Ayahs 7:200–203ربط آیات
پہلے اللہ تعالیٰ نے شرک کرنے والوں کا رد کیا اور پھر اسی سلسلے میں مکارم اخلاق کی تعلیم دی ظاہر ہے کہ جب مشرکین کے کمزور دلائل کو رد کیا جائے گا تو وہ لاجواب ہو کر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئیں گے اور بےہودہ باتیں کرنے لگیں گے جاہلوں کا ہمیشہ یہ وطیرہ رہا ہے کہ جب وہ دلائل کا سامنا کرنے سے عاجز آجاتے ہیں تو دنگا فساد اور گالی گلوچ پر اتر آتے ہیں ایسی حرکات کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو فرمایا خذالعفو کہ آپ درگزر کرنے اور معاف کرنے کی عادت ڈالیں البتہ وامربالمعروف نیکی کی تلقین کرتے رہیں اور توحید کے دلائل دیتے رہیں گویا اللہ تعالیٰ نے مکارم اخلاق کی تعلیم دی حدیث شریف میں حضور ﷺ کے مکارم اخلاق کے سلسلے میں آتا ہے کہ لایجزی السیۃ بالسیۃ آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے بلکہ آپ معاف کردیتے تھے اور درگزر فرماتے تھے پہلی کتابوں میں بھی حضور ﷺ کی تعریف میں آیا ہے کہ آپ بازاروں میں شوروشر کرنے والے نہیں ہیں اور نہ آپ فحش باتیں کرنے والے ہیں دوسری روایت میں آتا ہے کہ آپ نے اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا خواہ کتنی بھی بڑی تکلیف پہنچی البتہ اگر کوئی شخص دین اور شریعت کے خلاف کرتا یا کسی دوسرے پر ظلم و زیادتی کرتا تو آپ مظلوم کا حق ضرور دلاتے آپ نے شریعت کی حدود کو توڑنے والے کو بھی معاف نہیں کیا مگر یہ آپ کے مکارم اخلاق کی انتہا تھی کہ عمر بھر کسی سے اپنی ذات کا بدلہ نہیں لیا۔
شیطان کے شر سے پناہ
حضور ﷺ کے مکارم اخلاق کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو شیطانی چھیڑ چھاڑ کا اعلان بھی بتلایا ارشاد ہوتا ہے واما ینزغنک من الشیطن نزغ اور اگر ابھارے تھے شیطان کی طرف سے کوئی چھیڑ چھاڑ یعنی اگر شیطان برائی کے لیے آپ کے دل میں وسوسہ اندازی کرے تو اس کا علاج یہ ہے کہ فاستعذ باللہ کہ آپ اللہ کے ساتھ پناہ مانگیں وہ آپ کی حفاظت کرے گا کیونکہ انہ سیمع علیم وہ سننے والا اور جاننے والا ہے وہ تمہاری ہر بات کو سنتا ہے اور تمہاری ہر ضرورت سے واقف ہے لہٰذا شیطان کی وسوسہ اندازی کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنا چاہیے مسند احمد کی روایت میں آتا ہے ان للشیطن لمۃ بابن آدم یعنی ابن آدم کے ساتھ شیطان کی ضرور چھپڑ چھاڑ ہوتی ہے وہ انسان کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے جب کوئی شخص نیکی کے راستے پر جانا چاہتا ہے تو شیطان اس کے راستے میں آکر بیٹھ جاتا ہے اور اس کے دل میں برے خیال ڈال کر اسے راستے سے روکنے کی کوشش کرتا ہے حضور ﷺ نے عام لوگوں کو بھی شیطان کے برے عزائم سے آگاہ فرما دیا حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ شیطان کی وسوسہ اندازی شر پر مشتمل ہوتی ہے ایعاد بالشرو تکذیب بالحق یہ حق کی تکذیب اور برائی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے فرمایا وان للملک لمۃ اللہ کے فرشتے بھی انسان کے دل میں خیالات ڈالتے ہیں جو کہ نیکی اور سچائی پر مبنی ہوتے ہیں حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ جب کوئی شخص اپنی طبیعت میں برائی محسوس کرے تو اس وقت اسے اللہ کی پناہ میں آنا چاہیے اور برے خیالات کو شیطان کی چھیڑخانی سمجھنا چاہیے اور اگر انسان کے دل میں اچھے خیالات وارد ہوں تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ اچھی باتیں اللہ کے فرشتے دل میں ڈالتے ہیں۔
بہرحال فرمایا کہ اگر شیطان کی طرف سے کوئی ابھار ہو تو اللہ کی پناہ طلب کرنی چاہیے حضور ﷺ نے استعاذہ کے لیے کئی ایک کلمات کی تعلیم دی ہے جیسے اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم لاحول ولا قوۃ الاباللہ ، وقل رب اعوذ بک من ھمزات الشیطین ، واعوذ بک رب ان یحضرون (المومنون) اللے اللہ ! میں شیطانوں کے وسوسے اور ان کی حاضری سے پناہ مانگتا ہوں۔
ذکر الٰہی بطور قلعہ
حضور ﷺ سے شیطانی وساوس کے متعلق خطاب کے بعد اللہ تعالیٰ نے عام اہل ایمان کو بھی شیطان کے وسوسے سے بچنے کی ترکیب بیان فرمائی ہے ارشاد ہوتا ہے ان الذین اتقوا اذا مسھم طٓف من الشیطن بیشک وہ لوگ جو خدا تعالیٰ کے خوف سے ڈرتے ہیں جب کہ پہنچتا ہے انہیں خیال شیطان کی طرف سے امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے تقویٰ کی تعریف یہ بیان فرمائی ہے۔
” تقویٰ محافظت برحدود شرع است “
یعنی شریعت کی حدود کی حفاظت کرنا تقویٰ ہے کفر ، شرک ، نفاق ، بدعقیدگی اور برائی سے بچنا تقویٰ کی تعریف میں آتا ہے اس دنیا میں سنبھل کر چلنا کہ کہیں دامن برائی کے کانٹوں میں نہ الجھ جائے یہی تقویٰ ہے طائف کا لفظی معنی چکر مارنے والا ہے اور مراد خیال اور وسوسہ ہے خواب کے دوران جو خیالات آتے ہیں ان کو بھی طائف کہتے ہیں تو فرمایا کہ بیشک وہ لوگ کہ جب انہیں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پہنچتا ہے تذکرو تو یاد کرتے ہیں یعنی ذکر الٰہی میں مشغول ہوتے ہیں اور خبردار ہوجاتے ہیں فاذا ھم مبصرون پس وہ اچانک صاحب بصیرت یعنی سمجھ دار ہوجاتے ہیں مطلب یہ ہے کہ دل میں خوف خدا رکھنے والے لوگوں کا شیوہ یہ ہے کہ جب ان کے خیالات پر شیطان کا حملہ ہوتا ہے تو وہ فوراً اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کرنے کے لیے اس کے ذکر میں مصروف ہوجاتے ہیں اور اس طرح وہ شیطان سے بچنے کے لیے ذکر کے قلعہ میں قلعہ بند ہوجاتے ہیں۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے کہ سوتے وقت جب انسان کے جسم کے تمام راستے بند ہوجاتے ہیں تو شیطان اس کی ناک پر آکر بیٹھ جاتا ہے اور وہاں سے آدمی کے قلب میں پھونکیں مارتا ہے پھر سونے والا اگر رات کو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا ہے تو خنس الشیطن شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اس کی وسولہ اندازی موثر نہیں ہوتی اور اگر سونے والے شخص نے سونے سے پہلے اللہ کا ذکر نہیں کیا یعنی نماز بھی ادا نہیں کی وہ سوتا رہا حتیٰ کہ فجر طلوع ہوگئی پھر سورج نکل آتا ہے اور سونے والا سویا رہتا ہے تو پھر شیطان اس کے کان میں پیشاب کرکے چلا جاتا ہے اور کہتا ہے کہ میں کامیاب ہوگیا ہوں کیونکہ میں نے اس شخص کو رات بھر خدا تعالیٰ کے ذکر سے غافل رکھا بہرحال فرمایا کہ شیطان کی وسوسہ اندازی کا علاج اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔
شیطان کے بھائی
فرمایا واخوانھم یمدونھم فی الغی شیاطین کے بھائی لوگوں کو گمراہی کی طرف کھینچتے رہتے ہیں شیطان کے بھائی ہمیشہ گمراہ لوگ ہی ہوتے ہیں جو دوسروں کو بھی گمراہی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں یہاں پر اخ کا لفظ آیا ہے جس سے نسبی بھائی مراد ہوتا ہے تاہم تمام لوگ چونکہ ایک ہی سلسلہ انسانی سے منسلک ہیں اس لیے سارے ایک دوسرے کے بھائی ہیں بعض لوگ دینی طور پر ایک دوسرے کے بھائی ہوتے ہیں جیسے سورة حجرات میں آتا ہے انما المومنون اخوۃ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں تو گویا جس طرح مومن نیکی اور ایمان میں اکھٹے ہو کر بھائی بھائی بن جاتے ہیں اسی طرح گمراہ لوگ گمراہی میں اکٹھے ہو کر ایک دوسرے کے بھائی ہوتے ہیں اور پھر وہ سارے شیطان کے بھائی بن جاتے ہیں کیونکہ سب سے بڑا گمراہ وہی ہے فضول خرچی کرنے والوں کو بھی شیطان کا بھائی کہا گیا ہے ان المبذرین کانو اخوان الشیطین (بنی اسرائیل) کیونکہ اسراف شیطانی فعل ہے چناچہ ایسے لوگوں کو شیطان گمراہی کی طرف کھینچتے رہتے ہیں ثم لا یقصرون پھر وہ اس معاملہ میں کوتاہی بھی نہیں کرتے بلکہ برائی سے روکنے میں ہمیشہ ہمیشہ پیش رہتے ہیں اور گمراہی کی طرف لانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے سورة زخرف میں بھی آتا ہے کہ جو شخص اللہ کے ذکر سے اعراض کرتا ہے نقیض لہ شیطناً فھولہ قرین ہم اس پر شیطان مسلط کردیتے ہیں جو اس کا ساتھی بن جاتا ہے اور پھر وہ عمر بھر اسے گمراہی میں مبتلا رکھتا ہے حتیٰ کہ موت کے وقت کف افسوس ملتا ہوا شیطان سے کہتا ہے یلیت بنی وبینک بعد المشرقین فبئس القرین (الزخرف) کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا میں نے تیری بات کیوں مانی ، تو بہت برا ساتھی ہے مگر اس وقت کا افسوس کرنا کسی کام نہ آئے گا غرضیکہ شیطان انسان کو ہمیشہ گمراہی کی طرف لگائے رکھتے ہیں۔
انقطاع وحی پر اعتراض
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے ایک اعتراض کا ذکر کیا ہے جو وہ انقطاع وحی کے موقع پر کرتے تھے ارشاد ہوتا ہے واذا لھم تیاتھم بایۃ جب آپ نہ لائیں ان کے پاس کوئی نشان قالو لولا اجتبیھ تھا تو کہتے ہیں کیوں نہیں چھانٹ کر لایا تو اس کو یہاں پر مفسرین نے آیت کے دونوں معنی بیان کیے ہیں یعنی قرآنی آیت اور معجزہ اگر قرآن کی آیت مراد لی جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ جب کئی کئی روز یا کئی کئی ماہ تک وحی کا سلسلہ منقطع ہوجاتا تھا تو مشرکین بےہودہ اعتراضات کرتے تھے بعض ظالم کہتے تھے ترکک الشیطن یعنی شیطان نے تجھے چھوڑ دیا ہے (العیاذباللہ) اب وہ تجھے کچھ نہیں سکھاتا اور بعض یہ بھی کہتے تھے کہ اگر تیرے پاس وحی آنا بند ہوگیا ہے تو تو اپنی طرف سے قرآن بنا کر سنا دیا کر ، کافر کہتے تھے اگر اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز نہیں اتاری تو خود ہی سنا کرلے آئیں خ اس قسم کا طعن کرتے تھے اور اگر آیت سے معجزہ مراد لیا جائے تو بھی درست ہے کیونکہ مشرکین حضور ﷺ سے اپنی مرضی کے معجزات طلب کرتے تھے اور پھر اسے نہ پاکر طرح طرح کے بےہودہ اعتراضات کرتے تھے اور کہتے کہ آپ مطلوبہ نشانی کیوں نہیں پیش کرتے بعض اوقات اللہ تعالیٰ مشرکوں کی طرف سے طلب کردہ معجزہ ظاہر فرما دیتے تھے جیسے ثق القمر والا معجزہ مشہور ہے یا اللہ نے صالح (علیہ السلام) کے لیے اونٹنی کا معجزہ ظاہر فرما دیا مگر بعض اوقات اللہ تعالیٰ کے نزدیک معجزے کا ظاہر کرنا مناسب نہیں ہوتا تھا لہٰذا کفار کی فرمائش پوری نہیں ہوتی تھی سورة بنی اسرائیل میں مذکور ہے کہ مشرکین حضور ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ کے لیے کھجور اور انگور کا باغ ہوگا جس میں چشمے بہتے ہوں یا ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے یا خدا تعالیٰ اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لے آ ، یا تمہارے لیے سونے کا گھر ہونا چاہیے یا ہمارے سامنے آسمان سے کتاب نازل کردے تو پھر ہم ایمان لائیں گے تو فرمایا جب آپ ان کے پاس کوئی نشانی نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ آپ چن کر کیوں نہیں لے آتے۔
اتباع وحی کا عزم
اللہ تعالیٰ نے مذکورہ اعتراض کا جواب اس طرح دیا قل انما اتبع ما یوحی الی من ربی اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کہ میں تو اتباع کرتا ہوں اس چیز کا جو میری طرف وحی کی جاتی ہے میرے پروردگار کی طرف سے آپ کی مطولبہ نشانیاں پیش کرنا میرے اختیار میں نہیں ہے یہ تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے جب چاہے کوئی نشانی ظاہر فرما دے اس معاملہ میں اللہ کا قانون یہ ہے وما کان لرسول ان یاتی بایۃ الا باذن اللہ (المومن) اللہ کے کسی رسول کے اختیار میں نہیں ہے کہ وہ اللہ کے حکم کے بغیر کوئی نشانی یا معجزہ ظاہر کردے نشانی کا ظاہر کرنا تو اللہ کا فعل ہوتا ہے جو وہ اپنے نبی کے ہاتھ پر ظاہر کرتا ہے اسی طرح کرامت بھی کسی ولی کے اختیار میں نہیں ہوتی بلکہ جب اللہ کی مصلحت میں اس کا ظاہر ہونا ضروری ہوتا ہے تو اللہ ایسا کردیتا ہے لوگ ولی کا ذاتی فعل سمجھ کر شرک میں مبتلا ہوتے ہیں حالانکہ یہ ان کا ذاتی فعل نہیں ہوتا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر اللہ نے احیائے موتی کا معجزہ ظاہر کیا تو عیسائی اسے عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذاتی فعل سمجھ کر ہی مبتلائے شرک ہوئے بہرحال اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم (علیہ السلام) کی زبان سے کہلوایا کہ آپ کہہ دیں کہ میں تو وحی الٰہی کا اتباع کرتا ہوں آپ کی فرمائشیں پوری کرنا میرا کام نہیں ہے۔
بصیرت کی باتیں
