7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 7:120–126

وَ اُلْقِیَ السَّحَرَةُ سٰجِدِیْنَۚۖ Open ayah 7:120 in the Quran reader

اور ڈال دیئے گئے جادوگر سجدے میں

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:121 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہم ایمان لائے ہیں رب العلمین پر

رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ Open ayah 7:122 in the Quran reader

جو کہ رب ہے موسیٰ اور ہارون (علیہا السلام) کا

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ١ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِی الْمَدِیْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَاۤ اَهْلَهَا١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:123 in the Quran reader

کہا فرعون نے کیا تم ایمان لائے اس پر میری اجازت کے بغیر ، بیشک یہ ایک دائو ہے جو تم نے شہر میں کھیلا ہے تکاہ تم نکالو اس کے ذریعے اس کے رہنے والوں کو پس عنقریب تم جان لو گے

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 7:124 in the Quran reader

میں ضرور کاٹ دوں گا تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پائوں ، پھر تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَۚ Open ayah 7:125 in the Quran reader

انہوں نے کہا بیشک ہم اپنے رب کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں

وَ مَا تَنْقِمُ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰیٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآءَتْنَا١ؕ رَبَّنَاۤ اَفْرِغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:126 in the Quran reader

اور نہیں تو عیب پاتا ہم میں سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے ہیں اپنے رب کی آیتوں پر جب وہ ہمارے پاس آچکیں اے ہمارے پروردگار ! ڈال دے ہم پر صبر اور وفات دے ہمیں فرمانبرداری کی حالت میں

