھے لوگ اپنے انجام سے بیخبر محو خواب تھے کہ اللہ کی گرفت آئی اور انہیں تباہ و برباد کرکے رکھ دیا دنیا میں کتنے طوفان آتے ہیں زلزلے آتے ہیں اور ہنستے بستے گھرانے ملیا میٹ ہوجاتے ہیں ابھی قریب زمانے کا واقعہ کہ پچاس ہزار افراد پر مشتمل آبادی آن واحد میں زلزلے کا نشانہ بنی اور پیوند خاک ہوگئی فرمایا جب ان پر سزا وار ہوگئی فما کان دعوٰھم اذ جاء ھم سانا تو ان کی پکار اس کے سوا کچھ نہ تھی الا ان قالو انا کنا ظلمین کہ انہوں نے کہا کہ بیشک ہم ہی خطا کار تھے یعنی یہ عذاب ہماری ہی کرتوتوں کی وجہ سے آیا ہے جب خدا کی پکڑ آجاتی ہے تو پھر اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہیں۔ انبیا اور امم سے بازپرس آگے فرمایا سن لو ! فلنسئلن الذین ارسل الیھم ہم ضرور باز پرس کریں گے ان لوگوں سے جن کی طرف رسولوں کو بھیجا گیا تھا ان سے دریافت ہوگا کہ تم نے ہمارے رسولوں کی بات کو کیوں نہ مانی ولنسئلن المرسلین اور ہم رسولوں سے بھی پوچھیں گے کہ تم نے ہمارا پیغام اپنی امتوں تک پہنچایا یا نہیں اگرچہ رسولوں نے دنیا میں اپنا فرض منصبی ادا کردیا مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے باز پرس ہونے پر وہ بھی پریشان ہوجائیں گے پر شہادتیں پیش ہوں گی اور اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمائیں گے اسی باز پرس کے پیش نظر حضور ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں سے فرمایا تھا کہ میرے بارے میں تم سے پوچھا جائے گا تو تم کیا جواب دو گے تو سب نے یک زبان ہو کر کہا تھا قد ادیت الامانۃ وبلغت الرسالۃ ونصحت الامۃ یعنی آپ نے پوری امانت ہم تک پہنچا دی پوری پوری تبلیغ کی اور خیر خواہی کا حق ادا کردیا بہرحال رسولوں اور امتیوں سب سے سوال جواب ہوگا۔ اس کے بعد فرمایا فلنقصن علیھم بعلم پھر ہم اپنے علم کے ذریعے ان پر بیان کردیں گے یعنی ان کے اعمال کی تفصیلات ان کے سامنے پیش کردیں گے جس سے انہیں مجال انکار نہیں ہوگا اور ایسا ہم اس لیے کردیں گے وما کنا غابین کہ ہم ان سے غائب نہ تھے بلکہ ہمیشہ ان پر نگاہ رکھتے تھے اور ان کی ہر حرکت ہمارے مشاہدے اور علم میں تھی اللہ تعالیٰ نے ہر مقام پر اپنی نگاہ کو مختلف انداز سے بیان فرمایا ہے کہیں فرمایا واللہ علی کل شی ئٍ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر گواہ ہے کہیں فرمایا واللہ بکل شی ئٍ محیط اللہ تعالیٰ ہرچیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اس کی نظروں سے کوئی چیز مخفی نہیں۔
Ayahs 7:8–10

وَ الْوَزْنُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ١ۚ فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:8 in the Quran reader

(اعمال کا) وزن کیا جانا اس دن برحق ہے۔ پس جس شخص کے اعمال نامے بھاری ہوں گے ، پس یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:9 in the Quran reader

اور جس کے اعمال نامے ہلکے ہوں گے یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے نفسوں کو خسارے میں ڈالا ، اس واسطے کہ وہ ہماری آیتوں کے ساتھ ظلم کرتے تھے

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ جَعَلْنَا لَكُمْ فِیْهَا مَعَایِشَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:10 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ہم نے جگہ دی تم کو زمین میں اور بنائے ہیں ہم نے تمہارے لئے اس زمین میں معیشت کے سامان ، بہت کم ہی تم شکریہ ادا کرتے ہو۔

ربط آیات سورۃ اعراف کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے اتباع کا حکم دیا ہے جو چیز اللہ تعالیٰ نے تمہاری بہتری کے لیے وحی کے ذریعے نازل کی ہے صرف اسی کا اتباع کرو اور اس ک علاوہ کسی دوسرے پروگرام کی پیروی نہ کرو کہ یہ تمہارے لیے خسارے کا باعث ہوگا اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو دین حق آگے پہنچانے کے لیے ہم تو جرات دلائی اور فرمایا کہ آپ کے دل میں کسی قسم کی گھٹن یا تنگی نہیں ہونی چاہیے اور نہ ہی اس معاملہ میں کسی شک و تردد میں پڑنا چاہیے۔ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر کئی انبیا کا ذکر کیا ہے ان کیک طریق پر روشنی ڈالی ہے اور پھر ان کے راستے میں آنے والی مشکلات اور ان پر قابو پانے کا تذکرہ بھی کیا ہے اسی سورة میں اللہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نبوت عامہ کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے قل یا یھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعاً اے لوگو ! میں تم سب کی طرف رسول بناکر بھیجا گیا ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے وحی الٰہی کے پروگرام کے مخالفینن کی ناکامی کا تذکرہ کیا ہے کہ کس طرح انہیں عذاب میں مبتلا کیا گیا گزشتہ درس میں وکم من قریۃ اھلکنھا گزر چکا ہے فرمایا منکرین کو بسا اوقات اس دنیا میں بھی سزا مل جاتی ہے اگرچہ یہ لازمی نہیں مگر اللہ تعالیٰ عاصیوں کو چھوڑتا نہیں۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں فلا یترک عاصیاً اللہ کسی گنہگار سے صرف نظر نہیں کرتا بلکہ کسی نہ کسی شکل میں اسی دنیا میں مبتلائے عذاب کردیتا ہے پھر جب اس دنیا کی زندگی اختتام کو پہنچتتی ہے تو محاسبے کا حتمی عمل شروع ہوجاتا ہے بہرحال بعض لوگوں کو اس دنیا میں بھی سزا مل جاتی ہے اور بعض بچ رہتے ہیں مگر آخرت میں محاسبے کے عمل سے سب کو لازماً گزرنا ہوگا۔ مضامین قرآن مکی سورتوں میں زیادہ تر توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کی صداقت کے مضامین بیان ہوئے ہیں ان کے علاوہ بعض متفرق مضامین بھی ہیں مگر نسبتاً کم تعداد میں البتہ مدنی سورتوں میں جزوی مسائل زیادہ بیان کیے گئے ہیں سورة الاعرا اف بھی چونکہ مکی سورة ہے لہٰذا اس میں بھی عقائد اور حقائق پر زیادہ زور دیا گیا ہے اور اس میں توحید ، رسالت اور معاد کا خصوصی بیان ہے عقائد کے سلسلے میں جزائے عمل پر ایمان لانا نہایت ہی اہم ہے کیونکہ اس دنیا میں اچھے اور برے اعمال کا دارومدار اسی یقین پر ہے کہ ایک دن قیامت برپا ہوگی اور سب کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنا ہے جس طرح انسان کا اپنا وجود ناقابل انکار حقیقت ہے اسی طرح جزائے عمل کا واقع ہونا بھی قطعی اور اٹل ہے جو شخص اس حقیقت کا انکار کرے گا وہ گمراہی میں مبتلا ہو کر دائمی ناکامی کا منہ دیکھے گا۔ اعمال کا وزن آج کی آیت میں جزائے عمل کے ضمن میں اعمال کے وزن کا بیان ہے قرآن پاک کے دیگر مقامات پر بھی اس مضون کو بیان کیا گیا ہے احادیث میں جہاں ایمان کے متعلق سوال ہے وہاں جواب یہ ہے کہ ان تو من باللہ… یہ کہ تو اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اس کی کتابوں اور رسولوں پر ایمان لائے ، مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر تمہارا یقین ہونا چاہیے اور تقدیر پر بھی ایمان ہونا چاہیے اس روایت میں ان تو من بالمیزان کے الفاظ بھی ہیں کہ تمہارا میزان پر بھی ایمان لانا ضروری ہے تو یہاں پر بھی یہی بات ذکر کی گئی ہے ولوزن یومیذن الحق حشر کے دن اعمال کا تولا جانا برحق ہے۔ البتہ اعمال کے وزن کے متعلق یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ انسانی اعمال تو عرضی چیز ہے ان کی شکل و صورت اور وجود تو ہوتا نہیں جیسے کسی نے نماز پڑھی یا روزہ رکھا ، درود پاک پڑھا ، ذکر و اذکار کیا ، یہ ایسے اعمال ہیں جو انسان اپنے اعضا کے ساتھ انجام دیتا ہے تو ان کا وزن کیسے ہوگا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اعمال کی شکل و صورت اور وجود اور پھر ان کا وزن احادیث سے ثابت ہے اس زمانے میں سائنس نے بعض ایسی اشیا کا وزن بھی ثابت کردیا جو بظاہر بےوزن چیزیں معلوم ہوتی ہیں ، بلکہ ان کا خارجی وجود ہی نہیں ہے۔ مثلاً ہوا کا دبائو یا وزن بیرومیٹر کے ذریعے معلوم کیا جاتا ہے۔ انسانی جسم کی حرارت کو مانپے کے لیے تھرما میٹر موجود ہے اسی طرح خون کا دبائو (Blood Pressure) معلوم کرنے کے آلات بھی موجود ہیں اور اگر پھر بھی اعمال کے وزن کی کیفیت کسی کے ذہن میں نہ آسکے تو جن کاغذات پر اعمال نامے لکھے ہوں گے وہ کاغذ تو لے جاسکتے ہیں اس کا ذکر بھی حدیث شریف میں موجود ہے۔ بہرحال اعمال کے وزن کے متعلق اسی طرح ایمان ہونا چاہیے جس طرح باقی چزیوں پر ایمان ضروری ہے۔ اعمال کی شکل و صورت امام شاہ ولی اللہ محدیث دہلوی (رح) نے بات دوسرے طریقے پر بھی سمجھائی ہے کہ اس ناسوتی جہان میں جو اعراض اور معانی ہیں وہ عالم مثال میں وجود رکھتے ہیں حدیث شریف میں موجود ہے کہ سورة بقرہ اور سورة آل عمران قیامت کے دن سائبان کی شکل میں ظاہر ہوں گی اور ان کے درمیان سے روشنی چمک رہی ہوگی۔ یہ ایسے ہی ہوں گی جس طرح بادل کا سایہ یا پرندوں کا جھنڈ ہوت ہے گویا ان کی ایک شکل صورت ہوگی اور ظاہر ہے کہ پھر وزن بھی ہوگا۔ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ قبر میں عقائد سے متعلق سوال و جواب ہوں گے۔ وہاں پوچھا جائے گا ومن نبیک اور تیرا نبی کون ہے ما کنت نقول فی ھذالرجل اس شخص کے بارے میں تو کیا کہتا تھا حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایسے مشکل وقت میں بعض لوگوں کے سامنے ایک نہایت حسین و جمیل نوجوان ظاہر ہوگا اس کا چہرہ متغیر ہوگا مگر اس سے خوشبو آرہی ہوگی۔ صاحب قبر اس سے دریافت کرے گا کہ تم کون شخص ہو ، وہ جواب دے گا انا عملک الصالح میں تیرا نیک عمل ہوں۔ تیری تسلی کے لیے اللہ تعالیٰ نے مجھے اس شکل و صورت میں تشکل کرکے بھیجا ہے اسی طرح قرآن کریم کے متعلق بھی آتا ہے کہ قرآن کریم بھی نہایت خوبصورت شکل میں آئے گا مومن آدمی پوچھے گا تم کون ہو ؟ وہ کہے گا میں وہی قرآن پاک ہوں جسے تم رات کو پڑھا کرتے تھے اور جس کے حکم سے دن کو پیاسے رہتے تھے یعنی روزہ رکھتے تھے۔ حدیث شریف میں آتا ہے والحمدللہ تملا المیزان جب کوئی مومن آدمی الحمد للہ کہتا ہے تو یہ کلمہ میزان کو بھردیتا ہے بہرحال یہ معنوی چیزیں بھی جس رکھتی ہیں جو عالم مثال میں ظاہر ہوں گی اور انہیں تو لاجاسکے گا البتہ اعمال کا وزن اللہ تعالیٰ اس واسطے نہیں کریں گے کہ وہ ان سے بیخبر ہے بلکہ وہ تو ان کی حقیقت سے ازل سے واقف ہے اللہ تعالیٰ کے علم سے کوئی چیز مخفی نہیں ” واللہ بکل شی ئٍ محیط “ اس نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے وہ عالم الغیب والشہادۃ ہے۔ تاہم اعمال کا وزن انسانی ذہن کے مطابق کیا جائے گا تاکہ کوئی آدمی عذر نہ کرسکے اور اسے اپنے اچھے اور برے اعمال کی حقیقت معلوم ہوجائے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے انسانی اعمال کی حفاظت کے لیے کئی انتظام کیے ہیں۔ فرشتے ہر شخص کے اعمال نوٹ کرتے ہیں۔ یہ اللہ کے پیدا کردہ کائنات اور اس کی طبیعت اور مزاج میں بھی اعمال محفوظ ہیں بلکہ خود انسان کے اپنے حافظے میں بھی محفوظ رہتے ہیں۔ سورة انبیا میں ہے ” ونضع الموازین القسط لیوم القمۃ فلا نظلم نفس شیئا “ قیامت کے دن انصاف کے ترازو رکھ دیے جائیں گے اور کسی شخص سے زیادتی نہیں کی جائے گی بلکہ پورا پورا حساب کیا جائے گا۔ بہرحال اعمال کا تولا جانا برحق ہے اور جزا یا سزا کا فیصلہ انہی اعمال کی بنا پر ہوگا۔ ایمان ذریعہ ثقل اعمال میں ثقل اور پاکیزگی ایمان کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ انسان کا ایمان جس قدر درست ہوگا اور اعمال میں اخلاص ہوگا ، اسی قدر ان کا وزن بڑھ جائے گا اس کے برخلاف ریا کاری کی وجہ سے عمل کا وزن ہلکا ہوجاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اخلص فی دینک یکفیک قلیل من العمل اپنے دین میں اخلاص پیدا کرلو تو تھوڑا عمل تمہیں کفایت کرجائے گا۔ ترمذی شریف اور بعض دوسری کتابوں میں یہ مشہور حدیث ہے جسے آپ سنتے رہتے ہیں کہ قیامت والے دن ایک شخص پیش ہوگا جسے اعمال 99 رجسٹروں پر مشتمل ہوں گے اور ہر رجسٹرحد نگاہ تک لمبا چوڑا ہوگا یہ رجسٹر برائیوں سے پر ہوں گے۔ ہاں باری تعالیٰ یہ سب میرے ہی اعمال ہیں۔ یہ سارے برے اعمال میں نے ہی کیے ہیں پھر اللہ تعالیٰ ایک چھوٹا سا پرچہ (بطاقۃ) حاضر کرنے کا حکم دے گا بندہ عرض کرے گا مولا کریم ! میرے ان بڑے بڑے سیاہ رجسٹروں کے مقابلے میں اس چھوٹے سے پرزے کی کیا حیثیت ہے اللہ فرمائے گا اپنے میزان کے وقت حاضر ہو ، تیرا رب کسی پر زیادتی نہیں کرتا۔ اس کاغذ پر کلمہ توحید لا الہ الا اللہ تحریر ہوگا جب وہ پلڑے میں ڈالا جائے گا تو 99 رجسٹروں سے بھی وزنی نکلے گا جس سے وہ بندہ بڑا متعجب ہوگا محدثین کرام فرماتے ہیں کہ یہ ایسے شخص کا معاملہ ہے جو ساری عمر کفر ، شرک اور بدعات میں رہا۔ مگر آخری وقت خلوص دل کے ساتھ کلمہ پڑھ لیا اس کے بدع اسے مزید نیکیاں کرنے کا موقع ہی نہیں ملا لہٰذا یہی کلمہ اس کے لیے کفایت کرے گا۔ حدیث شریف میں ایک دوسرے شخص کا واقعہ بھی آتا ہے کفر و اسلام کی جنگ جاری ہے اس دوران ایک کافر شخص حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے حضور ! اگر میں مسلمان ہوجائوں تو کیا مجھے جنت مل جائے گی فرمایا ہاں ۔ چناچہ اس شخص نے کلمہ پڑھ لیا اور جہاد میں شریک ہوگیا۔ پھر وہ لڑتے لڑتے شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوگیا حالانکہ ابھی تک نہ اس نے کوئی نماز پڑھی تھی نہ روزہ رکھا تھا اور نہ کوئی دوسرا عمل کیا تھا۔ حضور ﷺ نے اس کے متعلق فرمایا عمل قلیلا واجرکثیرا اس شخص نے عمل تو تھوڑا کیا مگر اسے اجر بہت زیادہ مل گیا۔ ایسے ہی لوگوں کے چھوٹے چھوٹے اعمال بڑے بڑے گناہوں کا کفارہ بن جائیں گے اور وزن میں بھاری ہوجائیں گے۔ درود شریف کی برکت ابن ابی دنیا ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ قیامت کے دن حضرت ادم (علیہ السلام) دوسبز کپڑے پہنے ایک مقام پر بیٹھے ہوں گے لوگ ان کے سامنے سے گزر رہے ہوں گے بعض کامیابی کی منزل کی طرف جا رہے ہوں گے اور بعض ناکامی کی جانب۔ اتنے میں ایک شخص کو گرفتار کرکے جہنم کی طرف لے جایا جارہا ہوگا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) پوچھیں گے تم کو کدھر لے جایا جارہا ہے عرض کرے گا حضور ! میں نبی آخرالزمان کی امت کی آدمی ہوں ، میرے پاس کوئی نیک نہیں ، سب برائیوں کے انبار ہیں لہٰذا مجھے دوزخ کی طرف لے جا رہے ہیں۔ آدم (علیہ السلام) پریشان ہو کرحضور ﷺ کی آواز دیں گے اے محمد ! یہ آپ کی امت ک آدمی ہے اس کی فکر کریں اس پر حضور ﷺ فرشتوں سے کہیں گے اے پروردگار کے قاصدو ! اس کو چھوڑ دو ، یہ میری امت کا آدمی ہے فرشتے عرض کریں گے نن غلاظ شداد لانعضی ما امر اللہ ہم بڑے سخت گیر ہیں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے چناچہ اس شخص کو جہنم کی طرف لے جائیں گے پھر حضور علیہ الصلوٰۃ و السلم اپنی داڑھی مبارک کو ہاتھ میں پکڑ کر خدا کی بار گاہ میں التجا کریں گے اور اس کے لیے دعا کریں گے تو اللہ کا حکم ہوگا کہ اس شخص کو روک دو ۔ پھر حضور ﷺ اپنے پاس سے ناخن کے برابر ایک چھوٹا سا پرزہ نکالیں گے اس کا وزن کیا جائے گا تو وہ ساری برائیوں سے زیادہ وزنی نکلے گا ارشاد ہوگا سعد سعد یہ شخص نیک بخت ہوگیا اور اسے جنت کا حکم ہوجائے گا وہ شخص بڑا حیران ہوگا اور فرشتوں سے پوچھے گا کہ یہ کون شخص ہے جس نے مجھے عزت دلائی تو حضور ﷺ فرمائیں گے میں تیرا نبی ہوں اور تو میری امت کا آدمی ہے یہ پرزہ وہ درود شریف ہے جو تو نے کسی اخلاص کے ساتھ پڑھا تھا۔ آج وہی مقبول ہو کر تیری برائیوں پر غالب آگیا ہے حضور فرمائیں گے کہ تیرا یہ عمل ضرورت کے وقت تمہارے پاس پہنچ گیا ہے درود شریف کی اتنی اہمیت ہے اور یہ اتنا اعلیٰ عمل ہے بلکہ اخلاص و محبت کے ساتھ درود شریف پڑھنا افضل العبادات میں ہے بشرطیکہ یہ خلوص و محبت کے ساتھ برمحل پڑھا جائے ، محض شورو شر ، فتنہ پروری ، بےمحل اور غلط طریقے سے پڑھا جانے والا درود قابل قبول نہیں ہوگا۔ اس کے لیے پورے آداب کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے۔ بھاری اور ہلکے اعمال ارشاد ہوتا ہے اعمال کا وزن برحق ہے فمن ثقلت موازینہ پس جس کے اعمالنامے بھاری ہوں گے فاُلیک ھم المفلحون وہ فلاح پاجائیں گے کامیاب ہوجائیں گے حظیرۃ القدس ، علیین اور جنت میں پہنچ جائیں گے۔ ومن خفت موازینہ اور جس کے اعمال نامے ہلکے ہلکے ہوں گے فاُولیک الذین خسرہ انفسھم یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کو خسارے میں ڈالا۔ فکر اور عقیدہ درست نہیں کیا۔ اعمال صحیح طریقے سے انجام نہیں دیے موقع اور محل کے مطابق نہیں کیے اور ان میں اخلاص کا فقدان تھا لہٰذا یہ ہلکے نکلیں گے ظاہر ہے کہ جو کام خلاف سنت ہوگا وہ بیکار محض ہے۔ عمل وہی مقبول ہے جو حضور ﷺ کے طریقے کے مطابق ہوگا اور وزن بھی اسی کا زیادہ ہوگا۔ اپنی خواہش اور خلاف سنت انجام دیے جانے والا عمل مردود ہوگا۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو عمل ہمارے طریقے کے مطابق نہیں ہوگا وہ اگرچہ عمل درست ہو مگر رد ہوجائے گا۔ فرمایا جن لوگوں کے اعمال نامے ہلکے ہوں گے انہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا بما کانو بایتنا یظلمون اس واسطے کہ وہ ہماری آیتوں کے ساتھ ظلم کرتے تھے کسی نے انکار کیا۔ کسی نے مانتے ہوئے بھی اس کے مطابق عمل نہ کیا اور کسی نے مطلب غلط بیان کیا یہ سب درجہ بدرجہ ظلم کرنے کے مترادف ہوگا دنیا میں کتنے بےراہ رد فرقے پیدا ہوچکے ہیں کوئی پر دیزی ہے ، کوئی چکڑالوی ہے ، کوئی منکر حدیث ہے ، یہ سب آیات الٰہی کے ساتھ زیادتی کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔ تمکین فی الارض آگے اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری بات بطور احسان یاد دلائی ہے اے بنی نوع انسان ! ولقد مکنکم فی الارض ہم نے تمہیں زمین میں جگہ دی ہے مکنا کا معنی قبضہ دے دیا ہے جما دیا ہے تمہیں زمین میں تسلط دے دیا ہے جس طرح چاہو اسے استعمال کرو چناچہ کوئی نہریں کھودتے ہیں کوئی کانیں نکالتے ہیں کوئی عمارات بناتے ہیں زمین کو ایسی پوزیشن میں بنایا ہے کہ وہ تمہاری خدمت کے لیے ہمہ تن تیار رہتی ہے اس میں ہل چلائو ، اناج پیدا کرو ، طرح طرح کی سبزیاں اور پھل حاصل کرو ، تمہیں زمین پر کنٹرول دے دیا گیا ہے یہ تمکین فی الارض ہے اور اللہ کا بہت بڑا احسان ہے فرمایا دوسری چیز یہ ہے وجعلنا لکم فیھا معایش اور اس میں تمہارے لیے معیشت کے سامان پیدا کردیئے ہیں زمین سے متعلقہ مختلف قسم کے روزی کے وسائل مہیا کردیئے ہیں تاکہ تم کمائو اور کھلائو پیو ، مگر افسوس کا مقام ہے کہ لوگوں کو ننانوے فیصد اکثریت انہی دو چیزوں کا غلط استعمال کرتی ہے زمین پر جاہ و اقتدار کو بھی غلط استعمال کرتے ہیں اور مال و دولت کو بھی ضائع کرتے ہیں حالانکہ یہ دونوں چیزیں اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہیں اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں کسی ملک ادارے یا گھر پر اقتدار دیا ہ کے تو اس کو صحیح طور پر استعمال کرو اپنے زیر دستوں کی خدمت کرو نہ کہ ان کو تنگ کرو اسی طرح مال بھی جائز اور صحیح طریقے سے خرچ کرو ، مستحقین کی اعانت کرو ، جہاد فی سبیل اللہ ، تبلیغ دین اور محتاجوں کی اعانت پر خرچ کرو ، عیاشی ، فحاشی ، کھیل تماشے اور شادی اور مرگ کی غلط رسومات پر خرچ نہ کرو آج دیکھ لیں روپیہ کن کاموں پر صرف ہورہا ہے کوئی اکا دکا اللہ کا بندہ ہوگاجس کا مال جائز طریقے پر خرچ ہوتا ہے وگرنہ غالب اکثریت رسم و رواج اور جھوٹے نام و نمود کی غلام بن چکی ہے۔ اقامت دین اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ضرورت اقامت دین کی ہے آج دنیا کی کل پانچ ارب کی آبادی میں سے چار ارب مخلوق ایمان کی پیاسی ہے مگر ان تک ایمان پہنچانے والا کوئی نہیں نہ کوئی خرچ کرتا ہے اور نہ محنت کرتا ہے اتنا بڑا کام ان دو چیزوں کے بغیر کیسے ہوسکتا ہے اگر مسلمانوں کے مال و دولت کا رخ ایمان کے ملاشیوں کی آبیاری کی طرف ہوجائے تو یہ مال کا بڑا اعلیٰ وارفع مصرف ہے اللہ تعالیٰ نے یہ مال ذاتی عیش و عشرت اور رسومات باطلہ کے فروغ کے لیے نہیں دیا بلکہ اعلائے کلمۃ الحق کے لیے عنایت کیا ہے غیر مسلم اقوام میں تبلیغ دین کی سخت ضرورت ہے جس کے لیے مال اور وقت درکار ہے تبلیغی جماعت والے جو کچھ کر رہے ہیں یہ تو کل ضرورت کا ایک فیصد بھی نہیں ہے اگرچہ یہ بھی غنیمت ہے مگر سوال تو یہ ہے کہ باقی 99 فیصدی کام کون کرے گا ؟ آپ ذرا حساب لگاکر دیکھیں کہ کل دولت کا کتنے فیصد اقامت دین کے لیے خرچ ہورہا ہے جواب صفر آئے گا یہ دین تو بالکل برحق ہے اور اللہ تعالیٰ اسے قائم بھی رکھے گا مگر ہم اپنی ذمہ داری کس حد تک پوری کر رہے ہیں کچھ غریب غربا لوگ اور علمائے حق ہر دور میں موجود رہے ہیں جو حتی الامکان کام کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے مگر اس معاملہ میں اجتماعیت بالکل ختم ہوکررہ گئی ہے پوری دنیا کے مسلمان روبہ زوال میں اور ذلت کے کام انجام دے رہے ہیں مسلمان حکمران بھی عیش و عشرت میں پڑے ہوئے ہیں یا جنگ و جدل میں مصروف ہیں دین کی تقویت کے لیے کیا کر رہے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے جاہ و مال دونوں چیزیں عطا فرمائیں ذرا بتائو تو سہی ان کو دین کے لیے کس حد تک استعمال کیا جارہا ہے۔ فرمایا ہم نے تمہیں دو عظیم نعمتیں عطا فرمائیں یعنی زمین میں اقتدار بھی دیا اور مال و دولت بھی دیا مگر قلیلاً ماتشکرون تم بہت کم ہی شکریہ ادا کرتے ہو ان نعمتوں کا شکریہ اس طرح ادا ہوگا کہ ان کا مصرف صحیح طریقے سے کیا جائے اس کا بہترین مصرف وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کا منتشاء ہے یعنی ” لیظھرہ علی الذین کلہ “ (الفتح) دین کی سربلندی اور سرفرازی کے لیے دین اسلام کو تمام ادیان پر غالب کرنے کے لیے تاکہ کوئی دوسرا دین یا ازم اس کے سامنے سر نہ اٹھا سکے فرمایا ان نعمتوں کو اکثر لوگ غلط ہی استعمال کرتے ہیں اور شکریہ ادا نہیں کرتے مگر اس کے لیے لازماً باز پرس ہوگی اس کے بعد اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کا مسئلہ اور اس ضمن میں بہت سے دیگر حقائق سمجھائے ہیں۔
Ayahs 7:11–13

وَ لَقَدْ خَلَقْنٰكُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰكُمْ ثُمَّ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ١ۖۗ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ لَمْ یَكُنْ مِّنَ السّٰجِدِیْنَ Open ayah 7:11 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ہم نے پیدا کیا ہے تم کو پھر صورتیں بنائی ہیں تمہاری پھر کہا ہم نے فرشتوں سے کہ سجدہ کرو آدم (علہی السلام) کو پس سجدہ کیا انہوں نے مگر ابلیس نے نہ تھا وہ سجدہ کرنے والوں میں سے

قَالَ مَا مَنَعَكَ اَلَّا تَسْجُدَ اِذْ اَمَرْتُكَ١ؕ قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ۚ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 7:12 in the Quran reader

فرمایا رب تعالیٰ نے کہ کس چیز نے روکا تجھ کو کہ تو نے سجدہ نہ کیا۔ جب کہ میں نے تمہیں حکم دیا تھا۔ تو شیطان نے کہا میں بہتر ہوں اس سے پیدا کیا تو نے مجھ کو آگ سے اور پیدا کیا ہے تو نے اس کو مٹی سے

قَالَ فَاهْبِطْ مِنْهَا فَمَا یَكُوْنُ لَكَ اَنْ تَتَكَبَّرَ فِیْهَا فَاخْرُجْ اِنَّكَ مِنَ الصّٰغِرِیْنَ Open ayah 7:13 in the Quran reader

فرمایا اللہ تعالیٰ نے اتر جائو یہاں سے پس نہیں لائق تمہارے لئے کہ تم تکبر کرتے اس میں پس نکل جائو ، بیشک تم ذلیلوں میں سے ہو۔

ربط آیات سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے نزول اور اس کی اشاعت کا تذکرہ کیا اور منکرین کو اس دنیا اور آخرت کے انجام سے آگاہ کیا پھر گزشتہ درس میں انسانی اعمال کی حفاظت اور آخرت میں ان کے وزن کا بیان آیا اور اس کے نتیجے میں نجات یا خسارے کا ذکر بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا پھر اللہ نے ان دو عظیم نعمتوں کا ذکر کیا جو اس نے انسان کو عطا فرمائی ہیں یعنی زمین میں اقتدار اور معیشت کے سامان ، مگر بطورشکوہ یہ بھی بیان فرمایا کہ اکثر لوگ ان نعمتوں کی ناقدری کرتے ہیں اور ان کا غلط استعمال کرتے ہیں اور بالآخر ناکام رہتے ہیں اللہ نے فرمایا کہ بہت قلیل لوگ ہیں جو ان نعمتوں کا حق ادا کرتے ہیں۔ انعامات کے ہی ضمن میں اج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے تحلیق انسان جیسے انعام کا ذکر فرمایا ہے انسانی تحلیق اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک نمود ہے اس مقام پر نسل انسانی کے جدامجد حضرت آدم (علیہ السلام) کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ انسان کے ازلی ابدی دشمن شیطان اور اس کی کارگزاری کا بھی ذکر ہے اللہ تعالیٰ نے یاد دلایا ہے کہ یہ تمہارا دیرینہ دشمن ہے لہٰذا اس سے ہمیشہ محتاط رہنا چاہیے اگر اسکے پھندے میں پھنس گئے تو ناکام ہوجائو گے بہرحال یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ انسان کی تمام ترقیات کی بنیاد حضرت آدم (علیہ السلام) کے وجود میں ہے اور پھر آپ کے زمین پر اترنے اور یہاں نشونما پانے کی غرض وغایت یہ ہے کہ انسان کو ترقی اور عروج حاصل ہو اور اس کا واحد ذریعہ اتباع ہدایت ہے اگر انسان اللہ تعالیٰ کی وحی کا اتبع کرے گا تو وہ اپنے جدامجد کا کھویا مقام جنت دوبارہ حاصل کرسکتا ہے اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کے سامنے عمل کا وسیع میدان چھوڑ دیا ہے۔ آدم (علیہ السلام) کی پیدائش میں ان کے خلیفۃ اللہ ہونے کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے گزشتہ سورة الانعام کے آخر میں خلافت الٰہی کا ذکر ہوچکا ہے اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو اپنا نائب مقرر کیا اور نائب کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے حاکم اعلیٰ کی مکمل فرمانبرداری کرے اور اسکے دیے ہوئے قانون کو نافذ کرے آدم (علیہ السلام) کی وساطت سے پوری نوع انسانی اللہ تعالیٰ کی طرف سے منصب خلاف پر فائز ہے گزشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات یاد دلائی ہے وھوالذی جعلکم خلٰف الارض اسی اللہ نے تمہیں زمین میں خلیفہ بنایا ہے اب یہ تمہارا فرض ہے کہ خلافت کے حق کو ٹھیک ٹھیک ادا کرو۔ تخلیق نوع انساتی ارشاد باری تعالیٰ ہے وقلد خلقنکم البتہ تحقیق ہم نے تمہیں پیدا کیا نسل انسانی کی پیدائش کی ابتداء اس طرح کی کہ سب سے پہلے تمہارے جدامجد حضرت آدم (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا خلقہ من تراب (آل عمران) آپ کی پیدائش مٹی سے ہوئی اور پھر آگے اللہ تعالیٰ نے توالد اور تناسل کے ذریعے نسل انسانی کو پھیلایا اللہ تعالیٰ نے مٹی سے آدم (علیہ السلام) کا ڈھانچہ بنایا پھر اس میں شرح ڈالی اور اس طرح نسل انسانی کی ابتداء فرمائی۔ ثم صورنکم پھر یعنی پیدا کرنے کے بعد ہم نے تمہیں صورت بخشی لفظ ثم سے اشکال پیدا ہوتا ہے کیا انسانی شکل و صورت پیدائش کے بعد بنتی ہے ؟ نہیں بلکہ انسان اپنی شکل و صورت کے ساتھ ہی پیدا ہوتا ہے دراصل بعض اوقات ثم تاخیر کے لیے نہیں بلکہ عطف کے لیے بھی آتا ہے تو یہاں پر عطف ہی مراد ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمہیں پیدا کیا اور صورت بخشی ، بعض مفسرین کرام پیدائش سے مراد جدامجد حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش لیتے ہیں اور اس کے بعد تمہیں یعنی انسانی نسل کو پیدا کیا اور شکل وصورتیں عطا کیں حقیقت یہ ہے کہ انسان کی شکل و صورت تو شکم مادر ہی بن جاتی ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ھوالذی یصور کم فی الارحام کیف یشاء وہی اللہ ہے جو رحموں میں تمہاری صورت بناتا ہے جیسی چاہتا ہے اللہ تعالیٰ رحم مادر میں قطرہ آب پر تصویر کشتی کرتا ہے غرضیکہ مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں پر خلق کا تعلق حضرت ادم (علیہ السلام) سے ہے اور تصویر کا تعلق نوع انسانی ہے۔ بعض مفسرین اس کی تشریح یوں کرتے ہیں کہ خلق اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے جب اعیان ثابتہ کے دور میں اس صفت کا ظہور ہوا تو اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کی عین یعنی تشخص کو قائم فرما دیا جب کہ خارج میں ابھی اس کا وجود نہیں تھا پھر اس مادی جہان میں آکر انسان کا خاکی وجود تیار ہوا اور چار ماہ میں اس کا جسم بنا پھر امر الٰہی جسے روح الٰہی بھی کہتے ہیں چوتھے مہینے میں آکر جسم کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے اور پھر وہ ایک مکمل انسان بن جاتا ہے شکم مادر میں ساری منزلیں طے کرنے کے بعد اسے اس جہان میں وارد ہونے کا موقع ملتا ہے غرضیکہ ہر انسان کا تشخص تو بہت پہلے سے قائم ہے اور خدا تعالیٰ کے علم میں ہے مگر اس کا ظاہری جسم بعد میں بنتا ہے دنیا میں آکر انسان پھر اپنی آخری منزل کی طرف رواں ہوجاتا ہے پھر یا تو اعلیٰ مقام حاصل کرلیتا ہے یا تنزل میں پہنچ جاتا ہے۔ عظمت انسان اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا فرمایا اسے شکل و صورت بخشی اور اسے ساری مخلوق پر عظمت عطا کی انسانی عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے اسی نے اپنے مقربین فرشتوں کو حکم دیا ثم قلنا للملٰکۃ اسجدو والادم پھر ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کی طرف سجدہ کرو امام شاہ ولی اللہ (رح) کی زبان میں اللہ تعالیٰ نے نوع انسانی کی خدمت اور مصلحت کے لیے ملائکہ کو توارب ہا سال پہلے پیدا کردیا تھا گویا تخلیق کائنات کا مقصود انسان کی پیدائش ہے اور باقی چیزیں اللہ نے اس کی خدمت کے لیے پیدا فرمائیں پھر اللہ تعالیٰ نے انسان کی بلندی عظمت کا اظہار کرنے کے لیے فرشتوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ ہر شریعت میں سجدہ عبادت صرف اللہ تعالیٰ کے لیے روا رہا ہے اور اس کے علاوہ کسی کے سامنے یہ سجدہ نہیں کیا جاسکتا اللہ تعالیٰ نے جس سجدے کا حکم فرشتوں کو دیا وہ تعظیمی سجدہ تھا جو بعض شریعتوں میں مباح تھا مگر ہماری شریعت میں تعظیمی سجدہ بھی روا نہیں ہے البتہ تعظیم ہوسکتی ہے جیسے ملاقات کے وقت ہوتی ہے مگر انتہائی تعظیم عبادت کا دوسرا نام ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے بہرحال یہ سجدہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے کرایا گیا تھا۔ بعض فرماتے ہیں کہ جس سجدہ کا ذکر ہورہا ہے یہ سجدہ تو اللہ تعالیٰ ہی کے لیے تھا البتہ اس کے لیے حضرت آدم (علیہ السلام) بمنزلہ قبلہ کے تھے۔ جس طرح اب مسلمان قبلہ یعنی بیت اللہ کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے ہیں اسی طرح فرشتوں نے آدم (علیہ السلام) کی طرف رخ کرکے اللہ تعالیٰ کو سجدہ کیا تھا (یا فرشتوں کاس جدہ اس تجلی اعظم کی طرف تھا جو آدم (علیہ السلام) کے قلب مبارک پر پڑی تھی) بہرحال اگر اس کو آدم (علیہ السلام) کی ذات پر محمول کیا جائے تو یہ تعظیمی سجدہ تھا ، نہ کہ سجدہ عبادت۔ فرشتوں کا سجدہ بہرحال اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں فسجدو الا ابلیس سب نے سجدہ کیا مساوائے ابلیس کے ، سورة الحجر میں آتا ہے فسجدہ الملکۃ کلھم اجمعون تمام فرشتوں نے سجدہ کیا اما شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہاں تمام فرشتوں سے مراد ملاء اعلیٰ کے علاوہ باقی تمام فرشتے ہیں اگر ہ ملاء اعلیٰ کے فرشتے سجدہ کرنے کے حق میں تھے مگر فی الحقیقت انہوں نے خود سجدہ نہیں کیا شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ ملاء اعلیٰ کے علاوہ باقی ملائکہ عنصرین کہلاتے ہیں اور ان کا درجہ ملاء اعلیٰ سے کم ہے ملائکہ عنصرین کا وجود مختلف عناصر سے بنا ہوا ہے اسی طرح شیطان اور جنات کا وجود بھی مختلف عناصر کا مرکب ہے اس لحاظ سے ابلیس کو فرشتوں کے ساتھ نسبت تھی وگرنہ وہ فرشتہ نہیں تھا فرشتوں میں رچا بسا تھا اور اللہ تعالیٰ کا عبادت گزار تھا صوبہ بہار کے خواجہ یحییٰ منیری (رح) کے مکتوبات میں لکھا ہے کہ ابلیس نے سات لاکھ برس خدا تعالیٰ کی عبادت کی مگر جب امتحان کا وقت آیا تو ناکام ہوگیا اسی لیے خواجہ صاحب فرماتے ہیں کہ کسی انسان کو عبادت یا کسی اور چیز پر مغرور نہیں ہونا چاہیے نامعلوم کب انسان کسی ابتلا میں مبتلا ہوجائے آپ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں برصیصا نامی ایک راہب گزرا ہے جس نے چار سو سال تک خدا کی عبادت کی مگر اس کا انجام کفر پر ہوا اسی طرح بلعم بن باعوراء بھی نیک اور صاحب کرامت آدمی تھا مگر موسیٰ (علیہ السلام) کی مخالفت کی وجہ سے ایمان کی دولت سے محروم ہو کر اس دنیا سے گیا لہٰذا ہر شخص کو ہمیشہ عاجزی اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے اور غرور وتکبر کو قریب نہیں آنے دینا چاہیے خواجہ صاحب کا مذکورہ قول کسی حدیث سے تو ثابت نہیں ہوسکتا ہے کہ یہ آپ کی کشفی بات ہو یا کسی تاریخ نے واقعہ نقل کیا ہو خواجہ صاحب کی بات ایسے ہی نہیں ہوسکتی ، آپ بہت بڑے بزرگ ہوئے ہیں حضرت خواجہ نظام الدین چشتی (رح) کے مرید اور خلیفہ تھے ان کے مکتوبات میں یہ درج ہے۔ ابلیس کا انکار فرمایا ابلیس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل سے انکار کردیا لھم یکن من الجسدین وہ سجدہ کرنے والوں میں نہیں تھا اللہ تعالیٰ نے اس سے دریافت کیا قال مامنعک الا تسجد اذا مرتک جب میں نے تجھے حکم دیا تھا تو تو نے سجدہ کیوں نہ کیا یعنی کس چیز نے تجھے سجدہ کرنے سے منع کیا تو شیطان نے اپنا فلسفہ چھانٹتے ہوئے کہا قال انا خیر منہ یعنی میں آدم (علیہ السلام) سے بہتر ہوں لہٰذا میں اس کے سامنے کیسے جھک سکتا ہوں میں تو صرف تیرے سامنے ہی سجدہ ریز ہوں گا شیطان نے اپنی برتری کے لیے یہ دلیل پیش کی خلقتنی من نار وخلقتہ من طین تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے جبکہ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے ، لہٰذا میں اس سے افضل ہوں حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کا ڈھانچہ تیار کیا تو ملائیکہ دیکھ رہے تھے ابلیس نے بھی اس کا بغور جائزہ لیا اور کہنے لگا کہ یہ مجسمہ اندر سے کھوکھلا ہے اور اس میں کوئی چیز داخل کی جاسکتی ہے یعنی انسان کو بہکایا جاسکتا ہے اور بات بھی یہ ہے کہ انسان واقعی کھوکھلا ہے اور وسوسے کے ذریعے اسے ورغلایا جاسکتا ہے چناچہ آگ آرہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے شیطان کو مردود قرار دے دیا تو پھر اس نے بنی آدم کو ورغلانے کے لیی اللہ تعالیٰ سے مہلت مانگی جو دے دی گئی اور اب قیامت تک انسان کا دشمن ہے اور ہر طریقے سے اسے ورغلانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہاں پر ایک اور اشکال کی وضاحت بھی ہوجانی چاہیے کہ قلنا للملکۃ سے ظاہر ہوتا ہے کہ سجدہ کا حکم صرف ملائکہ کے لیے تھے سورة بقرہ میں بھی اسی قسم کے الفاظ آتے ہیں واذ قلنا للملکۃ اسجدو الادم تو اشکال یہ پیدا ہوتا کہے کہ جب حکم صرف ملائکہ کو تھا تو پھر ابلیس نے سجدہ نہ کرکے کون سی حکم عدولی کی ؟ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کے الفاظ اذا مرلک سے واضح ہوتا ہے کہ فرشتوں کے علاوہ ابلیس کو بھی سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا تھا ملائکہ خوا کہ ملاء اعلیٰ کے ہوں یا ملائکہ عنصرین ان کو سجدے کا حکم ہوا تو یہ حکم ابلیس کے لیے بھی تھا وہ انکار کرکے ہمیشہ کے لیے ملعون ٹھہرا۔ آگ اور مٹی میں افضلیت ابلیس نے اپنی برتری کی جو وجہ بیان کی وہ تھی کہ آگ کو مٹی پر فوقیت حاصل ہے آگ میں روشنی ، چمک اور بلندی پائی جاتی ہے جبکہ مٹی ایک حقیر چیز ہے جو پائوں تلے روندھی جاتی ہے یہ شیطان کی سوچ تھی حالانکہ حقیقت اس کے خلاف ہے آگ بھی ایک عنصر ہے اور مٹی بھی اس لحاظ سے تو کسی کو فوقیت حاصل نہیں مگر یہ شیطان کی بدقسمتی ہے کہ وہ فضیلت کے اصلی عنصر کونہ سمجھ سکا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ آگ کی نسبت مٹی کو زیادہ افضلیت حاصل ہے کیونکہ خاک میں علم ، بردباری ، انکساری وغیرہ پائی جاتی ہے جب کہ آگ میں حدت ، تلخی ، خفت ، طیش اور چھچھورا پن پایا جاتا ہے یہی چیزیں ابلیس میں بھی پائی جاتی ہیں جس کی وجہ سے اس میں ہلکا پن پایا جاتا ہے۔ حضرت مجد الف ثانی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذاتی تجلیات سے مستفید ہونے کی صفت صرف انسان میں پائی جاتی ہے حتیٰ کہ ملائکہ بھی اللہ کی صفاتی تجلیات سے ہی مستفید ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہی سحال جنات کا ہے حضرت مجدد (رح) اس کی مثال یوں بیان فرماتے ہیں کہ سورج کی روشنی لطیف چیز میں نمایاں نہیں ہوتی بلکہ کثیف چیز میں ہوتی ہے جیسے ہوا ایک لطیف چیز ہے ، سورج کی روشنی اس پر پڑتی ہے مگر اپنے آپ کو نمایاں نہیں کرسکتی جب یہی روشنی زمین اور اس پر موجود اشیاء پر پڑتی ہے تو بالکل نمایاں ہوتی ہے اسی طرح فرشتے اور جنات چونکہ لطیف مخلوق ہیں اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کی ذاتی تجلیات کو جذب کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور صرف صفاتی تجلیات سے مستفید ہوتے ہیں جب کہ انسان ایک کثیف مخلوق ہونے کی وجہ سے خدا تعالیٰ کی ذاتی تجلیات کا متحمل ہونے کا اہل ہے اس معاملہ میں غالب نے بھی طبع آزمائی کی ہے۔ لطافت بےکثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی چمن زنگار ہے آئینہ باد بہاری کا یہاں پر صبح کی نسیم طیب کو شیشے اور چمن کو اس کے زنگار سے تشبیہ دی گئی ہے جس طرح شیشہ بغیر نگار کے تصویرپیدا نہیں کرسکتا اسی طرح بغیر چمن کے نسیم طیب بھی اپنا جلوہ نہیں دکھا سکتی گویا رنگا رنگ پھول اور پھل چمن کے مرہون منت ہیں مطلب یہ کہ انسان میں ایک قسم کی کثافت پائی جاتی ہے جس پر خدا تعالیٰ کی ذاتی تجلیات کا جلوہ ظاہر ہوسکتا ہے جو کہ ملائکہ اور جنات جیسی لطیف مخلوق پر نہیں ہو سکتا اس لحاظ سے فوقیت ابلیس ناری کو حاصل نہیں بلکہ انسان خاکی کو ہے۔ بشار ابن بردآتش پرست تھا اور شاعر تھا اس نے شیطانی فلسفے کو اس طرح بیان کیا ہے ؎ ابلیس افضل من ابیکم آدم فتبینوا یا معشر الاشرار النار عنصرہ وآدم طینۃ والطین لا یسمو سمو النار اے گروہ انسان ابلیس تمہارے جدامجد آدم (علیہ السلام) سے افضل ہے ابلیس کا عنصر آگ ہے جب کہ آدم مٹی سے ہے اور مٹی آگ کی بلندی کو نہیں پہنچ سکتی غرضیکہ شیطان کی دلیل غلط تھی اللہ تعالیٰ نے آدم خاکی میں وہ کمال رکھا ہے جو ابلیس اور آگ کو حاصل نہیں۔ حسد اور تکبر حسد اور تکبر دو مہلک بیماریاں ہیں اپنے آپ کو بڑا سمجھنا اور دوسرے کی نعمت پر حسد کرنا بہت بری خصلتیں ہیں ترمذی شریف کی حدیث میں آتا ہے من فارق روحہ الجسد وھو بری من الکبر والغلول والذین دخل الجنۃ جس شخص کی روح اس کے جسم سے اس حالت میں جدا ہو کر کر اس میں تین چیزیں تکبر ، خیانت اور قرضہ نہ پایا جائے وہ جنت میں داخل ہوجائے گا ان تینوں عیوب سے پاک آدمی جنت کا مستحق ہے بشرطیکہ اس میں ایمان موجود ہو حضور ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے لاتفخر بعضکم علی بعض ولا یبغی بعضکم علی بعض تم میں سے بعض بعض فخر نہ کرے اور نہ ایک دوسرے کے خلاف بغاوت کرے ہمیشہ آپس میں تواقع سے پیش آنا چاہیے اس کے ساتھ ساتھ اخبات کی تعلیم بھی دی گئی ہے۔ اخبتوا الی ربھم اپنے رب کے سامنے عاجزی کرو ، بلندی نصیب ہوگی تکبر صرف اللہ کو سزاوار ہے لہٰذا وربک فکبر (سورۃ مدثر) اپنے رب کی کبریائی بیان کرو ، حدیث قدسی میں آتا ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے الکبر رداء ی والعظمۃ آزادی یعنی بڑائی میری چادر ہے اور عظمت میرا تہ بند ہے جو ان چیزوں کو اپنے اوپر فٹ کرنا چاہے گا میں اسے ذلیل کردوں گا کیونکہ عظمت وکبریائی ، بلندی اور تکبر خدا کی ذات کے ساتھ لائق ہے اس کے علاوہ کوئی حقدار نہیں ابلیس نے بھی تکبر کیا اپنے آپ کو بڑا اور افضل سمجھا اور آدم کو حقیر جانا لہٰذا وہ رامذہ درگاہ ہوا۔ ابلیس کی رسوائی جب ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی حکم عدولی کی اور تکبر کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا قال فاھبط منھا جنت سے نکل جائو وما یکون لک ان تتکبر فیھا تیرے لائق نہیں تھا کہ تو یہاں غرور تکبر کا مظاہرہ کرتا تجھے تو عاجزی کا اظہار کرنا چاہیے اور تعمیل حکم کرنی چاہیے تھی فاخرج یہاں سے نکل جائو انک من الصغرین تم ذلیلوں میں سے ہو غرور کی وجہ سے شیطان پر ذلت کا ٹھپہ لگ گیا جو بھی غرور کرے گا ذلیل و خوار ہوگا اس کے برخلاف من تواضع للہ رفعہ اللہ جو عاجزی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو بلند کرے گا یہ مکالمہ اگلی آیات میں بھی چل رہا ہے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اور شیطان سے مکالمے کے ضمن میں بہت سی باتیں سمجھائی گئی ہیں جن میں ہمارے لیے بڑی تعلیم ہے۔