فرمایا ھذا بصائر من ربکم یہ قرآن پاک جس کی آیات لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے یہ تو تمہارے پروردگار کی طرف سے بصیرت کی باتیں ہیں بصارت آنکھوں کی روشنی کو کہتے ہیں اور بصیرت سے دل کی روشنی مراد ہے تو فرمایا اس قرآن پاک کے مطالعہ سے دل میں نور ایمان اور نور توحید پیدا ہوتا ہے نبی کی رسالت معاد اور تمام حقائق دینیہ سمجھ میں آتے ہیں اور انسان کا دل منور ہوجاتا ہے تمام شکوک و شبہات ختم ہوجاتے ہیں اور انسان صراط مستقیم پر گامزن ہوجاتا ہے سورة یوسف میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ یہی میرا راستہ ہے جس کی طرف میں تم کو دعوت دیتا ہوں ” علیٰ بصیرۃ انا ومن اتبعنی “ میں بھی بصیرت پر ہوں اور میرے متبعین بھی ، صحیح معنوں میں صاحب بصیرت وہی ہوگا جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا متبع ہوگا اور جسے تمام حقائق دینیہ پر پختہ یقین ہوگا ترود تو جہالت ، نفاق اور معاصی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جب کہ قرآن پاک دل میں نور ایمان پیدا کرتا ہے اور یہ اہل ایمان کے لیے بصیرت ہے۔
ہدایت اور روشنی
فرمایا قرآن پاک بصیرت کے علاوہ وھدی ورحمۃ ہدایت اور رحمت بھی ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں پر تین چیزیں بیان کی گئی ہیں یعنی بصیرت ، ہدایت اور رحمت اور ان کا مصداق بھی تین قسم کے لوگ ہوتے ہیں فرماتے ہیں کہ جو لوگ توحید ، رسالت یا معاد کو مشاہدے کی طرح دیکھتے ہیں یعنی وہ تمام دلائل قدرت کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسے آنکھوں سے دیکھا جاتا ہے اور ان کا ایمان پختہ ہوجاتا ہے تو ان لوگوں کیلیے یہ قرآن پاک بصیرت ہے اس کے بعد ایسے لوگ جو ان سے کم درجے کے ہوتے ہیں اور جو کسی چیز کو عقلی یا نفلی دلائل کے ساتھ سمجھتے ہیں اور ایمان لے آتے ہیں…………………………… ایسے لوگ صفت ہدایت کے مصداق ہدایت یافتہ کہلاتے ہیں فرمایا تیسرے درجے میں عام اہل ایمان کی طرف رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کی چادر ان پر ڈال دیتا ہے۔
بصیرت تو بلند تر درجے کی بات ہے قرآن پاک میں ہدایت کے ساتھ بینات کا ذکر بھی کیا گیا ہے سورة بقرہ میں یہودیوں کے متعلق آتا ہے کہ وہ لوگ جو چھپاتے ہیں جو ہم نے نازل کیا ” من البینت والھدیٰ “ بینات اور ہدایت سے مفسرین فرماتے ہیں کہ بینات واضح باتوں کو کہتے ہیں جو ہر آدمی آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے البتہ ہدیٰ کے لیے استاذ کی ضرورت ہوتی ہے جب معلم کوئی مسئلہ سمجھاتا ہے تو پھر سمجھ میں آتا ہے غرضیکہ فرمایا یہ قرآن پاک بصیرت ، ہدایت اور رحمت ہے بصیرت کے ذریعے اعلیٰ درجے کی روشنی اور ہدایت نصیب ہوتی ہے اور پھر جو آدمی ہدایت اختیار کرلیتا ہے وہ رحمت الٰہی کا مستحق بھی ہوجاتا ہے تو جو شخص قرآن پر ایمان لایا اس کے حقائق کو سمجھا اور پھر اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ دنیا میں بھی سرخرو ہوگا برزخ میں بھی کامیاب ہوگا اور پھر آخرت میں دائمی فلاح پا جائے گا اس لیے فرمایا کہ یہ بصیرت ہدایت اور رحمت ہے لقوم یومنون ان لوگوں کے لیے جو ایمان دار ہیں اور جو ایمان نہیں لائے یعنی کافروں ، مشرکوں اور منافقوں کے لیے یہ قرآن اندھا پن اور تاریکی کا باعث ہے۔
Ayah 7:204ربط آیات
گزشتہ دروس میں قرآن کریم کے نزول اور اس کے فضائل کا ذکر تھا نیز مشرکین کے جاہلانہ اعتراضات کے جواب میں حکم ہوا کہ آپ مکارم اخلاق کو لازم پکڑیں اور ان کی باتوں سے متاثر نہ ہوں بلکہ درگزر کرنے اور معاف کرنے کی عادت ڈالیں فرمایا ام بالمعروف کا فریضہ ادا کرتے رہیں اور جاہلوں سے نہ الجھیں اگر کسی وقت شیطان کی طرف سے چھیڑ چھاڑ اور وسوسہ اندازی ہو تو فاستعذ باللہ یعنی اللہ کی پناہ میں آجائیں پھر ایمان والوں کے متعلق فرمایا کہ جب انہیں شیطان کی طرف سے وسوسہ آتا ہے تو وہ اللہ کا ذکر کرتے ہیں ایسے لوگ صاحب بصیرت ہوتے ہیں اور شیطان کے پھندے میں نہیں آتے البتہ شیطان کے راستہ پر چلنے والے اس کے بھائی ہوتے ہیں اور وہ انہیں ہمیشہ گمراہ کرتا رہتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی مرضی کے معجزات طلب کرنے والوں کا رد فرمایا انقطاع وحی کے زمانہ میں مشرکین طعن کرتے تھے کہ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی ہی آتی تو آپ اپنی طرف سے قرآن بنا کرلے آئیں دراصل وہ قرآن کو خدا تعالیٰ کا کلام ہی نہیں سمجھتے تھے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم (علیہ السلام) سے فرمایا آپ کہہ دیں کہ میں تو وحی الٰہی کا متبع ہوں نہ تو میں خود قرآن بنا سکتا ہوں اور نہ معجزات لانا میرے اختیار میں ہے آخر میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حیثیت کو بھی واضح کیا اور فرمایا کہ قرآن پاک بصیرت یعنی سوجھ بوجھ کی باتوں پر مشتمل ہے اس کے ماننے والوں کے دلوں میں روشنی پیدا ہوتی ہے دل میں یقین پیدا ہوتا ہے یہ قرآن ہدایت کا سامان مہیا کرتا ہے اور اہل ایمان کے لیے باعث رحمت ہے۔
آداب قرآن
اب آج کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے آداب بیان کیے ہیں اور اس سے مستفید ہونے کا طریقہ بتلایا ہے ارشاد ہوتا ہے واذا قری القرآن جب قرآن پاک پڑھا جائے فاستمعوا لہ ت اس کو کان لگا کر سنو وانصتوا اور خاموش رہو لعلکم ترحمون تاکہ تم پر حم کیا جائے قرآن کریم ایک عظیم کتاب اور منبع رشد و ہدایت ہے لہٰذا جب یہ پڑھی جائے تو اس کو غور سے سننا چاہیے اور بالکل خاموشی اختیار کرنی چاہیے یہ ایسی بابرکت کتاب ہے کہ اس کا منکر بھی اسے توجہ سے سنے گا تو امید ہے کہ وہ بھی ایمان لے آئے گا اللہ تعالیٰ نے اسے باعث ہدایت اور رحمت بنایا اور جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں ان کے لیے تو بدرجہ اولیٰ لازم ہے کہ تلاوت قرآن کے وقت شورشر نہ کریں کوئی جھگڑا تنازعہ برپا نہ کریں بلکہ اسے خاموشی کے ساتھ سنیں سورة حمٰ السجدہ میں کفار کا یہ قول بھی بیان کیا گیا ہے لاسمعوا لھذا القرآن والغوا فیہ لعلکم تغلبون کہ جب قرآن پڑھا جارہا ہو تو اس کو مت سنو بلکہ شوروغوغا کرو تاکہ تمہیں غلبہ حاصل ہو مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تلاوت قرآن کے وقت خوب کان لگا کر سنو اور خاموش رہو تاکہ اللہ کی رحمت تمہارے شامل حال ہو۔
نماز میں کلام کی ممانعت