ربط آیات گزشتہ درس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے جادوگروں کے درمیان مقابلے کا ذکر ہوا تھا معجزات دیکھ کر فرعون نے کہا یہ بڑا جادوگر ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال دے او خود عمان حکومت سنبھال لے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف فرعون کے سرداروں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی فرعون کو مشورہ دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف کوئی کارروائی کرنے میں جلدی نہ کی جائے بلکہ اسے مہلت دی جائے انہوں نے کہا کہ ملک کے بڑے بڑے جادوگروں کو اکٹھا کرکے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مقابلہ کرایا جائے اس پروگرام کے تحت تمام چیدہ چیدہ ساحروں کو جمع کیا گیا سب لوگ میدان میں اکٹھے ہوگئے موسیٰ (علیہ السلام) کے کہنے پر جادوگروں نے اپنا کرتب دکھایا ان کے مقابلے میں اللہ کے حکم سے آپ نے اپنی لاٹھی میدان میں ڈال دی وہ بہت بڑا اژدھا بن گیا اور جادوگروں کے بنائے ہوئے چھوٹے چھوٹے سارے سانپوں کو نگل گیا اس طرح حق ثابت ہوگیا اور فرعونی مغلوب ہوگئے اور نہایت ذلیل ہو کر وہاں سے لوٹے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے جادوگروں کا حال بیان فرمایا ہے۔ ساحرین کا اعتراف حقیقت جب جادوگروں نے دیکھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی سے بننے والا اژدھا ان کے بنائے ہوئے سارے سانپوں کو نگل گیا تو وہ دم بخود رہ گئے وہ سمجھے گئے کہ جو کچھ موسیٰ (علیہ السلام) نے پیش کیا ہے وہ حقیقت ہے اگر یہ بھی جادو ہوتا تو جس طرح ہمارے بنائے ہوئے سانپ دوڑتے پھرتے تھے اسی طرح موسیٰ (علیہ السلام) کا اژدھا بھی چلتا پھرتا نظر آتا مگر اس کا جادو کے سانپوں پر غالب آجانا اس کی حقیقت کو ظاہر کررہا تھا پھر انہوں نے کیا کیا ؟ والقی السحرۃ سجدین اور سجدے میں ڈال دیئے گئے یعنی جادوگر اس قدر دم بخود ہوئے کہ انہیں اس کے سوا کوئی چارہ نظر نہ آیا کہ وہ فوراً سجدہ ریز ہوگئے گویا اعتراف حقیقت کرلیا کہ یہ کسی انسانی طاقت کا کام نہیں بلکہ اس کام کو انجام دینے والی کوئی بلند وبالا طاقت ہے جادوگروں کی اس بےقابو حالت کو اللہ تعالیٰ نے القی سے تعبیر کیا ہے ان پر دہشت طاری ہوگئی۔ ساحر ایمان لے آئے جادوگر سجدہ ریز ہوگئے اور قالوا امنا برب العلمین کہنے لگے کہ ہم تمام جہانوں کے پروردگار پر ایمان لے آئے ہیں جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر یہ واضح نشانی ظاہر کردی رب تو فرعون بھی اپنے آپ کو کہلاتا تھا اس لیے وہاں شبہ پیدا ہوسا تھا کہ جادوگر کس رب پر ایمان لائے ہیں فرعون پر یا اس رب پر جس کی دعوت موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے بھائی ہارون (علیہ السلام) دیتے ہیں تو اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے ساحروں نے کہا رب موسیٰ و ہارون ہم اس رب پر ایمان لائے ہیں جو موسیٰ اور ہارون (علیہا السلام) کا رب ہے وہی رب العلمین جس نے ہزاروں ساحروں کے سحر کو ایک لحظہ میں باطل کرکے رکھ دیا ہے بہرحال اس عظیم معجزے کا فرعون پر تو اثر نہ ہوا وہ اپنی ضد پر اڑا رہا مگر ہزاروں ساحر جو کفر کے غلبے اور اپنی پیٹ پروری کے لیے آئے تھے ان کی کایا پلٹ گئی انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت کو تسلیم کرلیا اور رب العالمین پر ایمان لے آئے جو لوگ چند لمحے پہلے کافر اور مشرک تھے وہ یکایک ایماندار بن گئے فرعون کا ردعمل پہلے تو فرعون کے حواری حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف پراپیگنڈے کرتے ہے کہ یہ شخص تمہارے ملک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور خود تمہیں ملک بدر کردینا چاہتا ہے مگر جب مقابلے پر بلائے گئے جادوگر خود ایمان لے آئے تو فرعون کو خطرہ پیدا ہوگیا کہ اب باقی لوگ بھی ایمان قبول کرلیں گے لہٰذا اس نے جادوگروں کو ڈرانا دھمکانا شروع کردیا قال فرعون فرعون کہنے لگا امنتم بہ قبل ان اذن لکم تم میری اجازت کے بغیر ایمان لے آئے ہو اور موسیٰ (علیہ السلام) کی تصدیق کردی ہے کہنے لگا ان ھذا لمکر مکر تم وہ فی المدینۃ یہ تو ایک دائو ہے جو تم نے شہر میں کھیلا ہے لتخرجو منھا اھلک یہاں کے باشندوں کو نکال باہر کرو فرعون کہنے لگا کہ یہ تمہاری اور موسیٰ (علیہ السلام) کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے یہ سب کچھ تم نے ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت کیا ہے تم نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ نورا کشتی کی ہے تم نے اپنی شکست پہلے سے طے کرلی تھی اور اس آڑ میں موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مل کر حکومت پر قبضہ کرنا چاہت ہو۔ کہنے لگا فسوف تعلمون تمہیں جلد علم ہوجائے گا کہ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں میں تمہیں اس بغاوت کا ضرور مزا چکھائوں گا۔ سخت سزا کی دھمکی پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دی لاقطعن ایدیکم وارجلکم من خلاف میں ضرور کاٹ دوں گا تمہارے ہاتھ اور پائوں الٹے۔ یہاں پر لام تاکیدی اور ن ثقیلہ دونوں تاکید کے لیے آئے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ میں یہ کارروائی ضرور بالضرور کرکے رہوں گا الٹے ہاتھ پائوں کاٹنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف کا ہاتھ کاٹ دیا جائے اور دوسری طرف کا پائوں۔ سورة مائدہ میں ڈاکو کی یہی سزا بیان کی گئی ہے کہ انہیں قتل کردیا جائے یا سولی پر چڑھا دیاجائے او تقطع ایدیھم وارجلھم من خلاف یا ان کے ہاتھ اور پائوں الٹے کاٹ دیئے جائیں یا انہیں ملک بدر کردیاجائے ایسی سزا دیتے وقت ہاتھ کلائی سے کاٹا جاتا ہے اور پائوں ٹخنے سے۔ اگر ہاتھ پائوں کاٹا جائے اگر ہاتھ دایاں ہو تو پائوں بایاں ہوتا ہے اور ہاتھ بایاں ہو تو پائوں دایاں۔ ڈاکو اور راہزن کے جرم کی نوعیت کے مطابق حاکم وقت چار قسم کی سزائیں دے سکتا ہے یعنی قتل کردیاجائے ، سولی پر چڑھا دیاجائے ، الٹے ہاتھ اور پائوں کاٹے جائیں یا قید کردیا جائے (یا ملک بدر کردیاجائے) جیسا حاکم مناسب سمجھے ویسی سزا دے دے۔ بشمول رجم اس قسم کی سخت سزائیں زمانہ قدیم سے بھی رائج تھیں چور کی قطع یدوالی سزا تورات میں بھی موجود ہے قرآن کی طرح رجم کی سزا بھی شرعیت موسوی میں روا تھی چناچہ فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دی کہ میں تم سب کے الٹے ہاتھ اور پائوں کاٹ دوں گا ثم لاصلبتکم الجمعین پھر تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا تاکہ لوگوں کو دیکھ کر عبرت ہو کہ ملک کے غداروں کا یہ حشر ہوتا ہے محدثین اور فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ عبرت کے لیے اس قسم کی سزا کو مشتہر کرنا ہماری شریعت میں بھی جائز ہے کسی مجرم کو چورا ہے میں سولی پر چڑھا کر کچھ دن تک لٹکتا چھوڑ دیا جائے یا چور کا ہاتھ کاٹ کر ہفتہ بھر کے لیے اس کے گلے میں لٹکا دیاجائے تاکہ وہ جہاں جائے لوگوں کو عبرت ہو کہ مجرم کو اس طرح سزا دی جاتی ہے ای طرح قصاص میں قتل کرنے کی سزا بھی سرعام دی جاتی ہے تاکہ لوگ دیکھ کر عبرت پکڑیں۔ ساحروں کی رسخ الایمانی فرعون کی اس دھمکی کا جادوگروں پر کچھ اثر نہ ہوا کیونکہ وہ تو ایمان کی دولت سے مالا مال ہوچکے تھے وہ اس قسم کی سزائوں سے بےنیاز تھے انہیں علم تھا کہ اگر وہ قتل کردیئے گئے تو بہرحال اپنے رب کے ساتھ ملاقات کریں گے جس پر وہ ایمان لاچکے تھے کہنے لگے قالو انا الی ربنا منقلبون بیشک ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹ کرجانے والے ہیں اگر تو ہمیں سزا دے گا تو وہ رب تیرے جیسے ظالموں کو بھی سزا دیے بغیر نہیں چھوڑے گا ہم اس قادر مطلق کے پاس جا رہے ہیں جس کے قبضہ قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں جب وہ پکڑنے پر آئے گا تو پھر تیرا حشر بھی بہت برا ہوگا انہوں نے مزید کہا کہ وما تنقم منا الا ان امنا بایت ربنا لما جاء تنا تم ہم میں کیا عیب پاتے ہو سوائے اس کے کہ ہم اپنے رب کی نشانیوں پر ایمان لے آئے ہیں جب وہ ہمارے پاس آگئیں ہم معجزات کو دیکھ کر ان کی حقیقت کو پہچان گئے ہیں لہٰذا ہم ایمان لائے ہیں بجز اس کے ہمارا کیا قصور ہے ؟ ہماری نہ کسی سے عداوت ہے نہ دشمنی نہ کسی کا مال چھینا ہے اور نہ کسی کو بےآبرو کیا ہے ؟ آخر ہمیں کس جرم کی سزا دی جائے گی ؟ اس قسم کے الفاظ بعض دوسری قوموں کے متعلق بھی قرآن پاک میں آئے ہیں مثلاً جب اصحاب الاخدود کو آگ میں ڈالا گیا تو انہوں نے بھی یہی کہا تھا ” وما نقموا منھم الا ان یومنو باللہ العزین الحمید “ اس کے سوا ان کا کیا قصور تھا کہ وہ اللہ عزیز وحمید پر ایمان لائے تھے حضور ﷺ کے اولین رفقاء جو عام طور پر غریب اور کمزور لوگ تھے وہ بھی مشکلات برداشت کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ہمارا اس کے سوا کیا جرم ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں جو ہمارا رب ہے ایمان تو کمال درجے کی چیز ہے جسے تم جرم سمجھ کر سزا دیتے ہو بہرحال ساحرین بھی کامل الایمان ہوچکے تھے جو کہ اولیاء اللہ کا درجہ ہے اللہ کے بندے ہر آزمائش کو برداشت کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور یہی عزم ان جادوگروں کا بھی تھا جو موسیٰ اور ہارون (علیہا السلام) کے رب پر صدق دل سے ایمان لاچکے تھے۔ دعائے صبر جب جادوگروں کو یقین ہوگیا کہ فرعون انہیں سزا دیے بغیر نہیں چھوڑے گا تو انہوں نے ایمان پر استقامت اور مصائب پر صبر کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور ہاتھ پھیلا دیئے کہنے لگے ربنا افرغ علینا صبراً اے ہمارے پروردگار ! ڈال دے ہم پر صبر ، صبر ملت ابراہیمیہ کا ایک اہم اصول ہے توحید ، ایمان ، شکر ، تعظیم شعائر اللہ ، نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ ، جہاد اور صبر نہایت اعلیٰ درجے کے اصول ہیں سورة بقرہ میں آتا ہے اے ایمان والو ! استعینوا بالصبروالصلٰوۃ جب کبھی مصیبت آجائے تو صبر اور نماز کے ساتھ استعانت طلب کرو بعض احادیث میں آتا ہے کہ ایمان کے دو حصے ہیں نصف حصہ صبر میں ہے اور دوسرا نصف شکر میں۔ حضرت علی ؓ کے قول میں جہاں ایمان کے ستون شمار کیے گئے ہیں وہاں صبر کو بھی ایک ستون کہا گیا ہے ایک روایت میں اس طرح آتا ہے الصبر من الایمان بمنزلۃ الراس من الجسد صبر کا تعلق ایمان کے ساتھ اس طرح لازمی ہے جس طرح سر کا تعلق دھڑ سے ہے جسم سر کے بغیر بےجان ہوجاتا ہے اور ایمان صبر کے بغیر باقی نہیں رہتا۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے سل اللہ العافیۃ یعنی اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کیا کرو ، سلامتی چاہو اور آزمائش کی خواہش کبھی نہ کرو اور جب تم کسی مصیبت میں ڈال دیے جائو تو صبر کرو اگر میدان جنگ میں دشمن کے ساتھ آمنا سامنا ہوجائے تو جان لو ان الجنۃ تحت ظلال السیوف جنت تلواروں کے سایے میں ہے اس وقت ثابت قدم رہو اور صبر سے کام لو مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ عافیت کے طالب رہو اور جب مصیبت آہی جائے تو پھر صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو چناچہ طالوت کے ساتھیوں نے جالوت کے مقابلے میں یہی دعا کی تھی ربنا افرخ علینا صبراً وثبت اقدامنا (البقرہ) اے مولا کریم ! ہم پر صبر ڈال دے اور ہمارے قدموں کو مضبوط کردے جنگ احد کے موقع پر بھی مسلمانوں نے یہی دعا کی تھی کہ اے اللہ ہمارے گناہ اور زیادتیاں معاف کردے ہمارے قدم مضوبط کردے اور کافروں کے خلاف ہماری مدد فرما مطلب یہ ہے کہ کامل مومنین نے جزع فزع کرنے کی بجائے مصیبت کے وقت ہمیشہ صبر اور استقامت الٰہی کی دعا کی اس مقام پر ایمان لانے والے ساحروں نے بھی اپنے پروردگار سے صبر ہی کی دعا کی۔ اس بات میں مفسرین کا اختلاف ہے کہ جس سزا کی دھمکی فرعون نے دی تھی وہ فی الواقع دی بھی تھی یا نہیں بعض فرماتے ہیں کہ یہ محض دھمکی تھی اس پر عمل درآمد نہیں ہوا تھا بلکہ جادوگروں کو زندہ چھوڑ دیا گیا تھا۔ بعض فرماتے ہیں کہ فرعون نے عام حیثیت کے جادوگروں کو تو رہا کردیا تھا مگر سرکردہ جادوگروں کو سزائے موت دیدی تھی تاہم فرعون کے مزاج کی جس قسم کی جھلک نظر آتی ہے اس سے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس نے سزا ضرور دی ہوگی جادوگروں کو بھی سزا کا یقین ہوچکا تھا اسی لے انہوں نے صبر و استقامت کے لیے دعا کی تھی۔ صبر کی بعض دوسری قسمیں بھی ہیں مثلاً صبر مصیبت پر بھی ہوتا ہے اور اطاعت پر بھی۔ نفس کو خواہشات سے روکنے پر بھی صبر کی ضرورت پیش آتی ہے امام غزالی (رح) فرماتے ہیں کہ صبر کا مفہوم بڑا وسیع ہے صبر کے بغیر اطاعت بھی نہیں ہوسکتی جب تک انسان صبر سے کام نہ لے نہ وضو ہوسکتا ہے اور نہ غسل اور نہ نماز ادا ہوسکتی ہے اور نہ روزے کا فریضہ ہمارے دین میں صبر بہت بڑا اصول ہے۔ اسلام پر موت بہرحال جادوگروں نے رب العزت سے ایک تو صبر کی دعا کی اور دوسری عرض یہ کی وتوفنا مسلمین اے مولا کریم ! ہمیں ایسی حالت میں موت دینا کہ ہم مسلمان ہوں یعنی تیرے مکمل طور پر اطاعت گزار ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر انبیاء حضرات ابراہیم (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کو یہی نصیحت کی تھی فلاتموتن الا وانتم مسلمون (البقرہ :132) تمہاری موت صرف اسی حالت میں آنی چاہیے کہ تم اطاعت کرنے والے ہو یعنی تمہاری موت اسلام کی حالت میں آنی چاہیے حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھی یہی دعا کی تھی توفنی مسلماً والحقنی بالصلحین سورة یوسف) اے اللہ ! مجھے اسلام پر مبوت دینا اور صالحین کی رفاقت نصیب فرما۔ موت ایک غیر اختیاری چیز ہے اور یہ اسی وقت آئے گی جب اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا تاہم اسلام کی حالت میں آئے کہ ہم مسلمان یعنی تیری اطاعت کرنے والے ہوں۔ یہ جادوگروں کی دعا تھی جنہوں نے ایمان کو قبول کرلیا تھا اس سے پہلے وہ کفر کی حالت پر تھے جب موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات دیکھے تو انہیں یقین ہوگیا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے جو قادر مطلق ہے لہٰذا وہ کامل ایمان لاکر اولیاء اللہ کی صف میں شامل ہوگئے دوسری آیات میں یہ بھی تشریح ہے کہ جب فرعون نے سزا دینے کی دھمکی دی تو ساحروں نے اس سے کہا تھا کہ تو ہمیں ہماری دنیاوی زندگی ختم کرنے کی دھمکی دیتا ہے مگر تیرے اختیار میں اس کے سوا ہے بھی کیا ؟ تو بیشک ہمیں موت سے ہمکنار کردے مگر ہمیں اپنے رب سے امید ہے کہ وہ ہماری غلطیوں کو معاف کرکے ہمیں اعلیٰ درجہ عطا کرے گا اور اپنا قرب نصیب کرے گا ظاہر ہے کہ جب کسی انسان کا ایمان مکمل ہوجاتا ہے تو پھر اس سے اسی بات کی توقع ہوتی ہے۔
Ayahs 7:127–129

