Ayahs 7:44–47ربط آیات
یہ آیات بھی گزشتہ درس والی آیات کے ساتھ مربوط ہیں اللہ تعالیٰ نے مکذبین اور متکبرین کا برا انجام بیان فرمایا پھر فرمایا کہ کفر کرنے والوں کا جنت میں داخلہ اس طرح محال ہے جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزرنا ان کے لیے آسمان اور رحمت کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور مجرمین کا اوڑھنا اور بچھونا جہنم کی آگ ہوگی اس کے برخلاف اہل ایمان اور نیک اعمال کرنے والوں کا ٹھکانا جنت ہوگا جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رہیں گے اور اگر دنیا کی زندگی میں ان کے دلوں میں کوئی کدورت یا شکر رنجی تھی تو وہ سب نکال لی جائے گی اور وہ بالکل پاک صاف ہو کر جنت میں جائیں گے پھر وہاں پر وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں گے کہ اس کی مہربانی سے وہ رحمت کے مقام تک پہنچے وہ یہ بھی کہیں گے کہ ہمارے رب کے رسولوں نے بالکل سچی بات کہی تھی جس کا نتیجہ سامنے آگیا ہے پھر ان لوگوں سے کہا جائے گا کہ تمہیں یہ جنت وراثت میں دی گئی ہے ان اعمال کی قدردانی کے طور پر جو تم انجام دیتے رہے۔
جنتیوں اور دوزخیوں کی آپس میں بات چیت کا ذکر قرآن پاک کی مختلف سورتوں میں موجود ہے کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے چناچہ آج کی آیات میں بھی اسی قسم کے ایک مکالمہ کا ذکر ہے سورة صفت میں بھی ایسا ہی ایک واقعہ آتا ہے کہ جنت والا ایک شخص اپنے ایک دوست سے ملاقات کا خواہش مند ہوگا جب اسے جنت میں نہ پائے گا تو جہنم میں تلاش کرے گا فاطلع فراہ فی سواء الجحیم وہ دوزخ میں جھانک کر دیکھے گا تو اسے جہنم کے درمیان میں پڑا ہوا پائے گا جنت ساتوں آسمانوں سے اوپر اور جہنم ساتوں زمینوں سے نیچے ہے کروڑوں میل کے فاصلے کے باوجود وہ ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے اور ان میں مکالمہ ہوگا جنت والا کہے گا تاللہ ان کدت لتردین خدا کی قسم قریب تھا کہ تو مجھے ہلاک کردیتا اگر میں تیری باتوں میں آکر معاد کا انکار کردیتا تو آج میں بھی تیرے ساتھ ہی ہوتا مگر خدا تعالیٰ کا احسان عظیم ہے کہ میں تمہاری باتوں سے متاثر نہ ہوا اور اللہ نے مجھے اپنی رحمت کے مقام میں پہنچا دیا بہرحال اسی طرح کا ایک مکالمہ ان آیات میں بھی آیا ہے۔
حق حقدار رسد
ارشاد ہوتا ہے ونادیٰ اصحاب الجنۃ اصحاب النار اور جنت والے دوزخ والوں کو پکاریں گے ان قد وجدنا ماوعدنا ربنا حقاً ہم نے پالیا اس چیز کو جو ہمارے رب نے ہم سے وعدہ کیا بالکل سچ اللہ تعالیٰ کا وعدہ یہ تھا کہ اگر تم ایمان لائو گے تقویٰ کی راہ اختیار کرو گے اور نیکیاں کمائو گے تو میں تمہیں جنت میں پہنچا دوں گا چناچہ اس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور اپنی رحمت کے مقام جنت میں پہنچا دیا فھل وجدتم ماوعدربکم حقاً اب یہ بتائو کہ تمہارے رب نے تمہارے ساتھ جو وعدہ کیا تھا کیا تم نے بھی اسے سچ پایا ہے تمہارے ساتھ اس کا وعدہ یہ تھا کہ اگر کفر اور شرک اختیار کرو گے اللہ کی آیات کی تکذیب کرو گے تو تمہیں جہنم میں پہنچایا جائے گا جو کہ سزا کا مقام ہے بھلا بتائو تو سہی کیا وہ وعدہ پورا ہوگیا قالو انعم وہ جواب دیں گے ہاں ، وہ وعدہ بھی سچا ہوگیا اور اسکے مطابق ہم دوزخ جیسے المناک مقام میں پہنچ گئے ہیں۔
اس قسم کا مکالمہ صحیحین کی حدیث میں بھی آتا ہے جنگ بدر میں جب بڑے بڑے سردار کافر مارے گئے تو حضور ﷺ نے فرمایا ان کی لاشوں کو گھسیٹ کر اس کنویں میں ڈال دو مئی جیسا شدید گرمی کا مہینہ تھا ایک لاش ٹکڑے پکڑے ہوچکی تھی باقیوں کو گھسیٹ کر کنویں میں گرا دیا گیا اس وقت حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کنویں پر کھڑے ہو کر ان آئمہ کفر سے اسی طرح خطاب کیا تھا جس طرح اس آیت کریمہ میں ہے کہ ہم نے تو اپنے رب کا وعدہ سچا پالیا فھل وجدتم ماوعدربکم حقاً کیا تم نے بھی اپنے رب کا وعدہ سچا پالیا ہے ؟ اس پر حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ماتکلم من اجسادلا ارواح لھا آپ ایسے اجسام سے کلام فرماتے ہیں جن میں روحیں موجود نہیں ہیں یہ تو مردار ہیں اور کفر کی حالت میں مرے ہیں آپ ان سے کیسے خطاب فرماتے ہیں تو حضور ﷺ نے فرمایا والذی نفس محمد بیدہ ما انتم باسمع لما اقول منھم قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں محمد کی جان ہے میں جو باتیں کررہا ہوں تم ان کو ان سے زیادہ نہیں سنتے والکنھم لایجیبون مگر یہ جواب نہیں دے سکتے حضرت قتادہ ؓ اس کی توجیہہ یہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کفار کو زندہ کیا اور انہیں نبی (علیہ السلام) کی بات سنوائی تاکہ لوگوں کو عبرت ہو کہ نبی کے نافرمانوں ، بڑے بڑے جابروں کا کیا حشر ہوا۔
ظالموں پر لعنت
بہرحال جنت والے دوزخیوں سے پوچھیں گے کیا تمہارے رب نے وعدہ سچا کردیا تو وہ ہاں میں جواب دیں گے کہ بالکل ایسا ہی ہوا فاذن موذن بینھم پھر ان کے درمیان ایک پکارنے والا پکار کر کہے گا یعنی اعلان کرے گا ان لعنۃ اللہ علی الظلمین کہ ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو جن لوگوں نے کفر اور شرک کیا اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا خدا کی توحید کا انکار کیا معاد پر یقین نہ لائے ، وہ ظالم ہیں ، ضد اور عناد رکھنے والے معاند کافر ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہو۔
فاذن کا لفظی معنی ہے اذان دی اور عربی میں یہ لفظ بلند آواز سے عام اعلان کے لیے استعمال ہوتا ہے نماز کے لیے جو اذان دی جاتی ہے اس سے بھی نماز کا اعلان ہی مراد ہوتا ہے تاہم یہ شرعی اذان مخصوص اعلان ہے۔
اللہ کے راستے میں رکاوٹ
