7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 7:35–37

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ١ۙ فَمَنِ اتَّقٰى وَ اَصْلَحَ فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:35 in the Quran reader

اے اولاد آدم ! جب آئیں گے تمہارے پاس رسول تم میں سے بیان کریں گے تم پر میری آیتیں پس جو شخص بچ گیا اور اس نے اصلاح کی ، پس نہیں خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:36 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تکبر کیا ان سے ، یہی لوگ ہیں دوزخ والے ، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے

فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِهٖ١ؕ اُولٰٓئِكَ یَنَالُهُمْ نَصِیْبُهُمْ مِّنَ الْكِتٰبِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوْنَهُمْ١ۙ قَالُوْۤا اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 7:37 in the Quran reader

پس کون زیادہ ظالم ہے اس سے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے یا اس کی آیتوں کو جھٹلاتا ہے یہی لوگ ہیں جن کو پہنچے گا ان کا حصہ جو کتاب میں لکھا ہوا ہے ، یہاں تک کہ جب آجائیں ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے جو ان کو وفات دیتے ہیں (ان کی جانیں قبضک رتے ہیں) تو وہ کہیں گے تم کہاں تھے ، تم کس کو پکارتے تھے اللہ کے سوا وہ کہیں گے ، وہ ہم سے گم ہوگئے ہیں اور گواہی دیں گے اپنے نفسوں پر کہ بیشک تھے وہ کفر کرنے والے