وَ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اَتَذَرُ مُوْسٰى وَ قَوْمَهٗ لِیُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ یَذَرَكَ وَ اٰلِهَتَكَ١ؕ قَالَ سَنُقَتِّلُ اَبْنَآءَهُمْ وَ نَسْتَحْیٖ نِسَآءَهُمْ١ۚ وَ اِنَّا فَوْقَهُمْ قٰهِرُوْنَ Open ayah 7:127 in the Quran reader

اور کہا سرداروں نے فرعون کی قوم سے ، کیا تو چھوڑتا ہے موسیٰ (علیہ السلام) او اس کی قوم کو تکاہ وہ فساد کریں زمین میں اور وہ چھوڑ دیں تجھے اور تیرے مقرر کردہ معبودوں کو تو کہا (فرعون نے) ہم ضرور قتل کریں گے ان کے بیٹوں کو اور زندہ رکھیں گے ان کی عورتوں کو اور بیشک ہم ان پر غالب ہیں

قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهِ اسْتَعِیْنُوْا بِاللّٰهِ وَ اصْبِرُوْا١ۚ اِنَّ الْاَرْضَ لِلّٰهِ١ۙ۫ یُوْرِثُهَا مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 7:128 in the Quran reader

کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں سے مدد مانگو اللہ تعالیٰ سے اور صبر کرو۔ بیشک زمین اللہ تعالیٰ کی ہے ، وہ وہ وارث بناتا ہے اس کا جسے چاہے اپنے بندوں میں سے اور اچھا انجام ہے متقیوں کے لئے

قَالُوْۤا اُوْذِیْنَا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَاْتِیَنَا وَ مِنْۢ بَعْدِ مَا جِئْتَنَا١ؕ قَالَ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّهْلِكَ عَدُوَّكُمْ وَ یَسْتَخْلِفَكُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ كَیْفَ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:129 in the Quran reader

کہا انہوں (موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم) نے ہمیں تکالیف دی گئی ہیں تیرے آنے سے پہلے بھی اور اس کے بعد بھی جب تو ہمارے پاس آیا ہے۔ کہا (موسیٰ علیہ السلام) نے امید ہے کہ تمہارا پروردگار ہلاک کرے گا تمہارے دشمن کو اور خلیفہ بنائے گا تمہیں زمین میں پھر وہ دیکھے گا کہ تم کیسے کام کرتے ہو۔