فرمایا ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے اور یہ وہ لوگ ہیں الذین یصدون عن سبیل اللہ جو خود بھی گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ہر نبی کے دور میں معامذ کافروں کو یہی شیوہ رہا ہے حضرت شعیب (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات میں ملتا ہے کہ ان کے مخالفین لوگوں کو نبی کی بات سننے سے روکتے تھے حضور خاتم النبیین ﷺ کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا گیا اگر باہر سے کوئی حضور ﷺ سے ملنے کے لیے آتا تو کفار کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ آپ سے ملنے نہ پائے آپ کے بارے میں غلط پراپیگنڈا کرکے لوگوں کو باز رہنے کی تلقین کرتے تھے کبھی دیوانہ کہتے اور کبھی شاعر کہتے بعض کو طرح طرح کے لالچ دے کر بھی آپ کے قریب جانے سے روکتے تھے اور بعض پر تشدد کرنے سے بھی نہ چوکتے تھے احادیث میں دو صحابیوں کا ذکر آتا ہے جو مکی زندگی میں حضور ﷺ سے ملنے کے لیے آئے اور کفار کے تشدد کا نشانہ بنے ان میں سے ایک ابو ذر غفاری ؓ تھے جو خود اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سن رکھا تھا کہ مکہ کے سردار باہر سے آنے والوں کو حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے سے روکتے ہیں کہتے ہیں کہ جب میں مکہ پہنچا تو حضور ﷺ کا پتہ دریافت کرنے کے لیے میں نے ایک کمزور سے آدمی کو مخالب کیا خیال تھا کہ یہ آسانی سے پتہ بتا دے گا اور کوئی چون و چرا نہیں کرے گا مگر جونہی میں نے حضور ﷺ کا نام لیا اس آدمی نے فوراً شور مچادیا پکڑ لو یہ صابی ہے اور حضور کو ملنے کے لیے آیا ہے حضرت ابوذر غفاری ؓ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے حرم کے قریب مجھے اتنا مارا کہ میں لہولہان ہوگیا اور بےہوش ہو کر گرپڑا مطلب یہ کہ مشرکین اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے غلط پراپیگنڈا کے علاوہ طرح طرح کی اذیت بھی دے دیتے تھے۔
اسلام کے خلاف پراپیگنڈا
مخالفین اسلام نے اسلام کے خلاف پراپیگنڈا کو موثر ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اسلام کی اتنی عیب جوئی کی جائے کہ اس کے قریب کوئی نہ آئے یہودیوں اور عیسائیوں نے ہمیشہ یہی ہتھیار استعمال کیا ہے یہودی تو اس معالم میں بہت آگے ہیں تاہم عیسائی بھی ان سے پیچھے نہیں رہے انہوں نے لوگوں کو مفت تعلیم اور ملازمت کا لالچ دیا ہے ہسپتال قائم کیے ہیں حتیٰ کہ عورتوں کے ذریعے بھی اپنے نظریات کی اشاعت کرتے ہیں جو کہ درحقیقت اسلام کے خلاف سازش ہے امریکہ ، برطانیہ ، فرانس اور جرمنی اسلام دشمن سرگرمیوں پر بےانتہا دولت خرچ کر رہے ہیں دنیا کے مختلف ممالک میں مشن بھیجتے ہیں جو انسانی ہمدردی کی آڑ میں مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہیں اور اغیار کو اسلام کے قریب آنے سے روکتے ہیں اشتراکیت بھی یہودونصاریٰ کی بگڑی ہوئی شکل ہے یہ خفیہ سازش نہیں کرتے بلکہ دین دشمنی میں بالکل واضح ہیں ان کے منشور میں یہ بات درج ہے کہ کوئی شخص کسی مذہب کے حق میں کسی مسجد ، چوک اور عبادت خانے میں کوئی بات نہیں کرسکتا البتہ مذہب کے خلاف جو چاہے اور جہاں چاہے کرتا پھرے اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اس جانبداری کا حقیقی نقصان تو اسلام ہی کو پہنچتا ہے کیونکہ سچادین ہے جس کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں اسلام کے علاوہ عیسائیت ہو یا یہودیت ، ہندو ازم یا مجوسیت سب باطل ہیں ان کو تو کوئی فرق نہیں پڑا مگر یہ سب سے بڑی رکاوٹ اسلام کے راستے میں ہے۔
عیب جوئی کی تلاش
فرمایا یہ لوگ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ویبغونھاعوجلاً اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں اسلام کی ایی عیب جوئی کرتے ہیں کہ کوئی شخص اس کے قریب نہ آئے غیر مسلم قومیں اسلام کے حدود کو اکثر اپنے پراپیگنڈے کا ذریعہ بناتی ہیں کہتے ہیں کہ اسلام نے وحشیانہ سزائیں مقرر کررکھی ہیں قطع ید اور رجم کو غیر انسانی سزائیں قرار دیتے ہیں یورپی ممالک میں اسلامی سزائوں کے خلاف بڑا زہر اگلا جاتا ہے تاکہ لوگ اس کی طرف متوجہ ن ہوسکیں اب تو اپنے بھی حدود کے خلاف باتیں کرنے لگے ہیں نام نہاد بڑے لوگ اسلامی حدود کو وحشیانہ سزائیں کہنے لگے ہیں کہتے ہیں کہ یہ سزائیں غیر مہذب زمانے میں رائج ہوئی تھیں اب تو دنیا متمدن ہوچکی ہے اب ان سزائوں کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی اسی طرح تعداد ازواج پر بھی اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ تو عیاشی کا ذریعہ ہے حالانکہ اگر کوئی شخص بیک وقت دس عورتوں سے ناجائز تعلقات استوار کرلے تو گوارا کرلیتے ہیں مگر دوسری بیوی سے نکاح کرلینے کے خلاف زمین و آسمان ایک کردیتے ہیں یہ سب اسلام میں عیب جوئی کی تلاش ہے جس کے ذریعے اسے ناکام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
آخرت کا انکار
فرمایا اللہ کے راستے سے روکنے اور دین میں کجی تلاش کرنے والوں کی ایک خصلت یہ بھی ہے وھم بالآخرۃ کفرون اور وہ آخرت کا انکار کرنے والے ہیں وہ اس چیز کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں کہ مرنے کے بعد پھر اٹھنا ہے حساب کتاب کی منزل آتی ہے اور انہیں جزا یا سزا سے دو چار ہونا ہے جدید تمدن کے لوگ اب تو اس قدر مصروف ہوچکے ہیں کہ انہیں آخرت کی فکر کا موقع ہی نہیں ملتا چوبیس گھنٹے لہود لعب میں مشغول ہیں آدھی آدھی رات تک ریڈیو اور ٹیلیویژن پروگرام دیکھتے ہیں یا پھر وی سی آر پر فلمیں چلتی ہیں ہر گھر سینما گھر بن چکا ہے جہاں ناچ گانے اور کھیل تماشے کی فراوانی ہے بھلا ایسے میں آخرت کی طرف کون توجہ دیگا ؟ اب تو عرب بھی اس فحاشی میں شامل ہوچکے ہیں اگرچہ وہاں پبلک سینما گھر تو نہیں ہیں مگر مال و دولت کی فراوانی نے ہر گھر کو عیاشی کا اڈا بنا دیا ہے دنیا بھر کے فحش پروگرام ان گھروں میں دیکھے جاتے ہیں اب تمام ملکوں میں کھیلوں کی وزارتیں بھی قائم ہیں کھیلوں کی ٹی میں غیر ممالک میں بھیجی جاتی ہیں جنہیں بڑے بڑے الائونس دیے جاتے ہیں ہا کی ، کرکٹ ، فٹ بال ، ٹینس ، کشتی رانی کے مقابلوں پر کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں ان مقابلوں کو دیکھنے کے لیے لوگ ہفتہ بھر ٹیلیویژن کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں ملک کے اندر قوم کو کھیل کود میں الجھا کر بیکار کردیا جاتا ہے اور باہر جانے والوں پر بےدریغ روپیہ صرف کیا جاتا ہے جو کہ قوم و ملک کا دوہرا نقصا ان ہے ان حالات میں اللہ کے ساتھ تعلق قائم کرنے اور آخرت کو یاد کرنے کا موقع کیسے مل سکتا ہے ؟ اور وتبتل الیہ تبتیلاً کی نوبت کب آئے گی اگر باقی مصروفیات سے فراغت ہوگی تو کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے گا اس کی عبادت کرے گا اور تنہائی میں اس کا ذکر کرے گا۔
اعراف کیا ہے