مفسرین کرام اس آیت کا شان نزول یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ اس سے پہلے مسلمان نماز کے دوران کلام بھی کرلیتے تھے ایک دوسرے سے کوئی بات پوچھنا ہوتی تو پوچھ لیتے مثلاً رکعتوں کی تعداد دریافت کرلیتے یا باہر سے آنے والا سلام کہتا تو اس کا جواب دیتے ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوگئی فنیھنا عن السلام و الکلام تو ہمیں نماز کے دوران سلام کرنے یا کوئی دیگر کلام کرنے سے روک دیا گیا سورة بقرہ کی آیت وقومو للہ قنتین میں بھی اسی مضمون کو بیان کیا گیا یعنی اللہ کے دربار میں عاجزی اور خاموشی اختیار کرتے ہوئے کھڑے ہو اور نماز کو نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرو۔
فروعی اختلافات
چونکہ نماز میں قرآن پاک کی تلاوت لازمی ہے اس لیے فقہائے کرام نے اس آیت کا اطلاق نماز پر بھی کیا ہ کے تاہم محدثین اور فقہائے کرام کا بعض فروعی مسائل میں اختلاف ہے اس قسم کے اختلافات صحابہ کرام ؓ میں بھی پائے گئے ہیں اور ان کی ممانعت نہیں کیونکہ یہ اختلاف کسی اصول میں نہیں ہوتے بلکہ کسی ایسی فرع میں ہوتے ہیں جہاں اختلاف کی فی الواقع گنجائش موجود ہو دلائل کو سمجھنے میں اختلاف کا پیدا ہونا ایک فطری بات ہے اور اس ضمن میں قوی دلائل کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا نماز کی عمومی حیثیت میں تو کسی صحابی یا اہل حق فقیہہ کا اختلاف نہیں ہے تاہم اس کی کیفیت اور بعض جزیات میں اختلاف ضرور موجود ہے حنفی ، شافعی ، مالکی اور ظاہری مسالک انہی اختلافات پر مبنی ہیں ہر مسلک کا پیروکار اپنے اپنے مسلک کے مطابق نماز ادا کرتا ہے مگر دوسرے کو کسی بات پر مجبور نہیں کرتا اسکے باوجود بعض لوگ تشد سے بھی کام لیتے ہیں اور اپنے مسلک ک ہی حرف آخر سمجھ کر دوسروں پر گمراہی کا فتویٰ لگاتے ہیں حالانکہ ایسا کرنا بذات خود گمراہی ہے دلائل کے ساتھ اختلاف رائے اچھی بات ہے مگر اس میں تشدد کا پہلو نمایاں نہیں ہونا چاہیے۔
اس بات پر تمام فقہائے کرام متفق ہیں کہ صدقہ و خیرات کا ثواب مرنے والے کو پہنچتا ہے مگر نماز کے ثواب پہنچنے میں اختلاف پایا جاتا ہے بعض کہتے ہیں کہ نماز کا ثواب بھی پہنچتا ہے جب کہ بعض دوسرے اس کو تسلیم نہیں کرتے چونکہ اس مسئلہ میں کوئی صحیح حدیث نہیں پہنچی اس لیے اختلاف پایا جاتا ہے اسی طرح تلاوت قرآن پاک کے ایصال ثواب کا مسئلہ ہے امام بو حنیفہ (رح) اور امام احمد (رح) کہتے ہیں کہ مرنے والے کو ثواب پہنچتا ہے جب کہ امام مالک (رح) اور امام شافعی (رح) کہتے ہیں کہ قرآن مجید پڑھنے کا ثواب مرنے والے کو نہیں پہنچتا وہ فرماتے ہیں کہ صدقہ خیرات ، دعا اور استغفار کا فائدہ تو مردے کو ہوتا ہے مگر تلاوت قرآن کا فائدہ تلاوت کرنے والے کو ہی ہوتا ہے کسی دوسرے کو ایصال ثواب نہیں ہوتا اس قسم کے اختلافات مختلف دلائل کی بنا پر ہوتے ہیں۔
قرآت فاتحہ میں اختلاف
فقہائے کرام کا اس مسئلہ میں بھی اختلاف ہے کہ نماز میں سورة فاتحہ متعین ہے یا نہیں امام ابوحنیفہ (رح) ، امام سفیان ثوری اور امام اوزاعی (رح) فرماتے ہیں کہ سورة فاتحہ متعین نہیں ہے اور قرآن کا کوئی بھی حصہ نماز میں پڑھ لیا جائے تو فرض ادا ہوجاتا ہے البتہ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ چونکہ حدیث میں سورة فاتحہ پڑھنے کی تاکید آتی ہے لہٰذا اس کا پڑھن وجوب کا درجہ رکھتا ہے اور واجب کے ترک سے نماز میں نقصان آتا ہے بالکل باطل نہیں ہوتی حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جس نماز میں سورة فاتحہ نہ پڑھی گئی فھی خدا ج غیر تمام ایسی نماز ناقص ہے لہٰذا سورة فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے اس سلسلہ میں سورة مزمل کی آیت فاقرء و ماتیسی من القرآن کا حوالہ بھی دیتے ہیں کہ قرآن پاک کا جو حصہ بھی میسر ہو پڑھ لو ایک لمبی آیت یا تین چھوٹی آیات کی تلاوش ادائیگی فرض کے لیے کافی ہوگی یہ کوئی بھی آیات ہوسکتی ہیں سورة فاتحہ ضروری نہیں تاہم جیسا کہ پہلے عرض کیا حدیث میں تاکید کی بنا پر سورة فاتحہ کا وجوب کا درجہ حاصل ہے اور پھر اس کے ساتھ دوسری سورة کا ملانا بھی واجب ہے کیونکہ حدیث شریف میں آتا ہے لاصلوٰہ الا بقراء ۃ یعنی قرأت کے بغیر نماز نہیں ہوتی بخاری اور مسلم شریف کی روایت میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں لاصلوٰۃ لمن لم یقرئ ، بام القرآن فصاعداً یعنی اس شخص کی نماز نہیں جس نے ام القرآن (سورۃ فاتحہ) اور کچھ زیادہ حصہ قرآن نہیں پڑھا تاہم امام بخاری (رح) نے فصاعداً کا لفظ نقل نہیں کیا امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ دوسری سورة ملانا دونوں واجب ہیں مگر فاتحہ رکن نہیں ہے کہ اس کے بغیر نماز بالکل باطل ہی ہوجاتی ہو البتہ مطلق قرأت فرض ہے اگر قرأت بالکل نہ کی جائے تو نماز نہیں ہوگی اور اگر وجب ترک ہوجائے تو سجدہ سہو کرنے سے تلافی ہوجائے گی مثلاً اگر کوئی شخص فرائض یعنی قیام ، رکوع ، سجود یا قعدہ قدرت کے باوجود ترک کردے تو اس کی نماز نہیں ہوگی اسی طرح مطلقاً قرأت کے ترک سے بھی نماز باطل ہوگی۔
نمازی کی تین حالتیں
کوئی نمازی تین حالتوں سے خالی نہیں ہوتا یا تو وہ منفرد ہوتا ہے یا امام ہوتا ہے اور یا مقتدی ، ہر حالت کے الگ الگ احکام ہیں اور ان کو آپس میں غلط ملط کرکے الجھا دیا جاتا ہے جو کہ کسی طور بھی مناسب نہیں ہے امامت کے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ الامام ضامن یعنی امام پوری جماعت کا ضامن ہوتا ہے۔ اس لیے اسے نہایت احتیاط کے ساتھ نماز پڑھنی چاہیے تاکہ مقتدیوں کی نماز خراب نہ ہو اور ساتھ اقتدا کی نیت بھی کرنی چاہیے۔
