7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 7:172–174

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ Open ayah 7:172 in the Quran reader

اور (اس وقت کو دھیان میں لائو) جب کہ نکالا تیرے پروردگار نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو اور ان کو گواہ بنایا ان کی جانوں پر (اور یہ فرمایا) کیا میں نہیں ہوں تمہارا پروردگار ؟ تو انہوں نے کہا کیوں نہیں ، ہم گواہی دیتے ہیں (یہ عہد اس لئے لیا) کہ تم یہ نہ کہو قیامت کے دن بیشک تھے ہم اس غافل

اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 7:173 in the Quran reader

یا یہ نہ کہو کہ بیشک شرک کیا ہے ہمارے آبائو اجداد نے اس سے پہلے اور ہم تو تھے ان کی اولاد بعد میں آنے والے تو کیا تو ہمیں ہلاک کرے گا اس کے بدلے میں جو کیا باطل پرستوں نے

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:174 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں آیتوں کو اور تکاہ یہ لوگ باز آجائیں ۔

ربط آیات گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل سے لیے گئے عہد و پیمان کا ذکر تھا وہ خاص عہد اللہ نے اس بات کا لیا تھا کہ اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑنا اور اس پر عمل کرنا ، مگر بنی اسرائیل اس عہد پر قائم نہ رہے بلکہ وہ ہمیشہ عہد و پیما کی خلاف ورزی ہی کرتے رہے یہ عہد خاص تھا اب آج کے درس میں عہد عام کا ذکر ہے جو تمام بنی نوع انسان سے لیا گیا تھا یہ عہد عہد الست اور عالم ارواح کا عہد بھی کہلاتا ہے جو کہ آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے بعد مگر باقی اولاد کی تخلیق سے پہلے لیا گیا دراصل یہ عہد تمام بنی نوع انسان کے قلوب میں اللہ تعالیٰ کی توقیر ، اس کی پہچان اور اس کی ربوبیت کا بیج ہے جو ان کی پیدائش سے پہلے ہی بو دیا گیا بہرحال گزشتہ آیات کے ساتھ ربط یہی ہے کہ پہلی آیات میں عہد خاص کا ذکر تھا اور اب عہد عام کا بیان ہورہا ہے۔ تین جہان تین عہد ایک عام انسان کے لیے تین ادوار میں تین عہد کا ذکر ملتا ہے پہلا عہدالست ہے جس کا تفصیلی ذکر اس درس میں ہورہا ہے اس عہد کا تعلق انسان کی اس دنیا میں آمد سے پہلے عالم ارواح سے ہے اس جہاں میں آنے کے بعد بھی انسان کے ساتھ ایک عہدو پیمان ہوا جس کا ذکر پچھلی سورة انعام میں ہوچکا ہے وہاں فرمایا تھا قل لعالوا اتل ما حرم ربکم علیکم اے پیغمبر ! آپ ان سے کہ آئو میں تمہیں بتائوں کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر کون کونسی چیزیں حرام کی ہیں اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے تیرہ چیزوں کا ذکر کرکے فرمایا ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے اسی پر چلو اور متفرق راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمہیں اصل راستے سے جدا کردیں گے فرمایا تمہیں اس بات کی وصیت کی جاتی ہے تاکہ تم پرہیز گار بن جائو یہ تو اس مادی جہان کا پروگرام اللہ نے دیا اور تیسری بات وہ ہے جس کا تعلق اگلے جہان سے ہے اور جس کا ذکر سورة الحاقہ میں ہے ” فاذا نفخ فی الصور نفخۃ واحدۃ جب یکدم صور پھونک دیاجائے گا قیامت برپا ہوجائے گی اور پھر جو جو واقعات پیش آئیں گے حساب کتاب کی منزل آئے گی اور پھر لوگوں کے فیصلے ہوں گے اس ساری بات کا ذکر کیا ہے تو گویا اللہ تعالیٰ نے تینوں جہانوں سے متعلقہ تینوں باتوں کا ذکر کردیا ہے تاکہ زندگی کے ہر مرحلے پر انسان کو یاد دہانی کرائی جاتی رہے کہ اس کی اصلیت کیا ہے کہ اور کون سا پروگرام دے کر اللہ نے اسے پیدا فرمایا ہے۔ عہد الست عہدالست کے متعلق احادیث مبارکہ میں بڑی تفصیلات آئی ہیں یہاں پر اللہ نے اس واقعہ کو اس طرح بیان فرمایا ہے واذاخذ ربک من بنی ادم من ظہور ھم ذریتھم اور اس واقعہ کو یاد کرو جب تمہارے رب نے بنی آدم کو پشتوں سے ان کی اولاد کو نکالا یہاں بنی آدم کا ذکر ہے جب کہ حدیث شریف میں آدم (علیہ السلام) کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالنے کا ذکر ہے یہ دونوں باتیں درست ہیں اور اس میں کوئی اشکال واقع نہیں ہوتا جہاں براہ راست آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکالنے کا ذکر ہے………………… تو اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو براہ راست آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور بنی آدم سے مراد وہ لوگ ہیں جو آدم (علیہ السلام) کی اولاد کی اولاد ہیں اور اس میں نسل بعد نسلاً قیامت تک آنے والے تمام لوگ شامل ہیں مقصد بہرحال یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قیامت تک پیدا ہونے والے لوگوں کی ارواح سے یہ عہد لیا تھا۔ حدیث میں ذر کا لفظ بھی آتا ہے ذر چھوٹی سی چیونٹی کو کہتے ہیں گویا اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کی طرح نکالا اور سب سے یہ عہد لیا حدیث میں اس کو عالم ذر اور عہد ذر سے بھی تعبیر کیا گیا ہے ایک اور روایت میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی دائیں طرف سے لرواح کو نکالا اور فرمایا ھولاء للجنۃ ولا ابالی یہ لوگ جنت میں جائیں گے اور مجھے کسی چیز کی پرواہ نہیں پھر خدا وند تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی بائیں طرف سے ارواح کو نکالا اور فرمایا ھولاء فی النار ولا ابالی یہ لوگ جہنم میں جائیں گے اور مجھخے کچھ پروا نہیں۔ باقی رہی یہ بات ہ عہد الست کا واقعہ کہاں پیش آیا تو اس سلسلے میں حدیث شریف میں آتا ہے کہ مکہ معظمہ کے قریب میدان عرفات کی وادی نعمان میں یہ واقعہ پیش آیا یہ عرفات کا وہی میدان ہے جہاں بڑے بڑے واقعات رونما ہوچکے ہیں یہی وہ جگہ ہے جہاں جنت سے نکلنے کے بعد آدم (علیہ السلام) کی معافی کی دعا قبول ہوئی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی نبی آخر الزمان کی بعثت کی یہیں دعا کی جو کہ قبول ہوئی یہی وہ میدان عرفات ہے جہاں ہر سال لاکھوں حاجی جمع ہو کر فریضہ حج ادا کرتے ہیں بہرحال عدالست کا واقعہ اسی مقام میں وادی نعمان میں پیش آیا اس عہد سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا مسئلہ بھی حل ہوتا ہے عالم ارواح کے اس عمومی عہد کے علاوہ اسی دور کے ایک خاص عہد کا ذکر بھی قرآن و سنت میں آتا ہے جو صرف انبیاء کرام کی ارواح سے لیا گیا اور اسے میثاق البیین کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے سورة آل عمران میں اس عہد کا ذکر اس طرح آتا ہے واذ اخذ اللہ میثاق النبیین جب اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے عہد لیا تھا اور کہا تھا کہ میں نے کتاب معکمت سے جو تمہیں عطا کیا ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ جب میر آخری نبی تمہارے پاس آئے تو اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا۔ اس وقت کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے بنی آدم کی پشتون سے ان کی اولادوں کو نکالا واشھد ھم عنی انفسھم اور ان کو اپنی جانوں پر گواہ بناکر پوچھا الست بربکم کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عہد و پیمان پتھر کی طرح کسی بےجان چیز سے نہیں کیا تھا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت نامہ اور حکمت بالغہ کے ساتھ تمام ارواح کو فہم ، شعور اور عقل عطا فرمائی جس کی بنا پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوال کا جواب یوں دیا قالو بلیٰ کیوں نہیں مولاکریم ! بیشک تو ہی ہمارا پروردگار ہے شھدنا ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں بلیٰ حرف ایجاب ہے جو اثبات کے معنوں میں آتا ہے یعنی اے پروردگار ! تو ہی ہمارا رب ہے ہم اس بات پر گواہ ہیں۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت ربوبیت کا اقرار کروایا ہے جس کا معنی کسی چیز کو بتدریج حد کمال تک پہنچانا ہوتا ہے یہ اسی صفت کا خاصہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو پیدائش سے لے کر اپنی قدرت نامہ کے ساتھ بام عروج تک پہنچاتا ہے یعنی انشاء الشی حالاً فحالا الی حد کمال جب اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کا اقرار ہوگیا تو پھر اس کے مبدع ، خالق ، مدبر اور الٰہ ہونے کا اقرار بھی خودبخود ہوگیا۔ عدم یاداشت کا عذر اللہ تعالیٰ نے یہ عہد لینے کی وجہ بھی خود ہی بیان فرمائی ہے ان تقولوا یوم القمۃ انا کنا عن ھذا غقلین کہ قیامت کے دن تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمیں تو اس بات علم ہی نہیں تھا۔ اللہ نے تمہیں دنیا میں ایک خاص پروگرام دے کر بھیجا ہے اور ایسا نہ کرو کہ یہاں کے لوازمات میں مصروف ہو کر تم اس پروگرام کو ہی بھول جائو لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ابتداء ہی میں اپنی ربوبیت کا اقرار کرالیا کہ دنیا میں جاکر خالق ، مالک ، رب ، عالم الغیب اور قادر مطلق مجھے ہی تسلیم کرنا کسی مخلوق کو یہ مرتبہ نہ دے دینا اور پھر اس عہد کی یاد آوری کے لیے اس نے پے درپے انبیاء (علیہم السلام) کو بھیجا اور کتابیں نازل فرمائیں تمام انبیاء نے اپنی اپنی امتوں کو یہ عہد یاد دلایا اور اس پر کاربند رہنے کی تلقین فرمائی لہٰذا اب کوئی شخص اس عہد کا انکار نہیں کرسکتا باقی رہی یہ بات کہ اس دنیا میں آکر انسان کو وہ عہد یاد نہیں رہا تو یہ عذر قابل قبول نہیں ہے اور نہ اس سے اس عہد کی ذمہ داری ساقط ہوتی ہے یہ تو عالم ارواح کی بات ہے جو دوسرا جہان تھا خود اس جہاں میں آکر بھی انسان بعض چیزوں کو بھول جاتے ہیں جو ان کے ساتھ پیش آچکی ہوتی ہیں حضرت شیخ الاسلام اپنے حاشیے میں لکھتے ہیں کہ اس بات کو ہم اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ کوئی بڑے سے بڑا پروفیسر ، مقرر یا انئا پرواز ہو جس کی قابلیت کا لوگ لوہا مانتے ہوں ذرا اس سے یہ تو پوچھو کہ اس دنیا میں آکر تم نے سب سے پہلا لفظ کہاں اور کس سے سیکھا تھا حتیٰ کہ وہ لفظ کون سا تھا جو اس نے سب سے پہلے ادا کیا تھا تو وہ کچھ نہیں بتا سکے گا جب اس دنیا کا یہ حال ہے جہاں انسان اپنے اس جسم اور قویٰ کے ساتھ موجود ہے تو عالم ارواح کو بھول جانا کون سا بعید از قیاس ہے لہٰذا اس قسم کا اعتراض محض جہالت کی بنا پر ہے اور قابل قبول نہیں ہے۔ بایں ہمہ اس دنیا میں ایسے لوگوں کی مثالیں بھی موجود ہیں جنہوں نے اقرار کیا کہ عہدالست انہیں بالکل یاد ہے حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) اور صاحب لوح المعانی سید محمود الوسی بغدادی (رح) نے ایسے بزرگان کا تذکرہ کیا ہے حضرت ذوالنون مصری (رح) کے م تعلق خاص طور پر ذکر آتا ہے کہ جب ان سے اس عہدوپیمان کے متعلق دریافت کیا گیا اتذکرہ کیا آپ کو وہ عہد یاد ہے تو فرمایا ہاں مجھے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میرے کان ابھی تک اس عہد کو سن رہے ہیں بعض بزرگان دین کے متعلق یہ بھی آتا ہے کہ جب ان سے عدالست کے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے تو کل کی بات معلوم ہوتی ہے بہرحال اس عہد کی یاداشت اکثر لوگوں کے دلوں سے محو ہوچکی ہے مگر اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ضرور ہیں جنہیں اس دنیا میں آکر بھی شعور رہتا ہے۔ شاہ عبدالقادر (رح) اس کی تشریح یوں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام اولاد آدم کی ارواح کو آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکالا اور پھر ان کی پشتوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے عہد لیا جس میں اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اقرار تھا اور پھر ربوبیت کے اقرار میں بالواسطہ تمام صفات الٰہی کا مشمولہ صفت الوہیت بھی آجاتی اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کرنے میں خود ذمہ دار ہے اور اب اس کا یہ عذر قبول نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اپنے باپ کی تقلید میں شرک کا مرتکب ہوا بلکہ وہ خود ذمہ داری ہے کیونکہ عہدالست ہر فرد نے انفرادی طور پر اللہ کے ساتھ کررکھا ہے دراصل اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کا بیج ہر انسان کے قلب میں ابتداء ہی میں رکھ دیا تھا یہی وجہ ہے کہ ہر انسان اپنے اردگرد واقع دلائل قدرت کو دیکھ کر ہی اس کی وحدانیت پر ایمان لانے پر مجبور ہے اور پھر یہ بھی ہے کہ اس عہد کا تذکرہ ہر زبان پر موجود ہے آپ کسی شخص سے پوچھ کر دیکھ لیں وہ کہے گا کہ ہاں عہدالست ہوا تھا کسی فرقے اور کسی مذہب سے تعلق رکھنے والا ہو ، وہ خدا تعالیٰ کو ہر چیز کا خالق تسلیم کرے گا اور اگر کوئی اس سے انکار کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک کرتا ہے تو یہ اس کی اپنی عقل کا قصور ہے ورنہ دلائل قدرت تو اس قدر عام ہیں کہ اگر کسی شخص کے پاس کوئی نبی ، کوئی مبلغ اور کوئی پیغام نہ بھی پہنچے تو وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی خالقیت کا اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکتا اگر انکار کریگا تو عنداللہ ماخوذ ہوگا کیونکہ وحدانیت کا بیج اس کے دل میں موجود ہے جس سے اس نے فائدہ نہیں اٹھایا۔ آبائو اجداد کا بہانہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ عہد لینے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ کل کو یہ نہ کہہ سکو کہ ہمیں اس کا علم نہیں اور دوسری بات یہ ہے کہ اوتقولو انما اشرک ابائونا من قبل یا تم یہ عذر نہ پیش کردو کہ شرک تو ہمارے آبائو اجداد نے اس سے پہلے کیا تھا وکنا ذریۃ من بعدھم اور ہم تو بعد میں آنے والی ان کی اولاد ہیں شرک کا ارتکاب انہوں نے کیا غلط رسومات اور باطل اعتقادات انہوں نے ایجاد کیے ہم تو ان کی دیکھا دیکھی تمام افعال انجام دیتے رہے ہیں لہٰذا ہم پر مواخذہ نہیں ہونا چاہیے اللہ نے فرمایا کہ عذر قبول نہیں کیا جائے گا ہر بری رسم اور بدعت کا مرتکب یہی عذر پیش کرتا ہے کہ یہ کام ہماری قوم ، برادری اور آبائو اجداد کرتے آئے ہیں ان کے آبائواجداد کرتے آئے ہیں ان کی دیکھا دیکھی ہم بھی کر رہے ہیں ہم بھی اسی راستے پر چل رہے ہیں فرمایا ہر شخص عہدالست کا خود ذمہ دار ہے عقیدہ توحید انسان کی فطرت میں داخل ہے لہٰذا ہر شخص کی فطرت سلیمہ کا تقاضا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید کو تسلیم کرے جس انسان تک اسلام کے احکام منجملہ نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ وغیرہ نہیں پہنچے اور اس نے یہ فرائض انجام نہیں دیے اس کو تو معافی مل سکتی ہے مگر عقیدہ توحید چونکہ انسان کی نیچر میں داخل ہے۔ اگر اس کے خلاف کرے گا تو پکڑا جائے گا۔ فرمایا عہد الست کی یاد دہانی اسی لیے کرائی ہے تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہماری بداعمالی کے ذمہ دار ہمارے آبائو اجداد ہیں اور یہ سوال بھی پیش نہ کرسکو افتھلکنا بما فعل المبطون کہ اے اللہ ! کیا تو ہمیں باطل پرستوں کی وجہ سے ہلاک کرے گا یعنی باطل پرست تو ہمارے باپ دادا تھے اور ان کے جرم کی پاداش میں ہمیں کیوں سزا دی جارہی ہے فرمایا اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو کہ تمہارے بداعمال کے ذمہ دار تمہارے آبائو اجداد نہیں بلکہ تم خود ہو یہ بات ہم نے واضح کردی ہے کہ عہدالست ہر شخص نے کررکھا ہے اور وہ خود اس کا ذمہ دار ہے۔ دلائل قدرت کا ظہور فرمایا وکذلک تفصل الایت اور اسی طرح ہم اپنی آیات کو تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہیں آیات کا اطلاق احکام ، دلائل اور معجزات سب پر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے تمام احکام متعلقہ حکومت ، حرمت ، ادامرونواہی اور جائز ناجائز تفصیل کے ساتھ اپنے انبیاء اور کتب کے ذریعے نازل فرما دیئے ہیں اپنی وحدانیت خلقیت اور ربوبیت کے تمام دلائل بھی انسان کے اردگرد بکھیر دیے ہیں زمین ، آسمان ، چاند ، سورج ، رات ، دن ، گرمی ، سردی ، بارش اور ہوا وغیرہ سب کے سب اس کی قدرت کے دلائل ہیں جن سے کوئی بھی انسان صرف نظر نہیں کرسکتا پھر انسان کی مزید تسلیم کے لیے اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ہاتھوں پر مختلف معجزات کا اظہار فرمایا بعض معجزات تو ایسے بھی تھے جنہیں امتوں نے خود طلب کیا مگر ان کی اکثریت پھر بھی ایمان نہ لائی اور بعض معجزات ایسے تھے جو اہل ایمان کی تقویت کا باعث بنے تو فرمایا اسی طرح ہم اپنی نشانیوں کو کھول کر بیان کرتے ہیں ولعلھم یرجعون اور تاکہ یہ لوگ لوٹ کر آجائیں یعنی کفر ، شرک اور معصیت کو ترک کرکے حقیقت کی طرف واپس آجائیں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بھی ان ک یعہد و پیمان یاد دلائے انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعے ان کو خبردار کیا اور اصل دین کی طرف رجوع کرنے کی وصیت کی اور تمام بنی نوع انسان کو خبردار کیا کہ تم نے اللہ سے پختہ عہد کررکھا ہے جس کے گواہ موجود ہیں خود انسان کا اپنا ضمیر ، دل اور فطرت اس بات پر گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے اس کے سوا کوئی رب اور معبود نہیں اس کے باوجود ہر شخص کفر اور شرک میں مبتلا ہوگا وہ قیامت کو پکڑا جائے گا اور اس دن اس کا کوئی عذر قبول نہیں ہوگا۔
Ayahs 7:175–178