جنت اور دوزخ کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ نے فرمایا وبینھما حجاب ان دونوں کے درمیان حجاب ہوگا سورة حدید میں اسے ایک بڑی فصیل سے تعبیر کیا گیا جو منافقین اور مومنین کے درمیان ہائل ہوگی اس فصیل کی ایک طرف خدا تعالیٰ کی رحمت ہوگی اور دوسری طرف عذاب ہوگا بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ حجاب بھی وہی چیز ، یعنی ایک بڑی فصیل ہے جو سورة حدید میں بیان ہوئی ہے وعلیٰ الاعراف رجال اور اعراف پر کچھ لوگ ہوں گے اعراف اونچے مقام ، پہاڑ یا اونچی دیوار کو کہتے ہیں اور حجاب بھی اسی کا دوسرا نام ہے ایک طرف جنت کا نظارہ ہوگا اور دوسری طرف جہنم کا ، ویسے عرف اور معروف نیکی کو کہا جاتا ہے اور نیکی میں بھی اونچائی کا مفہوم پایا جاتا ہے عرف خوشبو کو بھی کہتے ہیں جس میں بڑی مہک پائی جاتی ہے گھوڑے کی گردن پر جو بال ہوتے ہیں ان کو بھی اعراف کہتے ہیں بہرحال یہاں پر اس اونچے مقام کا نام اعراف ہے جو جنت اور دوزخ کے درمیان ہوگا یہ اللہ ہی جانتا ہے کہ اعراف کب تک قائم رہے گا تاہم قیامت والے دن حساب کتاب کی منزل کے بعد کچھ لوگ جنت میں جائیں گے اور کچھ لوگ جہنم میں جائیں گے مگر بعض لوگوں کو اعراف کے اوپر ٹھہرایا جائے گا۔
اعراف کے مکین
اعراف والے لوگوں کے متعلق مختلف اقوال پائے جاتے ہیں بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ اونچے درجے کے لوگ ہوں گے جن کو جنت اور دوزخ دونوں طرف کے حالات کے مشاہدہ کے لیے کھڑا کیا جائے گا مگر احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحب اعراف وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر برابر ہوں گی کچھ عرصہ تک وہ اس مقام میں ٹھہریں گے اور آخر میں خدا تعالیٰ کی رحمت غالب آئے گی اور ان کو جنت میں جانے کی اجازت مل جائے گی تاہم وہ اہل ایمان ہی ہوں گے کافر یا مشرک وغیرہ نہیں ہوں گے بعض کہتے ہیں کہ مشرکین کی چھوٹی اولاد کو اعراف میں رکھا جائے گا بعض یہ بھی فرماتے ہیں کہ اعراف کے مکین وہ شہدا ہوں گے جو دنیا میں اپنے والدین کے نافرمان ہوں گے بعض فرماتے ہیں کہ صاحب اعراف لوگ فترۃ والے لوگ ہوں گے یعنی ایسے لوگ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضور ﷺ کے درمیانی دور میں دنیا میں آئے مگر ان کے پاس کوئی نبی نہیں آیا اور نہ انہیں ہدایت نصیب ہوئی بایں ہمہ انہوں نے شرک بھی نہیں کیا ایسے لوگوں کو اعراف میں کچھ عرصہ رکھا جائے گا اور پھر جنت میں داخل کردیاجائے گا۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں اس معاملہ میں تمام مفسرین سے مختلف انداز اختیار کیا ہے فرماتے ہیں اعراف کے مقام پر دو قسم کے لوگ ہوں گے پہلی قسم ان لوگوں کی ہے جو عقل سلیم رکھتے ہیں ان کے قویٰ بالکل درست ہیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر ان تک اسلام کی دعوت صحیح طریقے پر نہیں پہنچی اور ان پر حجت تمام نہیں ہوئی مثلاً کسی مقام تک اسلام کا کوئی مبلغ پہنچا ہی نہیں یا اگر پہنچا ہے تو زبان کے اختلاف کی وجہ سے وہ اسلام کی دعوت صحیح طریقے پر نہیں پہنچا سکا اور ان لوگوں نے کفر یا شرک بھی نہیں کیا نہ ہی مکمل طور پر ایمان لائے ہیں تو شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ یہ لوگ اہل اعراف ہیں۔
مولانا عبیداللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ عباسیوں کے دور کے بعد دنیا میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جن تک اسلام کی دعوت صحیح طریقے سے نہیں پہنچی اس دور کے بعد دنیا میں مسلمانوں میں ملوکیت کا دور دورہ رہا ہے صفین کے واقعہ سے پہلے تو ہر مسلمان تبلیغ دین کو اپنا اولین فریضہ سمجھتا تھا اور اس کے لیے بڑی سے بڑی قربانی پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا تھا مگر اس واقعہ کے بعد مسلمانوں میں آرام طلبی ، تعیش اور دنیا داری آگئی ہے جس کی وجہ سے انہوں نے تبلیغ دین جیسا اہم فیرضہ فراموش کردیا ہے اور دنیا کے بہت سے لوگوں تک دین کا پیغام اس طریقے سے نہیں پہنچ سکا کہ ان پر حجت قائم ہوجائے ایسے لوگ اگر کفر شرک میں مبتلا نہیں رہے تو وہ اصحاب اعراف میں شمار ہوں گے۔
تبلیغ دین کی ضرورت
حقیقت یہ ہے کہ اس وقت مسلمان من حیث الجماعت تبلیغ کا فریضہ بالکل فراموش کرچکے ہیں اس کام کے لیے نہ وقت دیا جارہا ہے اور نہ مال صرف کیا جارہا ہے زیادہ سے زیادہ ہم تبلیغی جماعت پر تکیہ لگائے بیٹھے ہیں کہ ان بندگان خدا کی بدولت تبلیغ دین کا حق ادا ہورہا ہے اور دنیا میں دین کا چرچا ہوجائے گا یہ جذبہ واقعی قابل قدر ہے جس کی وجہ سے اپنی اصلاح بھی ہوتی ہے اور دوسروں کو بھی مگر سوال تو یہ ہے کہ اصل ضرورت کا یہ کتنے فیصدی کام ہورہا ہے اگر حساب لگایا جائے تو نہ ہونے کے برابر ہے اس زمانے میں مسلمانوں کے پاس مال کی کمی نہیں مگر یہ تو اپنے آرام و آسائش کے لیے صرف ہورہا ہے اس میں سے جہاد ، اقامت دین اور تبلیغ فی سبیل اللہ پر کتنا روپیہ خرچ ہورہا ہے اب تو لوگ زکوٰۃ کو بھی وبال جان سمجھنے لگے ہیں حالانکہ مال میں زکوٰۃ کے علاوہ بھی حق ہے غربا اور مساکین کی اعانت کے علاوہ غیر اقوام میں مواخات کے لیے بھی روپے کی ضرورت ہے یہ عیسائی مشنریاں مواخات قائم کرکے ہی کامیابی سے ہمکنار ہورہی ہیں مشہور واقعہ ہے کہ ایک مسلمان لڑکی مہلک مرض میں مبتلا ہوگئی مسلمانوں نے تو اس کی پروا نہ کی مگر وہ کسی طرح ٹیکسلا کے مشنری ہسپتال میں پہنچ گئی بیچاری معذور تھی ہسپتال کی نرسوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا اس کا علاج کیا تعلیم دی اور پھر اس پر عیسائیت پیش کی جسے اس نے قبول کرلیا اور اب وہ مسلمان لڑکی عیسائی مبلغ بنی ہوئی ہے یہ کام تو مسلمانوں کا تھا جو غیر مسلم اقوام نے سنبھال لیا ہے مسلمانوں کے پاس مال کی کمی نہیں بڑی بڑی عمارات بن رہی ہیں کارخانے لگ رہے ہیں مشرق و مغرب میں تجارت ہے ، بینک بھرے ہوئے ہیں مگر اس دولت کا ایک فیصدی بھی تبلیغ دین کے لیے صرف نہیں ہورہا اگر مسلمان اپنا کھویا ہوا وقار دو بار حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں اس طرف توجہ دینا ہوگی۔
