Ayahs 7:70–72ربط آیات
گزشتہ درس میں حضرت ہود (علیہ السلام) کا تذکرہ اللہ نے ان کی بعثت کا ذکر کیا انہوں نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور غیر اللہ کی عبادت سے منع فرمایا مگر قوم کے سربرآوردہ لوگوں نے آپ کی دعوت کو قبول نہ کیا اور آپ پر جھوٹ اور بےوقوفی کا الزام لگایا حضرت ہود (علیہ السلام) نے نہایت نرمی کے ساتھ جواب دیا کہ اے میری قوم کے لوگو ! مجھ میں بےعقلی کی کوئی بات نہیں ہے میں تو رب العلمین کی طرف سے تمہارا رسول بناکر بھیجا گیا ہوں میں اپنے رب کے پیغام تک پہنچانے پر مامور ہوں میں تمہارا خیر خواہ اور امانت دار ہوں کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نصیحت ایک ایے شخص پر نازل ہوئی ہے جو تمہارے خاندان ، قوم اور نسل سے تعلق رکھتا ہے تاکہ وہ تمہیں خدا تعالیٰ کے عذاب سے ڈرا دے ؟ فرمایا خدا کے انعامات کو یاد کرو کہ قوم نوح کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں خلیفہ بنایا ، زمین پر اقتدار بخشا تمہیں بڑے بڑے جسم دیے اور طاقتور بنایا لہٰذا تمہیں اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد کرکے اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔
آبائو اجداد کے معبود
حضرت ہود (علیہ السلام) کی تقریر کا جواب آپ کے قوم کے کفار سرداروں نے اس طرح دیا قالو اجتنا لنعبد اللہ وحدہ کہنے لگے کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم صرف ایک اللہ کی عبادت کریں ؟ ونذرما کان یعبد ابنائونا اور ان چیزوں کو چھوڑ دیں جن کی ہمارے آبائواجداد پرستش کرتے تھے جن معبودوں کی ہم نذر و نیاز دیتے ہیں اور جو ہماری حاجت روائی اور مشکل کشائی کرتے ہیں ہم انہیں یک لخت کیسے چھوڑ سکتے ہیں اے ہود (علیہ السلام) ہم آپ کی یہ بات ماننے کے لیے ہرگز تیار نہیں تم تو بےوقوفی کی باتیں کرتے وہ بھلا ان معبودوں کے بغیر ہمارے مقاصد کیسے پورے ہوسکتے ہیں ؟ بالکل یہی بات مشرکین مکہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دعوت کے جواب میں کہی تھی انہوں نے دو چیزوں پر استعجاب کا اظہار کیا تھا ایک یہ کہ جب ہم مرکر مٹی میں مل جائیں گے اور ہماری ہڈیاں ریزہ ریزہ ہوجائیں گی تو عجیب بات ہے کہ ہم جی اٹھیں گے اور دوسری بات یہ کی تھی اجعل الالھۃ الھاً واحدا ان ھذا لشیٔ عجاب ہم تمام معبودوں کو چھوڑ کر صرف ایک خدا کی عبادت کریں یہ تو عجیب بات ہے ہمارے آبائواجداد میں سے تو کبھی کسی نے ایسی بات نہیں کی ہم صدیوں سے لات ، منات اور عزیٰ وغیرہ کی پوجا کر رہے ہیں مگر کسی نے نہیں روکا تو ہود (علیہ السلام) کی قوم نے بھی یہی کہا کہ کیا ہم اپنے آبائواجداد کے معبودوں کو چھوڑ دیں اور صرف ایک معبود کی عبادت کریں یہ ناممکن ہے فاتنا بما تعدناً ان کنت من الصدقین ہود (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو پھر لے آ جس چیز کا تو نے ہم سے وعدہ کیا ہے یعنی ہم پر وہ عذاب نازل کردو جس سے ہمیں ڈراتے ہو۔
اس قسم کی بات بعض دوسرے انبیاء کے ساتھ بھی پیش آئی ہے حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے کہا فاسقط علینا کسفاً من السماء (الشعرائ) اگر تو سچا ہے تو ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرا دے حضرت لوط (علیہ السلام) سے بھی یہی مطالبہ کیا گیا قالو ائتنا بعذاب اللہ ان کنت من الصدقین اگر تم سچے ہو تو ہم پر اللہ کا عذاب لے آئو مشرکین مکہ بھی حضور ﷺ کو سچا نہیں مانتے تھے اور کہتے تھے اس کا لایا ہوا کلام اگر برحق ہے فامطر علینا حجارۃ من السماء اوائتنا بعذاب الیم (انفا) تو اے اللہ ہم پر آسمان سے پتھر برسایا ہمیں دردناک عذاب میں مبتلا کردے۔
حضرت ہود (علیہ السلام) کا جواب
جب قوم نے حضرت ہود (علیہ السلام) سے عذاب کا مطالبہ کیا تو آپ نے فرمایا قال قد وقع علیکم من ربکم رجس وغضب تحقیق واقع ہوچکا ہے کہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور غضب یعنی تمہاری سرکشی ، گستاخی اور بےحیائی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ تم پر خدا کا غضب نازل ہونے والا ہے لفظ رجس دو مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے اس کا ایک معنی گندگی ہے جیسے فاجتنبو الرجس من الاوثان (الحج) بتوں کی گندگی سے بچو یہ معنوی نجاست ہوتی ہے کہ انسان کے دل و دماغ میں راسخ ہوجاتی ہے اور جس نے انساں کی روح پلید ہوجاتی ہے رجس کا دوسرا معنی عذاب ہے جیسا کہ اس آیت میں استعمال ہوا ہے قرآن میں دیگر مقامات پر بھی رجس یا رجز عذاب کے معنوں میں استعمال ہوا ہے جیسے بنی اسرائیل کے متعلق فرمایا فانزلنا علی الذین ظلمو رجزاً من السماء (البقرہ) ہم نے ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل فرمایا اسی طرح غضب کا لفظ بھی قرآن پاک میں متعدد بار غصہ اور ناراضگی کے معنوں میں آیا ہے جیسے فرمایا فباء وبغضب علی غضب (البقرۃ) وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی پر ناراضگی لے کر لوٹے۔
حضرت ہود (علیہ السلام) نے مزید فرمایا اتجادلوننی فی اسماء کیا تم میرے ساتھ ان ناموں کے متعلق جھگڑتے ہو سمیتموھا انتم وآبائو کم جو تم نے اور تمہارے آبائواجداد نے رکھ لیے ہیں اور ہر ایک کو کسی خاص صفت سے متصف کردیا ہے کہ فلاں بت روزی دینے والا ہے فلاں اولاد دینے والا ہے فلاں بارش برسانے والا اور فلاں مقدمہ میں رہائی دلانے والا ہے بتوں کے مختلف نام رکھے ہیں اور پھر ان کی عبادت کرتے ہو ان سے مرادیں مانگتے اور بگڑی بنواتے ہو حضرت ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ یہ نام ہی نام ہیں مانزل اللہ بھامن سلطن اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں کوئی سند نہیں اتاری کہ جن امور کو ان کے ساتھ منسوب کرتے ہو وہ کام واقعتاً کر بھی سکتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ اولاد ، شفا ، روزی ، عروج وزوال ، مافوق الاسباب استعانت یہ سب اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہیں ان میں سے کوئی بھی صفت ان معبودان باطلہ میں نہیں پائی جاتی یہ بالکل بےاختیار ہیں بلکہ بعض ان میں سے بےجان ہیں لہٰذا یہ تمہارے کچھ کام نہیں آسکتے تمہیں کوئی نفع نقصان نہیں پہنچا سکتے حتیٰ کہ ملائکہ بھی خدا تعالیٰ کے حکم کے بغیر کچھ نہیں کرتے یہ تو تم نے محض نام رکھ دیے ہیں جن میں حقیقت کچھ بھی نہیں اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں کوئی سند نہیں اتاری۔
