7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 7:180–181

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں نام اچھے ، پس پکارو اس کو ان ناموں کے ذریعے اور چھوڑ دو ان لوگوں کو جو ٹیڑھا چلتے ہیں اس کے ناموں میں ، عنقریب ان کو بدلہ دیا جائے گا اس کا جو کچھ وہ کام کر رہے تھے

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور ان لوگوں میں سے جن کو ہم نے پیدا کیا ہے ایک امت ایسی ہے جو راہ بتلاتی ہے حق کا اور اسی حق کے ساتھ وہ انصاف کرتے ہیں۔

ربط آیات عہدوپیمان کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا انجام بیان فرمایا جو اس کی دی ہوئی نعمتوں کو صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرتے دل ، آنکھیں اور کان اللہ کی عطا کردہ خاص نعمتیں ہیں ان کو ٹھیک طور سے استعمال نہ کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ غافل بن جائیں گے اور بالآخر جہنم میں پہنچیں گے اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے اسمائے مبارکہ کا ذکر آرہا ہے اور یہ سلسلہ سورة کے ابتدائی حصہ کے ساتھ ہی مربوط ہے۔ سورۃ الاعراف مکی سورة ہے اور اس میں ان اہم ترین مسائل کا ذکر ہے جن میں مشرک لوگ اختلاف کرتے تے ان مسائل میں توحید ، رسالت ، معاد اور قرآن کریم کی حقانیت کے مسائل شامل ہیں اللہ تعالیٰ نے سورة کی ابتداء ہی میں اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کا ذکر فرما کر توحید کا مسئلہ سمجھا دیا تھا اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی طرف دعوت اور کفرو شرک کی تردید تمام انبیائے کرام کا مشترک مسئلہ رہا ہے ہر نبی نے اپنی امت کو یہی دعوت دی ” لا الہ الا انا فاعبدون “ اللہ نے فرمایا ، لوگو ! میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے لہٰذا عبادت صرف میری ہی کرو بہرحال اس سورة کی ابتداء میں بیان کردہ چاروں مسائل کو اب آخر میں پھر بیان کیا جارہا ہے چانچہ آج کے درس میں اللہ تعالیٰ کو اچھے ناموں کے ساتھ پکارنے کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے کہ اپنی حاجات میں صرف اللہ ہی کو پکارو اور اس کا تعلق ابتدائی مسائل میں سے مسئلہ توحید کے ساتھ ہے۔ اسمائے حسنہ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کو کن ناموں کے ساتھ پکارنا چاہیے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے وللہ الاسماء الحسنی اللہ کے سب نام اچھے ہیں فادعدہ بھا پس اسے انہی ناموں سے پکارو اللہ تعالیٰ پر ایمان اس کے تمام اسمائے پاک اور صفات کے ساتھ لانا ضروری ہے جیسا کہ ہم ایمان مفصل کے بیان میں اقرار کرتے ہیں امنت باللہ کما ھو باسماء ہ و صفاتہ میں ایمان لایا اللہ پر جیسا کہ وہ اپنے اسمائے پاک اور صفات کمال کے ساتھ متصف ہے اللہ تعالیٰ کے اسمائے پاک کے متعلق صحیح حدیث میں آتا ہے ان للہ تعالیٰ تسعۃً وتسعین اسماً من حقطھا دخل الجنۃ بیشک اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں جو شخص ان کو یاد کرے گا وہ جنت میں داخل ہوگا یاد کرنے سے مراد محض زبانی رٹ لینا نہیں بلکہ ان کے مفہوم پر ایمان لانا اور ان کے مطالب پر عمل کرنا ضروری ہے جو شخص ایسا کرے گا وہ یقیناً جنت کا مستحق ہوگا ان میں سے اکثر نام قرآن پاک میں مذکور ہیں اور سب کے سب اسمائے حسنہ ہیں لہٰذا انہی ناموں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو پکارنا چاہیے۔ ذاتی اور صفاتی نام اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے بعض اس کے ذاتی نام اور بعض صفاتی ہیں جن اسماء کا اطلاق اللہ تعالیٰ کی ذات پر کیا جاتا ہے وہ ذاتی ہیں اور جو اس کی صفات کو ظاہر کرتے ہیں وہ صفائی نام کہلاتے ہیں۔ بہرحال یہ پکی بات ہے کہ لفظ اللہ خدا تعالیٰ کا ذاتی نام ہے کسی شخص کا نام لینے سے اس کی ذات سمجھ میں آتی ہے اور اس کی ہستی متعین ہوتی ہے جب ہم لفظ اللہ بولتے ہیں تو اس سے وہ ہستی مراد ہوتی ہے جو واجب الوجود یعنی جس کی ہستی خود بخود ہے اور وہ کسی دوسری ہستی کی عطا کردہ نہیں ہے یہ ہستی تمام صفات کمال کے ساتھ متصف ہے اور اس میں نقص یا عیب کی کوئی صفت نہیں پائی جاتی وہ ہر کمزوری سے مبرا ہے دنیا میں اللہ کے سوا کوئی دوسری ہستی نہیں جس کا وجود خودبخود ہو ، فارسی زبان میں خدا کا معنی بھی یہی ہے کہ ایسی ذات جس کا وجود اپنا ہو کسی کا عطا کردہ نہ ہو اللہ کے علاوہ باقی تمام مخلوق کا وجود اللہ کا عطا کردہ ہے بہرحال اللہ خدا تعالیٰ کا ذاتی نام ہے جو اس کی ذات او ہستی کو واضح کرتا ہے اور جو صفاتی نام ہیں وہ خدا تعالیٰ کی پاکیزگی یا ان صفات کو ظاہر کرتے ہیں جو خدا تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں مثلاً اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام رحیم اس کے رحم کو ظاہر کرتا ہے رئوف اس کی نرمی پر دلالت کرتا ہے اور قدوس اس کی تقدیس کو واضح کرتا ہے درحقیقت اللہ تعالیٰ کا اسم یا اس کی جملہ صفات اس کی تجلی کو ظاہر کرتی ہے قرآن پاک میں ہے واذکراسم ربک (مزمل) اپنے رب کا نام یاد کرتے رہو ، یا اس کی صفت کا ذکر کرتے رہو جب تک اس کا ذکر کرتے رہو گے تمہارا تعلق خدا تعالیٰ کی تجلی کے ساتھ قائم رہے گا گویا انسان اللہ تعالیٰ کے اسمائے پاک اور صفات مقدسہ کے ذریعے اپنا رشتہ خدا تعالیٰ سے جوڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے بعض نام خاص ہیں کہ جن کے ساتھ سوائے خدا تعالیٰ کے کسی اور کو نہیں پکارا جاسکتا ایسے ناموں میں رحمان بھی ہے یہ ایسا سم ہے جو اسم اللہ کے بعد ذات خدا وندی کے ساتھ مختص ہے قرآن پاک میں ہے قل ادعوا اللہ اوادعوالرحمن (بنی اسرائیل) اللہ تعالیٰ کو لفظ اللہ کے ساتھ پکارو یا لفظ رحمان کے ساتھ پکارو …………… اس کے سارے ہی نام بھلے ہیں اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ مشرکین اعتراض کرتے تھے کہ اللہ کا نبی ایک طرف تو توحید کی دعوت دیتا ہے اور دوسری طرف اس کے بہت سے نام بھی ہیں تو اللہ نے اس کے جواب میں فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ اسم اللہ کے ساتھ پکارو یا رحمان کے ساتھ اس کے سارے نام اچھے ہیں اور اسے ہر نام سے کارنا درست ہے غرضیکہ اسمائے اللہ اور رحمان قریب قریب ہیں لہٰذا اس نام کا اطلاق غیر اللہ پر نہیں کیا جاسکتا مگر نبی حنیفہ والے ملیمہ کذاب کو رحمان کا نام دیتے تھے اور اسے رحمان یمامہ یعنی شہر عامہ کا رحمان کہتے تھے ایسا درست نہیں ہے کیونکہ لفظ رحمان اللہ کے ساتھ خاص ہے اور اس کا اطلاق کسی دوسری ہستی پر نہیں کیا جاسکتا البتہ بعض نام ایسے بھی ہیں جن کا اطلاق غیر اللہ پر بھی ہوسکتا ہے جیسے لفظ رحیم کا اطلاق اللہ تعالیٰ پر بھی ہوتا ہے اور مخلوق پر بھی۔ جب مخلوق کے ساتھ رحیم ، کریم ، یا رئوف وغیرہ صفات کا اطلاق کیا جاتا ہے تو اس سے لغوی معنی مراد ہوتا ہے یعنی فلاں شخص رحمدل مہربان یا شفیق ہے یہ مشترک نام ہیں چناچہ بعض ناموں کا اطلاق حضور ﷺ پر بھی کیا گیا ہے جیسے سورة توبہ کے آخر میں آتا ہے ” بالمومنین رئوف رحیم “ یعنی آپ (علیہ السلام) مومنوں کے ساتھ پوری مخلوق میں زیادہ شفیق اور زیادہ مہربان ہیں اور جب یہی لفظ اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے بولے جاتے ہیں تو ان سے اللہ تعالیٰ کا فیضان عام اور شفقت تامہ مراد ہوتی ہے بہرحال جس طرح لفظ رحمان اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے اسی طرح اسم خالق بھی صرف اسی کے لیے روا ہے کسی دوسری ذات کے لیے خالق کا لفظ استعمال نہیں کیا جاسکتا یہ بھی اللہ تعالیٰ کے لیے خاص ہے۔ اسما میں الحام فرمایا اللہ تعالیٰ کے بھلے نام ہیں اسے ان کے سات پکارو وذروا الذین یلحدون فی اسماء ہ اور چھوڑ دو ان لوگوں کو جو اللہ کے ناموں میں الحاد کرتے ہیں یعنی ٹیڑھا چلتے ہیں لحد کے معنی ٹیڑھا ہوتا ہے قبر کی سامی کو لحد اسی لیے کہتے ہیں کہ وہ ٹیڑھی ہوتی ہے ملحد ایسے شخص کو کہتے ہیں جس کی فکر ٹیڑھی اور فاسد ہوتی ہے تو فرمایا اللہ تعالیٰ کے ناموں میں الحاد کرنے والوں کو چھوڑ دو اور اللہ تعالیٰ کے ناموں کے ساتھ الحاد کا مطلب یہ ہے کہ جو نام اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے خاص ہیں ان کا اطلاق کسی دوسری ذات پر کرو جیسے رحمان کا ذکر پہلے آچکا ہے کہ وہ لوگ اس کا اطلاق میلمہ کذاب پر کرتے تھے یا جیسے مشرکین نے اپنے معبودوں کے نام اللہ کے نام پر رکھ لیے تھے مثلاً اللہ سے لات بنالیا اور عزیز سے غریٰ کا نام نکال لیا اسی طرح مناۃ کا نام منان سے اخذ کیا گیا تھا فرمایا یہ الحاد اور کج روی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اصل ناموں کو بگاڑ کر وہی نام اپنے معبودان باطلہ کے لیے مقرر کرلیے جائیں۔ علم کلام والے بحث کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ پر وہی نام بولنے چاہئیں جو قرآن و سنت سے ثابت ہوں اور اپنی طرف سے کوئی ایسا نام وضع نہیں کرنا چاہیے جو شریعت میں ثابت نہ ہو شریعت کے بتلائے ہو بےصفاتی نام ہی درست ہیں جیسے عیسائیوں نے اللہ کے لیے اب یعنی باپ کا نام تجویز کرلیا ہے خدا تعالیٰ کو باپ کہنے سے شرک کی ابتداء ہوئی ہے شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ اکبر کا ترجمہ ہم ” خدا بڑا ہے “ تو کرتے ہیں مگر خدا لمبا ہے نہیں کرسکتے ایسا نام یا صفت بالکل خود ساختہ اور غلط کام ہوگا اسی طرح خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کے لیے قدیم کا لفظ استعمال ہوتا ہے مگر ہم اس لفظ کا ترجمہ کرکے اللہ تعالیٰ کے لیے پرانا کا اطلاق نہیں کرسکتے ایسا کرنا الحاد ، کجروی اور گمراہی ہوگا۔ الحاد کا ایک شعبہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام کو مطلقاً کسی مخلوق پر بولا جائے جیسے آج کل عام بول چال میں آتا ہے مجید صاحب کہاں ہیں ؟ خالق صاحب نے یہ کہاخ رئوف صاحب چلے گئے ہیں یا صمد صاحب مصروف ہیں اللہ کے صفاتی نام کسی بندے پر بولنا مکرو تحریمی ہے لہٰذا ہمیشہ عبدالمجید ، عبدالخالق ، عبدالرئوف یا عبدالصمد وغیرہ کہنا چاہیے شاہ عبدالقادر (رح) نے اپنے فوائد میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اسمائے پاک کو کسی غلط مقصد کے لیے استعمال کرنا بھی الحاد ہی کی ایک قسم ہے گنڈا ، تعویز یا سحر کے لیے خدا تعالیٰ کے نام کا استعمال ، کفر ، شرک ، نفاق اور ارتدار وغیرہ کے ارتکاب کی مانند ہے لہٰذا اس سے بچنا چاہیے۔ الحاد بذریعہ تحریف معنوی علم عقائد والے کہتے ہیں کہ کسی لفظ سے ایسا معنی مراد لینا جو اللہ اس کے رسول یا سلف سے ثابت نہیں یہ بھی الحاد کی ایک قسم ہے مثلاً پرویز لفظ اللہ سے قانون مراد لیتا ہے جو کہ الحاد ہے اس نے اللہ کی ذات کی نفی کردی ہے اگر ایسا ہی ہے تو پھر سبحان اللہ یا الحمدللہ کہنے کا کیا مطلب رہ جاتا ہے غلام احمد قادیانی نے بھی اس قسم کا الحاد کیا ہے اپنی کتاب ازالہ اوہام میں سورة فتح کی آخری آیت میں آمدہ الفاظ محمد رسول اللہ کے متعلق لکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میرا نام محمد بھی رکھا ہے اور رسول بھی اس کا مطلب یہ ہوا کہ مرزائیوں کے کلمہ طیبہ میں محمد رسول اللہ سے مراد وہ محمد نہیں ہیں جو مکہ معظمہ میں حضرت عبداللہ اور آمنہ کے گھر پیدا ہوئے جو حضرت ابراہیم اور اسماعیل (علیہما السلام) کی اولاد میں سے تھے بلکہ ان کے نزدیک محمد اور رسول قادیاں کے رہنے والا غلام احمد اس لیے علماء نے ہمیشہ یہ بات واضح کی ہے کہ مرزائیوں کے کلمہ کا کچھ اعتبار نہیں ہے یہ لوگ الفاظ تو وہی بولتے ہیں مگر مرادکچھ اور لیتے ہیں یہی الحاد ہے اس قسم کا الحاد پرویز نے بھی کیا ہے وہ حورعین کا ترجمہ پاکیزہ فکر کرتا ہے حالانکہ اس سے مراد وہ خوبصورت عورتیں ہیں جو جنت میں اہل ایمان کو نصیب ہوں گی بہرحال اللہ کی کسی صفت کو غلط معانی پہنانا یا اس کا اطلاق کسی مخلوق پر کرنا الحاد میں داخل ہے اسی لیے فرمایا کہ اللہ کے اسماء میں الحاد کرنے والوں کو چھوڑ دیں سیجزون ماکانو یعملون عنقریب انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا یہ لوگ اللہ کے اسمائے پاک میں کج روی اختیار کرکے بچ نہیں سکتے۔ اسمائے پاک کے ساتھ پکارنا اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے پاک ناموں کے ساتھ پکارنے کا حکم دیا ہے اس کی تعمیل کے لیے حدیث شریف میں دعا کے یہ الفاظ سکھائے گئے ہیں الھم انی اسلک بکل اسم ھولک سمیت بہ نفسک او انزلتہ فی کتابک او علمتہ احداً من خلقک اوستاثرت بہ فی علمہ الغیب عندک ان تجعل القران العظیم ربیع قلبی و نور بصری وجلاء حزنی وذھا بھمی اے اللہ میں ہر اس اسم کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جو تو نے اپنا نام رکھا ہے یا اسے اپنی کتاب میں نازل فرمایا ہے یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو سکھلایا ہے یا عالم غیب میں اسے اپنے ہی پاس رکھا ہے کہ قرآن پاک کو میرے دل کی بہار بنا دے میری آنکھوں کا نور بنا دے اور میرے غم و فکر کو دور کرنے کا ذریعہ بنا دے بہرحال فرمایا کہ اللہ کے ناموں کے ساتھ کجروی کرنے والوں کو چھوڑ دو میں نے کجروی کی مختلف صورتیں بھی عرض کردیں ان سے ہمیشہ بچنا چاہیے۔ حق پرست لوگ آگے ارشاد باری تعالیٰ ہے وممن خلقنا امۃ یھون بالحق اور جن لوگوں کو ہم نے پیدا کیا ہے ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو حق کے ساتھ رہنمائی کرتے ہیں وبہ یعدلون اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں اسی قسم کے الفاظ موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے بارے میں بھی پہلے آچکے ہیں ومن قوم موسیٰ امۃ یھدون بالحق وبہ یعدلون مقصد یہ ہے کہ ہر امت کے لوگ سارے کے سارے گمراہ نہیں ہوتے یہودیوں میں بھی بعض حق پرست لوگ موجود ہیں جو حق کے ساتھ رہنمائی کرتے ہیں اور اسی کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں ایسے لوگ حضور ﷺ پر فوراً ایمان لے آئے اس زمانے میں بھی اکا دکا یہودی نکل آتے ہیں جو حق کو پہچان کر اسے قبول کرلیتے ہیں تاہم اس آیت کریمہ سے حضور ﷺ کی امت مراد ہے کہ یہ ایسی امت ہے جو حق کے ساتھ رہنمائی کرتی ہے حدیث شریف میں آتا ہے لاتزال طائفۃ من امتی ظھہرین علی الحق لایضرھم من خالفھم حتیٰ یاتی امر اللہ یعنی میری امت میں ایک ایسا گروہ ضرور موجود رہے گا جو حق کے ساتھ رہنمائی کرے گا اور حق کے ساتھ ہی فیصلہ کرے گا یہاں تک کہ خدا کا حکم آجائے یعنی مسیح (علیہ السلام) کا نزول ہوجائے یا قیامت برپا ہوجائے اور پھر یہ بھی ہے کہ مخالفت کرنے والوں کی عداوت ایسے لوگوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی وہ حق پر ہمیشہ قائم رہیں گے مطلب یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کی طرح آخری امت حق سے بالکل خالی نہیں ہوگی اس میں کچھ نہ کچھ حق پرست ضرور موجود رہیں گے۔
Ayahs 7:182–186