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 7:175 in the Quran reader

(اے پیغمبر ! ) اور آپ پڑھ کر سنائیں ان لوگوں کو خبر اس شخص کی جس کو دی تھی ہم نے اپنی آیتیں ، پس وہ ان آیتوں سے نکل گیا اور اس کا پیچھا کیا شیطان نے ، پس ہوگیا وہ گمراہوں میں سے

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 7:176 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو البتہ اس کو بلند کرتے ان آیتوں کی بدولت لیکن وہ تو جھک گیا زمین کی طرف اور پیروی کی اس نے اپنی خواہش کی ، پس اس کی مثال کتے جیسی ہے کہ اگر تو اس پر حملہ کرے (ڈانٹ پلائے) تو وہ ہانپتا ہے یا اگر چھوڑ دے اس کو ، تب بھی ہانپتا ہے۔ یہ ہے مثال ان لوگوں کی جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو پس آپ بیان کردیں حالات تاکہ یہ لوگ غور و فکر کریں ۔

سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:177 in the Quran reader

بری ہے مثال اس قوم کی جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور جو اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے تھے

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:178 in the Quran reader

جس کو اللہ تعالیٰ ہدایت دے ، پس وہی ہدایت پانے والا ہے ، اور جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کرے ، پس یہی لوگ ہیں نقصان اٹھانے والے