یہی بات حضور ﷺ کی تقریر میں بھی پائی جاتی ہے ان ھی الا اسماء سمتموھا انتم وابائو کم مانزل اللہ بھا من سلطن (النجم) اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے لات ، عزیٰ اور منات کا نام لے کر فرمایا ہے یہ مشرکین کے خود رکھے ہوئے نام تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق کوئی سند نہیں اتاری اللہ تعالیٰ نے ہرگز یہ نہیں کہا کہ فلاح بت کی پوجا کرو اور فلاں سے مدد مانگو ، یا فلاں کی تعظیم کرو تو تمہارا مقصد پورا ہوجائے گا فرمایا اس کو تو عقل پہچانتی ہے کہ مٹی اور پتھر کے بت کسی نفع نقصان کے مالک نہیں اور جن بزرگوں کے نام پر یہ بت بنائے گئے ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی عاجز مخلوق تھے عابد اور معبود مخلوق وہنے کے اعتبار سے دونوں ضعیف ہیں ضعف الطالب والمطلوب (الحج) میں یہی بات سمجھائی گئی ہے کہ حاجت مند اور حاجت روا دونوں کمزور ہیں وہ نقع نقصان کے مالک نہیں ہیں۔
فیصلے کا انتظار
فرمایا شرک کے ارتکاب اور پھر اللہ کے نبی کے ساتھ جھگڑا کرنے کی وجہ سے تمہاری بدبختی انتہا کو پہنچ چکی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری طرف سے شرک سے باز آجانے کی اب کوئی امی دباقی نہیں رہی لہٰذا فانتظرو انی معکم من المنتظرین تم بھی فیصلے کا انتظار کرو اور تمہارے ساتھ میں بھی اسی انتظار میں ہوں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے حق میں کیا فیصلہ کرتا ہے میں نے پہلے عرض کیا تھا کہ حضرت ہود (علیہ السلام) 460 یا 480 سال تک اس دنیا میں زندہ رہے قوم کو خدا کا پیغام سناتے رہے اتنا لمبا عرصہ تبلیغ کا حق کا ادا کرنے کے باوجود جب قوم سرکشی سے باز نہ آئی تو پھر ان کے لیے فیصلے کا وقت آن پہنچا خدا تعالیٰ نے اس قوم پر تین سال تک قحط مسلط کردیا وادی داہنا میں عمان سے حضر موت تک گرم ترین علاقے میں بارش کا قطرہ نہ برسا جس کی وجہ سے قوم ہود نے سخت تکلیف اٹھائی مگر پھر بھی اپنے نبی کی بات ماننے پر تیار نہ ہوئے اس کے بعد ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا آسمان سے آگ برسی اور آٹھ دن اور سات رات تک مسلسل آندھی چلی جس سے پوری قوم تہس نہس ہوگئی۔
وفد عاد کا سال
کہتے ہیں کہ جب قوم عاد سخت قحط میں مبتلا ہوگئی تو انہوں نے اپنے ایک سردار قیل کی سرکردگی میں ایک وفد مکہ مکرمہ کی طرف روانہ کیا جو وہاں جاکر اللہ تعالیٰ سے بارش کے لیے دعا کرے اس وقت بیت اللہ شریف کی عمارت تو طوفان کی وجہ سے مٹ چکی تھی تاہم لوگ اس جگہ کو مقدس جانتے تھے اور اس مقام پر دعائیں کرتے تھے قوم عاد نے بھی ایک وفد اس مقام کے لیے روانہ کیا اس وفد کا حال ترمذی شریف اور مسند احمد میں مذکور ہے حارث ابن زید ؓ بکری عربوں کے قبیلہ بکر کا ایک شخص صحابی رسول ہے یہ شخص قوم عاد کے علاقے کا رہنے والا تھا جب یہ مدینہ آیا تو کسی شخص نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ حضور ! عاد کا ایک وفد آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہے حضرت حارث خود بیان کرتے ہیں ذکرت وافد عاد کہ میرا وفد عاد کے طور پر ذکر کیا گیا ہے یہ ن کر میں نے کہا اعوذ باللہ ان آکون وافد عاد پناہ بخدا کہ میں وفد عاد جیسا بنوں اس پر حضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حارث ؓ سے دریافت کیا کہ تم عاد کے وفد کے متعلق کیا جانتے ہو وہ کہنے لگا کہ میں یہ جانتا ہوں کہ سردار قیل کی قیادت میں ایک وفد مکہ مکرمہ گیا تھا جب قحط پڑا تو قوم نے اس وفد کو روانہ کیا تاکہ وہ وہاں جاکر بارش کے لیے دعا کرے یہ وفد مکہ کے قریب پہنچا تو وہاں پر معاد یہ ابن بکر سردار کے پاس اترا اس نے مہینہ بھر وفد کی خوب خدمت تواضع کی شراب پلائی اور مہمانوں کے دل بہلا دے کے لیے جرادتان تغنیان ناچنے گانے والی دو لونڈیاں بھی ان کے سپرد کیں۔
یہ وفد اپنے عیش و آرام میں لگا رہا حتیٰ کہ ان کا میزبان ان سے تنگ آگیا وہ چاہتا تھا کہ اب یہ لوگ چلے جائیں مگر کھل کر انہیں کہہ بھی نہیں سکتا تھا چناچہ اس نے گانے والی لونڈیوں سے کہا کہ تم ایسے اشعار گائو کہ جن کو سن کر یہ لوگ یہاں سے چلے جائیں اور ہماری توہین بھی نہ ہو تو لونڈیوں نے مہمانوں کے سامنے یہ اشعار گائے۔
الا یا قیل ویحک قم فھینم
اے سردار افسوس ہے تمہاری حالت پر اٹھو دعا کرو
لعل اللہ یسقینا غماماً
شاید کہ خدا ہم کو بادلوں سے سیراب کردے
فیتحر ارض عاد انء ادا
قد اموالا یبینون الکلاما
شاید خدا عاد کی سرزمین کو سیراب کردے کیونکہ قوم عاد کے لوگ اتنے عاجز ہوگئے کہ بات بھی نہیں کرسکتے۔
من العطش الشدید فلیس نرجو
بہ الشیخ الکبیر والا الغلاما
پیاش یدید کی وجہ سے ہم تو مایوس ہوگئے ہیں بوڑھے بھی اور بچے بھی (یہ سب پیاس کا شکار ہو کر نیست و نابود ہی نہ ہوجائیں)
وقد کانت نسائو ھم بخیر
فقد امست نسائوھم عیاما
ان کی عورتیں بھی خوشحال تھیں لیکن اب بالکل بدحال ہوچکی ہیں اور بانجھ ہوچکی ہیں تکلیف اور پریشانی کی وجہ سے۔
وان الوحش یاتیھم جھارا
ولابخشی لعادی سھاما
اگر ان کے پاس جانور بھی آجائیں تو ان میں اتنی طاقت نہیں کہ عاد کا کوئی فرد ان پر تیر چلا سکے جانور سب بےخوف ہوچکے ہیں وہ کمزور ہو کر اس درجے تک پہنچ چکے ہیں۔
وانتم ھاھنا فیما اشتھیتم
تھارکم ولیلکم التماما
اے وفد کے لوگو ! تم یہیں ٹھہرے ہوئے ہو قوم کا پیچھے یہ حال ہے اور تم یہاں آرام کر رہے ہو
فقبح وفد کم من وفد قوم
ولا الاقوا لاتحیۃ والسلام ا
تمہارا وفد تو بہت ہی برا ہے وہ تو سلام کرنے کے قابل بھی نہیں ہے یا اس قابل بھی نہیں ہے کہ اس کے لیے دعا کی جائے۔
لونڈیوں کے اشعار کا وفد عاد پر یہ اثر ہوا کہ وہ وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور مکہ کی پہاڑیوں جبال مہرۃ میں آکر اس طرح دعا کی۔
الھم انی لم اتک لمریض
فاداویہ ولا لاسیرافاربہ
فاسق عبدک ماکنت
مستقیم (ترمذی ص 471)
اے خدا ! میں کسی مریض کی شفایابی کے لیے نہیں آیا اور نہ کسی قیدی کو فدیہ میں چھڑانے کے لیے حاض ہوا ہوں میں تو اس لیے آیا ہوں کہ اپنے بندوں کو بارش سے سیراب کردے جیسے پہلے کیا کرتا تھا۔