جو شخص انفرادی طور پر نماز ادا کرتا ہے دوثنا کے بعد سورة فاتحہ بھی پڑھے گا اور اس کے ساتھ کوئی دوسری سورة بھی ملائے گا پھر فرائض اور نوافل کی قرأت میں بھی فرق ہے سنن اور نوافل میں چاروں رکعتوں میں سورة فاتحہ کے بعد سورة ملانا ضروری ہے وتر کی تیسری رکعت میں فاتحہ کے بعد کوئی دوسری سورة ملانا ضروری نہیں بلکہ صرف سورة فاتحہ پڑھنا ہی سنت ہے اگر فاتحہ بھی نہ پڑھے صرف تسبیح کرے یا خاموش کھڑا رہے تب بھی نماز ہوجائے گی امام کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ فرائض کی پہلی دو رکعتوں میں سورة فاتحہ اور اس کے ساتھ کوئی دوسری سورة بھی ملائے گا ورنہ سب کی نماز باطل ہوگی امام احمد (رح) اپنی کتاب الصلوٰۃ میں لکھتے ہیں کہ میں نے کم و بیش ایک سو مسجدوں میں نماز ادا کی اور لوگوں کو نماز میں کوتاہی کرتے پایا چناچہ میں نے یہ کتاب لکھی اگر امام پورے شرائط کے ساتھ نماز پڑھائے گا تو جملہ نمازیوں کے برابر ثواب ملے گا لہٰذا امامت میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے حضور ﷺ نے اللہ رب العزت سے دعا کی کہ مولا کریم ! ہمارے اماموں کو ہدایت عطا فرما موذنین کے لیے بھی بروقت اذان کہنے کی دعا کی بےوقت اذان سے نماز میں خلل واقع ہوسکتا ہے مثال کے طور پر اگر نماز فجر کی اذان طلوع فجر سے پندرہ منٹ پہلے دیدی جائے اور اس دوران کسی شخص نے سنتیں ادا کیں تو وہ ادا نہیں ہوں گی۔
فاتحہ خلف امام
تیسری حالت مقتدی کی ہے اور اس کے لیے الگ احکام ہیں مولانا محمد قاسم ناناتوی ؓ فرماتے ہیں کہ ہر مقام اور محل کے الگ الگ آداب ہیں مقتدی شخص تکبیر وتحمید تو کرے گا مگر قرأت نہیں کرے گا کیونکہ قرأت صرف امام کرے گا اور مقتدی اسے سنیں گے موطا امام مالک میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے من کان لہ امام فقراۃ الامام لہ قرادۃ یعنی امام کی قرأت ہی مقتدی کی قرأت ہے لہٰذا مقتدی کو قرأت کرنے کی ضرورت نہیں رہتی اس کے علاوہ آج کی آیت بھی اس بات کی تائید کررہی ہے کہ جب قرآن پاک پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو اس پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ سورة اعراف مکی ہے جب کہ نماز با جماعت کے احکام زیاہ تر مدنی زندگی میں نازل ہوئے اس کا جواب یہ ہے کہ بعض مکی سورتوں میں مدنی آیات بھی شامل ہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہی ہو اور پھر یہ بھی ہے کہ قرآن پاک بغور سننے کا حکم عام ہے اور اس میں کوئی تخصیص نہیں ہے لہٰذا اسے نماز پر محمول کیا جاسکتا ہے بعض احکام ایسے ہیں کہ ان کا اجمالی ذکر مکی زندگی میں ہوا مگر تفصیلات مدنی زندگی میں جاکر نازل ہوئیں مثلاً زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم مکی سورة مزمل میں موجود ہے واقموا الصلوٰۃ واتوالزکوۃ مگر اس کا نصاب اور دیگر تفصیلات مدینہ طیبہ میں 2 ھ میں مقرر ہوا چناچہ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر اس آیت کو مدنی بھی تسلیم کیا جائے تب بھی یہ نماز ہی کے متعلق ہے اور اس کا حکم خطبہ جمعہ پر بھی عائد ہوتا ہے کہ اس کا سننا بھی ضروری ہے جیسا کہ احادیث سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
امام ابوبکر جصاص (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے دو باتیں بیان فرمائی ہیں پہلی بات یہ ہے کہ جب نماز میں قرأت بلند آواز سے ہورہی ہو تو فاستمعوا لہ اس کو کان لگا کر سنو۔ اور جب قرأت بالسر ہورہی ہو یا مقتدی تک امام کی قرأت کی آواز نہ پہنچ رہی ہو تو ایسی صورت میں فانصتوا کا حکم ہے یعنی خاموش رہو اسی لیے امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ نماز جہری ہو یا سری مقتدی کو ہر حالت میں خاموش ہی رہنا چاہیے اسے خود قرأت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ امام کی قرأت اس کے لیے کافی ہے اس سلسلے میں بہت سی صحیح احادیث بھی موجود ہیں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایات مسلم شریف ، سنن اربعہ ، (ابن ماجہ ، ترمی ، ابودائود او نسائی) مسند احمد وغیرہ میں موجود ہیں اذا کبرالامام فکبرو جب امام تکبیر کہے تو تم بھی تکبیر کہو واذا قرافانصتوا اور جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو پھر جب امام ولا الضالین کہے تو تم آمین کہو چناچہ صحابہ کرام ؓ کی اکثریت امام کے پیچھے سورة فاتحہ پڑھنے سے منع کرتی ہے البتہ بعض اکا دکا صحابی اس کے حق میں ہیں ان میں محمود ابن ربیع ؓ ہیں جو چوٹی عمر کے صحابی ہیں اور عبادہ بن صامت ؓ انصار مدینہ میں سے ہیں مسلم شریف میں زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے لاقراء ۃ مع الامام فی شی ئٍ بعنی امام کے ساتھ قرأت کا حکم نہیں ہے حضرت جابر ؓ سے موطا امام مالک میں روایت ہے کہ جس نماز میں فاتحہ نہ پڑھی جائے وہ ناقص ہے الا وراء الامام ماسوائے اس کے کہ کوئی شخص امام کے پیچھے نماز ادا کررہا ہو۔
امام ترمذی (رح) سے ہی یہ روایت بھی نقل کی جاتی ہے لاصلوٰۃ الا بقراء ۃ الفاتحۃ یعنی فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی امام ابوحنیفہ (رح) اس حدیث کو مطلق قرأت پر محمول کرتے ہیں اور فاتحہ کو واجب کا درجہ دیتے ہیں دوسری بات یہ ہے کہ امام بخاری (رح) نے حدیث کے الفاط اس طرح نقل کیے ہیں لاصلوٰۃ الا بفاتحۃ الکتب یعنی سورة فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی مگر آپ نے اس کے ساتھ فصاعدًا کا لفظ چھوڑ دیا ہے حالانکہ امام مسلم (رح) نے اسے نقل کیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ سورة فاتحہ کے ساتھ کوئی دوسری سورة ملانا بھی ضروری ہے مگر فاتحہ کو ضروری قرار دینے والے لوگ دوسری سورة کو ضروری قرار نہیں دیتے اس سے بھی معلوم ہوا کہ صحیح مسئلہ یہی ہے کہ مقتدی سورة فاتحہ نہ پڑھے دلیل کے اعتبار سے فاتحہ خلف امام کمزور ہے امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) موطا کی فارسی شرح مصفا میں لکھتے ” قرأت فاتحہ باامام و صحابہ شائع نہ بود “ یعنی امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنا صحابہ کرام میں مشہور نہیں تھا کوئی اکا دکا ہی پڑھتا ہے ان میں سے عبادہ بن صامت ؓ اور کم عمر صحابی محمود ابن ربیع ؓ کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔
امام ترمذی (رح) نے اس مسئلہ میں کافی بحث کی ہے اور فرماتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ من لم یفراء فصلوتہ جائزۃ یعنی جس آدمی نے امام کے پیچھے فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز صحیح ہے البتہ بعض نے تشدد کیا ہے جن میں امام ترمذی (رح) کے استاد امام بخاری (رح) اور چوتھی صدی کے محدث امام بہقی (رح) ہیں یہ سورة فاتحہ کو نماز کا ر کن قرار دیتے ہیں جس کے بغیر نماز باطل ہوتی ہے تاہم جو دلائل پیش کیے ہیں وہ کمزور ہیں امام بخاری (رح) نے اس مسئلہ میں ایک رسالہ بھی لکھا ہے مگر دلائل قوی نہیں ہیں باقی آئمہ فاتحہ نہ پڑھنے کے حق میں ہیں اور ان کے دلائل بھی قوی ہیں ائمہ اربعہ میں سے امام مالک (رح) ، شافعی (رح) اور احمد کا مسلک یہ ہے کہ جہری نماز میں جب امام کی قرأت سنائی دے رہی ہو تو مقتدی قرأت نہ کرے اور سری نماز میں مقتدی کے لیے سورة فاتحہ پڑھنا مستجب ہے یعنی نہ تو فرض ہے اور نہ واجب اور نہ ہی اس کے ترک سے گناہ لازم آتا ہے بہرحال آئمہ اربعہ میں سے کوئی بھی فاتحہ خلف الامام کو لازمی نہیں سمجھتا۔