اولاد آدم سے خطاب اس آیت میں اولاد آدم سے خطاب کے متعلق مفسرین کرام کی دو رائیں ہیں پہلی رائے یہ ہے کہ اگرچہ خطاب تما اولاد آدم کو اکٹھا ہے مگر فی الواقع یہ ہر نبی کے زمانہ میں علیحدہ علیحدہ ہوتا رہا ہے تاہم یہاں پر بیان اکٹھا کردیا گیا ہے اس کی مثال رسولوں سے خطاب میں بھی ملتی ہے جیسے فرمایا یاھا الرسل کلومن الطیبت واعملوا صالحاً (المومنون) اے گروہ رسل ! پاک اور حلال چیزیں کھائو اور نیک اعمال انجام دو یہاں بھی بظاہر خطاب تو تمام رسولوں کو ہے مگر یہ حکم ہر رسول کی بعثت کے ساتھ فرداً فرداً نازل ہوتا رہا ہے بالکل اسی طرح یہاں پر خطاب تو پوری اولاد آدم کو ہے مگر حقیقت میں یہ ہر رسول کے زمانے میں نازل ہوتا رہا ہے جو اسے اپنی اپنی امتوں تک پہنچاتے رہے ہیں۔ مفسرین کرام کی دوسری رائے یہ ہے کہ خطاب تمام انبیاء سے اکٹھا کیا گیا تھا اور یہ اس وقت کی بات ہے جب اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے پختہ عہد لیا تھا واذاخذ اللہ میثاق النبیین لما اتیتکم من کتب و حکمۃ ثمہ جاء کم رسول مقصدق لما معکم لتومنن بہ ولتنصرنہ (آل عمران) اور پختہ عہد یہ تھا کہ جب میری کتاب اور حکمت آئے اور پھر جب میر آخری رسول آجائے تو اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا یہ عالم ارواح کی بات ہے اور اسی طرح اس جہان میں ایک عہد تما اولاد آدم سے بھی لیا گیا تھا جسے عد الست کہا جاتا ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ لاسلام کی پشت سے تما ارواح کو نکال کر پوچھا تھا الست بربکم کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں قالو بلیٰ تو سب نے نے بیک زبان کہا تھا کیوں نہیں ؟ مولا کریم ! تو ہی ہمارا پروردگار ہے تو اس وقت تمام اولاد آدم سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا گیا تھا کہ جو خدا تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لائے گا نیکی کے کام انجام دے گا شرک سے بچتا رہے گا وہ فلاح پاجائے گا اور اس کے خلاف کرنے والا ناکام و نامراد ہوگا۔ الغرض ! یہ خطاب مجموعی طور پر اولاد آدم سے ہے جیسا کہ پیچھے بھی اس قسم کا خطاب گزر چک ہے یبنی آدم خدوا زینتکم عند کل مسجد یعنی اے اولاد آدم عبادت کے وقت زینت اختیار کرو اپنی ستر پوشی کرو اور برہنگی سے پرہیز کرو اس سے پہلے یہ بھی آتا ہے یبنی آدم قد انزلنا علیکم لباساً یواری سواتکم ریشاً اے اولاد آدم ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے جو تمہاری ستر پوشی کرتا ہے اور باعث زینت بھی ہے۔ سورۃ بقرہ میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے حکم پر شیطان نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تو اللہ نے فرمایا یادم اسکن انت وزوجک الجنۃ اے آدم (علیہ السلام) ! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو اور حسب پسند اس میں سے کھائو مگر ایک درخت کے قریب نہ جانا پھر شیطان نے انہیں بہکا کر ممنوعہ شجر کا پھل کھانے پر آمادہ کیا اور اس طرح انہیں جنت سے نکلوا دیا مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس وقت اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسان سے خطاب کیا کہ اے اولاد آدم تلک الجنۃ التی نورث من عبادتاً (سورۃ مریم) یہ جنت ہمارے بندوں کے لیے ان کے جدامجد حضرت آدم (علیہ السلام) کی وراثت ہے اگر اسے دوبارہ حاصل کرنا چاہتے ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے جو ان آیات میں بیان کیا گیا ہے۔ خوشبو جنت کا ایک خاص تحفہ ہے جو جنتیوں کو میسر ہوگی حدیث شریف میں آتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو خوشبو پیش کرے تو اس کو قبول کرلینا چاہیے خوشبو میں عطر بھی ہوسکتا ہے اور پھول ، گلدستہ وغیرہ بھی آجاتا ہے فرمایا اس سے انکار نہ کرو فانہ خرج من الجنۃ کین کہ یہ جنت سے آئی ہوئی ہے اور یہ تمہیں اپنے دائمی ٹھکانے کی یاد دلاتی ہے لہٰذا اسے رد نہ کیا کرو۔ متقی اور مصلح بہرحال جنت میں پہنچنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ طریقہ بیان فرمایا یبنی آدم اے اولاد آدم اما یاتینکم رسل منکم جب تمہارے پاس رسول آئیں جو تمہی میں سے ہوں گے یقصون علیکم ایتی وہ بیان کریں گے تم پر میری آئتیں یعنی میرے احکام دلائل ، معجزات ، اصول اور قوانین تمہارے سامنے پیش کریں گے اس وقت فمن اتقی جو شخص بچ گیا جس نے کفر ، شرک ، نفاق ، معاصی اور گندے عقیدے سے اپنے آپ کو بچالیا ظاہر ہے کہ جو شخص کامل متقی ہوگا وہ صغیرہ گناہوں کے علاوہ مشتبہات سے بھی بچ جائے گا اور اس ضمن میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ متقی وہ ہے من اتقی اشبھات فقد استبراً لدینہ جو شبہات سے بچ گیا اور اس نے اپنے دین کو بری کرلیا علامہ جلال الدین سیوطی (رح) فرماتے ہیں کہ اتقیٰ کی پہلی منزل یہ ہے کہ من اتقی الشرک جو شرک سے بچ گیا جو شرک میں ملوث ہوگیا وہ متقی نہیں ہوسکتا اتقی کے لیے کفر ، شرک اور بدعقیدگی سے پاک ہونا ضروری ہے جس نے یہ چیزیں ترک نہ کیں وہ تو خود ناپاک ہوگا اس کا دل اور روح بھی پلید ہوگا۔ فرمایا جنت کی نعمتیں اس شخص کے لیے ہیں جو بچ گیا واصلح اور اصلاح کرلی اپنے آ پکو سنوار لیا برے کاموں کو ترک کرکے نیکی کی طرف آگیا۔ اپنا اور مخلوق کا حق ادا کیا اپنے خالق کا حق پہچانا وہی مومن ، متقی اور مصلح ہوگا اور جو اس معیار پر پور اترے گا فلا خوف علیھم ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا ولاھم یحزنون اور نہ وہ غمگین ہوں گے خوف کا تعلق مستقبل سے ہوتا ہے کہیں آنے والے زمانے میں کوئی ناگوار معاملہ پیش نہ آجائے مگر کامل الایمان لوگوں کے متعلق فرمایا بڑی گھبراہٹ یعنی قیامت کے دن بھی ان کے دل مطمئن ہوں گے اور فرشتے تسلی دیں گے کہ گھبرائو نہیں اللہ تعالیٰ تمہارے لیے بہتری کرے گا اسی طرح غم کا تعلق ماضی کے امور سے ہوتا ہے مجرمین کو احساس ہوجائے گا کہ انہوں نے دنیا کی زندگی میں وقت ضائع کردیا اپنے مال کو تباہ اور صحت کو برباد کیا کفر ، شرک اور بدعات میں ملوث رہے ان کے یہی افعال انہیں غم میں مبتلا رکھیں گے مگر سچے مومن جنہوں نے ٹھیک کام انجام دیے انبیاء کی دعتو پر لبیک کہا کفرو شرک سے بچتے رہے اور اپنی اصلاح کی ، وہ نہ تو مستقبل کے فکر سے خوفزدہ ہوں گے اور نہ ماضی کے کارناموں پر غمگین ہوں گے۔ بشریت رسل اس آیت کریمہ میں منکم کا لفظ خاص طور پر تو جہ طلب ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے اولاد آدم ! جب تم ہی میں سے رسول آئیں جو میری آیتیں بیان کریں گے مقصد یہ ہے میں جو رسول مبعوث کروں گا وہ تمہارے ہی خاندان کے لوگ ہوں گے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام بھی قریش مکہ میں سے تھے آپ کسی کے چچا تھے ، کسی کے بھتیجے ، کسی کے داماد تھے اور کسی کے خسر ، کسی کے باپ تھے اور کسی کے بھائی ، کوئی اجنبی نہیں تھے اگر ایسا ہوتا تو آپ سے فیضان حاصل کرنے میں دقت پیش آتی اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اس بات کو بار بار دہرایا ہے کہ رسول تمہارے ہی جیسے انسان ہوتے ہیں اور انسانوں کی ہدایت کے لیے آتے ہیں اللہ نے اس کی حکمت بھی بیان فرمائی ہے کہ چونکہ زمین میں انسان آباد ہیں اس لیے وہ انسان ہی سے ہدایت حاصل کرسکتے ہیں اور اگر زمین پر فرشتے آباد ہوتے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو رسول بناکر بھیج دیتا خود حضور ﷺ کا اسوہ حسنہ قدم قدم پر آپ کی بشریت کا اعلان کررہا ہے مسجد نبوی کی تعمیر ہورہی تھی تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے ہاتھوں سے گارا اٹھا کر لائے اور تعمیر میں حصہ لیا آپ پر گرد و غبار بھی پڑا ہوتا تھا خندق کھودی جارہی تھی تو آپ کدال لے کر باقی صحابہ ؓ کے ہمراہ پتھر توڑ رہے تھے صحابہ ؓ نے بھوکا شکوہ کیا اور اپنے پیٹوں پر ایک ایک پتھر بندھا ہوا دکھایا حضور ﷺ نے پیٹ سے کپڑا ہٹایا تو آپ کے پیٹ پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے مقصد یہ کہ آپ نے اپنی بھرپور انسانی زندگی گزاری آپ نماز ، روزہ اور دیگر عبادات بھی بجا لاتے تھے جہاد میں بھی شریک ہوتے تھے اہل و عیال کے ساتھ تمام معاملات کرتے تھے معاشرتی امور میں پورا پورا حصہ لیتے تھے عدل و انصاف کو قائم کرتے تھے غرضیکہ انسانی زندگی کا کوئی گوشہ ایسا نہیں جس میں آپ نے حصہ نہ لیا ہو ظاہر ہے کہ انسانی امور کی انجام دہی کے لیے انسان ہونا ضروری ہے اگر غیر جنس انسانوں میں رسول بن کر آئے تو وہ تو اسوہ حسنہ ہی پیش نہیں کرسکتا جس کی لوگ اتباع کریں مثال کے طور پر اگر جبرائیل یا کوئی دوسرا فرشتہ رسول بن کر آجاتا ہے تو وہ لوگوں کے لیے کس طرح نمونہ بن سکتا تھا جب کہ نہ اسے کھانے پینے کی حاجت ، نہ بیوی بچوں کی ضرورت ، نہ تکلیف سے واسطہ اور نہ دیگر ضروریات زندگی کا احتیاج ایسی صورت میں انسان یہ عذر کرسکتے ہیں کہ مولا کریم تو نے ایسی ہستی کو رسول بنا کر بھیجا ہے جو ہمارے ساتھ مطابقت ہی نہیں رکھتا لہٰذا ہمارے لیے وہ نمونہ کیسے پیش کرسکتا ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی طرف سے جتنے بھی انبیاء اور رسل مبعوث فرمائے وہ سب کے سب انسان تھے بعض لوگ نبی کو انسان یا بشر کہنے میں توہین سمھجتے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کی اشرف المخلوقات انسان ہونا تو اعزاز کی بات ہے بات اس وقت بگڑتی ہے جب ہر گناہ گار آدمی نبی کو اپنے جیسا انسان سمجھتا ہے یہ تو مشرکوں کا شعار ہے نبی تو تمام انسانوں میں اللہ کا منتخب بندہ ہوتا ہے اس کے مرتبے کو کون پہنچ سکتا ہے پھر اللہ نے انبیاء کی بشریت کا بار بار تذکرہ کیا ہے خود حضور ﷺ کی بان مبارک سے کہلوایا قل انما انا بشرً مثلکم یوحی الی (سورۃ کہف) اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کہ میں بھی تمہاری طرح بشر ہوں مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے اور وحی کا نزول سب سے بڑا اعزاز ہے جو کسی انسان کو مل سکتا ہے اس لیے کوئی شخص نبی کو ہم مرتبہ نہیں کہتا بلکہ نوعیت کے لحاظ سے بنی بھی انسان ہوتا ہے محدثین کرام نے کتب احادیث میں باب باندھ کر حضور ﷺ کے بشری تقاضوں کا ذکر کیا ہے آپ کا چلنا پھرنا ، کھاناپینا ، سونا جاگنا ، ہنسنا رونا ، سب انسان کی طبعی ضروریات ہیں جو حضور ﷺ میں بھی پائی جاتی تھیں۔ مکذبین اور متکبرین متقین اور مصلحین کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا والذین کذبو بایتنا جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا توحید و رسالت اور معاد کا نکار کیا دنیا میں من مانی کرتے رہے واستکبرو عنھا اور تکبر کے مرتکب ہوئے تکبرہمیشہ مال و جاہ کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے دنیا میں چند روزہ اقتدار کی وجہ سے لوگ مفرور ہوجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرنے لگتے ہیں ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا اولیک اصحب النار یہی لوگ دوزخ والے ہیں وہیں جائیں گے ھم فھا خلدون اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے کیونکہ انہوں نے جہنم سے بچائو کی کوئی تدبیر نہیں کی آخرت کے دائمی عذاب سے بچائو کے لیے ایمان اور اتقیٰ کی ضرورت تھی جس سے وہ محروم رہے لہٰذا انہیں ہمیشہ کے لیے دوزخ میں رہنا ہوگا۔ افترا علی اللہ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے رسالت اور معاد کا اکٹھا ذکر کیا ہے جس شخص پر اللہ تعالیٰ نے رسالت اور معاد کا اکٹھا ذکر کیا ہے جس شخص پر اللہ تعالیٰ مہربانی کرتا ہے اور اسے تاج نبوت سے سرفراز کرتا ہے وہ اللہ کا سچا نبی ہوتا ہے اور جو شخص نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے وہ مفتری اور کذاب ہوتا ہے اس کے علاوہ جو سچے نبی کی تکذیب کرتا ہے وہ بھی اللہ کے ہاں بہت بڑا مجرم ہوتا ہے ارشاد ہوتا ہے فمن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذباً اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے مخلوق میں سے کسی کو خدا کا بیٹا کہنا بلاشبہ افترا علی اللہ ہے برہنہ طواف یا بیحرہ ، سائبہ وغیرہ کی حرمت کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا بھی اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے شرک بذات خود بہت بڑا افترا ہے جس سے اللہ نے بیزاری کا حکم دیا ہے اس کے علاوہ جھوٹے مدعیان نبوت جیسے مسلمہ کذاب اور اسوادعنسی ، غلام احمد قادیانی وغیرہ کذاب ہیں ان سے بڑھ کر کون ظالم ہوسکتا ہے پہلے اس جھوٹے دعوے کا بھی تذکرہ ہوچکا ہے کہ کوئی شخص یہ کہے کہ اس پر وحی ناز ہوتی ہے حالن کہ سلسلہ وحی ختم ہوچکا ہے اور اب یہ چیزیں شیطان ہی القا کرتا ہے اس سے بڑا ظالم بھی کوئی نہیں فرمایا اوکذب بایتہ جو اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرتا ہے اس کے نازل کردہ دلائل معجزات ، احکام اور قوانین کو سچا نہیں سمجھتا وہ بھی بہت بڑا ظالم ہے فرمایا اولیک ینالھم نصیبھم من الکتب ایسے ہی مکذبین کو کتاب میں لکھا ہوا ان کا حصہ مل جائے گا اللہ تعالیٰ دنیا میں مہلت دیتا ہے اور بسا اوقات نافرمانوں سے کوئی نعمت واپس نہیں لیتا بلکہ ان کو دنیا کا حصہ ملتا رہتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ ہم نیکوں اور بدوں سب کو دیتے ہیں مگر دنیا کا مال وجاہ اور عیش و عشرت اللہ کے ہاں شرافت کا کوئی معیار نہیں محض دنیا حاصل کرکے کوئی شخص خدا تعالیٰ کی محبوبیت کا دعویٰ نہیں کرسکتا دنیا میں تو بڑے بڑے ناہنجار لوگ بھی آرام و آسائش میں رہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ ان کے لیے دنیا میں جو لکھا جاچکا ہے وہ انہیں ملتا رہے گا۔ اقرار کفر فرمایا حتیٰ اذا جاء تھم رسلنا یتوفو نھم یہاں تک کہ جب ہمارے فرشتے ان کی روح قبض کرنے کے لیے آتے ہیں قالو تو ان سے کہتے ہیں اینما کنتم تدعون من دون اللہ ، کہاں ہیں وہ جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے تھے یعنی جن کی تم عبادت کرتے تھے کسی کو پکارنا حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے ہی ہوتا ہے تدعون پکار اور عبادت دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے اللہ نے بار بار فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پکارو بلکہ وادعوہ مخلصین لہ الدین بلکہ خالص اسی کو پکارو کیونکہ غائبانہ طور پر مشکل کشائی اور فریاد رسی اس کے سوا کوئی نہیں کرسکتا فرشتے ، نبی ، ولی مقربین سب اس کے محتاج ہیں نداریم غیرازتو فریاد رس اے مولا کریم ! تیرے بغیر کوئی فریاد رس نہیں ہے کوئی ایسی ہستی نہیں جو تکلیف کو دور کردے یا مشکل کو حل کردے یہ تیری ہی ذات کا خاصہ ہے مشرکوں کا حال یہ ہے کہ کبھی قبروں پر سجدے کرتے ہیں کبھی ملائکہ اور جنات کی دہائی دیتے ہیں کوئی جبرائیل ، اور میکائیل کو پکارتا ہے کوئی اولیا ، اللہ سے مدد مانگتا ہے اور کوئی یا علی مدد کا نعرہ لگاتا ہے یہ سب شرک ہے جب مشرکین کی موت کا وقت آئے گا تو فرشتے پوچھیں گے کہاں گئے تمہارے وہ معبود جن کو تم مافوق الاسباب پکارا کرتے تھے قالو ضلوعنا تو کہیں گے وہ تو ہم سے گم ہوگئے اب کہیں نظر نہیں آتے جو ساری عمر بیوقوف بناکر مال کھاتے رہے اور مشکل وقت میں مشکل کشائی کا وعدہ کرتے رہے آج کسی کام نہیں آئے وشھدو علی انفسھم اور خود اپنے خلاف گواہی دیں گے انھم کانو کفرین کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرتے رہے اب جب کہ جان نکل رہی ہے اور جزائے عمل کا وقت شروع ہونے والا ہے تو اپنے کفر اور شرک کا اقرار کریں گے مگر اس وقت کا اقرار کچھ کام نہیں آئے گا اور انہیں اپنے اعمال کی سزا بھگتنا پڑے گی اس سورة کی ابتدا میں بھی ایسا ہی مضمون گزر چکا ہے جب ہماری پکڑ آجائے گی تو پھر وہ اقرار کریں گے انا کنا ظلمین کہ بیشک ہم دنیا میں ظلم کرتے رہے اور سب سے بڑا ظلم شرک ہے جس کا وہ ارتکاب کرتے رہے جب موت کے فرشتے آجائیں گے تو پھر انہیں اقرار کے بغیر چارہ نہیں ہوگا۔
Ayahs 7:38–39