بہرحال شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ صاحب اعراف ایک تو وہ لوگ ہیں جنہیں اسلام کا پیغام کماحقہ نہیں پہنچا اور انہوں نے کفر اور شرک کا ارتکاب بھی نہیں کیا اور دوسری قسم کے وہ لوگ ہیں جو ناقص العقل ہیں پاگل ہیں یا نیم پاگل ہیں چھوٹے بچے ہیں جو ابھی مکلف نہیں ہوئے شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ کسانوں کی اکثریت بھی اسی فہرست میں آتی ہے ان کو اتنا وقت ہی نہیں ملتا کہ وہ نیکی کی بات اخذ کریں اسے سمجھیں اور پھر اس پر عمل کرسکیں شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ غلام بھی اسی زمرہ میں شامل ہیں جو اپنے آقائوں کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں ان سے صرف یہی مطلوب ہے کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ مشابہت پیدا کریں ان جیسے امور حتی الامکان انجام دیتے رہیں ان کی عقل و فہم کے مطابق اتنا عمل بھی کافی ہے۔
جنتیوں کو سلام
فرمایا اعراف پر کچھ مرد ہوں گے یعرفون کلا بسیمھم جو ہر ایک کو پہچانیں گے کہ یہ جنتی جا رہے ہیں اور یہ دوزخی ہیں ونادواصحب الجنۃ وہ اہل جنت کو پکاریں گے ان سلم علیکم کہ تم پر سلامتی ہو اصحاب اعراف لوگ اہل جنت کے لیے تو سلامتی کی دعا کریں گے مگر ان کی اپنی حالت یہ ہوگی لم یدخلوھا کہ وہ خود تو ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے ابھی مقام اعراف پر ہی رکے ہوئے ہوں گے وھم یطمعون البتہ وہ جنت میں جانے کے خواہشمند ضرور ہوں گے ابھی تک ان میں جنت میں جانے والی صلاحیت نہیں ہوگی پھر جب ان کی بہمیت مغلوب ہو کر ملکیت ظاہر ہوجائے گی اور ان میں عالم مقدس کو سمجھنے کی اہلیت پیدا ہوجائے گی تو اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے جنت میں داخلے کی اجازت دے دیں گے۔
دوزخیوں سے پناہ
فرمایا اہل عراف جنتیوں کو تو سلام کریں گے واذا صرفت ابصارھم تلقاء اصحاب النار اور جب ان کی نگاہیں اہل دوزخ کی طرف پھیری جائیں گی یعنی جب وہ دوزخیوں کو دیکھیں گے قالو ربنا لاتجعلنا مع القوم الظلمین تو کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہمیں ظالموں کے گروہ میں شامل نہ کر ، کفر اور شرک سب سے بڑے مظالم ہیں جن کا انہوں نے ارتکاب کیا یہ لوگ ضد اور عناد پر قائم رہے اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسولوں کی رسالت کو جھٹلایا انہوں نے آسمانی کتابوں کی تکذیب کی اور معاد سے انکار کیا یہ بڑے ظالم لوگ ہیں اور جہنم کی طرف جا رہے ہیں مولا کریم ! ہمیں انی معیت سے محفوظ رکھنا اگلی آیات میں اہل اعراف کا مزید ذکر بھی آرہا ہے۔
Ayahs 7:48–51ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی کامیابی کا ذکر کیا ان کا جنت کی نعمتوں سے متمع ہونا اور خدا کی مہربانی کے مقام میں داخل ہونے کا باین ہوا پھر اللہ نے جنت اور دوزخ والوں کے مکالمے کا ذکر کیا کہ جنت والے دوزخیوں سے کہیں گے کہ اللہ نے جو وعدہ ہم سے کیا تھا ہم نے تو اس کو برحق پایا اب بتائو تمہارے ساتھ اللہ نے جو وعدہ کیا تھا کہ تمہیں دوزخ میں داخل کرے گا کیا تم نے بھی اس وعدے کو سچا پایا دوزخ والے کہیں گے کہ ہاں ہم نے اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا پھر درمیان میں ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا کہ خدا تعالیٰ کی لعنت اور پھٹکار ہو ظلم کرنے والوں پر وہ جو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں تاکہ لوگ اس راستے پر گامزن نہ ہوسکیں اور وہ آخرت پر بھی یقین نہیں رکھتے۔
ادھر جنت اور دوزخ کے درمیان ایک دیوار (حجاب) ہوگی اس اونچے مقام پر کچھ لوگ بیٹھے ہوں گے جو ہر ایک کو اس کی نشانیوں سے پہچانیں گے وہ جنت والوں کو سلام کریں گے اور جب ان کی نگاہیں اہل دوزخ کی طرف اٹھیں گی تو وہ خدا تعالیٰ سے التجا کریں گے کہ اے اللہ ! ہمیں دوزخ والوں کے ساتھ نہ ٹھہرانا یہ اصحاب اعراف ہوں گے جن کے متعلق کل عرض کردیا تھا اب آج کے درس میں بھی اصحاب اعراف کا اہل دوزخ سے گفتگو کرنے کا بیان ہے۔
اہل اعراف کا خطاب اہل دوزخ سے
ارشاد ہوتا ہے ونادی اصحب الاعراف رجالاً اور پکاریں گے اعراف والے کچھ مردوں کو تعرفونھم بسیمھم جن کو وہ پہچانیں گے ان کی نشانیوں سے گزشتہ درس میں اہل اعراف کا جنتیوں سے خطاب تھا کہ انہیں پکار کر اسلام کریں گے اور اس آیت میں اہل اعراف کا اہل دوزخ سے خطاب ہے کہ انہیں پہچان کر ان سے گفتگو کریں گے۔
اعراف کے متعلق کل بھی عرض کیا تھا کہ یہ جنت اور دوزخ کے درمیان ایک اونچا مقام ہوگا جنتیوں اور دوزخیوں کے علاوہ کچھ لوگ اس مقام پر بھی ٹھہرائے جائیں گے یہاں ان کا قیام مستقل نہیں ہوگا ان لوگوں میں وہ صلاحیت مکمل نہیں ہوگی جو جنت سے مستفید ہونے کے لیے ضروری ہے آہستہ آہستہ جب وہ مطلوبہ استعداد حاصل کرلیں گے تو ان کو بھی جنت میں داخل کردیاجائے گا گزشتہ درس میں یہ بیان آچکا ہے لم یدخلوھا وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے وھم یطمعون مگر وہ وہاں جانے کی خواہش رکھتے ہوں گے مقام اعراف کے متعلق سعدی صاحب نے گلستان میں ایک مثال بیان کی ہے کہ اعراف ایسی جگہ ہوگی کہ اہل دوزخ اسی جگہ کو جنت سمجھیں گے کیونکہ وہ سخت عذاب کے مقام سے ایسی جگہ آجائیں گے جہاں اگر آرام نہیں ہوگا تو تکلیف بھی کوئی نہیں ہوگی مگر ان کا اعراف میں پہنچنا بھی ممکن نہ ہوگا اسی طرح اگر جنت کی حوروں کو اعراف کے مقام پر پہنچا دیاجائے تو ان کے لیے وہ دوزخ کے برابر ہوگا وجہ ظاہر ہے کہ کہاں جنت کی راحتیں اور کہاں اعراف جیسا معمولی مقام۔
باقی رہی یہ بات کہ اہل اعراف کس قسم کی نشانیوں سے اہل جنت اور اہل دوزخ کو پہچانیں گے تو اس کا ذکر قرآن پاک میں مختلف مقامات پر موجود ہے سورة ال عمران میں ہے یوم تبیض وجوہ وستود وجوہ اس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض چہرے سیاہ ہوں گے کامیاب لوگ تعرفوجوھھم نضرۃ النعیم (للطفنین) اپنے نورانی چہروں سے پہچانے جائیں گے حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے کہ میری امت کے لوگ وضو کے اعضا کی چمک سے پہچانے جائیں گے اہل ایمان نماز کے لیے وضو کے دوران جن اعضا کو دھوتے تھے یا مسح کرتے تھے وہ قیامت کے دن چمکتے ہوں گے اور یہ صرف حضور علیہ الضلوٰۃ والسلام کی امت کو ہی شرف حاصل ہوگا باقی امتوں کے لیے یہ نشانی نہیں ہوگی ویسے چہروں کا مطلق روشن ہونا ایمان والوں کی نشانی ہوگی اس کے برخلاف کافروں ، مشرکوں اور منافقوں کے چہرے سیاہ ہوں گے ترھقہا فترۃ (سورۃ عبس) ان پر گردوغبار چڑھا ہوا ہوگا پتہ چلے گا کہ انہوں نے برے کام انجام دیے ان کے گندے فکر کی سیاہی ان کے چہروں سے نمایاں ہوگی تو ان نشانیوں سے اہل اعراف جنتی اور دوزخی لوگوں کو پہچان سکیں گے اور قالو اعراف والے دوزخیوں سے کہیں گے ما اغنی عنکم جمعکم تمہارا گروہ کچھ کام نہ آیا تم نے بڑی بڑی پارٹیاں بنا رکھی تھیں کسی کو نقصان پہنچانا ہو دنگا فساد کرنا ہو تمہارے ورکر ہر وقت حاضر رہتے ہیں اور اپنی حفاظت کے لیے تم نے باڈی گارڈ رکھے ہوئے تھے مگر یہ تمام وسائل آج تمہارے کچھ کام نہ آئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے یاتینا ھرداً (سورۃ مریم) ہر شخص کو ہمارے روبرو اکیلا ہی آنا ہے محاسبے کی منزل کے بعد پھر دوزخ میں بھی اکیلے ہی جانا ہوگا اس دنیا میں قائم کردہ تمام انتظامات بےسود ثابت ہوں گے۔