ربط آیات گزشتہ آیات میں عہدو پیمان کا تذکرہ ہوچکا ہے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس خاص عہد کا ذکر کیا جو بنی اسرائیل سے اس بات پر لیا گیا تھا کہ وہ اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑیں گے اور اس پر عمل کریں گے اس کے بعد عہد عمومی کا ذکر تھا جو عالم ارواح میں تمام بنی نوع انسان سے لیا گیا اور جس میں انہوں نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت عامہ کا اقرار کیا اس عہد کا بیج ہر انسان کے قلب میں موجود ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، اس کی ربوبیت اور اس کی خالقیت کو ماننا انسان کی فطرت میں داخل ہے اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے عہد و پیمان کو توڑنے والے لوگوں کے حال اور برے انجام کا ذکر کیا ہے اور اسے ایک مثال کے ذریعے سمجھایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے واتل علیھم نباالذی اتینہ ایتنا اے پیغمبر ! آپ ان کو پڑھ کر سنائیں اس شخص کی خبر جسے ہم نے اپنی آیتیں دی تھیں وہ شخص کون تھا اور کس امت سے تعلق رکھتا تھا اس سلسلے میں تین اشخاص کے نام تفاسیر میں ملتے ہیں ان میں سے پہلا شخص بلعم بن باعور ہے جس کا تعلق بنی اسرائیل سے ہے اور دو اشخاص ابوعار صیفی اور امیہ بن ابی صلت جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں ہوئے ہیں۔ بملع بن باعور اکثر مفسرین جن میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ، عبداللہ بن مسعود ؓ اور مجاہد (رح) شامل ہیں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں جس شخص کا ذکر کیا ہے اور پھر اس کی مثال بیان فرمائی ہے روہ بنی اسرائیل یاکنعانی قوم سے تعلق رکھتا تھا اور تورات میں اس کا نام بلعام یا بلعم ابن باعور مذکور ہے نام کے تلفظ میں قدرے فرق زبان کے ادل بدل سے واقع ہوجاتا ہے جیسے عربی میں ابراہیم ہے اور عبرانی زبان میں اسے ابراہام کہتے ہیں بلعام اور بلعم میں بھی غالباط اسی قسم کا تفادت پایا جاتا ہے بہرحال یہ شخص اپنے زمانے میں نہایت نیک ، عبادت گزار اور صاحب کرامت آدمی تھا اس کی مشہور کرامت یہ تھی کہ یہ مستجاب الدعوٰۃ تھا اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول کرتا تھا اور لوگ اپنی حاجات میں اس سے دعائیں کراتے تھے جب موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر اس علاقے میں پہنچے جہاں یہ شخص رہتا تھا تو وہاں کا بادشاہ خوفزدہ ہوگیا کہ کہیں بنی اسرائیل ان پر حملہ آور ہو کر انہیں مغلوب نہ کرلیں اس نے بلعم بن باعور کو بلا بھیجا کہ یہاں آکر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف دعا کرے تاکہ وہ کامیاب نہ ہوسکیں وہ شخص جانتا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے رسول ہیں اور ان کے مقابلے میں بددعا کرنا لعنتیوں کا کام ہے لہٰذا اس شخص نے ایسا کرنے سے انکار کردیا اب بادشاہ نے دوسرا راستہ اختیار کیا اور بلعم بن باعور کو پیسے اور عورت کا لالچ دیا تو وہ بددعا کرنے پر آمادہ ہوگیا۔ دنیا میں اکثر یہی دو چیزیں ایمان کو ضائع کرنے والی ہیں انگریز نے یہی حربہ اختیار کرکے بہت سے لوگوں کے ایمان کو خراب کیا مرزائیوں نے بھی نوکری اور چھوکری کا لالچ دے کر بہت سے مسلمانوں کو مرزائی بنالیا سرطفر اللہ جب اسمبلی کا ممبر اور ریلوے کا وزیر تھا تو اس نے لوگوں کو نوکری دے کر ان کے ایمان پر ڈاکہ ڈالا بلکہ عورتیں دے کر بھی مرزائی بنایا دنیا میں ایسے لوگ ہمیشہ موجود رہے ہیں جن کا باطن گندا ہوتا ہے اور وہ لالچ میں آکر ایمان بھی فروخت کردیتے ہیں۔ بہرحال بلعم بن باعور بھی لالچ میں آگیا اس نے موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے خلاف بددعا کے لیے پہاڑی پر کھڑا ہو کر ہاتھ پھیلا دیے مگر اللہ تعالیٰ نے اس کا سارا کمال سلب کرلیا اور اس کے منہ لے الٹے الفاظ نکلنے لگے وہ شخص موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے بد دعا کہنا چاہتا تو اس کے منہ سے دعائیہ الفاظ ادا ہوتے پھر اللہ تعالیٰ نے اسے یہ سزا دی کہ اس کی زبان کتے کی طرح لٹک گئی تو اللہ تعالیٰ نے یہ مثال بیان فرما کر نہ صرف بنی اسرائیل کو وعید سنائی ہے بلکہ اس آخری امت کے لوگوں کو بھی بات سمجھائی ہے کہ عہدوپیمان توڑنے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے۔ ابوعامر صیفی دوسرا شخص جو ان آیات کا مصداق سمجھا جاتا ہے وہ مدینہ کا رہنے والا ابو عامر صیفی تھا یہ بڑا عبادت گزار اور راہب تھا ٹاٹ پہنتا تھا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حق کا متلاشی ہے یہی وہ شخص ہے جس کے کہنے پر منافقین نے مسجد ضرار تعمیر کی تھی اس کا مقصد یہ تھا کہ جب وہ مدینہ طیبہ میں آئے تو کسی کے گھر میں ٹھہرنے کی بجائے مسجد میں ٹھہرے اللہ نے اس مسجد کو گرانے کا حکم دیا مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جنگ احد میں یہ کفار کے ساتھ تھا اور اس نے میدان جنگ میں بہت سے گڑھے بھی کھدوائے تھے تاکہ مسلمان ان میں گر کر نقصان اٹھائیں چناچہ خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی ایک گڑھے میں گر گئے اور آپ کو بڑی چوٹیں آئی تھیں یہ شخص پیغمبر اسلام اور مسلمانوں سے سخت بغض رکھتا تھا البتہ اس کا بیٹا عبدالرحمان ؓ بڑا مخلص اور کامل الایمان صحابی تھا۔ امیہ ابن ابی صلت بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ان آیات کا مصداق قبیلہ تصیف کا امیہ ابن ابی صلت تھا یہ بہت بڑا شاعر اور جہاں گشت آدمی تھا یہ روم اور شام وغیرہ کے علاقوں میں گھومتا رہا ، تورات اور انجیل پڑھ چکا تھا اور سچے مذہب کا متلاشی تھا مگر جب حضور ﷺ کی بعثت ہوئی تو حسد کی آگ میں جل گیا یہ خود نبوت کا خواہشمند تھا لہٰذا حضور ﷺ کا سخت مخالف ہوگیا جنگ بدر کے واقعہ تک اس شخص کی اسلام دشمنی بہت بڑھ گئی جنگ بدر میں امہ الکفر مارے گئے تو کہنے لگا اگر محمد ﷺ سچے بنی ہوتے تو اپنی قوم کے خلاف کیوں صف آرا ہوتے اور ان کو کیوں قتل کرتے اس نے بدر کے کافروں کا مرثیہ بھی لکھا تھا۔ یہ مختلف آراء ہیں تاہم مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور عبداللہ بن مسعود ؓ اس مثال کا مصداق ملعم بن باعور کو مانتے ہیں اس نے خدا کے عہدو پیمان کو توڑا اور لالچ میں آکر اہل ایمان کے واسطے بددعا کرنے کی کوشش کی مگر اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا پھر اس دنیا میں بھی ذلت کی زندگی بسر کی اور آخرت میں بھی دائمی عذاب کا مستحق ہوا۔ آیات الٰہی سے انسلاخ فرمایا ان کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنائیں جسے ہم نے بڑی بزرگی عطا کی تھی اور مستجاب الدعوات بنایا تھا فانسلخ منھا مگر وہ ان آیات سے باہر نکل گیا یعنی ہمارے انعامات سے مستقلاً مستفید نہ ہوسکا انسلاخ کا معنی کسی چیز سے نکل جانا ہے کسی کی کھال کھینچ لی جائے تو و انسلاخ کہلاتا ہے سانپ جب اپنی کینچلی اتارتا ہے تو اس کو بھی انسلاخ کہتے ہیں مقصد یہ ہے کہ جس شخص کو ہم نے کرامات عطا کی تھیں وہ ان سے باہر نکل گیا اس انعام کو اپنے اوپر قائم نہ رکھ سکا اس کا نتیجہ یہ ہوا فاتبعہ الشیطن پس شیطان نے اس کا پیچھا کیا فکان من الغوین پس ہوگیا وہ گمراہوں میں سے اس کو بھی شیطان سے مماثلت ہوگئی شیطان نے بھی بڑی عبادت و ریاضت کی تھی مگر حکم عدولی کی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا اسی طرح یہ شخص بھی بڑا عابد و زاہد تھا صاحب کرامت اور مستجاب الدعوات تھا مگر لالچ میں آکر سب کچھ گنوا بیٹھا امام ابن کثیر (رح) نے لکھا ہے کہ بنی اسرائیل میں برصیصا نامی راہب تھا جس نے چار سو سال تک عبادت کی مگر وہ بھی لالچ میں آکر گمراہ ہوا اور اس کا خاتمہ کفر پر ہوا بلعم بن باعور بھی شیطان کے بہکاوے میں آگیا شیطان جب دیکھتا ہے کہ کوئی شخص اصل راستے سے پھسل رہا ہے تو اس کے ساتھ چمٹ جاتا ہے یہاں تک کہ اسے اپنا ساتھی بناکر جہنم کی رفاقت حاصل کرلیتا ہے۔ فرمایا ولوشینا لرفعنہ بھا اور اگر ہم چاہتے تو اس شخص کو اپنی آیات کی بدولت بلندی تک پہنچاتے بعض فرماتے ہیں کہ وہ شخص اسم اعظم جانتا تھا جس کی وجہ سے مستجاب الدعوات تھا مگر خدا کا قانون یہ ہے کہ ترقی اور بلندی اس کو حاصل ہوتی ہے جو حق وصداقت پر قائم رہتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے ولکنہ اخلد الی الارض مگر وہ شخص زمین کی طرف جھک گیا زمین سے مراد مادی مفاد ہے یعنی وہ حقیر دنیا ، پیسے اور عورت کی طرف جھک گیا……… اللہ کے عظیم انعامات کے بدلے ان حقیر چیزوں کو پسند کیا ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی ساری پارسائی واپس لے لی اب نہ اس کے پاس کوئی کرامت باقی رہی اور نہ ہی وہ مستجاب الدعوات باقی رہا اللہ نے اس کی تمام اچھایاں سلب کرلیں اور وہ ذلیل و خوار ہو کر رہ گیا وہ آیات ا لٰہی پر عمل کرنے کی بجائے واتبع ھوہہ خواہش نفسانی کے پیچھے لگ گیا گویا اس نے ایسا راستہ اختیار کیا جو انسان کو بلندی کی بجائے پستی کی طرف لے جاتا ہے۔ کتے کی مثال اللہ تعالیٰ نے شخص کی کی بہت بری مثال بیان فرمائی ہے ارشاد ہوتا ہے فمثلہ کمثل الکب اس کی مثال کتے جیسی ہے ان تحمل علیہ یلھث اگر تم اس کو ڈانٹ پلا دو تو ہانپتا ہے اوتتر کہ یلھث یا اگر چھوڑ دو پھر بھی ہانپتا ہے تحمل کے کئی معنی آتے ہیں یعنی کوئی چیز لادنا ، حملہ کرنا یا ڈانٹ پلانا ، مقصد یہ ہے کہ کتا ہمیشہ ہانپتا رہتا ہے خواہ اسے کوئی تکلیف پہنچے یا نہ پہنچے دراصل کتے میں دو خصلتیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے وہ ہمیشہ بےچین رہتا ہے اور ہانپتا رہتا ہے ان میں سے ایک حرص ہے اور دوسری شہوت پرستی ، اس کی حرص اور لالچ اس بات سے عیاں ہے کہ ہر چیز کو سونگھتا پھرتا ہے اور شہوت پرستی کی مثال یہ ہے کہ ایک ایک مادہ کے پیچھے کئی کئی نر پڑے رہتے ہیں ان دونوں بری خصلتوں کی وجہ سے کتے کے جسم میں ایک قسم کی گرمی پیدا ہوتی ہے جس کی وجہ سے یہ ہمیشہ ہانپتا رہتا ہے اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ کتا ہمیشہ ہانپتا رہتا ہے خواہ ڈانٹ پلائی جائے یا چھوڑ دیا جائے۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ کتے کو شیطان کے ساتھ بڑی مناسبت ہے یہی وجہ ہے اس کے متعلق بڑے سخت احکام دیئے گئے ہیں فرمایا گر کتا کسی برین میں منہ ڈال دے تو برتن کو سات دفعہ دھونا ضروری ہوجاتا ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت کے مطابق ایسے برتن کو ایک دفعہ مٹی سے مانجھنا چاہیے اور تین دفعہ پانی سے دھویا جائے تو پاک ہوگا اس کے لعب میں ایسے جراثیم ہوتے ہیں جو صابن کے ساتھ دھونے سے ضائع نہیں ہوتے لہٰذا برتن میں مٹی مارنا ضروری ہوجاتا ہے کتے کو قتل کرنے کا حکم بھی ہے تاکہ لوگ اس سے زیادہ محبت نہ کریں اس کو شوقیہ طور پر پالنے کی اجازت نہیں البتہ گھر ، کھیت یا باغ کی حفاظت کے لیے یا شکار کے لیے کتے کو پالا جاسکتا ہے فرمایا جو شخص بلا ضرورت کتا پالے گا اس کی نیکیاں ہر دن میں ایک قیراط یا دو قیراط کے برابر کم ہوتی رہیں گی قدیم زمانے میں عرب کے لوگ بھی کتوں سے محبت کرتے تھے اسی لیے اس کو سخت نجس جانور قرار دیا گیا ہے آج کل انگریز لوگ اس سے بڑی محبت کرتے ہیں اس کی پرورش کرتے ہیں حتیٰ کہ بسکٹ ، ڈبل روٹی اور مکھن بھی کھلاتے ہیں جب کہ اسلام نے اس سے نفرت کی تلقین کی ہے۔ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے مسلمانوں کو یہ بات سمجھائی اور فرمایا لیس لنا مثل السوء ہم اہل اسلام کی بری مثال نہیں ہونی چاہیے فرمایا العابد فی ھبتہ کا لکب یعود فی قیمہ یعنی جو شخص کوئی چیز ہبہ کرکے پھر واپس لیتا ہے اس کی مثال کتے کی ہے جو قے کرکے خود ہی چاٹ لیتا ہے یہ بری خصلت اس میں شدید حرص کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے ۔ فرمایا ہماری مثال کتے جیسی نہیں ہونی چاہیے ایماندار کو لالچی نہیں ہونا چاہیے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں یہودیوں کی مثال گدھے کے ساتھ دی ہے سورة جمعہ میں ہے ” مثل الذین حملوا التورۃ ثم لم یحملوھا کمثل الحمار یحمل اسفاراً “ یعنی جن لوگوں کو تورات دی گئی اور انہوں نے اس پر عمل نہ کیا ان کی مثال گدھے کی ہے جس پر کتابوں کا گٹھا لدھا ہوا ہو پیٹھ پر کتابیں لانے سے گدھا عالم فاضل نہیں بن سکتا اسی لیے یہودی بھی تورات کے علوم و فیوض سے اسی طرح محروم ہیں جس طرح ایک گدھا محروم ہے مگر اس سے بھی بدترین مثال کتے کی ہے جو اللہ نے بیان فرمائی ہے کہ جو شخص دنیا کی حرص یا عورت کی خاطر حق سے نہ موڑ لیتا ہے وہ اس کتے کی طرح ہے جو ہر وقت حرص اور شہوت پرستی کی وجہ سے ہانپتا رہتا ہے۔ علمائے سوء کے لیے زجر صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ امام طیبی (رح) بیان کرتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں علمائے سوء کے لیے سخت زجر ہے علمائے حق تو کسی لالچ میں نہیں آتے مگر علمائے سوء سخت ملعون ہیں جو غلط بیانی کرتے ہیں ، غلط فتویٰ دیتے ہیں اور بڑے آدمیوں کی خوشامد کرتے ہیں ایسے لوگ خود بھی حق پر عمل نہیں کرتے اور دوسروں کو بھی حق بات سے روکتے ہیں یہ ایسے ہی علماء کے فتنے ہیں کہ کہیں قبرپستی ہورہی ہے اور کہیں رسم و رواج کی آبیاری ہورہی ہے علمائے سوء نہیں چاہتے کہ عوام الناس قرآن و سنت کے پروگرام کو سمجھیں لہٰذا یہ انہیں بدعات میں پھنسائے رکھتے ہیں کبھی میلاد مناتے ہیں کبھی جھنڈیاں لگاتے ہیں روشنی کا اہتمام کرتے ہیں نعت خوانی ، قوالی اور غزل گوئی میں لوگوں کو الجھائے رکھتے ہیں ان کی مثال بھی بلعم بن باعور جیسی ہے جو دنیا کے حقیر مال کی خاطر حق بات کو چھپاتے ہیں حضرت مولانا ابو الکلام آزاد مرحوم نے اپنے تذکرہ میں ایک فقرہ لکھا ہے کہ غلاظت پر بیٹھنے والی مکھی ان علمائے سو سے ہزار درجہ بہتر ہے جو لوگوں کو حق کے قریب نہیں آنے دیتے اور اہل باطل کا راستہ بتلاتے ہیں ایسے لوگ امیروں ، وزیروں اور بادشاہوں کا تقرب اور خوشنودی حاصل کرنے کے لیے مسائل کو تبدیل کردیتے ہیں اور حق کے راستے میں رکاوٹ کا ذریعہ بنتے ہیں۔ مقام غور و فکر فرمایا ذلک مثل القوم الذین کذبو بایتنا یہ ان لوگوں کی مثال ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلا دیا یہ تکذیب قول سے بھی ہوتی ہے اور عمل سے بھی۔ آج کل کے مسلمان اکثر امور میں قرآن پاک کی عملی تکذیب کر رہے ہیں قرآن کے خلاف عمل کرنا اس کی تکذیب کے مترادف ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، اے پیغمبر ! فاقصص القصص آپ یہ حالات و واقعات لوگوں کے سامنے بیان کردیں لعلھم یتفکرون تاکہ یہ غور و فکریں اور سوچیں کہ خدا تعالیٰ کے عہدو پیمان کو توڑ کر کس قدر ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے بلعم بن باعور ، امیہ ابن ابی صلت اور راہب ابو عامر صیفی کا انجام ہمیشہ پیش نظر رہنا چاہیے۔ ارشاد ہوتا ہے ساء مثلاً ن القوم الذین کذبو بایتنا ان لوگوں کی بری مثال ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے ایسے لوگوں کو کتے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جو سب سے بری مثال ہے ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا وانفسھم کانوا یظلمون وہ اپنی جانوں پر ہی ظلم کرتے تھے یعنی اپنا ہی برا کرتے تھے اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے کیونکہ وہ تو بےنیاز ہے اسے کچھ پروا نہیں نقصان بلعم بن باعور ہی کا ہوگا یا اس سے ملتے جلتے علمائے سو نقصان اٹھائیں گے۔ ہدایت خدا وندی فرمایا ، یاد رکھو ! من یھد اللہ فھوالمھتدی ہدایت وہی شخص پاتا ہے جس کو اللہ ہدایت عطا کرتا ہے لہٰذا ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ہدایت طلب کرنی چاہیے اور گمراہی سے بچنا چاہیے ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ کلکم ضال الامن ھدیتہ فاستھدونی اھد کم اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم سب بھٹکے ہوئے ہو مگر وہ جسے میں ہدایت دوں لہٰذا ہدایت مجھ ہی سے طلب کیا کرو میں تمہیں راہ راست پر چلائوں گا نماز کی ہر رکعت میں بھی یہ بات سکھلائی گئی ہے ” اھدنا الصراط المستقیم “ اے مولا کریم ! ہمیں ہر معاملہ میں راہ راست ہی دکھا کیونکہ راہ وہی پاتا ہے جسے اللہ راہ دکھا دے اور جو شخص حق کی مخالفت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے لازمی طور پر گمراہ کردے گا پھر یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو بلا وجہ گمراہ نہیں کرتا ان کی گمراہی ان کی استعداد پر موقوف ہوتی ہے جو لوگ حق کی مخالفت کریں گے وہ گمراہی میں پڑیں گے اور جو ہدایت کی طرف آنا چاہیں گے انہیں ہدایت نصیب ہوجائے گی یہاں پر بھی یہ بات فرمائی ہے کہ جس کو اللہ راہ دکھا دے وہی راہ پانے والا ہے ومن یضلل اور جس کو اللہ گمراہ کردے فاولیک ھم الخسرون پس یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں یہ لوگ ناکام ہوں گے اور ابدی نقصان میں رہیں گے جو شخص دنیا سے گمراہی کا سامان لے کر جائے گا وہ ہمیشہ کے لیے ناکام ہوجائے گا۔
Ayah 7:179