ربط آیات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے میں جب جادوگروں نے اپنا کمال دکھایا تو اللہ تعالیٰ نے اسے باطل کردیا اور فرعونی ذلیل ہوگئے ادھر جادوگر موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے رب پر ایمان لائے اور اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے وہ معجزے کی حقیقت کو سمجھ کر شرک کی زندگی سے تائب ہوچکے تھے انہیں دیکھ کر دوسرے لوگ بھی ایمان لانے پر تیار ہوگئے تو فرعون اور اس کے حواریوں کو فکر لاحق ہوئی کہ یہ معاملہ تو ہماری خواہش کے الٹ ہوگیا اب آج کی آیات میں فرعون اور اس کے مصاحبوں کی اگلی کارروائی کا بیان ہے نیز موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی قوم کو تسلی دینے کا ذکر ہے۔ مشیران فرعون کا مشورہ جب فرعون کے درباریوں نے دیکھا کہ جادوگروں کے ایمان لے آنے سے دوسرے لوگ بھی اس طرف مائل ہو رہے ہیں اور اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو غلبہ حاصل ہوجانے کا احتمال ہے تو انہوں نے فرعون سے کہا وقال الملامن قوم فرعون اور فرعون کی قوم کے سرداروں نے فرعون سے یوں کہا اتذرموسیٰ وقومہ کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی قوم کو یونہی چھوڑتا ہے کہ وہ جو چاہیں کرتے پھریں اور اب ان کا ارادہ ہے لیفسدوٰ فی الارض کہ زمین میں فساد برپا کریں قوم فرعون کے لوگ جانتے تھے کہ بنی اسرائیل تو پہلے ہی موسیٰ (علیہ السلام) پر قومی حیثیت سے یقین رکھتے ہیں اب جادوگروں کے ایمان لانے کی وجہ سے مزید لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف مائل ہو رہے ہیں تو انہوں نے فرعون کو مشورہ دیا کہ اگر ان کو اسی طرح آزاد چھوڑ دیا گیا ان کی تبلیغ پر پابندی عائد نہ کی گئی یا انہیں سزا نہ دی گئی تو یہ لوگ ملک میں فساد کا باعث بنیں گے لہٰذا ان کا کوئی بندوبست ہونا چاہیے۔ فرعون کے حواریوں نے دوسری بات یہ کی ویذرک والھتک یہ لوگ تمہیں بھی موقوف کردیں گے یعنی تمہاری سلطنت کا خاتمہ کردیں گے اور تمہارے مقرر کردہ معبودوں کو بھی چھوڑ دیں گے یعنی لوگوں کو ان کی پرستش سے روک دیں گے اس طرح گویا فرعون کے سربرآدردہ لوگوں نے اس کے سامنے تین باتیں کرکے اسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم بنی اسرائیل کے خلاف ابھارا پہلی بات یہ کہ تو نے موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کو بلا باز پرس آزاد چھوڑ رکھا ہے دوسری بات یہ ہے کہ یہ لوگ ملک میں فنتہ و فساد کا بازار گرم کریں گے اور تیسری بات یہ کہ نہ تو یہ لوگ تیرا حکم مانیں گے اور نہ تیرے مقرر کردہ معبودوں کی پوجا پاٹ کریں گے۔ فساد کی تعریف موسیٰ (علیہ السلام) کی وجہ سے فرعونیوں کو دینی اور دنیاوی دو قسم کا فساد نظر آرہا تھا ان کا دینی یا مذہبی فساد یہ تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے غلبہ کی صورت میں ان کی تمام مشرکانہ رسومات ختم ہوجائیں گی اور فرعون سمیت تمام معبود ان باطلہ کی پرستش نہیں ہوسکے گی ان کے نزدیک دنیاوی فساد یہ تھا کہ ان کی حکومت بھی چھن جائے گی اور سلطنت کے بل بوتے پر جو من مانی کر رہے ہیں لوگوں پر ظلم و ستم ڈھا رہے ہیں اور انہیں غلام بنا رکھا ہے وہ سب کچھ جاتا رہے گا۔ فرعونیوں کی ذہنیت اس حد تک گرچکی تھی کہ فساد کو ختم کرنے والی چیزوں کو خود فساد سے تعبیر کر رہے تھے اللہ کا سچا بنی تو خدا کا پیغام پہنچاتا ہے اس کی وحدانیت کی دعوت دیتا ہے اس کی عبادت کا طریقہ سکھاتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ رشتہ جوڑتا ہے دنیا میں عدل و انصاف قائم کرنے کی تعلیم دیتا ہے نبی سے بڑھ کر دنیا میں کوئی مصلح نہیں ہوتا خدا کا پیغمبر پوری امت میں ہر لحاظ سے اعلیٰ وارفع انسان ہوتا ہے مگر یہ لوگ نبی پر فساد برپا کرنے کا الزام لگا رہے ہیں لہٰذا فرعون کے سربرآدردہ لوگوں نے فرعون سے سفارش کی کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے ماننے والوں کے خلاف فوراً کارروائی ہونی چاہیے۔ فساد فی الارض کے ضمن میں منافقوں کا بھی یہی حال ہے یہ لوگ بھی بڑی بڑی سازشیں کرتے ہیں اور لوگوں کو آپس میں لڑاتے ہیں اسلام اور اہل اسلام کو مغلوب کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر جب ان سے کہا جاتا ” لاتفسدوٰ فی الارض “ اپنی کرتوتوں کے ذریعے زمین میں فساد برپا نہ کرو کفر ، شرک ، نفاق اور شریعت کی مخالفت فساد فی الارض ہے اس سے باز آجائو۔ قتل ناحق ، بدعات ، ظلم و زیادتی سب فساد فی الارض ہے اس سے باز آجائو قتل ناحق ، بدعات ، ظلم و زیادتی سب فساد ہے اس سے رک جائو تو وہ کہتے ہیں انما نحن مصلحون ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ہم فسادی تو نہیں ہیں۔ فرعونیوں کی ذہنیت بھی ایسی ہی تھی انہوں نے خود ظلم و ستم کا بازار گرم کررکھا تھا فسق و فجور میں مبتلا تھے کفر ، شرک اور بدعات کے مرتکب تھے مگر اپنے آپ کو مصلح کہتے تھے اور اللہ کے برگزیدہ نبی پر مفسد کا الزام لگاتے تھے بزرگان دین اس قسم کی الٹی ذہنیت سے پناہ مانگتے ہیں ان کی دعا کے الفاظ یہ ہیں الھم انقلتی من ذل المعصیۃ الیٰ عزۃ الطاعۃ اے اللہ ! ہمیں معصیت کی ذلت سے بچا کر اطاعت کی عزت میں لگا دے کیونکہ اطاعت میں عزت ہے اور معصیت میں ذلت ہے۔ معاصی کے تمام کام فساد فی الارض میں داخل ہیں اور جو کام حکم الٰہی کے مطابق انجام دیا جائے گا وہ زمین میں اصلاح کے مترادف ہوگا اللہ کے نبی تو یہی تعلیم دیتے ہیں کہ شریعت کے خلاف کوئی کام نہ کرو ، ورنہ تباہ ہوجائو گے مگر فرعونی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے ماننے والوں کے متعلق کہہ رہے ہیں کہ یہ زمین میں فساد کریں گے لہٰذا ان کا بندوبست ہونا چاہیے۔ معبودان فرعون اس آیت کریمیہ میں الھتک کا لفظ توجہ طلب ہے فرعون تو خود اپنے آپ کو معبود کہلاتا تھا انا ربکم الاعلیٰ میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں مگر اس کے حواری کہہ رہے ہیں کہ اے فرعون ! یہ تیرے معبودوں کو چھوڑ دیں گے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا فرعون نے اپنے علاوہ کوئی دوسرے معبود بھی بنا رکھے تھے ؟ اس ضمن میں مفسرین کی دورائیں ہیں بعض کہتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کی طرح فرعون کے بھی معبود تھے جن کی وہ پرستش کرتا تھا بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ فرعون اپنے آپ کو تو سب سے اعلیٰ معبود کہتا تھا بلکہ خود کو سورج دیوتا مشہور کررکھا تھا اور اپنی ذاتی پوجا بھی کراتا تھا۔ اس کے علاوہ اس نے اپنے مجسمے بناکر لوگوں کو مہیا کر رکھے تھے کہ جہاں کہیں ہو ان کے ذریعے میری پوجا کرلیا کرو ایسے ہی خود ساختہ معبودوں کے متعلق درباریوں نے کہا کہ اے فرعون ! اگر ان لوگوں کا راستہ نہ روکا گیا تو یہ تجھے بھی چھوڑ دیں گے اور تیرے مقررہ معبودوں سے بھی کنارہ کش ہوجائیں گے۔ سزا کی تجویز اپنے درباریوں کے دلائل سننے کے بعد فرعون نے بنی اسرائیل کے لیے یہ سزا تجویز کی کہنے لگا قال سنقتل ابناء ھم ہم ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے ونستحی نساء ھم اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھیں گے یہ سزا بنی اسرائیل اس سے پہلے بھی برداشت کرچکے تھے یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب فرعون کو کسی نے وہم میں مبتلا کردیا کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا بچہ پیدا ہونے والا ہے جو بڑا ہو کر تیری سلطنت کے زوال کا باعث ہوگا چناچہ فرعون نے حکم دے دیا کہ اسرائیلی عورتوں کے ہاں جو بھی بچہ پیدا ہو اسے ہلاک کردیاجائے اسی بات کے متعلق اگلی آیت میں آرہا ہے کہ بنی اسرائیل کے لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ آپ کی آمد یعنی بعثت سے پہلے بھی ہم مصائب میں مبتلا رہے ہمارے لڑکوں کو قتل کردیا جاتا تھا اور ہماری لڑکیوں کو زندہ رکا جاتا تھا سورة بقرہ میں اس کیفیت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے ” وفی ذلکم بلاء من ربکم عظیم “ اس میں تمہارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی اب جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں کے ساتھ مقابلہ کیا اور وہ مغلوب ہو کر ایمان لے آئے تو اپنے حواریوں کے کہنے پر فرعون نے بنی اسرائیل کے لیے پھر وہی سزا تجویز کی کہ ان کے بچوں کو قتل کردیا جائے اور ان کی بچیوں کو زندہ چھوڑ دیا بہرحال فرعون کے ان دو انتہائی فیصلوں کے درمیانی عرصہ میں اس سزا میں نرمی کردی گئی تھی اسی عرصہ میں موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے گھر میں پرورش پائی جوان ہوئے تو قبطی کے قتل کا حادثہ پیش آگیا پھر آپ وہاں سے مدین چلے گئے دس سال کا عرصہ وہاں گزارا پھر واپسی پر راستے میں نبوت عطا ہوئی اور ساتھ حکم ہوا کہ اب واپس مصر جائو اور فرعون کو اپنے رب کا پیغام پہنچائو۔ پھر جب آپ نے فرعون کو حق کی دعوت دی ، عصا اور یدبیضاء کے معجزات پیش کیے پھر جادوگروں سے مقابلہ ہوا اور وہ مغلوب ہوئے تو فرعون نے پھر بنی اسرائیل کے لیے یہی سزا تجویز کی تفسیری روایات میں آتا ہے کہ فرعون نے نوے ہزار سے زیادہ بچے ان کے والدین کی آنکھوں کے سامنے قتل کروائے۔ بہرحال فرعون نے کہا کہ ہم انہیں یہ سزا دیں گے وانا فوقھم قھرون کیونکہ ہم ان پر غالب ہیں ہماری حکومت ہے ، ہم صاحب اقتدار ہیں ، تمام وسائل ہمارے پاس ہیں لہٰذا ہم انہیں مجوزہ سزا ضرور دیں گے۔ استعانت باللہ اور صبر بنی اسرائیل کو سخت پریشانی میں مبتلا دیکھ کر قال موسیٰ لقومہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا استعینو باللہ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ سے استعانت طلب کرو وہی مالک و خالق ہے تمہاری مشکلات کو وہی حل کرسکتا ہے ان ظالموں سے وہی نپٹ سکتا ہے یہ انسان کے بس کا روگ نہیں ہے لہٰذا اللہ ہی سے مدد طلب کرو۔ آپ نے دوسری بات قوم سے یہ فرمائی واصبرو اور صبر کا دامن تھامے رکھو۔ ان کڑی آزمائشوں کو صبر کے ساتھ ہی عبور کیا جاسکتا ہے دونوں باتیں فرمائیں ” واللہ المستعان “ خدا کی ذات سے مدد طلب کی جاسکتی ہے خدا کے سوا فوق الاسباب مدد کرنے والی کوئی ذات نہیں ہے لہٰذا ہر وقت اپنا تعلق خدا تعالیٰ کے ساتھ قائم رکھنا چاہیے۔ سورة مزمل میں ارشاد ہے ” لا الہ ھو فاتخذہ وکیلاً “ خدا کے سوا کوئی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں لہٰذا اسی کو کارساز سمجھو ، وہی بگڑی بنانے والا ہے نماز میں ہمیشہ یہی اقرار کرتے ہیں۔ ” ایاک نعبدوایاک نستعین “ اے مولا کریم ! ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں دینی ، دنیاوی ، ظاہری اور باطنی تمام معاملات میں صرف اللہ ہی مدد گار ہے۔ فرمایا ان الارض للہ بیشک زمین کا مالک تو اللہ ہے یہ ملک نہ فرعون کا ہے اور نہ کسی اور ڈکٹیٹر کا۔ بادشاہی اللہ کی ہے یورثھا من یشاء من عبادہ وہ جسے چاہے اپنے بندوں میں سے اس کا وارث بناتا ہے اب اس ملک کے فرعونی وارث ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ اللہ کے محبوب ہیں اس لیے انہیں وارث بنایا گیا ہے بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مصلحت کے تحت ایسا ہے وہ اقتدار دے کر بھی آزماتا ہے مگر یاد رکھو ! والعاقبۃ للمتقین انجام بخیر بہرحال متقیوں یعنی ان لوگوں کا ہوگا جو کفر اور شرک سے بچ کر تقویٰ کی راہ اختیار کریں گے یہ نہ سمجھو کہ آج فرعونیوں کے پاس اقتدار ہے تو آخرت بھی انہی کے حصے میں آئے گی بلکہ آخرت کا وعدہ تو اللہ نے اپنے مقربین کیلئے کررکھا ہے بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو تسلی دی ایس ہی تسلی کا تذکرہ آگے سورة یونس میں بھی آرہا ہے کہ مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرو اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑو۔ بنی اسرائیل کی بےبسی بنی اسرائیل کے لوگوں نے اپنے مصائب کا ذکر کرتے ہوئے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا ” قالو وذینا من قبل ان تاتینا “ ہمیں تکلیفیں دی گئی تھیں قبل اس کے کہ آپ ہمارے پاس آئے تھے بعنی آپ کی نبوت سے پہلے بھی ہم مصائب کا شکار رہے آپ کی پیدائش کو روکنے کے لیے اس وقت بھی ہمارے بچوں کو قتل کیا گیا۔ ومن العبد ماجئتنا اور اس کے بعد بھی کہ آپ نبوت اور معجزات لے کر آئے ہیں ہمارے ساتھ ذلت ناک سلوک ہورہا ہے ہماری مصیبتیں اب پہلے سے بھی بڑھ گئی ہیں موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا قال عسیٰ ربکم ان بھلک عدوکم قریب ہے اور امید ہے کہ خدا تعالیٰ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے گا ویستخلفکم فی الارض اور زمین پر تمہیں خلافت عطا کرے گا اگلی آیتوں میں آئے گا کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے شام و فلسطین کی خلافت کا وعدہ فرمایا بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو یقین دلایا کہ وہ وقت قریب ہے جب فرعونی تباہ ہوجائیں گے اور زمین کی خلافت اللہ تعالیٰ تمہارے سپرد کردے گا۔ فرمایا فینظرکیف تعلمون پھر اللہ تعالیٰ دیکھے گا کہ خلافت ملنے کے بعد تم کس قسم کے کام انجام دیتے ہو یعنی جس طرح آج فرعون کی آزمائش ہورہی کل کو تمہاری آزمائش بھی ہوگی پھر پتہ چلے گا کہ تم بھی فرعونیوں کے نقش قدم پر چلتے ہو ، یا اللہ کے بندوں کے طریقے پر ملک میں عدل و انصاف قائم کرتے ہو خدا تعالیٰ کے علم میں تو سب کچھ ہے کہ تم اس ذمہ داری کو کس طرح نبھائو گے مگر وہ اقتدار کی ذمہ داری تمہیں سونپ کر تمہاری بھی آزمائش کرے گا اللہ کی آزمائش ہر دور میں آتی رہی ہے آج بھی جو لوگ صاحب اقتدار ہیں ان میں اکثر و بیشتر فرعون کے نقش قدم پر ہی چل رہے ہیں جو کہ بالآخر ناکام ہوں گے موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو تعلق باللہ قائم کرنے کی تلقین کی وہ بہت گبھرائے ہوئے تھے آپ نے صبر کی تاکید کی اور دشمن پر فتح کی خوشخبری بھی سنائی۔
Ayahs 7:130–133

وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:130 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق ہم نے پکڑا آل فرعون کو قحطوں کے ساتھ اور پھلوں کی کمی کے ساتھ تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗ١ؕ اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓئِرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:131 in the Quran reader

پس جب آتی ھتی ان کے پاس بھلائی تو کہتے تھے یہ ہمارے لائق ہے اور اگر پہنچتی تھی ان کو برائی تو شگون لیتے تھے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ۔ سن لو ! بیشک ان کا شگون اللہ کے پاس ہے ، لیکن اکثر ان میں سے ایسے ہیں جو نہیں جانتے

وَ قَالُوْا مَهْمَا تَاْتِنَا بِهٖ مِنْ اٰیَةٍ لِّتَسْحَرَنَا بِهَا١ۙ فَمَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 7:132 in the Quran reader

اور کہتے تھے جب بھی تم لائو گے ہمارے پاس کوئی نشانی تاکہ تم سحر کرو ہم پر ، اس کے ساتھ ، پس نہیں ہم تجھ پر ایمان لانے والے

فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ١۫ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ Open ayah 7:133 in the Quran reader

پھر ہم نے بھیجا ان پر طوفان اور ٹڈی دل اور گھن اور مینڈک اور خون جدا جدا نشانیاں پس تکبر کیا ان لوگوں نے اور تھے وہ مجرم