بہرحال اعراف والے دوزخ والوں سے کہیں گے کہ ایک تو تمہاری پارٹی کچھ مفید نہ ہوئی وما کنتم تستکبرون اور جو کچھ تم تکبر کرتے تھے آج وہ بھی کام نہ آیا اہل اعراف پوچھیں گے آج تمہارا غرور وتکبر کہاں گیا تم بڑے بڑے دعوے کیا کرتے تھے شیخیاں بگھارتے تھے وہ سب ختم ہوگئے تکبر اقتدار اور مال کی وجہ سے ہوتا ہے دنیا میں تمہارے پاس حکومت تھی اقتدار تھا اس کے علاوہ بےانتہا مال تھا جس کے متعلق تم سمجھتے تھے یحسب ان مالہ اخلادہ (سورۃ ھمزہ) کہ یہ تمہیں بچالے گا ہر دولت مند بخیل یہی سمجھتا ہے کہ مشکل وقت میں اس کا مال اس کے کام آئے گا مگر بتائو آج تمہارا مال کہاں گیا جب اللہ تعالیٰ پکڑنے پر آتا ہے تو پھر کوئی نہیں بچا سکتا تو اہل اعراف کہیں گے اے بدقسمت لوگو ! آج تمہارا نہ جتھا کام آیا اور نہ مال مفید ہوا جس کی وجہ سے تم تکبر کیا کرتے تھے۔
دوزخیوں کی غلط فہمی
اہل دوزخ سے خطاب کے دوران اہل اعراف جنتیوں کی طرف اشارہ کرکے کہیں گے اھولاء الذین اقسم کیا یہ وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھاتے تھے لاینالھم اللہ برحمۃ ، کہ ان کو اللہ تعالیٰ رحمت نہیں پہچائے گا تم ان لوگوں کو اپنی نظروں میں حقیر سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ ان کو کون پوچھے گا ان کو بھلائی کہاں سے ملے گی یہ عزت کے مقام میں کیسے پہنچ سکتے ہیں مگر آج تو ان کو یہ حکم ہوا ہے ادخلو الجنۃ جنت میں داخل ہوجائو لاخوف علیکم ولا انتم تحزنون تمہیں اب کوئی خوف نہیں ہوگا اور نہ تم غمگین ہوگے اس کے برخلاف جو لوگ تمہیں حقیر سمجھتے تھے وہ خود دوزخ میں جل رہے ہیں مگر تم بالخوف و خطر جنت میں چلے جائو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ جنت اور دوزخ والے ایک دوسرے کو دیکھ کر پہچان سکیں گے وہ آپس میں بات چیت بھی کریں گے ہر شخص اپنے عزیزوں اور قرابت داروں کو بھی پہچانے گا۔ ایک دوسرے سے ملاقات کرنا چاہیں گے تو کرادی جائے گی اور وہ ایک دوسرے کی بات سن سکیں گے۔
دوزخیوں کی فرمائش
اہل اعراف سے مکالمے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جنتیوں اور دوزخیوں کے درمیان ہونے والی بات چیت کا تذکرہ فرمایا ہے ونادی اصحب النار اصحاب الجنۃ دوزخ والے جنت والوں سے پکار کر کہیں گے ان افیضو علینا من الماء خدا کے لیے ہمارے اوپر تھوڑا سا پانی بہادو تمہارے پاس باغات ہیں نہریں ہیں اور آسائش کی ہر چیز میسر ہے مگر ہم یہاں سخت پیاس میں تڑپ رہے ہیں لہٰذا مہربانی کرکے ہمیں تھوڑا سا پانی دے دو اومما رزقکم اللہ یا اس روزی میں سے کچھ دے دو جو اللہ نے تمہیں عطا کی ہے ہم اس وقت بہت تکلیف میں ہیں سخت بھوک اور پیاس میں مبتلا ہیں حلق خشک ہو رہے ہیں لہٰذا اللہ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے ہمیں بھی کچھ دے دو ایسے لوگوں کی حالت تو اللہ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ عذاب میں جل رہے ہیں جب وہ پیاس سے بیتاب ہوجائیں گے تو وہ پانی کی طرف اس طرح دوڑتے ہوئے جائیں گے جس طرح پیاسے اونٹ پانی پر جاتے ہیں مگر وہاں لھم شراب من حمیم (یونس) ان کے لیے کھولتا ہوا پانی ہوگا اگر ایک گھونٹ بھی حلق سے نیچے اتاریں گے تو وہ آنتوں کو کاٹ کر پھینک دے گا اور کھانے کے لیے ان شجرۃ الزقوم طعام الاثیم (الدخان) جہنم کا تھوہر ہوگا جو اس قد کوڑا اور بدبو دار ہوگا کہ اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔
بہرحال دوزخیوں کی فرمائش کے جواب میں قالو ان اللہ حرمھما علی الکفرین جنت والے کہیں گے بیشک یہ دونوں چیزیں یعنی کھانا پینا اللہ تعالیٰ نے کافروں پر حرام کردیا ہے لہٰذا جنت کی یہ نعمتیں تمہیں حاصل نہیں ہوسکتیں تمہیں نہ تو پانی کا ایک قطرہ مل سکتا ہے اور نہ کھانے کے لیے ایک دانہ میسر آسکتا ہے تمہیں دوزخ کا کھولتا ہوا پانی پینا ہوگا اور کڑوا ترین تھوہر کھانا ہوگا ، فرمایا یہ وہ کافر ہیں الذین اتخذو دینھم لھوا ولعباً جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا تھا دین برحق اور دینداروں کا تمسخر اڑایا کرتے تھے قرآن پاک میں کئی مثالیں موجود ہیں جیسے اذا مروابھم یتغامرون (الطففین) ایمان والوں کے پاس سے گزرتے تھے تو ان کا مذاق اڑاتے تھے اشارے کرتے تھے دیکھو یہ جنت کے والی اور حوروں کے خاوند جا رہے ہیں جن کے پاس نہ پہننے کو کپڑا اور نہ کھانے کو روٹی ، نہ مکان اور نہ سواری ، یہ اپنے آپ کو جنت کے وارث کہتے ہیں اس قسم کا استہزاء کرتے تھے اور طعنے دیتے تھے اس قسم کا ذکر سورة توبہ میں منافقین کے متعلق بھی آتا ہے ” ابا للہ وایتہ ورسولہ کنتھم تستھزون “ بدبختو ! کیا تم اللہ ، اس کی آیات اور اس کے رسول کے ساتھ ٹھٹا کرتے ہو ، اللہ نے منافقین کی بھی مذمت بیان فرمانی ہے جو کہ کافروں کی طرح دین حق اور انبیاء کا مذاق اڑاتے تھے یہاں بھی فرمایا کہ وہ کافر لوگ ایسے تھے جنہوں نے دین کو کھیل تماشا بنا لیا تھا۔
دنیوی زندگی کا دھوکا
اس کے علاوہ ان کی بدنصیبی یہ بھی تھی وغرتھم الحیوۃ الدنیا کو دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈال رکھا تھا انہوں نے دنیا کے آرام و آسائش کو ہی اول و آخر سمجھ لیا تھا اور کہتے تھے کہ یہ ہم سے کبھی جدا نہیں ہوں گی برخلاف اس کے ترمذی شریف میں حضور ﷺ کی یہ دعا منقول ہے الھم لاتجعل الدنیا الکبر ھمنا ولا مبلغ علمنا اے اللہ دنیا ہی کو ہمارا منتہائے مقصود نہ بنادے کہ ہم اس میں مشغول ہو کر آخرت کو بھول جائیں انسانی زندگی کیا ہے کھانا پینا ، لباس ، مکان زن ، کاروبار یا اقتدار یہی چیزیں انسان کو آخرت سے غافل کرنے والی ہیں جو شخص ان چیزوں میں الجھ کر رہ گیا وہ دھوکا کھا گیا فرمایا جن بےنصیبوں نے دین کو کھیل تماشہ بنالیا اور دنیا کی زندگی میں پھنس کر رہ گئے انہیں جنت کی کوئی نعمت میسر نہیں آسکے گی۔