امام شافعی (رح) کے متعلق مشہور ہے کہ آپ فاتحہ کو فرض قرار دیتے تھے مگر یہ بات درست ثابت نہیں ہوسکی قیام عراق کے دوران آپ یہ فتویٰ دیتے تھے مگر آپ کی کتاب الام جلد ہفتہ میں یہ مسئلہ موجود ہے کہ اگر امام قرأت بالسر ہورہی ہو تو مقتدی بھی پڑھ سکتا ہے آپ نے کتاب الام اپنی عمر کے آخری چار سالوں میں قیام مصر کے دوران لکھی وہیں فوت ہوئے اور وہیں آپ کی قبر ہے مطلب یہ کہ امام شافعی (رح) کا آخری مسلک بھی یہی ہے کہ وہ سورة فاتحہ کی فرضیت کے قابل نہیں ہیں۔
نماز میں جھگڑا
مسلم شریف میں روایت موجود ہے حضور ﷺ نے نماز پڑھائی ایک شخص نے پیچھے پڑھنا شروع کردیا نماز ختم ہوئی تو حضور نے فرمایا مالی انازع القرآ کیا بات ہے میرے ساتھ قرآن میں جھگڑا کیا جارہا ہے فرمایا امام کے پیچھے مت پڑھا کرو چناچہ امام زہری (رح) فرماتے ہیں فانتھی الناس پس لوگ جہری نماز میں امام کے پیچھے پڑھنے لے رک گئے امام ابوحنیفہ (رح) ، امام سفیان ثوری (رح) اور امام اوزاعی (رح) اور ان کے شاگردوں کا بھی یہی مسلک ہے ہدایہ میں امام محمد (رح) کی حرف یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ آپ سری نماز میں امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنے کے قائل تھے مگر یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ ان کی اپنی کتاب میں مذکور ہے کہ میں اور میرے استاد اس بات کے قائل ہیں کہ نماز سری ہو یا جہری مقتدی کے لیے قرأت کرنا جائز نہیں ہے۔
حاصل کلام
حاصل کلام یہ ہوا کہ امہ اربعہ میں سے کوئی بھی فاتحہ خلف امام کی فرضیت کا قائل نہیں ہے جمہور صحابہ ؓ اور امام شاہ ولی اللہ (رح) کا بھی یہی مسلک ہے حضرت ابوہریرہ ؓ سے دونوں قسم کی روایات ملتی ہیں ابن عباس ؓ ، ابن مسعود ؓ ، خلفائے راشدین ؓ ، ابوسعید خدری ، زید بن ثابت ؓ ، جابر بن عبداللہ وغیر ہم عدم قرأت کے قائل ہیں بہرحال اس مسئلہ میں امام ابوحنیفہ کا موقف کمزور نہیں ہے لوگ غلط پراپیگنڈا کرتے ہیں کہ فاتحہ کے بغیر نماز نہیں اور جس کی نماز نہیں وہ جہنمی ہے ان لوگوں کے دلائل کمزور ہیں صرف دو اماموں نے تشدد کیا ہے اور امام بخاری (رح) کے شاگرد بھی کہتے ہیں کہ ہمارے امام متشدد ہیں احناف اس سلسلہ میں اپنا موقف پیش کرتے ہیں اور کسی سے جھگڑا نہیں کرتے اور نہ یہ فتویٰ دیتے ہیں کہ فاتحہ خلف الامام پڑھنے والے کی نماز نہیں ہوتی لہٰذا دوسرے لوگوں کو بھی حق نہیں پہنچتا کہ وہ فاتحہ نہ پڑھنے والوں پر فتویٰ لگائیں کہ ان کی نماز نہیں ہوتی اس کا فیصلہ تو اللہ تعالیٰ پر ہے فروعی مسائل میں اپنی اپنی رائے ہے اور پھر اس کے پیچھے دلائل ہیں جو کسی پر نماز نہ ہونے کا فتویٰ لگاتا ہے وہ گمراہ ہوگا یا متشدد ہوگا اور تشدد درست نہیں ہے مضبوط موقف کو اختیار کرنا چاہیے حدیث شریف میں آتا ہے کہ تشدد نہ کرو ورنہ اللہ تعالیٰ بھی تم پر تشدد کرے گا۔
سورۃ فاتحہ کے متعلق بہت سی تفصیلات ہیں میں نے چند باتوں کی طرف اشارہ کردیا ہے قوی مسلک یہی ہے کہ امام کے پیچھے فاتحہ نہیں پڑھنی چاہیے اور جو پڑھتا ہے اس کے ساتھ الجھنے کی ضرورت نہیں ہے بہرحال اس آیت کریمہ کا حکم یہی ہے کہ جب قرآن پاک پڑھا جائے تو اسے کان لگا کر سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر حم کیا جائے۔
Ayahs 7:205–206سجدہ تلاوت
سورۃ اعراف کی یہ آخری آیتیں ہیں اور بالکل آخری آیت سجدے والی آیت ہے قرآن پاک کی مختلف سورتوں میں کل چودہ مقامات پر سجدہ تلاوت واجب ہوتا ہے جن میں سے پہلا مقام یہ ہے یہ سجدہ ہر پڑھنے والے اور سننے والے پر لازم آتا ہے امام ابوحنیفہ (رح) اور امام شافعی (رح) کے نزدیک سجدہ تلاوت واجب ہے جب کہ باقی ائمہ کے نزدیک سنت موکدہ ہے بہتر تو یہی ہے کہ جس وقت کوئی شخص تلاوت کرے یا سنے تو اس وقت سجدہ کرلے مگر فی الفور کرنا ضروری بھی نہیں بلکہ بعد میں بھی کیا جاسکتا ہے سجدہ تلاوت کے بھی وہی شرائط ہیں جو سجدہ نماز کے ہیں اس کے لیے بھی جگہ ، جسم اور کپڑے کی پاکیزگی ضروری ہے قبلہ رو ہونا بھی لازم ہے ورنہ سجدہ ادا نہیں ہوگا جس طرح نماز کے لیے وضو کی ضرورت ہے اسی طرح سجدہ تلاوت کے لیے بھی طہارت ضروری ہے اس ضمن میں مولانا مودودی نے لکھا ہے کہ سجدہ تلاوت کے لیے جمہور انہی شرائط کے قائل ہیں جو نماز کی شرطیں ہیں مگر ان شرائط کے لیے انہیں کوئی دلیل نہیں ملی چناچہ انہوں نے بعض آثار سے یہ رائے قائم کی ہے کہ اس سجدہ کے لیے باوضو ہونا ، یا قبلہ رو ہونا یا زمین پر سر رکھنا ضروری نہیں ہے ان کی یہ تحقیق درست نہیں ہے ان کی تفسیر میں اس طرح کی اور بھی اغلاط پائی گئی ہیں مثلاً رمضان میں اختتام سحری کے متعلق ان ک تحقیق یہ ہے کہ اگر کوئی شخص سحری کھا رہا ہو اور اذان کی آواز آجائے تو فوراً چھوڑ نہ دے بلکہ اپنی حاجت پر کھا پی لے ملا علی قاری (رح) شرح نقایہ میں لکھتے ہیں کہ یہ شاذ قول ہے بعض لوگوں نے ایسا کیا ہے مگر غلط ہے صحیح مسئلہ یہ ہے کہ جب طلوع فجر کا یقین ہوجائے تو سحری کھنا بند کردینی چاہیے۔
ذکر الٰہی کے آداب
گزشتہ درس میں قرآن پاک کے آداب بیان ہوئے تھے کہ جب اس کی تلاوت ہورہی ہو تو اس کو بغور سنو اور خاموش رہو تاکہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی تمہارے شامل حال ہو اب آج کے درس میں ذکر الٰہی کے آداب کا بیان ہے ارشاد ہوتا ہے واذکر ربک فی نفسک یاد کریں آپ اپنے پروردگار کو اپنے جی میں مولانا اشرف علی تھانوی (رح) اس جملے کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں کہ آپ یاد کریں اور دوسروں کو بھی حکم دیں کہ ہر شخص ایسا ہی کرے نیز تمام امتیوں کو بھی اس بات کا حکم دے دیں اور خود بھی اس بات پر عمل کریں اور یاد کس طرح کریں تضرعاً عاجزی کے ساتھ ، گڑگڑاتے ہوئے اور دوسری بات وخیفۃ یعنی خدا کے جلال سے ڈرتے ہوئے پھر تیسرے نمبر پر ودون الجھرمن القول یعنی بلند آواز سے کم۔
