7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعالم العرفان

Ayah 7:160

وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:160 in the Quran reader

اور ہم نے جدا جدا کردیا ان کو بارہ قبیلوں اور جماعتوں میں اور وحی کی ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف جب کہ آپ سے پانی مانگا آپ کی قوم نے ، کہ مارو اپنی لاٹھی کے ساتھ پتھر پر ، پس پھوٹ پڑے اس سے بارہ چشمے تحقیق پہچان لیا ہر ایک قبیلے نے اپنے گھاٹ کو اور ہم نے سایہ کیا ان پر بادلوں کا اور اتارا ہم نے ان پر من اور سلویٰ (اور ہم نے کہا) کھائو پاکیزہ چیزیں جو ہم نے رزق دی ہیں تم کو اور انہوں نے کہا) کھائو پاکیزہ چیزیں جو ہم نے رزق دی ہیں تم کو اور انہوں نے نہیں ظلم کیا ہم پر ، لیکن تھے وہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ۔

ربط آیات گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعض منصف مزاج لوگوں کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اگرچہ ایسے لوگوں کی تعداد بالکل قلیل ہے مگر ان کی صفت یہ ہے کہ وہ حق کے مطابق رہنمائی کرتے ہیں اور اسی کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں جب حضور ﷺ کی بعثت ہوئی اور قرآن نازل ہونا شروع ہوا تو یہ لوگ فوراً ایمان لے آئے اس سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر ہوچکا ہے اللہ تعالیٰ نے دعا کا ایک حصہ قبول کرکے بنی اسرائیل کو معاف فرما دیا تاہم دوسرے حصے کے متعلق فرمایا کہ میری رحمت خاصہ ان لوگوں کو پہنچے گی جن میں مذکورہ اوصاف پائے جائیں گے پھر حضور ﷺ کی نبوت عامہ کا ذکر ہوا قرآن پاک اور حضور خاتم البیین علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان لانے کی بات ہئی۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے ایک اور واقعہ کا ذکر کیا ہے جو بنی اسرائیل کو صحرائے سینا میں پیش آیا حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے زمانے میں جب یہ لوگ مصر میں داخل ہوئے تھے تو ان کی کل نفری اسی تھی چار پانچ صدیاں وہاں گزار کر جب یہ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مصر سے نکلے تو ان کی تعداد چھ لاکھ ستر ہزار تک پہنچ چکی تھی صدیوں تک فرعونیوں کی غلامی میں رہنے کی وجہ سے ان میں بہت سی کمزوریاں پیدا ہوچکی تھیں اللہ تعالیٰ کی نتشاریہ تھی کہ سرزمین شام و فلسطین کی طرف پیشقدمی کرنے سے پہلے انہیں وہاں کی طاقتور قوم سے مقابلہ کے لیے تیار کیا جائے چناچہ انہیں چالیس سال کا عرصہ صحرا نوردی میں گزارنا پڑا پھر جب اس قوم میں آزادی کی لہر اور جفا کشی پیدا ہوگئی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں شام کی طرف کوچ کا حکم دیا آج کی آیت میں بیان ہونے والا واقعہ بنی اسرائیل کو صحرائے سینا میں قیام کے دوران پیش آیا۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبائل ارشاد باری تعالیٰ ہے وقطعنھم اثنتی عشرۃ اسباطاً امماً ہم نے ان کو جدا جدا کردیا بارہ قبیلے اور جماعتوں میں سبط دراصل اولاد کو کہتے ہیں اس کا اطلاق قبیلے اور جماعت پر بھی ہوتا ہے ترمذی شریف کی حدیث میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے حسین سبط من من الاسباط یعنی امام حسین ؓ جماعتوں میں سے ایک جماعت ہے آپ کی نسل کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی واقعہ کربلا کے بعد ایک بیٹا زندہ بچا جو اس وقت بیمار تھا مگر آج ان کی اولاد دنیا میں اس قدر پھیل چکی ہے کہ شمار سے باہر ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے حالات بھی ایسے ہی تھے مشرکین آپ کے قتل کے درپے تھے اس وقت آپ کی اولاد بھی نہیں ہوئی تھی مگر اللہ نے فرمایا ابراہیم ! میں تیری اولاد کو دنیا میں ریت کے ذروں کی طرح پھیلا دوں گا چناچہ اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ حرف بحرف پورا ہوا غرضیکہ اسباط کا لفظ گروہ قبیلے اور جماعت کے لیے آتا ہے تاہم یہاں پر بارہ قبیلے مراد ہیں اور امم تو امت کی جمع ہے جس کا معنی بھی جماعت ہی ہے تو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بارہ قبیلوں یا بارہ جماعتوں میں تقسیم کردیا بائیبل کے بیان کے مطابق پوری قوم بنی اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے دس اور حضرت یوسف (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کی اولاد تھی اور اس طرح یہ بارہ قبیلے بن گئے موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ہر قبیلے کا ایک ایک نقیب یا سردار مقرر کردیا اس کا ذکر سورة مائدہ میں موجود ہے ” وبعتنا منھم اثنی عشرنقیباً “ ہم نے ان میں بارہ سردار مقرر کردیئے یہ قوم کی انتظامی لحاظ سے تقسیم تھی تاکہ اگر کسی فرد کو موسیٰ (علیہ السلام) تک کوئی بات پہنچانا مقصود ہو تو وہ اپنے نقیب کی وساطت سے ایسا کرسکے ظاہر ہے کہ اتنی بڑی قوم کے ہر فرد کی رسائی اپنے نبی اور بادشاہ موسیٰ (علیہ السلام) تک ممکن نہ تھی لہٰذا ان کو بارہ قبائل میں تقسیم کرکے ہر ایک کا ایک ایک سردار مقرر کردیا گیا جو ہر قبیلہ سے متعلقہ امور کو نمٹانے کا ذمہ دار تھا موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اجتماعیت کے امور کے لیے افراد کی ضرورت پڑتی تھی تو آپ انہی نقیبوں کی معرفت تمام کام انجام دیتے تھے اس طرح یہ تقسیم خالصتاً انتظامی نوعیت کی تقسیم تھی۔ بنی اسرائیل کی پراگندگی قطعنا کے لفظ سے مفسرین کرام یہ مراد بھی لیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا یہ لوگ تخریبی کارروائیاں کرتے تھے نافرمان تھے ان میں بہت سی خرابیاں پیدا ہوچکی تھیں جس کی وجہ سے یہ مغضوب علیہ ٹھہری اسی مصلحت کے تحت اللہ تعالیٰ نے ان کی اجتماعیت کو ختم کردیا اور پوری دنیا میں کہیں بھی انہیں چین کی زندگی نصیب نہ ہوسکی گزشتہ دو اڑھائی ہزار سال کی تاریخ شاہد ہے کہ یہودیوں کو کہیں بھی تسلط حاصل نہیں ہوسکا یہ ہمیشہ پراگندہ حال ہی رہے ان کے کچھ افراد کسی ملک میں اور کچھ کسی ملک میں غلامانہ زندگی بسر کرنے پر مجبور رہے ہیں کبھی کسی طاقت کا تختہ مشق بنے اور کبھی کسی ملک نے ان کی سرکوبی کی جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دور آیا تو انہوں نے اسلام کے خلاف ریشہ دوانیاں شروع کردیں چناچہ مسلمانوں کی طرف سے بھی شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا حتیٰ کہ ملک بدر کردیئے گئے اور یہ لوگ اپنی فطری شرارت پسندی کی وجہ سے دربدر کی ٹھوکریں کھاتے رہے اس سورة میں آگے آرہا ہے اور بعض دوسری سورتوں میں بھی اشارات ملتے ہیں کہ یہ لوگ قیامت تک سزا کا مزا چکھتے رہیں گے۔ موجودہ زمانے میں بظاہر یہودیوں کو ایک ٹھکانا میسر آگیا ہے اور یہ اسرائیل نامی سلطنت قائم کرکے اس چھوٹے سے خطے میں مجتمع ہوگء ہیں حقیقت یہ ہے کہ اس خطہ ارضی میں بھی اسرائیل کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے بلکہ یہ محض ایک دھوکہ ہے بڑی طاقتوں نے اسے اپنا فوجی اڈا بنا رکھا ہے جسے اپنی مصلحت کے تحت استعمال کررہی ہیں برطانیہ برصغیر پر قابض تھا انہیں نہر سویز کے ذریعے آمدورفت کی ضرورت تھی چناچہ انہوں نے اس نہر پر تسلط حاصل کرنے کے لیے اسرائیل کا اڈا مضبوط کیا ان کے ساتھ روس اور فرانس بھی شامل ہوگئے بعد میں جب انگریز کمزور ہوگئے تو امریکہ نے ان تینوں طاقتوں کو بےدخل کرکے اسرائیل پر خود تسلط جما لیا اب اسرائیل کی مکمل پشت پناہی امریکہ کے ذمہ ہے اگر یہ چاروں طاقتیں اسرائیل سے اپنا سایہ اٹھالیں تو یہ دو دن بھی قائم نہیں رہ سکتا حقیقت میں یہ اسرائیل کی اپنی سلطنت نہیں بلکہ بڑی طاقتوں کا اڈا ہے جسے اپنے مخصوص مفادات کے لیے استعمال کیا جارہا ہے لوگ کہتے ہیں کہ قرآن پاک اور مسلمان قوم کا یہ دعویٰ غلط ثابت ہوگیا ہے کہ دنیا میں یہودی سلطنت کبھی قائم نہیں ہوگی ایسے لوگ دھوکے میں ہیں اسرائیل ہرگز یہودیوں کی سلطنت نہیں بلکہ امریکہ ، روس ، برطانیہ اور فرانس کی حکومت ہے لہٰذا اس سلطنت کے قیام سے قرآن پاک کا یہ دعویٰ غلط ثابت نہیں ہوتا کہ یہودی قیام تک سزا میں مبتلا رہیں گے قرآن پاک کا تو یہ بھی دعویٰ ہے کہ یہودیوں پر ہمیشہ ذلت مسلط رہے گی البتہ اس ذلت سے اگر انہیں کبھی افاقہ ہوگا تو دو وجہ سے ” الال بحبل من اللہ وحبل من الناس (اٰل عمران) یا تو اللہ تعالیٰ کی رسی کو پکڑ لیں یعنی قرآن پاک پر ایمان لے آئیں اور یا پھر لوگوں کی رسی کو پکڑ لیں اور ان کے زیر سایہ اور پشت پناہی میں رہ کر ذلت و رسوائی سے قدرے باہر نکل سکتے ہیں آج کل یہ جل من الناس کے سائے میں ہیں انہوں نے امریکہ کی رسی کو پکڑ رکھا ہے اور ایک چھوٹے سے علاقے میں اپنی اجتماعیت قائم کیے بیٹھے ہیں جونہی امریکہ کی سرپرستی ڈھیلی پڑے گی یہ لوگ پھر اسی ذلت و مسکنت کا شکار ہوجائیں گے۔ بنی اسرائیل کی اجماعیت کی ایک باطنی وجہ ہے اور وہ یہ کہ قرب قیامت تک ان کا اکٹھا ہونا بھی ضروری ہے جب مسیح (علیہ السلام) کا نزول ہوگا تو عیسائی لوگ تو آپ پر ایمان لاکر امت محمدیہ کا حصہ بن جائیں گے مگر یہودی اپنے عناد پر قائم رہتے ہوئے دجال کے پیچھے چلیں گے دجال کے ساتھ مقابلہ کے وقت یہودیوں کو چن چن کر ختم کردیاجائے گا حتیٰ کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ کوئی درخت اور کوئی پتھر بھی کسی یہودی کو پناہ دینے کے لیے تیار نہیں ہوگا پتھر اور درخت بول کر کہیں گے کہ مسلمان ! یہ دیکھو میرے پیچھے یہودی چھپا ہوا ہے اور پھر اسے و تیغ کردیاجائے گا تل ابیب سے 36 میل دور لدکا ہوائی اڈا وہی جگہ ہے جس کے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ اس جگہ پر مسیح (علیہ السلام) کے ہاتھوں دجال قتل ہوگا لہٰذا قرب قیامت میں یہودیوں کا ایک جگہ اکٹھا ہونا تکوینی طور پر بھی ضروری ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا حصہ ہے۔ اجتماعیت کی اہمیت دنیا میں اجتماعیت کو بڑی اہمیت حاصل ہے جو قومیں متحد و متفق رہتی ہیں ترقی کی منازل طے کرتی ہیں اور کوئی ان کی طرف نظر بد سے نہیں دیکھ سکتا برخلاف اس کے جو قومیں انتشار و اتفراق کا شکار ہوتی ہیں وہ دوسروں کی مغلوب و مقہور ہو کر رہ جاتی ہیں اس وقت دنیا میں جہاں کہیں بھی مسلمان اقلیت اور پراگندگی کی حالت میں ہیں سخت تکالیف اٹھا رہے ہیں قبرض میں ترک اقلیت میں تھے مختلف علاقوں میں بٹے ہوئے تھے اور اکثریت کے ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے تھے پچھلی ربع صدی میں چالیس مزار قبرصی ترک مارے گئے پھر وہ جزیرے کے ایک حصے میں اکٹھے ہوگئے اور اس طرح انہوں نے اس علاقہ میں اپنی اجتماعیت قائم کرلی اب یہ لوگ سکون میں ہیں مگر امریکہ انگریز اور اٹلی کی اب بھی خواہش ہے کہ قبرصی مسلمانوں کو پھر سے منتشر کرکے کمزور کردیا جائے مگر ترک اپنی اجتماعیت پر ڈٹے ہوئے ہیں فلپائن کے مسلمانوں کو بھی ایسا ہی حال ہے قلیل تعداد میں ہونے کی وجہ سے اکثریت کا ظلم و ستم برداشت کر رہے ہیں عیسائی حکمران ان کے خلاف جھوٹا پراپیگنڈا کرکے انہیں مورد مسلمان یعنی قذاق اور ڈاکو کو نام دیتے ہیں ان کا قصور صرف یہ ہے کہ مسلمان ہیں اور پراگندہ حالت میں ہیں موزے تنگ کے زمانے میں چین کے صوبہ سنکیانگ میں مسلمانوں کی آبادی چھ سات کروڑ افراد پر مشتمل تھی مگر حکومت نے انہیں منتشر کردیا تاکہ یہ اپنی اجتماعی قوت قائم نہ کرسکیں اب وہاں ایک کروڑ مسلمان بھی نہیں ہیں غیر مسلم اقوام مسلمانوں کے خلاف ہمیشہ تقسیم کرو اور حکومت کرو کا ہتھیار استعمال کرتی رہی ہیں اور اب بھی کررہی ہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کو بارہ قبیلوں میں ٹکڑے ٹکڑے کردیا ابتداء میں تو یہ تنظیمی تقسیم تھی لیکن بعد میں ان کی شرارت پسندی کی وجہ سے ان کو تقسیم کردینا ہی بہتر تھا تاکہ یہ اکٹھے ہو کر کسی بڑی مصیبت کا پیش خیمہ نہ بن جائیں۔ صحرائے سینا میں سرگردانی مصر سے نکل کر بحیرہ قلزم عبور کیا اور بنی اسرائیل صحرائے سینا میں پہنچ گئے فرعون کی غرقابی کے باوجود انہیں واپس مصر جانے کا حکم نہیں تھا کیونکہ وہاں بہرحال اسی کی قوم آباد تھی اور یہ لوگ اپنے اصل وطن شام و فلسطین میں داخل ہونے کے ابھی اہل نہیں تھے صدیوں غلامی میں رہنے کی وجہ سے ان کے قوی امضحمل ہوچکے تھے محنت و مشقت سے عاری ہوچکے تھے اور شام و فلسطین کی فتح کے لیے جس جذبہ جہاد کی ضرورت تھی اس سے یہ عاری تھے چناچہ سورة مائدہ میں گزر چکا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ ارض مقدس میں داخل ہوجائو اللہ نے اسے تمہارے مقدر میں کردیا ہے تم ہمت تو کرو ، تو کہنے لگے وہاں تو بڑی جنگجو قوم آباد ہے ہم ان کی موجودگی میں وہاں نہیں جاسکتے ، اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تم اور تمہارا خدا جاکر ان سے مقابلہ کرو ” انا ھھنا قعدون “ ہم تو یہیں بیٹھیں گے اس جواب سے موسیٰ (علیہ السلام) بڑے رنجیدہ خاطر ہوئے اور رب العزت سے عرض کیا رب انی لا املک الانفسی واحی مولا کریم ! میں تو اپنی ذات اور بھائی کا مالک ہوں جو میری بات مانتا ہے اس کے علاوہ قوم کا کوئی فرد ہماری بات سننے کے لیے تیار نہیں ہے بنی اسرائیل کی طرف سے بزدلی کے اس مظاہرے پر اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا کہ عرصہ تک انہیں اسی صحرائے سینا میں سرگرداں رکھا جائے تاکہ یہ یہاں کی تکالیف برداشت کرکے جفا کش بن جائیں اور شام و فلسطین کو فتح کرسکیں چناچہ ایسا ہی ہوا فانھا محرمۃ علیھم اربعین سنۃ یتیھون فی الارض “ ارض مقدس ان پر حرام کردی گئی اور چالیس سال تک یہ اسی صحرائے سینا میں سرگرداں پھرتے رہے پھر اخراج مصر سے ستر پچھتر سال بعد جاکر ان سے غلامی کا اثر ختم ہوا نئی خوراک کھانے سے نیا خون پیدا ہوا آزادی کی لہر پیدا ہوئی اور پھر انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے جانشین حضرت یوشع اور قالب کی قیادت میں ملک شام و فلسطین کو فتح کیا اور وہاں آباد ہوئے۔ انسان کی بنیادی ضروریات الغرض ! بنی اسرائیل ابتدائی طور پر صحرائے سینا میں مقیم ہوئے یہ ایک لمبا چوڑا تپتا ہوا صحرا ہے جس میں ضروریات زندگی کی کوئی چیز مہیا نہیں اس خطہ کی آبادی کا یہ حال ہے کہ آج بیسیویں صدی میں بھی وہاں چند ہزار نفوس سے زیادہ لوگ آباد نہیں جو کہ مختلف حیشیتوں میں وہاں رہتے ہیں ظاہر ہے کہ آج سے ہزاروں سال پہلے وہاں کتنے لوگ ہوں گے اور ان کی معیشت کا کیا انتظام ہو اس لق دق صحرا میں یکایک چھ سات لاکھ نفوس کے لیے ضروریات زندگی کہاں سے مہیا ہوسکتی تھیں وہاں تو پینے کے لیے پانی جیسی اہم ترین چیز بھی میسر نہیں تھی حالانکہ یہ انسان کی چھ بنیادی ضروریات میں شامل ہے انسان کے بنیادی حقوق کا دعویدار آج اقوام متحدہ کا ذیلی ادارہ یونیسکو بنا ہوا ہے حالانکہ سب سے پہلے اس کی تعلیم حضور ﷺ نے دی تھی انسان کے چھ بنیادی حقوق (BASIC RIGHTS) کا ذکر قرآن و سنت میں موجود ہے ان میں پانی خوراک ، لباس ، مکان ، صحت اور تعلیم شامل ہیں انسانی زندگی کے لیے سب سے پہلی ضرورت آکسیجن یعنی صاف ہوا ہے اس کے بغیر انسان نہ سانس لے سکتا ہے اور نہ اپنی زندگی کو قائم رکھ سکتا ہے اس کے بعد انسانی زندگی کا انحصار خوراک پر ہے جس میں پانی کی اولیت حاصل ہے خوراک بھی جیسی کیسی انسان کو ملنی چاہیے اس زمین پر کوئی بھوکوں نہیں مرنا چاہیے سرچھپانے کے لیے جھونپڑی کی بھی ضرورت ہوتی ہے انسان کو چھوٹا موٹا مکان ضرور حاصل ہونا چاہیے جس کے ذریعے وہ گرمی سردی اور دیگر آفات کے بچائو کرسکے متمدن زندگی کے لیے انسان کے لیے لباس بھی اس کی بنیادی ضرورت ہے کوئی شخص ننگا نہیں رہنا چاہیے یہ بھی ضرورت ہے اس کے بعد تعلیم اور صحت ہے جہالت کی تاریکی کو دور کرنے اور خدا تعالیٰ کی معرفت اور زندگی کو احسن طریقے سے بسر کرنے کے لیے تعلیم کی ضرورت ہے اور اگر انسان بیمار پڑجائے تو اس کی زندگی دوبھر ہوجاتی ہے لہٰذا یہ بھی اس کا بنیادی حق ہے کہ صحت کو برقرار رکھنے کے لیے اسے تمام ضروری وسائل مہیا ہوں۔ بنی اسرائیل کے لیے بارہ چشمے صحرائے سینا میں بنی اسرائیل کو پہلی بنیادی ضرورت ہوا تو اللہ نے وافر مقدار میں فری مہیا کررکھی تھی تاہم خوراک کے سلسلے میں ان کی اولین ضرورت پانی کی بہم رسانی تھی ہوا کے بعد انسانی جسم کو پانی کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے اس کے بغیر انسان زیادہ دیر تک زندہ نہیں رہ سکتا انسانی جسم میں دوڑنے والے خون کا اسی فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔ بلکہ سطح ارضی پر موجود ہر چیز کا انحصار پانی پر ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” وجعلنا من الماء کل شی ئٍ “ (انبیائ) اسی لیے پانی پر ٹیکس کو ظالمانہ کہا گیا ہے تو بنی اسرائیل کے لیے بھی صحرائے سینا میں سب سے پہلا مسئلہ پانی کا پیدا ہوا اور قوم نے اس کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف رجوع کیا کہ جس بےآب وگیاہ زمین میں انہیں لے آئے ہیں وہاں پانی کا انتظام بھی کریں یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اسی چیز کو بیان کیا ہے واوحینا الی موسیٰ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کیا ان اضرب بعصاک البحر کہ اپنی لاٹھی پتھر پر ماریں ظاہر ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قوم کی درخواست پیش کی تو اللہ نے پانی کی معجزانہ طور پر بہم رسانی کے لیے اپنی معجزے والی لاٹھی کو چٹان پر مارنے کا حکم دیا فانبجست منہ اثنتا عشرہ عیناً پس پھوٹ پڑے اس سے بارہ چشمے ، ابنجاس کا معنی ہوتا ہے تھوڑا تھوڑا پانی رسنا اور انفجار کا معنی پوری طرح پانی بہہ جانا ہوتا ہے قرآن میں یہ دونوں الفاظ استعمال ہوئے ہیں جس سے مفسرین کرام یہ مطلب اخذ کرتے ہیں کہ ابتداء میں تھوڑا تھوڑا پانی نکلا ہوگا مگر بعد میں اس میں اضافہ ہوگیا اور چشمہ پوری طرح بہنے لگا تو فرمایا اس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے قد علم کل اناس مشربھم ، ہر قبیلے نے اپنا اپنا گھاٹ پہچان لیا چناچہ ہر ایک کو حکم ہوا کہ وہ اپنے اپنے مقررہ چشمے سے پانی حاصل کریں اور ایک دوسرے کے گھاٹ میں مداخلت نہ کریں اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے اس نے معجزانہ طریقے سے بنی اسرائیل کے لیے پانی کا انتظام کردیا۔ ہر صاحب عقل سلیم اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اعتراف کرتا ہے تاہم سرسید پرویز اور دیگر نیچری قسم کے لوگ معجزات کا بھی انکار کرتے ہیں حالانکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے معجزات کا صراحت کے ساتھ ذکر کیا ہے معجزہ اللہ تعالیٰ کا فعال ہوتا ہے وہ جب چاہتا ہے نبی کے ہاتھ پر ظاہر کردیتا ہے اور اسی طرح کرامت بھی خدا تعالیٰ اپنے کسی ولی کے ہاتھ اللہ نے بنی اسرائیل کے لیے پانی کے بارہ چشمے جاری فرما کر بنی اسرائیل کے لیے پانی کا بندوبست کردیا۔ گرمی اور سایہ صحرائے سینا میں شدید گرمی پڑتی ہے جس سے بچائو کے لیے نہ کوئی مکان تھا ، نہ خیمہ اور نہ کوئی درخت ، عرب سمیت پورا مشرق وسطیٰ بہت گرم علاقہ ہے عرب میں یہاں پنجاب کی نسبت چارگنا زیادہ گرمی پڑتی ہے جب کہ صحرائے سینا میں چھ گنا زیادہ ہے عرب لوگوں کے سر پر رومال باندھنے میں یہی حکمت ہے کہ وہ لو سے محفوظ رہتے ہیں اگر گردن کو لو لگ جائے تو ضربہ شمسیہ ہوجاتا ہے پٹھے مرجھا جاتے ہیں اور انسان ہلاک ہوجاتا ہے لہٰذا گردن کو تپش سے محفوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے ابوکبیر ہزلی کہتا ہے ؎ ولد صبرت علی السموم یکننی قرد علی اللیقین غیر مرجل میں تو بڑا صابر ہوں جس نے لو کر برداشت کیا ہے جب کہ میرے پراگندہ بالوں کے سوا سر پر سایہ کرنے والی کوئی چیز نہ تھی ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ افضل صدقہ کون سا ہے تو آپ نے فرمایا ظل فسطاطٍ یعنی خیمہ کا سایہ کسی گرم علاقے میں گرمی سے بچائو کے لیے خیمہ مہیا کردینا بہت بڑا صدقہ ہے بہرحال بنی اسرائیل کو اس تپتے ہوئے صحرا میں سایہ کی ضرورت تھی اللہ نے فرمایا وظللنا علیھم الغمام ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کردیا اللہ تعالیٰ نے انہیں عرصہ تک صحرا میں رکھ کر ان کی کمزوریاں دور کرنا چاہتا تھا لہٰذا ان کے لیے بنیادی ضروریات زندگی کا انتظام بھی فرما دیا۔ من اور سلویٰ کی خوراک پانی کے بعد اگلی ضرورت خوراک کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کا بندوبست بھی معجزانہ طریقے سے کیا وانزلنا علیھم المن والسلویٰ ہم نے ان پر من اور سلویٰ نازل فرمایا من کا لغوی معنی احسان ہے جو چیز مفت مل جائے وہ احسان ہوتا ہے تو اس کو من اس لیے بھی کہا گیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا بنی اسرائیل پر خاص احسان تھا ویسے من سے مراد ترنجبین کی قسم کی سفید شکر ہے جو بنی اسرائیل کے قیام کے مظالم پر شبنم کی طرح گرتی تھی اور جسے وہ اکٹھا کرلیتے تھے یہ خوش ذائقہ طاقتور اور زود ہضم خوراک تھی جسے بنی اسرائیل استعمال کرتے تے حدیث شریف خود روکھنبیوں کو بھی من کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے الکماۃ من المن وماء ھا شفاء للعین ، کھنبیاں من میں سے ہیں جن کا پانی آنکھوں کے لیے باعث شفا ہے اسے دکھتی آنکھوں میں سرمہ میں ملا کر یا ویسے ہی ڈال دیاجائے تو نہایت مفید ہوتا ہے۔ بہرحال خوراک کے لیے ایک تو اللہ نے من مہیا کیا اور دوسرا سلویٰ یہ بٹیر کی طرح کا پرندہ تھا ان کو ہوا اڑا کر بنی اسرائیل کے خیموں کے پاس لے آتی جنہیں وہ آسانی سے پکڑ لیتے اور ذبح کرکے اس کا گوشت استعمال کرتے جو نہایت ہی لذیز ہوتا من میں شکر اور نشاستہ کے اجزا پائے جاتے تھے جب کہ پروٹین کے لیے اللہ نے پرندوں کا گوشت مہیا کردیا اور اس طرح بنی اسرائیل کی خوراک کا مسئلہ بھی حل ہوگیا اللہ نے فرمایا کلوا من طیبت مارزقنکم کھائو جو ہم نے تمہیں پاک روزی عطا کی ہے طیبت سے مراد پاک روزی جو ملتی بھی مفت تھی مگر اللہ کی اس عظیم نعمت پر بھی وہ لوگ مطمئن نہ ہوئے اور جیسا کہ سورة بقرہ میں ہے کہنے لگے لن تصبرعلی طعام واحد روزانہ ایک ہی قسم کا کھانا کھاتے ہمارے منہ کا ذائقہ بگڑ گیا ہے لہٰذا ہمارے لیے اپنے رب سے سبزی تر کاری ، دال ، لہسن ، پیاز وغیرہ کا سوال کریں موسیٰ (علیہ السلام) نے سمجھایا اتستبدلون الذی ھو ادنیٰ بالذی ھوخیر ، کیا تم من وسلویٰ جیسی اعلیٰ چیزوں کی بجائے ساگ پات جیسی ادنیٰ چیزیں چاہتے ہو ؟ مگر وہ قوم اپنی بات پر اڑی رہی اس کے بعد کا بیان اگلی آیت میں آرہا ہے اللہ نے فرمایا وما ظلمونا انہوں نے نافرمانی کرکے ہم پر ظلم نہیں کیا یعنی ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا ، اللہ تعالیٰ تو غنی اور صمد ہے کسی کی غلط کارروائی کا اس پر کیا اثر ہوسکتا ہے ولکن کانو انفسھم یظلمون حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اپنے پیغمبر کی بار بار نافرمانی کرکے انہوں نے خود اپنا ہی نقصان کیا اس سے اللہ تعالیٰ کا کیا نقصان ہوسکتا تھا انہوں نے اپنے آپ پر ہی ظلم اور زیادتی کی۔ روشنی کا انتظام اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لیے پہلے پانی کا انتظام کیا اور ان کے لیے بارہ چشمے جاری کردیئے پھر خوراک کے لیے من جیسی میٹھی چیز اور سلویٰ جیسا تازہ اور لذیز گوشت فراہم کیا دھوپ میں سایہ کے لیے بادل بھیج دیئے تفسیری روایات میں آتا ہے کہ دن کو بادلوں کا سایہ ہوتا تھا اور رات کے وقت اللہ تعالیٰ روشنی کے بڑے بڑے مینار کھڑے کردیتا تھا اللہ جل شانہٗ نے بغیر ستونوں کے روشنی کے بڑے بڑے راڈ بنا دیئے جن سے معجزانہ طور پر روشنی نکلتی تھی یہ بھی بنی اسرائیل کے لیے ایک اضافی سہولت تھی اس کا ذکر قرآن و سنت میں تو کہیں نہیں آتا صرف تفسیری روایات میں ذکر آتا ہے جس کی حتمی طور پر تصدیق نہیں کی جاسکتی بایں ہمہ جو مالک الملک پتھر سے بارہ چشمے جاری کرسکتا ہے دھوپ میں بادلوں کا سایہ مہیا کرسکتا خوراک کے لیے من وسلویٰ نازل کرسکتا ہے اس کے لیے کیا بعید ہے کہ وہ روشنی کا انتظام بھی کردے یہ تمام چیزیں اللہ نے انعام کے طور پر عطا فرمائیں مگر اس قوم نے ان کی قدر نہ کی اب آگے بنی اسرائیل کا بستی میں اترنے کا واقعہ اللہ نے بیان فرمایا ہے۔
Ayahs 7:161–162

وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓئٰتِكُمْ١ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:161 in the Quran reader

اور (اس واقعہ کو یاد کرو) جب کہا گیا ان (بنی اسرائیل) سے کہ رہائش پذیر ہو اس بستی میں اور کھائو اس سے جہاں چاہو تم اور کہو حطۃ (معافی) اور داخل ہو دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے ، ہم بخش دیں گے تمہاری خطائیں اور ضرور زیادہ کریں گے ہم نیکی کرنے والوں کے لئے

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ۠ Open ayah 7:162 in the Quran reader

پس تبدیل کردی ان لوگوں نے جنہوں نے ظلم کیا ان میں سے بات کو اس کے سوا جو ان کو کہی گئی تھی۔ پس بھیجا ہم نے ان پر عذاب آسمان سے ، اس وجہ سے کہ تھے وہ ظلم کرتے۔