قَالَ ادْخُلُوْا فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ فِی النَّارِ١ؕ كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِیْهَا جَمِیْعًا١ۙ قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا فَاٰتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ١ؕ۬ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَّ لٰكِنْ لَّا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:38 in the Quran reader

فرمائے گا (اللہ تعالیٰ ) ان سے داخل ہو جائو دوزخ میں ان امتوں میں شامل ہو کر جو تم سے پہلی گذری ہیں ، جنوں اور انسانوں میں سے۔ جب بھی داخل ہوگ ی ایک امت تو دوسری پر لعنت کریگی ، یہاں تک کہ جب سارے اس میں جم ہوجائیں گے تو پچھلے کہیں گے پہلوں سے ، اے ہمارے پروردگار ! انہوں نے ہمیں گمراہ کیا ، لہٰذا تو ان کو دگنا عذاب دے دوزخ میں۔ فرمائے گا (اللہ تعالیٰ ) تم میں سے ہر ایک کے لئے دگنا ہے ، لیکن تم نہیں جانتے

وَ قَالَتْ اُوْلٰىهُمْ لِاُخْرٰىهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 7:39 in the Quran reader

اور کہیں گے پہلے پچھلوں سے ، پس نہ ہوئی تمہارے لئے ہمارے مقابلے میں کچھ بڑائی پس چکھو عذاب اس کے سبب جو تم کماتے تھے۔