لسانی ذکر
یہاں پر ذکر سے مراد زبانی ذکر ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی جاتی ہے قرآن پاک کی تلاوت کی جاتی ہے نماز پڑھی جاتی ہے اور دوسرے اذکار کیے جاتے ہیں زبانی ذکر کے سلسلے میں سورة بنی اسرائیل میں آتا ہے ولا تجھر بصلاتک ولاتخافت بھا وابتغ بین ذلک سبیلاً آپ نماز نہ زیادہ بلند آواز سے پڑھیں اور نہ بہت آہستہ بلکہ درمیانی راستہ اختیار کریں۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ مکی زندگی میں حضور ﷺ کفار کی موجودگی میں بطریق احسن نماز ایسی جگہ ادا کرتے تھے جہاں کفار کا ہجوم نہ ہو کیونکہ کفار قرآن پاک کی بلند آواز سے تلاوت برداشت نہیں کرتے تھے اور اس میں خلل ڈالتے تھے اس لیے اللہ نے حکم دیا کہ آپ بلند آواز سے تلاوت نہ کریں مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اتنا آہستہ بھی قرآن نہ پڑھیں کہ آپ کے ساتھی بھی نہ سن سکیں لہٰذا ان دونوں حالتوں کا درمیانی راستہ اختیار کریں۔
لسانی ذکر کے بارے میں قانون یہ ہے کہ ذکر بالجہر اور ذکر بالسر دونوں درست ہیں مگر فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ ذکر بالجہر اس وقت روا ہوگا جب کہ دوسروں کے لیے باعث اذیت نہ ہو اگر کوئی آدمی پاس سویا ہوا ہو کوئی شخص بیمار ہے یا کوئی مطالعہ میں مصروف ہے تو ذکر بالجہر مکروہ ہوجاتا ہے البتہ جہاں کسی دوسرے شخص کے معمولات میں نقص نہ آتا ہو وہاں ذکر بالجہر درست ہوگا۔
مولانا عبیداللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ ذکر بالجہر اشاعت قرآن و دین کے لیے ہوتا ہے چناچہ رات کی نمازوں میں قرآن پاک بلند آواز سے پڑھا جاتا ہے جب کہ دن کی نمازوں میں آہستہ پڑھنے کا حکم ہے مطلق تلاوت قرآن بالجہر کا مقصد یہ ہے کہ لوگ قرآن پاک سیکھیں اور آہستہ پڑھنے سے مقصود یہ ہے کہ انسان کا تعلق خطیرۃ القدس اور ملاء اعلیٰ کے ساتھ قائم رہے اور اس طرح عالم بالا کے فرشتوں کے ساتھ اس کا اتصال رہے خود انسان کی توجہ بھی ملاء اعلیٰ کی طرف لگی رہے اور یہ بھی اس پاک جماعت میں شامل ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص نماز میں سورة فاتحہ کے اختتام پر آمین کہتا ہے یا امام کے ساتھ سمیع اللہ لمن حمدہ کہتا ہے اور پھر اس کی تحمید اور آمین فرشتوں کے ساتھ موافق ہوگئی تو وہ مغفور ہوگا گویا فرشتوں کے ساتھ شریک ہونا ملاء اعلیٰ کی جماعت میں شریک ہونا ہے اور یہ مقصد ذکر بالسر سے حاصل ہوتا ہے۔
نفسی و قلبی ذکر
امام ابوبکر جصاص (رح) اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ذکر نفسی بھی ہوتا ہے جو کہ اپنے دل میں اللہ تعالیٰ کی عظمت ، اس کی قدرت اور دلائل قدرت میں غور و فکر کے ذریعے کیا جاتا ہے یہ غور و فکر ایسی عبادت ہے جس میں ریا کا کچھ دخل نہیں ہوسکتا اگر غور و فکر کریگا تو اس کے دل میں اللہ تعالیٰ کی پہچان ، اس کی عظمت اور بڑائی بیٹھے گی امام صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ نفسی ذکر کی دوسری صورت یہ ہے کہ انسان اپنے قلب روح یا لطائف کے ساتھ خدا تعالیٰ کا ذکر کرے نفسی ذکر کے ذریعے بھی ہوتا ہے چناچہ اصحاب طریقت ذکر میں پاس انفاس کی بھی تلقین کرتے ہیں چناچہ سانس کے ذریعے ذکر کے لیے ایسی مشق کی جاتی ہے کہ ہر اندر جانے اور باہر آنے والے……… سانس کے ساتھ خدا تعالیٰ کا ذکر ہوتا ہے چناچہ اگر کوئی انسان سو رہا ہو تب بھی سانس کے ذریعے اس کا ذکر جاری رہتا ہے۔
قلبی ذکر بھی مشق کرنے سے آتا ہے یہ اگرچہ نہ محسوس ہوتا ہے اور نہ کوئی دوسرا شخص جان سکتا ہے مگر قلبی ذکر ہمیشہ جاری رہتا ہے اور انسان کا قلب ہر وقت اللہ اللہ کرتا رہتا ہے حدیث شریف میں قلبی ذکر کی فضیلت میں آتا ہے کہ حشر کے دن اس کا مرتبہ زبانی ذکر سے ستر گنا زیادہ ہوگا کیونکہ ظاہری ذکر میں تو ریا کا شبہ بھی ہوسکتا ہے مگر قلبی ذکرریا سے بالکل محفوظ ہوتا ہے لہٰذا یہ زیادہ افضل ہے قلبی ، روحی اور سری اذکار انسان کے لطائف کو بیدار کرتے ہیں اور وہ بھی ذکر خدا وندی میں مصروف ہوجاتے ہیں البتہ یہ ہے کہ ایسا ذکر عام آدمی کے بس میں نہیں ہے بلکہ اسے سلوک اور تصوف سے تعلق رکھنے والے ہی انجام دے سکتے ہیں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت میں آتا ہے کان رسول اللہ ﷺ یذکر اللہ علیٰ کل احیانہ یعنی حضور نبی کریم ﷺ اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے تو بعض بزرگان دین اسے قلبی ذکر پر ہی محمول کرتے ہیں کیونکہ زبانی ذکر تو بول برازیا مباثرت کے دوران معطل ہوجاتا ہے مگر قلبی ذکر ہر حالت میں جاری رہتا ہے بہرحال ذکر کی ایک صورت یہ بھی ہے۔
باعث تکلیف ذکر
ہمارے ملک میں ذکر کا جو طریقہ رائج ہے یا صلوٰۃ وسلام جس طرح پڑھا جاتا ہے یہ مکروہات میں داخل ہے وقت بےوقت لائوڈ سپیکر پر تلاوت ، نعت خوانی یا درود وسلام پڑھا جاتا ہے کوئی نہیں دیکھتا کہ اس سے دوسروں کو کتنی تکلیف ہورہی ہے کسی بیمار کو تکلیف ہوگی طالب علم کے مطالعہ میں خلل واقع ہوگا یا گھر میں کوئی نماز ، تلاوت یا تسبیح میں مصروف ہے مگر ادھر چیخ و پکار جاری ہے منع کرو تو الٹا الزام لگتا ہے کہ ذکر سے روکتے ہیں اخبارات میں اس کے خلاف آواز اٹھتی ہے مگر کہیں شنوائی نہیں ہوتی اس سلسلے میں حکومت بھی بےبس ہے اگر کسی کو سختی سے منع کیا جائے تو بدنامی ہوتی ہے اللہ کا ذکر ہے اس کو کیسے بند کریں حالانکہ یہ غلط بات ہے جو چیز دوسروں کے لیے اذیت کا باعث ہے وہ مکرو تحریمی کے درجے میں آتی ہے غرضیکہ بعض عوارض کی وجہ سے ذکر بالجہر بعض اوقات مکروہ ہوتا ہے پچھلی سورة میں بھی گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر عاجزی کے ساتھ اور آہستہ کرنا بہتر ہے کیونکہ اس میں ریا کاری بھی نہیں ہوتی اور کسی کو تکلیف بھی نہیں ہوگی ایسا ذکر اجر کے لحاظ سے بھی بہتر ہوگا کیونکہ حضور ﷺ کا فرمان ہے خیرالرزق مایکفی وخیرالذکر ماخفی یعنی بہتر روزی وہ ہے جو انسان کے لیے کفایت کرجائے اور بہتر ذکر وہ ہے جو آستہ طریقے سے ہو بعض بزرگان دین اپنے اپنے سلسلہ کے مطابق ابتداء میں ذکر بالجہر کراتے ہیں یہ دل کی قساوت کو دور کرنے کے لیے ہوتا ہے اور اس لیے بھی کہ جسم میں حرارت پیدا ہو ، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت مولانا حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (رح) کے ارشاد کے مطابق میں مکہ اور مدینہ میں جب ذکر کرو کرتا تھا تو جسم میں حرکت و حرارت پیدا ہوتی تھی اور میں باہر چلا جاتا تھا اور جھاڑیوں میں بیٹھ کر ذکر کیا کرتا تھا تاکہ یہ سلسلہ بھی قائم رہے اور دوسرے لوگوں کے لیے باعث اذیت بھی نہ ہو غرضیکہ ذکر بالسر بہر طور احسن ہے۔