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہوں نے جھٹلایا ہماری آیتوں کو ، ہم عنقریب آہستہ آہستہ ان کو پکڑیں گے ایسی جگہ سے جہاں ان کو خبر بھی نہ ہوگی

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں مہلت دیتا ہوں ان کو ، بیشک میری تدبیر مضبوط ہے

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے صاحب میں کوئی جنون نہیں ہے ، وہ تو ڈرانے والے ہیں ، کھول کر

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

کیا انہوں نے نہیں دیکھا آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں اور جو چیز بھی اللہ نے پیدا کیا ہے اور شائد ان کے وعدے کا وقت قریب ہو ، پس کس بات پر اس (قرآن) کے بعد یہ لوگ ایمان لائیں گے

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

جس کو اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے ، اس کو کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے اور وہ اللہ چھوڑتا ہے انکو اپنی سرکشی میں یہ سرگرداں رہتے ہیں ۔

ربط آیات گزشتہ درس میں عہدو یمان توڑنے والوں کا ذکر کرکے اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا کا بیان کیا نیز فرمایا کہ جو لوگ غفلت اختیار کرتے ہیں اس کا نتیجہ بالا نتہا جہنم ہوگا پھر اللہ نے توحید اور ایمان کے سلسلے میں اللہ کے اسمائے پاک اور صفات کے ساتھ اسے پکارنے کا حکم دیا اور اس میں کجی کرنے سے منع فرمایا کیونکہ کجی کرنے والے مجرم ہوں گے اللہ تعالیٰ کے خاص ناموں کو اللہ کے علاوہ کسی غیر پر بولنے ان کا غلط مطلب لینے اور غلط مقام پر استعمال کرنے سے بھی منع فرمایا کہ ایسا کرنا جرم ہے پھر اللہ نے آخری امت کے لوگوں کی توصیف فرمائی کہ اس امت میں ایسے لوگ ضرور ہوں گے جو راہ حق کی ہدایت دیتے رہیں گے اور اسی کے مطابق انصاف کریں گے فرمایا یہ امت حق پرست لوگوں سے کبھی خالی نہیں ہوگی۔ مکذبیں کی بتدریج گرفت آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے مکذبیں اور ان کے لیے سزا کا ذکر کیا اور ساتھ ساتھ مسئلہ رسالت بھی بیان فرمایا ہے پھر آگے معاد یعنی قیامت کا ذکر بھی آئے گا اس سورة کے آخر میں اللہ نے تمام مرکزی مضامین کا اعادہ فرمایا ہے مکذبین کے سلسلے میں ارشاد ہوتا ہے والذین کذبو بایتنا وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا آیتا سے مراد احکام بھی ہیں معجزات بھی اور دلائل بھی ، اللہ تعالیٰ نے جو کتاب نازل فرمائی ہے یا جو دین اور شریعت اپنے پیغمبر کو عطا کی ہے جو لوگ ان چیزوں کا انکار کرتے ہیں ان کے متعلق فرمایا سنستدرجھم ہم عنقریب انہیں آہستہ آہستہ پکڑیں گے بعض اوقات اللہ کی گرفت یکدم بھی آجاتی ہے مگر اس کا عام قانون یہی ہے کہ وہ یکدم گرفت یکدم بھی آجاتی ہے مگر اس کا عام قانون یہی ہے کہ وہ یکدم گرفت نہیں کرتا بلکہ ابتداء میں مہلت دیتا رہتا ہے پھر جب یہ مہلت پوری ہوجاتی تو اس کی گرفت آجاتی ہے اور یہ گرفت ایسی جگہ سے آتی ہے من حیث لا یعلمون جہاں سے انہیں علم ہی نہیں ہوتا ان کی توقع کے برخلاف ان کی سرکوبی کے لیے کوئی نامعلوم دروازہ کھل جاتا ہے اور وہ سزا میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ استد راج کے معانی استد راج کا لغوی معنی کسی چیز کو آہستہ آہستہ آگے بڑھانا یا مہلت دے کر گرفت کرنا ہے اور اس آیت میں یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے تاہم خرق عادت اشیاء کے ظہور کے ضمن میں یہ لفظ اصطلاحی مفہوم بھی رکھتا ہے یہ بیان پہلے گزر چکا ہے کہ اگر کوئی خرق عبادت چیز نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو اسے معجزہ کہا جاتا ہے اور اگر نبوت سے پہلے کوئی چیز ظاہر ہو تو اسے ارہاص کہتے ہیں نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہونے والا فعل اس کا ذاتی فعل نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے اس کی مشیت اور ارادے سے ایسا واقع ہوتا ہے اور اگر نبی کے علاوہ کسی دیگر اہل ایمان کے ہاتھ پر عادت کے خلاف کوئی چیز ظاہر ہو تو اسے کرامت کہتے ہیں بعض اوقات مجذدبوں یا مجنونوں کے ہاتھ پر بھی کوئی خسرق عادات چیز ظاہر ہوجاتی ہے ایسی چیز کو مونت کہا جاتا ہے۔ صاحب سلک السلوک نے لکھا ہے کہ اگر کافر کے ہاتھ پر کوئی ایسی چیز ظاہر ہوجائے جو عادت کے خلاف ہو تو پھر اگر وہ چیز کافر کے مقصد کے مطابق ہے تو اسے استد راج کہیں گے جیسے قرب قیامت میں دجال کے ہاتھ پر ایسی بہت سی چیزیں ظاہر ہوں گی جنہیں دیکھ کر بڑے بڑے سائنسدان بھی دنگ رہ جائیں گے اور اگر کافر کے ہاتھ پر خرق عادت ظاہر ہونے والی چیز اس کی مرضی کے خلاف ہو جیسے بلعم بن باعور کے واقعہ ہے تو ایسی چیز کو اہانت کہتے ہیں سحر یا جادو بھی اسی قسم کی چیز ہے جو کافر یا غیر شرع لوگ کرتے ہیں سحر کرنے سے بھی بعض غیر معمولی چیزیں پیش آجاتی ہیں بہرحال استد راج اصطلاحی طور پر ایسی خرق عادت چیز کو کہتے ہیں جو کسی کافر کے ہاتھ پر ظاہر ہوتا ہم اس کا لفظ معنی آہستہ آہستہ مہلت دے کر گرفت کرنا ہے اور اس مقام پر یہی مطلب ہے۔ فرمایا واملی لھم میں مہلت یا ڈھیل دیتا ہوں ان لوگوں کو کیونکہ ان کسیدی متین میری تدبیر مضبوط ہے میری تدبیر سے کوئی بھی باہر نہیں نکل سکتا جب چاہوں گا پکڑیوں گا سورة بروج میں موجود ہے ان بطش ربک لشدید تیرے رب کی پکڑ بڑی سخت ہے مکر اور کید ہم معنی الفاظ ہیں اور معنی تدبیر ہے تاہم مکر مخفی تدبیر کو کہتے ہیں تو فرمایا میری تدبیر ہر چیز پر حاوی ہے تاہم مجرموں کو بعض اوقات فوری گرفت نہیں کی جاتی بلکہ انہیں دنیا میں عیش و عشرت کا موقع دیا جاتا ہے ان پر ہر قسم کی فراوانی کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور وہ لوگ دلیر ہوجاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم بہت اچھے ہیں ہم پر اللہ تعالیٰ راضی ہے مگر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایسے موقع پر ان کو گرفت میں لاتا ہے کہ مجرموں کو پتہ بھی نہیں چلتا بعض اوقات بعض لوگ دنیا کی زندگی میں گرفت سے بچے رہتے ہیں ایسے لوگ مرنے کے بعد اللہ کی پکڑ میں آتے ہیں اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق بہتر جانتا ہے کہ کس شخص کو کس وقت اور کس طرح پکڑنا ہے تاہم وہ تکذیب کرنے والے مجرموں کو چھوڑتا نہیں اور کسی نہ کسی وقت انہیں سزا میں ضرور مبتلا کرتا ہے۔ تصدیق رسالت آگے اللہ تعالیٰ نے رسالت کے باب میں مشرکین کا شکوہ بیان کیا ہے ارشاد ہوتا ہے اولم یتفکروا کیا ان لوگوں نے غور وفکر رفیق میں کوئی جنون نہیں ہے یہاں پر صاحب سے مراد حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات مبارکہ ہے آپ کی ذات کے لیے یہ لفظ قرآن پاک کے دوسرے مقامات پر بھی آیا ہے جیسے ” ماضل صاحبکم وما غویٰ “ (النجم) تمہارے رفیق (محمد ) ﷺ نہ راستہ بھولے ہیں اور نہ بھٹکے ہیں وما صاحبکم بمجنون (التکوی) تمہارے رفیق یعنی محمد ﷺ مجنون نہیں ہیں غرضیکہ ضاحب کا معنی رفیق اور ساتھی ہے اور مکہ والوں کو بار بار یاد دلایا گیا ہے کہ حضور خاتم النبیین ﷺ تمہارے خاندان اور برادری کے فرد ہیں تم ان کے حالات سے بخوبی واقف ہو سورة یونس میں خود حضور ﷺ کی زبان مبارک سے کہلوایا ” فقد لبثت فیکم عمواً من قبلہ ، افلا تعقلون “ میں نے تمہارے درمیان چالیس سالہ زندگی کا حصہ گزارا ہے تم میری زندگی کے ایک ایک لمحے سے واقف ہو پھر تمہیں اتنی بھی عقل نہیں کہ حق اور باطل میں تمیز کرسکو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ چالیس سال تک تو میں صادق اور امین رہوں اور پھر یکدم خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولنے لگوں۔ تو صاحب کے لفظ سے اللہ تعالیٰ نے یہ بات واضح فرمائی ہے کہ مشرکین ! تم حضور ﷺ کے حالات سے اچھی طرح باخبر ہو ، تم آپ کے اخلاق و کردار سے واقف ہو اور خوب جانتے ہو کہ آپ (العیاذ باللہ) مجنون نہیں ہیں مجنون کا دماغ تو خراب ہوتا ہے اور وہ کوئی ٹھیک بات نہیں کرتا مگر حضور خاتم النبیین علیہ الصلوٰۃ والسلام تو علم و حکمت کے دریا بہا رہے ہیں بھلا آپ کیسے مجنون ہوسکتے ہیں ؟ فرمایا ان ھوالا نذیر مبین آپ تو اللہ کی گرفت سے واضح طور پر ڈرانے والے ہیں آپ ہمیں اچھی طرح سمجھا رہے ہیں کہ اگر اللہ کی وحدانیت کا انکار کرو گے اس کی آیات کی تکذیب کرو گے تو ضرور پکڑے جائوگے اور عذاب میں مبتلا ہوگے اللہ تعالیٰ نے یہ رسالت کا مسئلہ بھی بیان کردیا۔ غورو فکر کی دعوت آگے اللہ تعالیٰ نے غور وفکر کی دعوت دی ہے کہ دیکھو ! اگر انسان غور و فکر کرے اپنے دماغ ، عقل اور دل کو بروئے کار لائے تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت بھی سمجھ میں آجاتی ہے اور قیامت کا مسئلہ بھی حل ہوجاتا ہے ارشاد ہوتا ہے اولم ینظروا فی ملکوت السموت والارض کیا انہوں نے نہیں دیکھا ، آسمان و زمین کی سلطنت میں وما خلق اللہ من شی اور ہر اس چیز میں جو اللہ نے پیدا کی ہے مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ زمین و آسمان جیسی بڑی بڑی اشیا اور دیگر چھوٹی سے چھوٹی مصنوعات میں غور کرتے تو آیات الٰہی کا انکار کرتے اور نہ ہی نبی (علیہ السلام) کو معاذ اللہ دیوانہ کہتے مگر افسوس کہ لوگ غور و فکر سے کام نہیں لیتے ایسے لوگوں کی حالت پہلے بیان ہوچکی ہے لھم قلوب لا یفقھون بھا ان کے دل ہیں مگر وہ سمجھتے نہیں آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں کان ہیں مگر سنتے نہیں یہ سب چیزیں غورو فکر کے فقدان پر دلالت کرتی ہیں ؎ ففی کل شئی لہ ایۃ تدل علیٰ انہ واجد ہر چیز میں دلائل قدرت موجود ہیں جن میں غورو فکر کرنے سے اس مالک الملک کی وحدانیت سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ وحدہٗ لاشریک ہے جس کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کے ذریعے ان تمام چیزوں کا ظہور ہوا ہے اس کے سوا ان اشیاء کو پیدا کرنے والا کوئی نہیں ہے اسی غوروفکر کے نتیجے میں معاذ یعنی قیامت کی سمجھ بھی آتی ہے مگر افسوس کا مقام ہے کہ لوگ نہ تو عالم بالا کی چیزوں میں غوروفکر کرتے ہیں اور نہ عالم دیریں کی چیزوں میں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ معراج کے موقع پر جب میں ساتویں آسمان پر پہنچا تو کچھ عجیب و غریب چیزیں دیکھیں میں نے بادل ، گرج اور چمک دیکھی دوسری روایت میں سمندر کا ذکر بھی ملتا ہے پھر آگے گیا تو کچھ ایسے لوگ دیکھے جن کے پیٹ بہت بڑے بڑے تھے بطور نھم کالبیوت کے لفظ آتے ہیں کہ ان کے پیٹ مکانوں جیتنے بڑے بڑے تھے اور ان پیٹوں میں بڑے بڑے سانپ تھے حضور فرماتے ہیں کہ میں نے جبرائیل (علیہ السلام) سے دریافت کیا کہ یہ کون لوگ ہیں تو بتایا گیا کہ یہ سود خور ہیں سود خود بڑا حریض آدمی ہوتا ہے اس میں پاکیزہ جذبات کے بجائے شیطانی جذبات بڑھتے رہتے ہیں انسانی ہمدردی ختم ہوجاتی ہے بحیثییت قوم یہود اور ہنود دونوں سود خور قومیں ہیں یہ بڑے سنگدل لوگ ہوتے ہیں یہود کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا گیا اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی سزا بھی سخت رکھی ہے اسی حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب میں آسمان دنیا پر واپس آیا تو نیچے میں نے بڑا دھواں اور گردوغبار دیکھا جس کی وجہ سے اندھیرا چھایا ہوا تھا میں نے اس کے متعلق جبریل (علیہ السلام) سے دریافت کیا تو اس نے بتایا ھولاء شیطین یہ شیطان ہیں جو انسانوں کے سامنے چھائے ہوئے ہیں تاکہ یہ آسمان و زمین کے دلائل قدرت میں غوروفکر نہ کرسکیں نشانات قدرت اور انسانوں کے درمیان شیاطین حائل ہیں جس کی وجہ سے انسان غورو فکر نہیں کرپاتے اگر انسان غوروفکر کرتے تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور معاذ کو جان لیتے۔ موت سے چشم پوشی فرمایا کہ انہوں نے زمین و آسمان کی سلطنت پر غور نہیں کیا وان عسیٰ ان یکون قد اقترب اجلھم اور اس بات پر بھی کہ شاید ان کے وعدے کا وقت قریب ہی ہو وعدے کے وقت سے مراد مجرمین کی گرفت کا وقت بھی ہوسکتا ہے اور زندگی کے اختتام کا وقت بھی مطلب یہ ہے کہ لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور اس حیقیقت کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے کہ ان کی زندگی کسی وقت بھی ختم ہوسکتی ہے روزمرہ کے مشاہدات ہمارے سامنے ہیں کہ کوئی شخص بالکل تندرست ہوتا ہے کھاتا ، پیتا ، کھیلتا کودتا ہے مگر موت کا وقت اچانک آجاتا ہے اور اس کے تمام پروگرام دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں انسانوں کی انفرادی موت کی طرح اقوام کی مجموعی موت بھی ایسے ہی واقع ہوجاتی ہے اور پھر ان کی گرفت ہوجاتی ہے لوگ بڑی بڑی سلطنتوں کے مالک ہوتے ہیں دنیا بھر کے فیصلے کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ڈھیل دیتے رہتے ہیں مگر جب ان کا مقررہ وقت آجاتا ہے تو پھر ان کی ساری نعمتیں چھن جاتی ہیں وہ ناشکری کی پاداش میں ذلیل و خوار اور مغلوب ہو کر رہ جاتے ہیں اور پوری پوری قوموں کی ہلاکت واقع ہوجاتی ہے۔ اس وقت مسلمان بھی دنیا میں عمومی گرفت میں ہیں چھوٹی چھوٹی پچاس قومی حکومتیں موجود ہیں مگر بحیثیت مجموعی سلطنت عامہ کی نعمت چھن چکی ہے کافر قوموں نے سازش کے ذریعے ترکی خلافت کو ختم کیا اور اب پوری دنیا میں مسلمان روس اور امریکہ کے کاسہ لیس بن کر رہ گئے ہیں کسی ملک میں یہ ہمت نہیں کہ ان سپر طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکیں جب اہل اسلام اپنے مشن سے ہٹ گئے احکام الٰہی سے غفلت اختیار کرلی تو ذلیل و خوار ہو کر رہ گئے آج کل مسلم ریاستیں اس قدر بےاثر ہوچکی ہیں کہ گزشتہ کئی سال سے برسر پیکار ملکوں کے درمیان صلح نہیں کرا سکتے ان سے کیا توقع کی جاسکتی ان کا کام کھیل تماشے ، عیاشی اور آرام طلبی کے سوا کچھ نہیں رہا مسلمان معاشی معاشرتی اور سیاسی لحاظ سے تباہ ہوچکے ہیں اخلاق تباہ ہوچکے ہیں تعلیم کے لحاظ سے پس ماندہ ہیں لوگ کافر اور عیسائی بنتے جا رہے ہیں مگر دعویٰ یہ ہے کہ ہم ترقی کر رے ہیں یہ سب کچھ غوروفکر کے فقدان کا نتیجہ ہے اللہ نے فرمایا شاید کہ ان کے وعدے کا وقت قریب ہو اور یہ غفلت میں پڑے ہوئے ہوں۔ اللہ کا آخری پروگرام فرمایا اللہ نے اپنا آخری دین مکمل کردیا ہے آخری شریعت آچکی ہے آخری نبی آچکا ہے اور قرآن پاک کی صورت میں آخری پروگرام آچکا ہے اگر اب بھی لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اللہ کے اس آخری پروگرام کو اپنانے کے لیے تیار نہیں فبای حدیث بعدہ یومنون تو پھر اس کے بعد کس بات پر ایمان لائیں گے اب نہ تو کوئی نبی آئے گا نہ دین ، نہ شریعت اور نہ کتاب اب یہ کس پروگرام کے انتظار میں ہیں جب یہ سلسلہ ہدایت اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) سے شروع کیا تھا تو اسی وقت فرما دیا تھا کہ میری طرف سے وقتاً فوقتاً تمہارے پاس ہدایت کا پروگرام آئے گا۔ فمن تبع ھدی فلا خوف علیھم ولاھم یحزنون (بقرہ) جس نے میری ہدایت کا تباع کیا وہ آگے چل کر مامون ہوگا اور اسے کوئی خوف و خطر نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ نے مختلف ادوار میں انبیاء مبعوث فرمائے ، کتابیں نازل کیں ، شریعتیں دیں اور پھر آخر میں قرآن پاک نازل کرکے اعلان فرما دیا۔ الیوم اکملت لکم دینکم واتمقت علیکم نعمتی (المائدۃ) آج میں نے تمہارے لیے دین مکمل کردیا اپنی نعمت پوری کردی ہے اور تمہارے لیے دین اسلام کو پسند فرمایا ہے اب اس کے بعد کوئی نئی ہدایت ، کوئی نیا پروگرام نہیں آئے گا اب تو محاسبے کے لیے قیامت ہی آئے گی چناچہ قرآن پاک کا تقریباً تیسرا حصہ قیامت کے واقعات پر مشتمل ہے اسی لیے فرمایا کہ اگر تم قرآن پاک پر ایمان نہیں لاتے اس کے پروگرام پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں تو پھر اس بعد کونسا پروگرام اور کون سی ہدایت آئے گی جس پر ایمان لے آئو گے۔ ہدایت بدست خدا فرمایا حقیقت یہ ہے کہ من یضلل اللہ فلا ھادی لہ جس کو اللہ تعالیٰ اس کی سوء استعداد ، ضد اور عناد کی وجہ سے گمراہ کردے اس کو ہدایت دینے والا کوئی نہیں ہے اللہ کی ہدایت کے سوا ہدایت کا کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے پھر جب لوگ سرکش ہوجاتے ہیں اس کی ہدایت کو قبول نہیں کرتے تو پھر اللہ کا قانون بھی ہے ویذرھم کہ وہ ان کو چھوڑ دیتا ہے فی طغیانھم یعمھون وہ اپنی سرکشی میں ہی سرگردان رہتے ہیں اور بالآخر و اپنے انجام کو پہنچ کر گرفتار عذاب ہوجاتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو جہالت کی تاریکیوں میں سرگرداں رہنے کے لیے مہلت دے دیتا ہے وہ وہیں بھٹکتے رہتے ہیں اچھی باتوں کو برا اور بری باتوں کو اچھا سمجھتے رہتے ہیں انبیاء کی تکذیب کرتے رہتے ہیں اور شیطان کا اتباع کرتے ہیں قیامت کے متعلق شبہات کا اظہار کرتے ہیں اور آخرت کے لیے کوئی تیاری نہیں کرتے بالآخر ان کے وعدے کا وقت آجاتا ہے اور وہ اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کی تصدیق بھی کردی ہے اور توحید کے بارے میں غوروفکر کی دعوت بھی دے دی ہے آگے مستقل طور پر قیامت کا ذکر فرمایا ہے۔
Ayahs 7:187–188