ربط آیات آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے ضمن میں یہ بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان کو خطاب کرکے فرمایا کہ اگر تم اپنے جدامجد کے ٹھہرنے والی جنت میں دوباہر داخلہ چاہتے ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ دنیا میں جب تمہارے پاس اللہ کے رسول آئیں تو ان کا اتباع کرنا اور ان کے بتلائے ہوئے راستے پر چلنا پھر یہ بھی فرمایا کہ جو کوئی تقویٰ اختیار کرے گا کفر اور شرک سے بچتا رہے گا معاصی کے قریب نہیں جائے گا نیکی اختیار کرے گا تو ایسے لوگوں کے لیے نہ آئندہ کا کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ سابقہ اعمال پر غمگین ہوں گے اس کے برخلاف جن لوگوں نے تکذیب کی اللہ کے نبیوں کی مخالفت کی خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم نہ کیا بلکہ غرور وتکبر میں مبتلا ہوئے تو ایسے لوگ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہیں گے جو شخص اللہ پر افتراء باندھتا ہے کفر ، شرک اور رسومات باطلہ کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے یا اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتا ہے اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوسکتا ہے ایسے لوگوں کو دنیا میں ان کے مقدر کا حصہ ملتا رہے گا اور پھر جب بوقت وفات ان کے پاس فرشتے آئیں گے تو ڈانٹ ڈپٹ کے انداز میں ان سے پوچھیں گے کہ وہ کہاں گئے جنہیں تم دنیا میں مافوق الاسباب مدد کے لیے پکارتے تھے تو اس وقت وہ کہیں گے کہ ہمارے مددگار وہ تو ہم سے کھو گئے پھر وہ اقرار کریں گے کہ وہ دنیا میں کفر میں مبتلا رہے۔ جہنم میں داخلہ یہ تو ان کا دنیا کا حال تھا اب اللہ نے ان کے ساتھ آخرت میں کیے جانے والے سلوک کا ذکر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے قال ادخلو فی امم قد خلت من قبلکم من الجن والانس فی النار تم بھی ان امتوں میں شامل ہو کر دوزخ میں داخل ہوجائو جو تم سے پہلے جنوں اور انسانوں میں سے گزری ہیں تم نے آیات الٰہی کی تکذیب کی توحید کو نہ مانا اپنی اصلاح نہ کی ، نبیوں کی نبوت سے انکار کیا ، قیامت پر یامان نہ لائے ، لہٰذا تم بھی سابقہ منکرین کے ساتھ دوزخ میں چلے جائو۔ اللہ تعالیٰ نے جنات اور انسانوں دو گروہوں کو مکلف بنایا ہے یہ دونوں انواع احکام الٰہی کی پابند ہیں مگر نہ تو انسان اس معیار پر پورے اترے اور نہ جنات ، جن بھی انسانوں ہی کی طرح مخلوق ہے ان میں ایک نمایاں فرق یہ ہے کہ انسان تو انسان کو نظر آتے ہیں مگر جنات نظر نہیں آتے تاہم نیکی بدی کے کردار میں وہ انسانوں کی مانند ہی ہیں سورة جن میں موجود ہے وانا منا المسلمون ومنا القسطون جنوں نے خود اقرار کیا کہ ان میں فرمانبردار بھی ہیں اور نافرمان بھی جس طرح انسانوں میں اچھے برے ہر قسم کے لوگ ہوتے ہیں اسی طرح جنات میں بھی پائے جاتے ہیں جنات چونکہ انسانوں کے تابع ہوتے ہیں اس لیے جتنے فرقے انسانوں میں پائے جاتے ہیں اتنے ہی جنوں میں بھی ہوتے ہیں سورة جن میں کنا طرائق قدداً کے الفاظ بھی آتے ہیں نیکی اور بدی کی جتنی باتیں اور رسومات انسانوں میں ہوتی ہیں وہ جنوں میں بھی موجود ہوتی ہیں البتہ ان کی تخلیق کے مادہ میں فرق ہے انسان میں خاک کا مادہ زیادہ ہے جب کہ جنات میں آگ کا عنصر زیادہ ہے البتہ جنات کو یہ حیثیت حاصل ہے کہ وہ تو انسانوں کو دیکھ سکتے ہیں مگر انسان انہیں نہیں دیکھ سکتے گزشتہ رکوع میں آچکا ہے انہ یرکم ھو وقبیلہ من حیث لاترونھم یعنی شیطان اور اس کا قبیلہ تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتا ہے جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے بہرحال جنات میں بھی انسانوں کی طرح پارٹیاں اور گروہ ہوتے ہیں ان میں بھی شرکیہ رسومات اور بدعات پائی جاتی ہیں جس طرح انسان نیک و بد ہیں اسی طرح جنات میں بھی دونوں گروہ پائے جاتے ہیں انسان اور جن دونوں قانون الٰہی کے پابند ہیں ظاہر ہے کہ جو گروہ مکلف ہوگا اس کے لیے جزائے عمل بھی لازمی ہوگا تو اللہ نے فرمایا جس طرح انسان اپنے اچھے اور برے اعمال کی پاداش میں جنت یا دوزخ میں جائیں گے اسی طرح جنات کو بھی محاسبے کے عمل سے گزار کر جنت یا دوزخ میں بھیجا جائے گا۔ ایک دوسرے کی ملامت فرمایا کلما دخلت امۃ جب کوئی امت دوزخ میں داخل ہوگی لعنت اختھا تو دوسری پر لعنت بھیجے گی اخت بہن کو کہتے ہیں مگر یہاں دوسرا ساتھی گروہ مراد ہے دوزخ میں پہنچ کر مختلف طبقات کے لوگ ایک دوسرے کو طعن ملامت کریں گے اور اس برے ٹھکانے پر جانے کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے حتیٰ اذا ادارکو فیھاجمیعاً چناچہ اگلے پچھلے جب سب کے سب جہنم میں پہنچ جائیں گے قالت اخراھم لاولھم تو پیچھے آنے والے پہلوں سے کہیں گے ربنا ھولاء اضلونا اے ہمارے پروردگار ! انہوں نے ہمیں گمراہ کیا ہم انہی کے بتائے ہوئے گمراہی کے راستوں پر چل کر عذاب کیا س مقام میں پہنچے فاتھم عذاباً ضعفاً من النار لہٰذا ان کو جہنم میں دگنا عذاب دے یہ لوگ خود تو گمراہ تھے انہوں نے دوسروں کو بھی گمراہ کیا لہٰذا یہ دوہری سزا کے مستحق ہیں ان کو ان کی اپنی گمراہی کی سزا بھی دے اور ہمارے گناہوں کا وبال بھی انہی پر ڈال اس قسم کی درخواست ہر طربقہ دوسرے کے لیے کرے گا چناچہ بڑے چھوٹوں پر اور چھوٹے بڑوں پر لعنت کریں گے حاکم ماتحت کے لیے اور ماتحت حاکم کے لیے بددعا کریں گے لیڈر اپنے پیروکاروں کو مورد الزام ٹھہرائیں گے جب کہ پیروکار اپنے لیڈروں کو ذمہ دار قرار دیں گے ضعیف لوگ طاقتوروں کی شکایت کریں گے جبکہ طاقتور کمزوروں پر ذمہ داری ڈالیں گے اور اس طرح سب ایک دوسرے کے لیے دوہرے عذاب کا مطالبہ کریں گے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا قال لکل ضعیف ہر ایک کے لیے دگنا عذاب ہے ولکن لاتعلمون لیکن تم نہیں جانتے مطلب یہ کہ ایک دوسرے کو مطعون کرنے والے تم سب کے سب گناہ گار ہو لہٰذا تم سب کو ڈبل سزا دی جائے گی۔ دوہری سزا کی توجیہہ شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) دوہری سزا کی توجیہہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ پہلے لوگوں کو اس لیے ڈبل سزا ہوگی کہ ایک تو وہ خود گمراہ ہوئے اور دوسرے انہوں نے پیچھے آنے والوں کو گمراہ کیا لہٰذا پچھلوں کا وبال بھی پہلوں پر پڑا اور وہ دوہرے عذاب کے مستحق ہوئے اسی طرح بعد میں آنے والوں کو بھی دو وجوہ سے دوہرا عذاب ہوگا پہلی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے گمراہی کا راستہ اختیار کیا اور دوسری وجہ یہ کہ انہوں نے سابقہ امتوں کے حالات سے عبرت حاصل نہ کی اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں عبرت پکڑنے کی باربار نصیحت کی ہے جیسے فاعتبرو یاولی الابصار (الحشر) اے صاحب بصیرت لوگو ! عبرت حاصل کرو ، نیز فرمایا ان فی ذلک لعبرۃ لاولی الابصار (آل عمرانض اس میں عقلمندوں کے لیے عبرت کا سامان ہے جب بھی کوئی قوم ہلاک ہوئی وہ بعد میں آنے والوں کے لیے باعث عبرت بنی مگر انہوں نے عبرت نہ پکڑی لہٰذا بعد میں آنے والے بھی دوہرے عذاب کے مستحق ٹھہرے۔ موجد کا حصہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو کوئی ہدایت کا راستہ مقرر کرتاہ اس پر ہر عامل کے بدلے میں موجد کو بھی ایک ایک اجر ملتا ہے اور اگر کوئی شخص غلط رسم ایجاد کرتا ہے اور پھر لوگ اس پر چل نکلتے ہیں تو ہر عمل کرنے والے کے گناہ کا ایک حصہ رسم ایجاد کرنے والے کے نامہ اعمال میں بھی درج ہوتا رہتا ہے حضور ﷺ ک ارشاد ہے اول من سن القتل جس نے سب سے پہلے قتل کو رائج کیا یعنی آدم (علیہ السلام) کے جس بیٹے نے اولین قتل کیا تھا اس کے نامہ اعمال میں ہر مابعد قتل (ناحق) کا گناہ لکھا جاتا رہے گا ذرا اندازہ لگائیے کہ قیام تک ہونے والے کتنے قتلوں کا بوجھ اس کے سر پر ہوگا۔ اس اصول کے تحت نبی کے اعمال صالحہ امت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوتے ہیں ہر اچھا طریقہ اور نیکی کا کام نبی خود جاری کرتا ہے اور امت کو کرنے کی ترغیب دیتا ہے لہٰذا امت کے لوگ جب تک وہ نیک اعمال انجام دیتے ہیں اس میں سے ایک ایک اجر نبی کو بھی ملتا رہتا ہے اور اس طرح نبی کا اعمال نامہ سب سے اعلیٰ وارفع ہوجاتا ہے علی ہذالقیاس گناہوں کا سب سے زیادہ بوجھ شیطان پر ہوگا کیونکہ ہر برائی کا موجد وہی ہے دنیا میں جتنے گناہ سرزد ہوتے ہیں سب کا ایک ایک وبال شیطان پر پڑتا ہے اور اس طرح قیامت کو اس کی گردن پر گناہوں کا سب سے زیادہ بوجھ ہوگا۔ عذاب کا مزا جب اللہ تعالیٰ تمام منکرین کے لیے دوہرے عذاب کا اعلان فرما دیں گے تو پھر وقالت اولھم لاخراھم تو ان میں سے پہلے لوگ پچھلوں سے کہیں گے فما کان لکم علینا من فضل ہم پر تمہیں کیا فضیلت حاصل ہوئی ہمیں بھی دوہرا عذاب ہوگا اور تمہیں بھی دوہرا ہوگا تو پھر تمہارے عذاب میں تو کوئی تخفیف نہ ہوئی تم نے ہماری شکایت کی تھی مگر اس کا تمہیں کوئی فائدہ نہ ہوا یہاں پر لفظ فضل سے تخفیف مراد لی جائے گی۔ پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا فذوقوا العذاب بما کنتم تکسبون پس عذاب کا مزا چکھو جو کچھ تم کماتے رہے تم نے اپنی زندگی میں جو عقیدہ قائم کیا اور پھر اس کے مطابق جو عمل انجام دیا اس کا نتیجہ تمہارے لیے سزا کی صورت میں برآمد ہوا لہٰذا اس سزا کو اب بھگتو ، یہ عام قانون بھی ہے جسے سورة البقرہ میں بیان کیا گیا ہے لھا ماکسبت وعلیھا ماکتبت کسی انسان نے جو اچھا عمل کیا ہے اس کا اجر بھی اسی کو ملے گا اور جو برائی انجام دی ہے اس کا وبال بھی اسی پر پڑے گا ہر شخص کو اپنے ہی اعمال کا بدلہ ملے گا کوئی شخص کسی دوسرے شخص کا بوجھ نہیں اٹھائے گا کیونکہ یہ بھی ایک واضح اصول ہے ولا تزروازرۃ وزرا اخری (الانعام) کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے شخص کا بوجھ نہیں اٹھائے گا تو یہاں بھی یہی فرمایا کہ اپنی کارکردگی کے عذاب کا مزا چکھو اللہ فرمائے گا ذلک بما قدمت یدک یہ تیرے ہی ہاتھوں کا آگے بھیجا ہوا بدلہ ہے اسے وصول کرو اور پھر اللہ کا سورة ق میں یہ بھی فیصلہ ہے وما انا بظلام للعبید کہ میں اپنے بندوں پر ذرہ بھر زیادتی نہیں کرتا بلکہ وہ ہر شخص کو اس کے اعمال ہی کا بدلہ دیتا ہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا میں نے تمہیں دنیا میں زندگی دی تھی حواس خمسہ عطا کیے عقل جیسا عظیم جوہر و دیعت کیا کام کرنے کی مہلت دی تمہاری ہدایت کے لیے انبیاء بھیجے کتابیں نازل فرمائیں مبلغین کے ذریعے پیغام پہنچایا مگر تم نے اس پورے سامان ہدایت سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا لہٰذا اب اس کا مزہ چکھو یہ تمہارے ہی ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہے۔
Ayahs 7:40–43

اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 7:40 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو اور تکبر کیا ان سے ، نہیں کھولے جائیں گے ان کے لئے آسمان کے دروازے اور نہ داخل ہوں گے وہ جنت میں یہاں تک کہ داخل ہوجائے اونٹ سوئی کے ناکے میں اور اسی طریقے سے ہم بدلہ دیتے ہیں مجرموں کو

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:41 in the Quran reader

ان کے لئے جہنم میں بچھونے ہوں گے اور اوپر سے اوڑھنے کے لئے بھی اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ظلم کرنے والوں کو

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:42 in the Quran reader

اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے اعمال انجام دیئے ، ہم نہیں تکلیف دیتے کسی نفس کو مگر اس کی طاقت کے مطابق ، یہی لوگ ہیں جنت والے ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:43 in the Quran reader

اور نکال لیں گے ہم جو کچھ ان کے سینوں میں ہوگا کدورت سے ، جاری ہوں گی ان کے سامنے نہریں اور وہ کہیں گے الحمد للہ یعنی سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے ہماری راہنمائی کی اس مقام تک ، اور نہیں تھے ہم ہدایت پانے والے اگر اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت نہ کرتا البتہ تحقیق آئے ہیں ہمارے رب کے رسول ٹھیک بات لے کر اور ان کو پکارا جائے ا (اور کہا جائے گا) کہ یہ ہے وہ جنت جو تم کو وراثت میں دی گئی ہے اس کے بدلے میں جو کچھ تم کام کیا کرتے تھے