ربط آیات گزشتہ درس میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ فرعون اور اس کے سرداروں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مقابلہ کے لیے جادوگروں کو اکٹھا کیا تو وہ حاضر آگئے اور موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے اسکے بعد فرعون کے مصاحبوں نے ابھارا کہ اگر موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے پیروکاروں کو یونہی چھوڑ دیا گیا اور ان پر پابندیاں عائد نہ کیں تو یہ زمین میں فساد پھیلائیں گے اور تجھے اور تیرے معبودوں کو موقوف کردیں گے فرعون نے کہا کہ ہم انہیں وہی سزا دیں گے جو پہلے دیا کرتے تھے یعنی ان کے بیٹوں کو قتل کریں گے اور ان کی عورتوں کو زندہ رکھ کر انہیں لونڈیاں بنائیں گے اور ان سے خدمت لیں گے چناچہ جب بنی اسرائیل پر مصائب کا دور شروع ہوا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی مظلوم قوم کو نصیحت کی کہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگو اور تکالیف پر صبرو کرو یہ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے وہ جسے چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے اس نے اس دور میں آزمائش کے طور پر فرعون کو زمین کا وارث بنا رکھا ہے مگر نیک انجام بالآخر متقیوں کا ہوگا بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے شکوہ کیا کہ آپ کے آنے سے پہلے بھی ہم مصائب کا شکار رہے اور آپ کے آنے کے بعد بھی ہمارے آرام میں کمی کے بجائے اضافہ ہی ہوا ہے اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو تسلی دی کہ امید ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو عنقریب ہلاک کردے گا اور زمین کی نیابت تمہیں بخش دے گا اس کے بعد تمہارے اعمال بھی خدا تعالیٰ کی نگاہ میں ہوں گے اور تمہاری بھی آزمائش ہوگی۔ آزمائش کا اصول گزشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بیان ہوچکا ہے کہ آزمائش کے لیے ہم کسی قوم پر پہلے سختی ڈالتے ہیں اور پھر آسودگی یہاں تک کہ جب وہ بالکل غافل ہوجاتے ہیں تو ہماری گرفت آجاتی ہے آل فرعون کو بھی اللہ تعالیٰ نے مختلف طریقوں سے آزمایا جب انہیں اقتدار دیا تو ان کا ظلم و ستم انتہا کو پہنچ گیا اب ان کے مصائب کے دور کی ابتداء ہوگئی اللہ تعالیٰ نے انہیں طرح طرح کی سزائوں میں مبتلا کیا جس سے مقصود یہ تھا کہ کسی طرح یہ لوگ سمجھ جائیں اور بنی اسرائیل پر زیادتی کرنا چھوڑ دیں اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر چند نشانیاں بھی ظاہر کیں شاید کہ ان نشانیوں کو دیکھ کر ہی سمجھ جائیں مگر ان کی حالت یہ تھی کہ جب کوئی نشانی دیکھتے تو قدرے نرمی اختیار کرلیتے مگر جب پھر ذرا آسانی آتی تو انکار کردیتے بلکہ پہلے سے زیادہ متکبر ہوجاتے آخر کار وہ وقت بھی آیا جب اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک ہی کردیا۔ قحط سالی ارشاد ہوتا ہے ولقد اخذنا اٰل فرعون باسنین البتہ تحقیق ہم نے پکڑا آل فرعون کو قحطوں کے ساتھ۔ آل فرعون سے مراد خود فرعون اور اس کے حواری ہیں اور سنین جمع ہے سن کی جس کے معنی سال ہوتا ہے قحط اس دوریا اس زمانہ کو کہتے ہیں جب بارش بالکل نہیں ہوتی یا ہوتی ہے تو لوگ اس سے مستفید نہیں ہوسکتے اور پھر اس کے نتیجے میں فصل اور پھل وغیرہ پیدا نہیں ہوتے اور اشیائے خوراک کی قلت واقع ہوجاتی ہے چونکہ ایسے سالوں کو تاریخ میں خصوصاً یاد رکھا جاتا ہے اس لیے یہاں پر سنین سے عام سال نہیں بلکہ قحط کے سال مراد لیے گئے ہیں تو فرمایا ہم نے فرعونیوں کو قحط میں مبتلا کیا ونقص من الثمرات اور پھلوں کی قلت میں مبتلا کیا خشک سالی اور قلت اثمار دراصل ایک ہی چیز کے دو نام ہیں جب خشک سالی کا زمانہ آتا ہے تو ظاہر ہے پھل بھی پیدا نہیں ہوتے اور اگر ان دو چیزوں کو علیحدہ علیحدہ شمار کیا جائے تو خشک سالی یا قحط زیادہ تکلیف دہ چیز ہے جس سے انسان اور جانور سب متاثر ہوتے ہیں اور پھلوں کی قلت اس سے کم درجہ کی تکلیف ہے بعض دفعہ خشک سالی تو نہیں ہوتی مگر درختوں پر پھل ہی نہیں آتا تیز ہوائوں کی وجہ سے بور ضائع ہوجاتا ہے یا پھلوں کو ایسی بیماری لگ جاتی ہے کہ وہ استعمال کے قابل نہیں رہتے بہرحال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے نشانی کے طور پر آل فرعون کو قحط سالی اور قلت اثمار میں مبتلا کیا لعلھم یذکرون تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کل نو نشانیاں عطا کیں ولقد اتینا موسیٰ تسع ایت بینت (بنی اسرائیل) ان میں سے ایک نشانی یہ ہے دو پہلے بیان ہوچکی ہیں عصا اور یدبیضاء پانچ اسی درس میں آگے آرہی ہیں اور ایک نشانی طمس اموال سورة یونس میں مذکور ہے۔ خوشحالی پر اترانا اللہ نے فرمایا کہ ہماری اس نشانی سے فرعونیوں نے کوئی نصیحت نہ پکڑی بلکہ فاذا جاء تھم الحسنۃ جب ان کے پاس بھلائی آسودگی یا خوشحالی آتی تھی انہیں صحت و تندرستی حاصل ہوتی اناج اور پھلوں کی فراوانی ہوتی تو کہتے قالو لنا ھذہ یہ ہمارے لائق ہے ہمارا حق ہے ، ہمیں یہ خوشحالی ہونی چاہیے عام طور پر انسانی فطرت ایسی ہی ہے اللہ تعالیٰ نے عام لوگوں کو یہی حال بیان کیا ہے جب ان کے اسباب معیشت میں اضافہ ہوجاتا ہے رزق کی فراوانی ہوتی ہے تو وہ خدا کو بھول جاتے ہیں اور اپنے علم و ہنر پر اترانے لگتے ہیں خوشحالی کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرنے کی بجاء وہ اسے اپنی سائنس اور ٹیکنالوجی اور اپنی منصوبہ بندی کامرہون منت تصور کرتے ہیں اور جب خدا تعالیٰ کی طرف سے گرفت آتی ہے تو پھر اپنی کوتاہیوں پر نگاہ کرنے کی بجائے خدا کا شکوہ کرنے لگتے ہیں گویا اللہ نے انہیں ان کی محنت اور علم و ہنر کا بدلہ نہیں دیا للہ نے فرمایا کہ فرعون اور اس کی قوم کا بھی یہی حال تھا کہ جب آسودگی آتی تو کہتے یہ ہماری محنت کا پھل ہے اور ہمیں ملنا چاہیے تھا۔ تنگدستی پر شگون وان تصبھم سیئۃ اور اگر انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ، تنگدستی میں مبتلا ہوجاتے یطیروا بموسیٰ ومن معد تو موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کے ساتھ شگون بدلیتے کہ ان کی وجہ سے ہم پر نحوست نازل ہورہی ہے حالانکہ یہ بالکل بےہودہ بات تھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھی تو صاحب ایمان تھے ان کی وجہ سے نحوست کیوں پڑتی ، نحوست تو کفر ، شرک اور بغاوت کی وجہ سے پڑتی ہے اور یہ چزیں فرعونیوں میں پائی جاتی تھیں مگر وہ اپنی اصلاح کرنے کی بجائے اللہ کے نیک بندوں کو مطعون کرتے کہ جب سے انہوں نے وعظ و نصیحت شروع کی ہے اس وقت سے ہم پر نحوست چھا گئی ہے قریش مکہ اور مشرکین عرب بھی حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کے متعلق اسی قسم کا شگون بدلیتے تھے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے الطیرۃ شی ک یعنی شگون بدلینا شرک کی قسموں میں سے ایک قسم کا شرک ہے عرب لوگ پرندوں کو اڑا کر ان سے نیک یا بدشگون لیتے تھے یا اگر سامنے سے کوئی خلاف طبع جانور آجاتا تو اسے بھی شگون بد پر محمول کرتے البتہ نیک فال لینے کو حضور ﷺ نے پسند کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی اچھا لفظ یا اچھا نام سن کر انسان کی طبیعت خوش ہوجائے تو اسے وہ نیک فال سمجھے اس سے یہ مراد نہیں کہ قرآن پاک سے یا دیوان حافظ سے یا ہیر وغیرہ سے فال نکالے یہ ناجائز اور بدعت ہے اہل ایمان کو اس سے بچنا چاہیے اسی طرح نجوم ، کہانت ، دست شناسی رمل وغیرہ سب ناجائز ہیں اور ان کی کمائی بھی حرام ہے۔ فرمایا وہ لوگ اپنی بدبختی اور تنگدستی کو موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کی نحوست خیال کرتے تھے مگر اللہ نے فرمایا الا انما طیرھم عنداللہ سنو ! ان کو شگون تو اللہ کے پاس ہے دراصل یہ شگون وغیرہ کچھ بھی نہیں تمام کام اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اس کی قدرت نامہ کے مطابق وقائع ہوتے ہیں کسی کی خوشحالی یا تنگدستی میں موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کا کیا تعلق ہے ؟ وہ تو اللہ کے نیک بندے ہیں ، نیکی کا راستہ بتاتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں وہ ناصح اور امین ہیں ہر ایک کے ساتھ خیر خواہی کا سلوک کرتے ہیں ان کی وجہ سے تو اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے اس کی برکات کا نزول ہوتا ہے نہ کہ نحوست پیدا ہوتی ہے فرمایا ولکن اکترھم لایعلمون مگر ان میں سے اکثر لوگ بےسمجھ ہیں یہ اپنی غلط ذہنیت کی وجہ سے نحوست اور بدشگونی کو نیک لوگوں کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ ایمان لانے سے انکار ایک تر فرعونی موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھیوں کا شگون لیتے تھے اور دوسرا یہ بھی کہتے تے وقالو مھما تاتنا بہ من ایۃ لتسحرنا بھا کہ جب تو ہمارے پاس کوئی نشانی لائے گا جس کے ذریعے ہم پر جادو کردے فما نحن لک بمومنین تو ہم تم پر ایمان نہیں لائیں گے ان کی بدبختی کی انتہا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے لائے ہوئے معجزے کو جادو سے تعبیر کرتے اور کہتے کہ ہم اسے تسلیم نہیں کریں گے مشرکین مکہ بھی معجزات دیکھ کر اسے جادو کا نام دیتے تھے معجزے کے اثر کا تو انکار نہیں کرسکتے تھے۔ مگر تاویل یہ کرتے تے کہ جادو کے تحت ایسا ہوا ہے لہٰذا وہ بھی اسی وجہ سے ایمان لانے سے انکار کرتے تھے۔ آزمائش در آزمائش فرمایا جب فرعون اور اس کے حواری سرکشی میں حد سے بڑھ گئے فارسلنا علیھم الطوفان تو ہم نے ان پر طوفان بھیج دیا طوفان کا لفظ عام طور پر پانی کی بہتات پر بولا جاتا ہے جب بارش کی کثرت ہو یا دریا اور ندی نالے کناروں سے بہہ نکلیں جس کی وجہ سے لوگ گھروں میں محصور ہوجائیں یا پناہ لینے کے لیے محفوظ جگہوں پر جانا پڑے تو یہ طوفان کہلاتا ہے تاہم مجاہد کی روایت کے مطابق اموات کی کثرت کو بھی طوفان سے موسوم کیا جاتا ہے طاعون یا ہیضہ وغیرہ کی وبا پھیل جائے جس سے کثیر تعداد میں اموات واقع ہوں تو ایسے حادثہ کو بھی طوفان سے تعبیر کیا جاتا ہے تاہم عام طور پر پانی کی کثرت کو طوفان کہا جاتا ہے جیسا کہ نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں آیا تھا۔ فرمایا ایک تو ہم نے ان پر طوفان بھیجا اور دوسرا والجراد ٹڈی دل کی آفت بھی مسلط کردی جب کسی علاقے میں ٹڈی دل کا حملہ ہوتا ہے تو تمام فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں ٹڈی دل سارا سبزہ چٹ کرجاتا ہے اس کے حملہ سے بچائو کے لیے حکومتی سطح پر تدابیر اختیار کرنا پڑتی ہیں پھر جس طرف ٹڈی دل کا رخ ہوا اس طرف کی حکومت کو قبل ازوقت مطلع کی جاتا ہے تاکہ وہ بھی حفاظتی تدابیر اختیار کرلیں تو جہاں ٹڈی دل نازل ہوتا ہے وہاں بھی قحط واقع ہوجاتا ہے کیونکہ یہ چھوٹے چھوٹے پرندے تمام فصلوں اور پھلوں کو کھا جاتے ہیں ہماری امت کے لیے ٹڈی بغیر ذبح کیے مردہ بھی حلال ہے حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ہمارے لیے دو مردار حلال ہیں السمک والجراد یعنی مچھلی اور ٹڈی اور دو خون حلال ہیں الکبد والصلحال یعنی جگر اور تلی ، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ کے ہمراہ ہم نے چھ یا سات غزدات میں ٹڈی دل کھایا۔ اللہ نے فرمایا کہ اس کے علاوہ ہم نے ان پر والقمل بھی ارسال کیا قمل کے مختلف معانی بیان ہوئے ہیں بعض نے اس سے جوئیں مراد لی ہیں جو انسانوں کے جسم میں پیدا ہوجاتی ہیں بعض نے چیچڑیاں کہا ہے جو جانوروں کو چمٹ جاتی ہیں اور بعض فرماتے ہیں کہ اس سے سسری یا گھن مراد ہے جو اناج کو کھا جاتا ہے پھر فرمایا والضفادع اور ہم نے مینڈک بھیجے والدم اور خون کی مصیبت میں گرفتار کیا فرمایا ایت مفصلت یہ سب علیحدہ علیحدہ نشانیاں ہیں جو ہم نے فرعون اور اس کی قوم پر بھیجیں تاکہ وہ نصیحت پکڑیں مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ پے درپے مصائب حضرت مولانا شیخ الاسلام (رح) لکھتے ہیں کہ یہ تمام نشانیاں اللہ تعالیٰ نے تھوڑے تھوڑے وقفے سے نازل کیں مگر وہ ایسے جرائم پیشہ اور متکبر لوگ تھے کہ کسی نے تسلیم نہ کیا حضرت سعید بن جبیرہ کی روایت میں آتا ہے کہ پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا کہ انہیں چھوڑ دو میں ان کو لے کر مصر سے چلا جاتا ہوں جب فرعون نے یہ مطالبہ نہ مانا تو اللہ تعالیٰ نے بارش کا طوفان بھیج دیا جب مسلسل بارش کی وجہ سے فصلیں اور پھل تباہ ہونے لگے انسانی اور حیوانی زندگی کو خطرہ لاحق ہوگیا تو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمیں اس طوفان سے نجات دے اور ساتھ وعدہ بھی کیا کہ اگر طوفان ہٹ جائے گا تو میں بنی اسرائیل کو آزاد کرودں گا موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی اور بارش تھم گئی اور اللہ نے بارش کی زحمت کو رحمت میں بدل دیا اور خوب غلہ پیدا ہوا مگر فرعون اپنے وعدے پر قائم نہ رہا اس پر اللہ نے دوسرا وبال بھیجا جب فصل پک گئی تو اللہ نے ٹڈی دل بھیج دیا جس سے فصلوں اور پھلوں کی تباہی کا خطرہ پیدا ہوگیا فرعونی اس آفت سے گبھرا کر پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئے اور دعا کی درخواست کی کہ یہ مصیبت بھی ٹل جائے اور وعدہ کیا کہ اب کہ بنی اسرائیل کو ضرور آزاد کرودں گا موسیٰ (علیہ السلام) نے پھر دعا کی تو یہ عذاب بھی ٹل گیا مگر فرعون اپنے وعدے کو پھر فراموش کرگیا پھر جب لوگ غلہ اپنے گھروں میں لے آئے تو اسے گھن لگ گیا اور سارا غلہ ضائع ہوجانے کا اندیشہ ہوگیا وہ لوگ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آئے آپ نے دعا کی اور یہ تکلیف بھی رفع ہوگئی مگر فرعونی اپنے وعدہ کو وفا نہ کرپائے پھر اللہ نے اس کثرت سے مینڈک بھیجے کہ ان کا کھانا پینا محال ہوگیا ہر برتن میں مینڈک نظر آتے تھے جب کھانا کھانے کے لیے منہ کھولتے تو مینڈک اچھل کر منہ کے اندر چلے جاتے ان کا کھانا پینا بدمزا ہوجاتا فرعونی پھر پریشان ہوگئے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ ہمیں اس مصیبت سے نجات دلوادیں ہم ضرور وعدہ پورا کریں گے ہمیشہ کی طرح اس دفعہ بھی فرعونی مکر گئے تو اللہ تعالیٰ نے ایک اور عذاب بھیجا جس برتن میں پانی ڈالتے وہ خون بن جاتا برتن میں پڑا ہوا پانی نظر آتا مگر جب اسے استعمال کرنے لگتے یا پینے کے لیے منہ کی طرف بڑھاتے تو خون بن جاتا اب پیاس کی وجہ سے مرنے لگے تو اللہ نے فرمایا کہ ہم نے ان پر پے درپے عذاب نازل کیے مگر فاستکبرو وہ ہمیشہ تکبری ہی کرتے رہے انہوں نے کسی نشانی سے عبرت حاصل نہ کی وکانو قوماً مجرمین وہ بڑے گنہگار اور پاپی لوگ تھے اللہ نے ان کا یہ حال بیان کیا آگے مزید تفصیلات آرہی ہیں۔