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

یہ لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں قیامت کے بارے میں کہ کب ہوگا اس کا قائم ہونا۔ آپ کہ دیجیے (اے پیغمبر ! ) بیشک اس کا علم میرے رب کے پاس ہے۔ نہیں ظاہر کرے گا اس کو اس کے وقت پر مگر وہی۔ یہ بھاری ہے آسمانوں ا و زمین میں نہیں آئے گی تمہارے پاس مگر اچانک یہ لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں گویا کہ آپ اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہیں۔ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کہ اس کا علم اللہ کے پاس ہے۔ لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

آپ پیغمبر ! آپ کہہ دیجیے نہیں مالک میں اپنے نفس کے لئے نفع کا اور نہ نقصان کا مگر جو اللہ چاہے اور اگر میں غیب جانتا ہوتا تو زیادہ کرتا بھلائی سے اور نہ پہنچتی مجھے کوئی برائی نہیں ہوں میں مگر ڈر سنانے والا اور خوشخبری دینے والا ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں۔

ربط آیات عہدو پیمان کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسے توڑنے والوں کی مذمت بیان فرمائی پھر فرمایا کہ ہم نے انسان کو دل ، آنکھیں اور کان جیسی نعمتیں عطا فرمائیں مگر لوگ ان کا صحیح استعمال نہ کرکے غفلت میں پڑتے ہیں اور بالآخر جہنم کا شکار بنتے ہیں پھر اللہ نے ایمان اور توحید کے سلسلے میں اسمائے پاک اور صفات الٰہی کا مسئلہ بھی بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو انہی اسماء اور صفات کے ساتھ پکارنا چاہیے اور اللہ کی صفات کو غلط معانی پہنا کر یا غلط مقام میں استعمال کرکے یا غلط تاویل کرکے الحاد کے مرتکب نہیں ہونا چاہیے فرمایا اللہ تعالیٰ کے اسمائے مختصہ کا غیر اللہ پر اطلاق کرنا بھی الحاد میں داخل ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تکذیب کرنے والوں کے متعلق فرمایا کہ ہم انہیں مہلت دے کر اس طریقہ سے پکڑیں گے کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا اللہ کی تدبیر بڑی مضبوط ہے پھر اللہ تعالیٰ نے شکوہ کیا کہ لوگ زمین و آسمان کی بادشاہی میں غورو فکر نہیں کرتے اگر وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ اور حکمت بالفہ کے دلائل کو دیکھتے ان میں غور وفکر کرتے تو اس کی وحدانیت کا کبھی انکار نہ کرتے ان کو کیا پتہ کہ شاید ان کا وقت قریب آگیا ہو ، فرمایا یہ لوگ اکثر گمراہی میں سردگراں رہتے ہیں۔ اب آج کے درس میں قیامت کے متعلق ذکر ہورہا ہے جیسا کہ میں نے کل عرض کیا تھا اس سورة کے آخر میں توحید ، رسالت ، قضا و قدر اور معاد جیسے اہم مسائل کا ذکر آرہا ہے تو یہ آیات بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے رسالت کی پوری تایرخ بیان فرمائی ہے اور انبیاء کے مشن کی وضاحت فرمائی ہے مشرکین جن چیزوں کا انکار کرتے تھے ان میں توحید سرفہرست ہے توحید کو اختیار کرنے کے بجائے وہ شرک کی مختلف اقسام میں مبتلا تھے اور اسی طرح قیامت کا بھی انکار کرتے تھے تو یہاں پر اللہ تعالیٰ نے قیامت کا مسئلہ بیان فرمایا ہے جو کہ ایمان کا ایک بنیادی جزو ہے۔ وقوع قیامت کا وقت ارشاد ہوتا ہے یسلونک عن الساعۃ اے پیغمبر ! یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں ایان موسھا ط کہ وہ کب قائم ہوگی لفظ این اور ایان میں یہ فرق ہے کہ این مکان کو ظاہر کرتا ہے جب کہ ایان وقت کے لیے آتا ہ کے مطلب یہ ہے کہ قیامت کب برپا ہوگی اور ارسی کا معنی کسی چیز کا گاڑ دینا ہوتا ہے جیسے فرمایا ” والجبال ارسھا (النزعت) پہاڑوں کو گاڑ دیا بحری جہاز کے لنگر انداز ہونے کو بھی ارساء السفینۃ کہتے ہیں تاہم یہاں پر وقوع مراد ہے کہ قیامت کب واقع ہوگی جب حضور ﷺ قیامت کا تذکرہ فرماتے ہیں اور لوگوں کو بتاتے کہ وہ وقت آنے والا کہے جب ہر ایک کو اپنی کارکردگی کا حساب دینا ہوگا تو مشرکین طنزاً کہتے متیٰ ھذالوعد ان کنتم صدقین (الملک) اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو بتائو کہ وہ قیامت کب آئے گی ہم نے تو آج تک کسی کو مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہوتے نہیں دیکھا یہاں بھی اسی طرح کے سوال کے جواب میں اللہ نے فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ کہ دیجیئے انما علمھا عند ربی کہ وقوع قیامت کا علم تو میرے رب کے پاس ہے لایجلیھا لوقتھا الاھو نہیں ظاہر کرے گا اس (قیامت) کو اس کے وقت پر مگر وہی اللہ ، اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو اپنی ذالت کے ساتھ مختص کررکھا ہے ان میں قیامت بھی شامل ہے قیامت کے واقع ہونے کی خبر تو دے دی گئی ہے اور قرآن پاک کا ایک تہائی حصہ اسی موضوع پر مشتمل ہے مگر اس کے وقوع کا عین وقت نہیں بتایا گیا معراج کے واقعہ سے متعلق ابن ماجہ اور مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ جب تمام انبیاء (علیہم السلام) اکٹھے ہوئے تو ان کے درمیان قیامت کا ذکر بھی ہوا تھا ہر نبی نے قیامت کے وقت سے لاعلمی کا اظہار فرمایا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اماوجب تھا فلا یعلمھا الا اللہ یعنی قیامت کے وقوع کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں اللہ نے قیامت کے وقت کے متعلق نہ کسی نبی اور مرسل کو خبر دی ہے اور نہ کسی مقرب فرشتے کو ، البتہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے زمین پر اتر کر اللہ کے دشمن دجال کا قتل کروں قرب قیامت کی بعض دوسری نشانیاں بھی بتلائی گئی ہیں حدیث جبرئیل میں آتا ہے کہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے ایمان ، اسلام اور احسان کے بعد جب متی الساعۃ کا سوال کیا یعنی حضور ! یہ بتائیں کہ قیامت کب آئے گی ؟ تو آپ نے بھی یہی جواب دیا تھا ما السئول عنھا باعلم من السائل کہ جس سے یہ سوال کیا جارہا ہے وہ سائل سے زیادہ نہیں جانتا یعنی جس طرح اس بات کا علم پوچھنے والے کو نہیں ہے اسی طرح جواب دینے والے کو بھی نہیں ہے اس بات کی وضاحت سورة لقمان میں موجود ہے ان اللہ عندہ علم الساعۃ یعنی قیامت کے وقوع کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہی اس کو اپنے وقت پر ظاہر کرے گا۔ آسمان و زمین کیلئے بوجھل آگے قیامت کے متعلق مزید فرمایا کہ ثقلت فی السموت والارض قیامت کا وقوع آسمانوں اور زمین میں بھاری ہے بڑی بوجھل ہے کیونکہ جب یہ واقع ہوگی تو ہر چیز کو درہم برہم کردے گی جیسے فرمایا اذا الشمس کورت وازا النجوم انکدرت (التکویں) جب سورج لپیٹ لیا جائے گا اور جب تارے بےنور ہوجائیں گے غرضیکہ ارض و سما کا یہ موجود نظام شمسی ختم ہوجائے گا اس نظام کے تمام سیارے ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا کر پاش پاش ہوجائیں گے پھر خطیرۃ القدس کا نظام قائم ہوگا اس وقت لوگوں پر بڑی دہشت طاری ہوگی سورة الحاقہ میں موجود ہے جب صور پھونکا جائے گا تو زمین اور پہاڑی اٹھا لیے جائیں گے وانشقت السماء اور آسمان پھٹ جائے گا اور فرشتے اس کے کناروں پر اتر آئیں گے پورے کا پورا نظام بدل جائے گا حضور ﷺ سے دریاف کیا گیا کہ حضور ! جب یہ حالت طاری ہوجائے گی تو اس وق مخلوق کہاں ہوگی ؟ فرمایا وہ پل صراط کے ایک حصے پر ہوں گے۔ قیامت کی اچانک آمد فرمایا یہ قیامت بھاری ہے آسمان اور زمین پر لاتاتیکم الابغتۃ نہیں آئے گی تمہارے پاس مگر اچانک قیامت کی اچانک آمد کے متعلق احادیث میں مختلف روایات ملتی ہیں مثلاً صحیمین کی روایت میں آتا ہے دو آدمی کپڑا پھیلائیں گے اور اس کا بھائو نہیں طے کر پائیں گے کہ قیامت برپا ہوجائے گی کوئی شخص جانور خریدے گا اس کا دودھ دوہے گا مگر پینے سے پہلے قیامت آجائے گی پھر فرمایا ایک شخص کھانا کھانے کے لیے برتن سے لقمہ اٹھائے گا مگر منہ میں نہیں ڈال سکے گا اور قیامت واقع ہوجائے گی۔ فرمایا ، یہ لوگ یسئلونک کانک حفیً عنھا آپ سے قیامت کے متعلق اس طرح سوال کرتے ہیں گویا کہ آپ اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہیں حفی کا معنی عالم بھی ہوتا ہے اگر یہ معنی کیا جائے تو پورا جملہ اس طرح ہوگا یہ لوگ آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں گویا آپ اسے جانتے ہیں یہ درست نہیں ہے نہ تو آپ اس کی کھوج میں ہیں اور نہ ہی آپ قیامت کے وقت معین کو جانتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو قیامت کے وقت کا علم نہیں دیا البتہ بعض نشانیاں بتلائی ہیں کہ قرب قیامت میں اس قسم کے واقعات پیش آئیں گے اور پھر قیامت برپا ہوجائے گی۔ حفی کا ایک معنی مہربان بھی ہوتا ہے سورة مریم میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زبان سے یہ لفظ ادا ہوا جب بتوں کو پاش پاش کرنے کی پاداش میں باپ نے گھر سے نکال دیا تو آپ نے جاتے ہوئے سلام کہا اور کہا کہ میں اپنے پروردگار سے تمہارے لیے بخشش مانگو گا انہ کان بی حفیاً وہ مجھ پر نہایت مہربان ہے مشرکین تو حضور ﷺ سے قیامت کا سوال طعن وتشنیع کے طور پر کرتے تھے مگر اہل ایمان بھی بعض اوقات قیامت کے متعلق دریافت کرلیتے تھے کیونکہ حضور ﷺ ان کے لیے نہایت شفیق اور مہربان تھے بہرحال اس قسم کے سوالات کے جواب میں اللہ نے فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے انما علمھا عنداللہ اس کا علم تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ولکن اکترالناس لایعلمون مگر اکثر لوگ نہیں سمھجتے اور ایسے سوال کرتے ہیں جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور جو اس نے کسی کو نہیں دیا۔ اللہ اور رسول کی محبت صحیمین کی روایت میں ایک دیہاتی مسلمان کا ذکر آتا ہے کہ اس نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عرض کیا کہ حضور ! یہ بتائیں متی الساعۃ کہ قیامت کب آئے گی ؟ آپ نے فرمایا افسوس ہے کہ تم نے قیام کے لیے تیاری کیا کررکھی ہے ؟ اس نے کہا حضور ! بڑی بڑی نمازیں اور روزے تو خیر نہیں ہوسکے الکنی احب اللہ و رسولہ البتہ میں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ محبت ضرور دیکھتا ہوں تو حضور ﷺ نے فرمایا ، انت مع من اجبت تم اسی کے ساتھ ہوگے جس کے ساتھ محبت ہوگی حضرت انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور کی یہ بات سن کر مجھے اتنی خوشی ہوئی کہ کسی دوسری بات سے نہیں ہو سکتی کیونکہ حضور نے اللہ اور اس کے رسول کی محبت پر اتنی بڑی بشارت سنادی۔ قیامت کے بارے میں اہل ایمان بھی سوال کرتے تھے تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے وقت کو مخلوق سے اس لیے مخفی رکھا ہے تاکہ لوگ محتاط رہیں اور نیکی کی طرف زیادہ سے زیادہ راغب ہوں وہ ہمیشہ فکر مند رہیں کہ پتہ نہیں قیامت کب آجائے گی اس لیے ہمیں غافل نہیں ہونا چاہیے اور نیکی کرنے میں سبقت کرنی چاہیے اس قسم کا اخفاء اللہ نے لیلۃ القدر کے تعین میں بھی رکھا ہے تاکہ لوگ اس کی لاش میں زیادہ سے زیادہ محنت کریں اور پھر اس کا پھل حاصل کرسکیں قیامت کے وقت کو مخفی رکھنے میں بھی یہی حکمت ہے۔ نافع اور ضار قیامت کے بارے میں جاننا تو بہت بڑی بات ہے فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں لا املک لنفسی نفعاً ولاضراً میں تو اپنی ذات کے لیے بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوا الا ماشاء اللہ مگر جو اللہ چاہے میرے اختیار میں تو یہ بھی نہیں کہ میں اپنے آپ کو نفع پہنچا سکوں یا نقصان کو دور کرسکوں یہ سب اختیارات تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں چناچہ ہر انسان کا پختہ یقین ہونا چاہیے بلکہ یہ بات اس کے ایمان میں داخل ہے کہ نافع اور ضار صرف خدا تعالیٰ ہے مافوق الاسباب اور غائبانہ طور پر وہی نفع پہنچاتا ہے اور وہی نقصان پہنچاتا ہے النافع اور انصار اللہ تعالیٰ کے اسمائے پاک بھی ہیں مگر کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ لوگ اللہ کے علاوہ دوسروں کو بھی حاجت روا اور مشکل کشا مانتے ہیں۔ مسئلہ علم غیب اللہ نے فرمایا آپ یہ بھی کہہ دیں ولوکنت اعلم الغیب اور اگر میں غیب جانتا لا استکترت من الخیر تو بہت سی بھلائی حاصل کرلیتا وما مسنی السوء اور مجھے کوئی برائی اور تکلیف نہ پہنچی گویا حضور ﷺ نے اپنے متعلق علم غیب کی صریح الفاظ میں نفی کردی ہے عیب اس علم کو کہا جاتا ہے جو نہ عقل سے معلوم ہو اور نہ حواس ظاہرہ و باطنہ سے جو چیز غور و فکر کرنے سے یا کسی دوسرے کے بتلانے سے معلوم ہو وہ بھی غیب نہیں ہوتا علم غیب اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے لہٰذا اس کا اطلاق کسی فرشتے ، نبی یا ولی پر کرنا درست نہیں ہے انبیاء بھی غیب نہیں جانتے الا ماعلمھم اللہ سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ انہیں وحی کے ذریعے عطا کرتا ہے اور غیب وہ ہوتا ہے جو بغیر کسی واسطہ کے خودبخود ہو ایسا علم صرف اللہ کے پاس ہے یہ چیز مخلوق میں سے کسی کو حاصل نہیں انبیاء کو بھی اتنا ہی علم ہوتا ہے جتنا اللہ تعالیٰ عطا کرتا ہے ذرے ذرے کا علم خدا کے سوا کسی مخلوق کو حاصل نہیں مولوی احمد رضا خان بریلوی نے بالکل غلط بات کی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو زمین کی پیدائش سے لے کر قیامت تک کے ذرے ذرے کا علم ہے یہ تو مشرکانہ عقیدہ ہے کیونکہ علم محیط اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور قرآن کریم میں حضور ﷺ کے کلی علم کی صراحتاً نفی کی گئی ہے مثلاً سورة یٰسین میں فرمایا وما علمنہ العشر وما ینبغی لہ ہم نے اپنے نبی کو شعر کا علم نہیں سکھایا اور نہ ہی یہ اس کے شایان شان ہے اب کلی علم کہاں رہ گیا خود حضور ﷺ نے دعا میں سکھایا الھم انی اعوذ بک من علم لاینفع اے اللہ ! میں تیری ذات پاک کے ساتھ ایسے علم سے پناہ چاہتا ہوں جو مفید نہ ہو جیسے سحر ، کہانت اور رمل کا علم کہ حضور نے اس سے پناہ مانگی ہے۔ امام شاہ ولی اللہ محدیث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبیوں سے اللہ تعالیٰ کی صفات مختصہ کی نفی کرنا واجب ہے پیغمبر (علیہ السلام) کے بارے قادر مطلق ، علیم کل ، واجب الوجود ہونے کی نفی کرنا ضروری ہے وہ تو اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور اس کے سامنے عاجز ہیں بھائی ! صفات مختصہ کی نفی کرنا انبیاء (علیہم السلام) کی توہین نہیں ہے یہ صفات تو اللہ تعالیٰ کا حق ہیں اور حق صرف حقدار کو ہی ملنا چاہیے ہاں شریعت کا علم نبی مکمل طور پر جانتا ہے اگر کوئی شخص یہ کہے کہ نبی شریعت کا کوئی مسئلہ نہیں جانتا تو یہ کفر ہوگا شریعت کے علاوہ کائنات میں جو تکوینی چیزیں واقع ہوتی ہیں اللہ تعالیٰ ان کا وافر حصہ بھی نبی کو عطا کرتا ہے مگر ہر چیز کا علم نہیں دیتا کہ اس کا اپنا خاصہ ہے بیشمار چیزیں ایسی ہیں کہ جن کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں نہیں جانتا انہیں اللہ ہی جانتا ہے۔ فرمایا میں غیب نہیں جانتا ، اگر جانتا تو اپنے لیے بہت سی بھلائیاں جمع کرلیتا اور مجھے کوئی تکلیف نہ پہنچتی مگر حضور ﷺ کی حیات طیبہ سے واضح ہوتا ہے کہ آپ بیمار بھی ہوئے ، آپ زخمی بھی ہوئے ، آپ کے عزیز ساتھی شہید ہوئے اگر آپ کو غیب کا علم ہوتا تو اتنی تکالیف برداشت نہ کرتے برامعونہ والا واقعہ بڑا دلخراش ہے آپ نے ستر جلیل القدر صحابہ ؓ کو تبلیغ دین کے لیے بھیجا مگر وہ سارے کے سارے راستے میں ہی قتل کردیئے گئے حضور ﷺ کو اتنا صدمہ ہوا کہ مہینہ بھر قنوت نازلہ پڑھتے رہے اگر آپ کو علم ہوتا کہ یہ لوگ دھوکے سے آدمی لے جا رہے ہیں اور انہیں قتل کردیں گے تو آپ کبھی نہ بھیجتے دنیا میں پیش آنے والے کتنے امور ہیں کہ ان کے متعلق پیشگی علم ہوجائے تو انسان کو کبھی نقصان نہ اٹھانا پڑے صحت ، بیماری ، قحط ، فراوانی ، فتح ، شکست ، نفع ، نقصان کتنی چیزیں ہیں کہ قدرت کا سارا نظام انسان کی لاعلمی کی وجہ سے ہی چل رہا ہے اگر ہر شخص کو نفع نقصان یا موت وحیات کا پیشگی علم ہوجائے تو دنیا کا نظام ٹھپ ہو کر رہ جائے لہٰذا اللہ نے کلی علم صرف اپنے پاس رکھا ہے۔ صفت تدبیر میں شرک اللہ تعالیٰ کے واجب الوجود اور خالق ہونے میں تو مشرکین بھی متفق ہیں مگر آگے چل کر وہ اللہ تعالیٰ کی صفت تدبیر میں شرک کرنے لگتے ہیں حالانکہ تدبیر بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے عالم بالا سے لے کر عالم زیریں تک تمام امور کی تدبیر اللہ ہی کرتا ہے اور اس کام میں اس کا کوئی شریک نہیں فالمدبرات امراً میں اگرچہ فرشتوں کے امور انجام دینے کا بیان ہے مگر وہ اللہ تعالیٰ ہی کے کارندے ہیں اور اس کے حکم کے مطابق تمام کام کرتے ہیں کمی بیشی ، عروج زوال تنگی وسعت ، صحت ، بیماری وغیرہ تدبیر کے ساتھ تعلق رکھنے والی چیزیں ہیں اور یہ سب کچھ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اس مقام پر لوگ بہک جاتے ہیں اور یہ عقیدہ اختیار کرلیتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ نبی ولی وغیرہ بھی کچھ تدبیر کرتے ہیں مشکل کشائی اور حاجت روائی کرتے ہیں لہٰذا ان کے نام پر نذر و نیاز دیتے ہیں اور ان کی عبادت کرنے لگتے ہیں۔ اسی طرح قادر مطلق اور علیم کل ہونا بھی اللہ تعالیٰ کی خاص صفات ہیں ہر چیز پر قدرت رکھنے والی صرف وہی ذات ہے اور ازل سے لے کر ابد تک ذرے ذرے کا علم بھی اسی کے پاس ہے ان دو صفات میں بھی اس کا کوئی شرک نہیں خدا کے سوا کوئی قادر مطلق بھی نہیں ہے اسی طرح الومہیت کی صفات میں غیر مرئی ہونا یعنی دکھائی نہ دینا بھی خاصہ خدا وندی ہے مسیح (علیہ السلام) کیسے الٰہ ہوسکتے ہیں وہ تو دکھائی دیتے ہیں خدا تعالیٰ غیر محدود اور غیر مرئی ہے۔ حضور ﷺ بحیثیت تدیروبشیر فرمایا کہ قیامت کے وقوع کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اس نے اسے اپنے لیے خاص رکھا ہے اور پھر مقررہ وقت پر اچانک ظاہر کردے گا………………………ان انا الانذیر وبشیر میں تو ڈر سنانے والا ہوں کہ دیکھو ! قیامت آنے والی ہے اس کے لیے تیاری کرلو ، اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کرلو اور شرک سے باز آجائو میں اللہ کا رسول ہوں تمہیں ہدایت کی باتیں بتاتا ہوں اور تمہیں برے انجام سے ڈراتا ہوں نیز میں اطاعت گزاروں اور فرمانبرداروں کے لیے خوشخبری سنانے والا بھی ہوں جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور نیک اعمال انجام دیتے ہیں ان لھم قدم صدق عند ربھم (یونس) ان کے لیے ان کے رب کے پاس سچائی کا پایہ ہے ایسے لوگوں کا انجام اچھا ہوگا برے انجام سے ڈرانا اور اچھے اعمال پر خوشخبری سنانا ہر نبی کا کام رہا ہے ” وما نرسل المرسلین الا مبشرین ومنذرین “ (الانعام) ہم ہر رسول کو بشارسنانے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجتے ہیں بشمول حضور خاتم النبیین ﷺ بشارت و نذرات تمام انبیاء کی مشترک صفت ہے فرمایا بشارت ان لوگوں کے لیے ہے لقوم یومنون جو خدا کی وحدانیت اور اس کے رسولوں کی رسالت پر ایمان لاتے ہیں جو قرآن کو برحق سمجھتے ہیں معاد پر یقین رکھتے ہیں اور شرک سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں جو لوگ سرکشی اختیار کرتے ہیں ان کے لیے کوئی بشارت نہیں بلکہ وہ تو انداز کے حق دار ہیں۔