ربط آیات عالم ارواح میں جب اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کی تمام روحوں سے خطاب کیا تھا تو اس وقت انہیں صاف صاف بتلا دیا تھا کہ اگر تم اپنے جد امجد آدم (علیہ السلام) کے ٹھہرنے والی جنت میں دوبارہ جانے کے خواہشمند ہو تو اس کا طریق کار یہ ہے کہ جب دنیا میں تمہارے پاس اللہ کے رسول آئیں گے تو اس وقت جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا یعنی کفر ، شرک ، نفاق ، بدعقیدگی اور برائیوں سے بچ جائے گا اور نیک اعمال انجام دے گا تو ایسے لوگوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے بلکہ اپنے باپ کی وراثت جنت کو دوبارہ کرلیں گے اس کے برخلاف جو لوگ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کریں گے اور غرور اور تکبر میں مبتلا ہوں گے وہ دوزخ میں جائیں گے جب ان کی موت کا وقت آئے گا تو فرشتے انہیں ڈانٹ پلانے کے انداز میں پوچھیں گے کہ وہ کہاں گئے جنہیں تم اللہ کے سوا پکارتے تھے تو وہ جواب دیں گے کہ وہ تو ہم سے گم ہوگئے اور اقرار کریں گے کہ یقیناً وہ کفر کرنے والے تھے نتیجے کے طور پر اللہ کی طرف سے حکم ہوگا کہ ان کو دوزخ میں داخل کردو چناچہ جنوں اور انسانوں میں سے گمراہی کا راستہ اختیار کرنے والے گروہ کے ساتھ وہ بھی جہنم رسید ہوجائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پہلے اور پچھلے لوگوں کے مکالمہ کا ذکر بھی کیا ہے پچھلے لوگ پہلوں کے متعلق عرض کریں گے کہ مولا کریم ! انہیں دوہری سزا دے کیونکہ وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور ہمیں بھی گمراہ کیا اللہ تعالیٰ تمام اگلے پچھلوں کے لیے ڈبل سزا کا حکم دیں گے پہلوں کو اس لیے دگنی سزا کہ انہوں نے پچھلوں کو بھی گمراہ کیا اور پچھلوں کو اس لیے کہ انہوں نے پہلے لوگوں سے عبرت حاصل نہ کی اب آج کی آیات بھی اسی سلسلے کے ساتھ منسلک ہیں آج کے درس میں تکذیب کرنے والوں کے برے انجام اور ایمان لانے والوں کے خوشگوار حالات کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ مکذبین اور متکبرین کا انجام ارشاد ہوتا ہے ان الذین کذبو بایتنا بیشک جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ اس میں تکذیب کی تمام صورتیں شامل ہیں منجملہ ان کے مشرکین اور دہریے اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کو جھٹلاتے ہیں مشرکین اللہ کی وحدانیت کے دلائل کو جھٹلاتے ہیں اور بعض لوگ انبیاء کی نبوت کے دلائل کو تسلیم نہیں کرتے کچھ لوگ قیامت کے وقوع اور محاسبے کے عمل کا انکار کرتے ہیں واستکبرو عنہا اور تکبر کرتے ہیں اس میں توحید ، رسالت اور معادے متعلق تمام تکذیبات شامل ہیں فرمایا جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلاتے اور تکبر کرتے ہیں لاتفتح لھم ابواب السماء ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے ولا یدخلون الجنۃ اور وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے حتیٰ یلج الجمل فی سم الخیاط ، یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے گزر جائے ایسے لوگوں کا جنت میں داخلہ اتنا ہی مشکل ہے جتنا اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزرجانا۔ بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ آسمان کے دروازے نہ کھلنے کا مطلب یہ ہے کہ مکذبین اور متکبرین کے اعمال نہ تو اوپر آسمان کی طرف جائیں گے اور نہ قبولیت کا درجہ پاسکیں گے بعض کہتے ہیں کہ ان کی دعائیں قبول نہیں ہوں گی اس آیت کی تشریح میں وہ احادیث بھی موجود ہیں جن میں ارواح کا ذکر کیا گیا ہے جب کوئی مومن آدمی فوت ہوجاتا ہے تو اس کی روح کو لے کر فرشتے آسمان کی طرف جاتے ہیں فرشتے اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیتے ہیں اور اسے مرحبا (خوش آمدید) کہتے ہیں پھر اس روح کو آسمانوں سے گزار کر عتیتیں کے مقام پر لے جاتے ہیں پھر اس کا ربط عالم برزخ میں قبر کے ساتھ بھی رہتا ہے اور اس سے سوال و جواب ہوتے ہیں اس کے برخلاف جب کافر ، مشرک یا منافق کی روح کو لے کر فرشتے آسمانوں کی طرف جاتے ہیں تو فرشتے اس کے لیے آسمان کا دروازہ نہیں کھولتے اور حکم ہوتا ہے کہ اسے سجین میں لے جائو چناچہ اسے نہایت تذلیل کے ساتھ واپس کردیا جاتا ہے آسمان کے دروازے نہ کھلنے کا یہی مطلب ہے کہ ان کے لیے بخشش کے دروازے بند ہوجائیں گے اس قسم کی مثال سورة مائدہ میں بھی بیان ہوچکی ہے حضرت مسیح (علیہ السلام) نے فرمایا اے بنی اسرائیل میرے اور اپنے رب کی عبادت کرو انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وماوھہ النار ، تحقیق جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا دوزخ میں ہوگا اسی طرح یہاں بھی فرمایا ہے کہ مکذبین اور متکبرین کی بخشش کی کوئی صورت نہیں ان کا آخری ٹھکانا جہنم ہی ہوگا۔ اس آیت کریمہ میں محال امر کے لیے اونٹ اور سوئی کی مثال فرمائی گئی ہے ہاتھی کے بعد اونٹ سب سے بڑا جانور شمار ہوتا ہے مگر اونٹ چونکہ ہاتھی کی نسبت دنیا کے اکثر خطوں میں زیادہ پایا جاتا ہے اور لوگ اس سے مانوس ہیں اس سے طرح طرح کے کام لیتے ہیں اس لیے یہاں پر اونٹ کا ذکر کیا گیا ہے اس کے مقابلے میں سوئی کے ناکے کا تذکرہ چھوٹی سے چھوٹی چیز کے طور پر کیا گیا ہے مقصد یہ ہے کہ جس طرح ایک بڑی سے بڑا چیز چھوٹی سے چھوٹی چیز میں داخل نہیں ہوسکتی اسی طح اللہ کے نافرمانوں کی کامیابی محال ہے۔ سم سوئی کے ناکے کے کو بھی کہتے ہیں اور یہ لفظ زہر کے لیے بھی استعمات ہوتا ہے اور قاتل کے معنوں میں بھی آتا ہے جس طرح سوئی کسی چیز میں آسانی سے گھس جاتی ہے اسی طرح زہر بھی انسانی ساختوں میں آسانی سے داخل ہو کر قلب پر اثر انداز ہوتا ہے اور ہلاکت کا باعث بنتا ہے سوئی کا ناکہ بھی باریک ہوتا ہے اور زہر میں بھی باریک نسوں میں گھس کر اثر انداز ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے اس لیے اسے سم کہتے ہیں بہرحال فرمایا کہ جس شخص کا خاتمہ کفر اور شرک پر ہوگا وہ اللہ کی رحمت کے مقام میں داخل نہیں ہوسکتا وکذلک نجزی المجرمین فرمایا ہم مجرموں کو اسی طریقے سے جزا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مجرمین کا انجام بیان فرمایا ہے کہ ان کے لیے حمت کے دروازے نہیں کھلیں گے بلکہ انکا انجام بہت برا ہوگا۔ فرمایا لھم من جھنم مہاد ان کے لیے جہنم میں بچھونے ہوں گے مہد گہوارے کو کہتے ہیں جو بیٹھنے یا لیٹنے کی جگہ ہے اور مقصد یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہوگا ومن فوقھم غواش اور اوپر سے پردے ہوں گے غاشیر پردے کو کہتے ہیں جو اوپر سے ڈھانپ لیتا ہے یعنی ان کا بچھونا جہنم اور اوپر پردے بھی ایسے ہی ہوں گے گویا ان کا اوڑھنا اور بچھونا جہنم سے عبارت ہوگا فرمایا وکذلک نجزی الظلمین ہم ظلم کرنے والوں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں کفر اور شرک سب سے بڑے مظالم ہیں لہٰذا ان کی سزا بھی بڑی سخت ہوگی۔ مومنوں کے لیے جنت نافرمانوں کا حال باین کرنے کے بعد اہل ایمان کے لیے انعام کا ذکر بھی کیا ہے والذین امنو اور جو لوگ ایمان لائے انہوں نے خدا تعالیٰ کی ذات ، صفات اور توحید کو تسلیم کیا معاد پر ایمان لائے تمام دلائل کو قبول کیا اور کسی ثابت شدہ چیز کا انکار نہیں کیا ، اپنے عقیدہ اور فکر کو پاک کیا اور اس کے ساتھ ساتھ وعملو الصلحت نیک اعمال بھی انجام دیے نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ کا اہتمام کیا جہاد اور دیگر امور خیر میں حصہ لیا اور ان کی بنیاد درست ہوگئی ہے فرمایا لانکلف نفساً الا وسعھا ہم کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے ہم کسی شخص کو تکلیف مالایطاق میں مبتلا نہیں کرتے انسانوں پر کوئی ایسے احکام نازل نہیں کرتے جو ان کی استطاعت سے باہر ہوں بلکہ ہم تو سیدھے سادھے ایان اور عمل صالح کا حکم دیتے ہیں اور پھر جو لوگ ان احکام کو تسلیم کرکے ان پر عمل پیرا ہوجاتے ہیں فرمایا اولیک اصحب الجنۃ یہی لوگ جنت والے ہیں وہ اپنے جدامجد کی وراثت جنت کے حقدار ٹھہریں گے ھم فیھا خالدون وہ اس جنت میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے اور کبھی وہاں سے نکالے نہیں جائیں گے ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کی یہی جزا ہوگی۔ کدورت سے صفائی فرمایا ہم اہل جنت پر ایک خاص انعام یہ کریں گے وتزعنا مانی صدور ھم من غل ہم ان کے سینوں سے کدورت کو نکال لیں گے یہ لفظ غل ، غل اور غل تینوں طرح پڑھا جاتا ہے ، غل بغض ، عناد ، نفرت کدورت وغیرہ کو کہا جاتا ہے غل جھوٹ اور دھوکے کے لیے استعمال ہوتا ہے جب کہ غل طوق کو کہا جاتا ہے جس کی جمع اغلال ہے مطلب یہ ہے کہ کسی جنتی کے دل میں بغض و نفرت کے جذبات نہیں ہوں گے تمام جنتی پاکیزہ اخلاق والے ہوں گے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ تمام جنتی کقلب رجل واحد ایک آدمی کے دل کی مانند ہوں گے لاتباغض بینھم ان کے درمیان کوئی بغض ، نفرت یا کدورت نہیں ہ وگی جس طرح ایک دل میں ایک ہی بات سما سکتی ہے اسی طرح سارے کے سارے جنتیوں کے قلوب میں ایک ہی طرح کی اچھائی ہوگی کسی کے دل میں عداوت و نفرت کی کوئی بات نہیں ہوگی اور اگر اس دنیا میں کئی کے دل میں کسی دوسرے بھائی کے خلاف بغض وعناد کا کوئی مادہ موجود تھا تو جنت میں بھیجنے سے پہلے ہم اسے نکال لیں گے کدورت طبعی بھی ہوتی ہے اور اخلاقی بھی طبعی کدورت نیک آدمیوں میں بھی ہوسکتی ہے حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ دنیا کی زندگی میں ہمارا حضرت عثمان ؓ ، حضرت طلحہ ؓ ، حضرت زبیر ؓ سے اختلاف رائے بھی رہا ہے مگر وہ بھی صاحب ایمان تھے حضرت علی ؓ سمیت سب صحابہ قطعی طور پر جنتی ہیں اور یہ بات پیغمبر ﷺ سے ثابت ہوچکی ہے حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ ہماری آپس کی شکر رنجیاں بھی اسی زمرے میں آئیں گی اور ہم ہر قسم کی کدورت سے پاک صاف ہو کر جنت میں جائیں گے حدیث شریف میں یہ بھی آتا ہے کہ جب جتنی پلصراط سے گزریں گے تو اس کے ایک حصے سے گزرتے ہوئے اہل ایمان کی تمام کدورتیں ، شکر رنجیاں یا لین دین وہیں ختم ہوجائیں گے اور وہ سب غل سے پاک ہو کر جنت میں جائیں گے۔ ہدایت یافتگی پر اظہار تشکر فرمایا ایسے لوگ جنت میں پہنچیں گے تو تجری من تحتھم الانھان ان کے سامنے نہریں بہتی ہوں گی یعنی ان کی کوٹھیوں ، محلات اور باغات کے درمیان نہیں رواں دواں ہوں گی جو ان کے لیے عجیب نظاط و سرور کا باعث ہوں گی اور پھر اظہار تشکر کے طور پر وقالو الحمدللہ الذی ھدنا لھذا وہ یوں کہیں گے اس خدا وند تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہ کے جس نے یہاں تک ہماری رہنمائی فرمائی اور ہمیں اس مقدس مقام تک پہنچایا وما کنا لنھتدی لولا ان ھدنا اللہ اگر اللہ تعالیٰ اپنی مہربانی سے ہمیں ہدایت نہ دیتا تو ہماری کیا طاقت تھی کہ ہم ہدایت پاسکتے گویا جنتی اس ہدایت کو اللہ کی طرف منسوب کریں گے جسے پاکر وہ اس کی رافت و رحمت کے مقام تک پہنچے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان بھی ہے کہ جنت میں داخلے کا حقیقی سبب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے مختلف امور کے ظاہری اسباب بھی ہوتے ہیں اور حقیقی بھی جنت میں پہنچنے کے لیے اعمال صالحہ ظاہری سبب ہے جبکہ اللہ کی رحمت اس کا حقیقی سبب ہے اللہ تعالیٰ ہی ایمان اور اعمال صالحہ کی توفیق دیتا ہے برائیوں سے بچنے کی توفیق دیتا ہے اگر اس کی توفیق شامل حال نہ ہو تو انسان کچھ نہیں کرسکتا چناچہ شعیب (علیہ السلام) نے یہی کہا تھا وما توفیقی الا باللہ (سورۃ ہود) میری توفیق اللہ تعالیٰ کی مدد ہی کی مرہون منت ہے تمام انبیاء کی یہی تعلیم ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ توفیق دے کوئی کام انجام نہیں پا سکتا اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فرمایا واصبر وما صبرک الا باللہ (النحل) آپ صبر کریں مگر صبر کی توفیق بھی اللہ ہی دے گا مقصد یہ کہ جنت میں جانے کا حقیقی سبب اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے اعمال اگرچہ ظاہر اسباب ہیں مگر ان کو بھی نظر انداز نہیں کیا گیا پہلے گزر چکا ہے ولکل درجت مما عملواً (احقاف) عمل کے مطابق ہر ایک کے درجات ہوں گے جتنے کسی کے اچھے اعمال ہوں گے اتنے ہی درجات بلند ہوں گے۔ حدیث شریف میں بادل گرجنے اور چمکنے کی حقیقت بیان کی گئی ہے سائنسدان اس کا ظاہری سبب تو یہ بیان کرتے ہیں کہ پانی سے بوجھل بال جب آپس میں ٹکراتے ہیں تو اس سے بجلی اور کڑک پیدا ہوتی ہے تاہم حدیث شریف کے مطابق اس کا حقیقی اور باطنی سبب یہ ہے کہ اللہ کا فرشتہ جب بادلوں کو کوڑا مار کر ہانکتا ہے تو اس سے چمک اور گرج پیدا ہوتی ہے مقصد یہ کہ دوہرے اسباب میں سے ظاہری اسباب تو نظرآتے ہیں مگر باطنی اور حقیقی اسباب نظروں سے اوجھل رہتے ہیں ظہر کی نماز کے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ گرمی کے موسم میں یہ نماز ذرا تاخیر سے پڑھو فان شدۃ الحرمن فیح جھنم (صحیحین) کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش سے ہے یہاں بھی ظاہری سبب تو سورج ہے مگر اس کا باطنی سبب جہنم ہے۔ بہرحال اہل ایمان اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کریں گے جس نے انہیں اس کے مقام رحمت تک پہنچایا اور اس بات کو تسلیم کریں گے کہ انہیں ہدایت کا راستہ اللہ ہی کی توفیق سے میسر آیا لہٰذا ہر وقت اللہ تعالیٰ ہی سے توفیق مانگنی چاہیے ۔ کلکم ضآل الامن ھدیتہ بنی نوع انسان میں سے ہر آدمی بھٹکا ہوا ہے مگر جسے اللہ تعالیٰ ہدایت عطا کردے اھدنا الصراط المستقیم کہہ کر ہر نماز میں سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق اللہ ہی سے مانگی جاتی ہے۔ جنت کی وراثت جب جنتی اپنے مقام پر پہنچ جائیں گے تو پھر وہ اس سبب کا ذکر کریں گے جس کی بنا پر وہ اس اعلیٰ مقام میں پہنچے کہیں گے لقد جاء ت رسل ربنا بالحق البتہ تحقیق اللہ کے رسول ٹھیک بات لے کر آئے ہم نے ان کی بات کو تسلیم کیا ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلے ، اللہ تعالیٰ کی وحدت پر ایمان لائے اور اعمال صالحہ انجام دیے اور اس مقام تک پہنچے جنتی کہیں گے کہ اللہ کے رسول بالکل سچ کہتے تھے اور پھر ونردوا ان کو پکارا جائے گا ، اے ایمان والو ! مگر پکارنے والا کون ہوگا حدیث شریف میں فرشتے کا ذکر آتا ہے وہ کہے گا اے اہل اجنت ! ان تلکم الجنۃ اور ثتموھا یہ ہے تمہاری جنت جو تمہیں وراثت میں دی گئی ہے اس چیز کے بدلے میں بما کنتم تعملون جو کچھ تم کیا کرتے تھے تم نے دنیا میں فمن اتقی واصلح کے مصداق تقویٰ اختیار کیا اور اصلاح کی ، کفر ، شرک نفاق اور برائی سے بچتے رہے اچھے اعمال انجام دیے تم کامیاب ہوگئے ہو لہٰذا یہ جنت تمہیں عطا کی گئی ہے بعض مفسرین وراثت کا ایک دوسرا معنی بھی بیان کرتے ہیں حدیث شریف میں آتا ہے کہ ہرش خص کے دو ٹھکانے ہیں ایک جنت میں اور ایک دوزخ میں عالم برزخ میں یہ دونوں ٹھکانے انسان کو دکھا دیے جاتے ہیں پھر اگر وہ صاحب ایمان ہے تو اسے جنت والا ٹھکانا دے دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ اگر تم ایمان نہ لاتے تو تمہیں دوزخ والا ٹھکانا ملتا اسی طرح کافر و مشرک کو دوزخ میں اس کے ٹھکانے پر پہنچایا جاتا ہے اور اسے بتایا جاتا ہے کہ اگر وہ ایمان لے آتا تو اسے جنت والا فلاں ٹھانا ملتا مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ مومن کو جنت میں اس کا اپنا ٹھکانا بھی مل جاتا ہے …………… اور کافر کو وہ ٹھکانا بھی حاصل ہوجاتا ہے جو اسے ایمان لانے کی صورت میں ملتا اسی طرح کافر کو دوزخ میں اس کا اپنا مقام بھی حاصل ہوجاتا ہے اور اس مومن کا مقام بھی جو ایمان نہ لانے کی صورت میں اس کے حص میں آتا ہے اس طرح گویا ایمانداروں کو کافروں کی اور کافروں کو اہل ایمان کی وراثت مل جائے گی۔ پکارنے والا خود اللہ تعالیٰ کی ذات بھی ہوسکتی ہے جو مومنوں کو جنت کی وراثت کی خوشخبری سنائے گی بہرحال اللہ تعالیٰ کی رحمت کے مقام جنت میں پہنچنے کا حقیقی سبب اس کی مہربانی ، شفقت اور رحمییت ہوگی اور فلاح کا حقیقی مدار اسی پر ہے۔