اللہ کی طرف سے بےاعتنائی
اور پھر سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہوگی کہ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے فالیوم ننسھم آج کے دن ہم انہیں فراموش کردیں گے بالکل نظر انداز کردیں گے کما نسوالقاء یومھم ھذا جس طرح انہوں کے اس قیامت کے دن کو فراموش کردیا تھا کہتے تھے کوئی حساب کتاب نہیں نہ کوئی جنت دوزخ ہے اور نہ کسی نے مرکر دوبارہ جی اٹھنا ہے انہیں اس بات کا تصور ہی نہیں تھا کہ ان کے ساتھ یہ معاملہ پیش آنے والا ہے تو جس طرح انہوں نے آج کے دن کو بھلا دیا اس طرح ہم بھی انہیں فراموش کردیں گے۔
نسیان کا اطلاق اللہ تعالیٰ کی ذات پر تو نہیں کیا جاسکتا کہ نعوذ باللہ وہ بھی کسی بات کو بھول جائے گا مگر مطلب یہ ہے کہ ایسے منکرین کے ساتھ وہ سلوک کیا جائے گا جو کسی فراموش شدہ آدمی کے ساتھ کیا جاتا ہے بعض اوقات بڑے بڑے واقعات ، حادثات اور تقریبات میں بعض لوگ یاد ہی نہیں آتے بعد میں یاد آتا ہے کہ فلاں شخص رہ گیا اس کی اطلاع نہیں دی جاسکی اللہ تعالیٰ کا مقصد یہ ہے کہ قیامت کے دن ہم ایسے لوگوں کو اپنی رحمت سے دور کردیں گے۔
فرمایا ہم انہیں جنت کی نعمتوں سے اس لیے بھی محروم کردیں گے وماکانو بایتنا یجحدون کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے تھے ہمارے احکام کی تکذیب کرتے تھے نبی کے فرمان کو جھٹلاتے تھے توحید و رسالت پر ایمان نہیں لاتے تھے قیامت کے دلائل کو تسلیم نہیں کرتے تھے ہم نے دلائل دیے طرح طرح کی مثالیں پیش کیں مگر انہوں نے کسی بات کو نہ مانا ۔ لہٰذا آج یہ اسی سلوک کے مستحق ہیں کہ ان کے لیے جنت کی نعمتیں ممنوع ہیں۔
Ayahs 7:52–53ربط آیات
اصحاب اعراف کے تذکرے کے بعد اللہ تعالیٰ نے جہنم والوں کا ذکر کیا کہ وہ جنتیوں کو دیکھ کر ان سے الجا کریں گے کہ تھوڑا سا پانی ہم پر بھی بہادو یا جو کچھ اللہ نے تمہیں روزی عطا کی ہے اس میں سے کچھ ہمیں بھی دے دو کیونکہ ہم بہت پریشان حال اور تکلیف میں ہیں مگر اہل ایمان جواب دیں گے کہ یہ دونوں چیزیں اللہ نے اہل دوزخ پر حرام کردی ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے دین کو لہو و لعب نایا اور دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈالا پس آج کے دن اللہ تعالیٰ انہیں اپنی رحمت سے دور رکھیں گے اور ان سے وہی سلوک کریں گے جو فراموش شدہ آدمیوں سے کیا جاتا ہے انہوں نے اس دن کی ملاقات کو فراموش کردیا تھا اس پر ایمان نہ لائے آیات الٰہی کا انکار کردیا لہٰذا آج ان کے ساتھ بھی اسی طرح کا سلوک ہوگا۔
مفصل کتاب
پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اتمام حجت کے لیے فرمایا ولقد جئنھم تکب البتہ تحقیق ہم لائے ہیں ان کے پاس کتاب فصلنہ ہم نے اس میں تفصیل بیان کی ہے یعنی ایسی مفصل کتاب ہے جس میں عقائد حقہ کی تفصیل اور انکار باطلہ کی تردید ہے اس میں احکام الٰہی کے وہ تمام بنیادی اصول بیان کردیے گئے ہیں جن کی انسانوں کو ضرورت رہتی ہے اور تفصیل کی صورت یہ ہے کہ بعض اوقات اسی کتاب میں کوئی چیز ایک مقام پر اجمالی طور پر بیان ہوتی ہے تو دوسری جگہ پر تفصیل کے ساتھ بیان کردی جاتی ہے چناچہ قرآن پاک کی لمبی سورتوں میں تفصیلی اکامات ہیں ان میں مسائل بھی بیان ہوئے ہیں اور دلائل بھی ان میں نظیریں اور مثالیں بھی بیان ہوئی ہیں لمبی سورتوں کے بعد درمیانی سورتیں اور پھر چھوٹی سورتیں ہیں لمبی سورتوں میں تفصیل ہے تو چوٹی سورتوں میں خلاصے بیان ہوئے ہیں گویا اکثر احکام کی تفصیل خود قرآن میں موجود ہے۔
تفصیل کا دوسرا ذریعہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اکرم (علیہ السلام) کے ذمہ یہ چیز لگائی ہے ” لنبین للناس مانزل الیھم “ (النحل) کہ جو وحی نازل کی گئی ہے آپ اس کو کھول کر بیان کردیں تاکہ کسی کو اشتباہ نہ رہے اس کی خوب وضاحت کردیں اگر نبی کی زبان سے بھی وضاحت نہ ملے تو پھر قرآن پاک میں غور کرو اس میں کوئی نہ کوئی اصول ضرور دیا گیا ہوگا جس کی روشنی میں مسئلہ حل کیا جاسکتا ہو مثلاً سورة بقرہ میں ارشاد ہوتا ہے ھوالذی خلق لکم ما فی الارض جمیعاً زمین کی تمام چیزیں اللہ نے تمہارے فائدے کے لیے پیدا کی ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان ہر پیداوار سے استفادہ حاصل کرسکتا ہے سوائے اس چیز کے کہ جس کی حرمت ثابت ہوجائے یا وہ کسی دوسرے کی ملکیت ہو یہ ایک اصول ہے جس کے تحت کسی چیز پر حلت و حرمت کا حکم لگایا جاسکتا ہ کے ایسے ہی اصولوں کی روشنی میں مجتہدین بعض مسائل کا حل اجتہاد کے ذریعے پیش کرتے ہیں سورة نساء میں بھی ایسے صاحبان علم کے متعلق فرمایا یستنبطونہ منھم یہ لوگ قرآن پاک سے استنباط کرکے حل پیش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی صلاحیت عطا کی ہے کہ گہرائی سے چیزیں نکال لیتے ہیں ان میں مجتہدین اربعہ اور دیگر متجہدین شامل ہیں گویا قرآن پاک کے احکام کی تفصیل کا یہ بھی ایک ذریعہ ہے کہ مجتہدین کرام اس کی تفصیلات بیان کرتے ہیں۔
قرآن کے علوم پنجگانہ
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) ابتدائی طالب علموں کو سمجھاتے ہیں کہ قرآن پاک کو سمجھنے کے لیے اس کے پانچ علوم کو اچھی طرح ذہن نشین کرلینا چاہیے فرماتے ہیں پہلا علم تذکیربآلاء اللہ ہے اللہ تعالیٰ نے بنی نوع انسان کے لیے جو نعمتیں پیدا فرمائی ہیں اور جو احسان جتلایا ہے یہ انسان کے لیے باعث نصیحت ہے انسان ان نعمتوں میں غور و فکر کرکے اور ان سے استفادہ حاصل کرکے نصیحت پکڑ سکتا ہے قرآن پاک کا دوسرا علم تذکیر بایام اللہ ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سابقہ قوموں کے حالات اور واقعات بیان کیے ہیں اور پھر مجرمین کو سزائیں دی گئی ہیں مطیعین کو جو انعام دیے گئے ہیں ان کا تذکرہ کیا ہے یہ واقعات بھی انسان کے لیے باعث عبرت اور ب اعث نصیحت ہیں شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کا تیسرا علم تذکیر بموت ومابعدالموت ہے اللہ تعالیٰ نے موت کے بعد پیش آنے والے حالات کو وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے ان کو