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

اور البتہ تحقیق پیدا کئے ہم نے جہنم کے لئے بہت سے جنوں میں سے اور انسانوں میں سے ۔ ان کے لئے دل ہیں کہ نہیں سمجھتے ان کے ساتھ اور ان کے لئے آنکھیں ہیں کہ نہیں دیکھتے ان کے ساتھ اور ان کے لئے کان ہیں نہیں سنتے ان کے ساتھ ، یہ لوگ ہیں جانوروں کی طر ح بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ یہی لوگ ہیں غافل۔

جن و انس کی تخلیق اللہ تعالیٰ نے گزشتہ دروس کی آیات میں عہد خاص و عام کا ذکر کیا اور پھر اس عہد و پیمان کو توڑنے والوں کی مذمت کی اور ان کا انجام بھی بیان فرمایا اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کی گمراہی اور ان کے جہنم میں جانے کا ذکر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے ولقد ذرانا اور البتہ تحقیق ہم نے پیدا کیے ذرا کا لفظی معنی بکھیرنا اور مراد پیدا کرنا ہوتا ہے جیسے دوسری جگہ فرمایا ” ھوالذی ذراکم فی الارض والیہ تحشرون (الملک) وہی ذات ہے جس نے تمہیں زمین میں بکھیرا اور پھر تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تو گویا ذرا کا معنی پیدا کرنا ، بکھیرنا اور پھیلانا ہے اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا پھر اس کی نسل کو زمین میں بکھیر دیا اور ان سے آگے نسل انسانی کو پھیلایا تو البتہ تحقیق ہم نے پیدا کیے ہیں لجھنم جہنم کے لیے کثیراً من الجن والانس بہت سے لوگ جنوں میں سے بھی اور انسانوں میں سے بھی۔ ایک اشکال اس ٹکڑا آیت سے یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے محض جہنم رسیدگی کے لیے جنوں اور انسانوں کو کثیر تعداد میں پیدا کیا ؟ ایسا نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے مقصد تخلیق جن و انس کو اس طرح بیان فرمایا ہے ” وما خلقت الجن والانس الالیعبدون “ (الذاریات) میں نے جنوں اور انسانوں کو نہیں پیدا کیا مگر اپنی عبادت کے لیے گویا جنوں اور انسانوں کی پیدائش کا مقصد معرفت الٰہی اور عبادت الٰہی ہے مگر آیت زیر درس سے مترشح ہوتا ہے کہ جنوں اور انسانوں کی تخلیق کا مقصد ان کو جہنم میں ڈالنا ہے مفسرین کرام نے اس اشکال کو اس طرح دور کیا ہے کہ مقصد تخلیق تو اللہ کی پہچان اور ان کی عبادت ہی ہے مگر جب لوگ اپنے مرکز سے ہٹ جاتے ہیں اور مقصد تخلیق کو پورا نہیں کرتے تو پھر اس کا نتیجہ جہنم کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔ اس بات کو اس طرح بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ لجھنم کالام ابتداء کے لیے نہیں بلکہ غائت کے لیے آیا ہے یعنی مقصد جہنم نہیں بلکہ اس کی غائت یا انتہا جہنم ہے اس کی مثال سورة قصص میں موجود ہے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے آپ کو پانی میں بہادیا ” فالتقطہ ال فرعون “ پس اٹھا لیا اس بچے کو آل فرعون نے لیکون لھم عدواً حزناً تاکہ ہوجائے وہ ان کے لیے دشمن اور باعث غم ، لیکون کالام بھی اسی قسم کا ہے بچے کو اٹھانے کا بنیادی مقصد یہ نہیں تھا کہ وہ ان کے لیے باعث مصیبت بن جائے بلکہ ان کا مقصد تو یہ تھا عسیٰ ان ینفعنا او نتخذہ ولداً شاید یہ ہمیں فائدہ دے یا ہم اسے بیٹا بنالیں مگر اس کی انتہا یہ ہوئی کہ وہ فرعونیوں کا دشمن اور ان کے لیے باعث غم ثابت ہوا ظاہر ہے کہ فرعون اور اس کی قوم کا زوال اس بچے کی وجہ سے آیا جسے انہوں نے دریا سے اٹھا لیا تھا۔ بہرحال اس آیت کریمہ کا مطلب یہی ہے کہ ہم نے بہت سے جنوں اور انسانوں کو پیدا کیا جن کی انتہا جہنم میں پہنچنا ہوگا۔ اس قسم کے طرز کلام کی مثالیں عربی ادب میں بھی ملتی ہیں مثلاً عرب کہتے ہیں ؎ فلا تحزنی اوس فانہ لموت ماغذت الوالدۃ اے ام ادس ! تو غم نہ کر کیونکہ ماں اپنے بچے کو موت ہی کے لیے غذا دیتی ہے یعنی کھلاتی پلاتی اور پرورش کرتی ہے۔ اگرچہ ماں بچے کو موت کے لیے نہیں پالتی مگر اس کی غایت یہی ہے کہ بالآخر ہر پیدا ہونے والا موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے ایک اور عربی شاعر کہتا ہے ؎ لتا ملک ینادی کل یوم لدو للموت وایتو اللحزاب ہمارے لیے ہر روز فرشتہ آواز دیتا ہے کہ اے انسانو ! اولاد موت کے لیے جنو اور عمارتیں بربادی کے لیے تعمیر کرو ، مقصد یہ کہ جننے کا نتیجہ موت ہے اور تعمیر کا نتیجہ ویرانی۔ جنوں اور انسانوں کی اکثریت کی جہنم میں جانے کی تاویل اللہ تعالیٰ کے علم کی بنیاد پر بھی ہوسکتی ہے یعنی یہ بات اللہ تعالیٰ کے قطعی علم میں ہے کہ جن و انس کی اکثریت جہنم میں جائے گی چناچہ حدیث شریف کے الفاظ اس طرح ہیں کہ اللہ نے پیدا کیا مخلوق کو حالانکہ وہ اپنے آبائو اجداد کی پشت میں ہے لیکن ہیں وہ جہنمی ، نیز فرمایا کہ پیدا کیا اللہ نے مخلوق کو حالانکہ وہ اپنے آبائو اجداد کی پشت میں ہیں لیکن ہیں وہ جنتی ، مقصد یہ کہ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے متعلق خوب جانتا ہے کہ فلاں وقت وہ اپنے اختیار سے کفر کرے گا اور جہنم کا مستحق ہوگا جیسا کہ حضور ﷺ نے تقدیر کا مسئلہ سمجھانے کے لیے فرمایا ، یاد رکھو ! کہ جہنم میں جانے والے کا آخری عمل ایسا ہوگا جسے انجام دے کر وہ جہنم میں چلا جائے گا اور جنت میں جانے والے کا آخری عمل ایسا ہوگا جسے انجام دے کر وہ جنت میں داخل ہوگا یہ اللہ تعالیٰ کے ازلی علم میں موجود ہے اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جنوں اور انسانوں کی اکثریت کو جہنم کے لیے پیدا کیا۔ آگے اللہ تعالیٰ نے انسان کے جہنمی ہونے کے لیے اس کے تین اجزائے جسم کا ذکر فرمایا ہے یعنی دل ، آنکھیں اور کان جو لوگ اللہ کی عطا کردہ ان نعمتوں سے کماحقہ مستفید نہیں ہوتے وہی جہنم کے مستحق بنتے ہیں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ وہ بلا وجہ کسی کو سزا میں مبتلا نہیں کرتا ، اسے پورا پورا اختیار دیا جاتا ہے اور پھر عمل کے لیے میدان مہیا کیا جاتا ہے حضور علیہ اصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے کل میس لما خلق لہ ہر ایک کو اس چیز کی توفیق ملتی ہے جس چیز کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے یہاں تک کہ اس کا خاتمہ اس کے آخری عمل کے مطابق کردیا جاتا ہے ظاہر ہے کہ جو شخص دل ، آنکھ اور کان کو صحیح طور پر بروئے کار نہیں لائے گا وہ نہ تو ان سے مستفید ہوسکے گا اور نہ ہی کامیاب ہوگا بلکہ ایسا شخص جہنم کا حقدار ہوگا۔ دل اور اس کی کارکردگی ارشاد ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو جہنم کے لیے پیدا کیا گیا ہے لھم قلوب لا یفقھون بھا ان کے لیے دل ہیں مگر ان کے ساتھ سمجھتے نہیں یہ پہلی دیل ہے ان کے جہنمی ہونے کی کہ اللہ نے انہیں دل جیسی دولت عطا فرمائی ہے لیکن وہ اس سے کام ہی نہیں لیتے سورة انفال میں ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا ان شرالدواب عنداللہ اصلم البکم الذین یایعقلون یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین جانور بہرے گونگے ہیں جو کچھ نہیں سمجھتے اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل جیسا جو ہر عطا کیا ہے مگر وہ اس سے کام ہی نہیں لیتے امام بیضادی (رح) قلب کے متعلق لکھت ہیں ھوالعقل کہ اس سے مراد عقل ہے گویا قلب ، فواد اور عقل قریب المعنی الفاظ ہیں پھر ان کا آپس میں ربط ہوتا ہے اطبا کہتے ہیں کہ ادراک کا تعلق دماغ کے ساتھ ہوتا ہے اور بعض یہ تعلق دل کے کے ساتھ مانتے ہیں گویا ادراک اور سمجھ وغیرہ کا تعلق دل کے ساتھ ہوتا ہے انسانی جسم کے اعضا دل ، دماغ اور جگر اعضائے رئیسہ کہلاتے ہیں ان میں سے اگر ایک جزو بھی ناکام ہوجائے تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا اللہ تعالیٰ نے انسان کے جسم میں جگر کی صورت میں بہت بڑی فیکٹری لگادی ہے جو خوراک خون میں تبدیل کرتی ہے انسان جو بھی خوراک کھاتا ہے وہ معدے میں پہنچتی ہے وہاں سے باریک نالیوں کے ذریعے جگر میں جاتی ہے جو اسے خون میں تبدیل کرتا ہے خون میں انسانی غذا کے جملہ اجزاء موجود ہوتے ہیں جگر اس خون کو نالیوں کے ذریعے قلب تک پہنچاتا ہے اور پھر قلب اس کو پورے جسم میں پھیلاتا ہے ایک منٹ میں دل بہتر مرتبہ حرکت کرتا ہے اور باریک ترین نالیوں کے ذریعے خون کو ہر حصہ جسم تک پہنچاتا ہے اس طرح جسم کا ہر عضو اپنی ضرورت کی غذا خون سے حاصل کرتا ہے دماغ ، ہڈیوں اور بالوں وغیرہ کو مختلف قسم کی غذا کی ضرورت ہوتی ہے ہر عضو مطلوبہ غذا لے لیتا ہے اور باقی کو دوسروں کے لیے چھوڑ دیتا ہے اور اس طرح جو فضلہ بن جاتا ہے وہ نالیوں کے ذریعے دوسرے راستوں سے خارج ہوجاتا ہے اسی طرح کاربن ڈائی آکسائیڈ انسانی جسم سے باہر نکل جاتی ہے جبکہ آکسیجن دوبارہ اندر داخل ہوتی ہے اگر انسانی جسم میں قلب موجود نہ ہو تو انسان کا خون دورہ نہ کرسکے اور نہ ہی جسم کے حص میں خوراک پہنچائی جاسکے اسی لیے جب انسان کا ہارٹ فیل ہکوجاتا ہے تو انسان کا خاتمہ ہوجاتا ہے قلب اور انسانی جسم کے نظام کو دماغی اعصاب کنٹرول کرتے ہیں دماغ کو باریک باریک شاخیں سارے جسم میں پھیلی ہوئی ہیں یہ اعضائے رئیسہ کہلاتے ہیں۔ اطبا کے نزدیک تو قلب کی کارکردگی اسی قدر ہے۔ مگر دراصل قلب ایک بہت بڑی حقیقت ہے اور یہ ایسی چیزوں کا حامل ہے جو بظاہر نظر نہیں آتیں اہل حق جن کی باطنی نگاہ اور تجربہ بہت وسیع ہوتا ہے وہ قلب کی اصلیت کو خوب سمجھتے ہیں محبت ، نفرت ، خوف ، رجیٰ اور اقدام کے تمام جذبات کا تعلق قلب کے ساتھ ہوتا ہے اسی لیے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ انسان کے جسم میں ایک لوتھڑا ہے اگر اس کی اصلاح ہوجائے تو سارے جسم کی اصلاح ہوجاتی ہے اور اگر اس میں بگاڑ پیدا ہوجائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے فرمایا الاوہی القلب یاد رکھو ! وہ لوتھڑا دل ہے قلب مرکز اخلاق ہے جب یہ بگڑ جاتا ہے تو سارا نظام ہی خراب ہوجاتا ہے فرض کرو اگر قلب میں ایمان کی بجائے شرک ، اخلاص کی بجائے ریا کاری اور نفاق پیدا ہوجائے تو نظام بگڑ جائے گا اور اگر اس میں ایمان ، توحید اور اخلاص ہے تو دل ٹھیک ٹھاک ہے اور سارا نظام درست ہے۔ قلب کی وجہ تسمیہ قلب کا لغوی معنی الٹ پلٹ ہوتا ہے اور دل کو قلب اس لیے کہتے ہیں کہ یہ جسم میں الٹا لٹکا ہوا ہے اس کا پیندا اوپر اور سرنیچے کی طرف ہے اس کا نام قلب اس لیے بھی ہے کہ یہ جلدی جلدی پلٹیاں کھاتا ہے دل کے متعلق قرآن و سنت میں بہت سی دعائیں بھی مذکور ہیں جیسے ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذھدایتنا اے ہمارے پروردگار ! ہدایت سے سرفراز کرنے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کر (آل عمران) حضور علیہ اسلام نے یہ دعا سکھائی ہے یا مقلب القلوب صرف قلبی علی طاعتک اے دلوں کے پھیرنے والے ! میرے دل کو اپنی اطاعت کی طرف پھیر دے اگلی سورة میں بھی آرہا ہے کہ دیکھو نیکی اور اطاعت کرنے میں جلدی کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ دل ہی پلٹ جائے واعلمو ان اللہ یحول بین المرء وقلبہ (انفال) یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ آدمی اور اس کے دل کے درمیان رکاوٹ ڈال دیے گا اور اس کے خیالات ہی پلٹ جائیں گے بہرحال دل کو قلب اس لیے کہتے ہیں انہ یتقلب کہ یہ پلٹیاں کھاتا رہا ہے اس کی مثال لفظ انسان سے بھی دی جاسکتی ہے وما سمی الانسان الالانسہ انسان کو انسان اس لیے کہتے ہیں کہ وہ مانوس ہوتا ہے اسے انس کی ضرورت ہوتی ہے وہ تنہائی کو پسند نہیں کرتا بلکہ مل جل کر رہنا چاہتا ہے اسی طرح دل کو پلٹیاں کھانے کے وجہ سے قلب کہا جاتا ہے تمام اچھے برے خیالات دل ہی سے اٹھتے ہیں اگر قلب میں اس قسم کے خیالات پیدا ہوں جن کا تعلق کھانے پینے یا شہوانیات سے ہو تو ایسے قلب کو شریعت میں قلب بہیمی کہتے ہیں گویا یہ جانوروں جیسا دل ہے جو نفسانی خواہشات تک محدود ہے اور اگر دل میں پاکیزہ خیالات وارد ہوں ، نیکی کی بات پیدا ہو ، فرشتوں کے الہام کو قبول کرنے والا مادہ آجائے تو ایسے قلب کو قلب ملکی کہا جاتا ہے گویا یہ ملکیت کے جذبات رکھنے والا دل ہے اس طرح اگر کسی شخص کا دل شیطانی وسواس کا قبول کرتا ہے تو ایسے انسان کو شیطان کہا جاتا ہے۔ دل کا صحیح استعمال دل ایک بہت بڑی حقیقت ہے یہ خدا شناسی کا مرکز ہے روح کا تعلق بھی قلب کے ساتھ ہے اس کے علاوہ بزرگان دین کے تجربات میں آنے والے لطائف ظاہرہ و باطنہ ، سر ، خفی ، اخفی اور حجربحت وغیرہ کا تعلق دل کے ساتھ ہے قرآن پاک میں اس کو فواد وغیرہ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے ان السمع والبصر والفواد کل اولیک کان عنہ مسولاً (بنی اسرائیل) کان ، آنکھ اور دل بڑی اہم چیزیں ہیں ان کے متعلق باز پرس ہوگی اللہ تعالیٰ نے جس مقصد کے لیے دل جیسی عظیم نعمت عطا کی ہے اگر اسے اس مقصد کے لیے استعمال نہ کیا گیا تو انسان ناکام ہوجائے گا اور پھر لجھنم کا مستحق ٹھہرے گا اگر دل سے صحیح بات نہیں سوچی دل میں صحیح جذبات نہیں جمائے بلکہ غلط خیالات اور باطل عقائد کو دل میں جگہ دی ہے تو یہ دل کا صیح استعمال نہیں ہے اس کا نتیجہ جہنم کی صورت میں برآمد ہوگا ڈاکٹر اقبال مرحوم بھی کہتے ہیں ؎ غافل ترے زمرد مسلماں نہ دیدہ ام دل درمیان سینہ و بیگانہ دل است میں نے مسلمان سے زیادہ غافل کسی انسان کو نہیں دیکھا کہ اس کے سینے میں دل موجود ہے مگر وہ اس سے بیگانہ ہے ۔ اسے علم ہی نہیں کہ یہ اللہ کی عطا کردہ کتنی بڑی دولت ہے اسی لیے فرمایا کہ ان کے دل ہیں مگر وہ سمجھتے نہیں اللہ نے دل تو اس لیے دیا تھا کہ لوگ فہم سے کام لیں اور دل میں پاکیزہ جذبات پیدا کریں مگر انہوں نے نا سمھجی میں اس کو ضائع کردیا۔ آنکھوں کی نعمت دل کا شکوہ کرنے کے بعد فرمایا ولھم اعین لایبصرون بھا ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ ان کے ساتھ دیکھتے ہی نہیں اللہ تعالیٰ نے یہ آنکھیں اچھی اور بری چیز کی امتیاز کے لیے دی تھیں آنکھیں آیا ت الٰہی اور دلائل قدرت کے مشاہدہ کے لیے عطا کی گئی تھیں اور یہ بہت بڑی نعمت ہیں حضور ﷺ کا ارشاد ہے من سیلت کریمتیہ فصبر فلن ارضی لہ دون الجنۃ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس شخص نے دو عزت والی چیزیں یعنی آنکھیں میں نے چھین لیں اور اس نے صبر کیا تو میں اس کے لیے جنت سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہوں گا یعنی اسے ضرور جنت میں داخل کروں گا مشہور مقولہ ہے کہ نظر ہے تو جہاں ہے ورنہ کچھ نہیں ان آنکھوں کی ناقدری یہ ہے کہ جس کام کے لیے عطا کی گئی ہیں اس سے اغماض نہ برتیں اگر کسی غلط جگہ پر آنکھ اٹھے گی تو ظاہر ہے کہ اس کا استعمال صحیح نہیں ہوگا اللہ نے تو یہ آنکھیں اس لیے دی ہیں کہ ان کے ساتھ اچھی چیز کو دیکھا جائے کلام الٰہی کی تلاش کی جائے قدرت کے نشانات کا مشاہدہ کیا جائے اور ان سے صحیح نتیجہ اخذ کیا جائے کفر ، شرک اور حرام اشیاء کی طرف سے آنکھیں بند کرلی جائے ، کھیل تماشے ، فلم ، ٹیلیویژن اور ناچ گانے سے پرہیز کیا جائے خدا تعالیٰ اور اس کے پیغمبر کے حکیمانہ کلام کو دیکھا جائے اور اگر ان آنکھوں سے جائز کام نہیں لیا جائے گا بلکہ ان کو ناجائز امور کی طرف لگایا جائے گا تو مطلب یہی ہوگا کہ ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں۔ کانوں سے استفادہ کان بھی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں ان کے ذریعے انسان آنکھوں سے بھی زیادہ معلومات حاصل کرتا ہے یعنی بصارت کی نسبت سماعت سے انسان زیادہ مستفید ہوتا ہے آنکھیں اور کان معلومات کو دماغ تک پہنچانے کا ذریعہ ہیں جب یہ معلومات دماغ میں پہنچتی ہیں تو پھر وہ معاملے کا فیصلہ کرتا ہے اور انسان اس کے مطابق عملدرآمد کرتا ہے آنکھوں کی طرح کانوں کا صحیح استعمال ہی انسان کو کامیابی سے ہمکنار کرسکتا ہے قرآن پاک کی تلاوت ، احادیث نبوی ، احکامات الٰہی ، وعظ و نصیحت سنے گا تو یہ کانوں کا صحیح مصرف ہوگا اور اگر کسی شخص نے اپنی سماعت کو گانے بجانے ، قصہ کہانیاں ، بیہودہ باتیں ، لطیفہ گوئی ، ٹیلیویژن اور وی سی آر کی طرف مرکوز کردیا تو ظاہر ہے کہ اس نے اس نعمت کی قدر نہیں کی ایسے ہی لوگوں کے متعلق یہاں ارشاد باری تعالیٰ ہے ولھم اذان لایسمعون بھا ان کے کان تو موجود ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ جانوروں سے بدتر اللہ تعالیٰ نے یہاں پر انسان کے تین اہم اجزا دل ، آنکھ اور کان کا ذکر کرکے فرمایا کہ جن لوگوں نے ان اعضائے رئیسہ سے صحیح کام نہ لیا اولیک کالا نعام یہ جانوروں اور مویشیوں کی طرح ہیں جانور بھی اپنی مادی ضروریات کھانے پینے اور شہوانیات تک محدود رکھتے ہیں ان کے نزدیک اور کوئی اعلیٰ وارفع مقصد نہیں ہوتا اسی طرح یہ لوگ بھی مادیت کے پجاری ہیں لہٰذا یہ بھی جانوروں کی مانند ہیں فرمایا بل ھم اضل بلکہ جانوروں سے بھی زیادہ گمراہ ہیں ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ہیں وجہ یہ ہے کہ کوئی جانور اپنے مقصد تخلیق کو فراموش نہیں کرتا اللہ تعالیٰ نے اسے جس مقصد کے لیے پیدا فرمایا ہے وہ اپنا فرض انجام دیتا ہے جب اس کا مالک کسی کام کے لیے پکارتا ہے تو وہ اس آواز کو سنتا ہے اور اس کے حکم پر عمل کرتا ہے اور جس چیز سے منع کرتا ہے اس سے رک جاتا ہے مگر یہ حضرت انسان ہے کہ اس کا مالک اسے دن میں پانچ دفعہ بلاتا ہے مگر یہ سنی ان سنی کردیتا ہے وہ جس کام کا حکم دیتا ہے اسے ٹال جاتا ہے اور جس کام سے منع کرتا ہے یہ اس پر اڑا رہتا ہے جانور اپنے مالک کی خواہش کو اپنی خواہش پر مقدم رکھتے ہیں مگر انسان اپنی مرضی کو مالک کی مرضی پر ترجیح دیتا ہے اسی لیے فرمایا کہ اللہ کی نعمتوں کی ناقدری کرنے والے انسان جانوروں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں شاہ عبدالعزیز (رح) فرماتے ہیں کہ کفر اور شرک کرنے والے اللہ کی بدترین مخلوق ہیں جنہیں اللہ نے شرا البریۃ فرمایا ہے وجہ یہی ہے کہ وہ اپنی خواہش کو مالک کی خواہش پر مقدم رکھتے ہیں۔ غافل لوگ فرمایا مذکورہ تعریف کی بنا پر جو لوگ جانوروں سے بھی بدتر ہیں اولیک ھم الغفلون وہ حقیقت میں غافل ہیں غفلت انسان کو دوزخ تک پہنچانے کا ذریعہ بن جاتی ہے اللہ کے ذکر سے غافل ہونا ناکامی کی دلیل ہے غفلت ہی مادیت ، حرص اور دنیا میں انہماک کا سبب بنتی ہے اسی لیے فرمایا کہ یہ لوگ غافل ہیں جو اپنے رب تعالیٰ کو یاد ہی نہیں کرتے اس کا حکم تو یہ ہے کہ اپنے رب کو صبح و شام یاد کرو ” ولا تکن من الغفلین “ (اعراف) اور غفلت کرنے والوں میں نہ ہوجائو اللہ تعالیٰ سے سب سے بعید چیز قلب غافل ہے لہٰذا خدا کی یاد سے غافل نہیں ہونا چاہیے یہ لوگ کال درجے کے غافل ہیں لہٰذا ان کا ٹھکانا جہنم ہے۔