سردار وفد اگرچہ مشرک تھا اور معبودان باطلہ کو مانتا تھا مگر اس وقت اس نے خدا وند کریم سے بارش کی دعا کی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ ہمارے میزبان معاویہ ابن بکر کو سیراب کرے کیونکہ اس نے ہماری بڑی خدمت کی ہے۔
قوم عاد کی دعا
ادھر وفد مکہ میں بارش کی دعا کررہا تھا تو ادھر قوم عاد اپنے علاقے میں بارش کے لیے معبودان باطلہ کو پکار رہی تھی مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ حضرت ہود (علیہ السلام) کو ماننے والے اہل ایمان مرصد ابن سعد نے قوم سے کہا کہ جن معبودوں کو تم پکار رہے ہو ان کے اختیار میں کچھ نہیں ہے لہٰذا ان کی منت سماجت کرنے سے قحط دور نہیں ہوگا اس صاحب ایمان آدمی نے اپنی بات ان اشعار میں کی۔
عصمت عاد رسولھم فاموا
عطاشاً ماتبلھم السماء
قوم عاد نے اپنے رسول کی نافرمانی کو تو پیاسے ہوگئے ہیں کہ آسمان سے ایک قطرہ پانی بھی نہیں برستا (سخت تکلیف میں ہیں)
لھم صنم یقال لہ صمود
یقابلہ صداء والھباء
ان کا ایک بت صمود ہے جس کی پرستش کرتے ہیں اور صداء اور ھبا ہے (ان سب کو پکارتے ہیں ان پر نذرانے چڑھاتے ہیں مگر ان کو بارش برسانے کا کہاں اختیار ہے)
فبصرنا الرسول سبیل رشید
فابصرنا الھدی وخلا العماء
ہمیں تو اللہ کے رسول نے ٹھیک راستہ سمجھا دیا ہے (یعنی اللہ کی عبادت کرو اور اسی سے مدد چاہو) ہم نے تو دل کی بصیرت سے ہدایت کو پالیا ہے اور ہم سے اندھا پن دور ہوچکا ہے۔
وان الہ ھود ھو الٰہی
علی اللہ التوکل والرجاء
بیشک ہود (علیہ السلام) کا معبود ہی ہمارا معبود ہے ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں اور اسی سے توکل اور امید کرتے ہیں (بارش وہی برسائے گا اور تکلیف وہی دور کرے گا)
بہرحال ادھر قوم نے دعا کی اور ادھر وفد نے بارش کے لیے التجا کی۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ اس وقت تین قسم کے بادل نمودار ہوئے یعنی سفید ، سرخ اور سیاہ ان بادلوں سے آواز آئی اختر ان میں سے جو تمہیں پسند ہے اختیار کرلو یہ آواز سن کر وفد کے سردار نے سیاہ بادل کو پسند کیا کیونکہ عام طور پر کالی گھٹائیں زیادہ بارش لاتی ہیں پھر کالی گھٹائیں سے آواز آئی ؎
خذ رمداً رماداً
لاتبقی احداً من عادٍ
یہ سیاہی مائل جلا ہوا بادل لے لو ، یہ قوم عاد میں سے کسی کو نہیں چھوڑے گا
قوم عاد پر عذاب
وفد اور قوم کے لوگ خوش تھے کہ بادل جھوم کر آئے ہیں ان کی دعا رنگ لائی ہے اور اب جل تھل ہوجائے گا اور قحط سالی ختم ہوجائے گی ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انگوٹھی کے دائرے کے برابر ہوا چھوڑی جو سخرھا علیھم سبع لیال وثمنیۃ ایام حسوما (المائدہ) (لگاتار سات راتیں اور آٹھ دن چلتی رہی سورة احقاف میں ہے کہ جب کالے بادل عاد کی وادیوں پر چھا گئے تو قوم کے لوگ کہنے لگے ھذا عارض ممطرنا کہ آسمان کے کنارے پر بادل چھا گئے ہیں ابھی خوب بارش ہوگی انہوں نے اچھلنا کودنا شروع کردیا بادلوں کی آمد پر بڑی خوشی منائی کہ ان کی دعا قبول ہوگئی ہے جب بادل قریب آئے تو ان میں سے ٹھنڈی ہوا آئی لوگ دوڑ کر بادلوں کے نیچے گئے وہاں انہیں بڑا سکون حاصل ہورہا تھا جب بہت سے لوگ بادلوں کے نیچے جمع ہوگئے تو ان میں آگ برسنا شروع ہوگئی جس سے لوگ جل بھن گئے امام محمد باقر (رح) کی روایت میں آتا ہے اور صاحب روح المعانی نے بھی نقل کیا ہے کہ اللہ نے تیز ہوا چھوڑی جس نے عادیوں کو زمین سے اٹھا اٹھا کر پٹخ دیا یہ ایک دور سے سے ٹکرا ٹکڑا کر ختم ہوگئے اور پھر ان کی لاشیں زمین پر اس طرح پڑی تھیں ” کانھم اعجان نخل خاویۃ (الحاقۃ) گویا کہ اکھاڑی ہوئی کھجوروں کے بڑے بڑے تنے ہوں بہت بڑے بڑے قد آور لوگ تھے ان کے سر اتنے اتنے بڑے تھے جتنا کوئی چھوٹا سا گنبد ، اللہ نے ان کے سروں کو آپس میں ٹکرا ٹکرا کر نیست و نابود کردیا۔
اہل ایمان کا بچائو
ادھر حضرت ہود (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کو حکم ہوا کہ اس مغضوب علیہ قوم سے الگ ہوجائیں کہتے ہیں کہ جانوروں کا کوئی باڑ تھا اللہ کا نبی اور اس کے ساتھی جو چار یا چھ ہزار کی تعداد میں تھے اس باڑے میں چلے گئے خدا کی حکمت کہ اس باڑے میں تیز اندھی اثر نہیں کرتی تھی لہٰذا اہل ایمان کا گروہ آٹھ روز تک وہیں رکا رہا اور ان کا بال بھی بیکا نہ ہوا اللہ نے فرمایا فانجینہ والذین معہ برحمۃ منا ہم نے ہود (علیہ السلام) اور اس کے حواریوں کو اپنی رحمت سے بچالیا وقطعنا دابرالذین کذبو بایتنا اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا ہم نے ان کی جڑ کاٹ ڈالی انہیں نیست و نابود کردیا کیونکہ وما کانو مومنین وہ ایمان لانے والے نہیں تھے۔
حضرت ہود (علیہ السلام) کی وفات
قوم کی تباہی کے بعد حضرت ہود (علیہ السلام) مکہ مکرمہ پہنچے اور کچھ عرصہ وہیں مقدس مقام پر عبادت کرتے رہے اور کچھ عرصہ وہیں مقدس مقام پر عبادت کرتے رہے اور پھر اپنے پیروکاروں کو لے کر حضر موت کے علاقے میں چلے گئے آپ کی وفات کے متعلق دو روایات ملتی ہیں ایک یہ کہ آپ مکہ میں ہی فوت ہوگئے اور وہیں حرم شریف حجر کے مقام پر دفن ہوئے جہاں پر حضرت اسماعیل (علیہ السلام) ، حضرت ہاجرہ ؓ اور بعض دیگر انبیاء کی قبور ہیں اور دوسری روایت یہ ہے کہ آپ حضر موت میں جاکر فوت ہوئے یہی روایت زیادہ قرین قیاس ہے وہیں یمن کے علاقے میں ریت کے ٹیلوں میں آپ کی قبر ہے یہ سب تاریخی روایات ہیں حضور ﷺ کی حدیث سے یہ بات ثابت نہیں ہے لہٰذا تاریخی واقعات غلط بھی ہوسکتے ہیں۔
Ayahs 7:73–74قوم ثمود
گزشتہ رکوع سے انبیاء کی تاریخ کا کچھ حصہ بیان ہورہا ہے جس میں ان کے طریقہ تبلیغ قوم کے جواب اور پھر ان پر وارد ہونے والے عذاب کا ذکر ہے اس سے مراد امت آخر الزمان کے لیے عبرت اور اس کے لیے حوصلہ افزائی ہے تاکہ وہ سابقہ قوموں کے حالات سے سبق سیکھیں اور ان قوموں کے نقش قدم پر نہ چلیں جو اللہ تعالیٰ کے غضب کا شکار ہوئیں چناچہ سب سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا ذکر ہوا پھر حضرت ہود (علیہ السلام) کی تبلیغ دین کا تذکرہ ہوا اور امت کی نافرمانی کی وجہ سے ان کی سزا کا بیان ہوا اب تیسرے نمبر پر حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کی امت قوم ثمود کا ذکر ہوہا ہے اس کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات بیان ہوں گے اور پھر حضور خاتم النبیین ﷺ کی تبلیغ عام کا ذکر ہوگا۔