جان کر انسان اپنی آخرت کی زندگی کی فکر کرتا ہے چوتھے نمبر پر علم احکام ہے اس حصہ میں اللہ نے حلت و حرمت ، جائزہ ناجائز اور تمام ادامرد نواہی کی تفصیلات بیان فرمائی ہیں جو کہ اس دنیا کی زندگی کے لیے نہایت ضروری ہیں اور انہی علوم پر آخرت کی زندگی کا انحصار ہے اور پانچویں نمبر پر علم مخاصمت یا علم مباحثہ ہے اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تمام سابقہ ادیان کی تردید فرمائی ہے اس حصہ قرآن میں دلائل اور شواہد ہیں یہود و نصاریٰ کے عقائد باطلہ ، مشرکین کفار اور منافقین کے غلط عقائد کو آشکارا کیا ہے ان کے تعصب اور ہٹ دھرمی کا پردہ چاک ہے مقصد یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس مفصل کتاب قرآن پاک میں تمام علوم کو جمع کرکے بنی نوع انسان کی رہنمائی کے لیے حجت تمام کردی ہے اس مفصل کتاب کی آمد کے بعد کسی انسان کے لیے کوئی بہانہ باقی نہیں رہ جاتا جس کے ذریعے وہ اللہ کی بارگاہ میں عذر پیش کرسکے کہ اسے احکام الٰہی کی خبر نہیں ہوسکی یا وہ اسے سمجھنے سے قاصر رہا ہے اسی لیے فرمایا کہ ہم ان کے پاس ایک کتاب لائے ہیں جس کو ہم نے تفصیل سے بیان کیا ہے علی علم یعنی علم کے ساتھ قرآن پاک کی تمام تفصیلات علم پر مبنی ہیں اور کوئی چیز خلاف واقع نہیں ہے اللہ تعالیٰ علیم کل ہے اس کے علم سے کوئی چیز باہر نہیں لہٰذا اس کے بیان کرنے میں کوئی غلطی بھی نہیں ہوسکتی۔
حلت و حرمت کا بیان
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حلال ، عرام محکم ، متشابہ ، تبشیر ، تنذیر ، قصص ، غزوات اور تمثیل وغیرہ تمام چیزیں قرآن پاک میں موجود ہیں جو چیزیں انسانی جسم و روح کے ساتھ مطابقت رکھتی ہیں انہیں حلال قرار دیا گیا ہے اور جن چیزوں میں انسانی جسم و روح کے لیے قباحت ہے ان کو حرام قرار دیا ہے بعض چیزوں کو خرابی تو واضح ہوتی ہے مگر بعض کی قباحت پوشیدہ ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے اور اس پر حرمت کا حکم لگاتا ہے ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نھی دواء الخبیث یعنی خبیث دوائی کے استعمال سے منع فرمایا ہے خبیث کے لیے ناپاک ہونا ضروری نہیں مگر یہ مہلک ضرور ہوتی ہے جیسے سنکھیا ہے اگر کچا سنکھیا تھوڑی مقدار میں بھی استعمال کیا جائے تو جان لیوا ثابت ہوتا ہے اس لیے اس سے منع کردیا گیا البتہ اگر کسی مستند معالج کی زیر نگرانی ٹھیک اور مبدر کرلیا جائے یعنی اس کا کشتہ تیار کرلیا جائے تو معالج کی تجویز کردہ مقدار دوائی کے طور پر استعمال کی جاسکتی ہے اگر اس کا کچا استعمال کیا جائے گا یا مقدار سے زیادہ استعمال کیا جائے تو یہ معدے اور جگر کو پھاڑ کر رکھ دیگا جس سے انسانی جسم کے نازک حصوں سے خون جاری ہو کر آدمی کو ہلاک کردے گا اس طرح نذر یغر اللہ انسان کی روح میں نجاست پیدا کرتی ہے اللہ نے اس کو بھی حرام قرار دیا بہتا ہوا خون بھی حرام ہے اس میں مضر صحت جراثیم پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح مردار بھی انسانی صحت کے لیے سخت مضر اور حرام ہے۔
مشتبہات کا بیان
قرآن پاک میں محکم اور متشابہ دونوں اقسام کی آیات موجود ہیں سورة آل عمران کی ابتداء میں آتا ہے وہی اللہ کی ذات ہے جس نے آپ پر کتاب نازل کی ہے منہ ایت محکمت اس میں محکم آیات ہیں ” واخر متشبھت “ اور بعض دوسری متشابہ ہیں محکم آیتوں کے معانی تو واضح ہیں البتہ متشابہ آیات کی حقیقت کو اللہ ہی بہتر جانتا ہے جیسے حروف مقطعات الم ، الر ، حم وغیرہ ہیں یا جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات کے متعلق آتا ہے ” الرحمن علی العرش استویٰ “ (طہٰ ) اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے اس کیفیت کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے جو کہ انسانی عقل میں آنے والی چیز نہیں ہے سورة فتح میں ” یداللہ فوق ایدھم “ اللہ کا ہاتھ کیسا ہے دوسری جگہ پنڈلی کا ذکر بھی آتا ہے ان چیزوں کی کیفیت کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا یہ متشابہات ہیں اور ان پر ایمان سے آنا ہی کافی ہے اگر اس میں کرید کی اجئے کہک اللہ کا ہاتھ یا چہرہ کیسا ہے اسے جاننے کی کوشش کی جائے گی تو انسان کافر ہوجائے گا ایمان یہی ہونا چاہیے کہ یہ چیزیں ویسے ہی ہیں جیسی اس کی شان کے لائق ہیں قرآن پاک میں کہیں اہل ایمان کے لیے بشارت ہے اور کہیں منکرین کے لیے انذار ہے کہیں قصص بیان کرکے فرمایا ” ان فی ذلک لعبرۃ لاولی الابصار “ (آل عمران) ان میں اہل عقل و خرد کے لیے عبرت کا سامان ہے کہیں وعظ و تذکیر ہے کبھی انبیاء کی زبان سے اور کبھی اولیاء کی زبان سے کبھی مومنین اور کبھی ملائکہ کی زبان سے عبرت اور نصیحت کی باتیں بیان کی گئی ہیں قرآن پاک میں بہت سی تمثیلات بھی بیان کی گئی ہیں شیخ ابوبکر بن عربی (رح) فرماتے ہیں کہ ایک ایک لمبی سورة میں اللہ تعالیٰ نے ہزار مثالیں ہزار اوامر اور ہزار نواہی بیان فرماتے ہیں بعض اوقات بعض امور مثال کے بغیر واضح نہیں ہوتے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں بیشمار مثالیں بھی بیان فرمائی ہیں۔
ہدایت اور رحمت
فرمایا جو مفصل کتاب ہم علم کے ساتھ ئاے ہیں اس میں ھدی ہدایت ہے یعنی یہ انسان کی کما حقہ رہنمائی کرتی ہے کوئی بھی مشکل درپیش ہو اگر انسان قرآن پاک کی طرف رجوع کرے گا تو لازماً رہنمائی حاصل کرے گا پھر یہ بھی ہے کہ جتنا زیادہ رجوع کرے گا اتنا زیادہ مستفید ہوگا مفسر قرآن امام رازی (رح) نے امام شافعی (رح) کا واقعہ نقل کیا ہے کہ امام صاحب (رح) کو ایک مسئلہ کا حل مطلوب تھا آپ بار بار قرآن کی ورق گردانی کرتے تھے حتیٰ کہ آپ نے تین سو مرتبہ قرآن پاک کو اول تا آخر تلاوت کیا پھر ایک مقام پر آکر نگاہ ٹک گئی اور آپ کا مسئلہ حل ہوگیا امام شافعی (رح) دوسری صدی کے مجتہد امام ، محدث ، نیک اور صالح انسان تھے آپ نے ایک مسئلہ کے لیے اتنی محنت کی ، حضرت مولان انور شاہ صاحب کشمیری (رح) فرماتے ہیں کہ امام شافعی (رح) من اذکیاء امۃ محمد ﷺ حضور ﷺ کی امت کے ذہین ترین لوگوں میں سے ہیں امام صاحب (رح) کا اپنا بیان ہے کہ زمانہ طالب علمی میں متواتر سولہ سال تک انہوں نے رات بھر ایک گلاس پانی بھی نہ پیا کہ کہیں مطالعہ میں خلل نہ آجائے اس زمانے میں ہماری محنتیں ان لوگوں کے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتی ہیں آج ت مسٹر پرویز جیسے انگریزی دان تھوڑی بہت عربی پڑھ کر مجتہدین بن جاتے ہیں اور پھر قرآنی آیات کا نعوذباللہ جھٹکا کرنے لگتے ہیں امام ابوحنیفہ (رح) کا حال امام شافعی (رح) سے بھی زیادہ حیرت انگیز ہے امام مالک (رح) امام احمد (رح) جیسے لوگوں کو اللہ نے کیسی صلاحیتیں بخشی تھیں آج لوگ ان کا اتباع کرتے ہیں اور ان کے فتویٰ پر چلتے ہیں ان حضرات کے امت پر بہت احسانات ہیں اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے انہوں نے قرآن و سنت کی بہت اچھے طریقے سے وضاحت فرمائی ہے مطلب یہ ہے کہ قرآن پاک مجسم ہدایت ہے جب بھی کوئی اس سے استفادہ حاصل کرنا چاہے گا اس کو مفید پائے گا۔