صبح و شام ذکر
تین باتیں پہلے بیان ہوچکی ہیں کہ اپنے رب کا ذکر کرو عاجزی کے ساتھ ، ڈرتے ہوئے اور بلند آواز سے کم تاکہ ریا پیدا نہ ہو اور نہ کسی کے لیے تکلیف کا باعث ہو اور اب چوتھی بات یہ فرمائی بالغدو والا صال صبح بھی اور پچھلے پہر بھی ، بعض فرماتے ہیں کہ غدو سے مراد طلوع فجر سے لے کر طلوع شمس تک کا وقت ہے ۔ مگر صحیح قول یہ ہے کہ اس کا وقت طلوع فجر سے لے کر زوال شمس تک ہے جہاں تک اصال یعنی پچھلے پہر کا تعلق ہے بعض فرماتے ہیں کہ یہ وقت عصر سے مغرب تک کا ہے مگر صحیح بات یہ ہے کہ زوال کے بعد سے لے کر رات کے آنے تک کا وقت مراد ہے دوسرے مقام پر ذلفاً من الیل یعنی رات کی گھڑیوں کے الفاظ آتے ہیں بہرحال فرمایا کہ اپنے رب کو یاد کرو صبح کے وقت بھی اور پچھلے پہر بھی اور طلب یہ ہے کہ ذکر پر ہمیشہ مداومت اختیار کرنی چاہیے ولا تکن من الغفلین اور غافلوں میں نہیں ہونا چاہیے۔
غفلت کا معنی پردہ پڑجانا ہے انسان کے دل پر جہالت او معصیت کا پردہ پڑجاتا ہے اور اس کا اتصال ملاء اعلیٰ کے ساتھ قائم نہیں رہتا اس لیے فرمایا کہ آپ غافلوں میں سے نہ ہوں بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے رہنا چاہیے حدیث شریف میں آتا ہے کہ یاد رکھو ! کہ اللہ تعالیٰ سے بعید چیزوں میں سب سے بعید قلب غافل ہے جب انسان غافل ہوجاتا ہے تو اس کا دل سخت ہوجاتا ہے اور اس پر شیطان مسلط ہوجاتا ہے لہٰذا اس سے بچنے کے لیے اللہ کا ذکر کرنا چاہیے اس کی اطاعت پر کار بند ہونا چاہیے نماز پڑھیں تلاوت قرآن کریں تسبیح واستفغار کریں تاکہ غفلت کے پردے دور ہوجائیں دوسری حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جہاں تک ممکن ہو اللہ کا کچھ نہ کچھ ذکر ضرور کرو تاکہ غفلت سے بچ جائو نماز تو بہرحال فرض ہے اس کے علاوہ دیگر اذکار کے لیے بھی کچھ وقت نکالنا چاہیے۔
فرشتوں کی تسبیح اور سجدہ
فرمایا ان الذین عند ربک وہ جو تیرے رب کے پاس ہیں یعنی ملاء اعلیٰ اور دوسرے فرشتے ہیں لا یستکبرون عن عبادتہ وہ اس کی عبادت سے تکبر نہیں کرتے فرشتے اگرچہ پاک اور مقدس ہیں گناہوں سے مبرا ہیں مگر پھر بھی اللہ کی عبادت میں لگے رہتے ہیں ان کے مقابلے میں انسان تو خطا کار ہیں اس لیے انہیں اس طرف زیادہ توجہ دینی چاہیے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل نہیں ہونا چاہیے فرمایا ایک تو فرشتے اللہ کی عبادت کرتے ہیں اس کے علاوہ ویسجونہ وہ ہر وقت اللہ کی تسبیح بیان کرتے رہتے ہیں تسبیح کا معنی خدا تعالیٰ کی تنزیہ ہے جب کوئی شخص سبحان اللہ کہتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عجیب ، کمزوری اور نقص سے پاک ہے یہ بہت بلند کلمہ ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ملائکہ کے لیے یہ چار کلمات منتخب فرمائے ہیں یعنی سبحان اللہ ، الحمدللہ ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر ، بلاشبہ اللہ ہی بڑا ہے اسی لیے سورة مدخر میں حکم ہے ربک فکبر ، یعنی اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کریں اور اس کا ذکر کیا کریں۔
فرمایا اللہ کے فرشتے ایک تو تسبیح بیان کرتے ہیں او دوسرے ولہ یسجدون اور اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں سجدہ بھی بہت بڑی عبادت ہے حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ سجدہ کی حالت میں انسان اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے سجدہ میں انتہائی درجے کی عاجزی پائی جاتی ہے اور یہی چیز اللہ تعالیٰ کو پسند ہے انسان جس قدر عاجزی کا اظہار کرے گا اتنا ہی مقرب الٰہی ہوگا سورة العلق میں اشراد ہے واسجد واقترب یعنی سجدہ کرکے قرب الٰہی حاصل کرو سجدہ کی مختلف سورتیں ہیں سجدہ نماز کے لیے بھی ہوتا ہے سجدہ تلاوت بھی ہے او عطائے نعمت پر سجدہ شکر بھی ادا کیا جاتا ہے سجدے میں چونکہ تسبیح بھی کی جاتی ہے سحان ربی الاعلیٰ لہٰذا اس میں سجدہ اور تسبیح دونوں چیزیں آجاتی ہیں اسی لیے یہ تقرب الٰہی کا ذریعہ ہے صیح حدیث میں آتا ہے کہ جب کوئی انسان جسدہ کرتا ہے کہ انسان کو سجدے کا حکم ہوا تو اس نے تعمیل حکم کی مگر مجھے سجدہ کا حکم ہوا تو میں انکار کرکے مردود ٹھہرا شیطان کا یہ افسوس اس کے حسد کی بنا پر ہوتا ہے کیونکہ وہ اب توبہ تو کرنا نہیں چاہتا انسان کو سجدہ ریز دیکھ کر اس میں حسد کی آگ بھڑک اٹھتی ہے کہ یہ کیوں اللہ کے سامنے پیشانی کو رکھ رہا ہے کیونکہ وہ تو چاہتا ہے کہ ہر انسان اللہ کا باغی بن کر اس کی جماعت میں شامل ہوجائے تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے اللہ کی عبادت کرنے سے تکبر نہیں کرتے اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں اس کی پاکی بیان کریں اور سجدہ کے ذریعے اس کا تقرب حاصل کریں۔
خلاصہ سورة
سورۃ کے آخر میں اس کا خلاصہ بیان ہوگیا ہے یہ مکی سورة ہے اس میں عقائد صحیحہ توحید رسالت ، قیامت عظمت قرآن آگئے ہیں تاریخ رسالت اور توحید اس سورة کے مرکزی مضامین ہیں چونکہ توحید ایک بنیادی مسئلہ ہے اس لیے توحید فی العبادت اور توحید فی الاستعانت کو مکمل طور پر بیان کردیا گیا ہے خدا تعالیٰ کی عبادت اس کا ذکر اور تسبیح و تہیل سورة کالب لباب ہے اللہ تعالیٰ کی تحمیدو تسبیح کرنا فرشتوں اور انسانوں کا مشترکہ فرض ہے اگر انسان فلاح و فوز کے طالب ہیں تو انہیں اللہ تعالیٰ سے اپنا تعلق برقرار رکھنا چاہیے اور اس کا طریقہ وہی ہے جو اس اس سورة میں خاص طور پر بیان کردیا گیا ہے۔
واللہ اعلم بالصواب الیہ
المرجع والماب و صلی اللہ
تعالیٰ علی رسولہ محمد
والہ و اصحابہ واذواجہ
واتباعہ اجمعین
برحمتک یا الرحم الراحمین