ثمد پانی کی قلت کو کہتے ہیں جس علاقے میں یہ قوم آباد تھی وہاں پانی کی شدید قلت تھی اس لیے اس قوم کا نام قوم ثمود مشہور ہوگیا ویسے ثمود ، ایک شخص کا نام بھی تھا جو ارم ابن سام ابن نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھا کسی فرد واحد کے نام پر قوم یا علاقے کا نام پڑجانا عین ممکن ہے اور اس کی بعض دیگر مثالیں بھی موجود ہیں مثلاً مدین ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے کا نام ہے جو آپ کی تیسری بیوی کی اولاد میں سے تھے بعد میں اسی کے نام پر قوم کا نام بھی مدین مشہور ہوا اور اسی نام سے ایک شہر بھی آباد ہوا اسی طرح ثمود بھی ایک فرد کا نام تھا جو کہ قوم عاد کے پس ماندگان میں سے تھا چونکہ ثمود بھی قوم عاد ہی کی نسل سے تھے اس لیے میں نے عرض کیا تھا کہ قوم جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے اس کو عاد اولیٰ کہتے ہیں اور ثمود کو عادثانیہ کہا جاتا ہے۔
قوم ثمود کا وطن
قوم عاد صحرائے اعظم عرب میں وادی داہنا ، حضر موت اور اس کے اطراف میں پھیلے ہوئے تھے جو کہ جزیرہ نمائے عرب کا جنوب مشرقی حصہ ہے البتہ قوم ثمود کا وطن عرب کے شمال مغرب میں وادی احجر سے لے کر وادی قریٰ تک پھیلا ہوا تھا اسے مدائن صالح بھی کہتے ہیں ترکوں کے زمانہ میں مدینہ اور تبوک کے درمیان حجاز ریلوے لائن تھی جس پر مدائن صالح نام سے ریلوے اسٹیشن بھی تھا جو بعد میں اکھاڑ دی گئی دراصل انگریزوں نے مسلمان ممالک کو تقسیم کرنے کے لیے ترکوں اور عربوں کے درمیان نفرت پیدا کی عربوں سے کہا کہ تم ترکوں کے ماتحت کیوں رہتے ہو تم اپنی حکومت قائم کرو عربوں نے بغاوت کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی اپنی بادشاہی تو قائم نہ ہوسکی البتہ انگریز کا مقصد پورا ہوگیا شریف مکہ کو وہاں سے نکال کر پہلے عراق دیا پھر اردن کے دو حصے کردیے ان کو فلسطین کا حصہ دیا مگر وہاں بھی جو کچھ ہورہا ہے وہ سب کے سامنے ہے چالیس سال سے وہاں پر اسرائیلی ریاست قائم ہے بہرحال شریف مکہ کے پوتے پڑپوتے اب بھی اردن میں موجود ہیں۔
تو میں عرض کررہا تھا کہ قوم ثمود کا وطن مدائن صالح والا علاقہ تھا جو تبوک تک چلا گیا ہے تبوک وہی مقام ہے جہاں حضور ﷺ رومیوں سے جہاد کرنے کے لیے مدینہ طبیہ سے تشریف لے گئے تھے اور مدائن صالح راستے میں آتا ہے احادیث میں آپ کے اس سفر کی بہت سی تفصیلات موجود ہیں اس علاقے میں تبوک سے لے کر مکہ کی طرف وادی قریٰ تک قوم ثمود کے ایک ہزار سات سو بڑے بڑے شہر اور قصبے آباد تھا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (رح) ، تفسیر عزیزی میں لکھتے ہیں کہ قوم ثمود بڑے متمدن لوگ تھے ان میں بڑے بڑے انجینئر اور کاریگر تھے یہ لوگ معمولی مکان بنانے پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ بڑے بڑے نقش و نگار والے عالیشان محل اور کوٹھیاں تعمیر کرتے تھے یہ لوگ پہاڑوں کو تراش تراش کر ان کے اندر نہایت مضبوط مکان بناتے تھے جو حوادثات سے محفوظ رہتے تھے ان کے کھنڈرات دیکھنے کے لیے آج بھی سیاح جاتے ہیں ان پر ارامی زبان میں تحریر شدہ کتبے اب بھی موجود ہیں اس قوم کو گزرے پانچ ہزار سال سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔
حضرت صالح (علیہ السلام)
ارشاد ہوتا ہے والی ثمود اخاھم صلحاً اور قوم ثمود کی طرف سے ہم نے ان کے بھائی صالح (علیہ السلام) کو رسول بناکر بھیجا یہاں پر بھی لقد ارسلنا کے الفاظ محذوف ہیں ابتداء میں حضرت نوح (علیہ السلام) کے تذکرے کے ساتھ یہ الفاظ آئے ہیں جن کا اطلاق اس آیت میں بھی ہوتا ہے یہاں پر خاھم سے مراد برادری اور قیومت کی اخوت سے ہے جیسے ہود (علیہ السلام) کے متعلق بھی ذکر کیا جاچکا ہے حضرت صالح (علیہ السلام) بھی سام ابن نوح کی اولاد میں سے تھے آپ کے والد کا نام عبید تھا آپ بڑے سبیل القدر رسول تھے نہایت زاہد ، متقی اور عبادت گزار تھے آپ نے اپنی قوم کو حتی المقدور تبلیغ کی اور انہیں راہ راست پر لانے کی کوشش کی مگر قوم اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آئی پھر قوم نے اونٹنی کا معجزہ طلب کیا اللہ تعالیٰ نے ان کی وہ فرمائش بھی پوری کردی انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تعلیم کے خلاف اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سخت عذاب آیا اور وہ نیست و نابود ہوگئے۔
درس توحید
حضرت صالح (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو وہی سبق دیا جو سارے نبی دیتے آئے ہیں قال یقوم اعبدواللہ اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو مالکم من الہ غیرہ اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں ہے اس کے علاوہ کوئی حاضر و ناظر ، مختار کل ، نافع ضار ہمہ بین اور ہمہ تو ان نہیں ہے وہی خالق او علیم کل ہے مافوق الاسباب وہی مدد کرسکتا ہے کوئی اس کے بغیر فریاد رسی کرنے والا نہیں ہے لہٰذا عبادت بھی اسی کی کرنی چاہیے ایاک نعبدوایاک نستعین میں یہی فلسفہ کارفرما ہے عالم اسباب میں تو ایک دوسرے کا تعاون حاصل کیا جاسکتا ہے مگر جب ظاہری اسباب ختم ہوجاتے ہیں تو پھر خزانہ غیب سے روزی دینے والا اولاد عطا کرنے والا ترقی وتنزلی سے دوچار کرنے والا اور بیماروں کو شفا بخشنے والا صرف وہی ہے اگر یہ بات سمجھ آجائے تو پھر یاد رکھو عبادت بھی اسی کی روا ہے اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں کوئی مشکل کشا اور حاجت روا نہیں اسی لیے آپ نے فرمایا کہ اے میری قوم ! صرف اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔
اونٹنی بطور بینہ
توحید کا درس دینے کے بعد صالح (علیہ السلام) نے قوم سے کہا قد جاء تکم بینۃ من ربکم تمہارے پاس کھلی نشانی یا دلیل آچکی ہے تمہارے رب کی طرف سے یہاں بینہ سے مراد وہ اونٹی ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قوم صالح کی فرمائش پر پتھر سے پیدا کیا تھا قرآن میں بینہ کا لفظ رسول اللہ ﷺ پر بھی بولا گیا ہے سورة بینہ میں موجود ہے کہ یہ اہل کتاب کفر سے باز آنے والے نہ تھے حتی تاتیھم البینۃ ْ رسول من اللہ “ جب تک کہ ان کے پاس اللہ کی واضح دلیل اللہ کے رسول نہ آجاتے اس سے یہ مسئلہ بھی حل ہوتا ہے کہ کوئی تعلیم اس وقت تک کما حقہ بار آور نہیں ہوتی جب تک وہ نمونہ بن کر سامنے نہ آجائے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام کی تعمیل کے لیے انبیاء کو نمونہ بناکر بھیجا ہر نبی دینی تعلیم کا نمونہ ہوتا ہے تاکہ دوسرے لوگ انہیں دیکھ کر ان کا طریقہ اختیار کریں بہرحال یہاں پر بینہ سے مراد وہ اونٹنی ہے جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔
فرمایا ھذا ناقۃ اللہ یہ اللہ کی اونٹنی ہے لکم ایۃ یہ تمہارے لیے بطور نشانی ہے مسند احمد کی حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا لوگو ! نشانیاں طلب نہ کیا کرو کیونکہ صالح (علیہ السلام) کی قوم نے اللہ کے نبی سے نشانی طلب کی تھی کہ اس رنگ اور جسامت کی اونٹنی ہو جو آپ ہمارے سامنے اس پہاڑ کے پتھر میں سے نکالیں وہ گابھن بھی ہو اور ہماری آنکھوں کے سامنے بچہ جنے اللہ تعالیٰ نے ہزاروں آدمیوں کے سامنے اس فرمائش کو پورا کیا حضرت صالح (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں نے نماز پڑھ کر اللہ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے پتھر کو پھاڑ کر اس میں سے اونٹنی کو نکالا مگر قوم پھر بھی ایمان نہ لائی اور آخر عذاب میں مبتلا ہوئی اس اونٹنی کی خصوصیت یہ تھی کہ چشمے یا تالاب سے ایک دن وہ پانی پیتی تھی اور دوسرے دن باقی جانور پیتے تھے قرآن میں اس بات کا ذکر موجود ہے کہ پانی کو تقسیم کردیا گیا تھا اور پھر وہ اونٹنی دودھ بھی خوب دیتی ہے جس کا جی چاہے اس سے دودھ نکال لے البتہ اللہ کے نبی نے واضح طور پر حکم دیا تھا کہ جس دن اونٹنی کے پانی پینے کی باری ہو اس دن کوئی دوسرا جانور گھاٹ پر نہ جائے نیز یہ کہ اس اونٹنی سے کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے اور نہ اسے ایذا پہنچائی جائے مگر جب قوم اپنی قبیح حرکات سے باز نہ آئی تو اللہ تعالیٰ نے قوم پر ایسی چیخ مسلط کی جس سے ان کے دل پھٹ گئے نیچے سے زلزلہ آیا اور پوری کافر قوم ہلاک ہوگئی۔
تمام اونٹنیاں اور دیگر جانور سب اللہ ہی کی مخلوق ہیں مگر اس اونٹنی کو خاص طور پر اللہ کی اونٹنی اس کی شرافت کے اعتبار سے کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی قدرت کاملہ کے ساتھ غیر معمولی طریقے سے پیدا فرمایا تھا اس کی مثال بعض دوسری چیزیں بھی ہیں جیسے مساجد اللہ یعنی اللہ کی مسجدیں یا بیت اللہ یعنی اللہ کا گھر ، حالانکہ ہر چیز کا مالک تو خدا تعالیٰ ہی ہے مگر یہ ایک خاص گھر ہے جو رہائش کے لیے نہیں بلکہ عبادت کے لیے بنایا گیا ہے لہٰذا اس کے شرف کی وجہ سے اسے بیت اللہ کہا گیا ہے کہ اس کے اردگرد چوبیس گھنٹے طواف ہوتا ہے اس کے ارد گرد ہر وقت عبادت ہوتی ہے بلکہ دنیا بھر کے مسلمان اسی گھر کی طرف منہ کرکے محبوب ترین عبادت نماز ادا کرتے ہیں اسی طرح مذکورہ اونٹنی باقاعدہ تناسل کے ذریعے کی دوسری اونٹنی کے بطن سے نہیں پیدا ہوئی تھی بلکہ اللہ تعالیٰ نے اسے پتھر کو پھاڑ کر نکالا تھا عیسائی مورخین اور سیاح بیان کرتے ہیں کہ جس پتھر سے اونٹنی کو نکالا گیا تھا اس میں سات فٹ کا شگاف اب بھی موجود ہے حضرت ابو وسیٰ اشعری ؓ کا بیان ہے کہ میں اس علاقے میں گیا جہاں وہ اونٹنی بیٹھا کرتی تھی میں نے بیٹھنے کی جگہ نوے فٹ پیمائش کی یہ روایت تفسیر عزیزی میں مذکور ہے۔
فرمایا یہ اللہ کی اونٹنی ہے اس میں تمہارے لیے نشانی ہے فذروھا اس کو چھوڑ دو اس کے راستے میں حائل نہ ہو اس کے ساتھ کوئی تعرض نہ کرو تاکہ تاکل فی ارض اللہ یہ اللہ کی زمین میں جہاں سے چاہے کھائے ولا تمسوھا بسوء اور اسے کسی برے ارادے سے ہاتھ مت لگانا اس کو ایذا نہ پہنچانا اگر ایسا کرو گے فیاخذکم عذاب الیم تو تم کو دردناک عذاب پکڑلے گا بہرحال یہاں پر اللہ تعالیٰ نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی دو باتوں کا ذکر فرمایا ہے جو انہوں نے اپنی قوم سے کیں ایک درس توحید دیا اور دوسرے نشانی کا ذکر کیا۔
احسانات الٰہی
آگے اللہ تعالیٰ نے قوم صالح کو اپنے احسانات یاد دلاتے ہوئے فرمایا واذکرو اذجعلکم خلفاء من بعدعاد اور اس بات کو یاد کرو جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں قوم عاد کے بعد نائب بنایا تمہیں پہلی قوم کا جانشین بنایا ان کی نافرمانی کی وجہ سے ان کا جو حال ہوا وہ تم نے دیکھ لیا اب ایک سو سال کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں عروج دیا ہے بڑے بڑے شہر اور قصبے ہیں صنعت و حرفت اور تجارت ہے متمدن دنیا کی تمام سہولت میسر ہیں وبوا کم فی ا لارض اللہ تعالیٰ نے تمہیں زمین ٹھکانا دیا تم اپنے آرام کے لیے تتخذون من سھولھا قصورا اس سرزمین کی نرم جگہوں پر محلات تعمیر کرتے ہو سورة شعراء میں اس طرح آتا ہے وتنحتون من الجبال بیوتا فرھین اور تلف سے پہاڑوں میں تراش تراش کر گھر بناتے ہو یہ لوگ بڑی بڑی بلڈنگیں تیار کرتے تھے اس کے علاوہ گنبد اور اونچے اونچے مینار تعمیر کرتے تھے مصریوں کی طرح قوم صالح نے بھی یادگاریں تعمیر کیں یہاں بھی فرمایا وتنحتون الجبال بیوتا تم پہاڑوں کو تراش تراش کر اپنے لیے گھر بناتے ہو یہ سب اللہ تعالیٰ کی توفیق سے ہے اور اس کا بہت بڑا احسان ہے۔
قوم ثمود کی سنت
قوم ثمود کی سنت ہمارے ہاں بھی جاری ہے یہاں پر بھی بڑی بڑی عمارات بنانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے جس طرح قوم ثمود اپنی یاد گار بناتے تھے اسی طرح ہم بھی ذہن کی تسکین کے لیے یادگاریں تیار کر رہے ہیں جس پر کروڑوں روپیہ صرف ہورہا ہے مسٹر جناح کا اتنا بڑا گنبد بنا دیا ہے جس پر کروڑوں روپیہ خرچ آیا ہے لاہور میں مینار پاکستان پر 65 لاکھ روپیہ خرچ آیا لاہور ہی میں اسمبلی ہال کے سامنے سمٹ مینار پر خطیر رقم صرف ہوئی ان چیزوں کا قوم کو کیا فائدہ ہوا ان کی بجائے یونیورسٹی ، مدرسہ ، مسجد یا ہسپتال بنادیے جاتے تو لوگ فائدہ اٹھاتے مگر ہم بھی قوم ثمود ہی کی سنت کو اپنا رہے ہیں اور غریب ملک کا پیسہ برباد کر رہے ہیں اس کے علاوہ چھوٹی چھوٹی یاد گاروں کا تو شمار ہی نہیں ہر سال کتنے نئے مزار بنتے ہیں پھر ان عرس ہوتے ہیں چادریں چڑھائی جاتی ہیں لوگوں کا وقت اور پیسہ برباد کیا جارہا ہے جس کے پیچھے صرف جھوٹی تسکین کارفرما ہے یہ تو نبی کے فرمان کی خلاف ورزی ہے جس میں آپ نے قبروں کو پختہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