فرمایا یہ قرآن پاک ہدایت بھی ہے ورحمۃ اور رحمت بھی جو شخص قرآنی اصولوں پر عمل پیرا ہوگا تو اللہ کی رحمت اور مہربانی اس کی طرف متوجہ ہوگی یہ رحمت دنیا میں بھی حاصل ہوگی اور آخرت میں بھی مگر یہ ان لوگوں کے لیے ہے لقوم یومنون جو اس پر ایمان لاتے ہیں ایمان کے بغیر قرآن کریم سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ولا یزید الظلمین الا خساراً (بنی اسرائیل) ظالموں کیلئے قرآن کریم ان کے خسارے میں اضافہ کرتا ہے اسی سورة میں یہ بھی ہے وما یزیدھم الا نفوراً یہ کتاب ایمان سے محروم لوگوں کے لیے مزید نفرت کا باعث بنتی ہے اسی طرح عنادیوں کے لیے مزید وبال ہے اور بعض کے اندھے پن میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے مقصد یہ کہ یہ کتاب الٰہی اہل ایمان کے لیے منبع ہدایت اور رحمت ہے۔
مصداق کا انتظار
فرمایا جو لوگ اس کتاب پر ایمان نہیں لاتے وہ کس چیز کے منتظر ہیں ھل ینظرون الا تاویلہ یہ منکرین اس کتاب کے اظہار مصداق کا انتظار کر رہے ہیں ؟ مگر انہیں خوب سمجھ لینا چاہیے کہ جس دن اس کتاب کی حقیقت تاویل اور مصداق ظاہر ہوگا اس دن افسوس کرنا کچھ کام نہ آئے گا اس کا مصداق تو یہ ہے کہ قیامت واقع ہوجائے اور مکذبین پر عذاب ٹوٹ پڑے تو کیا یہ لوگ قیامت کے منتظر ہیں کہ وہ برپا ہوگی تو قرآن پر ایمان لائیں گے ؟ مگر یاد رکھو ! یوم یاتی تاویلہ جس دن اس کا مصداق ظاہر ہوجائے گا یقول الذین نسوہ من قبل تو جو لوگ اس سے پہلے اسے فراموش کرچکے ہوں گے وہ اس وقت کہیں گے قد جاء ت رسل ربنا بالحق ، تحقیق ہمارے رب کے رسول سچی بات لائے تھے اس وقت رسولوں اور کتابوں کا اقرار کریں گے مگر وہ اقرار مفید نہیں ہوگا پھر مایوس ہو کر شفاعت کے طالب ہوں گے اور کہیں گے فھل لنامن شفعاء فیستفعولنا کیا کوئی ہمارا سفارشی ہے جو ہماری سفارش کرے تاکہ ہم کسی طرح بچ جائیں جب کوئی سفارش بھی میسر نہ ہوگی تو تمنا کریں گے اونرد یا ہمیں دنیا میں واپس پلٹا دیا جائے فنعمل غیرالذی کنا نعمل تو وہ کام نہیں کریں گے جو پہلے کیا کرتے تھے یعنی اگ مہلت دیدی جائے تو اللہ کی وحدانیت اور اس کے رسولوں اور کتابوں پر ایمان لے آئیں گے نیکی کے کام کریں گے اور کفر اور شرک سے بیزار ہوں غیر اللہ کی پرستش نہیں کریں گے اہل ایمان سے تمسخر نہیں کریں گے مگر قرآن پاک نے صاف انکار کردیا کہ نہ تو انہیں دنیا میں دوبارہ بھیجا جائے گا اور نہ ان کو کوئی سفارش مفید ہوگی انبیاء ، ملائکہ ، شہدا ، مومنین کوئی مشرک کے حق میں سفارش نہیں کریے گا اور نہ وہ قبول ہوگی سورة بقرہ میں ہے ” ولا تفعھا شفاعۃ “ کسی کی سفارش مفید نہیں ہوگی دوبارہ دنیا میں آنے کی قرآن نے بار بار نفی کی ہے سورة یٰسین میں ہے ” الم یرواکم اھلکنا قبلھم من القرون انھم الیھم لایرجعون “ کتنے لوگوں کو ہم نے ہلاک کردیا مگر ان میں سے کوئی بھی پلٹ کر نہیں آئے گا دنیا کی زندگی ایک دفعہ ہی ملتی ہے اور آزمائش بھی ایک ہی مرتبہ ہوتی ہے انسان پاس ہوگیا یا فل ، دوبارہ موقع ملنے کا کوئی قانون نہیں ہے بہرحال فرمایا کہ جب تمام پردے اٹھ جائیں گے تو پھر منکرین سفارش تلاش کریں گے یا دنیا میں واپس جانے کی خواہش کا اظہار کریں گے مگر ان کی کوئی تمنا پوری نہ ہوسکے گی اور وہ عذاب کے مستحق ٹھہریں گے۔
خسارے کا سودا
ایسے بےنصیب لوگوں کے متعلق فرمایا قد خسرو انفسھم بیشک انہوں نے اپنی جانوں کو خسارے میں ڈالا اللہ تعالیٰ نے جسم ، جان ، روح ، عقل ، شعور ، قویٰ عطا کیے تھے رہنمائی کے لیے انبیاء اور کتابیں بھیجی تھیں اور اس کے بعد فرمایا تھا ” فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکفی (الکہف) اپنے ارادے سے جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے انکار کردے یہ اس کی اپنی مرضی ہے کہ وہ کس قسم کا سودا کرنا چاہتا ہے ایسے لوگوں کے متعلق جنہوں نے ایمان قبول نہ کیا سورة بقرہ میں موجود ہے ” فما ربحت تجارتھم “ ان کی تجارت نے انہیں کوئی فائدہ نہ دیا اور زندگی کی قیمتی متاع کو خسارے کے سودے میں ضائع کردیا حضور ﷺ نے اس تجارت کی وضاحت یوں فرمائی ہے صحیحین کی حدیث میں آتا ہے کل الناس یغدوا قائع نفسہ فمویقھا اور معتقھا ہر شخص ہر روز اپنے نفس کو بیچتا ہے پھر یا تو اسے جہنم کی آگ سے آزاد کرا لیتا ہے نیکی کے کام کرتا ہے ، ایمان لاتا ہے اور یا پھر کفر اور شرک میں مبتلا ہو کر اپنے نفس کو ہلاک کردیتا ہے یہ ایسی تجارت ہے جو ہر انسان ہر روز کرتا ہے اور پھر جیسی تجارت کرتا ہے اس کے مطابق نفع یا نقصان کا حقدار بنتا ہے سعدی صاح ب (رح) نے بھی کہا ہے کہ انسان کی زندگی برف کی ڈلی کی مانند ہے ؎
عمر برف است و آفتاب تموز
اند کے ماند و خواجہ غرہ ہنوز
جو کہ مسلسل پگھل رہی ہے مگر صاحب کو پتہ ہی نہیں چل رہا ہے جب برف کی ڈلی دھوپ میں پڑی ہو تو وہ کتنی دیر تک قائم رہ سکے گی انسان کی زندگی کا بھی یہی حال ہے مگر وہ دھوکے میں پڑا ہوا ہے اگر اس نے متاع زندگی سے کوئی اچھی تجارت کرلی کوئی نیکی کمالی ، ایمان کی دولت حاصل کرلی تو خسارے سے بچ جائے گا ورنہ مارا جائے گا سورة عصر میں واضح طور پر موجود ہے ان الانسان لفی خسر انسان سراسر گھاٹے میں ہے ماسوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے ، اعمال صالحہ انجام دیے حق کی وصیت کی اور صبر کی وصیت کی ان چار گروہوں کے علاوہ باقی سب نے اپنی جانوں کو خسارے میں ڈالا وضل عنھم مکانو یفترون اور گم ہوگئیں ان سے و باتیں جو وہ افتراء کیا کرتے تھے بڑی ڈھینگیں مارتے تھے ، غرور وتکبر کرتے تھے سب ختم ہوجائیں گے کوئی چیز باقی نہیں رہے گی اور انہیں اپنے کئے کی سزا مل کر رہے گی۔