ربط آیات گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو انتظامی حیثیت سے بارہ قبیلوں میں تقسیم کیا صحرائے سینا میں پہنچ کر بنی اسرائیل کے لیے پانی کا مسئلہ پیدا ہوا انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کیا اور آپ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ نے فرمایا اپنی لاٹھی کو پتھر پر مارو ایسا کرنے سے اس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے ہر قبیلے نے اپنا گھاٹ معلوم کرلیا اور پانی سے سیراب ہونے لگے دھوپ سے بچنے کے لیے اللہ نے بادلوں کا سایہ کردیا اور خوراک کے طور پر من اور سلویٰ نازل فرمایا اور ساتھ ہی حکم دیا کہ ہماری عطا کردہ روزی میں سے پاک چیزیں کھائو نیز یہ بھی فرمایا کہ انہوں نے ہمارا تو کچھ نہیں بگاڑا البتہ وہ اپنی جانوں پر خود ظلم کرتے تھے۔ مصر سے نکلنے کے بعد چالیس سال تک صحرائے سینا میں سرگرداں رہنے کا واقعہ سورة مائدہ میں بیان ہوچکا ہے جب بنی اسرائیل نے جہاں کرنے سے انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے سزا کے طور پر انہیں صحرا میں سرگرداں رکھا سورة بقرہ میں صحرائے سینا کا یہ واقعہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ بنی اسرائیل من وسلویٰ جیسی اعلیٰ غذا کھاتے کھاتے تنگ آگئے اور پھر انہوں نے اس کی بجائے سبزی تر کاری ، دال ، لہسن ، پیاز کا مطالبہ شروع کردیا ، کہنے لگے کہ ہم ایک ہی کھانے پر اکتفا نہیں کرسکتے لہٰذا ہمارے لیے دوسری چیزیں مہیا کی جائیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے انہیں سمجھایا کہ تم اعلیٰ خوراک کو چھوڑ کر ادنیٰ خوراک کو پسند کر رہے ہو مگر وہ اپنے مطالبے پر اڑے رہے اس پر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تم اس بستی میں داخل ہوجائو وہاں جاکر کاشت کرو ، اپنی من پسند سبزیاں وغیرہ اگائو اور استعمال کرو اب تمہیں کوئی چیز مفت نہیں ملے گی بلکہ تمہیں اس کے لیے محنت و مشقت کرنا پڑے گی بستی میں داخلے کے لیے اللہ تعالیٰ نے بعض شرائط بھی عائد کیں جن کا ذکر آج کے درس میں آرہا ہے۔ بستی میں داخلہ عربی زبان میں بادیہ بالکل معمولی گائوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جب کہ قریہ بستی کا اطلاق قصبات سے لے کر بڑے بڑے شہروں پر ہوتا ہے قرآن پاک میں سورة یوسف میں خود مصر کے لیے بھی قریہ کا لفظ آیا ہے ” واسئل القریۃ النی کنا فیھا “ قرآن پاک میں مکہ مکرمہ اور طائف کو قرینین یعنی دو بستیاں کہا گیا ہے یہ دونوں بھی بڑے شہر ہیں۔ بہرحال اللہ نے فرمایا اس واقعہ کا دھیان میں لائو وازقیل لھم اسکنوا ھذہ القریۃ جب بنی اسرائیل سے کہا گیا کہ اس بستی میں سکونت اختیار کرو یہ واقعہ پیش آنے کے زمانہ کے متعلق مفسرین کا اختلاف ہے بعض فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کا مذکورہ بستی میں داخلہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زندگی میں ہی پیش آیا تاہم اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد آپ کے جانشین حضرت یوشع (علیہ السلام) کے زمانے میں پیش آیا یہ بستی کونسی تھی جس میں داخلے کا حکم ہوا ؟ اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ اریحانامی بستی تھی جو کہ دشمن قوم کنعانیوں کے قبضے میں تھی بعض نے ستیم کی بستی کا ذکر کیا ہے جو یروشلم سے تیس میل کے فاصلے پر تھی بعض فرماتے ہیں کہ یہ کوئی بستی تھی جو ہزارون کی مشرق جانب آٹھ دس میل کی مسافت پر تھی بہرحال اکثر رائے ایرحا نامی بستی کے حق میں ہے اس بستی کے باشندوں سے جنگ کرکے اس پا قابض ہونا تھا چناچہ ایسا ہی ہوا ، بائیبل کی روایت کے مطابق وہاں پر زبردست لڑائی کے بعد شہر فتح ہوا تو بنی اسرائیل اس میں داخل ہوئے۔ اللہ نے فرمایا اب تم اس بستی میں رہو ، کھیتی باڑی کرو ، غلہ اور سبزیاں اگائو وکلومنھا حیث شئتم اور جہاں چاہو اس میں سے کھائو ، تمہارے لیے کوئی روک رکاوٹ نہیں البتہ اس بستی میں داخلے کے لیے دو شرائط پوری کرنا ہوگی پہلی بات یہ ہے کہ وقولو حطۃ شہر میں داخل ہوتے وقت حطۃ کہو ، عربی زبان میں اس لفظ کا معنی گرا دینا یا اتار دینا آتا ہے اور یہاں پر معافی کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی اے اللہ ہماری گناہوں کو گرا دے اور ہمیں معاف کردے اگر یہ لفظ عربانی یا سریانی زبان کا ہے تو معنی پھر بھی یہی ہے کہ اے اللہ ! ہم سے بڑی غلطیاں سرزد ہوئی ہیں ہمیں معاف فرما دے گویا اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو استغفار کرنے کا حکم دیا ظاہر ہے کہ معافی مانگنا ، عاجزی اور انکساری کی علامت ہے اور معافی مانگنے والا شخص آئندہ ایسی غلطی کے عدم اعادہ کا وعدہ کرتا ہے فرمایا استغفار کرتے ہوئے بستی میں داخل ہونا اور زبان سے کوئی بےہودہ کلمہ نہ ادا کرنا کیونکہ ایسا کرنا غیر اسلامی اور غیر متمدن فعل ہے جب غیر اسلامی تمدن والے لوگ کسی بستی کو فتح کرتے ہیں تو شان و شوکت سے غرور وتکبر کا اظہار کرتے ہوئے داخل ہوتے ہیں بینڈ باجے اور نعرہ بازی کے ساتھ داخلہ ہوتا ہے ترانے گائے جاتے اور جشن منایا جاتا ہے فرمایا یہ سب کافرانہ تمدن کی باتیں ہیں تم ایسا نہ کرنا بلکہ اپنی خطائوں کی معافی طلب کرتے ہوئے داخل ہونا اس ضمن میں ہمارے لیے حضور خاتم النبیین ﷺ کا اسوہ حسنہ مشعل راہ ہے جب آپ مکہ میں بحیثیت فاتح داخل ہوئے تو آپ کے سرمبارک پر خود پہنا ہوا تھا اور آپ کی گردن جھکی ہوئی تھی پھر جب آپ نے نزول فرمایا تو خود اتار دیا آپ نے اپنی چچازاد بہن ام ہانی کے ہاں قیام فرمایا پھر غسل کیا اور آٹھ رکعت نماز ادا فرمائی ہر بحال بنی اسرائیل کو اللہ نے فرمایا کہ پہلی بات یہ ہے کہ استغفار کرتے ہوئے بستی میں داخل ہونا۔ داخلہ بحالت سجدہ اور دوسری بات یہ ہے کہ وادخلوالباب سجداً اور دروازے سے سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا مفسرین نے یہاں پر سجدہ کے دو معنی کیے ہیں یعنی مکمل سجدہ یا صرف جھک جانا ، سجدہ اور رکوع دونوں عاجزی کی علامت ہیں اور دونوں چیزیں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے لیے روا ہیں تو سجدہ کرنے سے یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ عاجزی کے ساتھ گردن کو جھکائے ہوئے داخل ہونا ، اور غرور وتکبر کا اظہار نہ کرنا اور اگر سجدہ سے مراد سجدہ لیا تو معنی ہوگا کہ شکرانے کے نفل ادا کرکے بستی میں داخل ہونا ، حدیث شریف میں آتا ہے کہ ابوجہل کے قتل پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دو رکعت نماز نفل شکرانہ ادا فرمائے تھے کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس امت کا فرعون واصل جہنم ہوا۔ فرمایا تعمیل حکم میں اگر یہ دونوں کام کر لوگے تو نغفرلکم خطیتکم ہم تہماری خطائوں کو معاف کردیں گے سنزید المحسنین اور نیکی کرنے والوں کو مزید انعام عطا فرمائیں گے یہ س تاکید کے لیے ہوتا ہے کہ ہم ضرور بضرور ایسا کردیں گے اس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اب جب کہ یہ شہر تمہارے قبضے میں آگیا ہے تو اب اگر یہاں اللہ کے احکام پر عمل کرتے ہوئے نیکی کا راستہ اختیار کرو گے تو مزید علاقے تمہارے تسلط میں آجائیں گے اللہ تعالیٰ کا یہ عام قانون بھی ہے کہ اگر تم شکر کرو گے ” لازید نکم “ تو میں تمہیں مزید عطا کروں گا اور اگر ناشکری کروگے ان عذابی لشدید تو میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔ بنی اسرائیل کی نافرمانی فرمایا بنی اسرائیل نے ہمارے حکم کی تعمیل کرنے کی بجائے فبدل الذین ظلموا منھم ان میں سے جو ظالم لوگ تھے انہوں نے بدل دیا قولاً غیرالذی قیل لھم اس بات کو جو ان سے کی گئی تھی یہ مفسد ذہن کے لوگ تھے یہ ہمیشہ الٹا چلتے تھے اللہ نے تو فرمایا تھا کہ شہر میں داخل ہوتے وقت حطۃً کہنا یعنی اللہ تعالیٰ سے استغفار کرنا ، مگر بخاری شریف کی روایت کے مطابق بنی اسرائیل نے حطۃ کی بجائے حنطۃ فی شعیرۃ کے الفاظ کہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے لیے سٹے کے اندر گندم ہونی چاہیے ایسی الٹ پلٹ باتیں کیں اللہ نے دوسرا حکم یہ دیا تھا کہ سجدہ کرتے ہوئے یعنی عاجزی اور انکساری کے ساتھ گردن کو خم کیے ہوئے شہر میں داخل ہونا مگر حدیث شریف میں آتا ہے کہ ان لوگوں نے اکڑ دکھائی اور گردن کو جھکانے کی بجائے چوتڑوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اس طرح انہوں نے حکم عدولی کرتے ہوئے اللہ کے دونوں احکام کو تبدیل کردیا۔ عذاب الٰہی بنی اسرائیل کی نافرمانی کا نتیجہ یہ نکلا فارسلنا علیھم رجزاً من السماء ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اللہ تعالیٰ نے ان کو فتح سے ہمکنار کرنے کا یقین دلایا مگر انہوں نے اس کا عائد کردہ شرائط کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور اللہ تعالیٰ کے کلمات کو تبدیل کردیا عذاب کی نوعیت کے بارے میں تورات کے باب گنتی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر طاعون کی وبا مسلط کردی جس سے بکثرت اموات واقع ہونے لگیں جب طاعون پھیلتا ہے تو دیکھتے ہی دیکھتے بستیوں کی بستیاں صاف ہوجاتی ہیں اور پھر اللہ کا قانون یہ ہے کہ کہ وہ کسی قوم کو بلاوجہ سزا میں مبتلا نہیں کرتا بلکہ بما کانو یظلمون بنی اسرائیل کو ان کے ظلم اور نافرمانی کی وجہ سے سزا ملی تھی دوسرے مقام پر یفسقون کا لفظ بھی آتا ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حکم عدولی کی تھی جو شخص بھی خدائی قانون تبدیل کرنے کی کوشش کرے گا وہ سزا کا مستحق ہوگا اور یہ قانون صرف بنی اسرائیل ہی کے لیے نہیں بلکہ اللہ نے فرمایا کذلک نجزی کل کفور ہم ہر ناشکر گزار کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ سزا کی مختلف صورتیں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ طاعون یا کوئی دیگر وبائی بیماری ہی سزا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ مختلف طریقوں سے نافرمانوں کو سزا میں مبتلا کرتا ہے مثلاً یہ بھی اللہ کی طرف سے سزا ہے کہ کسی کی نیکی کرنے کی قوت ہی سلب کرلے انسان کو علم بھی نہیں ہوتا مگر اس پر سزا وارد ہوچکی ہوتی تھی غلامی میں مبتلا کردینا ، کفار کو غالب کردینا اور سیاسی یا اقتصادی طور پر مغلوب کردینا بھی سزا کی ایک قسم ہے آج کی اسلامی دنیا پر نظر ڈالیں تو کسی کو امریکہ نے جکڑا ہوا ہے اور کوئی روس کی غلامی میں مبتلا ہے نہ ان کی اپنی سیاست ہے اور نہ معیشت بڑی طاقتوں کے دست نگر میں یہی تو سزا ہے ربنا لاتجعلنا فتنۃ للقوم الظمین اے اللہ ہمیں ظالم قوم کے ہاتھ سے آزمائش میں نہ ڈالنا برصغیر کے لوگ دو سو سال تک انگریز کی غلامی میں رہے مگر احساس تک نہیں ہوا ذلت اٹھائی اور غلامی کو غلامی نہیں سمجھا غلامی میں ذہن معکوس ہوجاتے ہیں یہ بھی سزا کی ایک صورت ہے اس وقت دنیا میں پچاس اسلامی ریاستیں ہیں اور سب کے سب غلام ہیں یا نیم غلام ، غلطی پر غلطی کر رہے ہیں مگر حق کی طرف رجوع نہیں کرتے ابودائود شریف کی روایت میں آتا ہے کہ خدا تعالیٰ تمہاری ذلت کو اس وقت تک دور نہیں کرے گا حتیٰ ترجعو الی دینکم یہاں تک کہ تم دین کی طرف واپس نہ آجائو جب تک دین سے دور رہو گے خدا تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا رہو گے غلامی اقتصادی ہو یا سیاسی ، جہالت مسلط ہو یا نیکی کی حالت طاقت سلب ہوجائے یہ سزا ہی کی صورتیں ہیں بہرحال اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو وبا کی صورت میں سزا دی۔ اب بھی جو کوئی من مانی کرے گا خدا کی نافرمانی کا مرتکب ہوگا قانون خداوندی کے مطابق سزا میں مبتلا ہوگا شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا اٹل قانون ہے یایترک عاصیا وہ کسی مجرم کو چھوڑتا نہیں اور انہیں اسباب کے دوران ہی سزا دیدی جاتی ہے دنیا میں تو ایسی سزا ملتی ہے اور آخرت میں تو تمام اسباب بھی معطل ہوجائیں گے اور پھر قطعی طور پر سزا ملے گی۔
Ayah 7:163

وَ سْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِیْهِمْ١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:163 in the Quran reader

اور پوچھیں آپ ان سے اس بستی کا حال جو دریا کے کنارے پر تھی جب کہ یہ لوگ تعدی کرتے تھے ہفتے کے دن آتی تھیں ان کے پاس ان کی مچھلیاں جس دن وہ ہفتہ کرتے تھے پانی کے اوپر تیرتی ہوئی اور جس دن ہفتہ نہیں کرتے تھے پانی کے اوپر تیرتی ہوئی اور جس دن ہفتہ نہیں کرتے تھے ، مچھلیاں نہیں آتی تھیں ان کے پاس اس طرح ہم نے آزمایا ان کو اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔

ربط آیات بنی اسرائیل کے حوالہ سے ایک بستی کا ذکر پہلے بھی گزر چکا ہے جب انہوں نے اعلیٰ درجے کی نعمتوں کو چھوڑ کر ادنیٰ درجے کی چیزوں کا مطالبہ کیا تھا تو اللہ نے حکم دیا تھا کہ اریحا نامی بستی کے اصل باشندوں کے ساتھ جہاد کرو ، جب وہ فتح ہوجائے تو اس میں داخل ہوجائو ، وہاں کاشتکاری کرو تو تمہاری مطلوبہ اشیا سبزی ، تر کاری ، دال ، پیاز ، لہسن وغیرہ میسر آجائیں گے مگر یہ لوگ جنگ کے لیے تیار نہ ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ تم اور تمہارا خدا جاکر لڑائی کرو ، ہم یہیں بیٹھتے ہیں جب فتح حاصل ہوجاء تو ہمیں بتا دینا ، ہم اس بستی میں داخل ہوجائیں گے اس نافرمانی کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے انہیں چالیس سال تک صحرائے سینا میں سرگرداں رکھا پھر پرانے لوگ ختم ہوگئے اور نئی نسل آئی اس دوران ان کی غلامی کی بہت سی خرابیاں بھی دور ہوگئیں اور آخر کار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے جانشین حضرت یوشع (علیہ السلام) کے زمانے میں انہوں نے جہاد کیا تو اللہ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی۔ یہ تورایحا نامی بستی کا ذکر تھا اب آج کے درس میں ایک دوسری بستی کا ذکر ہے اس بستی سے متعلقہ واقعہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے زمانے میں پیش آیا اللہ تعالیٰ نے مختلف بستیوں کا ذکر کرکے بنی اسرائیل کی فاسد ذہنیت کو بیان کیا ہے کہ یہ لوگ جہاں بھی گئے خرابایں ہی کرتے رہے صحرائی زندگی میں خرابایں کیں تو وہاں سزا ملی پھر بستی میں داخل ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ نے جو شرائط عائد کی تھیں انہیں پورا نہ کیا جس کی وجہ سے خدا کی ناراضگی آئی ، طاعون کی وبا پھیلی اور بہت سے لوگ ہلاک ہوگئے جس بستی کا اب ذکر ہورہا ہے وہاں بھی انہوں نے خدا تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کی مختلف حیلوں بہانوں سے اللہ کے احکام کو تبدیل کیا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا سخت عذاب آیا اور قوم کا ایک معتدبہ حصہ ہلاک ہوگیا۔ ایلہ کی بستی ارشاد ہوتا ہے واسئلھم اے پیغمبر ! آپ بنی اسرائیل سے دریافت کریں عن القریۃ التی کانت حاضرۃ البحر اس بستی کے متعلق جو سمندر کے کنارے پر تھی حاضرۃ کے معنی سامنے ہوتا ہے اسی لیے حاضرۃ البلا شہر کے قریب شاملات وغیرہ کو کہتے ہیں تو جس بستی کا ذکر ہورہا ہے یہ بحیرہ قلزم کے کنارے پر واقع تھی تورات میں اس کا نام ایلات اور تاریخ میں ایلہ آتا ہے آج کل اسے عقبہ کہتے ہیں جس کے نام پر خلیج عقبہ مشہور ہے اسی نام پر بندر گاہ بھی ہے چونکہ یہ ساحلی مقام ہے یہاں کے اکثر باشندوں کا پیشہ مایہ گیری تھا سمندروں اور دریائوں کے کناروں پر آباد لوگوں کی گزران عموماً مچھلی کے شکار پر ہوتی ہے آج بھی ساری دنیا کی آبادی کا چوتھا یا پانچواں حصہ ایسا ہے جس کی معیشت کا دارومدار خشکی یا سمندری شکار پر ہے ساحلی علاقوں کے رہنے والے لوگ مچھلیاں پکڑتے ہیں جب کہ جنگلوں اور صحرائوں کے باشندے عموماً جانوروں کا شکار کرتے ہیں چناچہ اس وسیع کاروبار کی مناسبت سے اسلام نے شکار کے احکام صادر کیے ہیں اور حلال و حرام کی تمیز سکھائی ہے جانوروں کے شکار کی شرائط اور ذبح کا طریقہ بھی بیان کیا ہے اور پھر شکار کے متعلق حدود بھی بیان فرمائے ہیں حضور ﷺ نے شکار کا زیادہ تعاقب کرنے سے منع فرمایا ہے ، فرمایا جو زیادہ تعاقب کرے گا غافل بن جائے گا اس قسم کے انہماک کی وجہ سے بعض اوقات نماز اور دیگر فرائض ضائع ہوجاتے ہیں اس لیے اس معاملہ میں بھی میانہ روی ہی اختیار کرنی چاہیے بہرحال اس بستی کے لوگ بھی شکار پر گزراوقات کرتے ہیں ہمارے ہاں بھی بنگال کے لوگ عام طور پر مچھلی اور چاول پر گزارا کرتے ہیں۔ ہفتہ کے دن کا تقدس مختلف اقوام کے نزدیک ہفتے کے مختلف ایام کو تقدس حاصل ہے مسلمانوں کے نزدیک جمعہ سید الایام ہے اللہ تعالیٰ نے اسے باقی تمام ایام پر فضیلت عطا فرمائی ہے اس دن جمعہ کی نماز خاص اہتمام کے ساتھ ادا کرنے کا حکم ہے تاہم دنیا کے دیگر کاروبار بھی نماز کے وقت کے علاوہ دبستور انجام دیے جاسکتے ہیں چناچہ سورة جمعہ میں فرمایا گیا کہ جب جمعہ کی نماز ہوجائے فانتشروا فی الارض تو زمین میں پھیل جائو وابتغو من فضل اللہ اور اللہ کا فضل یعنی روزی تلاش کرو گویا اہل ایمان کے لیے اس مقدس دن میں مکمل طور پر کاروبار بند کرنا ضروری نہیں اسی طرح نصاریٰ کے ہاں اتوار کا دن مقدس ہے جس دن وہ خصوصی عبادت کرتے ہیں یہودیوں نے مقدس دن کے طور پر ہفتہ کو اختیار کیا اور ان کے لیے حکم یہ تھا کہ اس دن صرف عبادت کریں اور کوئی دوسرا کام نہ کریں بلکہ یہودی لٹریچر میں تو یہ بھی ملتا ہے کہ اس دن یہودی کھانے بھی نہیں پکاتے تھے اور ان کے چولہے ٹھنڈے پڑے رہتے تھے۔ بنی اسرائیل کی آزمائش اب یہی مقدس دن یہودیوں کے لیے آزمائش کا سبب بن گیا ایلہ کے لوگوں کا عمومی پیشہ ماہی گیری تھا مگر ان کے لیے حکم یہ تھا کہ ہفتے کے دن وہ مچھلیاں بھی نہیں پکڑ سکتے تھے کچھ دیر تک تو انہوں نے اس حکم پر عمل کیا مگر آہستہ آہستہ حیلے بہانے سے اس حکم کی خلاف ورزی کرنے لگے اس آیت کریمہ میں یہودیوں کی اسی نافرمانی کا بیان ہے۔ اذ یعدون فی السبت ، اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اے پیغمبر ! ذر آپ ان سے اس بستی کا حال دریافت کریں جب کہ یہ لوگ ہفتے کے دن میں تعدی کرتے تھے حکم تو یہ تھا کہ ہفتے کے دن مچھلی کا شکار بھی نہ کرو مگر انہوں نے اس کے لیے یہ حیلہ کیا اذتاتیھم حیتا نھم یوم سبتھم شرعاً جب آتی تھیں ان کے پاس ان کی مچھلیاں ہفتہ کے دن پانی کے اوپر تیرتی ہوئیں شرعاً شارعۃ کی جمع ہے جس کا معنی پانی پر تیرنا ، اچھلنا ، سامنے آنا ، نمایاں ہونا یا اوپر آنا ہوتا ہے ہفتہ کے دن مچھلیاں کثرت سے پانی کی سطح کے اوپر آجاتی تھیں یہ اللہ کی طرف سے آزمائش تھی کہ یہ لوگ ہفتہ کے دن کا کس قدر احترام کرتے ہیں اللہ تعالیٰ آزمانا چاہتے تھے کہ کیا یہ اس دن شکار سے باز رہتے ہیں یا نہیں تو ہفتے کے دن تو مچھلیاں کثرت سے آی تھیں ویوم لایسبتون لاتاتیھم اور جن دن ہفتہ نہیں ہوتا تھا یعنی ہفتے کے علاوہ باقی ایام میں ان کے پاس مچھلیاں نہیں آتی تھیں یعنی بہت کم تعداد میں آتیں اور وہ بہت کم شکار کرپاتے گویا ہفتے کے روز مچھلیوں کی کثرت ہوتی اور اگلے ہی دن غائب ہوجاتیں فرمایا کذلک نبلوھم ہم اس طرح ان کو آزماتے تھے بما کانو یفسقون اس لیے کہ یہ لوگ نافرمانی کرتے تھے تو اللہ نے انہیں آزمائش میں ڈال دیا۔ بنی اسرائیل کی حیلہ سازی ہفتہ کے دن مچھلیوں کی کثتر سے فاٹدہ اٹھانے کے لیے اہل بستی نے یہ حیلہ کیا کہ سمندر کے کنارے کنارے بڑے بڑے حوض بنائے اور انہیں نالیوں کے ذریعے سمندر سے ملا دی ہفتے کے دن جب مچھلیاں کثرت سے سطح آب پر نمودار ہوتیں تو سمندر کا پانی نالیوں کے ذریعے حوضوں پر چھوڑ دیتے جس کے ساتھ بہت سے مچھلیاں بھی بہ کر حوضوں میں جمع ہوجاتیں اس کے بعد پیچھے بندلگادیتے تاکہ مچھلیاں واپس سمندر میں نہ چلی جائیں پھر جب اگلا دن یعنی اتوار کا دن آتا تو ان مچھلیوں کو آسانی سے حوضوں سے پکڑ لیتے اس طرح وہ ہفتے کے دن مچھلیوں کو جمع کرتے اور اتوار کے دن انہیں پکڑ لیتے اس طرح وہ اللہ کے حکم کی عملی طور پر خلاف ورزی کرتے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ، اے میری امت کے لوگو ! لاترتکبو ماراتکبت الیھود فتستحلوا محارم اللہ بادنی الحیل اس چیز کا ارتکاب نہ کرنا جس کا یہودیوں نے کیا کہ اس طرح تم بھی معمولی حیلوں سے اللہ کی حرام کردہ اشیا کو حلال سمجھنے لگ جائو دوسری حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا لعن اللہ الیھود کہ یہودیوں پر اللہ کی لعنت ہو کہ انہوں نے حرام چیز کو حیلے کے ساتھ حلال قرار دیا اللہ نے ان کے لیے چربی حرام کی تھی مگر وہ چربی کو خود تو نہیں کھاتے تھے مگر اس کو بیچ کر اس کے پیسے کھا جاتے تھے یہ بھی ان کی غلط حیلہ سازی تھی اس واقعہ میں بھی انہوں نے حیلے سے ہفتے کے دن کے تقدس کو پامال کیا اس قسم کی حیلہ سازی اس زمانے میں پائی جاتی ہعے بعض لوگ زکوٰۃ کی ادائیگی سے بچنے کے لیے یہ حیلہ کرتے ہیں کہ سال کا بیشتر حصہ مال نصاب اپنی ملکیت میں رکھتے ہیں اور سال کے آخر میں مال بیوی کے نام ہبہ کردیتے ہیں اس طرح ایسے مال پر کسی ایک فرد کی ملکیت میں سال پورا نہیں ہوپاتا اور ان میں سے کوئی بھی زکوٰۃ ادا نہیں کرتا اس قسم کی حیلہ سازی بالکل ناجائز اور حرام ہے ایسا شخص زکوٰۃ کی ادائیگی سے بری الذمہ نہیں ہوسکتا۔ امام ابو یوسف (رح) کا زہد بعض لوگ اس قسم کی حیلہ سازی کو امام ابو یوسف (رح) کی طرف بھی منسوب کرتے ہیں حالانکہ آپ تو متقی اور خوف خدا رکھنے والے تھے آپ تو ہمیشہ حق بات پر ڈٹ جایا کرتے تھے اور رعب یا لالچ آپ کے راستے میں کبھی حائل نہیں ہوا تھا آپ ہارون الرشید کے زمانہ میں قاضی القضاۃ بھی رہے ہیں آپ نے انتظام حکومت کے متعلق ہارون الرشید کو بڑا واضح خط لکھا اور اس میں ذرا رو رعایت نہ کی آپ کی زہ د و عبادت کا یہ حال تھا کہ چوبیس گھنٹے میں دو سو رکعت نفل ادا کرتے حالانکہ آپ کو عدلیہ کی اہم ذمہ داری بھی پوری کرنا ہوتی تھی امام احمد بن حنبل (رح) کے متعلق ” شرح ثلاثیات “ میں ہے کہ ہر روز ساڑھے تین سو رکعات نفل ادا کرتے تھے پھر جب ضعیف ہوگئے تو نوافل کی تعداد کم کرکے اڑھائی سو کردی بہرحال اس قسم کے عابد و زاہد لوگوں کے متعلق گمان کرنا کہ وہ کسی غلط بات کو جائز قرار دیتے ہو ، ہرگز درست نہی ہے البتہ یہودیوں نے مچھلی کے متعلق جو حیلہ اختیار کیا وہ قطعاً ناجائز تھا بلکہ احکام الٰہی کا مذاق اڑانے کے مترادف تھا۔ جائز حیلہ غرضیکہ ایسا حیلہ حرام ہے جس کے کرنے سے کوئی فرض ضائع ہوتا ہو البتہ ایسا حیلہ کرنا جائز ہے جس کے کرنے سے انسان کسی حرام چیز سے بچ جائے اس قسم کے حیلہ کا جواز حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بھی ثابت ہے مثلاً ایک شخص نے حضور ﷺ کی خدمت میں بڑی اعلیٰ درجے کی کھجوریں بطور تحفہ پیش کیں آپ نے دریافت کیا ، کیا تمہارے ہاں ساری کھجوریں ایسی ہی ہوتی ہیں تو اس نے عرض کیا کہ ہم ادنیٰ قسم کی کھجوریں زیادہ مقدار میں ادا کرکے اس کے بدلے میں اعلیٰ قسم کی کم کھجوریں حاصل کرلیتے ہیں اور اس طرح اعلیٰ قسم کی کھجوریں آپ کی خدمت میں پیش کی ہیں آپ نے فرمایا ذلک عین الربوٰ یہ تو سود ہے جنس کا تبادلہ جنس کے ساتھ برابری کی بنیاد پر ہونا چاہیے تھوڑی چیز کے بدلے زیادہ حاصل کرنا تو سود کے مترادف ہے لہٰذا ایسا نہ کیا کرو بلکہ اس کا جائز طریقہ یہ ہے کہ بع الجمع بالدراھم اپنی کھجوروں کو درہموں کے بدلے مناسب قیمت پر بیچ دو اور اس نقدی سے اعلیٰ درجے کی کھجوریں خریدو اس طرح تم سود کے لین دین سے بچ جائو گے اس قسم کی تدبیر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بھی بیان فرمائی ہے سورة یوسف میں موجود ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائی بنیامین کو اپنے پاس مصر میں روک لینا چاہتے تھے مگر ملکی قانون کے تحت ایسا کرنا ممکن نہیں تھا اللہ نے فرمایا کذلک کدنا لیوسف ، ماکان لیاخذا خاہ فی دین الملک ہم نے یوسف (علیہ السلام) کو تدبیر بتائی کیونکہ مصری قانون ک یتحت وہ بھائی کو نہیں روک سکتے تھے تدبیر یہ تھی کہ غلہ ماپنے کا پیمانہ بھائی کے سامان میں رکھ دیا جو تلاش کرنے پر برآمد ہوگیا پھر بھائیوں سے پوچھا کہ تمہارے ہاں چوری کی سزا کیا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ جس پر چوری ثابت ہوجائے اسے سال بھر مالک کی غلامی میں رہنا پڑتا ہے چناچہ اس بہانے سے یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی کو مصر میں روک لیا اس قسم کی تدبیر اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر حضرت ایوب (علیہ السلام) کو بھی بتلائی تھی بیماری کی حالت میں اپنی بیوی سے کسی بات پر ناراض ہوگئے اور قسم اٹھائی کہ تندرست ہونے پر اسے سو چھڑیاں ماروں گا بیوی بڑی نیک ، پارسا اور خدمت گزار تھی مگر ناراضگی کی کوئی وجہ پیدا ہوگئی اور آپ نے قسم اٹھالی پھر جب تندرست ہوگئے اور قسم پورا کرنے کا وقت آیا تو اللہ نے یہ حیلہ بتایا کہ سوتنکے جوڑ کر ایک چھڑی بنالو اور پھر ایک ہی دفعہ مارنے سے تمہاری قسم بھی پوری ہوجائے گی اور بیوی کو زیادہ مشقت بھی برداشت نہیں کرنا پڑے گی۔ بنی اسرائیل کا حیلہ ایسا نہیں تھا بلکہ یہ تو حکم الٰہی کی صریح خلاف ورزی تھی انہوں نے ہفتے کے دن مچھلیوں کو حوضوں میں بند کرکے غلط حیلہ سازی کی اور خدا کے غضب کا شکار ہوئے اب آگے واقعہ کی مزید تفصیلات اور بنی اسرائیل کی سزا کا ذکر آرہا ہے۔