فرمایا فاذکرو الاء اللہ ، اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یادکرو اس کی احسان فراموشی نہ کرو ولا تعثوا فی الارض مفسدین اور زمین میں فساد برپا کرتے ہوئے نہ چلو سب سے بڑا فساد کفر اور شرک ہے اس سے باز آجائو نبی کی مخالفت ، قیامت کا انکار ، برائیوں کا ارتکاب ، عیاشی اور فحاشی ، دولت کا ضیاع ، بلڈنگ بازی وغیرہ سب فساد فی الارض کے زمرہ میں آتا ہے اس کے مقابلے میں امن و سکون توحید اور ایمان سے حاصل ہوتا ہے دین اور شریعت کی پابندی سے سکون ملتا ہے نبی کے اتباع میں آرام اور چین ہے اس کے برخلاف فساد ہے اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے۔
یہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی تقریر تھی جو انہوں نے اپنی قوم کے سامنے کی اب اگلے درس میں قوم کے جواب کا بیان ہوگا۔
Ayahs 7:75–79ربط آیات
گزشتہ آیات میں حضرت صالح (علیہ السلام) کا ابتدائی ذکر ہوا اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی طرف ان کے خاندان کے فرد کو نبوت و رسالت دے کر مبعوث فرمایا اور انہوں نے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا تمام انبیاء کے دستور کے مطابق صالح (علیہ السلام) نے بھی سب سے پہلے قوم کو توحید کا درس دیا اور کفر و شرک سے منع کیا پھر لوگوں کی فرمائش پر اللہ تعالیٰ نے صالح (علیہ السلام) کو اونٹنی بطور نشانی اور معجزہ عطا کی آپ نے فرمایا اللہ کی اونٹنی ہے اس کو برے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا یہ اللہ کی زمین میں چرتی رہے گی مگر تم کو پریشان نہیں کرے گی لہٰذا تم بھی اس سے تعرض نہ کرنا ورنہ خدا تعالیٰ کے غضب کا شکار بن جائو گے پھر اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کو احسانات یاد دلانے اور فرمایا کہ دیکھو قوم ہود کی تباہی کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں عروج عطا کیا تمہیں دولت صنعت و حرفت اور سلطنت عطا کی تم بیابانوں میں پہاڑوں کو تراش تراش کر علیشان مکان بناتے ہو اور ان کو نقش و نگار سے مزین کرتے ہو یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے تمہیں ان امور کا سلیقہ بتایا اب اس کی نعمتوں کی ناقدری نہ کرنا اور زمین میں شرو فساد کا بازار گرم نہ کرنا۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں فرماتے ہیں کہ انبیاء کی بعثت کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ کی عبادت کی دعوت دیں کفر اور شرک سے منع کریں اور ان کے عقیدے اور عمل کی اصلاح کریں بعض اوقات لوگ رسومات باطلہ میں مبتلا ہوتے ہیں تو بنی کا یہ بھی فرض ہوتا ہے کہ وہ قوم کو ایسی قبیح رسومات سے نجات دلائے شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ انبیاء کی بعثت کا ایک اہ مقصد رفع التظالم من بین الناس ہوتا ہے یعنی وہ لوگوں کے درمیان ظلم و زیادتی کو ختم کرتے ہیں فان تظالمھم یضیق علیھم کیونکہ اگر وہ ایک دوسرے پر ظلم کریں تو ان پر تنگی واقع ہوجاتی ہے تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے بھی اپنی بعثت کا پورا پورا حق ادا کیا اور لوگوں کو ہر طریقے سے سمجھانے کی کوشش کی۔
متکبرین اور مستضعفین میں مکالمہ
صالح (علیہ السلام) کی تقریر کے جواب میں قال الملا الذین استکبر من قومہ آپ کی قوم کے سربرآوردہ لوگ جنہوں نے تکبر کیا وہ کہنے لگے للذین استضعفو ان لوگوں سے جو کمزور خیال کیے جاتے تھے یعنی جو لوگ مال و دولت اور جاہ و اقتدار کی وجہ سے مغرور ہوچکے تھے انہوں نے غریب اور کمزور لمن امن منھم مگر اہل ایمان لوگوں سے یوں خطاب کیا اتعلمون ان صلحاً مرسل من ربہ کیا تم جانتے ہو کہ حضرت صالح (علیہ السلام) واقعی اپنے رب کی طرف سے بھیجے ہوئے رسول ہیں قالو تو ایمان والوں نے کہا انا بما ارسل بہ مومنون بیشک ہم اس چیز پر ایمان رکھتے ہیں جو صالح (علیہ السلام) کو دے کر بھیجا گیا ہے ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ فلاح اور کامیابی صالح (علیہ السلام) کے پروگرام میں ہی ہے اور وہ پروگرام یہی ہے کہ صرف ایک خدا کی عبادت کرو کیونکہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔
ہر نبی کے دور میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے کہ اولین ایماندار غریب لوگ ہی ہوتے ہیں امیر لوگ اگر ایمان لائیں بھی تو بڑی دیر کے بعد ابتداء میں ظلم و ستم کانشانہ ہمیشہ غریب لوگ ہی بنتے رہے ہیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد بھی ہے بدا الا سلام غریبا و سعود کما بدافطوبی الغرباء یعنی اسلام کی ابتداء ہمیشہ غریب لوگوں سے ہوئی اور آخر میں بھی یہ غربا تک ہی محدود ہو کر رہ جائے گا لہٰٰذا غرباء کے لیے خوشخبری ہے چناچہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی قوم کے سربرآوردہ لوگوں نے کمزور مگر اہل ایمان لوگوں سے ان کے ایمان کا امتحان لینا چاہا تو وہ کامیاب نکلے مگر سرداران قوم اپنی ضد پر اڑے رہے اور کہنے لگے قال الذین استکبرو وانا بالذی امنتم بہ کفرون قوم کے متکبرین نے کہا کہ جس چیز پر تم ایمان لائے ہو ہم تو اس کا انکار کرتے ہیں۔
کفر کا معنی انکار کرنا ہے مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ ضروریات دین میں سے کسی چیز کا انکار کرنے سے کفر لازم آتا ہے اگر کوئی شخص دن کے کسی جزو توحید ، رسالت ، قیامت ، ملائکہ یا کتب سماویہ وغشرہ کا انکار کردے تو وہ کافر ہوجائے گا کفر کا معنی حق بات کو چھپا دینا بھی ہوتا ہے کسان کو بھی عربی زبان میں کافر کہتے ہیں کیونکہ وہ دانے کو زمین میں چھپا دیتا ہے مفسرین بیان کرتے ہیں کہ ان الذین ستروا الحق عناداً جو عناد کی وجہ سے حق کو چھپا دیتے ہیں وہ کافر ہیں اور شرک یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ذات وصفات کا مانتے ہوئے اس کی صفات مختصہ میں کسی مخلوق کو شریک کرلے وہ بھی کافروں کی طرح ناپاک ہوجاتا ہے منافق کی تعریف یہ ہے کہ وہ زبان سے اقرار کرتا ہے مگر دل سے انکار کرتا ہے الور لمحد وہ شخص ہوتا ہے جو دین میں کج روی اختیار کرتا ہے خدا کی صفات کے ایسے معانی بیان کرتا ہے جو نہ اللہ کی مراد ہوتے ہیں نہ اس کے رسول کی اور نہ باقی اہل ایمان ایسا سمجھتے ہیں۔
اونٹنی کا قتل
اب قوم نے اللہ کی نشانی اونٹنی کو قتل کرنے کی سازش کی سورة نمل میں موجود ہے وکان فی المدینۃ تسعۃ رھط یفسدون فی الارض والا یصلحون شہر میں غنڈہ قسم کے نو آدمی رہتے تھے ان کا کا ہی فتنہ فساد برپا کرنا تھا ان میں ایک سرکردہ آدمی قداربن سالف تھا حضور ﷺ نے اس کی مثال مکہ کے ابورمعہ سے دی جو کہ بڑا شرپسند آدمی تھا تو قدار اونچے خاندان کافرد تھا پورا خاندان اور قبیلہ اس کی پشت پر تھا مالدار ہونے کے باوجود ناجائز طریقے سے مال پر قبضہ کرلینا اس کا معمول تھا شہر میں عنیزہ نامی ایک حسین و جمیل عورت رہتی تھی جس کی جوان اور خوبصورت لڑکیاں تھی عورت کے پاس بہت سی بھیڑ بکریاں تھیں جسے اللہ کی اونٹنی کی وجہ سے اپنے جانوروں کو پانی پلانے میں دقت پیش آتی تھی ادھر قدرا اس عورت اور اس کے مال پر قبضہ کرنا چاہتا تھا چناچہ ان دونوں میں یہ طے ہوا کہ اگر قدار اونٹنی کو قتل کر ڈالے تو عورت اپنی جس لڑکی سے چاہے اس کا نکاح کردے گی قدار نے اس کا ذکر اپنے ساتھیوں سے کیا اور وہ پروگرام کے مطابق اونٹنی کی گزرگاہ میں چھپ کر بیٹھ گئے پھر جب اونٹنی اس درے سے گزری تو قدار نے آگے بڑھ کر اس پر تلوار سے حملہ کیا اور اس کے پائوں کاٹ ڈالے جب وہ اونٹنی گر پڑی تو اس کے باقی ساتھی بھی آگئے اور انہوں نے اونٹنی کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ یہاں پر اسی بات کو ذکر کیا گیا ہے فعقر وا الناقۃ ان لوگوں نے اونٹنی کے پائوں کاٹ ڈالے وعتواعن امر ربھم اور انہوں نے اپنے رب کے حکم کی نافرمانی کی اللہ نے تو فرمایا تھا یہ نشانی ہے اس کو بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا مگر انہوں نے اللہ کے حکم کی کچھ پروا نہ کی اور اونٹنی کو قتل کردیا بلکہ صالح (علیہ السلام) کو بھی ڈرانا دھمکانا شروع کردیا چونکہ آپ کے ساتھ کافی لوگ تھے اس لیے وہ کھلم کھلا آپ کو ایذا نہ پہنچا سکے ایک موقع پر آپ مسجد میں نماز ادا کر رہے تھے کہ منکرین نے حملہ کردیا مگر آپ بچ گئے۔
عذاب الٰہی کا نزول
جب صالح (علیہ السلام) نے قوم کو اونٹنی کے قتل پر سخت سرزنش کی اور عذاب الٰہی کی پیش گوئی کی تو کہنے لگے وقالو یصلح ائتنا بما تعدنا ان کنت من المرسلین اگر تو واقعی رسولوں میں سے ہے تو وہ چیز لے آ جس سے تو ہمیں ڈراتا ہے اتنے بےباک ہوچکے تھے کہ خود عذاب کا مطالبہ کرنے لگے سورة ہود میں موجود ہے صالح (علیہ السلام) نے کہا تمتعوا فی دارکم ثلثۃ ایام ذلک وعد غیر مذوب تین دن تک فائدہ اٹھا لو پھر یہ ایسا وعدہ ہے جو جھوٹا نہیں ہوگا اور تم پر عذاب نازل ہوجائے گا فرمایا پہلے دن تمہارے چہروں پر زردی چھا جائے گی دوسرے دن سرخ ہوجائیں گے اور تیسرے دن سیاہ پھر چوتھے دن تم خدا کی گرفت میں آجائو گے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ایسا ہی ہوا یہ جمعرات کا دن تھا پھر جمعہ اور ہفتہ بھی گزر گئے اور اتوار کے روز علی الصبح ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا جو دو قسم کا تھا فرمایا فاخذ تھم الرجفۃ ایک تو انہیں زلزلے نے آپکڑا فرشتے نے ایسی خوفناک چیخ ماری کہ لوگوں کے دل اور جگر پھٹ گئے اور ان میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچا سوائے ان لوگوں کے جو صالح (علیہ السلام) پر ایمان لاچکے تھے فرمایا فاصبحو فی دارھم جثمین پس وہ ہوگئے اپنے گھروں میں گھٹنوں کے بل گرے پڑے جب زبردست زلزلہ آیا تو زمین پر گر پڑے دوبارہ اٹھنے کی ہمت نہ رہی اور ساتھ ہی خوفناک چیخ سنائی دی اور وہ وہیں ہلاک ہوگئے۔
جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام طائف کے سفر پر گئے تو راستے میں ایک قبر پر سے گزرے جس پر آتے جاتے لوگ پتھر مارتے تھے آپ نے صحابہ ؓ سے دریافت کیا کہ کیا تمہیں معلوم ہے ایسا کیوں ہے ؟ صحابہ ؓ نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا یہ قوم ثمود کے ایک آدمی ابو رغال کی قبر ہے جب اس قوم پر عذاب آیا تو یہ شخص حرم مکہ میں تھا جس کی وجہ سے عذاب سے تو بچ گیا مگر جب وہ طائف جانے کے لیے حرم سے باہر نکلا تو اس مقام پر اس شخص کو ویسی ہی چیخ سنائی دی جیسی اس کی قوم پر آئی تھی اور یہ یہیں ہلاک ہوگیا آپ نے فرمایا کہ اس کی ایک خاص نشانی یہ ہے کہ اس کی لاش کے ساتھ اس کی سونے کی چھڑی بھی دفن کردی گئی تھی چناچہ صحابہ ؓ نے وہاں پر کھدائی کی تو لاش تو گل سڑ کر ختم ہوچکی تھی البتہ سونے کی چھڑی مل گئی بہرحال اس عذاب میں پوری قوم ثمود نیست و نابود ہوگئی اور صرف وہی لوگ بچے جو صالح (علیہ السلام) کے متبعین میں شامل ہوچکے تھے۔
قتل ناقہ اور شہادت علی ؓ
شاہ عبدالعزیز (رح) فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ پہلی امتوں میں قدار ابن سالف بڑا بدبخت آدمی تھا جس نے اللہ کی نشانی اور معجزے اونٹنی کو تلوار سے قتل کیا اور اس امت میں بڑا بدبخت وہ شخص ہوگا جو تیرے سر پر تلوار چلا کر تیری داڑھی کو رنگین کرے گا چناچہ ایسا ہی ہوا حضرت علی ؓ صبح کی نماز کے لیے کوفے کی جامع مسجد کی طرف نکلے ۔ مسجد کے دروازے کے قریب عبدالرحمن بن ملجحم خارجی چھپا ہوا تھا اس نے تلوار سے حضرت علی ؓ کے سر پر وار کیا جس سے سر سے خون نکلا اور داڑھی مبارک رنگین ہوگئی اونٹنی کے قتل اور حضرت علی ؓ کی شہادت میں اس لحاظ سے بھی مماثلت پائی جاتی ہے کہ اونٹنی کے قتل کی وجہ بھی عنیزہ نامی عورت تھی اور حضرت علی ؓ پر وار کرنے کے لیے بھی قطامہ نامی عورت نے عبدالرحمن کو ابھارا تھا شاہ عبدالعزیز صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ انسانی جذبات میں سے سب سے خسیس جذبہ شہوت کا ہوتا ہے یہ دونوں واقعات اسی جذبہ کی تسکین کی خاطر رونما ہوئے۔
حضرت علی ؓ کے قتل کو خوارج بڑے فخر سے بیان کرتے ہیں چناچہ عمران بن قطان خارجی شاعر کہتا ہے۔
یاضربۃ من تقی ما اراد بھا
الالیبلغ ذی العرش رضوانا
انی لا ذکرہ حینا فاحسبہ
او فی البریۃ عنداللہ میرانا
مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے حضرت علی ؓ کے سر پر تلوار سے وار کیا وہ اللہ کا قرب تلاش کررہا تھا جب میں اس کا ذکر کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس نے بہت اچھا کیا ہے۔
مگر حضرت علی ؓ کی شہادت سے وہ خلافت راشدہ ختم ہوگئی جسے حضور ﷺ نے علیٰ منہاج النبوۃ فرمایا تھا۔
اہل ایمان کی علیحدگی
جب ساری قوم ہلاک ہوگئی تو حضرت صالح (علیہ السلام) اور آپ کے چار ہزار یا چھ ہزار ساتھی وہاں سے چل دیے ان میں ایک مالدار آدمی بھی تھا جو اہل ایمان کی خدمت کیا کرتا تھا مگر اس کی بیوی اس سلوک کو پسند نہیں کرتی تھی چناچہ اس نے علیحدگی اختیار کرلی اور وہ مسلمانوں کے ساتھ شامل ہوگیا اور عذاب الٰہی سے بچ گیا فرمایا فتولی عنھم پھر صالح (علیہ السلام) وہاں سے پلٹے اور اپنی ہلاک شدہ قوم کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا وقال یقوم لقد ابلغتکم رسالۃ ربی اے میری قوم ! میں نے تو تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچایا بیس سال تک تمہیں وعظ کرتا رہا میں نے تبلیغ کا پورا پورا حق ادا کردیا ونصحت لکم اور تم سے پوری پوری خیر خواہی کی بعض اوقات ایسی بات تاسف کے طور پر کی جاتی ہے کہ دیکھو ! میں نے تمہیں کتنا سمجھایا ہر طرح سے تمہیں بچانے کی کوشش کی مگر تم نے میری ایک نہ مانی اور آج تباہ و برباد ہو کر رہ گئے ہو اللہ کا ہر نبی اپنی امت کے لیے ناصح امین ہوتا ہے وہ نہیں چاہتا کہ اس کی قوم عذاب کا شکار ہو مگر قوم کی بدقسمتی کہ وہ نہیں چاہتا کہ اس کی قوم عذاب کا شکار ہو مگر قوم کی بدقسمتی کہ وہ نبی کی تکذیب کرکے سزا میں مبتلا ہوجاتی ہے دنیا میں جو بھی خیر خواہی کی بات کو ٹھکراتا ہے وہ ذلیل و خوار ہو کر رہ جاتا ہے قرآن میں عبرت کے لیے بہت سے واقعات مذکور ہیں آگے آرہا ہے فنظر کیف کان عاقبۃ المجرمین دیکھو ! مجرمین کا کیسا برا حشر ہوا۔
سمع موتیٰ
حضرت صالح (علیہ السلام) کا یہ خطاب اپنی نافرمان ہلاک شدہ قوم سے تھا مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) بیان القرآن کے حاشے پر لکھتے ہیں کہ اس آیت کے ظاہری الفاظ سے پتہ چلتا ہے کہ مردے سنتے ہیں اس کی مثال حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے عمل سے بھی ملتی ہے جنگ بدر کے خاتمے پر آپ نے کفار کے مدفن (قلیب) پر کھڑے ہو کر فرمایا تھا اے ابوجہل ، اے عتبہ اے شیبہ اے فلاں ہم نے تو اپنے رب کے وعدے کو سچا پایا ، کیا تم نے بھی خدا کے وعدے کو سچا پالیا ؟ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا حضور آپ ﷺ بےجان لاشوں سے خطاب کرتے ہیں فرمایا اللہ کی قسم اس وقت یہ تم سے زیادہ سنتے ہیں مگر جواب نہیں دے سکتے سماع موتیٰ کے مسئلہ میں امت میں اختلاف پایا جاتا ہے بعض انکار کرتے ہیں مگر اکثر اس کے قائل ہیں تاہم سننے سے یہ ہرگز مراد نہیں کہ چونکہ وہ سنتے ہیں اس لیے ان سے حاجتیں طلب کرنے لگیں یا وہ کوئی جواب دے سکتے ہیں یہ تو ایسے ہی ہے جیسے قبرستان میں جاکر مردوں کو سلام کرتے ہیں السلام علیک یا ھل القبور امام ابن کثر (رح) نے حضور کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ قبرستان جائو تو یوں کہا کرو السلام علیکم دار قوم مومنین وانا انشاء اللہ بکم لاحقون یغفر اللہ لسنا ولکم سلام ہو تم پر اے مومن قوم کی بستی کے رہنے والو ! اور ہم بھی انشاء اللہ تم سے ملنے والے ہیں اللہ ہمیں اور تمہیں معاف کرے بہرحال حضرت صالح (علیہ السلام) نے بھی مردوں سے اسی طرح کلام کیا جس طرح زندوں سے کیا جاتا ہے۔
ماضی بمقابلہ حال
انبیاء (علیہم السلام) کے اسوہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے اہل ایمان کا فرض ہے کہ وہ دوسرے مسلمان بھائی کے استھ ہمدردی اور خیر خواہی کا سلوک کرے سابقہ ادوار میں محدود وسائل کے باوجود مسلمانوں نے خیر خواہی کے بڑے بڑے کام انجام دیے ابن بطوطہ نے اپنے سفر نامے میں لکھا ہے کہ میں ہنولولو شہر میں گیا تو وہاں پر 22 مدرسے مردوں کے اور 13 عورتوں کے تھے جو نہایت کامیابی سے چل رہے تھے اس شہر میں کوئی عورت ایسی نہیں تھی جو حافظ قرآن نہ ہو آٹھویں صدی میں مسلمانوں نے اتنا کام کیا دمشق میں عورتوں کے دومسند تھے دو عورتیں خود محدث تھیں اور علم حدیث پڑھاتی تھیں ان مدرسوں میں ہزاروں آدمی تعلیم حاصل کرتے تھے مگر آج وہ چیز کہاں ہے آج کا مولوی شرپسند بن چکا ہے چند حدیثیں پڑھ کر وعظ کرنے لگتا ہے نہ کوئی تعلیم ، نہ تحقیق ، نہ اخلاق ، نہ دیانت ، محض لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے آج اہل ثروت مسلمانوں کو اپنے بھائیوں کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں ساری دولت اپنے عیش و آرام کے لیے خرچ کی جارہی ہے نہ کوئی مدرسہ نہ یونیورسٹی ، نہ ہسپتال ، الاماشاء اللہ ، تاہم اکثریت دین سے بیگانہ نہ ہوچکی ہے اس وقت دنیا عجیب مخمصے میں پھنسی ہوئی ہے۔ ان کی اکثریت بشمول مسلمان شیطانی پارٹی کے ممبر ہیں ہر قسم کا شرو فساد عیاشی اور بدمعاشی ان میں پائی جاتی ہے بےایمانی ، تجارتی بدیانتی ، وہ کون سا برا کام ہے جو مسلمانوں میں نہیں پایا جاتا کیا خیر خواہی کا یہی تقاضا ہے ؟ یہ تو انبیاء کا مشن تھا جسے بھلا دیا گیا ہے کوئی پھٹے پرانے کپڑوں والا آجاتا تو حضور ﷺ بےچین ہوجاتے لوگوں کو اکٹھا کرکے خطبہ ارشاد فرماتے کہ لوگو ! صدقہ کرو ، یہ بھی تمہارے بھائی ہیں ان کو لباس مہیا کرو آپ کے توجہ دلانے پر ہر شخص حسب توفیق ضرورت مند کی خدمت کرتا ہے۔
بہرحال حضرت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے مردہ لوگوں سے خطاب فرمایا کہ اے میری قوم کے لوگو ! میں نے اپنے رب کا پیغام تم تک پہنچا کر خیر خواہی کا پورا پورا حق ادا کردیا تھا مگر تم نے میری بات نہ مانی اور آج عذاب کا شکار ہوچکے ہو اگر تم میری بات مان جاتے تو اس دنیا میں بھی سرخرو ہوجاتے اور آخرت کے دائمی عذاب سے بھی بچ جاتے مگر افسوس کہ تم اسی دنیا میں خدا تعالیٰ کے غضب کا نشانہ بن گئے اور آخرت میں بھی دائمی عذاب کے مستحق ٹھہرے میں نے تو خیر خواہی کا حق ادا کردیا ولکن لاتحبون النصحین۔ مگر تمہاری حالت یہ ہے کہ تم خیر خواہی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے فرعون کے واقعہ میں بھی ایسا ہی آتا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو ہر چن دسمجھانے کی کوشش اور ان کے ساتھ پوری پوری ہمدردی کی مگر قوم نہ مانی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پوری قوم غرق ہوگئی تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے بھی فرمایا کہ اے میری قوم میں نے اپنا فرض پورا کردیا تم پر حجت تمام کردی مگر تم ہمیشہ میری بات کو ٹھکراتے رہے جس کا نتیجہ تمہاری تباہی و بربادی کے سوا کچھ نہ نکلا۔